بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ السَّيِّدَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا الفهرس الفرعى
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 448
صفحہ 6 از 23
حدیث نمبر: 24110 مسند احمد
سُفْيَانُ ، لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبَاكَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ أَسَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ" ؟ فَسَكَتَ عَنِّي هُنَيَّةً، ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سفیان کہتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن قاسم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے والد کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دیدیا کرتے تھے؟ کچھ دیر تک تو وہ خاموش رہے، پھر کہنے لگے ہاں! بیان کی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24110]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1106
الحكم: إسناده صحيح، م: 1106
حدیث نمبر: 24111 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبَاهُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ هَاتَيْنِ لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ان دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احرام باندھتے تھے اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24111]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1754 ، م: 1189
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1754 ، م: 1189
حدیث نمبر: 24112 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ " خَرَجْنَا لَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے تو ہماری نیت صرف نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24112]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 294، م: 1211
الحكم: إسناده صحيح، خ: 294، م: 1211
حدیث نمبر: 24113 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: حَاضَتْ صَفِيَّةُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَحَابِسَتُنَا هِيَ؟"، قُلْتُ: إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ قَبْلَ ذَلِكَ، قَالَ:" فَلَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کو ایام آنا شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی؟ میں نے عرض کیا انہیں طوافِ زیارت کے بعد " ایام " آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر نہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24113]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1757 ، م: 1211
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1757 ، م: 1211
حدیث نمبر: 24114 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاكُ بِشَوْكَةٍ، فَمَا فَوْقَهَا، إِلَّا حَطَّتْ مِنْ خَطِيئَتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24114]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5640 ، م: 2572
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5640 ، م: 2572
حدیث نمبر: 24115 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَبِيهِ ، عَمْرَةَ ، عائشة
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ حِينَ مَاتَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّ بُكَاءَ الْحَيِّ عَلَى الْمَيِّتِ عَذَابٌ لِلْمَيِّتِ، فَأَتَيْتُ عَمْرَةَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَت: قالت عائشة : إِنَّما قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَهُودِيَّةٍ: " إِنَّكُمْ لَتَبْكُونَ عَلَيْهَا، وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ"، وَقَرَأَتْ وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164 .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوبکر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میت پر اہل محلہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے، میں عمرہ رحمہ اللہ کے پاس آیا اور ان سے اس کا ذکر کیا، انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ہے کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک یہودیہ عورت کے متعلق فرمائی تھی کہ یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے عذاب ہو رہا ہے، پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ آیت تلاوت فرمائی " کوئی بوجھ اٹھا نے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا "۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24115]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1289، م: 932
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1289، م: 932
حدیث نمبر: 24116 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَيْ أُمَّهْ، أَخْبِرِينِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: " كَانَتْ صَلَاتُهُ فِي رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ سَوَاءً ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً منهَا رَكْعَتَا الْفَجْرِ"، قُلْتُ: فَأَخْبِرِينِي عَنْ صِيَامِهِ؟ قَالَتْ:" كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ، وَمَا رَأَيْتُهُ صَامَ شَهْرًا أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ فِي شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُهُ إِلَّا قَلِيلًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پو چھا اماں جان! مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کے حوالے سے کچھ بتایئے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی (تہجد کی) نماز رمضان اور غیر رمضان سب میں یکساں تھی، یعنی تیرہ رکعتیں جن میں فجر کی دو سنتیں بھی شامل ہوتی تھیں، میں نے عرض کیا کہ اب مجھے ان کے نفلی روزوں کے متعلق بتایئے، انہوں نے فرمایا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے رکھتے ہی رہیں گے اور بعض اواقت اتنے ناغے کرتے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ناغے ہی کرتے رہیں گے اور میں نے جس کثرت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے صرف چند دن کو چھوڑ کر تقریباً پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24116]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 738، م: 1156
الحكم: إسناده صحيح، خ: 738، م: 1156
حدیث نمبر: 24117 مسند احمد
سُفْيَانُ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ هِنْدًَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، وَلَيْسَ لِي إِلَّا مَا يَدْخُلُ بَيْتِي؟ قَالَ: " خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہند نے آکر بار گاہ رسالت میں عرض کیا یارسول اللہ! ابوسفیان ایک ایسے آدمی ہیں جن میں کفایت شعاری کا مادہ کچھ زیادہ ہی ہے اور میرے پاس صرف وہی کچھ ہوتا ہے جو وہ گھر میں لاتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم ان کے مال میں سے اتنا لے لیا کرو جو تمہیں اور تمہارے بچوں کو کافی ہوجائے لیکن یہ ہو بھلے طریقے سے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24117]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2211، م: 1714
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2211، م: 1714
حدیث نمبر: 24118 مسند احمد
سُفْيَانُ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: سَابَقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَقْتُهُ، فَلَبِثْنَا حَتَّى إِذَا رَهِقَنِي اللَّحْمُ سَابَقَنِي فَسَبَقَنِي، فَقَالَ:" هَذِهِ بِتِيكِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا، اس مقابلے میں میں آگے نکل گئی، کچھ عرصے بعد جب میرے جسم پر گوشت چڑھ گیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوبارہ دوڑ کا مقابلہ کیا، اس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگے بڑھ گئے اور فرمایا یہ اس مرتبہ کے مقابلے کا بدلہ ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24118]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24119 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهِيَ جَارِيَةٌ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ:" تَقَدَّمُوا"، فَتَقَدَّمُوا، ثُمَّ قَالَ لَهَا:" تَعَالَيْ أُسَابِقْكِ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24120 مسند احمد
سُفْيَانُ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، تَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ، وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ صدیقہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کھانا پیش کردیا جائے اور نماز بھی کھڑی ہوجائے تو پہلے کھانا کھالیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24120]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5465، م: 558
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5465، م: 558
حدیث نمبر: 24121 مسند احمد
سُفْيَانُ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَل مَكَّةَ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ، وَخَرَجَ مِنْ أَسْفَلِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ میں بالائی حصے سے داخل ہوئے تھے اور نشیبی حصے سے باہر نکلے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24121]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1577 ، م: 1258
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1577 ، م: 1258
حدیث نمبر: 24122 مسند احمد
سُفْيَانُ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ سُحُولِيَّةٍ بِيضٍ" ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي أَيِّ شَيْءٍ كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ:" فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ"، قَالَ:" كَفِّنُونِي فِي ثَوْبَيَّ هَذَيْنِ، وَاشْتَرُوا ثَوْبًا آخَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تین سفید سحولی کپڑوں میں دفن کیا گیا تھا، حضرت صدیق اکبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (اپنے مرض الوفات میں) مجھ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں دفن دیا گیا تھا؟ میں نے بتایا تین کپڑوں میں، انہوں نے فرمایا مجھے بھی ان دو کپڑوں میں کفن دینا اور تیسرا کپڑا خرید لینا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24122]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1271 ، م: 941
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1271 ، م: 941
حدیث نمبر: 24123 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، تَوَضَّأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، أَسْبِغْ الْوُضُوءَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " وَيْلٌ لِلْعَرَاقِيبِ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو سلمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں وضو کیا تو انہوں نے فرمایا عبدالرحمن! اچھی طرح اور مکمل وضو کرو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایڑیوں کیلئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24123]
حکم دارالسلام
حديث صحيح وهذا إسناد حسن من أجل ابن عجلان
الحكم: حديث صحيح وهذا إسناد حسن من أجل ابن عجلان
حدیث نمبر: 24124 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: كَانَتْ لَنَا حَصِيرَةٌ نَبْسُطُهَا بِالنَّهَارِ وَنَتَحَجَّرُهَا بِاللَّيْلِ، خَفِيَ عَلَيَّ شَيْءٌ لَمْ أَفْهَمْهُ مِنْ سُفْيَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُسْلِمُونَ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ، فَقَالَ: " اكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا"، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَثْبَتَهَا، وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ أَدْوَمَهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک چٹائی تھی جسے دن کو ہم لوگ بچھا لیا کرتے تھے اور رات کے وقت اسی کو اوڑھ لیتے تھے (اس سے آگے ایک جملہ مجھ پر مخفی رہ گیا جو میں سفیان سے اچھی طرح سن نہ سکا) مسلمان نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز میں شریک ہوجاتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا اپنے آپ کو اتنے اعمال کا مکلف بناؤ جتنے کی تم طاقت رکھتے ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو نہیں اکتاتا مگر تم اکتا جاؤ گے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معمول تھا کہ جب کسی وقت نماز شروع کرتے تو اس پر ثابت قدم رہتے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ وہ تا تھا جو دائمی ہوتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24124]
حکم دارالسلام
حديث صحيح وهذا إسناد حسن، ابن عجلان توبع
الحكم: حديث صحيح وهذا إسناد حسن، ابن عجلان توبع
حدیث نمبر: 24125 مسند احمد
سُفْيَانُ ، يَحْيَى ، ابْنِ أَخِي عَمْرَةَ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَخِي عَمْرَةَ يَعْنِي هَذَا مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخِفُّ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى أَقُولَ قَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ أَمْ لَا؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (فجر کی سنتیں) اتنی مختصر پڑھتے تھے کہ میں کہتی " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورت فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں۔ " [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24125]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1171، م: 724
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1171، م: 724
حدیث نمبر: 24126 مسند احمد
سُفْيَانُ ، يَحْيَى ، ابْنِ أَخِي عَمْرَةَ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَخِي عَمْرَةَ وَلَا أَدْرِي هَذَا أَوْ غَيْرَهُ، عَنْ عَمْرَةَ ، قَالَتْ:" اشْتَكَتْ عَائِشَةُ ، فَطَالَ شَكْوَاهَا، فَقَدِمَ إِنْسَانٌ الْمَدِينَةَ يَتَطَبَّبُ، فَذَهَبَ بَنُو أَخِيهَا يَسْأَلُونَهُ عَنْ وَجَعِهَا، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنَّكُمْ تَنْعَتُونَ نَعْتَ امْرَأَةٍ مَطْبُوبَةٍ، قَالَ: هَذِهِ امْرَأَةٌ مَسْحُورَةٌ سَحَرَتْهَا جَارِيَةٌ لَهَا، قَالَتْ: نَعَمْ، أَرَدْتُ أَنْ تَمُوتِي فَأُعْتَقَ، قَالَ: وَكَانَتْ مُدَبَّرَةً، قَالَتْ: بِيعُوهَا فِي أَشَدِّ الْعَرَبِ مَلَكَةً، وَاجْعَلُوا ثَمَنَهَا فِي مِثْلِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمرہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار ہوگئیں اور ان کی بیماری کا دورانیہ بہت زیادہ لمبا ہوگیا، اسی دوران مدینہ منورہ میں ایک طبیب آیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے اس کے پاس گئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بیماری کے متعلق اس سے پوچھا، اس نے کہا کہ تم جس عورت کی یہ کیفیت بتا رہے ہو، اس عورت پر تو جادو کیا گیا ہے اور اس پر اس کی باندی نے جادو کروایا ہے، تحقیق پر اس باندی نے اقرار کرلیا کہ ہاں! میں نے آپ پر سحر کر وایا ہے، میں چاہتی تھی کہ آپ فوت ہوں تو میں آزاد ہو سکوں، کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس باندی سے کہہ رکھا تھا کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہوگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حقیقت سامنے آنے پر فرمایا اس باندی کو عرب میں سب سے طاقتور لوگوں کے ہاتھ بیچ دو اور اس کی قیمت اس جیسی ایک باندی پر خرچ کردو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24126]
حکم دارالسلام
هذا الاثر صحيح
الحكم: هذا الاثر صحيح
حدیث نمبر: 24127 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيعِ عَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَا مِنْ مَيِّتٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ النَّاسِ يَبْلُغُونَ أَنْ يَكُونُوا مِئَةً فَيَشْفَعُونَ فِيهِ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس مسلمان میت پر سو کے قریب مسلمانوں کی ایک جماعت نماز جنازہ پڑھ لے اور اس کے حق میں سفارش کردے، اس کے حق میں ان لوگوں کی سفارش قبول کرلی جاتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24127]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 947
الحكم: إسناده صحيح، م: 947
حدیث نمبر: 24128 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ الْجَدَلِيِّ ، الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ الْجَدَلِيِّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَائِشَةَ " أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشِيقَةُ ظَبْيٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَرَدَّهَا" ، قَالَ سُفْيَانُ: الْوَشِيقَةُ مَا طُبِخَ وَقُدِّدَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ہرن کے گو شت کی بوٹیاں پیش کی گئیں، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احرام کی حالت میں تھے اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے واپس کردیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24128]
حکم دارالسلام
حديث صحيح إن ثبت سماع الحسن بن محمد من عائشة وعبدالكريم - هو ابن أبى المخارق إن كان ضعيفا- تابعه سفيان الثوري كما فى الرواية: 25882
الحكم: حديث صحيح إن ثبت سماع الحسن بن محمد من عائشة وعبدالكريم - هو ابن أبى المخارق إن كان ضعيفا- تابعه سفيان الثوري كما فى الرواية: 25882
حدیث نمبر: 24129 مسند احمد
سُفْيَانُ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " كَانَ أَحَبُّ الشَّرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُلْوَ الْبَارِدَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسند یدہ مشروب وہ ہوتا تھا جو میٹھا اور ٹھنڈا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24129]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، راجع: 24100
الحكم: حسن لغيره، راجع: 24100