بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ السَّيِّدَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا الفهرس الفرعى
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 448
صفحہ 3 از 23
حدیث نمبر: 24050 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَقْسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى نِسَائِهِ شَهْرًا، قَالَتْ: فَلَبِثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، قَالَتْ: فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ بَدَأَ بِهِ، فَقُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَيْسَ كُنْتَ أَقْسَمْتَ شَهْرًا؟ فَعَدَّتْ الْأَيَّامُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قسم کھالی کہ ایک ماہ تک اپنی ازواج مطہرات کے پاس نہیں جائیں گے، ٢٩ دن ہوئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مہینہ بعض اوقات ٢٩ کا بھی ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24050]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1083
الحكم: إسناده صحيح، م: 1083
حدیث نمبر: 24051 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " كُنَّ النِّسَاءُ يُصَلِّينَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَخْرُجْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ، لَا يُعْرَفْنَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ نماز فجر میں خواتین بھی شریک ہوتی تھیں، پھر اپنی چادروں میں اس طرح لپٹ کر نکلتی تھیں کہ انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24051]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 372، م: 645
الحكم: إسناده صحيح، خ: 372، م: 645
حدیث نمبر: 24052 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ: الْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْحُدَيَّا، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْغُرَابُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں " فواسق " میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جاسکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24052]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1829، م: 1198
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1829، م: 1198
حدیث نمبر: 24053 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ بَرِيرَةَ أَتَتْهَا تَسْتَعِينُهَا وَكَانَتْ مُكَاتَبَةً، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: أَيَبِيعُكِ أَهْلُكِ؟ فَأَتَتْ أَهْلَهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُمْ، فَقَالُوا: لَا إِلَّا أَنْ تَشْتَرِطَ لَنَا وَلَاءَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بریرہ ان کے پاس آئی، وہ مکاتبہ تھی اور اپنے بدل کتابت کی ادائیگی کے سلسلے میں مدد کی درخواست لے کر آئی تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے پوچھا کیا تمہارے مالک تمہیں بیچنا چاہتے ہیں؟ وہ اپنے مالک کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا، وہ کہنے لگے کہ اس وقت تک نہیں جب تک وہ یہ شرط تسلیم نہ کرلیں کہ تمہاری وراثت ہمیں ملے گی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کردو، کیونکہ ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24053]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2155، م: 1504
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2155، م: 1504
حدیث نمبر: 24054 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي قُعَيْسٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى عَائِشَةَ، فَأَبَتْ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ، فَلَمَّا أَنْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي قُعَيْسٍ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ؟ فَقَالَ:" ائْذَنِي لَهُ"، قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ: " ائْذَنِي لَهُ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ، تَرِبَتْ يَمِينُكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ابوقیس کے بھائی " افلح " نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نامحرم سمجھ کر اجازت دینے سے انکار کردیا اور جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آئے تو ان سے ذکر کردیا کہ یا رسول اللہ! ابوقیس کے بھائی افلح نے مجھ سے گھر میں آنے کی اجازت مانگی تھی لیکن میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انہیں اجازت دے دیا کرو، انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے تو دودھ نہیں پلایا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں، وہ تمہارے چچا ہیں، انہیں اجازت دے دیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24054]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4796، م: 1445
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4796، م: 1445
حدیث نمبر: 24055 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً دَخَلَتْ عَلَيْهَا وَمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا، فَأَعْطَيْتُهَا تَمْرَةً، فَشَقَّتْهَا بَيْنَهُمَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَنْ ابْتُلِيَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ، فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ، كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت ان کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں، انہوں نے اس عورت کو ایک کھجور دی، اس نے اس کھجور کے دو ٹکڑے کرکے ان دونوں بچیوں میں اسے تقسیم کردیا (اور خود کچھ نہ کھایا (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس واقعے کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی ان بچیوں سے آزمائش کی جائے اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے تو یہ اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24055]
حکم دارالسلام
حديث صحيح رواه الزهري أيضا بواسطه عبدالله بن أبى بكر عن عروة وهو أشبه، خ: 1418، م: 2629
الحكم: حديث صحيح رواه الزهري أيضا بواسطه عبدالله بن أبى بكر عن عروة وهو أشبه، خ: 1418، م: 2629
حدیث نمبر: 24056 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَتْرُكُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَهُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَسْتَنَّ النَّاسُ بِهِ، فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ، فَكَانَ يُحِبُّ مَا خُفِّفَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْفَرَائِضِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی عمل کو محبوب رکھنے کے باوجود صرف اس وجہ سے اسے ترک فرما دیتے تھے کہ کہیں لوگ اس پر عمل نہ کرنے لگیں جس کے نتیجے میں وہ عمل ان پر فرض ہوجائے (اور پھر وہ نہ کرسکیں) اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چاہتے تھے کہ لوگوں پر فرائض میں تخفیف ہونا زیادہ بہتر ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24056]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1128، م: 718
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1128، م: 718
حدیث نمبر: 24057 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بَعْدَ الْعِشَاءِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، فَإِذَا أَصْبَحَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ، فَيُؤْذِنَهُ بِالصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عشاء کے بعد گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے اور جب صبح ہوجاتی تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ مؤذن آجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز کی اطلاع دیتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24057]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6310، م: 736
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6310، م: 736
حدیث نمبر: 24058 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: دَخَلَتْ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ وَأَنَا وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَنِي الْبَتَّةَ، وَإِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ تَزَوَّجَنِي، وَإِنَّمَا عِنْدَهُ مِثْلُ هُدْبَتِي، وَأَخَذَتْ هُدْبَةً مِنْ جِلْبَابِهَا، وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِالْبَابِ، لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَا تَنْهَى هَذِهِ عَمَّا تَجْهَرُ بِهِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟! فَمَا زَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى التَّبَسُّمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَأَنَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ، لَا، حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ، وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں رفاعہ قرظی کی بیوی آئی، میں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے، اس نے کہا کہ مجھے رفاعہ نے طلاق بتہ دے دی ہے، جس کے بعد عبدالرحمن بن زبیر نے مجھ سے نکاح کرلیا، پھر اس نے اپنی چادر کا ایک کونا پکڑ کر کہا کہ اس کے پاس تو صرف اس طرح کا ایک کونا ہے، اس وقت گھر کے دروازے پر خالد بن سعید بن عاص موجود تھے، انہیں اندر آنے کی اجازت نہیں ملی تھی اس لئے انہوں نے باہر سے ہی کہا کہ ابوبکر! آپ اس عورت کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اس طرح کی باتیں بڑھ چڑھ کر بیان کرنے سے کیوں نہیں روکتے؟ تاہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف مسکرانے پر ہی اکتفاء کیا اور پھر فرمایا شاید تم رفاعہ کے پاس واپس جانے کی خواہش رکھتی ہو؟ لیکن یہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک تم اس کا شہد نہ چکھ لو اور وہ تمہارا شہد نہ چکھ لے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24058]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6084، م: 1433
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6084، م: 1433
حدیث نمبر: 24059 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعِشَاءِ حَتَّى نَادَاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدْ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ يُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَاةَ غَيْرَكُمْ"، وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ يُصَلِّي يَوْمَئِذٍ غَيْرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عشاء میں تاخیر کردی، حتیٰ کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا کہ عورتیں اور بچے سوگئے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لے آئے اور فرمایا اہل زمین میں سے اس وقت کوئی بھی آدمی ایسا نہیں جو تمہارے علاوہ یہ نماز پڑھ رہاہو اور اس وقت اہل مدینہ کے علاوہ یہ نماز کوئی نہیں پڑھ رہا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24059]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 569، م: 638
الحكم: إسناده صحيح، خ: 569، م: 638
حدیث نمبر: 24060 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهُمَا قَالَا: لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يُلْقِي خَمِيصَتَهُ عَلَى وَجْهِهِ، فَإِذَا اغْتَمَّ رَفَعْنَاهَا عَنْهُ، وَهُوَ يَقُولُ: " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ" ، تَقُولُ عَائِشَةُ: يُحَذِّرُهُمْ مِثْلَ الَّذِي صَنَعُوا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو بار بار اپنے رخ انور پر چادر ڈال لیتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گھبراہٹ ہوتی تو ہم وہ چادر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے سے ہٹا دیتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے کہ یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دراصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے اس عمل سے لوگوں کو تنبیہ فرما رہے تھے تاکہ وہ اس میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24060]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح وهو مكرر 1884 سندا ومتنا، خ: 435، م: 531
الحكم: إسناده صحيح وهو مكرر 1884 سندا ومتنا، خ: 435، م: 531
حدیث نمبر: 24061 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ، فَاسْتَأْذَنَ نِسَاءَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي، فَأَذِنَّ لَهُ، فَخَرَجَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَمِدًا عَلَى الْعَبَّاسِ وَعَلَى رَجُلٍ آخَرَ، وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ، وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاس: أَتَدْرِي مَنْ ذَلِكَ الرَّجُلُ؟ هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَلَكِنَّ عَائِشَةَ لَا تَطِيبُ لَهَا نَفْسًا، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ: " مُرْ النَّاسَ فَلْيُصَلُّوا" فَلَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: يَا عُمَرُ، صَلِّ بِالنَّاسِ، فَصَلَّى بِهِمْ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ فَعَرَفَهُ، وَكَانَ جَهِيرَ الصَّوْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَيْسَ هَذَا صَوْتَ عُمَرَ؟"، قَالُوا: بَلَى، قَالَ:" يَأْبَى اللَّهُ جَلَّ وَعَزَّ ذَلِكَ وَالْمُؤْمِنُونَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ لَا يَمْلِكُ دَمْعَهُ، وَإِنَّهُ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ بَكَى، قَالَتْ: وَمَا قُلْتِ ذَلِكَ إِلَّا كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتَشاءم النَّاسُ بِأَبِي بَكْرٍ أَنْ يَكُونَ أَوَّلَ مَنْ قَامَ مَقَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، فَرَاجَعَتْهُ، فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیماری کا آغاز حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے بیماری کے ایام میرے گھر میں گذارنے کی اجازت طلب کی تو سب نے اجازت دے دی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے آدمی (بقول راوی وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کا نام ذکر کرنا ضروری نہ سمجھا) کے سہارے پر وہاں سے نکلے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاؤں مبارک زمین پر گھستے ہوئے جا رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں ہی حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے فرما دیا تھا کہ لوگوں سے کہہ دو، وہ نماز پڑھ لیں، عبداللہ واپس جا رہے تھے کہ راستے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہہ دیا کہ اے عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، چنانچہ وہ نماز پڑھانے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آواز سنی تو فوراً پہچان گئے کیونکہ ان کی آواز بلند تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا یہ عمر کی آواز نہیں ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ اور مومنین اس سے انکار کرتے ہیں، ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ! ابوبکر رقیق القلب آدمی ہیں، وہ اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکیں گے، کیونکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب بھی قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تو رونے لگتے تھے اور میں نے یہ بات صرف اس لئے کہی تھی کہ کہیں لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ نہ کہنا شروع کردیں کہ یہ ہے وہ پہلا آدمی جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جگہ کھڑا ہوا تھا اور گنہگار بن جائیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، جب میں نے تکرار کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہی حکم دیا اور فرمایا تم تو یوسف علیہ السلام پر فریفتہ ہونے والی عورتوں کی طرح ہو (جو دل میں کچھ رکھتی تھیں اور زبان سے کچھ ظاہر کرتی تھیں) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24061]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح دون قول الزهري: فقال النبى صلى الله عليه و آله وسلم وهو فى بيت ميمونة... فهو ضعيف لانقطاعه، تفرد بوصله محمد بن إسحاق كما فى الرواية السالفة: 18906، ولم يثبت تصريح سماعه من وجه صحيح، خ: 665، م: 418، دون قول الزهري
الحكم: إسناده صحيح دون قول الزهري: فقال النبى صلى الله عليه وسلم وهو فى بيت ميمونة... فهو ضعيف لانقطاعه، تفرد بوصله محمد بن إسحاق كما فى الرواية السالفة: 18906، ولم يثبت تصريح سماعه من وجه صحيح، خ: 665، م: 4
حدیث نمبر: 24062 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ ، وَأُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَتَا:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا، ثُمَّ يَصُومُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور میرے والد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو ان دونوں نے فرمایا بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صبح کے وقت وجوب غسل کی کیفیت میں ہوتے اور پھر روزہ بھی رکھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24062]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1930، م: 1109
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1930، م: 1109
حدیث نمبر: 24063 مسند احمد
عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، مُطَرِّفٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24063]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 487
الحكم: إسناده صحيح، م: 487
حدیث نمبر: 24064 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي مَعْشَرٍ ، النَّخَعِيِّ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنِ النَّخَعِيِّ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " كُنْتُ أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَأَيْتَهُ فَاغْسِلْهُ، وَإِلَّا فَرُشَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کپڑوں سے آب حیات کو کھرچ دیا کرتی تھی، اس لئے جب تم اسے دیکھا کرو تو کپڑے کو دھولیا کرو، ورنہ پانی چھڑک دیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24064]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 288
الحكم: حديث صحيح، م: 288
حدیث نمبر: 24065 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَدِيٍّ ، دَاوُدَ ، وَرِبْعِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، دَاوُدُ ، الشَّعْبِيِّ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، وَرِبْعِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ فِي آخِرِ أَمْرِهِ مِنْ قَوْلِ: " سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ"، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لِي أَرَاكَ تُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ؟ قَالَ:" إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ كَانَ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَأَرَى عَلَامَةً فِي أُمَّتِي، وَأَمَرَنِي إِذَا رَأَيْتُهَا أَنْ أُسَبِّحَ بِحَمْدِهِ، وَأَسْتَغْفِرَهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا، فَقَدْ رَأَيْتُهَا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا سورة النصر آية 1 - 3" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آخری عمر میں کثرت کے ساتھ سبحانَ اللہِ وَ بِحَمدِہِ اَ ستَغفِر اللہ وَ اَ تُو بُ اِ لَیک کہتے تھے، ایک مرتبہ میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! میں آپ کو یہ کلمات کثرت کے ساتھ کہتے ہوئے سنتی ہوں، اس کی کیا وجہ ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے میرے رب نے بتایا تھا کہ میں اپنی امت کی ایک علامت دیکھوں گا اور مجھے حکم دیا تھا کہ جب میں وہ علامت دیکھ لوں تو اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کروں اور استغفار کروں کہ وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے اور میں وہ علامت دیکھ چکا ہوں، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اِذَا جَاءَ نَصر اللہِ وَ الفَتحُ پوری سورت تلاوت فرمائی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24065]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4967، م: 484
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4967، م: 484
حدیث نمبر: 24066 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " لَمَّا نَزَلَ عُذْرِي، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ ذَلِكَ، وَتَلَا الْقُرْآنَ، فَلَمَّا نَزَلَ أَمَرَ بِرَجُلَيْنِ وَامْرَأَةٍ فَضُرِبُوا حَدَّهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب میری برأت کی آیات نازل ہوئیں، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور یہ واقعہ ذکر کرکے قرآن کریم کی تلاوت فرمائی اور جب نیچے اترے تو دو آدمیوں اور ایک عورت کے متعلق حکم دیا چنانچہ انہیں سزا دی گئی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24066]
حکم دارالسلام
حديث حسن، محمد بن إسحاق مدلس ولكن صرح بالتحديث عند البيهقي فى «الدلائل»
الحكم: حديث حسن، محمد بن إسحاق مدلس ولكن صرح بالتحديث عند البيهقي فى «الدلائل»
حدیث نمبر: 24067 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، لِابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمٌ ، صَفِيَّةُ بِنْتُ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ وَكَانَتْ امْرَأَتُهُ أُمَّ وَلَدٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، حَدَّثَتْهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ابْتَاعَ جَارِيَةً بِطَرِيقِ مَكَّةَ، فَأَعْتَقَهَا، وَأَمَرَهَا أَنْ تَحُجَّ مَعَهُ، فَابْتَغَى لَهَا نَعْلَيْنِ، فَلَمْ يَجِدْهُمَا، فَقَطَعَ لَهَا خُفَّيْنِ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، قَالَ: ابْنُ إِسْحَاقَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ شِهَابٍ ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ كَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ، ثُمَّ حَدَّثَتْهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ أَبِي عُبَيْدٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُرَخِّصُ لِلنِّسَاءِ فِي الْخُفَّيْنِ" ، فَتَرَكَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع " جن کی بیوی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی ام ولدہ تھی، ان کی بیوی کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مکہ مکرمہ کے راستے میں ایک باندی خریدی اور اسے آزاد کر کے اپنے ساتھ حج پر چلنے کا حکم دیا، اس کے لئے جو تیاں تلاش کی گئیں لیکن وہ نہیں ملیں تو انہوں نے ٹخنوں سے نیچے سے موزوں کو کاٹ کر وہی اسے پہنا دیئے، بعد میں صفیہ بنت ابی عبید نے انہیں بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عورتوں کو موزے پہننے کی اجازت دیتے تھے چنانچہ انہوں نے ایسا کرنا چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24067]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق وامرأة نافع قد توبعت
الحكم: إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق وامرأة نافع قد توبعت
حدیث نمبر: 24068 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، دَاوُدَ ، عَامِرٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ بِالْبُدْنِ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، وَأَفْتِلُ قَلَائِدَ الْبُدْنِ بِيَدَيَّ، ثُمَّ يَأْتِي مَا يَأْتِي الْحَلَالُ قَبْلَ أَنْ تَبْلُغَ الْبُدْنُ مَكَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کی طرف قربانی کے جانور بھیج دیتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے درمیان غیر محرم ہو کر مقیم رہتے تھے، جب تک کہ جانور مکہ مکرمہ نہ پہنچ جاتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24068]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1321
الحكم: إسناده صحيح، م: 1321
حدیث نمبر: 24069 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، دَاوُدَ ، الشَّعْبِيِّ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ سورة إبراهيم آية 48، قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَيْنَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" عَلَى الصِّرَاطِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اس آیت یَومَ تُبدَلُ ا لا رضُ غَیرَ الارضِ۔۔۔۔۔۔۔ کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سب سے پہلے پوچھنے والی میں ہی تھی، میں نے عرض کیا تھا یارسول اللہ! (جب زمین بدل دی جائے گی تو) اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پل صراط پر۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24069]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2791
الحكم: إسناده صحيح، م: 2791