بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ السَّيِّدَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا الفهرس الفرعى
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 448
صفحہ 18 از 23
حدیث نمبر: 24350 مسند احمد
سُفْيَانُ ، مِسْعَرٍ ، الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَرْقَ فَأَتَعَرَّقُهُ، ثُمَّ يَأْخُذُهُ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ، وَيُعْطِينِي الْإِنَاءَ فَأَشْرَبُ، ثُمَّ يَأْخُذُهُ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن پیش کیا جاتا، میں ایام سے ہوتی اور اس کا پانی پی لیتی پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر پیا ہوتا تھا، اسی طرح میں ایک ہڈی پکڑ کر اس کا گوشت کھاتی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر کھایا ہوتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24350]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 300
الحكم: إسناده صحيح، م: 300
حدیث نمبر: 24351 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، الْقَاسِمَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا وَالمَرْوَةِ، وَرَمْيُ الْجِمَارِ، لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیت اللہ کا طواف، صفا مروہ کی سعی اور رمی جمار کا حکم صرف اس لئے دیا گیا ہے کہ تاکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر قائم کیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24351]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عبيدالله بن أبى زياد فيه ضعف وقد خالف الثقات
الحكم: إسناده ضعيف، عبيدالله بن أبى زياد فيه ضعف وقد خالف الثقات
حدیث نمبر: 24352 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، هَارُونُ ، بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فَرُوحٌ وَرَيْحَانٌ، بِرَفْعِ الرَّاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ آیت فروح و ریحان راء کے ضمے کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24352]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24353 مسند احمد
يُونُسُ ، أَبَانُ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ وَهُوَ يُخَاصِمُ فِي أَرْضٍ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا أَبَا سَلَمَةَ، اجْتَنِبْ الْأَرْضَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنَ الْأَرْضِ، طُوِّقَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس زمین کا ایک جھگڑا لے کر حاضر ہوئے، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا: اے ابوسلمہ! زمین چھوڑ دو، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص ایک بالشت بھر زمین بھی کسی سے ظلماً لیتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گلے میں سات زمینوں کا وہ حصہ طوق بنا کر ڈالے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24353]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع لأن يحيى لم يسمع هذا الحديث من أبى سلمة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع لأن يحيى لم يسمع هذا الحديث من أبى سلمة
حدیث نمبر: 24354 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ لَبَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي، فَلَا أَكْرَهُ شِدَّةَ الْمَوْتِ لِأَحَدٍ أَبَدًا بَعْدَ مَا رَأَيْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوا تو وہ میرے سینے اور ٹھوڑی کے درمیان تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھنے کے بعد میں کسی پر بھی موت کی شدت کو دیکھ کر اسے ناپسند نہیں کروں گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24354]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4446
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4446
حدیث نمبر: 24355 مسند احمد
يُونُسُ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، اللَّيْثُ ، يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، الْمُطَّلِبِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَاتِ قَائِمِ اللَّيْلِ، صَائِمِ النَّهَارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مومن اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے قائم اللیل اور صائم النہار لوگوں کے درجات پالیتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24355]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، المطلب لم يدرك عائشة
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، المطلب لم يدرك عائشة
حدیث نمبر: 24356 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ ، مُوسَى بْنِ سَرْجِسَ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَرْجِسَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمُوتُ، وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ، فَيُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نزع کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ ان کے پاس ایک پیالے میں پانی رکھا ہوا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پیالے میں ہاتھ ڈالتے جارہے ہیں اور اپنے چہرے پر اسے ملتے جا رہے ہیں اور یہ دعا فرماتے جا رہے ہیں کہ اے اللہ! موت کی بےہوشیوں میں میری مدد فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24356]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال موسي بن سرجس
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال موسي بن سرجس
حدیث نمبر: 24357 مسند احمد
يُونُسُ ، اللَّيْثُ ، هِشَامٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُوتِرُ بِخَمْسِ سَجَدَاتٍ لَا يَجْلِسُ بَيْنَهُنَّ حَتَّى يَجْلِسَ فِي الْخَامِسَةِ، ثُمَّ يُسَلِّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو پانچویں جوڑے پر وتر بناتے تھے، درمیان میں نہیں بیٹھتے تھے اور اسی پر بیٹھ کر سلام پھیرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24357]
حکم دارالسلام
إستاده صحيح، م: 737
الحكم: إستاده صحيح، م: 737
حدیث نمبر: 24358 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَأَلَتْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّاعُونِ، فَأَخْبَرَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ كَانَ عَذَابًا يَبْعَثُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَنْ يَشَاءُ، فَجَعَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ، فَلَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَقَعُ الطَّاعُونُ فِيهِ، فَيَمْكُثُ فِي بَلَدِهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا يَعْلَمُ أَنَّهُ لَمْ يُصِبْهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ، إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الشَّهِيدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے " طاعون " کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بتایا کہ یہ ایک عذاب تھا جو اللہ جس پر چاہتا تھا بھیج دیتا تھا، لیکن اس امت کے مسلمانوں پر اللہ نے اسے رحمت بنادیا ہے، اب جو شخص طاعون کی بیماری میں مبتلا ہو اور اس شہر میں ثواب کی نیت سے صبر کرتے ہوئے رکا رہے اور یقین رکھتا ہو کہ اسے صرف وہی مصیبت آسکتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے لکھ دی ہے، تو اسے شہید کے برابر اجر ملے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24358]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3474
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3474
حدیث نمبر: 24359 مسند احمد
يُونُسُ ، دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْمُونٍ الصَّائِغِ ، عَطَاءٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْمُونٍ الصَّائِغِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَقَالَ: " أَلَيْسَ هُنَّ أُمَّهَاتِكُمْ وَأَخَوَاتِكُمْ وَعَمَّاتِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور وہ ان کے سامنے عرض میں لیٹی ہوتی تھیں اور فرماتے تھے کہ جن عورتوں کے سامنے تم نماز پڑھتے ہو، کیا وہ تمہاری مائیں، بہنیں اور پھوپھیاں نہیں ہوتیں؟ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24359]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل إبراهيم بن ميمون الصائغ وجملة: صلى وهى معترضة بين يديه صحيحة
الحكم: إسناده حسن من أجل إبراهيم بن ميمون الصائغ وجملة: صلى وهى معترضة بين يديه صحيحة
حدیث نمبر: 24360 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، اشْتَكَى أَصْحَابُهُ، وَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ وَعَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، وَبِلَالٌ، فَاسْتَأْذَنَتْ عَائِشَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عِيَادَتِهِمْ، فَأَذِنَ لَهَا، فَقَالَتْ لِأَبِي بَكْرٍ: كَيْفَ تَجِدُكَ؟ فَقَالَ: كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ، وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ، وَسَأَلَتْ عَامِرًا، فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِهِ، إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُهُ مِنْ فَوْقِهِ، وَسَأَلَتْ بِلَالًا، فَقَالَ: يَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بفَخًًًّ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ، فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَتْهُ بِقَوْلِهِمْ، فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ، كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ، أو َأَشَدَّ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا، وَفِي مُدِّهَا، وَانْقُلْ وَبَاءَهَا إِلَى مَهْيَعَةَ" ، وَهِيَ الْجُحْفَةُ كَمَا زَعَمُوا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ اور بلال رضی اللہ عنہ بھی بیمار ہوگئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان لوگوں کی عیادت کے لئے جانے کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت لی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، انہوں نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ اپنی صحت کیسی محسوس کررہے ہیں؟ انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " شخص اپنے اہل خانہ میں صبح کرتا ہے جبکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے۔ " پھر میں نے عامر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " کہ موت کا مزہ چکھنے سے پہلے موت کو محسوس کررہا ہوں اور قبرستان منہ کے قریب آگیا ہے۔ " پھر میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے ان کی طبیعت پوچھی تو انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " ہائے! مجھے کیا خبر کہ میں دوبارہ " فخ " میں رات گذار سکوں گا اور میرے آس پاس " اذخر " اور " جلیل " نامی گھاس ہوگی۔ " حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئیں اور ان لوگوں کی باتیں بتائیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا اے اللہ! مدینہ منورہ کو ہماری نگاہوں میں اسی طرح محبوب بنا جیسے مکہ کو بنایا تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ، اس سے بھی زیادہ، اے اللہ! مدینہ کے صاع اور مد میں برکتیں عطاء فرما اور اس کی وباء کو حجفہ کی طرف منتقل فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24360]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى بكر بن إسحاق بن يسار
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى بكر بن إسحاق بن يسار
حدیث نمبر: 24361 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَمَار بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمٍ ، عُرْوَةَ ، عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَمَار بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُرْوَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا زَنَتْ الْأَمَةُ فَاجْلِدُوهَا، وَإِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، وَإِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ بِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ" ، وَالضَّفِيرُ الْحَبْلُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کی باندی زنا کرے اور اس کا جرم ثابت ہوجائے تو اسے کوڑوں کی سزا دے، پھر تیسری یا چوتھی مرتبہ یہی گناہ سر زد ہونے پر فرمایا کہ اسے بیچ دے خواہ اس کی قیمت صرف بالوں سے گندھی ہوئی ایک رسی ہی ملے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24361]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمار بن أبى فروة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمار بن أبى فروة
حدیث نمبر: 24362 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عُقَيْلٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُكَبِّرُ فِي الْعِيدَيْنِ سَبْعًا وَخَمْسًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عیدین کی نماز میں قرأت سے پہلے سات اور پانچ تکبیریں کہتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24362]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة ولاضطرابه فيه
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة ولاضطرابه فيه
حدیث نمبر: 24363 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، نَافِعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْإِمَامُ ضَامِنٌ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، فَأَرْشَدَ اللَّهُ الْإِمَامَ، وَعَفَا عَنِ الْمُؤَذِّنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار ہوتا ہے، اس لئے اللہ امام کو ہدایت دے اور مؤذن کو معاف فرمائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24363]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن أبى الصالح إما ضعيف أو مجهول
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن أبى الصالح إما ضعيف أو مجهول
حدیث نمبر: 24364 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، مُوسَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْن الزُّبَيْر ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْن الزُّبَيْر ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: طَرَقَتْنِي الْحَيْضَةُ مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَأَخَّرْتُ، فَقَالَ:" مَا لَكِ أَنُفِسْتِ؟"، قَالَتْ: لَا، وَلَكِنِّي حِضْتُ، قَالَ: " فَشُدِّي عَلَيْكِ إِزَارَكِ، ثُمَّ عُودِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت مجھے اچانک ایام شروع ہوگئے، اس وقت میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پہلو میں لیٹی ہوئی تھی، سو میں پیچھے ہٹ گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا ہوا؟ کیا تمہارے نفاس کے ایام شروع ہوگئے؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں، بلکہ حیض کے ایام شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ازار اچھی طرح لپیٹ کر پھر واپس آجاؤ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24364]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن الهيعة
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن الهيعة
حدیث نمبر: 24365 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ" ، يَعْنِي فِي الْكُسُوفِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز کسوف میں بلند آواز سے قرأت فرمائی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24365]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل ابن لهيعة، خ: 1046، مطولا
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل ابن لهيعة، خ: 1046، مطولا
حدیث نمبر: 24366 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الْأَسْوَدِ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ، وَلَا تَجْعَلُوهَا عَلَيْكُمْ قُبُورًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے اپنی نماز کا کچھ حصہ اپنے گھروں کے لئے بھی رکھا کرو اور انہیں اپنے لئے قبرستان نہ بنایا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24366]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 24367 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الْأَسْوَدِ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ خَدِيجَةَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَل؟ فَقَالَ: " قَدْ رَأَيْتُهُ فِي الْمَنَامِ، فَرَأَيْتُ عَلَيْهِ ثِيَابُ بَيَاضٍ، فَأَحْسِبُهُ لَوْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ ثِيَابَ بَيَاضٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ورقہ بن نوفل کے انجام کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے انہیں خواب میں سفید کپڑے پہنے ہوئے دیکھا ہے، اس لئے میرا خیال یہ ہے کہ اگر وہ جہنمی ہوتے تو ان کے اوپر سفید کپڑے نہ ہوتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24367]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة ، وقد روى من بلاغات الزهري وهو الصواب
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة ، وقد روى من بلاغات الزهري وهو الصواب
حدیث نمبر: 24368 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ ، يَزِيدَ بْنَ أَبِي يَزِيدَ ، عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي يَزِيدَ حَدَّثَهُ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 123، قَالَ: إِنَّا لَنُجْزَى بِكُلِّ عَمَلِنَا؟! هَلَكْنَا إِذًا، فَبَلَغَ ذَاكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " نَعَمْ، يُجْزَى بِهِ الْمُؤْمِنُونَ فِي الدُّنْيَا فِي مُصِيبَةٍ فِي جَسَدِهِ فِيمَا يُؤْذِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے یہ آیت تلاوت کی " جو شخص برا کام کرے گا، اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا، تو وہ کہنے لگا کہ اگر ہمیں ہمارے عمل کا بدلہ دیا جائے گا تو ہم تو ہلاک ہوجائیں گے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا ہاں! البتہ مومن کو اس کا بدلہ دنیا ہی میں جسمانی ایذاء اور مصیبت کی شکل میں دے دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24368]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل يزيد بن أبى زياد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 24369 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، أَبَا النَّضْرِ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا، قَالَ مُعَاوِيَةُ: ضَحِكًا، حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ، إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ، وَقَالَتْ: كَانَ إِذَا رَأَى غَيْمًا، أَوْ رِيحًا، عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، النَّاسُ إِذَا رَأَوْا الْغَيْمَ، فَرِحُوا رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْمَطَرُ، وَأَرَاكَ إِذَا رَأَيْتَهُ عَرَفْتُ فِي وَجْهِكَ الْكَرَاهِيَةَ! قَالَتْ: فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ، مَا يُؤْمِنِّي أَنْ يَكُونَ فِيهِ عَذَابٌ، قَدْ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيحِ، وَقَدْ رَأَى قَوْمٌ الْعَذَابَ، فَقَالُوا: هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے کبھی بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو منہ کھول کر اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ حلق کا کوا نظر آنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف تبسم فرماتے تھے اور جب بادل یا آندھی نظر آتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روئے مبارک پر تفکرات کے آثار نظر آنے لگتے تھے، ایک مرتبہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! لوگ بادل کو دیکھ کر خوش ہوئے ہیں اور انہیں یہ امید ہوتی ہے کہ اب بارش ہوگی اور میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ بادلوں کو دیکھ کر آپ کے چہرے پر تفکرات کے آثار نظر آنے لگتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! مجھے اس چیز سے اطمینان نہیں ہو تاکہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو، کیونکہ اس سے پہلے ایک قوم پر آندھی کا عذاب ہوچکا ہے، جب ان لوگوں نے عذاب کو دیکھا تھا تو اسے بادل سمجھ کر یہ کہہ رہے تھے کہ یہ بادل ہم پر بارش برسائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24369]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4828، م: 899
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4828، م: 899