هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ ، يَزِيدَ بْنَ أَبِي يَزِيدَ ، عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي يَزِيدَ حَدَّثَهُ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 123، قَالَ: إِنَّا لَنُجْزَى بِكُلِّ عَمَلِنَا؟! هَلَكْنَا إِذًا، فَبَلَغَ ذَاكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " نَعَمْ، يُجْزَى بِهِ الْمُؤْمِنُونَ فِي الدُّنْيَا فِي مُصِيبَةٍ فِي جَسَدِهِ فِيمَا يُؤْذِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے یہ آیت تلاوت کی " جو شخص برا کام کرے گا، اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا، تو وہ کہنے لگا کہ اگر ہمیں ہمارے عمل کا بدلہ دیا جائے گا تو ہم تو ہلاک ہوجائیں گے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا ہاں! البتہ مومن کو اس کا بدلہ دنیا ہی میں جسمانی ایذاء اور مصیبت کی شکل میں دے دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24368]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل يزيد بن أبى زياد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل يزيد بن أبى زياد