بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ السَّيِّدَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا الفهرس الفرعى
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 448
صفحہ 23 از 23
حدیث نمبر: 24451 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " كَانَ فِرَاشُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدَمًا، وَحَشْوُهُ لِيفٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بستر جس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو سوتے تھے، چمڑے کا تھا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24451]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6456، م: 2082
الحكم: حديث صحيح، خ: 6456، م: 2082
حدیث نمبر: 24452 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، دَاوُدُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ شَبِعْنَا مِنَ الْأَسْوَدَيْنِ الْمَاءِ وَالتَّمْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے اس وقت رخصت ہوئے جب لوگ دو سیاہ چیزوں یعنی پانی اور کھجور سے اپنا پیٹ بھر تے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24452]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5383، م: 2975
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5383، م: 2975
حدیث نمبر: 24453 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ الْحَضْرَمِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ الْحَضْرَمِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، أَوْ مِنْ آخِرِهِ؟ فَقَالَتْ: " كُلُّ ذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ، رُبَّمَا أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّيْلِ، وَرُبَّمَا أَوْتَرَ آخِرَهُ"، قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً، قُلْتُ: كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَتُهُ، يُسِرُّ أَوْ يَجْهَرُ؟ قَالَتْ:" كُلُّ ذَلِكَ كَانَ يَفْعَل، رُبَّمَا أَسَرَّ، وَرُبَّمَا جَهَرَ"، قَالَ: قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ فِي الْجَنَابَةِ، أَكَانَ يَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ، أَوْ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ؟ قَالَتْ:" كُلُّ ذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ، رُبَّمَا اغْتَسَلَ، فَنَامَ، وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ، وَنَامَ"، قَالَ: قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا یہ بتایئے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غسل جنابت رات کے ابتدائی حصے میں کرتے تھے یا آخری حصے میں؟ انہوں نے فرمایا کبھی رات کے ابتدائی حصے میں غسل فرما لیتے تھے اور کبھی رات کے آخری حصے میں، اس پر میں نے اللہ اکبر کہہ کر عرض کیا شکر ہے، اس اللہ کا جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی ہے، پھر میں نے پو چھا یہ بتایئے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے اول حصے میں وتر پڑھتے یا آخر میں؟ انہوں نے فرمایا کبھی رات کے ابتدائی حصے میں وتر پڑھ لیتے تھے اور کبھی آخری حصے میں، میں نے پھر اللہ اکبر کہہ کر عرض کیا شکر ہے اس اللہ کا جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی، پھر میں نے پوچھا یہ بتایئے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جہری قرأت فرماتے تھے یا سری؟ انہوں نے فرمایا کبھی جہری اور کبھی سری، میں نے پھر اللہ اکبر کہہ کر عرض کیا اس اللہ کا شکر ہے جس نے اس معاملے میں بھی وسعت رکھی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24453]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 307
الحكم: إسناده صحيح، م: 307
حدیث نمبر: 24454 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا تُقْبَضُ نَفْسُهُ ثُمَّ يَرَى الثَّوَابَ، ثُمَّ تُرَدُّ إِلَيْهِ، فَيُخَيَّرُ بَيْنَ أَنْ تُرَدَّ إِلَيْهِ إِلَى أَنْ يَلْحَقَ"، فَكُنْتُ قَدْ حَفِظْتُ ذَلِكَ مِنْهُ، فَإِنِّي لَمُسْنِدَتُهُ إِلَى صَدْرِي، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى مَالَتْ عُنُقُهُ، فَقُلْتُ: قَدْ قَضَى، قَالَتْ: فَعَرَفْتُ الَّذِي قَالَ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى ارْتَفَعَ، فَنَظَرَ، قَالَتْ: قُلْتُ: إِذَنْ وَاللَّهِ لَا يَخْتَارُنَا، فَقَالَ:" مَعَ الرَّفِيقِ الْأَعْلَى فِي الْجَنَّةِ، مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ سورة النساء آية 69"، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے جس نبی کی روح قبض ہونے کا وقت آتا تھا، ان کی روح قبض ہونے کے بعد انہیں ان کا ثواب دکھایا جاتا تھا پھر واپس لوٹا کر انہیں اس بات کا اختیار دیا جاتا تھا کہ انہیں اس ثواب کی طرف لوٹا کر اس سے ملا دیا جائے (یا دنیا میں بھیج دیا جائے) میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اس بات کو اچھی طرح اپنے ذہن میں محفوظ کرلیا تھا، مرض الوفات میں میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے سینے سے سہارا دیا ہوا تھا کہ اچانک میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کی گردن ڈھلک گئی ہے، میں نے سوچا کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں، پھر مجھے وہ بات یاد آگئی جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمائی تھی، چنانچہ اب جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا تو انہوں نے اپنی گردن اٹھا کر اوپر کو دیکھا، میں سمجھ گئی کہ اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی صورت ہمیں ترجیح نہ دیں گے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا " رفیق اعلیٰ کے ساتھ جنت میں " ارشاد ربانی ہے " ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام فرمایا مثلاً انبیاء کرام علیم السلام اور صدیقین "۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24454]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، المطلب بن عبدالله لم يدرك عائشة
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، المطلب بن عبدالله لم يدرك عائشة
حدیث نمبر: 24455 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَي سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حُمِّلَ مِنْ أُمَّتِي دَيْنًا، ثُمَّ جَهِدَ فِي قَضَائِهِ، فَمَاتَ، وَلَمْ يَقْضِهِ، فَأَنَا وَلِيُّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے جو شخص قرض کا بوجھ اٹھائے اور اسے ادا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے فوت ہوجائے لیکن وہ قرض ادا نہ کرسکا ہو تو میں اس کا ولی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24455]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24456 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، الْمُبَارَكُ ، أُمِّهِ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُبَارَكُ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي مِنَ الضُّحَى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے گھر میں چاشت کی چار رکعتیں پڑھی ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24456]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أم المبارك بن فضالة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أم المبارك بن فضالة
حدیث نمبر: 24457 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَائِشَةُ، إِنَّ أَوَّلَ مَنْ يَهْلِكُ مِنَ النَّاسِ قَوْمُكِ"، قَالَتْ: قُلْتُ: جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ، أَبَنِي تَيْمٍ؟ قَالَ:" لَا، وَلَكِنْ هَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ، تَسْتَحْلِيهِمْ الْمَنَايَا، وَتَنَفَّسُ عَنْهُمْ أَوَّلَ النَّاسِ هَلَاكًا"، قُلْتُ: فَمَا بَقَاءُ النَّاسِ بَعْدَهُمْ؟ قَالَ:" هُمْ صُلْبُ النَّاسِ، فَإِذَا هَلَكُوا هَلَكَ النَّاسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے عائشہ! لوگوں میں سب سے پہلے ہلاک ہونے والے تمہاری قوم کے لوگ ہوں گے، میں نے عرض کیا اللہ مجھے آپ پر فداء کرے کیا بنو تیم کے لوگ مراد ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، بلکہ قریش کا یہ قبیلہ، ان کے سامنے خواہشات مزین ہوجائیں گی اور لوگ ان سے پیچھے ہٹ جائیں گے اور یہی سب سے پہلے ہلاک ہونے والے ہوں گے، میں نے عرض کیا کہ پھر ان کے بعد لوگوں کی بقاء کیا رہ جائے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قریش لوگوں کی پشت ہوں گے اس لئے جب وہ ہلاک ہوجائیں گے تو عام بھی لوگ ہلاک ہونے لگیں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24457]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن المؤمل
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن المؤمل
حدیث نمبر: 24458 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ ، أُمَّ كُلْثُومٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرٌ ، أَنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهَا " أَنَّهَا وَالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَا ذَلِكَ، ثُمَّ اغْتَسَلَا مِنْهُ يَوْمًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے ایسا کیا تو غسل کیا تھا، (مراد یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی سے مجامعت کرے اور انزال نہ ہو تو غسل کرے)۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24458]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، ابن لهيعة وإن كان ضعيفا قد توبع
الحكم: حديث صحيح، ابن لهيعة وإن كان ضعيفا قد توبع