مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَائِشَةُ، إِنَّ أَوَّلَ مَنْ يَهْلِكُ مِنَ النَّاسِ قَوْمُكِ"، قَالَتْ: قُلْتُ: جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ، أَبَنِي تَيْمٍ؟ قَالَ:" لَا، وَلَكِنْ هَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ، تَسْتَحْلِيهِمْ الْمَنَايَا، وَتَنَفَّسُ عَنْهُمْ أَوَّلَ النَّاسِ هَلَاكًا"، قُلْتُ: فَمَا بَقَاءُ النَّاسِ بَعْدَهُمْ؟ قَالَ:" هُمْ صُلْبُ النَّاسِ، فَإِذَا هَلَكُوا هَلَكَ النَّاسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے عائشہ! لوگوں میں سب سے پہلے ہلاک ہونے والے تمہاری قوم کے لوگ ہوں گے، میں نے عرض کیا اللہ مجھے آپ پر فداء کرے کیا بنو تیم کے لوگ مراد ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، بلکہ قریش کا یہ قبیلہ، ان کے سامنے خواہشات مزین ہوجائیں گی اور لوگ ان سے پیچھے ہٹ جائیں گے اور یہی سب سے پہلے ہلاک ہونے والے ہوں گے، میں نے عرض کیا کہ پھر ان کے بعد لوگوں کی بقاء کیا رہ جائے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قریش لوگوں کی پشت ہوں گے اس لئے جب وہ ہلاک ہوجائیں گے تو عام بھی لوگ ہلاک ہونے لگیں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24457]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن المؤمل
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن المؤمل