إِسْمَاعِيلُ ، دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَزْرَةَ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: كَانَ لَنَا سِتْرٌ فِيهِ تِمْثَالُ طَائِرٍ، فَكَانَ الدَّاخِلُ إِذَا دَخَلَ، اسْتَقْبَلَهُ، فَقَال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَائِشَةُ، حَوِّلِي هَذَا، فَإِنِّي كُلَّمَا دَخَلْتُ فَرَأَيْتُهُ، ذَكَرْتُ الدُّنْيَا" ، وَكَانَتْ لَنا قَطِيفَةٌ، كُنَّا نَقُولُ عَلَمُهَا مِنْ حَرِيرٍ، فَكُنَّا نَلْبَسُهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک پردہ تھا جس پر کسی پرندے کی تصویر بنی ہوئی تھی، جب کوئی آدمی گھر میں داخل ہوتا تو سب سے پہلے اس کی نظر اسی پر پڑتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا عائشہ! اس پردے کو بدل دو، میں جب بھی گھر میں آتا ہوں اور اس پر میری نظر پڑتی ہے تو مجھے دنیا یاد آجاتی ہے، اسی طرح ہمارے پاس ایک چادر تھی جس کے متعلق ہم یہ کہتے تھے کہ اس کے نقش و نگار ریشم کے ہیں، ہم اسے اوڑھ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24218]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2107
الحكم: إسناده صحيح، م: 2107