بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 24411
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 24411
حدیث نمبر: 24411 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حُسَيْنٌ ، شَرِيكٌ ، قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ، شَيْخٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي سُوَاءَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، قُلْتُ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَجْنَبَ، فَغَسَلَ رَأْسَهُ بِغُسْلٍ، اجْتَزَأَ بِذَلِكَ، أَمْ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ؟ قَالَتْ:" بَلْ كَانَ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنو سواء کے ایک بزرگ کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اختیاری طور پر ناپاکی سے غسل فرماتے تھے، تو جسم پر پانی ڈالتے وقت سر پر جو پانی پڑتا تھا اسے کافی سمجھتے تھے یا سر پر نئے سرے سے پانی ڈالتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں بلکہ نئے سرے سے سر پر پانی ڈالتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24411]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لابهام الشيخ من بني سواءة ولضعف شريك
الحكم: إسناده ضعيف لابهام الشيخ من بني سواءة ولضعف شريك
← پچھلی حدیث (24410) باب پر واپس اگلی حدیث (24412) →