حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا، فَأَرَادَ بِهِ خَيْرًا جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ صِدْقٍ، فَإِنْ نَسِيَ ذَكَّرَهُ، وَإِنْ ذَكَرَ أَعَانَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ امور مسلمین میں سے کسی چیز کی ذمہ داری عطاء فرمائے اور اس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرمالے تو اسے ایک سچا وزیر عطا فرما دیتا ہے جو بادشاہ کو بھول جانے پر یاد دلاتا ہے اور یاد رہنے پر اعانت کرتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24414]
حکم دارالسلام
صحيح وهذا إسناد ضعيف لضعف مسلم بن خالد الزنجي
الحكم: صحيح وهذا إسناد ضعيف لضعف مسلم بن خالد الزنجي