بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 24421
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 24421
حدیث نمبر: 24421 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حُسَيْنٌ ، دُوَيْدٌ ، أَبِي سَهْلٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ رُومَانَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا دُوَيْدٌ ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ رُومَانَ مَوْلَى عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:" وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ مَا رَأَى مُنْخُلًا وَلَا أَكَلَ خُبْزًا مَنْخُولًا مُنْذُ بَعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى أَنْ قُبِضَ" ، قُلْتُ: كَيْفَ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ؟ قَالَتْ:" كُنَّا نَقُولُ أُفٍّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی چھلنی نہیں دیکھی اور کبھی چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہیں کھائی، بعثت سے لے کر وصال تک یہی حالت رہی، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا آپ لوگ جو کی روٹی چھانے بغیر کس طرح کھالیتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ " اف " کہتے جاتے تھے (تکلیف کے ساتھ حلق سے اتارتے تھے، یا صرف منہ سے پھونک مار لیا کرتے تھے) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24421]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف مسلسل بالمجاهيل ورواية سهل بن سعد السالف 332/5 يغني عنه
الحكم: إسناده ضعيف مسلسل بالمجاهيل ورواية سهل بن سعد السالف 332/5 يغني عنه
← پچھلی حدیث (24420) باب پر واپس اگلی حدیث (24422) →