ان سے کہو "ہمیں ہرگز کوئی (برائی یا بھلائی) نہیں پہنچتی مگر وہ جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے اللہ ہی ہمارا مولیٰ ہے، اور اہل ایمان کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے"
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے کہ ہمیں سوائے اللہ کے ہمارے حق میں لکھے ہوئے کہ کوئی چیز پہنچ ہی نہیں سکتی وه ہمارا کار ساز اور مولیٰ ہے۔ مومنوں کو تو اللہ کی ذات پاک پر ہی بھروسہ کرنا چاہئے۔
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ ہمیں نہ پہنچے گا مگر جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا وہ ہمارا مولیٰ ہے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے پیغمبر(ص)) کہہ دیجیے! کہ ہمیں ہرگز کوئی (بھلائی یا برائی) نہیں پہنچتی مگر وہی جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ دی ہے وہی ہمارا مولیٰ و سرپرست ہے۔ اور اللہ ہی پر اہلِ ایمان کو توکل (بھروسہ) کرنا چاہیے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے ہمیں ہرگز نہیں پہنچے گا مگر وہی جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا، وہی ہمارا مالک ہے اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ ایمان والے بھروسا کریں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بدفطرت لوگوں کا دوغلا پن ٭٭
ان بدظن لوگوں کی اندرونی خباثت کا بیان ہورہا ہے کہ مسلمانوں کی فتح و نصرت سے، ان کی بھلائی اور ترقی سے ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے اور اگر اچانک یہاں اس کے خلاف ہوا تو الاپ الاپ کر اپنی چالاکی کے افسانے گائے جاتے ہیں کہ میاں اسی وجہ سے ہم تو ان سے بچتے رہے مارے خوشی کے بغلیں بجانے لگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو جواب دے کہ رنج و راحت اور ہم خود اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کی منشاء کے ماتحت ہیں وہ ہمارا مولیٰ ہے وہ ہمارا آقا ہے وہ ہماری پناہ ہے ہم مومن ہیں اور مومنوں کا بھروسہ اسی پر ہوتا ہے وہ ہمیں کافی ہے بس ہے وہ ہمارا کار ساز ہے اور بہترین کار ساز ہے۔
51۔ 1 یہ منافقین کے جواب میں مسلمانوں کے صبر و ثبات اور حوصلے کے لئے فرمایا جا رہا ہے کیونکہ جب انسان کو یہ معلوم ہو کہ اللہ کی طرف سے مقدر کا ہر صورت میں ہونا ہے اور جو بھی مصیبت یا بھلائی ہمیں پہنچتی ہے اسی تقدیر الٰہی کا حصہ ہے، تو انسان کے لئے مصیبت کا برداشت کرنا آسان اور اس کے حوصلے میں اضافے کا سبب ہوتا ہے۔
(آیت51) ➊ {قُلْ لَّنْ يُّصِيْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا:} یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر ایمان و یقین کی برکت کا ذکر ہے، سچ ہے: {”مَنْ عَلِمَ سِرَّ اللّٰهِ فِي الْقَدَرِ هَانَتْ عَلَيْهِ الْمَصَائِبُ “} ”جس نے قضا و قدر میں اللہ تعالیٰ کے راز کو پا لیا اس پر مصیبتیں آسان ہو جاتی ہیں۔“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”کوئی مصیبت نہ زمین میں پہنچتی ہے اور نہ تمھاری جانوں میں مگر وہ ایک کتاب میں ہے، اس سے پہلے کہ ہم اسے پیدا کریں، یقینا یہ اللہ پر بہت آسان ہے، تاکہ تم نہ اس پر غم کرو جو تمھارے ہاتھ سے نکل جائے اور نہ اس پر پھول جاؤ جو وہ تمھیں عطا فرمائے۔“ [ الحدید: ۲۲، ۲۳ ] ➋ { هُوَ مَوْلٰىنَا …:} وہی ہمارا مالک، مددگار اور حمایتی ہے۔ ہم اپنے مالک پر خوش ہیں اور ایمان والوں کو تو بس اللہ ہی پر بھروسا رکھنا لازم ہے، نہ دنیا کے سازوسامان پر اور نہ اس کے سوا کسی اور ذات پر۔ {” وَ عَلَى اللّٰهِ “} کے پہلے آنے سے حصر کا مفہوم پیدا ہو گیا اور {” فَلْيَتَوَكَّلِ“} میں فاء کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان منافقین کے رویے سے پیدا ہونے والی بددلی کا علاج چاہتے ہیں تو ایمان والوں کے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ وہ صرف اللہ پر بھروسا رکھیں اور اس کے سوا کسی کی پروا نہ کریں۔
ان سے کہو، "تم ہمارے معاملہ میں جس چیز کے منتظر ہو وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی ہے اور ہم تمہارے معاملہ میں جس چیز کے منتظر ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ خود تم کو سزا دیتا ہے یا ہمارے ہاتھوں دلواتا ہے؟ اچھا تو اب تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے کہ تم ہمارے بارے میں جس چیز کا انتظار کر رہے ہو وه دو بھلائیوں میں سے ایک ہے اور ہم تمہارے حق میں اس کا انتظار کرتے ہیں کہ یا تو اللہ تعالیٰ اپنے پاس سے کوئی سزا تمہیں دے یا ہمارے ہاتھوں سے، پس ایک طرف تم منتظر رہو دوسری جانب تمہارے ساتھ ہم بھی منتظر ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ تم ہم پر کس چیز کا انتظار کرتے ہو مگر دو خوبیوں میں سے ایک کا اور ہم تم پر اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تم پر عذاب ڈالے اپنے پاس سے یا ہمارے ہاتھوں تو اب راہ دیکھو ہم بھی تمہارے ساتھ راہ دیکھ رہے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اے پیغمبر(ص) کہہ دیجیے! کہ تم ہمارے بارے میں دو بھلائیوں (فتح یا شہادت) میں سے ایک کے سوا اور کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟ اور ہم تمہارے بارے میں اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ تمہیں سزا دے۔ خواہ اپنی طرف سے دے یا ہمارے ہاتھوں سے؟ سو تم انتظار کرو۔ اور ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے تم ہمارے بارے میں دو بہترین چیزوں میں سے ایک کے سوا کس کا انتظار کرتے ہو اور ہم تمھارے بارے میں انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ تمھیں اپنے پاس سے کوئی عذاب پہنچائے، یا ہمارے ہاتھوں سے۔ سو انتظار کرو، بے شک ہم (بھی) تمھارے ساتھ منتظر ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شہادت ملی تو جنت، بچ گئے تو غازی ٭٭
مسلمانوں کے جہاد میں دو ہی انجام ہوتے ہیں اور دونوں ہر طرح اچھے ہیں۔ اگر شہادت ملی تو جنت اپنی ہے اور اگر فتح ملی تو غنیمت و اجر ہے۔ پس اے منافقو! تم جو ہماری بابت انتظار کر رہے ہو وہ انہی دو اچھائیوں میں سے ایک، ہے اور ہم جس بات کا انتظار تمہارے بارے میں کر رہے ہیں وہ دو برائیوں میں سے ایک کا ہے یعنی یا تو یہ کہ عذابِ رب براہ راست تم پر آ جائے یا ہمارے ہاتھوں سے تم پر رب کی مار پڑے کہ قتل و قید ہو جاؤ۔ اچھا اب تم اپنی جگہ اور ہم اپنی جگہ منتظر رہیں دیکھیں پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ تمہارے خرچ کرنے کا اللہ بھوکا نہیں تم خوشی سے دو تو اور ناراضگی سے دو تو وہ تو قبول فرمانے کا نہیں اس لیے کہ تم فاسق لوگ ہو۔ تمہارے خرچ کی عدم قبولیت کا باعث کفر ہے اور اعمال کی قبولیت کی شرط کفر کا نہ ہونا بلکہ ایمان کا ہونا ہے۔ ساتھ ہی کسی عمل میں تمہارا نیک قصد اور سچی ہمت نہیں نماز کو آتے ہو تو بھی ہارے دل سے گرتے پڑتے، مرتے بچھڑتے، سست اور کاہل ہو کر۔ دیکھا دیکھی مجمع میں دو چار دے بھی دیتے ہو تو مرے جی سے، دل کی تنگی سے۔ صادق و مصدوق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نہیں تھکتا لیکن تم تھک جاتے ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:43] اللہ پاک ہے وہ پاک چیز ہی قبول فرماتا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1410] متقیوں کی اعمال قبول ہوتے ہیں تم فاسق ہو تمہارے اعمال قبولیت سے گرے ہوئے ہیں۔
52۔ 1 یعنی کامیابی یا شہادت، ان دونوں میں سے جو چیز بھی ہمیں حاصل ہو، ہمارے لئے خیر (بھلائی) ہے۔ 52۔ 2 یعنی ہم تہارے بارے میں دو برائیوں میں سے ایک برائی کا انتظار کر رہے ہیں کہ یا تو آسمان سے اللہ تعالیٰ تم پر عذاب نازل فرمائے جس سے تم ہلاک ہوجاؤ یا ہمارے ہاتھوں سے اللہ تعالیٰ تمہیں (قتل کرنے، یا قیدی بننے وغیرہ قسم کی) سزائیں دے۔ وہ دونوں باتوں پر قادر ہے۔
(آیت52){قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ …:” اِحْدَى“} کا معنی ایک اور {” الْحُسْنَيَيْنِ “ ” اَلْحُسْنٰي“} کی تثنیہ ہے، جو {” اَلْاَحْسَنُ “} (اسم تفضیل) کی مؤنث ہے، یعنی سب سے اچھی دو چیزوں میں سے ایک۔ مسلمانوں کی مصیبت پر منافقین کی خوشی کا یہ دوسرا جواب ہے کہ ہم ہر حال میں سب لوگوں سے اچھے ہیں، دنیا میں یا تو ہمیں فتح اور غنیمت حاصل ہو گی جو بہترین چیز ہے، یا پھر ہم اللہ کی راہ میں شہید ہوں گے، تو یہ اس سے بھی بڑھ کر ہے اور ہماری عین تمنا ہے کہ ہم جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے ضمانت دی ہے جس نے اس کے راستے میں جہاد کیا۔ اسے اس کے راستے میں جہاد اور اس کی باتوں کو سچا یقین کرنے کے سوا کسی اور چیز نے نہیں نکالا کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے گا، یا اسے اس کے گھر جس سے نکل کر گیا ہے، اجر یا غنیمت دے کر واپس لائے گا۔“ [ بخاری، فرض الخمس، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم : أحلت لکم الغنائم: ۳۱۲۳، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ] اس کے برعکس منافقین ہیں کہ دنیا میں مسلمانوں کے ہاتھوں یا اللہ کی طرف سے انھیں ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا اور آخرت میں اللہ کی طرف سے جہنم کے درک اسفل میں دائمی عذاب میں مبتلا ہوں گے، پس ہم اور تم ایک دوسرے کے متعلق دو حالتوں میں سے ایک کے منتظر ہیں۔
ان سے کہو "تم اپنے مال خواہ راضی خوشی خرچ کرو یا بکراہت، بہر حال وہ قبول نہ کیے جائیں گے کیونکہ تم فاسق لوگ ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے کہ تم خوشی یاناخوشی کسی طرح بھی خرچ کرو قبول تو ہرگز نہ کیا جائے گا، یقیناً تم فاسق لوگ ہو
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ کہ دل سے خرچ کرو یا ناگواری سے تم سے ہر گز قبول نہ ہوگا بیشک تم بے حکم لوگ ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
کہہ دیجیے! کہ تم خوشی سے (اپنا مال) خرچ کرو یا ناخوشی سے۔ بہرحال وہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ تم فاسق (نافرمان) لوگ ہو (انما یتقبل اللّٰہ من المتقین یعنی اللہ تو صرف متقیوں کا عمل قبول کرتا ہے)۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے خوشی سے خرچ کرو، یا نا خوشی سے، تم سے ہر گز قبول نہ کیا جائے گا۔ بے شک تم ہمیشہ سے نافرمان لوگ ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شہادت ملی تو جنت، بچ گئے تو غازی ٭٭
مسلمانوں کے جہاد میں دو ہی انجام ہوتے ہیں اور دونوں ہر طرح اچھے ہیں۔ اگر شہادت ملی تو جنت اپنی ہے اور اگر فتح ملی تو غنیمت و اجر ہے۔ پس اے منافقو! تم جو ہماری بابت انتظار کر رہے ہو وہ انہی دو اچھائیوں میں سے ایک، ہے اور ہم جس بات کا انتظار تمہارے بارے میں کر رہے ہیں وہ دو برائیوں میں سے ایک کا ہے یعنی یا تو یہ کہ عذابِ رب براہ راست تم پر آ جائے یا ہمارے ہاتھوں سے تم پر رب کی مار پڑے کہ قتل و قید ہو جاؤ۔ اچھا اب تم اپنی جگہ اور ہم اپنی جگہ منتظر رہیں دیکھیں پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ تمہارے خرچ کرنے کا اللہ بھوکا نہیں تم خوشی سے دو تو اور ناراضگی سے دو تو وہ تو قبول فرمانے کا نہیں اس لیے کہ تم فاسق لوگ ہو۔ تمہارے خرچ کی عدم قبولیت کا باعث کفر ہے اور اعمال کی قبولیت کی شرط کفر کا نہ ہونا بلکہ ایمان کا ہونا ہے۔ ساتھ ہی کسی عمل میں تمہارا نیک قصد اور سچی ہمت نہیں نماز کو آتے ہو تو بھی ہارے دل سے گرتے پڑتے، مرتے بچھڑتے، سست اور کاہل ہو کر۔ دیکھا دیکھی مجمع میں دو چار دے بھی دیتے ہو تو مرے جی سے، دل کی تنگی سے۔ صادق و مصدوق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نہیں تھکتا لیکن تم تھک جاتے ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:43] اللہ پاک ہے وہ پاک چیز ہی قبول فرماتا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1410] متقیوں کی اعمال قبول ہوتے ہیں تم فاسق ہو تمہارے اعمال قبولیت سے گرے ہوئے ہیں۔
53۔ 1 انفقوا امر کا صیغہ۔ لیکن یہاں یہ تو شرط اور جزا کے معنی میں ہے۔ یعنی اگر تم خرچ کرو گے تو قبول نہیں کیا جائے گا یا یہ امر بمعنی خبر کے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دونوں باتیں برابر ہیں، خرچ کرو یا نہ کرو۔ اپنی مرضی سے اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے، تب بھی نہ مقبول ہے۔ کیونکہ قبولیت کے لئے ایمان شرط اول ہے اور وہی تمہارے اندر مفقود ہے اور ناخوشی سے خرچ کیا ہوا مال، اللہ کے ہاں ویسے ہی مردود ہے، اس لئے کہ وہاں قصد صحیح موجود نہیں ہے جو قبولیت کے لئے ضروری ہے۔ یہ آیت بھی اسی طرح ہے جس طرح یہ ہے (اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ ۭاِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِيْنَ مَرَّةً فَلَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ) 9۔ التوبہ:80) آپ ان کے لیے بخشش مانگیں یا نہ مانگیں (یعنی دونوں باتیں برابر ہیں)۔
(آیت53) ➊ {قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا …:} اوپر کی آیت میں بتایا کہ منافقین کے لیے بہرحال عذاب ہے، اب اس آیت میں فرمایا کہ اس عذاب سے کسی طور وہ نجات نہیں پا سکتے، کیونکہ آخرت میں ان کی کوئی نیکی قبول نہیں ہے۔ غزوۂ تبوک کے موقع پر بعض منافقین ایسے بھی تھے جو کہتے تھے کہ ہمیں ساتھ جانے سے معافی دی جائے، اس کے عوض ہم مالی اعانت پر تیار ہیں۔ وہ یہ بات اس لیے کہتے تھے کہ کہیں مسلمانوں میں بالکل ہی بدنام ہو کر نہ رہ جائیں، انھی کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دیا کہ جن لوگوں کے دلوں میں نفاق اور اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی بھری ہو ان کی مالی امداد کسی طور قبول نہیں، خواہ خوشی سے دیں یا مجبوراً۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:”جد بن قیس نے مال خرچ کرنے کی بابت جو کہا تھا اس کا جواب یہ ہے کہ بے اعتقاد کا مال قبول نہیں۔“ (موضح) ➋ { اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِيْنَ:} عمل کی قبولیت کے لیے تقویٰ شرط ہے جو تم میں ہے ہی نہیں، فرمایا: «اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ» [ المائدۃ: ۲۷ ] ”بے شک اللہ متقی لوگوں ہی سے قبول کرتا ہے۔“ اور دیکھیے سورۂ حج (۳۷) اور بقرہ (۲۶۵)۔
ان کے دیے ہوئے مال قبول نہ ہونے کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے کفر کیا ہے، نماز کے لیے آتے ہیں تو کسمساتے ہوئے آتے ہیں اور راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں تو بادل ناخواستہ خرچ کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کوئی سبب ان کے خرچ کی قبولیت کے نہ ہونے کا اس کے سوا نہیں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے منکر ہیں اور بڑی کاہلی سے ہی نماز کو آتے ہیں اور برے دل سے ہی خرچ کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو خرچ کرتے ہیں اس کا قبول ہونا بند نہ ہوا مگر اسی لیے کہ وہ اللہ اور رسول سے منکر ہوئے اور نماز کو نہیں آتے مگر جی ہارے اور خرچ نہیں کرتے مگر ناگواری سے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان کی خیرات کے قبول کئے جانے میں اس کے سوا اور کوئی امر مانع نہیں ہے کہ انہوں نے خدا و رسول کے ساتھ کفر کیا ہے (ان کا انکار کیا ہے) اور نماز کی طرف نہیں آتے مگر کاہلی اور سستی سے اور خیرات نہیں کرتے مگر بادلِ ناخواستہ۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھیں کوئی چیز اس سے مانع نہیں ہوئی کہ ان کی خرچ کی ہوئی چیزیں قبول کی جائیں مگر یہ بات کہ انھوں نے اللہ کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور وہ نماز کو نہیں آتے مگر اس طرح کہ سست ہوتے ہیں اور خرچ نہیں کرتے مگر اس حال میں کہ نا خوش ہوتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شہادت ملی تو جنت، بچ گئے تو غازی ٭٭
مسلمانوں کے جہاد میں دو ہی انجام ہوتے ہیں اور دونوں ہر طرح اچھے ہیں۔ اگر شہادت ملی تو جنت اپنی ہے اور اگر فتح ملی تو غنیمت و اجر ہے۔ پس اے منافقو! تم جو ہماری بابت انتظار کر رہے ہو وہ انہی دو اچھائیوں میں سے ایک، ہے اور ہم جس بات کا انتظار تمہارے بارے میں کر رہے ہیں وہ دو برائیوں میں سے ایک کا ہے یعنی یا تو یہ کہ عذابِ رب براہ راست تم پر آ جائے یا ہمارے ہاتھوں سے تم پر رب کی مار پڑے کہ قتل و قید ہو جاؤ۔ اچھا اب تم اپنی جگہ اور ہم اپنی جگہ منتظر رہیں دیکھیں پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ تمہارے خرچ کرنے کا اللہ بھوکا نہیں تم خوشی سے دو تو اور ناراضگی سے دو تو وہ تو قبول فرمانے کا نہیں اس لیے کہ تم فاسق لوگ ہو۔ تمہارے خرچ کی عدم قبولیت کا باعث کفر ہے اور اعمال کی قبولیت کی شرط کفر کا نہ ہونا بلکہ ایمان کا ہونا ہے۔ ساتھ ہی کسی عمل میں تمہارا نیک قصد اور سچی ہمت نہیں نماز کو آتے ہو تو بھی ہارے دل سے گرتے پڑتے، مرتے بچھڑتے، سست اور کاہل ہو کر۔ دیکھا دیکھی مجمع میں دو چار دے بھی دیتے ہو تو مرے جی سے، دل کی تنگی سے۔ صادق و مصدوق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نہیں تھکتا لیکن تم تھک جاتے ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:43] اللہ پاک ہے وہ پاک چیز ہی قبول فرماتا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1410] متقیوں کی اعمال قبول ہوتے ہیں تم فاسق ہو تمہارے اعمال قبولیت سے گرے ہوئے ہیں۔
54۔ 1 اس میں ان کے صدقات کے عدم قبول کی تین دلیلیں بیان کی گئی ہیں، ایک ان کا کفر مفسق۔ دوسرا، کاہلی سے نماز پڑھنا، اس لئے وہ نماز پر نہ ثواب کی امید رکھتے ہیں اور نہ ہی اس کے ترک کی سزا سے انہیں کوئی خوف ہے، کیونکہ رضا اور خوف، یہ بھی ایمان کی علامت ہے جس سے محروم ہیں۔ اور تیسرا کراہت سے خرچ کرنا اور جس کام میں دل کی رضا نہ ہو وہ قبول کس طرح ہوسکتا ہے؟ بہرحال یہ تینوں وجوہات ایسی ہیں کہ ان میں سے ایک وجہ بھی عمل کی نامقبولیت کے لئے کافی ہے۔ مذکورہ یہ کہ تینوں وجوہات جہاں جمع ہوجائیں تو اس عمل کے مردود بارگاہ الٰہی ہونے میں کیا شک ہوسکتا ہے۔
(آیت54) {وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ …:} اس آیت میں ان کے صدقات قبول نہ ہونے کے تین اسباب بیان فرمائے ہیں، ایک یہ کہ ان کے دل اللہ اور اس کے رسول پر ایمان سے خالی ہیں، بلکہ وہ دونوں کے منکر ہیں اور ان کا کفر ان کی باتوں سے ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ دوسرا یہ کہ ایمان کی بدنی شہادت نماز ہے، وہ بھی یہ لوگ خوشی اور نشاط سے نہیں بلکہ مارے باندھے سستی سے صرف اپنے ایمان کے دکھاوے کے لیے پڑھتے ہیں، ان کا سستی سے آنا اس بات کی دلیل ہے کہ لوگوں کے سامنے ہوئے تو پڑھ لی اکیلے ہوئے تو چھوڑ دی۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۴۲) تیسرا مالی عبادت بھی خوش دلی سے نہیں بلکہ مجبوراً جرمانہ سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۶۴) اب ان کا خرچ کیا ہوا مال اللہ تعالیٰ کی جناب میں کیسے قبول ہو؟ پکے مومن تو اپنے مال کی پاکیزگی اور سکون قلب کے حصول کے لیے زکوٰۃ دیتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّيْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ» [ التوبۃ: ۱۰۳ ] ”ان کے مالوں سے صدقہ لے، اس کے ساتھ تو انھیں پاک کرے گا اور انھیں صاف کرے گا اور ان کے لیے دعا کر، بے شک تیری دعا ان کے لیے باعث سکون ہے۔“
اِن کے مال و دولت اور ان کی کثرت اولاد کو دیکھ کر دھوکہ نہ کھاؤ، اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ اِنہی چیزوں کے ذریعہ سے ان کو دنیا کی زندگی میں بھی مبتلائے عذاب کرے اور یہ جان بھی دیں تو انکار حق ہی کی حالت میں دیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پس آپ کو ان کے مال واوﻻد تعجب میں نہ ڈال دیں۔ اللہ کی چاہت یہی ہے کہ اس سے انہیں دنیا کی زندگی میں ہی سزا دے اور ان کے کفر ہی کی حالت میں ان کی جانیں نکل جائیں
احمد رضا خان بریلوی
تو تمہیں ان کے مال اور ان کی اولاد کا تعجب نہ آئے، اللہ ہی چاہتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ان چیزوں سے ان پر وبال ڈالے اور اگر کفر ہی پر ان کا دم نکل جائے
علامہ محمد حسین نجفی
سو ان کے مال و اولاد تمہیں حیرت و تعجب میں نہ ڈالیں۔ (اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ) ان کو یہ انہی چیزوں کے ذریعہ سے دنیاوی زندگی میں سزا دے۔ اور ان کی جانیں ایسی حالت میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
تجھے نہ ان کے اموال بھلے معلوم ہوں اور نہ ان کی اولاد، اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ انھیں ان کے ذریعے دنیا کی زندگی میں عذاب دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کثرت مال و دولت عذاب بھی ہے ٭٭
ان کے مال و اولاد کو للچائی ہوئی نگاہوں سے نہ دیکھ، ان کی دنیا کی اس ہیرا پھیری کی کوئی حقیقت نہ گن یہ ان کے حق میں کوئی بھلی چیز نہیں یہ تو ان کے لیے دنیوی سزا بھی ہے کہ نہ اس میں سے زکوٰۃ نکلے نہ اللہ کے نام خیرات ہو۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہاں مطلب مقدم مؤخر ہے یعنی تجھے ان کے مال و اولاد اچھے نہ لگنے چاہئیں اللہ کا ارادہ اس سے انہیں اس حیات دنیا میں ہی سزا دینے کا ہے۔ پہلا قول حسن بصری رحمہ اللہ کا ہے وہی اچھا اور قوی ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ اس میں یہ ایسے پھنسے رہیں گے کہ مرتے دم تک راہ ہدایت نصیب نہیں ہو گی، یوں ہی بتدریج پکڑ لیے جائیں گے اور انہیں پتہ بھی نہ چلے گا۔ یہی حشمت و جاہت، مال و دولت جہنم کی آگ بن جائے گا۔
55۔ 1 اس لئے یہ بطور آزمائش ہے، جس طرح فرمایا ' اور کئی طرح کے لوگوں کو جو ہم نے دنیا زندگی میں آرائش کی چیزوں سے بہرہ مند کیا ہے، تاکہ ان کی آزمائش کریں کہ ہم دنیا میں ان کو مال اور بیٹوں سے مدد دیتے ہیں (تو اس سے) ان کی بھلائی میں ہم جلدی کر رہے ہیں؟ (نہیں) بلکہ یہ سمجھتے نہیں ' 55۔ 2 امام ابن کثیر اور امام ابن جریر طبری نے اس سے زکٰوۃ اور نفاق فی سبیل اللہ مراد لیا ہے۔ یعنی ان منافقین سے زکٰوۃ و صدقات تو (جو وہ مسلمان ظاہر کرنے کے لئے دیتے ہیں) دنیا میں قبول کر لئے جائیں تاکہ اسی طریقے سے ان کو مالی مار بھی دنیا میں دی جائے۔ 55۔ 3 تاہم ان کی موت کفر ہی کی حالت میں آئے گی۔ اس لئے کہ وہ اللہ کے پیغمبر کو صدق دل سے ماننے کے لئے تیار نہیں اور اپنے کفر و نفاق پر ہی بدستور قائم و مصر ہیں۔
(آیت55) ➊ {فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ:} یعنی آپ ان لوگوں کے مال و دولت، اولاد اور دنیوی چمک دمک سے دھوکے میں نہ پڑیں کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہوتا تو یہ اس قدر مال دار اور صاحب اولاد کیوں ہوتے؟ بلکہ آپ ان کی ان چیزوں کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں۔ دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۱۳۱) اور مومنون (۵۵، ۵۶)۔ ➋ { اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا:} یعنی دنیا میں ان چیزوں کو سعادت مندی خیال مت کریں، اللہ تعالیٰ نے انھیں صرف اس لیے ڈھیل دے رکھی ہے کہ دن رات مال جمع کرنے اور اولاد کی حفاظت کی فکر میں لگے رہیں، نہ انھیں دن کا چین نصیب ہو نہ رات کا آرام۔ سکون قلب جو فقط اللہ کی یاد سے حاصل ہوتا ہے، یعنی «اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ» [ الرعد: ۲۸ ] اس سے یہ سراسر محروم رہیں۔ ➌ { تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ:} یعنی آخر دم تک انھیں توبہ کرنے اور سچے دل سے ایمان لانے کی توفیق نصیب نہ ہو، بلکہ جب یہ مریں تو اپنے مال اور اولاد ہی کی طرف ان کا دھیان ہو، نہ آخرت کی فکر نہ اللہ تعالیٰ سے کوئی غرض۔ اگرچہ مومن کو بھی اپنے مال اور اولاد کی فکر ہوتی ہے، مگر چونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اس کے نزدیک ہر چیز سے مقدم ہوتی ہے اس لیے یہ چیزیں اس کے لیے نعمت ہی ہوتی ہیں وبال جان نہیں ہوتیں۔
وہ خدا کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تمہی میں سے ہیں، حالانکہ وہ ہرگز تم میں سے نہیں ہیں اصل میں تو وہ ایسے لوگ ہیں جو تم سے خوف زدہ ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ اللہ کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ یہ تمہاری جماعت کے لوگ ہیں، حاﻻنکہ وه دراصل تمہارے نہیں بات صرف اتنی ہے کہ یہ ڈرپوک لوگ ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تم میں سے ہیں اور تم میں سے ہیں نہیں ہاں وہ لوگ ڈرتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تم ہی میں سے ہیں۔ حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں لیکن وہ (تم سے) خوف زدہ ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ بے شک وہ ضرور تم میں سے ہیں، حالانکہ وہ تم میں سے نہیں اور لیکن وہ ایسے لوگ ہیں جو ڈرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جھوٹی قسمیں کھانے والوں کی حقیقت ٭٭
ان کی تنگ دلی ان کی غیر مستقل مزاجی , ان کی سراسیمگی اور پریشانی گھبراہٹ اور بے اطمینانی کا یہ حال ہے کہ تمہارے پاس آ کر تمہارے دل میں گھر کرنے کے لیے اور تمہارے ہاتھوں سے بچنے کے لیے بڑی لمبی چوڑی زبردست قسمیں کھاتے ہیں کہ واللہ! ہم تمہارے ہیں ہم مسلمان ہیں حالانکہ حقیقت اس کے برخلاف ہے یہ صرف خوف و ڈر ہے جو ان کے پیٹ میں درد پیدا کر رہا ہے۔ اگر آج انہیں اپنے بچاؤ کے لیے کوئی قلعہ مل جائے اگر آج یہ کوئی محفوظ غار دیکھ لیں یا کسی اچھی سرنگ کا پتہ انہیں چل جائے تو یہ تو سارے کے سارے دم بھر میں اس طرح اڑن چھو ہو جائیں تیرے پاس ان میں سے ایک بھی نظر نہ آئے کیونکہ انہیں تجھ سے کوئی محبت یا انس تو نہیں ہے یہ تو ضرورت مجبوری اور خوف کی بناء پر تمہاری چاپلوسی کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جوں جوں اسلام ترقی کر رہا ہے یہ بجھتے چلے جا رہے ہیں مومنوں کی ہر خوشی سے یہ جلتے تڑپتے ہیں ان کی ترقی انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی، موقعہ مل جائے تو آج بھاگ جائیں۔
56۔ 1 اس ڈر اور خوف کی وجہ سے جھوٹی قسمیں کھا کر یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہم بھی تم میں سے ہی ہیں۔
(آیت56){وَ يَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ …: ”فَرِقَ يَفْرَقُ} (ع) “ سخت خوف زدہ ہونا اور گھبرانا، یعنی یہ منافق تم سے شدید خوف کی وجہ سے اپنے کفر کا اظہار نہیں کر سکتے، نہ مقابلے میں آنے کی جرأت کر سکتے ہیں، کیونکہ اس صورت میں انھیں اپنے قتل اور بیوی بچوں کے لونڈی غلام بننے کا سخت خطرہ ہے، اس لیے قسمیں کھا کھا کر تم میں سے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ نفاق آدمی میں دوسروں کا خوف اور بزدلی پیدا کرتا ہے۔
اگر وہ کوئی جائے پناہ پالیں یا کوئی کھوہ یا گھس بیٹھنے کی جگہ، تو بھاگ کر اُس میں جا چھپیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر یہ کوئی بچاؤ کی جگہ یا کوئی غار یا کوئی بھی سر گھسانے کی جگہ پالیں تو ابھی اس طرح لگام توڑ کر الٹے بھاگ چھوٹیں
احمد رضا خان بریلوی
اگر پائیں کوئی پناہ یا غار یا سما جانے کی جگہ تو رسیاں تڑاتے ادھر پھر جائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اگر وہ کوئی جائے پناہ پا لیں یا کوئی غار یا گھس بیٹھنے کی کوئی جگہ تو فوراً ادھر کا رخ کریں منہ زوری کرتے ہوئے (اور رسیاں تڑاتے ہوئے)۔
عبدالسلام بن محمد
اگر وہ کوئی پناہ کی جگہ پا لیں، یا کوئی غاریں، یا گھسنے کی کوئی جگہ تو اس کی طرف لوٹ جائیں، اس حال میں کہ وہ رسیاں تڑا رہے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جھوٹی قسمیں کھانے والوں کی حقیقت ٭٭
ان کی تنگ دلی ان کی غیر مستقل مزاجی , ان کی سراسیمگی اور پریشانی گھبراہٹ اور بے اطمینانی کا یہ حال ہے کہ تمہارے پاس آ کر تمہارے دل میں گھر کرنے کے لیے اور تمہارے ہاتھوں سے بچنے کے لیے بڑی لمبی چوڑی زبردست قسمیں کھاتے ہیں کہ واللہ! ہم تمہارے ہیں ہم مسلمان ہیں حالانکہ حقیقت اس کے برخلاف ہے یہ صرف خوف و ڈر ہے جو ان کے پیٹ میں درد پیدا کر رہا ہے۔ اگر آج انہیں اپنے بچاؤ کے لیے کوئی قلعہ مل جائے اگر آج یہ کوئی محفوظ غار دیکھ لیں یا کسی اچھی سرنگ کا پتہ انہیں چل جائے تو یہ تو سارے کے سارے دم بھر میں اس طرح اڑن چھو ہو جائیں تیرے پاس ان میں سے ایک بھی نظر نہ آئے کیونکہ انہیں تجھ سے کوئی محبت یا انس تو نہیں ہے یہ تو ضرورت مجبوری اور خوف کی بناء پر تمہاری چاپلوسی کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جوں جوں اسلام ترقی کر رہا ہے یہ بجھتے چلے جا رہے ہیں مومنوں کی ہر خوشی سے یہ جلتے تڑپتے ہیں ان کی ترقی انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی، موقعہ مل جائے تو آج بھاگ جائیں۔
57۔ 1 یعنی نہایت تیزی سے دوڑ کر وہ پناہ گاہوں میں چلے جائیں، اس لئے کہ تم سے ان کا جتنا کچھ بھی تعلق ہے، وہ محبت و خلوص پر نہیں، عناد، نفرت اور کراہت پر ہے۔
(آیت57) {لَوْ يَجِدُوْنَ مَلْجَاً …:” مَلْجَاً “ ”لَجَِأَ يَلْجَأُ} (ف، س)“سے اسم ظرف ہے، پناہ لینے کی جگہ۔{” مَغٰرٰتٍ “ ”مَغَارَةٌ“} کی جمع ہے۔ {”غَوْرٌ“} گہری جگہ کو کہتے ہیں، پہاڑ یا زمین میں کوئی غار۔ {” مُدَّخَلًا “ ”دَخَلَ“ } سے باب افتعال میں سے ظرف ہے، حروف بڑھ جانے سے معنی میں اضافہ ہو گیا، یعنی مشکل اور مشقت سے گھس جانے کی کوئی جگہ۔ مطلب یہ ہے کہ انھیں فرار کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا، ورنہ اگر انھیں بری سے بری جگہ بھی جانے کے لیے مل جائے تو رسیاں تڑاتے ہوئے اس کی طرف بھاگ جائیں، کیونکہ بری سے بری جگہیں یہی تین ہو سکتی ہیں، جن کی طرف جایا جا سکتا ہے۔ {” يَجْمَحُوْنَ “ ”جَمَحَ الْفَرَسُ“} اصل میں گھوڑے کے منہ زور ہو کر سوار کے قابو سے نکل کر بھاگ جانے کو کہتے ہیں، یعنی انھیں مسلمانوں سے، ان کی مجالس اور ان کے معاشرے سے بڑا شدید بغض ہے مگر ان کا بس نہیں چلتا، اس لیے مسلم معاشرے میں رہنے اور اس کے فوائد حاصل کرنے کے لیے تمھارے سامنے تمھارا ہونے کی قسمیں کھاتے ہیں۔
اے نبیؐ، ان میں سے بعض لوگ صدقات کی تقسیم میں تم پر اعتراضات کرتے ہیں اگر اس مال میں سے انہیں کچھ دے دیا جائے تو خو ش ہو جائیں، اور نہ دیا جائے تو بگڑنے لگتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ان میں وه بھی ہیں جو خیراتی مال کی تقسیم کے بارے میں آپ پر عیب رکھتے ہیں، اگر انہیں اس میں سے مل جائے تو خوش ہیں اور اگر اس میں سے نہ ملا تو فوراً بگڑ کھڑے ہوئے
احمد رضا خان بریلوی
اور ان میں کوئی وہ ہے کہ صدقے بانٹنے میں تم پر طعن کرتا ہے تو اگر ان میں سے کچھ ملے تو راضی ہوجائیں اور نہ ملے تو جبھی وہ ناراض ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے نبی) ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو صدقات (کی تقسیم) کے بارے میں آپ(ص) پر عیب لگاتے ہیں۔ پھر اگر اس سے کچھ (معقول مقدار) انہیں دے دی جائے تو راضی ہو جاتے ہیں اور اگر کچھ نہ دیا جائے تو وہ ایک دم ناراض ہو جاتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو تجھ پر صدقات کے بارے میں طعن کرتے ہیں، پھر اگر انھیں ان میں سے دے دیا جائے تو خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انھیں ان میں سے نہ دیا جائے تو اسی وقت وہ ناراض ہو جاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مال ودولت کے حریص منافق ٭٭
بعض منافق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تہمت لگاتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مال زکوٰۃ صحیح تقسیم نہیں کرتے وغیرہ، اور اس سے ان کا ارادہ سوائے اپنے نفع کے حصول کے اور کچھ نہ تھا۔ انہیں کچھ مل جائے تو راضی راضی ہیں اگر یہ رہ جائیں تو بس ان کے نتھنے پھولے ہوئے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال زکوٰۃ جب ادھر ادھر تقسیم کر دیا تو انصار میں سے کسی نے ہانک لگائی کہ یہ انصاف نہیں اس پر یہ آیت اتری۔ اور روایت میں ہے کہ ایک نو مسلم صحرائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سونا چاندی بانٹتے ہوئے دیکھ کر کہنے لگا کہ ”اگر اللہ نے تجھے عدل کا حکم دیا ہے تو تو عدل نہیں کرتا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تباہ ہو اگر میں بھی عادل نہیں تو زمین پر اور کون عادل ہو گا“؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے اور اس جیسوں سے بچو، میری امت میں اس جیسے لوگ ہوں گے قرآن پڑھیں گے لیکن حلق سے نیچے نہیں اترے گا وہ جب نکلیں انہیں قتل کر ڈالو پھر نکلیں تو مار ڈالو پھر جب ظاہر ہوں پھر گردنیں مارو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ کی قسم نہ میں تمہیں دوں نہ تم سے روکوں میں تو ایک خازن ہوں۔ جنگ حنین کے مال غنیمت کی تقسیم کے وقت ذوالخویصرہ حرقوص نامی ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کیا تھا اور کہا تھا تو عدل نہیں کرتا انصاف سے کام کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں بھی عدل نہ کروں تو تو پھر تیری بربادی کہیں نہیں جا سکتی۔“
جب اس نے پیٹھ پھیری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی نسل سے ایک قوم نکلے گی جن کی نمازوں کے مقابلے میں تمہاری نمازیں تمہیں حقیر معلوم ہوں گی اور ان کے روزوں کے مقابلے میں تم میں سے ایک اور کو اپنے روزے حقیر معلوم ہوں گے لیکن وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے۔ تمہیں جہاں بھی وہ مل جائیں ان کے قتل میں کمی نہ کرو آسمان تلے ان مقتولوں سے بدتر مقتول اور کوئی نہیں۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:3610] پھر ارشاد ہے کہ انہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں جو کچھ بھی اللہ نے دلوادیا تھا اگر یہ اس پر قناعت کرتے، صبر و شکر کرتے اور کہتے کہ اللہ ہمیں کافی ہے وہ اپنے فضل سے اپنے رسول کے ہاتھوں ہمیں اور بھی دلوائے گا ہماری امیدیں ذات الٰہی سے وابستہ ہیں تو یہ ان کے حق میں بہتر تھا۔ پس اس میں اللہ تعالیٰ کی تعلیم ہے کہ اللہ تعالیٰ جو دے اس پر انسان کو صبر و شکر کرنا چاہیئے توکل ذات واحد پر رکھے اسی کو کافی وافی سمجھے رغبت اور توجہ اور لالچ اور امید اور توقع اس کی ذات پاک سے رکھے، رسول اللہ علیہ افضل الصلوۃ و التسلیم کی اطاعت میں سرمو فرق نہ کرے اور اللہ تعالیٰ سے توفیق طلب کرے کہ جو احکام ہوں انہیں بجالانے اور جو منع کام ہوں انہیں چھوڑ دینے اور جو خبریں ہوں انہیں مان لینے اور صحیح اطاعت کرنے میں وہ رہبری فرمائے۔
58۔ 1 یہ ان کی ایک اور بہت بڑی کوتاہی کا بیان ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اچھی صفات کو صلی اللہ علیہ وسلم کو (نعوذ باللہ) صدقات و غنائم کی تقسیم میں غیر منصف باور کراتے، جس طرح ابن ذی الخویصرہ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ تقسیم فرما رہے تھے کہ اس نے کہا ' انصاف سے کام لیجئے ' آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، افسوس ہے تجھ پر، اگر میں ہی انصاف نہیں کروں گا تو پھر کون کرے گا؟ (صحیح بخاری)۔ 58۔ 2 گویا اس الزام تراشی کا مقصد محض مالی مفادات کا حصول تھا کہ اس طرح ان سے ڈرتے ہوئے انہیں زیادہ حصہ دیا جائے، یا وہ مستحق ہوں یا نہ ہوں، انہیں حصہ ضرور دیا جائے۔
(آیت58) {وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّلْمِزُكَ فِي الصَّدَقٰتِ …:” لَمَزَ } (ض) “ سامنے عیب نکالنا، طعن کرنا، یہ بھی منافقین کا شیوہ تھا کہ غنائم و صدقات کی تقسیم میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن کرنے اور عیب لگانے سے باز نہیں آتے تھے۔ یہ نہیں کہ صرف صدقات کی تقسیم میں طعن کرتے ہوں، بلکہ یہ ان کے لگائے ہوئے الزامات میں سے ایک تھا، چنانچہ آپ غنائم یا صدقات تقسیم فرماتے تو کہتے دیکھو کیسی خویش پروری اور دوست نوازی ہو رہی ہے، انصاف نہیں ہو رہا۔ مطلب یہ کہ ہمیں کیوں نہیں ملا، ان کے ہاں انصاف کا پیمانہ بس اتنا تھا کہ انھیں مل جائے تو وہ خوش ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم زبردست انصاف کرنے والے ہیں، لیکن اگر اسلام کی مصلحت کے پیش نظر یا کسی دوسرے شخص کے زیادہ ضرورت مند ہونے کی وجہ سے انھیں کچھ نہ مل سکے تو وہ سخت ناراض اور ان کے بقول نبی صلی اللہ علیہ وسلم عدل نہ کرنے والے۔ ({نعوذ بالله}) ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم فرما رہے تھے کہ ذوالخویصرہ تمیمی آیا، کہنے لگا: ”یا رسول اللہ! عدل کیجیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھیں ویل ہو، جب میں عدل نہیں کروں گا تو اور کون عدل کرے گا؟“ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اجازت دیجیے میں اس کی گردن اتار دوں۔“ فرمایا: ”رہنے دو، اس کے کچھ ساتھی ہیں (اور ہوں گے) کہ تم میں سے ایک اپنی نماز ان کی نماز کے مقابلے میں اور اپنے روزے ان کے روزوں کے مقابلے میں حقیر سمجھے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔“ ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے بارے میں یہ آیت اتری: «وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّلْمِزُكَ فِي الصَّدَقٰتِ» [ بخاری، المناقب، باب علامات النبوۃ فی الإسلام: ۳۶۱۰ ] حنین کی غنیمتوں کی تقسیم کے وقت اور دوسرے کئی موقعوں پر بھی ان لوگوں نے اس قسم کی گستاخیاں کیں۔ خالد بن ولید اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما جیسے صحابہ نے ان کے قتل کی اجازت مانگی، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، رہنے دو۔ بعض موقعوں پر جب انھوں نے مہاجرین و انصار کو بھڑکا کر ایک دوسرے سے لڑا دیا اور آپ نے صلح کروا دی، اس وقت بھی عبد اللہ بن ابی نے اور اس کے ساتھیوں نے بہت بڑی گستاخی کی، جس کا ذکر سورۂ منافقون میں ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ کے اجازت مانگنے کے باوجود آپ نے ان کے قتل کی اجازت نہیں دی، یہ کہہ کر کہ لوگ کہیں گے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ: «سواء علیھم أستغفرت لھم» : ۴۹۰۵ ]
کیا اچھا ہوتا کہ اللہ اور رسولؐ نے جو کچھ بھی انہیں دیا تھا اس پر وہ راضی رہتے اور کہتے کہ "اللہ ہمارے لیے کافی ہے، وہ اپنے فضل سے ہمیں بہت کچھ دے گا اور اس کا رسول بھی ہم پر عنایت فرمائے گا، ہم اللہ ہی کی طرف نظر جمائے ہوئے ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر یہ لوگ اللہ اور رسول کے دیئے ہوئے پر خوش رہتے اور کہہ دیتے کہ اللہ ہمیں کافی ہے اللہ ہمیں اپنے فضل سے دے گا اور اس کا رسول بھی، ہم تو اللہ کی ذات سے ہی توقع رکھنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور کیا اچھا ہوتا اگر وہ اس پر راضی ہوتے جو اللہ و رسول نے ان کو دیا اور کہتے ہمیں اللہ کافی ہے اب دیتا ہے ہمیں اللہ اپنے فضل سے اور اللہ کا رسول، ہمیں اللہ ہی کی طرف رغبت ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور (کیا اچھا ہوتا ہے) اگر وہ اس پر راضی رہتے جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے انہیں دیا تھا اور کہتے کہ اللہ ہمارے لئے کافی ہے۔ وہ عنقریب ہمیں اپنے فضل و کرم سے عطا فرمائے گا اور اس کا رسول بھی۔ ہم تو بس اللہ کی طرف ہی رغبت کرنے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور کاش کہ وہ اس پر راضی ہو جاتے جو انھیں اللہ اور اس کے رسول نے دیا اور کہتے ہمیں اللہ کافی ہے، جلد ہی اللہ ہمیں اپنے فضل سے دے گا اور اس کا رسول بھی۔ بے شک ہم اللہ ہی کی طرف رغبت رکھنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مال ودولت کے حریص منافق ٭٭
بعض منافق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تہمت لگاتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مال زکوٰۃ صحیح تقسیم نہیں کرتے وغیرہ، اور اس سے ان کا ارادہ سوائے اپنے نفع کے حصول کے اور کچھ نہ تھا۔ انہیں کچھ مل جائے تو راضی راضی ہیں اگر یہ رہ جائیں تو بس ان کے نتھنے پھولے ہوئے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال زکوٰۃ جب ادھر ادھر تقسیم کر دیا تو انصار میں سے کسی نے ہانک لگائی کہ یہ انصاف نہیں اس پر یہ آیت اتری۔ اور روایت میں ہے کہ ایک نو مسلم صحرائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سونا چاندی بانٹتے ہوئے دیکھ کر کہنے لگا کہ ”اگر اللہ نے تجھے عدل کا حکم دیا ہے تو تو عدل نہیں کرتا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تباہ ہو اگر میں بھی عادل نہیں تو زمین پر اور کون عادل ہو گا“؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے اور اس جیسوں سے بچو، میری امت میں اس جیسے لوگ ہوں گے قرآن پڑھیں گے لیکن حلق سے نیچے نہیں اترے گا وہ جب نکلیں انہیں قتل کر ڈالو پھر نکلیں تو مار ڈالو پھر جب ظاہر ہوں پھر گردنیں مارو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ کی قسم نہ میں تمہیں دوں نہ تم سے روکوں میں تو ایک خازن ہوں۔ جنگ حنین کے مال غنیمت کی تقسیم کے وقت ذوالخویصرہ حرقوص نامی ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کیا تھا اور کہا تھا تو عدل نہیں کرتا انصاف سے کام کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں بھی عدل نہ کروں تو تو پھر تیری بربادی کہیں نہیں جا سکتی۔“
جب اس نے پیٹھ پھیری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی نسل سے ایک قوم نکلے گی جن کی نمازوں کے مقابلے میں تمہاری نمازیں تمہیں حقیر معلوم ہوں گی اور ان کے روزوں کے مقابلے میں تم میں سے ایک اور کو اپنے روزے حقیر معلوم ہوں گے لیکن وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے۔ تمہیں جہاں بھی وہ مل جائیں ان کے قتل میں کمی نہ کرو آسمان تلے ان مقتولوں سے بدتر مقتول اور کوئی نہیں۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:3610] پھر ارشاد ہے کہ انہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں جو کچھ بھی اللہ نے دلوادیا تھا اگر یہ اس پر قناعت کرتے، صبر و شکر کرتے اور کہتے کہ اللہ ہمیں کافی ہے وہ اپنے فضل سے اپنے رسول کے ہاتھوں ہمیں اور بھی دلوائے گا ہماری امیدیں ذات الٰہی سے وابستہ ہیں تو یہ ان کے حق میں بہتر تھا۔ پس اس میں اللہ تعالیٰ کی تعلیم ہے کہ اللہ تعالیٰ جو دے اس پر انسان کو صبر و شکر کرنا چاہیئے توکل ذات واحد پر رکھے اسی کو کافی وافی سمجھے رغبت اور توجہ اور لالچ اور امید اور توقع اس کی ذات پاک سے رکھے، رسول اللہ علیہ افضل الصلوۃ و التسلیم کی اطاعت میں سرمو فرق نہ کرے اور اللہ تعالیٰ سے توفیق طلب کرے کہ جو احکام ہوں انہیں بجالانے اور جو منع کام ہوں انہیں چھوڑ دینے اور جو خبریں ہوں انہیں مان لینے اور صحیح اطاعت کرنے میں وہ رہبری فرمائے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت59) ➊ {وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَيُؤْتِيْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ …:} یعنی کاش! وہ طعنہ زنی اور عیب جوئی کے بجائے اس طرح کہتے، کیونکہ ان کے حق میں یہی بہتر تھا اور یقینا اللہ تعالیٰ بھی ان پر فضل کرتا مگر ان ناشکروں کو اتنی توفیق کہاں کہ اس قسم کا کلمۂ خیر کہہ سکیں، یہ تو جب بات کریں گے ایسی ہی کریں گے جس میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی برائی کا پہلو نکلتا ہو۔ ➋ بعض لوگوں نے اس آیت سے زبردستی یہ بات نکالنے کی کوشش کی ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ رزق دیتا ہے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی دیتے ہیں، حالانکہ ان آیات میں آپ کی زندگی میں غنیمت اور صدقات کی تقسیم کا ذکر ہو رہا ہے اور اگر شرک کی نجاست ذہن میں نہ بھری ہو تو اسی آیت میں یہ الفاظ {”حَسْبُنَا اللّٰهُ “} (ہمیں اللہ کافی ہے) پھر {”سَيُؤْتِيْنَا اللّٰهُ “} اور {” رَسُوْلُهٗۤ “} کے درمیان {” مِنْ فَضْلِهٖ “} اللہ کے فضل کا ذکر کرکے دونوں کو الگ کرنا اور آخر میں {” اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ“} (بے شک ہم تو اللہ ہی کی طرف رغبت رکھنے والے ہیں) کے الفاظ واضح دلالت کر رہے ہیں کہ دینے والا فقط اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس سے پہلے فرمایا: ”کاش! وہ اس پر راضی ہو جاتے جو انھیں اللہ اور اس کے رسول نے دیا۔“ اس کے بعد وہ الفاظ ذکر فرمائے جو اوپر ذکر ہوئے ہیں، جن کا معنی یہ ہے کہ اصل دینے والا تو اللہ ہے لیکن اس کے حکم سے تقسیم آپ کرتے تھے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللّٰهُ يُعْطِيْ ] [ بخاری، العلم، باب من یرد اللہ …: ۷۱ ] ”میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں، دینے والا تو اللہ ہی ہے۔“ اپنی زندگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حکم کے مطابق تقسیم فرماتے تھے، اب ان کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق امیرا لمومنین تقسیم فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی جگہ یہ اعلان فرمانے کا حکم دیا کہ میں نہ اپنے نفع و نقصان کا مالک ہوں نہ تمھارے اور یہ بھی کہ اللہ کے سوا کوئی بھی کسی کی مدد نہیں کر سکتا۔ دیکھیے سورۂ جن (۲۱)، اعراف (۱۸۸، ۱۹۷، ۱۹۸) اور فاطر(۱۳ تا ۱۵) جنگ تبوک میں جب آپ سے سواریاں مانگنے کے لیے بعض مجاہد آپ کے پاس آتے اور آپ فرماتے کہ میرے پاس سواریاں نہیں ہیں جو میں تمھیں دوں، تو سواریاں حاصل نہ کر سکنے والے مجاہد روتے ہوئے واپس جاتے۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۹۲)۔
یہ صدقات تو دراصل فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں اور اُن لوگوں کے لیے جو صدقات کے کام پر مامور ہوں، اور اُن کے لیے جن کی تالیف قلب مطلوب ہو نیز یہ گردنوں کے چھڑانے اور قرض داروں کی مدد کرنے میں اور راہ خدا میں اور مسافر نوازی میں استعمال کرنے کے لیے ہیں ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا و بینا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
صدقے صرف فقیروں کے لئے ہیں اور مسکینوں کے لئے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے اور ان کے لئے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لئے اور اللہ کی راه میں اور راہرو مسافروں کے لئے، فرض ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ علم وحکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
زکوٰة تو انہیں لوگوں کے لیے ہے محتاج اور نرے نادار اور جو اسے تحصیل کرکے لائیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے اور گردنیں چھڑانے میں اور قرضداروں کو اور اللہ کی راہ میں اور مسافر کو، یہ ٹھہرایا ہوا ہے اللہ کا، اور اللہ علم و حکمت والا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
صدقات (مالِ زکوٰۃ) تو اور کسی کے لئے نہیں صرف فقیروں کے لئے ہے مسکینوں کے لئے ہے اور ان کارکنوں کے لئے ہے جو اس کی وصولی کے لئے مقرر ہیں۔ اور ان کے لئے ہے جن کی (دلجوئی) مطلوب ہے۔ نیز (غلاموں اور کنیزوں کی) گردنیں (چھڑانے) کے لئے ہے اور مقروضوں (کا قرضہ ادا کرنے) کے لئے ہے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے ہے اور مسافروں (کی مدد) کے لئے ہے یہ اللہ کی طرف سے فرض ہے اور اللہ بڑا جاننے والا، بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر میں (خرچ کرنے کے لیے ہیں)۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زکوۃ اور صدقات کا مصرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ اللہ کے حکم کے تحت ہے؟ ٭٭
اوپر کی آیت میں ان جاہل منافقوں کا ذکر تھا جو ذات رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر تقسیم صدقات میں اعتراض کر بیٹھتے تھے۔ اب یہاں اس آیت میں بیان فرما دیا کہ تقسیم زکوٰۃ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی پر موقوف نہیں بلکہ ہمارے بتلائے ہوئے مصارف میں ہی لگتی ہے، ہم نے آپ اس کی تقسیم کر دی ہے کسی اور کے سپرد نہیں کی۔ ابوداؤد میں ہے زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے سرکار نبوت میں حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی ایک شخص نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ مجھے صدقے میں سے کچھ دلوائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نبی غیر نبی کسی کے حکم پر تقسیم زکوٰۃ کے بارے میں راضی نہیں ہوا یہاں تک کہ خود اس نے تقسیم کر دی ہے آٹھ مصرف مقرر کر دیئے ہیں اگر تو ان میں سے کسی میں ہے تو میں تجھے دے سکتا ہوں۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:1630،قال الشيخ الألباني:ضعیف] امام شافعی وغیرہ تو فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ کے مال کی تقسیم ان آٹھوں قسم کے تمام لوگوں پر کرنی واجب ہے اور امام مالک رحمہ اللہ وغیرہ کا قول ہے کہ واجب نہیں بلکہ ان میں سے کسی ایک کو ہی دے دینا کافی ہے گو اور قسم کے لوگ بھی ہوں۔ عام اہل علم کا قول بھی یہی ہے، آیت میں بیان مصرف ہے نہ کہ ان سب کو دینے کا وجوب کا ذکر۔ ان اقوال کی دلیلوں اور مناظروں کی جگہ یہ کتاب نہیں واللہ اعلم۔
فقیروں کو سب سے پہلے اس لیے بیان فرمایا کہ ان کی حاجت بہت سخت ہے۔ گو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک مسکین فقیر سے بھی برے حال والا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جس کے ہاتھ تلے مال نہ ہو اسی کو فقیر نہیں کہتے بلکہ فقیر وہ بھی ہے جو محتاج ہو گرا پڑا ہو گو کچھ کھاتا پیتا کماتا بھی ہو۔“ ابن علیہ کہتے ہیں اس روایت میں اخلق کا لفظ ہے۔ اخلق کہتے ہیں ہمارے نزدیک تجارت کو، لیکن جمہور اس کے برخلاف ہیں۔ اور بہت سے حضرات فرماتے ہیں فقیر وہ ہے جو سوال سے بچنے والا ہو، اور مسکین وہ ہے جو سائل ہو لوگوں کے پیچھے لگنے والا اور گھروں اور گلیوں میں گھومنے والا۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں فقیر وہ ہے جو بیماری والا ہو اور مسکین وہ ہے جو صحیح سالم جسم والا ہو۔ ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اس سے مہاجر فقراء ہیں۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں یعنی دیہاتیوں کو اس میں سے کچھ نہ ملے۔ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مسلمان فقراء کو مساکین نہ کہو مسکین تو صرف اہل کتاب کے لوگ ہیں۔ اب وہ حدیثیں سنئے جو ان آٹھوں قسموں کے متعلق ہیں۔ فقراء، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”صدقہ مالدار اور تندرست توانا پر حلال نہیں“، ۱؎ [سنن ترمذی:652،قال الشيخ الألباني:صحیح] دو شخصوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صدقے کا مال مانگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغور نیچے سے اوپر تک انہیں ہٹا کٹا، قوی، تندرست دیکھ کر فرمایا: ”اگر تم چاہو تو تمہیں دے دوں لیکن امیر شخص کا اور قوی طاقتور کماؤ شخص کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:1633،قال الشيخ الألباني:صحیح] مساکین، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین یہی گھوم گھوم کر ایک لقمہ، دو لقمے، ایک کھجور، دو کھجور لے کر ٹل جانے والے ہی نہیں۔“ لوگوں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ پھر مساکین کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بےپرواہی کے برابر نہ پائے نہ اپنی ایسی حالت رکھے کہ کوئی دیکھ کر پہچان لے اور کچھ دے دے نہ کسی سے خود کوئی سوال کرے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:1479] صدقہ وصول کرنے والے یہ تحصیل دار ہیں انہیں اجرت اسی مال سے ملے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت دار جن پر صدقہ حرام ہے اس عہدے پر نہیں آ سکتے۔
عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ درخواست لے کر گئے کہ ہمیں صدقہ کا عامل بنا دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر صدقہ حرام ہے یہ تو لوگوں کا میل کچیل ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1072] جن کے دل پر چائے جاتے ہیں، ان کی کئی قسمیں ہیں بعضوں کو تو اس لیے دیا جاتا ہے کہ وہ اسلام قبول کر لیں جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ کو غنیمت حنین کا مال دیا تھا حالانکہ وہ اس وقت کفر کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا تھا اس کا اپنا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس داد و دہش نے میرے دل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے زیادہ محبت پیدا کر دی حالانکہ پہلے سب سے بڑا دشمن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا میں ہی تھا۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2313] بعضوں کو اس لیے دیا جاتا ہے کہ ان کا اسلام مضبوط ہو جائے اور ان کا دل اسلام پر لگ جائے، جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین والے دن مکہ کے آزاد کردہ لوگوں کے سرداروں کو سو سو اونٹ عطا فرمائے اور ارشاد فرمایا کہ ”میں ایک کو دیتا ہوں اور دوسرے کو جو اس سے زیادہ میرا محبوب ہے نہیں دیتا اس لیے کہ ایسا نہ ہو کہ وہ اوندھے منہ جہنم میں گر پڑے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:27] ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے کچا سونا مٹی سمیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تو آپ نے صرف چار شخصوں میں ہی تقسیم فرمایا، اقرع بن حابس، عیینہ بن بدر، عقلمہ بن علاثہ اور زید خیر، اور فرمایا: ”میں ان کی دلجوئی کے لیے انہیں دے رہا ہوں۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:3344] بعض کو اس لیے بھی دیا جاتا ہے کہ اس جیسے اور لوگ بھی اسلام قبول کر لیں۔ بعض کو اس لیے دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے آس پاس والوں سے صدقہ پہنچائے یا آس پاس کے دشمنوں کی نگہداشت رکھے اور انہیں اسلامیوں پر حملہ کرنے کا موقعہ نہ دے۔ ان سب کی تفصیل کی جگہ احکام وفروع کی کتابیں ہیں نہ کہ تفسیر، و اللہ اعلم۔ عمر رضی اللہ عنہ اور عمار شعبی اور ایک جماعت کا قول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اب یہ مصرف باقی نہیں رہا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت دے دی ہے مسلمان ملکوں کے مالک بن گئے ہیں اور بہت سے بندگان رب ان کے ماتحت ہیں۔
لیکن اور بزرگوں کا قول ہے کہ اب بھی مولفتہ القلوب کو زکوٰۃ دینی جائز ہے۔ فتح مکہ اور فتح ہوازن کے بعد بھی حضور علیہ الصلوۃ والتسلیم نے ان لوگوں کو مال دیا۔ دوسرے یہ کہ اب بھی ایسی ضرورتیں پیش آ جایا کرتی ہیں۔ آزادگی گردن کے بارے میں بہت سے بزرگ فرماتے ہیں کہ مراد اس سے وہ غلام ہیں جنہوں نے رقم مقرر کر کے اپنے مالکوں سے اپنی آزادگی کی شرط کر لی ہے انہیں مال زکوٰۃ سے رقم دی جائے کہ وہ ادا کر کے آزاد ہو جائیں۔ اور بزرگ فرماتے ہیں کہ وہ غلام جس نے یہ شرط نہ لکھوائی ہو اسے بھی مال زکوٰۃ سے خرید کر آزاد کرنے میں کوئی ڈر خوف نہیں۔ غرض مکاتب غلام اور محض غلام دونوں کی آزادگی زکوٰۃ کا ایک مصرف ہے احادیث میں بھی اس کی بہت کچھ فضیلت وارد ہوئی ہے یہاں تک کہ فرمایا ہے کہ آزاد کردہ غلام کے ہر ہر عضو کے بدلے آزاد کرنے والے کا ہر ہر عضو جہنم سے آزاد ہو جاتا ہے یہاں تک کہ شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ بھی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4715] اس لیے کہ ہر نیکی کی جزا اسی جیسی ہوتی ہے۔ قرآن فرماتا ہے تمہیں وہی جزا دی جائے گی جو تم نے کیا ہو گا۔ ۱؎ [37-الصافات:39] حدیث میں ہے تین قسم کے لوگوں کی مدد اللہ کے ذمے حق ہے، وہ غازی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہو، وہ مکاتب غلام اور قرض دار جو ادائیگی کی نیت رکھتا ہو، وہ نکاح کرنے والا جس کا ارادہ بدکاری سے محفوظ رہنے کا ہو۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1655،قال الشيخ الألباني:حسن] کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت سے قریب اور دوزخ سے دور کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نسمہ آزاد کر اور گردن خلاصی کر۔“ اس نے کہا کہ ”یہ دونوں ایک ہی چیز نہیں“؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں نسمہ کی آزادگی یہ ہے کہ تو اکیلا ہی کسی غلام کو آزاد کر دے اور گردن خلاصی یہ ہے کہ تو بھی اس میں جو تجھ سے ہو سکے مدد کرے۔“ ۱؎ [مسند احمد:299/4:صحیح] قرض داران کی بھی کئی قسمیں ہیں ایک شخص دوسرے کا بوجھ اپنے اوپر لے لے کسی کے قرض کا آپ ضامن بن جائے پھر اس کا مال ختم ہو جائے یا وہ خود قرض دار بن جائے یا کسی نے برائی پر قرض اٹھایا ہو اور اب وہ توبہ کر لے پس انہیں مال زکوٰۃ دیا جائے گا کہ یہ قرض ادا کر دیں۔ اس مسئلے کی اصل قبیصہ رضی اللہ عنہ بن مخارق ہلالی کی یہ روایت ہے کہ میں نے دوسرے کا حوالہ اپنی طرف لیا تھا پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ٹھہرو ہمارے پاس مال صدقہ آئے گا ہم اس میں سے تمہں دیں گے۔“ پھر فرمایا: ”قبیصہ سن! تین قسم کے لوگوں کو ہی سوال حلال ہے ایک تو وہ جو ضامن پڑے پس اس رقم کے پورا ہونے تک اسے سوال جائز ہے پھر سوال نہ کرے۔ دوسرا وہ جس کا مال کسی آفت ناگہانی سے ضائع ہو جائے اسے بھی سوال کرنا درست ہے یہاں تک کہ پیٹ بھرائ ہو جائے، تیسرا وہ شخص جس پر فاقہ گذرنے لگے اور اس کی قوم کے تین ذی ہوش لوگ اس کی شہادت کے لیے کھڑے ہو جائیں کہ ہاں بیشک فلاں شخص پر فاقے گذرنے لگے ہیں، اسے بھی مانگ لینا جائز ہے تاوقتیکہ اس کا سہارا ہو جائے اور سامان زندگی مہیا ہو جائے، ان کے سوا اوروں کو سوال کرنا حرام ہے اگر وہ مانگ کر کچھ لے کر کھائیں گے تو حرام کھائیں گے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1044] ایک شخص نے زمانہ نبوی میں ایک باغ خریدا قدرت الٰہی سے آسمانی آفت سے باغ کا پھل مارا گیا اس سے وہ بہت قرض دار ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا کہ ”تمہیں جو ملے لے لو۔ اس کے سوا تمہارے لیے اور کچھ نہیں۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:1556-18]
آپ فرماتے ہیں کہ ”ایک قرض دار کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بلا کر اپنے سامنے کھڑا کر کے پوچھے گا کہ تو نے قرض کیوں لیا اور کیوں رقم ضائع کر دی؟ جس سے لوگوں کے حقوق برباد ہوئے۔ وہ جواب دے گا کہ اے اللہ! تجھے خوب علم ہے میں نے یہ رقم کھائی نہ پی نہ اڑائی بلکہ میرے ہاں مثلاً چوری ہو گئی یا آگ لگ گئی یا کوئی اور آفت آ گئی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرا بندہ سچا ہے آج تیرے قرض کے ادا کرنے کا سب سے زیادہ مستحق میں ہی ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ کوئی چیز منگوا کر اس کی نیکیوں کے پلڑے میں رکھ دے گا جس سے نیکیاں برائیوں سے بڑھ جائیں گی اور اللہ تبارک و تعالیٰ اسے اپنے فضل و رحمت سے جنت میں لے جائے گا۔“ ۱؎ [مسند احمد:197،198/1:ضعیف] اللہ کی راہ، میں وہ مجاہدین غازی داخل ہیں جن کا دفتر میں کوئی حق نہیں ہوتا۔ حج بھی اللہ کی راہ میں داخل ہے۔ مسافر، جو سفر میں بےسروسامان رہ گیا ہو اسے بھی مال زکوٰۃ سے اپنی رقم دی جائے جس سے وہ اپنے شہر پہنچ سکے، گو وہ اپنے ہاں مالدار ہی ہو۔ یہی حکم ان کا بھی ہے جو اپنے شہر سے سفر کو جانے کا قصد رکھتے ہوں لیکن مال نہ ہو تو اسے بھی سفر خرچ مال زکوٰۃ سے دینا جائز ہے جو اسے آمد و رفت کے لیے کافی ہو۔
آیت کے اس لفظ کی دلیل کے علاوہ ابوداؤد وغیرہ کی یہ حدیث بھی اس کی دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مالدار پر زکوٰۃ حرام ہے۔ بجز پانچ قسم کے مالداروں کے ایک تو وہ جو زکوٰۃ وصول کرنے پر مقرر ہو، دوسرا وہ جو مال زکوٰۃ کی کسی چیز کو اپنے مال سے خرید لے، تیسرا قرض دار، چوتھا راہ الٰہی کا غازی مجاہد، پانچواں وہ جسے کوئی مسکین بطور تحفے کے اپنی کوئی چیز جو زکوٰۃ میں اسے ملی ہو دے۔“ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1841،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور روایت ہے کہ زکوٰۃ مالدار کے لیے حلال نہیں مگر فی سبیل اللہ جو ہو اور جو مسافرت میں ہو اور جسے اس کا کوئی مسکین پڑوسی بطور تحفے، ہدیئے کے دے یا اپنے ہاں بلا لے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1637،قال الشيخ الألباني:ضعیف] زکوٰۃ کے ان آٹھوں مصارف کو بیان فرما کر پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض ہے یعنی مقدر ہے اللہ کی تقدیر، اس کی تقسیم اور اس کا فرض کرنے سے۔ اللہ تعالیٰ ظاہر و باطن کا عالم ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے واقف ہے، وہ اپنے قول، فعل، شریعت اور حکم میں حکمت والا ہے۔ بجز اس کے کوئی بھی لائق عبادت نہیں نہ اس کے سوا کوئی کسی کا پالنے والا ہے۔
60۔ 1 اس آیت میں اس طعن کا دروازہ بند کرنے کے لئے صدقات کے مستحق لوگوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ صدقات سے مراد یہاں صدقات واجبہ یعنی زکٰوۃ ہے۔ آیت کا آغاز انما سے کیا گیا ہے جو قصر کے صیغوں میں سے ہے اور الصقات میں لام تعریف جنس کے لیے ہے یعنی صدقات کی یہ جنس (زکوٰۃ) ان آٹھ قمسوں میں مقصور ہے جن کا ذکر آیت میں ہے ان کے علاوہ کسی اور مصرف پر زکوٰۃ کی رقم کا استعمال صحیح نہیں۔ اہل علم کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ کیا ان آٹھوں مصارف پر تقسیم کرنا ضروری ہے؟ امام شافعی کی رائے کی رو سے زکٰوۃ کی رقم آٹھوں مصارف پر خرچ کرنا ضروری ہے۔ یا ان میں سے جس مصرف یا مصارف پر امام یا زکوٰۃ ادا کرنے والا مناسب سمجھے حسب ضرورت خرچ کرسکتا ہے امام شافعی وغیرہ پہلی رائے کے قائل ہیں اور امام مالک اور امام ابوحنیفہ وغیرہما دوسری رائے کے۔ اور یہ دوسری رائے ہی زیادہ صحیح ہے امام شافعی کی رائے کی رو سے زکوٰۃ کی رقم آٹھوں مصارف پر خرچ کرنا ضروری ہے یعنی اقتضائے ضرورت اور مصالح دیکھے بغیر رقم کے آٹھ حصے کر کے آٹھوں جگہ پر کچھ کھچ رقم خرچ کی جائے۔ جبکہ دوسری رائے کے مطابق ضرورت اور مصالح کا اعتبار ضروری ہے جس مصرف پر رقم خرچ کرنے کی زیادہ ضرورت یا مصالح کسی ایک مصرف پر خرچ کرنے کے متقتضی ہوں، تو وہاں ضرورت اور مصالح کے لحاظ سے زکوٰۃ کی رقم خرچ کی جائے گی چاہے دوسرے مصارف پر خرچ کرنے کے لیے رقم نہ بچے اس رائے میں جو معقولیت ہے وہ پہلی رائے میں نہیں ہے۔ 60۔ 2 ان مصارف ثمانیہ کی مختصر تفصیل حسب ذیل ہے۔ ا۔ فقیر اور مسکین چونکہ قریب قریب ہیں اور ایک کا اطلاق دوسر پر بھی ہوتا ہے یعنی فقیر کو مسکین اور مسکین کو فقیر کہہ لیا جاتا ہے۔ اس لئے ان کی الگ الگ تعریف میں خاصا اختلاف ہے۔ تاہم دونوں کے مفہوم میں یہ بات تو قطعی ہے کہ جو حاجت مند ہوں اور اپنی حاجات و ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مطلوبہ رقم اور وسائل سے محروم ہوں ان کو فقیر اور مسکین کہا جاتا ہے مسکین کی تعریف میں ایک حدیث آتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " مسکین وہ گھو منے پھر نے والا نہیں ہے جو ایک ایک یا دو دو لقمے یا کھجور کے لیے گھر گھر پھرتا ہے بلکہ مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال بھی نہ ہو جو اسے بےنیاز کر دے نہ وہ ایسی مسکنت اپنے اوپر طاری رکھے کہ لوگ غریب اور مستحق سمجھ کر اس پر صدقہ کریں اور نہ خود لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرے " (صحیح بخاری ومسلم کتاب الزکوٰۃ) حدیث میں گویا اصل مسکین شخص مذکور کو قرار دیا گیا ہے ورنہ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے مسکین کی تعریف یہ منقول ہے کہ جو گداگر ہو، گھوم پھر کر اور لوگوں کے پیچھے پڑ کر مانگتا ہو اور فقیر وہ ہے جو نادار ہونے کے باوجود سوال سے بچے اور لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرے (ابن کثیر) 2۔ عاملین سے مراد حکومت کے وہ اہلکار جو زکٰو ۃ و صدقات کی وصولی و تقسیم اور اس کے حساب کتاب پر معمور ہوں۔ 3۔ مولفۃ القلوب ایک تو وہ کافر ہے جو کچھ اسلام کی طرف مائل ہو اور اس کی امداد کرنے پر امید ہو کہ وہ مسلمان ہوجائے گا۔ دوسرے، وہ نو مسلم افراد ہیں جن کو اسلام پر مضبوطی سے قائم رکھنے کے لیے امداد دینے کی ضرورت ہو۔ تیسرے وہ افراد بھی ہیں جن کی امداد دینے کی صورت میں یہ امید ہو کہ وہ اپنے علاقے کے لوگوں کو مسلمانوں پر حملہ آور ہونے سے روکیں گے اور اس طرح وہ قریب کے کمزور مسلمانوں کا تحفظ کریں۔ یہ اور اس قسم کی دیگر صورتیں تالیف قلب کی ہیں جن پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے چاہے مذکورہ افراد مال دار ہی ہوں۔ احناف کے نزدیک یہ مصرف ختم ہوگیا ہے لیکن یہ بات صحیح نہیں حالات وظروف کے مطابق ہر دور میں اس مصرف پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنا جائز ہے۔ 5۔ گردنیں آزاد کرانے میں۔ بعض علماء نے اس سے صرف مکاتب غلام مراد لئے ہیں اور علماء نے مکاتب وغیر مکاتب ہر قسم کے غلام مراد لئے ہیں۔ امام شوکانی نے اسی رائے کو ترجیح دی ہے۔ 6۔ غارمین سے ایک تو وہ مقروض مراد ہیں جو اپنے اہل و عیال کے نان نفقہ اور ضروریات زندگی فراہم کرنے میں لوگوں کے زیر بار ہوگئے اور ان کے پاس نقد رقم بھی نہیں ہے اور ایسا سامان بھی نہیں ہے جسے بیچ کر وہ قرض ادا کریں سکیں۔ دوسرے وہ ذمہ داراصحاب ضمانت ہیں جنہوں نے کسی کی ضمانت دی اور پھر وہ اس کی ادائیگی کے ذمہ دار قرار پاگئے یا کسی فصل تباہ یا کاروبار خسارے کا شکار ہوگیا اور اس بنیاد پر وہ مقروض ہوگیا۔ ان سب افراد کی زکوٰۃ کی مد سے امداد کرنا جائز ہے۔ 7۔ فی سبیل اللہ سے مراد جہاد ہے یعنی جنگی سامان و ضروریات اور مجاہد (چا ہے وہ مالدار ہی ہو) پر زکٰوۃ کی رقم خرچ کرنا جائز ہے۔ اور احادیث میں آتا ہے کہ حج اور عمرہ بھی فی سبیل اللہ میں داخل ہے اسی طرح بعض علماء کے نزدیک تبلیغ ودعوت بھی فی سبیل اللہ میں داخل ہے کیونکہ اس سے بھی مقصد جہاد کی طرح اعلائے کلمۃ اللہ ہے۔ 8۔ ابن السبیل سے مراد مسافر ہے۔ یعنی اگر کوئی مسافر، سفر میں مستحق امداد ہوگیا ہے چاہے وہ اپنے گھر یا وطن میں صاحب حیثیت ہی ہو، اس کی امداد زکٰوۃ کی رقم سے کی جاسکتی ہے۔
(آیت60) ➊ {اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِيْنِ …:} منافقین کا طعن دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے خود صدقات کے حق دار بیان فرما دیے، تاکہ سب لوگ جان لیں کہ صدقات کی تقسیم کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اختیار نہیں، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن بے سود ہے۔ یہاں صدقات سے مراد فرض صدقات، یعنی زکوٰۃ و عشر ہیں، کیونکہ حکومت کی طرف سے وصولی کے لیے عاملین فرض زکوٰۃ ہی کے لیے بھیجے جاتے تھے، یہ الگ بات ہے کہ کوئی ان کے پاس نفل صدقہ بھی جمع کروا دے۔ صدقے کو صدقہ اس لیے کہتے ہیں کہ اللہ کے لیے مال خرچ کرنے والا عملی طور پر اپنے ایمان کے صدق کا مظاہرہ کرتا ہے۔ یہ لفظ عام طور پر نفلی خرچ پر بولا جاتا ہے، مگر کبھی فرض پر بھی بولا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً» [ التوبۃ: ۱۰۳ ] یہاں فرض صدقات ہی مراد ہیں۔ اس آیت کے آخر میں {” فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ “} سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے، کیونکہ نفلی صدقات کو فریضہ نہیں کہا جاتا۔ {” اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ “} سے معلوم ہوا کہ ان مقامات کے علاوہ زکوٰۃ و عشر خرچ کرنا جائز نہیں۔ ➋ {لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِيْنِ:} فقیر اور مسکین دونوں لفظ محتاج کے معنی میں آتے ہیں، بعض اہل علم فقیر کو زیادہ بدحال قرار دیتے ہیں، بعض مسکین کو اور بعض دونوں کو ایک ہی قرار دیتے ہیں۔ دلائل کے لحاظ سے راجح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ فقیر مسکین سے زیادہ بدحال ہوتا ہے، کیونکہ یہ ” فقر“ سے مشتق ہے، کمر کے مہروں کو {” فَقَرَاتُ الظَّهْرِ“} کہتے ہیں۔ فقیر بمعنی مفقور ہے، یعنی ضرورت کی اشیاء نہ ہونے کی وجہ سے گویا اس کی کمر ٹوٹی ہوئی ہے۔ مسکین ”سکن“ سے مشتق ہے کہ ضرورت مندی نے اس کی حرکت کو سکون میں بدل دیا ہے۔ گویا فقیر کی حالت اس شخص کی سی ہے جس کے پاس کچھ نہیں اور مسکین وہ ہے جس کی آمدنی اس کی ضروریات سے کم ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اَمَّا السَّفِيْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِيْنَ يَعْمَلُوْنَ فِي الْبَحْرِ» [ الکہف: ۷۹ ] یعنی وہ کشتی چند مساکین کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ کشتی کا مالک جو کام بھی کرتا ہو بالکل خالی ہاتھ نہیں ہوتا۔ ہاں، آمدنی ضرورت سے کم ہونے کی وجہ سے وہ ضرورت مند و محتاج ہوتا ہے۔ زیر تفسیر آیت میں فقراء کو پہلے لانے سے بھی ان کے زیادہ بدحال ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔ لیکن یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ یہ فرق اس وقت ضروری ہو گا جب فقیر اور مسکین دونوں لفظ اکٹھے آئیں، جیسے ایمان اور اسلام کا فرق ہے، لیکن الگ الگ آئیں تو دونوں ایک ہی ہیں۔ اسی طرح ان میں سے صرف فقیر یا مسکین کا لفظ آئے تو وہ دونوں قسم کے ضرورت مندوں پر بول لیا جاتا ہے، خواہ ان کے پاس کچھ ہو یا نہ ہو۔ یہ دونوں زکوٰۃ کے مستحق ہیں، خواہ وہ بدحال فقیر ہوں یا سفید پوش ضرورت مند۔ ➌ { وَ الْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا:} زکوٰۃ و عشر کی وصولی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدمی مقرر فرماتے تھے اورباقاعدہ ان کا محاسبہ فرماتے تھے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن اللتبیہ رضی اللہ عنہ کو اس کام پر مقرر فرمایا تھا اور ان کی آمد پر محاسبہ کرتے ہوئے حکومت کے عمال کو ملنے والے تحائف کو ان کے لیے ناجائز قرار دیا تھا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے {” كِتَابُ الْاَحْكَامِ“} میں باب قائم فرمایا ہے: {” بَابُ رِزْقِ الْحُكَّامِ وَالْعَامِلِيْنَ عَلَيْهَا۔“} ➍ { وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ:} اس سے مراد وہ نومسلم ہیں جن کی دل جوئی کرکے انھیں اسلام پر ثابت قدم رکھنا مقصود ہو، یا وہ کفار جن کی دل جوئی سے ان کے اسلام لانے کی امید ہے، یا وہ بااثر لوگ جن پر خرچ کرنے سے کئی لوگوں کے مسلمان ہونے کی امید ہے، یا وہ کافر سردار جن پر خرچ کرنے سے ان کے علاقے میں مسلمانوں کے ظلم و ستم سے محفوظ رہنے کی امید ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسلام کے غلبے کے بعد یہ مد ختم ہو گئی، جیسا کہ امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا، مگر موجودہ زمانے کے حالات کو سامنے رکھیں تو آج کل شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے بھی زیادہ اس کی ضرورت ہے، کیونکہ کفار اسی طریقے سے مسلمانوں کو مرتد کر رہے ہیں۔ ➎ { وَ فِي الرِّقَابِ:} گردنیں چھڑانے سے مراد غلاموں کو خرید کر آزاد کرنا ہے۔ مکاتب غلاموں کی (جنھوں نے اپنے مالکوں سے اپنی قیمت قسطوں میں ادا کرنے کی شرط پر آزادی کا معاہدہ کیا ہوا ہے) مدد کرنا ہے۔ آج کل عدالتوں کے کفریہ نظام کی وجہ سے بے گناہ لوگ یا وہ گناہ گار جن کی شرعی سزا قید نہیں ہے، مگر کافرانہ قانون کی وجہ سے قید ہیں، یا کفر کی عدالتوں کا عائد کر دہ جرمانہ ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے یا مقدمہ کے اخراجات ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے جیلوں میں سال ہا سال سے سڑ رہے ہیں ان کو چھڑانے پر زکوٰۃ صرف کرنا بھی اس میں شامل ہے۔ (واللہ اعلم) ➏ { وَ الْغٰرِمِيْنَ:} وہ مقروض جو قرض ادا نہیں کر سکتے، یا وہ کاروباری لوگ یا زمیندار وغیرہ جو کاروبار یا فصل برباد ہوجانے کی وجہ سے زیر بار ہو گئے، اگر وہ اپنی جائداد میں سے قرض ادا کریں تو فقیر ہو جائیں، یا وہ بااثر لوگ جنھوں نے صلح کروانے کے لیے لوگوں کی دیتیں یا رقوم اپنے ذمے لے لیں، یہ سب غارمین میں آتے ہیں۔ ➐ {وَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ:} اس لفظ کے دو استعمال ہیں، ایک تو ہر نیکی ہی اللہ کے لیے اور اللہ کے راستے میں ہے اور فقراء و مساکین وغیرہ پر خرچ بھی فی سبیل اللہ ہے، جن کا ذکر اسی آیت میں پہلے ہو چکا ہے۔ دوسرا ان سب سے الگ فی سبیل اللہ ہے۔ اس سے مراد تمام مفسرین کے اتفاق کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ مجاہد غنی بھی ہو تو اس پر جہادی ضروریات کی خاطر خرچ کیا جا سکتا ہے۔ حدیث میں حج و عمرہ کو بھی اس مد میں شامل کیا گیا ہے۔ آپ تفسیر کی کتابیں دیکھ لیں یا فقہ کی {” وَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ “} کی تشریح {” هُمُ الْغُزَاةُ “} ہی پائیں گے کہ اس سے مراد اللہ کی راہ میں لڑنے والے ہیں، بلکہ اہل علم کا فیصلہ ہے کہ اگر ایک طرف فقراء و مساکین ہوں اور ایک طرف غازیانِ اسلام کو ضرورت ہو تو مجاہدین کی مدد کو ترجیح دی جائے گی، کیونکہ شکست کی صورت میں فقر و مسکنت کے ساتھ کفار کی غلامی کی ذلت اور اسلام کی بے حرمتی کی مصیبت بھی جمع ہو جائے گی۔ ➑ { وَ ابْنِ السَّبِيْلِ:} مسافر خواہ صاحب حیثیت ہو اگر سفر میں اسے ضرورت پڑ جائے تو اس پر زکوٰۃ میں سے خرچ کیا جا سکتا ہے۔ ➒ { فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ:} معلوم ہوا کہ یہ مصارف فرض صدقات و عشر کے بیان ہوئے ہیں۔ چند اہل علم نے کہا کہ ضروری ہے کہ زکوٰۃ اور عشر میں آنے والا مال آٹھ حصوں میں تقسیم کیا جائے اور لازماً ہر مصرف میں خرچ کیا جائے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء کے عمل کو سامنے رکھتے ہوئے اکثر اہل علم کا کہنا یہ ہے کہ ان میں سے جس مصرف میں زیادہ ضرورت ہو وہاں زیادہ بلکہ سب کا سب بھی صرف کیا جا سکتا ہے۔ ہاں، ان مصارف کے علاوہ خرچ کرنا جائز نہیں اور یہی بات درست ہے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی ہے۔ یاد رہے کہ فرض صدقہ صرف مسلمانوں پر خرچ کیا جا سکتا ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے وقت انھیں اہل یمن کو کلمۂ شہادت اور روزانہ پانچ نمازیں تسلیم کر لینے کے بعد زکوٰۃ بتانے کا حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اموال میں صدقہ فرض فرمایا ہے: [ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَاءِ هِمْ فَتُرَدُّ فِيْ فُقَرَاءِ هِمْ ] ”جو ان کے اغنیاء سے لیا جائے گا اور انھی کے فقراء پر واپس کر دیا جائے گا۔“ [ بخاری، الزکوٰۃ، باب أخذ الزکوٰۃ من الأغنیاء …: ۱۴۹۶ ] مؤلفۃ القلوب پر خرچ بھی دراصل مسلمانوں ہی پر خرچ کی ایک صورت ہے۔
ان میں سے کچھ لوگ ہیں جو اپنی باتوں سے نبی کو دکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص کانوں کا کچا ہے کہو، "وہ تمہاری بھلائی کے لیے ایسا ہے، اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اہل ایمان پر اعتماد کرتا ہے اور سراسر رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو تم میں سے ایماندار ہیں اور جو لوگ اللہ کے رسول کو دکھ دیتے ہیں ان کے لیے دردناک سزا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
ان میں سے وه بھی ہیں جو پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کان کا کچا ہے، آپ کہہ دیجئے کہ وه کان تمہارے بھلے کے لئے ہے وه اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور مسلمانوں کی بات کا یقین کرتا ہے اور تم میں سے جو اہل ایمان ہیں یہ ان کے لئے رحمت ہے، رسول اللہ ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ کو جو لوگ ایذا دیتے ہیں ان کے لئے دکھ کی مار ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ان میں کوئی وہ ہیں کہ ان غیب کی خبریں دینے والے کو ستاتے ہیں اور کہتے ہیں وہ تو کان ہیں، تم فرماؤ تمہارے بھلے کے لیے کا ن ہیں اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور مسلمانوں کی بات پر یقین کرتے ہیں اور جو تم میں مسلمان ہیں ان کے واسطے رحمت ہیں، اور جو رسول اللہ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو نبی کو اذیت پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ تو بس کان ہیں (یعنی کان کے کچے ہیں) کہہ دیجیے! وہ تمہارے لئے بہتری کا کان ہیں (ان کے ایسا ہونے میں تمہارا ہی بھلا ہے) جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اہلِ ایمان پر اعتماد کرتے ہیں اور جو تم میں سے ایمان لائے ہیں ان کے لئے سراپا رحمت ہیں اور جو لوگ اللہ کے رسول کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو نبی کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں وہ (تو) ایک کان ہے۔ کہہ دے تمھارے لیے بھلائی کا کان ہے، اللہ پر یقین رکھتا ہے اور مومنوں کی بات کا یقین کرتا ہے اور ان کے لیے ایک رحمت ہے جو تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جو لوگ اللہ کے رسول کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نکتہ چین منافقوں کا مقصد ٭٭
منافقوں کی ایک جماعت بڑی موذی ہے اپنے باتوں سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ پہنچاتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ نبی تو کانوں کا بڑا ہی کچا ہے جس سے جو سنا مان لیا۔ جب ہم اس کے پاس جائیں گے اور قسمیں کھائیں گے وہ ہماری بات بھی باور کر لے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ بہتر کانوں والا اچھی سننے والا اور صادق و کاذب کو خوب جانتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی باتیں مانتا ہے اور با ایمان لوگوں کی سچائی بھی جانتا ہے وہ مومنوں کے لیے رحمت ہے اور بے ایمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی حجت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ستانے والوں کے لیے دکھ کی مار ہے۔
61۔ 1 یہاں سے پھر منافقین کا ذکر ہو رہا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک ہرزہ سرائی انہوں نے یہ کی کہ یہ کان کا کچا (ہلکا) ہے، مطلب ہے کہ یہ ہر ایک بات سن لیتا ہے (یہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلم و کرم اور عفو و صفع کی صفت سے ان کو دھوکہ ہوا) اللہ نے فرمایا کہ نہیں، ہمارا پیغمبر شر و فساد کی کوئی بات نہیں سنتا جو بھی سنتا ہے تمہارے لئے اس میں خیر اور بھلائی ہے۔
(آیت61) ➊ {وَ مِنْهُمُ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ النَّبِيَّ …:} زمخشری نے فرمایا {” اُذُنٌ “} (کان) وہ آدمی ہے جو ہر ایک کی بات سن کر اسے سچا سمجھے۔ سنتے چلے جانے کی وجہ سے اس آدمی کا نام ہی کان رکھ دیا، جیسے جاسوس کا کام آنکھ سے تعلق رکھتا ہے، اس کا نام ہی ”عین“ (آنکھ) رکھ دیا گیا۔ ان منافقین کا مطلب یہ تھا کہ آپ کان کے کچے ہیں، ہر ایک کی بات سن کر اس پر اعتبار کر لیتے ہیں۔ دیکھیے یہ آپ پر کتنا تکلیف دہ تبصرہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دینے والوں کے لیے سورۂ احزاب (۵۷) میں دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی لعنت اور رسوا کن عذاب کا ذکر ہے اور یہاں ان کے لیے عذاب الیم بیان فرمایا۔ ➋ {قُلْ اُذُنُ خَيْرٍ:} یعنی ہاں تمھاری بات اس حد تک صحیح ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہر ایک کی بات سن لیتے ہیں اور خاموش رہتے ہیں، مگر یہ الزام صحیح نہیں کہ ہر بات سن کر اس پر اعتبار کر لیتے ہیں۔ اعتبار صرف اسی بات کا کرتے ہیں جو سچی اور حقیقی ہوتی ہے، جو پکے مومن بتاتے ہیں۔ جھوٹی بات کو سن تو لیتے ہیں مگر اس پر صبر اور درگزر سے کام لیتے ہیں، یہ چیز تمھارے حق میں خیر (بہتر) ہے۔ ورنہ آپ جھوٹی بات سن کر اگر اس پر فوراً مؤاخذہ کرنے والے ہوتے تو تم اپنے جھوٹے عذروں کی بنا پر یا تو کب کے قتل کر دیے گئے ہوتے یا مدینہ سے نکال دیے گئے ہوتے۔ ➌ { وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ:} یہاں ایمان لانے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں، چاہے دل سے ایمان دار نہ ہوں، ایسے لوگوں کے لیے رحمت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ان کے راز کھولتے نہیں بلکہ انھیں اپنی اصلاح کر لینے کا موقع دیتے ہیں۔ (فتح القدیر)
یہ لوگ تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی کریں، حالانکہ اگر یہ مومن ہیں تو اللہ اور رسول اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ یہ ان کو راضی کرنے کی فکر کریں
مولانا محمد جوناگڑھی
محض تمہیں خوش کرنے کے لئے تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھا جاتے ہیں حاﻻنکہ اگر یہ ایمان دار ہوتے تو اللہ اور اس کا رسول رضامند کرنے کے زیاده مستحق تھے
احمد رضا خان بریلوی
تمہارے سامنے اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ تمہیں راضی کرلیں اور اللہ و رسول کا حق زائد تھا کہ اسے راضی کرتے اگر ایمان رکھتے تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ تمہارے سامنے اللہ کی قَسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی کریں۔ حالانکہ اللہ اور اس کا رسول اس کے زیادہ حقدار ہیں کہ ان کو راضی کریں۔ اگر وہ ایمان لائے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
تمھارے لیے اللہ کی قسم کھاتے ہیں، تاکہ تمھیں خوش کریں، حالانکہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ حق دار ہے کہ وہ اسے خوش کریں، اگر وہ مومن ہیں ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نادان اور کوڑ مغز کون؟ ٭٭
واقعہ یہ ہوا تھا کہ منافقوں میں سے ایک شخص کہہ رہا تھا کہ ہمارے سردار اور رئیس بڑے ہی عقلمند دانا اور تجربہ کار ہیں اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں حق ہوتیں تو یہ کیا ایسے بیوقوف تھے کہ انہیں نہ مانتے؟ یہ بات ایک سچے مسلمان صحابی رضی اللہ عنہ نے سن لی اور اس نے کہا: ”واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب باتیں بالکل سچ ہیں اور نہ ماننے والوں کی بیوقوفی اور کودن پنے میں کوئی شک نہیں۔“ جب یہ صحابی رضی اللہ عنہ دربار نبوت میں حاضر ہوئے تو یہ واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلوا بھیجا لیکن وہ سخت قسمیں کھا کھا کر کہنے لگا کہ میں نے تو یہ بات کہی ہی نہیں یہ تو مجھ پر تہمت باندھتا ہے۔ اس صحابی رضی اللہ عنہ نے دعا کی کہ پروردگار! تو سچے کو سچا اور جھوٹے کو جھوٹا کر دکھا۔ اس پر یہ آیت شریف نازل ہوئی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16922:ضعیف و مرسل] کیا ان کو یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف ابدی جہنمی ہیں ذلت و رسوائی عذاب دوزخ بھگتنے والے ہیں اس سے بڑھ کر شومی طالع، اس سے زیادہ رسوائی اس سے بڑھ کر شقاوت اور کیا ہو گی؟
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت62){يَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِيُرْضُوْكُمْ …:} منافقین جب الگ مجلسوں میں بیٹھتے یا کہیں اکیلے ہوتے تو مسلمانوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پھبتیاں کستے۔ مسلمانوں کو یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر کبھی ان کی اطلاع ہو جاتی تو وہ قسمیں کھا کھا کر مسلمانوں کو راضی کرنے کی کوشش کرتے اور اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پروا نہ کرتے۔ اس آیت میں منافقین کی اس حرکت کا ذکر کیا گیا ہے۔
کیا انہیں معلوم نہیں ہے کہ جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرتا ہے اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا یہ بہت بڑی رسوائی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا یہ نہیں جانتے کہ جو بھی اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گااس کے لئے یقیناً دوزخ کی آگ ہے جس میں وه ہمیشہ رہنے واﻻ ہے، یہ زبردست رسوائی ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیا انہیں خبر نہیں کہ جو خلاف کرے اللہ اور اس کے رسول کا تو اس کے لیے جہنم کی آ گ ہے کہ ہمیشہ اس میں رہے گا، یہی بڑی رسوائی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا انہیں (یہ بات) معلوم نہیں ہے کہ جو شخص خدا و رسول کی مخالفت کرے گا۔ اس کے لئے آتشِ دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ یہ بہت بڑی رسوائی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا انھوں نے نہیں جانا کہ حقیقت یہ ہے کہ جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرے تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے، اس میں ہمیشہ رہنے والا ہے، یہی بہت بڑی رسوائی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نادان اور کوڑ مغز کون؟ ٭٭
واقعہ یہ ہوا تھا کہ منافقوں میں سے ایک شخص کہہ رہا تھا کہ ہمارے سردار اور رئیس بڑے ہی عقلمند دانا اور تجربہ کار ہیں اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں حق ہوتیں تو یہ کیا ایسے بیوقوف تھے کہ انہیں نہ مانتے؟ یہ بات ایک سچے مسلمان صحابی رضی اللہ عنہ نے سن لی اور اس نے کہا: ”واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب باتیں بالکل سچ ہیں اور نہ ماننے والوں کی بیوقوفی اور کودن پنے میں کوئی شک نہیں۔“ جب یہ صحابی رضی اللہ عنہ دربار نبوت میں حاضر ہوئے تو یہ واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلوا بھیجا لیکن وہ سخت قسمیں کھا کھا کر کہنے لگا کہ میں نے تو یہ بات کہی ہی نہیں یہ تو مجھ پر تہمت باندھتا ہے۔ اس صحابی رضی اللہ عنہ نے دعا کی کہ پروردگار! تو سچے کو سچا اور جھوٹے کو جھوٹا کر دکھا۔ اس پر یہ آیت شریف نازل ہوئی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16922:ضعیف و مرسل] کیا ان کو یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف ابدی جہنمی ہیں ذلت و رسوائی عذاب دوزخ بھگتنے والے ہیں اس سے بڑھ کر شومی طالع، اس سے زیادہ رسوائی اس سے بڑھ کر شقاوت اور کیا ہو گی؟
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت63){ اَلَمْ يَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ يُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ …:” يُحَادِدِ “} یہ {”حَدٌّ“} سے مشتق ہے جس کا معنی ”جانب“ ہے۔ باب مفاعلہ عموماً مقابلے کے لیے آتا ہے، یعنی اللہ اور اس کے رسول ایک جانب ہوں اور یہ اس کے مقابلے میں دوسری جانب ہوں۔ آگے سوال کے طور پر ان کا انجام ذکر فرمایا کہ کیا انھیں یہ معلوم نہیں؟ سوال کا مقصد پوچھنا نہیں بلکہ بتانا ہے کہ یہ بات اتنی واضح ہے کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے پیغمبر کے مقابلے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔
یہ منافق ڈر رہے ہیں کہ کہیں مسلمانوں پر کوئی ایسی سورت نازل نہ ہو جائے جو ان کے دلوں کے بھید کھول کر رکھ دے اے نبیؐ، ان سے کہو، "اور مذاق اڑاؤ، اللہ اُس چیز کو کھول دینے والا ہے جس کے کھل جانے سے تم ڈرتے ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
منافقوں کو ہر وقت اس بات کا کھٹکا لگارہتا ہے کہ کہیں مسلمانوں پر کوئی سورت نہ اترے جو ان کے دلوں کی باتیں انہیں بتلا دے۔ کہہ دیجئے کہ تم مذاق اڑاتے رہو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ اسے ﻇاہر کرنے واﻻ ہے جس سے تم ڈر دبک رہے ہو
احمد رضا خان بریلوی
منافق ڈرتے ہیں کہ ان پر کوئی سورة ایسی اترے جو ان کے دلوں کی چھپی جتادے تم فرماؤ ہنسے جاؤ اللہ کو ضرور ظاہر کرنا ہے جس کا تمہیں ڈر ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
منافق لوگ ڈرتے رہتے ہیں کہ مبادا ان کے بارے میں کوئی ایسی سورہ نہ نازل ہو جائے جو انہیں بتلا دے جو کچھ ان کے دلوں میں (چھپا ہوا) ہے آپ کہہ دیجیے! کہ تم مذاق اڑاؤ۔ یقینا (اب) اللہ اس بات کا ظاہر کرنے والا ہے جس کے شکار ہونے سے تم ڈرتے ہو۔ (تمہارے نفاق کا پردہ چاک ہونے والا ہے)۔
عبدالسلام بن محمد
منافق ڈرتے ہیں کہ ان پر کوئی ایسی سورت اتاری جائے جو انھیں وہ باتیں بتا دے جو ان کے دلوں میں ہیں۔ کہہ دے تم مذاق اڑائو، بے شک اللہ ان باتوں کو نکال ظاہر کرنے والا ہے جن سے تم ڈرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گھبراتے بھی ہیں ٭٭
آپس میں بیٹھ کر باتیں تو گانٹھ لیتے لیکن پھر خوف زدہ رہتے کہ کہ کہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کو بذریعہ وحی الٰہی خبر نہ ہو جائے، اور آیت میں ہے تیرے سامنے آ کر وہ دعائیں دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے نہیں دیں پھر اپنے جی میں اکڑتے ہیں کہ ہمارے اس قول پر اللہ تعالیٰ ہمیں کوئی سزا کیوں نہیں دیتا؟ ان کے لیے جہنم کی کافی سزا موجود ہے جو بدترین جگہ ہے۔ ۱؎ [58-المجادلة:8] یہاں فرماتا ہے دینی باتوں، مسلمانوں کی حالتوں پر دل کھول کر مذاق اڑالو، اللہ تعالیٰ بھی وہ کھول دے گا جو تمہارے دلوں میں ہے، یاد رکھو ایک دن رسوا اور فضیحت ہو کر رہو گے۔ چنانچہ فرمان ہے کہ یہ بیمار دل لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ان کے دلوں کی بدیاں ظاہر ہی نہ ہوں گی، ہم تو انہیں اس قدر فضیحت کریں گے، اور ایسی نشانیاں تیرے سامنے رکھ دیں گے کہ تو ان کے لب و لہجے سے ہی انہیں پہچان لے۔ ۱؎ [47-محمد:29،30] اس سورت کا نام ہی سورۃ الفاضحہ ہے اس لیے کہ اس نے منافقوں کی قلعی کھول دی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت64) {يَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ …:} اب منافقین کی مزید کمینی حرکتوں کا ذکر ہوتا ہے اور کافی آگے تک چلا جاتا ہے، اس بنا پر اس سورت کو ”الفاضحہ“ بھی کہتے ہیں، یعنی منافقوں کے راز کھولنے والی اور ان کو رسوا کرنے والی۔ منافقین بظاہر ایمان کے باوجود دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کفر رکھتے تھے، ان میں سے بعض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا سمجھنے کے باوجود ضد اور تعصب کی وجہ سے دل میں آپ سے کفر رکھتے تھے، کچھ شک میں مبتلا تھے، اس لیے ایمان سے خالی تھے اور جو بالکل دل سے آپ کو جھوٹا سمجھتے تھے وہ بھی کئی دفعہ مشاہدہ کر چکے تھے کہ جوں ہی وہ ایسی کوئی بات یا حرکت کرتے تو اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کر دیتا، اس لیے وہ اپنے دلی کفر کی وجہ سے کبھی کبھی آپس میں اپنے دلی بغض کا اظہار کر لیتے، مگر ساتھ ہی خوف زدہ رہتے کہ کوئی سورت اترے گی جو ان کے راز اور دلی کیفیت ان کے سامنے اور مسلمانوں کے سامنے کھول کر رکھ دے گی۔ {” تُنَبِّئُهُمْ “} میں {” هُمْ “} کی ضمیر منافقوں کی طرف بھی جا سکتی ہے اور مومنوں کی طرف بھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، تم مذاق اڑا لو، تم جس بات کے ظاہر ہونے سے ڈر رہے ہو اللہ تعالیٰ یقینا اسے سب کے سامنے لے آنے والا ہے۔
اگر ان سے پوچھو کہ تم کیا باتیں کر رہے تھے، تو جھٹ کہہ دیں گے کہ ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی کر رہے تھے ان سے کہو، "کیا تمہاری ہنسی دل لگی اللہ اور اُس کی آیات اور اس کے رسول ہی کے ساتھ تھی؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر آپ ان سے پوچھیں تو صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو یونہی آپس میں ہنس بول رہے تھے۔ کہہ دیجئے کہ اللہ، اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کے لئے ره گئے ہیں؟
احمد رضا خان بریلوی
اور اے محبوب اگر تم ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھے تم فرماؤ کیا اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) اگر آپ ان سے پوچھ گچھ کریں تو وہ ضرور کہیں گے کہ ہم تو صرف بحث کر رہے تھے اور تفریح طبعی کر رہے تھے۔ کیا تم اللہ، اس کے رسول اور اس کی آیات سے تمسخر کرتے ہو؟
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ اگر تو ان سے پوچھے تو ضرور ہی کہیں گے ہم تو صرف شغل کی بات کر رہے تھے اور دل لگی کر رہے تھے۔ کہہ دے کیا تم اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول ہی کے ساتھ مذاق کر رہے تھے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسلمان باہم گفتگو میں محتاط رہا کریں ٭٭
ایک منافق کہہ رہا تھا کہ ہمارے یہ قرآن خواں لوگ بڑے پیٹو، اور بڑے فضول اور بڑے بزدل ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اس کا ذکر ہوا تو یہ عذر پیش کرتا ہوا آیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو یونہی وقت گزاری کے لیے ہنس بول رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں تمہارے ہنسی کے لیے اللہ تعالیٰ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن ہی رہ گیا ہے یاد رکھو! اگر کسی کو ہم معاف کر دیں گے تو کسی کو سخت سزا بھی کریں گے“، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار جا رہے تھے یہ منافق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار پر ہاتھ رکھے پتھروں سے ٹھوکریں کھاتا ہوا یہ کہتا ہوا ساتھ جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف دیکھتے بھی نہ تھے جس مسلمان نے اس کا یہ قول سنا تھا اس نے اسی وقت جواب بھی دیا تھا کہ تو بکتا ہے جھوٹا ہے تو منافق ہے۔ یہ واقعہ جنگ تبوک کے موقعہ کا ہے، مسجد میں اس نے یہ ذکر کیا تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16928:مرسل] سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ تبوک جاتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منافقوں کا ایک گروہ بھی تھا جن میں ودیعہ بن ثابت اور مخشی بن حمیر وغیرہ تھے۔ یہ آپس میں کہ رہے تھے کہ نصرانیوں کی لڑائی عربوں کی آپس کی لڑائی جیسی سمجھنا سخت خطرناک غلطی ہے اچھا ہے انہیں وہاں پٹنے دو پھر ہم بھی یہاں ان کی درگت بنائیں گے۔ اس پر ان کے دوسرے سردار مخشی نے کہا: ”بھئی ان باتوں کو چھوڑو ورنہ یہ ذکر پھر قرآن میں آئے گا۔ کوڑے کھا لینا ہمارے نزدیک تو اس رسوائی سے بہتر ہے“، آگے آگے یہ لوگ یہ تذکرے کرتے جا ہی رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”جانا ذرا دیکھنا یہ لوگ جل گئے ان سے پوچھ تو کہ یہ کیا ذکر کر رہے تھے؟ اگر یہ انکار کریں تو تو کہنا کہ تم یہ یہ باتیں کر رہے تھے۔“
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے جا کر ان سے یہ کہا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عذر معذرت کرنے لگے اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہنسی ہنسی میں ہمارے منہ سے ایسی بات نکل گئی۔ ودیعہ نے تو یہ کہا لیکن مخشی بن حمیر نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ میرا اور میرے باپ کا نام ملاحظہ فرمائیے پس اس وجہ سے یہ لغو حرکت اور حماقت مجھ سے سرزد ہوئی معاف فرمایا جاؤں۔ پس اس سے جناب باری تعالیٰ نے درگذر فرما لیا اور اس آیت میں اسی سے درگذر فرمانے کا ذکر بھی ہوا ہے اس کے بعد اس نے اپنا نام بدل کر عبدالرحمٰن رکھا سچا مسلمان بن گیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ مجھے اپنی راہ میں شہید کرتا کہ یہ دھبہ دھل جائے چنانچہ یمامہ والے دن یہ بزرگ شہید کر دیئے گئے، اور ان کی نعش بھی نہ ملی، رضی اللہ عنہ وارضاہ۔ ۱؎ [سیرۃ ابن ہشام:121،122/4] ان منافقوں نے بطور طعنہ زنی کے کہا تھا کہ لیجئے کیا آنکھیں پھٹ گئیں ہیں اب یہ چلے ہیں کہ رومیوں کے قلعے اور ان کے محلات کو فتح کریں بھلا اس عقلمندی اور دور بینی کو تو دیکھئے۔
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی ان باتوں پر مطلع کر دیا تو یہ صاف منکر ہو گئے اور قسمیں کھا کھا کر کہا کہ ہم نے یہ بات نہیں کہی ہم تو آپس میں ہنسی کھیل کر رہے تھے۔ ہاں ان میں ایک شخص تھا جسے ان شاءاللہ اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا ہو گا یہ کہا کرتا تھا کہ اللہ میں تیرے پاک کلام کی ایک آیت سنتا ہوں جس میں میرے گناہ کا ذکر ہے جب بھی سنتا ہوں میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور میرا دل کپکپانے لگتا ہے، پروردگار تو میری توبہ قبول فرما اور مجھے اپنی راہ میں شہید کر اور اس طرح کہ نہ کوئی مجھے غسل دے نہ کفن دے نہ دفن کرے۔ یہی ہوا جنگ یمامہ میں یہ شہداء کے ساتھ شہید ہوئے تمام شہداء کی لاشیں مل گئیں لیکن ان کی نعش کا پتہ ہی نہ چلا۔ جناب باری تعالیٰ کی طرف سے اور منافقوں کو جواب ملا کہ اب بہانے نہ بناؤ تم گو زبانی ایماندار بنے تھے لیکن اب اسی زبان سے تم کافر ہو گئے۔ یہ قول کفر کا کلمہ ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کی ہنسی اڑائی۔ ہم اگر کسی سے درگذر بھی کر جائیں لیکن تم سب سے یہ معاملہ نہیں ہو گا تمہارے اس جرم اور اس بدترین خطا اور اس مقولہء کفر کی تمہیں سخت ترین سزا بھگتنی پڑے گی۔
65۔ 1 منافقین آیات الٰہی کا مذاق اڑاتے، مومنین کا استہزا کرتے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ کلمات کہنے سے گریز نہ کرتے جس کی اطلاع کسی نہ کسی طریقے سے بعض مسلمانوں کو اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوجاتی۔ لیکن جب ان سے پوچھا جاتا تو صاف مکر جاتے اور کہتے کہ ہم تو یوں ہی ہنسی مذاق کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہنسی مذاق کے لئے کیا تمہارے سامنے اللہ اور اس کی آیات و رسول ہی رہ گیا ہے؟ مطلب یہ ہے کہ اگر مقصد تمہارا آپس میں ہنسی مذاق کا ہوتا تو اس میں اللہ، اس کی آیات و رسول درمیان میں کیوں آتے، یہ یقینا تمہارے اس خبث اور نفاق کا اظہار ہے جو آیات الٰہی اور ہمارے پیغمبر کے خلاف تمہارے دلوں میں موجود ہے۔
(آیت65){وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ …:} منافق آپس میں گپیں لگاتے ہوئے اللہ، اس کے رسول اور آیاتِ الٰہی کا مذاق اڑاتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی ذریعے سے یا وحی الٰہی سے اطلاع ہوتی اور آپ پوچھتے تو وہ کہتے ہم تو یوں ہی راستہ کاٹنے کے لیے شغل کی باتیں اور دل لگی کر رہے تھے۔ فرمایا ان سے کہیے کہ تمھارے آپس کے شغل اور دل لگی کا اللہ اور اس کے رسول اور اس کی آیات کے ساتھ مذاق سے کیا تعلق اور کیا دل لگی کے لیے تمھیں یہی ملے ہیں؟ وہ لوگ بار بار معذرت کرتے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے۔
اب عذرات نہ تراشو، تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے، اگر ہم نے تم میں سے ایک گروہ کو معاف کر بھی دیا تو دوسرے گروہ کو تو ہم ضرور سزا دیں گے کیونکہ وہ مجرم ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
تم بہانے نہ بناؤ یقیناً تم اپنے ایمان کے بعد بے ایمان ہوگئے، اگر ہم تم میں سے کچھ لوگوں سے درگزر بھی کر لیں تو کچھ لوگوں کو ان کے جرم کی سنگین سزا بھی دیں گے
احمد رضا خان بریلوی
بہانے نہ بنا ؤ تم کافر ہوچکے مسلمان ہوکر اگر ہم تم میں سے کسی کو معاف کریں تو اوروں کو عذاب دیں گے اس لیے کہ وہ مجرم تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اب عذر نہ تراشو! تم نے (اظہارِ) ایمان کے بعد کفر اختیار کیا ہے۔ اگر ہم تم میں سے ایک گروہ سے درگزر بھی کریں گے تو دوسرے گروہ کو تو ضرور سزا دیں گے کیونکہ وہ (حقیقی) مجرم ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بہانے مت بنائو، بے شک تم نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا۔ اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو معاف کر دیں تو ایک گروہ کو عذاب دیں گے، اس وجہ سے کہ یقینا وہ مجرم تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسلمان باہم گفتگو میں محتاط رہا کریں ٭٭
ایک منافق کہہ رہا تھا کہ ہمارے یہ قرآن خواں لوگ بڑے پیٹو، اور بڑے فضول اور بڑے بزدل ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اس کا ذکر ہوا تو یہ عذر پیش کرتا ہوا آیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو یونہی وقت گزاری کے لیے ہنس بول رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں تمہارے ہنسی کے لیے اللہ تعالیٰ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن ہی رہ گیا ہے یاد رکھو! اگر کسی کو ہم معاف کر دیں گے تو کسی کو سخت سزا بھی کریں گے“، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار جا رہے تھے یہ منافق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار پر ہاتھ رکھے پتھروں سے ٹھوکریں کھاتا ہوا یہ کہتا ہوا ساتھ جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف دیکھتے بھی نہ تھے جس مسلمان نے اس کا یہ قول سنا تھا اس نے اسی وقت جواب بھی دیا تھا کہ تو بکتا ہے جھوٹا ہے تو منافق ہے۔ یہ واقعہ جنگ تبوک کے موقعہ کا ہے، مسجد میں اس نے یہ ذکر کیا تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16928:مرسل] سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ تبوک جاتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منافقوں کا ایک گروہ بھی تھا جن میں ودیعہ بن ثابت اور مخشی بن حمیر وغیرہ تھے۔ یہ آپس میں کہ رہے تھے کہ نصرانیوں کی لڑائی عربوں کی آپس کی لڑائی جیسی سمجھنا سخت خطرناک غلطی ہے اچھا ہے انہیں وہاں پٹنے دو پھر ہم بھی یہاں ان کی درگت بنائیں گے۔ اس پر ان کے دوسرے سردار مخشی نے کہا: ”بھئی ان باتوں کو چھوڑو ورنہ یہ ذکر پھر قرآن میں آئے گا۔ کوڑے کھا لینا ہمارے نزدیک تو اس رسوائی سے بہتر ہے“، آگے آگے یہ لوگ یہ تذکرے کرتے جا ہی رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”جانا ذرا دیکھنا یہ لوگ جل گئے ان سے پوچھ تو کہ یہ کیا ذکر کر رہے تھے؟ اگر یہ انکار کریں تو تو کہنا کہ تم یہ یہ باتیں کر رہے تھے۔“
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے جا کر ان سے یہ کہا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عذر معذرت کرنے لگے اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہنسی ہنسی میں ہمارے منہ سے ایسی بات نکل گئی۔ ودیعہ نے تو یہ کہا لیکن مخشی بن حمیر نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ میرا اور میرے باپ کا نام ملاحظہ فرمائیے پس اس وجہ سے یہ لغو حرکت اور حماقت مجھ سے سرزد ہوئی معاف فرمایا جاؤں۔ پس اس سے جناب باری تعالیٰ نے درگذر فرما لیا اور اس آیت میں اسی سے درگذر فرمانے کا ذکر بھی ہوا ہے اس کے بعد اس نے اپنا نام بدل کر عبدالرحمٰن رکھا سچا مسلمان بن گیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ مجھے اپنی راہ میں شہید کرتا کہ یہ دھبہ دھل جائے چنانچہ یمامہ والے دن یہ بزرگ شہید کر دیئے گئے، اور ان کی نعش بھی نہ ملی، رضی اللہ عنہ وارضاہ۔ ۱؎ [سیرۃ ابن ہشام:121،122/4] ان منافقوں نے بطور طعنہ زنی کے کہا تھا کہ لیجئے کیا آنکھیں پھٹ گئیں ہیں اب یہ چلے ہیں کہ رومیوں کے قلعے اور ان کے محلات کو فتح کریں بھلا اس عقلمندی اور دور بینی کو تو دیکھئے۔
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی ان باتوں پر مطلع کر دیا تو یہ صاف منکر ہو گئے اور قسمیں کھا کھا کر کہا کہ ہم نے یہ بات نہیں کہی ہم تو آپس میں ہنسی کھیل کر رہے تھے۔ ہاں ان میں ایک شخص تھا جسے ان شاءاللہ اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا ہو گا یہ کہا کرتا تھا کہ اللہ میں تیرے پاک کلام کی ایک آیت سنتا ہوں جس میں میرے گناہ کا ذکر ہے جب بھی سنتا ہوں میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور میرا دل کپکپانے لگتا ہے، پروردگار تو میری توبہ قبول فرما اور مجھے اپنی راہ میں شہید کر اور اس طرح کہ نہ کوئی مجھے غسل دے نہ کفن دے نہ دفن کرے۔ یہی ہوا جنگ یمامہ میں یہ شہداء کے ساتھ شہید ہوئے تمام شہداء کی لاشیں مل گئیں لیکن ان کی نعش کا پتہ ہی نہ چلا۔ جناب باری تعالیٰ کی طرف سے اور منافقوں کو جواب ملا کہ اب بہانے نہ بناؤ تم گو زبانی ایماندار بنے تھے لیکن اب اسی زبان سے تم کافر ہو گئے۔ یہ قول کفر کا کلمہ ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کی ہنسی اڑائی۔ ہم اگر کسی سے درگذر بھی کر جائیں لیکن تم سب سے یہ معاملہ نہیں ہو گا تمہارے اس جرم اور اس بدترین خطا اور اس مقولہء کفر کی تمہیں سخت ترین سزا بھگتنی پڑے گی۔
66۔ 1 یعنی تم جو ایمان ظاہر کرتے رہے ہو۔ اللہ اور رسول کے استہزا کے بعد، اس کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہ گئی۔ اول تو وہ بھی نفاق پر ہی مبنی تھا۔ تاہم اس کی بدولت ظاہری طور پر مسلمانوں میں تمہارا شمار ہوتا تھا اب اس کی بھی گنجائش ختم ہوگئی ہے۔ 66۔ 2 اس سے مراد ایسے لوگ ہیں جنہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا اور انہوں نے توبہ کرلی اور مخلص مسلمان بن گئے۔ 66۔ 3 یہ وہ لوگ ہیں، جنہیں توبہ کی توفیق نصیب نہیں ہوئی اور کفر اور نفاق پر اڑے رہے اس لئے اس عذاب کی علت بھی بیان کردی گئی ہے کہ وہ مجرم تھے۔
(آیت66) ➊ { لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ …:} بہانے مت بناؤ، صاف مانو کہ تم نے ایمان لا کر پھر صریح کفر کیا ہے۔ جو شخص دین کی باتوں میں ٹھٹھا کرے اگرچہ دل سے منکر نہ ہو تو وہ کافر ہو گیا، اگر یہ نہ بھی ہو تو تب بھی وہ منافق تو لازماً ہے۔ اصل یہ ہے کہ دین کی باتوں میں ظاہر و باطن کا باادب رہنا ضروری ہے۔ (موضح) ➋ { اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآىِٕفَةٍ مِّنْكُمْ …:} یعنی جس نے نفاق سے توبہ کر لی اور آئندہ مخلص ہو کر زندگی بسر کی، اسے تو ہم معاف کرتے ہیں مگر جو اپنے کفر پر قائم رہا اسے ضرور عذاب ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کی مہربانی دیکھیے منافقین کو بھی اخلاص اختیار کرنے پر معافی کا وعدہ اور اس کی ترغیب دی جا رہی ہے اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی منافقین بھی بعد میں مخلص مسلمان ہو گئے تھے۔
منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک دوسرے کے ہم رنگ ہیں برائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے منع کرتے ہیں اور اپنے ہاتھ خیر سے روکے رکھتے ہیں یہ اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا یقیناً یہ منافق ہی فاسق ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
تمام منافق مرد وعورت آپس میں ایک ہی ہیں، یہ بری باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بھلی باتوں سے روکتے ہیں اور اپنی مٹھی بند رکھتے ہیں، یہ اللہ کو بھول گئے اللہ نے انہیں بھلا دیا۔ بیشک منافق ہی فاسق وبدکردار ہیں
احمد رضا خان بریلوی
منافق مرد اور منافق عورتیں ایک تھیلی کے چٹے بٹے ہیں برائی کا حکم دیں اور بھلائی سے منع کریں اور اپنی مٹھی بند رکھیں وہ اللہ کو چھوڑ بیٹھے تو اللہ نے انہیں چھوڑدیا بیشک منافق وہی پکے بے حکم ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے کے ہم جنس ہیں برائی کا حکم دیتے ہیں اور اچھائی سے روکتے ہیں اور (راہِ حق پر خرچ کرنے سے) اپنے ہاتھ بند رکھتے ہیں (دراصل) انہوں نے خدا کو بھلا دیا ہے اور خدا نے (گویا) ان کو بھلا دیا ہے اور انہیں (نظر انداز کر دیا ہے) بے شک منافق ہی بڑے فاسق (نافرمان) ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
منافق مرد اور منافق عورتیں، ان کے بعض بعض سے ہیں، وہ برائی کا حکم دیتے ہیں اور نیکی سے منع کرتے ہیں اور اپنے ہاتھ بند رکھتے ہیں۔ وہ اللہ کو بھول گئے تو اس نے انھیں بھلا دیا۔ یقینا منافق لوگ ہی نافرمان ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایک کے ہاتھ نیکیوں کے کھیت دوسرے کے ہاتھ برائیوں کی وبا ٭٭
منافقوں کی حصلتیں مومنوں کے بالکل برخلاف ہوتی ہیں۔ مومن بھلائیوں کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں منافق برائیوں کا حکم دیتے ہیں اور بھلائیوں سے منع کرتے ہیں، مومن سخی ہوتے ہیں، منافق بخیل ہوتے ہیں، مومن ذکر اللہ میں مشغول رہتے ہیں، منافق یاد الٰہی بھلائے رہتے ہیں۔ اسی کے بدلے اللہ بھی ان کے ساتھ وہ معاملہ کرتا ہے جیسے کسی کو کوئی بھول گیا ہو۔ قیامت کے دن یہی ان سے کہا جائے گا کہ آج ہم تمہیں ٹھیک اسی طرح بھلا دیں گے جیسے تم اس دن کی ملاقات کو بھلائے ہوئے تھے۔ منافق راہ حق سے دور ہو گئے ہیں گمراہی کے چکر دار بھول بھلیوں میں پھنس گئے ہیں، ان منافقوں اور کافروں کی ان بداعمالیوں کی سزا ان کے لیے اللہ تعالیٰ جہنم کو مقرر فرما چکا ہے وہ ابدالآباد تک رہیں گے وہاں کا عذاب انہیں بس ہو گا، انہیں رب رحیم اپنی رحمت سے دور کر چکا ہے اور ان کے لیے اس نے دائمی اور دیرپا عذاب رکھے ہیں۔
67۔ 1 منافقین، جو حلف اٹھا کر مسلمان باور کراتے تھے کہ ' ہم تم ہی میں سے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی، کہ ایمان والوں سے ان کا کیا تعلق؟ البتہ یہ سب منافق، چاہے مرد ہوں یا عورتیں، ایک ہی ہیں، یعنی کف و نفاق میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں۔ آگے ان کی صفات بیان کی جا رہی ہیں جو مومنین کی صفات کے بالکل الٹ اور برعکس ہیں۔ 67۔ 2 اس سے مراد بخل ہے۔ یعنی مومن کی صفت اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور منافق کی اس کے برعکس بخل، یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے گریز کرنا ہے۔ 67۔ 3 یعنی اللہ تعالیٰ بھی ان سے ایسا معاملہ کرے گا کہ گویا اس نے انہیں بھلا دیا۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا ' آج ہم تمہیں اس طرح بھلا دیں گے جس طرح تم ہماری ملاقات کے اس دن کو بھولے ہوئے تھے ' مطلب یہ کہ جس طرح انہوں نے دنیا میں اللہ کے احکامات کو چھوڑے رکھا۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل و کرم سے محروم رکھے گا گویا نسیان کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف علم بلاغت کے اصول مشاکلت کے اعتبار سے ہے ورنہ اللہ کی ذات نسیان سے پاک ہے (فتح القدیر)
(آیت67) ➊ {اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ …:} یعنی منافق مرد ہوں یا عورتیں سب ایک جیسے ہیں اور سب کی ایک جیسی عادات اور بدخصلتیں ہیں، وہ برے کام کا حکم دیں گے، اچھے کام سے روکیں گے اور بخل کی وجہ سے اپنے ہاتھ بند رکھیں گے، یعنی خرچ نہیں کریں گے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کے انھیں بھلا دینے کا ذکر ان کے اللہ تعالیٰ کو بھول جانے کے مقابلے میں فرمایا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے یہی سلوک کیا کہ ان کی پروا ہی نہیں فرمائی، بلکہ انھیں اپنے فضل و کرم سے محروم کر دیا۔ اس تاویل کی ضرورت اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود موسیٰ علیہ السلام کی زبانی نقل فرمایا: «لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَ لَا يَنْسَى» [ طٰہٰ: ۵۲ ] ”میرا رب بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔“ معلوم ہوا کہ یہاں اللہ تعالیٰ کی بھولنے کی طرف نسبت صرف لفظ کے ہم شکل ہونے تک ہے، ورنہ وہ ذات پاک بھولنے سے ہر طرح پاک ہے۔ ➋ { هُمُ الْفٰسِقُوْنَ:} یعنی فسق (نافرمانی) میں حد کمال تک پہنچ چکے ہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”بے اعتقاد کی صلاحیت کیا معتبر ہے، اسے فاسق ہی کہنا چاہیے۔“ (موضح)
ان منافق مردوں اور عورتوں اور کافروں کے لیے اللہ نے آتش دوزخ کا وعدہ کیا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہی ان کے لیے موزوں ہے ان پر اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لیے قائم ر ہنے والا عذاب ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ ان منافق مردوں، عورتوں اورکافروں سے جہنم کی آگ کا وعده کر چکا ہے جہاں یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں، وہی انہیں کافی ہے ان پر اللہ کی پھٹکار ہے، اور ان ہی کے لئے دائمی عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں کو جہنم کی آگ کا وعدہ دیا ہے جس میں ہمیشہ رہیں گے، وہ انہیں بس ہے اور اللہ کی ان پر لعنت ہے اور ان کے لیے قائم رہنے والا عذاب ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ نے منافق مردوں منافق عورتوں اور کافروں سے آتشِ دوزخ (میں داخل کرنے) کا وعدہ کر رکھا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے وہ ان کے لئے کافی ہے اور اللہ نے ان پر لعنت کی ہے اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے جہنم کی آگ کا وعدہ کیا ہے، اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، وہی ان کو کافی ہے اور اللہ نے ان پر لعنت کی اور ان کے لیے ہمیشہ رہنے والا عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایک کے ہاتھ نیکیوں کے کھیت دوسرے کے ہاتھ برائیوں کی وبا ٭٭
منافقوں کی حصلتیں مومنوں کے بالکل برخلاف ہوتی ہیں۔ مومن بھلائیوں کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں منافق برائیوں کا حکم دیتے ہیں اور بھلائیوں سے منع کرتے ہیں، مومن سخی ہوتے ہیں، منافق بخیل ہوتے ہیں، مومن ذکر اللہ میں مشغول رہتے ہیں، منافق یاد الٰہی بھلائے رہتے ہیں۔ اسی کے بدلے اللہ بھی ان کے ساتھ وہ معاملہ کرتا ہے جیسے کسی کو کوئی بھول گیا ہو۔ قیامت کے دن یہی ان سے کہا جائے گا کہ آج ہم تمہیں ٹھیک اسی طرح بھلا دیں گے جیسے تم اس دن کی ملاقات کو بھلائے ہوئے تھے۔ منافق راہ حق سے دور ہو گئے ہیں گمراہی کے چکر دار بھول بھلیوں میں پھنس گئے ہیں، ان منافقوں اور کافروں کی ان بداعمالیوں کی سزا ان کے لیے اللہ تعالیٰ جہنم کو مقرر فرما چکا ہے وہ ابدالآباد تک رہیں گے وہاں کا عذاب انہیں بس ہو گا، انہیں رب رحیم اپنی رحمت سے دور کر چکا ہے اور ان کے لیے اس نے دائمی اور دیرپا عذاب رکھے ہیں۔
تم لوگوں کے رنگ ڈھنگ وہی ہیں جو تمہارے پیش روؤں کے تھے وہ تم سے زیادہ زور آور اور تم سے بڑھ کر مال اور اولاد والے تھے پھر انہوں نے دنیا میں اپنے حصہ کے مزے لوٹ لیے اور تم نے بھی اپنے حصے کے مزے اسی طرح لوٹے جیسے انہوں نے لوٹے تھے، اور ویسی ہی بحثوں میں تم بھی پڑے جیسی بحثوں میں وہ پڑے تھے، سو ان کا انجام یہ ہوا کہ دنیا اور آخرت میں ان کا سب کیا دھرا ضائع ہو گیا اور وہی خسارے میں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
مثل ان لوگوں کے جو تم سے پہلے تھے، تم میں سے وه زیاده قوت والے تھے اور زیاده مال واوﻻد والے تھے پس وه اپنا دینی حصہ برت گئے پھر تم نے بھی اپنا حصہ برت لیا جیسے تم سے پہلے کے لوگ اپنے حصے سے فائده مند ہوئے تھے اور تم نے بھی اسی طرح مذاقانہ بحﺚ کی جیسے کہ انہوں نے کی تھی۔ ان کے اعمال دنیا اور آخرت میں غارت ہوگئے۔ یہی لوگ نقصان پانے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
جیسے وہ جو تم سے پہلے تھے تم سے زور میں بڑھ کر تھے اور ان کے مال اور اولاد سے زیادہ، تو وہ اپنا حصہ برت گئے تو تم نے اپنا حصہ برتا جیسے اگلے اپنا حصہ برت گئے اور تم بیہودگی میں پڑے جیسے وہ پڑے تھے ان کے عمل اکارت گئے دنیا اور آخرت میں اور وہی لوگ گھاٹے میں ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
(اے منافقو! تمہاری حالت) ان لوگوں جیسی ہے جو تم سے پہلے گزر چکے۔ جو تم سے زیادہ طاقتور تھے اور مال و اولاد بھی تم سے زیادہ رکھتے تھے پس انہوں نے اپنے (دنیوی) حصہ سے فائدہ اٹھایا اور تم نے بھی اپنے (دنیوی) حصہ سے اسی طرح فائدہ اٹھایا جس طرح تم سے پہلے گزرے ہوؤں نے فائدہ اٹھایا تھا۔ اور تم بھی ویسے ہی لغو بحثوں میں پڑے جیسے وہ پڑے تھے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا و آخرت میں اکارت ہوئے اور یہی لوگ ہیں جو گھاٹا اٹھانے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
ان لوگوں کی طرح جو تم سے پہلے تھے، وہ قوت میں تم سے زیادہ سخت اور اموال اور اولاد میں بہت زیادہ تھے۔ تو انھوں نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا، پھر تم نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا، جس طرح ان لوگوں نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا جو تم سے پہلے تھے اور تم نے فضول باتیں کیں، جس طرح انھوں نے فضول باتیں کیں۔ یہ لوگ! ان کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے اور یہی خسارہ اٹھانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ان لوگوں کو بھی اگلے لوگوں کی طرح عذاب پہنچے ٭٭
ان لوگوں کو بھی اگلے لوگوں کی طرح عذاب پہنچے، «خَلَاقِ» سے مراد یہاں دین ہے، جیسے اگلے لوگ جھوٹ اور باطل میں کودتے پھاندتے رہے، ایسے ہی ان لوگوں نے بھی کیا۔ ان کے یہ فاسد اعمال اکارت گئے نہ دنیا میں سود مند ہوئے نہ آخرت میں ثواب دلانے والے ہوئے یہی صریح نقصان ہے کہ عمل کیا اور ثواب نہ ملا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جیسے آج کی رات کل کی رات سے مشابہ ہوتی ہے اسی طرح اس امت میں بھی یہودیوں کی مشابہت آ گئی۔ میرا تو خیال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم اپنے سے پہلے کے لوگوں کے طریقوں کی تابعداری کرو گے بالکل بالشت بہ بالشت اور ذراع بہ ذراع اور ہاتھ بہ ہاتھ یہاں تک کہ وہ اگر کسی گوہ کے بل میں گھسے ہیں تو یقیناً تم بھی گھسو گے۔“ لوگوں نے پوچھا: ”اس سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون لوگ ہیں؟ کیا اہل کتاب“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور کون“؟ ۱؎ [صحیح بخاری:3456] اس حدیث کو بیان فرما کر ابوہریرہ نے فرمایا اگر چاہو تو قرآن کے ان لفظوں کو پڑھ لو «كَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ» [9-التوبہ:69] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ” «خَلَاقِ» سے مراد دین ہے۔ اور تم نے بھی اسی طرح کا خوض کیا جس طرح کا انہوں نے کیا۔“ لوگوں نے پوچھا: ”کیا فارسیوں اور رومیوں کی طرح“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور لوگ ہیں ہی ہیں کون“؟ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3994،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] اس حدیث کے شواہد صحیح احادیث میں بھی ہیں۔
69۔ 1 یعنی تمہارا حال بھی اعمال اور انجام کے اعتبار سے امم ماضیہ کے کافروں جیسا ہی ہے۔ اب غائب کی بجائے، منافقین سے خطاب کیا جا رہا ہے۔ 69۔ 2 خلاق کا دوسرا ترجمہ دنیاوی حصہ بھی کیا گیا ہے۔ یعنی تمہاری تقدیر میں دنیا کا جتنا حصہ لکھ دیا گیا ہے، وہ برت لو، جس طرح تم سے پہلے لوگوں نے اپنا حصہ برتا اور پھر موت یا عذاب سے ہم کنار ہوگئے۔ 69۔ 3 یعنی آیات الٰہی اور اللہ کے پیغمبروں کی تکذیب کے لئے۔ یا دوسرا مفہوم ہے دنیا کے اسباب اور لہو و لعب میں جس طرح وہ مگن رہے، تمہارا بھی یہی حال ہے۔ آیت میں پہلے لوگوں سے مراد اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ ہیں۔ جیسے ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کی ضرور متابعت کروگے۔ بالشت بہ بالشت، ذراع بہ ذراع اور ہاتھ بہ ہاتھ۔ یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں گھسے ہوں تو تم بھی ضرور گھسو گے۔ لوگوں نے پوچھا، کیا اس سے آپ کی مراد اہل کتاب ہیں؟ آپ نے فرمایا، اور کون؟ (صحیح بخاری)۔ البتہ ہاتھ بہ ہاتھ (باعا بباع) کے الفاظ ان میں نہیں ہیں یہ تفسیر طبری میں منقول ایک اثر میں ہے۔ (4) اولٰئک سے مراد وہ لوگ ہیں جو مذکورہ صفات و عادات کے حامل ہیں مشبہین بھی اور مشبہ بہم بھی یعنی جس طرح وہ خاسر ونامراد رہے تم بھی اسی طرح رہو گے حالانکہ وہ قوت میں تم سے زیادہ سخت اور مال واولاد میں بھی بہت زیادہ تھے اس کے باوجود وہ عذاب الہی سے نہ بچ سکے تو تم جو ان سے ہر لحاظ سے کم ہو کس طرح اللہ کی گرفت سے بچ سکتے ہو۔
(آیت69) {كَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ …:} اس سے پہلے منافقین کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ ہو رہا تھا، اب مزید تنبیہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں براہِ راست مخاطب فرمایا، یعنی تم بھی ان لوگوں کی طرح ہو اور تمھارے کرتوت بھی ان لوگوں جیسے ہیں جنھوں نے تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ کفر کیا۔ اس فرق کے ساتھ کہ وہ قوت میں تم سے زیادہ سخت اور اموال و اولاد میں بہت زیادہ تھے۔ تمھاری ایک دوسرے سے مشابہت دو طرح سے ہے، دنیا میں انھوں نے اپنے لکھے ہوئے حصے سے فائدہ اٹھایا، تم نے بھی اپنے سے پہلے لوگوں کی طرح اپنے نصیب سے فائدہ اٹھایا اور انھوں نے اپنے انبیاء کا مذاق اڑایا اور ان کے متعلق فضول باتیں کیں، تم نے بھی یہی کام کیا۔ اب آخرت میں بھی اعمال ضائع ہونے اور خائب و خاسر ہونے میں تم دونوں ایک جیسے ہو۔
کیا اِن لوگوں کو اپنے پیش روؤں کی تاریخ نہیں پہنچی؟ نوحؑ کی قوم، عاد، ثمود، ابراہیمؑ کی قوم، مدین کے لوگ اور وہ بستیاں جنہیں الٹ دیا گیا اُن کے رسول ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے، پھر یہ اللہ کا کام نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا مگر وہ آپ ہی اپنے اوپر ظلم کرنے والے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا انہیں اپنے سے پہلے لوگوں کی خبریں نہیں پہنچیں، قوم نوح اور عاد اور ﺛمود اور قوم ابراہیم اور اہل مدین اور اہل مؤتفکات (الٹی ہوئی بستیوں کے رہنے والے) کی، ان کے پاس ان کے پیغمبر دلیلیں لے کر پہنچے، اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ﻇلم کرے بلکہ انہوں نے خود ہی اپنے اوپر ﻇلم کیا
احمد رضا خان بریلوی
کیا انہیں اپنے سے اگلوں کی خبر نہ آئی نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور ابراہیم کی قوم اور مدین والے اور وہ بستیاں کہ الٹ دی گئیں ان کے رسول روشن دلیلیں ان کے پاس لائے تھے تو اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرتا بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظالم تھے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا انہیں ان لوگوں کی خبر نہیں ملی جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں (جیسے) نوح کی قوم، اور عاد و ثمود اور ابراہیم کی قوم! اور مدین والے اور وہ جن کی بستیاں الٹ دی گئی تھیں (قومِ لوط) ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلی ہوئی نشانیاں (معجزات) لے کر آئے تھے۔ (مگر وہ اپنی گمراہی سے باز نہ آئے)۔ اللہ تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا ان کے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں آئی جو ان سے پہلے تھے؟ نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور ابراہیم کی قوم اور مدین والے اور الٹی ہوئی بستیوں والے، ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلیں لے کر آئے تو اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا اور لیکن وہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بدکاروں کے ماضی سے عبرت حاصل کرو ٭٭
ان بدکردار منافقوں کو وعظ سنایا جا رہا ہے کہ اپنے سے پہلے کے اپنے جیسوں کے حالات پر عبرت کی نظر ڈالو، دیکھو کہ نبیوں کی تکذیب کیا پھل لائی؟ قوم نوح علیہ السلام کا غرق ہونا سوائے مسلمانوں کے کسی کا نہ بچنا یاد کرو، عادیوں کا ہود علیہ السلام کے نہ ماننے کی وجہ سے ہوا کے جھونکوں سے تباہ ہونا یاد کرو، ثمودیوں کا سیدنا صالح علیہ السلام کے جھٹلانے اور اللہ کی نشانی اونٹنی کے کاٹ ڈالنے سے ایک جگر دوز کڑاکے کی آواز سے تباہ و بربار ہونا یاد کرو، سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا دشمنوں کے ہاتھوں سے بچ جانا اور ان کے دشمنوں کا غارت ہونا، نمرود بن کنعان بن کوش جیسے بادشاہ کا مع اپنے لاؤ لشکر کے تباہ ہونا نہ بھولو وہ سب لعنت کے مارے بے نشان کر دیئے گئے، قوم شعیب انہی بدکرداریوں اور کفر کے بدلے زلزلے اور سائبان والے دن کے عذاب سے تہ و بالا کر دی گئی، جو مدین کی رہنے والی تھی، قوم لوط جن کی بستیاں الٹی پڑی ہیں مدین اور سدوم وغیرہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی اپنے نبی لوط علیہ السلام کے نہ ماننے اور اپنی بدفعلی نہ چھوڑنے کے باعث ایک ایک کو پیوند زمین کر دیا، ان کے پاس ہمارے رسول ہماری کتاب اور کھلے معجزے اور صاف دلیلیں لے کر پہنچے لیکن انہوں نے ایک نہ مانی، بالآخر اپنے ظلم سے آپ برباد ہوئے اللہ تعالیٰ نے تو حق واضح کر دیا کتاب اتار دی رسول بھیج دیئے حجت ختم کر دی لیکن یہ رسولوں کے مقابلے پر آمادہ ہوئے کتاب اللہ کی تعمیل سے بھاگے حق کی مخالفت کی پس لعنت الہٰی اتری، اور انہیں خاک سیاہ کر گئی۔
70۔ 1 یہاں ان چھ قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ جن کا مسکن ملک شام رہا ہے۔ یہ بلاد عرب کے قریب ہے اور ان کی کچھ باتیں انہوں نے شاید آباواجداد سے سنی بھی ہوں قوم، نوح، جو طوفان میں غرق کردی گئی۔ قوم عاد جو قوت اور طاقت میں ممتاز ہونے کے باوجود، باد تند سے ہلاک کردی گئی۔ قوم ثمود جسے آسمانی چیخ سے ہلاک کیا گیا قوم ابراہیم، جس کے بادشاہ نمرود بن کنعان بن کوش کو مچھر سے مروا دیا گیا۔ اصحاب مدین (حضرت شعیب ؑ کی قوم) جنہیں چیخ زلزلہ اور بادلوں کے سائے کے عذاب سے ہلاک کردیا گیا اور اہل مؤتفکات سے مراد قوم لوط ہے جن کی بستی کا نام ' سدوم ' تھا اشفاک کے معنی ہیں انقلاب الٹ پلٹ دینا۔ ان پر آسمان سے پتھر برسائے گئے۔ دوسرے ان کی بستی کو اوپر اٹھا کر نیچے پھینکا گیا جس سے پوری بستی اوپر نیچے ہوگئی اس اعتبار سے انہیں اصحاب مؤتفکات کہا جاتا ہے۔ 70۔ 2 ان سب قوموں کے پاس، ان کے پیغمبر، جو ان ہی کی قوم ایک فرد ہوتا تھا آئے۔ لیکن انہوں نے ان کی باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دی، بلکہ تکذیب اور عناد کا راستہ اختیار کیا، جس کا نتیجہ بالآخر عذاب الیم کی شکل میں نکلا۔ (3) یعنی یہ عذاب ان کے ظلم پر استمرار اور دوام کا نتیجہ ہے یوں ہی بلا وجہ عذاب الٰہی کا شکار نہیں ہوئے۔
(آیت70){ اَلَمْ يَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ …: ” وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ “ ”اِئْتَفَكَ يَأْتَفِكُ“} باب افتعال سے اسم فاعل ہے، الٹنے والیاں، یعنی لوط علیہ السلام کی قوم کی بستیاں جن کا مرکز سدوم تھا، جنھیں ان کے اعمال بد کی وجہ سے زمین سے اٹھا کر الٹا گرا دیا گیا اور کھنگروں کی بارش برسائی گئی۔ ان چھ قوموں کا خصوصاً ذکر اس لیے فرمایا کہ یہ عرب کے آس پاس عراق، شام اور یمن میں آباد تھیں۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور اس کے انبیاء کو جھٹلایا، اس لیے انھوں نے خود اپنے اوپر عذاب کو دعوت دی۔ سورۂ اعراف میں ان کے واقعات گزر چکے ہیں اور آگے سورۂ ہود میں مزید تفصیل آ رہی ہے۔
مومن مرد اور مومن عورتیں، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت نازل ہو کر رہے گی، یقیناً اللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
مومن مرد وعورت آپس میں ایک دوسرے کے (مددگار ومعاون اور) دوست ہیں، وه بھلائیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں، نمازوں کو پابندی سے بجا ﻻتے ہیں زکوٰة ادا کرتے ہیں، اللہ کی اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ بہت جلد رحم فرمائے گا بیشک اللہ غلبے واﻻ حکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰة دیں اور اللہ و رسول کا حکم مانیں، یہ ہیں جن پر عنقریب اللہ رحم کرے گا، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں یہ سب باہم دگریکرنگ و ہم آہنگ ہیں وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔ اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ ضرور رحم فرمائے گا۔ یقینا اللہ زبردست ہے، بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور مومن مرد اور مومن عورتیں، ان کے بعض بعض کے دوست ہیں، وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ ضرور رحم کرے گا، بے شک اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسلمان ایک دوسرے کے دست و بازو ہیں ٭٭
منافقوں کی بدخصلتیں بیان فرما کر مسلمانوں کی نیک صفتیں بیان فرما رہا ہے کہ یہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، ایک دوسرے کا دست و بازو بنے رہتے ہیں، صحیح حدیث میں ہے کہ مومن مومن کے لیے مثل دیوار کے ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تقویت پہنچاتا اور مضبوط کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرماتے ہوئے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسری میں ڈال کردکھا بھی دیا، ۱؎ [صحیح بخاری:481] اور صحیح حدیث میں ہے کہ مومن اپنی دوستیوں اور سلوکوں میں مثل ایک جسم کے ہیں کہ ایک حصے کو بھی اگر تکلیف ہو تو تمام جسم بیماری اور بے داری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6011] یہ پاک نفس لوگوں اوروں کی تربیت سے بھی غافل نہیں رہتے، سب کو بھلائیاں سکھاتے ہیں اچھی باتیں بتلاتے ہیں برے کاموں سے بری باتوں سے امکان بھر روکتے ہیں۔ حکم الٰہی بھی یہی ہے، فرماتا ہے تم میں ایک جماعت ضرور ایسی ہونی چاہیئے جو بھلائیوں کا حکم کرے برائیوں سے منع کرے، یہ نمازی ہوتے ہیں، ساتھ ہی زکوٰۃ بھی دیتے ہیں تاکہ ایک طرف اللہ کی عبادت ہو دوسری جانب مخلوق کی دلجوئی ہو، اللہ تعالیٰ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہی ان کا دلچسپ مشغلہ ہے جو حکم ملا بجا لائے جس سے روکا رک گئے، یہی لوگ ہیں جو رحم الٰہی کے مستحق ہیں، یہی صفتیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کی طرف لپکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ عزیز ہے وہ اپنے فرماں برداروں کی خود بھی عزت کرتا ہے اور انہیں ذی عزت بنا دیتا ہے۔ دراصل عزت اللہ ہی کے لیے ہے اور اس نے اپنے رسولوں اور اپنے ایمانداروں اور غلاموں کو بھی عزت دے رکھی ہے۔ اس کی حکمت ہے کہ ان میں یہ صفتیں رکھیں اور منافقوں میں وہ خصلتیں رکھیں۔ اس کی حکمت کی تہہ کو کون پہنچ سکتا ہے؟ جو چاہے کرے، وہ برکتوں اور بلندیوں والا ہے۔
71۔ منافقین کی صفات مذمومہ کے مقابلے مومنین کی صفات محمودہ کا ذکر ہو رہا ہے پہلی صفت وہ ایک دوسرے کے دوست، معاون و غم خوار ہیں جس طرح حدیث میں ہے (المؤمن للمؤمن کالبنیان، یشد بعضہ بعضا) (صحیح بخاری) مومن مومن کے لیے ایک دیوار کی طرح ہے جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کی مضبوطی کا ذریعہ ہے دوسری حدیث میں فرمایا: (مثل المؤمنین فی تو ادھم وتراحمھم کمثل الجسد الواحد اذا اشتکی منہ عضو تداعی لہ سائر الجسد بالحمی والسھر) (صحیح مسلم) مومنوں کی مثال، آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے اور رحم کرنے میں ایک جسم کی طرح ہے جب جسم کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم تپ کا شکار ہوجاتا ہے اور بیدار رہتا ہے۔ 71۔ 2 یہ ایل ایمان کی دوسری خاص صفت ہے معروف وہ ہے جسے شریعت نے معروف (یعنی نیکی اور بھلائی) اور منکر وہ ہے جسے شریعت نے منکر (یعنی برا) قرار دیا ہے۔ نہ کہ وہ جسے لوگ اچھا یا برا کہیں۔ 71۔ 3 نماز، حقوق اللہ میں نمایاں ترین عبادت ہے اور زکٰو ۃ۔ حقوق العباد کے لحاظ سے، امتیازی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لئے ان دونوں کا بطور خاص تذکرہ کر کے فرما دیا گیا کہ وہ ہر معاملے میں اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔
(آیت71) {وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ …:} منافق مردوں اور منافق عورتوں کی بد عادات ذکر کرنے کے بعد اب اہل ایمان مردوں اور اہل ایمان عورتوں کے خصال حمیدہ کاذکر ہے کہ وہ سب ایک دوسرے کے اولیاء، یعنی دوست، محبت رکھنے والے اور مدد کرنے والے ہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص صاحب ایمان نہیں ہو سکتا، حتیٰ کہ وہ اپنے (مسلم) بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔“ [ بخاری، الإیمان، باب من الإیمان أن یحب لأخیہ: ۱۳، عن أنس رضی اللہ عنہ ] نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومنوں کی مثال آپس کی محبت، ایک دوسرے پر رحم اور شفقت میں ایک جسم کی ہے، جس کے اگر ایک عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو بقیہ سارے اعضا بخار اور بے چینی کی صورت میں اس کا ساتھ دیتے ہیں۔“ [ مسلم، البر والصلۃ، باب تراحم المؤمنین…: ۲۵۸۶ ] اور فرمایا: ”ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے جس کی بعض اینٹیں بعض کو سہارا دیتی ہیں۔“ [ مسلم، البر والصلۃ، باب تراحم المؤمنین…: ۲۵۸۵ ] اس کے بعد مومنوں کی مزید صفات جو منافقوں کے بالکل برعکس ہیں، بیان فرمائیں اور ان پر رحم کا وعدہ فرمایا، ساتھ ہی اپنے ہر چیز پر غلبے اور کمال حکمت کا ذکر فرمایا کہ وہ ہر چیز پر غالب ہے مگر اس کا غلبہ اندھا غلبہ نہیں بلکہ کمال حکمت کے ساتھ ملا ہوا ہے۔
ان مومن مردوں اور عورتوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ انہیں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ان سدا بہار باغوں میں ان کے لیے پاکیزہ قیام گاہیں ہوں گی، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ کی خوشنودی انہیں حاصل ہوگی یہی بڑی کامیابی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان ایمان دار مردوں اور عورتوں سے اللہ نے ان جنتوں کا وعده فرمایا ہے جن کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں جہاں وه ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں اور ان صاف ستھرے پاکیزه محلات کا جو ان ہمیشگی والی جنتوں میں ہیں، اور اللہ کی رضامندی سب سے بڑی چیز ہے، یہی زبردست کامیابی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو باغوں کا وعدہ دیا ہے جن کے نیچے نہریں رواں ان میں ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ مکانوں کا بسنے کے باغوں میں، اور اللہ کی رضا سب سے بڑی یہی ہے بڑی مراد پانی،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ نے مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں سے ان بہشتوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے نیز ان کے لئے ان ہمیشگی کے بہشتوں (سدا بہار باغوں) میں پاک و پاکیزہ مکانات ہوں گے۔ اور اللہ کی خوشنودی سب سے بڑی ہے۔ یہی ہے بہت بڑی کامیابی۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے ایسے باغوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے، اور پاکیزہ رہنے کی جگہوں کا جو ہمیشگی کے باغوں میں ہوں گی اور اللہ کی طرف سے تھوڑی سی خوشنودی سب سے بڑی ہے، یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومنوں کو نیکی کے انعامات ٭٭
مومنوں کی ان نیکیوں پر جو اجر و ثواب انہیں ملے گا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ابدی نعمتیں، ہمیشگی کی راحتیں، باقی رہنے والی جنتیں، جہاں قدم قدم پر خوشگوار پانی کے چشمے ابل رہے ہیں جہاں بلند و بالاخوبصورت مزین صاف ستھرے آرائش و زیبائش والے محلات اور مکانات ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دو جنتیں تو صرف سونے کی ہیں ان کے برتن اور جو کچھ بھی وہاں ہے سب سونے ہی سونے کا ہے اور دو جنتیں چاندی کی ہیں برتن بھی اور کل چیزیں بھی ان میں اور دیدارالٰہی میں کوئی حجاب بجز اس کبریائی کی چادر کے نہیں جو اللہ جل وعلا کے چہرے پر ہے یہ جنت عدن میں ہوں گے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3878] اور حدیث میں ہے کہ مومن کے لیے جنت میں ایک خیمہ ہو گا ایک ہی موتی کا بنا ہوا اس کا طول ساٹھ میل کا ہو گا۔ مومن کی بیویاں وہیں ہوں گی جن کے پاس یہ آتاجاتا رہے گا لیکن ایک دوسرے کو دکھائی نہ دیں گی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4879] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جو اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، نماز قائم رکھے، رمضان کے روزے رکھے، اللہ پر حق ہے کہ اسے جنت میں لے جائے اس نے ہجرت کی ہو یا اپنے وطن میں ہی رہا ہو۔ لوگوں نے کہا: ”پھر ہم اوروں سے بھی یہ حدیث بیان کر دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ کے مجاہدوں کے لیے بنائے ہیں ہر دو درجوں میں اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان میں، پس جب بھی تم اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو توجنت الفردوس طلب کرو وہ سب سے اونچی اور سب سے بہتر جنت ہے جنتوں کی سب نہریں وہیں سے نکلتی ہیں اس کی چھت رحمن کا عرش ہے، ۱؎ [صحیح بخاری:2790] فرماتے ہیں اہل جنت جنتی بالاخانوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم آسمان کے چمکتے دمکتے ستاروں کو دیکھتے ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6555]
یہ بھی معلوم رہے کہ تمام جنتوں میں خاص ایک اعلیٰ مقام ہے جس کا نام وسیلہ ہے کیونکہ وہ عرش سے بالکل ہی قریب ہے یہ جگہ ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جب تم مجھ پر درود پڑھو تو اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ طلب کیا کرو۔ پوچھا گیا وسیلہ کیا ہے؟ فرمایا: ”جنت کا وہ اعلیٰ درجہ جو ایک ہی شخص کو ملے گا اور مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات سے قوی امید ہے وہ شخص میں ہی ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مؤذن کی اذان کا جواب دو جیسے کلمات وہ کہتا ہے تم بھی کہو پھر مجھ پر درود پڑھو جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر اپنی دس رحمتیں نازل فرماتا ہے پھر میرے لیے وسیلہ طلب کرو اور جنت کی ایک منزل ہے جو تمام مخلوق الہیہ میں سے ایک ہی شخص کو ملے گی مجھے امید ہے کہ وہ مجھے ہی عنایت ہو گی ۱؎ [مسند احمد:7588:صحیح] جو شخص میرے لیے اللہ سے اس وسیلے کی طلب کرے اس کیلئے میری شفاعت بروز قیامت حلال ہو گئی۔ ۱؎ [صحیح مسلم:384] فرماتے ہیں میرے لیے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کرو دنیا میں یہ جو بھی میرے لیے وسیلے کی دعا کرے گا میں قیامت کے دن اس کا گواہ اور سفارشی بنوں گا۔ ۱؎ [طبرانی:1/333:صحیح] صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں جنت کی باتیں سنائیے ان کی بنا کس چیز کی ہے“؟ فرمایا: ”سونے چاندی کی اینٹوں کی، اس کا گارا خالص مشک ہے اس کے کنکر لوءلوء اور یاقوت ہیں، اس کی مٹی زعفران ہے اس میں جو جائے گا وہ نعمتوں میں ہو گا جو کبھی خالی نہ ہوں وہ ہمیشہ کی زندگی پائے گا جس کے بعد موت کا کھٹکا بھی نہیں نہ اس کے کپڑے خراب ہوں نہ اس کی جوانی ڈھلے۔“ ۱؎ [مسند احمد:304/2:صحیح] فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جنکا اندر کا حصہ باہر سے نظر آتا ہے اور باہر کا حصہ اندر سے۔ ایک اعرابی نے پوچھا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ بالاخانے کن کے لیے ہیں“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اچھا کلام کرے، کھانا کھلائے، روزے رکھے، اور راتوں کو لوگوں کے سونے کے وقت تہجد کی نماز ادا کرے۔“ ۱؎ [سنن ترمذي:1984،قال الشيخ الألباني:صحیح]
فرماتے ہیں کوئی ہے جو جنت کا شائق اور اس کے لیے محنت کرنے والا ہو؟ واللہ! جنت کی کوئی چار دیواری محدود کرنے والا نہیں وہ تو ایک چمکتا ہوا بقعہ نور ہے اور مہکتا ہوا گلستان ہے اور بلند و بالا پاکیزہ محلات ہیں اور جاری و ساری لہریں مارنے والی نہریں ہیں اور گدرائے ہوئے اور پکے میوؤں کے گچھے ہیں اور جوش جمال خوبصورت پاک سیرت حوریں ہیں اور بیش قیمت رنگین جوڑے ہیں، مقام ہے ہمیشگی کا، گھر ہے سلامتی کا، میوے ہیں لدھے پھدے، سبزہ ہے پھیلا ہوا، کشادگی اور راحت ہے، امن اور چین ہے، نعمت اور رحمت ہے، عالیشان خوش منظر کوشک اور حویلیاں ہیں۔ یہ سن کر لوگ بول اٹھے کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم سب اس جنت کے مشتاق اور اس کے حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان شاءاللہ کہو۔“ پس لوگوں نے ان شاءاللہ کہا۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4332،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر فرماتا ہے ان تمام نعمتوں سے اعلیٰ اور بالا نعمت اللہ کی رضا مندی ہے۔ فرماتے ہں اللہ تعالیٰ عزوجل جنتیوں کو پکارے گا کہے گا اے اہل جنت! وہ کہیں گے «لبیک ربنا وسعدیک والخیر فی یدیک» ۔ پوچھے گا ”کہو تم خوش ہو گئے“؟ وہ جواب دیں گے کہ ”خوش کیوں نہ ہوتے تو نے تو اے پروردگار! ہمیں وہ دیا جو مخلوق میں سے کسی کو نہ ملا ہو گا۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ”لو میں تمہیں اس سے بہت ہی افضل و اعلیٰ چیز عطا فرماتا ہوں۔“ وہ کہیں گے ”اے اللہ! اس سے بہتر چیز اور کیا ہو سکتی ہے“؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ”سنو! میں نے اپنی رضا مندی تمہیں عطا فرمائی آج کے بعد میں کبھی بھی تم سے ناخوش نہ ہوں گا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6549] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے اللہ عزوجل فرمائے گا کچھ اور چاہیئے تو دوں۔ وہ کہیں گے ”اے اللہ! جو تو نے ہمیں عطا فرما رکھا ہے اس سے بہتر تو کوئی اور چیز ہو ہی نہیں سکتی“، اللہ فرمائے گا ”وہ میری رضا مندی ہے جو سب سے بہتر ہے۔“ ۱؎ [مستدرک حاکم:82/1:صحیح] امام حافظ ضیاء مقدسی نے صفت جنت میں ایک مستقل کتاب لکھی ہے اس میں اس حدیث کو شرط صحیح پر بتلایا ہے۔ واللہ اعلم۔
72۔ 1 جو موتی اور یاقوت تیار کئے گئے ہوں گے۔ عدن کے کئی معنی کئے گئے ہیں۔ ایک معنی ہمیشگی کے ہیں۔ 72۔ 2 حدیث میں بھی آتا ہے کہ جنت کی تمام نعمتوں کے بعد اہل جنت کو سب سے بڑی نعمت رضائے الٰہی کی صورت میں ملے گی (صحیح بخاری)
(آیت72) ➊ {وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ … ” عَدْنٍ “} ہمیشہ رہنے کا مقام، ابوسعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جنت میں) ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ تمھارے لیے یہ (نعمت) ہے کہ تم تندرست رہو گے کبھی بیمار نہیں ہو گے اور تمھارے لیے یہ (نعمت) ہے کہ تم زندہ رہو گے کبھی نہیں مرو گے اور تمھارے لیے یہ (نعمت) ہے کہ تم جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہیں ہو گے اور تمھارے لیے یہ (نعمت) ہے کہ تم خوش حال رہو گے کبھی تنگی میں مبتلا نہیں ہو گے، سو یہ ہے اس کا فرمان: «وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [ الأعراف: ۴۳ ] ”انھیں آواز دی جائے گی کہ یہ ہے وہ جنت جس کے تم وارث بنائے گئے، اس وجہ سے کہ تم عمل کرتے تھے۔“ [ مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب فی دوام نعیم أہل الجنۃ…: ۲۸۳۷ ] ➋ {وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ:} ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جنت والوں سے فرمائے گا: ”اے جنت والو! کیا تم خوش ہو گئے؟“ وہ عرض کریں گے: ”اے ہمارے پروردگار! ہم خوش کیوں نہ ہوں، تو نے ہمیں وہ کچھ عنایت فرمایا جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیا۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”کیا میں تمھیں ان تمام نعمتوں سے بڑھ کر ایک اور نعمت نہ دوں؟“ وہ عرض کریں گے: ”اب اس سے بڑھ کر اور کون سی نعمت ہو سکتی ہے؟“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”میں تمھیں اپنی خوشنودی سے نوازتا ہوں، اب کبھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔“ [بخاری، التوحید، باب کلام الرب مع أہل الجنۃ: ۷۵۱۸۔ مسلم: ۲۸۲۹ ] ➌ {” رِضْوَانٌ “} میں تنوینِ تقلیل اللہ تعالیٰ کی رضا کی عظمت بیان کرنے کے لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تھوڑی سے تھوڑی رضا بھی جنت کی نعمتوں اور جنت عدن کے پاکیزہ مکانوں سے بہت ہی بڑی ہے، یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے۔
اے نبیؐ، کفار اور منافقین دونوں کا پوری قوت سے مقابلہ کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ آخر کار ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بدترین جائے قرار ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد جاری رکھو، اور ان پر سخت ہو جاؤ ان کی اصلی جگہ دوزخ ہے، جو نہایت بدترین جگہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے غیب کی خبریں دینے والے (نبی) جہاد فرماؤ کافروں اور منافقوں پر اور ان پر سختی کرو، اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی،
علامہ محمد حسین نجفی
اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کریں۔ اور ان پر سختی کریں۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت بری جائے بازگشت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کر اور ان پر سختی کر اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ لوٹ کر جانے کی بری جگہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
چار تلواریں؟ ٭٭
کافروں منافقوں سے جہاد کا اور ان پر سختی کا حکم ہوا، مومنوں سے جھک کر ملنے کا حکم ہوا، کافروں کی اصلی جگہ جہنم مقرر فرما دی، پہلے حدیث گذر چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے چار تلواروں کے ساتھ مبعوث فرمایا ایک تلوار تو مشرکوں میں، فرماتا ہے «فَإِذَا انسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ» ۱؎ [9-التوبة:5] حرمت والے مہینوں کے گذرتے ہی مشرکوں کی خوب خبر لو، دوسری تلوار اہل کتاب کے کفار میں، فرماتا ہے، «قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ» ۱؎ [9-التوبة:29] الخ جو اللہ تعالیٰ پر قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حرام کئے ہوئے کو حرام نہیں مانتے، دین حق کو قبول نہیں کرتے، ان اہل کتاب سے جہاد کرو جب تک کہ وہ ذلت کے ساتھ جھک کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دینا منظور نہ کر لیں، تیسری تلوار منافقین میں، ارشاد ہوتا ہے۔ «جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ» ۱؎ [9-التوبة:73] [66-التحريم:9] کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو۔ چوتھی تلوار باغیوں میں، فرمان ہے «فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّـهِ» ۱؎ [49-الحجرات:9] باغیوں سے لڑو جب تک کہ پلٹ کر وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی حکم برداری کی طرف نہ آ جائیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ منافق جب اپنا نفاق ظاہر کرنے لگیں تو ان سے تلوار سے جہاد کرنا چاہیئے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ کا پسندیدہ قول بھی یہی ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہاتھ سے نہ ہو سکے تو ان کے منہ پر ڈانٹ ڈپٹ سے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے کافروں سے تو تلوار کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا ہے اور منافقوں کے ساتھ زبانی جہاد کو فرمایا ہے اور یہ کہ ان پر نرمی نہ کی جائے۔ مجاہد رحمہ اللہ کا بھی تقریباً یہی قول ہے۔ ان پر حد شرعی کا جاری کرنا بھی ان سے جہاد کرنا ہے مقصود یہ ہے کہ کبھی تلوار بھی ان کے خلاف اٹھانی پڑے گی ورنہ جب تک کام چلے زبان کافی ہے جیسا موقعہ ہو کر لے۔ قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے ایسی کوئی بات زبان سے نہیں نکالی، حالانکہ درحقیقت کفر کا بول بول چکے ہیں اور اپنے ظاہری اسلام کے بعد کھلا کفر کر چکے ہیں۔
یہ آیت عبداللہ بن ابی کے بارے میں اتری ہے۔ ایک جہنی اور ایک انصاری میں لڑائی ہو گئی۔ جہنی شخص انصار پر چھا گیا تو اس منافق نے انصار کو اس کی مدد پر ابھارا اور کہنے لگا واللہ! ہماری اور اس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تو وہی مثال ہے کہ ”اپنے کتے کو موٹا تازہ کر کہ وہ تجھے ہی کاٹے۔“ واللہ! اگر ہم اب کی مرتبہ مدینے واپس گئے تو ہم ذی عزت لوگ ان تمام کمینے لوگوں کو وہاں سے نکال کر باہر کریں گے۔ ایک مسلمان نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ گفتگو دہرادی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوا کر اس سے سوال کیا تو یہ قسم کھا کر انکار کر گیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ۱؎ [9-التوبة:29] سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری قوم کے جو لوگ حرہ کی جنگ میں کام آئے ان پر مجھے بڑی ہی رنج و صدمہ ہو رہا تھا۔ اس کی خبر سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے خط لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ! انصار کو اور انصار کے لڑکوں کو بخش دے۔ نیچے کے راوی ابن الفضل کو اس میں شک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس دعا میں ان کے پوتوں کا نام بھی لیا یا نہیں؟ پس سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے موجود لوگوں میں سے کسی سے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کی نسبت سوال کیا تو اس نے کہا یہی وہ زید رضی اللہ عنہ ہیں جن کے کانوں کی سنی ہوئی بات کی سچائی کی شہادت خود رب علیم نے دی۔ واقعہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک منافق نے کہا اگر یہ سچا ہے تو ہم تو گدھوں سے بھی زیادہ احمق ہیں۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا واللہ! نبی کریم صلی اللہ علی وسلم بالکل سچے ہیں اور بیشک تو اپنی حماقت میں گدھے سے بڑھا ہوا ہے۔
پھر آپ نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گوش گذار کی، لیکن وہ منافق پلٹ گیا اور صاف انکار کر گیا اور کہا کہ زید نے جھوٹ بولا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ کی سچائی بیان فرمائی۔ لیکن مشہور بات یہ ہے کہ یہ واقعہ غزوہ بنی المطلق کا ہے ممکن ہے راوی کو اس آیت کے ذکر میں وہم ہو گیا ہو اور دوسری آیت کے بدلے اسے بیان کر دیا ہو۔ یہی حدیث بخاری شریف میں ہے ۱؎ [صحیح بخاری:4906] لیکن اس جملے تک کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ وہ ہیں جن کے کانوں کی سنی ہوئی بات کی سچائی کی شہادت خود رب علیم نے دی، ممکن ہے کہ بعد کا حصہ موسیٰ بن عقبہ راوی کا اپنا قول ہو، اسی کی ایک روایت میں یہ پچھلا حصہ ابن شہاب کے قول سے مروی ہے واللہ اعلم۔ مغازی اموی میں سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے بیان کردہ تبوک کے واقعہ کے بعد ہے کہ جو منافق مؤخر چھوڑ دیئے گئے تھے اور جن کے بارے میں قرآن نازل ہوا ان میں سے بعض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی تھے۔ ان میں جلاس بن سوید بن صامت بھی تھا ان کے گھر میں عمیر بن سعد کی والدہ تھیں جو اپنے ساتھ سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ کو بھی لے گئی تھیں۔ جب ان منافقوں کے بارے میں قرآنی آیتیں نازل ہوئیں تو جلاس کہنے لگا کہ واللہ! اگر یہ شخص اپنے قول میں سچا ہے تو ہم تو گدھوں سے بھی بدتر ہیں سیدنا عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ یہ سن کر فرمانے لگے کہ یوں تو آپ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں اور آپ کی تکلیف مجھ پر میری تکلیف سے بھی زیادہ شاق ہے لیکن آپ نے اسوقت تو ایسی بات منہ سے نکالی ہے کہ اگر میں اسے پہنچاؤں تو رسوائی ہے اور نہ پہنچاؤں تو ہلاکت ہے، رسوائی یقیناً ہلاکت سے ہلکی چیز ہے۔
یہ کہہ کر یہ بزرگ حاضر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے اور ساری بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہہ سنائی۔ جلاس کو جب یہ پتہ چلا تو اس نے سرکار نبوت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر قسمیں کھا کھا کر کہا کہ عمیر جھوٹا ہے میں نے یہ بات ہرگز نہیں کہی۔ اس پر یہ آیت اتری۔ مروی ہے کہ اس کے بعد جلاس نے توبہ کر لی اور درست ہو گئے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17464] یہ توبہ کی بات بہت ممکن ہے کہ امام محمد بن اسحاق کی اپنی کہی ہوئی ہو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کی یہ بات نہیں، واللہ اعلم، اور روایت میں ہے کہ جلاس بن سوید بن صامت اپنے سوتیلے بیٹے سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ کے ساتھ قباء سے آ رہے تھے دونوں گدھوں پر سوار تھے اس وقت جلاس نے یہ کہا تھا اس پر ان کے صاحبزادے نے فرمایا کہ ”اے دشمن رب! میں تیری اس بات کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دوں گا“ فرماتے ہیں کہ مجھے تو ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں میرے بارے میں قرآن نہ نازل ہو یا مجھ پر کوئی عذاب الٰہی نہ آ جائے یا اس گناہ میں میں بھی اپنے باپ کا شریک نہ کر دیا جاؤں، چنانچہ میں سیدھا حاضر ہوا اور تمام بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مع اپنے ڈر کے سنا دی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16982] ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علی وسلم ایک سائے دار درخت تلے بیٹھے ہوئے فرمانے لگے کہ ”ابھی تمہارے پاس ایک شخص آئے گا اور تمہیں شیطان دیکھے گا خبردار! تم اس سے کلام نہ کرنا“، اسی وقت ایک انسان کیری آنکھوں والا آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اور تیرے ساتھی مجھے گالیاں کیوں دیتے ہو“؟ وہ اسی وقت گیا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر آیا سب نے قسمیں کھا کھا کر کہا ہم نے کوئی ایسا لفظ نہیں کہا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے درگذر فرما لیا پھر یہ آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16988]
اس میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے وہ قصد کیا جو پورا نہ ہوا مراد اس سے جلاس کا یہ ارادہ ہے کہ اپنے سوتیلے لڑکے کو جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بات کہ دی تھی قتل کر دے۔ ایک قول ہے کہ عبداللہ بن ابی نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔ یہ قول بھی ہے کہ بعض لوگوں نے ارادہ کر لیا تھا کہ اسے سردار بنا دیں گو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راضی نہ ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ دس سے اوپر اوپر آدمیوں نے غزوہ تبوک میں راستے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکہ دے کر قتل کرنا چاہا تھا، چنانچہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے آگے پیچھے تھے ایک چلتا تھا دوسرا نکیل تھامتا تھا۔ ہم عقبہ میں تھے کہ بارہ شخص منہ پر نقاب ڈالے آئے اور اونٹنی کو گھیر لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں للکارا اور وہ دم دبا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”کیا تم نے انہیں پہچانا“؟ ہم نے کہا: ”نہیں لیکن ان کی سواریاں ہماری نگاہوں میں ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ منافق تھے اور قیامت تک ان کے دل میں نفاق رہے گا۔ جانتے ہو کہ کس ارادے سے آئے تھے“؟ ہم نے کہا: ”نہیں۔“ فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے رسول کو عقبہ میں پریشان کرنے اور تکلیف پہنچانے کے لیے۔“ ہم نے کہا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کی قوم کے لوگوں سے کہلوا دیجئیے کہ ہر قوم والے اپنی قوم کے جس آدمی کی شرکت اس میں پائیں اس کی گردن اڑا دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں ورنہ لوگوں میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں گی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہلے تو انہی لوگوں کو لے کر اپنے دشمنوں سے لڑے ان پر فتح حاصل کر کے اپنے ان ساتھیوں کو بھی قتل کر ڈالا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بد دعا کی کہ اے اللہ! ان کے دلوں پر آتشیں پھوڑے پیدا کر دے۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:260/5:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ غزوہ تبوک سے واپسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کرا دیا کہ میں عقبہ کے راستے میں جاؤں گا۔ اس کی راہ کوئی نہ آئے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھے اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ پیچھے سے چلا رہے تھے کہ ایک جماعت اپنی اونٹنیوں پر سوار آ گئی۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے ان کی سواریوں کو مارنا شروع کیا اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کو نیچے کی طرف چلانی شروع کر دی۔ جب نیچے میدان آ گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اتر آئے اتنے میں عمار رضی اللہ عنہ بھی واپس پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ”یہ لوگ کون تھے پہچانا بھی“؟ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: ”منہ تو چھپے ہوئے تھے لیکن سواریاں معلوم ہیں۔“ پوچھا: ”انکا ارادہ کیا تھا جانتے ہو“؟ جواب دیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے چاہا تھا کہ شور کر کے ہماری اونٹنی کو بھڑکا دیں اور ہمیں گرا دیں۔“ ایک سے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے ان کی تعداد دریافت کی تو اس نے کہا چودہ۔ آپ نے فرمایا: ”اگر تو بھی ان میں تھا تو پندرہ۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے تین شخصوں کے نام گنوائے۔ انہوں نے کہا واللہ! ہم نے تو منادی کی ندا سنی اور نہ ہمیں اپنے ساتھیوں کے کسی بد ارادے کا علم تھا۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”باقی کے بارہ لوگ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی کرنے والے ہیں دنیا میں اور آخرت میں بھی۔ ۱؎ [مسند احمد:390،391/5:صحیح]
امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ نے ان میں سے بہت سے لوگوں کے نام بھی گنوائے ہیں، واللہ اعلم۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عقبہ والوں میں سے ایک شخص اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے درمیان (اس طرح کا) جھگڑا ہو گیا جس طرح لوگوں کے درمیان ہو جاتا ہے۔ (گفتگو کے دوران میں) انہوں نے (اس شخص سے) کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ عقبہ والوں کی تعداد کتنی تھی؟ لوگوں نے بھی اس سے کہا کہ ہاں بتلاؤ۔ اس نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ وہ چودہ تھے اگر مجھے بھی شامل کیا جائے تو پندرہ ہوئے۔ ان میں سے بارہ تو دشمن الہٰی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے اور تین شخصوں کی اس قسم پر کہ نہ ہم نے منادی کی، نہ ندا سنی، نہ ہمیں جانے والوں کے ارادے کا علم تھا اس لیے معذور رکھا گیا۔ گرمی کا موسم تھا پانی بہت کم تھا آپ نے فرما دیا تھا کہ مجھ سے پہلے وہاں کوئی نہ پہنچے لیکن اس پر بھی کچھ لوگ پہنچ گئے تھے آپ نے ان پر لعنت کی۔ ۱؎ [صحیح مسلم، ترقیم فواد عبدالباقی: 2779] آپ کا فرمان ہے کہ میرے ساتھیوں میں بارہ منافق ہیں جو نہ جنت میں جائیں گے نہ اس کی خوشبو پائیں گے آٹھ کے مونڈھوں پر تو آتشی پھوڑا ہو گا جو سینے تک پہنچے گا اور انہیں ہلاک کر دے گا۔ ۱؎ [مسند احمد:319،262/4:صحیح] اسی باعث سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علی وسلم کا راز دار کہا جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف انہی کو ان منافقوں کے نام بتلائے تھے۔ واللہ اعلم۔ طبرانی میں ان کے نام یہ ہیں معتب بن قشیر، ودیعہ بن ثابت، جد بن عبداللہ بن نبتل بن حارث جو عمرو بن عوف کے قبیلے کا تھا اور حارث بن یزید طائی اور اوس بن قیظی اور حارث بن سوید اور سعد بن زرارہ اور قیس بن فہر اور سوید اور داعس قبیلہ بنو حبلیٰ کے اور قیس بن عمرو بن سہل اور زید بن لصیت اور سلالہ بن حمام یہ دونوں قبیلہ بنو قینقاع کے ہیں یہ سب بظاہر مسلمان بنے ہوئے تھے۔
اس آیت میں اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے اسی بات کا بدلہ لیا ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں مالدار بنایا، اگر ان پر اللہ تعالیٰ کا پورا فضل ہو جاتا تو انہیں ہدایت نصیب ہو جاتی جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا: ”کیا میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں نہیں پایا تھا؟ کہ پھر اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہاری رہبری کی، تم متفرق تھے اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تم میں الفت ڈال دی تم فقیر بے نوا تھے اللہ تعالیٰ نے میرے سبب سے تمہیں غنی اور مالدار کر دیا۔“ ہر ہر سوال کے جواب میں انصار رضی اللہ عنہم فرماتے جاتے تھے کہ بیشک اللہ تعالیٰ کا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے زیادہ احسان ہے ۱؎ [صحیح بخاری:4330] ۔ الغرض بیان یہ ہے کہ بے وجہ، بے قصور یہ لوگ دشمنی اور بےایمانی پر اتر آئے، جیسے سورۃ البروج میں ہے کہ ان مسلمانوں میں سے ایک کافروں کا انتقام صرف ان کے ایمان کے باعث تھا۔ حدیث میں ہے کہ ابن جمیل صرف اس بات کا انتقام لیتا ہے کہ وہ فقیر تھا اللہ تعالیٰ نے اسے غنی کر دیا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1768] پھر فرماتا ہے کہ اگر یہ اب بھی توبہ کر لیں تو ان کے حق میں بہتر ہے اور اگر وہ اپنے اسی طریقہ پر کاربند رہے تو انہیں دنیا میں بھی سخت سزا ہو گی قتل سے بھی صدمہ و غم سے بھی اور دوزخ کے ذلیل و پست کرنے والے ناقابلِ برداشت عذابوں سے بھی، دنیا میں کوئی نہ ہو گا جو ان کی طرف داری کرے ان کی مدد کرے ان کے کام آئے ان سے برائی ہٹائے یا نفع پہنچائے یہ بے یارو مددگار رہ جائیں گے۔
73۔ 1 اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار اور منافقین سے جہاد اور ان پر سختی کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس کے مخاطب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے، کافروں کے ساتھ منافقین سے بھی جہاد کرنے کا حکم ہے، اس کی بابت اختلاف ہے۔ ایک رائے تو یہی ہے کہ اگر منافقین کا نفاق اور ان کی سازشیں بےنقاب ہوجائیں تو ان سے بھی اس طرح جہاد کیا جائے، جس طرح کافروں سے کیا جاتا ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ منافقین سے جہاد یہ ہے کہ انہیں زبان سے وعظ و نصیحت کی جائے۔ یا وہ اخلاقی جرائم کا ارتکاب کریں تو ان پر حدود نافذ کی جائیں تیسری رائے یہ ہے کہ جہاد کا حکم کفار سے متعلق ہے اور سختی کرنے کا منافقین سے امام ابن کثیر فرماتے ہیں ان آراء میں آپس میں کوئی تضاد اور منافات نہیں اس لیے کہ حالات و ظروف کے مطابق ان میں سے کسی بھی رائے پر عمل کرنا جائز ہے 73۔ 2 سختی اور قوت سے دشمنوں کے خلاف اقدام ہے۔ محض زبان کی سختی مراد نہیں ہے۔ اس لئے کہ وہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ کے ہی خلاف ہے، اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اختیار کرسکتے تھے نہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا حکم آپ کو مل سکتا تھا۔ 73۔ 3 جہاد اور سختی کے حکم کا تعلق دنیا سے ہے۔ آخرت میں ان کے لئے جہنم ہے جو بدترین جگہ ہے۔
(آیت73) {يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِيْنَ …:} مدینہ آنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طویل مدت تک منافقین سے نرمی برتتے رہے اور ان کی سازشوں اور کمینگیوں سے درگزر فرماتے رہے، مگر اس حسن سلوک سے اصلاح کے بجائے ان کی سرکشی بڑھتی ہی گئی، اس لیے جب یہ سورت اتری جو قرآن کی سب سے آخر میں اترنے والی سورتوں میں سے ہے تو حکم ہوا کہ اب نرمی اور درگزر کے بجائے سختی اور بندوبست کا وقت آگیا ہے، اس لیے اب تک آپ جو نرمی اور چشم پوشی کا معاملہ کرتے رہے اسے ختم کیجیے اور ان کے ہر قصور پر سختی سے گرفت کیجیے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ منافقین صریح کفر کا اظہار کریں اور اس پر قائم رہیں تو کفار کی طرح ان سے بھی جہاد بالسیف کیا جائے۔ ابن جریر طبری رحمہ اللہ نے اسی کو ترجیح دی ہے۔البتہ اگر وہ کفر کے اظہار کے بعد اس سے مکر جائیں تو ان پر سختی کی جائے اور زبان سے طعن و ملامت کی جائے، تلوار سے قتال نہ کیا جائے۔ ہاں حدودِ الٰہی ان پر ضرور نافذ کی جائیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین سے قتال بالسیف نہیں کیا بلکہ قتل کی اجازت طلب کرنے پر بھی فرمایا: ”رہنے دو لوگ کہیں گے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کرتا ہے۔“ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ مختلف اقوال نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ”ان اقوال میں اختلاف نہیں، اصل بات یہ ہے کہ مختلف حالات میں حسب موقع سزا دی جا سکتی ہے، یعنی منافقین صریح کفر کے اظہار کی جرأت کریں تو پھر ان سے کفار کی طرح ہی معاملہ ہو گا۔“
یہ لوگ خدا کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے وہ بات نہیں کہی، حالانکہ انہوں نے ضرور وہ کافرانہ بات کہی ہے وہ اسلام لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوئے اور انہوں نے وہ کچھ کرنے کا ارادہ کیا جسے کر نہ سکے یہ ان کا سارا غصہ اسی بات پر ہے نا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے ان کو غنی کر دیا ہے! اب اگر یہ اپنی اس روش سے باز آ جائیں تو انہی کے لیے بہتر ہے اور اگر یہ باز نہ آئے تو اللہ ان کو نہایت درد ناک سزا دے گا، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اور زمین میں کوئی نہیں جو اِن کا حمایتی اور مددگار ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے نہیں کہا، حاﻻنکہ یقیناً کفر کا کلمہ ان کی زبان سے نکل چکا ہے اور یہ اپنے اسلام کے بعد کافر ہوگئے ہیں اور انہوں نے اس کام کا قصد بھی کیا جو پورا نہ کر سکے۔ یہ صرف اسی بات کا انتقام لے رہے ہیں کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور اس کے رسول ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ نے دولت مند کردیا، اگر یہ اب بھی توبہ کر لیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے، اور اگر منھ موڑے رہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں دنیا وآخرت میں دردناک عذاب دے گا اور زمین بھر میں ان کا کوئی حمایتی اور مددگار نہ کھڑا ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے نہ کہا اور بیشک ضرور انہوں نے کفر کی بات کہی اور اسلام میں آکر کافر ہوگئے اور وہ چاہا تھا جو انہیں نہ ملا اور انہیں کیا برا لگا یہی نہ کہ اللہ و رسول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کردیا تو اگر وہ توبہ کریں تو ان کا بھلا ہے، اور اگر منہ پھیریں تو اللہ انہیں سخت عذاب کرے گا دنیا اور آخرت میں، اور زمین میں کوئی نہ ان کا حمایتی ہوگا اور نہ مددگار
علامہ محمد حسین نجفی
وہ تمہارے سامنے اللہ کی قَسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے (وہ بات) نہیں کہی۔ حالانکہ انہوں نے یقینا کفر کا کلمہ کہا ہے۔ اور اسلام لانے کے بعد کفر اختیار کیا ہے اور انہوں نے وہ کام کرنے کا قصد کیا ہے جسے وہ کر نہ سکے ان کی یہ سب خشمناکی اور عیب جوئی صرف اس وجہ سے ہے کہ خدا و رسول نے (مالِ غنیمت دے کر) ان کو تونگر کر دیا ہے۔ سو اگر وہ اب بھی توبہ کر لیں تو یہ ان کے لئے بہتر ہے اور اگر وہ روگردانی کریں تو اللہ انہیں دنیا و آخرت میں دردناک عذاب دے گا۔ اور تمام روئے زمین پر ان کا کوئی حامی اور یار و مددگار نہ ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
وہ اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ انھوں نے بات نہیں کہی، حالانکہ بلاشبہ یقینا انھوں نے کفر کی بات کہی اور اپنے اسلام کے بعد کفر کیا اور اس چیز کا ارادہ کیا جو انھوں نے نہیں پائی اور انھوں نے انتقام نہیں لیا مگر اس کا کہ اللہ اور اس کے رسول نے انھیں اپنے فضل سے غنی کر دیا۔ پس اگر وہ توبہ کر لیں تو ان کے لیے بہتر ہوگا اور اگر منہ پھیر لیں تو اللہ انھیں دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب دے گا اور ان کے لیے زمین میں نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مدد گار۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
چار تلواریں؟ ٭٭
کافروں منافقوں سے جہاد کا اور ان پر سختی کا حکم ہوا، مومنوں سے جھک کر ملنے کا حکم ہوا، کافروں کی اصلی جگہ جہنم مقرر فرما دی، پہلے حدیث گذر چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے چار تلواروں کے ساتھ مبعوث فرمایا ایک تلوار تو مشرکوں میں، فرماتا ہے «فَإِذَا انسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ» ۱؎ [9-التوبة:5] حرمت والے مہینوں کے گذرتے ہی مشرکوں کی خوب خبر لو، دوسری تلوار اہل کتاب کے کفار میں، فرماتا ہے، «قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ» ۱؎ [9-التوبة:29] الخ جو اللہ تعالیٰ پر قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حرام کئے ہوئے کو حرام نہیں مانتے، دین حق کو قبول نہیں کرتے، ان اہل کتاب سے جہاد کرو جب تک کہ وہ ذلت کے ساتھ جھک کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دینا منظور نہ کر لیں، تیسری تلوار منافقین میں، ارشاد ہوتا ہے۔ «جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ» ۱؎ [9-التوبة:73] [66-التحريم:9] کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو۔ چوتھی تلوار باغیوں میں، فرمان ہے «فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّـهِ» ۱؎ [49-الحجرات:9] باغیوں سے لڑو جب تک کہ پلٹ کر وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی حکم برداری کی طرف نہ آ جائیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ منافق جب اپنا نفاق ظاہر کرنے لگیں تو ان سے تلوار سے جہاد کرنا چاہیئے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ کا پسندیدہ قول بھی یہی ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہاتھ سے نہ ہو سکے تو ان کے منہ پر ڈانٹ ڈپٹ سے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے کافروں سے تو تلوار کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا ہے اور منافقوں کے ساتھ زبانی جہاد کو فرمایا ہے اور یہ کہ ان پر نرمی نہ کی جائے۔ مجاہد رحمہ اللہ کا بھی تقریباً یہی قول ہے۔ ان پر حد شرعی کا جاری کرنا بھی ان سے جہاد کرنا ہے مقصود یہ ہے کہ کبھی تلوار بھی ان کے خلاف اٹھانی پڑے گی ورنہ جب تک کام چلے زبان کافی ہے جیسا موقعہ ہو کر لے۔ قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے ایسی کوئی بات زبان سے نہیں نکالی، حالانکہ درحقیقت کفر کا بول بول چکے ہیں اور اپنے ظاہری اسلام کے بعد کھلا کفر کر چکے ہیں۔
یہ آیت عبداللہ بن ابی کے بارے میں اتری ہے۔ ایک جہنی اور ایک انصاری میں لڑائی ہو گئی۔ جہنی شخص انصار پر چھا گیا تو اس منافق نے انصار کو اس کی مدد پر ابھارا اور کہنے لگا واللہ! ہماری اور اس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تو وہی مثال ہے کہ ”اپنے کتے کو موٹا تازہ کر کہ وہ تجھے ہی کاٹے۔“ واللہ! اگر ہم اب کی مرتبہ مدینے واپس گئے تو ہم ذی عزت لوگ ان تمام کمینے لوگوں کو وہاں سے نکال کر باہر کریں گے۔ ایک مسلمان نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ گفتگو دہرادی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوا کر اس سے سوال کیا تو یہ قسم کھا کر انکار کر گیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ۱؎ [9-التوبة:29] سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری قوم کے جو لوگ حرہ کی جنگ میں کام آئے ان پر مجھے بڑی ہی رنج و صدمہ ہو رہا تھا۔ اس کی خبر سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے خط لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ! انصار کو اور انصار کے لڑکوں کو بخش دے۔ نیچے کے راوی ابن الفضل کو اس میں شک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس دعا میں ان کے پوتوں کا نام بھی لیا یا نہیں؟ پس سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے موجود لوگوں میں سے کسی سے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کی نسبت سوال کیا تو اس نے کہا یہی وہ زید رضی اللہ عنہ ہیں جن کے کانوں کی سنی ہوئی بات کی سچائی کی شہادت خود رب علیم نے دی۔ واقعہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک منافق نے کہا اگر یہ سچا ہے تو ہم تو گدھوں سے بھی زیادہ احمق ہیں۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا واللہ! نبی کریم صلی اللہ علی وسلم بالکل سچے ہیں اور بیشک تو اپنی حماقت میں گدھے سے بڑھا ہوا ہے۔
پھر آپ نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گوش گذار کی، لیکن وہ منافق پلٹ گیا اور صاف انکار کر گیا اور کہا کہ زید نے جھوٹ بولا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ کی سچائی بیان فرمائی۔ لیکن مشہور بات یہ ہے کہ یہ واقعہ غزوہ بنی المطلق کا ہے ممکن ہے راوی کو اس آیت کے ذکر میں وہم ہو گیا ہو اور دوسری آیت کے بدلے اسے بیان کر دیا ہو۔ یہی حدیث بخاری شریف میں ہے ۱؎ [صحیح بخاری:4906] لیکن اس جملے تک کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ وہ ہیں جن کے کانوں کی سنی ہوئی بات کی سچائی کی شہادت خود رب علیم نے دی، ممکن ہے کہ بعد کا حصہ موسیٰ بن عقبہ راوی کا اپنا قول ہو، اسی کی ایک روایت میں یہ پچھلا حصہ ابن شہاب کے قول سے مروی ہے واللہ اعلم۔ مغازی اموی میں سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے بیان کردہ تبوک کے واقعہ کے بعد ہے کہ جو منافق مؤخر چھوڑ دیئے گئے تھے اور جن کے بارے میں قرآن نازل ہوا ان میں سے بعض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی تھے۔ ان میں جلاس بن سوید بن صامت بھی تھا ان کے گھر میں عمیر بن سعد کی والدہ تھیں جو اپنے ساتھ سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ کو بھی لے گئی تھیں۔ جب ان منافقوں کے بارے میں قرآنی آیتیں نازل ہوئیں تو جلاس کہنے لگا کہ واللہ! اگر یہ شخص اپنے قول میں سچا ہے تو ہم تو گدھوں سے بھی بدتر ہیں سیدنا عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ یہ سن کر فرمانے لگے کہ یوں تو آپ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں اور آپ کی تکلیف مجھ پر میری تکلیف سے بھی زیادہ شاق ہے لیکن آپ نے اسوقت تو ایسی بات منہ سے نکالی ہے کہ اگر میں اسے پہنچاؤں تو رسوائی ہے اور نہ پہنچاؤں تو ہلاکت ہے، رسوائی یقیناً ہلاکت سے ہلکی چیز ہے۔
یہ کہہ کر یہ بزرگ حاضر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے اور ساری بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہہ سنائی۔ جلاس کو جب یہ پتہ چلا تو اس نے سرکار نبوت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر قسمیں کھا کھا کر کہا کہ عمیر جھوٹا ہے میں نے یہ بات ہرگز نہیں کہی۔ اس پر یہ آیت اتری۔ مروی ہے کہ اس کے بعد جلاس نے توبہ کر لی اور درست ہو گئے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17464] یہ توبہ کی بات بہت ممکن ہے کہ امام محمد بن اسحاق کی اپنی کہی ہوئی ہو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کی یہ بات نہیں، واللہ اعلم، اور روایت میں ہے کہ جلاس بن سوید بن صامت اپنے سوتیلے بیٹے سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ کے ساتھ قباء سے آ رہے تھے دونوں گدھوں پر سوار تھے اس وقت جلاس نے یہ کہا تھا اس پر ان کے صاحبزادے نے فرمایا کہ ”اے دشمن رب! میں تیری اس بات کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دوں گا“ فرماتے ہیں کہ مجھے تو ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں میرے بارے میں قرآن نہ نازل ہو یا مجھ پر کوئی عذاب الٰہی نہ آ جائے یا اس گناہ میں میں بھی اپنے باپ کا شریک نہ کر دیا جاؤں، چنانچہ میں سیدھا حاضر ہوا اور تمام بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مع اپنے ڈر کے سنا دی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16982] ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علی وسلم ایک سائے دار درخت تلے بیٹھے ہوئے فرمانے لگے کہ ”ابھی تمہارے پاس ایک شخص آئے گا اور تمہیں شیطان دیکھے گا خبردار! تم اس سے کلام نہ کرنا“، اسی وقت ایک انسان کیری آنکھوں والا آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اور تیرے ساتھی مجھے گالیاں کیوں دیتے ہو“؟ وہ اسی وقت گیا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر آیا سب نے قسمیں کھا کھا کر کہا ہم نے کوئی ایسا لفظ نہیں کہا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے درگذر فرما لیا پھر یہ آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16988]
اس میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے وہ قصد کیا جو پورا نہ ہوا مراد اس سے جلاس کا یہ ارادہ ہے کہ اپنے سوتیلے لڑکے کو جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بات کہ دی تھی قتل کر دے۔ ایک قول ہے کہ عبداللہ بن ابی نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔ یہ قول بھی ہے کہ بعض لوگوں نے ارادہ کر لیا تھا کہ اسے سردار بنا دیں گو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راضی نہ ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ دس سے اوپر اوپر آدمیوں نے غزوہ تبوک میں راستے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکہ دے کر قتل کرنا چاہا تھا، چنانچہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے آگے پیچھے تھے ایک چلتا تھا دوسرا نکیل تھامتا تھا۔ ہم عقبہ میں تھے کہ بارہ شخص منہ پر نقاب ڈالے آئے اور اونٹنی کو گھیر لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں للکارا اور وہ دم دبا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”کیا تم نے انہیں پہچانا“؟ ہم نے کہا: ”نہیں لیکن ان کی سواریاں ہماری نگاہوں میں ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ منافق تھے اور قیامت تک ان کے دل میں نفاق رہے گا۔ جانتے ہو کہ کس ارادے سے آئے تھے“؟ ہم نے کہا: ”نہیں۔“ فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے رسول کو عقبہ میں پریشان کرنے اور تکلیف پہنچانے کے لیے۔“ ہم نے کہا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کی قوم کے لوگوں سے کہلوا دیجئیے کہ ہر قوم والے اپنی قوم کے جس آدمی کی شرکت اس میں پائیں اس کی گردن اڑا دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں ورنہ لوگوں میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں گی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہلے تو انہی لوگوں کو لے کر اپنے دشمنوں سے لڑے ان پر فتح حاصل کر کے اپنے ان ساتھیوں کو بھی قتل کر ڈالا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بد دعا کی کہ اے اللہ! ان کے دلوں پر آتشیں پھوڑے پیدا کر دے۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:260/5:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ غزوہ تبوک سے واپسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کرا دیا کہ میں عقبہ کے راستے میں جاؤں گا۔ اس کی راہ کوئی نہ آئے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھے اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ پیچھے سے چلا رہے تھے کہ ایک جماعت اپنی اونٹنیوں پر سوار آ گئی۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے ان کی سواریوں کو مارنا شروع کیا اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کو نیچے کی طرف چلانی شروع کر دی۔ جب نیچے میدان آ گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اتر آئے اتنے میں عمار رضی اللہ عنہ بھی واپس پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ”یہ لوگ کون تھے پہچانا بھی“؟ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: ”منہ تو چھپے ہوئے تھے لیکن سواریاں معلوم ہیں۔“ پوچھا: ”انکا ارادہ کیا تھا جانتے ہو“؟ جواب دیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے چاہا تھا کہ شور کر کے ہماری اونٹنی کو بھڑکا دیں اور ہمیں گرا دیں۔“ ایک سے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے ان کی تعداد دریافت کی تو اس نے کہا چودہ۔ آپ نے فرمایا: ”اگر تو بھی ان میں تھا تو پندرہ۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے تین شخصوں کے نام گنوائے۔ انہوں نے کہا واللہ! ہم نے تو منادی کی ندا سنی اور نہ ہمیں اپنے ساتھیوں کے کسی بد ارادے کا علم تھا۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”باقی کے بارہ لوگ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی کرنے والے ہیں دنیا میں اور آخرت میں بھی۔ ۱؎ [مسند احمد:390،391/5:صحیح]
امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ نے ان میں سے بہت سے لوگوں کے نام بھی گنوائے ہیں، واللہ اعلم۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عقبہ والوں میں سے ایک شخص اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے درمیان (اس طرح کا) جھگڑا ہو گیا جس طرح لوگوں کے درمیان ہو جاتا ہے۔ (گفتگو کے دوران میں) انہوں نے (اس شخص سے) کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ عقبہ والوں کی تعداد کتنی تھی؟ لوگوں نے بھی اس سے کہا کہ ہاں بتلاؤ۔ اس نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ وہ چودہ تھے اگر مجھے بھی شامل کیا جائے تو پندرہ ہوئے۔ ان میں سے بارہ تو دشمن الہٰی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے اور تین شخصوں کی اس قسم پر کہ نہ ہم نے منادی کی، نہ ندا سنی، نہ ہمیں جانے والوں کے ارادے کا علم تھا اس لیے معذور رکھا گیا۔ گرمی کا موسم تھا پانی بہت کم تھا آپ نے فرما دیا تھا کہ مجھ سے پہلے وہاں کوئی نہ پہنچے لیکن اس پر بھی کچھ لوگ پہنچ گئے تھے آپ نے ان پر لعنت کی۔ ۱؎ [صحیح مسلم، ترقیم فواد عبدالباقی: 2779] آپ کا فرمان ہے کہ میرے ساتھیوں میں بارہ منافق ہیں جو نہ جنت میں جائیں گے نہ اس کی خوشبو پائیں گے آٹھ کے مونڈھوں پر تو آتشی پھوڑا ہو گا جو سینے تک پہنچے گا اور انہیں ہلاک کر دے گا۔ ۱؎ [مسند احمد:319،262/4:صحیح] اسی باعث سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علی وسلم کا راز دار کہا جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف انہی کو ان منافقوں کے نام بتلائے تھے۔ واللہ اعلم۔ طبرانی میں ان کے نام یہ ہیں معتب بن قشیر، ودیعہ بن ثابت، جد بن عبداللہ بن نبتل بن حارث جو عمرو بن عوف کے قبیلے کا تھا اور حارث بن یزید طائی اور اوس بن قیظی اور حارث بن سوید اور سعد بن زرارہ اور قیس بن فہر اور سوید اور داعس قبیلہ بنو حبلیٰ کے اور قیس بن عمرو بن سہل اور زید بن لصیت اور سلالہ بن حمام یہ دونوں قبیلہ بنو قینقاع کے ہیں یہ سب بظاہر مسلمان بنے ہوئے تھے۔
اس آیت میں اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے اسی بات کا بدلہ لیا ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں مالدار بنایا، اگر ان پر اللہ تعالیٰ کا پورا فضل ہو جاتا تو انہیں ہدایت نصیب ہو جاتی جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا: ”کیا میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں نہیں پایا تھا؟ کہ پھر اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہاری رہبری کی، تم متفرق تھے اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تم میں الفت ڈال دی تم فقیر بے نوا تھے اللہ تعالیٰ نے میرے سبب سے تمہیں غنی اور مالدار کر دیا۔“ ہر ہر سوال کے جواب میں انصار رضی اللہ عنہم فرماتے جاتے تھے کہ بیشک اللہ تعالیٰ کا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے زیادہ احسان ہے ۱؎ [صحیح بخاری:4330] ۔ الغرض بیان یہ ہے کہ بے وجہ، بے قصور یہ لوگ دشمنی اور بےایمانی پر اتر آئے، جیسے سورۃ البروج میں ہے کہ ان مسلمانوں میں سے ایک کافروں کا انتقام صرف ان کے ایمان کے باعث تھا۔ حدیث میں ہے کہ ابن جمیل صرف اس بات کا انتقام لیتا ہے کہ وہ فقیر تھا اللہ تعالیٰ نے اسے غنی کر دیا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1768] پھر فرماتا ہے کہ اگر یہ اب بھی توبہ کر لیں تو ان کے حق میں بہتر ہے اور اگر وہ اپنے اسی طریقہ پر کاربند رہے تو انہیں دنیا میں بھی سخت سزا ہو گی قتل سے بھی صدمہ و غم سے بھی اور دوزخ کے ذلیل و پست کرنے والے ناقابلِ برداشت عذابوں سے بھی، دنیا میں کوئی نہ ہو گا جو ان کی طرف داری کرے ان کی مدد کرے ان کے کام آئے ان سے برائی ہٹائے یا نفع پہنچائے یہ بے یارو مددگار رہ جائیں گے۔
74۔ 1 مفسرین نے اس کی تفسیر میں متعدد واقعات نقل کئے ہیں، جن میں منافقین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ کلمات کہے جسے بعض مسلمانوں نے سن لیا اور انہوں نے آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا، لیکن آپ کے استفسار پر مکر گئے بلکہ حلف تک اٹھا لیا کہ انہوں نے ایسی بات نہیں کی۔ جس پر یہ آیت اتری۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنا کفر ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والا مسلمان نہیں رہ سکتا۔ 74۔ 2 اس کی بابت بھی بعض واقعات نقل کئے گئے ہیں۔ مثلاً تبوک کی واپسی پر منافقین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک سازش کی جس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے کہ دس بارہ منافقین ایک گھاٹی میں آپ کے پیچھے لگ گئے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باقی لشکر سے الگ تقریباً تنہا گزر رہے تھے ان کا منصوبہ یہ تھا کہ آپ پر حملہ کر کے آپ کا کام تمام کردیں گے اس کی اطلاع وحی کے ذریعے سے آپ کو دے دی گئی جس سے آپ نے بچاؤ کرلیا۔ 75۔ 3 مسلمانوں کی ہجرت کے بعد، مدینہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگئی تھی، جس کی وجہ سے وہاں تجارت اور کاروبار کو بھی فروغ ملا، اور اہل مدینہ کی معاشی حالت بہت اچھی ہوگئی تھی۔ منافقین مدینہ کو بھی اس کا خوب فائدہ حاصل ہوا اللہ تعالیٰ اس آیت میں یہی فرما رہا ہے کہ کیا ان کو اس بات کی ناراضگی ہے کہ اللہ نے ان کو اپنے فضل سے غنی بنادیا ہے، بلکہ ان کو تو اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے انہیں تنگ دستی سے نکال کر خوش حال بنادیا۔
(آیت74) ➊ {يَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا:} منافقین اپنی نجی مجلسوں میں کفریہ باتیں کرتے، مگر پردہ چاک اور راز فاش ہونے پر جھوٹی قسمیں کھا کر مکر جاتے، جب گواہیوں سے بات ثابت ہو جاتی تو بہانہ بنا لیتے کہ ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی میں ایسی باتیں کر رہے تھے، آپ نے انھیں سنجیدہ لے لیا ہے اور اپنی قسموں کو بطور ڈھال استعمال کرتے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۶۲) اور توبہ (۴۲، ۵۶، ۱۰۷)۔ ➋ { وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ …:} وہ کفر کی بات کیا تھی جو ان منافقوں نے کہی تھی، قرآن مجید نے یہاں اس کی صراحت نہیں فرمائی، اس لیے کہ یہ کوئی ایک آدھ واقعہ نہیں تھا نہ ہی ایک آدھ شخص کی بات تھی، اکثر منافقین بلکہ سبھی کا یہی وتیرہ تھا اور ان لوگوں نے مختلف موقعوں پر کفر کی باتیں کہی تھیں۔ یہاں مثال کے طور پر صرف ایک واقعہ نقل کیا جاتا ہے جو سورۂ منافقون میں مختصر اور بخاری و مسلم میں کچھ تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک لڑائی میں تھا تو میں نے عبد اللہ بن ابی سے سنا، وہ کہہ رہا تھا: ”ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ کے رسول کے پاس ہیں، یہاں تک کہ وہ لوگ منتشر ہو جائیں جو آپ کے اردگرد ہیں اور یہ کہ ہم اگر مدینہ واپس پہنچ گئے تو جو زیادہ عزت والا ہے وہ ذلیل تر کو نکال دے گا۔“ میں نے یہ بات اپنے چچا یا عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کی، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، میں نے آپ کو یہ بات بیان کر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کی طرف پیغام بھیجا، وہ سب قسمیں کھا گئے کہ انھوں نے یہ بات نہیں کہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جھوٹا قرار دے دیا، مجھے ایسی فکر لاحق ہوئی جو مجھے کبھی لاحق نہ ہوئی تھی تو میں گھر میں بیٹھ گیا۔ میرے چچا نے کہا، تم نے یہ کیا چاہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمھیں جھوٹا قرار دیا اور تم پر ناراض بھی ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے سورۂ منافقون نازل فرما دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف آدمی بھیجا اور یہ سورت پڑھی اور فرمایا: ”زید! اللہ تعالیٰ نے تمھیں سچا قرار دیا ہے۔“ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ: «إذا جاء ک المنافقون…» : ۴۹۰۰، ۴۹۰۱۔ مسلم: ۲۷۷۲ ] ➌ { وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ يَنَالُوْا …:} یعنی منافقین نے جو ارادہ کیا تھا وہ اپنی مراد کو نہیں پہنچ سکے اور یہ ناکامی اور نامرادی کوئی ایک مرتبہ نہیں ہوئی، بلکہ وہ ہمیشہ اپنے ناپاک منصوبوں اور سازشوں میں ناکام ہوئے، جن کی چند مثالیں یہ ہیں: (1) وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنا چاہتے تھے اور اسلام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے تھے۔ (2) مجاہدین کے مالی ذرائع بند کرنا چاہتے تھے۔ (3) یہودیوں کو مدینہ میں آباد دیکھنا چاہتے تھے۔ (4) عبد اللہ بن ابی کو تاجِ سلطانی پہنانا چاہتے تھے۔ (5) مسلمانوں کے خلاف مسجد ضرار کا مورچہ بنانا چاہتے تھے۔ (6) تبوک میں رومیوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا نام و نشان مٹتا ہوا دیکھنے کی خواہش رکھتے تھے، مگر سب منصوبوں میں ناکام اور نامراد ہوئے۔ آخری حد جس تک وہ پہنچے وہ جنگ تبوک سے واپسی پر آپ کے قتل کا منصوبہ تھا۔ راستے میں عقبہ ایک بلند، دشوار گزاراور تنگ جگہ تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کروا دیا کہ آپ اس راستے سے جائیں گے، اس لیے ادھر سے کوئی نہ جائے۔ چند منافقین نے اس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس مقام پر آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ چنانچہ صحیح مسلم کی اس حدیث سے اس واقعہ پر روشنی پڑتی ہے، ابو طفیل بیان فرماتے ہیں کہ ”عقبہ“ والے لوگوں میں سے ایک شخص اور حذیفہ رضی اللہ عنہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص راز دار) کے درمیان کچھ تلخ کلامی ہو گئی، تو وہ کہنے لگا: ”میں تمھیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ وہ ”عقبہ“ والے کتنے آدمی تھے۔“ (حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کچھ گریز کیا) تو لوگوں نے کہا: ”جب وہ پوچھ رہا ہے تو آپ اسے بتا دیں۔“ انھوں نے فرمایا: ”ہمیں بتایا جاتا تھا کہ وہ چودہ تھے، اگر تو بھی ان میں شامل تھا تو یہ لوگ پندرہ ہو گئے اور میں اللہ کی قسم کھا کر گواہی دیتا ہوں کہ ان میں سے بارہ تو دنیا کی زندگی میں اور اس دن جب گواہ پیش ہوں گے، دونوں (جہاں) میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن ہیں۔ باقی رہے تین تو انھوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کہ نہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان کرنے والے کو سنا تھا اور نہ ہمیں معلوم ہو سکا کہ ان لوگوں کا ارادہ کیا ہے۔“ [ مسلم، صفات المنافقین: 2779/11 ] بیہقی کی دلائل النبوۃ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں حذیفہ بن یمان اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے انھیں دیکھ کر للکارا تو وہ بھاگ گئے (کیونکہ ان کا منصوبہ خفیہ نہ رہ سکنے کی وجہ سے ناکام ہو گیا)۔ صاحب {”هداية المستنير“} نے دلائل النبوۃ (۷؍۲۶۰) کا حوالہ دے کر اسے صحیح لغیرہ قرار دیا ہے۔ اس روایت سے صحیح مسلم کی حدیث کی وضاحت ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے بارہ منافق ایسے ہیں جو نہ جنت میں جائیں گے اور نہ اس کی خوشبو پائیں گے، حتیٰ کہ اونٹ سوئی کے ناکے سے گزر جائے، ان میں سے آٹھ کے لیے تو پھوڑا کافی ہو گا جو آگ کا چراغ ہو گا، جو ان کے کندھوں میں نکلے گا، یہاں تک کہ ان کے سینوں سے نمودار ہو گا۔“ [ مسلم، صفات المنافقین، باب صفات المنافقین…: 2779/10 ]
ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر اس نے اپنے فضل سے ہم کو نوازا تو ہم خیرات کریں گے اور صالح بن کر رہیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان میں وه بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر وه ہمیں اپنے فضل سے مال دے گا تو ہم ضرور صدقہ وخیرات کریں گے اور پکی طرح نیکو کاروں میں ہو جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور ان میں کوئی وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر ہمیں اپنے فضل سے دے تو ہم ضرور خیرات کریں گے اور ہم ضرور بھلے آدمی ہوجائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر اس نے ہمیں اپنے فضل سے (کچھ مال و دولت) سے نوازا تو ہم ضرور خیرات کریں گے اور ضرور نیکوکار بندوں میں سے ہو جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان میں سے بعض وہ ہیں جنھوں نے اللہ سے عہد کیا کہ یقینا اگر اس نے ہمیں اپنے فضل سے کچھ عطا فرمایا تو ہم ضرور ہی صدقہ کریں گے اور ضرور ہی نیک لوگوں سے ہو جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دعا قبول ہوئی تو اپنا عہد بھول گیا ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ ان منافقوں میں وہ بھی ہے جس نے عہد کیا کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ مالدار کر دے تو میں بڑی سخاوت کروں اور نیک بن جاؤں۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اسے امیر اور خوشحال بنا دیا اس نے وعدہ شکنی کی اور بخیل بن بیٹھا جس کی سزا میں قدرت نے اس کے دل میں ہمیشہ کے لیے نفاق ڈال دیا۔ [نوٹ] اس واقعہ میں ثعبلہ کا نام صحیح سند سے ثابت نہیں یہ آیت بھی منافقین کے بارے مین اتری ہے [محمد انور زاہد] یہ آیت ثعلبہ بن حاطب انصاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ میرے لیے مالداری کی دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑا جس کا شکر ادا ہو اس بہت سے اچھا ہے جو اپنی طاقت سے زیادہ ہو۔“ اس نے پھر دوبارہ یہی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھایا کہ ”تو اپنا حال اللہ تعالیٰ کے نبی جیسا رکھنا پسند نہیں کرتا؟ واللہ! اگر میں چاہتا تو یہ پہاڑ سونے چاندی کے بن کر میرے ساتھ چلتے۔“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! واللہ! میرا ارادہ ہے کہ اگر اللہ مجھے مالدار کر دے تو میں خوب سخاوت کی داد دوں ہر ایک کو اس کا حق ادا کروں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے مال میں برکت کی دعا کی۔ اس کی بکریوں میں اس طرح زیادتی شروع ہوئی جیسے کیڑے بڑھ رہے ہوں۔ یہاں تک کہ مدینہ منورہ اس کے جانوروں کے لیے تنگ ہو گیا۔ یہ ایک میدان میں نکل گیا ظہر عصر تو جماعت کے ساتھ ادا کرتا باقی نمازیں جماعت سے نہیں ملتی تھیں۔ جانوروں میں اور برکت ہوئی اسے اور دور جانا پڑا۔ اب سوائے جمعہ کے اور سب جماعتیں اس سے چھوٹ گئیں، مال اور بڑھتا گیا، ہفتہ بعد جمعہ کے لیے آنا بھی اس نے چھوڑ دیا۔ آنے جانے والے قافلوں سے پوچھ لیا کرتا تھا کہ جمعہ کے دن کیا بیان ہوا؟ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حال دریافت کیا۔ لوگوں نے سب کچھ بیان کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہار افسوس کیا ادھر آیت اتری کہ ان کے مال سے صدقے لے اور صدقے کے احکام بھی بیان ہوئے۔ آپ نے دو شخصوں کو جن میں ایک قبیلہ جہنیہ کا اور دوسرا قبیلہ سلیم کا تھا انہیں تحصیلدار بنا کر صدقہ لینے کے احکام لکھ کر انہیں پروانہ دے کر بھیجا اور فرمایا کہ ثعلبہ سے اور فلانے بنی سلیم سے صدقہ لے آؤ۔ یہ دونوں ثعلبہ کے پاس پہنچے فرمان پیغمبر دکھایا صدقہ طلب کیا تو وہ کہنے لگا واہ واہ! یہ تو جزیئے کی بہن ہے یہ تو بالکل ایسا ہی ہے جیسے کافروں سے جزیہ لیا جاتا ہے یہ کیا بات ہے؟ اچھا اب تو جاؤ لوٹتے ہوئے آنا۔
دوسرا شخص سلمی جب اسے معلوم ہوا تو اس نے اپنے بہترین جانور نکالے اور انہیں لے کر خود ہی آگے بڑھا۔ انہوں نے ان جانوروں کو دیکھ کر کہا: ”نہ تو یہ ہمارے لینے کے لائق نہ تجھ پر ان کا دینا واجب۔“ اس نے کہا: ”میں تو اپنی خوشی سے ہی بہترین جانور دینا چاہتا ہوں آپ انہیں قبول فرمائیے۔“ بالآخر انہوں نے لے لیے۔ اوروں سے بھی وصول کیا اور لوٹتے ہوئے پھر ثعلبہ کے پاس آئے۔ اس نے کہا: ”ذرا مجھے وہ پرچہ تو پڑھاؤ جو تمہیں دیا گیا ہے۔“ پڑھ کر کہنے لگا ”بھئی یہ تو صاف صاف جزیہ ہے کافروں پر جو ٹیکس مقرر کیا جاتا ہے یہ تو بالکل ویسا ہی ہے اچھا تم جاؤ میں سوچ سمجھ لوں۔“ یہ واپس چلے گئے۔ انہیں دیکھتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثعلبہ پر اظہار افسوس کیا اور سلیمی شخص کے لیے برکت کی دعا کی۔ اب انہوں نے بھی ثعلبہ اور سلمی دونوں کا واقعہ کہہ سنایا۔ پس اللہ تعالیٰ جل وعلانے یہ آیت نازل فرمائی۔ ثعلبہ کے ایک قریبی رشتہ دار نے جب یہ سب کچھ سنا تو ثعلبہ سے جا کر واقعہ بیان کیا اور آیت بھی پڑھ سنائی۔ یہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور درخواست کی کہ اس کا صدقہ قبول کیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ تعالیٰ نے مجھے تیرا صدقہ قبول کرنے سے منع فرما دیا ہے۔“ یہ اپنے سر پر خاک ڈالنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو سب تیرا ہی کیا دھرا ہے۔ میں نے تو تجھے کہا تھا لیکن تو نہ مانا۔“ یہ واپس اپنی جگہ چلا آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال تک اس کی کوئی چیز قبول نہ فرمائی۔ پھر یہ خلافت صدیقی میں آیا اور کہنے لگا: ”میری جو عزت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی وہ اور میرا جو مرتبہ انصار میں ہے وہ آپ خوب جانتے ہیں آپ میرا صدقہ قبول فرمائیے“ آپ نے جواب دیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا تو میں کون؟
غرض آپ نے بھی انکار کر دیا۔ جب آپ کا بھی انتقال ہو گیا اور امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے ولی ہوئے تو یہ پھر آیا اور کہا کہ ”امیر المؤمنین آپ میرا صدقہ قبول فرمائیے۔“ آپ نے جواب دیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا خلیفہ اول نے قبول نہیں فرمایا تو اب میں کیسے قبول کر سکتا ہوں؟ چنانچہ آپ نے بھی اپنی خلافت کے زمانے میں اس کا صدقہ قبول نہیں فرمایا۔ پھر خلافت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سپرد ہوئی تو یہ ازلی منافق پھر آیا اور لگا منت سماجت کرنے لیکن آپ نے بھی یہی جواب دیا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے دونوں خلیفہ نے تیرا صدقہ قبول نہیں فرمایا تو میں کیسے قبول کر لوں؟ چنانچہ قبول نہیں کیا اسی اثنا میں یہ شخص ہلاک ہو گیا۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:7873:ضعیف] الغرض پہلے تو وعدے کئے تھے سخاوت کے اور وہ بھی قسمیں کھا کھا کر، پھر اپنے وعدے سے پھر گیا اور سخاوت کے عوض بخیلی کی اور وعدہ شکنی کر لی، اس جھوٹ اور عہد شکنی کے بدلے اس کے دل میں نفاق پیوست ہو گیا جو اس وقت اس کی پوری زندگی تک اس کے ساتھ ہی رہا۔ حدیث میں بھی ہے کہ منافق کی تین علامتیں ہیں جب بات کرے جھوٹ بولے جب وعدہ کرے خلاف کرے جب امانت سونپی جائے خیانت کرے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:33] کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ چھپے کھلے دل کے ارادوں اور سینے کے بھیدوں کا عالم ہے وہ پہلے سے ہی جانتا ہے۔ یہ خالی زبان بکواس ہے کہ مالدار ہو جائیں تو یوں خیراتیں کریں، یوں شکر گذاری کریں، یوں نیکیاں کریں، لیکن دلوں پر نظریں رکھنے والا رب خوب جانتا ہے کہ یہ مال میں مست ہو جائیں گے اور دولت پا کر خرمستیاں، ناشکری اور بخل کرنے لگیں گے۔ وہ ہر حاضر غائب کا جاننے والا ہے وہ ہر چھپے کھلے کا عالم ہے ظاہر باطن سب اس پر روشن ہے
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 75تا77) ➊ {وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ …: } پہلے یہ لوگ فاقوں مرتے تھے اور ان کے شہر مدینہ جس کا نام ان دنوں یثرب تھا، اس کی بھی کوئی حیثیت نہ تھی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد ان کا شہر پورے عرب کا مرکز بن گیا اور ان کی تجارت کا دائرہ بھی وسیع ہو گیا اور جنگوں کی وجہ سے بہت سا مال غنیمت بھی ان کے ہاتھ آیا، جس سے یہ لوگ مال دار ہو گئے۔ آیت میں اسی طرف اشارہ ہے کہ یہ منافقین اتنے احسان فراموش ہیں کہ اللہ اور رسول جن کی بدولت انھیں یہ خوش حالی نصیب ہوئی، انھی کے خلاف بگڑ کر یہ اپنے دلوں کا فساد ظاہر کر رہے ہیں اور انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد تو یہ کیا تھا کہ اگر اس نے ہمیں اپنا فضل عطا کیا تو ہم صدقہ بھی ضرور کریں گے اور نیک بھی ہو جائیں گے، لیکن اب اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا اور اس نے مال و دولت سے نوازا تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کا عطا کر دہ مال اسلام کی سربلندی کے لیے خرچ کرنے کے بجائے بخل کرکے اللہ اور اس کے رسول سے منہ ہی موڑ لیا، جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے ان کے دلوں میں نفاق رکھ دیا۔ ➋ بعض مفسرین نے ان آیات کا سبب نزول ثعلبہ بن حاطب کو قرار دیا ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مال کے لیے دعا کروائی اور صدقہ کرنے کا وعدہ کیا، جب مال بہت بڑھا تو نماز با جماعت چھوڑنے کے بعد جمعہ بھی چھوڑ دیا اور زکوٰۃ لینے والا اس کے پاس گیا تو کہنے لگا، یہ تو جزیہ ہی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس ثعلبہ پر!“ یہ سن کر وہ زکوٰۃ لے کر آیا، مگر آپ نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ کے بعد ابوبکر، پھر عمر، پھر عثمان رضی اللہ عنہم نے بھی قبول کرنے سے انکار کیا، اسی حالت میں وہ عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں فوت ہو گیا۔ مگر اہل علم نے اس روایت کا شدید رد کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اس کی کوئی صحیح سند نہیں۔ ابن حزم رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ قصہ باطل ہے، کیونکہ ثعلبہ رضی اللہ عنہ بدری صحابی ہیں۔
مگر جب اللہ نے اپنے فضل سے ان کو دولت مند کر دیا تو وہ بخل پر اتر آئے اور اپنے عہد سے ایسے پھرے کہ انہیں اس کی پروا تک نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
لیکن جب اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا تو یہ اس میں بخیلی کرنے لگے اور ٹال مٹول کرکے منھ موڑ لیا
احمد رضا خان بریلوی
تو جب اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا اس میں بخل کرنے لگے اور منہ پھیر کر پلٹ گئے،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر جب اللہ نے انہیں اپنے فضل و کرم سے نوازا تو وہ اس میں بخل کرنے لگے اور روگردانی کرتے ہوئے (اپنے عہد سے) پھر گئے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جب اس نے انھیں اپنے فضل میں سے کچھ عطا فرمایا تو انھوں نے اس میں بخل کیا اور منہ موڑ گئے، اس حال میں کہ وہ بے رخی کرنے والے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دعا قبول ہوئی تو اپنا عہد بھول گیا ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ ان منافقوں میں وہ بھی ہے جس نے عہد کیا کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ مالدار کر دے تو میں بڑی سخاوت کروں اور نیک بن جاؤں۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اسے امیر اور خوشحال بنا دیا اس نے وعدہ شکنی کی اور بخیل بن بیٹھا جس کی سزا میں قدرت نے اس کے دل میں ہمیشہ کے لیے نفاق ڈال دیا۔ [نوٹ] اس واقعہ میں ثعبلہ کا نام صحیح سند سے ثابت نہیں یہ آیت بھی منافقین کے بارے مین اتری ہے [محمد انور زاہد] یہ آیت ثعلبہ بن حاطب انصاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ میرے لیے مالداری کی دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑا جس کا شکر ادا ہو اس بہت سے اچھا ہے جو اپنی طاقت سے زیادہ ہو۔“ اس نے پھر دوبارہ یہی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھایا کہ ”تو اپنا حال اللہ تعالیٰ کے نبی جیسا رکھنا پسند نہیں کرتا؟ واللہ! اگر میں چاہتا تو یہ پہاڑ سونے چاندی کے بن کر میرے ساتھ چلتے۔“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! واللہ! میرا ارادہ ہے کہ اگر اللہ مجھے مالدار کر دے تو میں خوب سخاوت کی داد دوں ہر ایک کو اس کا حق ادا کروں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے مال میں برکت کی دعا کی۔ اس کی بکریوں میں اس طرح زیادتی شروع ہوئی جیسے کیڑے بڑھ رہے ہوں۔ یہاں تک کہ مدینہ منورہ اس کے جانوروں کے لیے تنگ ہو گیا۔ یہ ایک میدان میں نکل گیا ظہر عصر تو جماعت کے ساتھ ادا کرتا باقی نمازیں جماعت سے نہیں ملتی تھیں۔ جانوروں میں اور برکت ہوئی اسے اور دور جانا پڑا۔ اب سوائے جمعہ کے اور سب جماعتیں اس سے چھوٹ گئیں، مال اور بڑھتا گیا، ہفتہ بعد جمعہ کے لیے آنا بھی اس نے چھوڑ دیا۔ آنے جانے والے قافلوں سے پوچھ لیا کرتا تھا کہ جمعہ کے دن کیا بیان ہوا؟ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حال دریافت کیا۔ لوگوں نے سب کچھ بیان کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہار افسوس کیا ادھر آیت اتری کہ ان کے مال سے صدقے لے اور صدقے کے احکام بھی بیان ہوئے۔ آپ نے دو شخصوں کو جن میں ایک قبیلہ جہنیہ کا اور دوسرا قبیلہ سلیم کا تھا انہیں تحصیلدار بنا کر صدقہ لینے کے احکام لکھ کر انہیں پروانہ دے کر بھیجا اور فرمایا کہ ثعلبہ سے اور فلانے بنی سلیم سے صدقہ لے آؤ۔ یہ دونوں ثعلبہ کے پاس پہنچے فرمان پیغمبر دکھایا صدقہ طلب کیا تو وہ کہنے لگا واہ واہ! یہ تو جزیئے کی بہن ہے یہ تو بالکل ایسا ہی ہے جیسے کافروں سے جزیہ لیا جاتا ہے یہ کیا بات ہے؟ اچھا اب تو جاؤ لوٹتے ہوئے آنا۔
دوسرا شخص سلمی جب اسے معلوم ہوا تو اس نے اپنے بہترین جانور نکالے اور انہیں لے کر خود ہی آگے بڑھا۔ انہوں نے ان جانوروں کو دیکھ کر کہا: ”نہ تو یہ ہمارے لینے کے لائق نہ تجھ پر ان کا دینا واجب۔“ اس نے کہا: ”میں تو اپنی خوشی سے ہی بہترین جانور دینا چاہتا ہوں آپ انہیں قبول فرمائیے۔“ بالآخر انہوں نے لے لیے۔ اوروں سے بھی وصول کیا اور لوٹتے ہوئے پھر ثعلبہ کے پاس آئے۔ اس نے کہا: ”ذرا مجھے وہ پرچہ تو پڑھاؤ جو تمہیں دیا گیا ہے۔“ پڑھ کر کہنے لگا ”بھئی یہ تو صاف صاف جزیہ ہے کافروں پر جو ٹیکس مقرر کیا جاتا ہے یہ تو بالکل ویسا ہی ہے اچھا تم جاؤ میں سوچ سمجھ لوں۔“ یہ واپس چلے گئے۔ انہیں دیکھتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثعلبہ پر اظہار افسوس کیا اور سلیمی شخص کے لیے برکت کی دعا کی۔ اب انہوں نے بھی ثعلبہ اور سلمی دونوں کا واقعہ کہہ سنایا۔ پس اللہ تعالیٰ جل وعلانے یہ آیت نازل فرمائی۔ ثعلبہ کے ایک قریبی رشتہ دار نے جب یہ سب کچھ سنا تو ثعلبہ سے جا کر واقعہ بیان کیا اور آیت بھی پڑھ سنائی۔ یہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور درخواست کی کہ اس کا صدقہ قبول کیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ تعالیٰ نے مجھے تیرا صدقہ قبول کرنے سے منع فرما دیا ہے۔“ یہ اپنے سر پر خاک ڈالنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو سب تیرا ہی کیا دھرا ہے۔ میں نے تو تجھے کہا تھا لیکن تو نہ مانا۔“ یہ واپس اپنی جگہ چلا آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال تک اس کی کوئی چیز قبول نہ فرمائی۔ پھر یہ خلافت صدیقی میں آیا اور کہنے لگا: ”میری جو عزت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی وہ اور میرا جو مرتبہ انصار میں ہے وہ آپ خوب جانتے ہیں آپ میرا صدقہ قبول فرمائیے“ آپ نے جواب دیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا تو میں کون؟
غرض آپ نے بھی انکار کر دیا۔ جب آپ کا بھی انتقال ہو گیا اور امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے ولی ہوئے تو یہ پھر آیا اور کہا کہ ”امیر المؤمنین آپ میرا صدقہ قبول فرمائیے۔“ آپ نے جواب دیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا خلیفہ اول نے قبول نہیں فرمایا تو اب میں کیسے قبول کر سکتا ہوں؟ چنانچہ آپ نے بھی اپنی خلافت کے زمانے میں اس کا صدقہ قبول نہیں فرمایا۔ پھر خلافت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سپرد ہوئی تو یہ ازلی منافق پھر آیا اور لگا منت سماجت کرنے لیکن آپ نے بھی یہی جواب دیا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے دونوں خلیفہ نے تیرا صدقہ قبول نہیں فرمایا تو میں کیسے قبول کر لوں؟ چنانچہ قبول نہیں کیا اسی اثنا میں یہ شخص ہلاک ہو گیا۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:7873:ضعیف] الغرض پہلے تو وعدے کئے تھے سخاوت کے اور وہ بھی قسمیں کھا کھا کر، پھر اپنے وعدے سے پھر گیا اور سخاوت کے عوض بخیلی کی اور وعدہ شکنی کر لی، اس جھوٹ اور عہد شکنی کے بدلے اس کے دل میں نفاق پیوست ہو گیا جو اس وقت اس کی پوری زندگی تک اس کے ساتھ ہی رہا۔ حدیث میں بھی ہے کہ منافق کی تین علامتیں ہیں جب بات کرے جھوٹ بولے جب وعدہ کرے خلاف کرے جب امانت سونپی جائے خیانت کرے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:33] کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ چھپے کھلے دل کے ارادوں اور سینے کے بھیدوں کا عالم ہے وہ پہلے سے ہی جانتا ہے۔ یہ خالی زبان بکواس ہے کہ مالدار ہو جائیں تو یوں خیراتیں کریں، یوں شکر گذاری کریں، یوں نیکیاں کریں، لیکن دلوں پر نظریں رکھنے والا رب خوب جانتا ہے کہ یہ مال میں مست ہو جائیں گے اور دولت پا کر خرمستیاں، ناشکری اور بخل کرنے لگیں گے۔ وہ ہر حاضر غائب کا جاننے والا ہے وہ ہر چھپے کھلے کا عالم ہے ظاہر باطن سب اس پر روشن ہے
اس آیت کو بعض مفسرین نے ایک صحابی حضر ثعلبہ بن حاطب انصاری کے بارے میں قرار دیا ہے لیکن سندا یہ صحیح نہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ اس میں بھی منافقین کا ایک اور کردار بیان کیا گیا ہے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی اِس بد عہدی کی وجہ سے جو انہوں نے اللہ کے ساتھ کی، اور اس جھوٹ کی وجہ سے جو وہ بولتے رہے، اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق بٹھا دیا جو اس کے حضور ان کی پیشی کے دن تک ان کا پیچھا نہ چھوڑے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
پس اس کی سزا میں اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اللہ سے ملنے کے دنوں تک، کیونکہ انہوں نے اللہ سے کئے ہوئے وعدے کا خلاف کیا اور کیوں کہ جھوٹ بولتے رہے
احمد رضا خان بریلوی
تو اس کے پیچھے اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق رکھ دیا اس دن تک کہ اس سے ملیں گے بدلہ اس کا کہ انہوں نے اللہ سے وعدہ جھوٹا کیا اور بدلہ اس کا کہ جھوٹ بولتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
پس (اس روش کا نتیجہ یہ نکلا کہ) خدا نے ان کی وعدہ خلافی کرنے اور جھوٹ بولنے کی وجہ سے یومِ لقا (قیامت) تک ان کے دلوں میں نفاق قائم کر دیا۔
عبدالسلام بن محمد
تو اس کے نتیجے میں اس نے ان کے دلوں میں اس دن تک نفاق رکھ دیا جس میں وہ اس سے ملیں گے۔ اس لیے کہ انھوں نے اللہ سے اس کی خلاف ورزی کی جو اس سے وعدہ کیا تھا اور اس لیے کہ وہ جھوٹ کہتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دعا قبول ہوئی تو اپنا عہد بھول گیا ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ ان منافقوں میں وہ بھی ہے جس نے عہد کیا کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ مالدار کر دے تو میں بڑی سخاوت کروں اور نیک بن جاؤں۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اسے امیر اور خوشحال بنا دیا اس نے وعدہ شکنی کی اور بخیل بن بیٹھا جس کی سزا میں قدرت نے اس کے دل میں ہمیشہ کے لیے نفاق ڈال دیا۔ [نوٹ] اس واقعہ میں ثعبلہ کا نام صحیح سند سے ثابت نہیں یہ آیت بھی منافقین کے بارے مین اتری ہے [محمد انور زاہد] یہ آیت ثعلبہ بن حاطب انصاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ میرے لیے مالداری کی دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑا جس کا شکر ادا ہو اس بہت سے اچھا ہے جو اپنی طاقت سے زیادہ ہو۔“ اس نے پھر دوبارہ یہی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھایا کہ ”تو اپنا حال اللہ تعالیٰ کے نبی جیسا رکھنا پسند نہیں کرتا؟ واللہ! اگر میں چاہتا تو یہ پہاڑ سونے چاندی کے بن کر میرے ساتھ چلتے۔“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! واللہ! میرا ارادہ ہے کہ اگر اللہ مجھے مالدار کر دے تو میں خوب سخاوت کی داد دوں ہر ایک کو اس کا حق ادا کروں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے مال میں برکت کی دعا کی۔ اس کی بکریوں میں اس طرح زیادتی شروع ہوئی جیسے کیڑے بڑھ رہے ہوں۔ یہاں تک کہ مدینہ منورہ اس کے جانوروں کے لیے تنگ ہو گیا۔ یہ ایک میدان میں نکل گیا ظہر عصر تو جماعت کے ساتھ ادا کرتا باقی نمازیں جماعت سے نہیں ملتی تھیں۔ جانوروں میں اور برکت ہوئی اسے اور دور جانا پڑا۔ اب سوائے جمعہ کے اور سب جماعتیں اس سے چھوٹ گئیں، مال اور بڑھتا گیا، ہفتہ بعد جمعہ کے لیے آنا بھی اس نے چھوڑ دیا۔ آنے جانے والے قافلوں سے پوچھ لیا کرتا تھا کہ جمعہ کے دن کیا بیان ہوا؟ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حال دریافت کیا۔ لوگوں نے سب کچھ بیان کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہار افسوس کیا ادھر آیت اتری کہ ان کے مال سے صدقے لے اور صدقے کے احکام بھی بیان ہوئے۔ آپ نے دو شخصوں کو جن میں ایک قبیلہ جہنیہ کا اور دوسرا قبیلہ سلیم کا تھا انہیں تحصیلدار بنا کر صدقہ لینے کے احکام لکھ کر انہیں پروانہ دے کر بھیجا اور فرمایا کہ ثعلبہ سے اور فلانے بنی سلیم سے صدقہ لے آؤ۔ یہ دونوں ثعلبہ کے پاس پہنچے فرمان پیغمبر دکھایا صدقہ طلب کیا تو وہ کہنے لگا واہ واہ! یہ تو جزیئے کی بہن ہے یہ تو بالکل ایسا ہی ہے جیسے کافروں سے جزیہ لیا جاتا ہے یہ کیا بات ہے؟ اچھا اب تو جاؤ لوٹتے ہوئے آنا۔
دوسرا شخص سلمی جب اسے معلوم ہوا تو اس نے اپنے بہترین جانور نکالے اور انہیں لے کر خود ہی آگے بڑھا۔ انہوں نے ان جانوروں کو دیکھ کر کہا: ”نہ تو یہ ہمارے لینے کے لائق نہ تجھ پر ان کا دینا واجب۔“ اس نے کہا: ”میں تو اپنی خوشی سے ہی بہترین جانور دینا چاہتا ہوں آپ انہیں قبول فرمائیے۔“ بالآخر انہوں نے لے لیے۔ اوروں سے بھی وصول کیا اور لوٹتے ہوئے پھر ثعلبہ کے پاس آئے۔ اس نے کہا: ”ذرا مجھے وہ پرچہ تو پڑھاؤ جو تمہیں دیا گیا ہے۔“ پڑھ کر کہنے لگا ”بھئی یہ تو صاف صاف جزیہ ہے کافروں پر جو ٹیکس مقرر کیا جاتا ہے یہ تو بالکل ویسا ہی ہے اچھا تم جاؤ میں سوچ سمجھ لوں۔“ یہ واپس چلے گئے۔ انہیں دیکھتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثعلبہ پر اظہار افسوس کیا اور سلیمی شخص کے لیے برکت کی دعا کی۔ اب انہوں نے بھی ثعلبہ اور سلمی دونوں کا واقعہ کہہ سنایا۔ پس اللہ تعالیٰ جل وعلانے یہ آیت نازل فرمائی۔ ثعلبہ کے ایک قریبی رشتہ دار نے جب یہ سب کچھ سنا تو ثعلبہ سے جا کر واقعہ بیان کیا اور آیت بھی پڑھ سنائی۔ یہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور درخواست کی کہ اس کا صدقہ قبول کیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ تعالیٰ نے مجھے تیرا صدقہ قبول کرنے سے منع فرما دیا ہے۔“ یہ اپنے سر پر خاک ڈالنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو سب تیرا ہی کیا دھرا ہے۔ میں نے تو تجھے کہا تھا لیکن تو نہ مانا۔“ یہ واپس اپنی جگہ چلا آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال تک اس کی کوئی چیز قبول نہ فرمائی۔ پھر یہ خلافت صدیقی میں آیا اور کہنے لگا: ”میری جو عزت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی وہ اور میرا جو مرتبہ انصار میں ہے وہ آپ خوب جانتے ہیں آپ میرا صدقہ قبول فرمائیے“ آپ نے جواب دیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا تو میں کون؟
غرض آپ نے بھی انکار کر دیا۔ جب آپ کا بھی انتقال ہو گیا اور امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے ولی ہوئے تو یہ پھر آیا اور کہا کہ ”امیر المؤمنین آپ میرا صدقہ قبول فرمائیے۔“ آپ نے جواب دیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا خلیفہ اول نے قبول نہیں فرمایا تو اب میں کیسے قبول کر سکتا ہوں؟ چنانچہ آپ نے بھی اپنی خلافت کے زمانے میں اس کا صدقہ قبول نہیں فرمایا۔ پھر خلافت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سپرد ہوئی تو یہ ازلی منافق پھر آیا اور لگا منت سماجت کرنے لیکن آپ نے بھی یہی جواب دیا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے دونوں خلیفہ نے تیرا صدقہ قبول نہیں فرمایا تو میں کیسے قبول کر لوں؟ چنانچہ قبول نہیں کیا اسی اثنا میں یہ شخص ہلاک ہو گیا۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:7873:ضعیف] الغرض پہلے تو وعدے کئے تھے سخاوت کے اور وہ بھی قسمیں کھا کھا کر، پھر اپنے وعدے سے پھر گیا اور سخاوت کے عوض بخیلی کی اور وعدہ شکنی کر لی، اس جھوٹ اور عہد شکنی کے بدلے اس کے دل میں نفاق پیوست ہو گیا جو اس وقت اس کی پوری زندگی تک اس کے ساتھ ہی رہا۔ حدیث میں بھی ہے کہ منافق کی تین علامتیں ہیں جب بات کرے جھوٹ بولے جب وعدہ کرے خلاف کرے جب امانت سونپی جائے خیانت کرے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:33] کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ چھپے کھلے دل کے ارادوں اور سینے کے بھیدوں کا عالم ہے وہ پہلے سے ہی جانتا ہے۔ یہ خالی زبان بکواس ہے کہ مالدار ہو جائیں تو یوں خیراتیں کریں، یوں شکر گذاری کریں، یوں نیکیاں کریں، لیکن دلوں پر نظریں رکھنے والا رب خوب جانتا ہے کہ یہ مال میں مست ہو جائیں گے اور دولت پا کر خرمستیاں، ناشکری اور بخل کرنے لگیں گے۔ وہ ہر حاضر غائب کا جاننے والا ہے وہ ہر چھپے کھلے کا عالم ہے ظاہر باطن سب اس پر روشن ہے
کیا یہ لوگ جانتے نہیں ہیں کہ اللہ کو ان کے مخفی راز اور ان کی پوشیدہ سرگوشیاں تک معلوم ہیں اور وہ تمام غیب کی باتوں سے پوری طرح باخبر ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا وه نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے دل کا بھید اور ان کی سرگوشی سب معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ غیب کی تمام باتوں سے خبردار ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیا انہیں خبر نہیں کہ اللہ ان کے دل کی چھپی اور ان کی سرگوشی کو جانتا ہے اور یہ کہ اللہ سب غیبوں کا بہت جاننے والا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اللہ ان کے دلی راز اور ان کی سرگوشی کو جانتا ہے اور وہ غیب کی تمام باتوں کو بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا انھوں نے نہیں جانا کہ اللہ ان کا راز اور ان کی سرگوشی جانتا ہے اور یہ کہ اللہ سب غیبوں کو بہت خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دعا قبول ہوئی تو اپنا عہد بھول گیا ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ ان منافقوں میں وہ بھی ہے جس نے عہد کیا کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ مالدار کر دے تو میں بڑی سخاوت کروں اور نیک بن جاؤں۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اسے امیر اور خوشحال بنا دیا اس نے وعدہ شکنی کی اور بخیل بن بیٹھا جس کی سزا میں قدرت نے اس کے دل میں ہمیشہ کے لیے نفاق ڈال دیا۔ [نوٹ] اس واقعہ میں ثعبلہ کا نام صحیح سند سے ثابت نہیں یہ آیت بھی منافقین کے بارے مین اتری ہے [محمد انور زاہد] یہ آیت ثعلبہ بن حاطب انصاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ میرے لیے مالداری کی دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑا جس کا شکر ادا ہو اس بہت سے اچھا ہے جو اپنی طاقت سے زیادہ ہو۔“ اس نے پھر دوبارہ یہی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھایا کہ ”تو اپنا حال اللہ تعالیٰ کے نبی جیسا رکھنا پسند نہیں کرتا؟ واللہ! اگر میں چاہتا تو یہ پہاڑ سونے چاندی کے بن کر میرے ساتھ چلتے۔“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! واللہ! میرا ارادہ ہے کہ اگر اللہ مجھے مالدار کر دے تو میں خوب سخاوت کی داد دوں ہر ایک کو اس کا حق ادا کروں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے مال میں برکت کی دعا کی۔ اس کی بکریوں میں اس طرح زیادتی شروع ہوئی جیسے کیڑے بڑھ رہے ہوں۔ یہاں تک کہ مدینہ منورہ اس کے جانوروں کے لیے تنگ ہو گیا۔ یہ ایک میدان میں نکل گیا ظہر عصر تو جماعت کے ساتھ ادا کرتا باقی نمازیں جماعت سے نہیں ملتی تھیں۔ جانوروں میں اور برکت ہوئی اسے اور دور جانا پڑا۔ اب سوائے جمعہ کے اور سب جماعتیں اس سے چھوٹ گئیں، مال اور بڑھتا گیا، ہفتہ بعد جمعہ کے لیے آنا بھی اس نے چھوڑ دیا۔ آنے جانے والے قافلوں سے پوچھ لیا کرتا تھا کہ جمعہ کے دن کیا بیان ہوا؟ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حال دریافت کیا۔ لوگوں نے سب کچھ بیان کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہار افسوس کیا ادھر آیت اتری کہ ان کے مال سے صدقے لے اور صدقے کے احکام بھی بیان ہوئے۔ آپ نے دو شخصوں کو جن میں ایک قبیلہ جہنیہ کا اور دوسرا قبیلہ سلیم کا تھا انہیں تحصیلدار بنا کر صدقہ لینے کے احکام لکھ کر انہیں پروانہ دے کر بھیجا اور فرمایا کہ ثعلبہ سے اور فلانے بنی سلیم سے صدقہ لے آؤ۔ یہ دونوں ثعلبہ کے پاس پہنچے فرمان پیغمبر دکھایا صدقہ طلب کیا تو وہ کہنے لگا واہ واہ! یہ تو جزیئے کی بہن ہے یہ تو بالکل ایسا ہی ہے جیسے کافروں سے جزیہ لیا جاتا ہے یہ کیا بات ہے؟ اچھا اب تو جاؤ لوٹتے ہوئے آنا۔
دوسرا شخص سلمی جب اسے معلوم ہوا تو اس نے اپنے بہترین جانور نکالے اور انہیں لے کر خود ہی آگے بڑھا۔ انہوں نے ان جانوروں کو دیکھ کر کہا: ”نہ تو یہ ہمارے لینے کے لائق نہ تجھ پر ان کا دینا واجب۔“ اس نے کہا: ”میں تو اپنی خوشی سے ہی بہترین جانور دینا چاہتا ہوں آپ انہیں قبول فرمائیے۔“ بالآخر انہوں نے لے لیے۔ اوروں سے بھی وصول کیا اور لوٹتے ہوئے پھر ثعلبہ کے پاس آئے۔ اس نے کہا: ”ذرا مجھے وہ پرچہ تو پڑھاؤ جو تمہیں دیا گیا ہے۔“ پڑھ کر کہنے لگا ”بھئی یہ تو صاف صاف جزیہ ہے کافروں پر جو ٹیکس مقرر کیا جاتا ہے یہ تو بالکل ویسا ہی ہے اچھا تم جاؤ میں سوچ سمجھ لوں۔“ یہ واپس چلے گئے۔ انہیں دیکھتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثعلبہ پر اظہار افسوس کیا اور سلیمی شخص کے لیے برکت کی دعا کی۔ اب انہوں نے بھی ثعلبہ اور سلمی دونوں کا واقعہ کہہ سنایا۔ پس اللہ تعالیٰ جل وعلانے یہ آیت نازل فرمائی۔ ثعلبہ کے ایک قریبی رشتہ دار نے جب یہ سب کچھ سنا تو ثعلبہ سے جا کر واقعہ بیان کیا اور آیت بھی پڑھ سنائی۔ یہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور درخواست کی کہ اس کا صدقہ قبول کیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ تعالیٰ نے مجھے تیرا صدقہ قبول کرنے سے منع فرما دیا ہے۔“ یہ اپنے سر پر خاک ڈالنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو سب تیرا ہی کیا دھرا ہے۔ میں نے تو تجھے کہا تھا لیکن تو نہ مانا۔“ یہ واپس اپنی جگہ چلا آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال تک اس کی کوئی چیز قبول نہ فرمائی۔ پھر یہ خلافت صدیقی میں آیا اور کہنے لگا: ”میری جو عزت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی وہ اور میرا جو مرتبہ انصار میں ہے وہ آپ خوب جانتے ہیں آپ میرا صدقہ قبول فرمائیے“ آپ نے جواب دیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا تو میں کون؟
غرض آپ نے بھی انکار کر دیا۔ جب آپ کا بھی انتقال ہو گیا اور امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے ولی ہوئے تو یہ پھر آیا اور کہا کہ ”امیر المؤمنین آپ میرا صدقہ قبول فرمائیے۔“ آپ نے جواب دیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا خلیفہ اول نے قبول نہیں فرمایا تو اب میں کیسے قبول کر سکتا ہوں؟ چنانچہ آپ نے بھی اپنی خلافت کے زمانے میں اس کا صدقہ قبول نہیں فرمایا۔ پھر خلافت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سپرد ہوئی تو یہ ازلی منافق پھر آیا اور لگا منت سماجت کرنے لیکن آپ نے بھی یہی جواب دیا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے دونوں خلیفہ نے تیرا صدقہ قبول نہیں فرمایا تو میں کیسے قبول کر لوں؟ چنانچہ قبول نہیں کیا اسی اثنا میں یہ شخص ہلاک ہو گیا۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:7873:ضعیف] الغرض پہلے تو وعدے کئے تھے سخاوت کے اور وہ بھی قسمیں کھا کھا کر، پھر اپنے وعدے سے پھر گیا اور سخاوت کے عوض بخیلی کی اور وعدہ شکنی کر لی، اس جھوٹ اور عہد شکنی کے بدلے اس کے دل میں نفاق پیوست ہو گیا جو اس وقت اس کی پوری زندگی تک اس کے ساتھ ہی رہا۔ حدیث میں بھی ہے کہ منافق کی تین علامتیں ہیں جب بات کرے جھوٹ بولے جب وعدہ کرے خلاف کرے جب امانت سونپی جائے خیانت کرے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:33] کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ چھپے کھلے دل کے ارادوں اور سینے کے بھیدوں کا عالم ہے وہ پہلے سے ہی جانتا ہے۔ یہ خالی زبان بکواس ہے کہ مالدار ہو جائیں تو یوں خیراتیں کریں، یوں شکر گذاری کریں، یوں نیکیاں کریں، لیکن دلوں پر نظریں رکھنے والا رب خوب جانتا ہے کہ یہ مال میں مست ہو جائیں گے اور دولت پا کر خرمستیاں، ناشکری اور بخل کرنے لگیں گے۔ وہ ہر حاضر غائب کا جاننے والا ہے وہ ہر چھپے کھلے کا عالم ہے ظاہر باطن سب اس پر روشن ہے
78۔ 1 اس میں منافقین کے لئے سخت وعید ہے جو اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرتے ہیں اور پھر اس کی پرواہ نہیں کرتے گویا یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی مخفی باتوں اور بھیدوں کو نہیں جانتا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے، کیونکہ وہ تو علام الغیوب ہے۔ غیب کی تمام باتوں سے باخبر ہے۔
(آیت78){ اَلَمْ يَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ …:} اس آیت میں منافقین کو سخت ڈرایا گیا ہے کہ کیا انھیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے دل کے راز اور سرگوشیاں سب جانتا ہے اور وہ تو تمام غیبوں کو بہت خوب جاننے والا ہے۔ کیا یہ اس سے بھی اپنی دلی حالت چھپا سکیں گے۔ دیکھیے سورۂ زخرف (۸۰) اور مجادلہ (۷)۔
(وہ خوب جانتا ہے اُن کنجوس دولت مندوں کو) جو برضا و رغبت دینے والے اہل ایمان کی مالی قربانیوں پر باتیں چھانٹتے ہیں اور ان لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں جن کے پاس (راہ خدا میں دینے کے لیے) اُس کے سوا کچھ نہیں ہے جو وہ اپنے اوپر مشقت برداشت کر کے دیتے ہیں اللہ اِن مذاق اڑانے والوں کا مذاق اڑاتا ہے اور ان کے لیے درد ناک سزا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جولوگ ان مسلمانوں پر طعنہ زنی کرتے ہیں جو دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور ان لوگوں پر جنہیں سوائے اپنی محنت مزدوری کے اور کچھ میسر ہی نہیں، پس یہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں، اللہ بھی ان سے تمسخر کرتا ہے انہی کے لئے دردناک عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جو عیب لگاتے ہیں ان مسلمانوں کو کہ دل سے خیرات کرتے ہیں اور ان کو جو نہیں پاتے مگر اپنی محنت سے تو ان سے ہنستے ہیں اللہ ان کی ہنسی کی سزا دے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ ایسے ہیں کہ خوش دلی سے خیرات کرنے والے مؤمنین پر ریاکاری کا عیب لگاتے ہیں۔ اور جو اپنی محنت مزدوری کے سوا اور کچھ نہیں رکھتے (اس لئے راہِ خدا میں تھوڑا مال دیتے ہیں) یہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں اللہ ان کا مذاق اڑائے گا۔ (اس کی سزا دے گا) اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگ جو صدقات میں خوش دلی سے حصہ لینے والے مومنوں پر طعن کرتے ہیں اور ان پر بھی جو اپنی محنت کے سوا کچھ نہیں پاتے، سو وہ ان سے مذاق کرتے ہیں۔ اللہ نے ان سے مذاق کیا ہے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافقوں کا مومنوں کی حوصلہ شکنی کا ایک انداز ٭٭
یہ بھی منافقوں کی ایک بدخصلت ہے کہ ان کی زبانوں سے کوئی بھی بچ نہیں سکتا نہ سخی نہ بخیل، یہ عیب جو، بدگو لوگ بہت برے ہیں۔ اگر کوئی شخص بڑی رقم اللہ کی راہ میں دے تو یہ اسے ریاکار کہنے لگتے ہیں اور اگر کوئی مسکین اپنی مالی کمزوری کی بنا پر تھوڑا بہت دے تو یہ ناک بھوں چڑھا کر کہتے ہیں لو ان کی اس حقیر چیز کا بھی اللہ بھوکا تھا۔ چنانچہ جب صدقات دینے کی آیت اتری ہے تو صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنے اپنے صدقات لیے ہوئے حاضر ہوتے ہیں ایک صاحب نے دل کھول کر بڑی رقم دی، اسے تو ان منافقوں نے ریاکار کا خطاب دیا اور ایک صاحب بیچارے مسکین آدمی تھی صرف ایک صاع اناج لائے تھے، انہیں کہا کہ اس کے اس صدقے کی اللہ کو کیا ضرورت پڑی تھی؟ اس کا بیان اس آیت میں ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4668] ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بقیع میں فرمایا کہ ”جو صدقہ دے گا میں اس کی بابت قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے گواہی دوں گا۔“ اس وقت ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے اپنے عمامہ میں سے کچھ دینا چاہا لیکن پھر لپیٹ لیا۔ اتنے میں ایک صاحب جو سیاہ رنگ اور چھوٹے قد کے تھے ایک اونٹنی لے کر آگے بڑھے جس سے زیادہ اچھی اونٹنی بقیع بھر میں نہ تھی۔ کہنے لگے: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ اللہ تعالیٰ کے نام پر خیرات ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت اچھا“ اس نے کہا: ”سنبھال لیجئے۔“ اس پر کسی نے کہا اس سے تو اونٹنی ہی اچھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لیا اور فرمایا: ”تو جھوٹا ہے یہ تجھ سے اور اس سے تین گنا اچھا ہے افسوس! سینکڑوں اونٹ رکھنے والے تجھ جیسوں پر افسوس۔ تین مرتبہ یہی فرمایا، مگر وہ جو اپنے مال کو اس طرح اس طرح کرے“، اور لپیں بھر بھر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے دائیں بائیں اشارہ کیا، یعنی راہ اللہ ہر نیک کام میں خرچ کرے۔
پھر فرمایا: ”انہوں نے فلاح پالی جو کم مال والے اور زیادہ عبادت والے ہوں۔“ [مسند احمد:34/5:ضعیف] سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ چالیس 40 اوقیہ چاندی لائے اور ایک غریب انصاری ایک صاع اناج لائے، منافقوں نے ایک کو ریاکار بتلایا دوسرے کے صدقے کو حقیر بتلایا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17018:ضعیف] ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے لوگوں نے مال خیرات دینا اور جمع کرنا شروع کیا۔ ایک صاحب ایک صاع کھجوریں لے آئے اور کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس کھجوروں کے دو صاع تھے ایک میں نے اپنے اور اپنے بچوں کے لیے روک لیا اور ایک لے آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی جمع شدہ مال میں ڈال دینے کو فرمایا اس پر منافق بکواس کرنے لگے کہ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو اس سے بے نیاز ہے۔ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا: ”میرے پاس ایک سو اوقیہ سونا ہے سب کو صدقہ کرتا ہوں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہوش میں بھی ہو“؟ آپ نے جواب دیا ہاں ہوش میں ہوں۔ فرمایا: ”پھر کیا کر رہا ہے“؟ آپ نے فرمایا: ”سنو! میرے پاس آٹھ ہزار ہیں جن میں سے چار ہزار تو میں اللہ تعالیٰ کو قرض دے رہا ہوں اور چار ہزار اپنے لیے رکھ لیتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تجھے برکت دے جو تو نے رکھ لیا ہے اور جو تو نے خرچ کر دیا ہے۔
منافق ان پر باتیں بنانے لگے کہ پھول گئے اپنی سخاوت دکھانے کے لیے اتنی بڑی رقم دے دی۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار کر بڑی رقم اور چھوٹی رقم والوں کی سچائی اور ان منافقوں کا موذی پن ظاہر کر دیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17019:ضعیف] بنو عجلان کے عاصم بن عدی رضی اللہ عنہما نے بھی اس وقت بڑی رقم خیرات کی تھی ایک سو وسق کجھوریں دی تھیں۔ منافقوں نے اسے ریاکاری پر محمول کیا تھا۔ اپنی محنت مزدوری کی تھوڑی سی خیرات دینے والے ابوعقیل رضی اللہ عنہ تھے۔ یہ قبیلہ بنو انیف کے شخص تھے ان کے ایک صاع خیرات پر منافقوں نے ہنسی اور ہجو کی تھی۔ اور روایت میں ہے کہ یہ چندہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین کی ایک جماعت کو جہاد پر روانہ کرنے کے لیے کیا تھا۔ اس میں ہے کہ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے دو ہزار دیئے تھے اور دو ہزار رکھے تھے دوسرے بزرگ نے رات بھر کی محنت میں دو صائع کھجوریں حاصل کر کے ایک صائع رکھ لیں اور ایک صائع دے دیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17029:ضعیف] یہ سیدنا ابوعقیل رضی اللہ عنہ تھے رات بھر اپنی پیٹھ پر بوجھ ڈھوتے رہے تھے۔ ان کا نام حجاب تھا۔ اور قول ہے کہ عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ثعلبہ تھا۔ پس منافقوں کے اس تمسخر کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے یہی بدلہ لیا، ان منافقوں کے لیے اخروی المناک عذاب ہیں۔ اور ان کے اعمال کا ان عملوں جیسا ہی برا بدلہ ہے۔
79۔ 1 مطّوعین کے معنی ہیں صدقات واجبہ کے علاوہ اپنی خوشی سے مزید اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے،" جہد " کے معنی محنت ومشقت کے ہیں یعنی وہ لوگ جو مال دار نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود اپنی محنت و مشقت سے کمائے ہوئے تھوڑے مال میں سے بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ آیت میں منافقین کی ایک اور نہایت قبیح حرکت کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ وغیرہ کے موقع پر مسلمانوں سے چندے کی اپیل فرماتے تو مسلمان آپ کی اپیل پر لبیک کہتے ہوئے حسب استطاعت اس میں حصہ لیتے کسی کے پاس زیادہ مال ہوتا وہ زیادہ صدقہ دیتا جس کے پاس تھوڑا ہوتا، وہ تھوڑا دیتا، یہ منافقین دونوں قسم کے مسلمانوں پر طعنہ زنی کرتے زیادہ دینے والوں کے بارے میں کہتے اس کا مقصد ریاکاری اور نمود و نمائش ہے اور تھوڑا دینے والوں کو کہتے کہ تیرے اس مال سے کیا بنے گا یا اللہ تعالیٰ تیرے اس صدقے سے بےنیاز ہے (صحیح بخاری) یوں وہ منافقین مسلمانوں کا استہزا کرتے اور مذاق اڑاتے۔ 79۔ 2 یعنی مومنین سے استہزا کا بدلہ انہیں اس طرح دیتا ہے کہ انہیں ذلیل و رسوا کرتا ہے۔ اس کا تعلق باب مشاکلت سے ہے جو علم بلاغت کا ایک اصول ہے یا یہ بددعا ہے اللہ تعالیٰ ان سے بھی استہزا کا معاملہ کرے جس طرح یہ مسلمانوں کے ساتھ استہزا کرتے ہیں۔ (فتح القدیر)
(آیت79) ➊ {اَلَّذِيْنَ يَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِيْنَ …: ” الْمُطَّوِّعِيْنَ “} باب تفعل سے اسم فاعل ہے جو اصل میں {”مُتَطَوِّعِيْنَ“} تھا۔ جو لوگ فرض زکوٰۃ کے علاوہ مزید مال خوشی سے خرچ کرتے ہیں۔ جہد کا معنی محنت و مشقت ہے، یعنی وہ لوگ جو مال دار نہیں مگر محنت مشقت کرکے کمایا ہوا تھوڑا مال بھی خرچ کرتے ہیں۔ غزوۂ تبوک کے موقع پر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چندے کی اپیل کی تو بڑے بڑے مال دار منافقین ہاتھ سکیڑ کر بیٹھ رہے، لیکن مخلص اہل ایمان چندہ لانے لگے تو یہ ان پر باتیں چھانٹنے لگے، جب کوئی شخص زیادہ چندہ لاتا تو یہ اسے ریا کار کہتے اور جب کوئی تھوڑا مال یا غلہ لا کر پیش کرتا تو یہ کہتے کہ بھلا اللہ کو اس کی کیا ضرورت ہے؟ دونوں صورتوں میں مذاق اڑاتے اور ٹھٹھا کرتے۔ یہ وہ موقع تھا جب عمر رضی اللہ عنہ اپنا نصف مال لے آئے اس خیال سے کہ اگر بڑھ سکا تو آج ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بڑھ جاؤں گا، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو گھر کا سارا مال لے آئے تھے۔ [ ترمذی، المناقب، باب رجاؤہ أن یکون أبوبکر…: ۳۶۷۵، وقال حسن صحیح وحسنہ الألبانی ] عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ غزوۂ تبوک کی تیاری کے وقت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک ہزار دینار لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جھولی میں رکھ دیے۔ عبد الرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دیناروں کو الٹ پلٹ کرتے ہوئے دو مرتبہ فرمایا: ”آج کے (اس عمل کے) بعد عثمان جو بھی عمل کریں وہ انھیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ [ ترمذی، المناقب، باب فی عد عثمان تسمیتہ شہیدا…: ۳۷۰۱ ] ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب صدقے کی آیت اتری تو ہم اپنی پیٹھوں پر بوجھ اٹھاتے، یعنی اس طرح اجرت حاصل کرتے تو ایک آدمی آیا اس نے بہت زیادہ چیز کا صدقہ کیا تو (منافق) کہنے لگے، یہ دکھاوا چاہتا ہے اور ایک آدمی آیا اور اس نے ایک صاع (دو کلو غلہ) صدقہ کیا تو انھوں نے کہا، اللہ تعالیٰ اس کے صدقے سے بے نیاز ہے (اسے اس کی کیا ضرورت ہے؟) تو یہ آیت اتری۔ [ بخاری، الزکوٰۃ، باب: اتقوا النار ولو بشق تمرۃ …: ۱۴۱۵ ] ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ابوعقیل (مزدوری کرکے) آدھا صاع (ایک کلو غلہ) لائے اور ایک اور صاحب زیادہ مال لائے، تو منافق کہنے لگے، اس (نصف صاع) کی اللہ کو کیا ضرورت تھی اور اس دوسرے نے تو محض دکھاوے کے لیے دیا ہے۔ اس پر یہ آیت اتری: «اَلَّذِيْنَ يَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِيْنَ» [ بخاری، التفسیر، باب قولہ: { الذین یلمزون المطوعین… }: ۴۶۶۹ ] ➋ { سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۱۵)۔
اے نبیؐ، تم خواہ ایسے لوگوں کے لیے معافی کی درخواست کرو یا نہ کرو، اگر تم ستر مرتبہ بھی انہیں معاف کردینے کی درخواست کرو گے تو اللہ انہیں ہرگز معاف نہ کرے گا اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے، اور اللہ فاسق لوگوں کو راہ نجات نہیں دکھاتا
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے لئے تو استغفار کر یا نہ کر۔ اگر تو ستر مرتبہ بھی ان کے لئے استغفار کرے تو بھی اللہ انہیں ہرگز نہ بخشے گا یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ سے اور اس کے رسول سے کفر کیا ایسے فاسق لوگوں کو رب کریم ہدایت نہیں دیتا
احمد رضا خان بریلوی
تم ان کی معافی چاہو یا نہ چاہو، اگر تم ستر بار ان کی معافی چاہو گے تو اللہ ہرگز انھیں نہیں بخشے گا یہ اس لیے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے منکر ہوئے، اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) آپ ان کے لئے مغفرت طلب کریں اور خواہ نہ کریں اگر (بالفرض) آپ ان کے لئے ستر بار بھی مغفرت طلب کریں جب بھی اللہ انہیں ہرگز نہیں بخشے گا۔ یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے اللہ اور رسول کے ساتھ کفر کیا۔ اور خدا فاسق (نافرمان) لوگوں کو منزلِ مقصود تک نہیں پہنچاتا۔
عبدالسلام بن محمد
ان کے لیے بخشش مانگ، یا ان کے لیے بخشش نہ مانگ، اگر تو ان کے لیے ستر بار بخشش کی دعا کرے گا تو بھی اللہ انھیں ہرگز نہ بخشے گا۔ یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافق کے لئے استغفار کرنے کی ممانعت ہے ٭٭
فرماتا ہے کہ یہ منافق اس قابل نہیں کہ تو اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو ان کے لیے اللہ سے بخشش طلب کرے۔ ایک بار نہیں اگر تو ستر مرتبہ بھی بخشش ان کے لیے چاہے تو اللہ تعالیٰ انہیں نہیں بخشے گا۔ یہ جو ستر کا ذکر ہے اس سے مراد صرف زیادتی ہے وہ ستر سے کم ہو یا بہت زیادہ ہو۔ بعض نے کہا ہے کہ مراد اس سے ستر کا ہی عدد ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”میں تو ان کے لیے ستر بار سے بھی زیادہ استغفار کروں گا تاکہ اللہ انہیں بخش دے۔“ پس اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں فرما دیا کہ ان کے لیے تیرا استغفار کرنا نہ کرنے کے برابر ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17045:ضعیف] عبداللہ بن ابی منافق کا بیٹا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتا ہے کہ میرا باپ نزع کی حالت میں ہے میری چاہت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے چلیں اس کے جنازے کی نماز بھی پڑھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ”تیرا نام کیا ہے“؟ اس نے کہا: ”حباب“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا نام عبداللہ ہے حباب تو شیطان کا نام ہے۔“ اب آپ ان کے ساتھ ہو لئے ان کے باپ کو اپنا کرتہ اپنے پسینے والا پہنایا اس کی جنازے کی نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا بھی گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جنازے پر نماز پڑھ رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ نے ستر مرتبہ کے استغفار سے ہی نہ بخشنے کو فرمایا ہے میں تو ستر بار پھر ستر بار پھر ستر بار پھر استغفار کروں گا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17044:ضعیف]
80۔ 1 ستر کا عدد مبالغے اور تکثیر کے لئے ہے۔ یعنی تو کتنی ہی کثرت سے ان کے لئے استغفار کرلے اللہ تعالیٰ انہیں ہرگز معاف نہیں فرمائے گا۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ ستر مرتبہ سے زائد استغفار کرنے پر ان کو معافی مل جائے گی۔ 80۔ 2 یہ عدم مغفرت کی علت بیان کردی گئی ہے تاکہ لوگ کسی کی سفارش کی امید پر نہ رہیں بلکہ ایمان اور عمل صالح کی پونجی لے کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوں۔ اگر یہ زاد آخرت کسی کے پاس نہیں ہوگا تو ایسے کافروں اور نافرمانوں کی کوئی شفاعت ہی نہیں کرے گا، اس لئے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے لئے شفاعت کی اجازت ہی نہیں دے گا۔ 80۔ 3 اس ہدایت سے مراد وہ ہدایت ہے جو انسان کو مطلوب (ایمان) تک پہنچا دیتی ہے ورنہ ہدایت بمعنی رہنمائی یعنی راستے کی نشان دہی۔ اس کا اہتمام تو دنیا میں ہر مومن و کافر کے لیے کردیا گیا ہے (اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا) 76۔ الدہر:3) (وھدینہ النجدین) (البلد) اور ہم نے اس کو (خیروشر کے) کے دونوں راستے دکھا دیئے ہیں۔
(آیت80) ➊ {اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ …:} یعنی آپ کا ان کے لیے استغفار کرنا یا نہ کرنا برابر ہے، یہاں یہ بات امر کے صیغے کے ساتھ آئی ہے، مگر مراد خبر دینا ہی ہے، جیسا کہ دوسری جگہ صاف خبر کے الفاظ میں فرمایا: «سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ لَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ» [ المنافقون: ۶ ] ”ان پر برابر ہے کہ تو ان کے لیے بخشش کی دعا کرے یا ان کے لیے بخشش کی دعا نہ کرے، اللہ انھیں ہر گز معاف نہیں کرے گا۔“اس آیت کی تفسیر کا کچھ حصہ آیت (۸۴) کی تفسیر میں آ رہا ہے۔ ➋ { ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ:} یعنی آپ ان کے حق میں کتنا ہی استغفار کریں اللہ تعالیٰ انھیں ہر گز نہیں بخشے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کی وجہ سے وہ بخشے جانے کے لائق ہی نہیں ہیں۔ اس آیت کی تشریح میں شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہاں سے فرق نکلتا ہے بے اعتقاد اور گناہ گار کا۔ گناہ ایسا کون سا ہے جو کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے بخشانے سے نہ بخشا جائے اور بے اعتقاد کو پیغمبر کا ستر دفعہ استغفار فائدہ نہ کرے۔ اب بے اعتقاد لوگ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت پر کس دلیل سے بھروسا کر سکتے ہیں؟ آدمی سے برائی ہو جائے یا عمل میں کوتاہی ہو اور وہ شرمندہ ہے تو وہ گناہ گار ہے اور جو بد کام کو عیب نہ جانے اور اللہ تعالیٰ کے عائد کر دہ فرض کے کرنے اور نہ کرنے کو برابر سمجھے اور کرنے والوں پر طعن کرے، وہ بے اعتقاد ہے۔ ایسے شخص کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ (موضح)
جن لوگوں کو پیچھے رہ جانے کی اجازت دے دی گئی تھی وہ اللہ کے رسول کا ساتھ نہ دینے اور گھر بیٹھے رہنے پر خوش ہوئے اور انہیں گوارا نہ ہوا کہ اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کریں انہوں نے لوگوں سے کہا کہ "اس سخت گرمی میں نہ نکلو" ان سے کہو کہ جہنم کی آگ اس سے زیادہ گرم ہے، کاش انہیں اس کا شعور ہوتا
مولانا محمد جوناگڑھی
پیچھے ره جانے والے لوگ رسول اللہ ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ کے جانے کے بعد اپنے بیٹھے رہنے پر خوش ہیں انہوں نے اللہ کی راه میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرنا ناپسند رکھا اور انہوں نے کہہ دیا کہ اس گرمی میں مت نکلو۔ کہہ دیجئے کہ دوزخ کی آگ بہت ہی سخت گرم ہے، کاش کہ وه سمجھتے ہوتے
احمد رضا خان بریلوی
پیچھے رہ جانے والے اس پر خوش ہوئے کہ وہ رسول کے پیچھے بیٹھ رہے اور انہیں گوارا نہ ہوا کہ اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں لڑیں اور بولے اس گرمی میں نہ نکلو، تم فرماؤ جہنم کی آگ سب سے سخت گرم ہے، کسی طرح انہیں سمجھ ہو تی
علامہ محمد حسین نجفی
جو (منافق جنگ تبوک میں) پیچھے چھوڑ دیے گئے وہ رسولِ خدا(ص) کے پیچھے (ان کی خواہش کے خلاف) اپنے گھروں میں بیٹھے رہنے پر خوش ہوئے اور خدا کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرنے کو ناپسند کیا۔ اور (دوسروں سے بھی) کہا کہ گرمی میں سفر نہ کرو۔ کہہ دیجیے! کہ دوزخ کی آگ (اس سے) زیادہ گرم ہے کاش وہ یہ بات سمجھتے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے وہ اللہ کے رسول کے پیچھے اپنے بیٹھ رہنے پر خوش ہوئے اور انھوں نے ناپسند کیا کہ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کریں اور انھوں نے کہا اس گرمی میں مت نکلو۔ کہہ دے جہنم کی آگ کہیں زیادہ گرم ہے۔ کاش! وہ سمجھتے ہوتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہنم کی آگ کالی ہے ٭٭
جو لوگ غزوہ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں گئے تھے اور گھروں میں ہی بیٹھنے پر اکڑ رہے تھے، جنہیں اللہ کی راہ میں مال و جان سے جہاد کرنا مشکل معلوم ہوتا تھا، جنہوں نے ایک دوسرے کے کان بھرے تھے کہ اس گرمی میں کہاں نکلو گے؟ ایک طرف پھر پکے ہوئے ہیں سائے بڑھے ہوئے ہیں دوسری جانب لو کے تھپیڑے چل رہے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے کہ جہنم کی آگ جس کی طرف تم اپنی اس بد کرداری سے جا رہے ہو وہ اس گرمی سے زیادہ بڑھی ہوئی حرارت اپنے اندر رکھتی ہے یہ آگ تو اس آگ کا سترواں حصہ ہے، جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے ۱؎ [صحیح بخاری:3265] اور روایت میں ہے کہ تمہاری یہ آگ آتش دوزخ کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہے پھر بھی یہ سمندر کے پانی میں دو دفعہ بجھائی ہوئی ہے ورنہ تم اس سے کوئی فائدہ حاصل نہ کر سکتے۔ ۱؎ [مسند احمد:244/2:صحیح] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایک ہزار سال تک آتش دوزخ دھونکی گئی تو سرخ ہو گئی ایک ہزار سال جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک دھونکی گئی پس وہ اندھیری رات جیسی سخت سیاہ ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2591،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ایک بار آپ نے آیت «وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ» ۱؎ [66-التحريم:6] کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ایک ہزار سال تک جلائے جانے سے وہ سفید پڑ گئی پھر ایک ہزار سال تک بھڑکانے سے سرخ ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک دھونکے جانے سے سیاہ ہو گئی پس وہ سیاہ رات جیسی ہے اس کے شعلوں میں بھی چمک نہیں۔“ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:799:ضعیف] ایک حدیث میں ہے کہ اگر دوزخ کی آگ کی ایک چنگاری مشرق میں ہو تو اس کی حرارت مغرب تک پہنچ جائے۔ ابو یعلیٰ کی ایک غریب روایت میں ہے کہ اگر اس مسجد میں ایک لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ آدمی ہوں اور کوئی جہنمی یہاں آ کر سانس لے تو اس کی گرمی سے مسجد اور مسجد والے سب جل جائیں۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:6670:ضعیف]
اور حدیث میں ہے کہ سب سے ہلکے عذاب والا دوزخ میں وہ ہو گا جس کے دونوں پاؤں میں دو جوتیاں آگ کے تسمے سمیت ہوں گی جس سے اس کی کھوپڑی ابل رہی ہو گی، اور وہ سمجھ رہا ہو گا کہ سب سے زیادہ سخت عذاب اسی کو ہو رہا ہے حالانکہ دراصل سب سے ہلکا عذاب اسی کا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6562] قرآن فرماتا ہے کہ وہ آگ ایسی شعلہ زن ہے جو کھال اتار دیتی ہے۔ اور آیتوں میں ہے کہ ان کے سروں پر کھولتا ہوا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کے پیٹ کی تمام چیزیں اور ان کے کھالیں جھلس جائیں گی پھر لوہے کے ہتھوڑوں سے ان کے سر کچلے جائیں گے وہ جب وہاں سے نکلنا چاہیں گے اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ جلنے کا عذاب چکھو۔ ایک اور آیت میں ہے کہ جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے انکار کیا انہیں ہم بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیں گے، ان کی کھالیں جھلستی جائیں گی اور ہم اور اور بدلتے جائیں گے کہ وہ خوب عذاب چکھیں۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:4134:ضعیف] اس آیت میں بھی فرمایا ہے کہ اگر انہیں سمجھ ہوتی تو وہ جان لیتے کہ جہنم کی آگ کی گرمی اور تیزی بہت زیادہ ہے تو یقیناً یہ باوجود موسم گرمی کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں خوشی خوشی نکلتے اور اپنے جان و مال کو اللہ کی راہ میں فدا کرنے پر تل جاتے۔ عرب کا شاعر کہتا ہے کہ تو نے اپنی عمر سردی گرمی سے بچنے کی کوشش میں گذار دی حالانکہ تجھے لائق تھا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بچتا کہ جہنم کی آگ سے بچ جائے۔ اب اللہ تعالیٰ ان بدباطن منافقوں کو ڈرا رہا ہے کہ تھوڑی سی زندگی میں یہاں تو جتنا چاہیں ہنس لیں۔
لیکن اس آنے والی زندگی میں ان کے لیے رونا ہے جو کبھی ختم نہ ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ لوگو روؤ اور رونا نہ آئے تو زبردستی روؤ جہنمی روئیں گے یہاں تک کہ ان کے رخساروں پر نہر جیسے گڑھے پڑ جائیں گے آخر آنسو ختم ہو جائیں گے اب آنکھیں خون برسانے لگیں گی ان کی آنکھوں سے اس قدر آنسو اور خون بہا ہو گا کہ اگر کوئی اس میں کشتی چلانی چاہے تو چلا سکتا ہے۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:4134:ضعیف] اور حدیث میں ہے کہ جہنمی جہنم میں روئیں گے اور خوب روتے رہیں گے، آنسو ختم ہونے کے بعد پیپ نکلنا شروع ہو گا۔ اس وقت دوزخ کے داروغے ان سے کہیں گے اے بدبخت! رحم کی جگہ تو تم کبھی ہو نہ روئے اب یہاں کا رونا دھونا لاحاصل ہے، اب یہ اونچی آوازوں سے چلا چلا کر جنتیوں سے فریاد کریں گے کہ تم لوگ ہمارے رشتے کنبے کے ہو سنو! ہم قبروں سے پیاسے اٹھے تھے پھر میدان محشر میں بھی پیاسے ہی رہے اور آج تک یہاں بھی پیاسے ہی ہیں ہم پر رحم کرو کچھ پانی ہمارے حلق میں چھو دو یا جو روزی اللہ تعالیٰ نے تمہیں دی ہے اس میں سے ہی تھوڑا بہت ہمیں دے دو۔ چالیس سال تک کتوں کی طرح چیختے رہیں گے چالیس سال کے بعد انہیں جواب ملے گا کہ تم یونہی دھتکارے ہوئے بھوکے پیاسے ہی ان سڑیل اور اٹل سخت عذابوں میں پڑے رہو۔ اب یہ تمام بھلائیوں سے مایوس ہو جائیں گے۔
81۔ 1 یہ منافقین کا ذکر ہے جو تبوک میں نہیں گئے اور جھو ٹے عذر پیش کر کے اجازت حاصل کرلی۔ خلاف کے معنی ہیں پیچھے یا مخالفت۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانے کے بعد آپ کے پیچھے یا آپ کی مخالفت میں مدینہ میں بیٹھے رہے۔ 81۔ 2 یعنی اگر ان کو یہ علم ہوتا کہ جہنم کی آگ کی گرمی کے مقابلے میں، دنیا کی گرمی کوئی حیثیت نہیں رکھتی، تو وہ کبھی پیچھے نہ رہتے۔ حدیث میں آتا ہے کہ دنیا کی یہ آگ جہنم کی آگ کا 70 واں حصہ ہے۔ یعنی جہنم کی آگ کی شدت دنیا کی آگ سے 69 حصے زیادہ ہے (صحیح بخاری)
(آیت81) ➊ {فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ …:} منافقین کے مختلف احوال اور ان کی سازشوں اور منصوبوں کے طویل ذکر کے بعد اب خصوصاً ان منافقین کا ذکر شروع ہوتا ہے جو جنگ تبوک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہ گئے بلکہ جھوٹے عذر پیش کرکے اجازت لی اور مدینہ منورہ میں ٹھہرے رہے، ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے{ ” الْمُخَلَّفُوْنَ“} کا لفظ استعمال کیا ہے ”وہ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے“ یعنی وہ خوش نہ ہوں کہ یہ ان کا کارنامہ ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں گئے اور آرام کے ساتھ مدینہ کے اندر گھروں میں رہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انھیں اللہ کی طرف سے جانے کی توفیق ہی نہیں ملی اور وہ اس کی جناب سے دھکیلے ہوئے پیچھے چھوڑ دیے گئے۔ ان کی حیثیت اس ردی سامان کی ہے جو ساتھ نہیں لے جایا جاتا، بلکہ پھینک دیا جاتا ہے، یا پیچھے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ➋ { وَ كَرِهُوْۤا اَنْ يُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ …:} کیونکہ اللہ کی خاطر خوشی سے مال و جان کی قربانی ایمان کے بغیر نہیں دی جا سکتی، جس سے یہ محروم ہیں۔ اس میں نکلنے والے مومنوں کی دلی کیفیت اور ان کی تعریف بھی ظاہر ہے کہ وہ کس خوشی سے نکلے۔ ➌ {وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِي الْحَرِّ …:} یعنی صرف خود ہی نہیں دوسروں کو گرمی کی شدت اور لمبے سفر کی صعوبتوں سے ڈرا کر پیچھے رکھنے کی کوشش کرتے رہے، کیونکہ یہ سفر سخت گرمی کے موسم میں پیش آیا تھا۔ زمخشری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ان کی جہالت کا نتیجہ قرار دیا کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ آدمی تھوڑی سی تکلیف برداشت کرنے سے اگر ہمیشہ کی ناقابل برداشت تکلیف سے بچ رہا ہو تو کوئی جاہل بلکہ اجہل ہی ہو گا جو وہ تھوڑی سی تکلیف برداشت نہ کرے اور ہمیشہ کی سخت ترین تکلیف برداشت کرنا پسند کرلے۔ اسی طرح انھیں معلوم ہی نہیں کہ اصل گرمی کیا ہوتی ہے، ورنہ اگر وہ جہنم کی گرمی سے آگاہ ہوتے اور ان کا اس پر ایمان ہوتا تو وہ دنیا کی شدید سے شدید گرمی کی بھی پروا نہ کرتے۔ {”لَوْ كَانُوْا يَفْقَهُوْنَ “} کا یہی مطلب ہے، کیونکہ جہنم کا ایک غوطہ دنیا کی تمام لذتیں بھلا دے گا۔ [ مسلم: ۲۸۰۷ ] اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھاری آگ جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔“ آپ سے کہا گیا: ”یا رسول اللہ! یقینا وہی کافی تھی۔“ فرمایا: ”وہ ان (آگوں) سے انہتر (۶۹) حصے زیادہ کر دی گئی ہے اور وہ سب اس کی گرمی کی طرح ہیں۔“ [ بخاری، بدء الخلق، باب صفۃ النار و أنہا مخلوقۃ: ۳۲۶۵۔ مسلم: ۲۸۴۳ ]
اب چاہیے کہ یہ لوگ ہنسنا کم کریں اور روئیں زیادہ، اس لیے کہ جو بدی یہ کماتے رہے ہیں اس کی جزا ایسی ہی ہے (کہ انہیں اس پر رونا چاہیے)
مولانا محمد جوناگڑھی
پس انہیں چاہئے کہ بہت کم ہنسیں اور بہت زیاده روئیں بدلے میں اس کے جو یہ کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
تو انہیں چاہیے تھوڑا ہنسیں اور بہت روئیں بدلہ اس کا جو کماتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
ان (برے) کاموں کے بدلہ میں جو یہ لوگ کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ اب وہ ہنسیں کم اور روئیں زیادہ۔
عبدالسلام بن محمد
پس وہ بہت کم ہنسیں اور بہت زیادہ روئیں، اس کے بدلے جو وہ کمائی کرتے رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہنم کی آگ کالی ہے ٭٭
جو لوگ غزوہ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں گئے تھے اور گھروں میں ہی بیٹھنے پر اکڑ رہے تھے، جنہیں اللہ کی راہ میں مال و جان سے جہاد کرنا مشکل معلوم ہوتا تھا، جنہوں نے ایک دوسرے کے کان بھرے تھے کہ اس گرمی میں کہاں نکلو گے؟ ایک طرف پھر پکے ہوئے ہیں سائے بڑھے ہوئے ہیں دوسری جانب لو کے تھپیڑے چل رہے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے کہ جہنم کی آگ جس کی طرف تم اپنی اس بد کرداری سے جا رہے ہو وہ اس گرمی سے زیادہ بڑھی ہوئی حرارت اپنے اندر رکھتی ہے یہ آگ تو اس آگ کا سترواں حصہ ہے، جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے ۱؎ [صحیح بخاری:3265] اور روایت میں ہے کہ تمہاری یہ آگ آتش دوزخ کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہے پھر بھی یہ سمندر کے پانی میں دو دفعہ بجھائی ہوئی ہے ورنہ تم اس سے کوئی فائدہ حاصل نہ کر سکتے۔ ۱؎ [مسند احمد:244/2:صحیح] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایک ہزار سال تک آتش دوزخ دھونکی گئی تو سرخ ہو گئی ایک ہزار سال جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک دھونکی گئی پس وہ اندھیری رات جیسی سخت سیاہ ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2591،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ایک بار آپ نے آیت «وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ» ۱؎ [66-التحريم:6] کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ایک ہزار سال تک جلائے جانے سے وہ سفید پڑ گئی پھر ایک ہزار سال تک بھڑکانے سے سرخ ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک دھونکے جانے سے سیاہ ہو گئی پس وہ سیاہ رات جیسی ہے اس کے شعلوں میں بھی چمک نہیں۔“ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:799:ضعیف] ایک حدیث میں ہے کہ اگر دوزخ کی آگ کی ایک چنگاری مشرق میں ہو تو اس کی حرارت مغرب تک پہنچ جائے۔ ابو یعلیٰ کی ایک غریب روایت میں ہے کہ اگر اس مسجد میں ایک لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ آدمی ہوں اور کوئی جہنمی یہاں آ کر سانس لے تو اس کی گرمی سے مسجد اور مسجد والے سب جل جائیں۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:6670:ضعیف]
اور حدیث میں ہے کہ سب سے ہلکے عذاب والا دوزخ میں وہ ہو گا جس کے دونوں پاؤں میں دو جوتیاں آگ کے تسمے سمیت ہوں گی جس سے اس کی کھوپڑی ابل رہی ہو گی، اور وہ سمجھ رہا ہو گا کہ سب سے زیادہ سخت عذاب اسی کو ہو رہا ہے حالانکہ دراصل سب سے ہلکا عذاب اسی کا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6562] قرآن فرماتا ہے کہ وہ آگ ایسی شعلہ زن ہے جو کھال اتار دیتی ہے۔ اور آیتوں میں ہے کہ ان کے سروں پر کھولتا ہوا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کے پیٹ کی تمام چیزیں اور ان کے کھالیں جھلس جائیں گی پھر لوہے کے ہتھوڑوں سے ان کے سر کچلے جائیں گے وہ جب وہاں سے نکلنا چاہیں گے اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ جلنے کا عذاب چکھو۔ ایک اور آیت میں ہے کہ جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے انکار کیا انہیں ہم بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیں گے، ان کی کھالیں جھلستی جائیں گی اور ہم اور اور بدلتے جائیں گے کہ وہ خوب عذاب چکھیں۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:4134:ضعیف] اس آیت میں بھی فرمایا ہے کہ اگر انہیں سمجھ ہوتی تو وہ جان لیتے کہ جہنم کی آگ کی گرمی اور تیزی بہت زیادہ ہے تو یقیناً یہ باوجود موسم گرمی کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں خوشی خوشی نکلتے اور اپنے جان و مال کو اللہ کی راہ میں فدا کرنے پر تل جاتے۔ عرب کا شاعر کہتا ہے کہ تو نے اپنی عمر سردی گرمی سے بچنے کی کوشش میں گذار دی حالانکہ تجھے لائق تھا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بچتا کہ جہنم کی آگ سے بچ جائے۔ اب اللہ تعالیٰ ان بدباطن منافقوں کو ڈرا رہا ہے کہ تھوڑی سی زندگی میں یہاں تو جتنا چاہیں ہنس لیں۔
لیکن اس آنے والی زندگی میں ان کے لیے رونا ہے جو کبھی ختم نہ ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ لوگو روؤ اور رونا نہ آئے تو زبردستی روؤ جہنمی روئیں گے یہاں تک کہ ان کے رخساروں پر نہر جیسے گڑھے پڑ جائیں گے آخر آنسو ختم ہو جائیں گے اب آنکھیں خون برسانے لگیں گی ان کی آنکھوں سے اس قدر آنسو اور خون بہا ہو گا کہ اگر کوئی اس میں کشتی چلانی چاہے تو چلا سکتا ہے۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:4134:ضعیف] اور حدیث میں ہے کہ جہنمی جہنم میں روئیں گے اور خوب روتے رہیں گے، آنسو ختم ہونے کے بعد پیپ نکلنا شروع ہو گا۔ اس وقت دوزخ کے داروغے ان سے کہیں گے اے بدبخت! رحم کی جگہ تو تم کبھی ہو نہ روئے اب یہاں کا رونا دھونا لاحاصل ہے، اب یہ اونچی آوازوں سے چلا چلا کر جنتیوں سے فریاد کریں گے کہ تم لوگ ہمارے رشتے کنبے کے ہو سنو! ہم قبروں سے پیاسے اٹھے تھے پھر میدان محشر میں بھی پیاسے ہی رہے اور آج تک یہاں بھی پیاسے ہی ہیں ہم پر رحم کرو کچھ پانی ہمارے حلق میں چھو دو یا جو روزی اللہ تعالیٰ نے تمہیں دی ہے اس میں سے ہی تھوڑا بہت ہمیں دے دو۔ چالیس سال تک کتوں کی طرح چیختے رہیں گے چالیس سال کے بعد انہیں جواب ملے گا کہ تم یونہی دھتکارے ہوئے بھوکے پیاسے ہی ان سڑیل اور اٹل سخت عذابوں میں پڑے رہو۔ اب یہ تمام بھلائیوں سے مایوس ہو جائیں گے۔
28۔ 1 قلیلا اور کثیرا یا تو مصدریت (یعنی ضحکا اور بکآء اکثیرا یا ظرفیت یعنی (زمانا قلیلا و زمانا کثیرا) کی بنیاد پر منصوب ہے اور امر کے دونوں صیغے بمعنی خبر ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہنسیں گے تو تھوڑا اور روئیں گے بہت زیادہ۔
(آیت82) {فَلْيَضْحَكُوْا قَلِيْلًا وَّ لْيَبْكُوْا كَثِيْرًا:} کیونکہ دنیا آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے، فانی اور باقی کا کیا مقابلہ؟ اس لیے ان کا ہنسنا بہت ہی کم عرصے کے لیے اور رونا بے حد وحساب مدت کے لیے ہے جس کی انتہا ہی نہیں۔ یہ بظاہر حکم ہے مگر منافقین حکم ماننے والے کب تھے، اس لیے یہ امر کے الفاظ میں خبر دی جا رہی ہے، یعنی یہ لوگ بہت کم ہنسیں گے اور بہت زیادہ روئیں گے۔ {” جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ “} سے اس امر کے بمعنی خبر ہونے کی تائید ہوتی ہے۔ اس میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ خبر میں تو صدق و کذب کا بھی احتمال ہوتا ہے، مگر انشاء (امر و نہی) میں اس کا احتمال ہی نہیں ہوتا، وہ حتمی ہوتی ہے (اگرچہ اللہ تعالیٰ کی خبر میں بھی کذب کا احتمال نہیں)۔ (المنار) اسی آیت کی ہم معنی وہ حدیث ہے کہ اگر تم وہ کچھ جان لو جو میں جانتا ہوں تو یقینا تم بہت کم ہنسو اور بہت زیادہ روؤ۔ [ بخاری، الکسوف، باب الصدقۃ فی الکسوف: ۱۰۴۴ ]
اگر اللہ ان کے درمیان تمہیں واپس لے جائے اور آئندہ ان میں سے کوئی گروہ جہاد کے لیے نکلنے کی تم سے اجازت مانگے تو صاف کہہ دینا کہ، "اب تم میرے ساتھ ہرگز نہیں چل سکتے اور نہ میری معیت میں کسی دشمن سے لڑ سکتے ہو، تم نے پہلے بیٹھ ر ہنے کو پسند کیا تھا تو اب گھر بیٹھنے والوں ہی کے ساتھ بیٹھے رہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
پس اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ان کی کسی جماعت کی طرف لوٹا کر واپس لے آئے پھر یہ آپ سے میدان جنگ میں نکلنے کی اجازت طلب کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ تم میرے ساتھ ہرگز چل نہیں سکتے اور نہ میرے ساتھ تم دشمنوں سے لڑائی کر سکتے ہو۔ تم نے پہلی مرتبہ ہی بیٹھ رہنے کو پسند کیا تھا پس تم پیچھے ره جانے والوں میں ہی بیٹھے رہو
احمد رضا خان بریلوی
پھر اے محبوب! اگر اللہ تمہیں ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے جائے اور وہ تم سے جہاد کو نکلنے کی اجازت مانگے تو تم فرمانا کہ تم کبھی میرے ساتھ نہ چلو اور ہرگز میرے ساتھ کسی دشمن سے نہ لڑو، تم نے پہلی دفعہ بیٹھ رہنا پسند کیا تو بیٹھ رہو پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ
علامہ محمد حسین نجفی
(اے نبی(ص)) اگر اللہ آپ کو واپس لائے ان کے کسی گروہ کی طرف۔ اور وہ آپ سے جہاد کے لیے نکلنے کی اجازت مانگے تو کہہ دیجیے کہ اب تم میرے ساتھ کبھی نہیں نکل سکتے۔ اور میرے ہمراہ ہو کر کبھی دشمن سے جنگ نہیں کر سکتے تم نے پہلی بار (گھر میں) بیٹھ رہنا پسند کیا۔ تو اب بھی بیٹھے رہو پیچھے رہ جانے والوں (بچوں اور عورتوں) کے ساتھ۔
عبدالسلام بن محمد
پس اگر اللہ تجھے ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے آئے، پھر وہ تجھ سے (جنگ کے لیے) نکلنے کی اجازت طلب کریں تو کہہ دے تم میرے ساتھ کبھی نہیں نکلو گے اور میرے ساتھ مل کر کبھی کسی دشمن سے نہیں لڑو گے۔ بے شک تم پہلی مرتبہ بیٹھ رہنے پر خوش ہوئے، سو پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مکاروں کی سزا ٭٭
فرمان ہے کہ جب اللہ تعالیٰ تجھے سلامتی کے ساتھ اس غزوے سے واپس مدینے پہنچا دے اور ان میں سے کوئی جماعت تجھ سے کسی اور غزوے میں تیرے ساتھ چلنے کی درخواست کرے تو بطور ان کو سزا دینے کے تو صاف کہ دینا کہ نہ تو تم میرے ساتھ والوں میں میرے ساتھ چل سکتے ہو نہ تم میری ہمراہی میں دشمنوں سے جنگ کر سکتے ہو، تم جب موقعہ پر دغا دے گئے اور پہلی مرتبہ ہی بیٹھ رہے تو اب تیاری کے کیا معنی؟ پس یہ آیت مثل آیت «وَنُقَلِّبُ اَفْــــِٕدَتَهُمْ وَاَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوْا بِهٖٓ اَوَّلَ مَرَّةٍ» ۱؎ [6-الانعام:110] الخ کے ہے۔ بدی کا برا بدلہ بدی کے بعد ملتا ہے جیسے کہ نیکی کی جزا بھی نیکی کے بعد ملتی ہے۔ عمرہ حدیبیہ کے وقت قرآن نے فرمایا تھا۔ ۱؎ «سَيَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْــطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ» [48-الفتح:15] الخ یعنی یہ پیچھے رہ جانے والے لوگ تم سے جب تم غنیمتیں لینے چلو گے کہیں گے کہ ہمیں اجازت دو ہم بھی تمہارے ساتھ ہو لیں، یہاں فرمایا کہ ان سے کہ دینا کہ بیٹھ رہنے والوں میں ہی تم بھی رہو، جو عورتوں کی طرح گھروں میں گھسے رہتے ہیں۔
83۔ 1 منافقین کی جماعت مراد ہے۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ آپ کو صحیح سلامت تبوک سے مدینہ واپس لے آئے جہاں یہ پیچھے رہ جانے والے منافقین بھی ہیں۔ 83۔ 2 یعنی کسی اور جنگ کے لئے، ساتھ جانے کی خواہش ظاہر کریں۔ 83۔ 3 یہ آئندہ ساتھ نہ لے جانے کی علت ہے کہ تم پہلی مرتبہ ساتھ نہیں گئے۔ لہذا اب تم اس لائق نہیں کہ تمہیں کسی بھی جنگ میں ساتھ لے جایا جائے۔ 83۔ 4 یعنی اب تمہاری اوقات یہی ہے کہ تم عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے ساتھ ہی بیٹھے رہو، جو جنگ میں شرکت کرنے کے بجائے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہدایت اس لئے دی گئی ہے تاکہ ان کے اس ہم و غم اور حسرت میں اور اضافہ ہو جو انہیں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے تھا۔
(آیت83) ➊ {فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآىِٕفَةٍ مِّنْهُمْ:} ”اگر اللہ تجھے ان کے کسی گروہ کی طرف واپس لے آئے۔“ {”رَجَعَ“} لازم اور متعدی دونوں طرح آتا ہے، یعنی لوٹنا اور لوٹانا، یہاں متعدی کے معنی میں ہے۔ یعنی جو جنگ تبوک کے لیے نہیں نکلے تھے بلکہ گھروں میں بیٹھے رہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو آئندہ انھیں اپنے ساتھ لے جانے اور اپنے ہمراہ لڑانے سے منع فرما دیا، اس لیے کہ ان کا اعتبار اٹھ گیا۔ جب وہ مشکل وقت میں ساتھ نہیں گئے تو آسان وقت میں بھی کیوں جائیں، جیسا کہ سورۂ فتح میں حدیبیہ کے لیے نہ جانے والے اعراب کو خیبر کی فتح میں شرکت سے منع فرما دیا۔ دیکھیے سورۂ فتح (۱۱ تا ۱۵) مگر وہاں ہمیشہ کے لیے منع نہیں فرمایا، جبکہ تبوک سے پیچھے رہنے والے منافقین کو ہمیشہ کے لیے ساتھ لے جانے سے منع فرما دیا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو فرمایا کہ ”اگر پھر لے جائے تجھے اللہ کسی فرقہ کی طرف“ وہ اس واسطے کہ یہ آیت سفر میں نازل ہوئی۔ یہ لوگ مدینہ میں منافق تھے اور فرقے اس واسطے فرمایا کہ بعض منافق پیچھے مر گئے اور سب بیٹھنے والے منافق نہ تھے، بعض مسلمان بھی تھے، ان کی تقصیر معاف ہوئی۔ (موضح) ➋ {فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِيْنَ:} یعنی پہلی مرتبہ کی طرح اب بھی ان لوگوں کے ساتھ ہی بیٹھے رہو جو بے عذر گھروں میں رہ گئے یا معذوروں کے ساتھ بیٹھے رہے، جیسے عورتیں، بچے، بوڑھے، بیمار اور اپاہج وغیرہ۔
اور آئندہ ان میں سے جو کوئی مرے اس کی نماز جنازہ بھی تم ہرگز نہ پڑھنا اور نہ کبھی اس کی قبر پر کھڑے ہونا کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسولؐ کے ساتھ کفر کیا ہے اور وہ مرے ہیں اس حال میں کہ وہ فاسق تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان میں سے کوئی مر جائے تو آپ اس کے جنازے کی ہرگز نماز نہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔ یہ اللہ اور اس کے رسول کے منکر ہیں اور مرتے دم تک بدکار بے اطاعت رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا، بیشک اللہ اور رسول سے منکر ہوئے اور فسق ہی میں مر گئے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان میں سے جو کوئی مر جائے تو اس کی نمازِ جنازہ نہ پڑھیں اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔ بلاشبہ انہوں نے خدا و رسول کے ساتھ کفر کیا اور وہ فسق و نافرمانی کی حالت میں مرے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان میں سے جو کوئی مر جائے اس کا کبھی جنازہ نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا، بے شک انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اس حال میں مرے کہ وہ نافرمان تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافقوں کا جنازہ ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! تم منافقوں سے بالکل بے تعلق ہو جاؤ۔ ان میں سے کوئی مر جائے تو تم نہ اس کے جنازے کی نماز پڑھو نہ اس کی قبر پر جا کر اس کے لیے دعائے استغفار کرو، اس لیے کہ یہ کفر و فسق پر زندہ رہے اور اسی پر مرے۔ یہ حکم تو عام ہے گو اس کا شان نزول خاص عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں ہے۔ جو منافقوں کا رئیس اور امام تھا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ اس کے مرنے پر اس کے صاحبزادے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ میرے باپ کے کفن کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاص اپنا پہنا ہوا کرتا عنایت فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دے دیا۔ پھر کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس کے جنازے کی نماز پڑھائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ درخواست بھی منظور فرمالی اور نماز پڑھانے کے ارادے سے اٹھے۔ لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن تھام لیا اور عرض کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اس کے جنازے کی نماز پڑھائیں گے؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے فرمایا ہے کہ تو ان کے لیے استغفار کر یا نہ کر اگر تو ان کے لیے ستر مرتبہ استغفار کرے گا تو بھی اللہ تعالیٰ انہیں نہیں بخشے گا۔ تو میں ستر مرتبہ سے بھی زیادہ استغفار کروں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ منافق تھا۔ تاہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جنازے کی نماز پڑھائی اس پر یہ آیت اتری۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4670] ایک اور روایت میں ہے کہ اس نماز میں صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں تھے۔ اور روایت میں ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز کے لیے کھڑے ہو گئے تو میں صف میں سے نکل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا اور کہا کہ ”کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دشمن رب عبداللہ بن ابی کے جنازے کی نمازیں پڑھائیں گے؟ حالانکہ فلاں دن اس نے یوں کہا اور فلاں دن یوں کہا۔“ اس کی وہ تمام باتیں دہرائیں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے ہوئے سب سنتے رہے آخر میں فرمایا: ”عمر! مجھے چھوڑ دے، اللہ تعالیٰ نے استغفار کا مجھے اختیار دیا ہے اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار ان کے گناہ معاف کرا سکتا ہے تو میں یقیناً ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کروں گا۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز بھی پڑھائی جنازے کے ساتھ بھی چلے دفن میں بھی موجود رہے۔ اس کے بعد مجھے اپنی اس گستاخی پر بہت ہی افسوس ہونے لگا کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوب علم والے ہیں میں نے ایسی اور اس قدر جرأت کیوں کی؟ کچھ ہی دیر ہوئی ہوگی جو یہ دونوں آیتیں نازل ہوئیں۔ اس کے بعد آخر دم تک نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی منافق کے جنازے کی نماز پڑھی نہ اس کی قبر پر آ کر دعا کی۔ ۱؎ [مسند احمد:16/1:صحیح] اور روایت میں ہے کہ اس کے صاحبزادے رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی کہا تھا کہ ”اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہ لائے تو ہمیشہ کیلئے یہ بات ہم پر رہ جائے گی۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو اسے قبر میں اتار دیا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے پہلے مجھے کیوں نہ لائے“؟ چنانچہ وہ قبر سے نکالا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سارے جسم پر تھتکار کر دم کیا اور اسے اپنا کرتہ پہنایا۔ ۱؎ [مسند احمد:371/3:صحیح] اور روایت میں ہے کہ وہ خود یہ وصیت کر کے مرا تھا کہ اس کے جنازے کی نماز خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھائیں۔ اس کے لڑکے نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی آرزو اور اس کی آخری وصیت کی بھی خبر کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ ”اس کی وصیت یہ بھی ہے کہ اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیراہن میں کفنایا جائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جنازے کی نماز سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام یہ آیتیں لے کر اترے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1524،قال الشيخ الألباني:منکر بذکر الوصیۃ]
اور روایت میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن تان کر نماز کے ارادے کے وقت یہ آیت سنائی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17068:ضعیف] لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔ اور روایت میں ہے اس نے اپنی بیماری کے زمانے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور جا کر فرمایا کہ ”یہودیوں کی محبت نے تجھے تباہ کر دیا۔“ اس نے کہا:: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ وقت ڈانٹ ڈپٹ کا نہیں بلکہ میری خواہش ہے کہ آپ میرے لیے دعا استغفار کریں میں مر جاؤں تو مجھے اپنے پیرہن میں کفنائیں۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17073:ضعیف] بعض سلف سے مروی ہے کہ کرتہ دینے کی وجہ یہ تھی کہ جب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آئے تو ان کے جسم پر کسی کا کپڑا ٹھیک نہیں آیا آخر اس کا کرتا لیا وہ ٹھیک آ گیا یہ بھی لمبا چوڑا چوڑی چکلی ہڈی کا آدمی تھا پس اس کے بدلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے کفن کے لیے اپنا کرتا عطا فرمایا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3008] اس آیت کے اترنے کے بعد نہ تو کسی منافق کے جنازے کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی۔ نہ کسی کے لیے استغفار کیا۔ مسند احمد میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی جنازے کی طرف بلایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھ لیتے اگر لوگوں سے بھلائیاں معلوم ہوتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جا کر اس کے جنازے کی نماز پڑھاتے اور اگر کوئی ایسی ویسی بات کان میں پڑتی تو صاف انکار کر دیتے۔ ۱؎ [مسند احمد:299/5:صحیح] سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا طریقہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ رہا کہ جس کے جنازے کی نماز سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہا پڑھتے اس کے جنازے کی نماز آپ بھی پڑھتے جس کی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نہ پڑھتے آپ بھی نہ پڑھتے اس لیے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقوں کے نام گنوا دیئے تھے اور صرف انہی کو یہ نام معلوم تھے اسی بناء پر انہیں راز دار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا جاتا تھا۔
بلکہ ایک مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک شخص کے جنازے کی نماز کے لیے کھڑا ہونے لگے تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے چٹکی لے کر انہیں روک دیا۔ جنازے کی نماز اور استغفار ان دونوں چیزوں سے منافقوں کے بارے میں مسلمانوں کو روک دینا یہ دلیل ہے اس امر کی کہ مسلمانوں کے بارے میں ان دونوں چیزوں کی پوری تاکید ہے ان میں مردوں کے لیے بھی پورا نفع ہے اور زندوں کے لیے بھی کامل ثواب ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو جنازے میں جائے اور نماز پڑھی جانے تک ساتھ رہے اسے ایک قیراط کا ثواب ملتا ہے اور جو دفن تک ساتھ رہے اسے دو قیراط ملتے ہیں، پوچھا گیا کہ قیراط کیا ہے؟ فرمایا: ”سب سے چھوٹا قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوتا ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:1325] اسی طرح یہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ میت کے دفن سے فارغ ہو کر وہیں اس کی قبر کے پاس ٹھہر کر حکم فرماتے کہ اپنے ساتھی کے لیے استغفار کرو اس کے لیے ثابت قدمی کی دعا کرو اس سے اس وقت سوال و جواب ہو رہا ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3221،قال الشيخ الألباني:صحیح]
84۔ 1 یہ آیت اگرچہ رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کے بارے میں نازل ہوئی۔ لیکن اس کا حکم عام ہے ہر شخص جس کی موت کفر و نفاق پر ہو وہ اس میں شامل ہے۔ اس کا شان نزول یہ ہے کہ جب عبد اللہ بن ابی کا انتقال ہوگیا تو اس کے بیٹے عبد اللہ (جو مسلمان اور باپ ہی کا ہم نام تھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ آپ (بطور تبرک) اپنی قمیض عنایت فرما دیں تاکہ میں اپنے باپ کو کفنا دوں۔ دوسرا آپ اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں۔ آپ نے قمیض بھی عنایت فرما دی اور نماز جنازہ پڑھانے کے لئے تشریف لے گئے۔ حضرت عمر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی نماز جنازہ پڑھانے سے روکا ہے، آپ کیوں اس کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے ' یعنی روکا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ' اگر تو ستر مرتبہ بھی ان کے لئے استغفار کرے گا تو اللہ تعالیٰ انہیں معاف نہیں فرمائے گا، تو میں ستر مرتبہ سے زیادہ ان کے لئے استغفار کرلوں گا ' چناچہ آپ نے نماز جنازہ پڑھا دی۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر آئندہ کے لئے منافقین کے حق میں دعائے مغفرت کی قطعی ممانعت فرما دی (صحیح بخاری) 84۔ 2 یہ نماز جنازہ اور دعائے مغفرت نہ کرنے کی علت ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے جن لوگوں کا خاتمہ کفر و فسق پر ہو، ان کی نہ نماز جنازہ پڑھنی چاہے اور نہ ان کے لئے مغفرت کی دعا کرنا جائز ہے۔ ایک حدیث میں تو یہاں تک آتا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان پہنچے تو معلوم ہوا کہ عبد اللہ بن ابی کو دفنایا جا چکا ہے، چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبر سے نکلوایا اور اپنے گھٹنوں پر رکھ کر اپنا لعاب دہن تھوکا، اپنی قمیض اسے پہنائی (صحیح بخاری) جس سے معلوم ہوا کہ جو ایمان سے محروم ہوگا اسے دنیا کی بڑی سے بڑی شخصیت کی دعائے مغفرت اور کسی کی شفاعت بھی کوئی فائدہ نہ پہنچاسکے گی۔
(آیت84) {وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا …:} ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب عبد اللہ بن ابی فوت ہوا تو اس کا بیٹا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کہ مجھے اپنی قمیص دیجیے کہ میں اسے اس میں کفن دوں اور آپ اس پر جنازہ پڑھیں اور اس کے لیے بخشش کی دعا فرمائیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی قمیص دی اور فرمایا: ”مجھے اطلاع دینا، تاکہ میں اس کا جنازہ پڑھوں۔“ اس نے اطلاع دی اور جب آپ نے اس پر جنازے کا ارادہ کیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو کھینچ لیا اور کہا، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین کا جنازہ پڑھنے سے منع نہیں فرمایا؟ آپ نے فرمایا: ”مجھے دو اختیار ہیں: «اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ» [ التوبۃ: ۸۰ ] (ان کے لیے بخشش مانگ یا ان کے لیے بخشش نہ مانگ)۔“ سو آپ نے اس کا جنازہ پڑھا تو یہ آیت اتری: «وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا» [ بخاری، الجنائز، باب ما یکرہ من الصلوۃ علی المنافقین…: ۱۳۶۶۔ مسلم: ۲۴۰۰ ] اب جو شخص کلمہ پڑھ کر صریح شرک کرتا ہے اور غیر اللہ سے وہ مدد مانگتا ہے جو اللہ کے سوا کسی کے اختیار ہی میں نہیں، یا کلمہ کے بعد مسلمان ہونے کی پہلی شناخت نماز ہی اس میں نہیں پائی جاتی، یا وہ صاف اللہ تعالیٰ کی حدود کو وحشیانہ سزائیں کہتا ہے، یا اللہ تعالیٰ کے احکام کا مذاق اڑاتا ہے، یا اس زمانے میں انھیں ناقابل عمل کہتا ہے، اس کا جنازہ پڑھنا کیسے درست ہو سکتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میت کو جنازے کے بعد دفن کرکے قبر پر کھڑے ہو کر دعا مانگتے تھے، مختلف دوسرے اوقات میں وہاں جا کر ان کے لیے دعا کرتے تھے، منافقین کے متعلق اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بھی منع فرما دیا۔ کیونکہ اس میں منافق، کافر اور مشرک کی تکریم اور عزت افزائی ہے جو اللہ تعالیٰ کو کسی صورت منظور نہیں۔
ان کی مالداری اور ان کی کثرت اولاد تم کو دھوکے میں نہ ڈالے اللہ نے تو ارادہ کر لیا ہے کہ اِس مال و اولاد کے ذریعہ سے ان کو اسی دنیا میں سزا دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کو ان کے مال واوﻻد کچھ بھی بھلے نہ لگیں! اللہ کی چاہت یہی ہے کہ انہیں ان چیزوں سے دنیوی سزا دے اور یہ اپنی جانیں نکلنے تک کافر ہی رہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ان کے مال یا اولاد پر تعجب نہ کرنا، اللہ یہی چاہتا ہے کہ اسے دنیا م یں ان پر وبال کرے اور کفر ہی پر ان کا دم نکل جائے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان کے مال و اولاد آپ کو حیرت و تعجب میں نہ ڈالیں خدا چاہتا ہے کہ انہی چیزوں کے ذریعہ سے انہیں سزا دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں جب کوئی اس قسم کی سورت نازل ہوتی ہے کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ہمراہ ہو کر جہاد کرو۔ تو ان میں سے جو مقدور والے ہیں وہ آپ سے رخصت مانگتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور تجھے ان کے اموال اور ان کی اولاد تعجب میں نہ ڈالیں، اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ انھیں ان کے ذریعے دنیا میں سزا دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اسی مضمون کی آیت کریمہ گذر چکی ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر بھی بحمد اللہ لکھ دی گئی ہے جس کے دوہرانے کی ضرورت نہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت85) {وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْ …:} اس سے پہلے آیت (۵۵) میں بھی چند الفاظ کے فرق کے ساتھ یہ آیت گزری ہے، یہاں دوبارہ لانے کا مقصد یہ ہے کہ نفاق انھی چیزوں کی محبت اور حرص سے پیدا ہوتا ہے، جیسا کہ سورۂ منافقون میں ان کے اعمال بد کے تذکرے کے بعد آخر میں یہی تلقین فرمائی: «لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ» [المنافقون: ۹ ] ”دیکھنا کہیں تمھارے اموال اور تمھاری اولاد تمھیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں۔“ یہاں بھی گزشتہ آیت کو دوبارہ لانے سے مقصود دنیا کی فراوانی پر رشک سے بچنے کی تاکید اور منافقین کے لیے اموال واولاد کی فراوانی کے ان کے لیے نقصان دہ ہونے کا بیان ہے۔ مزید اسی سورت کی آیت (۵۵) کے حواشی دیکھیے۔
جب کبھی کوئی سورۃ اس مضمون کی نازل ہوئی کہ اللہ کو مانو اور اس کے رسول کے ساتھ جہاد کرو تو تم نے دیکھا کہ جو لوگ ان میں سے صاحب مقدرت تھے وہی تم سے درخواست کرنے لگے کہ انہیں جہاد کی شرکت سے معاف رکھا جائے اور انہوں نے کہا کہ ہمیں چھوڑ دیجیے کہ ہم بیٹھنے والوں کے ساتھ رہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جب کوئی سورت اتاری جاتی ہے تو اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ساتھ مل کر جہاد کرو تو ان میں سے دولت مندوں کا ایک طبقہ آپ کے پاس آکر یہ کہہ کر رخصت لے لیتاہے کہ ہمیں تو بیٹھے رہنے والوں میں ہی چھوڑ دیجئے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب کوئی سورت اترے کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ہمراہ جہاد کرو تو ان کے مقدور والے تم سے رخصت مانگتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں چھوڑ دیجیے کہ بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ ہولیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور کہتے ہیں کہ ہمیں چھوڑ دیں تاکہ ہم گھر میں بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب کوئی سورت اتاری جاتی ہے کہ اللہ پر ایمان لائو اور اس کے رسول کے ساتھ مل کر جہاد کرو تو ان میں سے دولت والے تجھ سے اجازت مانگتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں چھوڑ دے کہ ہم بیٹھے رہنے والوں کے ساتھ رہ جائیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ان لوگوں کی برائی بیان ہو رہی ہے جو وسعت، طاقت، قوت ہوتے ہوئے جہاد کے لیے نہیں نکلتے جی چرا جاتے ہیں اور حکم الہٰی سن کر پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ آ کر اپنے رک رہنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ ان کی بے حمیتی تو دیکھو کہ یہ عورتوں جیسے ہو گئے۔ لشکر چلے گئے یہ نامرد زنانے عورتوں کی طرح پیچھے رہ گئے۔ بوقت جنگ بزدل ڈرپوک اور گھروں میں گھسے رہنے والے اور بوقت امن بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والے، یہ بھونکنے والے کتوں اور گرجنے والے بادلوں کی طرح ڈھول کے پول ہیں۔ چنانچہ ایک اور جگہ خود قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے کہ خوف کے وقت ایسی آنکھیں پھیرنے لگتے ہیں جیسے کوئی مر رہا ہو، اور جہاں وہ موقع گذر گیا لگے چرب زبانی کرنے اور لمبے چوڑے دعوے کرنے اور باتیں بنانے۔ امن کے وقت تو مسلمانوں میں فساد پھلانے لگتے ہیں اور وہ بلند و بانگ بہادری کے ڈھول پیٹتے ہیں کہ کچھ ٹھیک نہیں لیکن لڑائی کے وقت عورتوں کی طرح چوڑیاں پہن کر پردہ نشین بن جاتے ہیں بل اور سوراخ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنے آپ کو چھپاتے پھرتے ہیں۔ ایماندار تو سورت اترنے اور اللہ تعالیٰ کے حکم ہونے کا انتظار کرتے ہیں لیکن بیمار دلوں والے جہاں سورت اتری، اور جہاد کا حکم سنا کہ آنکھیں بند کر لیں۔ ان پر افسوس ہے اور ان کے لیے تباہی خیز مصیبت ہے۔ اگر یہ اطاعت گزار ہوتے اگر ان کی زبان سے اچھی بات نکلتی ان کے ارادے اچھے ہوتے یہ اللہ تعالیٰ کی باتوں کی تصدیق کرتے تو یہی چیز ان کے حق میں بہتر تھی لیکن ان کے دلوں پر تو ان کی بداعمالیوں سے مہر لگ چکی ہے اب تو ان میں اس بات کی صلاحیت بھی نہیں رہی کہ اپنے نفع نقصان کو ہی سمجھ لیں۔
86۔ 1 یہ انہیں منافقین کا ذکر ہے۔ جنہوں نے حیلے تراش کر پیچھے رہنا پسند کیا مراد ہے صاحب حیثیت، مال دار طبقہ۔ یعنی اس طبقے کو پیچھے نہیں رہنا چاہیے تھا، کیونکہ ان کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ موجود تھا، جیسا کہ اگلی آیت میں ان کو خَوَالِفُ کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے خالِفَۃ، کی جمع ہے۔ یعنی پیچھے رہنے والی عورتیں۔
(آیت87،86){ وَ اِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ …: ” سُوْرَةٌ “} آیات کا ایک حصہ، ٹکڑا۔ {” الطَّوْلِ “} کا معنی {” اَلْفَضْلُ وَالْقُدْرَةُ وَالْغِنَي وَالسَّعَةُ “} ہے۔(قاموس) یعنی وسعت و طاقت اور مال و دولت۔ {” الْخَوَالِفِ “} یہ{ ”خَالِفَةٌ“} کی جمع ہے ”پیچھے رہنے والی عورتیں۔“{ ”فَاعِلَةٌ“} کی جمع {”فَوَاعِلُ“} آتی ہے، جیسے{ ”قَاطِعَةٌ “ } کی جمع {”قَوَاطِعُ“} اور {”ضَارِبَةٌ “ } کی جمع {”ضَوَارِبُ“} اور {”قَافِلَةٌ“} کی جمع { ”قَوَافِلُ“} یعنی جہاد کے حکم والی آیات کا کوئی حصہ اترنے پر وہ لوگ عذر کریں جن کے پاس کچھ نہیں اور جو ضروریات جہاد حاصل نہ ہو سکنے کی وجہ سے ساتھ نہیں جا سکتے تو بات سمجھ میں آتی ہے، مگر ان منافقین میں سے وسعت و طاقت والے بھی جہاد میں نہ جانے اور پیچھے رہنے کی اجازت مانگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اسباب بیان فرمائے کہ بزدلی کی وجہ سے ان میں ایسی کمینگی پیدا ہو چکی ہے کہ انھیں عورتوں کے ساتھ پیچھے رہ جانے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی، بلکہ وہ اس پر خوش ہیں اور ان کے اعمال بد کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے جس کی وجہ سے وہ جہاد کی برکات کو اور بزدلی اور ترک جہاد کی نحوست اور نقصانات کو نہیں سمجھتے۔ نہ ان پر اللہ اور اس کے رسول کی بات کا اثر ہوتا ہے اور نہ کسی سمجھانے والے کی نصیحت کا۔
ان لوگوں نے گھر بیٹھنے والیوں میں شامل ہونا پسند کیا اور ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا گیا، اس لیے ان کی سمجھ میں اب کچھ نہیں آتا
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ تو خانہ نشین عورتوں کاساتھ دینے پر ریجھ گئے اور ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی اب وه کچھ سمجھ عقل نہیں رکھتے
احمد رضا خان بریلوی
انہیں پسند آیا کہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ ہوجائیں اور ان کے دلوں پر مہُر کردی گئیں تو وہ کچھ نہیں سمجھتے
علامہ محمد حسین نجفی
ان لوگوں نے یہ بات پسند کی کہ گھر میں پیچھے رہ جانے والی عورتوں کے ساتھ رہیں اور (ان کے نفاق و کفر کی وجہ سے) ان کے دلوں پر مہر لگ گئی ہے۔ بس یہ کچھ سمجھتے ہی نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہ اس پر راضی ہوگئے کہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ رہ جائیں اور ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی، سو وہ نہیں سمجھتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ان لوگوں کی برائی بیان ہو رہی ہے جو وسعت، طاقت، قوت ہوتے ہوئے جہاد کے لیے نہیں نکلتے جی چرا جاتے ہیں اور حکم الہٰی سن کر پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ آ کر اپنے رک رہنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ ان کی بے حمیتی تو دیکھو کہ یہ عورتوں جیسے ہو گئے۔ لشکر چلے گئے یہ نامرد زنانے عورتوں کی طرح پیچھے رہ گئے۔ بوقت جنگ بزدل ڈرپوک اور گھروں میں گھسے رہنے والے اور بوقت امن بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والے، یہ بھونکنے والے کتوں اور گرجنے والے بادلوں کی طرح ڈھول کے پول ہیں۔ چنانچہ ایک اور جگہ خود قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے کہ خوف کے وقت ایسی آنکھیں پھیرنے لگتے ہیں جیسے کوئی مر رہا ہو، اور جہاں وہ موقع گذر گیا لگے چرب زبانی کرنے اور لمبے چوڑے دعوے کرنے اور باتیں بنانے۔ امن کے وقت تو مسلمانوں میں فساد پھلانے لگتے ہیں اور وہ بلند و بانگ بہادری کے ڈھول پیٹتے ہیں کہ کچھ ٹھیک نہیں لیکن لڑائی کے وقت عورتوں کی طرح چوڑیاں پہن کر پردہ نشین بن جاتے ہیں بل اور سوراخ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنے آپ کو چھپاتے پھرتے ہیں۔ ایماندار تو سورت اترنے اور اللہ تعالیٰ کے حکم ہونے کا انتظار کرتے ہیں لیکن بیمار دلوں والے جہاں سورت اتری، اور جہاد کا حکم سنا کہ آنکھیں بند کر لیں۔ ان پر افسوس ہے اور ان کے لیے تباہی خیز مصیبت ہے۔ اگر یہ اطاعت گزار ہوتے اگر ان کی زبان سے اچھی بات نکلتی ان کے ارادے اچھے ہوتے یہ اللہ تعالیٰ کی باتوں کی تصدیق کرتے تو یہی چیز ان کے حق میں بہتر تھی لیکن ان کے دلوں پر تو ان کی بداعمالیوں سے مہر لگ چکی ہے اب تو ان میں اس بات کی صلاحیت بھی نہیں رہی کہ اپنے نفع نقصان کو ہی سمجھ لیں۔
87۔ 1 دلوں پر مہر لگ جانا یہ مسلسل گناہوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جس کی وضاحت پہلے کی جا چکی ہے، اس کے بعد انسان سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہوجاتا ہے۔
بخلاف اس کے رسولؐ نے اور ان لوگوں نے جو رسولؐ کے ساتھ ایمان لائے تھے ا پنی جان و مال سے جہاد کیا اور اب ساری بھلائیاں انہی کے لیے ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
لیکن خود رسول اللہ اور اس کے ساتھ کے ایمان والے اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں، یہی لوگ بھلائیوں والے ہیں اور یہی لوگ کامیابی حاصل کرنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
لیکن رسول اور جو ان کے ساتھ ایمان لائے انہوں نے اپنے مالوں جانوں سے جہاد کیا، اور انہیں کے لیے بھلائیاں ہیں اور یہی مراد کو پہنچے،
علامہ محمد حسین نجفی
لیکن اللہ کے رسول اور جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں انہوں نے اپنے مال اور اپنی جان کے ساتھ جہاد کیا اور یہی وہ ہیں جن کے لئے ساری بھلائیاں ہیں۔ اور یہی کامیاب ہونے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
لیکن رسول نے اور ان لوگوں نے جو اس کے ہمراہ ایمان لائے، اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کیا اور یہی لوگ ہیں جن کے لیے سب بھلائیاں ہیں اور یہی فلاح پانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافق کی آخرت خراب ٭٭
منافقوں کی مذمت اور ان کی اخروی درگت بیان فرما کر اب مومنوں کی مدحت اور ان کی اخروی راحت بیان ہو رہی ہے۔ یہ جہاد کے لئے کمر باندھے رہتے ہیں۔ یہ جان و مال اللہ کی راہ میں فدا کرتے رہتے ہیں۔ انہی کے حصے میں بھلائیاں اور خوبیاں ہیں۔ یہی فلاح پانے والے لوگ ہیں۔ انہی کے لیے جنت الفردوس ہے اور انہی کے لیے بلند درجے ہیں۔ یہی مقصد حاصل کرنے والے یہی کامیابی کو پہنچ جانے والے لوگ ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت88) {لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ …:} لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان کا حال منافقین جیسا نہیں، ان میں نہ ان کی طرح بزدلی ہے، نہ جہاد سے گریز، نہ مال و جان کی قربانی میں بخل، نہ اللہ اور اس کے رسول سے کفر، نہ نافرمانی، بلکہ وہ اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے اپنے اموال اور جانوں کے ساتھ جہاد یعنی اپنی آخری کوشش کرتے ہیں اور ہر حال میں اطاعت کرتے ہیں۔ انھی کے لیے تمام بھلائیاں، یعنی دنیا کی فتوحات و غنائم اور آخرت کے سب سے بلند درجے ہیں۔ دیکھیے سورۂ حجرات (۱۵) اور صف (۱۰ تا ۱۲) انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں پہنچ جانے والا کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ہو گا جو پسند کرے کہ دنیا میں واپس آئے، خواہ دنیا کی ہر چیز اسے دے دی جائے، سوائے شہید کے، وہ تمنا کرے گا کہ دنیا کی طرف واپس جائے، پھر دس مرتبہ قتل کیا جائے، اس عزت و کرامت کی وجہ سے جو وہ دیکھے گا۔“ [ بخاری، الجہاد والسیر، باب تمنی المجاہد أن یرجع إلی الدنیا: ۲۸۱۷ ]
اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ تیار رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ ہے عظیم الشان کامیابی
مولانا محمد جوناگڑھی
انہی کے لئے اللہ نے وه جنتیں تیار کی ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں بہشتیں جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے، یہی بڑی مراد ملنی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ نے ان کے لئے ایسے بہشت (باغات) تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافق کی آخرت خراب ٭٭
منافقوں کی مذمت اور ان کی اخروی درگت بیان فرما کر اب مومنوں کی مدحت اور ان کی اخروی راحت بیان ہو رہی ہے۔ یہ جہاد کے لئے کمر باندھے رہتے ہیں۔ یہ جان و مال اللہ کی راہ میں فدا کرتے رہتے ہیں۔ انہی کے حصے میں بھلائیاں اور خوبیاں ہیں۔ یہی فلاح پانے والے لوگ ہیں۔ انہی کے لیے جنت الفردوس ہے اور انہی کے لیے بلند درجے ہیں۔ یہی مقصد حاصل کرنے والے یہی کامیابی کو پہنچ جانے والے لوگ ہیں۔
89۔ 1 ان منافقین کے برعکس اہل ایمان کا رویہ یہ ہے کہ وہ اپنی جانوں اور مالوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں، اللہ کی راہ میں انہیں اپنی جانوں کی پروا ہے نہ مالوں کی۔ ان کے نزدیک اللہ کا حکم سب پر بالا تر ہے، انہی کے لئے خیرات ہیں، یعنی آخرت کی بھلائیاں اور جنت کی نعمتیں اور بعض کے نزدیک دین و دنیا کے منافع اور یہی لوگ فلاح یاب اور فوز عظیم کے حامل ہونگے۔
(آیت89){ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ …:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ نے مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے تیار کیے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جو زمین و آسمان کے درمیان ہے تو جب تم اللہ تعالیٰ سے مانگو تو اس سے فردوس کا سوال کرو، کیونکہ وہ جنت کا سب سے بہتر اور سب سے بلند حصہ ہے، جس کے اوپر رحمان کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔“ [ بخاری، الجہاد والسیر، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ: ۲۷۹۰، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ]
بدوی عربوں میں سے بھی بہت سے لوگ آئے جنہوں نے عذر کیے تاکہ انہیں بھی پیچھے رہ جانے کی اجازت دی جائے اِس طرح بیٹھ رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے ایمان کا جھوٹا عہد کیا تھا ان بدویوں میں سے جن لوگوں نے کفر کا طریقہ اختیار کیا ہے عنقریب وہ دردناک سزا سے دوچار ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
بادیہ نشینوں میں سے عذر والے لوگ حاضر ہوئے کہ انہیں رخصت دے دی جائے اور وه بیٹھ رہے جنہوں نے اللہ سے اور اس کے رسول سے جھوٹی باتیں بنائی تھیں۔ اب تو ان میں جتنے کفار ہیں انہیں دکھ دینے والی مار پہنچ کر رہے گی
احمد رضا خان بریلوی
اور بہانے بنانے والے گنوار آئے کہ انہیں رخصت دی جائے اور بیٹھ رہے وہ جنہوں نے اللہ و رسول سے جھوٹ بولا تھا جلد ان میں کے کافروں کو دردناک عذاب پہنچے گا
علامہ محمد حسین نجفی
اور صحرائی بَدوؤں میں عذر کرنے والے (آپ کے پاس) آئے کہ انہیں پیچھے رہ جانے کی اجازت دے دی جائے۔ اور جنہوں نے (اسلام کا اظہار کرکے) خدا و رسول سے جھوٹ بولا تھا وہ (بلا اجازت) گھروں میں بیٹھے رہے۔ ان میں سے جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے انہیں عنقریب دردناک عذاب پہنچے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور بدویوں میں سے بہانے بنانے والے آئے، تاکہ انھیں اجازت دی جائے اور وہ لوگ بیٹھ رہے جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا۔ ان میں سے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، جلد ہی دردناک عذاب پہنچے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہاد اور معذور لوگ ٭٭
یہ بیان ان لوگوں کا ہے جو حقیقتاً کسی شرعی عذر کے باعث جہاد میں شامل نہ ہو سکتے تھے مدینہ کے اردگرد کے یہ لوگ آ آ کر اپنی کمزور ضعیفی، بےطاقتی بیان کر کے اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لیتے ہیں کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں واقعی معذور سمجھیں تو اجازت دے دیں۔ یہ بنو غفار کے قبیلے کے لوگ تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَجَاۤءَ الْـمُ۔عْزِرُوْنَ» ہے یعنی اہل عذر لوگ۔ یہی معنی مطلب زیادہ ظاہر ہے کیونکہ اسی جملے کے بعد ان لوگوں کا بیان ہے جو جھوٹے تھے۔ یہ نہ آئے نہ اپنا رک جانے کا سبب پیش کیا نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رک رہنے کی اجازت چاہی۔ بعض بزرگ فرماتے ہیں کہ عذر پیش کرنے والے بھی دراصل عذر والے نہ تھے اسی لیے ان کے عذر مقبول نہ ہوئے۔ لیکن پہلا قول پہلا ہی ہے وہی زیادہ ظاہر ہے، واللہ اعلم۔ اس کی ایک وجہ تو وہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ عذاب کا وعدہ ان ہوا جو بیٹھے رہی رہے۔
90۔ 1 ان مُعَذرِیْن کے بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک یہ شہر سے دور رہنے والے وہ اعرابی ہیں جنہوں نے جھوٹے عذر پیش کر کے اجازت حاصل کی۔ دوسری قسم ان میں وہ تھی جنہوں نے آکر عذر پیش کرنے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی اور بیٹھے رہے۔ اس طرح گویا آیت میں منافقین کے دو گروہوں کا تذ کرہ ہے اور عذاب الیم کی وعید میں دونوں شامل ہیں۔ اور منھم سے جھوٹے عذرپیش کرنے والے اور بیٹھ رہنے والے دونوں مراد ہوں گے اور دوسرے مفسرین نے معذرون سے مراد ایسے بادیہ نشین مسلمان لیے ہیں جنہوں نے معقول عذر پیش کر کے اجازت لی تھی اور معذرون ان کے نزدیک اصل میں معتذرون ہے تا کو ذال میں مدغم کردیا گیا ہے اور معتذر کے معنی ہیں واقعی عذر رکھنے والا اس اعتبار سے آیت کے اگلے جملے میں منافقین کا تذکرہ ہے اور آیت میں دو گروہوں کا ذکر ہے پہلے جملے میں ان مسلمانوں کا جن کے پاس واقعی عذر تھے اور دوسرے منافقین جو بغیر عذر پیش کیے بیٹھے رہے اور آیت کے آخری حصے میں جو وعید ہے اسی دوسرے گروہ کے لیے ہے۔
(آیت90){وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ …:} اس سے پہلے مدینہ کے منافقین اور اہل ایمان کا ذکر تھا، اب مدینہ کے اردگرد بادیہ نشینوں کا حال ذکر ہوتا ہے، کیونکہ ان میں بھی دونوں قسم کے لوگ موجود تھے، جیسا کہ آگے آیت (۹۸، ۹۹) اور پھر (۱۰۱، ۱۰۲) میں ذکر آ رہا ہے۔ مفسرین نے اس کی تفسیر دو طرح سے کی ہے، کیونکہ عذر کرنے والے سچے بھی ہو سکتے ہیں اور جھوٹے بھی، اس لیے بعض نے تو {” الْمُعَذِّرُوْنَ“} سے مراد وہ اعراب لیے ہیں جو صحیح مومن تھے مگر کسی حقیقی عذر کی وجہ سے نہیں جا سکے تھے، یہ لوگ تو اپنا عذر بیان کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا تھا اور دل سے مسلمان نہیں ہوئے تھے، وہ گھروں ہی میں بیٹھے رہے، انھوں نے آکر عذر پیش کرنے کی زحمت ہی نہیں کی، چنانچہ ان میں سے کفر کرنے والوں کو عذاب الیم کی وعید سنائی گئی، یعنی دنیا میں قید اور قتل اور آخرت میں جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس تفسیر کو ترجیح دی ہے۔ بعض مفسرین نے {” الْمُعَذِّرُوْنَ “} سے مراد جھوٹے بہانے اور باطل عذر پیش کرنے والے لیے ہیں۔ زمخشری رحمہ اللہ نے اس رائے کی تائید کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ {” الْمُعَذِّرُوْنَ “} باب تفعیل سے ہو تو {”عَذَّرَ فِي الْأَمْرِ“} کا معنی ہی یہ ہے کہ اس نے کام میں سستی کی، اس کی کوشش ہی نہیں کی اور ظاہر یہ کیا کہ اس کا عذر تھا، حالانکہ اس کا عذر کوئی نہ تھا اور اگر{” الْمُعَذِّرُوْنَ “} باب افتعال سے ہو اور اس کا اصل {”مُعْتَذِرُوْنَ“} ہو پھر بھی جھوٹے بہانے ہی مراد ہیں، جیسا کہ آگے صاف آ رہا ہے: «يَعْتَذِرُوْنَ اِلَيْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَيْهِمْ» [ التوبۃ: ۹۴ ] ”تمھارے سامنے عذر پیش کریں گے، جب تم ان کی طرف واپس آؤ گے۔“ پہلی تفسیر کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ ہر عذر والا جھوٹا نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے خود اگلی آیت میں کئی عذر والوں کو گناہ سے بری قرار دیا ہے اور اس آیت میں بھی دونوں قسموں میں سے {”الَّذِيْنَ كَفَرُوْا “} ہی کو عذاب کی وعید سنائی ہے، اگرچہ ترجمے کا رجحان دوسری تفسیر کی طرف ہے، مگر امام ابن کثیر رحمہ اللہ کی بات میں وزن معلوم ہوتا ہے۔
ضعیف اور بیمار لوگ اور وہ لوگ جو شرکت جہاد کے لیے راہ نہیں پاتے، اگر پیچھے رہ جائیں تو کوئی حرج نہیں جبکہ وہ خلوص دل کے ساتھ اللہ اور اس کے رسولؐ کے وفادار ہوں ایسے محسنین پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ضعیفوں پر اور بیماروں پر اور ان پر جن کے پاس خرچ کرنے کو کچھ بھی نہیں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وه اللہ اور اس کے رسول کی خیر خواہی کرتے رہیں۔ ایسے نیک کاروں پر الزام کی کوئی راه نہیں، اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت ورحمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
ضعیفوں پر کچھ حرج نہیں اور نہ بیماروں پر اور نہ ان پر جنہیں خرچ کا مقدور نہ ہو جب کہ اللہ اور رسول کے خیر خواہ رہیں نیکی والوں پر کوئی راہ نہیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
کمزوروں، بیماروں پر اور ان ناداروں پر خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں رکھتے کوئی گناہ نہیں ہے (اگر جہاد میں شریک نہ ہوں) بشرطیکہ وہ خلوصِ دل سے اللہ اور رسول کے وفادار ہوں۔ نیکوکاروں پر کوئی الزام نہیں ہے اور اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
نہ کمزوروں پر کوئی حرج ہے اور نہ بیماروں پر اور نہ ان لوگوں پر جو وہ چیز نہیں پاتے جو خرچ کریں، جب وہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے خلوص رکھیں۔ نیکی کرنے والوں پر (اعتراض کا) کوئی راستہ نہیں اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عدم جہاد کے شرعی عذر ٭٭
اس آیت میں ان شرعی عذروں کا بیان ہو رہا ہے جن کے ہوتے ہوئے اگر کوئی شخص جہاد میں نہ جائے تو اس پر شرعی حرج نہیں۔ پس ان سببوں میں سے ایک قسم تو وہ ہے جو لازم ہوتی ہے کسی حالت میں انسان سے الگ نہیں ہوتیں جیسے پیدائشی کمزوری یا اندھا پن یا لنگڑا پن، کوئی لولا لنگڑا اپاہج بیمار یا بالکل ہی نا طاقت ہو، دوسری قسم کے وہ عذر ہوتے ہیں جو کبھی ہیں اور کبھی نہیں اتفاقیہ اسباب ہیں مثلاً کوئی بیمار ہو گیا ہے یا بالکل فقیر ہو گیا ہے سامان سفر، سامان جہاد مہیا نہیں کر سکتا وغیرہ پس یہ لوگ شرکت جہاد نہ کر سکیں تو ان پر شرعاً کوئی مواخذہ گناہ یا عار نہیں۔ لیکن انہیں اپنے دل میں صلاحیت اور خلوص رکھنا چاہیئے۔ مسلمانوں کے دین الہٰی کے خیرخواہ بنے رہیں اوروں کو جہاد پر آمادہ کریں بیٹھے بیٹھے جو خدمت مجاہدین کی انجام دے سکتے ہوں دیتے رہیں، ایسے نیک کاروں پر کوئی وجہ الزام نہیں، اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ حواریوں نے عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی سے پوچھا کہ ”ہمیں بتلائیے اللہ کا خیرخواہ کون ہے“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ تعالیٰ کے حق کو لوگوں کے حق پر مقدم کرے اور جب ایک کام دین کا اور ایک دنیا کا آ جائے تو دینی کام کی اہمیت کا پورا لحاظ رکھے پھر فارغ ہو کر دنیوی کام کو انجام دے۔“ ایک مرتبہ قحط سالی کے موقعہ پر لوگ نماز استسقاء کیلئے میدان میں نکلے، ان میں سیدنا بلال بن سعد رحمہ اللہ بھی تھے۔ آپ نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا: ”اے حاضرین! کیا تم یہ مانتے ہو کہ تم سب اللہ کے گنہگار بندے ہو“؟ سب نے اقرار کیا۔
اب آپ نے دعا شروع کی کہ پروردگار ہم نے تیرے کلام میں سنا ہے کہ نیک کاروں پر کوئی راہ نہیں۔ ہم اپنی برائیوں کے اقراری ہیں پس تو ہمیں معاف فرما، ہم پر رحم فرما، ہم پر اپنی رحمت سے بارشیں برسا اب آپ رحمہ اللہ نے ہاتھ اٹھائے اور آپ کے ساتھ ہی اور سب نے۔ رحمت ربانی جوش میں آئی اور اسی وقت جھوم جھوم کر رحمت کی بدلیاں برسنے لگیں۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منشی تھا سورۃ برات جب اتر رہی تھی میں اسے بھی لکھ رہا تھا میرے کان میں قلم اڑا ہوا تھا جہاد کی آیتیں اتر رہی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منتظر تھے کہ دیکھیں کہ اب کیا حکم نازل ہوتا ہے؟ جو ایک نابینا صحابی رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جہاد کے احکام اس اندھاپے میں کیسے بجا لا سکتا ہوں“؟ اسی وقت یہ آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:186/6] پھر ان کا بیان ہوتا ہے جو جہاد کی شرکت کے لیے تڑپتے ہیں مگر قدرتی اسباب سے مجبور ہو کر بادل ناخواستہ رک جاتے ہیں۔ جہاد کا حکم ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلان ہوا مجاہدین کا لشکر جمع ہونا شروع ہوا تو ایک جماعت آئی جن میں عبداللہ بن مغفل بن مقرن مزنی رضی اللہ عنہم وغیرہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس سواریاں نہیں آپ ہماری سواریوں کا انتظام کر دیں تاکہ ہم بھی راہ حق میں جہاد کرنے کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمرکابی کا شرف حاصل کریں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”واللہ! میرے پاس تو ایک بھی سواری نہیں۔“
یہ ناامید ہو کر روتے پیٹتے غم زدہ اور رنجیدہ ہو کر لوٹے ان پر اس سے زیادہ بھاری بوجھ کوئی نہ تھا کہ یہ اس وقت ہم رکابی کی اور جہاد کی سعادت سے محروم رہ گئے اور عورتوں کی طرح انہیں یہ مدت گھروں میں گزارنی پڑے گی نہ ان کے پاس خود ہی کچھ ہے نہ کہیں سے کچھ ملتا ہے۔ پس جناب باری تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ان کی تسکین کر دی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17093:ضعیف] یہ آیت قبیلہ مزینہ کی شاخ بنی مقرن کے بارے میں اتری ہے۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ یہ سات آدمی تھے بنی عمرو کے سالم بن عمیر، بنی واقف کے ھرمی بن عمرو، بنی مازن کے عبدالرحمٰن بن کعب، بنو معلیٰ کے سلمان بن صخر، بنی سلمی کے عمرو بن عنمہ، اور عبداللہ بن عمرو مزنی، اور بنو حارثہ کے علیہ بن زید۔ بعض روایتوں میں کچھ ناموں میں ہیر پھیر بھی ہے۔ انہی نیک نیت بزرگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے رسول، رسولوں کے سرتاج «صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و اصحابہ و ازوجہ و اہل بیتہ و سلم» کا فرمان ہے کہ ”اے میرے مجاہد ساتھیو! تم نے مدینے میں جو لوگ اپنے پیچھے چھوڑے ہیں ان میں وہ بھی ہیں کہ تم جو خرچ کرتے ہو جس میدان میں چلتے ہو جو جہاد کرتے ہو سب میں وہ بھی ثواب کے شریک ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اور روایت میں ہے کہ یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ”وہ باوجود اپنے گھروں میں رہنے کے ثواب میں ہمارے شریک ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اس لیے کہ وہ معذور ہیں عذر کے باعث رکے ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2839]
ایک اور آیت میں ہے انہیں بیماریوں نے روک لیا ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1911]
پھر ان لوگوں کا بیان فرمایا جنہیں فی الواقع کوئی عذر نہیں مالدار، ہٹے کٹے ہیں لیکن پھر بھی سرکار نبوت میں آ کر بہانے تراش تراش کر جہاد میں ساتھ نہیں دیتے، عورتوں کی طرح گھر میں بیٹھ جاتے ہیں زمین پکڑ لیتے ہیں۔ فرمایا ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر الہٰی لگ چکی ہے، اب وہ اپنے بھلے برے کے علم سے بھی کورے ہو گئے ہیں۔
91۔ 1 اس آیت میں ان لوگوں کا تذکرہ ہے جو واقعی معذور تھے اور ان کا عذر بھی واضح تھا مثلاً 1۔ ضعیف و ناتواں یعنی بوڑھے قسم کے لوگ، اور نابینا یا لنگڑے وغیرہ معذورین بھی اسی ذیل میں آجاتے ہیں، بعض نے انہیں بیماروں میں شامل کیا ہے، 2۔ بیمار، 3۔ جن کے پاس جہاد کے اخراجات نہیں تھے اور بیت المال بھی ان کے اخراجات کا متحمل نہیں تھا، اللہ اور رسول کی خیر خواہی سے مراد، جہاد کی ان کے دلوں میں تڑپ، مجاہدین سے محبت رکھتے ہیں اور اللہ اور رسول کے دشمنوں سے عداوت، اور حتی الا مکان اللہ اور رسول کے احکام کی اطاعت کرتے ہیں، اگر جہاد میں شرکت کرنے سے معذور ہوں تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔
(آیت91) ➊ {لَيْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ …:} اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو واقعی معذور تھے اور ان کا عذر واضح تھا۔ ان میں سب سے پہلے {” الضُّعَفَآءِ “} ہیں، ان سے مراد لنگڑے، لولے، اندھے، بوڑھے، عورتیں اور بچے ہیں۔ دوسرے {”الْمَرْضٰى“} (مریض کی جمع) جو بیماری کی وجہ سے نہیں جا سکتے، دوسری جگہ فرمایا: «لَيْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِيْضِ حَرَجٌ» [ الفتح: ۱۷ ] ”نہیں ہے اندھے پر کوئی تنگی اور نہ لنگڑے پر کوئی تنگی اور نہ مریض پر کوئی تنگی۔“ اور تیسرے وہ تندرست طاقت رکھنے والے جو مالی استطاعت نہیں رکھتے کہ جہاد کے سفر اور اس کے سازو سامان مثلاً سواری اور ہتھیار وغیرہ کی تیاری کر سکیں۔ چنانچہ فرمایا: «لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا» [ البقرۃ: ۲۸۶ ] ”اللہ کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی گنجائش کے مطابق۔“ ➋ { اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ:} یعنی وہ کام نہ کرتے ہوں جس سے اللہ کے دین، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا مومنوں کو کوئی نقصان اور ان کے دشمنوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلدِّيْنُ النَّصِيْحَةُ] ”دین خیر خواہی (خلوص) ہی کا نام ہے۔“ ہم نے کہا: ”کس کے لیے؟“ فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے حکام کے لیے اور ان کے تمام لوگوں کے لیے۔“ [ مسلم، الإیمان، باب بیان أن الدین النصیحۃ: ۵۵، عن تمیم رضی اللہ عنہ ] عام لوگوں کی خیر خواہی میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ جب مجاہدین جہاد پر گئے ہوئے ہوں تو یہ لوگ شہر میں رہیں، ان کے گھروں کی، کاروبار کی اور بال بچوں کی خبر گیری رکھیں، ان کی عزت و آبرو کی ہر طرح سے حفاظت کریں، مجاہدین کی ضروریات بھیجتے رہیں، جھوٹی خبریں یا افواہیں نہ پھیلائیں، کسی قسم کا فساد برپا نہ کریں اور مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے والوں کا منہ بند کریں۔ ➌ { مَا عَلَى الْمُحْسِنِيْنَ مِنْ سَبِيْلٍ:} یعنی یہ لوگ معذور ہیں، اگر جہاد میں شرکت نہ کریں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک سے واپس آئے، مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا: ”بے شک مدینہ میں کئی لوگ ہیں، تم کسی راستے پر نہیں چلے اور نہ تم نے کوئی وادی طے کی ہے، مگر وہ تمھارے ساتھ رہے ہیں۔“ لوگوں نے پوچھا: ”یارسول اللہ! اور وہ مدینہ ہی میں تھے؟“ فرمایا: ”(ہاں) وہ مدینہ ہی میں تھے، انھیں عذر نے روک رکھا تھا۔“ [ بخاری، المغازی، باب: ۴۴۲۳ ]
اسی طرح اُن لوگوں پر بھی کوئی اعتراض کا موقع نہیں ہے جنہوں نے خود آ کر تم سے درخواست کی تھی کہ ہمارے لیے سواریاں بہم پہنچائی جائیں، اور جب تم نے کہا کہ میں تمہارے لیے سواریوں کا انتظام نہیں کرسکتا تو وہ مجبوراً واپس گئے اور حال یہ تھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور انہیں اس بات کا بڑا رنج تھا کہ وہ اپنے خرچ پر شریک جہاد ہونے کی مقدرت نہیں رکھتے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہاں ان پر بھی کوئی حرج نہیں جو آپ کے پاس آتے ہیں کہ آپ انہیں سواری مہیا کر دیں تو آپ جواب دیتے ہیں کہ میں تو تمہاری سواری کے لئے کچھ بھی نہیں پاتا، تو وه رنج وغم سے اپنی آنکھوں سے آنسو بہاتے ہوئے لوٹ جاتے ہیں کہ انہیں خرچ کرنے کے لئے کچھ بھی میسر نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور نہ ان پر جو تمہارے حضور حاضر ہوں کہ تم انہیں سواری عطا فرماؤ تم سے یہ جواب پائیں کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں جس پر تمہیں سوار کروں اس پر یوں واپس جائیں کہ ان کی آنکھوں سے آنسو ابلتے ہوں اس غم سے کہ خرچ کا مقدور نہ پایا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور نہ ہی ان لوگوں پر کوئی گناہ ہے جو آپ کے پاس آتے ہیں کہ آپ ان کے لئے سواری کا کوئی انتظام کریں۔ اور آپ نے کہا کہ میرے پاس سواری کے لئے کچھ نہیں ہے۔ تو وہ اس حال میں مجبوراً واپس گئے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اس رنج میں کہ ان کے پاس (راہِ خدا میں) خرچ کرنے کے لیے کچھ میسر نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور نہ ان لوگوں پر کہ جب بھی وہ تیرے پاس آئے ہیں، تاکہ تو انھیں سواری دے تو توُ نے کہا میں وہ چیز نہیں پاتا جس پر تمھیں سوار کروں، تو وہ اس حال میں واپس ہوئے کہ ان کی آنکھیں آنسوئوں سے بہ رہی تھیں، اس غم سے کہ وہ نہیں پاتے جو خرچ کریں ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عدم جہاد کے شرعی عذر ٭٭
اس آیت میں ان شرعی عذروں کا بیان ہو رہا ہے جن کے ہوتے ہوئے اگر کوئی شخص جہاد میں نہ جائے تو اس پر شرعی حرج نہیں۔ پس ان سببوں میں سے ایک قسم تو وہ ہے جو لازم ہوتی ہے کسی حالت میں انسان سے الگ نہیں ہوتیں جیسے پیدائشی کمزوری یا اندھا پن یا لنگڑا پن، کوئی لولا لنگڑا اپاہج بیمار یا بالکل ہی نا طاقت ہو، دوسری قسم کے وہ عذر ہوتے ہیں جو کبھی ہیں اور کبھی نہیں اتفاقیہ اسباب ہیں مثلاً کوئی بیمار ہو گیا ہے یا بالکل فقیر ہو گیا ہے سامان سفر، سامان جہاد مہیا نہیں کر سکتا وغیرہ پس یہ لوگ شرکت جہاد نہ کر سکیں تو ان پر شرعاً کوئی مواخذہ گناہ یا عار نہیں۔ لیکن انہیں اپنے دل میں صلاحیت اور خلوص رکھنا چاہیئے۔ مسلمانوں کے دین الہٰی کے خیرخواہ بنے رہیں اوروں کو جہاد پر آمادہ کریں بیٹھے بیٹھے جو خدمت مجاہدین کی انجام دے سکتے ہوں دیتے رہیں، ایسے نیک کاروں پر کوئی وجہ الزام نہیں، اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ حواریوں نے عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی سے پوچھا کہ ”ہمیں بتلائیے اللہ کا خیرخواہ کون ہے“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ تعالیٰ کے حق کو لوگوں کے حق پر مقدم کرے اور جب ایک کام دین کا اور ایک دنیا کا آ جائے تو دینی کام کی اہمیت کا پورا لحاظ رکھے پھر فارغ ہو کر دنیوی کام کو انجام دے۔“ ایک مرتبہ قحط سالی کے موقعہ پر لوگ نماز استسقاء کیلئے میدان میں نکلے، ان میں سیدنا بلال بن سعد رحمہ اللہ بھی تھے۔ آپ نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا: ”اے حاضرین! کیا تم یہ مانتے ہو کہ تم سب اللہ کے گنہگار بندے ہو“؟ سب نے اقرار کیا۔
اب آپ نے دعا شروع کی کہ پروردگار ہم نے تیرے کلام میں سنا ہے کہ نیک کاروں پر کوئی راہ نہیں۔ ہم اپنی برائیوں کے اقراری ہیں پس تو ہمیں معاف فرما، ہم پر رحم فرما، ہم پر اپنی رحمت سے بارشیں برسا اب آپ رحمہ اللہ نے ہاتھ اٹھائے اور آپ کے ساتھ ہی اور سب نے۔ رحمت ربانی جوش میں آئی اور اسی وقت جھوم جھوم کر رحمت کی بدلیاں برسنے لگیں۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منشی تھا سورۃ برات جب اتر رہی تھی میں اسے بھی لکھ رہا تھا میرے کان میں قلم اڑا ہوا تھا جہاد کی آیتیں اتر رہی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منتظر تھے کہ دیکھیں کہ اب کیا حکم نازل ہوتا ہے؟ جو ایک نابینا صحابی رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جہاد کے احکام اس اندھاپے میں کیسے بجا لا سکتا ہوں“؟ اسی وقت یہ آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:186/6] پھر ان کا بیان ہوتا ہے جو جہاد کی شرکت کے لیے تڑپتے ہیں مگر قدرتی اسباب سے مجبور ہو کر بادل ناخواستہ رک جاتے ہیں۔ جہاد کا حکم ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلان ہوا مجاہدین کا لشکر جمع ہونا شروع ہوا تو ایک جماعت آئی جن میں عبداللہ بن مغفل بن مقرن مزنی رضی اللہ عنہم وغیرہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس سواریاں نہیں آپ ہماری سواریوں کا انتظام کر دیں تاکہ ہم بھی راہ حق میں جہاد کرنے کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمرکابی کا شرف حاصل کریں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”واللہ! میرے پاس تو ایک بھی سواری نہیں۔“
یہ ناامید ہو کر روتے پیٹتے غم زدہ اور رنجیدہ ہو کر لوٹے ان پر اس سے زیادہ بھاری بوجھ کوئی نہ تھا کہ یہ اس وقت ہم رکابی کی اور جہاد کی سعادت سے محروم رہ گئے اور عورتوں کی طرح انہیں یہ مدت گھروں میں گزارنی پڑے گی نہ ان کے پاس خود ہی کچھ ہے نہ کہیں سے کچھ ملتا ہے۔ پس جناب باری تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ان کی تسکین کر دی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17093:ضعیف] یہ آیت قبیلہ مزینہ کی شاخ بنی مقرن کے بارے میں اتری ہے۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ یہ سات آدمی تھے بنی عمرو کے سالم بن عمیر، بنی واقف کے ھرمی بن عمرو، بنی مازن کے عبدالرحمٰن بن کعب، بنو معلیٰ کے سلمان بن صخر، بنی سلمی کے عمرو بن عنمہ، اور عبداللہ بن عمرو مزنی، اور بنو حارثہ کے علیہ بن زید۔ بعض روایتوں میں کچھ ناموں میں ہیر پھیر بھی ہے۔ انہی نیک نیت بزرگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے رسول، رسولوں کے سرتاج «صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و اصحابہ و ازوجہ و اہل بیتہ و سلم» کا فرمان ہے کہ ”اے میرے مجاہد ساتھیو! تم نے مدینے میں جو لوگ اپنے پیچھے چھوڑے ہیں ان میں وہ بھی ہیں کہ تم جو خرچ کرتے ہو جس میدان میں چلتے ہو جو جہاد کرتے ہو سب میں وہ بھی ثواب کے شریک ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اور روایت میں ہے کہ یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ”وہ باوجود اپنے گھروں میں رہنے کے ثواب میں ہمارے شریک ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اس لیے کہ وہ معذور ہیں عذر کے باعث رکے ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2839]
ایک اور آیت میں ہے انہیں بیماریوں نے روک لیا ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1911]
پھر ان لوگوں کا بیان فرمایا جنہیں فی الواقع کوئی عذر نہیں مالدار، ہٹے کٹے ہیں لیکن پھر بھی سرکار نبوت میں آ کر بہانے تراش تراش کر جہاد میں ساتھ نہیں دیتے، عورتوں کی طرح گھر میں بیٹھ جاتے ہیں زمین پکڑ لیتے ہیں۔ فرمایا ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر الہٰی لگ چکی ہے، اب وہ اپنے بھلے برے کے علم سے بھی کورے ہو گئے ہیں۔
92۔ 1 یہ مسلمانوں کے ایک دوسرے گروہ کا ذکر ہے جن کے پاس اپنی سواریاں بھی نہیں تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی انہیں سواریاں پیش کرنے سے معذرت کی جس پر انہیں اتنا صدمہ ہوا کہ بےاختیار ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے، گویا مخلص مسلمان جو کسی بھی لحاظ سے معقول عذر رکھتے تھے اللہ تعالیٰ نے جو ہر ظاہر باطن سے باخبر ہے ان کو جہاد میں شرکت سے مستثنٰی کردیا۔ بلکہ حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان معذورین کے بارے میں جہاد میں شریک لوگوں سے فرمایا کہ ' تمہارے پیچھے مدینے میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ تم جس وادی کو بھی طے کرتے ہو اور جس راستے پر چلتے ہو، تمہارے ساتھ وہ اجر میں برابر کے شریک ہیں ' صحابہ کرام نے پوچھا۔ یہ کیوں کر ہوسکتا ہے جب کہ وہ مدینے میں بیٹھے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حَبَسَھُمْ الْعُذرُ (صحیح بخاری) ' عذر نے ان کو وہاں روک دیا ہے '
(آیت92) ➊ {وَلَا عَلَى الَّذِيْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ …:} یہ مخلص مسلمانوں کے ایک اور گروہ کا ذکر ہے جن کے پاس اپنی سواریاں نہیں تھیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواریاں لینے کے لیے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میرے پاس تمھیں سواری دینے کے لیے کچھ نہیں ہے، اس پر انھیں اتنا صدمہ ہوا کہ وہ رونے لگے اور ایسے روئے گویا آنکھیں پانی کے چشمے بن گئیں، جن سے آنسوؤں کی نالیاں رواں ہوں کہ ہمارے پاس خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں کہ ہم جہاد میں شریک ہو سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں بھی گناہ سے بری قرار دیا کہ ان لوگوں پر اعتراض کا کوئی راستہ اور کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ یہ محسنین ہیں۔ ➋ اس آیت پر ان لوگوں کو خلوص کے ساتھ غور کرنا چاہیے جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا و آخرت کے خزانوں کے مالک اور مختار کل ہیں۔ یہ حضرات آپ کے اس فرمان کا ترجمہ کیا کریں گے: «لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ» ”میں وہ چیز نہیں پاتا جس پر تمھیں سوار کروں۔“ ان بھائیوں کو اللہ کا خوف کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مالک الملک اور مختار کل کہہ کر اللہ کا شریک بنانے سے توبہ کرنی چاہیے، کیونکہ یہ گناہ اللہ کے ہاں کسی صورت قابل معافی نہیں ہے۔
البتہ اعتراض ان لوگوں پر ہے جو مالدار ہیں اور پھر بھی تم سے درخواستیں کرتے ہیں کہ انہیں شرکت جہاد سے معاف رکھا جائے انہوں نے گھر بیٹھنے والیوں میں شامل ہونا پسند کیا اور اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا، اس لیے اب یہ کچھ نہیں جانتے (کہ اللہ کے ہاں ان کی روش کا کیا نتیجہ نکلنے والا ہے)
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک انہیں لوگوں پر راه الزام ہے جو باوجود دولتمند ہونے کے آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں۔ یہ خانہ نشین عورتوں کا ساتھ دینے پر خوش ہیں اور ان کے دلوں پر مہر خداوندی لگ چکی ہے جس سے وه محض بے علم ہو گئے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
مؤاخذہ تو ان سے ہے جو تم سے رخصت مانگتے ہیں اور وہ دولت مند ہیں انہیں پسند آیا کہ عورتوں کے ساتھ پیچھے بیٹھ رہیں اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی تو وہ کچھ نہیں جانتے
علامہ محمد حسین نجفی
ہاں البتہ الزام (اور اعتراض) ان لوگوں پر ہے کہ باوجود دولت مند ہونے کے آپ سے (بیٹھے رہنے کی) اجازت مانگتے ہیں انہوں نے اس بات کو پسند کیا کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ رہیں اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اس لئے وہ کچھ جانتے بوجھتے نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
(اعتراض کا) راستہ تو صرف ان لوگوں پر ہے جو تجھ سے اجازت مانگتے ہیں، حالانکہ وہ دولت مند ہیں، وہ اس پر راضی ہوگئے کہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ رہ جائیں اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی، سو وہ نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عدم جہاد کے شرعی عذر ٭٭
اس آیت میں ان شرعی عذروں کا بیان ہو رہا ہے جن کے ہوتے ہوئے اگر کوئی شخص جہاد میں نہ جائے تو اس پر شرعی حرج نہیں۔ پس ان سببوں میں سے ایک قسم تو وہ ہے جو لازم ہوتی ہے کسی حالت میں انسان سے الگ نہیں ہوتیں جیسے پیدائشی کمزوری یا اندھا پن یا لنگڑا پن، کوئی لولا لنگڑا اپاہج بیمار یا بالکل ہی نا طاقت ہو، دوسری قسم کے وہ عذر ہوتے ہیں جو کبھی ہیں اور کبھی نہیں اتفاقیہ اسباب ہیں مثلاً کوئی بیمار ہو گیا ہے یا بالکل فقیر ہو گیا ہے سامان سفر، سامان جہاد مہیا نہیں کر سکتا وغیرہ پس یہ لوگ شرکت جہاد نہ کر سکیں تو ان پر شرعاً کوئی مواخذہ گناہ یا عار نہیں۔ لیکن انہیں اپنے دل میں صلاحیت اور خلوص رکھنا چاہیئے۔ مسلمانوں کے دین الہٰی کے خیرخواہ بنے رہیں اوروں کو جہاد پر آمادہ کریں بیٹھے بیٹھے جو خدمت مجاہدین کی انجام دے سکتے ہوں دیتے رہیں، ایسے نیک کاروں پر کوئی وجہ الزام نہیں، اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ حواریوں نے عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی سے پوچھا کہ ”ہمیں بتلائیے اللہ کا خیرخواہ کون ہے“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ تعالیٰ کے حق کو لوگوں کے حق پر مقدم کرے اور جب ایک کام دین کا اور ایک دنیا کا آ جائے تو دینی کام کی اہمیت کا پورا لحاظ رکھے پھر فارغ ہو کر دنیوی کام کو انجام دے۔“ ایک مرتبہ قحط سالی کے موقعہ پر لوگ نماز استسقاء کیلئے میدان میں نکلے، ان میں سیدنا بلال بن سعد رحمہ اللہ بھی تھے۔ آپ نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا: ”اے حاضرین! کیا تم یہ مانتے ہو کہ تم سب اللہ کے گنہگار بندے ہو“؟ سب نے اقرار کیا۔
اب آپ نے دعا شروع کی کہ پروردگار ہم نے تیرے کلام میں سنا ہے کہ نیک کاروں پر کوئی راہ نہیں۔ ہم اپنی برائیوں کے اقراری ہیں پس تو ہمیں معاف فرما، ہم پر رحم فرما، ہم پر اپنی رحمت سے بارشیں برسا اب آپ رحمہ اللہ نے ہاتھ اٹھائے اور آپ کے ساتھ ہی اور سب نے۔ رحمت ربانی جوش میں آئی اور اسی وقت جھوم جھوم کر رحمت کی بدلیاں برسنے لگیں۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منشی تھا سورۃ برات جب اتر رہی تھی میں اسے بھی لکھ رہا تھا میرے کان میں قلم اڑا ہوا تھا جہاد کی آیتیں اتر رہی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منتظر تھے کہ دیکھیں کہ اب کیا حکم نازل ہوتا ہے؟ جو ایک نابینا صحابی رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جہاد کے احکام اس اندھاپے میں کیسے بجا لا سکتا ہوں“؟ اسی وقت یہ آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:186/6] پھر ان کا بیان ہوتا ہے جو جہاد کی شرکت کے لیے تڑپتے ہیں مگر قدرتی اسباب سے مجبور ہو کر بادل ناخواستہ رک جاتے ہیں۔ جہاد کا حکم ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلان ہوا مجاہدین کا لشکر جمع ہونا شروع ہوا تو ایک جماعت آئی جن میں عبداللہ بن مغفل بن مقرن مزنی رضی اللہ عنہم وغیرہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس سواریاں نہیں آپ ہماری سواریوں کا انتظام کر دیں تاکہ ہم بھی راہ حق میں جہاد کرنے کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمرکابی کا شرف حاصل کریں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”واللہ! میرے پاس تو ایک بھی سواری نہیں۔“
یہ ناامید ہو کر روتے پیٹتے غم زدہ اور رنجیدہ ہو کر لوٹے ان پر اس سے زیادہ بھاری بوجھ کوئی نہ تھا کہ یہ اس وقت ہم رکابی کی اور جہاد کی سعادت سے محروم رہ گئے اور عورتوں کی طرح انہیں یہ مدت گھروں میں گزارنی پڑے گی نہ ان کے پاس خود ہی کچھ ہے نہ کہیں سے کچھ ملتا ہے۔ پس جناب باری تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ان کی تسکین کر دی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17093:ضعیف] یہ آیت قبیلہ مزینہ کی شاخ بنی مقرن کے بارے میں اتری ہے۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ یہ سات آدمی تھے بنی عمرو کے سالم بن عمیر، بنی واقف کے ھرمی بن عمرو، بنی مازن کے عبدالرحمٰن بن کعب، بنو معلیٰ کے سلمان بن صخر، بنی سلمی کے عمرو بن عنمہ، اور عبداللہ بن عمرو مزنی، اور بنو حارثہ کے علیہ بن زید۔ بعض روایتوں میں کچھ ناموں میں ہیر پھیر بھی ہے۔ انہی نیک نیت بزرگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے رسول، رسولوں کے سرتاج «صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و اصحابہ و ازوجہ و اہل بیتہ و سلم» کا فرمان ہے کہ ”اے میرے مجاہد ساتھیو! تم نے مدینے میں جو لوگ اپنے پیچھے چھوڑے ہیں ان میں وہ بھی ہیں کہ تم جو خرچ کرتے ہو جس میدان میں چلتے ہو جو جہاد کرتے ہو سب میں وہ بھی ثواب کے شریک ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اور روایت میں ہے کہ یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ”وہ باوجود اپنے گھروں میں رہنے کے ثواب میں ہمارے شریک ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اس لیے کہ وہ معذور ہیں عذر کے باعث رکے ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2839]
ایک اور آیت میں ہے انہیں بیماریوں نے روک لیا ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1911]
پھر ان لوگوں کا بیان فرمایا جنہیں فی الواقع کوئی عذر نہیں مالدار، ہٹے کٹے ہیں لیکن پھر بھی سرکار نبوت میں آ کر بہانے تراش تراش کر جہاد میں ساتھ نہیں دیتے، عورتوں کی طرح گھر میں بیٹھ جاتے ہیں زمین پکڑ لیتے ہیں۔ فرمایا ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر الہٰی لگ چکی ہے، اب وہ اپنے بھلے برے کے علم سے بھی کورے ہو گئے ہیں۔
93۔ 1 یہ منافقین ہیں جن کا تذکرہ آیت 86، 87 میں گزر ا۔ یہاں دوبارہ ان کا ذکر مخلص مسلمانوں کے مقابلے میں ہوا ہے کہ چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں۔ خَوَالِفُ، خَالِفَۃ، ُ (پیچھے رہنے والے) مرد عورتیں، بچے معذور اور شدید بیمار اور بوڑھے ہیں جو جنگ میں شرکت سے معذور ہیں۔ لا یَعْلَمُوْ نَ کا مطلب ہے وہ نہیں جانتے کہ پیچھے رہنا کتنا بڑا جرم ہے، ورنہ شاید وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے نہ رہتے۔
(آیت93) ➊ {اِنَّمَا السَّبِيْلُ عَلَى الَّذِيْنَ يَسْتَاْذِنُوْنَكَ …:} اللہ تعالیٰ اکثر مقامات پر ہر چیز کے دونوں پہلو بیان کرتا ہے، فرمایا ان پر تو کچھ اعتراض نہیں جن کا ذکر اوپر گزرا، صرف ان لوگوں پر گناہ کا سارا بوجھ ہے جن کے پاس سواری بھی ہے، زاد راہ بھی اور تندرستی بھی اور پھر اغنیاء ہو کر بھی آپ سے اجازت مانگتے ہیں اور اپنی بزدلی، نفاق اور کفر کی وجہ سے پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ رہ جانے میں انھیں کوئی عار نہیں، بلکہ اس پر انھیں فخر اور خوشی ہے کہ ہم گرمی میں سفر اور ہلاکت سے بچ گئے۔ ➋ { وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ …:} ان کے نفاق کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا کر انھیں ایسا بند کر دیا ہے کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے میں اور جہاد فی سبیل اللہ میں کیا لذت ہے اور ان کی کیا فضیلت اور کیا ثواب ہے۔
تم جب پلٹ کر ان کے پاس پہنچو گے تو یہ طرح طرح کے عذرات پیش کریں گے مگر تم صاف کہہ دینا کہ "بہانے نہ کرو، ہم تہاری کسی بات کا اعتبار نہ کریں گے اللہ نے ہم کو تمہارے حالات بتا دیے ہیں اب اللہ اور اس کا رسول تمہارے طرز عمل کو دیکھے گا پھر تم اس کی طرف پلٹائے جاؤ گے جو کھلے اور چھپے سب کا جاننے والا ہے اور وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ لوگ تمہارے سامنے عذر پیش کریں گے جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے۔ آپ کہہ دیجئے کہ یہ عذر پیش مت کرو ہم کبھی تم کو سچا نہ سمجھیں گے، اللہ تعالیٰ ہم کو تمہاری خبر دے چکا ہے اور آئنده بھی اللہ اور اس کا رسول تمہاری کارگزاری دیکھ لیں گے پھر ایسے کے پاس لوٹائے جاؤ گے جو پوشیده اور ﻇاہر سب کا جاننے واﻻ ہے پھر وه تم کو بتادے گا جو کچھ تم کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
تم سے بہانے بنائیں گے جب تم ان کی طرف لوٹ کر جاؤ گے تم فرمانا، بہانے نہ بناؤ ہم ہرگز تمہارا یقین نہ کریں گے اللہ نے ہمیں تمہاری خبریں دے دی ہیں، اور اب اللہ و رسول تمہارے کام دیکھیں گے پھر اس کی طرف پلٹ کر جاؤ گے جو چھپے اور ظاہر سب کو جانتا ہے وہ تمہیں جتادے گا جو کچھ تم کرتے تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
جب تم لوگ (جہاد سے) لوٹ کر ان کے پاس جاؤگے۔ تو وہ (منافقین) طرح طرح کے عذر پیش کریں گے۔ (اے رسول(ص)) تم کہہ دو بہانے نہ بناؤ۔ ہم ہرگز تمہاری کسی بات پر اعتبار نہیں کریں گے۔ (کیونکہ) اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے حالات بتا دیئے ہیں۔ اب آئندہ اللہ تمہارا طرزِ عمل دیکھے گا اور اس کا رسول بھی پھر تم غائب اور حاضر کے جاننے والے (خدا) کی طرف لوٹائے جاؤگے وہ تمہیں بتلائے گا جو کچھ تم (دنیا میں) کرتے رہے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
تمھارے سامنے عذر پیش کریں گے، جب تم ان کی طرف واپس آئو گے، کہہ دے عذر مت کرو، ہم ہرگز تمھارا یقین نہ کریں گے، بے شک اللہ ہمیں تمھاری کچھ خبریں بتا چکا ہے، اور عنقریب اللہ تمھارا عمل دیکھے گا اور اس کا رسول بھی، پھر تم ہر پوشیدہ اور ظاہر چیز کو جاننے والے کی طرف لوٹائے جائو گے تو وہ تمھیں بتائے گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فاسق اور چوہے کی مماثلت ٭٭
اللہ تعالیٰ نے منافقین سے یہ معلوم کرا دیا کہ جب تم مدینہ واپس ہو گے تو تمہارے سامنے اپنے عذرات پیش کریں گے۔ لیکن تم ان سے کہہ دو کہ عذارت باطلہ پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہم تمہاری بات کو کبھی سچ نہ مانیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے احوال معلوم کرا دئیے ہیں۔ عنقریب اللہ پاک تمہارے اعمال دنیا میں لوگوں کے سامنے ظاہر فرما دے گا اور تمہیں تمہارے اچھے برے سارے اعمال کی خبر دے دے گا اور اعمال کا نتیجہ بھی دیکھنا پڑے گا۔ پھر ان سے متعلق مزید خبر دی گئی کہ وہ قسمیں کھا کھا کر بیان کریں گے تاکہ تم ان سے درگزر کر جاؤ اور چشم پوشی کر لو۔ یہ اس وقت ہو گا جب تم مدینہ واپس ہو جاؤ گے۔ لیکن تم ہرگز ان کی تصدیق نہ کرنا اور ان سے اظہار حقارت کے لئے اعراض کر جاؤ۔ ان میں نفس کی گندگی ہے، ان کے باطن اور ان کے اعتقاد نجس ہیں، آخرت میں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے یہ ان کے اعمال یعنی خطاکاریوں کا صحیح بدلہ ہے۔ اور یہ بھی بتلا دیا تم ان سے قسمیں کھانے کے سبب راضی ہو بھی جاؤ تو اللہ تعالیٰ تو ان لوگوں سے راضی نہ ہو گا جو اللہ کی اطاعت اور رسولوں کی فرمابرداری سے باہر ہو گئے ہیں۔ وہ لوگ فاسق ہیں اور فسق کے لغوی معنی باہر نکلنے کے ہیں۔ کہتے ہیں کہ «الفارۃ فویسقۃ» یعنی چوہا خرابیاں اور فساد پیدا کرنے کے لئے ہی اپنے بل سے نکلتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے «فسقت الرطبۃ» یعنی ڈالیوں سے کجھور کے خوشے نکل آۓ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 94) ➊ {يَعْتَذِرُوْنَ اِلَيْكُمْ …:} جیسا کہ پہلے گزرا کہ یہ سلسلۂ آیات تبوک سے واپسی پر نازل ہوا، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی ان کے جھوٹے بہانوں کی اطلاع دے دی اور ساتھ ہی حکم دیا کہ ان سے کہہ دو کہ بہانے مت تراشو، ہم کسی صورت تمھارا اعتبار نہیں کریں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمھاری کچھ خبریں بتا دی ہیں۔ اب دیکھا جائے گا کہ تمھارا آئندہ رویہ کیا رہتا ہے، آیا تم موجودہ روش سے باز آتے ہو یا اسی پر جمے رہتے ہو۔ ➋ {وَ سَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ:} یہ عبارت یوں بھی ہو سکتی تھی کہ {”وَ سَيَرَي اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهُ عَمَلَكُمْ“} کہ عنقریب اللہ اور اس کا رسول تمھارا عمل دیکھیں گے، مگر مفعول {” عَمَلَكُمْ “} کو {” رَسُوْلُهٗ “} سے پہلے لانے کا صاف مطلب یہ ہے کہ اصل دیکھنے والا اور نگرانی کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، کیونکہ وہ ظاہر و باطن سے واقف ہے۔ اس کے بعد اللہ کے رسول بھی تمھارا عمل جو سامنے ہو گا دیکھیں گے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر ظاہری عمل سے مطمئن کر بھی لو اور تمھاری دلی کیفیت درست نہیں تو پھر تمھیں غائب و حاضر کو جاننے والے کے سامنے بھی حاضر ہونا ہے اور وہ تمھیں تمھاری اصل حقیقت سے آگاہ کرے گا۔ بعض شرک کے بیماروں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے حالات سے واقف ہے اور اس کا رسول بھی، کیونکہ اس آیت کے مطابق وہ دونوں سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ آیت کا مطلب تو اوپر بیان ہو چکا ہے مگر یہ حضرات اسی سورت کی آیت (۱۰۵) کا کیا کریں گے کہ جس میں ہے: ”اور کہہ دے تم عمل کرو پس عنقریب اللہ تمھارا عمل دیکھے گا اور اس کا رسول اور ایمان والے بھی۔“ تو کیا اللہ کے سوا رسول اور مومنین بھی سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور ہر بات سے واقف ہیں؟ مومن ہونے کا خیال تو ان حضرات کا اپنے بارے میں بھی ہو گا، ذرا اپنی حیثیت اور علم کی رسائی پر غور فرما لیں تو بہت جلد بات سمجھ میں آجائے گی۔ سورۂ نمل کی آیت (۶۵) اور اعراف کی آیت (۱۸۸) پر بھی ایک نظر ڈال لیں اور اسی سورۂ توبہ کی آیت (۱۰۱) «{ لَا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ}» پر بھی غور فرما لیں۔ ➌ ان آیات میں منافقین کو اخلاص کی طرف پلٹنے کی دعوت بھی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے کہ منافقین کو بھی اسی طرح بار بار بلاتا ہے کہ ہاں عمل کرو ہم تمھاری نگرانی کر رہے ہیں، اگر پلٹ آؤ گے تو ہم معاف کر دیں گے اور فی الواقع کئی منافقین اخلاص کی دولت سے سرفراز بھی ہوئے۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۶۶) اور نساء (۴۴، ۴۵)۔
تمہاری واپسی پر یہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے صرف نظر کرو تو بے شک تم ان سے صرف نظر ہی کر لو، کیونکہ یہ گندگی ہیں اور ان کا اصلی مقام جہنم ہے جو ان کی کمائی کے بدلے میں انہیں نصیب ہوگی
مولانا محمد جوناگڑھی
ہاں وه اب تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھا جائیں گے جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تاکہ تم ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دو۔ سو تم ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دو۔ وه لوگ بالکل گندے ہیں اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے ان کاموں کے بدلے جنہیں وه کیا کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اب تمہارے آگے اللہ کی قسمیں کھائیں گے جب تم ان کی طرف پلٹ کر جاؤ گے اس لیے کہ تم ان کے خیال میں نہ پڑو تو ہاں تم ان کا خیال چھوڑو وہ تو نرے پلید ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے بدلہ اس کا جو کماتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
جب تم ان کے پاس لوٹ جاؤگے تو وہ ضرور تمہارے سامنے اللہ کی قَسمیں کھائیں گے۔ تاکہ تم ان سے درگزر کرو۔ سو تم ان سے رخ پھیر ہی لو۔ یہ ناپاک ہیں اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے یہ ان کے کئے کی سزا ہے۔ جو وہ کرتے رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
عنقریب وہ تمھارے لیے اللہ کی قسم کھائیں گے جب تم ان کی طرف واپس آئو گے، تاکہ تم ان سے توجہ ہٹا لو۔ سو ان سے بے توجہی کرو، بے شک وہ گندے ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اس کے بدلے جو وہ کماتے رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فاسق اور چوہے کی مماثلت ٭٭
اللہ تعالیٰ نے منافقین سے یہ معلوم کرا دیا کہ جب تم مدینہ واپس ہو گے تو تمہارے سامنے اپنے عذرات پیش کریں گے۔ لیکن تم ان سے کہہ دو کہ عذارت باطلہ پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہم تمہاری بات کو کبھی سچ نہ مانیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے احوال معلوم کرا دئیے ہیں۔ عنقریب اللہ پاک تمہارے اعمال دنیا میں لوگوں کے سامنے ظاہر فرما دے گا اور تمہیں تمہارے اچھے برے سارے اعمال کی خبر دے دے گا اور اعمال کا نتیجہ بھی دیکھنا پڑے گا۔ پھر ان سے متعلق مزید خبر دی گئی کہ وہ قسمیں کھا کھا کر بیان کریں گے تاکہ تم ان سے درگزر کر جاؤ اور چشم پوشی کر لو۔ یہ اس وقت ہو گا جب تم مدینہ واپس ہو جاؤ گے۔ لیکن تم ہرگز ان کی تصدیق نہ کرنا اور ان سے اظہار حقارت کے لئے اعراض کر جاؤ۔ ان میں نفس کی گندگی ہے، ان کے باطن اور ان کے اعتقاد نجس ہیں، آخرت میں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے یہ ان کے اعمال یعنی خطاکاریوں کا صحیح بدلہ ہے۔ اور یہ بھی بتلا دیا تم ان سے قسمیں کھانے کے سبب راضی ہو بھی جاؤ تو اللہ تعالیٰ تو ان لوگوں سے راضی نہ ہو گا جو اللہ کی اطاعت اور رسولوں کی فرمابرداری سے باہر ہو گئے ہیں۔ وہ لوگ فاسق ہیں اور فسق کے لغوی معنی باہر نکلنے کے ہیں۔ کہتے ہیں کہ «الفارۃ فویسقۃ» یعنی چوہا خرابیاں اور فساد پیدا کرنے کے لئے ہی اپنے بل سے نکلتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے «فسقت الرطبۃ» یعنی ڈالیوں سے کجھور کے خوشے نکل آۓ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 95) {سَيَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَيْهِمْ …:} اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ تمھارے سامنے اللہ کی قسم کھانے سے ان کا مقصد یہ ہے کہ تم ان سے اعراض کرو، سو واقعی تم ان سے اعراض کرو۔ پہلے اعراض کا مطلب ہے کہ تم ان سے درگزر اور چشم پوشی کرو اور دوسرے اعراض کا مطلب یہ ہے کہ تم ان سے درگزر اور چشم پوشی کے ساتھ قطع تعلق بھی کرو۔ پھر ان سے قطع تعلق کا سبب بیان فرمایا کہ یہ رجس ہیں، جس کا معنی ”گندگی“ ہے، یعنی عقائد و اعمال کے لحاظ سے وہ اتنے گندے ہیں کہ سمجھو سراسر گندگی ہیں، گندگی کی پوٹ ہیں۔ گندگی سے تعلق کا نتیجہ آلودگی ہی ہے، اس لیے ان سے بچ جاؤ، تاکہ کہیں ان سے متاثر نہ ہو جاؤ۔ ”صحبت طالح ترا طالح کند“ پھر ان کا انجام بیان فرمایا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے چشم پوشی اور درگزر ہی سے کام لیا۔ چنانچہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ (ان تین مخلص مسلمانوں میں سے ایک جو بلاعذر پیچھے رہ گئے تھے) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس آتے تو مسجد سے ابتدا کرتے، چنانچہ آپ لوگوں کے لیے بیٹھ گئے تو پیچھے رہ جانے والے آئے اور عذر پیش کرنے لگے اور آپ کے سامنے قسمیں کھانے لگے، یہ اسی (۸۰) سے کچھ زیادہ لوگ تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ظاہر کو قبول فرمایا، ان سے بیعت لی، ان کے لیے استغفار کیا اور ان کے پوشیدہ معاملات اللہ کے سپرد کر دیے۔ [ بخاری، المغازی، باب حدیث کعب بن مالک رضی اللہ عنہ: …۴۴۱۸ ]
یہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے کہ تاکہ تم ان سے راضی ہو جاؤ حالانکہ اگر تم ان سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ ہرگز ایسے فاسق لوگوں سے راضی نہ ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ اس لیے قسمیں کھائیں گے کہ تم ان سے راضی ہوجاؤ۔ سو اگر تم ان سے راضی بھی ہوجاؤ تو اللہ تعالیٰ تو ایسے فاسق لوگوں سے راضی نہیں ہوتا
احمد رضا خان بریلوی
تمہارے آگے قسمیں کھاتے ہیں کہ تم ان سے راضی ہوجاؤ تو اگر تم ان سے راضی ہوجاؤ تو بیشک اللہ تو فاسق لوگوں سے راضی نہ ہوگا
علامہ محمد حسین نجفی
یہ لوگ تمہارے سامنے قَسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے راضی ہو جاؤ۔ سو تم اگر ان سے راضی بھی ہو جاؤ تو اللہ تو کبھی فاسق (نافرمان) قوم سے راضی ہونے والا نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تمھارے لیے قسم کھائیں گے، تاکہ تم ان سے راضی ہو جائو، پس اگر تم ان سے راضی ہو جائو تو بے شک اللہ نافرمان لوگوں سے راضی نہیں ہوتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فاسق اور چوہے کی مماثلت ٭٭
اللہ تعالیٰ نے منافقین سے یہ معلوم کرا دیا کہ جب تم مدینہ واپس ہو گے تو تمہارے سامنے اپنے عذرات پیش کریں گے۔ لیکن تم ان سے کہہ دو کہ عذارت باطلہ پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہم تمہاری بات کو کبھی سچ نہ مانیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے احوال معلوم کرا دئیے ہیں۔ عنقریب اللہ پاک تمہارے اعمال دنیا میں لوگوں کے سامنے ظاہر فرما دے گا اور تمہیں تمہارے اچھے برے سارے اعمال کی خبر دے دے گا اور اعمال کا نتیجہ بھی دیکھنا پڑے گا۔ پھر ان سے متعلق مزید خبر دی گئی کہ وہ قسمیں کھا کھا کر بیان کریں گے تاکہ تم ان سے درگزر کر جاؤ اور چشم پوشی کر لو۔ یہ اس وقت ہو گا جب تم مدینہ واپس ہو جاؤ گے۔ لیکن تم ہرگز ان کی تصدیق نہ کرنا اور ان سے اظہار حقارت کے لئے اعراض کر جاؤ۔ ان میں نفس کی گندگی ہے، ان کے باطن اور ان کے اعتقاد نجس ہیں، آخرت میں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے یہ ان کے اعمال یعنی خطاکاریوں کا صحیح بدلہ ہے۔ اور یہ بھی بتلا دیا تم ان سے قسمیں کھانے کے سبب راضی ہو بھی جاؤ تو اللہ تعالیٰ تو ان لوگوں سے راضی نہ ہو گا جو اللہ کی اطاعت اور رسولوں کی فرمابرداری سے باہر ہو گئے ہیں۔ وہ لوگ فاسق ہیں اور فسق کے لغوی معنی باہر نکلنے کے ہیں۔ کہتے ہیں کہ «الفارۃ فویسقۃ» یعنی چوہا خرابیاں اور فساد پیدا کرنے کے لئے ہی اپنے بل سے نکلتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے «فسقت الرطبۃ» یعنی ڈالیوں سے کجھور کے خوشے نکل آۓ۔
96۔ 1 ان تین آیات میں ان منافقین کا ذکر ہے جو تبوک کے سفر میں مسلمانوں کے ساتھ نہیں گئے تھے نبی اور مسلمانوں کو بخریت واپسی پر اپنے عذر پیش کرکے ان کی نظروں میں وفادار بننا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جب ان کے پاس آؤ گے تو یہ عذر پیش کریں گے، تم ان سے کہہ دو، کہ ہمارے سامنے عذر پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اصل حالات سے ہمیں باخبر کردیا ہے۔ اب تمہارے جھوٹے عذروں کا ہم اعتبار کس طرح کرسکتے ہیں؟ البتہ ان عذروں کی حقیقت مستقبل قریب میں مذید واضح ہوجائے گی، تمہارا عمل، جسے اللہ تعالیٰ بھی دیکھ رہا ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر بھی اس پر ہے، تمہارے عذروں کی حقیقت کو خود بےنقاب کر دے گا۔ تیسری آیت میں فرمایا، یہ تمہیں راضی کرنے کے لئے قسمیں کھائیں گے۔ لیکن ان نادانوں کو یہ پتہ نہیں کہ اگر تم ان سے راضی ہو بھی جاؤ تو انہوں نے جس فسق یعنی اطاعت الٰہی سے گریز و فرار کا راستہ اختیار کیا ہے اس کی موجودگی میں اللہ تعالیٰ ان سے راضی کیونکر ہوسکتا ہے۔
(آیت 96) {يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ …:} یعنی ان کے قسمیں کھانے اور حیلے بہانے کرنے کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ تم ان سے درگزر کرو اور چشم پوشی سے کام لو اور پھر یہ چاہتے ہیں کہ ان سے راضی بھی ہو جاؤ، اگر تم ان کی باتوں سے متاثر ہو کر راضی ہو بھی جاؤ تو اللہ تعالیٰ ان کے فسق کی وجہ سے ان سے کبھی راضی نہیں ہو گا۔ {” فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَرْضٰي عَنْهُمْ “} کے بجائے «{ لَا يَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ }» کہنے میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بیان ہوا ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے بھی ان کے فسق کی وجہ سے کسی صورت ان سے راضی ہونا جائز نہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”جس شخص کے حالات سے معلوم ہوتا ہو کہ وہ منافق ہے، اس کی طرف سے تغافل تو جائز ہے مگر اس سے دوستی اور محبت روا نہیں۔“ (موضح)
یہ بدوی عرب کفر و نفاق میں زیادہ سخت ہیں اور ان کے معاملہ میں اس امر کے امکانات زیادہ ہیں کہ اس دین کے حدود سے نا واقف رہیں جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اللہ سب کچھ جانتا ہے اور حکیم و دانا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
دیہاتی لوگ کفر اور نفاق میں بہت ہی سخت ہیں اور ان کو ایسا ہونا ہی چاہئے کہ ان کو ان احکام کا علم نہ ہو جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں اور اللہ بڑا علم واﻻ بڑی حکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
گنوار کفر اور نفاق میں زیادہ سخت ہیں اور اسی قابل ہیں کہ اللہ نے جو حکم اپنے رسول پر اتارے اس سے جاہل رہیں، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
صحرائی عرب کفر و نفاق میں سب سے زیادہ سخت ہیں اور اسی قابل ہیں کہ ان احکام کے حدود و قیود کو نہ سمجھیں جو خدا نے اپنے رسول(ص) پر نازل کئے ہیں اور اللہ بڑا جاننے والا، بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بدوی لوگ کفر اور نفاق میں زیادہ سخت ہیں اور زیادہ لائق ہیں کہ وہ حدیں نہ جانیں جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کی ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دیہات، صحرا اور شہر ہر جگہ انسانی فطرت یکساں ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ نے خبر دیٍ ہے کہ دیہاتیوں اور صحرا نشین بدؤں میں کفار بھی ہیں اور مومنین بھی۔ لیکن ان کا کفر اور ان کا نفاق دوسروں کی بہ نسبت بہت عظیم اور شدید ہوتا ہے اور وہ اسی بات کے سزاوار ہیں کہ اللہ پاک نے اپنے رسول پر جو بھی حدود و احکام نازل فرمائے ہیں ان سے بےخبر ہیں۔ جیسے کہ اعمش نے ابراہیم سے روایت کی ہے کہ ایک اعرابی بدوی زید بن صوحان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور وہ اپنے ساتھیوں سے باتیں کر رہے تھے اور جنگ نہاوند میں ان کا ہاتھ کٹ گیا تھا۔ اعرابی ان سے کہنے لگا کہ ”تمہاری باتیں تو بڑی پیاری ہیں اور تم بڑے اچھے آدمی معلوم ہوتے ہو لیکن یہ تمہارا کٹا ہوا ہاتھ مجھے تمہارے بارے میں شک پیدا کرتا ہے“ تو زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ”میرے کٹے ہوئے ہاتھ سے تمہیں شک کیوں ہوتا ہے یہ تو بایاں ہاتھ ہے۔“ تو اعرابی نے کہا: ”واللہ! میں نہیں جانتا کہ چوری میں بایاں ہاتھ کاٹتے ہیں یا دایاں ہاتھ۔ تو زید بن صوحان بول اٹھے کہی اللہ عزوجل نے سچ فرمایا تھا کہ «الأَعرابُ أَشَدُّ كُفرًا وَنِفاقًا وَأَجدَرُ أَلّا يَعلَموا حُدودَ ما أَنزَلَ اللَّهُ عَلىٰ رَسولِهِ» یعنی یہ کفار اعراب اسی کے سزاوار ہیں کہ حدود اللہ سے نا واقف ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ نے بالاسناد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جو صحرا نشین ہو وہ گویا جلا وطن ہے اور جو شکار کے پیچھے دوڑا دوڑا پھرتا ہے بڑا ہی بے سمجھ ہے اور جس نے کسی بادشاہ کی ہمنشینی اختیار کی وہ فتنہ سے دوچار ہو گیا۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:2859،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابوداؤد اور ترمذی، نسائی میں بھی سفیان ثوری رحمہ اللہ سے یہ حدیث مروی ہے۔ ترمذی رحمہ اللہ نے اسے حسن غریب بتایا ہے۔ ثوری رحمہ اللہ سے روایت کے سوا اور کسی سے روایت کا ہمیں علم نہیں۔ صحرا نشینوں میں چونکہ عموماً بدمزاجی اجڈپن اور بدتمیزی ہوتی ہے اس لئے اللہ عزوجل نے ان میں اپنا رسول نہیں پیدا کیا۔ بعثت نبوت ہمیشہ شہری اور مہذب لوگوں میں ہوا کرتی ہے۔ جیسا کہ اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» ۱؎ [12-يوسف:109] یعنی ہم نے تم سے پہلے بھی جتنے رسولوں کو انسانوں کی طرف بھیجا وہ سب شہری اور متمدن بستیوں کے لوگ تھے۔ ایک مرتبہ ایک اعرابی نے اپنا ہدیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا تو اس وقت تک اس کا دل خوش نہ ہوا جب تک کہ اس سے کئی گناہ زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پاس نہ بھیج دیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اب سے میں نے تو ارادہ کر لیا ہے کہ قریشی، ثقفی، انصاری اور دوسی کے سوا کسی کا ہدیہ قبول نہ کروں گا۔ ۱؎ [مسند احمد:2687:صحیح]
دعاؤں کے طلبگار متبع ہیں، مبتدع نہیں! ٭٭
کیونکہ یہ لوگ متمدن شہری ہیں مکہ، طائف، مدینہ اور یمن میں رہتے ہیں اخلاق میں یہ بدویوں سے بہت اچھے ہوتے ہیں کیونکہ اعرابی بہت اجڈ ہوتے ہیں۔ حدیث مسلم بالاسناد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ چند بدوی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پاس حاظر ہوئے اور کہنے لگے: ”کیا تم اپنے بچوں کو چومتے ہو؟ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا ہاں۔ تو انہوں نے کہا: ”لیکن اللہ کی قسم ہم نہیں چومتے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ نے تمہارے دلوں سے محبت اور رحمت کو نکال دیا ہے تو کیا میں اس کا ذمہ دار ہوں“؟ ۱؎ [صحیح بخاری:5998] اور اللہ خوب واقف ان لوگوں سے جو اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں علم اور ایمان کی توفیق دی جائے اور اس نے اپنے بندوں میں علم، جہل ایمان، کفر اور نفاق کی تقسیم بڑی دانشوری سے کی ہے۔وہ اپنی حکمت اور علم کی بنا پر جو کچھ کرتا ہے کون اس پر حرف گیری کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان میں ایسے کم حوصلہ بھی ہیں کہ اللہ کی راہ میں اگر وہ کچھ خرچ کرتے ہیں تو اس کو تاوان اور خسارہ سمجھ بیٹھتے ہیں، اور تم پر حوادث و آفات کے منتظر ہیں۔ لیکن یہ حوادث انہیں پر منعکس ہوں گے اور گھوم ہھر کر انہیں پر نازل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پکار کو سننے والا ہے۔ اور اس بات کو جانتا ہے کہ ذلت خذلان و نامرادی کا مستحق کون ہے اور نصرہ و کامیابی کا کون سزاوار ہے؟ اور اعراب کی ایک اور قسم ممدوح ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو اس اللہ کے پاس قربت اور پسندیدگی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے سبب اپنے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائے خیر حاصل ہو۔ ہاں یقیناً یہ انفاق ان کے لئے قربت الہٰی کا سبب ہوگا اور اللہ پاک ان کو اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا۔ اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔
97۔ 1 مزکورہ آیات میں ان منافقین کا تذکرہ تھا جو مدینہ شہر میں رہائش پذیر تھے۔ اور کچھ منافقین وہ بھی تھے جو بادیہ نشین یعنی مدینہ کے باہر دیہاتوں میں رہتے تھے، دیہات کے ان باشندوں کو اعراب کہا جاتا ہے جو اعرابی کی جمع ہے شہریوں کے اخلاق و کردار میں درشتی اور کھردراپن زیادہ پایا جاتا ہے اس طرح ان میں جو کافر اور منافق تھے وہ کفر و نفاق میں بھی شہریوں سے زیادہ سخت اور احکام شریعت سے زیادہ بیخبر تھے اس آیت میں انہی کا تذکرہ اور انکے اسی کردار کی وضاحت ہے۔ بعض احادیث سے بھی ان کے کردار پر روشنی پڑتی ہے۔ مثلًا ایک موقع پر کچھ اعرابی رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے پوچھا اَتُقَبْلُوْنَ صِبْیَانکُمْ ' کیا تم اپنے بچے کو بوسہ دیتے ہو صحابہ نے عرض کیا ہاں انہوں نے کہا واللہ! ہم تو بوسہ نہیں دیتے ' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا ' اگر اللہ نے تمہارے دلوں میں سے رحم و شفقت کا جذبہ نکال دیا ہے تو میرا اس میں کیا اختیار ہے۔ (صحیح بخاری) 97۔ 2 اس کی وجہ یہ ہے کہ چوں کہ وہ شہر سے دور رہتے ہیں اور اللہ اور رسول کی باتیں سننے کا اتفاق ان کو نہیں ہوتا۔
(آیت 97) ➊ {اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا …: ” اَلْاَعْرَابُ “} عرب کے صحرا اور بادیہ میں رہنے والوں کے لیے اسم جنس ہے، واحد کے لیے {”اَعْرَابِي“} اور مؤنث کے لیے{ ”اَعْرَابِيَّةٌ“} استعمال ہوتا ہے، جمع {”اَعَارِيْبُ“} ہے {” اَلْعَرَبُ “} اس نسل کے لیے اسم جنس ہے جو عربی زبان بولتی ہے، خواہ شہری ہو یا بادیہ نشیں، اس کا واحد {” عَرَبِيٌّ“} آتا ہے۔ یہاں اعراب سے مراد ان کی جنس کے بعض افراد ہیں ہر شخص نہیں، کیونکہ ان میں سے بعض مخلص اہل ایمان کا ذکر آئندہ آیات میں آ رہا ہے۔ ➋ { ” اَلْاَعْرَابُ “} سے مراد وہ لوگ ہیں جو مدینہ منورہ سے دور دیہاتی اور صحرائی علاقوں میں رہتے تھے، ان میں سے اکثر اسلام کی دعوت کو سمجھ کر سچے دل سے مسلمان نہیں ہوئے تھے، بلکہ محض اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت سے مرعوب ہو کر مسلمان ہو گئے تھے۔ انھیں شہر (مدینہ منورہ) میں آنے، مسلمانوں سے میل جول رکھنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہونے کا بہت کم موقع ملا تھا، اس لیے یہ نرے گنوار اور اجڈ قسم کے لوگ تھے، جن کے دلوں میں نہ نرمی پیدا ہوئی تھی اور نہ انھیں علم کی ہوا لگی تھی۔ اس لیے ان میں جو منافق تھے ان کا نفاق بھی اہل مدینہ کے نفاق سے سخت تھا۔ بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ بدوی اور شہری لوگوں کی طبیعتوں میں وہی فرق پایا جاتا ہے جو ایک باغ کے میوے اور پہاڑی درخت کے میوے میں محسوس ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو بستیوں سے مبعوث فرمایا: «{ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْۤ اِلَيْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى }» [ یوسف: ۱۰۹ ] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے نہیں بھیجے مگر کچھ مرد، جن کی طرف ہم ان بستیوں والوں میں سے وحی کیا کرتے تھے۔“ اور آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام بستیوں کی ماں ام القریٰ مکہ میں پیدا فرمایا، تاکہ وہ شہری معاشرے کی شائستگی اور نرم دلی کے حامل ہوں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”بدویوں کی سرشت میں بے حکمی، مفاد پرستی اور جہالت رچی بسی ہوئی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال حکمت سے نہ ان پر زیادہ ذمہ داری ڈالی اور نہ ان کو درجات کی بلندی عطا ہوئی۔“ (موضح) لوگوں کے ساتھ میل جول کی کمی کی وجہ سے طبیعت میں سختی پیدا ہو جانا فطری سی بات ہے۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بادیہ میں سکونت رکھے وہ سخت دل ہو جاتا ہے، جو شکار کے پیچھے ہی لگ جائے وہ غافل ہو جاتا ہے اور جو سلطان کے پاس آئے وہ آزمائش میں ڈال دیا جاتا ہے۔“ [ أحمد: 357/1، ح: ۳۳۶۱۔ أبوداوٗد: ۲۸۵۹۔ ترمذی: ۲۲۵۶۔ نسائی: ۴۳۱۴، وصححہ الألبانی ] بعض اعراب کی سخت دلی پر اس حدیث سے کافی روشنی پڑتی ہے جو ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا نے بیان فرمائی کہ اعراب کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے (انھوں نے آپ کو حسن یا حسین رضی اللہ عنھما کو چومتے دیکھا) تو کہنے لگے: ”کیا تم لوگ اپنے بچوں کو چومتے ہو؟“ لوگوں نے کہا: ”ہاں!“ تو وہ کہنے لگے: ”لیکن اللہ کی قسم! ہم تو نہیں چومتے!“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور کیا میں اختیار رکھتا ہوں، اگر اللہ نے تم سے رحم کرنا نکال لیا ہے۔“ [ مسلم، الفضائل، باب رحمتہ صلی اللہ علیہ وسلم الصبیان …: ۲۳۱۷۔ بخاری: ۵۹۹۸ ] مفسرین نے اس مقام پر اعراب کی سخت دلی کے کئی واقعات لکھے ہیں۔
ان بدویوں میں ایسے ایسے لوگ موجود ہیں جو راہ خدا میں کچھ خرچ کرتے ہیں تو اسے اپنے اوپر زبردستی کی چٹی سمجھتے ہیں اور تمہارے حق میں زمانہ کی گردشوں کا انتظار کر رہے ہیں (کہ تم کسی چکر میں پھنسو تو وہ اپنی گردن سے اس نظام کی اطاعت کا قلادہ اتار پھینکیں جس میں تم نے انہیں کس دیا ہے) حالانکہ بدی کا چکر خود انہی پر مسلط ہے اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان دیہاتیوں میں سے بعض ایسے ہیں کہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو جرمانہ سمجھتے ہیں اور تم مسلمانوں کے واسطے برے وقت کے منتظر رہتے ہیں، برا وقت ان ہی پر پڑنے واﻻ ہے اور اللہ سننے واﻻ جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور کچھ گنوار وہ ہیں کہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کریں تو اسے تاوان سمجھیں اور تم پر گردشیں آنے کے انتظار میں رہیں انہیں پر ہے بری گردش اور اللہ سنتا جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
صحرائی عربوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں کہ (راہ خدا میں) جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے جرمانہ سمجھتے ہیں اور تمہارے بارے میں زمانہ کی گردشوں کے منتظر ہیں۔ (کہ تم پر کوئی گردش آجائے اور وہ اسلام سے گلو خلاصی کرائیں) حالانکہ بڑی گردش انہی (منافقین) کے لیے ہے۔ خدا سب کچھ جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بدویوں میں سے کچھ وہ ہیں کہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں اور تم پر (زمانے کے) چکروں کا انتظار کرتے ہیں، برا چکر انھی پر ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دیہات، صحرا اور شہر ہر جگہ انسانی فطرت یکساں ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ نے خبر دیٍ ہے کہ دیہاتیوں اور صحرا نشین بدؤں میں کفار بھی ہیں اور مومنین بھی۔ لیکن ان کا کفر اور ان کا نفاق دوسروں کی بہ نسبت بہت عظیم اور شدید ہوتا ہے اور وہ اسی بات کے سزاوار ہیں کہ اللہ پاک نے اپنے رسول پر جو بھی حدود و احکام نازل فرمائے ہیں ان سے بےخبر ہیں۔ جیسے کہ اعمش نے ابراہیم سے روایت کی ہے کہ ایک اعرابی بدوی زید بن صوحان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور وہ اپنے ساتھیوں سے باتیں کر رہے تھے اور جنگ نہاوند میں ان کا ہاتھ کٹ گیا تھا۔ اعرابی ان سے کہنے لگا کہ ”تمہاری باتیں تو بڑی پیاری ہیں اور تم بڑے اچھے آدمی معلوم ہوتے ہو لیکن یہ تمہارا کٹا ہوا ہاتھ مجھے تمہارے بارے میں شک پیدا کرتا ہے“ تو زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ”میرے کٹے ہوئے ہاتھ سے تمہیں شک کیوں ہوتا ہے یہ تو بایاں ہاتھ ہے۔“ تو اعرابی نے کہا: ”واللہ! میں نہیں جانتا کہ چوری میں بایاں ہاتھ کاٹتے ہیں یا دایاں ہاتھ۔ تو زید بن صوحان بول اٹھے کہی اللہ عزوجل نے سچ فرمایا تھا کہ «الأَعرابُ أَشَدُّ كُفرًا وَنِفاقًا وَأَجدَرُ أَلّا يَعلَموا حُدودَ ما أَنزَلَ اللَّهُ عَلىٰ رَسولِهِ» یعنی یہ کفار اعراب اسی کے سزاوار ہیں کہ حدود اللہ سے نا واقف ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ نے بالاسناد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جو صحرا نشین ہو وہ گویا جلا وطن ہے اور جو شکار کے پیچھے دوڑا دوڑا پھرتا ہے بڑا ہی بے سمجھ ہے اور جس نے کسی بادشاہ کی ہمنشینی اختیار کی وہ فتنہ سے دوچار ہو گیا۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:2859،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابوداؤد اور ترمذی، نسائی میں بھی سفیان ثوری رحمہ اللہ سے یہ حدیث مروی ہے۔ ترمذی رحمہ اللہ نے اسے حسن غریب بتایا ہے۔ ثوری رحمہ اللہ سے روایت کے سوا اور کسی سے روایت کا ہمیں علم نہیں۔ صحرا نشینوں میں چونکہ عموماً بدمزاجی اجڈپن اور بدتمیزی ہوتی ہے اس لئے اللہ عزوجل نے ان میں اپنا رسول نہیں پیدا کیا۔ بعثت نبوت ہمیشہ شہری اور مہذب لوگوں میں ہوا کرتی ہے۔ جیسا کہ اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» ۱؎ [12-يوسف:109] یعنی ہم نے تم سے پہلے بھی جتنے رسولوں کو انسانوں کی طرف بھیجا وہ سب شہری اور متمدن بستیوں کے لوگ تھے۔ ایک مرتبہ ایک اعرابی نے اپنا ہدیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا تو اس وقت تک اس کا دل خوش نہ ہوا جب تک کہ اس سے کئی گناہ زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پاس نہ بھیج دیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اب سے میں نے تو ارادہ کر لیا ہے کہ قریشی، ثقفی، انصاری اور دوسی کے سوا کسی کا ہدیہ قبول نہ کروں گا۔ ۱؎ [مسند احمد:2687:صحیح]
دعاؤں کے طلبگار متبع ہیں، مبتدع نہیں! ٭٭
کیونکہ یہ لوگ متمدن شہری ہیں مکہ، طائف، مدینہ اور یمن میں رہتے ہیں اخلاق میں یہ بدویوں سے بہت اچھے ہوتے ہیں کیونکہ اعرابی بہت اجڈ ہوتے ہیں۔ حدیث مسلم بالاسناد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ چند بدوی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پاس حاظر ہوئے اور کہنے لگے: ”کیا تم اپنے بچوں کو چومتے ہو؟ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا ہاں۔ تو انہوں نے کہا: ”لیکن اللہ کی قسم ہم نہیں چومتے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ نے تمہارے دلوں سے محبت اور رحمت کو نکال دیا ہے تو کیا میں اس کا ذمہ دار ہوں“؟ ۱؎ [صحیح بخاری:5998] اور اللہ خوب واقف ان لوگوں سے جو اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں علم اور ایمان کی توفیق دی جائے اور اس نے اپنے بندوں میں علم، جہل ایمان، کفر اور نفاق کی تقسیم بڑی دانشوری سے کی ہے۔وہ اپنی حکمت اور علم کی بنا پر جو کچھ کرتا ہے کون اس پر حرف گیری کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان میں ایسے کم حوصلہ بھی ہیں کہ اللہ کی راہ میں اگر وہ کچھ خرچ کرتے ہیں تو اس کو تاوان اور خسارہ سمجھ بیٹھتے ہیں، اور تم پر حوادث و آفات کے منتظر ہیں۔ لیکن یہ حوادث انہیں پر منعکس ہوں گے اور گھوم ہھر کر انہیں پر نازل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پکار کو سننے والا ہے۔ اور اس بات کو جانتا ہے کہ ذلت خذلان و نامرادی کا مستحق کون ہے اور نصرہ و کامیابی کا کون سزاوار ہے؟ اور اعراب کی ایک اور قسم ممدوح ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو اس اللہ کے پاس قربت اور پسندیدگی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے سبب اپنے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائے خیر حاصل ہو۔ ہاں یقیناً یہ انفاق ان کے لئے قربت الہٰی کا سبب ہوگا اور اللہ پاک ان کو اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا۔ اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔
98۔ 1 اب ان دیہاتیوں کی دو قسمیں بیان کی جا رہی ہیں یہ پہلی قسم ہے۔ 98۔ 2 غُرْم تاوان اور جرمانے کو کہتے ہیں۔ یعنی ایسا خرچ ہو جو انسان کو نہایت ناگواری سے ناچار کرنا پڑجاتا ہے۔ 98۔ 3 دَوَائِرُ۔ دَا ئِرَۃ کی جمع ہے، گردش زمانہ یعنی مصائب و آلام یعنی وہ منتظر رہتے ہیں کہ مسلمان زمانے کی گردشوں یعنی مصائب کا شکار ہوں۔ 98۔ 4 یہ بد دعا یا خبر ہے کہ زمانے کی گردش ان پر ہی پڑے۔ کیونکہ وہی اس کے مستحق ہیں۔
(آیت 98) ➊ {وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ يَّتَّخِذُ …: ” مَغْرَمًا “} سے مراد تاوان، چٹی اور جرمانہ ہے، قرض کو بھی {” مَغْرَمًا “} کہہ لیتے ہیں۔ قرض خواہ کو غریم کہتے ہیں، کیونکہ غرام کا معنی لازم ہونا، چمٹنا بھی ہے۔ تاوان بھی لازم ہو جاتا ہے اور قرض خواہ بھی جان نہیں چھوڑتا، سورۂ فرقان میں ہے: «{ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا }» [ الفرقان: ۶۵ ] ”بے شک اس کا عذاب ہمیشہ چمٹ جانے والا ہے۔“ یعنی بعض اعراب ایسے ہیں کہ زکوٰۃ ہو یا جہاد، اس کے لیے جب بھی چندہ دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی خاطر نہیں اور نہ دلی جذبہ کے ساتھ، بلکہ محض چٹی یا جرمانہ سمجھ کر بادل ناخواستہ ادا کرتے ہیں کہ اگر ادا نہ کریں گے تو مسلمان انھیں مشتبہ نگاہوں سے دیکھیں گے اور ان کے درمیان زندگی بسر کرنا دو بھر ہو جائے گا۔ ➋ {وَ يَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآىِٕرَ: ” الدَّوَآىِٕرَ “ ”دَائِرَةٌ“} کی جمع ہے، جو {”دَارَ يَدُوْرُ دَوْرًا“} (گھومنا) سے اسم فاعل ہے، چکر، گھومنے والا، یعنی وہ انتظار کر رہے ہیں کہ تم پر کب کوئی اچانک مصیبت اترتی ہے اور تم کب زمانے کے کسی چکر کے گھیرے میں آ کر زوال کا شکار ہوتے ہو، یا یہ کہ کب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوتے ہیں اور مشرکین کو تم پر غلبہ ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی زبانی بدگوئی اور دلی بدخواہی کو ہی نہیں، بلکہ ہر بات کو سننے والا اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ ➌ {عَلَيْهِمْ دَآىِٕرَةُ السَّوْءِ: ” السَّوْءِ “ سَاءَهُ يَسُوْءُهُ سَوْءً “} سین کے فتح کے ساتھ مصدر ہے، جب کسی کے ساتھ ایسا معاملہ کیا جائے جو اسے برا لگے اور سین کے ضمہ کے ساتھ اسم مصدر ہے، یعنی یہ برا چکر انھی پر آنے والا ہے، یا بددعا ہے کہ برا چکر انھی پر آئے، مگر اللہ تعالیٰ کو بددعا کی کیا ضرورت ہے، اس صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ ان کی اس بدخواہی کا تقاضا ہے کہ ان پر یہ بددعا کی جائے کہ برا چکر انھی پر چلے۔
اور انہی بدویوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اُسے اللہ کے تقرب کا اور رسولؐ کی طرف سے رحمت کی دعائیں لینے کا ذریعہ بناتے ہیں ہاں! وہ ضرور ان کے لیے تقرب کا ذریعہ ہے اور اللہ ضرور ان کو اپنی رحمت میں داخل کریگا، یقیناً اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بعض اہل دیہات میں ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو عنداللہ قرب حاصل ہونے کا ذریعہ اور رسول کی دعا کا ذریعہ بناتے ہیں، یاد رکھو کہ ان کا یہ خرچ کرنا بیشک ان کے لیے موجب قربت ہے، ان کو اللہ تعالیٰ ضرور اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت واﻻ بڑی رحمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور کچھ گاؤں والے وہ ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو خرچ کریں اسے اللہ کی نزدیکیوں اور رسول سے دعائیں لینے کا ذریعہ سمجھیں ہاں ہاں وہ ان کے لیے باعث قرب ہے اللہ جلد انہیں اپنی رحمت میں داخل کرے گا، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور انہی بدوؤں میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ (راہِ خدا میں) خرچ کرتے ہیں۔ اسے اللہ کے تقرب اور رسول کی دعاؤں کا وسیلہ سمجھتے ہیں۔ بے شک وہ (خرچ کرنا) ان کے لیے تقرب کا ذریعہ ہے۔ اللہ ضرور ان کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بے شک اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بدویوں میں سے کچھ وہ ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے ہاں قربتوں اور رسول کی دعائوں کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ سن لو! بے شک وہ ان کے لیے قرب کا ذریعہ ہے، عنقریب اللہ انھیں اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دیہات، صحرا اور شہر ہر جگہ انسانی فطرت یکساں ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ نے خبر دیٍ ہے کہ دیہاتیوں اور صحرا نشین بدؤں میں کفار بھی ہیں اور مومنین بھی۔ لیکن ان کا کفر اور ان کا نفاق دوسروں کی بہ نسبت بہت عظیم اور شدید ہوتا ہے اور وہ اسی بات کے سزاوار ہیں کہ اللہ پاک نے اپنے رسول پر جو بھی حدود و احکام نازل فرمائے ہیں ان سے بےخبر ہیں۔ جیسے کہ اعمش نے ابراہیم سے روایت کی ہے کہ ایک اعرابی بدوی زید بن صوحان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور وہ اپنے ساتھیوں سے باتیں کر رہے تھے اور جنگ نہاوند میں ان کا ہاتھ کٹ گیا تھا۔ اعرابی ان سے کہنے لگا کہ ”تمہاری باتیں تو بڑی پیاری ہیں اور تم بڑے اچھے آدمی معلوم ہوتے ہو لیکن یہ تمہارا کٹا ہوا ہاتھ مجھے تمہارے بارے میں شک پیدا کرتا ہے“ تو زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ”میرے کٹے ہوئے ہاتھ سے تمہیں شک کیوں ہوتا ہے یہ تو بایاں ہاتھ ہے۔“ تو اعرابی نے کہا: ”واللہ! میں نہیں جانتا کہ چوری میں بایاں ہاتھ کاٹتے ہیں یا دایاں ہاتھ۔ تو زید بن صوحان بول اٹھے کہی اللہ عزوجل نے سچ فرمایا تھا کہ «الأَعرابُ أَشَدُّ كُفرًا وَنِفاقًا وَأَجدَرُ أَلّا يَعلَموا حُدودَ ما أَنزَلَ اللَّهُ عَلىٰ رَسولِهِ» یعنی یہ کفار اعراب اسی کے سزاوار ہیں کہ حدود اللہ سے نا واقف ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ نے بالاسناد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جو صحرا نشین ہو وہ گویا جلا وطن ہے اور جو شکار کے پیچھے دوڑا دوڑا پھرتا ہے بڑا ہی بے سمجھ ہے اور جس نے کسی بادشاہ کی ہمنشینی اختیار کی وہ فتنہ سے دوچار ہو گیا۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:2859،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابوداؤد اور ترمذی، نسائی میں بھی سفیان ثوری رحمہ اللہ سے یہ حدیث مروی ہے۔ ترمذی رحمہ اللہ نے اسے حسن غریب بتایا ہے۔ ثوری رحمہ اللہ سے روایت کے سوا اور کسی سے روایت کا ہمیں علم نہیں۔ صحرا نشینوں میں چونکہ عموماً بدمزاجی اجڈپن اور بدتمیزی ہوتی ہے اس لئے اللہ عزوجل نے ان میں اپنا رسول نہیں پیدا کیا۔ بعثت نبوت ہمیشہ شہری اور مہذب لوگوں میں ہوا کرتی ہے۔ جیسا کہ اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» ۱؎ [12-يوسف:109] یعنی ہم نے تم سے پہلے بھی جتنے رسولوں کو انسانوں کی طرف بھیجا وہ سب شہری اور متمدن بستیوں کے لوگ تھے۔ ایک مرتبہ ایک اعرابی نے اپنا ہدیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا تو اس وقت تک اس کا دل خوش نہ ہوا جب تک کہ اس سے کئی گناہ زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پاس نہ بھیج دیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اب سے میں نے تو ارادہ کر لیا ہے کہ قریشی، ثقفی، انصاری اور دوسی کے سوا کسی کا ہدیہ قبول نہ کروں گا۔ ۱؎ [مسند احمد:2687:صحیح]
دعاؤں کے طلبگار متبع ہیں، مبتدع نہیں! ٭٭
کیونکہ یہ لوگ متمدن شہری ہیں مکہ، طائف، مدینہ اور یمن میں رہتے ہیں اخلاق میں یہ بدویوں سے بہت اچھے ہوتے ہیں کیونکہ اعرابی بہت اجڈ ہوتے ہیں۔ حدیث مسلم بالاسناد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ چند بدوی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پاس حاظر ہوئے اور کہنے لگے: ”کیا تم اپنے بچوں کو چومتے ہو؟ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا ہاں۔ تو انہوں نے کہا: ”لیکن اللہ کی قسم ہم نہیں چومتے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ نے تمہارے دلوں سے محبت اور رحمت کو نکال دیا ہے تو کیا میں اس کا ذمہ دار ہوں“؟ ۱؎ [صحیح بخاری:5998] اور اللہ خوب واقف ان لوگوں سے جو اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں علم اور ایمان کی توفیق دی جائے اور اس نے اپنے بندوں میں علم، جہل ایمان، کفر اور نفاق کی تقسیم بڑی دانشوری سے کی ہے۔وہ اپنی حکمت اور علم کی بنا پر جو کچھ کرتا ہے کون اس پر حرف گیری کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان میں ایسے کم حوصلہ بھی ہیں کہ اللہ کی راہ میں اگر وہ کچھ خرچ کرتے ہیں تو اس کو تاوان اور خسارہ سمجھ بیٹھتے ہیں، اور تم پر حوادث و آفات کے منتظر ہیں۔ لیکن یہ حوادث انہیں پر منعکس ہوں گے اور گھوم ہھر کر انہیں پر نازل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پکار کو سننے والا ہے۔ اور اس بات کو جانتا ہے کہ ذلت خذلان و نامرادی کا مستحق کون ہے اور نصرہ و کامیابی کا کون سزاوار ہے؟ اور اعراب کی ایک اور قسم ممدوح ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو اس اللہ کے پاس قربت اور پسندیدگی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے سبب اپنے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائے خیر حاصل ہو۔ ہاں یقیناً یہ انفاق ان کے لئے قربت الہٰی کا سبب ہوگا اور اللہ پاک ان کو اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا۔ اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔
99۔ 1 یہ اعراب کی دوسری قسم ہے جن کو اللہ نے شہر سے دور رہنے کے باوجود، اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی۔ اور اس ایمان کی بدولت ان سے وہ جہالت بھی دور فرما دی جو بددینیت کی وجہ سے اہل بادیہ میں عام طور پر ہوتی ہے۔ چناچہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کردہ مال کو جرمانہ سمجھنے کی بجائے۔ اللہ کے قرب کا اور رسول کی دعائیں لینے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یہ اشارہ ہے رسول اللہ کے اس طرز عمل کی طرف، جو صدقہ دینے والوں کے بارے میں آپ تا یعنی آپ ان کے حق میں دعائے خیر فرماتے۔ جس طرح حدیث میں آتا ہے کہ ایک صدقہ لانے والے کے لئے آپ نے دعا فرمائی اللَّہُمَّ صَلِّ عَلَی آلِ اَبِیْ اَوْفٰی (صحیح بخاری نمبر 4166 صحیح مسلم نمبر 756) ' اے اللہ! ابو اوفی کی آل پر رحمت نازل فرما ـ' 99۔ 2 یہ خوشخبری ہے کہ اللہ کا قرب انہیں حاصل ہے اور اللہ کی رحمت کے وہ مستحق ہیں۔
(آیت 99) {وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ يُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ …: ” قُرُبٰتٍ “} یہ {”قُرْبَةٌ“} کی جمع ہے، وہ عمل جسے انسان اپنے خالق کے قریب ہونے کا ذریعہ بنائے۔ {” صَلَوٰتِ “} یہ{ ” صَلاَةٌ “} کی جمع ہے جس کا معنی نماز کے علاوہ دعا بھی آتا ہے۔ یعنی سب اعراب ایک جیسے نہیں، ان میں کئی مخلص مسلمان بھی ہیں، جو خوش دلی سے صدقہ کرتے ہیں اور اسے اللہ کے ہاں قربتوں اور رسول کی دعاؤں کو حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں شہادت دی کہ ان کے یہ اعمال یقینا ان کے لیے قرب کا ذریعہ ثابت ہوں گے اور اللہ تعالیٰ انھیں ضرور اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا۔ عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی گروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ لے کر آتا تو آپ اس کے لیے دعا کرتے ہوئے کہتے: [ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی فُلَانٍ ] ”اے اللہ! فلاں پر رحم فرما۔“ عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ جب میرے والد زکوٰۃ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ نے انھیں دعا دیتے ہوئے فرمایا: [ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ آلِ اَبِيْ اَوْفٰی ] ”اے اللہ! ابو اوفی کی آل پر رحم فرما۔“ [ بخاری، الزکاۃ، باب صلاۃ الإمام و دعاء ہ لصاحب الصدقۃ …: ۱۴۹۷ ]
وہ مہاجر و انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی، نیز وہ جو بعد میں راستبازی کے ساتھ پیچھے آئے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، یہی عظیم الشان کامیابی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وه سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں، یہی بڑی کامیابی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور مہاجرین اور انصار میں سے جو ایمان لانے میں سبقت کرنے والے ہیں اور جن لوگوں نے حسنِ عمل میں ان کی پیروی کی اللہ ان سے راضی ہے۔ اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔ اور اس نے ان کے لیے ایسے بہشت مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور مہاجرین اور انصار میں سے سبقت کرنے والے سب سے پہلے لوگ اور وہ لوگ جو نیکی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے، اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے اور اس نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ہمیشہ۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سابقوں کو بشارت ٭٭
اللہ تعالٰی خبر دے رہا ہے کہ میں ان مہاجرین اور انصار اور تابعین سے راضی ہوں جنہوں نے میری رضا مندی اور خوشنودی حاصل کرنے میں سبقت کی ہے اور میری خوشنودی اس طرح ثابت ہے کہ میں نے ان کے لئے جناتِ نعیم تیار کر رکھی ہے۔ شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں ان سے مراد وہ مہاجر و انصار میں سے سابقین و اولین وہ ہیں جنہوں نے صلح حدیبیہ میں بیت رضوان کا شرف حاصل کیا اور شعبی رحمہ اللہ سیدنا موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما اور سعید بن المسیّب اور محمد بن سیرین اور حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قبلتین کی طرف نماز پڑھی تھی۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ القرظی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے اور وہ یہ آیت پڑھ رہاتھا «وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ» [9-التوبة:100] تو عمر رضی اللہ عنہما نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور پوچھا کہ کس نے تمھیں یہ پڑھایا ہے؟ تو کہنے لگا کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے! تو کہنے لگے اچھا چلو میں تمھیں ابی کے پاس لے چلتا ہوں تا کہ پوچھ لوں۔ اور جب حضرت ابی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو پوچھا، کیا تم نے اس آیت کو اس طرح پڑھنا بتایا ہے؟ تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں فرمایا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے؟ کہا ہاں! تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ ہم نے وہ اعلٰی و ارفع درجہ پا لیا ہے کہ ہمارے بعد کوئی دوسرا یہ منزلت حاصل نہیں کر سکتا۔ تو ابی رضی اللہ عنہ کہنے لگے اس آیت کی تصدیق سورۃ جمعہ کے اول میں بھی ہے۔ یعنی «وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» [ 62-الجمعة: 3 ] اور سورۃ الحشرمیں بھی «وَالَّذِيْنَ جَاءُوْ مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ» [ 59- الحشر: 10 ] اور سورۃ الانفال میں بھی ہے۔ «وَالَّذِينَ آمَنُوا مِن بَعْدُ وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا مَعَكُمْ فَأُولَـٰئِكَ مِنكُمْ» [ 8- الانفال: 75 ] الخ ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کی روایت کی ہے اور کہا کہ حسن بصری «وَالْاَنٰصَارِ» کے لفظ پڑھتے ہیں۔ اور «وَّالسّٰبِقُوْنَ اَلْاَوَّلُوْنٗ» پر عطف قرار دیتے تھے۔ گویا عبارت یوں ہوئی کہ مہاجرین میں سے سابقین اولین اور انصار اور ان کے تابعین سے اللہ راضی ہے۔ افسوس کیا کم بختی ہے ان لوگوں کی جو ان صحابہ رضی اللہ عنہم سے بغض رکھتے ہیں انہیں گالیاں دیتے ہیں یہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کو سبُّ و شتم کرتے ہیں،
خصوصاً وہ صحابی جو تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کا سردار ہے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا جانشین ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسی کا درجہ ہے جس کو افضل صحابہ رضی اللہ عنہ کا درجہ حاصل ہے یعنی سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما اور خلیفہ اعظم ابوبکر بن ابی قحافہ رضی اللہ عنہما یہ رافضیوں کا بامراد فرقہ افضل صحابی سے دشمنی رکھتا ہے انہیں گالی گلوچ کرتا ہے۔ ایسی حرکت سے اللہ کی پناہ۔ یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انکی عقلیں اوندھی ہو گئی ہیں ان کے قلوب الٹ گئے ہیں، اگر وہ کمبخت ان لوگوں کو گالیاں دیں جن سے اللہ راضی ہو چکا ہے اور قرآن میں اپنی رضا مندی کی انھیں سند دے دی تو پھر کسی منہ سے وہ قرآن پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں اب قرآن پر ایمان ہی کہاں رہا؟ اہل سنت ان لوگوں کی قدر کرتے ہیں اور ان سے راضی ہیں جن سے اللہ راضی ہے اور یہ اہل سنت برا بھلا کہتے ہیں تو ان کو جنہیں خعد اللہ نے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے برا کہا ہے اور ان لوگوں کو دوست رکھتے ہیں جن کو اللہ دوست رکھتا ہے اور ان کے مخالف ہیں کہ اللہ خود جن کا مخالف ہے یہ اتباعِ ہدایت کرتے ہیں بدعتی نہیں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے ہیں اور مذہب و اعتقادات میں نئے نئے شاخسانے نہیں نکالتے۔ فلاح پانے والے اور مومن بندوں کی جماعت یہی ہے۔
10۔ 1 اس میں تین گروہوں کا ذکر ہے ایک مہاجرین کا جنہوں نے دین کی خاطر، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر مکہ اور دیگر علاقوں سے ہجرت کی اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مدینہ آگئے دوسرا انصار جو مدینہ میں رہائش پذیر تھے انہوں نے ہر موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد اور حفاظت فرمائی اور مدینہ آنے والے مہاجرین کی خوب پذیرائی اور تواضع کی۔ اور اپنا سب کچھ ان کی خدمت میں پیش کردیا۔ تیسری قسم وہ ہے جو ان مہاجرین و انصار کے خلوص اور احسان کے ساتھ پیروکار ہیں۔ اس گروہ سے مراد بعض کے نزدیک اصطلاحی تابعین ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا لیکن صحابہ کرام کی صحبت سے مشرف ہوئے اور بعض نے اسے عام رکھا یعنی قیامت تک جتنے بھی انصار و مہاجرین سے محبت رکھنے والے اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے مسلمان ہیں، وہ اس میں شامل ہیں۔ ان میں اصطلاحی تابعین بھی آجاتے ہیں۔ 10۔ 2 اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگیا کا مطلب ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی نیکیاں قبول فرما لیں، ان کی بشری لغزشوں کو معاف فرما دیا اور وہ ان پر ناراض نہیں۔ کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو ان کے لئے جنت کی نعمتوں کی بشارت کیوں دی جاتی، جو اس آیت میں دی گئی ہے۔
(آیت 100) ➊ {وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ …:} مدینہ کے اندر رہنے والے منافقین کے ذکر کے بعد اس کے اردگرد رہنے والے بعض اعراب منافقین کا ذکر فرمایا، پھر بعض اعراب مومنوں کے اخلاص کا ذکر فرمایا اور انھیں اپنی رحمت کی خوش خبری سنائی، اب ان سے اعلیٰ مراتب والے خوش نصیبوں کا تذکرہ ہے۔ چنانچہ اس آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے تین گروہوں کی تعریف فرمائی ہے، پہلا گروہ مہاجرین میں سے سبقت کرنے والے پہلے لوگ۔ ان کی تعیین میں مفسرین سے مختلف اقوال منقول ہیں، وہ لوگ جنھوں نے مکہ میں اپنی جائدادیں، گھر بار اور کاروبار چھوڑ کر ہجرت کی، بعض نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھنے والے، بعض نے بدری صحابہ، بعض نے بیعت رضوان تک والے اور بعض نے فتح مکہ تک والے صحابہ مراد لیے ہیں۔ بہرحال ان سب کو دوسروں پر یقینا ایک قسم کی سبقت حاصل ہے۔ دوسرا گروہ انصار میں سے سابقون وہ ہیں جنھوں نے مدینہ سے آکر ۱۱ نبوی میں مکہ میں حج کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر پہلی بیعت عقبہ کی۔ یہ سات افراد تھے، دوسری بیعت عقبہ جو ۱۲ نبوی میں ہوئی اس میں ستر (۷۰) آدمی اور دو خواتین شامل تھیں، پھر وہ جو ان کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ ہجرت سے پہلے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے، پھر وہ سب اہل مدینہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد کے بعد مسلمان ہوئے، ان سب کو درجہ بدرجہ سبقت حاصل ہے۔ تیسرا گروہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے سابقین مہاجرین و انصار کے بعد ایمان لاکر ہجرت یا نصرت کا شرف حاصل کیا، جیسا کہ سورۂ انفال میں مہاجرین و انصار کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا: «{ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ }» [ الأنفال: ۷۵ ] ”اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمھارے ساتھ مل کر جہاد کیا۔“ گویا صلح حدیبیہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایمان لانے والے اور اس پر استقامت اختیار کرنے والے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اس تیسرے گروہ میں شامل ہیں۔ ➋ آلوسی صاحبِ روح المعانی نے فرمایا: ”بہت سے مفسرین اس طرف گئے ہیں کہ «{ وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَ الْاَنْصَارِ }» سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں، کیونکہ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے شرف کی بنا پر بعد والے تمام لوگوں پر سبقت حاصل ہے، جو پھر کسی کو نصیب نہ ہو سکی اور «{ وَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ }» (اور وہ لوگ جو نیکی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے) سے قیامت تک آنے والے وہ تمام مسلمان مراد ہیں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صرف قرآن اور سنت رسول پر اخلاص کے ساتھ عمل کرتے رہے۔“ کیونکہ دوسرے کسی بھی فرقے کے لوگ اپنے امام کی تقلید کا دعویٰ تو کر سکتے ہیں، مگر تمام صحابہ کی اچھے طریقے اور نیکی سے پیروی کا دعویٰ نہیں کر سکتے، کیونکہ صحابہ کا عمل صرف قرآن و سنت پر تھا۔ اس وقت نہ فرقے تھے نہ وہ لوگ جن کے نام پر فرقے بنے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تفسیر بھی بالکل درست ہے، البتہ اس آیت سے صرف اصطلاحی تابعین مراد لینا کہ وہ لوگ جنھوں نے ایمان کی حالت میں صحابہ کی زیارت کی ہو ہر گز درست نہیں، کیونکہ احسان کے ساتھ مہاجرین و انصار کے پیچھے چلنے والے صرف وہی نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے سبھی مسلمان ہیں جن کے اخلاص اور قول و عمل میں احسان پایا جاتا ہے۔ ہاں اصطلاحی تابعین بدرجۂ اولی ان میں شامل ہیں۔ ➌ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں سب سے افضل ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں جو اسلام میں بھی اول ہیں اور ہجرت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں، پھر بالترتیب دوسرے خلفاء رضی اللہ عنھم کے درجے ہیں، ان کے بعد باقی عشرہ مبشرہ جن میں طلحہ، زبیر، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید، عبد الرحمن بن عوف اور ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنھم شامل ہیں، پھر بدری اور عقبہ والے صحابہ کا درجہ ہے اور ان کے بعد جو بیعت رضوان میں شریک ہوئے، پھر جو فتح مکہ سے پہلے مسلمان ہوئے اور ہجرت و نصرت کی۔ صحابہ کی فضیلت کی اس ترتیب پر اہل السنۃ والجماعہ متفق ہیں۔ ➍ {رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ:} چونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور جنت میں داخلے کی خو ش خبری کی جو وجہ بیان ہوئی ہے، یعنی ہجرت و نصرت وہ دائمی ہے۔ کوئی شخص ان سے یہ اعزاز نہیں چھین سکتا۔ اس لیے اس پر ملنے والی بشارت بھی دائمی اور ہمیشہ کے لیے ہے، لہٰذا ان صحابہ میں سے (العیاذ باللہ) کسی کے مرتد ہونے کا تصور بھی نہیں ہو سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو اپنی رضا اور جنت کی خوش خبری دے ہی نہیں سکتا جس کے متعلق اسے علم ہو کہ اس نے مرتد ہو جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو جس طرح گزشتہ اور موجودہ حالات کا مکمل علم ہے آئندہ آنے والی ہر بات کا بھی اسی طرح مکمل علم ہے۔ وہ کفر پر مرنے والوں کو جنت اور رضا کی بشارت کیسے دے سکتا ہے؟ پھر کتنے بدبخت اور لعنتی ہیں وہ لوگ جو ان حضرات کے خلاف عموماً اور ان میں سے افضل ترین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین ہستیوں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات امہات المومنین رضی اللہ عنھن جو ہجرت و نصرت کا شرف بھی رکھتی ہیں، ان کے خلاف زبان درازی، سب و شتم، تہمت تراشی اور تبرا بازی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں اور ان کو برے القاب سے یاد کرتے ہیں۔