بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
التوبة
سورۃ التوبة — 129 آیات — صفحہ 3 از 3
قرآن کریم Surah 9
وَ مِمَّنۡ حَوۡلَکُمۡ مِّنَ الۡاَعۡرَابِ مُنٰفِقُوۡنَ ؕۛ وَ مِنۡ اَہۡلِ الۡمَدِیۡنَۃِ ۟ۛؔ مَرَدُوۡا عَلَی النِّفَاقِ ۟ لَا تَعۡلَمُہُمۡ ؕ نَحۡنُ نَعۡلَمُہُمۡ ؕ سَنُعَذِّبُہُمۡ مَّرَّتَیۡنِ ثُمَّ یُرَدُّوۡنَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۰۱﴾ۚ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تمہارے گرد و پیش جو بدوی رہتے ہیں ان میں بہت سے منافق ہیں اور اسی طرح خود مدینہ کے باشندوں میں بھی منافق موجود ہیں جو نفاق میں طاق ہو گئے ہیں تم انہیں نہیں جانتے، ہم ان کو جانتے ہیں قریب ہے وہ وقت جب ہم ان کو دوہری سزا دیں گے، پھر وہ زیادہ بڑی سزا کے لیے واپس لائے جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کچھ تمہارے گردوپیش والوں میں اور کچھ مدینے والوں میں ایسے منافق ہیں کہ نفاق پر اڑے ہوئے ہیں، آپ ان کو نہیں جانتے، ان کو ہم جانتے ہیں ہم ان کو دہری سزا دیں گے، پھر وه بڑے بھاری عذاب کی طرف بھیجے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور تمہارے آس پاس کے کچھ گنوار منافق ہیں، اور کچھ مدینہ والے، ان کی خو ہوگئی ہے نفاق، تم انہیں نہیں جانتے، ہم انھیں جانتے ہیں جلد ہم انہیں دوبارہ عذاب کریں گے پھر بڑے عذاب کی طرف پھیرے جائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو تمہارے اردگرد صحرائی عرب بستے ہیں ان میں کچھ منافق ہیں۔ اور خود مدینہ کے باشندوں میں بھی (منافق موجود ہیں) جو نفاق پر اڑ گئے ہیں (اس میں مشاق ہوگئے ہیں) (اے رسول(ص)) آپ انہیں نہیں جانتے لیکن ہم جانتے ہیں۔ ہم ان کو (دنیا میں) دوہری سزا دیں گے۔ پھر وہ بہت بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان لوگوں میں سے جو تمھارے ارد گرد بدویوں میں سے ہیں، کچھ منافق ہیں اور کچھ اہل مدینہ میں سے بھی جو نفاق پر اڑ گئے ہیں، تو انھیں نہیں جانتا، ہم ہی انھیں جانتے ہیں۔ عنقریب ہم انھیں دوبار عذاب دیں گے، پھر وہ بہت بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافقت کے خوگر شہری ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دے رہا ہے کہ عرب کے قبائل میں جو مدینہ کے اطراف میں رہتے ہیں بعض منافق ہیں اور خود مدینہ کے رہنےوالے بعض مسلمان بھی درحقیقت منافق ہیں کہ اپنے نفاق کو لیے چل رہے ہیں اور منافقت سے باز نہیں آتے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے شیطان مریدو مارد۔ اور «تَمَرَّدَ فُلاَنٌ عَلَی اللّٰہِ» یعنی فلاں نے اللہ کی نافرمانی اور سرکشی کی۔ اللہ کا قول «لَا تَعۡلَمُہُمۡ نَحۡنُ نَعۡلَمُہُمۡ» اللہ کے اس قول «وَلَوْ نَشَاءُ لَأَرَيْنَاكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُم بِسِيمَاهُمْ وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِي لَحْنِ الْقَوْلِ» [ 47-محمد: 30 ] ‏‏‏‏ کے منافی و متضاد نہیں ہے یعنی تم انہیں نہیں پہچانتے، ہم انہیں خوب جانتے ہیں اور یہ قول ہے کہ اگر ہم چاہیں تو ہم تمھیں بتلا دیں گے کہ وہ کیسے ہیں تو پھر تم انہیں جان جاؤ گے ان کی صورت دیکھتے ہی اور انہیں پہچان لو گے ان کی کج مج باتوں ہی سے۔ یہ دونوں آیتیں آپس میں ضد نہیں، اس لئے کہ یہ اس قسم کی چیز ہے کہ اس کے ذریعہ ان کی صفات کی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ وہ پہچان جا سکیں یہ بات نہیں کہ تم تمام ہی منافقین کو علی الیقین جانتے ہو۔ آپ اہل مدینہ میں سے صرف ان بعض اہل نفاق کو جانتے تھے جو رات دن ملتے جلتے رہتے تھے اور جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح و شام دیکھتے تھےصحیح طور پر اس کی تصدیق اس روایت سے بھی ہوتی ہے، جو امام احمد رحمہ اللہ نے بالاسناد سیدنا جبیر بن معطم رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ جبیر فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !وہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ مکہ میں ہمیں کوئی اجر نہیں ملا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے جبیر!رضی اللہ عنہ تم لوگوں کا اجر تم کو ضرور دیاجائے گا خوان تم لوگ لومڑی کے بھٹ ہی میں کیوں نہ ہو۔ پھر آپ نے میری طرف سر جھکا کر رازدانہ طور پر فرمایا کہ میرے اصحاب میں بعض منافق بھی ہیں۔ [مسند احمد:82/4-83:ضعیف] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ بعض منافقین ایسی کج مج باتیں بولتے رہتے ہیں جن میں کوئی صداقت نہیں ہوتی چنانچہ یہ بھی ایک اسی قسم کا کلام تھا جس کو جبیر بن معطم رضی اللہ عنہ نے سنا تھا۔

«وَهَمُّوا بِمَا لَمْ يَنَالُوا» [ 9-التوبہ: 74 ] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں یہ بات گزر چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حذیفہ کو یہ بات معلوم کرا دی تھی کہ چودہ یا پندری شخص اصحاب ایسے ہیں جو دع حقیقت منافق ہیں اور یہ تخصیص اس بات کی متقاضی نہیں آپ ان تمام کے نام جانتے تھے اور ان کے تشخّص سے واقف تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» حافض ابن عساکر نے ترجمہ ابو عمر البیروتی میں بالاسناد روایت کرتے ہوئے کہا کہ ایک آدمی جس کا نام حرملہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ ایمان تو یہاں ہے اور اشارہ کیا اپنی زبان کی طرف اور نفاق یہاں ہوتا ہے اور اشارہ کیا اپنے ہاتھ سے اپنے قلب کی طرف اور اللہ کا نام بھی لیا تو کچھ یونہی سا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ!تو اس کی زبان کو ذاکر بنا دے اورقلب کو شاکر بنا دے اور اس کو میری محبت عطا فرما اور مجھ سے محبت کرنے والوں کو محبت عطا فرما اور اس کے سارے امور خیر کی طرف پھیر دے۔ اب اس کی ساری منافقت دور ہو گئی اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے اکثر ساتھی منافقین ہیں اور میں ان سب کا سردار تھا کیا ان سب کو میں آپ کے پاس پکڑ کر نہ لاؤں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو آپ ہی میرے پاس آئے گا تو ہم اس کے لئے اللہ سے مغفرت چاہیں گے اور جو نفاق پر اصرار کئے رہے گا اللہ اس کو دیکھ لے گا۔ تم کسی کا راز فاش نہ کرو ایسی ہی روایت ابو احمد الحاکم نے بھی کی ہے۔ [مختصر تاریخ دمشق لابن منظور:76/29:ضعیف] ‏‏‏‏ اس آیت کے بارے میں قتادہ رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ان لوگوں کو کیا ہو گیا جو بے تکلف لوگوں کے بارے میں جانتا ہے کہ دوزخی ہیں یا جنتی وہ تو ایسی بات کا دعویٰ کر بیٹھے ہیں جس کا دعویٰ تو انبیاء نے بھی نہیں کیا۔ اللہ کے نبی حضرت نوح علیہ السلام نے کہا تھا کہ «وَمَا عِلْمِي بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» [ 26-الشعراء: 112 ] ‏‏‏‏ یعنی میں نہیں جانتا کہ وہ کیا کرتے ہیں۔

اللہ کے نبی شعیب علیہ السلام نے فرمایا «بَقِيَّتُ اللَّـهِ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ وَمَا أَنَا عَلَيْكُم بِحَفِيظٍ» [11-هود:86] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ کے پاس تمھارے لئے خیر ہے اگر تم مومنین ہو، اور میں تم پر کوئی نگران تو نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے فرمایا «لاَتَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ» تو انہیں نہیں جانتا ہم ہی جانتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز جمعہ کا خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اے فلاں فلاں لوگو! تم مسجد سے نکل جاؤ کہ تم منافق لوگ ہو۔ چنانچہ رسوائی کے ساتھ وہ مسجد سے نکالے گئے۔ وہ مسجد سے نکل رہے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ سمجھ کر کہ لوگ پلٹ رہے ہیں تو شاید نماز جمعہ ہو چکی ہے شرما گئے اور شرم کے مارے ان لوگوں سے اپنے آپ کو چھپانے لگے اور یہ لوگ بھی اپنے کو عمر رضی اللہ عنہ سے چھپانے لگے یہ سمجھ کر کہ عمر رضی اللہ عنہما کو بھی ہمارے اس نفاق کا عل ہو گیا ہے غرض سیدنا عمر رضی اللہ عنہما مسجد میں آئے تو معلوم ہوا کہ ابھی نماز نہیں ہوئی اور ایک مسلمان نے انہیں اطلاع دی اور کہا کہ اے عمر رضی اللہ عنہ خوش ہو جاؤ کہ آج منافقین کو اللہ نے رسوا کر دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہ مسجد سے نکالا جانا عذابِ اوّل ہے اور عذاب ثانی عذاب دنیا اور عذاب قبر ہو گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17137:ضعیف] ‏‏‏‏

ثوری رحمہ اللہ نے بھی بالاسناد یہی کہا ہے مجاہد رحمہ اللہ نے قولہ تعالیٰ «سَنُعَذَّبُھُمْ مَزَّبَیْنِ» کے بارے میں کہا ہے کہ اس سے مراد قتل اور قید ہے اور ایک دوسری روایت میں بھوک اور عذابِ قبر سے تعبیر کی گئی ہے۔ پھر وہ عذاب عظیم کی طرف روکے جائیں گے ابن جریج رحمہ اللہ کا قول ہے کہ عذاب قبر مراد ہے پھر وہ عذاب عظیم یعنی عذاب روزخ میں مبتلا کئے جائیں گے، حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا ہے دنیا کا اور قبر کا عذاب مراد ہے۔ عبدالرحمٰن بن زید کہتے ہیں کہ دنیا کا عذاب اموال اور اولاد کے فتنہ کا عذاب ہے پھر اللہ کا یہ قول پڑھ کر سنایا «وَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَأَوْلَادُهُمْ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّـهُ أَن يُعَذِّبَهُم بِهَا فِي الدُّنْيَا» [ 9- التوبہ: 55 ] ‏‏‏‏ یعنی ان کافروں کے اموال اور اولاد تم کو حسد میں مبتلا نہ کر دیں اللہ کا منشا یہ ہے کہ ان چیزوں کے ذریعہ دنیا کی زندگی ہی میں اللہ انہیں عذاب میں مبتلا کر دے کیونکہ یہ مصائب ان کے لئے عذاب ہیں لیکن مومنین کے لئے باعث اجر ہیں اور آخرت کے عذاب سے مراد دوزخ کا عذاب ہے۔ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ پہلے عذاب سے مراد وہ عذاب ہے جو اسلام کے پھیل جانے سے انہیں پہنچا ہے اور بے انتہا رنج و افسوس جو ان پر طاری ہوا ہے۔ دوسرا عذاب قبر کا عذاب ہے اور عذاب عظیم وہ ہےجو آخرت میں انہیں ملے گا اور ہمیشہ ہمیشہ کا ملے گا۔ سعید نے قتادہ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کے کان میں کہا کہ بارہ منافقین ہیں ان میں سے چھ کو دبیلہ کافی ہے یہ نار جہنم کا ایک شعلہ ہو گا جو ان کے کاندھے پر لگے گا تو سینے تک پہنچے گا یعنی پیٹ کے درد اندرونی بیماریوں اور دمبلوں سے مریں گے اور چھ اپنی موت سے مر جائیں گے۔ سعید رحمہ اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب کوئی مرتا اور وہ ان کی نظر میں مشتبہ ہوتا تو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھتے۔ اگر وہ اس میت کی نماز جنازہ پڑھتے تو خود بھی پڑھتے، یہ یقین کرکے کہ یہ میت ان بارہ منافقین میں سے نہیں ہے اور حذیفہ رضی اللہ عنہ اگر نہ پڑھتے تو پھر خود بھی نہ پڑھتے، معلوم ہوا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی پوچھا تھا کہ اللہ کی قسم بتادو کہ میں ان بارہ میں سے تو نہیں ہوں تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم نہیں ہو، لیکن تمھارے سوا میں کسی اور ی ذمہ داری نہیں لیتا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17145:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏
11۔ 1 مرد اور تمرد کے معنی ہیں نرمی ملائمت (چکناہٹ) اور تجرد۔ چناچہ اس شاخ کو جو بغیر پتے کے ہو، وہ گھوڑا جو بغیر بال کے ہو، وہ لڑکا جس کے چہرے پر بال نہ ہوں، ان سب کو اَ مْرَدُ کہا جاتا ہے اور شیشے کو صَرْح مُمَرَّد اَیْ مُجَرَّدً کہا جاتا ہے (مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ) گویا انہوں نے نفاق کے لئے اپنے آپ کو خالص اور تنہا کرلیا، یعنی اس پر ان کا اصرار ہمیشہ رہنے والا ہے 11۔ 2 کتنے واضح الفاظ میں نبی سے علم غیب کی نفی ہے۔ کاش اہل بدعت کو قرآن سمجھنے کی توفیق نصیب ہو۔ 11۔ 3 اس سے مراد بعض کے نزدیک دنیا کی ذلت و رسوائی اور پھر آخرت کا عذاب ہے اور بعض کے نزدیک دنیا میں ہی دوہری سزا ہے۔
(آیت 101) ➊ {وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ …:} پہلے اعراب (بدوی) منافقین کا ذکر فرمایا، پھر اعراب میں سے مخلصین کا تذکرہ کیا۔ ان کے بعد سابقین مہاجرین و انصار اور ان کے پیچھے آنے والے صاحب احسان لوگوں کو خوش خبری دی اور ان کے لیے بلند مراتب کا بیان فرمایا (ان کا تذکرہ سورۂ جمعہ کی ابتدائی آیات میں بھی فرمایا ہے) اب ان ضمنی مباحث کے بعد پھر منافقین کے ایک گروہ کا ذکر فرمایا جو مدینہ اور اس کے ماحول میں رہتے ہوئے اپنے نفاق میں {” مَرَدُوْا “} اتنے مشاق اور ماہر ہو گئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تیز ترین فراست اور قوی ترین اندازے کے باوجود ان سب کو معین طور پر نہیں پہچان سکے، گو بعض کو ان کے لہجے اور دوسری علامات سے یا اللہ تعالیٰ کی نشان دہی سے پہچانتے ہوں۔ دیکھیے سورۂ محمد (۳۰) لہٰذا جن روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض منافقین کے نام بھی حذیفہ رضی اللہ عنہ کو بتا دیے تھے وہ اس آیت کے منافی نہیں، کیونکہ یہاں یہ کہا گیا ہے کہ آپ ان تمام کو نہیں جانتے، گویا آپ بعض منافقین کو جانتے تھے اور بعض کو نہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے، اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عالم الغیب ہونے کے غلط دعویٰ کی حقیقت بھی واضح ہو رہی ہے۔ ➋ {سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَيْنِ:} ایک تو دنیا میں غم و اندوہ اور فکر مندی کا عذاب، جس میں منافقین ہمیشہ مبتلا رہتے ہیں، فرمایا: «{ يَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ }» [ المنافقون: ۴ ] کہ وہ ہر لمحہ اپنے آپ کو خطرہ میں محسوس کرتے ہیں، ہر بلند آواز کو اپنے خلاف گمان کرتے ہیں اور پھر یہ رسوائی بھی کہ کفار اور مسلمانوں میں سے انھیں اپنا سمجھنے کے لیے کوئی تیار نہ تھا اور مرنے کے بعد قبر کے عذاب کو دوسرا عذاب فرمایا۔ یا {” مَرَّتَيْنِ “} سے مراد موت کے وقت فرشتوں کی مار ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ }» [ محمد: ۲۷ ] ”وہ ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر مارتے ہوں گے۔“ پھر قبر کا عذاب، اس کے بعد {” عَذَابٍ عَظِيْمٍ “} سے مراد جہنم کا عذاب ہے۔ {” مَرَّتَيْنِ “} کا معنی ”بار بار“ بھی آتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ اِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِيْرٌ }» [ الملک: ۴ ] ”پھر بار بار نگاہ لوٹا، نظر ناکام ہو کر تیری طرف پلٹ آئے گی اور وہ تھکی ہوئی ہو گی۔“ یعنی دنیا میں مال و اولاد، پریشانیوں اور ذلتوں کے ذریعے سے، پھر موت کے وقت، پھر قبر کے اندر بار بار عذاب دے کر آخر کار جہنم میں پہنچا دیں گے۔ یہ معنی بہت جامع ہے۔ ➌ {ثُمَّ يُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِيْمٍ:} شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: {” مَرَّتَيْنِ “} یعنی دنیا میں تکلیف پر تکلیف پائیں گے، پھر آخرت میں پکڑے جائیں گے۔“ (موضح)
وَ اٰخَرُوۡنَ اعۡتَرَفُوۡا بِذُنُوۡبِہِمۡ خَلَطُوۡا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا ؕ عَسَی اللّٰہُ اَنۡ یَّتُوۡبَ عَلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۰۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے اپنے قصوروں کا اعتراف کر لیا ہے ان کا عمل مخلوط ہے، کچھ نیک ہے اور کچھ بد، بعید نہیں کہ اللہ ان پر پھر مہربان ہو جائے کیونکہ وہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کچھ اور لوگ ہیں جو اپنی خطا کے اقراری ہیں جنہوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت واﻻ بڑی رحمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور کچھ اور ہیں جو اپنے گناہوں کے مقر ہوئے اور ملایا ایک کام اچھا اور دوسرا بڑا قریب ہے کہ اللہ ان کی توبہ قبول کرے، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
دوسرے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا ہے (مگر) انہوں نے نیک اور بدعمل خلط ملط کر دیے ہیں بہت ممکن ہے کہ اللہ ان کی توبہ قبول کرے۔ (اور ان پر رحمت کی نظر ڈالے) بے شک اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور کچھ دوسرے ہیں جنھوں نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا، انھوں نے کچھ عمل نیک اور کچھ دوسرے برے ملا دیے، قریب ہے کہ اللہ ان پر پھر مہربان ہو جائے۔ یقینا اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تساہل اور سستی سے بچو ٭٭

جب اللہ تعالیٰ ان منافقوں کا حال بیان کر چکا جو مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شریک ہونے سے رکے گئے تھے۔ اور شریک جنگ سے بے رغبتی، تکذیب اور شک کا مظاہرہ کرتے تھے تو پھر ان گنہگاروں کا ذکر شروع کرتا ہے جو جہاد میں شریک ہونے سے باز رہے تھے صرف سستی اور آرام طلبی کے سبب حالانکہ انہیں تصدیق حق اور ایمان حاصل تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان منافقین کے سوا اور دوسرے لوگ جو جہاد سے دک رہے، انہوں نے اپنے قصور کا اعتراف و اقرار کر لیا۔ لیکن یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے دوسرے اعمال صالحہ بھی ہیں، اور ان اعمال صالحہ کے ساتھ اپنی بعض تقصیرات جیسے جہاد سے باز رہنا بھی انہوں نے شامل کر دیا ہے لیکن ان کی اس تقصیر کو اللہ پاک نے معاف فرما دیا ہے۔ اور ان منافقین کی تقصیر کو وہ معاف نہیں کرے گا اور ان کے کوئی اعمال صالح ہیں بھی نہیں۔ یہ آیت اگرچہ چند معین اشخاص کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن سارے مخلص خطاکاروں اور گنہگاروں پر بھی عام ہے۔ اور مجاہد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ یہ ابولبابہ ‏‏‏‏‏‏‏رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جب انہوں نے بنی قریظہ سے کہا تھا کہ یہ ذبح کی جگہ ہے اور ہاتھ سے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا تھا۔ سیدنا ابن عباس ‏‏رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ «اَخَرُوْنَ» سے مراد ابولبابہ اور ان کے اصحاب کی جماعت ہے جو غزوہ تبوک میں شرکت جہاد سے پہلو تہی کئے ہوئے تھے۔ بعض نے کہا ہے کہ ابو لبابہ کے ساتھ پانچ آدمی اور تھے، یا سات تھے، یا نو تھے،

اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس ہوئے تو ان لوگوں نے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ دیا اور قسم کھا لی تھی کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود ہم کو نہ کھولیں، ہم نہ کھولیں جائیں۔ اور جب یہ آیت «وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کھول دیا اور ان کا جنگ سے کوتاہی کا قصور معاف کر دیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج کی رات دو آدمی میرے پاس آئے اور مجھے ایک ایسے شہر تک لے آئے جو چاندی اور سونے کی اینٹوں سے بنا ہوا تھا وہاں ہمیں بعض ایسے آدمی دکھائی دئیے کہ ان کا آدھا حصہ تو نہایت ہی خوش منظر تھا اور دوسرا آدھا حصہ جسم نہایت ہی بد صورت کہ دیکھنے کو جی نہ چاہے۔ میرے ان ساتھیوں نے ان سے کہا کہ تم اس نہر میں غوطہ لگاؤ وہ غوطہ لگا کر جب باہر نکلے تو ان کا یہ عیب جاتا رہا اور ان کے اجسام سب کے سب حسین دکھائی دیتے تھے۔ میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا کہ یہ جنت عدن ہے اور یہی تمھاری منزل ہے اور کہا کہ وہ لوگ جن کا آدھا جسم خوبصورت سا تھا اور آدھا جسم نہایت بد صورت سا تھا سو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اعمال نیک کے ساتھ اعمال بد بھی ملا رکھے تھا اور اللہ عز و جل کی حدود سے تجاوز کر گئے تھے۔ [صحیح بخاری:4674:صحیح] ‏‏‏‏ اس آیت کی تفسیر میں امام بخاری رحمہ اللہ نے مختصراً اسی طرح روایت کی ہے۔
12۔ 1 یہ وہ مخلص مسلمان ہیں جو بغیر عذر کے محض سستی کی وجہ سے تبوک میں نبی کے ساتھ نہیں گئے بلکہ بعد میں انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا، اور اعتراف گناہ کرلیا۔ 12۔ 2 بھلے سے مراد وہ اعمال صالحہ ہیں جو جہاد میں پیچھے رہ جانے سے پہلے کرتے رہے ہیں جن میں مختلف جنگوں میں شرکت بھی کی اور ' کچھ برے ' سے مراد یہی تبوک کے موقع پر ان کا پیچھے رہنا۔ 12۔ 3 اللہ تعالیٰ کی طرف سے امید، یقین کا فائدہ دیتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ان کی طرف رجوع فرما کر ان کے اعتراف گناہ کو توبہ کے قائم مقام قرار دے کر انہیں معاف فرما دیا۔
(آیت 102) {وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ …: ”وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ“ } والی آیت میں مسلمانوں کے بہترین لوگوں کا ذکر ہے اور «{ وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ }» میں مسلمان کہلانے والے بدترین لوگوں کا ذکر ہے، جو آگ کے درک اسفل (سب سے نچلے حصے) کا ایندھن بننے والے ہیں اور اب عام مسلمانوں کا ذکر ہے جن کے صالح اعمال بھی ہیں اور کچھ اعمال سیئہ (برے کام) بھی ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ مفسرین نے یہاں ابولبابہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کا تذکرہ فرمایا کہ وہ مخلص مسلمان ہونے کے باوجود تبوک پر نہ جا سکے تو انھوں نے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستونوں سے باندھ لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خود کھولیں گے تو ہم سمجھیں گے کہ ہماری توبہ قبول ہو گئی۔ آخر کار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حکم سے انھیں اپنے ہاتھ سے کھولا اور پہلے ان کا پیش کردہ صدقہ قبول نہیں کیا تھا پھر اگلی آیت «{ خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً }» اتری تو ان کا صدقہ بھی قبول فرمایا۔ اس مفہوم کی اکثر روایات مرسل یا کمزور ہیں، البتہ {”الاستيعاب في بيان الأسباب“} میں ابن عباس اور جابر رضی اللہ عنھم کی ایک روایت کو حسن قرار دیا گیا ہے، جس میں ابولبابہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے پیچھے رہ جانے پر اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھنے اور آخر کار اللہ کے حکم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انھیں اپنے ہاتھ سے کھولنے کا اور «{ وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ }» سے «{ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ }» تک آیات اترنے کا ذکر ہے۔ (واللہ اعلم) البتہ اس بات میں تو کوئی شبہ ہی نہیں کہ جس طرح «{ وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ }» والی آیت میں مذکور افراد «{ وَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ }» میں قیامت تک صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے تمام محسن پیروکار شامل ہیں، اسی طرح یہ آیت قیامت تک آنے والے تمام گناہ گار مخلص مسلمانوں کو شامل ہے، جنھوں نے اپنے اچھے اعمال کے ساتھ کچھ دوسرے برے اعمال بھی ملا جلا رکھے ہیں۔ سند کے لحاظ سے اس کی صحیح ترین تفسیر وہ ہے جو امام بخاری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں اپنی صحیح میں درج فرمائی ہے کہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات دو آنے والے میرے پاس آئے، انھوں نے مجھے اٹھایا، پھر وہ مجھے ایک ایسے شہر میں لے گئے جو سونے اور چاندی کی اینٹوں سے بنایا گیا تھا، وہاں میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا جن کا نصف بدن سب سے زیادہ خوبصورت شخص کی طرح تھا جو تم دیکھنے والے ہو اور نصف اس بدصورت ترین شخص کی طرح تھا جو تم دیکھنے والے ہو۔ دونوں فرشتوں نے ان لوگوں سے کہا، اس نہر کے اندر داخل ہو جاؤ، وہ اس میں داخل ہو گئے، پھر ہماری طرف واپس آئے تو ان سے وہ بدصورتی جا چکی تھی اور وہ بہترین صورت میں بدل چکے تھے۔ دونوں (فرشتوں) نے مجھ سے کہا، یہ جنت عدن ہے اور وہ تمھارا گھر ہے۔ دونوں نے کہا کہ وہ لوگ جن کا نصف حصہ خوبصورت اور نصف بدصورت تھا [ فَاِنَّهُمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا تَجَاوَزَ اللّٰهُ عَنْهُمْ ] تو یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے نیک عمل کیے اور ان کے ساتھ برے عمل بھی ملا جلا دیے، تو اللہ تعالیٰ نے ان سے درگزر فرما دیا۔“ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ: «‏‏‏‏وآخرون اعترفوا بذنوبہم» : ۴۶۷۴ ]
خُذۡ مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمۡ وَ تُزَکِّیۡہِمۡ بِہَا وَ صَلِّ عَلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۰۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے نبیؐ، تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انہیں پاک کرو اور (نیکی کی راہ میں) انہیں بڑھاؤ، اور ان کے حق میں دعائے رحمت کرو کیونکہ تمہاری دعا ان کے لیے وجہ تسکین ہوگی، اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے، جس کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک صاف کردیں اور ان کے لیے دعا کیجئے، بلاشبہ آپ کی دعا ان کے لیے موجب اطمینان ہے اور اللہ تعالیٰ خوب سنتا ہے خوب جانتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے محبوب! ان کے مال میں سے زکوٰة تحصیل کرو جس سے تم انھیں ستھرا اور پاکیزہ کردو اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو بیشک تمہاری دعا ان کے دلوں کا چین ہے، اور اللہ سنتا جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے رسول! ان لوگوں کے مال سے صدقہ (زکوٰۃ) لیں اور اس کے ذریعہ سے انہیں پاک و پاکیزہ کریں۔ اور (برکت دے کر) انہیں بڑھائیں نیز ان کے لیے دعائے خیر کریں کیونکہ آپ کی دعا ان کے لیے تسکین کا باعث ہے اور خدا بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ان کے مالوں سے صدقہ لے، اس کے ساتھ تو انھیں پاک کرے گا اور انھیں صاف کرے گا اور ان کے لیے دعا کر، بے شک تیری دعا ان کے لیے باعث سکون ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صدقہ مال کا تزکیہ ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ان کے اموال سے زکٰوۃ وصول کر لیا کرو یہ مال زکٰوۃ ان کو پاک اور صاف بنائے گا۔ اگرچہ بعض لوگوں نے «اَمْوَالِھِمْ» کی ضمیر ان لوگوں کی طرف پھیری ہے جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کر لیا تھا اور اچھے اور برے دونوں قسم کے اعمال کئے تھے۔ لیکن در حقیقت یہ حکم خاص نہیں بلکہ عام ہے اسی لئے قبائل عرب میں سے بعض مانعین زکٰوۃ نے یہ اعتقاد کر لیا تھا کہ امام کو زکٰوۃ لینے کا حق نہیں، اور یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخصوص تھی اور اسی لئے قولہ تعالیٰ «خُذۡ مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ صَدَقَۃً» سے انہوں نے دلیل لی ہے۔ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان کی تاویل اور فہم فاسد کی تردید کر دی اور ان سے جنگ کی تب کہیں انہوں نے خلیفہ وقت کو زکوٰۃ ادا کی جیسا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا کرتے تھے۔ حتیٰ کہ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما نے فرمایا تھا کہ ”اگر اونٹنی کا ایک بچہ یا رسی کا ایک ٹکڑا بھی مال زکٰوۃ کا روک لیں گے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم لو ادا کرتے تھے تو منع زکٰوۃ پر میں ان سے قتال کروں گا۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:1400:صحیح] ‏‏‏‏ قولہ تعالیٰ «وَ صَلِّ عَلَیۡہِمۡ» یعنی ان کے لئے دعا کرو اور طلبِ مغفرت کرو جیسا کہ صحیح مسلم میں عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب کسی کے پاس سے زکٰوۃ کا مال آتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسبِ حکم الٰہی اسکے لئے دعا کرتے تھے چنانچہ جب میرے باپ نے مال زکٰوۃ پیش کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اے اللہ! ”آل ابی اوفی پر رحم فرما“ [صحیح مسلم:1087:صحیح] ‏‏‏‏ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ایک عورت نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے اور میرے زوج کے لئے دعا فرمائیے تو کہا کہ اللہ تیرے اور تیرے زوج پر رحم و کرم فرمائے۔ [سنن ابوداود:1533، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ قولہ تعالٰی «اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّہُمۡ» تمھاری دعا ان کے لئے سکونِ قلب کا سبب ہے بعض نے صلٰوۃ کو جمع قرار دے کر صَلَوَاَتُک پڑھا ہے اور دوسروں نے واحد قرار دے کر «اِنَّ صَلَاتَکَ» پڑھا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ سکوں کے معنی رحمت کے ہیں اور قتادہ رحمہ اللہ نے کہا ہے اس کے معنی ہیں وقار «وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ» یعنی اے نبی!صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تمھاری دعاؤں کو سننے والا ہے۔

اور علیم ہے کہ کون تمھاری دعا کا مستحق ہے؟ امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وکیع نے بالاسناد روایت کی ہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے لئے دعا فرماتے تھے تو وہ اس کے اور اس کے بیٹوں اور پوتوں کے حق میں قبول ہو جاتی تھی۔ [مسند احمد:385/5:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر ابو نعیم سے بالاسناد مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کسی آدمی اور اس کے بیٹوں اور پوتوں کے حق میں ضرور قبول ہو جاتی تھی۔ [مسند احمد:400/5:ضعیف] ‏‏‏‏ اور اللہ کا قول ہے «أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ» [9-التوبة:104] ‏‏‏‏ یعنی کیا انہیں اس کا علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ بندوں کی نیکیوں کو لیتا ہے اور توبہ قبول فرماتا ہے۔ اس سے مقصد توبہ اور صدقہ پر لوگوں کو ابھارنا ہے کیونکہ یہی دونوں چیزیں گناہوں کو انسان سے چھڑا دیتی ہیں اور معاصی کو ملیامیٹ کر دیتی ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ جو اس کے پاس توبہ پیش کرے وہ بندے کی توبہ قبول کر لیتا ہے اور کسب حلال کا ٹکڑا بھی صدقہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سیدھے ہاتھ سے لے لیتا ہے پھر وہ صدقہ دینے والے کے لئے اس صدقہ کی پرورش کرتا جاتا ہے اور اس کو چھوٹے سے بڑا بناتا ہے حتٰی کہ صدقہ کی وہ ایک کھجور کوہِ احد کی مانند ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ اسی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے اور جیسا کہ وکیع نے بھی بالاسناد سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ صدقے کو قبول فرماتا ہے اور اس کی اپنے سیدھے ہاتھ میں لیتا ہے اور اس کی نشوونما کرتا ہے جیسا کہ تم اپنے گھوڑے ے بچے کو پال کر بڑا کرتے ہو یہاں تک کہ صدقہ کا ایک لقمہ بھی احد کا پہاڑ بن جاتا ہے۔ [مسند احمد:401/2:منکر بزیادۃ و تصدیق ذلک] ‏‏‏‏ اسکی تصدیق کتاب اللہ عز و جل سے بھی ہوتی ہے ”کیا انہیں علم نہیں کہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ کو قبول کرتا ہے اور زکٰوۃ و صدقات کو لے لیتا ہے اور قولہ تعالیٰ «يَمْحَقُ اللَّـهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ» [2-البقرة:276] ‏‏‏‏۔ یعنی اللہ تعالیٰ سود کے منافع کو برباد کر دیتا ہے اور صدقات کو اضعافاً مضاعفاً بڑھاتا رہتا ہے۔ ثوری رحمہ اللہ نے بالاسناد سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ صدقہ کا مال سائل کے ہاتھ میں پڑنے سے پہلے اللہ کے ہاتھ میں پڑتا ہے۔ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی «اَلَمۡ یَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ یَقۡبَلُ التَّوۡبَۃَ عَنۡ عِبَادِہٖ وَ یَاۡخُذُ الصَّدَقٰتِ» ‏‏‏‏ ابن عساکر رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ میں بہ ضمن تاریخ عبداللہ بن الشاعر سکسکی [ جو دمشقی تھے لیکن اصل وطن حمص تھا اور فقہا میں سے تھے ] ‏‏‏‏ بیان کیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگوں نے جہاد کیا جن کے سردار عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید رحمہ اللہ تھے،

تو ایک مسلمان نے مال غنیمت میں سے سو دینار رومی غبن کر لئے اور جب لشکر واپس ہو گیا اور لوگ گھروں کو چلے گئے تو اس کو ندامت نے آ گھیرا۔ اس نے یہ دینار اب امیر لشکر کے پاس پہنچائے۔ اس نے ان کے لینے سے انکار کر دیا کہ وہ سب لوگ تو اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے جن میں یہ تقسیم کیا جا سکتا تھا۔ اب تو میں اس کو لے نہیں سکتا اب تم قیامت کے روز اس کو اللہ کے سامنے پیش کر دینا۔ اب یہ آدمی صحابہ میں سے ہر ایک سے پوچھتا رہا لیکن سب یہی کہتے رہے۔ پھر وہ دمشق آیا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو قبول کرنے کے لیے کہا لیکن وہ بھی انکار کر گئے۔ وہ وہاں سے اپنی حالت پر روتا ہوا نکلا اور عبداللہ بن الشاعر السکسکی کے پاس سے گزرا۔ اس نے پوچھا کیوں روتا ہے؟ اس نے سارا واقعہ کہہ سنایا کہ کوئی امیر بھی ان کو نہیں لیتا۔ تو عبداللہ نے کہا کہ تم میری سنو گے اس نے کہا ضرور۔ تو اس نے کہا تم سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اورکہو کہ پانچواں حصہ جو بیت المال کا حق ہے لے لو۔ چنانچہ بیس دینار ان کے حوالے کر دو اور باقی اسی دینار ان لشکریوں کی طرف سے خیرات کر دو جو ان کے حق دار ہوسکتے تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کے ناموں اور مقامات وغیرہ سے بھی واقف ہے وہ انہیں اس کا ثواب پہنچا دے گا۔ تو اس آدمی نے ایسا ہی کیا۔ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں نے اس کو ایسا فتویٰ دیا ہوتا تو مجھے یہ بات اپنی تمام مملکت سے زیادہ محبوب تھی۔ اس نے بہت اچھی تدبیر بتائی ہے۔
13۔ 1 یہ حکم عام ہے۔ صدقے سے مراد فرضی صدقہ یعنی زکٰوۃ بھی ہوسکتی ہے اور نفلی صدقہ بھی نبی کو کہا جا رہا ہے کہ اس کے ذریعے سے آپ مسلمانوں کو تطہیر اور ان کا تزکیہ فرما دیں۔ جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ زکٰوۃ و صدقات انسان کے اخلاق و کردار کی طہارت و پاکیزگی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ علاوہ ازیں صدقے کو صدقہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ خرچ کرنے والا اپنے دعوائے ایمان میں صادق ہے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ صدقہ وصول کرنے والے کو صدقہ لینے والے کے حق میں دعائے خیر کرنی چاہیے۔ جس طرح یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو دعا کرنے کا حکم دیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مطابق دعا فرمایا کرتے تھے۔ اس حکم کے عموم سے یہ استدلال بھی کیا گیا ہے کہ زکوٰۃ کی وصولی امام وقت کی ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی اس سے انکار کرے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور صحابہ کرام ؓ کے طرز عمل کی روش میں اس کے خلاف جہاد ضروری ہے۔ (ابن کثیر)
(آیت 103) ➊ {خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً:} ابن عباس رضی اللہ عنھما کی روایت جو پچھلی آیت کی تفسیر میں ذکر ہوئی، اس میں ہے کہ جب ان لوگوں کی توبہ قبول ہو گئی تو یہ اپنے اموال لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ ہمارا صدقہ قبول فرمایے اور ہمارے لیے استغفار کیجیے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ قبول کرنے سے انکار فرما دیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور آپ نے ان کا صدقہ قبول فرما لیا۔ ➋ اس حکم میں ان اعتراف گناہ کرنے والوں کا صدقہ قبول کرنے کے ساتھ تمام مسلمانوں سے بھی صدقہ وصول کرنے کا حکم ہے، کیونکہ زکوٰۃ اسلام کے بنیادی ارکان خمسہ میں شامل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدم موجودگی میں ان کے نائب کو صدقہ ادا کرنا ہو گا۔ بعض لوگوں نے اس آیت سے استدلال کیا کہ زکوٰۃ وصول کرنے کا حق صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تھا، آپ کے بعد کسی کا یہ حق نہیں۔ چنانچہ آپ کی وفات کے بعد بعض لوگوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا، مگر ابوبکر رضی اللہ عنہ اور تمام صحابہ نے ان کی تاویل کو رد کیا اور ان سے اس وقت تک جنگ کی جب تک انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ کو زکوٰۃ ادا نہیں کی۔ اس موقع پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا وہ مشہور قول ارشاد فرمایا تھا کہ اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ مجھ سے ایک عناق (بکری کی پٹھوری) اور ایک روایت میں ہے کہ ایک عقال (ایک رسی یا ایک سال کی زکوٰۃ) روکیں گے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کرتے تھے تو میں ہر صورت ان کے نہ دینے کی وجہ سے ان سے جنگ کروں گا۔ ➌ { تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّيْهِمْ بِهَا:} اس سے زکوٰۃ اور صدقات کی فضیلت ظاہر ہے کہ اس کے ذریعے سے انسان کے مال کو اور اس کی نیت اور عمل کو طہارت اور پاکیزگی حاصل ہوتی ہے اور دونوں میں اضافہ ہوتا ہے، کیونکہ{ ” زَكَا يَزْكُوْ“} جس سے {” تُزَكِّيْهِمْ “ } مشتق ہے، پاک ہونے اور بڑھنے دونوں معنی میں آتا ہے۔ ویسے بھی صدقہ کو صدقہ کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ ایمان کا دعویٰ کرنے والے کے صدق کو ظاہر کرتا ہے۔ ➍ {وَصَلِّ عَلَيْهِمْ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ …: ” صَلَاةٌ “} کا معنی نماز، رحمت اور دعا بھی آتا ہے، یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صدقہ پیش کرنے والوں کے لیے مغفرت و رحمت کی دعا کا حکم دیا کہ اس سے ان کے دل کو سکون حاصل ہوتا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی صدقہ (فرض زکوٰۃ یا نفل صدقہ) لے کر آتا تو آپ اس کے لیے دعا فرماتے، جیسا کہ پیچھے آیت (۹۹) کی تفسیر میں باحوالہ گزرا ہے کہ آپ نے ابو اوفی رضی اللہ عنہ کے زکوٰۃ لانے پر [ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی آلِ اَبِيْ اَوْفٰی ] کہہ کر ان کے ساتھ ان کے پورے اہل کو بھی دعا میں شامل فرما لیا۔ «{ وَ اللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ }» یعنی اللہ تعالیٰ جو وہ کہہ رہے ہیں یا جو ان کے دل میں ہے سب سے واقف ہے، کیونکہ وہ سمیع بھی ہے علیم بھی۔
اَلَمۡ یَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ یَقۡبَلُ التَّوۡبَۃَ عَنۡ عِبَادِہٖ وَ یَاۡخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۰۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا اِن لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی خیرات کو قبولیت عطا فرماتا ہے، اور یہ کہ اللہ بہت معاف کرنے والا اور رحیم ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ان کو یہ خبر نہیں کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور وہی صدقات کو قبول فرماتا ہے اور یہ کہ اللہ ہی توبہ قبول کرنے میں اور رحمت کرنے میں کامل ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیا انہیں خبر نہیں کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور صدقے خود اپنی دست قدرت میں لیتا ہے اور یہ کہ اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا انہیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور وہی صدقات کو قبول کرتا ہے یقینا اللہ ہی توبہ کا بڑا قبول کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا انھوں نے نہیں جانا کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور صدقے لیتا ہے اور یہ کہ اللہ ہی ہے جو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صدقہ مال کا تزکیہ ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ان کے اموال سے زکٰوۃ وصول کر لیا کرو یہ مال زکٰوۃ ان کو پاک اور صاف بنائے گا۔ اگرچہ بعض لوگوں نے «اَمْوَالِھِمْ» کی ضمیر ان لوگوں کی طرف پھیری ہے جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کر لیا تھا اور اچھے اور برے دونوں قسم کے اعمال کئے تھے۔ لیکن در حقیقت یہ حکم خاص نہیں بلکہ عام ہے اسی لئے قبائل عرب میں سے بعض مانعین زکٰوۃ نے یہ اعتقاد کر لیا تھا کہ امام کو زکٰوۃ لینے کا حق نہیں، اور یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخصوص تھی اور اسی لئے قولہ تعالیٰ «خُذۡ مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ صَدَقَۃً» سے انہوں نے دلیل لی ہے۔ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان کی تاویل اور فہم فاسد کی تردید کر دی اور ان سے جنگ کی تب کہیں انہوں نے خلیفہ وقت کو زکوٰۃ ادا کی جیسا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا کرتے تھے۔ حتیٰ کہ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما نے فرمایا تھا کہ ”اگر اونٹنی کا ایک بچہ یا رسی کا ایک ٹکڑا بھی مال زکٰوۃ کا روک لیں گے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم لو ادا کرتے تھے تو منع زکٰوۃ پر میں ان سے قتال کروں گا۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:1400:صحیح] ‏‏‏‏ قولہ تعالیٰ «وَ صَلِّ عَلَیۡہِمۡ» یعنی ان کے لئے دعا کرو اور طلبِ مغفرت کرو جیسا کہ صحیح مسلم میں عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب کسی کے پاس سے زکٰوۃ کا مال آتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسبِ حکم الٰہی اسکے لئے دعا کرتے تھے چنانچہ جب میرے باپ نے مال زکٰوۃ پیش کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اے اللہ! ”آل ابی اوفی پر رحم فرما“ [صحیح مسلم:1087:صحیح] ‏‏‏‏ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ایک عورت نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے اور میرے زوج کے لئے دعا فرمائیے تو کہا کہ اللہ تیرے اور تیرے زوج پر رحم و کرم فرمائے۔ [سنن ابوداود:1533، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ قولہ تعالٰی «اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّہُمۡ» تمھاری دعا ان کے لئے سکونِ قلب کا سبب ہے بعض نے صلٰوۃ کو جمع قرار دے کر صَلَوَاَتُک پڑھا ہے اور دوسروں نے واحد قرار دے کر «اِنَّ صَلَاتَکَ» پڑھا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ سکوں کے معنی رحمت کے ہیں اور قتادہ رحمہ اللہ نے کہا ہے اس کے معنی ہیں وقار «وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ» یعنی اے نبی!صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تمھاری دعاؤں کو سننے والا ہے۔

اور علیم ہے کہ کون تمھاری دعا کا مستحق ہے؟ امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وکیع نے بالاسناد روایت کی ہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے لئے دعا فرماتے تھے تو وہ اس کے اور اس کے بیٹوں اور پوتوں کے حق میں قبول ہو جاتی تھی۔ [مسند احمد:385/5:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر ابو نعیم سے بالاسناد مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کسی آدمی اور اس کے بیٹوں اور پوتوں کے حق میں ضرور قبول ہو جاتی تھی۔ [مسند احمد:400/5:ضعیف] ‏‏‏‏ اور اللہ کا قول ہے «أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ» [9-التوبة:104] ‏‏‏‏ یعنی کیا انہیں اس کا علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ بندوں کی نیکیوں کو لیتا ہے اور توبہ قبول فرماتا ہے۔ اس سے مقصد توبہ اور صدقہ پر لوگوں کو ابھارنا ہے کیونکہ یہی دونوں چیزیں گناہوں کو انسان سے چھڑا دیتی ہیں اور معاصی کو ملیامیٹ کر دیتی ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ جو اس کے پاس توبہ پیش کرے وہ بندے کی توبہ قبول کر لیتا ہے اور کسب حلال کا ٹکڑا بھی صدقہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سیدھے ہاتھ سے لے لیتا ہے پھر وہ صدقہ دینے والے کے لئے اس صدقہ کی پرورش کرتا جاتا ہے اور اس کو چھوٹے سے بڑا بناتا ہے حتٰی کہ صدقہ کی وہ ایک کھجور کوہِ احد کی مانند ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ اسی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے اور جیسا کہ وکیع نے بھی بالاسناد سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ صدقے کو قبول فرماتا ہے اور اس کی اپنے سیدھے ہاتھ میں لیتا ہے اور اس کی نشوونما کرتا ہے جیسا کہ تم اپنے گھوڑے ے بچے کو پال کر بڑا کرتے ہو یہاں تک کہ صدقہ کا ایک لقمہ بھی احد کا پہاڑ بن جاتا ہے۔ [مسند احمد:401/2:منکر بزیادۃ و تصدیق ذلک] ‏‏‏‏ اسکی تصدیق کتاب اللہ عز و جل سے بھی ہوتی ہے ”کیا انہیں علم نہیں کہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ کو قبول کرتا ہے اور زکٰوۃ و صدقات کو لے لیتا ہے اور قولہ تعالیٰ «يَمْحَقُ اللَّـهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ» [2-البقرة:276] ‏‏‏‏۔ یعنی اللہ تعالیٰ سود کے منافع کو برباد کر دیتا ہے اور صدقات کو اضعافاً مضاعفاً بڑھاتا رہتا ہے۔ ثوری رحمہ اللہ نے بالاسناد سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ صدقہ کا مال سائل کے ہاتھ میں پڑنے سے پہلے اللہ کے ہاتھ میں پڑتا ہے۔ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی «اَلَمۡ یَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ یَقۡبَلُ التَّوۡبَۃَ عَنۡ عِبَادِہٖ وَ یَاۡخُذُ الصَّدَقٰتِ» ‏‏‏‏ ابن عساکر رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ میں بہ ضمن تاریخ عبداللہ بن الشاعر سکسکی [ جو دمشقی تھے لیکن اصل وطن حمص تھا اور فقہا میں سے تھے ] ‏‏‏‏ بیان کیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگوں نے جہاد کیا جن کے سردار عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید رحمہ اللہ تھے،

تو ایک مسلمان نے مال غنیمت میں سے سو دینار رومی غبن کر لئے اور جب لشکر واپس ہو گیا اور لوگ گھروں کو چلے گئے تو اس کو ندامت نے آ گھیرا۔ اس نے یہ دینار اب امیر لشکر کے پاس پہنچائے۔ اس نے ان کے لینے سے انکار کر دیا کہ وہ سب لوگ تو اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے جن میں یہ تقسیم کیا جا سکتا تھا۔ اب تو میں اس کو لے نہیں سکتا اب تم قیامت کے روز اس کو اللہ کے سامنے پیش کر دینا۔ اب یہ آدمی صحابہ میں سے ہر ایک سے پوچھتا رہا لیکن سب یہی کہتے رہے۔ پھر وہ دمشق آیا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو قبول کرنے کے لیے کہا لیکن وہ بھی انکار کر گئے۔ وہ وہاں سے اپنی حالت پر روتا ہوا نکلا اور عبداللہ بن الشاعر السکسکی کے پاس سے گزرا۔ اس نے پوچھا کیوں روتا ہے؟ اس نے سارا واقعہ کہہ سنایا کہ کوئی امیر بھی ان کو نہیں لیتا۔ تو عبداللہ نے کہا کہ تم میری سنو گے اس نے کہا ضرور۔ تو اس نے کہا تم سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اورکہو کہ پانچواں حصہ جو بیت المال کا حق ہے لے لو۔ چنانچہ بیس دینار ان کے حوالے کر دو اور باقی اسی دینار ان لشکریوں کی طرف سے خیرات کر دو جو ان کے حق دار ہوسکتے تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کے ناموں اور مقامات وغیرہ سے بھی واقف ہے وہ انہیں اس کا ثواب پہنچا دے گا۔ تو اس آدمی نے ایسا ہی کیا۔ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں نے اس کو ایسا فتویٰ دیا ہوتا تو مجھے یہ بات اپنی تمام مملکت سے زیادہ محبوب تھی۔ اس نے بہت اچھی تدبیر بتائی ہے۔
14۔ 1 صدقات قبول فرماتا ہے کا مطلب (بشرطیکہ وہ حلال کی کمائی سے ہو) اس میں اضافہ فرماتا ہے۔ جس طرح حدیث میں آیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' اللہ تعالیٰ تمہارے صدقے کی اس طرح پرورش کرتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنے گھوڑے کے بچے کی پرورش کرتا ہے، حتٰی کہ ایک کھجور کے برابر صدقہ (بڑھ بڑھ کر) احد پہاڑ کی مثل ہوجاتا ہے (صحیح بخاری)
(آیت 104) {اَلَمْ يَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ …:} اس آیت میں (گناہ گاروں کو) توبہ اور صدقے پر ابھارا گیا ہے، کیونکہ یہ دونوں چیزیں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو بھی توبہ کرے اور پھر عمل صالح کرے اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے، بلکہ ساتھ ہی اس کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔ دیکھیے سورۂ فرقان (۷۰، ۷۱) بھلا اس کرم کی کوئی حد ہے؟ پھر وہ صدقہ قبول ہی نہیں کرتا، بلکہ اسے بڑھاتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ صدقہ قبول کرتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے، پھر اسے تمھارے ایک کے لیے پالتا بڑھاتا ہے، جس طرح تمھارا کوئی شخص اپنے گھوڑی کے بچھیرے کو پالتا ہے، یہاں تک کہ ایک لقمہ احد پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔“ پھر اس کی تصدیق میں زیر تفسیر آیت اور یہ آیت پڑھی: «{ يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ يُرْبِي الصَّدَقٰتِ }» [ البقرۃ: ۲۷۶ ] ”اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔“ [ ترمذی، الزکوٰۃ، باب ما جاء فی فضل الصدقۃ: ۶۶۲ ] اس کا اصل بخاری اور مسلم میں بھی ہے۔ [ ہدایۃ المستنیر ]
وَ قُلِ اعۡمَلُوۡا فَسَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمۡ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ؕ وَ سَتُرَدُّوۡنَ اِلٰی عٰلِمِ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۰۵﴾ۚ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اے نبیؐ، اِن لوگوں سے کہدو کہ تم عمل کرو، اللہ اور اس کا رسول اور مومنین سب دیکھیں گے کہ تمہارا طرز عمل اب کیا رہتا ہے پھر تم اُس کی طرف پلٹائے جاؤ گے جو کھلے اور چھپے سب کو جانتا ہے اور وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے کہ تم عمل کیے جاؤ تمہارے عمل اللہ خود دیکھ لے گا اور اس کا رسول اور ایمان والے (بھی دیکھ لیں گے) اور ضرور تم کو ایسے کے پاس جانا ہے جو تمام چھپی اور کھلی چیزوں کا جاننے واﻻ ہے۔ سو وه تم کو تمہارا سب کیا ہوا بتلا دے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور تم فرما ؤ کام کرو اب تمہارے کام دیکھے گا اللہ اور اس کے رسول اور مسلمان، اور جلد اس کی طرف پلٹوگے جو چھپا اور کھلا سب جانتا ہے تو وہ تمہارے کام تمہیں جتاوے گا،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) ان لوگوں سے کہہ دو کہ تم عمل کیے جاؤ اللہ، اس کا رسول اور مؤمنین تمہارے عمل کو دیکھیں گے (کہ تم کیسے عمل کرتے ہو) اور پھر غائب اور حاضر کے جاننے والے (خدا) کی طرف لوٹائے جاؤگے بس وہ تمہیں بتلائے گا تم کیا عمل کرتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور کہہ دے تم عمل کرو، پس عنقریب اللہ تمھار ا عمل دیکھے گا اور اس کا رسول اور ایمان والے بھی اور عنقریب تم ہر پوشیدہ اور ظاہر بات کو جاننے والے کی طرف لوٹائے جاؤ گے، تو وہ تمھیں بتائے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مجاہد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ یہ مخالفین امر اللہ کے لئے اللہ کی طرف سے وعید ہے کہ ان کے اعمال اللہ تبارک و تعالیٰ کے سامنے پیش کئے جائیں گے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین میں بھی ان کے اعمال ظاہر کئے جائیں گے اور قیامت کے روز یہ ہونا ضرور ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ «يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لاَ تَخْفَى مِنكُمْ خَافِيَةٌ» [ 69-الحاقة: 18 ] ‏‏‏‏ یعنی بروز قیامت تمھارے اعمال پیش ہوں گے اور کوئی ڈھکی چھپی بات بھی پوشیدہ نہ رہ سکے گی۔ اور فرمایا اللہ پاک نے «يَوْمَ تُبْلَى السَّرَآئِرُ» [ 86-الطارق: 9 ] ‏‏‏‏ یعنی دلوں کے چھپے ہوئے بھید ظاہر ہو جائیں گے اور فرمایا «وَحُصِّلَ مَا فِى الصُّدُورِ» [ 100-العاديات: 10 ] ‏‏‏‏ یعنی دلوں میں جو کچھ ہے وہ ظاہر ہو جائے گا اور دنیا کے لوگ اس سے واقف ہو جائیں گے جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ حسن بن موسیٰ نے باسناد مرفوعاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ حضرت نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی سخت پتھر کے اندر بھی سما جائے جس میں نہ کوئی سوراخ باقی رہے نہ دروازہ اس کے اندر بھی چھپ کر کوئی کوئی عمل کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی لوگوں پر ایسا ظاہر کردے گا گویا یہ ان کے سامنے ہوا ہے۔ [مسند احمد:28/3:ضعیف] ‏‏‏‏ اور حدیث مین وارد ہے کہ زندوں کے اعمال ان اموات پر پیش کئے جاتے ہیں جو ان کے عزیز و اقارب ہیں یا ان کے قبائل ہیں اور جو اس وقت عالم برزخ میں ہیں جیسا کہ ابوداؤد الطیالسی نے کہا ہے۔ صلت بن دینار نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمھارے اعمال تمھارے مردہ اقرباء اور عشائر پر ان کی قبروں میں پیش کئے جاتے ہیں، اگر اعمال خیر ہوتے ہیں تو وہ خوش ہو جاتے ہیں اور اگر بد ہوں تو دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ!تو اپنی اطاعت کی انہیں توفیق عطا فرما۔ [مسند طیالسی:1794:ضعیف] ‏‏‏‏ امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبدالرزاق نے ہمیں خبر دی کہ سفیان نے ایک شخص کو کہتے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ تمھارے اعمال تمھارے مردہ اقارب و عشائر پر پیش کئے جاتے ہیں اگر وہ اچھے عمل ہوں تو وہ مردے خوش ہو جاتے ہیں اور اچھے نہ ہوں تو کہتے ہیں کہ اے اللہ! تو انہیں موت نہ دے جب تک تو انہیں بھی ایسی ہدایت نہ دے جیسی تو نے ہمیں دی تھی۔ [مسند احمد:165/3:ضعیف] ‏‏‏‏

امام بخاری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ام المؤمنین عائشہرضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جب کسی مسلمان کی عمل نیک تمھیں پسند خاطر ہوتو کہو کئے جاؤ اللہ تمھارے عمل کو دیکھ رہا ہے اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین بھی اس سے واقف ہو رہے ہیں۔ [صحیح بخاری، تعلیقاً:کتاب التوحید:3530] ‏‏‏‏ اسی قسم کی ایک اور حدیث میں وارد ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ نے کہا کہ بالاسناد سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی کے اچھے عمل کو دیکھ کر خوش نہ ہو جاؤ انتظار کرو کہ اس کا خاتمہ بھی اس عمل نیک پر ہوتا ہے یا نہیں۔ اس لئے کہ عامل ایک زمانہ طویل تک نیک عمل کرتا رہتا ہے اور وہ اس نیک عمل پر مر جائے تو جنت میں داخل ہو جائے لیکن ناگہاں اس کے حالات بدل جاتے ہیں اور وہ برے اعمال کرنے لگتا ہے۔ اور ایک بندہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک زمانے تک برے اعمال کرتا رہتا ہے کہ اگر اسی پر مر جائے تو دوزخ میں چلا جائے گا لیکن یکایک اس کی کایا پلٹ جاتی ہے اور وہ نیک عمل کرنے لگتا ہے۔ اللہ جب اپنے کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرمائے تو موت سے پہلے اس کو نیکی کی توفیق دے دیتا ہے اور وہ نیکی پر مرتا ہے۔ لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کیسے ہوتا ہے؟ تو فرمایا کہ قبض روح کے وقت وہ عمل صالح کے ساتھ ہوتا ہے۔ [مسند احمد:120/3:صحیح] ‏‏‏‏
15۔ 1 رؤیت کا مطلب دیکھنا اور جاننا ہے۔ یعنی تمہارے عملوں کو اللہ تعالیٰ ہی نہیں دیکھتا، بلکہ ان کا علم اللہ کے رسول اور مومنوں کو بھی (بذریعہ وحی) ہوجاتا ہے (یہ منافقینی کے ضمن میں کہا جا رہا ہے) اس مفہوم کی آیت پہلے بھی گزر چکی ہے۔ یہاں مومنین کا بھی اضافہ ہے جن کو اللہ کے رسول کے بتلانے سے علم ہوجاتا ہے۔
(آیت 105) ➊ {وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ …:} یعنی اب اگر قصور ہو گیا تو آئندہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء کے دور میں جو جہاد ہونے والے ہیں ان میں خوب کام کر لو۔ (موضح) اللہ تعالیٰ تو پہلے ہی گزشتہ، موجودہ اور آئندہ کے تمام احوال سے پوری طرح باخبر ہے مگر تم عمل کرو، تمھارے عمل کو وجود میں آتا ہوا اللہ تعالیٰ بھی دیکھ لے گا، اس کا رسول بھی اور ان کے زمانے کے مومن اور بعد میں آنے والے خلفاء اور اہل ایمان بھی، کیونکہ آدمی اچھا یا برا جو کام بھی کرتا ہے اس کی اسی طرح کی شہرت ہر طرف پھیل جاتی ہے، خصوصاً مومن اس سے بے خبر نہیں رہتے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللّٰهِ فِي الْاَرْضِ ] [ النسائی، الجنائز، باب الثناء: ۱۹۳۴، ۱۹۳۵] ”تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔“ یہ الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازے کے گزرنے پر لوگوں کی اچھی تعریف اور دوسرے کے گزرنے پر لوگوں کے اس کی بری تعریف کرنے پر ارشاد فرمائے اور پہلے کے لیے جنت کی بشارت دی اور دوسرے کے لیے آگ کی۔ ایک روایت میں ہے: [ اَلْمُؤْمِنُوْنَ شُهَدَاءُ اللّٰهِ فِي الْاَرْضِ ] ”مومن زمین میں اللہ کے گواہ ہیں۔“ [ بخاری، الجنائز، باب ثناء الناس علی المیت: ۱۳۶۷ ] ➋ { وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ …:} یعنی اگر بالفرض لوگوں کو تمھاری حقیقت کی خبر نہ ہو سکی تو آخر کار تمھیں واپس عالم الغیب والشہادہ کے پاس جانا ہے، وہاں کچھ مخفی نہیں رہے گا۔
وَ اٰخَرُوۡنَ مُرۡجَوۡنَ لِاَمۡرِ اللّٰہِ اِمَّا یُعَذِّبُہُمۡ وَ اِمَّا یَتُوۡبُ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۱۰۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کچھ دوسر ے لوگ ہیں جن کا معاملہ ابھی خدا کے حکم پر ٹھیرا ہوا ہے، چاہے انہیں سزا دے اور چاہے اُن پر از سر نو مہربان ہو جائے اللہ سب کچھ جانتا ہے اور حکیم و دانا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا معاملہ اللہ کے حکم آنے تک ملتوی ہے ان کو سزا دے گا یا ان کی توبہ قبول کرلے گا، اور اللہ خوب جاننے واﻻ ہے بڑا حکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور کچھ موقوف رکھے گئے اللہ کے حکم پر، یا ان پر عذاب کرے یا ان کی توبہ قبول کرے اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور کچھ اور لوگ ایسے بھی ہیں جن کا معاملہ خدا کے حکم پر موقوف ہے وہ انہیں سزا دے یا ان کی توبہ کرے اور اللہ بڑا جاننے والا، بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور کچھ دوسرے ہیں جو اللہ کے حکم کے لیے مؤخر رکھے گئے ہیں، یا تو وہ انھیں عذاب دے اور یا پھر ان پر مہربان ہو جائے۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد اور عکرمہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ نے کہا کہ یہ تین شخص تھے کہ جن کی توبہ کی قبولیت پیچھے پڑ گئی تھی اور وہ مرارہ بن ربیع اور کعب بن مالک اور ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہم تھے اور غزوہ تبوک میں یہ بھی ان لوگوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے تھے جنہوں نے جنگ میں شرکت نہیں کی تھی بہ سبب سستی اور آرام طلبی کے اور اس سبب سے کہ ان کے باغات میں پھل پکنے کا موسم تھا کاشت تیار کھڑی تھی۔ سایہ دار اور بہار کی لطف انگیزی کا زمانہ تھا۔ یہ کوتاہی اور منافقت کی بنا پر نہیں تھی چنانچہ ان میں چند لوگ ایسے تھے جنہوں نے اپنے آپ کو ستونوں سے باندھ رکھا تھا جیسے کہ ابولبابہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی۔ دوسرے چند لوگوں نے ایسا نہ کیا اور یہ مذکورہ بالا تین اشخاص تھے۔ ابولبابہ اور ان کے ساتھیوں کی توبہ تو ان لوگوں سے پہلے ہی قبول ہو چکی تھی۔ اور زیر ذکر لوگوں کی توبہ کی قبولیت التوا میں پڑ گئی تھی حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی اور وہ ہے «لَّقَد تَّابَ اللَّـهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ» [9-التوبة:117] ‏‏‏‏ اور «وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّىٰ إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ» [9-التوبة:118] ‏‏‏‏ یعنی اللہ نے نبی اور مہاجرین اور انصار کی توبہ قبول کر لی [آخر آیت تک] ‏‏‏‏ اور ان تینوں شخصوں کی توبہ بھی قبول کر لی جو جنگ سے پیچھے رہ گئے تھے حتیٰ کہ اتنی وسیع دنیا بھی ان پر تنگ ہو گئی تھی اور کہیں انہیں پناہ نہ مل سکتی تھی جیسا کہ حدیث کعب بن مالک میں اس کا بیان آنے والا ہے اور قولہ تعالیٰ «إِمَّا يُعَذِّبُهُمْ وَإِمَّا يَتُوبُ عَلَيْهِمْ» [9-التوبة:106] ‏‏‏‏ یعنی وہ تحتِ عفوِ ربانی ہیں اگر وہ چاہے تو ان سے ایسا برتاؤ کرے اور اگر چاہے تو ویسا۔ لیکن اللہ کی رحمت تو اس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے اور اللہ تو مستحق عقوبت کو جانتا ہے کہ کون عفو کا مستحق ہے اور وہ اپنے افعال و اقوال میں حکیم ہے اس کے سوا کوئی اللہ اور کوئی رب نہیں۔
16۔ 1 جنگ تبوک میں پیچھے رہنے والے ایک تو منافق تھے، دوسرے وہ جو بلا عذر پیچھے رہ گئے تھے۔ اور انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا تھا لیکن انہیں معافی عطا نہیں کی گئی تھی، اس آیت میں اس گروہ کا ذکر ہے جن کے معاملے کو مؤخر کردیا گیا تھا (یہ تین افراد تھے، جن کا ذکر آگے آرہا ہے۔) 16۔ 2 اگر وہ اپنی غلطی پر مصر رہے۔ 16۔ 3 اگر وہ خالص توبہ کرلیں گے۔
(آیت 106) {وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ …:} جو لوگ غزوۂ تبوک میں شریک نہیں ہوئے اور مدینہ سے نہیں نکلے وہ تین طرح کے تھے، ایک منافقین، دوسرے ابولبابہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی، جن کا ذکر اوپر گزر چکا ہے اور تیسرے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اور ان کے دو ساتھی مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ رضی اللہ عنھما، جنھوں نے اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی جھوٹا عذر بنا کر پیش نہیں کیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ جلدی قبول نہ فرمائی بلکہ ان کے معاملے کو مؤخر رکھا۔ اس آیت میں انھی کا ذکر ہے اور ان کی توبہ کی قبولیت کا ذکر آگے آیت میں آ رہا ہے۔
وَ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مَسۡجِدًا ضِرَارًا وَّ کُفۡرًا وَّ تَفۡرِیۡقًۢا بَیۡنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ اِرۡصَادًا لِّمَنۡ حَارَبَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ مِنۡ قَبۡلُ ؕ وَ لَیَحۡلِفُنَّ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّا الۡحُسۡنٰی ؕ وَ اللّٰہُ یَشۡہَدُ اِنَّہُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۰۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے ایک مسجد بنائی اِس غرض کے لیے کہ (دعوت حق کو) نقصان پہنچائیں، اور (خدا کی بندگی کرنے کے بجائے) کفر کریں، اور اہل ایمان میں پھوٹ ڈالیں، اور (اس بظاہر عبادت گاہ کو) اُس شخص کے لیے کمین گاہ بنائیں جو اس سے پہلے خدا اور رسولؐ کے خلاف بر سر پیکار ہو چکا ہے وہ ضرور قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہمارا ارادہ تو بھلائی کے سوا کسی دوسری چیز کا نہ تھا مگر اللہ گواہ ہے کہ وہ قطعی جھوٹے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بعض ایسے ہیں جنہوں نے ان اغراض کے لیے مسجد بنائی ہے کہ ضرر پہنچائیں اور کفر کی باتیں کریں اور ایمانداروں میں تفریق ڈالیں اور اس شخص کے قیام کا سامان کریں جو اس سے پہلے سے اللہ اور رسول کا مخالف ہے، اور قسمیں کھا جائیں گے کہ بجز بھلائی کے اور ہماری کچھ نیت نہیں، اور اللہ گواه ہے کہ وه بالکل جھوٹے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جنہوں نے مسجد بنائی نقصان پہنچانے کو اور کفر کے سبب اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کو اور اس کے انتظار میں جو پہلے سے اللہ اور اس کے رسول کا مخالف ہے اور وہ ضرور قسمیں کھائیں گے ہم نے تو بھلائی چاہی، اور اللہ گواہ ہے کہ وہ بیشک جھوٹے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (منافقین میں سے) وہ لوگ بھی ہیں۔ جنہوں نے اس غرض سے ایک مسجد بنائی کہ نقصان پہنچائیں، کفر کریں اور مؤمنین میں تفرقہ ڈالیں۔ اور ان لوگوں کے لیے کمین گاہ بنائیں جو اس سے پہلے خدا و رسول سے جنگ کر چکے ہیں وہ ضرور قَسمیں کھائیں گے کہ بھلائی کے سوا ہمارا کوئی مقصد نہیں ہے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جنھوں نے ایک مسجد بنائی نقصان پہنچانے اور کفر کرنے (کے لیے) اور ایمان والوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے (کے لیے) اور ایسے لوگوں کے لیے گھات کی جگہ بنانے کے لیے جنھوں نے اس سے پہلے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی اور یقینا وہ ضرور قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے بھلائی کے سوا ارادہ نہیں کیا اور اللہ شہادت دیتا ہے کہ بے شک وہ یقینا جھوٹے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایک قصہ ایک عبرت، مسجد ضرار ٭٭

ان آیات کا سبب نزول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف سے لانے سے پہلے مدنہ میں قبیلہ خزرج کا آدمی رہتا تھا جس کا نام تھا ابو عامر راہب۔ یہ ایام جاہلیت میں نصرانی ہو گیا تھا اور اہل کتاب کا علم حاصل کر چکا تھا۔ یہ ایام جاہلیت میں ایک عبادت گزار شخص تھا اپنے قبیلے میں اس کو بڑی بزرگی حاصل تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما کر مدینے تشریف لائے اور مسمانوں کا آپ کے پاس اجتماع ہونے لگا اور اسلام کا بول بالا ہو گیا اور بدر کی لڑائی میں بھی اللہ تعالیٰ نے مسمانوں کو غالب رکھا تو ابو عامر پر یہ بات بہت شاق گزری اور کھلم کھلا عداوت ظاہر کرنے لگا اور مدینہ سے بھاگ کر کفار اور مشرکین مکہ سے جا ملا اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے پر مائل کرتا تھا اب عرب کے سارے قبیلے اکٹھے ہو گئے اور جنگ احد کے لئے پیش قدمی کی نتیجہ مسلمانوں کو جو ضرر پہنچا اللہ عزوجل نے اس جنگ مین مسلمانوں کا امتحان لیا دنیا نہ سہی لیکن عاقبت تو متقین کے لئے ہے۔ اس فاسق نے دونوں طرف کی صفوں کے درمیان کئی گڑھے کھود رکھے تھے ان میں سے ایک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گر پڑے آپ کو مضرت پہنچی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی ہو گیا نیچے کی طرف سے سامنے کے چار دانت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹوٹ گئے۔ سر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زخمی ہو گیا۔ ابو عامر نےشروع جنگ میں اپنی قوم انصار کی طرف بڑھ کر انہیں مخاطب کیا اور انہیں اپنی مدد اور اپنی موافقت کی دعوت دی۔

جب انصار نے ابو عامر کی یہ حرکت دیکھی تو کہنے لگے کہ اے فاسق اے عدو اللہ! اللہ تجھے برباد کرے اور اس کو گالیاں دیں اس کی عزت ریزی کی۔ اب وہ یہ کہتا ہوا واپس ہو گیا کہ میرے بعد میری قوم تو اور بگڑ گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے فرار ہونے سے پہلے اس کو دعوت اسلام دی تھی اور قرآن کی وحی سے سنائی تھی، لیکن اسلام لانے سے اس نے انکار کیا اور سر کشی اختیار کی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بد دعا کی کہ کم بخت جلا وطنی اور پردیسی موت مرے۔ چنانچہ یہ بد دعا اس پر کارگر ہوئی اور یہ بات اس طرح وقوع پذیر ہوئی کہ لوگ جب جنگ احد سے فارغ ہوئے تو اس نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تو بول بالا ہو رہا ہے۔ اسلام بڑھتا چلا جا رہا ہے تو وہ ملک روم ہرقل کے پاس گیا اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بر خلاف مدد مانگی۔ اس نے وعدہ کیا۔ اس نے اپنی امیدیں کامیاب ہوتی دیکھیں تو ہرقل کے پاس ٹھہر گیا اور اپنی قوم انصار میں سے ان لوگوں کو مکہ بھیجا جو اہل نفاق تھے کہ لشکر لے کر آ رہا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خوب جنگ ہو گئی، ان پر غالب آ جاؤں گا اور انہیں اپنی اسلام سے پہلے کی سابقہ حالت پر آنا ہو گا اور ان اہل نفاق کو حکم بھیجا کہ اس کے لئے پناہ کی جگہ بنائے رکھو اور میرے احکام اور مراسلے جو لے کر آیا کریں ان کے لئے قیامگاہ اور مآمن بنائے رکھو تا کہ اس کے بعد جب وہ خود آئے تو اس کے لئے کمین گاہ کا کام دے۔

چنانچہ ان منافقین نے مسجد قباء کے قریب ہی ایک اور مسجد بنا ڈالی، اس کی تعمیر کردی اس کو پختہ کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تبوک سے بکلنے سے پہلے اس کام سے فارغ بھی ہو لئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ درخواست کے کر آئے کہ آپ ہمارے پاس آئیے ہماری مسجد میں نماز پڑھئے تاکہ اس بات کی سند ہو سکے کہ یہ مسجد اپنی جگہ قابل استقرار اور قابل اثبات ہے۔ اور آپ کے سامنے یہ بیان کیا کہ ضعیفوں اور کمزوروں کی خاطر یہ مسجد بنائی گئی ہے اور سردی کی راتوں میں جو بیمار لوگ دور مسجد میں نہیں جا سکتے ان کے لئے آسانی کی غرض ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ تو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مسجد میں نماز پڑھنے سے بچانا چاہتا تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیں اس وقت سفر در پیش ہے جب ہم واپس ہوں گے اور اللہ نے چاہا تو دیکھا جائے گا اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ تبوک سے فارغ ہو کر مدینہ کی طرف واپس ہوئے اور مدینہ تک مسافت جب ایک دن یا دن اس سے کچھ کم رہ گئی تو جبرائیل علیہ السلام مسجد ضرار کی خبر لئے ہوئے آ پہنچے اور منافقین کے اس راز کو ظاہر کر دیا کہ مسجد قبا کے قریب ایک اور مسجد بنانے سے مسلمانوں کی جماعت میں تفریق پیدا کرنے کا مقصد ان کافروں اور منافقوں نے پیش کر رکھا ہے، وہ مسجد قبا ہے جس کی بنیاد اوّل روز سے تقوٰی پر اٹھائی گئی ہے۔ اس علم کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مدینے پہنچنے سے پہلے ہی چند لوگوں کو اس مسجد ضرار کی طرف بھیج دیا کہ اس کو منہدم کر دیا جائے۔ جیسا کہ علی بن ابی طلحہ نے اس آیت کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ انصار کے لوگ تھے جنہوں نے ایک مسجد بنائی تھی اور ابو عامر نے ان سے کہا کہ تم ایک مسجد بناؤ اور جس قدر بھی تم سے ممکن ہو اس میں ہتھیار جنگ چھپائے رکھو اور اس کو اپنی پناہ اور کمیں گاہ بنائے رہو کیونکہ میں قیصر ملک روم کی طرف جا رہا ہوں، روم سے لشکر لے کر آؤں گا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب کو مدینہ سے نکال دونگا۔ چنانچہ یہ منافقین جب مسجد ضرار بنا کر فارغ ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدنت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ ہم یہ دلی خواہش رکھتے ہیں کہ ایک بار آپ اس مسجد میں آ کر نماز پڑھ لیں اور اس میں ہمارے لئے برکت کی دعا کریں، تو اللہ عزوجل نے یہ وحی نازل فرما دی «لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ، أَفَمَنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىٰ تَقْوَىٰ مِنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ أَم مَّنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىٰ شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ» [9-التوبة:107-108] ‏‏‏‏ تک۔ یعنی ہر گز اس میں نماز نہ پڑھنا یقیناً وہ مسجد جس کی بنیاد اول یوم سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے زیادہ حقدار ہے اس بات کی کہ تم اسی میں نماز پڑھو، اس میں ایسے پاکیزہ لوگ رہتے ہیں کہ پاک دل ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے ہی پاکیزہ دلوں کو پسند کرتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17201:مرسل] ‏‏‏‏

سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے بھی بالاسناد یہی روایت کی ہے اور محمد بن اسحاق نے بھی بالاسناد یہ روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس ہوئے اور مقام ذی اوان میں فروکش ہوئے۔ مدینہ یہاں سے چند گھنٹوں کی مسافت پر ہے۔ تو اس مسجد ضرار کی خبر اللہ کی طرف سے آپ کو مل گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی سالم کے بھائی مالک بن خشم کو بلایا اور معن بن عدی یا اس کے بھائی عامر بن عدی، غرض ان دونوں کو بلایا اور فرمایا کہ تم دونوں ان ظالموں کی مسجد کی طرف جاؤ اور اس کو منہدم کر دو اور جلا ڈالو۔ یہ دونوں فوراً گئے اور بنی سالم بن عوف کے پاس آئے۔ یہ مالک بن الدخشم کے قبیلہ کے لوگ تھے، اب مالک نے معن سے کہا ٹھہرو! میں اپنے لوگوں میں سے کسی کے پاس سے آگ لے آتا ہوں۔ اب وہ مالک اپنے لوگوں میں آئے۔ درخت کی ایک بڑی سی لکڑی لی اس کو سلگایا اور فوراً نکل کھڑے ہوئے۔ یہ دونوں مسجد پہنچے، مسجد میں یہ کفار موجود تھے، ان دونوں نے مسجد کو جلا دیا اور اس کو گرا دیا۔ لوگ وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے اور قرآن کی یہ آیت ان منافقین کے بارے میں نازل ہوئی، «وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا» ۔ یہ لوگ جنھوں نے یہ مسجد ضرار بنائی بارہ افراد تھے خذام بن خالد، اسی کے گھر سے مسجد شقاق کی راہ نکلتی ہے، اور ثعلبہ بن حاطب بنی امیہ کے خادم، اور معتب بن قشیر اور ابو حبیبہ بن الازعر، اور عباد بن حنیف، اور حارثہ بن عامر، اور اس کے دونوں بیٹے مجمع اور زید اور نبتل الحارث، اور مخرج اور بجاد بن عثمان، اور ودیعہ بن ثابت، الو ابو لبابہ کے قبیلہ کے خادم، [تفسیر ابن جریر الطبری:17200] ‏‏‏‏ وہ لوگ جنہوں نے اس کو بنایا وہ قسمیں کھا کر کہہ رہے تھے کہ ہم نے تو نیک ارادے سے اس کی بناء ڈالی ہے۔ ہمارے پیش نظر تو صرف لوگوں کی خیر خواہی تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ «وَاللَّـهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» اللہ تعالیٰ شہادت دیتا ہے کہ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں یعنی جو انہوں نے قصد کیا اور نیت رکھی ہے، اس میں جھوٹے ہیں۔ محض اس مقصد سے مسجد بنائی ہے کہ مسجد قبا کی ضرر پہنچائیں اور کفر کی اشاعت کریں، مسلمانوں میں تفریق ڈال دیں، اللہ سے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کی خاطر کمین گاہ بنائے رکھیں، جہان ان کے مشورے اور کونسل ہوا کرے، وہ شخص ابو عامر وہ فاسق جس کو راہب سمجھا جاتا ہے، اللہ اس پر لعنت کرے۔

[وَ قَوْلُہُ ] ‏‏‏‏ «لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں نماز پڑھنے سے ممانعت فرما دی۔ نماز نہ پڑھنے میں ان کی تابع ان کی امت بھی ہے چنانچہ مسلمانوں کو بھی تاکید ہے کہ کبھی اس میں نماز نہ پڑھیں۔ پھر یہ مسجد قبا میں نماز پڑھنے پر ابھارا مسجد قبا کی بنیاد شروع ہی سے تقویٰ اطاعت اللہ اور اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہیں یہاں مسلمان مل بیٹھتے ہیں دینی مشورے کرتے ہیں اور یہ اسلام اور اہل اسلام کی پناہ کی جگہ ہے اور اسی کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «مَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ» اور سیاق عبارت مسجد قبا سے متعلق ہے۔ اس لئے حدیث صحیح میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد قبا میں نماز پڑھنا ایک عمرہ کے ثواب کے برابر ہے۔ [سنن ترمذي:324، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قبا کی طرف سوار ہو کر بھی آتے تھے اور پیادہ بھی۔ [صحیح بخاری:1191] ‏‏‏‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسے بنایا تو آپ کی سب سے پہلے تشریف آواری بن عمرو بن عوف کے پاس تھی اور جہتِ قبلہ جبرائیل علیہ السلام نے معین کی تھی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ابوداؤد نے بالاسناد ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب یہ آیت اہل قبا کے بارے میں نازل ہوئی۔ «فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا» [ التوبہ: 108 ] ‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ پانی سے طہارت کرتے تھے، [سنن ابوداود:44، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ چنانچہ ان کی تعریف میں یہ آیت اتری ہ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب متذکرہ بالا آیت اتری تو آپ عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور پوچھا کہ تمھاری وہ کون سی طہارت ہے؟ کہ اللہ عز و جل نے تمھارے لئے جس کی تعریف کی ہے۔

تو عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے جب کوئی مرد یا عورت حاجت سے فارغ ہوتے ہیں تو پانی سے اپنے اندام نہانی کو اچھی طرح دھو لیتے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں یہی بات ہے۔ [طبرانی کبیر:1065:ضعیف] ‏‏‏‏ امام احمد رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قبا میں تشریف لائے اور کہا کہ نماز کے لئے تمھاری طہارت کی اللہ پاک نے بڑے اچھے الفاظ میں تعریف کی ہے سو وہ تمھاری کون سی طہارت ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو اس کے سوا کوئی علم نہیں کہ یہود ہمارے پڑوسی ہیں اور وہ حاجت سے فارغ ہونے کے بعد پانی سے دھوتے ہیں چنانچہ ہم نے بھی یہی طریقہ اختیار کر رکھا ہے۔ [مسند احمد:422/3:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ ابن خزیمہ نے اپنی کتاب حدیث میں لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تمھاری کس طہارت کی تعریف اللہ پاک نے کی ہے؟ تو کہا کہ ہم طہارت کرنے میں پانی استعمال کرتے ہیں۔ ابن جریر نے کہا کہ آیت «فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ» [9-التوبة:108] ‏‏‏‏ جو اتری ہے وہ حاجت کے بعد پانی سے دھونے والوں کی شان میں ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ [بالاسناد] ‏‏‏‏ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قبا میں آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھاری طہارت کی بہت اچھی تعریف کی ہے، وہ کیا ہے؟ تو کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے تو آیت میں پانی سے طہارت کے احکام پائے ہیں۔ [مسند احمد:6/6:ضعیف] ‏‏‏‏ [ اس میں ایک راوہ عبداللہ بن سلام تھے جو اہل توریت تھے ] ‏‏‏‏ حدیث صحیح میں وارد ہے کہ مدینے کے اندر جو مسجد نبوی ہ یہی وہ مسجد ہے جس کے لئے ہا گیا کہ تقویٰ پر اس کی بنیاد اٹھی ہوئی ہے۔ اور یہ صحیح بات ہے اس آیت اور اس آیت میں کوئی منافات نہیں کیونکہ جب قبا کی تاسیس اول یوم سے بر بنائے تقویٰ ہے تو بدرجہ اولیٰ مسجد نبوی کو یہ خصوصیت حاصل ہونی چاہیے اسی لئے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسجد تقویٰ کا اساس رکھتی ہے وہ میری یہ مسجد ہے۔ [مسند احمد:116/5:صحیح] ‏‏‏‏ امام احمد رحمہ اللہ نے پھر [بالاسناد ] ‏‏‏‏ روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو آدمیوں نے اس بارے میں اختلاف کیا کہ اس خصوصیت والی مسجد کونسی ہے؟ تو ایک نے کہا کہ وہ مسجد نبوی ہے اور دوسرے نے کہا کہ وہ مسجد قبا ہے، یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تحقیق کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے یہی میری مسجد مراد ہے۔ [مسند احمد:331/5:صحیح] ‏‏‏‏

امام احمد رحمہ اللہ نے پھر [بالاسناد] ‏‏‏‏ روایت کی کہ دو آدمی اس خصوصیت والی مسجد کے بارے میں مختلف الرائے تھے ایک مسجد قبا کو اور دوسرا مسجد نبوی کو بتا رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد تقویٰ یہ میری مسجد ہے۔ [مسند احمد:89/3:صحیح] ‏‏‏‏ پھر اس کے بعد حدیثیں اسی مضمون کی وارد ہیں، چنانچہ الخراط المدنی نے ابو سلمہ سے پوچھا کہ تم نے اپنے باپ سے مسجد تقویٰ کے بارے میں کیا سنا ہے؟ تو کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وسلم مسجد تقویٰ کونسی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی بھر کنکریاں زمین سے اٹھائیں اور انہیں مار کر کہا کہ وہ یہی مسجد ہے۔ اس وقت آپ مسجد کے صحن میں اپنی بیوی کے ایک کمرے میں تشریف فرما تھے۔ [صحیح مسلم:1398:صحیح] ‏‏‏‏ پھر وہ کہتے ہیں کہ اس کو مسلم نے بالاسناد حمید الخراط سے روایت کیا ہے کہ خلف اور سلف کی ایک جماعت اسی بات کی قائل ہے کہ وہ مسجد نبوی ہے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما اور عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے بھی یہی روایت ہے کہ «لَمَسْجِدٌ اُسَّسَ» والی آیت پاک اس بات کی دلیل ہے کہ مساجد قدیمہ میں جن کی اول بنیاد عبادت خاوندی پر اٹھائی گئی ہے نماز پڑھنا مستحب ہے۔ اور اس استحباب کی بھی دلیل ہے کہ جماعت صالحین اور عباد عاملین کے ساتھ نماز پڑھی جائے اور وضو باقاعدہ طور پر مکمل کیا جائے اور نماز میں میلے یا گندے کپڑوں سے بالکل پاک رہا جائے۔ امام احمد رحمہ اللہ نے [بالاسناد] ‏‏‏‏ روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی اور اس میں سورۃ روم پڑھی، پڑھنے میں آپ کو کچھ شک سا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب واپس ہوئے تو فرمایا قرآن پڑھنے میں کچھ گڑ بڑ ہو جاتی ہے دیکھو تم میں بعض لوگ ایسے ہیں جو ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں لیکن وضو اچھی طرح نہیں کرتے پس جو ہمارے ساتھ نماز پڑھنا چاہے اس کے چاہیے کہ وضو کامل کیا کرے، وضو میں کوئی خرابی نہ کرنے پائے۔ [مسند احمد:472/3:حسن] ‏‏‏‏

ذوالکلاع سے مروی ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت فرمائی تھی، یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حسن طہارت قیام فی العبادت میں آسانی پیدا کرتا ہے اور عبادت کی تتمیم و تکمیل میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ابو العالیہ نے قول پاک «وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ» کے بارے میں کہا کہ پانی سے طہارت کرنا تو بیشک بہت اچھی بات ہے لیکن جن کی طہارت کی اللہ تعالیٰ تعریف فرما رہا ہے وہ گناہوں سے اپنے آپ کو پاک رکھنے والے لوگ ہیں۔ اعمش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس طہارت سے مراد گناہوں سے توبہ اور شرک سے پاکیزگی ہے۔ حدیث میں وارد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل قباء سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جو تمھاری طہارت کی تعریف کی ہے وہ کیسی طہارت ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم پانی سے استنجاء کرتے ہیں۔ حافظ ابوبکر بزار رحمہ اللہ نے بالاسناد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ یہ آیت اہل قباء کے بارے میں اتری ہے۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سوال کیا تھا تو کہا تھا کہ ہن پہلے ڈھیلے لیتے تھے پھر پانی سے دھوتے تھے۔ [مجمع الزوائد:1053:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کو بزار نے روایت کیا ہے۔ اس کو صرف محمد بن عبدالعزیز نے اور ان سے ان کے بیٹے نے روایت کیا ہے۔ میں نے یہاں یہ تصریح اس لئے کر دی ہے کہ یہ چیز اگرچہ فقہاء میں مشہور ہے لیکن اکثر متاخرین اس کو معروف تسلین نہیں کرتے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
17۔ 1 اس میں منافقین کی ایک اور نہایت قبیح حرکت کا بیان ہے کہ انہوں نے ایک مسجد بنائی۔ اور نبی کو باور کرایا کہ، بارش، سردی اور اس قسم کے موقع پر بیماروں اور کمزوروں کو زیادہ دور جانے میں دقت پیش آتی ہے ان کی سہولت کے لئے ہم نے یہ مسجد بنائی ہے۔ آپ وہیں چل کر نماز پڑھیں تاکہ ہمیں برکت حاصل ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تبوک کے لئے پایہ رکاب تھے، آپ نے واپسی پر نماز پڑھنے کا وعدہ فرمایا۔ لیکن واپسی پر وحی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے منافقین کے اصل مقاصد کو بےنقاب کردیا کہ اس سے وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانا، کفر پھیلانا مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنا اور اللہ اور اللہ کے رسول کے دشمنوں کے لئے کمین گاہ مہیا کرنا چاہتے ہیں۔ 17۔ 2 یعنی جھوٹی قسمیں کھا کر وہ نبی کو فریب دینا چاہتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے مکرو فریب سے بچا لیا اور فرمایا کہ ان کی نیت صحیح نہیں اور یہ جو کچھ ظاہر کر رہے ہیں، اس میں جھوٹے ہیں۔
(آیت 107) {وَ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا …: } یہ منافقین کے ایک اور قبیح کام کا ذکر ہے کہ انھیں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منصوبے اور سازشیں بنانے کے لیے جمع ہونے اور اپنے راز مخفی رکھنے کے لیے کوئی موزوں جگہ نہیں ملتی تھی، چنانچہ انھوں نے مسجد قبا کے ساتھ ہی ایک مسجد بنائی جس کے بنانے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے چار مقصد بیان فرمائے ہیں۔ چاروں مقصد مصدر کے لفظ کے ساتھ آئے ہیں: (1) {” ضِرَارًا “} یعنی یہ مسجد اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے نہیں بلکہ مومنوں کو نقصان اور تکلیف پہنچانے کے لیے ہے۔ (2) {” وَ كُفْرًا “} یعنی مساجد کی بنیاد تو اللہ اور رسول پر ایمان اور اکیلے اللہ کو پکارنے کے لیے ہوتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا }» [ الجن: ۱۸ ] مگر اس کی بنیاد اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے خلاف دلوں میں چھپا ہوا کفر و شرک اور اس کی اشاعت ہے۔ (3) {” وَ تَفْرِيْقًۢا بَيْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ “} مسجد قبا کی موجودگی میں اس کے ساتھ ہی مسجد بنانے کا واضح مطلب مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کرنا تھا کہ وہ ایک جگہ نماز نہ پڑھیں، کیونکہ مسلمانوں کی اسلام کی وجہ سے باہمی محبت اور اتفاق و اتحاد سے منافقین کو شدید حسد تھا۔ (4) {” وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ “} اس سے پہلے جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے رہے اور ان سے برسر جنگ رہے، خصوصاً منافقین اور وہ لوگ جو مدینہ سے بھاگ گئے تھے اور دشمنوں کی پناہ میں رہ کر اسلام کے خلاف سازشیں کر رہے تھے ان کے لیے اور ان کے بھیجے ہوئے آدمیوں کے لیے مسجد کے پردے میں چھپاؤ کی جگہ مہیا کرنا۔ مؤرخین نے خصوصاً یہاں ابوعامر راہب (جس کا نام مسلمانوں نے ابوعامر فاسق رکھا ہوا تھا) کا ذکر کیا ہے، جو مشہور صحابی حنظلہ غسیل الملائکہ کا والد تھا اور عیسائی ہو کر ہرقل کے پاس مسلمانوں کے خلاف کمک حاصل کرنے کے لیے گیا تھا، اس کی تجویز پر مسلمانوں سے جنگ کے لیے آنے والوں کے لیے بطور گھات اور کمین گاہ یہ مسجد بنائی گئی تھی۔ منافقین نے مسلمانوں کے دلوں سے شک دور کرنے کے لیے مسجد بنانے کا بہانہ یہ بنایا کہ ہم نے بیماروں اور کمزوروں کی سہولت کے لیے یہ مسجد بنائی ہے، تاکہ وہ سردی اور بارش میں سہولت سے یہاں نماز پڑھ سکیں اور ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے درخواست کی کہ آپ وہاں چل کر نماز پڑھیں، تاکہ ہمیں برکت حاصل ہو۔ خواہش ان کی یہ تھی کہ آپ کے نماز پڑھنے سے ہماری مسجد تسلیم ہو جائے اور ہم اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ آپ اس وقت تبوک کے لیے روانہ ہو رہے تھے، اس لیے آپ نے فرمایا کہ اللہ نے چاہا تو واپسی پر میں تمھاری مسجد میں آ کر نماز پڑھوں گا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک سے واپسی پر مدینہ کے بالکل قریب پہنچ گئے تو جبریل علیہ السلام یہ آیات لے کر نازل ہوئے جن میں اس مسجد ضرار کا پول کھولا گیا اور یہ بھی بتایا گیا کہ یہ لوگ یقینا قسمیں کھائیں گے کہ ہمارا ارادہ اس مسجد بنانے سے بھلائی کے سوا کچھ نہ تھا، جب کہ اللہ تعالیٰ کی شہادت یہ ہے کہ بلاشک و شبہ یہ لوگ یقینا جھوٹے ہیں۔
لَا تَقُمۡ فِیۡہِ اَبَدًا ؕ لَمَسۡجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقۡوٰی مِنۡ اَوَّلِ یَوۡمٍ اَحَقُّ اَنۡ تَقُوۡمَ فِیۡہِ ؕ فِیۡہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّتَطَہَّرُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُطَّہِّرِیۡنَ ﴿۱۰۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم ہرگز اس عمارت میں کھڑے نہ ہونا جو مسجد اول روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ تم اس میں (عباد ت کے لیے) کھڑے ہو، اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہی پسند ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ اس میں کبھی کھڑے نہ ہوں۔ البتہ جس مسجد کی بنیاد اول دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے وه اس ﻻئق ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں، اس میں ایسے آدمی ہیں کہ وه خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ خوب پاک ہونے والوں کو پسند کرتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اس مسجد میں تم کبھی کھڑے نہ ہونا، بیشک وہ مسجد کہ پہلے ہی دن سے جس کی بنیاد پرہیزگاری پر رکھی گئی ہے وہ اس قابل ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو، اس میں وہ لوگ ہیں کہ خوب ستھرا ہونا چاہتے ہیں اور ستھرے اللہ کو پیارے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) تم ہرگز اس عمارت میں کھڑے نہ ہونا۔ بے شک وہ مسجد جس کی اول دن سے تقویٰ و پرہیزگاری پر بنیاد رکھی گئی ہے۔ اس کی زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں (مسجد قبا و مسجد نبوی) اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک و صاف رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ پاک و صاف رہنے والوں کو ہی پسند کرتا ہے
عبدالسلام بن محمد
اس میں کبھی کھڑے نہ ہونا۔ یقینا وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی زیادہ حق دار ہے کہ تو اس میں کھڑا ہو۔ اس میں ایسے مرد ہیں جو پسند کرتے ہیں کہ بہت پاک رہیں اور اللہ بہت پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایک قصہ ایک عبرت، مسجد ضرار ٭٭

ان آیات کا سبب نزول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف سے لانے سے پہلے مدنہ میں قبیلہ خزرج کا آدمی رہتا تھا جس کا نام تھا ابو عامر راہب۔ یہ ایام جاہلیت میں نصرانی ہو گیا تھا اور اہل کتاب کا علم حاصل کر چکا تھا۔ یہ ایام جاہلیت میں ایک عبادت گزار شخص تھا اپنے قبیلے میں اس کو بڑی بزرگی حاصل تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما کر مدینے تشریف لائے اور مسمانوں کا آپ کے پاس اجتماع ہونے لگا اور اسلام کا بول بالا ہو گیا اور بدر کی لڑائی میں بھی اللہ تعالیٰ نے مسمانوں کو غالب رکھا تو ابو عامر پر یہ بات بہت شاق گزری اور کھلم کھلا عداوت ظاہر کرنے لگا اور مدینہ سے بھاگ کر کفار اور مشرکین مکہ سے جا ملا اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے پر مائل کرتا تھا اب عرب کے سارے قبیلے اکٹھے ہو گئے اور جنگ احد کے لئے پیش قدمی کی نتیجہ مسلمانوں کو جو ضرر پہنچا اللہ عزوجل نے اس جنگ مین مسلمانوں کا امتحان لیا دنیا نہ سہی لیکن عاقبت تو متقین کے لئے ہے۔ اس فاسق نے دونوں طرف کی صفوں کے درمیان کئی گڑھے کھود رکھے تھے ان میں سے ایک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گر پڑے آپ کو مضرت پہنچی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی ہو گیا نیچے کی طرف سے سامنے کے چار دانت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹوٹ گئے۔ سر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زخمی ہو گیا۔ ابو عامر نےشروع جنگ میں اپنی قوم انصار کی طرف بڑھ کر انہیں مخاطب کیا اور انہیں اپنی مدد اور اپنی موافقت کی دعوت دی۔

جب انصار نے ابو عامر کی یہ حرکت دیکھی تو کہنے لگے کہ اے فاسق اے عدو اللہ! اللہ تجھے برباد کرے اور اس کو گالیاں دیں اس کی عزت ریزی کی۔ اب وہ یہ کہتا ہوا واپس ہو گیا کہ میرے بعد میری قوم تو اور بگڑ گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے فرار ہونے سے پہلے اس کو دعوت اسلام دی تھی اور قرآن کی وحی سے سنائی تھی، لیکن اسلام لانے سے اس نے انکار کیا اور سر کشی اختیار کی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بد دعا کی کہ کم بخت جلا وطنی اور پردیسی موت مرے۔ چنانچہ یہ بد دعا اس پر کارگر ہوئی اور یہ بات اس طرح وقوع پذیر ہوئی کہ لوگ جب جنگ احد سے فارغ ہوئے تو اس نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تو بول بالا ہو رہا ہے۔ اسلام بڑھتا چلا جا رہا ہے تو وہ ملک روم ہرقل کے پاس گیا اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بر خلاف مدد مانگی۔ اس نے وعدہ کیا۔ اس نے اپنی امیدیں کامیاب ہوتی دیکھیں تو ہرقل کے پاس ٹھہر گیا اور اپنی قوم انصار میں سے ان لوگوں کو مکہ بھیجا جو اہل نفاق تھے کہ لشکر لے کر آ رہا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خوب جنگ ہو گئی، ان پر غالب آ جاؤں گا اور انہیں اپنی اسلام سے پہلے کی سابقہ حالت پر آنا ہو گا اور ان اہل نفاق کو حکم بھیجا کہ اس کے لئے پناہ کی جگہ بنائے رکھو اور میرے احکام اور مراسلے جو لے کر آیا کریں ان کے لئے قیامگاہ اور مآمن بنائے رکھو تا کہ اس کے بعد جب وہ خود آئے تو اس کے لئے کمین گاہ کا کام دے۔

چنانچہ ان منافقین نے مسجد قباء کے قریب ہی ایک اور مسجد بنا ڈالی، اس کی تعمیر کردی اس کو پختہ کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تبوک سے بکلنے سے پہلے اس کام سے فارغ بھی ہو لئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ درخواست کے کر آئے کہ آپ ہمارے پاس آئیے ہماری مسجد میں نماز پڑھئے تاکہ اس بات کی سند ہو سکے کہ یہ مسجد اپنی جگہ قابل استقرار اور قابل اثبات ہے۔ اور آپ کے سامنے یہ بیان کیا کہ ضعیفوں اور کمزوروں کی خاطر یہ مسجد بنائی گئی ہے اور سردی کی راتوں میں جو بیمار لوگ دور مسجد میں نہیں جا سکتے ان کے لئے آسانی کی غرض ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ تو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مسجد میں نماز پڑھنے سے بچانا چاہتا تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیں اس وقت سفر در پیش ہے جب ہم واپس ہوں گے اور اللہ نے چاہا تو دیکھا جائے گا اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ تبوک سے فارغ ہو کر مدینہ کی طرف واپس ہوئے اور مدینہ تک مسافت جب ایک دن یا دن اس سے کچھ کم رہ گئی تو جبرائیل علیہ السلام مسجد ضرار کی خبر لئے ہوئے آ پہنچے اور منافقین کے اس راز کو ظاہر کر دیا کہ مسجد قبا کے قریب ایک اور مسجد بنانے سے مسلمانوں کی جماعت میں تفریق پیدا کرنے کا مقصد ان کافروں اور منافقوں نے پیش کر رکھا ہے، وہ مسجد قبا ہے جس کی بنیاد اوّل روز سے تقوٰی پر اٹھائی گئی ہے۔ اس علم کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مدینے پہنچنے سے پہلے ہی چند لوگوں کو اس مسجد ضرار کی طرف بھیج دیا کہ اس کو منہدم کر دیا جائے۔ جیسا کہ علی بن ابی طلحہ نے اس آیت کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ انصار کے لوگ تھے جنہوں نے ایک مسجد بنائی تھی اور ابو عامر نے ان سے کہا کہ تم ایک مسجد بناؤ اور جس قدر بھی تم سے ممکن ہو اس میں ہتھیار جنگ چھپائے رکھو اور اس کو اپنی پناہ اور کمیں گاہ بنائے رہو کیونکہ میں قیصر ملک روم کی طرف جا رہا ہوں، روم سے لشکر لے کر آؤں گا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب کو مدینہ سے نکال دونگا۔ چنانچہ یہ منافقین جب مسجد ضرار بنا کر فارغ ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدنت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ ہم یہ دلی خواہش رکھتے ہیں کہ ایک بار آپ اس مسجد میں آ کر نماز پڑھ لیں اور اس میں ہمارے لئے برکت کی دعا کریں، تو اللہ عزوجل نے یہ وحی نازل فرما دی «لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ، أَفَمَنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىٰ تَقْوَىٰ مِنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ أَم مَّنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىٰ شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ» [9-التوبة:107-108] ‏‏‏‏ تک۔ یعنی ہر گز اس میں نماز نہ پڑھنا یقیناً وہ مسجد جس کی بنیاد اول یوم سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے زیادہ حقدار ہے اس بات کی کہ تم اسی میں نماز پڑھو، اس میں ایسے پاکیزہ لوگ رہتے ہیں کہ پاک دل ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے ہی پاکیزہ دلوں کو پسند کرتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17201:مرسل] ‏‏‏‏

سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے بھی بالاسناد یہی روایت کی ہے اور محمد بن اسحاق نے بھی بالاسناد یہ روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس ہوئے اور مقام ذی اوان میں فروکش ہوئے۔ مدینہ یہاں سے چند گھنٹوں کی مسافت پر ہے۔ تو اس مسجد ضرار کی خبر اللہ کی طرف سے آپ کو مل گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی سالم کے بھائی مالک بن خشم کو بلایا اور معن بن عدی یا اس کے بھائی عامر بن عدی، غرض ان دونوں کو بلایا اور فرمایا کہ تم دونوں ان ظالموں کی مسجد کی طرف جاؤ اور اس کو منہدم کر دو اور جلا ڈالو۔ یہ دونوں فوراً گئے اور بنی سالم بن عوف کے پاس آئے۔ یہ مالک بن الدخشم کے قبیلہ کے لوگ تھے، اب مالک نے معن سے کہا ٹھہرو! میں اپنے لوگوں میں سے کسی کے پاس سے آگ لے آتا ہوں۔ اب وہ مالک اپنے لوگوں میں آئے۔ درخت کی ایک بڑی سی لکڑی لی اس کو سلگایا اور فوراً نکل کھڑے ہوئے۔ یہ دونوں مسجد پہنچے، مسجد میں یہ کفار موجود تھے، ان دونوں نے مسجد کو جلا دیا اور اس کو گرا دیا۔ لوگ وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے اور قرآن کی یہ آیت ان منافقین کے بارے میں نازل ہوئی، «وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا» ۔ یہ لوگ جنھوں نے یہ مسجد ضرار بنائی بارہ افراد تھے خذام بن خالد، اسی کے گھر سے مسجد شقاق کی راہ نکلتی ہے، اور ثعلبہ بن حاطب بنی امیہ کے خادم، اور معتب بن قشیر اور ابو حبیبہ بن الازعر، اور عباد بن حنیف، اور حارثہ بن عامر، اور اس کے دونوں بیٹے مجمع اور زید اور نبتل الحارث، اور مخرج اور بجاد بن عثمان، اور ودیعہ بن ثابت، الو ابو لبابہ کے قبیلہ کے خادم، [تفسیر ابن جریر الطبری:17200] ‏‏‏‏ وہ لوگ جنہوں نے اس کو بنایا وہ قسمیں کھا کر کہہ رہے تھے کہ ہم نے تو نیک ارادے سے اس کی بناء ڈالی ہے۔ ہمارے پیش نظر تو صرف لوگوں کی خیر خواہی تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ «وَاللَّـهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» اللہ تعالیٰ شہادت دیتا ہے کہ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں یعنی جو انہوں نے قصد کیا اور نیت رکھی ہے، اس میں جھوٹے ہیں۔ محض اس مقصد سے مسجد بنائی ہے کہ مسجد قبا کی ضرر پہنچائیں اور کفر کی اشاعت کریں، مسلمانوں میں تفریق ڈال دیں، اللہ سے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کی خاطر کمین گاہ بنائے رکھیں، جہان ان کے مشورے اور کونسل ہوا کرے، وہ شخص ابو عامر وہ فاسق جس کو راہب سمجھا جاتا ہے، اللہ اس پر لعنت کرے۔

[وَ قَوْلُہُ ] ‏‏‏‏ «لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں نماز پڑھنے سے ممانعت فرما دی۔ نماز نہ پڑھنے میں ان کی تابع ان کی امت بھی ہے چنانچہ مسلمانوں کو بھی تاکید ہے کہ کبھی اس میں نماز نہ پڑھیں۔ پھر یہ مسجد قبا میں نماز پڑھنے پر ابھارا مسجد قبا کی بنیاد شروع ہی سے تقویٰ اطاعت اللہ اور اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہیں یہاں مسلمان مل بیٹھتے ہیں دینی مشورے کرتے ہیں اور یہ اسلام اور اہل اسلام کی پناہ کی جگہ ہے اور اسی کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «مَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ» اور سیاق عبارت مسجد قبا سے متعلق ہے۔ اس لئے حدیث صحیح میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد قبا میں نماز پڑھنا ایک عمرہ کے ثواب کے برابر ہے۔ [سنن ترمذي:324، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قبا کی طرف سوار ہو کر بھی آتے تھے اور پیادہ بھی۔ [صحیح بخاری:1191] ‏‏‏‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسے بنایا تو آپ کی سب سے پہلے تشریف آواری بن عمرو بن عوف کے پاس تھی اور جہتِ قبلہ جبرائیل علیہ السلام نے معین کی تھی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ابوداؤد نے بالاسناد ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب یہ آیت اہل قبا کے بارے میں نازل ہوئی۔ «فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا» [ التوبہ: 108 ] ‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ پانی سے طہارت کرتے تھے، [سنن ابوداود:44، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ چنانچہ ان کی تعریف میں یہ آیت اتری ہ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب متذکرہ بالا آیت اتری تو آپ عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور پوچھا کہ تمھاری وہ کون سی طہارت ہے؟ کہ اللہ عز و جل نے تمھارے لئے جس کی تعریف کی ہے۔

تو عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے جب کوئی مرد یا عورت حاجت سے فارغ ہوتے ہیں تو پانی سے اپنے اندام نہانی کو اچھی طرح دھو لیتے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں یہی بات ہے۔ [طبرانی کبیر:1065:ضعیف] ‏‏‏‏ امام احمد رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قبا میں تشریف لائے اور کہا کہ نماز کے لئے تمھاری طہارت کی اللہ پاک نے بڑے اچھے الفاظ میں تعریف کی ہے سو وہ تمھاری کون سی طہارت ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو اس کے سوا کوئی علم نہیں کہ یہود ہمارے پڑوسی ہیں اور وہ حاجت سے فارغ ہونے کے بعد پانی سے دھوتے ہیں چنانچہ ہم نے بھی یہی طریقہ اختیار کر رکھا ہے۔ [مسند احمد:422/3:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ ابن خزیمہ نے اپنی کتاب حدیث میں لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تمھاری کس طہارت کی تعریف اللہ پاک نے کی ہے؟ تو کہا کہ ہم طہارت کرنے میں پانی استعمال کرتے ہیں۔ ابن جریر نے کہا کہ آیت «فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ» [9-التوبة:108] ‏‏‏‏ جو اتری ہے وہ حاجت کے بعد پانی سے دھونے والوں کی شان میں ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ [بالاسناد] ‏‏‏‏ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قبا میں آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھاری طہارت کی بہت اچھی تعریف کی ہے، وہ کیا ہے؟ تو کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے تو آیت میں پانی سے طہارت کے احکام پائے ہیں۔ [مسند احمد:6/6:ضعیف] ‏‏‏‏ [ اس میں ایک راوہ عبداللہ بن سلام تھے جو اہل توریت تھے ] ‏‏‏‏ حدیث صحیح میں وارد ہے کہ مدینے کے اندر جو مسجد نبوی ہ یہی وہ مسجد ہے جس کے لئے ہا گیا کہ تقویٰ پر اس کی بنیاد اٹھی ہوئی ہے۔ اور یہ صحیح بات ہے اس آیت اور اس آیت میں کوئی منافات نہیں کیونکہ جب قبا کی تاسیس اول یوم سے بر بنائے تقویٰ ہے تو بدرجہ اولیٰ مسجد نبوی کو یہ خصوصیت حاصل ہونی چاہیے اسی لئے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسجد تقویٰ کا اساس رکھتی ہے وہ میری یہ مسجد ہے۔ [مسند احمد:116/5:صحیح] ‏‏‏‏ امام احمد رحمہ اللہ نے پھر [بالاسناد ] ‏‏‏‏ روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو آدمیوں نے اس بارے میں اختلاف کیا کہ اس خصوصیت والی مسجد کونسی ہے؟ تو ایک نے کہا کہ وہ مسجد نبوی ہے اور دوسرے نے کہا کہ وہ مسجد قبا ہے، یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تحقیق کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے یہی میری مسجد مراد ہے۔ [مسند احمد:331/5:صحیح] ‏‏‏‏

امام احمد رحمہ اللہ نے پھر [بالاسناد] ‏‏‏‏ روایت کی کہ دو آدمی اس خصوصیت والی مسجد کے بارے میں مختلف الرائے تھے ایک مسجد قبا کو اور دوسرا مسجد نبوی کو بتا رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد تقویٰ یہ میری مسجد ہے۔ [مسند احمد:89/3:صحیح] ‏‏‏‏ پھر اس کے بعد حدیثیں اسی مضمون کی وارد ہیں، چنانچہ الخراط المدنی نے ابو سلمہ سے پوچھا کہ تم نے اپنے باپ سے مسجد تقویٰ کے بارے میں کیا سنا ہے؟ تو کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وسلم مسجد تقویٰ کونسی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی بھر کنکریاں زمین سے اٹھائیں اور انہیں مار کر کہا کہ وہ یہی مسجد ہے۔ اس وقت آپ مسجد کے صحن میں اپنی بیوی کے ایک کمرے میں تشریف فرما تھے۔ [صحیح مسلم:1398:صحیح] ‏‏‏‏ پھر وہ کہتے ہیں کہ اس کو مسلم نے بالاسناد حمید الخراط سے روایت کیا ہے کہ خلف اور سلف کی ایک جماعت اسی بات کی قائل ہے کہ وہ مسجد نبوی ہے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما اور عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے بھی یہی روایت ہے کہ «لَمَسْجِدٌ اُسَّسَ» والی آیت پاک اس بات کی دلیل ہے کہ مساجد قدیمہ میں جن کی اول بنیاد عبادت خاوندی پر اٹھائی گئی ہے نماز پڑھنا مستحب ہے۔ اور اس استحباب کی بھی دلیل ہے کہ جماعت صالحین اور عباد عاملین کے ساتھ نماز پڑھی جائے اور وضو باقاعدہ طور پر مکمل کیا جائے اور نماز میں میلے یا گندے کپڑوں سے بالکل پاک رہا جائے۔ امام احمد رحمہ اللہ نے [بالاسناد] ‏‏‏‏ روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی اور اس میں سورۃ روم پڑھی، پڑھنے میں آپ کو کچھ شک سا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب واپس ہوئے تو فرمایا قرآن پڑھنے میں کچھ گڑ بڑ ہو جاتی ہے دیکھو تم میں بعض لوگ ایسے ہیں جو ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں لیکن وضو اچھی طرح نہیں کرتے پس جو ہمارے ساتھ نماز پڑھنا چاہے اس کے چاہیے کہ وضو کامل کیا کرے، وضو میں کوئی خرابی نہ کرنے پائے۔ [مسند احمد:472/3:حسن] ‏‏‏‏

ذوالکلاع سے مروی ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت فرمائی تھی، یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حسن طہارت قیام فی العبادت میں آسانی پیدا کرتا ہے اور عبادت کی تتمیم و تکمیل میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ابو العالیہ نے قول پاک «وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ» کے بارے میں کہا کہ پانی سے طہارت کرنا تو بیشک بہت اچھی بات ہے لیکن جن کی طہارت کی اللہ تعالیٰ تعریف فرما رہا ہے وہ گناہوں سے اپنے آپ کو پاک رکھنے والے لوگ ہیں۔ اعمش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس طہارت سے مراد گناہوں سے توبہ اور شرک سے پاکیزگی ہے۔ حدیث میں وارد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل قباء سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جو تمھاری طہارت کی تعریف کی ہے وہ کیسی طہارت ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم پانی سے استنجاء کرتے ہیں۔ حافظ ابوبکر بزار رحمہ اللہ نے بالاسناد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ یہ آیت اہل قباء کے بارے میں اتری ہے۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سوال کیا تھا تو کہا تھا کہ ہن پہلے ڈھیلے لیتے تھے پھر پانی سے دھوتے تھے۔ [مجمع الزوائد:1053:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کو بزار نے روایت کیا ہے۔ اس کو صرف محمد بن عبدالعزیز نے اور ان سے ان کے بیٹے نے روایت کیا ہے۔ میں نے یہاں یہ تصریح اس لئے کر دی ہے کہ یہ چیز اگرچہ فقہاء میں مشہور ہے لیکن اکثر متاخرین اس کو معروف تسلین نہیں کرتے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
18۔ 1 یعنی آپ نے وہاں جاکر نماز پڑھنے کا جو وعدہ فرمایا، اس کے مطابق وہاں جاکر نماز نہ پڑھیں چناچہ آپ نہ صرف یہ کہ وہاں نماز نہیں پڑھی بلکہ اپنے چند ساتھیوں کو بھیج کر مسجد گرا دی اور اسے ختم کردیا اس سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ جو مسجد اللہ کی عبادت کی بجائے، مسلمانوں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی غرض سے بنائی جائے، وہ مسجد ضرار ہے، اس کو ڈھا دیا جائے تاکہ مسلمانوں میں تفریق و انتشار پیدا نہ ہو۔ 18۔ 2 اس سے مراد کونسی مسجد ہے ا؟ اس میں اختلاف بعض نے اسے مسجد قبا اور بعض نے مسجد نبوی قرار دیا ہے، سلف کی ایک جماعت دونوں کی قائل رہی ہے۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ آیت سے اگر مسجد قبا مراد ہے تو بعض احادیث میں مسجد نبوی کو مصداق قرار دیا گیا ہے ان دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ اس لئے کہ اگر مسجد قبا کے اندر یہ صفت پائی جاتی ہے کہ اول یوم سے ہی اس کی بنیاد تقوٰی پر رکھی گئی ہے تو مسجد نبوی تو بطریق اولی اس صفت کی حال اور اس کی مصداق ہے۔ 18۔ 3 حدیث میں آتا ہے کہ اس سے مراد اہل قبا ہیں۔ نبی نے ان سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری طہارت کی تعریف فرمائی ہے، تم کیا کرتے ہو؟ انہوں نے کہا ڈھیلے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ پانی بھی استعمال کرتے ہیں۔ (بحوالہ ابن کثیر کہ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ ایسی قدیم مسجد میں نماز پڑھنا مستحب ہے جو اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کی غرض سے تعمیر کی گئی ہوں، نیز صالحین کی جماعت اور ایسے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنا مستحب ہے جو مکمل وضو کرنے اور طہارت و پاکیزگی کا صحیح صحیح اہتمام کرنے والے ہوں۔
(آیت 108) ➊ {لَا تَقُمْ فِيْهِ اَبَدًا:} اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک تو یہ کہ آپ اس میں کبھی نماز نہ پڑھیں، کیونکہ قیام نماز کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسا کہ حدیث ہے: [مَنْ قَامَ رَمَضَانَ اِيْمَانًا ] دوسرا یہ کہ نماز تو دور کی بات ہے آپ کبھی اس مسجد میں جا کر کھڑے بھی نہ ہوں، کیونکہ اس میں ان کی عزت افزائی ہو گی، جیسا کہ آپ کو منافقین کا جنازہ پڑھنے اور ان کی قبروں پر کھڑے ہونے سے بھی منع فرمایا: «{ وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ }» [ التوبۃ: ۸۴ ] چنانچہ آپ نے راستے ہی سے آدمی بھیج کر اس مسجد کو جلوا کر مسمار کروا دیا۔ ➋ { لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ …:} اس مسجد سے کون سی مسجد مراد ہے؟ سیاق و سباق سے واضح طور پر مسجد قبا ہی معلوم ہوتی ہے، کیونکہ اس کی بنیاد مسجد ضرار کے برعکس پہلے دن ہی سے اللہ کے تقویٰ اور اس کی رضا کے حصول پر رکھی گئی تھی اور اس کی خاص فضیلت بھی صحیح احادیث میں آئی ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد قبا میں نماز عمرہ کی طرح ہے۔“ [ ترمذی، الصلاۃ، باب ما جاء فی مسجد قباء: ۳۲۴، عن أسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ ] عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتہ کے دن مسجد قبا میں سوار ہو کر یا پیدل آیا کرتے تھے اور اس میں دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ [ مسلم، الحج، باب فضل مسجد قباء…: ۱۳۹۹ ] صحیح بخاری میں ہجرت سے متعلق طویل حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے موقع پر پہلے بنوعمرو بن عوف میں دس سے کچھ زیادہ راتیں ٹھہرے اور اس مسجد کی بنیاد رکھی جو «{ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ }» ہے اور آپ نے اس میں نماز پڑھی، پھر اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور لوگوں کے ساتھ چلتے ہوئے آگے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ اونٹنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مسجد کے پاس بیٹھ گئی جو مدینہ میں ہے اور وہ سہل اور سہیل رضی اللہ عنھما کی کھجوریں سکھانے کی جگہ تھی۔ [ بخاری، مناقب الأنصار، باب ہجرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم و أصحابہ إلی المدینۃ: ۳۹۰۶ ] اس سے بھی ظاہر ہے کہ اس سے مراد مسجد قبا ہے، مگر بعض احادیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا مصداق مسجد نبوی کو قرار دیا، چنانچہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمیوں کی اس مسجد کے بارے میں بحث ہو گئی کہ وہ کون سی مسجد ہے جو «{ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ }» ہے۔ ایک نے کہا، وہ مسجد قبا ہے۔ دوسرے نے کہا، وہ مسجد رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، یعنی مسجد نبوی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میری یہ مسجد (مسجد نبوی) ہے۔“ [ ترمذی، تفسیر القرآن، سورۃ التوبۃ: ۳۰۹۹ ] اس کی سند بھی صحیح ہے اور احمد، مسلم اور نسائی میں مذکور احادیث میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مسجد نبوی ہی قرار دیا ہے۔ اہل علم نے فرمایا، ان دونوں حدیثوں میں کوئی تضاد نہیں، کیونکہ دونوں مسجدوں کی بنیاد پہلے دن ہی سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اور آپ کا مسجد نبوی کی صراحت کرنا اس لیے تھا کہ کوئی شخص یہ نہ سمجھ لے کہ پہلے دن سے تقویٰ پر بنیاد صرف مسجد قبا کی رکھی گئی ہے، بلکہ واضح فرمایا کہ مسجد نبوی کی بنیاد بھی پہلے دن ہی سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اور وہ بالاولیٰ اس آیت کی مصداق ہے۔ ➌ ہر وہ مسجد جس کی بنیاد مسلمانوں کو نقصان پہنچانے یا تفریق ڈالنے کے لیے رکھی جائے، اس میں نماز جائز نہیں اور اسے ڈھا دینا لازم ہے اور ایک مسجد کے ساتھ ہی دوسری مسجد بنانا درست نہیں، الا یہ کہ آبادی زیادہ ہو جو ایک مسجد میں نماز نہ پڑھ سکیں۔ اسی طرح کوئی بھی مسجد جس کے بنانے والوں نے اس کی بنیاد ہی مشرکانہ عقائد پھیلانے اور توحید اور اہل توحید و سنت کی عداوت اور مخالفت کے لیے رکھی ہو اور اس میں قبر بنا دی ہو یا شرکیہ کلمات لکھے ہوں، اس میں بھی نماز پڑھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ہاں، جس مسجد کی بنیاد پوری بستی نے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور نماز ہی کے لیے رکھی ہو بعد میں کوئی مشرکانہ عقیدے والا اس میں شرک کی کوئی علامت نمایاں کر دے، جسے ختم کرنے پر آدمی قدرت نہ رکھتا ہو، یا کوئی قدیم مسجد جس کے متعلق معلوم نہ ہو کہ اس کے بنانے والے نے اس کی بنیاد مشرکانہ عقیدے پر رکھی ہے، وہاں نماز پڑھنا جائز ہے، کیونکہ اس کی بنیاد تقویٰ پر ہے، جیسا کہ مشرکین نے کعبہ کے اندر اور اردگرد بت رکھ دیے تھے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ سے پہلے اس میں نماز پڑھتے اور طواف کرتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ قوت عطا فرمائے تو ان مساجد کو شرک کے مظاہر و علامات سے پاک کر دیا جائے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔ مسلمانوں کے زوال کے اسباب میں سے بہت بڑا سبب ان کی باہمی تفریق ہے، اس لیے تمام کفار اور منافقین اسے زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ وہ تفریق صوفیانہ فرقوں کی ہو یا فقہی فرقوں کی، یا سیاسی فرقوں کی مسلمانوں کی نجات، ترقی اور غلبہ تمام فرقے ختم کرکے صرف کتاب و سنت پر ایک ہو جانے میں ہے۔ ہماری تاریخ میں ایک ایسا دور بھی گزرا ہے کہ حنفی، مالکی، حنبلی اور شافعی چاروں کی الگ مسجدیں، الگ مدرسے، الگ عدالتیں تھیں، حتیٰ کہ عین مسجد حرام میں چار الگ الگ مصلوں پر جماعتیں ہوتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے سلطان عبد العزیز رحمہ اللہ کو جنھوں نے تمام مملکت نجد و حجاز میں اور خانہ کعبہ میں یہ تفریق ختم کرکے سب کو ایک ہی امام پر جمع فرمایا۔ دوسرے ممالک میں ابھی تک ہر فرقے کی الگ الگ مسجدیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو فرقہ بازی چھوڑ کر توحید و سنت پر جمع ہونے کی توفیق عطا فرمائے، جیسا کہ مسلمانوں کا پہلا ایک سو سال کا روشن ترین زمانہ ان فرقوں اور الگ الگ عدالتوں اور مساجد سے پاک تھا اور تمام مسلمانوں کے کتاب و سنت پر متحد ہونے کی وجہ سے پوری دنیا پر ان کا غلبہ تھا۔ یہ تمام فرقے اور جن کے ناموں پر فرقے بنے ہیں سب بعد میں ظہور پذیر ہوئے، خیر القرون میں ان کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ ➍ { فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا …: ” يَتَطَهَّرُوْا “} اور {” الْمُطَّهِّرِيْنَ “} یہ ”{طَهُرَ } (کرم)“ میں سے باب تفعل یعنی {”تَطَهَّرَ يَتَطَهَّرَ“} کے صیغے ہیں، اس لیے ان کا معنی حروف میں اضافے کی وجہ سے بہت پاک ہونا اور رہنا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آیت: «{ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا وَ اللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ }» اہل قبا کے متعلق اتری، وہ پانی کے ساتھ استنجا کرتے تھے۔“ [ أبوداوٗد، الطھارۃ، باب فی الاستنجاء بالماء: ۴۴۔ ترمذی: ۳۱۰۰۔ ابن ماجہ: ۳۵۵، و صححہ الألبانی ] ➎ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے بلوغ المرام میں ابن عباس رضی اللہ عنھما کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل قبا سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ تمھاری تعریف کرتا ہے (اس کی کیا وجہ ہے؟) انھوں نے کہا کہ ہم پتھروں کے بعد پانی استعمال کرتے ہیں۔ اس حدیث کی وجہ سے بہت سے لوگ جہاں پانی میسر ہو وہاں بھی پہلے ڈھیلے استعمال کرتے ہیں پھر پانی، جس سے گندگی بھی پھیلتی ہے اور گٹر بھی بند ہوتے ہیں۔ کئی لوگ استنجا خانے سے باہر شلوار ہاتھ میں پکڑ کر ڈھیلے سے پیشاب خشک کر رہے ہوتے ہیں جو نہایت بے ہودہ دکھائی دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اہل قبا کی تعریف اس لیے تھی کہ وہ پانی کے ساتھ استنجا کرتے تھے، پانی کی موجودگی میں ڈھیلے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر کسی کو صرف پانی کے ساتھ طہارت سے تسلی نہیں ہوتی تو وہ وسوسے کا مریض ہے۔ یہ حدیث جس میں پتھروں کے بعد پانی کا ذکر ہے، اس کے متعلق خود حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بلوغ المرام میں فرمایا کہ اسے بزار نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اصل حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں ہے، جسے ابن خزیمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح کہا ہے اور وہ پتھروں کے ذکر کے بغیر ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے {” التلخيص الحبير“} میں اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اسے صرف محمد بن عبد العزیز راوی نے روایت کیا ہے اور وہ ضعیف ہے۔ اسے ابوحاتم نے ضعیف کہا ہے۔ ہاں استنجا صرف پتھروں سے بھی جائز اور کافی ہے اور اگر کبھی اس کا اتفاق ہو اور اس کے بعد پانی سے مزید صفائی کر لے تو بہتر ہے، ورنہ پانی کی موجودگی میں پتھر استعمال کرنے کی کوئی حدیث صحیح نہیں ہے اور نہ اس کی کوئی ضرورت ہے۔
اَفَمَنۡ اَسَّسَ بُنۡیَانَہٗ عَلٰی تَقۡوٰی مِنَ اللّٰہِ وَ رِضۡوَانٍ خَیۡرٌ اَمۡ مَّنۡ اَسَّسَ بُنۡیَانَہٗ عَلٰی شَفَا جُرُفٍ ہَارٍ فَانۡہَارَ بِہٖ فِیۡ نَارِ جَہَنَّمَ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۰۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر تمہارا کیا خیال ہے کہ بہتر انسان وہ ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضا کی طلب پر رکھی ہو یا وہ جس نے اپنی عمارت ایک وادی کی کھوکھلی بے ثبات کگر پر اٹھائی اور وہ اسے لے کر سیدھی جہنم کی آگ میں جا گری؟ ایسے ظالم لوگوں کو اللہ کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر آیا ایسا شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ سے ڈرنے پر اور اللہ کی خوشنودی پر رکھی ہو، یا وه شخص، کہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد کسی گھاٹی کے کنارے پر جو کہ گرنے ہی کو ہو، رکھی ہو، پھر وه اس کو لے کر آتش دوزخ میں گر پڑے، اور اللہ تعالیٰ ایسے ﻇالموں کو سمجھ ہی نہیں دیتا
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا جس نے اپنی بنیاد رکھی اللہ سے ڈر اور اس کی رضا پر وہ بھلا یا وہ جس نے اپنی نیو چنی ایک گراؤ (ٹوٹے ہوئے کناروں والے) گڑھے کے کنارے تو وہ اسے لے کر جہنم کی آ گ میں ڈھے پڑا اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا،
علامہ محمد حسین نجفی
آیا وہ شخص بہتر ہے جو اپنی عمارت کی بنیاد خوفِ خدا اور اس کی خوشنودی پر رکھے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ایک کھائی کے گرتے ہوئے کنارے پر رکھی اور پھر وہ اسے لے کر دوزخ کی آگ میں جاگری اور اللہ ظالموں کو منزلِ مقصود تک نہیں پہنچاتا۔
عبدالسلام بن محمد
تو کیا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے خوف اور اس کی خوشنودی پر رکھی، بہتر ہے، یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد کھوکھلے تودے کے کنارے پر رکھی، جو گرنے والا تھا؟ پس وہ اسے لے کر جہنم کی آگ میں گر گیا اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے مسجد کی بنیاد تقویٰ اور رضائے الہٰی پر رکھی ہے اور وہ لوگ جنہوں نے مسجد ضرار اور مسجد کفر بنائی اور مومنین میں تفریق ڈال دی اور اللہ سے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کے لئے اس کو جائے پناہ قرار دیا، کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ ان لوگوں نے تو اس مسجد ضرار کی بنیاد گویا ایک گڑھے کے ڈھلتے ہوئے کنارے پر رکھی جو اسے جہنم کی آگ میں لے گری۔ اور حدود سے تجاوز کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں فرماتا۔ یعنی مفسدین کے عمل کو اصلاح پزیر نہیں بناتا۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مسجد ضرار کو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسبِ فرمان جب اس میں آگ لگا دی گئی تو اس میں دھواں نکل رہا تھا۔ ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہوا کہ بعض لوگوں نے ایک جگہ گڑھا کھودا تو اس میں سے دھواں نکلتا ہوا پایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17262:ضعیف] ‏‏‏‏ قتادہ رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ خلف بن یاسین کوفی کہتے ہیں کہ میں نے منافقین کی اس مسجد کو دیکھا کہ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے، یہ دیکھا کہ اس میں ایک سوراخ ہے جس میں سے دھواں نکل رہا ہے اور آج کے روز وہ جگہ گندگی پھینکنے کی جگہ بنی ہوئی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17264:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کو روایت کیا، اور قولہ تعالیٰ «لَا يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِي بَنَوْا رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ» [9-التوبة:110] ‏‏‏‏ یعنی ان کی بنائی ہوئی یہ عمارت تو ہمیشہ ان کے دلوں میں شک و شبہ کی باعث ہی رہے گی اور اس عمل شنیع کا اقدام کرنے کی وجہ سے ان کے دلوں میں نفاق کا بیج بوتی رہے گی، جیسا کہ گوسالہ پرستوں کے دل میں گوسالہ کی محبت پڑی ہوئی تھی «إِلَّا أَن تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ» البتہ اس صورت میں ان منافقین کی بیخ کنی ہو سکتی ہے جب کہ اس مسجد ہی کو ختم کر کے ان کے دلوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں۔ اللہ اپنے بندوں کے اعمال کو خوب جانتا ہے اور خیر و شر کا بدلہ دینے میں بڑا حکیم ہے۔
19۔ 1 اس میں مومن اور منافق کے عمل کی مثالیں بیان کی گئی ہیں۔ مومن کا عمل اللہ کے تقوٰی پر اور اس کی رضامندی کے لئے ہوتا ہے۔ جب کہ منافق کا عمل ریاکاری اور فساد پر مبنی ہوتا ہے۔ جو اس حصہ زمین کی طرح جس کے نیچے سے وادی کا پانی گزرتا ہے اور مٹی کو ساتھ بہا لے جاتا ہے۔ وہ حصہ نیچے سے کھوکھلا رہ جاتا ہے۔ جس پر کوئی تعمیر کرلی جائے تو فوراً گرپڑے۔ ان منافقین کا مسجد بنانے کا عمل بھی ایسا ہی ہے جو انہیں جہنم میں ساتھ لے گرے گا۔
(آیت 109) ➊ {اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْيَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى …: ” شَفَا “} کنارا {” جُرُفٍ “} ندی نالے یا دریا کا کنارا جس کے نیچے سے پانی مٹی بہا کر لے گیا ہو اور وہ بس گرنے ہی والا ہو، کیونکہ اس کے نیچے کوئی بنیاد ہی نہیں کہ ٹھہر سکے، صرف مٹی کا نیچے سے کھوکھلا تودا ہے۔ {” هَارٍ “} اسم فاعل ہے {”هَارَ يَهَارُ ({خَافَ يَخَافُ})“} سے یا {”هَارَ يَهُوْرُ ({قَالَ يَقُوْلُ})“} سے۔ اصل {”هَائِرٌ“} تھا، جیسا کہ {”خَائِفٌ“} یا {”قَائِلٌ“}، پھر اس میں قلب واقع ہوا تو{ ”هَارِيٌ“} ہو گیا اور {”رَاضِيٌ“} سے یاء گرنے کے بعد {”رَاضٍ“ } کی طرح {”هَارِيٌ“} سے {”هَارٍ“} ہو گیا۔ {” فَانْهَارَ “} باب انفعال {” اِنْهِيَارٌ “} سے ماضی معلوم ہے۔ یہ دو شخصوں کی مثال ہے، ایک وہ جس کے عقیدہ و عمل کی بنیاد اللہ کے تقویٰ اور اس کی رضا پر ہے، دوسرا وہ جس کے عقیدہ وعمل کی بنیاد محض کفر و نفاق پر ہے۔ اول الذکر کی عمارت کی بنیاد مضبوط ومستحکم ہے، وہ کبھی گرنے والی نہیں اور دوسرے کی عمارت ایسی چیز پر ہے جو دکھائی تو دیتی ہے مگر نیچے سے خالی ہے، گویا اس کی بنیاد ہی نہیں۔ اس کا نتیجہ اس کے سوا کیا ہو گا کہ وہ عمارت ہر حال میں اسے بھی لے کر گرے گی اور کفر و نفاق (جس کا انجام آگ ہے) کے اوپر کھڑی ہونے کی وجہ سے جہنم کی آگ میں لے کر گرے گی۔ ➋ { وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ:} یعنی بے انصافی (ظلم) کی یہ شامت پڑتی ہے کہ نیک عمل کرنا بھی چاہیں تو بن نہیں آتا۔ (موضح)
لَا یَزَالُ بُنۡیَانُہُمُ الَّذِیۡ بَنَوۡا رِیۡبَۃً فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ اِلَّاۤ اَنۡ تَقَطَّعَ قُلُوۡبُہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۱۱۰﴾٪
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے، ہمیشہ ان کے دلوں میں بے یقینی کی جڑ بنی رہے گی (جس کے نکلنے کی اب کوئی صورت نہیں) بجز اس کے کہ ان کے دل ہی پارہ پارہ ہو جائیں اللہ نہایت باخبر اور حکیم و دانا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کی یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں شک کی بنیاد پر (کانٹا بن کر) کھٹکتی رہے گی، ہاں مگر ان کے دل ہی اگر پاش پاش ہوجائیں تو خیر، اور اللہ تعالیٰ بڑا علم واﻻ بڑی حکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ تعمیر جو چنی (کی) ہمیشہ ان کے دلوں میں کھٹکتی رہے گی مگر یہ کہ ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ عمارت جو ان لوگوں نے بنائی ہے (مسجدِ ضرار) یہ ہمیشہ ان کے دلوں کو مضطرب رکھے گی مگر یہ کہ ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں بلاشبہ خدا بڑا جاننے والا، بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ان کی عمارت جو انھوں نے بنائی، ہمیشہ ان کے دلوں میں بے چینی کا باعث بنی رہے گی، مگر اس صورت میں کہ ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے مسجد کی بنیاد تقویٰ اور رضائے الہٰی پر رکھی ہے اور وہ لوگ جنہوں نے مسجد ضرار اور مسجد کفر بنائی اور مومنین میں تفریق ڈال دی اور اللہ سے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کے لئے اس کو جائے پناہ قرار دیا، کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ ان لوگوں نے تو اس مسجد ضرار کی بنیاد گویا ایک گڑھے کے ڈھلتے ہوئے کنارے پر رکھی جو اسے جہنم کی آگ میں لے گری۔ اور حدود سے تجاوز کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں فرماتا۔ یعنی مفسدین کے عمل کو اصلاح پزیر نہیں بناتا۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مسجد ضرار کو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسبِ فرمان جب اس میں آگ لگا دی گئی تو اس میں دھواں نکل رہا تھا۔ ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہوا کہ بعض لوگوں نے ایک جگہ گڑھا کھودا تو اس میں سے دھواں نکلتا ہوا پایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17262:ضعیف] ‏‏‏‏ قتادہ رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ خلف بن یاسین کوفی کہتے ہیں کہ میں نے منافقین کی اس مسجد کو دیکھا کہ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے، یہ دیکھا کہ اس میں ایک سوراخ ہے جس میں سے دھواں نکل رہا ہے اور آج کے روز وہ جگہ گندگی پھینکنے کی جگہ بنی ہوئی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17264:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کو روایت کیا، اور قولہ تعالیٰ «لَا يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِي بَنَوْا رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ» [9-التوبة:110] ‏‏‏‏ یعنی ان کی بنائی ہوئی یہ عمارت تو ہمیشہ ان کے دلوں میں شک و شبہ کی باعث ہی رہے گی اور اس عمل شنیع کا اقدام کرنے کی وجہ سے ان کے دلوں میں نفاق کا بیج بوتی رہے گی، جیسا کہ گوسالہ پرستوں کے دل میں گوسالہ کی محبت پڑی ہوئی تھی «إِلَّا أَن تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ» البتہ اس صورت میں ان منافقین کی بیخ کنی ہو سکتی ہے جب کہ اس مسجد ہی کو ختم کر کے ان کے دلوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں۔ اللہ اپنے بندوں کے اعمال کو خوب جانتا ہے اور خیر و شر کا بدلہ دینے میں بڑا حکیم ہے۔
110۔ 1 دل پاش پاش ہوجائیں، کا مطلب موت سے ہمکنار ہونا ہے۔ یعنی موت تک یہ عمارت ان کے دلوں میں مذید شک و نفاق پیدا کرنے کا ذریعہ بنی رہے گی، جس طرح کہ بچھڑے کے پجاریوں میں بچھڑے کی محبت رچ بس گئی تھی۔
(آیت 110) {لَا يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِيْ بَنَوْا رِيْبَةً …: ” رِيْبَةً “} بے چینی، جیسا کہ حسن بن علی رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلصِّدْقُ طُمَانِيْنَةٌ وَالْكِذْبُ رِيْبَةٌ ] [ أحمد: 200/1، ح: ۱۷۲۸۔ ترمذی: ۲۵۱۸، و صححہ الألبانی ] ”سچ اطمینان کا باعث ہے اور جھوٹ بے چینی کا باعث ہے۔“ یعنی یہ مسجد ضرار گرائے جانے کے بعد اس کے بنانے والوں کے دلوں کو بے چین رکھے گی کہ ہمارا نفاق و کفر ظاہر ہو گیا، اب کوئی مسلمان ہمیں دل سے اپنا سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہو گا، ان کی یہ حالت موت تک ایسے ہی رہے گی۔ «{ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ }» کا یہی معنی ہے، نہ ان کا دل نفاق سے پاک ہو گا نہ انھیں اطمینان نصیب ہو گا۔
اِنَّ اللّٰہَ اشۡتَرٰی مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَنۡفُسَہُمۡ وَ اَمۡوَالَہُمۡ بِاَنَّ لَہُمُ الۡجَنَّۃَ ؕ یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَیَقۡتُلُوۡنَ وَ یُقۡتَلُوۡنَ ۟ وَعۡدًا عَلَیۡہِ حَقًّا فِی التَّوۡرٰىۃِ وَ الۡاِنۡجِیۡلِ وَ الۡقُرۡاٰنِ ؕ وَ مَنۡ اَوۡفٰی بِعَہۡدِہٖ مِنَ اللّٰہِ فَاسۡتَبۡشِرُوۡا بِبَیۡعِکُمُ الَّذِیۡ بَایَعۡتُمۡ بِہٖ ؕ وَ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۱۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں وہ اللہ کی راہ میں لڑتے اور مارتے اور مرتے ہیں ان سے (جنت کا وعدہ) اللہ کے ذمے ایک پختہ وعدہ ہے توراۃ اور انجیل اور قرآن میں اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کا پورا کرنے والا ہو؟ پس خوشیاں مناؤ اپنے اس سودے پر جو تم نے خدا سے چکا لیا ہے، یہی سب سے بڑی کامیابی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں کو اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض میں خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی۔ وه لوگ اللہ کی راه میں لڑتے ہیں جس میں قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں، اس پر سچا وعده کیا گیا ہے تورات میں اور انجیل میں اور قرآن میں اور اللہ سے زیاده اپنے عہد کو کون پورا کرنے واﻻ ہے، تو تم لوگ اپنی اس بیع پر جس کا تم نے معاملہ ٹھہرایا ہے خوشی مناؤ، اور یہ بڑی کامیابی ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کے مال اور جان خریدلیے ہیں اس بدلے پر کہ ان کے لیے جنت ہے اللہ کی راہ میں لڑیں تو ماریں اور مریں اس کے ذمہ کرم پر سچا وعدہ توریت اور انجیل اور قرآن میں اور اللہ سے زیادہ قول کا پورا کون تو خوشیاں مناؤ اپنے سودے کی جو تم نے اس سے کیا ہے، اور یہی بڑی کامیابی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک اللہ تعالیٰ نے مؤمنین سے ان کی جانیں خرید لی ہیں اور ان کے مال بھی اس قیمت پر کہ ان کے لیے بہشت ہے وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں پس وہ مارتے بھی ہیں اور خود بھی مارے جاتے ہیں (ان سے) یہ وعدہ اس (اللہ تعالیٰ) کے ذمہ ہے تورات، انجیل اور قرآن (سب) میں اور اللہ سے بڑھ کر کون اپنے وعدہ کا پورا کرنے والا ہے؟ پس اے مسلمانو! تم اس سودے پر جو تم نے خدا سے کیا ہے خوشیاں مناؤ۔ یہی تو بڑی کامیابی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لیے ہیں، اس کے بدلے کہ ان کے لیے جنت ہے، وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں، پس قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں، یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں اس کے ذمے پکا وعدہ ہے اور اللہ سے زیادہ اپنا وعدہ پورا کرنے والا کون ہے؟ تو اپنے اس سودے پر خوب خوش ہو جائو جو تم نے اس سے کیا ہے اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مجاہدین کے لئے استثنائی انعامات ٭٭

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ مومن بندے جب راہ حق میں اپنے مال اور اپنی جانیں دیں۔ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اپنے فضل و کرم اور لطف و رحم سے انہیں جنت عطا فرمائے گا۔ بندہ اپنی چیز جو درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ہی ہے اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو اس کی اطاعت گذاری سے مالک الملک خوش ہو کر اس پر اپنا اور فضل کرتا ہے سبحان اللہ کتنی زبردست اور گراں قیمت پروردگار کیسی حقیر چیز پر دیتا ہے۔ دراصل ہر مسلمان اللہ سے یہ سودا کر چکا ہے۔ اسے اختیار ہے کہ وہ اسے پورا کرے یا یونہی اپنی گردن میں لٹکائے ہوئے دنیا سے اٹھ جائے۔ اسی لیے مجاہدین جب جہاد کے لیے جاتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ اسنے اللہ تعالیٰ سے بیوپار کیا۔ یعنی وہ خرید و فروخت جسے وہ پہلے سے کر چکا تھا اس نے پوری کی۔ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے لیلۃالعقبہ میں بیعت کرتے ہوئے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کے لیے اور اپنے لیے جو چاہیں شرط منوالیں۔ آپ نے فرمایا میں اپنے رب کے لیے تم سے یہ شرط قبول کراتا ہوں کہ اسی کی عبادت کرنا، اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرنا۔ اور اپنے لیے تم سے اس بات کی پابندی کراتا ہوں کہ جس طرح اپنی جان و مال کی حفاظت کرتے ہو میری بھی حفاظت کرنا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا جب ہم یونہی کریں تو ہمیں کیا ملے گا؟

آپ نے فرمایا جنت! یہ سنتے ہی خوشی سے کہنے لگا واللہ اس سودے میں تو ہم بہت ہی نفع میں رہیں گے۔ بس اب پختہ بات ہے نہ ہم اسے توڑیں گے نہ توڑنے کی درخواست کریں گے پس یہ آیت نازل ہوئی یہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں، نہ اس کی پرواہ ہوتی ہے کہ ہم مارے جائیں گے نہ اللہ کے دشمنوں پر وار کرنے میں انہیں تامل ہوتا ہے، مرتے ہیں اور مارتے ہیں۔ ایسوں کے لیے یقیناً جنت واجب ہے۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں نکل کھڑا ہو جہاد کے لیے، رسولوں کی سچائی مان کر، اسے یا تو فوت کر کے بہشت بریں میں اللہ تبارک و تعالیٰ لے جاتا ہے یا پورے پورے اجر اور بہترین غنیمت کے ساتھ واپس اسے لوٹاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات اپنے ذمے ضروری کر لی ہے اور اپنے رسولوں پر اپنی بہترین کتابوں میں نازل بھی فرمائی ہے۔ موسیٰ پر اتری ہوئی تورات میں، عیسیٰ پر اتری ہوئی انجیل میں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اترے ہوئے قرآن میں اللہ کا یہ وعدہ موجود ہے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین۔ اللہ کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ اللہ سے زیادہ وعدوں کا پورا کرنے والا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ نہ اس سے زیادہ سچائی کسی کی باتوں میں ہوتی ہے۔ «وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ حَدِيثاً» [ 4-النساء: 87 ] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ سے زیادہ سچی بات والا اور کون ہوگا «وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلاً» [ 4-النساء: 122 ] ‏‏‏‏ اور کون ہے جو اپنی بات میں اللہ سے زیادہ سچا ہو۔ «فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ ۚ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ» [ التوبہ-۱۱۱ ] ‏‏‏‏ جس نے اس خرید و فروخت کو پورا کیا اس کے لیے خوشی ہے اور مبارکباد ہے، وہ کامیاب ہے اور جنتوں کی ابدی نعمتوں کا مالک ہے۔
111۔ 1 یہ اللہ کے ایک خاص فضل و کرم کا بیان ہے کہ اس نے مومنوں کو، ان کی جان و مال کے عوض، جو انہوں نے اللہ کی راہ میں خرچ کیے، جنت عطا فرما دی، جب کہ یہ جان و مال بھی اسی کا عطیہ ہے۔ پھر قیمت اور معاوضہ بھی جو عطا کیا یعنی جنت وہ نہایت ہی بیش قیمت ہے۔ 111۔ 2 یہ اسی سودے کی تاکید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سچا وعدہ پچھلی کتابوں میں بھی اور قرآن میں بھی کیا ہے۔ اور اللہ سے زیادہ عہد کو پورا کرنے والا کون ہوسکتا ہے۔ 111۔ 3 یہ مسلمانوں کو کہا جا رہا ہے لیکن یہ خوشی اسی وقت منائی جاسکتی ہے جب مسلمان کو بھی یہ سودا منظور ہو۔ یعنی اللہ کی راہ میں جان و مال کی قربانی سے انہیں دریغ نہ ہو۔
(آیت 111) ➊ {اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَهُمْ …: ” فَاسْتَبْشِرُوْا۠”اَلْاِسْتِبْشَارُ“} ایسی زبردست خوشی جس کے اثرات بشرے یعنی چہرے پر بھی ظاہر ہوں۔ سین اور تاء کے اضافے سے بشریٰ، یعنی خوش خبری کے مفہوم میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا کہ جہاد کی اس سے بہتر اور اس سے بڑھ کر مؤثر ترغیب آپ کسی آیت میں نہیں پائیں گے، کیونکہ اسے ایک سودے اور معاہدے کی صورت میں پیش کیا گیا ہے جو سودا رب العزت کے ساتھ ہے۔ سودے کا سامان مومنوں کی جانیں اور مال ہیں اور قیمت اس کی اتنی قیمتی اور بے مثال ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی، نہ کسی کان نے سنی اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال تک آیا۔ یہ سودا اور معاہدہ صرف اس پر نہیں کہ وہ قتل کیے جائیں گے تو قیمت ملے گی، بلکہ اللہ کے دین کی نصرت اور اس کا کلمہ بلند کرنے کے لیے وہ کفار کو قتل کریں گے تب بھی یہی قیمت ملے گی۔ پھر اس معاہدے کی باقاعدہ تسجیل (رجسٹری) آسمانی کتابوں تورات، انجیل اور قرآن میں کی گئی، اس سے بڑھ کر سودے کی پختگی کا تحریری ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے، پھر اسے اللہ تعالیٰ کا سچا پکا عہد قرار دے کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اپنا عہد کون پورا کرنے والا ہے۔ سو اس کا ادھار دوسرے تمام نقدوں سے بڑھ کر ہے، پھر اس کا ادھار وعدہ جنت یقینی ہے۔ اس آیت کے علاوہ دیکھیے سورۂ حدید (۲۱)، سورۂ صف (۱۰ تا ۱۲) اور سورۂ توبہ (۲۰ تا ۲۲) اور اگر کچھ زندگی باقی ہے تو وہ بھی اس کے بے پایاں انعام سے خالی نہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ضمانت دی ہے کہ جو اس کے راستے میں جہاد کرے اور اسے اس کے راستے میں نکالنے والی چیز اس کی راہ میں جہاد اور اس کی باتوں کو سچا یقین کرنے کے سوا کچھ نہ ہو تو وہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا، یا اسے اس کے گھر میں اجر یا غنیمت سمیت واپس لائے گا جس گھر سے وہ نکل کر گیا تھا۔“ [ بخاری، فرض الخمس، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم : أحلت لکم الغنائم: ۳۱۲۳ ] مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی مجاہدین ایران میں جہاد کے لیے گئے تو کسریٰ کے جرنیل نے مسلمانوں کے سفیر مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تم لوگ کیا ہو؟“ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کا تعارف کرانے کے بعد فرمایا: ”ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہمارے رب کا پیغام پہنچایا کہ ہم میں سے جو قتل کر دیا جائے گا وہ جنت کی ایسی نعمتوں میں جائے گا جو کبھی کسی کے دیکھنے میں نہیں آئیں اور جو ہم میں سے باقی رہے گا وہ تمھاری گردنوں کا مالک بنے گا۔“ [ بخاری، الجزیۃ والموادعۃ، باب الجزیۃ والموادعۃ …: ۳۱۵۹ ] جہاد کے بے شمار فضائل کے لیے کتب احادیث ملاحظہ فرمائیں۔ ➋ {وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ:} اس میں حصر کے لیے {” هُوَ “} ضمیر لا کر اور خبر {” الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ “} پر الف لام لا کر واضح فرمایا کہ فوزِ عظیم ہے تو بس یہ ہے، اس کے سوا کوئی کامیابی عظیم نہیں، بلکہ معمولی اور بے وقعت ہے۔ ➌ حسن بصری رحمہ اللہ سے بیان کیا جاتا ہے کہ انھوں نے فرمایا، اللہ تعالیٰ کا کرم دیکھیے، جانیں ہیں تو اسی نے دیں، اموال ہیں تو اس نے عطا فرمائے، پھر وہ ہم ہی سے سودا کر رہا ہے کہ ہم اس کے راستے میں خرچ کریں گے اور وہ ہمیں اس کے بدلے جنت میں داخل ہی نہیں کرے گا بلکہ وہ اسے ہماری ملکیت بنا دے گا۔ {” لَهُمُ “} پہلے آنے سے حصر کا معنی حاصل ہوا {” بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ “} کہ جنت انھی کی ہے۔
اَلتَّآئِبُوۡنَ الۡعٰبِدُوۡنَ الۡحٰمِدُوۡنَ السَّآئِحُوۡنَ الرّٰکِعُوۡنَ السّٰجِدُوۡنَ الۡاٰمِرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ النَّاہُوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ الۡحٰفِظُوۡنَ لِحُدُوۡدِ اللّٰہِ ؕ وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ کی طرف بار بار پلٹنے والے، اُس کے بندگی بجا لانے والے، اُس کی تعریف کے گن گانے والے، اُس کی خاطر زمین میں گردش کرنے والے، اُس کے آگے رکوع اور سجدے کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، بدی سے روکنے والے، اور اللہ کے حدود کی حفاظت کرنے والے، (اس شان کے ہوتے ہیں وہ مومن جو اللہ سے خرید و فروخت کا یہ معاملہ طے کرتے ہیں) اور اے نبیؐ ان مومنوں کو خوش خبری دے دو
مولانا محمد جوناگڑھی
وه ایسے ہیں جو توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزه رکھنے والے، (یا راه حق میں سفر کرنے والے) رکوع اور سجده کرنے والے، نیک باتوں کی تعلیم کرنے والے اور بری باتوں سے باز رکھنے والے اور اللہ کی حدوں کا خیال رکھنے والے ہیں اور ایسے مومنین کو آپ خوشخبری سنا دیجئے
احمد رضا خان بریلوی
توبہ والے عبادت والے سراہنے والے روزے والے رکوع والے سجدہ والے بھلائی کے بتانے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی حدیں نگاہ رکھنے والے اور خوشی سناؤ مسلمانوں
علامہ محمد حسین نجفی
(ان لوگوں کے اوصاف یہ ہیں کہ) یہ توبہ کرنے والے (اللہ کی عبادت کرنے والے (اس کی) حمد و ثنا کرنے والے (اس کی راہ میں) سیر و سیاحت کرنے والے (یا روزہ رکھنے والے) رکوع و سجود کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، برائی سے روکنے والے اور اللہ کی مقررہ حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں اور (اے رسول) مؤمنوں کو خوشخبری دے دو (اور یہی وہ مؤمن ہیں)۔
عبدالسلام بن محمد
(وہ مومن) توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، (اللہ کی راہ میں) سفر کرنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے منع کرنے والے اور اللہ کی حدوں کی حفاظت کرنے والے ہیں اور ان مومنوں کو خوش خبری دے دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومنین کی صفات ٭٭

جن مومنوں کا اوپر ذکر ہوا ہے ان کی پاک اور بہترین صفتیں بیان ہو رہی ہیں کہ وہ تمام گناہوں سے توبہ کرتے رہتے ہیں، برائیوں کو چھوڑتے جاتے ہیں، اپنے رب کی عبادت پر جمے رہتے ہیں، ہر قسم کی عبادتوں میں خاص طور پر قابل ذکر چیز اللہ کی حمد و ثنا ہے اس لیے وہ اس کی حمد بکثرت ادا کرتے ہیں اور فعلی عبادتوں میں خصوصیت کے ساتھ افضل عبادت روزہ ہے اس لیے وہ اسے بھی اچھائی سے رکھتے ہیں۔ کھانے پینے کو، جماع کو ترک کر دیتے ہیں۔ یہی مراد لفظ «سَّائِحُونَ» سے یہاں ہے۔ یہی وصف نبی کریم [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏‏‏‏ کی بیویوں کا قرآن نے بیان فرمایا ہے «سائحات» ‏‏‏‏ [ التحريم: 5 ] ‏‏‏‏ اور یہی لفظ «سائحات» وہاں بھی ہے۔ رکوع سجود کرتے رہتے ہیں۔ یعنی نماز کے پابند ہیں۔ اللہ کی ان عبادتوں کے ساتھ ہی ساتھ مخلوق کے نفع سے بھی غافل نہیں۔ اللہ کی اطاعت کا ہر ایک کو حکم کرتے ہیں۔ برائیوں سے روکتے رہتے ہیں۔ خود علم حاصل کر کے بھلائی برائی میں تمیز کر کے اللہ کے احکام کے حفاظت کر کے پھر اوروں کو بھی اس کی رغبت دیتے ہیں۔ حق تعالیٰ کی عبادت اور اس کی مخلوق کی حفاظت دونوں زیر نظر رکھتے ہیں۔ یہی باتیں ایمان کی ہیں اور یہی اوصاف مومنوں کے ہیں۔ انہیں خو شخبریاں ہوں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سیاحت سے مراد روزہ لیتے ہیں۔ اسی طرح ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی بلکہ آپ سے مروی ہے کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں یہ لفظ آیا ہے وہاں یہی مطلب ہے۔ ضحاک بھی یہی کہتے ہیں۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ کہ اس امت کی سیاحت روزہ ہے۔ مجاہد، سعید، عطاء، عبدالرحمٰن، ضحاک سفیان وغیرہ کہتے ہیں کہ مراد «سَّائِحُونَ» سے «صائمون» ہے۔ یعنی جو روزے رمضان کے رکھیں۔ ابوعمرو کہتے ہیں روزہ پر دوام کرنے والے۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے کہ مراد «‏‏‏‏سَّائِحُونَ» ‏‏‏‏سے روزے دار ہیں لیکن اس حدیث کا موقف ہونا ہی زیادہ صحیح ہے۔

ایک مرسل حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس لفظ کا مطلب پوچھا گیا تو آپ نے یہ فرمایا۔ تمام اقوال سے زیادہ صحیح اور زیادہ مشہور تو یہی قول ہے۔ اور ایسی دلیلیں بھی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مراد سیاحت سے اللہ کی راہ میں جہاد ہے۔ ابوداؤد میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ مجھے سیاحت کی اجازت دیجئیے۔ آپ نے فرمایا میری امت کی سیاحت اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مجلس میں سیاحت کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کے بدلے اپنی راہ کا جہاد اور ہر اونچائی پر اللہ اکبر کہنا عطا فرمایا ہے۔ عکرمہ فرماتے ہیں اور مراد اس سے علم دین کے طالب علم ہیں۔ عبدالرحمٰن فرماتے ہیں اللہ کی راہ کے مہاجر ہیں۔ بعض لوگ صوفیہ طبقہ کے جو اس سے مراد لیتے ہیں کہ زمین کی سیر کرنا، سفر میں رہنا، ادھر ادھر جانا آنا، پہاڑوں، دوروں، جنگلوں اور بندوں میں پھرنا اس کا نام سیاحت ہے، یہ محض غلط فہمی ہے، یہ سیاحت مشروع نہیں۔ ہاں اللہ نہ کرے اگر بستی میں رہنے سے دین میں کوئی فتنہ پڑنے کا اندیشہ ہو تو اور بات ہے۔ جیسے کہ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں قریب ہے کہ مومن کا سب سے بہتر مال بکریاں بن جائیں جن کے پیچھے وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش برسنے کی جگہوں میں پڑا رہے، اپنے دین کو لے کر فتنوں سے بھاگتا اور بچتا رہے۔ اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے یعنی بقول ابن عباس اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر قائم رہنے والے بقول حسن بصری فرائض کی پابندی کرنے والے، اللہ تعالیٰ کے حکم کے بجا لانے والے۔
112۔ 1 یہ انہیں مومنین کی مذید صفات بیان کی جا رہی ہیں جن کی جانوں اور مالوں کا سودا اللہ نے کرلیا ہے، وہ توبہ کرنے والے، یعنی گناہوں اور فواحش سے بچتے اور اپنے رب کی عبادت کرنے والے، زبان سے اللہ کی حمد اور ثنا بیان کرنے والے اور دیگر ان صفات کے حامل ہیں جو آیت میں مذکور ہیں۔ سیاحت سے مراد اکثر مفسرین نے روزے لیے ہیں اور اسی کو ابن کثیر نے صحیح ترین اور مشہور ترین قول قرار دیا ہے۔ اور بعض نے اس سے جہاد مراد لیا ہے۔ تاہم سیاحت سے زمین کی سیاحت مراد نہیں ہے جس طرح کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے۔ اسی طرح اللہ کی عبادت کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں غاروں اور سنسان بیابانوں میں جاکر ڈیرے لگا لینا بھی اس سے مراد نہیں ہے۔ کیونکہ یہ رہبانیت اور جوگی پن کا ایک حصہ ہے جو اسلام میں نہیں ہے۔ البتہ فتنوں کے ایام میں اپنے دین کو بچانے کے لیے شہروں اور آبادیوں کو چھوڑ کر جنگلوں اور بیابانوں میں جاکر رہنے کی اجازت حدیث میں دی گئی ہے۔ (صحیح بخاری۔ کتاب الایمان، باب من الدین الفرار من الفتن و کتاب الفتن باب التعرب۔ ای السکنی مع الاعراب۔ فی الفتنہ) 112۔ 2 مطلب یہ ہے کہ مومن کامل وہ ہے جو قول اور عمل اسلام کی تعلیمات کا عمدہ نمونہ ہو اور ان چیزوں سے بچنے والا ہو جن سے اللہ نے اسے روک دیا ہے اور یوں اللہ کی حدوں کو پامال نہیں، بلکہ ان کی حفاظت کرنے والا ہو۔ ایسے ہی کامل مومن خوشخبری کے مستحق ہیں یہ وہ بات ہے جسے قرآن میں (اٰ مَنُوْ ا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ) کے الفاظ میں بار بار بیان کیا گیا ہے۔ یہاں اعمال صالحہ کی قدرے تفصیل بیان کردی گئی ہے۔
(آیت 112) ➊ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سچے مجاہد مومنوں کی نو صفات بیان فرمائی ہیں۔ پہلی چھ صفات میں صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ ہے، ساتویں اور آٹھویں صفت کا تعلق مخلوق سے ہے اور آخری کا تعلق دونوں سے ہے۔ ➋ { اَلتَّآىِٕبُوْنَ:} اپنے گناہوں پر نادم ہو کر ان کو چھوڑنے کا عزم کرکے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے والے، کیونکہ توبہ ان تینوں کے جمع ہونے سے مکمل ہوتی ہے۔ میدان قتال میں توبہ و استغفار سے زیادہ کوئی چیز مفید نہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے نبیوں کے ہمراہ قتال کرنے والوں کی دعا ذکر فرمائی: «{ وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِيْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ }» [ آل عمران: 147 ] ”اور ان کا کہنا اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انھوں نے کہا اے ہمارے رب! ہمارے گناہ بخش دے اور ہمارے کام میں ہماری زیادتی کو بھی اور ہمارے قدم ثابت رکھ اور کافر لوگوں پر ہماری مدد فرما۔“ ➌ { الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ:} مشکل اور آسانی، خوشی اور ناخوشی، آرام اور تکلیف ہر حال میں اللہ کی عبادت کرنے والے اور ہر حال میں اس کی تعریف کرنے والے اور اس پر راضی رہنے والے۔ ➍ { السَّآىِٕحُوْنَ: ”سَاحَ يَسِيْحُ سِيَاحَةً“} کا معنی پانی کا زمین پر چلنا، پھیل جانا۔ {” اَلسِّيَاحَةُ “ } عبادت کے لیے (گھر بار چھوڑ کر) زمین میں نکل جانا۔ (قاموس) چونکہ اس میں آرام و آسائش کا ترک اور دنیا کا ترک پایا جاتا ہے۔ نصرانیت میں اس نے رہبانیت کی صورت اختیار کی جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا، چنانچہ فرمایا: «{ وَ رَهْبَانِيَّةَ اِبْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ }» [ الحدید: ۲۷ ] ”اور رہبانیت (دنیا سے کنارہ کشی) تو انھوں نے خود ایجاد کر لی، ہم نے اسے ان پر نہیں لکھا تھا۔“ اب اس کی صورت اللہ تعالیٰ کی خاطر ہجرت (وطن چھوڑنا) ہے کہ جہاں اللہ کے دین پر عمل نہ کر سکے، نہ اس کی دعوت دے سکے، اسے چھوڑ کر اللہ کی زمین میں کہیں اور نکل جائے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۹۷ تا ۱۰۰)، زمر (۱۰) اور عنکبوت (۵۳) ایک صورت جہاد فی سبیل اللہ ہے جس میں مجاہد گھر سے نکل کر آرام و آسائش ترک کرکے اللہ کا نام بلند کرنے کے لیے اللہ کی زمین کے مشکل سے مشکل اور خوبصورت سے خوبصورت مقامات پر پھرتا ہے اور ہر جگہ اللہ کا بول بالا کرتا ہے۔ ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: ”یا رسول اللہ! مجھے سیاحت کی اجازت دیجیے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اِنَّ سِيَاحَةَ اُمَّتِي الْجِهَادُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ ] [أبوداوٗد، الجھاد، باب فی النھی عن السیاحۃ: ۲۴۸۶، و صححہ الألبانی ] ”میری امت کی سیاحت جہاد فی سبیل اللہ ہے۔“ بعض علماء کے مطابق {” السَّآىِٕحُوْنَ“ } میں وہ طالب علم بھی آ جاتے ہیں جو اللہ کا دین سیکھنے کے لیے شہر بہ شہر سفر کرتے ہیں۔ ایک صورت {” السَّآىِٕحُوْنَ“} کی روزہ کی ہے کہ اس میں انسان تمام گناہ چھوڑنے کے ساتھ اپنی سب سے زیادہ مرغوب تین چیزیں کھانا پینا اور بیوی سے مباشرت ترک کر دیتا ہے۔ {”السَّآىِٕحُوْنَ“} کا معنی ”روزہ رکھنے والے“ ابن عباس، ابن مسعود رضی اللہ عنھم اور کئی تابعین سے آیا ہے۔(ابن کثیر) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلسَّائِحُوْنَ هُمُ الصَّائِمُوْنَ ] ”سائحون روزہ دار ہی ہیں۔“ مستدرک وغیرہ مگر شیخ البانی رحمہ اللہ نے سلسلہ ضعیفہ (۳۷۲۹) میں اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بے تعلق رہنا روزہ ہے یا ہجرت ہے یا دل نہ لگانا دنیا کے مزوں میں۔ (موضح) {” السَّآىِٕحُوْنَ “} کے لغوی معنی اور صحیح حدیث کو مدنظر رکھیں تو ہجرت یا جہاد اور اعلائے دین کے لیے یا دوسرے نیک مقاصد کے لیے زمین میں پھرنے والے ہی اس کا اصل مصداق ٹھہرتے ہیں۔ پاسپورٹ اور ویزا کا نظام کفار نے مسلمانوں کی اس خصوصیت کو ختم کرنے ہی کے لیے اپنے اور مسلمانوں کے ملکوں میں نافذ کروا دیا ہے، کیونکہ سفر کے ذریعے ہی سے ہجرت، جہاد، طلب علم، تبلیغ دین، تجارت اور بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں جو اس وقت تک حاصل رہے جب تک مسلمان ساری زمین پر پھرتے رہے اور اس قوت سے سرفراز رہے۔ جب وہ گھروں میں بیٹھ گئے اور آرام طلبی اختیار کی تو کفار کی مراد بر آئی۔ ➎ {الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ:} اس کے اولین مصداق تو وہ ہیں جو فرض نمازوں کے علاوہ نوافل بھی ادا کرتے ہیں، جن کے متعلق کفار نے بھی شہادت دی: {”هُمْ بِاللَّيْلِ رُهْبَانٌ وَبِالنَّهَارِ فُرْسَانٌ“} کہ وہ رات کو راہب اور دن کو شاہ سوار ہوتے ہیں۔ ورنہ کم از کم فرض نمازوں کے پابند ہونا تو اس کے لیے بنیادی چیز ہے۔ ترک نماز کے ساتھ اپنے آپ کو جنت کے سوداگر سمجھنا اپنی جان کو دھوکا دینے کے سوا کچھ نہیں۔ ➏ {الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ …:} یعنی دوسروں کو نیکی کا حکم دے کر اور برائی سے منع کرکے کفار کو مسلمان بنانے والے اور مسلمانوں کو اسلام پر عمل کی تاکید کرنے والے اور صرف دوسروں ہی کو نہیں خود بھی اللہ کی ہر حد کی پابندی اور ہر حکم کی اطاعت کرنے والے۔ {” الْمُؤْمِنِيْنَ “} میں الف لام کی وجہ سے ”ان مومنوں کو“ ترجمہ کیا ہے کہ خوش خبری کے حق دار ان صفات کے حامل مومن ہیں، فقط دعویٰ رکھنے والے نہیں۔
مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ یَّسۡتَغۡفِرُوۡا لِلۡمُشۡرِکِیۡنَ وَ لَوۡ کَانُوۡۤا اُولِیۡ قُرۡبٰی مِنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمۡ اَنَّہُمۡ اَصۡحٰبُ الۡجَحِیۡمِ ﴿۱۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
نبیؐ کو اور اُن لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں، زیبا نہیں ہے کہ مشرکوں کے لیے مغفرت کی دعا کریں، چاہے وہ ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، جبکہ ان پر یہ بات کھل چکی ہے کہ وہ جہنم کے مستحق ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پیغمبر کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وه رشتہدار ہی ہوں اس امر کے ﻇاہر ہوجانے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں
احمد رضا خان بریلوی
نبی اور ایمان والوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کی بخشش چاہیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں جبکہ انہیں کھل چکا کہ وہ دوزخی ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
نبی کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں یہ زیبا نہیں ہے کہ مشرکین کے لیے مغفرت طلب کریں اگرچہ وہ ان کے عزیز و اقارب ہی کیوں نہ ہوں۔ جبکہ ان پر واضح ہوگیا کہ وہ دوزخی ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اس نبی اور ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، کبھی جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کریں، خواہ وہ قرابت دار ہوں، اس کے بعد کہ ان کے لیے صاف ظاہر ہوگیا کہ یقینا وہ جہنمی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ممانعت ٭٭

مسند احمد میں ہے کہ ابوطالب کی موت کے وقت اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لے گئے۔ وہاں اس وقت ابوجہل اور عبداللہ بن ابی اُمیہ بھی تھا۔ آپ نے فرمایا چچا «لا الہ الاللہ» ‏‏‏‏کہہ لے اس کلمے کی وجہ سے اللہ عزوجل کے ہاں میں تیری سفارش تو کر سکوں۔ یہ سن کر ان دونوں نے کہا کہ اے ابوطالب کیا تو عبدالمطلب کے دین سے پھر جائے گا؟ اس پر اس نے کہا میں تو عبدالمطلب کے دین پر ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خیر میں جب تک منع نہ کر دیا جاؤں تیرے لیے بخشش مانگتا رہونگا۔ لیکن «‏‏‏‏مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» ‏‏‏‏ [ التوبہ: 113 ] ‏‏‏‏ اتری۔ یعنی نبی کو اور مومنوں کو لائق نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش مانگیں گو وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی ہوں۔ ان پر تو یہ ظاہر ہو چکا ہے کہ مشرک جہنمی ہیں۔ اسی بارے میں «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ» [ 28- القص: 56 ] ‏‏‏‏ بھی اتری ہے۔ یعنی تو جسے محبت کرے اسے راہ نہیں دکھا سکتا بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے راہ دکھاتا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کی زبانی اپنے مشرک ماں باپ کے لیے استغفار سن کر اس سے کہا کہ تو مشرکوں کے لیے استغفار کرتا ہے اس نے جواب دیا کہ کیا ابراہیم نے اپنے باپ کے لیے استغفار نہیں کیا؟ فرماتے ہیں میں نے جا کر یہ ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ کہا جب کہ وہ مرگیا پھر میں نہیں جانتا یہ قول مجاہد کا ہے۔ مسند احمد میں ہے ہم تقریباً ایک ہزار آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ منزل پر اترے، دو رکعت نماز ادا کی پھر ہماری طرف منہ کر کے بیٹھے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے انسو جاری تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر تاب نہ لا سکے، اُٹھ کر عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں کیا بات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بات یہ ہے کہ میں نے اپنے رب عزوجل سے اپنی والدہ کے لیے استغفار کرنے کی اجازت طلب کی تو مجھے اجازت نہ ملی۔

اس پر میری آنکھں بھر آئیں کہ میری ماں ہے اور جہنم کی آگ ہے۔ اچھا اور سنو! میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا اب وہ ممانعت ہٹ گئی ہے۔ زیارت قبور سے منع کیا تھا، اب تم کرو کیونکہ اس سے تمہیں بھلائی یاد آئے گی۔ میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کے گوشت کو روکنے سے منع فرمایا تھا اب تم کھاؤ اور جس طرح چاہو روک رکھو۔ اور میں نے تمہیں بعض خاص برتنوں میں پینے کو منع فرمایا تھا لیکن اب تم جس برتن میں چاہو پی سکتے ہیں لیکن خبردار نشے والی چیز ہرگز نہ پینا۔ ابن جریر میں ہے کہ مکہ شریف آتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نشان قبر کے پاس بیٹھ گئے اور کچھ دیر خطاب کر کے آپ کھڑے ہوئے ہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ یہ کیا بات تھی؟ آپ نے فرمایا میں نے اپنے پروردگار سے اپنی ماں کی قبر کے دیکھنے کی اجازت مانگی وہ تو مل گئی لیکن اس کے لیے استغفار کرنے کی اجازت مانگی تو نہ ملی۔ اب جو آپ نے رونا شروع کیا تو ہم نے تو آپ کو کبھی ایسا اتنا روتے نہیں دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ آپ قبرستان کی طرف نکلے، ہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ وہاں آپ ایک قبر کے پاس بیٹھ کر دیر تک مناجات میں مشغول رہے، پھر رونے لگے۔ ہم بھی خوب روئے پھر کھڑے ہوئے تو ہم سب بھی کھڑے ہو گئے آپ نے عمر رضی اللہ عنہ کو اور ہمیں بلا کر فرمایا کہ تم کیسے روئے؟ ہم نے کہا آپ کو روتا دیکھ کر آپ نے فرمایا یہ قبر میری ماں آمنہ کی تھی میں نے اسے دیکھنے کی اجازت چاہی تھی جو مجھے ملی تھی۔ اور روایت میں ہے کہ دعا کی اجازت نہ ملی اور «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» ‏‏‏‏ اتری پس جو ماں کی محبت میں صدمہ ہونا چاہیئے مجھے ہوا۔

دیکھو میں نے زیارت قبر کی تمہیں ممانعت کی تھی۔ لیکن اب میں رخصت دیتا ہوں کیونکہ اس سے آخرت یاد آتی ہے۔ طبرانی میں ہے کہ غزوہ تبوک کی واپسی میں عمرے کے وقت ثنیہ عسفان سے اترتے ہوئے آپ نے صحابہ سے فرمایا تم عقبہ میں ٹھہرو، میں ابھی آیا۔ وہاں سے اتر کر آپ اپنی والدہ کی قبر پر گئے۔ اللہ تعالیٰ سے دیر تک مناجات کرتے رہے۔ پھر پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کیا آپ کے رونے سے سب لوگ رونے لگے اور یہ سمجھے کہ آپ کی امت کے بارے میں کوئی نئی بات پیدا ہوئی جس سے آپ اس قدر رو رہے ہیں۔ انہیں روتا دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس پلٹے اور دریافت فرمایا کہ تم لوگ کیوں رو رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا آپ کو روتا دیکھ کر اور یہ سمجھ کر کہ شاید آپ کی امت کے بارے میں کوئی ایسا نیا حکم اترا جو طاقت سے باہر ہے۔ آپ نے فرمایا سنو بات یہ ہے کہ یہاں میری ماں کی قبر ہے۔ میں نے اپنے پروردگار سے قیامت کے دن اپنی ماں کی شفاعت کی اجازت طلب کی لیکن اللہ تعالیٰ نے عطا نہیں فرمائی تو میرا دل بھر آیا اور میں رونے لگا۔ جبرائیل آئے اور مجھ سے فرمایا ابراہیم کا استغفار اپنے باپ کے لیے صرف ایک وعدے سے تھا جس کا وعدہ ہو چکا تھا لیکن جب اس پر کھل گیا تو کہ اس کا باپ اللہ کا دشمن ہے توہ وہ فوراً بیزار ہو گیا پس آپ بھی اپنی ماں سے اسی طرح بیزار ہو جائیے جس طرح ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ سے بیزار ہو گئے۔ پس مجھے اپنی ماں پر رحم اور ترس آیا۔

پھر میں نے دعا کی کہ میری امت پر سے چاروں سختیاں دور کر دی جائیں اللہ تعالیٰ نے دو تو دور فرما دیں لیکن دو کے دور فرمانے سے انکار فرما دیا۔ ا۔ آسمان سے پتھر برسا کر ان کی ہلاکت ٢۔ زمین انہیں دھنسا کر ان کی ہلاکت۔ ٣۔ ان میں پھوٹ اور اختلاف کا پڑنا۔ ٤۔ ان میں ایک کو ایک سے ایذائیں پہنچنا۔ ان چاوروں چیزوں سے بچاؤ کی میری دعا تھی دو پہلی چیزیں تو مجھے عنایت ہو گئیں میری امت آسمانی پتھراؤ سے اور زمین میں دھنسائے جانے سے تو بچا دی گئی۔ ہاں آپس کا اختلاف آپس کی سر پھٹول یہ نہیں اٹھی۔ آپ کی والدہ کی قبر ایک ٹیلے تلے تھی اس لیے آپ راستے سے گھوم کر وہاں گئے تھے۔ یہ روایت غریب ہے اور سیاق عجیب ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ غریب اور منکر وہ روایت ہے جو امام خطیب بغدادی نے اپنی کتاب بنام سابق لاحق میں مجہول سند سے وارد کی ہے جس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی والدہ کو زندہ کر دیا اور ایمان لائیں پھر مر گئیں۔ اس طرح کی سہیلی کی ایک روایت ہے جس میں ایک نہیں کئی ایک راوی مجہول ہیں۔ اس میں ہے کہ آپ کے ماں باپ دونوں دوبارہ زندہ ہوئے پھر ایمان لائے۔ ابن دحیہ کہتے ہی کہ یہ حدیث جھوٹی ہے۔ قرآن اور اجماع دونوں اس بات کو رد کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں فرمایا ہے: «وَلَا الَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمْ كُفَّارٌ» ‏‏‏‏ [ 4-النساء: 18 ] ‏‏‏‏ اور ان کی توبہ بھی قبول نہیں جو کفر پر ہی مر جائیں ابن دحیہ نے اسی روایت پر نظریں جما کر کہا ہے کہ یہ نئی زندگی اسی طرح کی ہے جس طرح مروی ہے کہ سورج ڈوب جانے کے بعد واپس لوٹا اور علی نے نماز عصر ادا کی۔ طحاوی تو کہتے ہیں کہ سورج والی یہ روایت ثابت ہے۔ قرطبی کہتے ہیں ان کی دوبار کی زندگی شرعاً یا عقلاً ممتنع نہیں۔ کہتے ہیں میں نے سنا ہے کہ آپ کے چچا ابوطالب کو بھی اللہ تعالیٰ نے زندہ کیا اور آپ پر ایمان لایا۔ میں کہتا ہوں اگر صیح روایت سے یہ روایتیں ثابت ہوں تو بیشک مانع کوئی نہیں [ لیکن تینوں روایتیں محض گپ ہیں ] ‏‏‏‏ واللہ اعلم۔

حضرت ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے ارادہ کیا کہ اپنی ماں کے لیے استغفار کریں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا۔ تو آپ نے ابراہیم کے استغفار کو پیش کیا۔ اس کا جواب «وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ ۭ اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ» ‏‏‏‏ [ 9- التوبہ: 114 ] ‏‏‏‏ میں مل گیا۔ فرماتے ہیں اس آیت سے پہلے مشرکین کے لیے استغفار کیا جاتا تھا۔ اب ممنوع ہو گیا۔ ہاں زندوں کے لیے جائز رہا۔ لوگوں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہمارے بڑوں میں ایسے بھی تھے جو پڑوس کا اکرام کرتے تھے، صلہ رحمی کرتے تھے، غلام آزاد کرتے تھے، ذمہ داری کا خیال رکھتے تھے۔ تو کیا ہم ان کے لیے استغفار نہ کریں؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں، میں بھی اپنے والد کے لیے استغفار کرتا ہوں جیسے کہ ابراہیم اپنے والد کے لیے کرتے تھے۔ اس پر «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» ‏‏‏‏ [ 9- التوبہ: 113 ] ‏‏‏‏ نازل ہوئی۔ پھر ابراہیم علیہ السلام کا عذر بیان ہوا اور فرمایا «وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ ۭ اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ» ‏‏‏‏ [ 9- التوبہ: 114 ] ‏‏‏‏ مذکور ہے کہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے چند باتیں وحی کی ہیں جو میرے کانوں میں گونج رہی ہیں اور میرے دل میں جگہ پکڑے ہوئے ہیں۔ مجھے حکم فرمایا گیا کہ میں کسی اس شخص کے لیے استغفار نہ کروں جو شرک پر مرا ہو۔ اور یہ کہ جو شخص اپنا فالتو مال دیدے اس کے لیے یہی افضل ہے اور جو روک رکھے اس کے لیے برائی ہے۔ ہاں برابر سرابر حسب ضرورت پر اللہ کے ہاں ملامت نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ایک یہودی مر گیا جس کا ایک لڑکا تھا لیکن وہ مسلمان تھا اس لیے اپنے باپ کے جنازے میں وہ شریک نہ ہوا۔ جب عبداللہ بن عباس کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمانے لگے اسے جنازے میں جانا چاہیئے تھا اور دفن میں بھی موجود رہنا چاہیئے تھا اور باپ کی زندگی تک اس کے لیے ہدایت کی دعا کرنی چاہیئے تھی۔

ہاں موت کے بعد اسے اس کی حالت پر چھوڑ دیتا۔ پھر آپ نے «‏‏‏‏وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِّلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ ۚ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ» ‏‏‏‏ تلاوت فرمائی کہ ابراہیم نے یہ طریقہ نہیں چھوڑا۔ اس کی صحت کی گواہ ابوداؤد وغیرہ کہ یہ روایت بھی ہو سکتی ہے کہ ابوطالب کی موت پر علی رضی اللہ عنہا آ کر کہتے ہیں کہ یا رسول اللہ آپ کے بوڑھے چچا گمراہ مر گئے ہیں۔ آپ نے فرمایا جاؤ انہیں دفنا کر سیدھے میرے پاس آؤ الخ۔ مروی ہے کہ جب ابوطالب کا جنازہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ نے فرمایا میں تجھ سے صلہ رحمی کا رشتہ نبھا چکا۔ عطا بن ابی رباح فرماتے ہیں میں تو قبلہ کی طرف منہ کرنے والوں میں سے کسی کے جنازے کی نماز نہ چھوڑوں گا۔ گو وہ کوئی حبشن زنا سے حاملہ ہی ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں پر ہی نماز و دعا حرام کی ہے اور فرمایا ہے «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ،» ‏‏‏‏ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے سنا کہ وہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے جو ابوہریرہ اور اس کی ماں کے لیے استغفار کرے۔ تو اس نے کہا باپ کے لیے بھی۔ آپ نے فرمایا نہیں اس لیے کہ میرا باپ شرک پر مرا ہے۔ آیت میں فرمان الٰہی ہے کہ «‏‏‏‏قَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنْ آلِهَتِي يَا إِبْرَاهِيمُ ۖ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ ۖ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا قَالَ سَلَامٌ عَلَيْكَ ۖ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي ۖ إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا» [ 19-مريم: 46، 47 ] ‏‏‏‏ اس نے [ ان کے والد نے ] ‏‏‏‏ کہا ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے برگشتہ ہے؟ اگر تو باز نہ آئے گا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا اور تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے دور ہو جا، ابراہیم نے سلام علیک کہا [ اور کہا کہ ] ‏‏‏‏ میں آپ کے لیے اپنے پروردگار سے بخشش مانگوں گا۔ بیشک وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام پر اپنے باپ کا اللہ کا دشمن ہونا کھل گیا۔ یعنی وہ کفر ہی پر مر گیا۔ مروی ہے کہ قیامت کے دن جب ابراہیم علیہ السلام سے ان کا باپ ملے گا۔ نہایت سرا سیمگی پریشانی کی حالت میں چہرہ غبار آلود اور کالا پڑا ہوا ہو گا کہے گا کہ ابراہیم آج میں تیری نافرمانی نہ کروں گا۔ ابراہیم علیہ السلام جناب باری میں عرض کریں گے کہ میرے رب تو نے مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔

اور میرا باپ تیری رحمت سے دور ہو کر عذاب میں مبتلا ہو یہ بہت بڑی رسوائی ہے۔ اس پر فرمایا جائے گا کہ اپنی پیٹھ پیچھے دیکھو۔ دیکھیں گے کہ ایک بجو کیچڑ میں لتھڑا ہوا کھڑا ہے۔ یعنی آپ کے والد کی صورت مسخ ہو گئی ہو گی اور اس کے پاؤں پکڑ کر گھسیٹ کر اسے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ فرماتا ہے کہ ابراہیم بڑا ہی دعا کرنے والا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے «أَوَّاهٌ» ‏‏‏‏ کا مطلب دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا رونے دھونے والا، اللہ تعالیٰ کے سامنے گریہ و زاری کرنے والا۔ ابن مسعود فرماتے ہیں بہت ہی رحم کرنے والا، مخلوق رب کے ساتھ نرمی اور سلوک اور مہربانی کرنے والا۔ ابن عباس کا قول ہے پورے یقین والا۔ سچے ایمان والا، توبہ کرنے والا، حبشی زبان میں «أَوَّاهٌ» ‏‏‏‏ مومن اور موقن یقین و ایمان والے کو کہتے ہیں۔ ذوالنجادین نامی ایک صحابی کو اس بنا پر کہ جب قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا تو وہ اسی وقت دعا کے ساتھ آواز اٹھاتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «أَوَّاهٌ» ‏‏‏‏ فرمایا۔ [ مسند احمد ] ‏‏‏‏ «أَوَّاهٌ» ‏‏‏‏ سے مراد تسبیح پڑھنے والا۔ ضحٰی کی نماز پڑھنے والا۔ اپنے گناہوں کی یاد آنے پر استغفار کرنے والا۔ اللہ کے دین کی حفاظت کرنے والا۔ رب سے ڈرنے والا۔ پوشیدہ اگر کوئی گناہ ہو جائے تو توبہ کرنے والا بھی مروی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا ذکر ہوا کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بکثرت یاد کرتا ہے اور اللہ کی تسبیح بیان کرتا رہتا ہے۔ آپ نے فرمایا وہ «أَوَّاهٌ» ‏‏‏‏ ہے۔ [ ابن جریر ] ‏‏‏‏ اسی ابن جریر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک میت کو دفن کر کے فرمایا یقیناً تو «أَوَّاهٌ» ‏‏‏‏ یعنی بکثرت تلاوت کلام اللہ شریف کرنے والا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ ایک شخص بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ہوئے اپنی دوا میں «أَوَّاهٌ» ‏‏‏‏ «أَوَّاهٌ» ‏‏‏‏ کر رہا تھا

۔ اس کے انتقال کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے دفن میں شامل تھے چونکہ رات کا وقت تھا اس لیے آپ کے ساتھ چراغ بھی تھا۔ [ ابن جریر ] ‏‏‏‏ یہ روایت غریب ہے۔ کعب احبار فرماتے ہیں کہ جب ابراہیم کے سامنے جہنم کا ذکر ہوتا تھا تو آپ اس سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ ابن عباس فرماتے ہیں «أَوَّاهٌ» ‏‏‏‏ یعنی «‏‏‏‏فقیہ» ۔ امام ابن جریر کا فیصلہ یہ ہے کہ سب سے بہتر قول ان تمام اقوال میں یہ ہے کہ مراد اس لفظ سے بکثرت دعا کرنے والا ہے۔ الفاظ کے مناسب بھی یہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ذکر یہ فرمایا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اپنے والد کے لیے استغفار کیا کرتے تھے اور تھے بھی بکثرت دعا مانگنے والے۔ بردبار بھی تھے، جو آپ پر ظلم کرے، آپ سے برا پیش آئے آپ تحمل کر جایا کرتے تھے۔ باپ نے آپ کو ایذاء دی صاف کہہ دیا تھا کہ تو میرے معبودوں سے منہ پھیر رہا ہے تو اگر اپنی اس حرکت سے باز نہ آیا تو میں تجھے پتھر مار مار کر مار ڈالوں گا۔ وغیرہ لیکن پھر بھی آپ نے ان کے لیے استغفار کرنے کا وعدہ کر لیا، پس اللہ فرماتا ہے کہ «إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ» ابراہیم «أَوَّاهٌ» ‏‏‏‏ اور حلیم تھے۔
113۔ 1 اس کی تفسیر صحیح بخاری میں اس طرح ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عم بزرگوار ابو طالب کا آخری وقت آیا تو آپ ان کے پاس گئے جبکہ ان کے پاس ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ بھی بیٹھے ہوئے تھے آپ نے فرمایا چچا جان لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ پڑھ لیں، تاکہ میں اللہ کے ہاں آپ کے لئے تکرار پیش کرسکوں، ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ نے کہا ' اے ابو طالب کیا عبدالمطلب کے مذہب سے انحراف کرو گے؟ (یعنی مرتے وقت یہ کیا کرنے لگے ہو؟ حتٰی کہ اسی حال میں ان کا انتقال ہوگیا) نبی نے فرمایا، جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے روک نہیں دیا جائے گا میں آپ کے لئے استغفار کرتا رہوں گا، جس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں مشرکین کے لئے مغفرت کی دعا کرنے سے روک دیا گیا ہے (صحیح بخاری) سورة قصص کی آیت انک لا تھدی من احببت بھی اسی سلسلے میں نازل ہوئی۔ مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کے لیے مغفرت کی دعا کرنے کی اجازت طلب فرمائی، جس پر یہ آیت نازل ہوئی (مسند احمد ج 5، ص 355) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مشرک قوم کے لیے جو دعا فرمائی تھی اللھم اغفر لقومی فانھم لایعلمون۔ یا اللہ میری قوم بےعلم ہے اس کی مغفرت فرما دے، یہ آیت کے منافی نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس کا مطلب ان کے لیے ہدایت کی دعا ہے۔ یعنی وہ میرے مقام و مرتبہ سے ناآشنا ہے، اسے ہدایت سے نواز دے تاکہ وہ مغفرت کی اہل ہوجائے۔ اور زندہ کفار و مشرکین کے لیے ہدایت کی دعا کرنی جائز ہے۔
(آیت 113) ➊ {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا …:} ابتدائے سورت سے لے کر یہاں تک مشرکین اور منافقین سے کلی طور پر تعلق ختم کرنے کے اعلان و اظہار کا حکم دیا ہے۔ اب یہاں بتایا کہ جس طرح ان کے زندوں سے لاتعلقی کا اظہار ضروری ہے اسی طرح ان کے مردوں سے براء ت کا اظہار بھی لازم ہے اور ان کے لیے بخشش کی دعا کرنا جائز نہیں۔ مسیب بن حزن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے تو اس کے پاس ابوجہل بن ہشام اور عبد اللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کو پایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطالب سے کہا: ”اے چچا! تو {”لا اله الا الله“} کہہ دے، میں اللہ کے پاس اس کلمے کی شہادت دوں گا۔“ تو ابوجہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ نے ابوطالب سے کہا: ”کیا تو عبد المطلب کے دین سے منہ موڑ رہا ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سامنے یہی (کلمہ) پیش کرتے رہے اور وہ دونوں اپنی بات دہراتے رہے، یہاں تک کہ مرتے وقت آخری بات جو اس نے کہی: [عَلٰی مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ] کہ میں عبد المطلب کے دین پر مر رہا ہوں۔ اس نے ”لا الٰہ الا اللہ“ کہنے سے انکار کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تیرے لیے استغفار کرتا رہوں گا جب تک مجھے منع نہ کر دیا گیا۔“ اس پر یہ آیت اتری۔ [ بخاری، الجنائز، باب إذا قال المشرک عند الموت لا إلٰہ إلا اللہ: ۱۳۶۰۔ مسلم: ۲۴ ] دوسری کتب حدیث میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ اس حدیث میں ابوطالب کے ”لا الٰہ الا اللہ“ کہنے سے انکار کی صراحت موجود ہے اور جو لوگ کہتے ہیں کہ دینِ عبد المطلب دینِ ابراہیم ہی تھا، اس لیے ابوطالب مسلمان تھے، ان کی بات کی حقیقت بھی واضح ہوتی ہے۔ ابوطالب کے کفر پر مرنے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے حد غم اور صدمہ ہوا، اس پر یہ آیت اتری: «{ اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ }» [ القصص: ۵۶ ] ”بے شک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔“ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں سب سے ہلکا عذاب ابوطالب کو ہو گا، اسے (آگ کی) دو جوتیاں پہنائی جائیں گی جن کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا۔“ [ مسلم، الإیمان، باب أھون أہل النار عذابا: ۲۱۲ ] ➋ { مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ …:} جب تک کوئی کافر زندہ ہے اس کے ایمان کی امید ہے، اس لیے اس کی ہدایت اور مغفرت کی دعا جائز ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے لیے دعائے مغفرت سے منع نہیں کیا گیا، البتہ جب کفر پر موت کے بعد صاف واضح ہو گیا کہ وہ جہنمی ہے، اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا ایمان والوں کو اس کے لیے بخشش کی دعا کرنا جائز نہیں، کیونکہ مشرک پر اللہ نے جنت حرام کر دی ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۴۸) اور مائدہ (۷۲) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی، آپ خود بھی روئے اور اپنے اردگرد والوں کو بھی رلایا، پھر آپ نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ اس کے لیے استغفار کروں مگر مجھے اجازت نہیں دی گئی اور میں نے اس سے اجازت مانگی کہ اس کی قبر کی زیارت کر لوں تو مجھے اجازت دے دی گئی، سو تم قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ وہ آخرت کی یاد دلاتی ہیں۔“ [ مسلم، الجنائز، باب استئذان النبی صلی اللہ علیہ وسلم ربہ عزوجل…: 976/108 ] مسند احمد وغیرہ میں اس مفہوم کی اور بھی احادیث ہیں۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ بخاری کی شرح فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ یہ سارے واقعات نزول آیت کا سبب بن سکتے ہیں۔ مگر جن روایات میں مذکور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کو زندہ کیا گیا اور وہ ایمان لا کر پھر فوت ہو گئے ان روایات میں سے کوئی ایک بھی حافظ ابن کثیر اور دوسرے محققین کی تصریح کے مطابق ثابت نہیں۔
وَ مَا کَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰہِیۡمَ لِاَبِیۡہِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَۃٍ وَّعَدَہَاۤ اِیَّاہُ ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗۤ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّاَ مِنۡہُ ؕ اِنَّ اِبۡرٰہِیۡمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیۡمٌ ﴿۱۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ابراہیمؑ نے اپنے باپ کے لیے جو دعائے مغفرت کی تھی وہ تو اُس وعدے کی وجہ سے تھی جو اس نے اپنے باپ سے کیا تھا، مگر جب اس پر یہ بات کھل گئی کہ اس کا باپ خدا کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہو گیا، حق یہ ہے کہ ابراہیمؑ بڑا رقیق القلب و خداترس اور بردبار آدمی تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت مانگنا وه صرف وعده کے سبب سے تھا جو انہوں نے اس سے وعده کرلیا تھا۔ پھر جب ان پر یہ بات ﻇاہر ہوگئی کہ وه اللہ کا دشمن ہے تو وه اس سے محض بے تعلق ہوگئے، واقعی ابراہیم (علیہ السلام) بڑے نرم دل اور برد بار تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور ابراہیم کا اپنے باپ کی بخشش چاہنا وہ تو نہ تھا مگر ایک وعدے کے سبب جو اس سے کرچکا تھا پھر جب ابراہیم کو کھل گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے اس سے تنکا توڑ دیا (لاتعلق ہوگیا) بیشک ابراہیم بہت آہیں کرنے والا متحمل ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ابراہیم نے جو اپنے باپ (تایا) کے لیے دعائے مغفرت کی تھی تو وہ ایک وعدہ کی بنا پر تھی جو وہ کر چکے تھے۔ مگر جب ان پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو آپ اس سے بیزار ہوگئے بے شک جناب ابراہیم بڑے ہی دردمند اور غمخوار و بردبار انسان تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا نہیں تھا مگر اس وعدہ کی وجہ سے جو اس نے اس سے کیا تھا، پھر جب اس کے لیے واضح ہوگیا کہ بے شک وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بے تعلق ہو گیا۔ بے شک ابراہیم یقینا بہت نرم دل، بڑا بردبار تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ممانعت ٭٭

مسند احمد میں ہے کہ ابوطالب کی موت کے وقت اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لے گئے۔ وہاں اس وقت ابوجہل اور عبداللہ بن ابی اُمیہ بھی تھا۔ آپ نے فرمایا چچا «لا الہ الاللہ» ‏‏‏‏کہہ لے اس کلمے کی وجہ سے اللہ عزوجل کے ہاں میں تیری سفارش تو کر سکوں۔ یہ سن کر ان دونوں نے کہا کہ اے ابوطالب کیا تو عبدالمطلب کے دین سے پھر جائے گا؟ اس پر اس نے کہا میں تو عبدالمطلب کے دین پر ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خیر میں جب تک منع نہ کر دیا جاؤں تیرے لیے بخشش مانگتا رہونگا۔ لیکن «‏‏‏‏مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» ‏‏‏‏ [ التوبہ: 113 ] ‏‏‏‏ اتری۔ یعنی نبی کو اور مومنوں کو لائق نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش مانگیں گو وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی ہوں۔ ان پر تو یہ ظاہر ہو چکا ہے کہ مشرک جہنمی ہیں۔ اسی بارے میں «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ» [ 28- القص: 56 ] ‏‏‏‏ بھی اتری ہے۔ یعنی تو جسے محبت کرے اسے راہ نہیں دکھا سکتا بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے راہ دکھاتا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کی زبانی اپنے مشرک ماں باپ کے لیے استغفار سن کر اس سے کہا کہ تو مشرکوں کے لیے استغفار کرتا ہے اس نے جواب دیا کہ کیا ابراہیم نے اپنے باپ کے لیے استغفار نہیں کیا؟ فرماتے ہیں میں نے جا کر یہ ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ کہا جب کہ وہ مرگیا پھر میں نہیں جانتا یہ قول مجاہد کا ہے۔ مسند احمد میں ہے ہم تقریباً ایک ہزار آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ منزل پر اترے، دو رکعت نماز ادا کی پھر ہماری طرف منہ کر کے بیٹھے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے انسو جاری تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر تاب نہ لا سکے، اُٹھ کر عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں کیا بات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بات یہ ہے کہ میں نے اپنے رب عزوجل سے اپنی والدہ کے لیے استغفار کرنے کی اجازت طلب کی تو مجھے اجازت نہ ملی۔

اس پر میری آنکھں بھر آئیں کہ میری ماں ہے اور جہنم کی آگ ہے۔ اچھا اور سنو! میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا اب وہ ممانعت ہٹ گئی ہے۔ زیارت قبور سے منع کیا تھا، اب تم کرو کیونکہ اس سے تمہیں بھلائی یاد آئے گی۔ میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کے گوشت کو روکنے سے منع فرمایا تھا اب تم کھاؤ اور جس طرح چاہو روک رکھو۔ اور میں نے تمہیں بعض خاص برتنوں میں پینے کو منع فرمایا تھا لیکن اب تم جس برتن میں چاہو پی سکتے ہیں لیکن خبردار نشے والی چیز ہرگز نہ پینا۔ ابن جریر میں ہے کہ مکہ شریف آتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نشان قبر کے پاس بیٹھ گئے اور کچھ دیر خطاب کر کے آپ کھڑے ہوئے ہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ یہ کیا بات تھی؟ آپ نے فرمایا میں نے اپنے پروردگار سے اپنی ماں کی قبر کے دیکھنے کی اجازت مانگی وہ تو مل گئی لیکن اس کے لیے استغفار کرنے کی اجازت مانگی تو نہ ملی۔ اب جو آپ نے رونا شروع کیا تو ہم نے تو آپ کو کبھی ایسا اتنا روتے نہیں دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ آپ قبرستان کی طرف نکلے، ہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ وہاں آپ ایک قبر کے پاس بیٹھ کر دیر تک مناجات میں مشغول رہے، پھر رونے لگے۔ ہم بھی خوب روئے پھر کھڑے ہوئے تو ہم سب بھی کھڑے ہو گئے آپ نے عمر رضی اللہ عنہ کو اور ہمیں بلا کر فرمایا کہ تم کیسے روئے؟ ہم نے کہا آپ کو روتا دیکھ کر آپ نے فرمایا یہ قبر میری ماں آمنہ کی تھی میں نے اسے دیکھنے کی اجازت چاہی تھی جو مجھے ملی تھی۔ اور روایت میں ہے کہ دعا کی اجازت نہ ملی اور «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» ‏‏‏‏ اتری پس جو ماں کی محبت میں صدمہ ہونا چاہیئے مجھے ہوا۔

دیکھو میں نے زیارت قبر کی تمہیں ممانعت کی تھی۔ لیکن اب میں رخصت دیتا ہوں کیونکہ اس سے آخرت یاد آتی ہے۔ طبرانی میں ہے کہ غزوہ تبوک کی واپسی میں عمرے کے وقت ثنیہ عسفان سے اترتے ہوئے آپ نے صحابہ سے فرمایا تم عقبہ میں ٹھہرو، میں ابھی آیا۔ وہاں سے اتر کر آپ اپنی والدہ کی قبر پر گئے۔ اللہ تعالیٰ سے دیر تک مناجات کرتے رہے۔ پھر پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کیا آپ کے رونے سے سب لوگ رونے لگے اور یہ سمجھے کہ آپ کی امت کے بارے میں کوئی نئی بات پیدا ہوئی جس سے آپ اس قدر رو رہے ہیں۔ انہیں روتا دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس پلٹے اور دریافت فرمایا کہ تم لوگ کیوں رو رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا آپ کو روتا دیکھ کر اور یہ سمجھ کر کہ شاید آپ کی امت کے بارے میں کوئی ایسا نیا حکم اترا جو طاقت سے باہر ہے۔ آپ نے فرمایا سنو بات یہ ہے کہ یہاں میری ماں کی قبر ہے۔ میں نے اپنے پروردگار سے قیامت کے دن اپنی ماں کی شفاعت کی اجازت طلب کی لیکن اللہ تعالیٰ نے عطا نہیں فرمائی تو میرا دل بھر آیا اور میں رونے لگا۔ جبرائیل آئے اور مجھ سے فرمایا ابراہیم کا استغفار اپنے باپ کے لیے صرف ایک وعدے سے تھا جس کا وعدہ ہو چکا تھا لیکن جب اس پر کھل گیا تو کہ اس کا باپ اللہ کا دشمن ہے توہ وہ فوراً بیزار ہو گیا پس آپ بھی اپنی ماں سے اسی طرح بیزار ہو جائیے جس طرح ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ سے بیزار ہو گئے۔ پس مجھے اپنی ماں پر رحم اور ترس آیا۔

پھر میں نے دعا کی کہ میری امت پر سے چاروں سختیاں دور کر دی جائیں اللہ تعالیٰ نے دو تو دور فرما دیں لیکن دو کے دور فرمانے سے انکار فرما دیا۔ ا۔ آسمان سے پتھر برسا کر ان کی ہلاکت ٢۔ زمین انہیں دھنسا کر ان کی ہلاکت۔ ٣۔ ان میں پھوٹ اور اختلاف کا پڑنا۔ ٤۔ ان میں ایک کو ایک سے ایذائیں پہنچنا۔ ان چاوروں چیزوں سے بچاؤ کی میری دعا تھی دو پہلی چیزیں تو مجھے عنایت ہو گئیں میری امت آسمانی پتھراؤ سے اور زمین میں دھنسائے جانے سے تو بچا دی گئی۔ ہاں آپس کا اختلاف آپس کی سر پھٹول یہ نہیں اٹھی۔ آپ کی والدہ کی قبر ایک ٹیلے تلے تھی اس لیے آپ راستے سے گھوم کر وہاں گئے تھے۔ یہ روایت غریب ہے اور سیاق عجیب ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ غریب اور منکر وہ روایت ہے جو امام خطیب بغدادی نے اپنی کتاب بنام سابق لاحق میں مجہول سند سے وارد کی ہے جس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی والدہ کو زندہ کر دیا اور ایمان لائیں پھر مر گئیں۔ اس طرح کی سہیلی کی ایک روایت ہے جس میں ایک نہیں کئی ایک راوی مجہول ہیں۔ اس میں ہے کہ آپ کے ماں باپ دونوں دوبارہ زندہ ہوئے پھر ایمان لائے۔ ابن دحیہ کہتے ہی کہ یہ حدیث جھوٹی ہے۔ قرآن اور اجماع دونوں اس بات کو رد کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں فرمایا ہے: «وَلَا الَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمْ كُفَّارٌ» ‏‏‏‏ [ 4-النساء: 18 ] ‏‏‏‏ اور ان کی توبہ بھی قبول نہیں جو کفر پر ہی مر جائیں ابن دحیہ نے اسی روایت پر نظریں جما کر کہا ہے کہ یہ نئی زندگی اسی طرح کی ہے جس طرح مروی ہے کہ سورج ڈوب جانے کے بعد واپس لوٹا اور علی نے نماز عصر ادا کی۔ طحاوی تو کہتے ہیں کہ سورج والی یہ روایت ثابت ہے۔ قرطبی کہتے ہیں ان کی دوبار کی زندگی شرعاً یا عقلاً ممتنع نہیں۔ کہتے ہیں میں نے سنا ہے کہ آپ کے چچا ابوطالب کو بھی اللہ تعالیٰ نے زندہ کیا اور آپ پر ایمان لایا۔ میں کہتا ہوں اگر صیح روایت سے یہ روایتیں ثابت ہوں تو بیشک مانع کوئی نہیں [ لیکن تینوں روایتیں محض گپ ہیں ] ‏‏‏‏ واللہ اعلم۔

حضرت ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے ارادہ کیا کہ اپنی ماں کے لیے استغفار کریں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا۔ تو آپ نے ابراہیم کے استغفار کو پیش کیا۔ اس کا جواب «وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ ۭ اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ» ‏‏‏‏ [ 9- التوبہ: 114 ] ‏‏‏‏ میں مل گیا۔ فرماتے ہیں اس آیت سے پہلے مشرکین کے لیے استغفار کیا جاتا تھا۔ اب ممنوع ہو گیا۔ ہاں زندوں کے لیے جائز رہا۔ لوگوں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہمارے بڑوں میں ایسے بھی تھے جو پڑوس کا اکرام کرتے تھے، صلہ رحمی کرتے تھے، غلام آزاد کرتے تھے، ذمہ داری کا خیال رکھتے تھے۔ تو کیا ہم ان کے لیے استغفار نہ کریں؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں، میں بھی اپنے والد کے لیے استغفار کرتا ہوں جیسے کہ ابراہیم اپنے والد کے لیے کرتے تھے۔ اس پر «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» ‏‏‏‏ [ 9- التوبہ: 113 ] ‏‏‏‏ نازل ہوئی۔ پھر ابراہیم علیہ السلام کا عذر بیان ہوا اور فرمایا «وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ ۭ اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ» ‏‏‏‏ [ 9- التوبہ: 114 ] ‏‏‏‏ مذکور ہے کہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے چند باتیں وحی کی ہیں جو میرے کانوں میں گونج رہی ہیں اور میرے دل میں جگہ پکڑے ہوئے ہیں۔ مجھے حکم فرمایا گیا کہ میں کسی اس شخص کے لیے استغفار نہ کروں جو شرک پر مرا ہو۔ اور یہ کہ جو شخص اپنا فالتو مال دیدے اس کے لیے یہی افضل ہے اور جو روک رکھے اس کے لیے برائی ہے۔ ہاں برابر سرابر حسب ضرورت پر اللہ کے ہاں ملامت نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ایک یہودی مر گیا جس کا ایک لڑکا تھا لیکن وہ مسلمان تھا اس لیے اپنے باپ کے جنازے میں وہ شریک نہ ہوا۔ جب عبداللہ بن عباس کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمانے لگے اسے جنازے میں جانا چاہیئے تھا اور دفن میں بھی موجود رہنا چاہیئے تھا اور باپ کی زندگی تک اس کے لیے ہدایت کی دعا کرنی چاہیئے تھی۔

ہاں موت کے بعد اسے اس کی حالت پر چھوڑ دیتا۔ پھر آپ نے «‏‏‏‏وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِّلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ ۚ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ» ‏‏‏‏ تلاوت فرمائی کہ ابراہیم نے یہ طریقہ نہیں چھوڑا۔ اس کی صحت کی گواہ ابوداؤد وغیرہ کہ یہ روایت بھی ہو سکتی ہے کہ ابوطالب کی موت پر علی رضی اللہ عنہا آ کر کہتے ہیں کہ یا رسول اللہ آپ کے بوڑھے چچا گمراہ مر گئے ہیں۔ آپ نے فرمایا جاؤ انہیں دفنا کر سیدھے میرے پاس آؤ الخ۔ مروی ہے کہ جب ابوطالب کا جنازہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ نے فرمایا میں تجھ سے صلہ رحمی کا رشتہ نبھا چکا۔ عطا بن ابی رباح فرماتے ہیں میں تو قبلہ کی طرف منہ کرنے والوں میں سے کسی کے جنازے کی نماز نہ چھوڑوں گا۔ گو وہ کوئی حبشن زنا سے حاملہ ہی ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں پر ہی نماز و دعا حرام کی ہے اور فرمایا ہے «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ،» ‏‏‏‏ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے سنا کہ وہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے جو ابوہریرہ اور اس کی ماں کے لیے استغفار کرے۔ تو اس نے کہا باپ کے لیے بھی۔ آپ نے فرمایا نہیں اس لیے کہ میرا باپ شرک پر مرا ہے۔ آیت میں فرمان الٰہی ہے کہ «‏‏‏‏قَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنْ آلِهَتِي يَا إِبْرَاهِيمُ ۖ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ ۖ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا قَالَ سَلَامٌ عَلَيْكَ ۖ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي ۖ إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا» [ 19-مريم: 46، 47 ] ‏‏‏‏ اس نے [ ان کے والد نے ] ‏‏‏‏ کہا ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے برگشتہ ہے؟ اگر تو باز نہ آئے گا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا اور تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے دور ہو جا، ابراہیم نے سلام علیک کہا [ اور کہا کہ ] ‏‏‏‏ میں آپ کے لیے اپنے پروردگار سے بخشش مانگوں گا۔ بیشک وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام پر اپنے باپ کا اللہ کا دشمن ہونا کھل گیا۔ یعنی وہ کفر ہی پر مر گیا۔ مروی ہے کہ قیامت کے دن جب ابراہیم علیہ السلام سے ان کا باپ ملے گا۔ نہایت سرا سیمگی پریشانی کی حالت میں چہرہ غبار آلود اور کالا پڑا ہوا ہو گا کہے گا کہ ابراہیم آج میں تیری نافرمانی نہ کروں گا۔ ابراہیم علیہ السلام جناب باری میں عرض کریں گے کہ میرے رب تو نے مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔

اور میرا باپ تیری رحمت سے دور ہو کر عذاب میں مبتلا ہو یہ بہت بڑی رسوائی ہے۔ اس پر فرمایا جائے گا کہ اپنی پیٹھ پیچھے دیکھو۔ دیکھیں گے کہ ایک بجو کیچڑ میں لتھڑا ہوا کھڑا ہے۔ یعنی آپ کے والد کی صورت مسخ ہو گئی ہو گی اور اس کے پاؤں پکڑ کر گھسیٹ کر اسے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ فرماتا ہے کہ ابراہیم بڑا ہی دعا کرنے والا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے «أَوَّاهٌ» ‏‏‏‏ کا مطلب دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا رونے دھونے والا، اللہ تعالیٰ کے سامنے گریہ و زاری کرنے والا۔ ابن مسعود فرماتے ہیں بہت ہی رحم کرنے والا، مخلوق رب کے ساتھ نرمی اور سلوک اور مہربانی کرنے والا۔ ابن عباس کا قول ہے پورے یقین والا۔ سچے ایمان والا، توبہ کرنے والا، حبشی زبان میں «أَوَّاهٌ» ‏‏‏‏ مومن اور موقن یقین و ایمان والے کو کہتے ہیں۔ ذوالنجادین نامی ایک صحابی کو اس بنا پر کہ جب قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا تو وہ اسی وقت دعا کے ساتھ آواز اٹھاتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «أَوَّاهٌ» ‏‏‏‏ فرمایا۔ [ مسند احمد ] ‏‏‏‏ «أَوَّاهٌ» ‏‏‏‏ سے مراد تسبیح پڑھنے والا۔ ضحٰی کی نماز پڑھنے والا۔ اپنے گناہوں کی یاد آنے پر استغفار کرنے والا۔ اللہ کے دین کی حفاظت کرنے والا۔ رب سے ڈرنے والا۔ پوشیدہ اگر کوئی گناہ ہو جائے تو توبہ کرنے والا بھی مروی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا ذکر ہوا کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بکثرت یاد کرتا ہے اور اللہ کی تسبیح بیان کرتا رہتا ہے۔ آپ نے فرمایا وہ «أَوَّاهٌ» ‏‏‏‏ ہے۔ [ ابن جریر ] ‏‏‏‏ اسی ابن جریر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک میت کو دفن کر کے فرمایا یقیناً تو «أَوَّاهٌ» ‏‏‏‏ یعنی بکثرت تلاوت کلام اللہ شریف کرنے والا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ ایک شخص بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ہوئے اپنی دوا میں «أَوَّاهٌ» ‏‏‏‏ «أَوَّاهٌ» ‏‏‏‏ کر رہا تھا

۔ اس کے انتقال کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے دفن میں شامل تھے چونکہ رات کا وقت تھا اس لیے آپ کے ساتھ چراغ بھی تھا۔ [ ابن جریر ] ‏‏‏‏ یہ روایت غریب ہے۔ کعب احبار فرماتے ہیں کہ جب ابراہیم کے سامنے جہنم کا ذکر ہوتا تھا تو آپ اس سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ ابن عباس فرماتے ہیں «أَوَّاهٌ» ‏‏‏‏ یعنی «‏‏‏‏فقیہ» ۔ امام ابن جریر کا فیصلہ یہ ہے کہ سب سے بہتر قول ان تمام اقوال میں یہ ہے کہ مراد اس لفظ سے بکثرت دعا کرنے والا ہے۔ الفاظ کے مناسب بھی یہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ذکر یہ فرمایا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اپنے والد کے لیے استغفار کیا کرتے تھے اور تھے بھی بکثرت دعا مانگنے والے۔ بردبار بھی تھے، جو آپ پر ظلم کرے، آپ سے برا پیش آئے آپ تحمل کر جایا کرتے تھے۔ باپ نے آپ کو ایذاء دی صاف کہہ دیا تھا کہ تو میرے معبودوں سے منہ پھیر رہا ہے تو اگر اپنی اس حرکت سے باز نہ آیا تو میں تجھے پتھر مار مار کر مار ڈالوں گا۔ وغیرہ لیکن پھر بھی آپ نے ان کے لیے استغفار کرنے کا وعدہ کر لیا، پس اللہ فرماتا ہے کہ «إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ» ابراہیم «أَوَّاهٌ» ‏‏‏‏ اور حلیم تھے۔
114۔ 1 یعنی ابراہیم ؑ پر بھی جب یہ بات واضح ہوگئی کہ میرا باپ اللہ کا دشمن ہے اور جہنمی ہے تو انہوں نے اس سے اظہار نجات کردیا اور اس کے بعد مغفرت کی دعا نہیں کی۔ 144۔ 2 اور ابتداء میں باپ کے لئے مغفرت کی دعا بھی اپنے اسی مزاج کی نرمی اور حلیمی کی وجہ سے کی تھی۔
(آیت 114) ➊ {وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ …:} علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک آدمی کو سنا کہ وہ اپنے ماں باپ کے لیے استغفار کر رہا تھا، جب کہ وہ مشرک تھے۔ میں نے کہا تم ان کے لیے بخشش کی دعا کر رہے ہو جب کہ وہ مشرک تھے، تو اس نے کہا، کیا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کے لیے استغفار نہیں کیا تھا؟ چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے یہ بات ذکر کی تو یہ آیت نازل ہوئی: «{ وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ }» ”اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا نہیں تھا مگر اس وعدہ کی وجہ ہے جو اس نے اس سے کیا تھا۔“ [ نسائی، الجنائز، باب النہی عن الاستغفار للمشرکین: ۲۰۳۸، و حسنہ الألبانی ] ابراہیم علیہ السلام نے اپنے مشرک باپ سے یہ وعدہ اس وقت کیا تھا جب اس نے انھیں توحید کی دعوت کی وجہ سے گھر سے نکال دیا تھا۔ دیکھیے سورۂ مریم (۴۷) چنانچہ حسبِ وعدہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت کی۔ دیکھیے سورۂ شعراء (۸۶) قیامت کو بھی سفارش کریں گے کہ یا اللہ! میرے باپ کے جہنم میں ہونے سے زیادہ میری کیا رسوائی ہے تو حکم ہو گا کہ اپنے پاؤں کی طرف دیکھو، دیکھیں گے تو ان کے والد کی شکل گندگی میں آلودہ بجو کی بنا دی جائے گی اور فرشتے اسے پاؤں سے پکڑ کر جہنم میں پھینک دیں گے کہ نہ کوئی اسے پہچانے کہ یہ ابراہیم علیہ السلام کا والد ہے اور نہ ان کی رسوائی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو رسوائی سے بچا لیا مگر مشرک کو جہنم سے نہیں بچایا۔ [دیکھیے بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی: «واتخذ اللہ إبراھیم خلیلا …» ‏‏‏‏: ۳۳۵۰ ] ➋ { فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ:} یعنی قیامت کے دن سفارش کے بعد اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سلوک کو دیکھ کر جب انھیں اپنے والد کا ابدی جہنمی، شرف انسانیت سے محروم اور اللہ تعالیٰ کا دشمن ہونا خوب واضح ہو گیا تو وہ اس سے بری اور لاتعلق ہو گئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خلیل اپنے خلیل کے دشمن سے دوستی یا تعلق کیسے رکھ سکتا ہے، چنانچہ ان کے دل میں جو تعلق باقی تھا وہ بھی ختم ہو گیا۔ ➌ اگر کسی کا کوئی کافر رشتے دار یا دوست فوت ہو جائے تو مسلمان اس کی تجہیز و تکفین میں شریک تو ہو سکتا ہے، مگر اس کے لیے دعائے مغفرت نہیں کر سکتا۔ (ابن کثیر) ➍ { اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ:لَاَوَّاهٌ “} کا معنی بہت آہ وزاری کرنے والا ہے اور یہ دل کی نرمی کی علامت ہے، یعنی وہ اللہ کے حضور بہت آہیں بھرنے والے، بڑے حلم والے تھے۔ یہ ابتدا میں اپنے والد کے حق میں ان کی نرمی اور استغفار کی وجہ بیان فرمائی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام تھے ہی ایسے کہ اگر کوئی سختی سے پیش آتا تو اسے نرمی سے جواب دیتے۔
وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِلَّ قَوۡمًۢا بَعۡدَ اِذۡ ہَدٰىہُمۡ حَتّٰی یُبَیِّنَ لَہُمۡ مَّا یَتَّقُوۡنَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۱۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ لوگوں کو ہدایت دینے کے بعد پھر گمراہی میں مبتلا کرے جب تک کہ انہیں صاف صاف بتا نہ دے کہ انہیں کن چیزوں سے بچنا چاہیے درحقیقت اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اللہ ایسا نہیں کرتا کہ کسی قوم کو ہدایت کر کے بعد میں گمراه کر دے جب تک کہ ان چیزوں کو صاف صاف نہ بتلادے جن سے وه بچیں بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ کی شان نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت کرکے گمراہ فرمائے جب تک انہیں صاف نہ بتادے کہ کسی چیز سے انہیں بچنا ہے بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد اس وقت تک گمراہ نہیں قرار دیتا جب تک ان پر یہ واضح نہ کر دے کہ انہیں کن چیزوں سے پرہیز کرنا ہے۔ بیشک اللہ ہر شے کا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ کسی قوم کو اس کے بعد گمراہ کر دے کہ انھیں ہدایت دے چکا ہو ، یہاں تک کہ ان کے لیے وہ چیزیں واضح کر دے جن سے وہ بچیں۔ بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
معصیت کا تسلسل گمراہی کا بیج ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ وہ کریم و عادل اللہ کسی قوم کو ہدایت کرنے کے بعد حجت پوری کئے بغیر گمراہ نہیں کرتا۔ جیسے اور جگہ ہے کہ «وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْنَاهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمَىٰ عَلَى الْهُدَىٰ» [ 41-فصلت: 17 ] ‏‏‏‏ ثمودیوں کو ہم نے ہدایت دی لیکن انہوں نے بینائی کے باجود اندھے پن کو ترجیح دی۔ اوپر کی آیت کی مناسبت کی وجہ سے مشرکوں کے لیے استغفار نہ کرنے کے بارے میں خاص طور پر اور اللہ تعالیٰ کی ہر معصیت کے چھوڑنے اور ہر طاعت کے بجا لانے میں عام طور پر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے بیان فرما چکا ہے۔ اب جو چاہے کرے، جو چاہے چھوڑے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرتا کہ مومنوں کو مشرک مردوں کے استغفار سے روکے بغیر ہی ان کے اس استغفار کی وجہ سے انہیں اپنے نزدیک گمراہ بنا دے۔ حالانکہ اس سے پیشتر وہ انہیں ایمان کی راہ پر لاچکا ہے۔ پس پہلے اپنی کتاب کے ذریعے انہیں اس سے روک رہا ہے۔ اب جو مان گیا اور اللہ کی ممانعت کے کام سے رک گیا اس پر اس سے پہلے کئے ہوئے کام کی وجہ سے گمراہی لازم نہیں ہو جاتی۔ اس لیے کہ طاعت و معصیت حکم و ممانعت کے بعد ہوتی ہے۔ اس سے پہلے مطیع اور عاصی ظاہر نہیں ہوتا۔ پہلے ہی ان چیزوں کو وہ ظاہر فرما دیتا ہے جس سے بچانا چاہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ وہ کریم و عادل اللہ کسی قوم کو ہدایت کرنے کے بعد حجت پوری کئے بغیر گمراہ نہیں کرتا۔ جیسے اور جگہ ہے کہ ثمودیوں کو ہم نے ہدایت دی لیکن انہوں نے بینائی کے باجود اندھے پن کو ترجیح دی۔ اوپر کی آیت کی مناسبت کی وجہ سے مشرکوں کے لیے استغفار نہ کرنے کے بارے میں خاص طور پر اور اللہ تعالیٰ کی ہر معصیت کے چھوڑنے اور ہر طاعت کے بجا لانے میں عام طور پر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے بیان فرما چکا ہے۔ اب جو چاہے کرے، جو چاہے چھوڑے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرتا کہ مومنوں کو مشرک مردوں کے استغفار سے روکے بغیر ہی ان کے اس استغفار کی وجہ سے انہیں اپنے نزدیک گمراہ بنا دے۔ حالانکہ اس سے پیشتر وہ انہیں ایمان کی راہ پر لاچکا ہے۔ پس پہلے اپنی کتاب کے ذریعے انہیں اس سے روک رہا ہے۔ اب جو مان گیا اور اللہ کی ممانعت کے کام سے رک گیا اس پر اس سے پہلے کئے ہوئے کام کی وجہ سے گمراہی لازم نہیں ہو جاتی۔ اس لیے کہ طاعت و معصیت حکم و ممانعت کے بعد ہوتی ہے۔ اس سے پہلے مطیع اور عاصی ظاہر نہیں ہوتا۔ پہلے ہی ان چیزوں کو وہ ظاہر فرما دیتا ہے جس سے بچانا چاہتا ہے۔

وہ پورا باخبر اور سب سے بڑھ کر علم والا ہے۔ پھر مومنین کو مشرکین سے اور ان کے ذی اختیار بادشاہوں سے جہاد کی رغبت دلاتا ہے۔ اور انہیں اپنی مدد پر بھروسہ کرنے کو فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کا ملک میں ہی ہوں۔ تم میرے دشمنوں سے مرعوب مت ہونا۔ کون ہے جو ان کا حمایتی بن سکے؟ اور کون ہے جو ان کی مدد پر میرے مقابلے میں آسکتا ہے؟ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ اپنے اصحاب کے مجمع میں بیٹھے ہوئے فرمانے لگے کیا جو میں سنتا ہوں تم بھی سن رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے کان میں کوئی آواز نہیں آ رہی۔ آپ نے فرمایا میں آسمانوں کا چرچرانا سن رہا ہوں درحقیقت میں ان کا چرچرانا ٹھیک بھی ہے۔ ان میں ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ سجدے میں اور قیام میں نہ ہو۔ کعب احبار فرماتے ہیں ساری زمین میں سوئی کے ناکے برابر کی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ مقرر نہ ہو جو یہاں کا علم اللہ کی طرف نہ پہنچاتا ہو۔ آسمان کے فرشتوں کی گنتی زمین کے سنگریزوں سے بڑی ہے۔ عرش کے اٹھانے والے فرشتوں کے ٹخنے اور پنڈلی کے درمیان کا فاصلہ ایک سو سال کا ہے۔
115۔ 1 جب اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے حق میں مغفرت کی دعا کرنے سے روکا تو بعض صحابہ کو جنہوں نے ایسا کیا تھا یہ اندیشہ لا حق ہوا کہ ایسا کرکے انہوں نے گمراہی کا کام تو نہیں کیا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب تک بچنے والے کاموں کی وضاحت نہیں فرما دیتا، اس وقت تک اس پر مؤاخذہ بھی نہیں فرماتا نہ اسے گمراہی قرار دیتا ہے البتہ جب ان کاموں سے، جن سے روکا جا چکا ہو تو پھر اللہ تعالیٰ اسے گمراہ کردیتا ہے۔ اس لئے جن لوگوں نے اس حکم سے قبل اپنے فوت شدہ مشرک رشتے داروں کے لئے مغفرت کی دعائیں کیں ہیں ان کا مؤاخذہ نہیں ہوگا کیونکہ انہیں مسئلے کا اس وقت علم ہی نہ تھا۔
(آیت 115) {وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِلَّ قَوْمًۢا …:} اس میں ان مسلمانوں کو تسلی دی ہے جنھوں نے اوپر کی آیت کے نزول سے پہلے اپنے کافر رشتہ داروں کے لیے دعائے مغفرت کی تھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی پر اس کے مسلمان ہونے کے بعد گمراہ ہونے کا حکم نہیں لگاتا جب تک اس کے لیے یہ واضح نہ کر دے کہ فلاں کام منع ہے اس سے بچ جاؤ، اگر پھر بھی وہ اس پر اصرار کرے تو گناہ گار بھی ہے اور شامتِ اعمال کے نتیجے میں اس کا رخ بھی گمراہی کی طرف پھیر دیا جاتا ہے۔ معلوم ہوا جانتے ہوئے نافرمانی گمراہی کا سبب بن سکتی ہے، اگر ابھی کسی کام سے منع ہی نہیں کیا گیا تو اس کے ارتکاب پر اللہ تعالیٰ کبھی گرفت کرنے والا نہیں، کیونکہ وہ خوب جانتا ہے کہ کوئی بھی کام کرنے والا اسے لاعلمی میں کر رہا ہے یا دیدہ و دانستہ، لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے پہلے جو استغفار مشرکین کے لیے کیا اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔
اِنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ؕ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ﴿۱۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور یہ بھی واقعہ ہے کہ اللہ ہی کے قبضہ میں آسمان و زمین کی سلطنت ہے، اسی کے اختیار میں زندگی و موت ہے، اور تمہارا کوئی حامی و مددگار ایسانہیں ہے جو تمہیں اس سے بچا سکے
مولانا محمد جوناگڑھی
بلاشبہ اللہ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین میں۔ وہی جلاتا اور مارتا ہے، اور تمہارا اللہ کے سوا نہ کوئی یار ہے اور نہ کوئی مدد گار ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت، جِلاتا ہے اور مارتا ہے، اور اللہ کے سوا نہ تمہارا کوئی والی اور نہ مددگار،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ ہی کے لئے زمین و آسمان کی حکومت ہے اور وہی حیات و موت کا دینے والا ہے اس کے علاوہ تمہارا نہ کوئی سرپرست ہے نہ مددگار۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک اللہ ہی ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے، زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور تمھارے لیے اللہ کے سوا نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مدد گار۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
معصیت کا تسلسل گمراہی کا بیج ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ وہ کریم و عادل اللہ کسی قوم کو ہدایت کرنے کے بعد حجت پوری کئے بغیر گمراہ نہیں کرتا۔ جیسے اور جگہ ہے کہ «وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْنَاهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمَىٰ عَلَى الْهُدَىٰ» [ 41-فصلت: 17 ] ‏‏‏‏ ثمودیوں کو ہم نے ہدایت دی لیکن انہوں نے بینائی کے باجود اندھے پن کو ترجیح دی۔ اوپر کی آیت کی مناسبت کی وجہ سے مشرکوں کے لیے استغفار نہ کرنے کے بارے میں خاص طور پر اور اللہ تعالیٰ کی ہر معصیت کے چھوڑنے اور ہر طاعت کے بجا لانے میں عام طور پر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے بیان فرما چکا ہے۔ اب جو چاہے کرے، جو چاہے چھوڑے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرتا کہ مومنوں کو مشرک مردوں کے استغفار سے روکے بغیر ہی ان کے اس استغفار کی وجہ سے انہیں اپنے نزدیک گمراہ بنا دے۔ حالانکہ اس سے پیشتر وہ انہیں ایمان کی راہ پر لاچکا ہے۔ پس پہلے اپنی کتاب کے ذریعے انہیں اس سے روک رہا ہے۔ اب جو مان گیا اور اللہ کی ممانعت کے کام سے رک گیا اس پر اس سے پہلے کئے ہوئے کام کی وجہ سے گمراہی لازم نہیں ہو جاتی۔ اس لیے کہ طاعت و معصیت حکم و ممانعت کے بعد ہوتی ہے۔ اس سے پہلے مطیع اور عاصی ظاہر نہیں ہوتا۔ پہلے ہی ان چیزوں کو وہ ظاہر فرما دیتا ہے جس سے بچانا چاہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ وہ کریم و عادل اللہ کسی قوم کو ہدایت کرنے کے بعد حجت پوری کئے بغیر گمراہ نہیں کرتا۔ جیسے اور جگہ ہے کہ ثمودیوں کو ہم نے ہدایت دی لیکن انہوں نے بینائی کے باجود اندھے پن کو ترجیح دی۔ اوپر کی آیت کی مناسبت کی وجہ سے مشرکوں کے لیے استغفار نہ کرنے کے بارے میں خاص طور پر اور اللہ تعالیٰ کی ہر معصیت کے چھوڑنے اور ہر طاعت کے بجا لانے میں عام طور پر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے بیان فرما چکا ہے۔ اب جو چاہے کرے، جو چاہے چھوڑے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرتا کہ مومنوں کو مشرک مردوں کے استغفار سے روکے بغیر ہی ان کے اس استغفار کی وجہ سے انہیں اپنے نزدیک گمراہ بنا دے۔ حالانکہ اس سے پیشتر وہ انہیں ایمان کی راہ پر لاچکا ہے۔ پس پہلے اپنی کتاب کے ذریعے انہیں اس سے روک رہا ہے۔ اب جو مان گیا اور اللہ کی ممانعت کے کام سے رک گیا اس پر اس سے پہلے کئے ہوئے کام کی وجہ سے گمراہی لازم نہیں ہو جاتی۔ اس لیے کہ طاعت و معصیت حکم و ممانعت کے بعد ہوتی ہے۔ اس سے پہلے مطیع اور عاصی ظاہر نہیں ہوتا۔ پہلے ہی ان چیزوں کو وہ ظاہر فرما دیتا ہے جس سے بچانا چاہتا ہے۔

وہ پورا باخبر اور سب سے بڑھ کر علم والا ہے۔ پھر مومنین کو مشرکین سے اور ان کے ذی اختیار بادشاہوں سے جہاد کی رغبت دلاتا ہے۔ اور انہیں اپنی مدد پر بھروسہ کرنے کو فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کا ملک میں ہی ہوں۔ تم میرے دشمنوں سے مرعوب مت ہونا۔ کون ہے جو ان کا حمایتی بن سکے؟ اور کون ہے جو ان کی مدد پر میرے مقابلے میں آسکتا ہے؟ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ اپنے اصحاب کے مجمع میں بیٹھے ہوئے فرمانے لگے کیا جو میں سنتا ہوں تم بھی سن رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے کان میں کوئی آواز نہیں آ رہی۔ آپ نے فرمایا میں آسمانوں کا چرچرانا سن رہا ہوں درحقیقت میں ان کا چرچرانا ٹھیک بھی ہے۔ ان میں ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ سجدے میں اور قیام میں نہ ہو۔ کعب احبار فرماتے ہیں ساری زمین میں سوئی کے ناکے برابر کی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ مقرر نہ ہو جو یہاں کا علم اللہ کی طرف نہ پہنچاتا ہو۔ آسمان کے فرشتوں کی گنتی زمین کے سنگریزوں سے بڑی ہے۔ عرش کے اٹھانے والے فرشتوں کے ٹخنے اور پنڈلی کے درمیان کا فاصلہ ایک سو سال کا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 116){ اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ …: } کفار سے ان کی زندگی میں اور ان کی موت کے بعد ہر طرح کی دلی لاتعلقی کا سبب بیان فرمایا کہ آسمانوں کا اور زمین کا مالک صرف اللہ، زندگی بخشنے والا اور موت دینے والا صرف اللہ، تمھارا والی وارث اور تمھارے تمام کاموں کا متولی اور سنبھالنے والا صرف اللہ، مشکل کے وقت اور دشمن کے مقابلے میں تمھارا مددگار صرف اللہ، اس کے سوا تمھارا نہ کوئی والی نہ مددگار، تو پھر اس کے دشمن سے تمھارا کیا تعلق، کیسی دوستی اور اس کے لیے کیسا استغفار؟
لَقَدۡ تَّابَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ وَ الۡمُہٰجِرِیۡنَ وَ الۡاَنۡصَارِ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُ فِیۡ سَاعَۃِ الۡعُسۡرَۃِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا کَادَ یَزِیۡغُ قُلُوۡبُ فَرِیۡقٍ مِّنۡہُمۡ ثُمَّ تَابَ عَلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّہٗ بِہِمۡ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۱۷﴾ۙ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ نے معاف کر دیا نبیؐ کو اور ان مہاجرین و انصار کو جنہوں نے بڑی تنگی کے وقت میں نبیؐ کا ساتھ دیا اگر چہ ان میں سے کچھ لوگوں کے دل کجی کی طرف مائل ہو چکے تھے (مگر جب انہوں نے اس کجی کا اتباع نہ کیا بلکہ نبیؐ کا ساتھ ہی دیا تو) اللہ نے انہیں معاف کر دیا، بے شک اُس کا معاملہ اِن لوگوں کے ساتھ شفقت و مہربانی کا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کے حال پر توجہ فرمائی اور مہاجرین اور انصار کے حال پر بھی جنہوں نے ایسی تنگی کے وقت پیغمبر کا ساتھ دیا، اس کے بعد کہ ان میں سے ایک گروه کے دلوں میں کچھ تزلزل ہو چلا تھا۔ پھر اللہ نے ان کے حال پر توجہ فرمائی۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان سب پر بہت ہی شفیق مہربان ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اللہ کی رحمتیں متوجہ ہوئیں ان غیب کی خبریں بتانے والے اور ان مہاجرین اور انصار پر جنہوں نے مشکل کی گھڑی میں ان کا ساتھ دیا بعد اس کے کہ قریب تھا کہ ان میں کچھ لوگوں کے دل پھر جائیں پھر ان پر رحمت سے متوجہ ہوا بیشک وہ ان پر نہایت مہربان رحم والا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
بیشک خدا نے پیغمبر اور ان مہاجرین و انصار پر رحم کیا ہے جنہوں نے تنگی کے وقت میں پیغمبر کا ساتھ دیا ہے جب کہ ایک جماعت کے دلوں میں کجی پیدا ہو رہی تھی پھر خدا نے ان کی توبہ کو قبول کر لیا کہ وہ ان پر بڑا ترس کھانے والا اور مہربانی کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یقینا اللہ نے نبی پر مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائی اور مہاجرین و انصار پر بھی، جو تنگ دستی کی گھڑی میں اس کے ساتھ رہے، اس کے بعد کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل ٹیڑھے ہو جائیں، پھر وہ ان پر دوبارہ مہربان ہوگیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مجاہدرحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت جنگ تبوک کے بارے میں اتری ہے اس جنگ میں جانے کے وقت سال بھی قحط کا تھا، گرمیوں کا موسم تھا، کھانے پینے کی کمی تھی، راستوں میں پانی نہ تھا۔ شام کے ملک تک کا دور دراز کا سفر تھا۔ سامان رسد کی اتنی کمی کہ دو دو آدمیوں میں ایک ایک کھجور بٹتی تھی۔ پھر تو یہ ہو گیا تھا کہ ایک کھجور ایک جماعت کو ملتی یہ چوس کر اسے دیتا وہ اور کو اور ایک ایک چوس کر پانی پی لیتا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت ان پر لازم کر دی اور انہیں واپس لایا۔ عمر رضی اللہ عنہ سے جب اس سختی کا سوال ہوا تو آپ نے فرمایا۔ سخت گرمیوں کے زمانے میں ہم نگلنے کو تھے، ایک منزل میں تو پیاس کے مارے ہماری گردنیں ٹوٹنے لگیں یہاں تک کہ لوگ اپنے اونٹوں کو ذبح کر کے اس کی اوجھڑی نچوڑ کر اس پانی کو پیتے اور پھر اسے اپنے کلیجے سے لگا لیتے اس وقت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کو ہمیشہ ہی قبول فرمایا ہے۔ اب بھی دعا کیجئے کہ اللہ قبول فرمائے آپ نے ہاتھ اٹھا کر دعا شروع کی اس وقت آسمان پر ابر چھا گیا اور برسنے لگا اور خوب برسا جس کے پاس جتنے برتن تھے سب بھر لیے پھر بارش رک گئی اب جو ہم دیکھتے ہیں تو ہمارے لشکر کے احاطے سے باہر ایک قطرہ بھی کہیں نہیں برسا تھا۔ پس اس جہاد میں جنہوں نے روپے پیسے سے، سواری سے، خوراک سے، سامان رسد اور ہتھیار سے پانی وغیرہ سے غرض کسی طرح بھی مومنوں کی مدد کی تھی، ان کی فضیلت و برتری بیان ہو رہی ہے۔ یہی وہ وقت تھا کہ بعض کے دل پھر جانے کے قریب ہو گئے تھے۔ مشقت شدت اور بھوک پیاس نے دلوں کو ہلا دیا تھا، مسلمان جھنجھوڑ دیئے گئے تھے لیکن رب نے انہیں سنبھال لیا اور اپنی طرف جھکا لیا اور ثابت قدمی عطا فرما کر خود بھی ان پر مہربان ہو گیا، اللہ تعالیٰ جیسی رافعت و رحمت اور کس کی ہے؟ وہ ان پر خوب ہی رحمت و کرم رکھتا ہے۔
117۔ 1 جنگ تبوک کے سفر کو ' تنگی کا وقت ' قرار دیا۔ اس لئے کہ ایک تو موسم سخت گرمی کا تھا دوسرے، فصلیں تیار تھیں، تیسرے، سفر خاصا لمبا تھا اور چوتھے وسائل کی بھی کمی تھی۔ اس لئے اسے (تنگی کا قافلہ یا لشکر) کہا جاتا ہے۔ توبہ کے لئے ضروری نہیں ہے کہ پہلے گناہ یا غلطی کا ارتکاب ہو۔ اس کے بغیر بھی رفع درجات اور غیر شعوری طور پر ہونے والی کوتاہیوں کے لئے توبہ ہوتی ہے۔ یہاں مہاجرین و انصار کے اس سے پہلے گروہ کی توبہ اس مفہوم میں ہے جنہوں نے بلا تأمل نبی کے حکم جہاد پر لبیک کہا۔ 117۔ 2 یہ اس دوسرے گروہ کا ذکر ہے جسے مزکورہ وجوہ سے ابتداءً تردد ہوا۔ لیکن پھر جلد ہی وہ اس کیفیت سے نکل آیا اور بخوشی جہاد میں شریک ہوا۔ دلوں میں تزلزل سے مراد دین کے بارے میں کوئی تزلزل یا شبہ نہیں ہے بلکہ مزکورہ دنیاوی اسباب کی وجہ سے شریک جہاد ہونے میں جو تذبذب اور تردد تھا وہ مراد ہے۔
(آیت 117) {لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِيِّ …: ” تَابَ “} کے معانی لوٹ آنا، مہربان ہو جانا، معافی مانگنا، معاف کر دینا، آئندہ غلطی سے باز آنا اور توبہ قبول کر لینا سبھی آتے ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اور مہاجرین و انصار پر مہربان ہونے اور معاف فرمانے کا مطلب {” فِيْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ “ } کے الفاظ سے سمجھ میں آتا ہے۔ تنگی کی گھڑی سے مراد غزوۂ تبوک پر روانگی کا وقت ہے جب شدید گرمی کا موسم تھا، قحط سالی تھی، فصلیں پکنے والی تھیں اور بے سروسامانی کی حالت تھی، ادھر چھ سو کلو میٹر کا طویل اور پر مشقت سفر سامنے تھا۔ دس آدمیوں کے لیے صرف ایک اونٹ تھا، سواریوں، زادِ راہ اور پانی تینوں کی سخت تنگی تھی۔ چنانچہ اس وقت بعض سچے مخلص مسلمان بھی جہاد پر روانہ ہونے سے گھبرانے لگے، آخر ان کے ایمان کی پختگی ان کے نفس پر غالب آئی اور وہ پورے عزم کے ساتھ جہاد پر نکل کھڑے ہوئے۔ یہاں اللہ کی مہربانی سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے اس گھبراہٹ کے عالم میں انھیں روانگی کے لیے ہمت و جرأت عطا فرمائی اور ان کے دل میں آنے والے خطرات بھی معاف فرما دیے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر مہربانی سے مراد وہ آیت (۴۳) ہے جس کا آغاز ہی اس طرح ہوا تھا: «{ عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ }» کہ اللہ نے آپ کو معاف فرما دیا، آپ نے ایسے ہٹے کٹے، تنومند اور کھاتے پیتے منافقوں کو جہاد سے پیچھے رہنے کی رخصت کیوں دی؟
وَّ عَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیۡنَ خُلِّفُوۡا ؕ حَتّٰۤی اِذَا ضَاقَتۡ عَلَیۡہِمُ الۡاَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ وَ ضَاقَتۡ عَلَیۡہِمۡ اَنۡفُسُہُمۡ وَ ظَنُّوۡۤا اَنۡ لَّا مَلۡجَاَ مِنَ اللّٰہِ اِلَّاۤ اِلَیۡہِ ؕ ثُمَّ تَابَ عَلَیۡہِمۡ لِیَتُوۡبُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۱۸﴾٪
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُن تینوں کو بھی اس نے معاف کیا جن کے معاملہ کو ملتوی کر دیا گیا تھا جب زمین اپنی ساری وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی اور ان کی اپنی جانیں بھی ان پر بار ہونے لگیں اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ خود اللہ ہی کے دامن رحمت کے سوا نہیں ہے، تو اللہ اپنی مہربانی سے ان کی طرف پلٹا تاکہ وہ اس کی طرف پلٹ آئیں، یقیناً وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تین شخصوں کے حال پر بھی جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب زمین باوجود اپنی فراخی کے ان پر تنگ ہونے لگی اور وه خود اپنی جان سے تنگ آگئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ سے کہیں پناه نہیں مل سکتی بجز اس کے کہ اسی کی طرف رجوع کیا جائے پھر ان کے حال پر توجہ فرمائی تاکہ وه آئنده بھی توبہ کرسکیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول کرنے واﻻ بڑا رحم واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ان تین پر جو موقوف رکھے گئے تھے یہاں تک کہ جب زمین اتنی وسیع ہوکر ان پر تنگ ہوگئی اور ہو اپنی جان سے تنگ آئے اور انہیں یقین ہوا کہ اللہ سے پناہ نہیں مگر اسی کے پاس، پھر ان کی توبہ قبول کی کہ تائب رہیں، بیشک اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ نے ان تینوں پر بھی رحم کیا جو جہاد سے پیچھے رہ گئے تھے یہاں تک کہ زمین جب اپنی وسعتوں سمیت ان پر تنگ ہوگئی اور ان کے دم پر بن گئی اور انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ اب اللہ کے علاوہ کوئی پناہ گاہ نہیں ہے تو اللہ نے ان کی طرف توجہ فرمائی کہ وہ توبہ کر لیں اس لئے کہ وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا وہ ان پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ اور ان تینوں پر بھی جو موقوف رکھے گئے، یہاں تک کہ جب زمین ان پر تنگ ہوگئی، باوجود اس کے کہ فراخ تھی اور ان پر ان کی جانیں تنگ ہوگئیں اور انھوں نے یقین کر لیا کہ اللہ سے پناہ کی کوئی جگہ اس کی جناب کے سوا نہیں، پھر اس نے ان پر مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائی، تاکہ وہ توبہ کریں۔ یقینا اللہ ہی ہے جو بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سیدنا عبیداللہ جو آپ کے نابینا ہو جانے کے بعد آپ کا ہاتھ تھام کر لے جایا، لے آیا کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ جنگ تبوک کے موقع پر میرے والد کے رہ جانے کا واقعہ خود کی زبانی یہ ہے کہ فرماتے ہیں ”میں اس کے سوا کسی اور غزوے میں پچھے نہیں رہا۔ ہاں غزوہ بدر کا ذکر نہیں، اس میں جو لوگ شامل نہیں ہوئے تھے، ان پر کوئی سرزنش نہیں ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو قافلے کے ارادے سے چلے تھے لیکن وہاں اللہ کی مرضی سے قریش کے جنگی مرکز سے لڑائی ٹھہر گئی۔ تو چونکہ یہ لڑائی بیخبری میں ہوئی اس لیے میں اس میں حاضر نہ ہو سکا، اس کے بجائے الحمداللہ میں لیلۃالعقبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ تھا جب کہ ہم نے اسلام پر موافقت کی تھی۔ اور میرے نزدیک تو یہ چیز بدر سے بھی زیادہ محبوب ہے گو بدر کی شہرت لوگوں میں بہت زیادہ ہے۔ اچھا اب غزوہ تبوک کی غیر حاضری کا واقعہ سنئے۔ اس وقت مجھے جو آسانی اور قوت تھی وہ اس سے پہلے کبھی میسر نہ آئی تھی۔ اس وقت میرے پاس دو اونٹنیاں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس غزوے میں جاتے توریہ کرتے یعنی ایسے الفاظ کہتے کہ لوگ صاف مطلب نہ سمجھیں۔ لیکن چونکہ اس وقت موسم سخت گرم تھا، سفر بہت دور دراز کا تھا، دشمن بڑی تعداد میں تھا، پس آپ نے مسلمانوں کے سامنے اپنا مقصد صاف صاف واضح کر دیا کہ وہ پوری پوری تیاری کر لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت مسلمانوں کی تعداد بھی اتنی زیادہ تھی کہ رجسٹر میں ان کے نام نہ آ سکے۔ پس کوئی بازپرس نہ تھی جو بھی چاہتا کہ میں رک جاؤں وہ رک سکتا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا رکنا مخفی رہ سکتا تھا۔

ہاں اللہ کی وحی آ جائے یہ تو بات ہی اور ہے اس لڑائی کے سفر کے وقت پھل پکے ہوئے تھے، سائے بڑھے ہوئے تھے۔ مسلمان صحابہ رضی اللہ عنہم اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیاریوں میں تھے، میری یہ حالت تھی کہ صبح نکلتا تھا کہ سامان تیار کر لوں لیکن ادھر ادھر شام ہو جاتی اور میں خالی ہاتھ گھر لوٹ جاتا۔ اور کہتا کوئی بات نہیں، روپیہ ہاتھ تلے ہے، کل خرید لوں گا اور تیاری کر لوں گا۔ یہاں تک کہ یوں ہی صبح شام، صبح شام آج کل آج کل کرتے کوچ کا دن آ گیا اور لشکر اسلام بجانب تبوک چل پڑا میں نے کہا کوئی بات نہیں ایک دو دن میں میں بھی پہنچتا ہوں۔ یونہی آج کا کام کل پر ڈالا اور کل کا پرسوں پر یہاں تک کہ لشکر دور جا پہنچا۔ گرے پڑے لوگ بھی چل دیئے۔ میں نے کہا خیر چلے گئے اور کئی دن ہو گئے تو کیا ہوا میں تیز چل کر جا ملوں گا؟ لیکن افسوس کہ یہ بھی مجھ سے نہ ہو سکا۔ ارادوں ہی ارادوں میں رہ گیا۔ اب تو یہ حالت تھی میں بازاروں میں نکلتا تو مجھے سوائے منافقوں اور بیمار لولے لنگڑے اندھے مریضوں اور معذور لوگوں کے اور کوئی نظر نہ آتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک پہنچ کر مجھے یاد فرمایا کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کیا کیا؟ اس پر بنو سلمہ کے ایک شخص نے کہا: ”اسے تو اچھے کپڑوں اور جسم کی راحت رسانی نے روک رکھا ہے۔‏‏‏‏“ یہ سن کر سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ یہ درست نہیں فرما رہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارا خیال تو کعب کی نسبت بہتر ہی ہے۔‏‏‏‏“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ اب آپ لوٹ رہے ہیں تو میرا جی بہت ہی گھبرایا۔ اور میں حیلے بہانے سوچنے لگا کہ یوں یوں بہانہ بنا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غصے سے نکل جاؤں گا اپنے والوں سے بھی رائے ملا لوں گا۔

یہاں تک کہ مجھے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے شریف کے قریب آگئے تو میرے دل سے باطل اور جھوٹ بالکل الگ ہو گیا۔ اور میں نے سمجھ لیا کہ جھوٹے حیلے مجھے نجات نہیں دلوا سکے۔ سچ ہی کا آخر بول بالا رہتا ہے۔ پس میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ جھوٹ نہیں بولوں گا۔صاف صاف سچ سچ بات کہ دوں گا۔ آپ خیر سے تشریف لائے اور حسبِ عادت پہلے مسجد میں آئے، دو رکعت نماز ادا کی اور وہیں بیٹھے اسی وقت اس جہاد میں شرکت نہ کرنے والےآنے لگے اور عذر معذرت کرنے لگے۔ یہ لوگ اسی 80 سے کچھ اوپر تھے۔ آپ ان کی باتیں سنتے اور اندرونی حالت سپرد الہٰ کر کے ظاہری باتوں کو قبول فرما کر ان کے لئے استغفار کرتے۔ میں بھی حاضر ہوا اور سلام کیا۔ آپ نے غصے سے تبسم فرمایا اورر مجھے اپنے پاس بلایا میں قریب آن کر بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا: ”تم کیسے رک گئے؟ تم نے سواری بھی خرید لی تھی۔‏‏‏‏“ میں نے کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ کے سوا کسی اور کے پاس میں بیٹھا ہوتا تو بیسیوں باتیں بنا لیتا۔ بولنے میں اور باتیں بنانے میں میں کسی سے پیچھے نہیں ہوں۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ اگر آج جھوٹ سچ ملا کر آپ کے غصے سے میں آزاد ہو گیا تو ممکن ہے کل اللہ تعالیٰ آپ کو حقیقت حال سے مطلع فرما دے کر پھر مجھ سے ناراض کر دے۔ اور آج سچ کی بنا پر اگر آپ مجھ سے بگڑیں تو ہو سکتا ہے کہ میری سچائی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے پھر خوش کر دے۔‏‏‏‏“

”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سچ تو یہ ہے کہ واللہ! مجھے کوئی عذر نہ تھا۔ مجھے اس وقت جو آسانی اور فرصت تھی، اتنی تو کبھی اس سے پہلے میسر بھی نہیں ہوئی۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہے تو یہ سچا۔ اچھا تم جاؤ اللہ تمہارے بارے میں جو فیصلہ کرے گا وہی ہو گا۔‏‏‏‏“ میں کھڑا ہو گیا، بنو سلمہ کے چند شخص بھی میرے ساتھ ہی اٹھے اور ساتھ ہی چلے اور مجھ سے کہنے لگے اس سے پہلے تو تم سے کبھی کوئی اس قسم کی خطا نہیں ہوئی۔ لیکن تعجب ہے کہ تو نے کوئی عذر معذرت پیش نہیں کی جیسے کہ اوروں نے کی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم تمہارے لیے استغفار کرتے تو تمہیں یہ کافی تھا۔ الغرض کچھ اس طرح یہ لوگ میرے پیچھے پڑے کہ مجھے خیال آنے لگا کہ پھر واپس جاؤں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی پہلی بات کو جھٹلا کر کوئی حیلہ غلط سلط میں بھی پیش کر دوں۔ پھر میں نے پوچھا: ”کیوں جی کوئی اور بھی میرے جیسا اس معاملے میں اور ہے“؟ انہوں نے کہا: ”ہاں دو شخص اور ہیں اور انہیں بھی وہی جواب ملا ہے جو تمہیں ملا ہے۔‏‏‏‏“ میں نے کہا: ”وہ کون کون ہیں“؟ انہوں نے جواب دیا مرارہ بن ربیع عامری اور حلال بن امیہ واقفی رضی اللہ عنہما۔ ان دونوں صالح اور نیک بدری صحابیوں کا نام جب میں نے سنا تو مجھے پورا اطمینان ہو گیا اور میں گھر چلا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تینوں سے کلام کرنے سے مسلمانوں کو روک دیا تھا۔ لوگ ہم سے الگ ہو گئے، کوئی ہم سے بولتا چالتا نہ تھا یہاں تک کہ مجھے تو اپنا وطن پر دیس معلوم ہونے لگا کہ گویا میں یہاں کی کسی چیز سے واقف ہی نہیں ہوں۔ پچاس راتیں ہم پر اسی طرح گزر گئیں۔ وہ دونوں بدری بزرگ تو تھک ہار کر اپنے اپنے مکانوں میں بیٹھ رہے، باہر اندر آنا جانا بھی انہوں نے چھوڑ دیا۔ میں ذرا زیادہ آنے جانے والا اور تیز طبعیت والا تھا۔ نہ میں نے مسجد جانا چھوڑا، نہ بازاروں میں جانا آنا ترک کیا۔ مجھ سے کوئی بولتا نہ تھا۔ نماز کے بعد جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں لوگوں کے مجمع میں تشریف فرما ہوتے تو میں آتا اور سلام کرتا اور اپنے جی میں کہتا کہ میرے سلام کے جواب میں آپ کے ہونٹ ہلے بھی یا نہیں؟ پھر آپ کے قریب ہی کہیں بیٹھ جاتا اور کن انکھیوں سے آپ کو دیکھتا رہتا۔ جب میں نماز میں ہوتا تو آپ کی نگاہ مجھ پر پڑتی لیکن جہاں میں آپ کی طرف التفات کرتا، آپ میری طرف سے منہ موڑ لیتے۔ آخر اس ترک کلامی کی طویل مدت نے مجھے پریشان کر دیا۔ ایک روز میں اپنے چچا زاد بھائی ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے باغ کی دیوار سے کود کر ان کے پاس گیا۔ مجھے ان سے بہت ہی محبت تھی۔ میں نے سلام کیا لیکن واللہ! انہوں نے جواب نہ دیا۔ میں نے کہا: ”ابو قتادہ رضی اللہ عنہ تجھے اللہ کی قسم کیا تو نہیں جانتا میں اللہ، رسول سے محبت رکھتا ہوں“؟ اس نے پھر خاموشی اختیار کی میں نے دوبارہ انہیں قسم دی اور پوچھا وہ پھر بھی خاموش رہے میں نے سہ بارہ انہیں قسم دے کر یہی سوال کیا اس کے جواب میں بھی وہ خاموش رہے اور فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول کو ذیادہ علم ہے۔‏‏‏‏“ اب تو میں اپنے دل کو نہ روک سکا۔ میری دونوں آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور بہت ہی غمگین ہو کر میں پھر دیوار پر چڑھ کر باہر نکل گیا۔ میں بازار جا رہا تھا کہ میں نے شام کے ایک قبطی کو جو مدینہ میں غلہ بیچنے آیا تھا یہ پوچھتے ہوئے سنا کہ کوئی مجھے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کا پتہ بتا دے۔ لوگوں نے اسے میری طرف اشارہ کر کے بتا دیا وہ میرے پاس آیا اور مجھے شاہ غسان کا خط دیا۔

میں لکھا پڑھا تو تھا ہی۔ میں نے پڑھا تو اس میں لکھا تھا ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تمہارے سردار نے تم پر ظلم کیا ہے تم کوئی ایسے گرے پڑے آدمی نہیں ہو تم یہاں دربار میں چلے آؤ۔ ہم ہر طرح کی خدمت گزاریوں کے لیے تیار ہیں۔ میں نے اپنے دل میں سوچا یہ ایک اور مصیبت اور منجانب اللہ آزمائش ہے۔ میں نے تو جا کر چولھے میں اس رقعے کو جلا دیا۔ چالیس راتیں جب گزر چکیں تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد میرے پاس آ رہا ہے اس نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچایا تم اپنی بیوی سے علیحدہ رہو۔ میں نے پوچھا: ”یعنی کیا طلاق دے دوں یا کیا کروں“؟ اس نے کہا: ”نہیں طلاق نہ دو لیکن ان سے ملو جلو نہیں۔‏‏‏‏“ میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی یہی پیغام پہنچا۔ میں نے تو اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ تم اپنے میکے چلی جاؤ اور وہیں رہو جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس امر کا فیصلہ نہ کر دے۔ ہاں سیدنا ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کی بیوی نے آن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ”میرے خاوند بہت بوڑھے ہیں، کمزور بھی ہیں اور گھر میں کوئی خادم بھی نہیں اگر آپ اجازت دیں تو میں ان کا کام کاج کر دیا کروں۔‏‏‏‏“ آپ نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں لیکن وہ تم سے ملیں نہیں۔‏‏‏‏“ انہوں نے کہا: ”واللہ! ان میں تو حرکت کی قوت ہی نہیں اور جب سے یہ بات پیدا ہوئی ہے تب سے لے کر آج تک ان کے آنسو تھمے ہی نہیں۔‏‏‏‏“ مجھ سے بھی میرے بعض دوستوں نے کہا کہ تم بھی اتنی اجازت تو حاصل کر لو جتنی سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ کے لیے ملی ہے۔ لیکن میں نے جواب دیا کہ میں اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہیں کہوں گا۔ اللہ جانے آپ جواب میں کیا ارشاد فرمائیں؟ ظاہر ہے کہ وہ بوڑھے آدمی ہیں اور میں جوان ہوں۔

دس دن اس بات پر بھی گزر گئے۔ اور ہم سے سلام کلام بند ہونے کی پوری پچاس راتیں گزر چکیں۔ اس پچاسویں رات کو صبح کی نماز میں نے اپنے گھر کی چھت پر ادا کی۔ اور میں دل برداشتہ حیران و پریشان اسی حالت میں بیٹھا ہوا تھا جس کا نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے کہ اپنی جان سے تنگ تھا، زمین باوجود اپنی کشادگی کے مجھ پر تنگ تھی کہ میرے کان میں سلع پہاڑی پر سے کسی کی آواز آئی کہ وہ با آواز بلند کہہ رہا تھا کہ اے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ خوش ہو جا۔ واللہ! میں اس وقت سجدے میں گڑ پڑا اور سمجھ گیا کہ اللہ عزوجل کی طرف سے قبولیت توبہ کی کوئی خبر آ گئی۔ بات بھی یہی تھی صبح کی نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر صحابہ سے بیان فرمائی تھی اور یہ سنتے ہی وہ پیدل اور سوار ہم تینوں کی طرف دوڑ پڑے تھے کہ ہمیں خبر پہنچائیں۔ ایک صاحب تو اپنے گھوڑے پر سوار میری طرف خوشخبری لیے ہوئے آ رہے تھے لیکن اسلم کے ایک صاحب نے دوڑ کر پہاڑ پر چڑھ کر باآواز بلند میرا نام لے کر مجھے خوشخبری پہنچائی سوار سے پہلے ان کی آواز میرے کان میں آ گئی۔ جب یہ صاحب میرے پاس پہنچے تو میں نے اپنے پہنے ہوئے دونوں کپڑے انہیں بطور انعام دے دیئے واللہ! اس دن میرے پاس اور کچھ بھی نہ تھا۔ دو کپڑے اور ادھار لے کر میں نے پہنے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے گھر سے نکلا۔ راستے میں جوق در جوق لوگ مجھ سے ملنے لگے اور مجھے میری توبہ کی بشارت مبارکباد دینے لگے۔ کہ کعب رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کا تمہاری توبہ کو قبول فرما لینا تمہیں مبارک ہو۔ میں جب مسجد میں پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور دیگر صحابہ بھی حاضر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔

مجھے دیکھتے ہی طلحہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور دوڑتے ہوئے آگے بڑھ کر مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارک باد دی۔ مہاجرین میں سے سوائے ان کے اور کوئی صاحب کھڑے نہیں ہوئے۔ کعب طلحہ کی اس محبت کو ہمیشہ ہی اپنے دل میں لیے رہے۔ جب میں نے جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سلام کیا، اس وقت آپ کے چہرہ مبارک کی رگیں خوشی سے چمک رہی تھیں۔ آپ نے فرمایا کعب تم پر تمہاری پیدائش سے لے کر آج تک آج جیسا خوشی کا دن کوئی نہیں گزرا۔ میں نے کہا یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ یہ خوشخبری آپ کی طرف سے ہے یا اللہ تعالیٰ عزوجل کی جانب سے؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی خوشی ہوتی تو آپ کا چہرہ مثل چاند کے ٹکڑے کے چمکنے لگ جاتا تھا اور ہر شخص چہرے مبارک کو دیکھتے ہی پہنچان لیا کرتا تھا۔ میں نے آپ کے پاس بیٹھ کر عرض کیا کہ یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ میں نے نذر مانی ہے کہ اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول فرما لے تو میرا سب مال اللہ کے نام صدقہ ہے۔ اس کے رسول کے سپرد ہے۔ آپ نے فرمایا تھوڑا بہت مال اپنے پاس رکھ لو، یہی تمہارے لیے بہتر ہے۔ میں نے کہا جو حصہ میرا خیبر میں ہے وہ تو میرا رہا باقی للہ خیرات ہے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری نجات کا ذریعہ میرا سچ بولنا ہے میں نے یہ بھی نذر مانی ہے کہ باقی زندگی بھی سوائے سچ کے کوئی کلمہ زبان سے نہیں نکالوں گا۔

میرا ایمان ہے کہ سچ کی وجہ سے جو نعمت اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی وہ کسی مسلمان کو نہیں ملی۔ اس وقت سے لے کر آج تک بحمد اللہ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اور جو عمر باقی ہے، اس میں بھی اللہ تعالیٰ سے مجھے یہی امید ہے۔ اللہ رب العزت نے «لَّقَد تَّابَ اللَّـهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ» [ 9-التوبہ: 117 ] ‏‏‏‏ سے کئی آیتیں تک ہماری توبہ کے بارے نازل فرمائیں۔ اسلام کی نعمت کے بعد مجھ پر اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت یہ بھی ہے کہ میں نے اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی جھوٹ بات نہ کہی جیسے کہ اوروں نے جھوٹی باتیں بنائیں ورنہ میں بھی ان کی طرح ہلاک ہو جاتا۔ ان جھوٹے لوگوں کو کلام اللہ شریف میں بہت ہی برا کہا گیا۔ فرمایا «سَيَحْلِفُونَ بِاللَّـهِ لَكُمْ إِذَا انقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْهُمْ ۖ فَأَعْرِضُوا عَنْهُمْ ۖ إِنَّهُمْ رِجْسٌ ۖ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ ۖ فَإِن تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يَرْضَىٰ عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ» ‏‏‏‏ [ 9- التوبة: 95، 96 ] ‏‏‏‏ یعنی تمہارے واپس آنے کے بعد یہ لوگ قسمیں کھا کھا کر چاہتے ہیں کہ تم ان سے چشم پوشی کر لو۔ اچھا تم چشم پوشی کر لو لیکن یاد رہے کہ اللہ کے نزدیک یہ لوگ گندے اور پلید ہیں۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو ان کے عمل کا بدلہ ہو گا۔ یہ تمہیں رضامند کرنے کے لیے حلف اٹھا رہے ہیں تم گو ان سے راضی ہو جاؤ لیکن ایسے فاسق لوگوں سے اللہ خوش نہیں۔ تم تینوں کے امر ان لوگوں کے امر سے پیچھے ڈال دیا گیا تھا۔ ان کے عذر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمائے تھے، ان سے دوبارہ بیعت کر لی تھی اور ان کے لیے استغفار بھی کیا تھا۔

اور ہمارا معاملہ تاخیر میں پڑ گیا تھا جس کا فیصلہ خود اللہ تعالیٰ نے فرما دیا۔ اسی لیے آیت کے الفاظ «وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا» ہیں۔ پس اس پیچھے چھوڑ دئیے جانے سے مراد غزوے سے رک جانا نہیں بلکہ ان لوگوں کے جھوٹے عذر کے قبول کئے جانے سے ہمارا معاملہ مؤخر کر دینا ہے۔ یہ حدیث بالکل صحیح ہے بخاری مسلم دونوں میں ہے۔ الحمداللہ اس حدیث میں اس آیت کی پوری اور صحیح تفسیر موجود ہے۔ کہ تینوں بزرگ انصاری تھے رضی اللہ عنہم اجمعین۔ ایک روایت میں مرارہ بن ربیعہ کے بدلے ربیع بن مرارہ آیا ہے۔ ایک میں ربیع بن مرار یا مرار بن ربیع ہے۔ لیکن صحیح وہی ہے جو بخاری و مسلم میں ہے یعنی مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہ۔ ہاں زہری کی اوپر والی روایت میں جو یہ لفظ ہے کہ وہ دونوں بدری صحابی تھے جو کعب کی طرح چھوڑ دئیے گئے تھے یہ خطا ہے۔ ان تینوں بزرگوں میں سے ایک بھی بدری نہیں واللہ اعلم۔ چونکہ آیت میں ذکر تھا کہ کسی طرح ان بزرگوں نے صحیح سچا واقع کہہ دیا جس سے گو کچھ دنوں تک وہ رنج و غم میں رہے لیکن آخر سلامتی اور ابدی راحت ملی۔ اس کے بعد ہی فرماتا ہے کہ اے مومنو سچ بولا کرو اور سچائی کو لازم پکڑے رہو سچوں میں ہو جاؤ تاکہ ہلاکت سے نجات پاؤ، غم رنجم سے چھوٹ جاؤ۔

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ لوگو سچائی کو لازم کر لو، سچ بھلائی کی رہبری کرتا ہے اور بھلائی جنت کی رہبری کرتی ہے۔ انسان کے سچ بولنے اور سچ پر کار بند رہنے سے اللہ کے ہاں صدیق لکھ لیا جاتا ہے۔ جھوٹ سے بچو۔ جھوٹ بولتے رہنے سے اللہ کے ہاں کذاب لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں قصداً یا مذاقاً کسی حالت میں بھی جھوٹ انسان کے لائق نہیں۔ کیونکہ اللہ مالک الملک فرماتا ہے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھی بن جاؤ، پس کیا تم اس میں کسی کے لیے بھی رخصت پاتے ہو؟ بقول عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سچوں سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہیں۔ اگر سچوں کے ساتھ بننا چاہتے ہو تو دنیا میں بیرغبت رہو اور مسلمانوں کو نہ ستاؤ۔
118۔ 1 خلفو کا وہی مطلب ہے جو مرجون کا ہے یعنی جن کا معاملہ مؤخر اور ملتوی کردیا گیا تھا اور پچاس دن کے بعد ان کی توبہ قبول ہوئی۔ یہ تین صحابہ تھے۔ کعب بن مالک، مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ ؓ یہ تینوں نہایت مخلص مسلمان تھے۔ اس سے قبل ہر غزوے میں شریک ہوتے رہے۔ اس غزوہ تبوک میں صرف بوجہ غفلت شریک نہیں ہوئے بعد میں انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا، تو سوچا کہ ایک غلطی (پیچھے رہنے کی) تو ہو ہی گئی ہے۔ لیکن اب منافقین کی طرح رسول اللہ کی خدمت میں جھوٹا عذر پیش کرنے کی غلطی نہیں کریں گے۔ چناچہ حاضر خدمت ہو کر اپنی غلطی کا صاف اعتراف کرلیا اور اس کی سزا کے لئے اپنے آپ کو پیش کردیا۔ نبی نے انکے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا کہ وہ ان کے بارے میں کوئی حکم نازل فرمائے گا تاہم اس دوران صحابہ کرام کو ان تینوں افراد سے تعلق قائم رکھنے حتٰی کے بات چیت تک کرنے سے روک دیا اور چالیس راتوں کے بعد انہیں حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیویوں سے بھی دور رہیں مذید دس دن گزرے تو توبہ قبول کرلی گئی اور مزکورہ آیت نازل ہوئی (اس واقعہ کی پوری تفصیل حضرت کعب بن مالک سے مروی حدیث میں موجود ہے۔ ملاحظہ ہو (صحیح بخاری) 118۔ 2 یہ ان ایام کی کیفیت کا بیان ہے۔ جس سے سوشل بائیکاٹ کی وجہ سے انہیں گزرنا پڑا۔ 118۔ 3 یعنی پچاس دن کے بعد اللہ نے ان کی آہ وزاری اور توبہ قبول فرمائی۔
(آیت 118) ➊ {وَ عَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِيْنَ خُلِّفُوْا …: ” خُلِّفُوْا “} کا لفظی معنی اگرچہ پیچھے چھوڑے گئے ہے، مگر یہاں مراد یہ ہے کہ جن کا فیصلہ مؤخر کر دیا گیا۔ اسی بات کا تذکرہ اس سے پہلے آیت (۱۰۷) «{ وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ }» میں گزرا ہے۔ {” وَ عَلَى الثَّلٰثَةِ “} کا عطف {” عَلَى النَّبِيِّ “ } پر ہے (یعنی انصار و مہاجرین پر مہربان ہونے اور انھیں معاف کرنے میں) وہ تین شخص بھی داخل ہوئے جن پر پچاس دن میں ایسی حالت گزری کہ موت سے بھی بدتر۔ (موضح) یہ تین صحابہ تھے کعب بن مالک، مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ رضی اللہ عنھم، اس سے قبل تقریباً ہر غزوے میں یہ شریک ہوتے رہے، اس غزوۂ تبوک میں صرف سستی کی وجہ سے شریک نہیں ہو سکے، بعد میں انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو سوچا کہ ایک غلطی (پیچھے رہنے کی) تو ہو ہی گئی ہے، لیکن اب منافقین کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جھوٹا عذر پیش کرنے کی غلطی نہیں کریں گے۔ چنانچہ حاضر خدمت ہو کر اپنی غلطی کا صاف اعتراف کر لیا اور اس کی سزا کے لیے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا کہ وہی ان کے بارے میں کوئی حکم نازل فرمائے گا، تاہم اس دوران میں آپ نے تمام صحابہ کو ان سے بائیکاٹ کا حکم دے دیا، حتیٰ کہ بات چیت تک سے روک دیا اور چالیس راتوں کے بعد حکم دیا کہ وہ اپنی بیویوں سے بھی دور رہیں۔ یہ وہ وقت تھا جس کا نقشہ اللہ تعالیٰ نے تین جملوں میں کھینچا ہے کہ زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی اور خود ان کی جانیں ان پر تنگ ہو گئیں اور انھوں نے یقین کر لیا کہ بے شک اللہ سے پناہ کی کوئی جگہ اس کی جناب کے سوا نہیں۔ آخر مزید دس دن گزرنے کے بعد ان کی توبہ قبول کر لی گئی اور مذکورہ آیت اتری۔ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ نہایت فصاحت و بلاغت کے ساتھ اپنی قلبی کیفیت کی بہترین ترجمانی کرتے ہوئے بڑی لمبی حدیث میں بیان فرمایا ہے جو صحیح بخاری کی کتاب المغازی اور مسلم کی کتاب التوبہ میں مذکور ہے۔ تفسیر ابن کثیر میں بھی اسے مفصل نقل کیا گیا ہے۔ ➋ { اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ:} معلوم ہوا کہ توبہ کا قبول ہونا محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے، ورنہ اس پر کسی کا زور نہیں۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۱۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سیدنا عبیداللہ جو آپ کے نابینا ہو جانے کے بعد آپ کا ہاتھ تھام کر لے جایا، لے آیا کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ جنگ تبوک کے موقع پر میرے والد کے رہ جانے کا واقعہ خود کی زبانی یہ ہے کہ فرماتے ہیں ”میں اس کے سوا کسی اور غزوے میں پچھے نہیں رہا۔ ہاں غزوہ بدر کا ذکر نہیں، اس میں جو لوگ شامل نہیں ہوئے تھے، ان پر کوئی سرزنش نہیں ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو قافلے کے ارادے سے چلے تھے لیکن وہاں اللہ کی مرضی سے قریش کے جنگی مرکز سے لڑائی ٹھہر گئی۔ تو چونکہ یہ لڑائی بیخبری میں ہوئی اس لیے میں اس میں حاضر نہ ہو سکا، اس کے بجائے الحمداللہ میں لیلۃالعقبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ تھا جب کہ ہم نے اسلام پر موافقت کی تھی۔ اور میرے نزدیک تو یہ چیز بدر سے بھی زیادہ محبوب ہے گو بدر کی شہرت لوگوں میں بہت زیادہ ہے۔ اچھا اب غزوہ تبوک کی غیر حاضری کا واقعہ سنئے۔ اس وقت مجھے جو آسانی اور قوت تھی وہ اس سے پہلے کبھی میسر نہ آئی تھی۔ اس وقت میرے پاس دو اونٹنیاں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس غزوے میں جاتے توریہ کرتے یعنی ایسے الفاظ کہتے کہ لوگ صاف مطلب نہ سمجھیں۔ لیکن چونکہ اس وقت موسم سخت گرم تھا، سفر بہت دور دراز کا تھا، دشمن بڑی تعداد میں تھا، پس آپ نے مسلمانوں کے سامنے اپنا مقصد صاف صاف واضح کر دیا کہ وہ پوری پوری تیاری کر لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت مسلمانوں کی تعداد بھی اتنی زیادہ تھی کہ رجسٹر میں ان کے نام نہ آ سکے۔ پس کوئی بازپرس نہ تھی جو بھی چاہتا کہ میں رک جاؤں وہ رک سکتا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا رکنا مخفی رہ سکتا تھا۔

ہاں اللہ کی وحی آ جائے یہ تو بات ہی اور ہے اس لڑائی کے سفر کے وقت پھل پکے ہوئے تھے، سائے بڑھے ہوئے تھے۔ مسلمان صحابہ رضی اللہ عنہم اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیاریوں میں تھے، میری یہ حالت تھی کہ صبح نکلتا تھا کہ سامان تیار کر لوں لیکن ادھر ادھر شام ہو جاتی اور میں خالی ہاتھ گھر لوٹ جاتا۔ اور کہتا کوئی بات نہیں، روپیہ ہاتھ تلے ہے، کل خرید لوں گا اور تیاری کر لوں گا۔ یہاں تک کہ یوں ہی صبح شام، صبح شام آج کل آج کل کرتے کوچ کا دن آ گیا اور لشکر اسلام بجانب تبوک چل پڑا میں نے کہا کوئی بات نہیں ایک دو دن میں میں بھی پہنچتا ہوں۔ یونہی آج کا کام کل پر ڈالا اور کل کا پرسوں پر یہاں تک کہ لشکر دور جا پہنچا۔ گرے پڑے لوگ بھی چل دیئے۔ میں نے کہا خیر چلے گئے اور کئی دن ہو گئے تو کیا ہوا میں تیز چل کر جا ملوں گا؟ لیکن افسوس کہ یہ بھی مجھ سے نہ ہو سکا۔ ارادوں ہی ارادوں میں رہ گیا۔ اب تو یہ حالت تھی میں بازاروں میں نکلتا تو مجھے سوائے منافقوں اور بیمار لولے لنگڑے اندھے مریضوں اور معذور لوگوں کے اور کوئی نظر نہ آتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک پہنچ کر مجھے یاد فرمایا کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کیا کیا؟ اس پر بنو سلمہ کے ایک شخص نے کہا: ”اسے تو اچھے کپڑوں اور جسم کی راحت رسانی نے روک رکھا ہے۔‏‏‏‏“ یہ سن کر سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ یہ درست نہیں فرما رہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارا خیال تو کعب کی نسبت بہتر ہی ہے۔‏‏‏‏“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ اب آپ لوٹ رہے ہیں تو میرا جی بہت ہی گھبرایا۔ اور میں حیلے بہانے سوچنے لگا کہ یوں یوں بہانہ بنا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غصے سے نکل جاؤں گا اپنے والوں سے بھی رائے ملا لوں گا۔

یہاں تک کہ مجھے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے شریف کے قریب آگئے تو میرے دل سے باطل اور جھوٹ بالکل الگ ہو گیا۔ اور میں نے سمجھ لیا کہ جھوٹے حیلے مجھے نجات نہیں دلوا سکے۔ سچ ہی کا آخر بول بالا رہتا ہے۔ پس میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ جھوٹ نہیں بولوں گا۔صاف صاف سچ سچ بات کہ دوں گا۔ آپ خیر سے تشریف لائے اور حسبِ عادت پہلے مسجد میں آئے، دو رکعت نماز ادا کی اور وہیں بیٹھے اسی وقت اس جہاد میں شرکت نہ کرنے والےآنے لگے اور عذر معذرت کرنے لگے۔ یہ لوگ اسی 80 سے کچھ اوپر تھے۔ آپ ان کی باتیں سنتے اور اندرونی حالت سپرد الہٰ کر کے ظاہری باتوں کو قبول فرما کر ان کے لئے استغفار کرتے۔ میں بھی حاضر ہوا اور سلام کیا۔ آپ نے غصے سے تبسم فرمایا اورر مجھے اپنے پاس بلایا میں قریب آن کر بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا: ”تم کیسے رک گئے؟ تم نے سواری بھی خرید لی تھی۔‏‏‏‏“ میں نے کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ کے سوا کسی اور کے پاس میں بیٹھا ہوتا تو بیسیوں باتیں بنا لیتا۔ بولنے میں اور باتیں بنانے میں میں کسی سے پیچھے نہیں ہوں۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ اگر آج جھوٹ سچ ملا کر آپ کے غصے سے میں آزاد ہو گیا تو ممکن ہے کل اللہ تعالیٰ آپ کو حقیقت حال سے مطلع فرما دے کر پھر مجھ سے ناراض کر دے۔ اور آج سچ کی بنا پر اگر آپ مجھ سے بگڑیں تو ہو سکتا ہے کہ میری سچائی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے پھر خوش کر دے۔‏‏‏‏“

”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سچ تو یہ ہے کہ واللہ! مجھے کوئی عذر نہ تھا۔ مجھے اس وقت جو آسانی اور فرصت تھی، اتنی تو کبھی اس سے پہلے میسر بھی نہیں ہوئی۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہے تو یہ سچا۔ اچھا تم جاؤ اللہ تمہارے بارے میں جو فیصلہ کرے گا وہی ہو گا۔‏‏‏‏“ میں کھڑا ہو گیا، بنو سلمہ کے چند شخص بھی میرے ساتھ ہی اٹھے اور ساتھ ہی چلے اور مجھ سے کہنے لگے اس سے پہلے تو تم سے کبھی کوئی اس قسم کی خطا نہیں ہوئی۔ لیکن تعجب ہے کہ تو نے کوئی عذر معذرت پیش نہیں کی جیسے کہ اوروں نے کی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم تمہارے لیے استغفار کرتے تو تمہیں یہ کافی تھا۔ الغرض کچھ اس طرح یہ لوگ میرے پیچھے پڑے کہ مجھے خیال آنے لگا کہ پھر واپس جاؤں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی پہلی بات کو جھٹلا کر کوئی حیلہ غلط سلط میں بھی پیش کر دوں۔ پھر میں نے پوچھا: ”کیوں جی کوئی اور بھی میرے جیسا اس معاملے میں اور ہے“؟ انہوں نے کہا: ”ہاں دو شخص اور ہیں اور انہیں بھی وہی جواب ملا ہے جو تمہیں ملا ہے۔‏‏‏‏“ میں نے کہا: ”وہ کون کون ہیں“؟ انہوں نے جواب دیا مرارہ بن ربیع عامری اور حلال بن امیہ واقفی رضی اللہ عنہما۔ ان دونوں صالح اور نیک بدری صحابیوں کا نام جب میں نے سنا تو مجھے پورا اطمینان ہو گیا اور میں گھر چلا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تینوں سے کلام کرنے سے مسلمانوں کو روک دیا تھا۔ لوگ ہم سے الگ ہو گئے، کوئی ہم سے بولتا چالتا نہ تھا یہاں تک کہ مجھے تو اپنا وطن پر دیس معلوم ہونے لگا کہ گویا میں یہاں کی کسی چیز سے واقف ہی نہیں ہوں۔ پچاس راتیں ہم پر اسی طرح گزر گئیں۔ وہ دونوں بدری بزرگ تو تھک ہار کر اپنے اپنے مکانوں میں بیٹھ رہے، باہر اندر آنا جانا بھی انہوں نے چھوڑ دیا۔ میں ذرا زیادہ آنے جانے والا اور تیز طبعیت والا تھا۔ نہ میں نے مسجد جانا چھوڑا، نہ بازاروں میں جانا آنا ترک کیا۔ مجھ سے کوئی بولتا نہ تھا۔ نماز کے بعد جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں لوگوں کے مجمع میں تشریف فرما ہوتے تو میں آتا اور سلام کرتا اور اپنے جی میں کہتا کہ میرے سلام کے جواب میں آپ کے ہونٹ ہلے بھی یا نہیں؟ پھر آپ کے قریب ہی کہیں بیٹھ جاتا اور کن انکھیوں سے آپ کو دیکھتا رہتا۔ جب میں نماز میں ہوتا تو آپ کی نگاہ مجھ پر پڑتی لیکن جہاں میں آپ کی طرف التفات کرتا، آپ میری طرف سے منہ موڑ لیتے۔ آخر اس ترک کلامی کی طویل مدت نے مجھے پریشان کر دیا۔ ایک روز میں اپنے چچا زاد بھائی ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے باغ کی دیوار سے کود کر ان کے پاس گیا۔ مجھے ان سے بہت ہی محبت تھی۔ میں نے سلام کیا لیکن واللہ! انہوں نے جواب نہ دیا۔ میں نے کہا: ”ابو قتادہ رضی اللہ عنہ تجھے اللہ کی قسم کیا تو نہیں جانتا میں اللہ، رسول سے محبت رکھتا ہوں“؟ اس نے پھر خاموشی اختیار کی میں نے دوبارہ انہیں قسم دی اور پوچھا وہ پھر بھی خاموش رہے میں نے سہ بارہ انہیں قسم دے کر یہی سوال کیا اس کے جواب میں بھی وہ خاموش رہے اور فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول کو ذیادہ علم ہے۔‏‏‏‏“ اب تو میں اپنے دل کو نہ روک سکا۔ میری دونوں آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور بہت ہی غمگین ہو کر میں پھر دیوار پر چڑھ کر باہر نکل گیا۔ میں بازار جا رہا تھا کہ میں نے شام کے ایک قبطی کو جو مدینہ میں غلہ بیچنے آیا تھا یہ پوچھتے ہوئے سنا کہ کوئی مجھے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کا پتہ بتا دے۔ لوگوں نے اسے میری طرف اشارہ کر کے بتا دیا وہ میرے پاس آیا اور مجھے شاہ غسان کا خط دیا۔

میں لکھا پڑھا تو تھا ہی۔ میں نے پڑھا تو اس میں لکھا تھا ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تمہارے سردار نے تم پر ظلم کیا ہے تم کوئی ایسے گرے پڑے آدمی نہیں ہو تم یہاں دربار میں چلے آؤ۔ ہم ہر طرح کی خدمت گزاریوں کے لیے تیار ہیں۔ میں نے اپنے دل میں سوچا یہ ایک اور مصیبت اور منجانب اللہ آزمائش ہے۔ میں نے تو جا کر چولھے میں اس رقعے کو جلا دیا۔ چالیس راتیں جب گزر چکیں تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد میرے پاس آ رہا ہے اس نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچایا تم اپنی بیوی سے علیحدہ رہو۔ میں نے پوچھا: ”یعنی کیا طلاق دے دوں یا کیا کروں“؟ اس نے کہا: ”نہیں طلاق نہ دو لیکن ان سے ملو جلو نہیں۔‏‏‏‏“ میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی یہی پیغام پہنچا۔ میں نے تو اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ تم اپنے میکے چلی جاؤ اور وہیں رہو جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس امر کا فیصلہ نہ کر دے۔ ہاں سیدنا ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کی بیوی نے آن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ”میرے خاوند بہت بوڑھے ہیں، کمزور بھی ہیں اور گھر میں کوئی خادم بھی نہیں اگر آپ اجازت دیں تو میں ان کا کام کاج کر دیا کروں۔‏‏‏‏“ آپ نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں لیکن وہ تم سے ملیں نہیں۔‏‏‏‏“ انہوں نے کہا: ”واللہ! ان میں تو حرکت کی قوت ہی نہیں اور جب سے یہ بات پیدا ہوئی ہے تب سے لے کر آج تک ان کے آنسو تھمے ہی نہیں۔‏‏‏‏“ مجھ سے بھی میرے بعض دوستوں نے کہا کہ تم بھی اتنی اجازت تو حاصل کر لو جتنی سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ کے لیے ملی ہے۔ لیکن میں نے جواب دیا کہ میں اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہیں کہوں گا۔ اللہ جانے آپ جواب میں کیا ارشاد فرمائیں؟ ظاہر ہے کہ وہ بوڑھے آدمی ہیں اور میں جوان ہوں۔

دس دن اس بات پر بھی گزر گئے۔ اور ہم سے سلام کلام بند ہونے کی پوری پچاس راتیں گزر چکیں۔ اس پچاسویں رات کو صبح کی نماز میں نے اپنے گھر کی چھت پر ادا کی۔ اور میں دل برداشتہ حیران و پریشان اسی حالت میں بیٹھا ہوا تھا جس کا نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے کہ اپنی جان سے تنگ تھا، زمین باوجود اپنی کشادگی کے مجھ پر تنگ تھی کہ میرے کان میں سلع پہاڑی پر سے کسی کی آواز آئی کہ وہ با آواز بلند کہہ رہا تھا کہ اے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ خوش ہو جا۔ واللہ! میں اس وقت سجدے میں گڑ پڑا اور سمجھ گیا کہ اللہ عزوجل کی طرف سے قبولیت توبہ کی کوئی خبر آ گئی۔ بات بھی یہی تھی صبح کی نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر صحابہ سے بیان فرمائی تھی اور یہ سنتے ہی وہ پیدل اور سوار ہم تینوں کی طرف دوڑ پڑے تھے کہ ہمیں خبر پہنچائیں۔ ایک صاحب تو اپنے گھوڑے پر سوار میری طرف خوشخبری لیے ہوئے آ رہے تھے لیکن اسلم کے ایک صاحب نے دوڑ کر پہاڑ پر چڑھ کر باآواز بلند میرا نام لے کر مجھے خوشخبری پہنچائی سوار سے پہلے ان کی آواز میرے کان میں آ گئی۔ جب یہ صاحب میرے پاس پہنچے تو میں نے اپنے پہنے ہوئے دونوں کپڑے انہیں بطور انعام دے دیئے واللہ! اس دن میرے پاس اور کچھ بھی نہ تھا۔ دو کپڑے اور ادھار لے کر میں نے پہنے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے گھر سے نکلا۔ راستے میں جوق در جوق لوگ مجھ سے ملنے لگے اور مجھے میری توبہ کی بشارت مبارکباد دینے لگے۔ کہ کعب رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کا تمہاری توبہ کو قبول فرما لینا تمہیں مبارک ہو۔ میں جب مسجد میں پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور دیگر صحابہ بھی حاضر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔

مجھے دیکھتے ہی طلحہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور دوڑتے ہوئے آگے بڑھ کر مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارک باد دی۔ مہاجرین میں سے سوائے ان کے اور کوئی صاحب کھڑے نہیں ہوئے۔ کعب طلحہ کی اس محبت کو ہمیشہ ہی اپنے دل میں لیے رہے۔ جب میں نے جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سلام کیا، اس وقت آپ کے چہرہ مبارک کی رگیں خوشی سے چمک رہی تھیں۔ آپ نے فرمایا کعب تم پر تمہاری پیدائش سے لے کر آج تک آج جیسا خوشی کا دن کوئی نہیں گزرا۔ میں نے کہا یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ یہ خوشخبری آپ کی طرف سے ہے یا اللہ تعالیٰ عزوجل کی جانب سے؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی خوشی ہوتی تو آپ کا چہرہ مثل چاند کے ٹکڑے کے چمکنے لگ جاتا تھا اور ہر شخص چہرے مبارک کو دیکھتے ہی پہنچان لیا کرتا تھا۔ میں نے آپ کے پاس بیٹھ کر عرض کیا کہ یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ میں نے نذر مانی ہے کہ اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول فرما لے تو میرا سب مال اللہ کے نام صدقہ ہے۔ اس کے رسول کے سپرد ہے۔ آپ نے فرمایا تھوڑا بہت مال اپنے پاس رکھ لو، یہی تمہارے لیے بہتر ہے۔ میں نے کہا جو حصہ میرا خیبر میں ہے وہ تو میرا رہا باقی للہ خیرات ہے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری نجات کا ذریعہ میرا سچ بولنا ہے میں نے یہ بھی نذر مانی ہے کہ باقی زندگی بھی سوائے سچ کے کوئی کلمہ زبان سے نہیں نکالوں گا۔

میرا ایمان ہے کہ سچ کی وجہ سے جو نعمت اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی وہ کسی مسلمان کو نہیں ملی۔ اس وقت سے لے کر آج تک بحمد اللہ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اور جو عمر باقی ہے، اس میں بھی اللہ تعالیٰ سے مجھے یہی امید ہے۔ اللہ رب العزت نے «لَّقَد تَّابَ اللَّـهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ» [ 9-التوبہ: 117 ] ‏‏‏‏ سے کئی آیتیں تک ہماری توبہ کے بارے نازل فرمائیں۔ اسلام کی نعمت کے بعد مجھ پر اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت یہ بھی ہے کہ میں نے اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی جھوٹ بات نہ کہی جیسے کہ اوروں نے جھوٹی باتیں بنائیں ورنہ میں بھی ان کی طرح ہلاک ہو جاتا۔ ان جھوٹے لوگوں کو کلام اللہ شریف میں بہت ہی برا کہا گیا۔ فرمایا «سَيَحْلِفُونَ بِاللَّـهِ لَكُمْ إِذَا انقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْهُمْ ۖ فَأَعْرِضُوا عَنْهُمْ ۖ إِنَّهُمْ رِجْسٌ ۖ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ ۖ فَإِن تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يَرْضَىٰ عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ» ‏‏‏‏ [ 9- التوبة: 95، 96 ] ‏‏‏‏ یعنی تمہارے واپس آنے کے بعد یہ لوگ قسمیں کھا کھا کر چاہتے ہیں کہ تم ان سے چشم پوشی کر لو۔ اچھا تم چشم پوشی کر لو لیکن یاد رہے کہ اللہ کے نزدیک یہ لوگ گندے اور پلید ہیں۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو ان کے عمل کا بدلہ ہو گا۔ یہ تمہیں رضامند کرنے کے لیے حلف اٹھا رہے ہیں تم گو ان سے راضی ہو جاؤ لیکن ایسے فاسق لوگوں سے اللہ خوش نہیں۔ تم تینوں کے امر ان لوگوں کے امر سے پیچھے ڈال دیا گیا تھا۔ ان کے عذر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمائے تھے، ان سے دوبارہ بیعت کر لی تھی اور ان کے لیے استغفار بھی کیا تھا۔

اور ہمارا معاملہ تاخیر میں پڑ گیا تھا جس کا فیصلہ خود اللہ تعالیٰ نے فرما دیا۔ اسی لیے آیت کے الفاظ «وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا» ہیں۔ پس اس پیچھے چھوڑ دئیے جانے سے مراد غزوے سے رک جانا نہیں بلکہ ان لوگوں کے جھوٹے عذر کے قبول کئے جانے سے ہمارا معاملہ مؤخر کر دینا ہے۔ یہ حدیث بالکل صحیح ہے بخاری مسلم دونوں میں ہے۔ الحمداللہ اس حدیث میں اس آیت کی پوری اور صحیح تفسیر موجود ہے۔ کہ تینوں بزرگ انصاری تھے رضی اللہ عنہم اجمعین۔ ایک روایت میں مرارہ بن ربیعہ کے بدلے ربیع بن مرارہ آیا ہے۔ ایک میں ربیع بن مرار یا مرار بن ربیع ہے۔ لیکن صحیح وہی ہے جو بخاری و مسلم میں ہے یعنی مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہ۔ ہاں زہری کی اوپر والی روایت میں جو یہ لفظ ہے کہ وہ دونوں بدری صحابی تھے جو کعب کی طرح چھوڑ دئیے گئے تھے یہ خطا ہے۔ ان تینوں بزرگوں میں سے ایک بھی بدری نہیں واللہ اعلم۔ چونکہ آیت میں ذکر تھا کہ کسی طرح ان بزرگوں نے صحیح سچا واقع کہہ دیا جس سے گو کچھ دنوں تک وہ رنج و غم میں رہے لیکن آخر سلامتی اور ابدی راحت ملی۔ اس کے بعد ہی فرماتا ہے کہ اے مومنو سچ بولا کرو اور سچائی کو لازم پکڑے رہو سچوں میں ہو جاؤ تاکہ ہلاکت سے نجات پاؤ، غم رنجم سے چھوٹ جاؤ۔

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ لوگو سچائی کو لازم کر لو، سچ بھلائی کی رہبری کرتا ہے اور بھلائی جنت کی رہبری کرتی ہے۔ انسان کے سچ بولنے اور سچ پر کار بند رہنے سے اللہ کے ہاں صدیق لکھ لیا جاتا ہے۔ جھوٹ سے بچو۔ جھوٹ بولتے رہنے سے اللہ کے ہاں کذاب لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں قصداً یا مذاقاً کسی حالت میں بھی جھوٹ انسان کے لائق نہیں۔ کیونکہ اللہ مالک الملک فرماتا ہے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھی بن جاؤ، پس کیا تم اس میں کسی کے لیے بھی رخصت پاتے ہو؟ بقول عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سچوں سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہیں۔ اگر سچوں کے ساتھ بننا چاہتے ہو تو دنیا میں بیرغبت رہو اور مسلمانوں کو نہ ستاؤ۔
119۔ 1 سچائی ہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان تینوں صحابہ کی غلطی نہ صرف معاف فرما دی بلکہ ان کی توبہ کو قرآن بنا کر نازل فرما دیا۔ ؓ و رضوا عنہ۔ اس لئے مومنین کو حکم دیا گیا کہ اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔ اس کا مطلب یہ ہی کہ جس کے اندر تقوٰی (یعنی اللہ کا خوف) ہوگا، وہ سچا بھی ہوگا اور جو جھوٹا ہوگا، سمجھ لو کہ اس کا دل تقویٰ سے خالی ہے۔ اسی لئے حدیث میں آتا ہے کہ مومن سے کچھ اور کوتاہیوں کا صدور تو ہوسکتا ہے لیکن وہ جھوٹا نہیں ہوتا۔
(آیت 119) {وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ:} یہ صادقین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مخلص صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں۔ صدق نیت، قول اور فعل تینوں میں ہو تو صدق ہے، ورنہ فعل قول کی تکذیب کرے تو یہ بھی صدق نہیں، اس لیے جو لوگ اپنے اخلاص نیت اور قول کے مطابق عملاً تبوک کی طرف نکلے بھی وہی صادقین ٹھہرے اور ان کا ساتھ دینے کا حکم دیا گیا۔ ان تینوں نے بھی سچ کہا، اپنی خطا مانی اس لیے بخشے گئے، نہیں تو منافقین میں ملتے۔ (موضح) اللہ تعالیٰ نے سچے مومن قرار ہی ان لوگوں کو دیا ہے جو ایمان لانے کے بعد شک میں مبتلا نہیں ہوئے اور اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا، فرمایا کہ صادق صرف یہی لوگ ہیں۔ دیکھیے سورۂ حجرات (۱۵) اور سورۂ حشر (۸) کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا انعام مجھ پر یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سچ بولا، ورنہ میں بھی جھوٹ بول کر ہلاک ہو جاتا جس طرح دوسرے ہلاک ہو گئے۔ [بخاری، المغازی، باب حدیث کعب بن مالک رضی اللہ عنہ …: ۴۴۱۸] بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس سچ بولنے کے انعام میں ان کی توبہ کا تذکرہ قرآن میں فرمایا جو قیامت تک پڑھا جائے گا۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سچ کو لازم پکڑو، کیونکہ سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی سچ کہتا رہتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش کرتا رہتا ہے، حتیٰ کہ اللہ کے ہاں صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ سے بچ جاؤ، کیونکہ جھوٹ نافرمانی کی طرف لے جاتا ہے اور نافرمانی آگ کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی جھوٹ کہتا رہتا ہے اور جھوٹ کی کوشش کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔“ [ بخاری، الأدب، باب قول اللہ تعالٰی: «‏‏‏‏یأیھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ …» : ۶۰۹۴۔ مسلم: ۲۶۰۷ ]
مَا کَانَ لِاَہۡلِ الۡمَدِیۡنَۃِ وَ مَنۡ حَوۡلَہُمۡ مِّنَ الۡاَعۡرَابِ اَنۡ یَّتَخَلَّفُوۡا عَنۡ رَّسُوۡلِ اللّٰہِ وَ لَا یَرۡغَبُوۡا بِاَنۡفُسِہِمۡ عَنۡ نَّفۡسِہٖ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ لَا یُصِیۡبُہُمۡ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخۡمَصَۃٌ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لَا یَطَـُٔوۡنَ مَوۡطِئًا یَّغِیۡظُ الۡکُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوۡنَ مِنۡ عَدُوٍّ نَّیۡلًا اِلَّا کُتِبَ لَہُمۡ بِہٖ عَمَلٌ صَالِحٌ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۲۰﴾ۙ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مدینے کے باشندوں اور گرد و نواح کے بدویوں کو یہ ہرگز زبیا نہ تھا کہ اللہ کے رسول کو چھوڑ کر گھر بیٹھ رہتے اور اس کی طرف سے بے پروا ہو کر اپنے اپنے نفس کی فکر میں لگ جاتے اس لیے کہ ایسا کبھی نہ ہوگا کہ اللہ کی راہ میں بھوک پیاس اور جسمانی مشقت کی کوئی تکلیف وہ جھیلیں، اور منکرین حق کو جو راہ ناگوار ہے اُس پر کوئی قدم وہ اٹھائیں، اور کسی دشمن سے (عداوت حق کا) کا کوئی انتقام وہ لیں اور اس کے بدلے ان کے حق میں ایک عمل صالح نہ لکھا جائے یقیناً اللہ کے ہاں محسنوں کا حق الخدمت مارا نہیں جاتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گردوپیش ہیں ان کو یہ زیبا نہ تھا کہ رسول اللہ کو چھوڑ کر پیچھے ره جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جان کو ان کی جان سے عزیز سمجھیں، یہ اس سبب سے کہ ان کو اللہ کی راه میں جو پیاس لگی اور جو تکان پہنچی اور جو بھوک لگی اور جو کسی ایسی جگہ چلے جو کفار کے لیے موجب غیﻆ ہوا ہو اور دشمنوں کی جو کچھ خبر لی، ان سب پر ان کے نام (ایک ایک) نیک کام لکھا گیا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ مخلصین کا اجر ضائع نہیں کرتا
احمد رضا خان بریلوی
مدینہ والوں اور ان کے گرد دیہات والوں کو لائق نہ تھا کہ رسول اللہ سے پیچھے بیٹھ رہیں اور نہ یہ کہ ان کی جان سے اپنی جان پیاری سمجھیں یہ اس لیے کہ انہیں جو پیاس یا تکلیف یا بھوک اللہ کی راہ میں پہنچتی ہے اور جہاں ایسی جگہ قدم رکھتے ہیں جس سے کافروں کو غیظ آئے اور جو کچھ کسی دشمن کا بگاڑتے ہیں اس سب کے بدلے ان کے لیے نیک عمل لکھا جاتا ہے بیشک اللہ نیکوں کا نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتا،
علامہ محمد حسین نجفی
مدینہ کے باشندوں اور صحرائی عربوں کے لیے یہ درست نہیں ہے کہ پیغمبر خدا کا ساتھ چھوڑ کر پیچھے بیٹھیں۔ اور ان کی جان کی پرواہ نہ کرکے اپنی جانوں کی فکر میں لگ جائیں یہ اس لیے ہے کہ ان (مجاہدین) کو راہ خدا میں (جو بھی مصیبت پیش آتی ہے۔ وہ خواہ) پیاس ہو، جسمانی زحمت و مشقت ہو، بھوک ہو۔ یا کسی ایسے راستہ پر چلنا جو کافروں کے غم و غصہ کا باعث ہو یا دشمن کے مقابلہ میں کوئی کامیابی حاصل کرنا مگر یہ کہ ان تمام تکلیفوں کے عوض ان کے لیے ان کے نامۂ اعمال میں نیک عمل لکھا جاتا ہے یقینا اللہ نیکوکاروں کا اجر و ثواب ضائع نہیں کرتا۔
عبدالسلام بن محمد
مدینہ والوں کا اور ان کے ارد گرد جو بدوی ہیں، ان کا حق نہ تھا کہ وہ رسول اللہ سے پیچھے رہتے اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اس کی جان سے زیادہ عزیز رکھتے۔ یہ اس لیے کہ وہ، اللہ کے راستے میں انھیں نہ کوئی پیاس پہنچتی ہے اور نہ کوئی تکان اور نہ کوئی بھوک اور نہ کسی ایسی جگہ پر قدم رکھتے ہیں جو کافروں کو غصہ دلائے اور نہ کسی دشمن سے کوئی کامیابی حاصل کرتے ہیں، مگر اس کے بدلے ان کے لیے ایک نیک عمل لکھ دیا جاتا ہے۔ یقینا اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
غزوہ تبوک میں شامل نہ ہو نے والوں کو تنبیہہ ٭٭

ان لوگوں کو غزوہ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں گئے تھے اللہ تعالیٰ ڈانٹ رہا ہے کہ مدینے والوں کو اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو مجاہدین کے برابر ثواب والا نہیں سمجھنا چاہیئے۔ وہ اس اجر و ثواب سے محروم رہ گئے جو ان مجاہدین فی سبیل اللہ کو ملا۔ مجاہدین کو ان کی پیاس پر، تکلیف پر بھوک پر، ٹھہرنے اور چلنے پر، ظفر اور غلبے پر، غرض ہر ہر حرکت و سکون پر اللہ کی طرف سے اجر عظیم ملتا رہتا ہے۔ رب کی ذات اس سے پاک ہے کہ کسی نیکی کرنے والے کی محنت برباد کر دے۔ ۱؎ [18-الکھف:30] ‏‏‏‏
120۔ 1 جنگ تبوک میں شرکت کے لئے چونکہ عام منادی کردی گئی تھی، اس لئے معزورین، بوڑھے اور دیگر شرعی عذر رکھنے والوں کے علاوہ۔ سب کے لئے اس میں شرکت ضروری تھی لیکن پھر بھی جو مدینہ یا اطراف مدینہ میں اس جہاد میں شریک نہیں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ان کو لعنت ملامت کرتے ہوئے فرما رہا ہے کہ ان کو رسول اللہ سے پیچھے نہیں رہنا چاہیے تھا۔ 120۔ 2 یعنی یہ بھی ان کے لئے زیبا نہیں کہ خود اپنی جانوں کا تحفظ کرلیں اور رسول اللہ کی جان کے تحفظ کا انہیں خیال نہ ہو۔ بلکہ انہیں رسول کے ساتھ رہ کر اپنے سے زیادہ ان کی تحفظ کا اہتمام کرنا چاہئے۔ 120۔ 3 ذٰ لِکَ سے پیچھے نہ رہنے کی علت بیان کی جا رہی ہے۔ یعنی انہیں اس لئے پیچھے نہیں رہنا چایئے کہ اللہ کی راہ میں انہیں جو پیاس، تھکاوٹ، بھوک پہنچے گی یا ایسے اقدام، جن سے کافروں کے غیظ و غضب میں اضافہ ہوگا، اسی طرح دشمنوں کے آدمیوں کو قتل یا ان کو قیدی بناؤ گے، یہ سب کے سب کام عمل صالح لکھے جائیں گے یعنی عمل صالح صرف یہی نہیں ہے کہ آدمی مسجد میں یا کسی ایک گوشے میں بیٹھ کر نوافل، تلاوت، ذکر الٰہی وغیرہ کرے بلکہ جہاد میں پیش آنے والی ہر تکلیف اور پریشانی، حتیٰ کہ وہ کاروائیاں بھی جن سے دشمن کے دلوں میں خوف پیدا ہو یا غیظ بھڑکے، ان میں سے ہر ایک چیز اللہ کے ہاں عمل صالح لکھی جائے گی، اس لئے محض شوق عبادت میں بھی جہاد سے گریز صحیح نہیں، چہ جائے کہ بغیر عذر کے ہی آدمی جہاد سے جی چرائے؟ 120۔ 4 اس سے مراد پیادہ، یا گھوڑوں وغیرہ پر سوار ہو کر ایسے علاقوں سے گزرنا ہے کہ ان کے قدموں کی چابوں اور گھوڑوں کی ٹاپوں سے دشمن کے دلوں پر لرزہ طاری ہوجائے اور ان کی آتش غیظ بھڑک اٹھے 120۔ 5 دشمن سے ' کوئی چیز لیتے ہیں یا ان کی خبر لیتے ہیں ' سے مراد، ان کے آدمیوں کو قتل یا قیدی کرتے ہیں یا انہیں شکست سے دو چار کرتے اور مال غنیمت حاصل کرتے ہیں۔
(آیت 120) ➊ {مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِيْنَةِ …: } مدینہ میں رہنے والے لوگوں اور ان کے اردگرد رہنے والے بدویوں یعنی مزینہ، جہینہ، اشجع، اسلم اور غفار وغیرہ قبائل کے لوگوں کو حکم دیا گیا کہ تنگی اور تکلیف میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہیں اور مشکل مواقع پر پیش آنے والے تمام مصائب و آلام میں خوش دلی کے ساتھ آپ کے ہمراہ رہیں، جو سختیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھا رہے ہیں وہ بھی اٹھائیں، کیونکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ عزیز اور مکرم آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں، تو جب آپ اتنی عزت و کرامت کے باوجود ان سختیوں اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں تو پھر سب کا حق ہے کہ جن چیزوں کا سامنا آپ کر رہے ہیں وہ بھی کریں اور آپ کی جان عزیز کی خاطر اپنی جانوں کی نہ پروا کریں، نہ ان کی کوئی قدر وقیمت سمجھیں، کجا یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنی جان اور اپنا راحت و آرام سب کچھ قربانی کے لیے پیش کریں اور یہ اپنی جانیں بچا بچا کر رکھیں، یہ کبھی بھی ان کا حق نہیں بنتا۔ (زمخشری) عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: ”یا رسول اللہ! یقینا آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں، سوائے میری جان کے۔“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہاں تک کہ میں تمھیں تمھاری جان سے بھی زیادہ محبوب ہو جاؤں۔“ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تو پھر یقین کیجیے کہ اب اللہ کی قسم! آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب اے عمر! (تو کامل مومن ہوا)۔“ [ بخاری، الأیمان والنذور، باب کیف کان یمین النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ۶۶۳۲ ] ➋ { ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا يُصِيْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ …: ” ظَمَاٌ “} پیاس، {” نَصَبٌ “} تھکاوٹ، مشقت، محنت۔ {” مَخْمَصَةٌ “} سخت بھوک جس میں پیٹ ساتھ لگ جائے، جس طرح پاؤں کا تلوا ({اَخْمَصُ}) ہوتا ہے۔ {” وَطِئَ يَطَأُمَوْطِئًا} (ع)“ ظرف ہے، روندنے، قدم رکھنے کی جگہ۔ {”غَاظَ يَغِيْظُ“} غصہ دلانا، یعنی جن راستوں، پہاڑیوں، بستیوں، زمینوں، مکانوں اور کھیتوں وغیرہ پر ان کے قدم رکھنے سے یا ان کے گھوڑوں اور دوسری سواریوں کے انھیں روندتے ہوئے گزرنے سے کفار کے دلوں میں غصہ اور جلن پیدا ہو اور وہ ہراساں اور خوف زدہ ہوں۔ (ابن کثیر) {” وَ لَا يَنَالُوْنَ”نَالَ يَنَالُ“} کا لفظی معنی لینا، حاصل کرنا ہے، یعنی مسلمان دشمن کی کوئی زمین یا شہر فتح کریں، یا انھیں قتل یا قید کریں، یا مال غنیمت حاصل کریں، یا انھیں کوئی نقصان پہنچائیں، غرض ان سے حاصل ہونے والی ہر کامیابی اور ہر نیک عمل لکھ دیا جاتا ہے اور اس کا اجر انھیں ضرور ملے گا، کیونکہ ان کے یہ تمام اعمال اللہ کی خاطر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری میں ہیں اور اسی کا نام احسان اور نیکی ہے اور اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا۔
وَ لَا یُنۡفِقُوۡنَ نَفَقَۃً صَغِیۡرَۃً وَّ لَا کَبِیۡرَۃً وَّ لَا یَقۡطَعُوۡنَ وَادِیًا اِلَّا کُتِبَ لَہُمۡ لِیَجۡزِیَہُمُ اللّٰہُ اَحۡسَنَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اسی طرح یہ بھی کبھی نہ ہوگا کہ (راہ خدا میں) تھوڑا یا بہت کوئی خرچ وہ اٹھائیں اور (سعی جہاد میں) کوئی وادی وہ پار کریں اور ان کے حق میں اسے لکھ نہ لیا جائے تاکہ اللہ ان کے اس اچھے کارنامے کا صلہ انہیں عطا کرے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو کچھ چھوٹا بڑا انہوں نے خرچ کیا اور جتنے میدان ان کو طے کرنے پڑے، یہ سب بھی ان کے نام لکھا گیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے کاموں کا اچھے سے اچھا بدلہ دے
احمد رضا خان بریلوی
اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں چھوٹا یا بڑا اور جو نالا طے کرتے ہیں سب ان کے لیے لکھا جاتا ہے تاکہ اللہ ان کے سب سے بہتر کاموں کا انہیں صلہ دے
علامہ محمد حسین نجفی
اسی طرح وہ راہِ خدا میں کوئی تھوڑا یا بہت مال خرچ نہیں کرتے اور نہ کوئی وادی (میدان) طئے کرتے ہیں مگر یہ کہ ان کے لئے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ خدا ان کی کار گزاریوں کا اچھے سے اچھا بدلہ دے۔
عبدالسلام بن محمد
اور نہ وہ خرچ کرتے ہیں کوئی چھوٹا خرچ اور نہ کوئی بڑا اور نہ کوئی وادی طے کرتے ہیں، مگر وہ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے، تاکہ اللہ انھیں اس عمل کی بہترین جزا دے جو وہ کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مجاہدین کے اعمال کا بہترین بدلہ قربت الٰہی ہے ٭٭

یہ مجاہد جو کچھ تھوڑا بہت خرچ کریں اور راہ اللہ میں جس زمین پر چلیں پھریں، وہ سب ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ نکتہ یاد رہے کہ اوپر کا کام ذکر کر کے اجر کے بیان میں لفظ «بہ» لائے تھے اور یہاں نہیں لائے اس لیے کہ وہ غیر اختیار افعال تھے اور یہ خود ان سے صادر ہوتے ہیں۔ پس یہاں فرماتا ہے کہ انہیں ان کے اعمال کا بہترین بدلہ اللہ تعالیٰ دے گا۔ اس آیت کا بہت بڑا حصہ اور اس کا کامل اجر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سمیٹا ہے۔ غزوہ تبوک میں آپ رضی اللہ عنہ نے دل کھول کر خرچ کیا۔ چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں اس سختی کے لشکر کی امداد کا ذکر فرما کر اس کی رغبت دلائی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایک سو اونٹ مع کجاوے، پالان، رسیوں وغیرہ کے میں دوں گا۔‏‏‏‏“ آپ نے پھر اسی کو بیان فرمایا تو پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایک سو اور بھی دوں گا۔‏‏‏‏“ آپ ایک زینہ منبر کا اترے پھر رغبت دلائی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پھر فرمایا: ”ایک سو اور بھی“ آپ نے خوشی خوشی اپنا ہاتھ ہلاتے ہوئے فرمایا: ”بس عثمان! آج کے بعد کوئی عمل نہ بھی کرے تو بھی یہی کافی ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:75/4:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ ایک ہزار دینار کی تھیلی لا کر سیدنا عثمان نے آپ کے پلے میں ڈال دی۔ آپ انہیں اپنے ہاتھ سے الٹ پلٹ کرتے جاتے تھے اور فرما رہے تھے آج کے بعد یہ جو بھی عمل کریں انہیں نقصان نہ دے گا۔ باربار یہی فرماتے رہے۔ ۱؎ [مسند احمد:63/5:حسن] ‏‏‏‏ اس آیت کی تفسیر میں سیدنا قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جس قدر انسان اپنے وطن سے اللہ کی راہ میں دور نکلتا ہے، اتنا ہی اللہ کے قرب میں بڑھتا ہے۔‏‏‏‏“
121۔ 1 پہاڑوں کے میدان اور پانی کی گزرگاہ کو وادی کہتے ہیں۔ مراد یہاں مطلق وادیاں اور علاقے ہیں۔ یعنی اللہ کی راہ میں تھوڑا یا زیادہ جتنا بھی خرچ کرو گے اسی طرح جتنے بھی میدان طے کرو گے، (یعنی جہاد میں تھوڑا یا زیادہ سفر کرو گے) یہ سب نیکیاں تمہارے نامہ اعمال میں درج ہونگی جن پر اللہ تعالیٰ اچھا سے اچھا بدلہ عطا فرمائے گا۔
(آیت 121) ➊ {وَ لَا يُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِيْرَةً …:} پچھلی آیت میں جہاد میں کیے جانے والے وہ اعمال بھی ہیں جو انسان کے اختیار میں ہیں اور وہ بھی جو بے اختیار پیش آتے ہیں، مثلاً مشکلات و مصائب، اس آیت میں صرف ان اعمال کا ذکر ہے جو آدمی کے اختیار میں ہیں، مگر جہاد فی سبیل اللہ کی بنیاد ہیں، یعنی زادِ سفر، سواری اور اسلحہ پر جو میسر ہو خرچ کرنا، پھر سفر جہاد پر نکل کھڑے ہونا اور جنگل اور وادیاں طے کرتے چلے جانا، سب کچھ لکھا جاتا ہے۔ ➋ اس جنگ میں عثمان رضی اللہ عنہ نے لشکر کی تیاری میں سب سے بڑھ کر حصہ لیا، یعنی ”نفقہ کبیرہ “(بڑا خرچ) اور انھوں نے اس وقت صحابہ کو مخاطب کرکے اس کا ذکر بھی فرمایا تھا جب باغیوں نے ان کا محاصرہ کیا کہ کیا تم جانتے ہو کہ میں نے {”جَيْشُ الْعُسْرَةِ“} (تنگ دستی کے وقت کے لشکر) کا سامان تیار کیا تھا؟ تمام صحابہ نے اس کا اعتراف کیا۔ [ ترمذی، المناقب، باب فی عد عثمان تسمیتہ شہیدا…: ۳۶۹۹، وحسنہ الألبانی ] تفصیل اس کی یہ ہے کہ عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ایک ہزار دینار اپنی آستین میں لے کر آئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے {”جَيْشُ الْعُسْرَةِ“} کو تیار کیا تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں ڈال دیا۔ عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ انھیں اپنی گود میں الٹ پلٹ کرتے تھے اور فرماتے تھے: ”آج کے بعد عثمان جو کام بھی کرے اسے کچھ نقصان نہیں دے گا۔“ دو مرتبہ فرمایا۔ [ترمذی، المناقب، باب فی عد عثمان تسمیتہ شہیدا…: ۳۷۰۰، ۳۷۰۱، و حسنہ الألبانی] اور کم خرچ کرنے والے (نفقہ صغیرہ) وہ بھی تھے جو رات بھر محنت کرکے نصف صاع (۱ کلو) کھجوریں لے کر آئے۔ دیکھیے سورۂ توبہ آیت (۷۹) کی تفسیر۔ ➌ {وَ لَا يَقْطَعُوْنَ وَادِيًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ:} پہاڑوں کے درمیان کے میدان اور پانی کی گزرگاہ کو وادی کہتے ہیں، یعنی ہر وادی طے کرنے پر وہ ان کے نامۂ اعمال میں لکھ دی جاتی ہے۔ ➍ { لِيَجْزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ …:} یہ سب کچھ اس لیے لکھا جاتا ہے کہ کسی بھی عمل کی زیادہ سے زیادہ اچھی جزا جو ہو سکتی ہے اللہ تعالیٰ انھیں وہ عطا فرمائے۔
وَ مَا کَانَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لِیَنۡفِرُوۡا کَآفَّۃً ؕ فَلَوۡ لَا نَفَرَ مِنۡ کُلِّ فِرۡقَۃٍ مِّنۡہُمۡ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوۡا فِی الدِّیۡنِ وَ لِیُنۡذِرُوۡا قَوۡمَہُمۡ اِذَا رَجَعُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ لَعَلَّہُمۡ یَحۡذَرُوۡنَ ﴿۱۲۲﴾٪
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور یہ کچھ ضروری نہ تھا کہ اہل ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے، مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کی آبادی کے ہر حصہ میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جا کر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبردار کرتے تاکہ وہ (غیر مسلمانہ روش سے) پرہیز کرتے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور مسلمانوں کو یہ نہ چاہئے کہ سب کے سب نکل کھڑے ہوں سو ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جایا کرے تاکہ وه دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں اور تاکہ یہ لوگ اپنی قوم کو جب کہ وه ان کے پاس آئیں، ڈرائیں تاکہ وه ڈر جائیں
احمد رضا خان بریلوی
اور مسلمانوں سے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سب کے سب نکلیں تو کیوں نہ ہو کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈر سنائیں اس امید پر کہ وہ بچیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور یہ تو نہیں ہو سکتا کہ تمام اہلِ ایمان نکل کھڑے ہوں تو ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔ کہ ہر جماعت میں سے کچھ لوگ نکل آئیں تاکہ وہ دین میں تفقہ (دین کی سمجھ بوجھ) حاصل کریں اور جب (تعلیم و تربیت کے بعد) اپنی قوم کے پاس لوٹ کر آئیں۔ تو اسے (جہالت بے ایمانی اور بد عملی کے نتائج سے) ڈرائیں تاکہ وہ ڈریں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ممکن نہیں کہ مومن سب کے سب نکل جائیں، سو ان کے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ کیوں نہ نکلے، تاکہ وہ دین میں سمجھ حاصل کریں اور تاکہ وہ اپنی قوم کو ڈرائیں، جب ان کی طرف واپس جائیں، تاکہ وہ بچ جائیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو تنہا نہ چھوڑو ٭٭

اس آیت میں اس بیان کی تفصیل ہے جو غزوہ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلنے کے متعلق تھا۔ سلف کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ جب خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد میں نکلیں تو آپ کا ساتھ دینا ہر مسلمان پر واجب ہے۔ جیسے فرمایا «اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا» ۱؎ [9-التوبہ:41] ‏‏‏‏ اور فرمایا ہے «مَا كَانَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ» ۱؎ [9-التوبہ:120] ‏‏‏‏ یعنی ہلکے بھاری نکل کھڑے ہو جاؤ۔ مدینے اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو لائق نہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے رہ جائیں۔ پس یہ حکم اس آیت سے منسوخ ہو گیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ قبیلوں کے نکلنے کا بیان ہے اور ہر قبیلے کی ایک جماعت کے نکلنے کا اگر وہ سب نہ جائیں۔ تاکہ آپ کے ساتھ جانے والے آپ پر اتری ہوئی وحی کو سمجھیں اور واپس آ کر اپنی قوم کو دشمن کے حالات سے باخبر کریں۔ پس انہی دونوں باتیں اس کوچ میں حاصل ہو جائیں گی۔ اور آپ کے بعد قبیلوں میں سے جانے والی جماعت یا تو دینی سمجھ کے لیے ہو گی یا جہاد کے لیے۔ کیونکہ یہ فرض کفایہ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے یہ معنی بھی مروی ہیں کہ مسلمانوں کو یہ چاہیئے کہ سب کے سب چلے جائیں اور اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا چھوڑ دیں۔ ہر جماعت میں سے چند لوگ جائیں اور آپ کی جازت سے جائیں جو باقی ہیں وہ ان کے بعد جو قرآن اترے، جو احکام بیان ہوں، انہیں سیکھیں۔ جب یہ آ جائیں تو انہیں سکھائیں پڑھائیں۔ اس وقت اور لوگ جائیں۔ یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیئے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت ان صحابیوں رضی اللہ عنہم کے بارے میں اتری ہے جو بادیہ نشینوں میں گئے وہاں انہیں فوائد بھی پہنچے اور نفع کی چیزیں بھی ملیں۔

اور لوگوں کو انہوں نے ہدایات بھی کیں۔ لیکن بعض لوگوں نے انہیں طعنہ دیا کہ تم لوگ اپنے ساتھیوں کے پیچھے رہ جانے والے ہو۔ وہ میدان جہاد میں گئے اور تم آرام سے یہاں ہم میں ہو۔ ان کے بھی دل میں یہ بات بیٹھ گئی وہاں سے واپس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے آئے۔ پس یہ آیت اتری اور انہیں معذور سمجھا گیا۔ سیدنا قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لشکروں کو بھیجیں تو کچھ لوگوں کو آپ کی خدمت میں ہی رہنا چاہیئے کہ وہ دین سیکھیں اور کچھ لوگ جائیں اپنی قوم کو دعوت حق دیں اور انہیں اگلے واقعات سے عبرت دلائیں۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بنفس نفیس جہاد کے لیے نکلیں، اس وقت سوائے معذوروں، اندھوں وغیرہ کے کسی کو حلال نہیں کہ آپ کے ساتھ نہ جائے اور جب آپ لشکروں کو روانہ فرمائیں تو کسی کو حلال نہیں کہ آپ کی اجازت کے بغیر جائے۔ یہ لوگ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہتے تھے، اپنے ساتھیوں کو جب کہ وہ واپس لوٹتے ان کے بعد کا اترا ہوا قرآن اور بیان شدہ احکام سنا دیتے پس آپ کی موجودگی میں سب کو نہ جانا چاہیئے۔ مروی ہے کہ یہ آیت جہاد کے بارے میں نہیں بلکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلے مضر پر قحط سالی کی بد دعا کی اور ان کے ہاں قحط پڑا تو ان کے پورے قبیلے کے قبیلے مدینے شریف میں چلے آئے۔ یہاں جھوٹ موٹ اسلام ظاہر کر کے صحابہ پر اپنا بار ڈال دیا۔

اس پر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو متنبہ کیا کہ دراصل یہ مومن نہیں۔ آپ نے انہیں ان کی جماعتوں کی طرف واپس کیا اور ان کی قوم کو ایسا کرنے سے ڈرایا۔ کہتے ہیں کہ ہر قبیلے میں سے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آتے، دین اسلام دیکھتے، واپس جا کر اپنی قوم کو اللہ، رسول کی اطاعت کا حکم کرتے، نماز، زکوٰۃ کے مسائل سمجھاتے، ان سے صاف فرما دیتے کہ جو اسلام قبول کر لے گا وہ ہمارا ہے ورنہ نہیں۔ یہاں تک کہ ماں باپ کو بھی چھوڑ دیتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں مسئلے مسائل سے آگاہ کر دیتے، حکم احکام سکھا پڑھا دیتے وہ اسلام کے مبلغ بن کر جاتے ماننے والوں کو خوش خبریاں دیتے، نہ ماننے والوں کو ڈراتے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17489:ضعیف] ‏‏‏‏ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب «إِلَّا تَنفِرُوا» ۱؎ [9-التوبة:39] ‏‏‏‏ الخ اور آیت «مَا كَانَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ» ۱؎ [9-التوبة:120] ‏‏‏‏ اتریں تو منافقوں نے کہا: ”پھر تو بادیہ نشین لوگ ہلاک ہو گئے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں جاتے۔‏‏‏‏“ بعض صحابہ بھی ان میں تعلیم و تبلیغ کے لیے گئے ہوئے تھے پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور «‏‏‏‏وَالَّذِينَ يُحَاجُّونَ فِي اللَّـهِ» ۱؎ [42-الشورى:16] ‏‏‏‏ الخ۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے ہیں وہ مشرکوں پر غلبہ و نصرت دیکھ کر واپس آ کر اپنی قوم کو ڈرائیں۔
122۔ 1 بعض مفسرین کے نزدیک اس کا تعلق بھی حکم جہاد سے ہے۔ اور مطلب یہ کہ پچھلی آیت میں جب پیچھے رہنے والوں کے لئے سخت وعید اور لعنت ملامت بیان کی گئی تو صحابہ کرام بڑے محتاط ہوگئے اور جب بھی جہاد کا مرحلہ آتا تو سب کے سب اس میں شریک ہونے کی کوشش کرتے۔ آیت میں انہیں حکم دیا گیا ہر جہاد اس نوعیت کا نہیں ہوتا کہ جس میں ہر شخص کی شرکت ضروری ہو (جیسا کہ تبوک میں ضروری تھا) بلکہ گروہ کی ہی شرکت کافی ہے۔ یعنی ایک گروہ جہاد پر چلا جائے اور ایک گروہ پیچھے رہے، جو دین کا علم حاصل کرے۔ اور جب مجاہدین واپس آئیں تو انہیں بھی احکام دین سے آگاہ کر کے انہیں ڈرائیں۔ دوسری تفسیر اس کی یہ ہے کہ اس آیت کا تعلق جہاد سے نہیں ہے بلکہ اس میں علم دین کا علم حاصل کرنے کے لیے اپنا گھربار چھوڑیں اور مدارس و مراکز علم میں جا کر اسے حاصل کریں اور پھر آکر اپنی قوم میں وعظ ونصیح کریں۔ دین میں تفقہ حاصل کرنے کا مطلب اوامرونواہی کا علم حاصل کرنا ہے تاکہ اوامر الہی کو بجا لاسکے اور نواہی سے دامن کشاں رہے اور اپنی قوم کے اندر بھی امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دے۔
(آیت 122) {وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِيَنْفِرُوْا كَآفَّةً …: ” نَفَرَ يَنْفِرُ “} عام طور پر لڑائی کے لیے نکلنے کے معنی میں آتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ مَا لَكُمْ اِذَا قِيْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ }» [ التوبۃ: ۳۸ ] اور فرمایا: «{ اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا }» [ التوبۃ: ۴۱ ] اور فرمایا: «{ اِلَّا تَنْفِرُوْا يُعَذِّبْكُمْ }» [ التوبۃ: ۳۹ ] اور فرمایا: «{ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِي الْحَرِّ }» [ التوبۃ: ۸۱ ] اور یہ سورت شروع سے آخر تک جہاد ہی کے تذکرے سے بھری پڑی ہے، اس لیے {” لِيَنْفِرُوْا “} کا معنی ”لڑائی کے لیے نکلیں“ ہی سیاق سے مناسبت رکھتا ہے۔ جنگ تبوک میں نفیر عام، یعنی تمام مسلمانوں کو نکلنے کا حکم تھا اور فرمایا کہ اہل مدینہ اور اس کے اردگرد کے اعراب کا حق ہی نہیں بنتا تھا کہ وہ جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہیں، اب اس آیت میں ایسے مواقع کا ذکر ہے جن میں سب کے نکلنے کا حکم نہیں، بلکہ کچھ لوگوں کا نکلنا کافی ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ تمام مسلمان جنگ کے لیے نکل جائیں، کیونکہ کچھ لوگوں کا شہروں کی حفاظت اور گھروں کے انتظام کے لیے پیچھے رہنا بھی ضروری ہے، کچھ لوگ کسی اور ضروری عذر کی وجہ سے نہیں نکل سکتے، اس لیے ہر بڑے گروہ میں سے جنگ کی ضرورت کے حساب سے کچھ لوگوں کے لیے لازم ہے کہ جہاد کے لیے نکلیں، تاکہ وہ جہاد کے سفر، اس کے درمیان پڑاؤ، رباط کے دوران اور میدان قتال میں پوری کوشش کے ساتھ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈرائیں کہ دشمن کیا کیا منصوبے بنا رہا ہے اور اس کی تیاری کس قدر ہے اور اس سے نمٹنے کی کیا صورت ہے، تاکہ وہ آئندہ کے لیے مکمل تیاری کرکے دشمن پر فتح یاب ہو سکیں۔ {”تفقه في الدين“} سے یہاں مراد یہ ہے جو بیان ہوا، جب کہ اس وقت ہمارے ہاں ”تفقہ فی الدین“ صرف نماز، روزے وغیرہ کے مسائل ہی کو سمجھ لیا گیا ہے، دشمن کے منصوبوں، سازشوں، چالوں اور کار روائیوں کو سمجھنے، ان سے بچنے اور دفاع کے بجائے ان پر حملہ آور ہونے کو ”تفقہ فی الدین“ سے باہر قرار دے دیا گیا ہے۔ اس آیت سے چند باتیں واضح طور پر سمجھ میں آ رہی ہیں: (1) ہر جنگ میں تمام مسلمانوں کا نکلنا نہ ضروری ہے نہ ممکن، بلکہ تقسیم کار کے اصول پر عمل ہو گا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنولحیان کی طرف ایک لشکر بھیجتے ہوئے فرمایا: ”ہر دو آدمیوں میں سے ایک آدمی نکلے اور اجر دونوں کے لیے برابر ہے (تاکہ ایک میدان میں جائے اور دوسرا اپنے اور اپنے بھائی کے پیچھے کے معاملات کی خیر کے ساتھ نگرانی کرے)۔“ [ مسلم، الإمارۃ، باب فضل إعانۃ الغازی…: 1896/138 ] ہاں، اگر ضرورت کی بنا پر امیر نفیر عام کا حکم دے تو سب کا نکلنا ضروری ہو گا۔ (2) فرقہ بڑا ہوتا ہے اور طائفہ چھوٹا، حتیٰ کہ ایک آدمی پر بھی طائفہ کا لفظ بولا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اِنْ طَآىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا }» [ الحجرات: ۹ ] یہ آیت دو لڑنے والے آدمیوں کے لیے بھی ہے، کسی گروہ میں سے جنگ کے لیے زیادہ لوگ نکلیں یا ایک آدمی، سب پر طائفہ کا لفظ صادق آتا ہے۔ (3) {” لِيَتَفَقَّهُوْا فِي الدِّيْنِ “} تفقہ باب تفعل سے ہے، مراد کوشش اور محنت کے ساتھ اچھی طرح سمجھ حاصل کرنا ہے۔ یہاں دین کے دو معنی مراد ہو سکتے ہیں، ایک تو قتال فی سبیل اللہ یعنی اللہ کے راستے میں لڑنا، جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم عینہ (حیلے کے ساتھ سود کی ایک صورت) کے ساتھ بیع کرنے لگو گے اور کھیتی باڑی پر خوش ہو جاؤ گے اور جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسی ذلت مسلط کرے گا جسے دور نہیں کرے گا [ حَتّٰی تَرْجِعُوْا اِلٰی دِيْنِكُمْ ] ”یہاں تک کہ تم اپنے دین کی طرف واپس پلٹ آؤ۔“ [ أبوداوٗد، البیوع، باب فی النھی عن العینۃ: ۳۴۶۲، و صححہ الألبانی ] یہاں دین سے مراد قتال فی سبیل اللہ ہے، اس میں تفقہ جنگ کے میدانوں ہی میں حاصل ہو سکتا ہے۔ سو سال تک شیخ الحدیث کی مسند پر بیٹھے رہیں کبھی یہ تفقہ حاصل نہیں ہو گا، آپ اپنے گھر یا سکول یا کالج یا یونیورسٹی یا اکیڈمی یا دار العلوم میں جتنی بھی جنگی کتابیں اور دشمن کی چالیں پڑھ لیں، یا غازیان اسلام کے معرکے پڑھ لیں، میدان جنگ میں جائے بغیر دین (جنگ) کی حقیقی اور واقعی سمجھ کسی صورت حاصل نہیں ہو سکتی، نہ ہی آدمی اپنی قوم کو دشمن کے خطرے سے صحیح طور پر ڈرا کر اس سے بچنے کے لیے خبردار کر سکتا ہے۔ دین کا دوسرا معنی عام ہے، یعنی پورا دین اسلام، اس میں تفقہ حاصل کرنے کے لیے بھی جہاد کے میدانوں کا رخ کرنا ضروری تھا، کیونکہ دین کے علم کا سرچشمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی تھی اور آپ مدینہ میں ہجرت کے بعد اکثر جہاد فی سبیل اللہ کے لیے سفر ہی میں رہتے، یا پھر اپنے کسی صاحب علم و فقہ صحابی کو امیر بنا کر بھیجتے تھے۔ بہت سے معجزات اور مسائل و احکام دوران سفر ہی واقع یا نازل ہوئے، اس لیے جب صحابہ کے حالات بیان ہوتے ہیں تو ان کی قابلیت و فضیلت کا ذکر اس طرح ہوتا ہے: {”شَهِدَ الْمَشَاهِدَ كُلَّهَا“} کہ وہ تمام جنگوں میں حاضر رہے اور کہا جاتا ہے: {” شَهِدَ الْبَدْرَ اَوِ الْحُدَيْبِيَةَ اَوْ فَتْحَ مَكَّةَ اَوْ حُنَيْنًا اَوْ تَبُوْكَ “} کہ فلاں صاحب بدر یا حدیبیہ یا فتح مکہ یا حنین یا تبوک میں شریک ہوئے اور یہ بات تو عیاں ہے کہ گھر کے بکھیڑوں میں علم و فقہ کا حصول اس طرح ممکن ہی نہیں جس طرح ہر چیز سے فارغ ہو کر لشکر اسلام میں جا کر ممکن ہے۔ دیکھو مسیلمہ کذاب کی لڑائی میں قرآن کے کتنے قاری اور علماء و فقہاء شہید ہوئے۔ لڑائی تو تھوڑی دیر کے لیے ہوئی تھی، باقی دوران سفر اقامت اور رباط میں تعلیم و تعلّم یعنی تفقہ فی الدین ہی کا شغل ہوتا تھا، جس میں لڑنے کے سلیقے کے ساتھ ساتھ زندگی کے تمام مسائل سیکھے سکھائے جاتے تھے اور سب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر، عشرہ مبشرہ اور دوسرے افاضل صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے دورانِ جہاد میں دین سیکھتے اور واپس اپنی قوم میں جا کر انھیں دوسرے دینی مسائل سکھانے کے ساتھ ساتھ دنیا اور آخرت کی ذلت، ترکِ جہاد سے ڈرا کر انھیں دشمن سے بچنے کی ترغیب دیتے۔ {” لِيُنْذِرُوْا “} اور {” يَحْذَرُوْنَ “} پر غور فرمائیں تو بات کافی حد تک سمجھ میں آ جائے گی کہ اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی حالتِ زار کون سی چیز میں تفقہ حاصل نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ سید المفسرین امام طبری رحمہ اللہ اور کئی اور مفسرین نے اسی مفہوم کو ترجیح دی ہے، البتہ {” لِيَتَفَقَّهُوْا فِي الدِّيْنِ “} میں دین سے جہاد مراد لینے کی دلیل: [ حَتّٰی تَرْجِعُوْا اِلٰی دِيْنِكُمْ ] انھوں نے ذکر نہیں فرمائی۔ آیت کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جب سورۂ توبہ میں جنگ تبوک سے رہ جانے والوں پر اللہ تعالیٰ نے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا تو ہر مسلمان کی کوشش اور خواہش یہ تھی کہ آئندہ ہم ہر جنگ میں ضرور جائیں گے، اس پر یہ آیت اتری کہ تمام مسلمانوں کو ہر مہم کے لیے نہیں نکل جانا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں اکیلے رہ جائیں، بلکہ ہر قبیلے میں سے کچھ لوگوں کو مدینہ میں آپ کے پاس بھی آ کر حاضر رہنا چاہیے، تاکہ وہ مدینہ کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہرے داری کا فریضہ بھی سرانجام دیں اور علم بھی حاصل کریں اور واپس جا کر اپنی قوم کو تعلیم دین سے آراستہ کریں۔ اسی طرح کچھ لوگوں کو دینی مدارس میں پڑھنے کے لیے بھی نکلنا چاہیے، تاکہ وہ یکسوئی سے دین کی اچھی طرح سمجھ حاصل کریں اور پھر واپس جاکر اپنی قوم کو دین سمجھا سکیں۔ ہاں حالات کے تحت امیر المومنین نفیر عام کا حکم دیں تو پھر سب کو نکلنا چاہیے، کیونکہ جب قیام کا وقت ہو سجدہ نہیں کیا جاتا۔ یہ مطلب بھی بہت سے مفسرین نے بیان فرمایا ہے۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَاتِلُوا الَّذِیۡنَ یَلُوۡنَکُمۡ مِّنَ الۡکُفَّارِ وَ لۡیَجِدُوۡا فِیۡکُمۡ غِلۡظَۃً ؕ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جنگ کرو اُن منکرین حق سے جو تم سے قریب ہیں اور چاہیے کہ وہ تمہارے اندر سختی پائیں، اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! ان کفار سے لڑو جو تمہارے آس پاس ہیں اور ان کو تمہارے اندر سختی پانا چاہئے۔ اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کے ساتھ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے ايما ن والوں جہاد کرو ان کافروں سے جو تمہارے قريب ہيں اور چاہیئے کہ وہ تم میں سختی پائیں، اور جان رکھو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! ان کافروں سے جنگ کرو جو تمہارے آس پاس ہیں اور چاہیے کہ وہ جنگ میں تمہارے اندر سختی محسوس کریں۔ اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان لوگوں سے لڑو جو کافروں میں سے تمھارے قریب ہیں اور لازم ہے کہ وہ تم میں کچھ سختی پائیں اور جان لو کہ اللہ متقی لوگوں کے ساتھ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اسلامی مرکز کا استحکام اولین اصول ہے ٭٭

اسلامی مرکز کے متصل جو کفار ہیں، پہلے تو مسلمانوں کو ان سے نمٹنا چاہیئے۔ اسی حکم کے بموجب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے جزیرۃ العرب کو صاف کیا، یہاں غلبہ پاکر مکہ، مدینہ، طائف، یمن، یمامہ، ہجر خیبر، حضر موت وغیرہ کل علاقہ فتح کر کے یہاں کے لوگوں کو اسلامی جھنڈے تلے کھڑا کر کے غزوہ روم کی تیاری کی۔ جو اول تو جزیرہ عرب سے ملحق تھا دوسرے وہاں کے رہنے والے اہل کتاب تھے۔ تبوک تک پہنچ کر حالات کی ناساز گاری کی وجہ سے آگے کا عزم ترک کیا۔ یہ واقعہ ٩ھ کا ہے۔ دسویں سال حجۃ الوداع میں مشغول رہے۔ اور حج کے صرف اکاسی دن بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کو پیارے ہوئے۔ آپ کے بعد آپ کے نائب، دوست اور خلیفہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ آئے۔ اس وقت دین اسلام کی بنیادیں متزلزل ہو رہی تھیں کہ آپ نے انہیں مضبوط کر دیا اور مسلمانوں کی ابتری کو برتری سے بدل دیا۔ دین سے بھاگنے والوں کو واپس اسلام میں لے آئے۔ مرتدوں سے دنیا خالی کی۔ ان سرکشوں نے جو زکوٰۃ روک لی تھی ان سے وصول کی، جاہلوں پر حق واضح کیا۔ امانت رسول ادا کی۔ اور ان ابتدائی ضروری کاموں سے فارغ ہوتے ہی اسلامی لشکروں کو سر زمین روم کی طرف دوڑا دیا کہ صلیب پرستوں کو ہدایت کریں۔ اور ایسے ہی جرار لشکر فارس کی طرف بھیجے کہ وہاں کے آتش کدے ٹھنڈے کریں۔ پس آپ کی سفارت کی برکت سے رب العالمین نے ہر طرف فتح عطا فرمائی۔ کسری اور قیصر خاک میں مل گئے۔ ان کے پرستار بھی غارت و برباد ہوئے ان کے خزانے راہ اللہ میں کام آئے۔ اور جو خبر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دے گئے تھے وہ پوری ہوئی۔ جو کسر رہ گئی تھی آپ کے وصی اور ولی شہید محراب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پوری ہوئی۔

کافروں اور منافقوں کی رگ ہمیشہ کے لیے کچل دی گئی۔ ان کے زور ڈھا دیئے گئے۔ اور مشرق و مغرب تک فاروقی سلطنت پھیل گئی۔ قریب و بعید سے بھرپور خزانے دربار فاروق میں آئے۔ اور شرعی طور پر حکم الٰہی کے ماتحت مسلمانوں میں مجاہدین میں تقسیم ہونے لگے۔ اس پاک نفس، پاک روح شہید کی شہادت کے بعد مہاجرین و انصار کے اجماع سے امر خلافت امیر المؤمنین شہید الدار سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے سپرد ہوا۔ اس وقت اسلام اپنی اصلی شان سے ظہور پذیر تھا۔ اسلام کے لمبے اور زور آور ہاتھوں نے روئے زمین پر قبضہ جما لیا تھا۔ بندوں کی گردنیں اللہ کے سامنے خم ہو چکیں تھیں۔ حجت ربانی ظاہر تھی، کلمہ الٰہی غالب تھا۔ شان عثمان اپنا کام کرتی جاتی تھی۔ آج اس کو حلقہ بگوش کیا تو کل اس کو یکے بعد دیگرے کئی ممالک مسلمانوں کے ہاتھوں زیر نگیں خلافت ہوئے۔ یہی تھا اس آیت کے پہلے جملے پر عمل کہ نزدیک کے کافروں سے جہاد کرو۔ پھر فرماتا ہے کہ لڑائی میں انہیں تمہارا زور بازو معلوم ہو جائے۔ کامل مومن وہ ہے جو اپنے مومن بھائی سے تو نرمی برتے لیکن اپنے دشمن کافر پر سخت ہو۔ جیسے فرمان ہے «فَسَوْفَ يَاْتِي اللّٰهُ بِقَوْمٍ يُّحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَهٗٓ» ۱؎ [5-المآئدہ:54] ‏‏‏‏ الخ، یعنی اللہ ایسے لوگوں کو لائے گا جو اس کے محبوب ہوں اور وہ بھی اس سے محبت رکھتے ہوں۔ مومنوں کے سامنے تو نرم ہوں اور کافروں پر ذی عزت ہوں۔ اس طرح اور آیت میں ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھ والے آپس میں نرم دل ہیں۔ کافروں پر سخت ہیں۔ ۱؎ [48-الفتح:29] ‏‏‏‏ ارشاد ہے «يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ» ۱؎ [9-التوبہ:73] ‏‏‏‏ یعنی اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو۔ حدیث میں ہے کہ میں «الضحوك» ہوں یعنی اپنوں میں نرمی کرنے والا اور «قتال» ہوں یعنی دشمنان رب سے جہاد کرنے والا۔ پھر فرماتا ہے کہ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ پرہیز گاوروں کے ساتھ ہے۔

یعنی کافروں سے لڑو، بھروسہ اللہ پر رکھ، اور یقین مانو کہ جب تم اس سے ڈرتے رہو گے، اس کی فرماں برداری کرتے رہو گے، تو اس کی مدد و نصرت بھی تمہارے ساتھ رہے گی۔ دیکھ لو! خیر کے تینوں زمانوں تک ملسمانوں کی یہی حالت رہی۔ دشمن تباہ حال اور مغلوب رہے۔ لیکن جب ان میں تقویٰ اور اطاعت کم ہو گئی۔ فتنے فساد پڑ گئے، اختلاف اور خواہش پسندی شروع ہو گئی۔ تو وہ بات نہ رہی، دشمنوں کی للچائی ہوئی نظریں ان پر اُٹھیں۔ وہ اپنی اپنی کمین گاہوں سے نکل کھڑے ہوئے، ادھر کا رخ کیا لیکن پھر بھی مسلمان سلاطین آپس میں اُلجھے رہے، وہ ادھرادھر سے نوالے لینے لگے۔ آخر دشمن اور بڑھے، سلطنتیں کچلنی شروع کیں، ملک فتح کرنے شروع کئے آہ! اکثر حصہ اسلامی مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا یہی حکم اس سے پہلے تھا اور اس کے بعد بھی ہے۔ تاہم جو بادشاہ جس قدر اللہ سے ڈرنے والا ہو اسی قدر اللہ کی مدد نے اس کا ساتھ دیا۔ اب بھی اللہ سے امید اور دعا ہے کہ وہ پھر سے مسلمانوں کو غلبہ دے اور کافروں کی چوٹیاں ان کے ہاتھ میں دے دے۔ دنیا جہاں میں ان کا بول بالا ہو۔ اور پھر سے مشرق سے لے کر مغرب تک پرچم اسلام لہرانے لگے۔ وہ اللہ کریم وجواد ہے۔
123۔ 1 اس میں کافروں سے لڑنے کا ایک اہم اصول بیان کیا گیا ہے۔ کافروں سے جہاد کرنا ہے جیسا کہ رسول اللہ نے پہلے جزیرہ، عرب میں آباد مشرکین سے قتال کیا، جب ان سے فارغ ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے مکہ، طائف، یمن، یمامہ، ہجر، خیبر، حضرموت وغیرہ ممالک پر مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما دیا اور عرب کے سارے قبائل فوج در فوج اسلام میں داخل ہوگئے، تو پھر اہل کتاب سے قتال کا آغاز فرمایا اور 9 ہجری میں رومیوں سے قتال کے لئے تبوک تشریف لے گئے جو جزیرہ، عرب سے قریب ہے اسی کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلفائے راشدین نے روم کے عیسائیوں سے قتال فرمایا، اور ایران کے مجوسیوں سے جنگ کی۔ 123۔ 2 یعنی کافروں کے لئے، مسلمانوں کے دلوں میں نرمی نہیں سختی ہونی چاہیے جیسا کہ (اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاۗءُ بَيْنَهُمْ) 48۔ الفتح:29) صحابہ کی صفت بیان کی گئی ہے۔ اسی طرح (اَذِلَّةٍ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ) 5۔ المائدہ:54) اہل ایمان کی صفت ہے۔
(آیت 123) ➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِيْنَ يَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ:} یعنی کفار میں سے جو لوگ تم سے جتنے زیادہ قریب ہیں اتنا ہی ان سے پہلے جہاد کرو، پہلے انھیں اسلامی قلمرو میں شامل کرنے کے بعد ان سے جہاد کرو جو ان کی بہ نسبت دور ہیں، کیونکہ ہر کام میں آسان سے آسان اور بہتر سے بہتر ہونے کا خیال سب سے پہلے رکھا جاتا ہے۔ اپنی سرحد سے ملنے والوں کے ساتھ لڑائی میں نہ زیادہ سواریوں کی ضرورت ہے نہ زیادہ اخراجات کی، نہ دور کے سفر کی مشقت ہے، نہ ان کے احوال سے باخبر رہنے کے لیے زیادہ محنت اور وسائل کی، کیونکہ آپ ان کے محل وقوع، ان کے مراکز قوت اور ان کی کمزوریوں سے خوب واقف ہیں۔ پھر دور والے دشمن سے لڑائی میں پیچھے سے اپنے ملک پر کسی دشمن کے حملے یا اندرونی خلفشار کا جو خطرہ رہتا ہے قریب والوں کے ساتھ جنگ میں وہ بھی نہیں ہو گا، بلکہ اپنی پشت محفوظ رہے گی۔ بے شک تمام مشرکین سے لڑنے کا حکم ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَآفَّةً }» [ التوبۃ: ۳۶ ] مگر ترتیب کو ملحوظ رکھنا لازم ہے۔ دعوت میں بھی یہی ترتیب ہے، پہلے گھر والے، پھر خاندان، پھر قبیلہ، پھر شہر، پھر اپنا ملک، پھر تمام دنیا اور جہاد میں بھی یہی ترتیب ہے، کیونکہ جہاد بھی دعوت ہی کا ایک حصہ ہے۔ چنانچہ اسی ترتیب کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اپنے خاص قبیلہ قریش سے جنگ کی، پھر جزیرۂ عرب کے دوسرے قبائل سے، پھر بنی قریظہ اور بنی نضیر سے، پھر خیبر اور فدک کے اہل کتاب سے جو مدینہ کے اردگرد تھے، پھر مکہ فتح ہوا اور پھر یمن اور بحرین حتیٰ کہ پورا جزیرۂ عرب مسلمان ہو گیا۔ جب ان سے فارغ ہوئے تو غزوۂ تبوک کی مہم پر ملک شام کے نصاریٰ سے جہاد کے لیے روانہ ہوئے۔ یہی ترتیب آپ کے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، عمر فاروق شہید محراب رضی اللہ عنہ اور دوسرے خلفاء نے ملحوظ رکھی۔ چنانچہ ان کے زمانے میں پہلے ملک شام اور عراق و فارس فتح کیے گئے، پھر مصر، پھر مشرق کی طرف ہند، خراسان، کاشغر (چین) اور مغرب کی طرف افریقہ، اندلس اور فرانس، غرض مشرق سے مغرب تک اسلام کا پھریرا لہرانے لگا۔ والحمد للہ! اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو دوبارہ جہاد کے ساتھ کفار کے تسلط کو ختم کرکے اپنے موجودہ ممالک میں اور دنیا بھر کے ممالک میں اللہ کے دین کو غالب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) ➋ {وَ لْيَجِدُوْا فِيْكُمْ غِلْظَةً:} لازم ہے کہ تم حملہ کرو تو اس کی شدت کفار کو واضح طور پر محسوس ہو اور اگر کبھی وہ حملہ کرنے کی غلطی کریں تو جواب میں انھیں کسی جگہ نرمی اور کمزوری نہ مل سکے۔ کیونکہ ایمان کا کمال ہی مسلمان بھائی کے لیے نرم ہونا اور کفار کے لیے سخت ہونا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی خوبی بتائی: «{ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ }» [الفتح: ۲۹ ] ”کافروں پر بہت سخت، آپس میں نہایت رحم دل۔“ اور مجاہدین کی شان بیان فرمائی: «{ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِيْنَ }» [ المائدۃ: ۵۴ ] ”مومنوں پر بہت نرم ہوں گے، کافروں پر بہت سخت۔“ ➌ { وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ:} اس کا مشاہدہ پوری تاریخ اسلام میں ہوتا رہا ہے۔ مسلمانوں کے خلفاء و ملوک اور امراء و عوام جب متقی ہوتے اللہ تعالیٰ کی خاص معیت و نصرت ان کے ساتھ ہوتی اور ہر جگہ فتح ان کے قدم چومتی اور جب وہ ظالم یا فاسق ہوتے اور عیش و عشرت یا باہمی لڑائیوں میں مصروف ہوتے، تو اللہ کی مدد اٹھ جاتی اور دشمن ان کے علاقوں پر قابض ہو جاتے۔ اب بھی اللہ تعالیٰ کی معیت، ساتھ اور نصرت و تائید حاصل کرنی ہے تو وہ تقویٰ کے ساتھ ہی حاصل ہو گی، محض سائنسی ترقی یا کثرت تعداد سے کبھی نہیں۔
وَ اِذَا مَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَۃٌ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّقُوۡلُ اَیُّکُمۡ زَادَتۡہُ ہٰذِہٖۤ اِیۡمَانًا ۚ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فَزَادَتۡہُمۡ اِیۡمَانًا وَّ ہُمۡ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ ﴿۱۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جب کوئی نئی سورت نازل ہوتی ہے تو ان میں سے بعض لوگ (مذاق کے طور پر مسلمانوں سے) پوچھتے ہیں کہ "کہو، تم میں سے کس کے ایمان میں اس سے اضافہ ہوا؟" (اس کا جواب یہ ہے کہ) جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کے ایمان میں تو فی الواقع (ہر نازل ہونے والی سورت نے) اضافہ ہی کیا ہے اور وہ اس سے دلشاد ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو بعض منافقین کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان کو زیاده کیا ہے، سو جو لوگ ایمان والے ہیں اس سورت نے ان کے ایمان کو زیاده کیا ہے اور وه خوش ہورہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جب کوئی سورت اترتی ہے تو ان میں کوئی کہنے لگتا ہے کہ اس نے تم میں کس کے ایمان کو ترقی دی تو وہ جو ایمان والے ہیں ان کے ایمان کو ترقی دی اور وہ خوشیاں منارہے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب کوئی سورہ نازل ہوتی ہے تو ان (منافقوں) میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو (طنزیہ طور پر کہتے ہیں) کہ اس نے تم لوگوں میں سے کس کا ایمان زیادہ کیا ہے؟ (اس کا جواب یہ ہے) کہ جو لوگ ایمان والے ہیں اس نے ان کا ایمان تو زیادہ کر دیا ہے اور وہ خوش ہو رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب بھی کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں اس نے تم میں سے کس کو ایمان میں زیادہ کیا؟ پس جو لوگ ایمان لائے، سو ان کو تو اس نے ایمان میں زیادہ کر دیا اور وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرمان الہٰی میں شک و شبہ کفر کا مرض ہے ٭٭

قرآن کی کوئی سورت اتری اور منافقوں نے آپس میں کانا پھوسی شروع کی کہ بتاؤ اس سورت نے کس کا ایمان زیادہ کر دیا؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایمانداروں کے ایمان تو اللہ کی آیتیں بڑھا دیتی ہیں۔ یہ آیت بہت بڑی دلیل ہے اس پر کہ ایمان گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔ اکثر ائمہ اور علماء کا یہی مذہب ہے، سلف کا بھی اور خلف کا بھی۔ بلکہ بہت سے بزرگوں نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ ہم اس مسئلے کو خوب تفصیل سے شرح بخاری کے شروع میں بیان کر آئے ہیں۔ ہاں جن کے دل پہلے ہی سے شک و شبہ کی بیماری میں ہیں ان کی خرابی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ قرآن مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے لیکن کافر تو اس سے اور بھی اپنا نقصان کر لیا کرتے ہیں۔ ۱؎ [17-الإسراء:82] ‏‏‏‏ یہ ایمانداروں کے لیے ہدایت و شفاء ہے اور بے ایمانوں کے تو کانوں میں بوجھ ہے۔ ان کی آنکھوں پر اندھاپا ہے وہ تو بہت ہی فاصلے سے پکارے جا رہے ہیں۔ ۱؎ [41-فصلت:44] ‏‏‏‏ یہ بھی کتنی بڑی بدبختی ہے کہ دلوں کی ہدایت کی چیز بھی ان کی ضلالت و ہلاکت کا باعث بنتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے عمدہ غذا بھی بدمزاج کو موافق نہیں آتی۔
124۔ 1 اس سورت میں منافقین کے کردار کی نقاب کشائی کی گئی ہے، یہ آیات اس کا بقیہ اور تتمہ ہیں۔ اس میں بتلایا جا رہا ہے جب ان کی غیر موجودگی میں کوئی سورت یا اس کا کوئی حصہ نازل ہوتا ہے اور ان کے علم میں بات آتی تو وہ ٹھٹھہ اور مذاق کے طور پر آپس میں ایک دوسرے سے کہتے کہ اس سے تم میں سے کس کے ایمان میں اضافہ ہوا ہے۔ 124۔ 2 اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جو بھی سورت اترتی ہے اس سے اہل ایمان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ اپنے ایمان کے اضافے پر خوش ہوتے ہیں۔ یہ آیت بھی اس بات پر دلیل ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے جس طرح کہ محدثین کا مسلک ہے۔
(آیت 125،124) ➊ {وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ …: ” يَسْتَبْشِرُوْنَ“} حروف کی زیادتی معنی کی زیادتی پر دلالت کرتی ہے، ایسی زبردست خوشی جس کے آثار بشرے پر بھی ظاہر ہوں۔{” سُوْرَةٌ “ } سے مراد پوری سورت بھی ہو سکتی ہے اور آیات کا کوئی ٹکڑا بھی۔ کسی بھی سورت کے نزول پر اسے قبول کرنے میں اہل ایمان اور اہل نفاق کا واضح فرق ہوتا ہے، بیج کی عمدگی زمین کی قابلیت کے بغیر فائدہ مند نہیں ہوتی، چنانچہ منافقین ایک دوسرے سے بطور استہزا و مذاق یا بعض کمزور ایمان والے مسلمانوں کو شک میں ڈالنے کے لیے پوچھتے ہیں کہ ان آیات کے ساتھ تم میں سے کس کے ایمان میں اضافہ ہوا ہے؟ فرمایا کہ اہل ایمان کے ایمان میں تو ان سے اضافہ اور زیادتی ہوتی ہے، دل کے علم اور یقین میں بھی، زبانی تصدیق میں بھی اور عمل میں بھی اور ان تینوں کا نام ایمان ہے۔ {”وَ هُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ“} اور وہ بہت ہی خوش ہوتے ہیں، جس کے آثار ان کے چہرے پر بھی نمایاں ہوتے ہیں اور وہ لوگ جن کے دلوں میں کفر اور نفاق کا مرض ہے وہ پہلی سورتوں اور آیات ہی کے منکر تھے، جب اس سے بھی انکار کیا تو کفر کا ایک اور ردّہ ان کے دلوں پر چڑھ گیا اور ان کی کفر پر موت کا باعث بن گیا۔ ➋ یہ آیت اور قرآن مجید کی کئی اور آیات واضح الفاظ میں ایمان کے زیادہ ہونے کی صراحت فرما رہی ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں کتاب الایمان کے شروع میں آٹھ آیات اور پھر بہت سی احادیث ذکر فرمائی ہیں جو صاف ایمان کی کمی اور زیادتی پر دلالت کرتی ہیں اور صرف عمل کے لحاظ ہی سے نہیں، بلکہ نفس تصدیق اور یقین میں بھی کمی اور زیادتی پر دلالت کرتی ہیں۔ تعجب ہے ان شیوخ الحدیث والتفسیر پر جو ساری عمر صحیح بخاری اور قرآن مجید پڑھاتے ہیں مگر ایمان کے زیادہ یا کم ہونے کی آیات و احادیث آتی ہیں تو یا تو انھیں مذہب کے خلاف کہہ کر رد کر دیتے ہیں، یا ایسی تاویل کرتے ہیں جو آیات و احادیث کے منشا کے صریح خلاف اور تاویل کے بجائے تحریف کہلانے کے زیادہ لائق ہے۔ اس وقت تو ان کے سامنے شاید کوئی نہ بول سکے مگر وہ پاک پروردگار جو آیات کے ساتھ مومنوں کے دلوں میں ایمان ویقین بڑھاتا ہے، اس کے سامنے کیا تاویل کریں گے؟ اور وہ حضرات اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے جو کہتے ہیں کہ میرا اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اور میرا اور جبریل علیہ السلام کا ایمان ایک جیسا ہے، کیونکہ ایمان سب کا برابر ہے، اس میں نہ کمی ہوتی ہے نہ زیادتی۔ وہ خود ہی سوچیں کہ کیا انھیں اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کا وہ یقین حاصل ہے جو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور جبریل علیہ السلام کو حاصل تھا؟
وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ فَزَادَتۡہُمۡ رِجۡسًا اِلٰی رِجۡسِہِمۡ وَ مَا تُوۡا وَ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۱۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
البتہ جن لوگوں کے دلوں کو (نفاق کا) روگ لگا ہوا تھا اُن کی سابق نجاست پر (ہر نئی سورت نے) ایک اور نجاست کا اضافہ کر دیا اور وہ مرتے دم تک کفر ہی میں مبتلا رہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جن کے دلوں میں روگ ہے اس سورت نے ان میں ان کی گندگی کے ساتھ اور گندگی بڑھا دی اور وه حالت کفر ہی میں مر گئے
احمد رضا خان بریلوی
اور جن کے دلوں میں آزار ہے انہیں اور پلیدی پر پلیدی بڑھائی اور وہ کفر ہی پر مر گئے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے تو یہ سورہ ان کی موجودہ نجاست و خباثت میں اور اضافہ کر دیتی ہے اور وہ کفر کی حالت میں مر جاتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور رہے وہ لوگ جن کے دلوں میں کوئی بیماری ہے تو اس نے ان کو ان کی گندگی کے ساتھ اور گندگی میں زیادہ کر دیا اور وہ اس حال میں مرے کہ وہ کافر تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرمان الہٰی میں شک و شبہ کفر کا مرض ہے ٭٭

قرآن کی کوئی سورت اتری اور منافقوں نے آپس میں کانا پھوسی شروع کی کہ بتاؤ اس سورت نے کس کا ایمان زیادہ کر دیا؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایمانداروں کے ایمان تو اللہ کی آیتیں بڑھا دیتی ہیں۔ یہ آیت بہت بڑی دلیل ہے اس پر کہ ایمان گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔ اکثر ائمہ اور علماء کا یہی مذہب ہے، سلف کا بھی اور خلف کا بھی۔ بلکہ بہت سے بزرگوں نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ ہم اس مسئلے کو خوب تفصیل سے شرح بخاری کے شروع میں بیان کر آئے ہیں۔ ہاں جن کے دل پہلے ہی سے شک و شبہ کی بیماری میں ہیں ان کی خرابی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ قرآن مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے لیکن کافر تو اس سے اور بھی اپنا نقصان کر لیا کرتے ہیں۔ ۱؎ [17-الإسراء:82] ‏‏‏‏ یہ ایمانداروں کے لیے ہدایت و شفاء ہے اور بے ایمانوں کے تو کانوں میں بوجھ ہے۔ ان کی آنکھوں پر اندھاپا ہے وہ تو بہت ہی فاصلے سے پکارے جا رہے ہیں۔ ۱؎ [41-فصلت:44] ‏‏‏‏ یہ بھی کتنی بڑی بدبختی ہے کہ دلوں کی ہدایت کی چیز بھی ان کی ضلالت و ہلاکت کا باعث بنتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے عمدہ غذا بھی بدمزاج کو موافق نہیں آتی۔
125۔ 1 روگ سے مراد نفاق اور آیات الٰہی کے بارے میں شکوک و شبہات ہیں۔ فرمایا: البتہ یہ سورت منافقین کو ان کے نفاق اور خبث میں اور بڑھاتی اور وہ اپنے کفر و نفاق میں اس طرح پختہ تر ہوجاتے ہیں کہ انہیں توبہ کی توفیق نصیب نہیں ہوتی اور کفر پر ہی ان کا خاتمہ ہوتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا ' ہم قرآن میں ایسی چیزیں نازل کرتے ہیں جو مومنین کے لئے شفا اور رحمت ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان ظالموں کے خسارے میں اضافہ ہی فرماتا ہے، یہ گویا ان کی بدبختی کی انتہا ہے کہ جس سے لوگوں کے دل ہدایت پاتے ہیں۔ وہی باتیں ان کی ضلالت و ہلاکت کا باعث ثابت ہوتی ہیں جس طرح کسی شخص کا مزاج اور معدہ بگڑ جائے، تو وہی غذائیں، جن سے لوگ قوت اور لذت حاصل کرتے ہیں، اس کی بیماری میں مذید بگاڑ اور خرابی کا باعث بنتی ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَوَ لَا یَرَوۡنَ اَنَّہُمۡ یُفۡتَنُوۡنَ فِیۡ کُلِّ عَامٍ مَّرَّۃً اَوۡ مَرَّتَیۡنِ ثُمَّ لَا یَتُوۡبُوۡنَ وَ لَا ہُمۡ یَذَّکَّرُوۡنَ ﴿۱۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہر سال ایک دو مرتبہ یہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں؟ مگر اِس پر بھی نہ توبہ کرتے ہیں نہ کوئی سبق لیتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کیا ان کو نہیں دکھلائی دیتا کہ یہ لوگ ہر سال ایک بار یا دو بار کسی نہ کسی آفت میں پھنستے رہتے ہیں پھر بھی نہ توبہ کرتے اور نہ نصیحت قبول کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا انہیں نہیں سوجھتا ک ہ ہر سال ایک یا دو بار آزمائے جاتے ہیں پھر نہ تو توبہ کرتے ہیں نہ نصیحت مانتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا (یہ لوگ) نہیں دیکھتے کہ وہ ہر سال ایک یا دو مرتبہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں۔ پھر بھی یہ نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ نصیحت حاصل کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ ہر سال ایک یا دو مرتبہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں، پھر بھی وہ نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ ہی وہ نصیحت پکڑتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذاب سے دوچار ہونے کے بعد بھی منافق باز نہیں آتا ٭٭

یہ منافق اتنا بھی نہیں سوچتے کہ ہر سال دو ایک دفعہ ضرور وہ کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کئے جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی انہیں اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ نصیب ہوتی ہے نہ آئندہ کے لیے عبرت ہوتی ہے۔ کبھی قحط سالی ہے، کبھی جنگ ہے، کبھی جھوٹی گپیں ہیں جن سے لوگ بیچین ہو رہے ہیں۔ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کاموں میں سختی بڑھ رہی ہے۔ بخیلی عام ہو رہی ہے ہر سال اپنے سے پہلے کے سال سے بد آ رہا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7068] ‏‏‏‏ جب کوئی سورت اترتی ہے ایک دوسرے کی طرف دیکھتا ہے کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا؟ پھر حق سے پلٹ جاتے ہیں نہ حق کو سمجھیں نہ مانیں۔ وعظ سے منہ پھیرلیں اور ایسے بھاگیں جیسے گدھا شیر سے۔ حق کو سنا اور دائیں بائیں کھسک گئے۔ ان کی اس بےایمانی کا بدلہ یہی ہے کہ اللہ نے ان کے دل بھی حق سے پھیر دیئے۔ ان کی کجی نے ان کے دل بھی ٹیرھے کر دیئے۔ یہ بدلہ ہے اللہ کے خطاب کو بےپرواہی کر کے نہ سمجھنے کا اس سے بھاگنے اور منہ موڑ لینے کا۔
126۔ 1 یفتنون کے معنی ہیں آزمائے جاتے ہیں۔ آفت سے مراد یا تو آسمانی آفات ہیں مثلًا قحط سالی وغیرہ (مگر یہ بعید ہے) یا جسمانی بیماریاں اور تکالیف ہیں یا غزوات ہیں جن میں شرکت کے موقع پر ان کی آزمائش ہوتی تھی۔ سیاق کلام کے اعتبار سے یہ مفہوم زیادہ صحیح ہے۔
(آیت 126) {اَوَ لَا يَرَوْنَ اَنَّهُمْ يُفْتَنُوْنَ …:} اکثر جنگ و جہاد کے وقت منافق معلوم ہو جاتے تھے (مگر پھر بھی وہ نفاق پر قائم رہتے تھے)۔ (موضح) اسی طرح ہر آدمی پر کوئی نہ کوئی آزمائش بیماری یا خوف وغیرہ کی صورت میں ہر سال ایک دو مرتبہ آتی رہتی ہے، تاکہ اسے سوچنے کا موقع ملے، فرمایا: «{ وَ لَنُذِيْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ }» [ السجدۃ: ۲۱ ] ”اور یقینا ہم انھیں قریب ترین عذاب کا کچھ حصہ سب سے بڑے عذاب سے پہلے ضرور چکھائیں گے، تاکہ وہ پلٹ آئیں۔“ سعادت مندوں کو اس سے توبہ اور نصیحت حاصل کرنے کی توفیق ملتی ہے، مگر منافق محروم رہتا ہے۔ پہلا معنی اس مقام پر زیادہ موزوں ہے۔
وَ اِذَا مَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَۃٌ نَّظَرَ بَعۡضُہُمۡ اِلٰی بَعۡضٍ ؕ ہَلۡ یَرٰىکُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ ثُمَّ انۡصَرَفُوۡا ؕ صَرَفَ اللّٰہُ قُلُوۡبَہُمۡ بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۱۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو یہ لوگ آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں کہ کہیں کوئی تم کو دیکھ تو نہیں رہا ہے، پھر چپکے سے نکل بھاگتے ہیں اللہ نے ان کے دل پھیر دیے ہیں کیونکہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ایک دوسرے کو دیکھنے لگتے ہیں کہ تم کو کوئی دیکھتا تو نہیں پھر چل دیتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کا دل پھیر دیا ہے اس وجہ سے کہ وه بے سمجھ لوگ ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جب کوئی سورت اترتی ہے ان میں ایک دوسرے کو دیکھنے لگتا ہے کہ کوئی تمہیں دیکھتا تو نہیں پھر پلٹ جاتے ہیں اللہ نے ان کے دل پلٹ دیئے ہیں کہ وہ ناسمجھ لوگ ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب کوئی سورہ نازل ہوتی ہے( جس میں منافقوں کا تذکرہ ہوتا ہے) تو وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں اور (آنکھوں کے اشارہ سے) کہتے ہیں تمہیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا؟ (پھر چپکے سے) پلٹ جاتے ہیں دراصل اللہ نے ان کے دلوں کو پھیر دیا ہے کیونکہ یہ بالکل ناسمجھ لوگ ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب بھی کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ان کا بعض بعض کی طرف دیکھتا ہے کہ کیا تمھیں کوئی دیکھ رہا ہے ؟ پھر واپس پلٹ جاتے ہیں۔ اللہ نے ان کے دل پھیر دیے ہیں، اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو نہیں سمجھتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذاب سے دوچار ہونے کے بعد بھی منافق باز نہیں آتا ٭٭

یہ منافق اتنا بھی نہیں سوچتے کہ ہر سال دو ایک دفعہ ضرور وہ کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کئے جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی انہیں اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ نصیب ہوتی ہے نہ آئندہ کے لیے عبرت ہوتی ہے۔ کبھی قحط سالی ہے، کبھی جنگ ہے، کبھی جھوٹی گپیں ہیں جن سے لوگ بیچین ہو رہے ہیں۔ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کاموں میں سختی بڑھ رہی ہے۔ بخیلی عام ہو رہی ہے ہر سال اپنے سے پہلے کے سال سے بد آ رہا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7068] ‏‏‏‏ جب کوئی سورت اترتی ہے ایک دوسرے کی طرف دیکھتا ہے کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا؟ پھر حق سے پلٹ جاتے ہیں نہ حق کو سمجھیں نہ مانیں۔ وعظ سے منہ پھیرلیں اور ایسے بھاگیں جیسے گدھا شیر سے۔ حق کو سنا اور دائیں بائیں کھسک گئے۔ ان کی اس بےایمانی کا بدلہ یہی ہے کہ اللہ نے ان کے دل بھی حق سے پھیر دیئے۔ ان کی کجی نے ان کے دل بھی ٹیرھے کر دیئے۔ یہ بدلہ ہے اللہ کے خطاب کو بےپرواہی کر کے نہ سمجھنے کا اس سے بھاگنے اور منہ موڑ لینے کا۔
127۔ 1 یعنی ان کی موجودگی میں سورت نازل ہوتی جس میں منافقین کی شرارتوں اور سازشوں کی طرف اشارہ ہوتا تو پھر یہ دیکھ کر کہ مسلمان انہیں دیکھ تو نہیں رہے، خاموشی سے کھسک جاتے۔ 127۔ 2 یعنی آیات الٰہی میں غور و تدبر نہ کرنے کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں کو خیر اور ہدایت سے پھیر دیا ہے۔
(آیت 127) ➊ {وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ …:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس وقت کا نقشہ کھینچا ہے جب منافقین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں موجود ہوتے اور ان کے راز کھولنے والی یا جہاد کے حکم پر مبنی کوئی سورت یا آیات اترتیں، پھر وہ کمینگی اور شرارت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے اور موقع پا کر کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا، مجلس سے کھسک جاتے۔ ان کی سمجھ میں صاف آ رہا ہوتا کہ ان آیات کا مصداق وہی ہیں، کیونکہ جہاد کے لیے نکلنا ان کے لیے موت تھی اور اس مجلس میں بیٹھنا ان کے لیے سراسر تذلیل کا باعث ہوتا، چنانچہ وہ تائب ہونے کے بجائے نکل جانے کو ترجیح دیتے۔ فرمایا: «{ قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ يَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا }» [ النور: ۶۳ ] ”بے شک اللہ ان لوگوں کو جانتا ہے جو تم میں سے ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے کھسک جاتے ہیں۔“ ➋ { صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ:} ”اللہ نے ان کے دل پھیر دیے ہیں“ کیونکہ وہ سمجھتے ہی نہیں کہ ہماری فلاح اور بھلائی کس چیز میں ہے، یا یہ بددعا ہے کہ وہ اس کے اہل ہیں کہ ان کے حق میں کہا جائے کہ اللہ ان کے دلوں کو پھیر دے۔
لَقَدۡ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
دیکھو! تم لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے، تمہارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے، تمہاری فلاح کا وہ حریص ہے، ایمان لانے والوں کے لیے وہ شفیق اور رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف ﻻئے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گِراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان
علامہ محمد حسین نجفی
(اے لوگو!) تمہارے پاس (اللہ کا) ایک ایسا رسول آگیا ہے جو تم ہی میں سے ہے جس پر تمہارا زحمت میں پڑنا شاق ہے تمہاری بھلائی کا حریص ہے اور ایمان والوں کے ساتھ بڑی شفقت اور مہربانی کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یقینا تمھارے پاس تمھی سے ایک رسول آیا ہے، اس پر بہت شاق ہے کہ تم مشقت میں پڑو، تم پر بہت حرص رکھنے والا ہے، مومنوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالٰی کا احسان عظیم ہیں ٭٭

مسلمانوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا احسان عظیم یاد دلا رہا ہے کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے خود انہی میں سے ان کی ہی زبان میں اپنا رسول بھیجا۔ سیدنا خلیل اللہ علیہ السلام نے یہی دعا کی تھی۔ ۱؎ [2-البقرة:129] ‏‏‏‏ اسی کا بیان آیت «لَقَدْ مَنَّ اللَّـهُ» ۱؎ [3-آل عمران:164] ‏‏‏‏ الخ میں ہے۔ یہی سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے دربار نجاشی میں اور یہی سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے دربار کسریٰ میں بیان فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم میں ہم میں سے ایک رسول بھیجا۔ جس کا نسب ہمیں معلوم، جس کی عادت سے ہم واقف، جس کے آنے جانے کی ہمیں خبر، جس کی صداقت و امانت کے ہم خود شاہد ہیں۔ جاہلیت کی برائیوں میں سے کوئی برائی اللہ نے آپ کی ذات میں پیدا نہیں ہونے دی۔ نسب نامہ بالکل کھرا تھا۔ خود آپ کا فرمان ہے کہ سیدنا آدم سے لے کر مجھ تک بفضلہ کوئی برائی جاہلیت کی زناکاری وغیرہ نہیں پہنچی، ۱؎ [طبرانی اوسط:3483:حسن] ‏‏‏‏ میں صحیح النسب ہوں۔ پھر اتنے نرم دل کہ امت کی تکلیفوں سے خود کانپ اٹھیں۔ آسان نرمی اور سادگی والا دین لے کر آئے ہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:116/6:حسن] ‏‏‏‏ جو بہت آسان ہے، سہل ہے، ۱؎ [صحیح بخاری:39] ‏‏‏‏ کامل ہے اور اعلیٰ اور عمدہ ہے۔ وہ تمہاری ہدایت کے متمنی ہیں، وہ دنیاوی، اخروی نفع تمہیں پہنچانا چاہتے ہیں۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ہمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حال میں چھوڑا کہ جو پرند اڑ کر نکلتا اس کا علم بھی آپ ہمیں کر دیتے۔‏‏‏‏“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جنت سے قریب کرنے والی اور جہنم سے دور کرنے والی تمام چیزیں میں تم سے بیان کر چکا ہوں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:153،162/5:صحیح] ‏‏‏‏ آپ کا فرمان ہے کہ ”اللہ تعالیٰ نے تم پر جو کچھ حرام کیا ہے وہ عنقریب تم پر ظاہر کر دینے والا ہے اور اس کی بازپرس قطعاً ہونے والی ہے۔ جس طرح پتنگے اور پروانے آگ پر گرتے ہوں اس طرح تم بھی گر رہے ہو اور میں تمہاری کولیاں بھربھر کر تمہیں اس سے روک رہا ہوں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:390،424/1:حسن] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سوئے ہوئے ہیں جو دو فرشتے آتے ہیں۔ ایک پاؤں کی طرف بیٹھتا ہے دوسرا سرہانے۔ پھر پاؤں والا سرہانے والے سے کہتا ہے۔

اس کی اور اس کی امت کی مثال بیان کرو اس نے فرمایا: ”یہ مثال سمجھو کہ ایک قوم سفر میں ہے ایک چٹیل میدان میں پہنچتی ہے جہاں ان کا سامان خوراک ختم ہو جاتا ہے اب نہ تو آگے بڑھنے کی قوت، نہ پیچھے ہٹنے کی سکت۔ ایسے وقت ایک بھلا آدمی اچھے لباس والا ان کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تمہیں اس بیابان سے چھٹکارا دلا کر ایسی جگہ پہنچا سکتا ہوں۔ جہاں تمہیں نتھرے ہوئے پانی کے لبالب حوض اور میووں کے لدے ہوئے درخت اور ہری بھری لہلہاتی کھیتیاں ملیں بشرطیکہ تم میرے پیچھے ہو لو۔ انہوں نے اس کی بات کو مان لیا اور وہ انہیں ایسی ہی جگہ لے گیا وہاں انہوں نے کھایا پیا اور خوب پھلے پھولے۔ اب اس نے کہا۔ دیکھو میں نے تمہیں اس بھوک پیاس سے نجات دلائی اور یہاں امن چین میں لایا۔ اب ایک اور بات تم سے کہتا ہوں وہ بھی مانو۔ اس سے آگے اس سے بھی بہتر جگہ ہے وہاں کے حوض، وہاں کے میوے، وہاں کے کھیت، اس سے بہت ہی اعلیٰ ہیں۔ ایک جماعت نے تو اسے سچا مانا اور ہاں کر لی۔ لیکن دوسرے گروہ نے اسی پر بس کر لیا اور اس کی تابعداری سے ہٹ گئے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:268/1:ضعیف] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجے۔ آؤ ایک واقعہ آپ کی کمال شفقت کا سنو! ایک اعرابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور خون بہا ادا کرنے کے لیے آپ سے امداد طلب کی۔ آپ نے اسے بہت کچھ دیا پھر پوچھا: ”کیوں صاحب میں نے تم سے سلوک کیا“؟ اس نے کہا: ”کچھ بھی نہیں اس سے کیا ہو گا“؟ صحابہ رضی اللہ عنہم بہت بگڑے۔ قریب تھا کہ اسے لپٹ جائیں کہ اتنا لینے پر بھی یہ ناشکری کرتا ہے؟ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال کا ایسا غلط اور گستاخانہ جواب دیتا ہے۔

لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک دیا گھر پر تشریف لے گئے۔ وہیں اسے بلوا لیا۔ سارا واقعہ کہہ سنایا۔ پھر اسے اور بھی بہت کچھ دیا۔ پھر پوچھا: ”کہو اب تو خوش ہو“؟ اس نے کہا ”“ ہاں اب دل سے راضی ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے اہل و عیال میں ہم سب کی طرف سے نیک بدلہ دے۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! تم آئے۔ تم نے مجھ سے مانگا، میں نے دیا، پھر میں نے تم سے پوچھا کہ خوش ہو؟ تو تم نے الٹا پلٹا جواب دیا جس سے میرے صحابی رضی اللہ عنہم تم سے نالاں ہیں۔ اب میں نے پھر دے دلا کر تمہیں راضی کر لیا۔ اب تم ان کے سامنے بھی اسی طرح اپنی رضا مندی ظاہر کرنا جیسے اب تم نے میرے سامنے کی ہے تاکہ ان کا رنج بھی دور ہو جائے۔‏‏‏‏“ اس نے کہا: ”بہت اچھا۔‏‏‏‏“ چنانچہ جب وہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں آپ کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو یہ شخص آیا تھا اس نے مجھ سے مانگا تھا، میں نے ایسے دیا تھا۔ پھر میں نے اس سے پوچھا تھا، تو اس نے ایسا جواب دیا تھا جو تمہیں ناگوار گزرا۔ میں نے اسے پھر اپنے گھر بلوایا اور زیادہ دیا۔ تو یہ خوش ہو گیا۔ کیوں بھئی اعرابی یہی بات ہے“؟ اس نے کہا: ”ہاں یا رسول اللہ، اللہ تعالیٰ آپ کو ہمارے اہل و عیال اور قبیلے کی طرف سے بہترین بدلہ عنایت فرمائے۔ آپ نے مجھ سے بہت اچھا سلوک کیا۔ جزاک اللہ“ اس وقت آپ نے فرمایا: ”میری اور اس اعرابی کی مثال سنو! جیسے وہ شخص جس کی اونٹنی بھاگ گئی لوگ اس کے پکڑنے کو دوڑے، وہ ان سے بدک کر اور بھاگنے لگی۔

آخر اوٹنی والے نے کہا: ”لوگو! تم ایک طرف ہٹ جاؤ مجھے اور میری اوٹنی کو چھوڑ دو، اس کی خو خصلت سے میں واقف ہوں اور یہ میری ہی ہے۔‏‏‏‏“ چنانچہ اس نے نرمی سے اسے بلانا شروع کیا۔ زمین سے گھانس پھونس توڑ کر اپنی مٹھی میں لے کر اسے دکھایا اور اپنی طرف بلایا، وہ آ گئی۔ اس نے اس کی نکیل تھام لی اور پالان و کجاوہ ڈال دیا۔ سنو! اس کے پہلی دفعہ کے بگڑنے پر اگر میں بھی تمہارا ساتھ دیتا تو یہ جہنمی بن جاتا۔ ۱؎ 0مجمع الزوائد:16،12/9:ضعیف] ‏‏‏‏ ابراہیم بن حکم بن ابان کے ضعف کی وجہ سے اس کی سند ضعیف ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ اے نبی! مومنوں کے سامنے اپنا بازو پست رکھو۔ لوگ میری نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ میں تمہارے اعمال سے بری ہوں۔ تو ہمیشہ اپنا بھروسہ رب عزیز و رحیم پر رکھ۔ ۱؎ [26-الشعراء:215-217] ‏‏‏‏ شریعت سے منہ موڑنے والون سے بے نیازی اختیار کیجئے ؛ یہاں بھی فرماتا ہے اگر یہ لوگ تیری شریعت سے منہ پھیر لیں تو تو کہہ دے کہ مجھے اللہ کافی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میرا توکل اسی کی پاک ذات پر ہے۔ جیسے فرمان ہے مشرق و مغرب کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اس کے سوا کوئی بھی لائق عبادت نہیں تو اسی کو اپنا کار ساز ٹھہرا۔ ۱؎ [73۔المزمل:9] ‏‏‏‏

وہ رب عرش عظیم ہے۔ یعنی ہرچیز کا مالک و خالق وہی ہے۔ عرش عظیم تمام مخلوقات کی چھت ہے۔ آسمان و زمین اور کل کائنات بقدرت رب عرش تلے ہے۔ اس اللہ کا علم ہرچیز پر شامل ہے اور ہرچیز کو اپنے احاطے میں کئے ہوئے ہے۔ اس کی قدرت ہرچیز پر حاوی ہے وہ ہر ایک کا کارساز ہے۔ ابی بن کعب فرماتے ہیں سب سے آخری آیت قرآن کی یہی ہے۔
128۔ 1 سورت کے آخر میں مسلمانوں پر نبی کی صورت میں جو احسان عظیم فرمایا گیا، اس کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ آپ کی پہلی صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ تمہاری جنس سے یعنی جنس بشریت سے ہیں (وہ نور یا اور کچھ نہیں) جیسا کہ فساد عقیدہ کے شکار لوگ عوام کو اس قسم کے گورکھ دھندے میں پھنساتے ہیں۔ 128۔ 2 عَنْت ایسی چیزیں جن سے انسان کو تکلیف ہو، اس میں دنیاوی مشقتیں اور آخروی عذاب دونوں آجاتے ہیں، اس پیغمبر پر، تمہاری ہر قسم کی تکلیف و مشقت گراں گزرتی ہے۔ اسی لئے آپ نے فرمایا اِنَّ ھٰذَا الدِّینَ یُسر بیشک یہ دین آسان ہے اور میں آسان دین حنیفی دے کر بھیجا گیا ہوں۔ 128۔ 3 تمہاری ہدایت اور تمہاری دینوی آخروی کے فائدے کے خواہشمند ہیں اور تمہارا جہنم میں جانا پسند نہیں فرماتے۔ اسی لئے آپ نے فرمایا کہ ' میں تمہیں تمہاری پشتوں سے پکڑ پکڑ کر کھنچتا ہوں لیکن تم مجھ سے دامن چھڑا کر زبردستی نار جہنم میں داخل ہوتے ہو (صحیح بخاری) 128۔ 4 یہ آپ کی چوتھی صفت بیان کی گئی ہے۔ یہ ساری خوبیاں آپ کے اعلٰی اخلاق اور کریمانہ صفات کی مظہر ہیں۔ یقینا آپ صاحب خلق عظیم ہیں۔
(آیت 128) {لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ …:} اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض صفات عالیہ کا اور لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر ہے۔ ایک صفت {” لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ “} میں لفظ {”رَسُوْلٌ“} ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول ہیں، یعنی خود نہیں آئے بلکہ اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے آئے ہیں۔ ایک احسان {” جَآءَكُمْ “} ہے، یعنی تمام لوگوں کی طرف قیامت تک کے لیے آنے والا رسول تم عربوں میں آیا ہے، عربی رسول بھیج کر اللہ تعالیٰ نے دنیا کی امامت کے لیے تمھیں منتخب فرمایا ہے۔ {” كُمْ “} کے مخاطب تمام دنیا کے لوگ ہیں، مگر اول مخاطب عرب ہیں، آپ کی تیسری صفت اور اللہ کا احسان {” مِنْ اَنْفُسِكُمْ “} ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمھاری جنس سے، یعنی انسانوں میں سے ہیں، انھیں تمام انسانی ضروریات لاحق ہیں، وہ آدم کی اولاد سے ہیں، ان کے ماں باپ بھی ہیں، قریش کے ہر خاندان سے کوئی نہ کوئی رشتہ داری ہے، بیویاں اور اولاد بھی ہیں، بچپن، جوانی، بڑھاپا، بھوک، پیاس اور وفات سب کچھ آپ پر گزرا، صحت و مرض، رنج و راحت ہر مرحلے سے گزرے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر چیز میں تمھارے لیے نمونہ ہیں۔ اگر وہ جن یا فرشتہ یا کوئی اور جنس ہوتے تو تمھارے لیے نمونہ اور اسوۂ حسنہ کیسے بنتے؟ اللہ کا احسان مانو کہ اس نے خود تم میں سے ایک نمونہ اپنا پیغام دے کر بھیجا کہ اس کی بات بھی سنو اور اس کی ذات کو دیکھ کر اس کے مطابق عمل بھی کرو۔ مزید دیکھے سورۂ آل عمران(۱۶۴) چوتھی یہ کہ {” عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ “} تمھارا کسی طرح بھی مشقت یا مصیبت میں پڑنا اس پر نہایت شاق ہے، وہ برداشت ہی نہیں کر سکتا کہ تم کفر اختیار کرکے دنیا میں حیوانوں سے بدتر زندگی گزارو، پھر آخرت میں جہنم کا ایندھن بنو، اس فکر میں وہ گھلتا جا رہا ہے، اتنا کہ اللہ تعالیٰ کو اسے تسلی دلانا پڑتی ہے۔ دیکھیے سورۂ کہف (۶)، آل عمران (۱۷۶)، شعراء (۳) اور شوریٰ (۴۸) پھر وہ ایسا دین لے کر آیا ہے جس میں کوئی مشکل نہیں، نہایت آسان اور سادہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اِنِّيْ اُرْسِلْتُ بِحَنِيْفِيَّةٍ سَمْحَةٍ ] [ أحمد: 116/6، ح: ۲۴۹۰۸، عن عائشۃرضی اللہ عنھا، قال شعیب الأرنؤوط وغیرہ حدیث قوی، إسنادہ حسن ] ”مجھے حنیفی (ابراہیم حنیف والی) آسان شریعت دے کر بھیجا گیا ہے۔“ اور فرمایا: [ اِنَّ الدِّيْنَ يُسْرٌ ] ”یہ دین سراسر آسان ہے۔“ [ بخاری، الإیمان، باب الدین یسر: ۳۹، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ایسا مہربان نبی کہ طائف میں دس دن رہ کر مار کھا کر زخمی اور بے ہوش ہو کر نکلا اور ہوش آنے پر اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا کہ اگر کہو تو میں (دو پہاڑوں) اخشبین میں ان کفار کو پیس دوں؟ تو فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ اللہ ان کی پشتوں سے ایسے لوگ نکالے گا جو ایک اللہ کی عبادت کریں گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔“ [ بخاری، بدء الخلق، باب إذا قال إحدکم آمین…: ۳۲۳۱، عن عائشۃ رضی اللہ عنھا ] پانچویں یہ کہ {” حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ “} رات دن اس کی یہی کوشش ہے اور اسی فکر میں لگا رہتا ہے کہ جس طرح بھی ہو سکے تم دوزخ سے بچ جاؤ اور دنیا و آخرت کی فلاح حاصل کر لو۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے {” حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ “} کا ترجمہ کیا ہے ”تلاش رکھتا ہے تمھاری۔“ اس کی وضاحت میں فرمایا: ”چاہتا ہے کہ میری امت زیادہ ہوتی رہے۔“ (موضح) اس لیے زیادہ اولاد دینے والے خاندانوں میں نکاح کرنے کی ترغیب دی، فرمایا: [ تَزَوَّجُوا الْوَلُوْدَ الْوَدُوْدَ فَاِنِّيْ مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ ] ”ایسی عورتوں سے نکاح کرو جو بہت بچے دینے والی، بہت محبت کر نے والی ہوں، کیونکہ میں دوسری امتوں کے سامنے تمھاری کثرت پر فخر کرنے والا ہوں۔“ [ نسائی، النکاح، باب کراھیۃ تزویج العقیم: ۳۲۲۹۔ أبو داوٗد: ۲۰۵۰ ] چھٹی {” بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ “} نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کی عیادت کے لیے جاتے، ان کے جنازے میں پہنچتے، نماز میں بچے کے رونے کی آواز سن کر ماں کی تکلیف محسوس کرتے ہوئے نماز مختصر کر دیتے، خود بھوکے رہ کر انھیں کھلاتے پلاتے، نبوت سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام انسانوں کے ساتھ شفقت و ہمدردی کو دیکھیں جس کی شہادت ام المومنین خدیجہ رضی اللہ عنھا نے دی، تو مومنوں پر آپ کی نرمی اور رحمت کا خود بخود اندازہ ہوتا ہے۔ ان کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کرتے، اللہ تعالیٰ نے جو ایک مقبول دعا ہر نبی کی طرح آپ کو عطا کی، سب نے کر لی، مگر آپ نے اپنی امت کی شفاعت کرنے کے لیے سنبھال کر رکھ لی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل سے جنت میں اپنے اس مہربان نبی کی رفاقت عطا فرمائے۔ (آمین)
فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ حَسۡبِیَ اللّٰہُ ۫٭ۖ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ وَ ہُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۱۲۹﴾٪
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اب اگر یہ لوگ تم سے منہ پھیرتے ہیں تو اے نبیؐ، ان سے کہدو کہ "میرے لیے اللہ بس کرتا ہے، کوئی معبود نہیں مگر وہ، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ مالک ہے عرش عظیم کا"
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر اگر رو گردانی کریں تو آپ کہہ دیجیئے کہ میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وه بڑے عرش کا مالک ہے
احمد رضا خان بریلوی
پھر اگر وہ منہ پھیریں تو تم فرمادو کہ مجھے اللہ کافی ہے اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) اگر اس پر بھی یہ لوگ روگردانی کرتے ہیں تو کہہ دیجیے کہ میرے لیے اللہ کافی ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہی عرشِ عظیم کا مالک ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دے مجھے اللہ ہی کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اسی پر بھروسا کیا اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منحرفینِ شریعت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیزار ہو جائیں ٭٭

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سب سے آخری آیت قرآن کی یہی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:117/5:ضعیف] ‏‏‏‏ مروی ہے کہ جب خلافت صدیقی میں قرآن کو جمع کیا گیا تو کاتبوں کو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ لکھواتے تھے، جب اس سے پہلے کی آیت «…لاَّ يَفْقَهُون» تک پہنچے تو کہنے لگے کہ یہی آخری آیت ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو آیتیں اور پڑھوائی ہیں پھر آپ نے ان دونوں آیتوں کی تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ قرآن کی آخری آیتیں یہ ہیں۔ پس ختم بھی اسی پر ہوا جس پر شروع ہوا تھا یعنی «لا الہٰ الا اللہ» پر۔ یہی وحی تمام نبیوں ہر آتی اہی ہے کہ میرے سوا کوئی پوجا کے لائق نہیں۔ تم سب میری عبادت کرو۔ ۱؎ [مسند احمد:134/5:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت بھی غریب ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ سیدنا حارث بن خزیمہ رضی اللہ عنہ ان دو آیتوں کو لے کر آئے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے گواہ طلب کیا۔ انہوں نے کہا گواہ کی تو مجھے خبر نہیں، ہاں سورۃ برأت کی یہ دو آخری آیتیں مجھے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہیں۔ اور مجھے خوب اچھی طرح حفظ ہیں۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ میں نے بھی انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ یہ گواہی سن کر آپ نے فرمایا: ”اگر ان کے ساتھ تیسری آیت بھی ہوتی تو میں اسے علیحدہ سورت بنا لیتا تم انہیں قرآن کی کسی سورت کے ساتھ لکھ لو۔ چنانچہ سورۃ براۃ کے آخر میں یہ لکھ لی گئیں۔ ۱؎ [مسند احمد:1715:ضعیف] ‏‏‏‏ پہلے یہ بات بھی بیان ہو چکی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہی قرآن کے جمع کرنے کا مشورہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیا تھا اور بحکم خلیفہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اسے جمع کرنا شروع کیا تھا اس جماعت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی آمد و رفت رکھتے تھے۔ صحیح حدیث میں ہے سیدنا زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ سورۃ برات کا آخری حصہ میں نے خزیمہ بن ثابت یا ابوخزیمہ کے پاس پایا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4679] ‏‏‏‏ یہ بھی ہم لکھ آئے ہیں کہ ایک جماعت صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کا مذاکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو کیا جیسے کہ سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا تھا جب کہ ان کے سامنے اس کی ابتدائی بات کہی تھی۔ واللہ اعلم۔ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص صبح شام «حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ» کو سات سات مرتبہ پڑھ لے اللہ تعالیٰ اسے اس کی تمام پریشانیوں سے نجات دے گا۔ ایک روایت میں ہے کہ خواہ صداقت سے پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو ۱؎ [سنن ابوداود:5081،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن یہ زیادتی غریب ہے۔ ایک مرفوع روایت بھی اسی قسم کی ہے لیکن وہ بہت منکر ہے واللہ اعلم۔
129۔ 1 یعنی آپ کی لائی ہوئی شریعت اور دین رحمت سے۔ 129۔ 2 جو کفر و اعراض کرنے والوں کے مکرو فریب سے مجھے بچا لے گا۔ 129۔ 3 حضرت ابو الدردا فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ آیت حَسْبِیَ اللّٰہُ (الآ یۃَ) صبح اور شام سات سات مرتبہ پڑھ لے گا، اللہ تعالیٰ اس کے ہموم (فکر و مشکلات) کو کافی ہوجائے گا۔
(آیت 129) ➊ { فَاِنْ تَوَلَّوْا …:} یعنی ایسے مہربان نبی، اس کی مومنوں پر شفقت و رحمت و حرص اور اس قدر سہل دین کے باوجود اگر وہ منہ موڑیں، تو آپ یہ کہیں: «{ حَسْبِيَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ }» صرف یہ عقیدہ ہی نہ رکھیں، بلکہ برملا اعلان کریں اور اللہ کے کافی ہونے پر اپنی خوشی اور فخر کا اظہار کریں۔ توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے ➋ {حَسْبِيَ اللّٰهُ:حَسْبِيَ “} پہلے آنے کی وجہ سے معنی میں حصر پیدا ہو گیا، یعنی مجھے صرف اللہ کافی ہے، خواہ سب لوگ مجھے چھوڑ جائیں۔ ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے کیا ڈر ہے اگر ساری خدائی ہو مخالف کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے دنیا میں اسباب بنائے ہیں، ساتھیوں کی مدد سے قوت ملتی ہے اور ایک دوسرے کی مدد کا حکم بھی ہے: «{ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى }» [ المائدۃ: ۲ ] ”اور نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔“ مگر کافر اور مومن کا یہی فرق ہے کہ دنیاوی اسباب ختم ہونے پر کافر ناامید ہو جاتا ہے اور مشرک کو اپنے معبودوں پر اتنا اعتماد ہو ہی نہیں سکتا جتنا موحد کو ایک اللہ پر ہوتا ہے، اس لیے مومن کبھی نا امید ہو کر کفر کے مقابلے سے دستبردار نہیں ہوتا کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی اس لیے قرآن و حدیث کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے کہ اسباب و ضروریات مہیا کرنے کی پوری کوشش کرو، وہ جمع ہو جائیں تب بھی ان پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرو اور ایک بھی سبب مہیا نہ ہو سکے تب بھی صرف اللہ پر بھروسا رکھو جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ کوئی عام بادشاہ نہیں، عرش عظیم کا رب ہے، کوئی چیز اس کی سلطنت اور دسترس سے باہر نہیں۔ تمام اسباب ختم ہونے پر ایک اللہ پر اسی اعتماد اور اس کے مطابق اللہ تعالیٰ کی مدد کا مظاہرہ غار ثور میں ہوا، فرمایا: «{ اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ … }» [ التوبۃ: ۴۰ ] اسی کا مظاہرہ جنگ احد کے اختتام پر دشمن کے اجتماع کی خبر پر اہل ایمان کے قول کے وقت ہوا اور اسی کا مظاہرہ دنیا کا ہر سہارا ختم ہونے پر آگ میں پھینکے جانے کے وقت ابراہیم علیہ السلام کے قول «{ حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِيْلُ }» کہنے اور بلا اسباب آگ کو گلزار بنا کر اللہ تعالیٰ کی مدد کی صورت میں ہوا۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۷۳، ۱۷۴) اور سورۂ بروج میں مذکور اصحاب الاخدود والے لڑکے کے پاس جب تمام اسباب ختم ہو گئے تو اس نے انھی الفاظ کے ہم معنی الفاظ [ اَللّٰهُمَّ اكْفِنِيْهِمْ بِمَا شِئْتَ ] (اے اللہ! مجھے ان سے کافی ہو جا جس چیز کے ساتھ تو چاہے) کے ساتھ دعا کی تو پہاڑ سے گرانے والے خود گر کر مر گئے اور سمندر میں ڈبونے والے خود ڈوب گئے، مگر اس کا کچھ بھی نہ بگڑا۔ [ دیکھیے مسلم، الزھد، باب قصۃ أصحاب الأخدود…: ۳۰۰۵، عن صہیب رضی اللہ عنہ ] اب بھی اگر کوئی یقین کے ساتھ اللہ پر اعتماد کرنے والا یہ دعائیں پڑھے تو اللہ تعالیٰ کی مدد اسی طرح آئے گی، خواہ ساری دنیا اس سے منہ موڑ جائے۔ بندۂ عاجز عبد السلام عرض کرتا ہے کہ یہ ان مبارک دعاؤں میں سے ہے جن کے پڑھنے کا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن مجید میں {” قُلْ “} کے لفظ کے ساتھ حکم دیا ہے، اس لیے ہمیں بھی اپنے صبح و شام کے اذکار میں اسے شامل کرنا چاہیے۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جو شخص یہ دعا «{ حَسْبِيَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ }» صبح و شام سات سات دفعہ پڑھے، اللہ تعالیٰ اسے تمام فکروں سے کافی ہو جاتا ہے۔“ یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تو ثابت نہیں، ہاں ابودرداء رضی اللہ عنہ کے قول کی سند کے راوی اچھے ہیں، البتہ اس میں [ صَادِقًا كَانَ بِهَا اَوْ كَاذِبًا ] کے الفاظ صحیح نہیں، بلکہ منکر ہیں۔ [ دیکھیے سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ و الموضوعۃ: ۵۲۸۶ ] بالفرض اگر صحابی کا قول بھی نہ ہو تو اس کی فضیلت میں اللہ تعالیٰ کافرمان {” قُلْ “} ہی کافی ہے۔