بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ التوبة — Surah Tawbah
آیت نمبر 109
کل آیات: 129
قرآن کریم التوبة آیت 109
آیت نمبر: 109 — سورۃ التوبة islamicurdubooks.com ↗
اَفَمَنۡ اَسَّسَ بُنۡیَانَہٗ عَلٰی تَقۡوٰی مِنَ اللّٰہِ وَ رِضۡوَانٍ خَیۡرٌ اَمۡ مَّنۡ اَسَّسَ بُنۡیَانَہٗ عَلٰی شَفَا جُرُفٍ ہَارٍ فَانۡہَارَ بِہٖ فِیۡ نَارِ جَہَنَّمَ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۰۹﴾
پھر تمہارا کیا خیال ہے کہ بہتر انسان وہ ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضا کی طلب پر رکھی ہو یا وہ جس نے اپنی عمارت ایک وادی کی کھوکھلی بے ثبات کگر پر اٹھائی اور وہ اسے لے کر سیدھی جہنم کی آگ میں جا گری؟ ایسے ظالم لوگوں کو اللہ کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا
پھر آیا ایسا شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ سے ڈرنے پر اور اللہ کی خوشنودی پر رکھی ہو، یا وه شخص، کہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد کسی گھاٹی کے کنارے پر جو کہ گرنے ہی کو ہو، رکھی ہو، پھر وه اس کو لے کر آتش دوزخ میں گر پڑے، اور اللہ تعالیٰ ایسے ﻇالموں کو سمجھ ہی نہیں دیتا
تو کیا جس نے اپنی بنیاد رکھی اللہ سے ڈر اور اس کی رضا پر وہ بھلا یا وہ جس نے اپنی نیو چنی ایک گراؤ (ٹوٹے ہوئے کناروں والے) گڑھے کے کنارے تو وہ اسے لے کر جہنم کی آ گ میں ڈھے پڑا اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا،
آیا وہ شخص بہتر ہے جو اپنی عمارت کی بنیاد خوفِ خدا اور اس کی خوشنودی پر رکھے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ایک کھائی کے گرتے ہوئے کنارے پر رکھی اور پھر وہ اسے لے کر دوزخ کی آگ میں جاگری اور اللہ ظالموں کو منزلِ مقصود تک نہیں پہنچاتا۔
تو کیا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے خوف اور اس کی خوشنودی پر رکھی، بہتر ہے، یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد کھوکھلے تودے کے کنارے پر رکھی، جو گرنے والا تھا؟ پس وہ اسے لے کر جہنم کی آگ میں گر گیا اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے مسجد کی بنیاد تقویٰ اور رضائے الہٰی پر رکھی ہے اور وہ لوگ جنہوں نے مسجد ضرار اور مسجد کفر بنائی اور مومنین میں تفریق ڈال دی اور اللہ سے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کے لئے اس کو جائے پناہ قرار دیا، کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ ان لوگوں نے تو اس مسجد ضرار کی بنیاد گویا ایک گڑھے کے ڈھلتے ہوئے کنارے پر رکھی جو اسے جہنم کی آگ میں لے گری۔ اور حدود سے تجاوز کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں فرماتا۔ یعنی مفسدین کے عمل کو اصلاح پزیر نہیں بناتا۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مسجد ضرار کو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسبِ فرمان جب اس میں آگ لگا دی گئی تو اس میں دھواں نکل رہا تھا۔ ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہوا کہ بعض لوگوں نے ایک جگہ گڑھا کھودا تو اس میں سے دھواں نکلتا ہوا پایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17262:ضعیف] ‏‏‏‏ قتادہ رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ خلف بن یاسین کوفی کہتے ہیں کہ میں نے منافقین کی اس مسجد کو دیکھا کہ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے، یہ دیکھا کہ اس میں ایک سوراخ ہے جس میں سے دھواں نکل رہا ہے اور آج کے روز وہ جگہ گندگی پھینکنے کی جگہ بنی ہوئی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17264:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کو روایت کیا، اور قولہ تعالیٰ «لَا يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِي بَنَوْا رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ» [9-التوبة:110] ‏‏‏‏ یعنی ان کی بنائی ہوئی یہ عمارت تو ہمیشہ ان کے دلوں میں شک و شبہ کی باعث ہی رہے گی اور اس عمل شنیع کا اقدام کرنے کی وجہ سے ان کے دلوں میں نفاق کا بیج بوتی رہے گی، جیسا کہ گوسالہ پرستوں کے دل میں گوسالہ کی محبت پڑی ہوئی تھی «إِلَّا أَن تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ» البتہ اس صورت میں ان منافقین کی بیخ کنی ہو سکتی ہے جب کہ اس مسجد ہی کو ختم کر کے ان کے دلوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں۔ اللہ اپنے بندوں کے اعمال کو خوب جانتا ہے اور خیر و شر کا بدلہ دینے میں بڑا حکیم ہے۔

📖 احسن البیان

19۔ 1 اس میں مومن اور منافق کے عمل کی مثالیں بیان کی گئی ہیں۔ مومن کا عمل اللہ کے تقوٰی پر اور اس کی رضامندی کے لئے ہوتا ہے۔ جب کہ منافق کا عمل ریاکاری اور فساد پر مبنی ہوتا ہے۔ جو اس حصہ زمین کی طرح جس کے نیچے سے وادی کا پانی گزرتا ہے اور مٹی کو ساتھ بہا لے جاتا ہے۔ وہ حصہ نیچے سے کھوکھلا رہ جاتا ہے۔ جس پر کوئی تعمیر کرلی جائے تو فوراً گرپڑے۔ ان منافقین کا مسجد بنانے کا عمل بھی ایسا ہی ہے جو انہیں جہنم میں ساتھ لے گرے گا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 109) ➊ {اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْيَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى …: ” شَفَا “} کنارا {” جُرُفٍ “} ندی نالے یا دریا کا کنارا جس کے نیچے سے پانی مٹی بہا کر لے گیا ہو اور وہ بس گرنے ہی والا ہو، کیونکہ اس کے نیچے کوئی بنیاد ہی نہیں کہ ٹھہر سکے، صرف مٹی کا نیچے سے کھوکھلا تودا ہے۔ {” هَارٍ “} اسم فاعل ہے {”هَارَ يَهَارُ ({خَافَ يَخَافُ})“} سے یا {”هَارَ يَهُوْرُ ({قَالَ يَقُوْلُ})“} سے۔ اصل {”هَائِرٌ“} تھا، جیسا کہ {”خَائِفٌ“} یا {”قَائِلٌ“}، پھر اس میں قلب واقع ہوا تو{ ”هَارِيٌ“} ہو گیا اور {”رَاضِيٌ“} سے یاء گرنے کے بعد {”رَاضٍ“ } کی طرح {”هَارِيٌ“} سے {”هَارٍ“} ہو گیا۔ {” فَانْهَارَ “} باب انفعال {” اِنْهِيَارٌ “} سے ماضی معلوم ہے۔ یہ دو شخصوں کی مثال ہے، ایک وہ جس کے عقیدہ و عمل کی بنیاد اللہ کے تقویٰ اور اس کی رضا پر ہے، دوسرا وہ جس کے عقیدہ وعمل کی بنیاد محض کفر و نفاق پر ہے۔ اول الذکر کی عمارت کی بنیاد مضبوط ومستحکم ہے، وہ کبھی گرنے والی نہیں اور دوسرے کی عمارت ایسی چیز پر ہے جو دکھائی تو دیتی ہے مگر نیچے سے خالی ہے، گویا اس کی بنیاد ہی نہیں۔ اس کا نتیجہ اس کے سوا کیا ہو گا کہ وہ عمارت ہر حال میں اسے بھی لے کر گرے گی اور کفر و نفاق (جس کا انجام آگ ہے) کے اوپر کھڑی ہونے کی وجہ سے جہنم کی آگ میں لے کر گرے گی۔ ➋ { وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ:} یعنی بے انصافی (ظلم) کی یہ شامت پڑتی ہے کہ نیک عمل کرنا بھی چاہیں تو بن نہیں آتا۔ (موضح)
← پچھلی آیت (108) پوری سورۃ اگلی آیت (110) →