پھر تمہارا کیا خیال ہے کہ بہتر انسان وہ ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضا کی طلب پر رکھی ہو یا وہ جس نے اپنی عمارت ایک وادی کی کھوکھلی بے ثبات کگر پر اٹھائی اور وہ اسے لے کر سیدھی جہنم کی آگ میں جا گری؟ ایسے ظالم لوگوں کو اللہ کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا
پھر آیا ایسا شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ سے ڈرنے پر اور اللہ کی خوشنودی پر رکھی ہو، یا وه شخص، کہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد کسی گھاٹی کے کنارے پر جو کہ گرنے ہی کو ہو، رکھی ہو، پھر وه اس کو لے کر آتش دوزخ میں گر پڑے، اور اللہ تعالیٰ ایسے ﻇالموں کو سمجھ ہی نہیں دیتا
تو کیا جس نے اپنی بنیاد رکھی اللہ سے ڈر اور اس کی رضا پر وہ بھلا یا وہ جس نے اپنی نیو چنی ایک گراؤ (ٹوٹے ہوئے کناروں والے) گڑھے کے کنارے تو وہ اسے لے کر جہنم کی آ گ میں ڈھے پڑا اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا،
آیا وہ شخص بہتر ہے جو اپنی عمارت کی بنیاد خوفِ خدا اور اس کی خوشنودی پر رکھے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ایک کھائی کے گرتے ہوئے کنارے پر رکھی اور پھر وہ اسے لے کر دوزخ کی آگ میں جاگری اور اللہ ظالموں کو منزلِ مقصود تک نہیں پہنچاتا۔
تو کیا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے خوف اور اس کی خوشنودی پر رکھی، بہتر ہے، یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد کھوکھلے تودے کے کنارے پر رکھی، جو گرنے والا تھا؟ پس وہ اسے لے کر جہنم کی آگ میں گر گیا اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔