بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
التوبة
سورۃ التوبة — 129 آیات — صفحہ 1 از 3
قرآن کریم Surah 9
بَرَآءَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖۤ اِلَی الَّذِیۡنَ عٰہَدۡتُّمۡ مِّنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ؕ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اعلان برات ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اُن مشرکین کو جن سے تم نے معاہدے کیے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ اوراس کے رسول کی جانب سے بیزاری کا اعلان ہے۔ ان مشرکوں کے بارے میں جن سے تم نے عہد وپیمان کیا تھا
احمد رضا خان بریلوی
بیزاری کا حکم سنانا ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکوں کو جن سے تمہارا معاہدہ تھا اور وہ قائم نہ رہے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے مسلمانو) خدا اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ برأت ہے ان مشرکین سے جن سے تم نے (صلح کا) معاہدہ کیا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے ان مشرکوں کی طرف بریٔ الذمہ ہونے کا اعلان ہے جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہ سورت سب سے آخر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری ہے۔ بخاری شریف میں ہے سب سے آخر میں آیت «يَسْتَفْتُونَكَ» ۱؎ [ 4-النساء: 176 ] ‏‏‏‏ اتری۔ اور سب سے آخری سورت سورۃ براۃ اتری ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4654] ‏‏‏‏ اس کے شروع میں بسم اللہ نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی اقتداء کر کے اسے قرآن میں نہیں لکھی تھی۔ ترمذی شریف میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ”آخر کیا وجہ ہے؟ جو آپ نے سورۃ الانفال کو جو مثانی میں سے ہے اور سورۃ براۃ کو جو مئین میں سے ہے ملا دیا اور ان کے درمیان «‏‏‏‏بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ» ‏‏‏‏ نہیں لکھی اور پہلے کی سات لمبی سورتوں میں انہیں رکھا؟“ تو آپ نے جواب دیا کہ ”بسا اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ساتھ کئی سورتیں اترتی تھیں۔ جب آیت اترتی آپ وحی کے لکھنے والوں میں سے کسی کو بلا کر فرما دیتے کہ اس آیت کو فلاں سورت میں لکھ دو جس میں یہ ذکر ہے سورۃ الانفال مدینہ منورہ میں سب سے پہلے نازل ہوئی تھی اور سورۃ براۃ سب سے آخر میں اتری تھی۔“ بیانات دونوں کے ملتے جلتے تھے مجھے خیال ہوا کہ کہیں یہ بھی اسی میں سے نہ ہو حضور اکرم صلی اللہ علیہ کا انتقال ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے نہیں فرمایا کہ یہ اس میں سے ہے اس لیے میں نے دونوں سورتوں کو متصل لکھا اور ان کے درمیان «‏‏‏‏بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ» ‏‏‏‏ نہیں لکھی اور سات پہلی لمبی سورتوں میں انہیں رکھا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:786،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس سورت کا ابتدائی حصہ اس وقت اترا جب آپ غزوہ تبوک سے واپس آ رہے تھے۔ حج کا زمانہ تھا۔ مشرکین اپنی عادت کے مطابق حج میں آ کر بیت اللہ شریف کا طواف ننگے ہو کر کیا کرتے تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں خلا ملا ہونا ناپسند فرما کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حج کا امام بنا کر اس سال مکہ مکرمہ روانہ فرمایا کہ مسلمانوں کو احکام حج سکھائیں اور مشرکوں میں اعلان کر دیں کہ وہ آئندہ سال سے حج کو نہ آئیں اور سورۃ براۃ کا بھی عام لوگوں میں اعلان کر دیں۔ آپ کے پیچھے پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ آپ کا پیغام بحیثیت آپ کے نزدیکی قرابت داری کے آپ بھی پہنچا دیں، جیسے کہ اس کا تفصیلی بیان آ رہا ہے، ان شاءاللہ۔ پس فرمان ہے کہ یہ بے تعلقی ہے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بعض تو کہتے ہیں: " یہ اعلان اس عہد و پیمان کے متعلق ہے جن سے کوئی وقت معین نہ تھا یا جن سے عہد چار ماہ سے کم کا تھا لیکن جن کا لمبا عہد تھا وہ بدستور باقی رہا "۔ جیسے فرمان ہے کہ «‏‏‏‏فَأَتِمّوا إِلَيهِم عَهدَهُم إِلىٰ مُدَّتِهِم» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 9- التوبہ: 4 ] ‏‏‏‏ ان کی مدت پوری ہونے تک تم ان سے ان کا عہد نبھاؤ۔ حدیث میں بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ہم سے جن کا عہد و پیمان ہے ہم اس پر مقررہ وقت تک پابندی سے قائم ہیں۔ " ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16384] ‏‏‏‏ گو اس بارے میں اور اقوال بھی ہیں لیکن سب سے اچھا اور سب سے قوی قول یہی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ " جن لوگوں سے عہد ہو چکا تھا ان کے لیے چار ماہ کی حد بندی اللہ تعالیٰ نے مقرر کی اور جن سے عہد نہ تھا ان کے لیے حرمت والے مہینوں کے گزر جانے کی عہد بندی مقرر کر دی یعنی دس ذی الحجہ سے محرم ختم تک پچاس دن "۔ اس مدت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے جنگ کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے جب تک وہ اسلام قبول نہ کر لیں۔ اور جن سے عہد ہے وہ دس ذی الحجہ کے اعلان کے دن سے لے کر بیس ربیع الآخر تک اپنی تیاری کر لیں پھر اگر چاہیں مقابلے پر آ جائیں۔ یہ واقعہ ٩ ھ کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیر حج مقرر کر کے بھیجا تھا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو تیس یا چالیس آیتیں قرآن کی اس صورت کی دے کر بھیجا کہ آپ چار ماہ کی مدت کا اعلان کر دیں۔

آپ نے ان کے ڈیروں میں، گھروں میں، منزلوں میں جا جا کر یہ آیتیں انہیں سنا دیں اور ساتھ ہی سرکار نبوت کا یہ حکم بھی سنا دیا کہ اس سال کے بعد حج کے لیے کوئی مشرک نہ آئے اور بیت اللہ کا طواف کوئی ننگا شخص نہ کرے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16376] ‏‏‏‏ قبیلہ خزاعہ قبیلہ مدلج اور دوسرے سب قبائل کے لیے بھی یہی اعلان تھا۔ تبوک سے آ کر آپ نے حج کا ارادہ کیا تھا لیکن مشرکوں کا وہاں آنا اور ان کا ننگے ہو کر وہاں کا طواف کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناپسند تھا اس لیے حج نہ کیا اور اس سال سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا انہوں نے ذی المجاز کے بازاروں میں اور ہر گلی کوچے اور ہر ہر پڑاؤ اور میدان میں اعلان کیا کہ " چار مہینے تک کی تو شرک اور مشرک کو مہلت ہے اس کے بعد ہماری اسلامی تلواریں اپنا جوہر دکھائے گی " بیس دن ذی الحجہ کے، محرم پورا، صفر پورا، اور ربیع الاول پورا اور دس دن ربیع الآخر کے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16377] ‏‏‏‏ زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: " شوال محرم تک کی ڈھیل تھی " لیکن یہ قول غریب ہے۔ اور سمجھ سے بھی بالا تر ہے کہ حکم پہنچنے سے پہلے ہی مدت شماری کیسے ہو سکتی ہے؟
وجہ تسمیہ: اس کے مفسرین نے متعدد نام ذکر کئے ہیں لیکن زیادہ مشہور دو ہیں۔ ایک توبہ اس لئے کہ اس میں بعض مومنین کی توبہ قبول ہونے کا ذکر ہے۔ دوسرا براءۃ اس میں مشرکوں سے برات کا اعلان عام ہے۔ یہ قرآن مجید کی واحد سورت ہے جس کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم درج نہیں ہے۔ اس کی بھی متعدد وجوہات کتب تفسیر میں درج ہیں۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ سورة انفال اور سورة توبہ ان دونوں کے مضامین میں بڑی یکسانیت پائی جاتی ہے یہ سورت گویا سورة انفال کا تتمہ یا بقیہ ہے۔ یہ سات بڑی سورتوں میں ساتویں بڑی سورت ہے جنہیں سبع طوال کہا جاتا ہے۔ 1۔ 1 فتح مکہ کے بعد 9 ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق، حضرت علی اور دیگر صحابہ کو قرآن کریم کی یہ آیت اور یہ احکام دے کر بھیجا تاکہ وہ مکہ میں ان کا عام اعلان کردیں۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اعلان کردیا کہ کوئی شخص بیت اللہ کا عریاں طواف نہیں کرے گا، بلکہ آئندہ سال سے کسی مشرک کو بیت اللہ کے حج کی اجازت نہیں ہوگی (صحیح بخاری)
یہ پوری کی پوری سورت مدنی ہے جو فتح مکہ کے بعد ۹ھ میں نازل ہوئی۔ چونکہ سورۂ توبہ اور انفال میں ذکر ہونے والے واقعات ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں، اس لیے ان دونوں سورتوں کو ایک سورت کے حکم میں رکھا گیا ہے اور ان دونوں کے درمیان ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ نہیں لکھی گئی اور یہ سبع طوال (سات لمبی سورتوں) میں سے ساتویں سورت ہے، جن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ أَخَذَ السَّبْعَ الْأَوَلَ مِنَ الْقُرْآنِ فَهُوَ حَبْرٌ ] ”جس نے قرآن مجید کی یہ پہلی سات سورتیں حاصل کر لیں وہ بہت بڑا عالم بن گیا۔“ [ أحمد: 82/6، ح: ۲۴۵۸۵، عن عائشۃ رضی اللہ عنہا] اس کے کئی نام ہیں جن میں سے ایک ”توبہ“ اور دوسرا ”براء ۃ“ ہے۔ ” توبہ“ اس اعتبار سے کہ اس میں ایک مقام پر بعض اہل ایمان کی توبہ قبول ہونے کا ذکر ہے اور ” براء ۃ “ اس لحاظ سے کہ اس کے شروع میں مشرکین سے براء ت کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کو ”سورۃ الفاضحہ“ یعنی (منافقوں کو) رسوا کرنے والی سورت بھی کہتے ہیں۔ اس سورت کے شروع میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم“ نہیں لکھی جاتی، مفسرین نے اس کی متعدد وجوہ بیان کی ہیں، مثلاً یہ کہ اس میں مشرکین سے قطع تعلق اور مسلمان نہ ہونے کی صورت میں ان کے قتل کا حکم ہے اور اہل کتاب کے مسلمان نہ ہونے یا جزیہ نہ دینے کی صورت میں ان سے مسلسل لڑتے رہنے کا حکم ہے وغیرہ، مگر سب سے معقول اور سیدھی سادی بات یہ ہے کہ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے شروع میں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ نہیں لکھوائی اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نہیں لکھی۔ (آیت 1){ بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ …:} اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان تمام معاہدوں کی تنسیخ کا اعلان فرمایا ہے جو مسلمانوں نے مشرکوں سے کیے تھے۔ منسوخ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ مشرکین ان عہد ناموں کو بار بار توڑ دیتے تھے اور ان کی شرائط کو پورا نہیں کرتے تھے، خصوصاً جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے بعد تبوک گئے تو کفار نے سمجھا کہ مسلمان رومیوں کی طاقت کے مقابلے میں فنا ہو جائیں گے، اس لیے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے کیے ہوئے کسی عہد کا لحاظ رکھا نہ باہمی رشتہ داری کا، فرمایا: «لَا يَرْقُبُوْنَ فِيْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً» [ التوبۃ: ۱۰ ] ”یہ لوگ کسی مومن کے بارے میں نہ کسی قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ کسی عہد کا۔“اور فرمایا: «اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَيْمَانَهُمْ» ‏‏‏‏ [ التوبۃ: ۱۳ ] ”کیا تم ان لوگوں سے نہ لڑو گے جنھوں نے اپنی قسمیں توڑ دیں۔“ مگر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم دیکھو کہ ان مشرکین کو اچانک حملہ کر کے برباد کرنے کے بجائے پہلے تمام عہد منسوخ کرنے کا اعلان دنیا کے سب سے بڑے مجمع میں کیا گیا۔ ۹ھ میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زیر امارت حج کے دن دس ذوالحجہ یوم نحر کو میدان منیٰ میں دنیا بھر سے آئے ہوئے لوگوں کی موجودگی میں اعلان ہوا اور کئی آدمی مقرر کیے گئے، جنھوں نے اس مجمع کے ہر مقام پر پہنچ کر بلند آواز کے ساتھ یہ اعلان کیا۔ اس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خود حج پر نہ جانے کی وجہ یہ تھی کہ اس اعلان کے بعد ہی مکہ میں مشرکوں کا داخلہ بند ہوا اور ان کی بے حیائی کی رسمیں ختم ہوئیں۔
فَسِیۡحُوۡا فِی الۡاَرۡضِ اَرۡبَعَۃَ اَشۡہُرٍ وَّ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّکُمۡ غَیۡرُ مُعۡجِزِی اللّٰہِ ۙ وَ اَنَّ اللّٰہَ مُخۡزِی الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس تم لوگ ملک میں چار مہینے اور چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو، اور یہ کہ اللہ منکرین حق کو رسوا کرنے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس (اے مشرکو!) تم ملک میں چار مہینے تک تو چل پھر لو، جان لو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو، اور یہ (بھی یاد رہے) کہ اللہ کافروں کو رسوا کرنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو چا ر مہینے زمین پر چلو پھرو اور جان رکھو کہ تم اللہ کو تھکا نہیں سکتے اور یہ کہ اللہ کافروں کو رسوا کرنے والا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے مشرکو) اب تم صرف چار ماہ تک اس سر زمین پر چل پھر لو اور جان لو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے اور یہ کہ اللہ کافروں کو ذلیل و رسوا کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو اس سرزمین میں چار ماہ چلو پھرو اور جان لو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں اور یہ کہ اللہ کافروں کو رسوا کرنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہ سورت سب سے آخر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری ہے۔ بخاری شریف میں ہے سب سے آخر میں آیت «يَسْتَفْتُونَكَ» ۱؎ [ 4-النساء: 176 ] ‏‏‏‏ اتری۔ اور سب سے آخری سورت سورۃ براۃ اتری ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4654] ‏‏‏‏ اس کے شروع میں بسم اللہ نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی اقتداء کر کے اسے قرآن میں نہیں لکھی تھی۔ ترمذی شریف میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ”آخر کیا وجہ ہے؟ جو آپ نے سورۃ الانفال کو جو مثانی میں سے ہے اور سورۃ براۃ کو جو مئین میں سے ہے ملا دیا اور ان کے درمیان «‏‏‏‏بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ» ‏‏‏‏ نہیں لکھی اور پہلے کی سات لمبی سورتوں میں انہیں رکھا؟“ تو آپ نے جواب دیا کہ ”بسا اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ساتھ کئی سورتیں اترتی تھیں۔ جب آیت اترتی آپ وحی کے لکھنے والوں میں سے کسی کو بلا کر فرما دیتے کہ اس آیت کو فلاں سورت میں لکھ دو جس میں یہ ذکر ہے سورۃ الانفال مدینہ منورہ میں سب سے پہلے نازل ہوئی تھی اور سورۃ براۃ سب سے آخر میں اتری تھی۔“ بیانات دونوں کے ملتے جلتے تھے مجھے خیال ہوا کہ کہیں یہ بھی اسی میں سے نہ ہو حضور اکرم صلی اللہ علیہ کا انتقال ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے نہیں فرمایا کہ یہ اس میں سے ہے اس لیے میں نے دونوں سورتوں کو متصل لکھا اور ان کے درمیان «‏‏‏‏بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ» ‏‏‏‏ نہیں لکھی اور سات پہلی لمبی سورتوں میں انہیں رکھا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:786،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس سورت کا ابتدائی حصہ اس وقت اترا جب آپ غزوہ تبوک سے واپس آ رہے تھے۔ حج کا زمانہ تھا۔ مشرکین اپنی عادت کے مطابق حج میں آ کر بیت اللہ شریف کا طواف ننگے ہو کر کیا کرتے تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں خلا ملا ہونا ناپسند فرما کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حج کا امام بنا کر اس سال مکہ مکرمہ روانہ فرمایا کہ مسلمانوں کو احکام حج سکھائیں اور مشرکوں میں اعلان کر دیں کہ وہ آئندہ سال سے حج کو نہ آئیں اور سورۃ براۃ کا بھی عام لوگوں میں اعلان کر دیں۔ آپ کے پیچھے پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ آپ کا پیغام بحیثیت آپ کے نزدیکی قرابت داری کے آپ بھی پہنچا دیں، جیسے کہ اس کا تفصیلی بیان آ رہا ہے، ان شاءاللہ۔ پس فرمان ہے کہ یہ بے تعلقی ہے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بعض تو کہتے ہیں: " یہ اعلان اس عہد و پیمان کے متعلق ہے جن سے کوئی وقت معین نہ تھا یا جن سے عہد چار ماہ سے کم کا تھا لیکن جن کا لمبا عہد تھا وہ بدستور باقی رہا "۔ جیسے فرمان ہے کہ «‏‏‏‏فَأَتِمّوا إِلَيهِم عَهدَهُم إِلىٰ مُدَّتِهِم» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 9- التوبہ: 4 ] ‏‏‏‏ ان کی مدت پوری ہونے تک تم ان سے ان کا عہد نبھاؤ۔ حدیث میں بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ہم سے جن کا عہد و پیمان ہے ہم اس پر مقررہ وقت تک پابندی سے قائم ہیں۔ " ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16384] ‏‏‏‏ گو اس بارے میں اور اقوال بھی ہیں لیکن سب سے اچھا اور سب سے قوی قول یہی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ " جن لوگوں سے عہد ہو چکا تھا ان کے لیے چار ماہ کی حد بندی اللہ تعالیٰ نے مقرر کی اور جن سے عہد نہ تھا ان کے لیے حرمت والے مہینوں کے گزر جانے کی عہد بندی مقرر کر دی یعنی دس ذی الحجہ سے محرم ختم تک پچاس دن "۔ اس مدت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے جنگ کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے جب تک وہ اسلام قبول نہ کر لیں۔ اور جن سے عہد ہے وہ دس ذی الحجہ کے اعلان کے دن سے لے کر بیس ربیع الآخر تک اپنی تیاری کر لیں پھر اگر چاہیں مقابلے پر آ جائیں۔ یہ واقعہ ٩ ھ کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیر حج مقرر کر کے بھیجا تھا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو تیس یا چالیس آیتیں قرآن کی اس صورت کی دے کر بھیجا کہ آپ چار ماہ کی مدت کا اعلان کر دیں۔

آپ نے ان کے ڈیروں میں، گھروں میں، منزلوں میں جا جا کر یہ آیتیں انہیں سنا دیں اور ساتھ ہی سرکار نبوت کا یہ حکم بھی سنا دیا کہ اس سال کے بعد حج کے لیے کوئی مشرک نہ آئے اور بیت اللہ کا طواف کوئی ننگا شخص نہ کرے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16376] ‏‏‏‏ قبیلہ خزاعہ قبیلہ مدلج اور دوسرے سب قبائل کے لیے بھی یہی اعلان تھا۔ تبوک سے آ کر آپ نے حج کا ارادہ کیا تھا لیکن مشرکوں کا وہاں آنا اور ان کا ننگے ہو کر وہاں کا طواف کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناپسند تھا اس لیے حج نہ کیا اور اس سال سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا انہوں نے ذی المجاز کے بازاروں میں اور ہر گلی کوچے اور ہر ہر پڑاؤ اور میدان میں اعلان کیا کہ " چار مہینے تک کی تو شرک اور مشرک کو مہلت ہے اس کے بعد ہماری اسلامی تلواریں اپنا جوہر دکھائے گی " بیس دن ذی الحجہ کے، محرم پورا، صفر پورا، اور ربیع الاول پورا اور دس دن ربیع الآخر کے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16377] ‏‏‏‏ زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: " شوال محرم تک کی ڈھیل تھی " لیکن یہ قول غریب ہے۔ اور سمجھ سے بھی بالا تر ہے کہ حکم پہنچنے سے پہلے ہی مدت شماری کیسے ہو سکتی ہے؟
2۔ 1 یہ اعلان نجات ان مشرکین کے لئے تھا جن سے غیرموقت معاہدہ تھا یا چار مہینے سے کم تھا یا چار مہینوں سے زیادہ ایک خاص مدت تک تھا لیکن ان کی طرف سے عہد کی پاسداری کا اہتمام نہیں تھا۔ ان سب کو چار مہینے مکہ میں رہنے کی اجازت دی گئی۔ اس کا مطلب یہ تھا اس مدت کے اندر اگر وہ اسلام قبول کرلیں تو انہیں یہاں رہنے کی اجازت ہوگی۔ بصورت دیگر ان کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ چار مہینے کے بعد جزیرہ، عرب سے نکل جائیں، اگر دونوں صورتوں میں سے کوئی بھی اختیار نہیں کریں گے تو حربی کافر شمار ہونگے، جن سے لڑنا مسلمانوں کے لئے ضروری ہوگا تاکہ جزیرہ عرب کفر و شرک کی تاریکیوں سے صاف ہوجائے۔ 2۔ 2 یعنی یہ مہلت اس لئے نہیں دی جا رہی ہے کہ فی الحال تمہارے خلاف کاروائی ممکن نہیں ہے بلکہ اس سے مقصد صرف تمہاری بھلائی اور خیر خواہی ہے تاکہ جو توبہ کر کے مسلمان ہونا چاہے، وہ مسلمان ہوجائے، ورنہ یاد رکھو کہ تمہاری بابت اللہ کی جو تقدیر و مشیت ہے، اسے ٹال نہیں سکتے اور اللہ کی طرف سے مسلط ذلت و رسوائی سے تم بچ نہیں سکتے۔
(آیت 2) ➊ { فَسِيْحُوْا فِي الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ:} یہ اللہ تعالیٰ کا مزید کرم تھا کہ مشرکین کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے چار ماہ کی مہلت دی گئی، جس کی ابتدا ۱۰ ذوالحجہ یوم النحرسے ہوئی، کیونکہ اس دن یہ اعلان کیا گیا اور ۱۰ ربیع الثانی کو یہ مدت ختم ہو گئی۔ اس مہلت کا مقصد یہ تھا کہ وہ اتنی مدت میں اپنے بارے میں خوب سوچ سمجھ لیں، پھر یا تو مسلمان ہو جائیں یا سر زمین عرب سے باہر کسی ملک میں اپنا ٹھکانا بنا لیں۔ اگر وہ اس کے بعد بھی باقی رہیں تو انھیں پکڑ کر، گھیر کر، گھات لگا کر جیسے بھی ممکن ہو قتل کر دیا جائے۔ یہ چار ماہ کی مدت ان لوگوں کے لیے تھی جن سے معاہدے کی مدت چار ماہ سے کم باقی تھی، یا معاہدہ تو زیادہ مدت کا تھا مگر انھوں نے اس کی خلاف ورزی کی تھی، یا مدت کے تعین کے بغیر معاہدہ تھا، البتہ وہ قبائل جن سے کسی خاص مدت تک معاہدہ تھا اور انھوں نے معاہدے کی کسی قسم کی مخالفت بھی نہ کی تھی ان کا عہد ان کی مدت تک پورا کرنے کا حکم دیا گیا، فرمایا: «فَاَتِمُّوْۤا اِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ» ‏‏‏‏ [ التوبۃ: ۴ ] ”تو ان کے ساتھ ان کا عہد ان کی مدت تک پورا کرو۔“ ➋ { وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللّٰهِ …:} مشرکوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ مہلت مسلمانوں کی کمزوری کی وجہ سے نہیں دی گئی بلکہ اس میں کئی حکمتیں ہیں، ورنہ تم لوگ کبھی بھی اللہ تعالیٰ کو عاجز کرنے والے نہیں، اگر تم کفر پر قائم رہے تو خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ کافروں کو ذلیل و رسوا کرنے والا ہے۔ دیکھیے سورۂ انفال کی آیت (۵۹) کے حواشی۔ غرض صرف بیت اللہ ہی نہیں پورے جزیرۂ عرب کو مشرکین کے نجس وجود سے پاک کر دیا گیا۔
وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖۤ اِلَی النَّاسِ یَوۡمَ الۡحَجِّ الۡاَکۡبَرِ اَنَّ اللّٰہَ بَرِیۡٓءٌ مِّنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ۬ۙ وَ رَسُوۡلُہٗ ؕ فَاِنۡ تُبۡتُمۡ فَہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ ۚ وَ اِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّکُمۡ غَیۡرُ مُعۡجِزِی اللّٰہِ ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ۙ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اطلاع عام ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے حج اکبر کے دن تمام لوگوں کے لیے کہ اللہ مشرکین سے بری الذمہ ہے اور اُس کا رسول بھی اب اگر تم لوگ توبہ کر لو تو تمہارے ہی لیے بہتر ہے اور جو منہ پھیرتے ہو تو خوب سمجھ لو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو اور اے نبیؐ، انکار کرنے والوں کو سخت عذاب کی خوشخبری سنا دو
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کو بڑے حج کے دن صاف اطلاع ہے کہ اللہ مشرکوں سے بیزار ہے، اور اس کا رسول بھی، اگر اب بھی تم توبہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے، اور اگر تم روگردانی کرو تو جان لو کہ تم اللہ کو ہرا نہیں سکتے۔ اور کافروں کو دکھ اور مار کی خبر پہنچا دیجئے
احمد رضا خان بریلوی
اور منادی پکار دیتا اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے سب لوگوں میں بڑے حج کے دن کہ اللہ بیزار ہے، مشرکوں سے اور اس کا رسول تو اگر تم توبہ کرو تو تمہا را بھلا ہے اور اگر منہ پھیرو تو جان لو کہ اللہ کو نہ تھکا سکو گے اور کافروں کو خوشخبری سناؤ دردناک عذاب کی،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمام لوگوں کو حجِ اکبر والے دن اعلانِ عام ہے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بری و بیزار ہیں۔ اب اگر تم (کفر و شرارت سے) توبہ کرلو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر تم نے اس سے روگردانی کی تو پھر جان لو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے اور (اے نبی) کافروں کو دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے حج اکبر کے دن تمام لوگوں کی طرف صاف اعلان ہے کہ اللہ مشرکوں سے بری ہے اور اس کا رسول بھی۔ پس اگر تم توبہ کرلو تو وہ تمھارے لیے بہتر ہے اور اگر منہ موڑو تو جان لو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں اور جنھوں نے کفر کیا انھیں دردناک عذاب کی بشارت دے دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حج اکبر کے دن اعلان ٭٭

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عام اعلان ہے اور ہے بھی بڑے حج کے دن یعنی عید قرباں کو جو حج کے تمام دنوں سے بڑا اور افضل دن ہے کہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں سے بری الذمہ بیزار اور الگ ہے اگر اب بھی تم گمراہی اور شرک و برائی چھوڑ دو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے توبہ کر لو نیک بن جاؤ اسلام قبول کر لو، شرک و کفر چھوڑ دو۔ اور اگر تم نے نہ مانا اپنی ضلالت پر قائم رہے تو تم نہ اب اللہ تعالی کے قبضے سے باہر ہو نہ آئندہ کسی وقت اللہ کو دبا سکتے ہو وہ تم پر قادر ہے تمہاری چوٹیاں اس کے ہاتھ میں ہیں وہ کافروں کو دنیا میں بھی سزا کرے گا اور آخرت میں بھی عذاب کرے گا۔ صحیح بخاری میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ " مجھے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قربانی والے دن ان لوگوں میں جو اعلان کے لیے بھیجے گئے تھے بھیجا۔ ہم نے منادی کر دی کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کو نہ آئے اور بیت اللہ شریف کا طواف کوئی شخص ننگا ہو کر نہ کرے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ سورۃ براۃ کا اعلان کر دیں پس آپ نے بھی منٰی میں ہمارے ساتھ عید کے دن انہیں احکام کی منادی کی "۔ ۱؎ [صحیح بخاری:369 ] ‏‏‏‏ حج اکبر کا دن بقر عید کا دن ہے۔ کیونکہ لوگ حج اصغر بولا کرتے تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اعلان کے بعد حجتہ الوداع میں ایک بھی مشرک حج کو نہیں آیا تھا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3177] ‏‏‏‏

حنین کے زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعرانہ سے عمرے کا احرام باندھا تھا پھر اس سال سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر حج بنا کر بھیجا اور آپ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو منادی کے لیے روانہ فرمایا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ براءت کا اعلان کر دیں امیر حج سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے آنے کے بعد بھی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی رہے۔ لیکن اس روایت میں غربت ہے۔ ۱؎ [تفسیر عبد الرزاق:1037:مرسل] ‏‏‏‏ عمرہ جعرانہ والے سال امیر حج سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ تھے سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ تو سنہ ٩ ھ میں امیر حج تھے۔ مسند کی روایت میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " اس سال سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ میں تھا۔ ہم نے پکار پکار کر منادی کر دی کہ جنت میں صرف ایماندار ہی جائیں گے بیت اللہ کا طواف آئندہ سے کوئی شخص عریانی کی حالت میں نہیں کر سکے گا۔ جن کے ساتھ ہمارے عہد و پیمان ہیں ان کی مدت آج سے چار ماہ کی ہے اس مدت کے گزر جانے کے بعد اللہ تعالی اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں سے بری الذمہ ہیں اس سال کے بعد کسی کافر کو بیت اللہ کے حج کی اجازت نہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ منادی کرتے کرتے مرا گلا پڑ گیا "۔ ۱؎ [مسند احمد:299/2:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی آواز بیٹھ جانے کے بعد میں نے منادی شروع کر دی تھی۔ ایک روایت میں ہے جس سے عہد ہے اس کی مدت وہی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16382] ‏‏‏‏ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: " مجھے تو ڈر ہے کہ یہ جملہ کسی راوی کے وہم کی وجہ سے نہ ہو۔ کیونکہ مدت کے بارے میں اس کے خلاف بہت سی روایتیں ہیں۔ "

مسند میں ہے کہ براۃ کا اعلان کرنے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو بھیجا وہ ذوالحلیفہ پہنچے ہوں گے جو آپ نے فرمایا کہ ”یہ اعلان تو یا میں خود کروں گا یا میرے اہل بیت میں سے کوئی شخص کرے گا۔‏‏‏‏“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ ۱؎ [سنن ترمذی:3090،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سورۃ برات کی دس آیتیں جب اتریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا کر فرمایا: ”انہیں لے جاؤ اور اہل مکہ کو سناؤ۔‏‏‏‏“ پھر مجھے یاد فرمایا اور ارشاد ہوا کہ ”تم جاؤ ابوبکر سے ملو جہاں وہ ملیں ان سے کتاب لے لینا اور مکہ والوں کے پاس جا کر انہیں پڑھ سنانا“، میں چلا جحفہ میں جا کر ملاقات ہوئی۔ میں نے ان سے کتاب لے لی۔ آپ رضی اللہ عنہ واپس لوٹے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ " کیا میرے بارے میں کوئی آیتیں نازل ہوئی ہیں؟ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں جبرائیل میرے پاس آئے اور فرمایا کہ یا تو یہ پیغام خود آپ پہنچائیں یا اور کوئی شخص جو آپ میں سے ہو۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:151/1:ضعیف] ‏‏‏‏ اس سند میں ضعف ہے اور اس سے یہ مراد بھی نہیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس وقت لوٹ آئے نہیں بلکہ آپ نے اپنی سرداری میں وہ حج کرایا حج سے فارغ ہو کر پھر واپس آئے۔ جیسے کہ اور روایتوں میں صراحتاً مروی ہے اور حدیث میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیغام رسانی کا ذکر کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عذر پیش کیا کہ " میں عمر کے لحاظ سے اور تقریر کے لحاظ سے اپنے میں کمی پاتا ہوں۔ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن ضرورت اس کی ہے کہ اسے یا تو میں آپ پہنچاؤں یا تو پہنچائے۔‏‏‏‏“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر یہی ہے تو لیجئے میں جاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اللہ تیری زبان کو ثابت رکھے اور تیرے دل کو ہدایت دے۔پھر اپناہاتھ ان کے منہ پر رکھا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [عبد اللہ فی المسند:1289:ضعیف] ‏‏‏‏

لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ " حج کے موقع پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا بات پہنچانے بھیجا تھا؟ " آپ رضی اللہ عنہ نے اوپر والی چاروں باتیں بیان فرمائیں۔۱؎ [سنن ترمذي:3092،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد وغیرہ میں یہ روایت کسی طریق سے آئی ہے۔ اس میں لفظ یہ ہیں کہ جن سے معاہدہ ہے وہ جس مدت تک ہے اسی تک رہے گا۔ اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے کہا کہ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم حج میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو بھیج چکے ہیں کاش کہ یہ پیغام بھی انہیں پہنچا دیتے۔ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اسے تو کوئ میرے گھر والا ہی پہنچاۓ گا۔ " اس میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غضبأ نامی اونٹنی پر سوار ہو کر تشریف لے گے تھے انہیں راستے میں دیکھ کر سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ " سردار ہو یا ماتحت؟ " فرمایا: " نہیں میں تو ماتحت ہوں۔ " وہاں جا کر آپ نے تو حج کا انتظام کیا اور عید والے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ احکام پہنچائے۔ پھر یہ دونوں آپ کے پاس آئے۔ پس مشرکین میں سے جن سے عام عہد تھا ان کے لیے تو چار ماہ کی مدت ہو گئی۔ باقی جس سے جتنا عہد تھا وہ بدستور رہا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16391:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ ابوبکر صدیق کو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر حج بنا کر بھیجا تھا اور مجھے ان کے پاس چالیس آیتیں سورۃ برات کی دے کر بھیجا تھا۔ آپ نے عرفات کے میدان میں عرفہ کے دن لوگوں کو خطبہ دیا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: " اُٹھئے اور سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام لوگوں کو سنا دیجئیے۔ " پس سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر ان چالیس آیتوں کی تلاوت فرمائی۔ پھر لوٹ کر منٰی میں آ کر جمرہ پر کنکریاں پھینکیں۔ اونٹ نحر کیا سر منڈوایا۔ پھر مجھے معلوم ہوا کہ سب حاجی اس خطبے کے وقت موجود نہ تھے۔ اس لیے میں نے ڈیروں میں اور خیموں میں اور پڑاؤ میں جا جا کر منادی شروع کر دی میرا خیال ہے کہ شاید اس وجہ سے لوگوں کو یہ گمان ہو گیا یہ دسویں تاریخ کا ذکر ہے حالانکہ اصل پیغام نویں کو عرفہ کے دن پہنچا دیا گیا تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16392:ضعیف] ‏‏‏‏

ابواسحٰق رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”میں نے ابوجحیفہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ حج اکبر کا کون سا دن ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”عرفے کا دن۔“ میں نے کہا: ”یہ آپ اپنی طرف سے فرما رہے ہیں یا صحابہ رضی اللہ عنہم سے سنا ہوا۔“ فرمایا: ”سب کچھ یہی ہے۔“ عطاء رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی یہی فرما کر فرماتے ہیں: ”پس اس دن کو کوئی روزہ نہ رکھے۔“ راوی کہتا ہے: ”میں نے اپنے باپ کے بعد حج کیا۔ مدینے پہنچا اور پوچھا کہ یہاں آج کل سب سے افضل کون ہیں؟“ لوگوں نے کہا: ”سعید بن مسیب رحمہ اللہ ہیں۔“ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ ”میں نے مدینے والوں سے پوچھا کہ یہاں آج کل سب سے افضل کون ہیں؟ تو انہوں نے آپ کا نام لیا تو میں آپ کے پاس آیا ہوں یہ فرمائیے کہ عرفہ کے دن کے روزے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟“ آپ نے فرمایا: ”لو میں تمہیں اپنے سے ایک سو درجے بہتر شخص کو بتاؤں وہ سیدنا عمر یا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہیں وہ اس روزے سے منع فرماتے تھے اور اسی دن کو حج اکبر فرماتے تھے۔“ [ ابن ابی حاتم وغیرہ ] ‏‏‏‏ اور بھی بہت سے بزرگوں نے یہی فرمایا ہے کہ حج اکبر سے مراد عرفے کا دن ہے ایک مرسل حدیث میں بھی ہے آپ نے اپنے عرفے کے خطبے میں فرمایا یہی حج اکبر کا دن ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16407] ‏‏‏‏ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد بقرہ عید کا دن۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں۔ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بقر عید والے دن اپنے سفید خچر پر سوار جا رہے تھے کہ ایک شخص نے ان کی لگام تھام لی اور یہی پوچھا آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا حج اکبر کا دن آج ہی کا دن ہے لگام چھوڑ دے۔ عبداللہ بن ابی اوفی کا قول بھی یہی ہے۔

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے اپنے عید کے خطبے میں فرمایا: ”آج ہی کا دن یوم الاضحی ہے آج ہی کا دن یوم النحر ہے۔ آج ہی کا دن حج اکبر کا دن ہے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے اور بھی بہت سے لوگ اسی طرف گئے ہیں کہ حج اکبر بقر عید کا دن ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ کا پسندیدہ قول بھی یہی ہے۔ صحیح بخاری کے حوالے سے پہلے حدیث گذر چکی ہے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے منادی کرنے والوں کو منٰی میں عید کے دن بھیجا تھا۔ ابن جریر میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجتہ الوداع میں جمروں کے پاس دسویں تاریخ ذی الحجہ کو ٹھہرے اور فرمایا: ”یہی دن حج اکبر کا دن ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری تعلیقا:1742] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ آپ کی اونٹنی سرخرنگ کی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کہ ”جانتے بھی ہو آج کیا دن ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”قربانی کا دن ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سچ ہے یہی دن حج اکبر کا ہے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16462] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی پر سوار تھے لوگ اس کی نکیل تھامے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ ”یہ دن کون سا ہے جانتے ہو؟“ ہم اس خیال سے خاموش ہو گئے کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور ہی نام بتلائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ حج اکبر کا دن نہیں؟“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16460] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ لوگوں نے آپ کے سوال پر جواب دیا کہ ”یہ حج اکبر کا دن ہے۔“ ۱؎ [سنن ترمذي:2159،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ ”عید کے بعد کا دن ہے۔“ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”حج کے سب دنوں کا یہی نام ہے۔“ سفیان رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں کہ ”جیسے یوم جمل، یوم صفین ان لڑائیوں کے تمام دنوں کا نام ہے ایسے ہی یہ بھی ہے۔“ حسن بصری رحمہ اللہ سے جب یہ سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں اس سے کیا حاصل یہ تو اس سال تھا جس سال حج کے امیر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔“ ابن سیرین رحمہ اللہ اسی سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ”یہی وہ دن تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور عام لوگوں کا حج ہوا۔“
3۔ 1 صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ یوم حج اکبر سے مراد (10 ذوالحجہ) کا دن ہے، اسی دن منیٰ میں اعلان نجات منایا گیا 10 ذوالحجہ کو حج اکبر کا دن اسی لئے کہا گیا کہ اس دن حج کے سب سے زیادہ اور اہم مناسک ادا کئے جاتے ہیں، اور عوام عمرے کو حج اصغر کہا کرتے تھے۔ اس لئے عمرے سے ممتاز کرنے کے لئے حج کو حج اکبر کہا گیا، عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ جو حج جمعہ والے دن آئے وہ حج اکبر ہے یہ بےاصل بات ہے۔
(آیت 3) ➊ {وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ …:} یوم حج اکبر سے مراد ۱۰ ذوالحجہ ہے، جس دن حاجی منیٰ میں آکر قربانی کرتے ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ان لوگوں کے ہمراہ بھیجا جو قربانی کے دن منیٰ میں اعلان کریں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کر ے گا اور کوئی ننگا شخص بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا اور حج اکبر کا دن یوم النحر(قربانی کا دن) ہے، کیونکہ لوگ (عمرے کو) حج اصغر کہتے تھے، چنانچہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس سال صاف اعلان کروا دیا، تو حجۃ الوداع جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا، کسی مشرک نے حج نہیں کیا۔ [ بخاری، الجزیۃ و الموادعۃ، باب کیف ینبذ إلی أہل العھد؟: ۳۱۷۷ ] اس سے معلوم ہوا کہ بعض لوگ جو اس حج کو حج اکبر کہتے ہیں جو جمعہ کے دن آئے ان کی بات درست نہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے ایک روایت میں مزید اضافہ ہے کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو یہ اعلان دے کر بھیجا، پھر آپ نے ان کے بعد علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ وہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے) یہ اعلان کریں، چنانچہ ابو بکر رضی اللہ عنہ، جو امیر حج تھے، ان کے حکم پر میں نے، میرے ساتھیوں نے اور علی رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں یہ اعلان کیا۔ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ: «‏‏‏‏و أذان من اللہ …» : ۴۶۵۶ ] مسند احمد میں ہے کہ چار ماہ کی مہلت دینے، ننگے کو طواف کی اجازت ختم کرنے اور آئندہ سال کسی مشرک کے حج نہ کرنے کے اعلان کے ساتھ ایک اعلان یہ بھی کرتے تھے کہ جنت میں ایمان والوں کے سوا کوئی داخل نہیں ہو گا۔ [ أحمد:299/2، ح: ۷۹۹۶ ] ➋ { وَ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا …:} یہ اعلان تاکید کے لیے دوبارہ کیا گیا، تا کہ کافر اپنے آپ کو اللہ کی پکڑ سے کسی طرح بھی بچ نکلنے والے نہ سمجھیں۔
اِلَّا الَّذِیۡنَ عٰہَدۡتُّمۡ مِّنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ثُمَّ لَمۡ یَنۡقُصُوۡکُمۡ شَیۡئًا وَّ لَمۡ یُظَاہِرُوۡا عَلَیۡکُمۡ اَحَدًا فَاَتِمُّوۡۤا اِلَیۡہِمۡ عَہۡدَہُمۡ اِلٰی مُدَّتِہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بجز اُن مشرکین کے جن سے تم نے معاہد ے کیے پھر انہوں نے اپنے عہد کو پورا کرنے میں تمہارے ساتھ کوئی کمی نہیں کی اور نہ تمہارے خلاف کسی کی مدد کی، تو ایسے لوگوں کے ساتھ تم بھی مدت معاہدہ تک وفا کرو کیونکہ اللہ متقیوں ہی کو پسند کرتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بجز ان مشرکوں کے جن سے تمہارا معاہده ہو چکا ہے اور انہوں نے تمہیں ذرا سا بھی نقصان نہیں پہنچایا نہ کسی کی تمہارے خلاف مدد کی ہے تو تم بھی ان کے معاہدے کی مدت ان کے ساتھ پوری کرو، اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
مگر وہ مشرک جن سے تمہارہ معاہدہ تھا پھر انہوں نے تمہارے عہد میں کچھ کمی نہیں کی اور تمہارے مقابل کسی کو مدد نہ دی تو ان کا عہد ٹھہری ہوئی مدت تک پورا کرو، بیشک اللہ پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
سوا ان مشرکوں کے کہ جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا اور انہوں نے (اپنا قول و قرار نبھانے میں) کوئی کمی نہیں کی اور نہ تمہارے خلاف کسی کی امداد کی سو تم ان سے کیا ہوا معاہدہ اس کی مقررہ مدت تک پورا کرو۔ بے شک اللہ پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
مگر مشرکوں میں سے وہ لوگ جن سے تم نے عہد کیا، پھر انھوں نے تم سے عہد میں کچھ کمی نہیں کی اور نہ تمھارے خلاف کسی کی مدد کی تو ان کے ساتھ ان کا عہد ان کی مدت تک پورا کرو۔ بے شک اللہ متقی لوگوں سے محبت کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عہد نامہ کی شرط ٭٭

پہلے جو حدیثیں بیان ہو چکی ہیں ان کا اور اس آیت کا مضمون ایک ہی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہو گیا کہ جن میں مطلقاً عہد و پیمان ہوئے تھے انہیں تو چار ماہ کی مہلت دی گئی کہ اس میں وہ اپنا جو چاہیں کر لیں اور جن سے کسی مدت تک عہد پیمان ہو چکے ہیں وہ سب عہد ثابت ہیں بشرطیکہ وہ لوگ معاہدے کی شرائط پر قائم رہیں نہ مسلمانوں کو خود کوئی ایذاء پہنچائیں نہ ان کے دشمنوں کی کمک اور امداد کریں۔ اللہ تعالیٰ وعدوں کے پورے لوگوں سے محبت رکھتے ہیں۔
4۔ 1 یہ مشرکین کی چوتھی قسم ہے ان سے جتنی مدت کا معاہدہ تھا، اس مدت تک انہیں رہنے کی اجازت دی گئی، کیونکہ انہوں نے معاہدے کی پاسداری کی اور اس کے خلاف کوئی حرکت نہیں کی، اس لئے مسلمانوں کے لئے بھی اس کی پاسداری کو ضروری قرار دیا گیا۔
(آیت 4){ اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ …:} یعنی معاہدوں کی پاس داری میں کوئی کمی نہ کرنے والے مشرکوں کے لیے چار ماہ کی مہلت نہیں بلکہ ان کے لیے معاہدے کی طے کردہ مدت پوری کرو، کیونکہ تقوے کا تقاضا عہد پورا کرنا ہے اور اللہ متقین سے محبت رکھتا ہے۔
فَاِذَا انۡسَلَخَ الۡاَشۡہُرُ الۡحُرُمُ فَاقۡتُلُوا الۡمُشۡرِکِیۡنَ حَیۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡہُمۡ وَ خُذُوۡہُمۡ وَ احۡصُرُوۡہُمۡ وَ اقۡعُدُوۡا لَہُمۡ کُلَّ مَرۡصَدٍ ۚ فَاِنۡ تَابُوۡا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوۡا سَبِیۡلَہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس جب حرام مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں پاؤ اور انہیں پکڑو اور گھیرو اور ہر گھات میں اُن کی خبر لینے کے لیے بیٹھو پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو انہیں چھوڑ دو اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر حرمت والے مہینوں کے گزرتے ہی مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو انہیں گرفتار کرو، ان کا محاصره کرلو اور ان کی تاک میں ہر گھاٹی میں جا بیٹھو، ہاں اگر وه توبہ کرلیں اور نماز کے پابند ہو جائیں اور زکوٰة ادا کرنے لگیں توتم ان کی راہیں چھوڑ دو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب حرمت والے مہینے نکل جائیں تو مشرکوں کو مارو جہاں پا ؤ اور انہیں پکڑو اور قید کرو اور ہر جگہ ان کی تاک میں بیٹھو پھر اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰة دیں تو ان کی راہ چھوڑ دو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس جب محترم مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں کہیں بھی پاؤ قتل کرو اور انہیں گرفتار کرو۔ اور ان کا گھیراؤ کرو اور ہر گھات میں ان کی تاک میں بیٹھو۔ پھر اگر وہ توبہ کر لیں نماز پڑھنے لگیں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔ بے شک خدا بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پس جب حرمت والے مہینے نکل جائیں تو ان مشرکوں کو جہاں پائو قتل کرو اور انھیں پکڑو اور انھیں گھیرو اور ان کے لیے ہر گھات کی جگہ بیٹھو، پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔ بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہاد اور حرمت والے مہینے ٭٭

حرمت والے مہینوں سے مراد یہاں وہ چار مہینے ہیں جن کا ذکر «‏‏‏‏مِنْهَآ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 9- التوبہ: 36 ] ‏‏‏‏ میں ہے پس ان کے حق میں آخری حرمت والا مہینہ محرم الحرام کا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ضحاک رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے لیکن اس میں ذرا تأمل ہے بلکہ مراد اس سے یہاں وہ چار مہینے ہیں جن میں مشرکین کو پناہ ملی تھی کہ ان کے بعد تم سے لڑائی ہے۔ چنانچہ خود اسی سورت میں اس کا بیان اور آیت میں آ رہا ہے۔ فرماتا ہے ان چار ماہ کے بعد مشرکوں سے جنگ کرو انہیں قتل کرو انہیں گرفتار کرو جہاں بھی پالو۔ پس یہ عام ہے لیکن مشہور یہ ہے کہ یہ خاص ہے حرم میں لڑائی نہیں ہو سکتی۔ جیسے فرمان ہے «‏‏‏‏وَلَا تُقٰتِلُوْھُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ» ۱؎ [ 2- البقرة: 191 ] ‏‏‏‏ مسجد الحرام کے پاس ان سے نہ لڑو جب تک کہ وہ اپنی طرف سے لڑائی کی ابتداء نہ کریں۔ اگر یہ وہاں تم سے لڑیں تو پھر تمہیں بھی ان سے لڑائی کرنے کی اجازت ہے چاہو قتل کرو چاہو قید کر لو ان کے قلعوں کا محاصرہ کرو ان کے لیے ہر گھاٹی میں بیٹھ کر تاک لگاؤ انہیں زد پر لا کر مارو۔ یعنی یہی نہیں کہ مل جائیں تو جھڑپ ہو جائے خود چڑھ کر جاؤ۔ ان کی راہیں بند کرو اور انہیں مجبور کر دو کہ یا تو اسلام لائیں یا لڑیں۔ اس لیے فرمایا کہ اگر وہ توبہ کر لیں، پابند نماز ہو جائیں، زکوٰۃ دینے لگیں تو بےشک ان کی راہیں کھول دو ان پر سے تنگیاں اٹھالو۔ زکوٰۃ کے مانعین سے جہاد کرنے کی اسی جیسی آیتوں سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دلیل لی تھی کہ لڑائی اس شرط پر حرام ہے کہ اسلام میں داخل ہو جائیں اور اسلام کے واجبات بجا لائیں۔ اس آیت میں ارکان اسلام کو ترتیب وار بیان فرمایا ہے اعلٰی پھر ادنٰی پس شہادت کے بعد سب سے بڑا رکن اسلام نماز ہے جو اللہ عزوجل کا حق ہے۔ نماز کے بعد زکوٰۃ ہے جس کا نفع فقیروں، مسکینوں، محتاجوں کو پہنچتا ہے اور مخلوق کا زبردست حق جو انسان کے ذمے ہے ادا ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر نماز کے ساتھ ہی زکوٰۃ کا ذکر اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے۔

بخاری و مسلم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے حکم کیا گیا ہے کہ لوگوں سے جہاد جاری رکھوں۔ جب تک کہ وہ یہ گواہی نہ دیں کہ کوئی معبود بجز اللہ کے نہیں ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور نمازوں کو قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔“ ۱؎ الخ [صحیح بخاری:25] ‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ ”تمہیں نمازوں کے قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم کیا گیا ہے جو زکوٰۃ نہ دے اس کی نماز بھی نہیں۔“ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ ہرگز کسی کی نماز قبول نہیں فرماتا جب تک وہ زکوٰۃ ادا نہ کرے۔“ اللہ تعالیٰ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے آپ کی فقہ سب سے بڑھی ہوئی تھی جو آپ نے زکوٰۃ کے منکروں سے جہاد کیا۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے لوگوں سے جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔ جب تک کہ وہ یہ گواہی نہ دیں کہ بجز اللہ تعالیٰ برحق کے اور کوئی لائق عبادت نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ جب وہ ان دونوں باتوں کا اقرار کر لیں ہمارے قبلے کی طرف منہ کر لیں، ہمارا ذبیحہ کھانے لگیں، ہم جیسی نمازیں پڑھنے لگیں تو ہم پر ان کے خون ان کے مال حرام ہیں مگر احکام اسلام حق کے ماتحت انہیں ہر وہ حق حاصل ہے جو اور مسلمانوں کا ہے اور ان کے ذمے ہر وہ چیز ہے جو اور مسلمانوں کے ذمے ہے۔“ یہ روایت صحیح بخاری میں اور سنن میں بھی ہے سوائے ابن ماجہ کے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:392] ‏‏‏‏ ابن جریر میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جو دنیا سے اس حال میں جائے کہ اللہ تعالیٰ اکیلے کی خالص عبادت کرتا ہو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو تو وہ اس حال میں جائے گا کہ اللہ اس سے خوش ہو گا۔“

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یہی اللہ کا دین ہے اسی کو تمام پیغمبر علیہم السلام لائے تھے اور اپنے رب کی طرف سے اپنی اپنی امتوں کو پہنچایا تھا اس سے پہلے کہ باتیں پھیل جائیں اور خواہشیں ادھر ادھر لگ جائیں۔ اس کی سچائی کی شہادت اللہ تعالیٰ کی آخری وحی میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «‏‏‏‏فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ» ۱؎ [ 9-التوبہ: 5 ] ‏‏‏‏ پس توبہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ واحد برحق ہے پس توبہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ واحد برحق کے سوا اوروں کی عبادت سے دست بردار ہو جائیں نماز اور زکوٰۃ کے پابند ہو جائیں۔ اور آیت میں ہے کہ ان تینوں کاموں کے بعد وہ تمہارے دینی برادر ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:13489:ضعیف] ‏‏‏‏ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ تلوار کی آیت ہے اس نے ان تمام عہد و پیمان کو چاک کر دیا جو مشرکوں سے تھے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”برأت کے نازل ہونے پر چار مہینے گزر جانے کے بعد کوئی عہد و ذمہ باقی نہیں رہا، پہلی شرطیں برابری کے ساتھ توڑ دی گئیں اب اسلام اور جہاد باقی رہ گیا۔‏‏‏‏“ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چار تلواروں کے ساتھ بھیجا ایک تو مشرکین عرب میں۔‏‏‏‏“ فرماتا ہے «فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 9- التوبہ: 5 ] ‏‏‏‏ مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو۔ یہ روایت اسی طرح مختصراً ہے۔ میرا خیال ہے کہ دوسری تلوار اہل کتاب میں، فرماتا ہے «‏‏‏‏قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 9- التوبہ: 29 ] ‏‏‏‏ الخ اللہ تبارک و تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہ لانے والوں اور اللہ تعالیٰ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حرام کردہ کو حرام نہ ماننے والوں اور اللہ تعالیٰ کے سچے دین کو قبول کرنے والوں سے جو اہل کتاب ہیں جہاد کرو تاوقتیکہ وہ ذلت کے ساتھ جزیہ دینا قبول نہ کر لیں۔

تیری تلوار منافقوں میں، فرمان ہے «‏‏‏‏يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 9- التوبہ: 73 ] ‏‏‏‏ اے نبی کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو۔ چوتھی تلوار باغیوں میں، ارشاد ہے «‏‏‏‏وَاِنْ طَاىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 49- الحجرات: 9 ] ‏‏‏‏ اگر مسلمانوں کی دو جماعتوں میں لڑائی ہو جائے تو ان میں صلح کرا دو پھر بھی اگر کوئی جماعت دوسری کو دباتی چلی جائے تو ان باغیوں سے تم لڑو جب تک کہ وہ پلٹ کر اللہ کے حکم کی ماتحتی میں نہ آ جائیں۔ ضحاک رحمہ اللہ اور سدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”آیت یہ تلوار آیت «فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 47-محمد: 4 ] ‏‏‏‏ سے منسوخ ہے“ یعنی بطور احسان کے یا فدیہ لے کر کافر قیدیوں کو چھوڑ دو۔ قتادہ رحمہ اللہ اس کے برعکس کہتے ہیں کہ ”پچھلی آیت پہلی سے منسوخ ہے۔‏‏‏‏“
5۔ 1 ان حرمت والے مہینوں سے مراد کیا ہے؟ اس میں اختلاف ہے۔ ایک رائے تو یہ ہے اس سے مراد چار مہینے ہیں جو حرمت والے ہیں۔ رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم اور اعلان نجات 0 1 ذوالحجہ کو کیا گیا۔ اس اعتبار سے گویا یہ اعلان کے بعد پچاس دن کی مہلت انہیں دی گئی، لیکن امام ابن کثیر نے کہا کہ یہاں اَ شھَرُ حُرْم سے مراد حرمت والے مہینے نہیں بلکہ 10 ذوالحجہ سے لے کر 10 ربیع الثانی تک کے چار مہینے مراد ہیں۔ انہیں اشھر حرم اس لیے کہا گیا ہے کہ اعلان براءت کی رو سے ان چار مہینوں میں ان مشرکین سے لڑنے اور انکے خلاف کسی اقدام کی اجازت نہیں تھی۔ اعلان برات کی رو سے یہ تاویل مناسب معلوم ہوتی ہے (واللہ اعلم)۔ 5۔ 2 بعض مفسرین نے اس حکم کو عام رکھا یعنی حل یا حرم میں، جہاں بھی پاؤ قتل کرو اور بعض مفسرین نے کہا مسجد حرام کے پاس مت لڑو! یہاں تک کہ وہ خود تم سے لڑیں، اگر وہ لڑیں تو پھر تمہیں بھی ان سے لڑنے کی اجازت ہے۔ 5۔ 3 یعنی انہیں قیدی بنا لویا قتل کردو۔ 5۔ 4 یعنی اس بات پر اکتفا کرو کہ وہ تمہیں کہیں ملیں تو تم کاروائی کرو، بلکہ جہان جہاں ان کے حصار، قلعے اور پناہ گاہیں ہیں وہاں وہاں ان کی گھات میں رہو، حتٰی کہ تمہاری اجازت کے بغیر ان کے لئے نقل و حرکت ممکن نہ رہے۔ 5۔ 5 یعنی کوئی کاروائی ان کے خلاف نہ کی جائے، کیونکہ وہ مسلمان ہوگئے ہیں۔ گویا قبول اسلام کے بعد اقامت صلٰوۃ اور ادائے زکوٰۃ کا اہتمام ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص ان میں سے کسی ایک کا بھی ترک کرتا ہے تو وہ مسلمان نہیں سمجھا جائے گا۔ جس طرح حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے مانعین زکوٰۃ کے خلاف اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے جہاد کیا: اور فرمایا واللہ لأقتلن من فرق بین الصلوٰ ۃ وال زکوٰۃ (متفق علیہ) اللہ کی قسم میں ان لوگوں سے ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کریں گے۔ " یعنی نماز تو پڑھیں لیکن زکوٰۃ ادا کرنے سے گریز کریں۔
(آیت 5) ➊ {فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ …:} ان چار مہینوں سے مراد ۱۰ ذوالحجہ سے ۱۰ ربیع الثانی تک کے ایام ہیں۔ بعض لوگوں نے اس سے معروف حرمت والے مہینے مراد لیے ہیں، یعنی رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم۔ ۱۰ ذوالحجہ کو اعلان براء ت ہو تو محرم ختم ہونے تک کل پچاس دن بنتے ہیں، اس لیے حافظ ابن کثیر اور دوسرے مفسرین نے ۱۰ ذوالحجہ سے ۱۰ ربیع الثانی تک ہی چار ماہ مراد لیے ہیں اور انھیں {” الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ “} اس لیے کہا گیا کہ اس مہلت میں مشرکین کا قتل حرام کر دیا گیا، یہی تفسیر درست ہے۔ ➋ { كُلَّ مَرْصَدٍ:} گھات کی جگہ سے مراد وہ راستہ یا جگہ ہے جہاں سے دشمن کے گزرنے کی توقع ہو اور جہاں سے اس پر حملہ کر کے اس کا کام تمام کرنا ممکن ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ان مشرکین سے صرف میدان جنگ میں لڑنا ہی کافی نہیں، بلکہ جس طریقے سے بھی تم ان پر قابو پا کر انھیں قتل کر سکتے ہو ضرور کرو۔ ➌ {فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ …:} شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ” جن سے وعدہ ٹھہر گیا تھا اور دغا ان سے نہ دیکھی ان کی صلح قائم رہی اور جن سے کچھ وعدہ نہ تھا ان کو فرصت ملی چار مہینے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دل کی خبر اللہ کو ہے، ظاہر میں جو مسلمان ہو وہ سب کے برابر امان میں ہے اور ظاہر مسلمانی کی حد ٹھہرائی ایمان لانا، کفر سے توبہ کرنا اور نماز اور زکوٰۃ۔ اس واسطے جب کوئی شخص نماز چھوڑ دے تو اس سے امان اٹھ گئی۔“ (موضح) یہی وہ حکم ہے جس کی بنا پر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ کے منکرین سے جنگ کی اور فرمایا کہ میں اس شخص سے ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑائی کروں، یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کی گواہی دیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، پھر جب وہ یہ (تین) کام کر لیں تو انھوں نے اپنے خون اور اپنے مال مجھ سے محفوظ کر لیے، مگر اسلام کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔“ [ بخاری، الإیمان، باب: «‏‏‏‏فإن تابوا و أقاموا الصلاۃ…» : ۲۵ ] یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی شہادت میں آپ کے تمام احکام کی فرماں برداری کا اقرار آ جاتا ہے، اگر ان میں سے کسی حکم کا انکار کرے، جو عام سب کو معلوم ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے تو مرتد ٹھہرے گا اور اگر کسی حکم کا انکار تو نہ کرے مگر عمل نہ کر سکے تو گناہ گار مسلمان ہو گا، کافر نہیں ہو گا۔ البتہ مسلمان ہونے کی ظاہری نشانیاں وہ ہیں جو اوپر ذکر ہوئیں، ان کا صرف اقرار کرنا یا دل میں ماننا کافی نہیں، بلکہ ان پر عمل کرنا خون اور مال کی حفاظت کا ضامن ٹھہرایا گیا ہے۔
وَ اِنۡ اَحَدٌ مِّنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ اسۡتَجَارَکَ فَاَجِرۡہُ حَتّٰی یَسۡمَعَ کَلٰمَ اللّٰہِ ثُمَّ اَبۡلِغۡہُ مَاۡمَنَہٗ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَعۡلَمُوۡنَ ٪﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص پناہ مانگ کر تمہارے پاس آنا چاہے (تاکہ اللہ کا کلام سنے) تو اُسے پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے پھر اُسے اس کے مامن تک پہنچا دو یہ اس لیے کرنا چاہیے کہ یہ لوگ علم نہیں رکھتے
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر مشرکوں میں سے کوئی تجھ سے پناه طلب کرے تو تو اسے پناه دے دے یہاں تک کہ وه کلام اللہ سن لے پھر اسے اپنی جائے امن تک پہنچا دے۔ یہ اس لئے کہ یہ لوگ بے علم ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اے محبوب اگر کوئی مشرک تم سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دو کہ وہ اللہ کا کلام سنے پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دو یہ اس لیے کہ وہ نادان لوگ ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور اے رسول(ص) اگر مشرکین میں سے کوئی آپ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دو تاکہ وہ اللہ کا کلام سنے اور پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دو۔ یہ (حکم) اس لئے ہے کہ یہ لوگ (دعوتِ حق کا) علم نہیں رکھتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر مشرکوں میں سے کوئی تجھ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دے، یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سنے، پھر اسے اس کی امن کی جگہ پر پہنچا دے۔ یہ اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو علم نہیں رکھتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
امن مانگنے والوں کو امن دو منافقوں کی گردن مار دو ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ جن کافروں سے آپ کو جہاد کا حکم دیا گیا ہے ان میں سے اگر کوئی آپ سے امن طلب کرے تو آپ اس کی خواہش پوری کر دیں اسے امن دیں یہاں تک کہ وہ قرآن کریم سن لے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سن لے دین کی تعلیم معلوم کر لے حجت الہٰی پوری ہو جائے پھر اپنے امن میں ہی اسے اس کے وطن پہنچا دو بے خوفی کے ساتھ یہ اپنے امن کی جگہ پہنچ جائے ممکن ہے کہ سوچ سمجھ کر حق کو قبول کر لے۔ یہ اس لیے کہ یہ بےعلم لوگ ہیں انہیں دینی معلومات بہم پہنچاؤ اللہ کی دعوت اس کے بندوں کے کانوں تک پہنچا دو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو تیرے پاس دینی باتیں سننے کے لیے آئے خواہ وہ کوئی ہی کیوں نہ ہو وہ امن میں ہے یہاں تک کہ کلام اللہ سنے پھر جہاں سے آیا ہے وہاں باامن پہنچ جائے۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے جو دین سمجھنے کے لیے آۓ اور اسے جو پیغام لے کر آۓ امن دے دیا کرتے تھے حدیبیہ والے سال بھی یہی ہوا قریش کے جتنے قاصد آئے یہاں انہیں کوئی خطرہ نہ تھا۔ عروہ بن مسعود، مکرزبن حفص، سہیل بن عمرو وغیرہ یکے بعد دیگرے آتے رہے۔

یہاں آ کر انہیں وہ شان نظر آئی جو قیصر و کسریٰ کے دربار میں بھی نہ تھی یہی انہوں نے اپنی قوم سے کہا پس یہ چیز بھی بہت سے لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بن گئ۔ مسیلمہ کذاب مدعی نبوت کا قاصد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ ”کیا تم مسلیمہ کی رسالت کے قائل ہو؟“ اس نے کہا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر قاصدوں کا قتل میرے نزدیک ناجائز نہ ہوتا تو میں تیری گردن اڑا دیتا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:383/1:صحیح] ‏‏‏‏ آخر یہ شخص سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہا کی کوفہ میں امارت کے زمانے میں قتل کر دیا گیا۔ اسے ابن النواحہ کہا جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب معلوم ہوا کہ یہ مسیلمہ کا ماننے والا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا اور فرمایا: ”اب تو قاصد نہیں ہے اب تیری گردن مارنے سے کوئی امر مانع نہیں، اسے قتل کر دیا گیا۔ اللہ کی لعنت اس پر ہو۔ الغرض دارالحرب سے جو قاصد آئے یا تاجر آئے یا صلح کا طالب آئے یا آپس میں اصلاح کے ارادے سے آئے یا جزیہ لے کر حاضر ہو امام یا نائب امام نے اسے امن وامان دے دیا ہو تو جب تک وہ دارالاسلام میں رہے یا اپنے وطن نہ پہنچ جائے اسے قتل کرنا حرام ہے۔ علماء کہتے ہیں ایسے شخص کو دارالاسلام میں سال بھر تک نہ رہنے دیا جائے، زیادہ سے زیادہ چار ماہ تک وہ یہاں ٹھہر سکتا ہے۔ پھر چار ماہ سے زیادہ اور سال بھر کے اندر کے دو قول امام شافعی رحمہم اللہ تعالیٰ وغیرہ علماء کے ہیں۔
6۔ 1 اس آیت میں مذکورہ حربی کافروں کے بارے میں ایک رخصت دی گئی ہے کہ اگر کوئی کافر پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دے دو، یعنی اسے اپنی حفظ وامان میں رکھو تاکہ کوئی مسلمان اسے قتل نہ کرسکے اور تاکہ اسے اللہ کی باتیں سننے اور اسلام کے سمجھنے کا موقعہ ملے، ممکن ہے اس طرح اسے توبہ اور قبول اسلام کی توفیق مل جائے۔ لیکن اگر وہ کلام اللہ سننے کے باوجود مسلمان نہیں ہوتا تو اسے اس کی جائے امن تک پہنچا دو، مطلب یہ ہے کہ اپنی امان کی پاسداری آخر تک کرنی ہے، جب تک وہ اپنے مستقر تک بخیریت واپس نہیں پہنچ جاتا، اس کی جان کی حفاظت تمہاری ذمہ داری ہے۔ 6۔ 2 یعنی پناہ کے طلبگاروں کو پناہ کی رخصت اس لئے دی گئی ہے کہ یہ بےعلم لوگ ہیں، ممکن ہے اللہ اور رسول کی باتیں ان کے علم میں آئیں اور مسلمانوں کا اخلاق و کردار وہ دیکھیں تو اسلام کی حقانیت و صداقت کے وہ قائل ہوجائیں۔ اور اسلام قبول کر کے آخرت کے عذاب سے بچ جائیں۔ جس طرح صلح حدیبیہ کے بعد بہت سے کافر امان طلب کر کے مدینہ آتے جاتے رہے تو انہیں مسلمانوں کے اخلاق و کردار کے مشاہدے سے اسلام کے سمجھنے میں بڑی مدد ملی اور بہت سے لوگ مسلمان ہوگئے۔
(آیت 6) ➊ {وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ …:} یعنی امن کی مدت گزرنے کے بعد اگر کوئی مشرک، جس سے تمھارا کوئی عہد نہیں، تم سے درخواست کرے کہ مجھے اپنے ہاں پناہ دو تو اسے پناہ دے دو، تاکہ وہ اللہ کا کلام سنے اور اگر آیا ہی اسلام کو سمجھنے یا اپنے شبہات دور کرنے کے لیے ہے تو اسے بدرجۂ اولیٰ پناہ دینی چاہیے۔ اب اگر وہ اسلام لانے کے لیے آمادہ نہ ہو اور اپنے ٹھکانے پر واپس جانا چاہے تو تم اسے اس کے ٹھکانے پر پہنچا دو، کیونکہ ان لوگوں کو اسلام کی حقیقت معلوم نہیں، ممکن ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کی باتیں سن کر، ان کا معاشرہ اور اخلاق و کردار دیکھ کر مسلمان ہو جائیں، پھر جب وہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ جائے تو دوسرے مشرکین کی طرح اسے مارنا اور قتل کرنا جائز ہے، اس سے پہلے جائز نہیں۔ یہ حکم ہمیشہ کے لیے ہے اور کوئی بھی مسلمان ہو وہ کافر کو پناہ دے سکتا ہے، خواہ مسلمانوں میں اس کی حیثیت معمولی ہو اور تمام مسلمانوں پر یہ پناہ پوری کرنا لازم ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر ام ہانی رضی اللہ عنہا نے ایک مشرک کو پناہ دی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا: ”ہم نے اسے پناہ دی جسے تم نے پناہ دی، ہم نے اسے امان دی جسے تم نے امان دی۔“ [ أبو داوٗد، الجہاد، باب فی أمان المرأ ۃ: ۲۷۶۳۔ بخاری: ۳۵۷ ] ➋ { حَتّٰى يَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ:} اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین کو پناہ دینے سے اصل مقصود دعوت دین، قرآن سنانا اور اسلام کا تعارف کروانا ہے، پھر اگر وہ مسلمان نہ ہوں تو انھیں جلدی رخصت کر دینا چاہیے، یہ نہیں کہ وہ اپنے اڈے بنا کر جاسوسی کریں اور مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں۔
کَیۡفَ یَکُوۡنُ لِلۡمُشۡرِکِیۡنَ عَہۡدٌ عِنۡدَ اللّٰہِ وَ عِنۡدَ رَسُوۡلِہٖۤ اِلَّا الَّذِیۡنَ عٰہَدۡتُّمۡ عِنۡدَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ۚ فَمَا اسۡتَقَامُوۡا لَکُمۡ فَاسۡتَقِیۡمُوۡا لَہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن مشرکین کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی عہد آخر کیسے ہوسکتا ہے؟ بجز اُن لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا تھا، تو جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو کیونکہ اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
مشرکوں کے لئے عہد اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کیسے ره سکتا ہے سوائے ان کے جن سے تم نے عہد وپیمان مسجد حرام کے پاس کیا ہے، جب تک وه لوگ تم سے معاہده نبھائیں تم بھی ان سے وفاداری کرو، اللہ تعالیٰ متقیوں سے محبت رکھتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
مشرکوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے پاس کوئی عہد کیونکر ہوگا مگر وہ جن سے تمہارا معاہدہ مسجد حرام کے پاس ہوا تو جب تک وہ تمہارے لیے عہد پر قائم رہیں تم ان کے لیے قائم رہو، بیشک پرہیزگار اللہ کو خوش آتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
بھلا ان مشرکوں کا اللہ اور اس کے رسول کے ہاں کس طرح کوئی عہد و پیمان ہو سکتا ہے بجز ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجدِ حرام کے پاس (بمقامِ حدیبیہ) معاہدہ کیا تھا سو جب تک وہ لوگ تم سے سیدھے رہیں (معاہدہ پر قائم رہیں) تو تم بھی ان سے سیدھے رہو (قائم رہو)۔ بے شک اللہ پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ان مشرکوں کا اللہ کے نزدیک اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی عہد کیسے ممکن ہے، سوائے ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا۔ سو جب تک وہ تمھارے لیے پوری طرح قائم رہیں تو تم ان کے لیے پوری طرح قائم رہو۔ بے شک اللہ متقی لوگوں سے محبت کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پابندی عہد کی شرائط ٭٭

اوپر والے حکم کی حکمت بیان ہو رہی ہے کہ چارہ ماہ کی مہلت دینے پر لڑائی کی اجازت دینے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے شرک و کفر کو چھوڑنے والے اور اپنے عہد و پیمان پر قائم رہنے والے ہی نہیں ہاں صلح حدیبیہ جب تک ان کی طرف سے نہ ٹوٹے تم بھی نہ توڑنا۔ یہ صلح دس سال کے لیے ہوئی تھی، ماہ ذی القعدہ سنہ ٦ ہجری سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاہدہ کو نبھایا یہاں تک کہ قریشیوں کی طرف سے معاہدہ توڑا گیا ان کے حلیف بنو بکر نے رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم کے حلیف خزاعہ پر چڑھائی کی بلکہ حرم میں بھی انہیں قتل کیا اس بنا پر رمضان شریف ٨ ہجری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر چڑھائی کی۔ رب العالمین نے مکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں فتح کرایا اور انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بس میں کر دیا۔ [وللّٰہ الحمد والمنہ] ‏‏‏‏ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باوجود غلبہ اور قدرت کے ان میں سے جنہوں نے اسلام قبول نہ کیا سب کو آزاد کر دیا۔ انہی لوگوں کو طلقاء کہتے ہیں یہ تقریباً دو ہزار تھے جو کفر پر پھر بھی باقی رہے اور ادھر ادھر ہو گئے۔ رحمتہ اللعالمین نے سب کو عام پناہ دے دی اور انہیں مکہ شریف میں آنے اور یہاں اپنے مکانوں میں رہنے کی اجازت مرحمت فرمائی کہ چارماہ تک وہ جہاں چاہیں آ جا سکتے ہیں۔ انہی میں صفوان بن اُمیہ اور عکرمہ بن ابی جہل وغیرہ تھے پھر اللہ نے ان کی رہبری کی اور انہیں اسلام نصیب فرمایا۔ اللہ تعالیٰ اپنے ہر اندازے کے کرنے میں اور ہر کام کے کرنے میں تعریفوں والا ہی ہے۔
7۔ 1 یہ استہفام نفی کے لئے ہے، یعنی جن مشرکین سے تمہارا معاہدہ ہے، ان کے علاوہ اب کسی سے معاہدہ باقی نہیں رہا ہے۔ 7۔ 2 یعنی عہد کی پاسداری، اللہ کے ہاں بہت پسندیدہ امر ہے۔ اس لئے معاملے میں احتیاط ضروری ہے۔
(آیت 7) ➊ { كَيْفَ يَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِيْنَ۠ عَهْدٌ …:} یعنی وہ لوگ جو ہیں ہی مشرک، جنھوں نے اپنے خالق کی توحید کا عہد ہی پورا نہیں کیا، ان کی طرف سے کوئی عہد پورا ہونا کیسے ممکن ہے، وہ تو جو عہد کرتے ہیں توڑ ڈالتے ہیں۔ ➋ { اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ:} ان سے مراد وہی لوگ ہیں جن کا ذکر پہلے «اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُصُوْكُمْ شَيْـًٔا وَّ لَمْ يُظَاهِرُوْا عَلَيْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ» ‏‏‏‏ [ التوبۃ: ۴ ] میں گزر چکا ہے۔ صلح حدیبیہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کفار قریش کے درمیان دس سال کے لیے قرار پائی، یہ صلح نامہ چونکہ حدیبیہ کے مقام پر قرار پایا تھا جو حدود حرم کے قریب ہے، اس لیے اسے {” عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ “} فرما دیا۔ (ابن کثیر) مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اس عہد پر قائم رہے ان سے قتال مت کرو۔ اس معاہدے میں شرط یہ تھی کہ ایک دوسرے پر حملہ آور نہیں ہوں گے اور نہ دوسرے کے خلاف کسی کی مدد کریں گے۔ اس معاہدے میں بنو خزاعہ مسلمانوں کے ساتھ شامل تھے اور بنو بکر قریش کے حلیف تھے، مگر کچھ عرصہ بعد بنو بکر اور بنو خزاعہ کے درمیان لڑائی چھڑ گئی اور مشرکین نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنو خزاعہ کے خلاف بنو بکر کی مدد کی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان ۸ھ کو مکہ پر حملہ کر کے اسے فتح کر لیا۔ (ابن کثیر) ابن جریر طبری نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ اس سے مراد بنو بکر کے وہ قبائل ہیں جو صلح حدیبیہ والے اپنے عہد پر قائم رہے اور انھوں نے بنو خزاعہ پر نہ حملہ کیا، نہ اس میں مدد کی، کیونکہ ان آیات کے نزول کے وقت فتح مکہ کو ایک سال گزر چکا تھا، قریش کو ان کی بد عہدی کی سزا بھی مل چکی تھی۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”صلح والے تین قسم فرمائے، ایک جن سے مدت نہیں ٹھہری، ان کو جواب دیا (کہ تم کو چار ماہ کی مہلت دی جاتی ہے) مگر جو مکے کی صلح میں شامل تھے (تو) جب تک وہ دغا نہ کرے، یہ ادب ہے مکہ کا اور تیسرے جن سے مدت ٹھہری وہ صلح قائم رہی، لیکن آخر سب مشرک عرب کے ایمان لائے۔“ (موضح) {”اسْتَقَامُوْا “} میں حروف ”سین“ اور ”تا“ کی زیادتی کی وجہ سے ترجمہ ”پوری طرح قائم رہیں“ کیا گیا ہے۔ ➌ {اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ:} اور عہد کا پورا کرنا بھی متقی ہونے کے لیے ضروری شرط ہے۔
کَیۡفَ وَ اِنۡ یَّظۡہَرُوۡا عَلَیۡکُمۡ لَا یَرۡقُبُوۡا فِیۡکُمۡ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّۃً ؕ یُرۡضُوۡنَکُمۡ بِاَفۡوَاہِہِمۡ وَ تَاۡبٰی قُلُوۡبُہُمۡ ۚ وَ اَکۡثَرُہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ۚ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مگر اِن کے سوا دوسرے مشرکین کے ساتھ کوئی عہد کیسے ہوسکتا ہے جبکہ اُن کا حال یہ ہے کہ تم پر قابو پا جائیں تو نہ تمہارے معاملہ میں کسی قرابت کا لحاظ کریں نہ کسی معاہدہ کی ذمہ داری کا وہ اپنی زبانوں سے تم کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر دل ان کے انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے وعدوں کا کیا اعتبار ان کا اگر تم پر غلبہ ہو جائے تو نہ یہ قرابت داری کا خیال کریں نہ عہدوپیمان کا، اپنی زبانوں سے تو تمہیں پرچا رہے ہیں لیکن ان کے دل نہیں مانتے ان میں سے اکثر تو فاسق ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بھلا کیونکر ان کا حال تو یہ ہے کہ تم پر قابو پائیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا، اپنے منہ سے تمہیں راضی کرتے ہیں اور ان کے دلوں میں انکار ہے اور ان میں اکثر بے حکم ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
(ان کے سوا دوسرے) مشرکین سے کس طرح کوئی معاہدہ ہو سکتا ہے؟ حالانکہ اگر وہ تم پر غلبہ پا جائیں تو وہ تمہارے بارے میں نہ کسی قرابت کا پاس کریں اور نہ کسی عہد و پیمان کی ذمہ داری کا۔ وہ صرف تمہیں اپنے منہ (کی باتوں) سے راضی کرنا چاہتے ہیں اور ان کے دل انکار کرتے ہیں۔ اور ان میں سے زیادہ تر لوگ فاسق (نافرمان) ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کیسے ممکن ہے جب کہ وہ اگر تم پر غالب آجائیں تو تمھارے بارے میں نہ کسی قرابت کا لحاظ کریں گے اور نہ کسی عہد کا، تمھیں اپنے مونہوں سے خوش کرتے ہیں اور ان کے دل نہیں مانتے اور ان کے اکثر نافرمان ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافروں کی دشمنی ٭٭

اللہ تعالیٰ کافروں کے مکر و فریب اور ان کی دلی عداوت سے مسلمانوں کو آگاہ کرتا ہے تاکہ وہ ان کی دوستی اپنے دل میں نہ رکھیں نہ ان کے قول و قرار پر مطمئن رہیں ان کا کفر شرک انہیں وعدوں کی پابندی پر رہنے نہیں دیتا۔ یہ تو وقت کے منتظر ہیں ان کا بس چلے تو یہ تو تمہیں کچے چبا ڈالیں نہ قرابت داری کو دیکھیں نہ وعدوں کی پاسداری کریں اس سے جو ہو سکے وہ تکلیف تم پر توڑیں اور خوش ہوں۔ «آل» کے معنی قرابت داری کے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے اور سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے شعر میں بھی یہی معنی کئے گئے ہیں کہ وہ اپنے غلبہ کے وقت اللہ کا بھی لحاظ نہ کریں گے نہ کسی اور کا یہی لفظ «ال» ‏‏‏‏ سے «إيل» بن کر جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل میں آیا یعنی اس کا معنی اللہ تعالیٰ ہے لیکن پہلا قول ہی ظاہر اور مشہور ہے اور اکثر مفسرین کا بھی یہی قول ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”مراد عہد ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے مراد قسم ہے۔
8۔ 1 مشرکین کی زبانی باتوں کا کیا اعتبار، جب کہ ان کا یہ حال ہے کہ اگر تم پر غالب آجائیں تو کسی قرابت اور عہد کا پاس نہیں کریں گے۔ بعض مفسرین کے نزدیک پہلا کیف مشرکین کے لئے ہے اور دوسرے سے یہودی مراد ہیں، کیونکہ ان کی صفت بیان کی گئی ہے کہ اللہ کی آیتوں کو کم قیمت پر بیچ دیتے ہیں۔ اور یہ وطیرہ یہودیوں کا ہی رہا ہے۔
(آیت 8) {كَيْفَ وَ اِنْ يَّظْهَرُوْا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوْا …:} مشرکین سے ” براء ت“ کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے معاہدے کا کوئی اعتبار نہیں، یہ لوگ زبان سے دوستی اور وفاداری کی میٹھی میٹھی باتیں کرتے ہیں اور دل میں یہ ہے کہ اگر کبھی موقع مل جائے تو معاہدے کو پس پشت ڈال کر ان مسلمانوں کو کچا چبا ڈالیں۔ {” اَلْاِلُّ “} کے معنی عہد، حلف، قرابت سبھی آتے ہیں اور یہاں آگے {” ذِمَّةً “} (عہد) الگ ذکر ہونے کی وجہ سے قرابت مراد ہے۔
اِشۡتَرَوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیۡلًا فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ؕ اِنَّہُمۡ سَآءَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
انہوں نے اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی سی قیمت قبول کر لی پھر اللہ کے راستے میں سدراہ بن کر کھڑے ہو گئے بہت برے کرتوت تھے جو یہ کرتے رہے
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے اللہ کی آیتوں کو بہت کم قیمت پر بیچ دیا اور اس کی راه سے روکا۔ بہت برا ہے جو یہ کر رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اللہ کی آیتوں کے بدلے تھو ڑے دام مول لیے تو اس کی راہ سے روکا بیشک وہ بہت ہی بڑے کام کرتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
انہوں نے تھوڑی سی قیمت پر آیاتِ الٰہی فروخت کر دی ہیں اور (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکنے لگے۔ بہت ہی برا ہے وہ کام جو یہ کر رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
انھوںنے اللہ کی آیات کے بدلے میں تھوڑی سی قیمت لے لی، پھر انھوں نے اس کے راستے سے روکا۔ بے شک یہ لوگ برا ہے جو کچھ کرتے رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہاد ہی راہ اصلاح ہے ٭٭

مشرکوں کی مذمت کے ساتھ ہی مسلمانوں کو ترغیب جہاد دی جا رہی ہے کہ ان کافروں نے دنیائے خسیس کو آخرت نفیس کے بدلے پسند کر لیا ہے خود راہ رب سے ہٹ کر مومنوں کو بھی ایمان سے روک رہے ہیں ان کے اعمال بہت ہی بد ہیں یہ تو مومنوں کو نقصان پہنچانے کے ہی درپے ہیں نہ انہیں رشتے داری کا خیال نہ معاہدے کا پاس۔ یہ تو حد سے تجاوز کر گئے ہیں۔ ہاں اب بھی سچی توبہ اور نماز و زکوٰۃ کی پابندی انہیں تمہارا بنا سکتی ہے۔ چنانچہ بزار کی حديث میں ہے کہ جو دنیا کو اس حال میں چھوڑے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادتیں خلوص کے ساتھ کر رہا ہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا ہو نماز و زکوٰۃ کا پابند ہو تو اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو کر ملے گا۔ یہی اللہ تعالیٰ کا وہ دین ہے جسے انبیاء علیہم السلام لاتے رہے اور اسی کی تبلیغ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ کرتے رہے۔ اس سے پہلے کہ باتیں پھیل جائیں اور خواہشیں بڑھ جائیں اس کی تصدیق کتاب اللہ میں موجود ہے کہ اگر وہ توبہ کر لیں یعنی بتوں کو اور بت پرستی کو چھوڑ دیں اور نمازی اور زکوٰۃ دینے والے بن جائیں تو تم ان کے راستے چھوڑ دو۔ ۱؎ [9-التوبة:5] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے کہ پھر تو یہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ ۱؎ [9-التوبة:11] ‏‏‏‏ امام بزار رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”میرے خیال سے تو مرفوع حدیث وہیں پر ختم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے رضامند ہو کر ملے گا اس کے بعد کا کلام راوی حدیث ربیع بن انس رحمہ اللہ علیہ کا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔‏‏‏‏“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 9) {اِشْتَرَوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيْلًا …:} یعنی یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے دنیا کی چند روزہ زندگی کے مفاد کی خاطر اللہ تعالیٰ کے احکام کو رد کر دیا، پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا کہ خود اسلام نہیں لائے، بلکہ دوسروں کو بھی اسلام کی راہ اختیار کرنے سے روکتے رہے۔ (شوکانی)
لَا یَرۡقُبُوۡنَ فِیۡ مُؤۡمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّۃً ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُعۡتَدُوۡنَ ﴿۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کسی مومن کے معاملہ میں نہ یہ قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ کسی عہد کی ذمہ داری کا اور زیادتی ہمیشہ انہی کی طرف سے ہوئی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ تو کسی مسلمان کے حق میں کسی رشتہداری کا یا عہد کا مطلق لحاظ نہیں کرتے، یہ ہیں ہی حد سے گزرنے والے
احمد رضا خان بریلوی
کسی مسلمان میں نہ قراب کا لحاظ کریں نہ عہد کا اور وہی سرکش ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ کسی مؤمن کے بارے میں نہ قرابت کا پاس کرتے ہیں اور نہ کسی عہد و پیمان کی ذمہ داری کا اور یہی لوگ ہیں جو ظلم و تعدی کرنے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہ کسی مومن کے بارے میں نہ کسی قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ کسی عہد کا اور یہی لوگ حد سے گزرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہاد ہی راہ اصلاح ہے ٭٭

مشرکوں کی مذمت کے ساتھ ہی مسلمانوں کو ترغیب جہاد دی جا رہی ہے کہ ان کافروں نے دنیائے خسیس کو آخرت نفیس کے بدلے پسند کر لیا ہے خود راہ رب سے ہٹ کر مومنوں کو بھی ایمان سے روک رہے ہیں ان کے اعمال بہت ہی بد ہیں یہ تو مومنوں کو نقصان پہنچانے کے ہی درپے ہیں نہ انہیں رشتے داری کا خیال نہ معاہدے کا پاس۔ یہ تو حد سے تجاوز کر گئے ہیں۔ ہاں اب بھی سچی توبہ اور نماز و زکوٰۃ کی پابندی انہیں تمہارا بنا سکتی ہے۔ چنانچہ بزار کی حديث میں ہے کہ جو دنیا کو اس حال میں چھوڑے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادتیں خلوص کے ساتھ کر رہا ہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا ہو نماز و زکوٰۃ کا پابند ہو تو اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو کر ملے گا۔ یہی اللہ تعالیٰ کا وہ دین ہے جسے انبیاء علیہم السلام لاتے رہے اور اسی کی تبلیغ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ کرتے رہے۔ اس سے پہلے کہ باتیں پھیل جائیں اور خواہشیں بڑھ جائیں اس کی تصدیق کتاب اللہ میں موجود ہے کہ اگر وہ توبہ کر لیں یعنی بتوں کو اور بت پرستی کو چھوڑ دیں اور نمازی اور زکوٰۃ دینے والے بن جائیں تو تم ان کے راستے چھوڑ دو۔ ۱؎ [9-التوبة:5] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے کہ پھر تو یہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ ۱؎ [9-التوبة:11] ‏‏‏‏ امام بزار رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”میرے خیال سے تو مرفوع حدیث وہیں پر ختم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے رضامند ہو کر ملے گا اس کے بعد کا کلام راوی حدیث ربیع بن انس رحمہ اللہ علیہ کا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔‏‏‏‏“
10۔ 1 بار بار وضاحت سے مقصود مشرکین اور یہود کی اسلام دشمنی اور ان کے سینوں میں مخفی عداوت کے جذبات کو بےنقاب کرنا ہے۔
(آیت10) ➊ { لَا يَرْقُبُوْنَ فِيْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً:} ان کی مذمت کی تاکید کے لیے دوبارہ ان کے اس فعل بد کا تذکرہ فرمایا۔ بعض مفسرین نے پہلی آیات سے مراد تمام مشرکین اور ان آیات سے مراد یہود مدینہ لیے ہیں، کیونکہ اللہ کی کتاب انھی کے پاس تھی جس کی آیات پر عمل کر کے مسلمان ہونے کے بجائے وہ دنیا کے مفاد کو ترجیح دیتے تھے، اگرچہ اللہ کے احکام کو رد کر کے دنیا کے مفاد کو ترجیح دینا مشرکین و یہود سب کا وتیرہ ہے۔ اس صورت میں {” بِاٰيٰتِ اللّٰهِ “} سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی آیات ہوں گی۔ ➋ { وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ:} یعنی عہد شکنی اور زیادتی جب بھی ہوئی انھی کی طرف سے ہوئی۔
فَاِنۡ تَابُوۡا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَاِخۡوَانُکُمۡ فِی الدِّیۡنِ ؕ وَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں اور جاننے والوں کے لیے ہم اپنے احکام واضح کیے دیتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اب بھی اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز کے پابند ہو جائیں اور زکوٰة دیتے رہیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں۔ ہم تو جاننے والوں کے لئے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
پھر اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰة دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور ہم آیتیں مفصل بیان کرتے ہیں جاننے والوں کے لیے
علامہ محمد حسین نجفی
(بہرحال اب بھی) اگر یہ لوگ توبہ کر لیں۔ اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں ہم اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پس اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو دین میں تمھارے بھائی ہیں، اور ہم ان لوگوں کے لیے آیات کھول کر بیان کرتے ہیں جو جانتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہاد ہی راہ اصلاح ہے ٭٭

مشرکوں کی مذمت کے ساتھ ہی مسلمانوں کو ترغیب جہاد دی جا رہی ہے کہ ان کافروں نے دنیائے خسیس کو آخرت نفیس کے بدلے پسند کر لیا ہے خود راہ رب سے ہٹ کر مومنوں کو بھی ایمان سے روک رہے ہیں ان کے اعمال بہت ہی بد ہیں یہ تو مومنوں کو نقصان پہنچانے کے ہی درپے ہیں نہ انہیں رشتے داری کا خیال نہ معاہدے کا پاس۔ یہ تو حد سے تجاوز کر گئے ہیں۔ ہاں اب بھی سچی توبہ اور نماز و زکوٰۃ کی پابندی انہیں تمہارا بنا سکتی ہے۔ چنانچہ بزار کی حديث میں ہے کہ جو دنیا کو اس حال میں چھوڑے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادتیں خلوص کے ساتھ کر رہا ہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا ہو نماز و زکوٰۃ کا پابند ہو تو اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو کر ملے گا۔ یہی اللہ تعالیٰ کا وہ دین ہے جسے انبیاء علیہم السلام لاتے رہے اور اسی کی تبلیغ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ کرتے رہے۔ اس سے پہلے کہ باتیں پھیل جائیں اور خواہشیں بڑھ جائیں اس کی تصدیق کتاب اللہ میں موجود ہے کہ اگر وہ توبہ کر لیں یعنی بتوں کو اور بت پرستی کو چھوڑ دیں اور نمازی اور زکوٰۃ دینے والے بن جائیں تو تم ان کے راستے چھوڑ دو۔ ۱؎ [9-التوبة:5] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے کہ پھر تو یہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ ۱؎ [9-التوبة:11] ‏‏‏‏ امام بزار رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”میرے خیال سے تو مرفوع حدیث وہیں پر ختم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے رضامند ہو کر ملے گا اس کے بعد کا کلام راوی حدیث ربیع بن انس رحمہ اللہ علیہ کا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔‏‏‏‏“
11۔ 1 نماز، توحید و رسالت کے اقرار کے بعد، اسلام کا سب سے اہم رکن ہے اللہ کا حق ہے، اس میں اللہ کی عبادت کے مختلف پہلو ہیں۔ اس میں دست بستہ قیام ہے، رکوع و سجود ہے، دعا و مناجات ہے، اللہ کی عظمت و جلالت کا اور اپنی عاجزی و بےکسی کا اظہار ہے۔ عبادت کی یہ ساری صورتیں اور قسمیں صرف اللہ کے لئے خاص ہیں، نماز کے بعد دوسرا اہم فریضہ زکٰوۃ ہے، جس میں عبادتی پہلو کے ساتھ ساتھ خقوق العباد بھی شامل ہیں، زکٰوۃ سے معاشرے کے اور زکٰوہ دینے والے کے قبیلے کے ضرورت مند، مفلس نادار اور معذور و محتاج لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں، اسی لئے حدیث میں بھی شہادت کے بعد ان ہی دو چیزوں کو نمایاں کر کے بیان کیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ' فرمایا ' مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اور نماز قائم کریں اور زکٰوۃ دیں (صحیح بخاری)۔۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے ومن لم یزک فلا صلٰوۃ لہ (حوالہ مذکورہ) جس نے زکوٰۃ نہیں دی اس کی نماز بھی نہیں۔ "
(آیت11) ➊ { فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ …:} یعنی ایمانی اخوت، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۂ حجرات (۱۰) میں کیا ہے: «اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ» ‏‏‏‏ ”مومن تو سب بھائی ہی ہیں“ وہ ان تین چیزوں کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ ان تین چیزوں سے انھیں اسلامی معاشرے میں وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو دوسرے مسلمانوں کو حاصل ہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یہ جو فرمایا بھائی ہیں حکم شرع میں، اس میں سمجھ لیں کہ جو شخص قرائن سے معلوم ہو کہ ظاہر میں مسلمان ہے اور دل سے یقین نہیں رکھتا تو چاہے اسے حکم ظاہری میں مسلمان گنیں، مگر معتمد اور دوست نہ پکڑیں۔“ (موضح) یہ بات پہلے بھی گزری ہے یہاں مزید تاکید ہو گئی کہ نماز اور زکوٰۃ کا محض اقرار ہی اخوت دینی کے لیے کافی نہیں بلکہ عملاً ان کی ادائیگی امت مسلمہ میں شامل ہونے کے لیے ضروری ہے اور مسلمان حاکم پر لازم ہے کہ ان کی عدم ادائیگی پر باز پرس کرے اور سزا دے اور اگر وہ ان کی ادائیگی سے انکار یا ان کا مذاق اڑائیں تو ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرح انھیں مرتد قرار دے کر ان سے جنگ کی جائے۔ ➋ { وَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ:} جاننے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کی نافرمانی کا انجام سمجھتے اور اس کا خوف اپنے دلوں میں رکھتے ہیں، ایسے ہی لوگ ہیں جو اس کی آیات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
وَ اِنۡ نَّکَثُوۡۤا اَیۡمَانَہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ عَہۡدِہِمۡ وَ طَعَنُوۡا فِیۡ دِیۡنِکُمۡ فَقَاتِلُوۡۤا اَئِمَّۃَ الۡکُفۡرِ ۙ اِنَّہُمۡ لَاۤ اَیۡمَانَ لَہُمۡ لَعَلَّہُمۡ یَنۡتَہُوۡنَ ﴿۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اگر عہد کرنے کے بعد یہ پھر اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر حملے کرنے شروع کر دیں تو کفر کے علمبرداروں سے جنگ کرو کیونکہ ان کی قسموں کا اعتبار نہیں شاید کہ (پھر تلوار ہی کے زور سے) وہ باز آئیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر یہ لوگ عہدوپیمان کے بعد بھی اپنی قسموں کو توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعنہ زنی کریں تو تم بھی ان سرداران کفر سے بھڑ جاؤ۔ ان کی قسمیں کوئی چیز نہیں، ممکن ہے کہ اس طرح وه بھی باز آجائیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر عہد کرکے اپنی قسمیں توڑیں اور تمہارے دین پر منہ آئیں تو کفر کے سرغنوں سے لڑو بیشک ان کی قسمیں کچھ نہیں اس امید پر کہ شاید وہ باز آئیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر یہ لوگ اپنے عہد و پیمان کے بعد اپنی قَسموں کو توڑ دیں اور تمہارے دین پر طعن و تشنیع کریں تو تم کفر کے ان سرغنوں سے جنگ کرو، ان کی قَسموں کا کوئی اعتبار نہیں تاکہ یہ باز آجائیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر وہ اپنے عہد کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمھارے دین میں طعن کریں تو کفر کے پیشوائوں سے جنگ کرو۔ بے شک یہ لوگ، ان کی کوئی قسمیں نہیں ہیں، تاکہ وہ باز آجائیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وعدہ خلاف قوم کو دندان شکن جواب دو ٭٭

اگر یہ مشرک اپنی قسموں کو توڑ کر وعدہ خلافی اور عہد شکنی کریں اور تمہارے دین پر اعتراض کرنے لگیں تو تم ان کے کفر کے سروں کو توڑ مروڑ دو۔ اسی لیے علماء نے کہا ہے کہ ”جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے، دین میں عیب جوئی کرے، اس کا ذکر اہانت کے ساتھ کرے اسے قتل کر دیا جائے۔‏‏‏‏“ ان کی قسمیں محض بے اعتبار ہیں۔ یہی طریقہ ان کے کفر و عناد سے روکنے کا ہے۔ ابوجہل، عتبہ، شیبہ امیہ وغیرہ یہ سب سردارن کفر تھے۔ ایک خارجی نے سیدنا سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ کو کہا کہ ”یہ کفر کے پیشواؤں میں سے ایک ہے“ آپ نے فرمایا: ”تو جھوٹا ہے میں تو ان میں سے ہوں جنہوں نے کفر کے پیشواؤں کو قتل کیا تھا۔‏‏‏‏“ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اس آیت والے اس کے بعد قتل نہیں کئے گئے۔‏‏‏‏“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ صحیح یہ ہے کہ آیت عام ہے گو سبب نزول کے اعتبار سے اس سے مراد مشرکین قریش ہیں لیکن حکماً یہ انہیں اور سب کو شامل ہے واللہ اعلم۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شام کی طرف لشکر بھیجا تو ان سے فرمایا کہ ”تمہیں ان میں کچھ لوگ ایسے ملیں گے جن کی چندھیا منڈی ہوئی ہو گی تو تم اس شیطانی بیٹھک کو تلوار سے دو ٹکڑے کر دینا واللہ! ان میں سے ہر ایک کا قتل اور ستر لوگوں کے قتل سے مجھے زیادہ پسند ہے اسلیے کہ فرمان الٰہی ہے کفر کے اماموں کو قتل کرو“ [ ابن ابی حاتم ] ‏‏‏‏
12۔ 1 ایمان، یمین کی جمع ہے جس کے معنی قسم کے ہیں۔ ائمہ امام کی جمع ہے۔ مراد پیشوا اور لیڈر ہیں مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ عہد توڑ دیں اور دین میں طعن کریں، تو ظاہری طور پر یہ قسمیں بھی کھائیں تو ان قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ کفر کے ان پیشواؤں سے لڑائی کرو، ممکن ہے اس طرح اپنے کفر سے باز آجائیں۔ اس سے احناف نے استدلال کیا ہے کہ ذمی (اسلامی مملکت میں رہائش پذیر غیر مسلم) اگر نقض عہد نہیں کرتا۔ البتہ دین اسلام میں طعن کرتا ہے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ قرآن نے اس سے قتال کے لیے دو چیزیں ذکر کی ہیں اس لیے جب تک دونوں چیزوں کا صدور نہیں ہوگا وہ قتال کا مستحق نہیں ہوگا۔ لیکن امام مالک، امام شافعی اور دیگر علماء طعن فی الدین کو نقض عہد بھی قرار دیتے ہیں اس لیے ان کے نزدیک اس میں دونوں ہی چیزیں آجاتی ہیں لہذا اس ذمی کا قتل جائز ہے اسی طرح نقض عہد کی صورت میں بھی قتل جائز ہے۔ (فتح القدیر)
(آیت12) ➊ {وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَيْمَانَهُمْ …:} یعنی جن لوگوں کی حالت یہ ہو کہ وہ نہ صرف تم سے معاہدہ کر کے اسے توڑتے ہوں بلکہ تمھارے دین کا مذاق اڑاتے، اس میں طعن کرتے اور عیب نکالتے ہوں تو سمجھ لو کہ یہی {” اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ “} (کفر کے سردار) ہیں۔ ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں، لہٰذا تم ان لوگوں کو کسی قسم کا موقع دیے بغیر ان سے جنگ کرو، تاکہ تمھاری تلواروں کی کاٹ سے وہ اپنے کرتوتوں سے باز آ جائیں۔ معلوم ہوا کہ دین اسلام پر طعن کرنے والا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کرنے والا واجب القتل ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگرچہ تمام کفار سے جنگ کی، مگر دین میں طعن، اسلام اور مسلمانوں کی توہین اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والوں کے قتل کا خاص اہتمام فرمایا۔ کعب بن اشرف یہودی اور ابو رافع یہودی وغیرہ کو فدائی حملوں کے ذریعے سے قتل کروانے کے واقعات اس کی واضح مثالیں ہیں۔ فتح مکہ کے موقع پر بد زبانوں کا خون رائگاں قرار دینا بھی اس کی مثال ہے۔ کفار کی طرف سے عہد توڑنے کے بعد اگر ان سے جنگ نہ کی جائے تو یہ مسلمانوں کی طرف سے بے حد کمزوری کا اظہار اور انتہا درجے کی ذلت اور بے غیرتی ہو گی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عہد توڑنے والوں سے در گزر نہیں فرماتے تھے، بلکہ فوراً انھیں ان کے انجام تک پہنچاتے تھے۔ بنو قریظہ اور اہل مکہ کے عہد توڑنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کارروائی اس کی روشن مثال ہے، مگر افسوس آج کفار کے اپنے تمام معاہدے توڑنے کے باوجود مسلمان حکام ان سے خوف زدہ اور خاموش ہیں۔ ➋ { اِنَّهُمْ لَاۤ اَيْمَانَ لَهُمْ:} اللہ تعالیٰ نے کفار کے کسی عہد و پیمان کے معتبر نہ ہونے کا جو ذکر فرمایا یہ واقعی حقیقت ہے جس کا ثبوت نصرانیوں کا اندلس سے مسلمانوں کا نام و نشان مٹا دینا ہے اور وہ سلوک بھی جو تاتاریوں نے مسلمانوں خصوصاً بغداد کے مسلمانوں کے ساتھ ۶۵۶ھ (1258ء) میں کیا اور جو کچھ ہندوؤں اور سکھوں نے پاکستان آنے والے مسلمانوں کے ساتھ کیا اور اب تک کشمیر اور بھارت کے مسلمانوں سے کر رہے ہیں اور جو کچھ روس اور دوسری کمیونسٹ ریاستوں نے اسلام اور مسلمانوں کا نام و نشان مٹانے کے لیے کیا اور اب امریکہ، یورپ اور پورا عالم کفر جس طرح عراق، افغانستان اورپاکستان کے مسلمانوں کے ساتھ کر رہا ہے اور جھوٹے الزام گھڑ کر وہ تمام عہد جو اقوام متحدہ کے ذریعے سے کیے تھے پس پشت ڈال کر اسلام اور مسلمانوں کو برباد کر رہا ہے، یہ سب کفار کے کسی عہد کے عہد نہ ہونے کی واضح مثالیں ہیں۔
اَلَا تُقَاتِلُوۡنَ قَوۡمًا نَّکَثُوۡۤا اَیۡمَانَہُمۡ وَ ہَمُّوۡا بِاِخۡرَاجِ الرَّسُوۡلِ وَ ہُمۡ بَدَءُوۡکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ؕ اَتَخۡشَوۡنَہُمۡ ۚ فَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنۡ تَخۡشَوۡہُ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا تم نہ لڑو گے ایسے لوگوں سے جو اپنے عہد توڑتے رہے ہیں اور جنہوں نے رسول کو ملک سے نکال دینے کا قصد کیا تھا اور زیادتی کی ابتدا کرنے والے وہی تھے؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ اگر تم مومن ہو تو اللہ اِس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو
مولانا محمد جوناگڑھی
تم ان لوگوں کی سرکوبی کے لئے کیوں تیار نہیں ہوتے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ دیا اور پیغمبر کو جلا وطن کرنے کی فکر میں ہیں اور خود ہی اول بار انہوں نے تم سے چھیڑ کی ہے، کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ اللہ ہی زیاده مستحق ہے کہ تم اس کا ڈر رکھو بشرطیکہ تم ایمان والے ہو
احمد رضا خان بریلوی
کیا اس قوم سے نہ لڑو گے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑیں اور رسول کے نکالنے کا ارادہ کیا حالانکہ انہیں کی طرف سے پہلی ہوتی ہے، کیا ان سے ڈرتے ہو تو اللہ کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
تم ان لوگوں سے کیوں جنگ نہیں کرتے جنہوں نے اپنی قَسموں کو توڑ ڈالا پیغمبر(ص) کو (وطن سے) نکالنے کا ارادہ کیا اور پھر تمہارے برخلاف لڑائی میں پہل بھی کی۔ تم ان سے ڈرتے ہو؟ اللہ زیادہ حقدار ہے اس بات کا کہ اس سے ڈرو اگر تم مؤمن ہو۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تم ان لوگوں سے نہ لڑو گے جنھوں نے اپنی قسمیں توڑ دیں اور رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا اور انھوں نے ہی پہلی بار تم سے ابتدا کی؟کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ تو اللہ زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ظالموں کو ان کے کیفر کردار کو پہنچاؤ ٭٭

مسلمانوں کو پوری طرح جہاد پر آمادہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ یہ عہد شکن قسمیں توڑنے والے کفار وہی ہیں جنہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جلا وطن کرنے کی پوری ٹھان لی تھی چاہتے تھے کہ قید کر لیں یا قتل کر ڈالیں یا دیس نکالا دے دیں ان کے مکر سے اللہ کا مکر کہیں بہتر تھا۔ ۱؎ [8-الأنفال:30] ‏‏‏‏ صرف ایمان کی بناء پر دشمنی کر کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اور مومنوں کو وطن سے خارج کرتے تھے بھڑ بھڑا کر اُٹھ کھڑے ہو جاتے تھے کہ تجھے مکہ مکرمہ سے نکال دیں۔ برائی کی ابتداء بھی انہیں کی طرف سے ہے۔ بدر کے دن لشکر لے کر نکلے معلوم ہو چکا تھا کہ قافلہ بچ کر چلا گیا ہے۔ لیکن تاہم غرور و فخر سے ربانی لشکر کو شکست دینے کے ارادے سے مسلمانوں سے بھڑ گئے۔ جیسے کہ پورا واقعہ اس سے پہلے بیان ہو چکا ہے۔ انہوں نے عہد شکنی کی اور اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیفوں سے جنگ کی بنو بکر کی خزاعہ کے خلاف مدد کی اس خلاف وعدہ کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر لشکر کشی کی ان کی خوب سرکوبی کی اور مکہ فتح کر لیا۔ فالحمدللہ۔ فرماتا ہے کہ تم ان نجس لوگوں سے خوف کھاتے ہو۔ اگر تم مومن ہو تو تمہارے دل میں بجز اللہ تعالیٰ کے کسی کا خوف نہ ہونا چاہیئے وہی اس کے لائق ہے کہ اس سے ایماندار ڈرتے رہیں۔ اور آیت میں ہے ان سے نہ ڈرو صرف مجھ سے ہی ڈرتے رہو میرا غلبہ، میری سلطنت، میری سزاء، میری قدرت، میری ملکیت بیشک اس قابل ہے کہ ہر وقت ہر دل میری ہیبت سے لزرتا رہے تمام کام میرے ہاتھ میں ہیں جو چاہوں کر سکتا ہوں اور کر گذرتا ہوں۔ میری منشا کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔

مسلمانوں پر جہاد کی فرضیت کا راز بیان ہو رہا ہے کہ اللہ قادر تھا جو عذاب چاہتا ان پر بھیج دیتا لیکن اس کی منشاء یہ ہے کہ تمہارے ہاتھوں انہیں سزا دے ان کی بربادی تم آپ کرو تمہارے دل کی خود بھڑاس نکل جائے اور تمہیں راحت و آرام شادمانی و کامرانی حاصل ہو۔ یہ بات کچھ انہی کے ساتھ مخصوص نہ تھی بلکہ تمام مومنوں کے لیے بھی ہے۔ خصوصاً خزاعہ کا قبیلہ جن پر خلاف عہد قریش اپنے حلیفوں میں مل کر چڑھ دوڑے ان کے دل اسی وقت ٹھنڈے ہوں گے ان کے غبار اسی وقت دھلیں گے جب مسلمانوں کے ہاتھوں کفار نیچے ہوں۔ ابن عساکر میں ہے کہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا غضبناک ہوتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی ناک پکڑ لیتے اور فرماتے عویش! یہ دعا کرو «‏‏‏‏اللَّهُمَّ رَبَّ النَّبِيَّ مُحَمَّدٍ اغْفِرْ ذَنْبِي، وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي وَأَجِرْنِي مِنْ مُضِلاتِ الْفِتَنِ» اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار میرے گناہ بخش اور میرے دل کا غصہ دور کر اور مجھے گمراہ کن فتنوں سے بچالے۔ ۱؎ [الموسوعہ الحدیثیہ للشعیب الأناؤط:26576: ضعیف] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہے توبہ قبول فرما لے۔ وہ اپنے بندوں کی تمام تر مصلحتوں سے خوب آگاہ ہے۔ اپنے تمام کاموں میں اپنے شرعی احکام میں اپنے تمام حکموں میں حکمت والا ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے جو ارادہ کرتا ہے حکم دیتا ہے وہ عادل و حاکم ہے ظلم سے پاک ہے ایک ذرے برابر بھلائی برائی ضائع نہیں کرتا بلکہ اس کا بدلہ دنیا اور آخرت میں دیتا ہے۔
13۔ 1 اَ لَا حرف تحضیض ہے، جس سے رغبت دلائی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دے رہا ہے۔ 13۔ 2 اس سے مراد دارالندوہ کی مشاورت ہے جس میں رؤسائے مکہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلا وطن کرنے، قید کرنے یا قتل کرنے کی تجویزوں پر غور کیا۔ 13۔ 3 اس سے مراد یا تو بدر کی جنگ میں مشرکین مکہ کا رویہ ہے کہ وہ اپنے تجارتی قافلے کی حفاظت کے لئے گئے، لیکن اس کے باوجود کہ انہوں دیکھ لیا کہ وہ قافلہ بچ کر نکل گیا ہے وہ بدر کے مقام پر مسلمانوں سے لڑنے کی تیاری کرتے اور چھیڑ خانی کرتے رہے، جس کے نتیجے میں بالآخر جنگ ہو کر رہی۔ یا اس سے مراد قبیلہ بنی بکر کی وہ امداد ہے جو قریش نے ان کی کی، جب کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیف قبیلے خزاعہ پر چڑھائی کی تھی دراں حالیکہ قریش کی یہ امداد معاہدے کی خلاف ورزی تھی۔
(آیت13) ➊ {اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَيْمَانَهُمْ …:} اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نہایت بلیغ طریقے سے کفار کے خلاف جنگ پر ابھارا ہے اور انھیں جوش اور غیرت دلائی ہے کہ جن لوگوں کے یہ جرائم ہیں کیا تم ان کے خلاف بھی نہیں لڑو گے؟ پھر ان کے تین جرم بیان فرمائے، پہلا یہ کہ انھوں نے اپنے عہد توڑ ڈالے اور وہ قسمیں بھی جو عہد پختہ کرنے کے لیے کھائی تھیں، صلح حدیبیہ ہو جانے کے بعد بھی وہ بنو خزاعہ کے خلاف (جو مسلمانوں کے حلیف تھے) بنو بکر کی پیٹھ ٹھونکتے اور اسلحہ وغیرہ سے ان کی مدد کرتے رہے، حالانکہ ان کا ایسا کرنا صلح کے معاہدے کی صریح خلاف ورزی تھی۔ دوسرا یہ کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے تو وہ آپ کے خلاف منصوبے سوچتے رہتے، جیسا کہ سورۂ انفال (۳۰) میں گزر چکا ہے کہ قتل، قید اور کم از کم یہ کہ آپ کو مکہ سے نکال دیں، یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنے کسی ارادے میں کامیاب نہ ہو سکے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اللہ کے حکم سے ہجرت کی اور تیسرا یہ کہ پہلی بار لڑنے کی ابتدا انھوں نے کی کہ بدر کے موقع پر جب ان کا تجارتی قافلہ بچ گیا تھا تو انھوں نے واپس جانے کے بجائے خواہ مخواہ جنگ چھیڑی۔ اس کے بعد احد، خندق اور بنو خزاعہ کے خلاف جنگ کی ابتدا بھی انھوں نے کی۔ ان تینوں میں سے ہر جرم ہی ان سے لڑنے کا کافی سبب ہے، اب یہ تین سبب جمع ہونے پر بھی کیا تم ان سے نہیں لڑو گے؟ ➋ { اَتَخْشَوْنَهُمْ۠ فَاللّٰهُ اَحَقُّ …:} یہ بھی جنگ پر ابھارنے کا ایک زبردست طریقہ ہے کہ کسی کو کہا جائے کہ کیا تم دشمنوں سے ڈرتے ہو؟ غیرت مند یہی کہے گا اور کر کے دکھائے گا کہ نہیں، میں دشمنوں سے نہیں ڈرتا، پھر مسلمانوں کی ہمت بندھائی کہ تم تو اللہ پر ایمان و یقین رکھنے والے ہو کہ فتح و شکست اور نفع و نقصان اسی کے ہاتھ میں ہے، ایسی صورت میں تو لازماً حق بنتا ہے کہ تم کفار کے بجائے اللہ سے ڈرو اور ان سے قتال کرو۔
قَاتِلُوۡہُمۡ یُعَذِّبۡہُمُ اللّٰہُ بِاَیۡدِیۡکُمۡ وَ یُخۡزِہِمۡ وَ یَنۡصُرۡکُمۡ عَلَیۡہِمۡ وَ یَشۡفِ صُدُوۡرَ قَوۡمٍ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿ۙ۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ان سے لڑو، اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے گا اور انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے گا اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
ان سے تم جنگ کرو اللہ تعالیٰ انہیں تمہارے ہاتھوں عذاب دے گا، انہیں ذلیل ورسوا کرے گا، تمہیں ان پر مدد دے گا اور مسلمانوں کے کلیجے ٹھنڈے کرے گا
احمد رضا خان بریلوی
تو ان سے لڑو اللہ انہیں عذاب دیگا تمہارے ہاتھوں اور انہیں رسوا کرے گا اور تمہیں ان پر مدد دے گا اور ایمان والوں کا جی ٹھنڈا کرے گا،
علامہ محمد حسین نجفی
ان سے جنگ کرو۔ اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سے سزا دلوائے گا۔ اور انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے گا اور جماعتِ مؤمنین کے دلوں کو شفا دے گا (ان کے سارے دکھ دور کر دے گا)۔
عبدالسلام بن محمد
ان سے لڑو، اللہ انھیں تمھارے ہاتھوں سے عذاب دے گا اور انھیں رسوا کرے گا اور ان کے خلاف تمھاری مدد کرے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا دے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسلمان بھی آزمائیں جائیں گے ٭٭

یہ نا ممکن ہے کہ امتحان بغیر مسلمان بھی چھوڑ دیئے جائیں سچے اور جھوٹے مسلمان کو ظاہر کر دینا ضروری ہے۔ «وَلِيجَةً» کے معنی بھیدی اور دخل دینے والے کے ہیں۔ پس سچے وہ ہیں جو جہاد میں آگے بڑھ کر حصہ لیں اور ظاہر باطن میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیر خواہی اور حمایت کریں۔ ایک قسم کا بیان دوسری قسم کو ظاہر کر دیتا تھا اس لیے دوسری قسم کے لوگوں پر بیان چھوڑ دیا ایسی عبارتیں شاعروں کے شعروں میں بھی ہیں۔ اور جگہ قرآن کریم ہے کہ کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ صرف یہ کہنے سے چھوڑ دیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش ہو گی ہی نہیں حالانکہ اگلے مومنوں کی بھی ہم نے آزمائش کی یاد رکھو اللہ تعالیٰ سچے اور جھوٹوں کو ضرور الگ کر دے گا۔ ۱؎ [29-العنكبوت:3،2] ‏‏‏‏ اور آیت میں اسی مضمون کو «أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ» ۱؎ [3-آل عمران:142] ‏‏‏‏ کے لفظوں سے بیان فرمایا ہے۔ اور آیت میں ہے «مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:179] ‏‏‏‏ اللہ ایسا نہیں کہ تم مومنوں کو تمہاری حالت پر ہی چھوڑ دے اور امتحان کر کے یہ نہ معلوم کر لے کہ خبیث کون ہے اور طیب کون ہے؟ پس جہاد کے مشروع کرنے میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ کھرے کھوٹے کی تمیز ہو جاتی ہے۔ گو اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے جو ہو گا وہ بھی اسے معلوم ہے اور جو نہیں ہوا وہ جب ہو گا تب کس طرح ہو گا یہ بھی وہ جانتا ہے چیز کے ہونے سے پہلے ہی اسے اس کا علم حاصل ہے اور ہر چیز کی ہر حالت سے وہ واقف ہے لیکن وہ چاہتا ہے کہ دنیا پر بھی کھرا کھوٹا، سچا جھوٹا ظاہر کر دے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں نہ اس کے سوا کوئی پروردگار ہے نہ اس کی قضاء و قدر اور ارادے کو کوئی بدل سکتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت15،14) ➊ {قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ …:} ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے عہد توڑنے والے کفار سے لڑنے کی صورت میں مسلمانوں کے ساتھ پانچ وعدے کیے ہیں جو سب کے سب پورے فرمائے، پہلا یہ کہ {”يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ“} یعنی پہلی قوموں پر اللہ کی طرف سے قدرتی آفات کے ذریعے سے عذاب آتا تھا، اب تم ان سے لڑو، اللہ تعالیٰ تمھارے ہاتھوں انھیں عذاب دے گا، جو کفار کے قتل، زخمی، قید ہونے اور ان سے مال غنیمت کے حصول کی صورت میں ہو گا۔ دوسرا یہ کہ {” يُخْزِهِمْ “} انھیں رسوا کرے گا، ان کی فوجی قوتوں کا گھمنڈ توڑ کر ان کی حکومت کی عزت خاک میں ملا کر انھیں ذلیل و رسوا کرے گا۔ تیسرا یہ کہ {” وَ يَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ “} ان کے خلاف تمھاری مدد کرے گا اور تمھیں غلبہ عطا کرے گا۔ اسے الگ اس لیے ذکر فرمایا کہ ہو سکتا تھا کہ کفار تو ذلیل ہو جائیں مگر مسلمانوں کے ہاتھ بھی کچھ نہ آئے۔ چوتھا یہ کہ {”وَ يَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُؤْمِنِيْنَ“} تمھارے ان سے لڑنے اور غلبہ پانے سے ان مومنوں کے سینوں کو شفا ملے گی جو ان کفار موذیوں کے ہاتھوں ظلم و ستم سہتے رہے۔ ان سے مراد وہ مسلمان ہیں جو مکہ اور دوسری جگہوں میں کفار کی ایذا کا نشانہ بنے۔ بعض نے فرمایا کہ ان سے مراد بنو خزاعہ ہیں جنھیں بنو بکر اور قریش نے بد عہدی کرکے سخت نقصان پہنچایا اور واقعی یہ لوگ بھی کفار کے زخم خوردہ لوگوں میں شامل تھے اور پانچواں یہ کہ {” وَ يُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ “} ان کے دلوں کے غصے کو دور کرے گا۔ بعض لوگوں نے کہا کہ یہ شفائے صدور ہی کی تاکید ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک الگ نعمت ہے۔ شفائے صدور سے مراد ان ظالموں کا قتل اور ان کی رسوائی ہے اور دلوں کا غصہ دور کرنے سے مراد مسلمانوں کو محکومی کی بے بسی میں جو غصہ کفار پر آتا تھا مگر کچھ کر نہ سکتے تھے، اب فتح و غلبہ کی صورت میں اس غصے کو دور کرنا ہے اور ویسے بھی شفائے قلوب کے بعد بھی ظلم و ستم کے جو آثار غصے کی صورت میں باقی رہتے ہیں الگ حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا بھر کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے واقعات سن کر دل میں غصہ تو آتا ہی ہے، جیسے اب بھارت وکشمیر، فلسطین و فلپائن، برما، عیسائی اور کمیونسٹ ممالک میں مسلمانوں پر ظلم کی داستانیں سن کر دل کو غصہ آتا ہے، کفار پر فتح یاب ہونے سے اس غصے کا بھی مداوا ہوتا ہے۔ ➋ {وَ يَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ:} اس سے پہلے پانچ الفاظ {” يُعَذِّبْهُمْ “ ” يُخْزِهِمْ “ ” يَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ “ ” يَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُؤْمِنِيْنَ“} اور {” يُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ “} فعل مضارع مجزوم تھے، کیونکہ وہ{ ” قَاتِلُوْهُمْ “} امر کا جواب تھے کہ لڑنے کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ تمھیں یہ پانچ انعام عطا فرمائے گا۔ اب {”يَتُوْبُ“} مجزوم نہیں بلکہ مرفوع ہے۔ معلوم ہوا یہاں سے نئی بات شروع ہو رہی ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے: ” اور اللہ توبہ کی توفیق دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔“ یہاں اس جملے کے لانے کا مقصد یہ ہے کہ تمھارے جہاد کی صورت میں جب بڑے بڑے سرکشوں کی گردنیں خم ہوں گی، تو وہ اسلام کی حقانیت پر غور کریں گے اور یہ عام مشاہدہ ہے کہ لوگ غالب قوم کے دین اور ان کی تہذیب کو قبول کرتے ہیں، لہٰذا اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کو توبہ کی توفیق بھی دے گا، جیسا کہ فتح مکہ کے بعد عکرمہ بن ابی جہل، ابو سفیان، سہیل بن عمرو اور ان کے علاوہ فوج در فوج لوگ اسلام میں داخل ہوئے۔ مگر اس کو {” قَاتِلُوْهُمْ “} کا جواب بنانے کے بجائے الگ اس لیے ذکر کیا ہے کہ توبہ کی توفیق صرف کفار سے لڑائی ہی پر موقوف نہیں بلکہ اسلام اتنا واضح، روشن، مدلل اور فطرت کے مطابق دین ہے کہ بعض لوگ لڑائی کے بغیر بھی اللہ کی توفیق سے اسے سینے سے لگا لیتے ہیں اور اس میں اتنی کشش اور اتنا حسن ہے کہ اسے مٹانے کی کوشش کرنے والے لوگ اور مسلمانوں پر فتح یاب ہو جانے والے کفار بھی اللہ کی توفیق سے اسے قبول کر لیتے ہیں۔ اس وقت دنیا میں ہر جگہ مسلمان اگرچہ مغلوب ہیں، مگر اسلام تمام ادیان سے زیادہ یورپ، امریکہ اور دنیا بھر کے ممالک میں پھیل رہا ہے۔ تاتاریوں نے بھی بغداد فنا کرنے کے بعد آخر اسی اسلام کی آغوش میں پناہ لی اور اسلام کو مٹانے والے ہی صدیوں تک اس کے محافظ بنے رہے ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے ➌ {وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ:} وہ گزشتہ، موجودہ اور آئندہ کی ہر بات جانتا ہے اور اپنی کمال حکمت کے مطابق جسے چاہتا ہے توبہ کی توفیق سے نوازتا ہے۔ ➍ ان آیات سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اللہ تعالیٰ کے علم میں پکے مومن تھے، تبھی یہ پیش گوئیاں انھی مومنین کے ہاتھوں پوری ہوئیں، انھوں نے ہی مکہ اور جزیرۂ عرب فتح کیا، روم، شام، یمن، ایران، عراق، افریقہ و ایشیا، مشرق سے مغرب تک اللہ تعالیٰ نے انھی کے ہاتھوں اسلام پھیلایا۔ ان کے ذکر سے مومنوں کے دل ٹھنڈے ہوتے ہیں اور کفار کے دل غصے سے بھر جاتے ہیں، دیکھیے سورۂ فتح کی آخری آیت۔
وَ یُذۡہِبۡ غَیۡظَ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ وَ یَتُوۡبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ان کے قلوب کی جلن مٹا دے گا، اور جسے چاہے گا توبہ کی توفیق بھی دے گا اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان کے دل کا غم وغصہ دور کرے گا، اور وه جس کی طرف چاہتا ہے رحمت سے توجہ فرماتا ہے۔ اللہ جانتا بوجھتا حکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ان کے دلوں کی گھٹن دور فرمائے گا اور اللہ جس کی چاہے تو یہ قبول فرمائے اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان کے دلوں کے غم و غصہ کو دور کرے گا اور جسے چاہے گا توبہ کی توفیق دے گا (اور اس کی توبہ کو قبول کرے گا) اور اللہ بڑا جاننے والا، بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان کے دلوں کا غصہ دور کرے گا اور اللہ توبہ کی توفیق دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسلمان بھی آزمائیں جائیں گے ٭٭

یہ نا ممکن ہے کہ امتحان بغیر مسلمان بھی چھوڑ دیئے جائیں سچے اور جھوٹے مسلمان کو ظاہر کر دینا ضروری ہے۔ «وَلِيجَةً» کے معنی بھیدی اور دخل دینے والے کے ہیں۔ پس سچے وہ ہیں جو جہاد میں آگے بڑھ کر حصہ لیں اور ظاہر باطن میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیر خواہی اور حمایت کریں۔ ایک قسم کا بیان دوسری قسم کو ظاہر کر دیتا تھا اس لیے دوسری قسم کے لوگوں پر بیان چھوڑ دیا ایسی عبارتیں شاعروں کے شعروں میں بھی ہیں۔ اور جگہ قرآن کریم ہے کہ کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ صرف یہ کہنے سے چھوڑ دیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش ہو گی ہی نہیں حالانکہ اگلے مومنوں کی بھی ہم نے آزمائش کی یاد رکھو اللہ تعالیٰ سچے اور جھوٹوں کو ضرور الگ کر دے گا۔ ۱؎ [29-العنكبوت:3،2] ‏‏‏‏ اور آیت میں اسی مضمون کو «أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ» ۱؎ [3-آل عمران:142] ‏‏‏‏ کے لفظوں سے بیان فرمایا ہے۔ اور آیت میں ہے «مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:179] ‏‏‏‏ اللہ ایسا نہیں کہ تم مومنوں کو تمہاری حالت پر ہی چھوڑ دے اور امتحان کر کے یہ نہ معلوم کر لے کہ خبیث کون ہے اور طیب کون ہے؟ پس جہاد کے مشروع کرنے میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ کھرے کھوٹے کی تمیز ہو جاتی ہے۔ گو اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے جو ہو گا وہ بھی اسے معلوم ہے اور جو نہیں ہوا وہ جب ہو گا تب کس طرح ہو گا یہ بھی وہ جانتا ہے چیز کے ہونے سے پہلے ہی اسے اس کا علم حاصل ہے اور ہر چیز کی ہر حالت سے وہ واقف ہے لیکن وہ چاہتا ہے کہ دنیا پر بھی کھرا کھوٹا، سچا جھوٹا ظاہر کر دے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں نہ اس کے سوا کوئی پروردگار ہے نہ اس کی قضاء و قدر اور ارادے کو کوئی بدل سکتا ہے۔
15۔ 1 یعنی جب مسلمان کمزور تھے تو یہ مشرکین ان پر ظلم و ستم کرتے تھے جس کی وجہ سے مسلمانوں کے دل ان کی طرف سے بڑے دکھی اور مجروح تھے، جب تمہارے ہاتھوں وہ قتل ہونگے اور ذلت و رسوائی ان کے حصے میں آئے گی تو فطری بات ہے کہ اس سے مظلوم اور ستم رسیدہ مسلمانوں کے کلیجے ٹھنڈے اور دلوں کا غصہ فرو ہوگا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تُتۡرَکُوۡا وَ لَمَّا یَعۡلَمِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا مِنۡکُمۡ وَ لَمۡ یَتَّخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ لَا رَسُوۡلِہٖ وَ لَا الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَلِیۡجَۃً ؕ وَ اللّٰہُ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی چھوڑ دیے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون وہ لوگ ہیں جنہوں نے (اس کی راہ میں) جاں فشانی کی اور اللہ اور رسول اور مومنین کے سوا کسی کو جگری دوست نہ بنایا، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ تم چھوڑ دیئے جاؤ گے حاﻻنکہ اب تک اللہ نے تم میں سے انہیں ممتاز نہیں کیا جو مجاہد ہیں اور جنہوں نے اللہ کے اور اس کے رسول کے اور مومنوں کے سوا کسی کو دلی دوست نہیں بنایا۔ اللہ خوب خبردار ہے جو تم کر رہے ہو
احمد رضا خان بریلوی
کیا اس گمان میں ہو کہ یونہی چھوڑ دیئے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے پہچان نہ کرائی ان کی جو تم میں سے جہاد کریں گے اور اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کے سوا کسی کو اپنا محرم راز نہ بنائیں گے اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے مسلمانو) کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تم یونہی چھوڑ دیے جاؤگے حالانکہ ابھی تک اللہ نے (ظاہری طور پر) ان لوگوں کو معلوم ہی نہیں کیا جنہوں نے تم میں سے جہاد کیا اور خدا و رسول اور اہل ایمان کو چھوڑ کر کسی کو اپنا جگری دوست اور (محرمِ راز) نہیں بنایا۔ اور اللہ اس سے باخبر ہے جو کچھ تم کر تے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
یا تم نے گمان کر رکھا ہے کہ تم چھوڑ دیے جائو گے، حالانکہ ابھی تک اللہ نے ان لوگوں کو نہیں جانا جنھوں نے تم میں سے جہاد کیا اور نہ اللہ کے اور نہ اس کے رسول کے اور نہ ایمان والوں کے سوا کسی کو راز دار بنایا اور اللہ اس سے پورا باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسلمان بھی آزمائیں جائیں گے ٭٭

یہ نا ممکن ہے کہ امتحان بغیر مسلمان بھی چھوڑ دیئے جائیں سچے اور جھوٹے مسلمان کو ظاہر کر دینا ضروری ہے۔ «وَلِيجَةً» کے معنی بھیدی اور دخل دینے والے کے ہیں۔ پس سچے وہ ہیں جو جہاد میں آگے بڑھ کر حصہ لیں اور ظاہر باطن میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیر خواہی اور حمایت کریں۔ ایک قسم کا بیان دوسری قسم کو ظاہر کر دیتا تھا اس لیے دوسری قسم کے لوگوں پر بیان چھوڑ دیا ایسی عبارتیں شاعروں کے شعروں میں بھی ہیں۔ اور جگہ قرآن کریم ہے کہ کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ صرف یہ کہنے سے چھوڑ دیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش ہو گی ہی نہیں حالانکہ اگلے مومنوں کی بھی ہم نے آزمائش کی یاد رکھو اللہ تعالیٰ سچے اور جھوٹوں کو ضرور الگ کر دے گا۔ ۱؎ [29-العنكبوت:3،2] ‏‏‏‏ اور آیت میں اسی مضمون کو «أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ» ۱؎ [3-آل عمران:142] ‏‏‏‏ کے لفظوں سے بیان فرمایا ہے۔ اور آیت میں ہے «مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:179] ‏‏‏‏ اللہ ایسا نہیں کہ تم مومنوں کو تمہاری حالت پر ہی چھوڑ دے اور امتحان کر کے یہ نہ معلوم کر لے کہ خبیث کون ہے اور طیب کون ہے؟ پس جہاد کے مشروع کرنے میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ کھرے کھوٹے کی تمیز ہو جاتی ہے۔ گو اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے جو ہو گا وہ بھی اسے معلوم ہے اور جو نہیں ہوا وہ جب ہو گا تب کس طرح ہو گا یہ بھی وہ جانتا ہے چیز کے ہونے سے پہلے ہی اسے اس کا علم حاصل ہے اور ہر چیز کی ہر حالت سے وہ واقف ہے لیکن وہ چاہتا ہے کہ دنیا پر بھی کھرا کھوٹا، سچا جھوٹا ظاہر کر دے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں نہ اس کے سوا کوئی پروردگار ہے نہ اس کی قضاء و قدر اور ارادے کو کوئی بدل سکتا ہے۔
16۔ 1 یعنی بغیر امتحان اور آزمائش کے۔ 16۔ 2 گویا جہاد کے ذریعے امتحان لیا گیا۔ 16۔ 3 وَ لِیْجَۃ، ُ گہرے اور دلی دوست کو کہتے ہیں مسلمانوں کو چونکہ اللہ اور رسول کے دشمنوں سے محبت کرنے اور دوستانہ تعلقات رکھنے سے منع کیا گیا تھا لہذا یہ بھی آزمائش کا ایک ذریعہ تھا، جس سے مخلص مومنوں کو دوسروں سے ممتاز کیا گیا۔ 16۔ 4 مطلب یہ ہے کہ اللہ کو پہلے ہی ہر چیز کا علم ہے۔ لیکن جہاد کی حکمت یہ ہے کہ اس سے مخلص اور غیر مخلص، فرماں بردار اور نافرمان بندے نمایاں ہو کر سامنے آجاتے، جنہیں ہر شخص دیکھ اور پہچان لیتا ہے۔
(آیت16) ➊ {اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا …: ”وَلِيْجَةً “ ” وَلَجَ يَلِجُ “ } ({وَعَدَ}) سے ہے جس کا معنی داخل ہونا ہے، یعنی دل کے اندر داخل ہو جانے والا، قلبی دوست اور محبوب، جس کے سامنے آدمی اپنے دلی راز بھی رکھ دے۔ مسلمانوں کو حکم ہے کہ کفار کو کسی صورت دلی دوست نہ بناؤ، فرمایا: «لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا يَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا» ‏‏‏‏ [ آل عمران: ۱۱۸ ] ”اپنے سوا کسی کو دلی دوست نہ بناؤ، وہ تمھیں کسی طرح نقصان پہنچانے میں کمی نہیں کرتے۔“ احکام جہاد کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں جہاد کی ایک حکمت بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے کھرے اور کھوٹے اہل ایمان کو الگ الگ کرنا چاہتا ہے اور ان لوگوں کو خالص کرنا چاہتا ہے جن میں جہاد اور صرف مسلمانوں سے دلی دوستی اور راز داری کا وصف پایا جاتا ہے، کیونکہ یہ چیز لڑائی ہی سے نکھر کر سامنے آتی ہے۔ منافقین بھی بعض اوقات جہاد میں شریک ہو جاتے ہیں، مگر کفار سے دلی دوستی اور راز داری کا تعلق ختم نہیں کرتے، نہ ہی وہ صرف اللہ کی رضا کے لیے لڑتے ہیں، نیز دیکھیے سورۂ عنکبوت (۱تا ۳) اور سورۂ آل عمران (۱۷۹)۔ ➋ {وَ اللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ:} اللہ تعالیٰ تمھارے تمام اعمال سے پوری طرح با خبر ہے، وہ ظاہر اعمال کے ساتھ دل کا حال بھی جانتا ہے، اس لیے اپنے اعمال درست کرو اور ان کے لیے نیت خالص اللہ کی رضا رکھو۔
مَا کَانَ لِلۡمُشۡرِکِیۡنَ اَنۡ یَّعۡمُرُوۡا مَسٰجِدَ اللّٰہِ شٰہِدِیۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ بِالۡکُفۡرِ ؕ اُولٰٓئِکَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ ۚۖ وَ فِی النَّارِ ہُمۡ خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مشرکین کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مسجدوں کے مجاور و خادم بنیں درآں حالیکہ اپنے اوپر وہ خود کفر کی شہادت دے رہے ہیں ان کے تو سارے اعمال ضائع ہو گئے اور جہنم میں انہیں ہمیشہ رہنا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ﻻئق نہیں کہ مشرک اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کو آباد کریں۔ درآں حالیکہ وه خود اپنے کفر کے آپ ہی گواه ہیں، ان کے اعمال غارت واکارت ہیں، اور وه دائمی طور پر جہنمی ہیں
احمد رضا خان بریلوی
مشرکوں کو نہیں پہنچتا کہ اللہ کی مسجدیں آباد کریں خود اپنے کفر کی گواہی دے کر ان کا تو سب کیا دھرا اِکا رت ہے اور وہ ہمیشہ آگ میں رہیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور مشرکین کے لئے روا نہیں ہے کہ وہ مسجدوں کو آباد کریں جبکہ وہ خود اپنے اوپر اپنے کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے سب اعمال ضائع ہوگئے اور وہ ہمیشہ آتشِ دوزخ میں رہیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
مشرکوں کا کبھی حق نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدیں آباد کریں، اس حال میں کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی شہادت دینے والے ہیں۔ یہ وہ ہیں جن کے اعمال ضائع ہوگئے اور وہ آگ ہی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکوں کو اللہ کے گھر سے کیا تعلق؟ ٭٭

یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی کرنے والے بننا لائق ہی نہیں یہ مشرک ہیں بیت اللہ سے انہیں کیا تعلق؟ «مساجد» کو «مسجد» بھی پڑھا گیا ہے پس مراد مسجد الحرام ہے جو روئے زمین کی مسجدوں سے اشرف ہے جو اول دن سے صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے بنائی گئی ہے جس کی بنیادیں خلیل اللہ نے رکھیں تھیں۔ اور یہ لوگ مشرک ہیں حال و قال دونوں اعتبار سے۔ تم نصرانی سے پوچھو وہ صاف کہے گا میں تو نصرانی ہوں۔ یہود سے پوچھو وہ اپنی یہودیت کا اقرار کریں گے صابی سے پوچھو وہ بھی اپنا صابی ہونا اپنی زبان سے کہے گا مشرک بھی اپنے مشرک ہونے کے اقراری ہیں ان کے اس شرک کی وجہ سے ان کے اعمال اکارت ہو چکے ہیں اور وہ ہمیشہ کے لیے ناری ہیں۔ یہ تو مسجد الحرام سے اوروں کو روکتے ہی ہیں یہ گو کہیں لیکن دراصل یہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء نہیں‏ اولیاء اللہ تو وہ ہیں جو متقی ہوں لیکن اکثر لوگ علم سے کورے اور خالی ہوتے ہیں۔ ہاں مسجدوں کی آبادی مومنوں کے ہاتھوں ہوتی ہے۔ پس جس کے ہاتھ سے مسجدوں کی آبادی ہو اس کے ایمان کا قرآن گواہ ہے۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جب تم کسی کو مسجد میں آنے جانے کی عادت والا دیکھو تو اس کے ایمان کی شہات دو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت فرمائی“ ۱؎ [سنن ترمذي:2617،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے مسجدوں کے آباد کرنے والے اللہ والے ہیں ۱؎ [میزان الاعتدال:3773:ضعیف] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ان مسجد والوں پر نظریں ڈال کر اپنے عذاب پوری قوم پر سے ہٹا لیتا ہے۔ ۱؎ [المیزان:5502:ضعیف] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے اللہ عزوجل فرماتا ہے مجھے اپنی عزت اور اپنے جلال کی قسم! کہ میں زمین والوں کو عذاب کرنا چاہتا ہوں لیکن اپنے گھروں کے آباد کرنے والوں اور اپنی راہ میں آپس میں محبت رکھنے والوں اور صبح سحری کے وقت استغفار کرنے والوں پر نظریں ڈال کر اپنے عذاب ہٹا لیتا ہوں۔ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:9051:ضعیف] ‏‏‏‏

ابن عساکر میں ہے کہ شیطان انسان کا بھیڑیا ہے جیسے بکریوں کا بھیڑیا ہوتا ہے کہ وہ الگ تھلگ پڑی ہوئی ادھر ادھر کی بکری کو پکڑ لے جاتا ہے پس تم پھوٹ اور اختلاف سے بچو جماعت کو اور امام کو اور مسجدوں کو لازم پکڑے رہو۔ ۱؎ [مسند احمد:232/5:ضعیف] ‏‏‏‏ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان ہے کہ مسجدیں اس زمین پر اللہ کا گھر ہیں۔ جو یہاں آۓ اللہ تعالیٰ کا ان پر حق ہے کہ وہ ان کا احترام کریں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو نماز کی اذان سن کر پھر بھی مسجد میں آ کر باجماعت نماز نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی وہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نافرمان ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ مسجدوں کی آبادی کرنے والے اللہ تعالیٰ کے اور قیامت کے ماننے والے ہی ہوتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:793،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرمایا یہ نمازی ہوتے ہیں بدنی عبادت نماز کے پابند ہوتے ہیں اور مالی عبادت زکوٰۃ کے بھی ادا کرنے والے ہوتے ہیں ان کی بھلائی اپنے لیے بھی ہوتی ہے اور پھر عام مخلوق کے لیے بھی ہوتی ہے ان کے دل اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی سے ڈرتے نہیں یہی راہ یافتہ لوگ ہیں۔ موحد، ایماندار، قرآن و حدیث کے ماتحت پانچوں نمازوں کے پابند، صرف اللہ تعالیٰ کا خوف کھانے والے، اس کے سوا دوسرے کی بندگی نہ کرنے والے ہی راہ یافتہ اور کامیاب اور بامقصد ہیں۔ یہ یاد رہے کہ بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن کریم میں جہاں بھی لفظ «عَسَىٰ» وہاں یقین کے معنی میں ہے اُمید کے معنی میں نہیں مثلاً فرمان ہے «عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [17-الاسراء:79] ‏‏‏‏ تو مقام محمود میں پہنچانا یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شافع محشر بننا یقینی چیز ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں «عَسَىٰ» کلام اللہ میں حق و یقین کے لیے آتا ہے۔
17۔ 1 مَسَا جِدَ اللّٰہِ سے مراد مسجد حرام ہے جمع کا لفظ اس لئے استعمال کیا گیا کہ یہ تمام مساجد کا قبلہ و مرکز ہے یا عربوں میں واحد کے لئے بھی جمع کا استعمال جائز ہے 17۔ 2 یعنی ان کے وہ عمل جو بظاہر نیک لگتے ہیں، جیسے طواف وعمرہ اور حاجیوں کی خدمت وغیرہ۔ کیونکہ ایمان کے بغیر یہ اعمال ایسے درخت کی طرح ہیں جو بےثمر ہیں یا ان پھولوں کی طرح ہیں جن میں خو شبو نہیں ہے۔
(آیت17) ➊ { مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ …:} یہاں تک کفار کے عہد و پیمان سے براء ت کا اعلان، کفار سے جہاد، اس کے فوائد اور حکمتوں کا بیان تھا۔ اب یہ بیان شروع ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مساجد کی آباد کاری، ان کی نگرانی اور تولیت و خدمت مشرکین کا کسی صورت حق نہیں بنتا، کیونکہ مساجد تو خالص اللہ کے لیے ہیں: «وَاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا» [ الجن: ۱۸ ] ”اور یہ کہ بلاشبہ مسجدیں اللہ کے لیے ہیں، پس اللہ کے ساتھ کسی کو مت پکارو۔“ سو ان کی نگرانی اور آباد کاری ان لوگوں کا حق کیسے ہو سکتا ہے جو خود اپنے آپ پر اس اکیلے مالک کے ساتھ کفر کے گواہ اور شاہد ہیں، جو حج اور عمرہ کے وقت بھی (جو صرف اللہ کے لیے ہیں) لبیک کہتے وقت غیروں کو علی الاعلان اس کا شریک بناتے ہیں۔ چنانچہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مشرکین کہتے تھے: [ لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ ] ”حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”اسی پر بس کر دو، آگے مت کہنا۔“ مگر وہ کہتے: [ إِلاَّ شَرِيْكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ ] ”مگر ایک شریک جو تیرا ہی ہے جس کا تو مالک ہے، وہ خود مالک نہیں۔“ وہ لوگ یہ الفاظ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے کہتے تھے۔ [مسلم، الحج، باب التلبیۃ وصفتھا و وقتھا: ۱۱۸۵ ] ان کی اپنے کفر پر شہادت وہ تین سو ساٹھ بت بھی تھے جو انھوں نے کعبہ کے اندر اور اس کے ارد گرد رکھے ہوئے تھے، کعبہ کی دیواروں پر بزرگوں اور دیوی دیوتاؤں کی تصویریں بنا رکھی تھیں۔ ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام کی صورتیں بناکر ان کے ہاتھ میں فال کے تیر پکڑائے ہوئے تھے، ان کی عبادت غیر اللہ کو پکارنا تھا، ان کا بیت اللہ کا احترام انتہائی بے حیائی، یعنی ننگے ہو کر مردوں اور عورتوں کا طواف کرنا تھا اور ان کی نماز تالیاں پیٹ کر اور سیٹیاں بجا کر مشرکانہ قوالیاں کرنا تھا۔ ایسے لوگ اللہ کے سب سے پہلے اور افضل گھر کے تو کجا اس کی کسی مسجد کے متولی، مجاور یا خادم بننے کا بھی کوئی حق نہیں رکھتے، اس لیے ان سے کعبہ اور دوسری مساجد کو آزاد کروانا مسلمانوں پر فرض ہے۔ علامہ اقبال نے یہاں ایک نہایت نفیس نکتہ نکالا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے پوری زمین کو مسجد بنایا ہے، جیسا کہ فرمایا: [ جُعِلَتْ لِيَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا وَّ طَهُوْرًا ] [ بخاری، التیمم، باب قول اللہ تعالٰی: «فلم تجدوا مآء…» ‏‏‏‏: ۳۳۵۔ مسلم: ۵۲۳ ] اس لیے مسلمانوں کے لیے غیرت اور ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ان کی مسجد پر غیر مسلموں کا قبضہ ہو، نہیں بلکہ یہ ساری مسجد یعنی ساری زمین مسلمانوں کے قبضے میں ہونی چاہیے اور کفار کو ان کے ماتحت ہونا چاہیے۔ ➋ { اُولٰٓىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ:} یعنی انھوں نے اگر کچھ نیک کام کیے بھی ہیں، جیسے مسجد حرام اور حاجیوں کی خدمت وغیرہ، تو ان کے شرک کی وجہ سے وہ سب اکارت گئے۔
اِنَّمَا یَعۡمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ وَ لَمۡ یَخۡشَ اِلَّا اللّٰہَ فَعَسٰۤی اُولٰٓئِکَ اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ کی مسجدوں کے آباد کار (مجاور و خادم) تو وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو اللہ اور روز آخر کو مانیں اور نما ز قائم کریں، زکوٰۃ دیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں انہی سے یہ توقع ہے کہ سیدھی راہ چلیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ کی مسجدوں کی رونق وآبادی تو ان کے حصے میں ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، نمازوں کے پابند ہوں، زکوٰة دیتے ہوں، اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں، توقع ہے کہ یہی لوگ یقیناً ہدایت یافتہ ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اللہ کی مسجدیں وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان لاتے اور نما ز قائم کرتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تو قریب ہے کہ یہ لوگ ہدایت والوں میں ہوں،
علامہ محمد حسین نجفی
درحقیقت مسجدوں کو آباد وہ کرتا ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، نماز قائم کرتا ہے اور زکوٰۃ ادا کرتا ہے اور اللہ کے سوا اور کسی سے نہیں ڈرتا۔ انہی کے متعلق یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ کی مسجدیں تو وہی آباد کرتا ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اس نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرا۔ تو یہ لوگ امید ہے کہ ہدایت پانے والوں سے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکوں کو اللہ کے گھر سے کیا تعلق؟ ٭٭

یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی کرنے والے بننا لائق ہی نہیں یہ مشرک ہیں بیت اللہ سے انہیں کیا تعلق؟ «مساجد» کو «مسجد» بھی پڑھا گیا ہے پس مراد مسجد الحرام ہے جو روئے زمین کی مسجدوں سے اشرف ہے جو اول دن سے صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے بنائی گئی ہے جس کی بنیادیں خلیل اللہ نے رکھیں تھیں۔ اور یہ لوگ مشرک ہیں حال و قال دونوں اعتبار سے۔ تم نصرانی سے پوچھو وہ صاف کہے گا میں تو نصرانی ہوں۔ یہود سے پوچھو وہ اپنی یہودیت کا اقرار کریں گے صابی سے پوچھو وہ بھی اپنا صابی ہونا اپنی زبان سے کہے گا مشرک بھی اپنے مشرک ہونے کے اقراری ہیں ان کے اس شرک کی وجہ سے ان کے اعمال اکارت ہو چکے ہیں اور وہ ہمیشہ کے لیے ناری ہیں۔ یہ تو مسجد الحرام سے اوروں کو روکتے ہی ہیں یہ گو کہیں لیکن دراصل یہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء نہیں‏ اولیاء اللہ تو وہ ہیں جو متقی ہوں لیکن اکثر لوگ علم سے کورے اور خالی ہوتے ہیں۔ ہاں مسجدوں کی آبادی مومنوں کے ہاتھوں ہوتی ہے۔ پس جس کے ہاتھ سے مسجدوں کی آبادی ہو اس کے ایمان کا قرآن گواہ ہے۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جب تم کسی کو مسجد میں آنے جانے کی عادت والا دیکھو تو اس کے ایمان کی شہات دو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت فرمائی“ ۱؎ [سنن ترمذي:2617،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے مسجدوں کے آباد کرنے والے اللہ والے ہیں ۱؎ [میزان الاعتدال:3773:ضعیف] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ان مسجد والوں پر نظریں ڈال کر اپنے عذاب پوری قوم پر سے ہٹا لیتا ہے۔ ۱؎ [المیزان:5502:ضعیف] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے اللہ عزوجل فرماتا ہے مجھے اپنی عزت اور اپنے جلال کی قسم! کہ میں زمین والوں کو عذاب کرنا چاہتا ہوں لیکن اپنے گھروں کے آباد کرنے والوں اور اپنی راہ میں آپس میں محبت رکھنے والوں اور صبح سحری کے وقت استغفار کرنے والوں پر نظریں ڈال کر اپنے عذاب ہٹا لیتا ہوں۔ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:9051:ضعیف] ‏‏‏‏

ابن عساکر میں ہے کہ شیطان انسان کا بھیڑیا ہے جیسے بکریوں کا بھیڑیا ہوتا ہے کہ وہ الگ تھلگ پڑی ہوئی ادھر ادھر کی بکری کو پکڑ لے جاتا ہے پس تم پھوٹ اور اختلاف سے بچو جماعت کو اور امام کو اور مسجدوں کو لازم پکڑے رہو۔ ۱؎ [مسند احمد:232/5:ضعیف] ‏‏‏‏ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان ہے کہ مسجدیں اس زمین پر اللہ کا گھر ہیں۔ جو یہاں آۓ اللہ تعالیٰ کا ان پر حق ہے کہ وہ ان کا احترام کریں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو نماز کی اذان سن کر پھر بھی مسجد میں آ کر باجماعت نماز نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی وہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نافرمان ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ مسجدوں کی آبادی کرنے والے اللہ تعالیٰ کے اور قیامت کے ماننے والے ہی ہوتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:793،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرمایا یہ نمازی ہوتے ہیں بدنی عبادت نماز کے پابند ہوتے ہیں اور مالی عبادت زکوٰۃ کے بھی ادا کرنے والے ہوتے ہیں ان کی بھلائی اپنے لیے بھی ہوتی ہے اور پھر عام مخلوق کے لیے بھی ہوتی ہے ان کے دل اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی سے ڈرتے نہیں یہی راہ یافتہ لوگ ہیں۔ موحد، ایماندار، قرآن و حدیث کے ماتحت پانچوں نمازوں کے پابند، صرف اللہ تعالیٰ کا خوف کھانے والے، اس کے سوا دوسرے کی بندگی نہ کرنے والے ہی راہ یافتہ اور کامیاب اور بامقصد ہیں۔ یہ یاد رہے کہ بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن کریم میں جہاں بھی لفظ «عَسَىٰ» وہاں یقین کے معنی میں ہے اُمید کے معنی میں نہیں مثلاً فرمان ہے «عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [17-الاسراء:79] ‏‏‏‏ تو مقام محمود میں پہنچانا یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شافع محشر بننا یقینی چیز ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں «عَسَىٰ» کلام اللہ میں حق و یقین کے لیے آتا ہے۔
18۔ 1 جس طرح حدیث میں بھی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' جب تم دیکھو کہ ایک آدمی مسجد میں پابندی سے آتا ہے تو تم اس کے ایمان کی گواہی دو ' قرآن کریم میں یہاں بھی ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کے بعد جن اعمال کا ذکر کیا گیا ہے، وہ نماز زکٰوۃ اور مشیت الٰہی ہے، جس سے نماز، زکٰوۃ اور تقویٰ کی اہمیت واضح ہے۔
(آیت18){ اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ …:} آباد کرنے میں مساجد کی تعمیر، ان میں نمازوں کے لیے آنا، صفائی، روشنی، مرمت اور نگرانی وغیرہ سب چیزیں شامل ہیں اور یہ صرف ان لوگوں کا کام ہے جن میں خصوصاً چار چیزیں پائی جائیں: (1) اللہ اور یوم آخرت پر ایمان (2) ظاہر میں اس ایمان کی شہادت کے لیے نماز کا قیام (3) زکوٰۃ کی ادائیگی (4) اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرنا، جبکہ مشرکین ان چاروں صفات سے عاری ہیں۔ مساجد کی تعمیر، آباد کاری اور ان کا ادب و احترام نہایت اعلیٰ درجے کا عمل ہے۔ امیر المومنین عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی مسجد بنائے جس کے ساتھ وہ اللہ کا چہرہ طلب کرتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس جیسا (گھر) جنت میں بنائے گا۔“ [ بخاری، الصلاۃ، باب من بنی مسجدًا: ۴۵۰ ] ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام بلاد (جگہوں) میں سب سے زیادہ محبوب ان کی مسجدیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام بلاد (جگہوں) سے زیادہ نا پسند ان کے بازار ہیں۔“ [ مسلم، المساجد، باب فضل الجلوس فی مصلاہ…: ۶۷۱ ]
اَجَعَلۡتُمۡ سِقَایَۃَ الۡحَآجِّ وَ عِمَارَۃَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ کَمَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ جٰہَدَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ لَا یَسۡتَوٗنَ عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۘ۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی مجاوری کرنے کو اس شخص کے کام کے برابر ٹھیرا لیا ہے جو ایمان لایا اللہ پر اور روز آخر پر اور جس نے جانفشانی کی اللہ کی راہ میں؟ اللہ کے نزدیک تو یہ دونوں برابر نہیں ہیں اور اللہ ظالموں کی رہنمائی نہیں کرتا
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلا دینا اور مسجد حرام کی خدمت کرنا اس کے برابر کر دیا ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان ﻻئے اور اللہ کی راه میں جہاد کیا، یہ اللہ کے نزدیک برابر کے نہیں اور اللہ تعالیٰ ﻇالموں کو ہدایت نہیں دیتا
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا تم نے حا جیوں کی سبیل اور مسجد حرام کی خدمت اس کے برابر ٹھہرا لی جو اللہ اور قیامت پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا، وہ اللہ کے نزدیک برابر نہیں، اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد الحرام کے آباد رکھنے کو اس شخص (کے کام کے) برابر قرار دیا ہے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ یہ دونوں اللہ کے نزدیک برابر نہیں ہیں۔ اور اللہ ظالموں کو منزلِ مقصود تک نہیں پہنچاتا۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجدِ حرام کو آباد کرنا اس جیسا بنا دیا جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لایا اور اس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا۔ یہ اللہ کے ہاں برابر نہیں ہیں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب سے بری عبادت اللہ کی راہ میں جہاد ہے ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”کافروں کا قول تھا کہ بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کے پانی پلانے کی سعادت بہتر ہے ایمان و جہاد سے۔ ہم چونکہ یہ دونوں خدمتیں انجام دے رہے ہیں اس لیے ہم سے بہتر کوئی نہیں۔ اللہ نے ان کا فخر و غرور اور حق سے تکبر اور منہ پھیرنا فرمایا کہ میری آیتوں کی تمہارے سامنے تلاوت ہوتے ہوئے تم اس سے بےپرواہی سے منہ موڑ کر اپنی بات چیت میں مشغول رہتے ہو، پس تمہارا گمان بےجا، تمہارا غرور غلط، تمہارا فخر نا مناسب ہے۔ یوں بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کا ایمان اور اس کی راہ کا جہاد بڑی چیز ہے لیکن تمہارے مقابلے میں تو وہ اور بھی بڑی چیز ہے کیونکہ تمہاری تو کوئی نیکی ہو بھی تو اسے شرک کا گھن کھا جاتا ہے۔ پس فرماتا ہے کہ یہ دونوں گروہ برابر کے بھی نہیں یہ اپنے آپ کو آبادی کرنے والا کہتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کا نام ظالم رکھا اللہ تعالیٰ کے گھر کی خدمت بیکار کر دی۔ کہتے ہیں کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی قید کے زمانے میں کہا تھا کہ ”تم اگر اسلام و جہاد میں تھے تو ہم بھی اللہ تعالیٰ کے گھر کی خدمت اور حاجیوں کو آرام پہنچانے میں تھے۔‏‏‏‏“ اس پر یہ آیت اتری کہ شرک کے وقت کی نیکی بیکار ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان پر جب لے دے شروع کی تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ ”ہم مسجد الحرام کے متولی تھے ہم غلاموں کو آزاد کرتے تھے ہم بیت اللہ کو غلاف چڑھاتے تھے ہم حاجیوں کو پانی پلاتے تھے اس پر یہ آیت اتری۔ مروی ہے کہ یہ گفتگو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ میں ہوئی ہو۔ مروی ہے کہ طلحہ بن شیبہ، عباس بن عبدالمطلب، علی بن ابی طالب بیٹھے بیٹھے اپنی اپنی بزرگیاں بیان کرنے لگے، طلحہ نے کہا میں بیت اللہ کا کنجی بردار ہوں میں اگر چاہوں وہاں رات گزار سکتا ہوں۔

سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں زمزم کا پانی پلانے والا ہوں اور اس کا نگہبان ہوں اگر چاہوں تو مسجد ساری رات رہ سکتا ہوں۔‏‏‏‏“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نہیں جانتا کہ تم دونوں صاحب کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے لوگوں سے چھ ماہ پہلے قبلہ کی طرف نماز پڑھی ہے میں مجاہد ہوں۔‏‏‏‏“ اس پر یہ آیت اتری، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنا ڈر ظاہر کیا کہ کہیں میں چاہ زمزم کے پانی کے عہدے سے نہ ہٹا دیا جاؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں تم اپنے اس منصب پر قائم رہو تمہارے لیے اس میں بھلائی ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16575:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ اس آیت کی تفسیر میں ایک مرفوع حدیث وارد ہوئی ہے جس کا ذکر بھی یہاں ضروری ہے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”ایک شخص نے کہا اسلام کے بعد اگر میں کوئی عمل نہ کروں تو مجھے پرواہ نہیں بجز اس کے کہ میں حاجیوں کو پانی پلاؤں۔ دوسرے نے اسی طرح مسجد الحرام کی آبادی کو کہا۔ تیسرے نے اسی طرح اللہ کی راہ کے جہاد کو کہا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹ دیا اور فرمایا منبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آوازیں بلند نہ کرو۔ یہ واقعہ جمعہ کے دن کا ہے جمعہ کے بعد ہم سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [عبد الرزاق فی تفسیر:1060] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وعدہ کیا تھا کہ نماز جمعہ کے بعد میں خود جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات دریافت کر لوں گا۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1879۔111] ‏‏‏‏
19۔ 1 مشرکین حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی دیکھ بھال کا کام جو کرتے تھے، اس پر انہیں بڑا فخر تھا اور اس کے مقابلے میں وہ ایمان و جہاد کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے جس کا اہتمام مسلمانوں کے اندر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تم سقایت حاج اور عمارت مسجد حرام کو ایمان باللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کے برابر سمجھتے ہو؟ یاد رکھو اللہ کے نزدیک یہ برابر نہیں، بلکہ مشرک کا کوئی عمل بھی قبول نہیں، چاہے وہ صورۃً خیر ہی ہو۔ جیسا کہ پہلی آیت کے جملے (حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ) 2۔ البقرۃ:217) میں واضح کیا جا چکا ہے۔ بعض روایت میں اس کا سبب نزول مسلمانوں کی آپس میں ایک گفتگو کو بتلایا گیا ہے کہ ایک روز منبر نبوی کے قریب کچھ مسلمان جمع تھے اس میں سے ایک نے کہا کہ اسلام لانے کے بعد میرے نزدیک سب سے بڑا عمل حاجیوں کو پانی پلانا ہے دوسرے نے کہا مسجد حرام کو آباد کرنا ہے تیسرے نے کہا بلکہ جہادفی سبیل اللہ ان تمام عملوں سے بہتر ہے جو تم نے بیان کیے ہیں حضرت عمر ؓ نے جب انہیں اس طرح باہم تکرار کرتے ہوئے سنا تو انہیں ڈانٹا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آوازیں اونچی مت کرو یہ جمعہ کا دن تھا راوی حدیث حضرت نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ جمعہ کے بعد نبی صلی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی آپس کی اس گفتگو کی بابت استفسار کیا جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (صحیح مسلم) جس میں گو یا یہ واضح کردیا گیا کہ ایمان باللہ ایمان بالآخرت اور جہاد فی سبیل اللہ سب سے زیادہ اہمیت و فضیلت والے عمل ہیں گفتگو کے حوالے سے اصل اہمیت و فضیلت تو جہاد کی بیان کرنی تھی لیکن ایمان باللہ کے بغیر چونکہ کوئی بھی عمل مقبول نہیں اس لیے پہلے اسے بیان کیا گیا بہرحال اس سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ جہاد فی سبیل اللہ سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں۔ دوسرا یہ معلوم ہوا کہ اس کا سبب نزول مشرکین کے مزعومات فاسدہ کے علاوہ خود مسلمانوں کا بھی اپنے اپنے طور پر بعض عملوں کو بعض پر زیادہ اہمیت دینا تھا جب کہ یہ کام شارع کا ہے نہ کہ مومنوں کا مومنوں کا کام تو ہر اس بات پر عمل کرنا ہے جو اللہ اور رسول کی طرف سے انہیں بتلائی جائے۔ 19۔ 2 یعنی یہ لوگ چاہے کیسے بھی دعوے کریں۔ حقیقت میں ظالم ہیں یعنی مشرک ہیں، اس لئے کہ شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ اس ظلم کی وجہ سے یہ ہدایت الٰہی سے محروم ہیں۔ اس لئے ان کا اور مسلمانوں کا، جو ہدایت الٰہی سے بہرہ ور ہیں، آپس میں کوئی مقابلہ نہیں ہے۔
(آیت19){ اَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَآجِّ …:} اس آیت کے مخاطب مشرکین اور مسلمان دونوں ہیں، کیونکہ مشرکین کعبہ کی خدمت، تولیت اور حاجیوں کو شربت اور پانی پلانے پر بہت فخر کرتے تھے اور بعض مسلمان بھی اس کو سب سے اعلیٰ عمل سمجھتے تھے۔ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس آپ کے اصحاب کی ایک جماعت میں بیٹھا ہوا تھا، تو ایک آدمی نے کہا کہ اسلام لانے کے بعد حاجیوں کو پانی پلانے کے علاوہ میں کوئی کام نہ کروں تو مجھے کچھ پروا نہیں۔ دوسرے نے کہا، بلکہ مسجد حرام کی آباد کاری (افضل ہے)۔ ایک اور نے کہا، بلکہ جہاد فی سبیل اللہ اس سے بہتر ہے جو تم کہہ رہے ہو۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے انھیں ڈانٹا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس آوازیں مت بلند کرو، یہ جمعہ کے دن کی بات ہے، لیکن جب تم جمعہ پڑھ چکو گے تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا اور تمھارے اس جھگڑے کا فیصلہ کروا لوں گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: «اَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ» ‏‏‏‏ [ مسلم، الإمارۃ، باب فضل الشھادۃ فی سبیل اللّٰہ تعالٰی: ۱۸۷۹] یعنی یہ کام گو فضیلت کے ہیں مگر اللہ اور یوم آخرت پر ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کے مقابلے میں کچھ حیثیت نہیں رکھتے اور پھر یہ ایمان کے بغیر مقبول بھی نہیں۔ «وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ» ‏‏‏‏ شرک سب سے بڑا ظلم ہے، پھر جو اس پر اصرار کرے اس ظالم کو سیدھی راہ کیسے نصیب ہو؟
اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ ۙ اَعۡظَمُ دَرَجَۃً عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ ﴿۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ کے ہاں تو انہی لوگوں کا درجہ بڑا ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے اس کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جان و مال سے جہاد کیا وہی کامیاب ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو لوگ ایمان ﻻئے، ہجرت کی، اللہ کی راه میں اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد کیا وه اللہ کے ہاں بہت بڑے مرتبہ والے ہیں، اور یہی لوگ مراد پانے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے مال و جان سے اللہ کی راہ میں لڑے، اللہ کے یہاں ان کا درجہ بڑا ہے اور وہی مراد کو پہنچے
علامہ محمد حسین نجفی
جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور راہ خدا میں اپنے مال و جان سے جہاد کیا، اللہ کے نزدیک وہ درجہ میں بہت بڑے ہیں اور یہی لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کیا وہ اللہ کے ہاں درجے میں بہت بڑے ہیں اور وہی لوگ کامیاب ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب سے بری عبادت اللہ کی راہ میں جہاد ہے ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”کافروں کا قول تھا کہ بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کے پانی پلانے کی سعادت بہتر ہے ایمان و جہاد سے۔ ہم چونکہ یہ دونوں خدمتیں انجام دے رہے ہیں اس لیے ہم سے بہتر کوئی نہیں۔ اللہ نے ان کا فخر و غرور اور حق سے تکبر اور منہ پھیرنا فرمایا کہ میری آیتوں کی تمہارے سامنے تلاوت ہوتے ہوئے تم اس سے بےپرواہی سے منہ موڑ کر اپنی بات چیت میں مشغول رہتے ہو، پس تمہارا گمان بےجا، تمہارا غرور غلط، تمہارا فخر نا مناسب ہے۔ یوں بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کا ایمان اور اس کی راہ کا جہاد بڑی چیز ہے لیکن تمہارے مقابلے میں تو وہ اور بھی بڑی چیز ہے کیونکہ تمہاری تو کوئی نیکی ہو بھی تو اسے شرک کا گھن کھا جاتا ہے۔ پس فرماتا ہے کہ یہ دونوں گروہ برابر کے بھی نہیں یہ اپنے آپ کو آبادی کرنے والا کہتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کا نام ظالم رکھا اللہ تعالیٰ کے گھر کی خدمت بیکار کر دی۔ کہتے ہیں کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی قید کے زمانے میں کہا تھا کہ ”تم اگر اسلام و جہاد میں تھے تو ہم بھی اللہ تعالیٰ کے گھر کی خدمت اور حاجیوں کو آرام پہنچانے میں تھے۔‏‏‏‏“ اس پر یہ آیت اتری کہ شرک کے وقت کی نیکی بیکار ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان پر جب لے دے شروع کی تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ ”ہم مسجد الحرام کے متولی تھے ہم غلاموں کو آزاد کرتے تھے ہم بیت اللہ کو غلاف چڑھاتے تھے ہم حاجیوں کو پانی پلاتے تھے اس پر یہ آیت اتری۔ مروی ہے کہ یہ گفتگو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ میں ہوئی ہو۔ مروی ہے کہ طلحہ بن شیبہ، عباس بن عبدالمطلب، علی بن ابی طالب بیٹھے بیٹھے اپنی اپنی بزرگیاں بیان کرنے لگے، طلحہ نے کہا میں بیت اللہ کا کنجی بردار ہوں میں اگر چاہوں وہاں رات گزار سکتا ہوں۔

سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں زمزم کا پانی پلانے والا ہوں اور اس کا نگہبان ہوں اگر چاہوں تو مسجد ساری رات رہ سکتا ہوں۔‏‏‏‏“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نہیں جانتا کہ تم دونوں صاحب کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے لوگوں سے چھ ماہ پہلے قبلہ کی طرف نماز پڑھی ہے میں مجاہد ہوں۔‏‏‏‏“ اس پر یہ آیت اتری، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنا ڈر ظاہر کیا کہ کہیں میں چاہ زمزم کے پانی کے عہدے سے نہ ہٹا دیا جاؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں تم اپنے اس منصب پر قائم رہو تمہارے لیے اس میں بھلائی ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16575:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ اس آیت کی تفسیر میں ایک مرفوع حدیث وارد ہوئی ہے جس کا ذکر بھی یہاں ضروری ہے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”ایک شخص نے کہا اسلام کے بعد اگر میں کوئی عمل نہ کروں تو مجھے پرواہ نہیں بجز اس کے کہ میں حاجیوں کو پانی پلاؤں۔ دوسرے نے اسی طرح مسجد الحرام کی آبادی کو کہا۔ تیسرے نے اسی طرح اللہ کی راہ کے جہاد کو کہا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹ دیا اور فرمایا منبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آوازیں بلند نہ کرو۔ یہ واقعہ جمعہ کے دن کا ہے جمعہ کے بعد ہم سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [عبد الرزاق فی تفسیر:1060] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وعدہ کیا تھا کہ نماز جمعہ کے بعد میں خود جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات دریافت کر لوں گا۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1879۔111] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت20) ➊ {اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا:هَاجَرُوْا “} یعنی اپنا دین اور جان و مال بچانے کے لیے اپنا گھر بار اور رشتہ داروں کو چھوڑا۔ ➋ { وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفَآىِٕزُوْنَ:} اس آیت سے مہاجرین کی بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے جن میں ابو بکر، عمر، عثمان، علی، ابو عبیدہ بن جراح، طلحہ، زبیر اور بہت سے دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب پر راضی ہو اور ہمیں ان کے ساتھ اٹھائے۔ قرآن خود ان کے آخرت میں فائز و سرخرو ہونے کی شہادت دے رہا ہے۔ معلوم ہوا کہ جو لوگ انھیں برا بھلا کہتے اور ان پر لعنت بھیجتے ہیں وہ خود لعنتی ہیں۔
یُبَشِّرُہُمۡ رَبُّہُمۡ بِرَحۡمَۃٍ مِّنۡہُ وَ رِضۡوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّہُمۡ فِیۡہَا نَعِیۡمٌ مُّقِیۡمٌ ﴿ۙ۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ان کا رب انہیں اپنی رحمت اور خوشنودی اور ایسی جنتوں کی بشارت دیتا ہے جہاں ان کے لیے پائیدار عیش کے سامان ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
انہیں ان کا رب خوشخبری دیتا ہے اپنی رحمت کی اور رضامندی کی اور جنتوں کی، ان کے لئے وہاں دوامی نعمت ہے
احمد رضا خان بریلوی
ان کا رب انہیں خوشی سنا تا ہے اپنی رحمت اور اپنی رضا کی اور ان باغوں کی جن میں انہیں دائمی نعمت ہے
علامہ محمد حسین نجفی
ان کا پروردگار انہیں اپنی رحمتِ خاص اور خوشنودی اور ایسے بہشتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں دائمی نعمت ہوگی۔
عبدالسلام بن محمد
ان کا رب انھیں اپنی طرف سے بڑی رحمت اور عظیم رضامندی اور ایسے باغوں کی خوش خبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی نعمت ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب سے بری عبادت اللہ کی راہ میں جہاد ہے ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”کافروں کا قول تھا کہ بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کے پانی پلانے کی سعادت بہتر ہے ایمان و جہاد سے۔ ہم چونکہ یہ دونوں خدمتیں انجام دے رہے ہیں اس لیے ہم سے بہتر کوئی نہیں۔ اللہ نے ان کا فخر و غرور اور حق سے تکبر اور منہ پھیرنا فرمایا کہ میری آیتوں کی تمہارے سامنے تلاوت ہوتے ہوئے تم اس سے بےپرواہی سے منہ موڑ کر اپنی بات چیت میں مشغول رہتے ہو، پس تمہارا گمان بےجا، تمہارا غرور غلط، تمہارا فخر نا مناسب ہے۔ یوں بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کا ایمان اور اس کی راہ کا جہاد بڑی چیز ہے لیکن تمہارے مقابلے میں تو وہ اور بھی بڑی چیز ہے کیونکہ تمہاری تو کوئی نیکی ہو بھی تو اسے شرک کا گھن کھا جاتا ہے۔ پس فرماتا ہے کہ یہ دونوں گروہ برابر کے بھی نہیں یہ اپنے آپ کو آبادی کرنے والا کہتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کا نام ظالم رکھا اللہ تعالیٰ کے گھر کی خدمت بیکار کر دی۔ کہتے ہیں کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی قید کے زمانے میں کہا تھا کہ ”تم اگر اسلام و جہاد میں تھے تو ہم بھی اللہ تعالیٰ کے گھر کی خدمت اور حاجیوں کو آرام پہنچانے میں تھے۔‏‏‏‏“ اس پر یہ آیت اتری کہ شرک کے وقت کی نیکی بیکار ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان پر جب لے دے شروع کی تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ ”ہم مسجد الحرام کے متولی تھے ہم غلاموں کو آزاد کرتے تھے ہم بیت اللہ کو غلاف چڑھاتے تھے ہم حاجیوں کو پانی پلاتے تھے اس پر یہ آیت اتری۔ مروی ہے کہ یہ گفتگو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ میں ہوئی ہو۔ مروی ہے کہ طلحہ بن شیبہ، عباس بن عبدالمطلب، علی بن ابی طالب بیٹھے بیٹھے اپنی اپنی بزرگیاں بیان کرنے لگے، طلحہ نے کہا میں بیت اللہ کا کنجی بردار ہوں میں اگر چاہوں وہاں رات گزار سکتا ہوں۔

سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں زمزم کا پانی پلانے والا ہوں اور اس کا نگہبان ہوں اگر چاہوں تو مسجد ساری رات رہ سکتا ہوں۔‏‏‏‏“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نہیں جانتا کہ تم دونوں صاحب کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے لوگوں سے چھ ماہ پہلے قبلہ کی طرف نماز پڑھی ہے میں مجاہد ہوں۔‏‏‏‏“ اس پر یہ آیت اتری، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنا ڈر ظاہر کیا کہ کہیں میں چاہ زمزم کے پانی کے عہدے سے نہ ہٹا دیا جاؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں تم اپنے اس منصب پر قائم رہو تمہارے لیے اس میں بھلائی ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16575:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ اس آیت کی تفسیر میں ایک مرفوع حدیث وارد ہوئی ہے جس کا ذکر بھی یہاں ضروری ہے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”ایک شخص نے کہا اسلام کے بعد اگر میں کوئی عمل نہ کروں تو مجھے پرواہ نہیں بجز اس کے کہ میں حاجیوں کو پانی پلاؤں۔ دوسرے نے اسی طرح مسجد الحرام کی آبادی کو کہا۔ تیسرے نے اسی طرح اللہ کی راہ کے جہاد کو کہا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹ دیا اور فرمایا منبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آوازیں بلند نہ کرو۔ یہ واقعہ جمعہ کے دن کا ہے جمعہ کے بعد ہم سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [عبد الرزاق فی تفسیر:1060] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وعدہ کیا تھا کہ نماز جمعہ کے بعد میں خود جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات دریافت کر لوں گا۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1879۔111] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت22،21) {يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ …: ” بِرَحْمَةٍ “} اور {” رِضْوَانٍ “} پر تنوین تعظیم کی ہے۔ اب اس رحمت اور رضا مندی کا کون اندازہ کر سکتا ہے جسے خود اللہ تعالیٰ خاص اپنی طرف سے اور عظیم قرار دے رہا ہے، اگلی آیت میں دوبارہ اسے اجر عظیم قرار دیا ہے۔ جب مالک خود ان لوگوں سے راضی اور انھیں اپنی رحمت اور جنت کی خوش خبری دے رہا ہے، تو ڈوب مرنا چاہیے ان لوگوں کو جو ان کے خلاف اپنی زبانیں کھولتے ہیں، اگر ان میں ذرہ بھر بھی غیرت اور شرم و حیا ہے۔ ورنہ سیدھی طرح اپنی بد تمیزی اور گستاخی سے توبہ کر کے ان کا وہ مقام تسلیم کرنا چاہیے جو اللہ اور اس کے رسول نے انھیں دیا ہے۔ یاد رہے کہ ایمان، جہاد اور ہجرت کا سلسلہ قیامت تک قائم رہے گا اور وہ سب مجاہدین اس فضیلت میں شامل ہیں جو یہ شرف حاصل کریں گے۔ ابو حیان نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے تین وصف ایمان، ہجرت اور مال و جان کے ساتھ جہاد ذکر فرمائے، ان کے مقابلے میں تین ہی انعام ذکر فرمائے، ایمان کے مقابلے میں رحمت، کیونکہ وہ صرف ایمان سے حاصل ہوتی ہے اور سب سے عام ہے۔ جان و مال کے ساتھ جہاد کے مقابلے میں رضوان جو کسی سے حسن سلوک کی انتہا ہے اور ہجرت، یعنی وطن چھوڑنے کے بدلے میں جنت جو دائمی اقامت کا گھر ہے۔
خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عِنۡدَہٗۤ اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے یقیناً اللہ کے پاس خدمات کا صلہ دینے کو بہت کچھ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وہاں یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں اللہ کے پاس یقیناً بہت بڑے ﺛواب ہیں
احمد رضا خان بریلوی
ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے، بیشک اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے بے شک اللہ ہی کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جس میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں ہمیشہ۔ بے شک اللہ ہی ہے جس کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب سے بری عبادت اللہ کی راہ میں جہاد ہے ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”کافروں کا قول تھا کہ بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کے پانی پلانے کی سعادت بہتر ہے ایمان و جہاد سے۔ ہم چونکہ یہ دونوں خدمتیں انجام دے رہے ہیں اس لیے ہم سے بہتر کوئی نہیں۔ اللہ نے ان کا فخر و غرور اور حق سے تکبر اور منہ پھیرنا فرمایا کہ میری آیتوں کی تمہارے سامنے تلاوت ہوتے ہوئے تم اس سے بےپرواہی سے منہ موڑ کر اپنی بات چیت میں مشغول رہتے ہو، پس تمہارا گمان بےجا، تمہارا غرور غلط، تمہارا فخر نا مناسب ہے۔ یوں بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کا ایمان اور اس کی راہ کا جہاد بڑی چیز ہے لیکن تمہارے مقابلے میں تو وہ اور بھی بڑی چیز ہے کیونکہ تمہاری تو کوئی نیکی ہو بھی تو اسے شرک کا گھن کھا جاتا ہے۔ پس فرماتا ہے کہ یہ دونوں گروہ برابر کے بھی نہیں یہ اپنے آپ کو آبادی کرنے والا کہتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کا نام ظالم رکھا اللہ تعالیٰ کے گھر کی خدمت بیکار کر دی۔ کہتے ہیں کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی قید کے زمانے میں کہا تھا کہ ”تم اگر اسلام و جہاد میں تھے تو ہم بھی اللہ تعالیٰ کے گھر کی خدمت اور حاجیوں کو آرام پہنچانے میں تھے۔‏‏‏‏“ اس پر یہ آیت اتری کہ شرک کے وقت کی نیکی بیکار ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان پر جب لے دے شروع کی تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ ”ہم مسجد الحرام کے متولی تھے ہم غلاموں کو آزاد کرتے تھے ہم بیت اللہ کو غلاف چڑھاتے تھے ہم حاجیوں کو پانی پلاتے تھے اس پر یہ آیت اتری۔ مروی ہے کہ یہ گفتگو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ میں ہوئی ہو۔ مروی ہے کہ طلحہ بن شیبہ، عباس بن عبدالمطلب، علی بن ابی طالب بیٹھے بیٹھے اپنی اپنی بزرگیاں بیان کرنے لگے، طلحہ نے کہا میں بیت اللہ کا کنجی بردار ہوں میں اگر چاہوں وہاں رات گزار سکتا ہوں۔

سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں زمزم کا پانی پلانے والا ہوں اور اس کا نگہبان ہوں اگر چاہوں تو مسجد ساری رات رہ سکتا ہوں۔‏‏‏‏“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نہیں جانتا کہ تم دونوں صاحب کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے لوگوں سے چھ ماہ پہلے قبلہ کی طرف نماز پڑھی ہے میں مجاہد ہوں۔‏‏‏‏“ اس پر یہ آیت اتری، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنا ڈر ظاہر کیا کہ کہیں میں چاہ زمزم کے پانی کے عہدے سے نہ ہٹا دیا جاؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں تم اپنے اس منصب پر قائم رہو تمہارے لیے اس میں بھلائی ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16575:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ اس آیت کی تفسیر میں ایک مرفوع حدیث وارد ہوئی ہے جس کا ذکر بھی یہاں ضروری ہے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”ایک شخص نے کہا اسلام کے بعد اگر میں کوئی عمل نہ کروں تو مجھے پرواہ نہیں بجز اس کے کہ میں حاجیوں کو پانی پلاؤں۔ دوسرے نے اسی طرح مسجد الحرام کی آبادی کو کہا۔ تیسرے نے اسی طرح اللہ کی راہ کے جہاد کو کہا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹ دیا اور فرمایا منبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آوازیں بلند نہ کرو۔ یہ واقعہ جمعہ کے دن کا ہے جمعہ کے بعد ہم سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [عبد الرزاق فی تفسیر:1060] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وعدہ کیا تھا کہ نماز جمعہ کے بعد میں خود جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات دریافت کر لوں گا۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1879۔111] ‏‏‏‏
22۔ 1 ان آیات میں ان اہل ایمان کی فضیلت بیان کی گئی جنہوں نے ہجرت کی اور اپنی جان مال کے ساتھ جہاد میں حصہ لیا۔ فرمایا۔ اللہ کے ہاں انہی کا درجہ سب سے بلند ہے اور یہی کامیاب ہیں، یہی اللہ کی رحمت و رضامندی اور دائمی نعمتوں کے مستحق ہیں نہ کہ وہ جو خود اپنے منہ میاں مٹھو بنتے اور اپنے آبائی طور طریقوں کو ہی ایمان باللہ کے مقابلے میں عزیز رکھتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡۤا اٰبَآءَکُمۡ وَ اِخۡوَانَکُمۡ اَوۡلِیَآءَ اِنِ اسۡتَحَبُّوا الۡکُفۡرَ عَلَی الۡاِیۡمَانِ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی اپنا رفیق نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں تم میں سے جو ان کو رفیق بنائیں گے وہی ظالم ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! اپنے باپوں کو اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ بناؤ اگر وه کفر کو ایمان سے زیاده عزیز رکھیں۔ تم میں سے جو بھی ان سے محبت رکھے گا وه پورا گنہگار ﻇالم ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! اپنے باپ اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ سمجھو اگر وہ ایمان پر کفر پسند کریں، اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی کرے گا تو وہی ظالم ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! اگر تمہارے باپ اور تمہارے بھائی ایمان کے مقابلہ میں کفر کو ترجیح دیں تو پھر ان کو اپنا رفیق و کارساز نہ بناؤ۔ اور جو کوئی ان کو رفیق و کارساز بنائے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے باپوں اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ بناؤ، اگر وہ ایمان کے مقابلے میں کفر سے محبت رکھیں اور تم میں سے جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا سو وہی لوگ ظالم ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ترک موالات و مودت کا حکم ٭٭

اللہ تعالیٰ کافروں سے ترک موالات کا حکم دیتا ہے ان کی دوستیوں سے روکتا ہے گوہ وہ ماں باپ ہوں، بہن بھائی ہوں بشرطیکہ وہ کفر کو اسلام پر پسند کریں۔ اور آیت میں ہے «لاَّ تَجِدُ قَوْماً يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ» ۱؎ [58المجادلة:22] ‏‏‏‏ اللہ پر اور قیامت پر ایمان لانے والوں کو تو ہرگز اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے دوستیاں کرنے والا نہیں پائے گا گو وہ ان کے باپ ہوں بیٹے ہوں یا بھائی ہوں یا رشتے دار ہوں یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں ایمان لکھ دیا گیا ہے اور اپنی خاص روح سے ان کی تائید فرمائی ہے۔ انہیں نہروں والی جنت میں پہنچائے گا۔ بیہقی میں ہے سیدنا ابوعبیدبن جراح رضی اللہ عنہ کے باپ نے بدر والے دن ان کے سامنے اپنے بتوں کی تعریفیں شروع کیں آپ نے اسے ہر چند روکنا چاہا لیکن وہ بڑھتا ہی چلا گیا باپ بیٹوں میں جنگ شروع ہو گئی آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ کو قتل کر دیا۔ اس پر آیت «لاَّ تَجِدُ» الخ، نازل ہوئی۔ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:27/9:منقطع] ‏‏‏‏ پھر ایسا کرنے والوں کو ڈراتا ہے اور فرماتا ہے کہ ”اگر یہ رشتے دار اور اپنے حاصل کئے ہوئے مال اور مندے ہو جانے کی دہشت کی تجارتیں اور پسندیدہ مکانات اگر تمہیں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور جہاد سے بھی زیادہ مرغوب ہیں تو تمہیں اللہ تعالیٰ کے عذابوں کے برداشت کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔

ایسے بدکاروں کو اللہ تعالیٰ بھی راستہ نہیں دکھاتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ جا رہے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے ہرچیز سے زیادہ عزیز ہیں بجز میری اپنی جان کے۔‏‏‏‏“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میرا نفس ہے تم میں سے کوئی مومن نہ ہو گا جب تک کہ وہ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ رکھے۔‏‏‏‏“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اب آپ کی محبت مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ ہے۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب اے عمر رضی اللہ عنہ! [ تو مومن ہو گیا ] ‏‏‏‏ صحیح بخاری۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6632] ‏‏‏‏ صحیح حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ثابت ہے کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی ایماندار نہ ہو گا جب تک میں اسے اس کے ماں باپ سے اولاد سے اور دنیا کے کل لوگوں سے زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:15] ‏‏‏‏ مسند امام احمد اور ابوداؤد میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جب تم عین کی خرید و فروخت کرنے لگو گے اور گائے بیل کی دمیں تھام لو گے اور جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت ڈال دے گا وہ اس وقت تک دور نہ ہو گی جب تک کہ تم اپنے دین کی طرف نہ لوٹ آؤ۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3462،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏
23۔ 1 یہ وہی مضمون ہے جو قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے (چونکہ اس کی اہمیت واضح ہے اس لئے) اسے یہاں بھی بیان کیا گیا ہے یعنی جہاد و ہجرت میں تمہارے لئے تمہارے باپوں اور بھائیوں وغیرہ کی محبت آڑے نہ آئے، کیونکہ وہ ابھی تک کافر ہیں، تو پھر وہ تمہارے دوست ہو ہی نہیں سکتے، بلکہ وہ تمہارے دشمن ہیں اگر تم ان سے محبت کا تعلق رکھو گے تو یاد رکھو تم ظالم قرار پاؤ گے۔
(آیت23){ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ …:} یعنی بعض لوگ دل سے مسلمان ہیں لیکن برادری سے تعلق توڑ بھی نہیں سکتے کہ اپنے اسلام کا اعلان کر دیں، ان کا حال یہاں سے سمجھو۔ (موضح) مزید دیکھیے سورۂ مجادلہ (۲۲)، سورۂ ممتحنہ (۱تا۳)، سورۂ آل عمران (۲۸، ۱۱۸) اور سورۂ مائدہ (۵۱)۔
قُلۡ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمۡ وَ اَبۡنَآؤُکُمۡ وَ اِخۡوَانُکُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ وَ عَشِیۡرَتُکُمۡ وَ اَمۡوَالُۨ اقۡتَرَفۡتُمُوۡہَا وَ تِجَارَۃٌ تَخۡشَوۡنَ کَسَادَہَا وَ مَسٰکِنُ تَرۡضَوۡنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ جِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿٪۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے نبیؐ، کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے، اور تمہارے بھائی، اور تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیز و اقارب اور تمہارے وہ مال جو تم نے کما ئے ہیں، اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑ جانے کا تم کو خوف ہے اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں، تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے، اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکےاور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وه تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وه حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو اگر یہ تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راه میں جہاد سے بھی زیاده عزیز ہیں، تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنا عذاب لے آئے۔ اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال او ر وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسند کا مکان یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑے سے زیاد ہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول) کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں اور تمہارا کنبہ قبیلہ اور تمہارا وہ مال جو تم نے کمایا ہے۔ اور تمہاری وہ تجارت جس کے مندا پڑ جانے سے ڈرتے ہو اور تمہارے وہ رہائشی مکانات جن کو تم پسند کرتے ہو۔ تم کو اللہ، اس کے رسول اور راہِ خدا میں جہاد کرنے سے زیادہ عزیز ہیں۔ تو پھر انتظار کرو۔ یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ (تمہارے سامنے) لے آئے اور اللہ فاسق و فاجر قوم کو منزل مقصود تک نہیں پہنچاتا۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے اگر تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے اور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں اور تمھارا خاندان اور وہ اموال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے مندا پڑنے سے تم ڈرتے ہو اور رہنے کے مکانات، جنھیں تم پسند کرتے ہو، تمھیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ترک موالات و مودت کا حکم ٭٭

اللہ تعالیٰ کافروں سے ترک موالات کا حکم دیتا ہے ان کی دوستیوں سے روکتا ہے گوہ وہ ماں باپ ہوں، بہن بھائی ہوں بشرطیکہ وہ کفر کو اسلام پر پسند کریں۔ اور آیت میں ہے «لاَّ تَجِدُ قَوْماً يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ» ۱؎ [58المجادلة:22] ‏‏‏‏ اللہ پر اور قیامت پر ایمان لانے والوں کو تو ہرگز اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے دوستیاں کرنے والا نہیں پائے گا گو وہ ان کے باپ ہوں بیٹے ہوں یا بھائی ہوں یا رشتے دار ہوں یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں ایمان لکھ دیا گیا ہے اور اپنی خاص روح سے ان کی تائید فرمائی ہے۔ انہیں نہروں والی جنت میں پہنچائے گا۔ بیہقی میں ہے سیدنا ابوعبیدبن جراح رضی اللہ عنہ کے باپ نے بدر والے دن ان کے سامنے اپنے بتوں کی تعریفیں شروع کیں آپ نے اسے ہر چند روکنا چاہا لیکن وہ بڑھتا ہی چلا گیا باپ بیٹوں میں جنگ شروع ہو گئی آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ کو قتل کر دیا۔ اس پر آیت «لاَّ تَجِدُ» الخ، نازل ہوئی۔ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:27/9:منقطع] ‏‏‏‏ پھر ایسا کرنے والوں کو ڈراتا ہے اور فرماتا ہے کہ ”اگر یہ رشتے دار اور اپنے حاصل کئے ہوئے مال اور مندے ہو جانے کی دہشت کی تجارتیں اور پسندیدہ مکانات اگر تمہیں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور جہاد سے بھی زیادہ مرغوب ہیں تو تمہیں اللہ تعالیٰ کے عذابوں کے برداشت کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔

ایسے بدکاروں کو اللہ تعالیٰ بھی راستہ نہیں دکھاتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ جا رہے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے ہرچیز سے زیادہ عزیز ہیں بجز میری اپنی جان کے۔‏‏‏‏“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میرا نفس ہے تم میں سے کوئی مومن نہ ہو گا جب تک کہ وہ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ رکھے۔‏‏‏‏“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اب آپ کی محبت مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ ہے۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب اے عمر رضی اللہ عنہ! [ تو مومن ہو گیا ] ‏‏‏‏ صحیح بخاری۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6632] ‏‏‏‏ صحیح حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ثابت ہے کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی ایماندار نہ ہو گا جب تک میں اسے اس کے ماں باپ سے اولاد سے اور دنیا کے کل لوگوں سے زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:15] ‏‏‏‏ مسند امام احمد اور ابوداؤد میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جب تم عین کی خرید و فروخت کرنے لگو گے اور گائے بیل کی دمیں تھام لو گے اور جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت ڈال دے گا وہ اس وقت تک دور نہ ہو گی جب تک کہ تم اپنے دین کی طرف نہ لوٹ آؤ۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3462،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏
24۔ 1 اس آیت میں بھی اس مضمون کو بڑے مؤکد انداز میں بیان کیا گیا ہے عشیرۃ اسم جمع ہے، وہ قریب ترین رشتہ دار جن کے ساتھ آدمی زندگی کے شب و روز گزارتا ہے، یعنی کنبہ قبیلہ، اقتراف، کسب (کمائی) کے معنی کے لئے آتا ہے، تجارت، سودے کی خریدو فروخت کو کہتے ہیں جس کا مقصد نفع کا حصول ہو، کساد، مندے کو کہتے ہیں یعنی سامان فروخت موجود ہو لیکن خریدار نہ ہو یا اس چیز کا وقت گز رچکا ہو، جس کی وجہ سے لوگوں کو ضرورت نہ رہے۔ دونوں صورتیں مندے کی ہیں۔ مساکن سے مراد وہ گھر ہیں جنہیں انسان موسم کے شدائد و حوادث سے بچنے آبرومندانہ طریقے سے رہنے سہنے اور اپنے بال بچوں کی حفاظت کے لئے تعمیر کرتا ہے، یہ ساری چیزیں اپنی اپنی جگہ ضروری ہیں اور ان کی اہمیت و افادیت بھی ناگزیر اور قلوب انسانی میں ان سب کی محبت بھی طبعی ہے (جو مذموم نہیں) لیکن اگر ان کی محبت اللہ اور رسول کی محبت سے زیادہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے میں مانع ہوجائے، تو یہ بات اللہ کو سخت ناپسندیدہ اور اس کی ناراضگی کا باعث ہے اور یہ وہ فسق (نافرمانی) ہے جس سے انسان اللہ کی ہدایت سے محروم ہوسکتا ہے۔ جس طرح کہ آخری الفاظ تہدید سے واضح ہے۔ احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس مضمون کو وضاحت سے بیان فرمایا ہے مثلا ایک موقع پر حضرت عمر ؓ نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے آُ اپنے نفس کے سوا ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک میں اس کے اپنے نفس سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں اس وقت تک وہ مومن نہیں حضرت عمر ؓ نے کہا پس واللہ! اب آپ مجھے اپنے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں آپ صلی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا " اے عمر! اب تم مومن ہو (صحیح بخاری) ایک دوسری روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں جب تک میں اس کو اس کے والد سے اس کی اولاد سے اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ جاؤں (صحیح بخاری کتاب ایمان) ایک اور حدیث میں جہاد کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا جب تم بیع عینۃ (کسی کو مدت معینہ کے لییے چیز ادھاردے کر پھر اس سے کم قیمت پر خرید لینا) اختیار کرلو گے اور گایوں کی دمیں پکڑ کر کھیتی باڑی پر راضی وقانع ہوجاؤ گے اور جہاد چھوڑ بیٹھو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسی ذلت مسلط فرمادے گا جس سے تمام وقت تک نہ نکل سکو گے جب تک اپنے دین کی طرف نہیں لوٹو گے (ابو داؤد)
(آیت24) ➊ {قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ …:} یہ اور اس سے پہلی آیت دونوں مسلمانوں کے کسی خاص گروہ یا واقعہ سے متعلق نہیں بلکہ عام اور ہر زمانے کے لیے ہیں، ان میں تمام مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت انھیں دنیا کی ہر چیز سے زیادہ ہونی چاہیے، یہ تمام چیزیں جو اللہ تعالیٰ نے شمار فرمائی ہیں ہر انسان کو طبعی طور پر محبوب ہوتی ہیں، فرمایا: «زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِيْنَ وَ الْقَنَاطِيْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ» ‏‏‏‏ [ آل عمران: ۱۴ ] ”لوگوں کے لیے نفسانی خواہشوں کی محبت مزین کی گئی ہے جو عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے جمع کیے ہوئے خزانے اور نشان لگائے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور کھیتی ہیں، یہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور اللہ ہی ہے جس کے پاس اچھا ٹھکانا ہے۔“ ان چیزوں سے محبت کوئی گناہ بھی نہیں، بلکہ ان سے محبت اور ان کے حقوق کی ادائیگی آدمی کی ذمہ داری ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے تقاضا صرف یہ ہے کہ ان میں سے کسی چیز کی محبت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اور اس کے راستے میں جہاد سے بڑھ کر نہیں ہونی چاہیے۔ پیمانہ اس کا یہ ہے کہ اگر کبھی ایسا ہو کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہو اور اسلام کی خاطر جہاد کرتے ہوئے سب کچھ قربان کر دینے کی ضرورت ہو اور دوسری طرف ماں باپ اور خویش و اقارب کی محبت ہو اور دنیا کے دوسرے تعلقات یا مفادات و خطرات اس کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہوں تو مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ہر شخص اور ہر مصلحت سے بے پروا ہو کر اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی پیروی کرے اور کوئی دنیوی مفاد یا خطرہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اسے اللہ کا حکم ماننے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے باز رکھ سکے، ورنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی بھی وقت عذاب آ سکتا ہے۔ یہی مضمون ہے جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار واضح فرمایا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔“ [ بخاری، الإیمان، باب حب الرسول صلی اللہ علیہ وسلم من الإیمان: ۱۵، عن أنس رضی اللہ عنہ] عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے اور عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آپ مجھے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں سوائے اپنی جان کے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب تک کہ میں تجھے تیری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اب آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔“ فرمایا: ”اب اے عمر! (تیرے ایمان کا معاملہ درست ہوا)۔“ [ بخاری، الأیمان والنذور، باب کیف کانت یمین النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ۶۶۳۲ ] ➋ { حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ:} ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ” عینہ “ (حیلے کے ساتھ سود کی ایک قسم) کے ساتھ بیع کرو گے اور بیلوں کی دمیں پکڑ لو گے اور کھیتی باڑی پر راضی ہو جاؤ گے اور جہاد ترک کر دو گے، تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسی ذلت مسلط کرے گا جسے ختم نہیں کرے گا، جب تک تم اپنے دین کی طرف لوٹ نہیں آؤ گے۔“ [ أبوداوٗد، البیوع، باب فی النہی عن العینۃ: ۳۴۶۲، و صححہ الألبانی ] زمخشری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ آیت بہت سخت ہے، اس سے سخت آپ کوئی آیت نہیں دیکھیں گے۔ یہ انسان کی دینی کمزوری اور یقین کی کمی کی نشان دہی کرتی ہے۔ اپنے دل میں بہت پرہیز گار اور متقی شخص انصاف سے سوچے کہ کیا واقعی اس میں اتنی دینی پختگی ہے کہ اس آیت میں مذکور تمام چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے خلاف ہونے کی بنا پر کسی معاملے میں چھوڑ سکتا ہے، یا کسی کی تھوڑی سی ناراضگی یا دنیا کے معمولی سے مفاد کی بنا پر وہ کش مکش میں پڑ جاتا ہے کہ کسے رکھوں اور کسے چھوڑوں؟ پھر اکثر یہی ہوتا ہے کہ اس کی بیوی، اولاد، دوستوں، معاشرے اور تجارتی مفاد کے تقاضے ہی اللہ کے دین کے تقاضوں پر غالب آتے ہیں۔ (الا ما شاء اللہ)
لَقَدۡ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیۡ مَوَاطِنَ کَثِیۡرَۃٍ ۙ وَّ یَوۡمَ حُنَیۡنٍ ۙ اِذۡ اَعۡجَبَتۡکُمۡ کَثۡرَتُکُمۡ فَلَمۡ تُغۡنِ عَنۡکُمۡ شَیۡئًا وَّ ضَاقَتۡ عَلَیۡکُمُ الۡاَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ ثُمَّ وَلَّیۡتُمۡ مُّدۡبِرِیۡنَ ﴿ۚ۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ اس سے پہلے بہت سے مواقع پر تمہاری مدد کر چکا ہے ابھی غزوہ حنین کے روز (اُس کی دستگیری کی شان تم دیکھ چکے ہو) اس روز تمہیں اپنی کثرت تعداد کا غرہ تھا مگر وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی اور تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً اللہ تعالیٰ نے بہت سے میدانوں میں تمہیں فتح دی ہے اور حنین کی لڑائی والے دن بھی جب کہ تمہیں اپنی کثرت پر ناز ہوگیا تھا، لیکن اس نے تمہیں کوئی فائده نہ دیا بلکہ زمین باوجود اپنی کشادگی کے تم پر تنگ ہوگئی پھر تم پیٹھ پھیر کر مڑ گئے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اللہ نے بہت جگہ تمہاری مدد کی اور حنین کے دن جب تم اپنی کثرت پر اترا گئے تھے تو وہ تمہارے کچھ کام نہ ا ٓئی اور زمین اتنی وسیع ہوکر تم پر تنگ ہوگئی پھر تم پیٹھ دے کر پھرگئے،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک اللہ نے بہت سے مقامات پر تمہاری مدد فرمائی ہے۔ اور حنین کے موقع پر بھی جب تمہاری کثرت تعداد نے تمہیں مغرور کر دیا تھا مگر اس (کثرت) نے تمہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا اور زمین اپنی ساری وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی پھر تم پیٹھ دکھا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یقیناً اللہ نے بہت سی جگہوں میں تمھاری مدد فرمائی اور حنین کے دن بھی، جب تمھاری کثرت نے تمھیں خود پسند بنا دیا، پھر وہ تمھارے کچھ کام نہ آئی اور تم پر زمین تنگ ہو گئی، باوجود اس کے کہ وہ فراخ تھی، پھر تم پیٹھ پھیرتے ہوئے لوٹ گئے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ترک موالات و مودت کا حکم ٭٭

اللہ تعالیٰ کافروں سے ترک موالات کا حکم دیتا ہے ان کی دوستیوں سے روکتا ہے گوہ وہ ماں باپ ہوں، بہن بھائی ہوں بشرطیکہ وہ کفر کو اسلام پر پسند کریں۔ اور آیت میں ہے «لاَّ تَجِدُ قَوْماً يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ» ۱؎ [58المجادلة:22] ‏‏‏‏ اللہ پر اور قیامت پر ایمان لانے والوں کو تو ہرگز اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے دوستیاں کرنے والا نہیں پائے گا گو وہ ان کے باپ ہوں بیٹے ہوں یا بھائی ہوں یا رشتے دار ہوں یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں ایمان لکھ دیا گیا ہے اور اپنی خاص روح سے ان کی تائید فرمائی ہے۔ انہیں نہروں والی جنت میں پہنچائے گا۔ بیہقی میں ہے سیدنا ابوعبیدبن جراح رضی اللہ عنہ کے باپ نے بدر والے دن ان کے سامنے اپنے بتوں کی تعریفیں شروع کیں آپ نے اسے ہر چند روکنا چاہا لیکن وہ بڑھتا ہی چلا گیا باپ بیٹوں میں جنگ شروع ہو گئی آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ کو قتل کر دیا۔ اس پر آیت «لاَّ تَجِدُ» الخ، نازل ہوئی۔ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:27/9:منقطع] ‏‏‏‏ پھر ایسا کرنے والوں کو ڈراتا ہے اور فرماتا ہے کہ ”اگر یہ رشتے دار اور اپنے حاصل کئے ہوئے مال اور مندے ہو جانے کی دہشت کی تجارتیں اور پسندیدہ مکانات اگر تمہیں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور جہاد سے بھی زیادہ مرغوب ہیں تو تمہیں اللہ تعالیٰ کے عذابوں کے برداشت کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔

ایسے بدکاروں کو اللہ تعالیٰ بھی راستہ نہیں دکھاتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ جا رہے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے ہرچیز سے زیادہ عزیز ہیں بجز میری اپنی جان کے۔‏‏‏‏“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میرا نفس ہے تم میں سے کوئی مومن نہ ہو گا جب تک کہ وہ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ رکھے۔‏‏‏‏“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اب آپ کی محبت مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ ہے۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب اے عمر رضی اللہ عنہ! [ تو مومن ہو گیا ] ‏‏‏‏ صحیح بخاری۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6632] ‏‏‏‏ صحیح حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ثابت ہے کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی ایماندار نہ ہو گا جب تک میں اسے اس کے ماں باپ سے اولاد سے اور دنیا کے کل لوگوں سے زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:15] ‏‏‏‏ مسند امام احمد اور ابوداؤد میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جب تم عین کی خرید و فروخت کرنے لگو گے اور گائے بیل کی دمیں تھام لو گے اور جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت ڈال دے گا وہ اس وقت تک دور نہ ہو گی جب تک کہ تم اپنے دین کی طرف نہ لوٹ آؤ۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3462،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت26،25) ➊ {لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ:} بدر میں اپنے انعامات کے تذکرے، جہاد کی ترغیب، کفار سے دوستی ترک کرنے کی تلقین اور دنیا کی ہر چیز پر اللہ اور اس کے رسول اور جہاد فی سبیل اللہ کی ترجیح کے حکم کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے اپنے کچھ مزید انعامات ذکر فرمائے، جن میں حنین کا خاص ذکر فرمایا، مگر حنین کا ذکر کرنے سے پہلے بہت سے گزشتہ مواقع میں «فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ» ‏‏‏‏ اپنی مدد کا ذکر فرمایا، ان میں ہجرت «فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا» [ التوبۃ: ۴۰ ] بدر «وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ» [ آل عمران: ۱۲۳ ] احد «وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ» ‏‏‏‏ [ آل عمران: ۱۵۲ ] خندق «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ» ‏‏‏‏ [ الأحزاب: ۹ ] حدیبیہ «اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا» ‏‏‏‏ [ الفتح: ۱ ] فتح مکہ «اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ» [ النصر: ۱ ] یہودی قبائل «هُوَ الَّذِيْۤ اَخْرَجَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِيَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ» ‏‏‏‏ [ الحشر: ۲ ] اور منافقین سے معاملات وغیرہ سب شامل ہیں اور سب کا ذکر قرآن و حدیث میں مختلف مقامات پر موجود ہے، مگر ان کو یہاں بطور تمہید ذکر فرما کر اصل تذکرہ حنین کے دن کیے جانے والے انعام کا فرمایا اور اس کی وجہ بھی بیان فرمائی۔ حنین مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ایک وادی ہے، وہاں فتح مکہ (رمضان ۸ھ) کے ایک ماہ بعد شوال ۸ھ میں مسلمانوں کی ہوازن، ثقیف، بنو جشم، بنو سعد اور بعض دوسرے قبائل سے جنگ ہوئی تھی۔ ➋ { وَ يَوْمَ حُنَيْنٍ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ …:} نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دس ہزار کا لشکر تو ان مہاجرین و انصار کا تھا جو فتح مکہ کے لیے آپ کے ساتھ مدینہ سے آئے تھے اور دو ہزار آدمی آپ کے ساتھ اہل مکہ (طلقاء) میں سے شامل ہو گئے تھے۔ اس طرح مسلمانوں کا کل لشکر بارہ ہزار لڑنے والوں پر مشتمل تھا، جبکہ اس کے مقابلے میں دشمنوں کی تعداد صرف چار ہزار کے قریب تھی، اس پر بہت سے مسلمانوں میں عجب (خود پسندی) اور ایک قسم کا غرور پیدا ہو گیا، حتیٰ کہ بعض نے کہا آج ہم قلت تعداد کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوں گے۔ یہ کلمہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا۔ (ابن کثیر) جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم وادی حنین کی طرف چلے تو ہم تہامہ کی وادیوں میں سے ایک وادی میں اترے، وادی بڑی وسیع و عریض تھی، اس میں اوپر نیچے ٹیلے اور چھوٹی چھوٹی ڈھلوانی پہاڑیاں تھیں، ہم اوپر چڑھتے اور نیچے اترتے ہوئے آگے کی جانب بڑھتے اور لڑھکتے جا رہے تھے، ابھی صبح کا اندھیرا تھا، دشمن ہمارے لیے مختلف گھاٹیوں، کناروں اور تنگ گزر گاہوں میں پورے اتفاق اور مقابلے کی تیاری کے ساتھ چھپے بیٹھے تھے۔ اللہ کی قسم! ہمیں اترتے اترتے پتا ہی نہ چلا کہ دشمن نے مل کر اس طرح حملہ کیا جیسے ایک آدمی کرتا ہے۔ (دوسری روایات میں ہے کہ وہ زبردست نشانہ باز تھے، انھوں نے تیروں کی بوچھاڑ کر دی) لوگ شکست کھا کر واپس پلٹے، وہ بھاگے جاتے تھے اور کوئی کسی کو مڑ کر نہیں دیکھتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف ایک جگہ ہو گئے، پھر فرمایا: ”لوگو! میری طرف توجہ کرو، میری طرف آؤ، میں رسول اللہ ہوں، میں محمد بن عبد اللہ ہوں۔“ کہیں سے جواب نہیں آ رہا تھا، اونٹ ایک دوسرے پر گرتے پڑتے بھاگ رہے تھے، لوگ ادھر ادھر نکل گئے، سوائے مہاجرین و انصار کے ایک گروہ اور آپ کے خاندان کے لوگوں کے جو زیادہ نہ تھے۔ ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما آپ کے ساتھ ڈٹے رہے، آپ کے خاندان والوں میں سے علی بن ابو طالب، عباس بن عبدالمطلب، ان کے بیٹے فضل، ابو سفیان بن حارث اور ایمن بن عبید جو ام ایمن کے بیٹے تھے اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم۔ [ أحمد: 376/3، ح: ۱۵۰۲۷، وحسنہ شعیب الأرنؤوط۔ ابن حبان: ۴۷۷۴ ] عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری آواز بڑی بلند تھی، اس وجہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا: ” اے عباس! کیکر (کے درخت) والوں کو آواز دو۔“ چنانچہ میں نے بلند آواز سے پکارا کہ کیکر (تلے بیعت رضوان کرنے) والے کہاں ہیں؟ اللہ کی قسم! ان لوگوں نے جب میری آواز سنی تو وہ ” ہم حاضر ہیں، ہم حاضر ہیں“ کہتے ہوئے اس طرح دوڑے جس طرح گائے اپنے بچے کی طرف دوڑتی ہے۔ عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر پکڑے اور دشمنوں کی طرف پھینکے، اس کے ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” محمد کے رب کی قسم! وہ شکست کھا گئے۔“ [ مسلم، الجہاد، باب غزوۃ حنین: ۱۷۷۵ ] یہ وہ وقت ہے جب مسلمان جم گئے اور فرشتے نازل ہوئے: «وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا» ‏‏‏‏ ”اور اس نے ایسے لشکر اتارے جنھیں تم نے نہیں دیکھا۔“ ➌ { وَ عَذَّبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا…:} اللہ تعالیٰ نے کفار کو یہ سزا دی کہ انھیں شکست فاش ہوئی، ان کے بچے اور عورتیں لونڈی و غلام اور ان کے اموال مسلمانوں کی غنیمت بنے، بہت سے بڑے بھی اسیر ہوئے اور دنیا میں کفار کی یہی جزا ہے۔
ثُمَّ اَنۡزَلَ اللّٰہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ وَ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ اَنۡزَلَ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡہَا وَ عَذَّبَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ وَ ذٰلِکَ جَزَآءُ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور مومنین پر نازل فرمائی اور وہ لشکر اتارے جو تم کو نظر نہ آتے تھے اور منکرین حق کو سزا دی کہ یہی بدلہ ہے اُن لوگوں کے لیے جو حق کا انکار کریں
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر اللہ نے اپنی طرف کی تسکین اپنے نبی پر اور مومنوں پر اتاری اور اپنے وه لشکر بھیجے جنہیں تم دیکھ نہیں رہے تھے اور کافروں کو پوری سزا دی۔ ان کفار کا یہی بدلہ تھا
احمد رضا خان بریلوی
پھر اللہ نے اپنی تسکین اتا ری اپنے رسول پر اور مسلمانوں پر اور وہ لشکر اتارے جو تم نے نہ دیکھے اور کافروں کو عذاب دیا اور منکروں کی یہی سزا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر اللہ نے اپنی طرف سے اپنے رسول اور اہلِ ایمان پر سکون و اطمینان نازل کیا اور ایسے لشکر نازل کئے جو تمہیں نظر نہیں آئے۔ اور اللہ نے کافروں کو سزا دی اور یہی کافروں کا بدلہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر نازل فرمائی اور وہ لشکر اتارے جو تم نے نہیں دیکھے اور ان لوگوں کو سزا دی جنھوں نے کفر کیا اور یہی کافروں کی جزا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نصرتِ الٰہی کا ذکر ٭٭

مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”برأت کی یہ پہلی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بہت بڑا احسان مومنوں پر ذکر فرما رہا ہے کہ اس نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کی آپ امداد فرمائی انہیں دشمنوں پر غالب کر دیا اور ایک جگہ نہیں ہر جگہ اس کی مدد شامل حال رہی اسی وجہ سے فتح و ظفر نے کبھی ہم رکابی نہ چھوڑی۔‏‏‏‏“ یہ صرف تائید الہٰی تھی نہ کہ مال اسباب اور ہتھیار کی فراوانی اور نہ تعداد کی زیادتی۔ یاد کر لو حنین والے دن ذرا تمہیں اپنی تعداد کی کثرت پر ناز ہو گیا تو کیا حال ہوا؟ پیٹھ دکھا کر بھاگ نکلے تھے۔ معدودے چند ہی پیغمبرِ رب صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ٹھہر گئے اسی وقت اللہ تعالیٰ کی مدد سے چھوٹی چھوٹی جماعتوں نے بڑے بڑے گروہ کے منہ پھیر دیئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی امداد صابروں کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہ واقعہ ہم عنقریب تفصیل وار بیان کریں، ان شاءاللہ تعالیٰ۔ مسند کی حدیث میں ہے بہترین ساتھی چار ہیں اور بہترین چھوٹا لشکر چار سو کا ہے اور بہترین بڑا لشکر چار ہزار کا ہے اور بارہ ہزار کی تعداد تو اپنی کمی کے باعث کبھی مغلوب نہیں ہو سکتی۔ یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2611،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن غریب بتلاتے ہیں۔ یہ روایت سوائے ایک راوی کے باقی سب راویوں نے مرسلاً بیان کی ہے ابن ماجہ اور بہیقی میں بھی یہ روایت اسی طرح مروی ہے، واللہ اعلم۔ ٨ ہجری میں فتح مکہ کے بعد ماہِ شوال میں جنگ حنین ہوئی تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ سے فارغ ہوئے اور ابتدائی امور سب انجام دے چکے اور عموماً مکی حضرات مسلمان ہو چکے اور انہیں آپ آزاد بھی کر چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ قبیلہ ہوازن جمع ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے پر آمادہ ہے۔ ان کا سردار مالک بن عوف نضری ہے۔

ثقیف کا سارا قبیلہ ان کے ساتھ ہے اسی طرح بنو جشم، بنو سعد بن بکر بھی ہیں اور بنو ہلال کے بھی کچھ لوگ ہیں اور کچھ لوگ بنو عمرو بن عامر کے اور عون بن عامر کے بھی ہیں یہ سب لوگ مع اپنی عورتوں اور بچوں اور گھریلو مال کے میدان میں نکل کھڑے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ اپنی بکریوں اور اونٹوں کو بھی انہوں نے ساتھ رکھا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس لشکر کو لے کر جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مہاجرین اور انصار وغیرہ کا تھا ان کے مقابلے کے لیے چلے۔ تقریباً دو ہزار تو مسلم مکی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو لیے۔ مکہ اور طائف کے درمیان کی وادی میں دونوں لشکر مل گئے اس جگہ کا نام حنین تھا۔ صبح سویرے منہ اندھیرے قبیلہ ہوازن جو کمین گاہ میں چپھے ہوئے تھے انہوں نے بےخبری میں مسلمانوں پر اچانک حملہ کر دیا بےپناہ تیر اندازی کرتے ہوئے آگے بڑھے اور تلواریں چلانی شروع کر دیں۔ یہاں تک کہ مسلمانوں میں دفعتاً ابتری پھیل گی اور یہ منہ پھر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف بڑھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سفید خچر پر سوار تھے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانور کی دائیں جانب سے نکیل تھامے ہوئے تھے اور سیدنا ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بائیں طرف سے نکیل پکڑے ہوئے تھے جانور کی تیزی کو یہ لوگ روک رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم با آواز بلند اپنے آپ کو پہنچوا رہے تھے مسلمانوں کو واپسی کا حکم فرما رہے تھے اور ندا کرتے جاتے تھے کہ اللہ کے بندو! کہاں چلے میری طرف آؤ میں اللہ تعالیٰ کا سچا رسول ہوں میں نبی ہوں جھوٹا نہیں ہوں، میں اولادِ عبدالمطلب میں سے ہوں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت صرف اسی یا سو کے قریب صحابہ رضی اللہ عنہم رہ گئے تھے۔ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ، سیدنا ایمن بن ام ایمن رضی اللہ عنہ، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ وغیرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو جو بہت بلند آواز والے تھے حکم دیا کہ درخت کے نیچے بیعت کرنے والے میرے صحابیوں کو آواز دو کہ وہ نہ بھاگیں۔ پس آپ نے یہ کہہ کر اے ببول کے درخت تلے بیعت کرنے والو! اے سورۃ البقرہ کے حاملو! پس یہ آواز ان کے کانوں میں پہنچنی تھی کہ انہوں نے ہر طرف سے «لبیک لبیک» کہنا شروع کیا اور آواز کی جانب لپک پڑے اور اسی وقت لوٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس آ کر کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ اگر کسی کا اونٹ اڑ گیا تو اس نے اپنی زرہ پہن لی اونٹ پر سے کود گیا اور پیدل سرکار نبوت میں حاضر ہو گیا۔ جب کچھ جماعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد جمع ہو گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعا مانگنی شروع کی کہ باری تعالیٰ جو وعدہ تیرا میرے ساتھ ہے اسے پورا فرما۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین سے مٹی کی ایک مٹھی بھرلی اور اسے کافروں کی طرف پھینکا جس سے ان کی آنکھیں اور ان کا منہ بھر گیا وہ لڑائی کے قابل نہ رہے۔ ادھر مسلمانوں نے ان پر دھاوا بول دیا ان کے قدم اکھڑ گئے بھاگ نکلے۔

مسلمانوں نے ان کا پیچھا کیا۔ اور مسلمانوں کی باقی فوج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی اتنی دیر میں تو انہوں نے ان کفار کو قید کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈھیر کر دیا۔ مسند احمد میں ہے سیدنا عبدالرحمٰن فہری رضی اللہ عنہ جن کا نام یزید بن اسید ہے یا یزید بن انیس ہے اور کرز بھی کہا گیا ہے فرماتے ہیں کہ ”میں اس معرکے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا دن سخت گرمی والا تھا دوپہر کو ہم درختوں کے سائے تلے ٹھہر گئے۔ سورج ڈھلنے کے بعد میں نے اپنے ہتھیار لگا لئے اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے میں پہنچا سلام کے بعد میں نے کہا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! ہوائیں ٹھنڈی ہو گئی ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ٹھیک ہے“ [آواز دی] ‏‏‏‏، بلال رضی اللہ عنہ! اس وقت بلال رضی اللہ عنہ ایک درخت کے سائے میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنتے ہی پرندے کی طرح گویا اڑ کر «لبیک و سعدیک و انا فداوک» کہتے ہوئے حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری سواری کسو۔‏‏‏‏“ اسی وقت انہوں نے زین نکالی جس کے دونوں پلے کھجور کی رسی کے تھے جس میں کوئی فخر و غرور کی چیز نہ تھی۔ جب کس چکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے ہم نے صف بندی کر لی شام اور رات اسی طرح گذری پھر دونوں لشکروں کی مڈبھیڑ ہو گئی تو مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے جیسے قرآن نے فرمایا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی کہ اے اللہ کے بندو! میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں اے مہاجرین! میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں، پھر اپنے گھوڑے سے اتر پڑے مٹی کی ایک مٹھی بھرلی اور یہ فرما کر ان کے چہرے بگڑ جائیں کافروں کی طرف پھینک دی۔ اسی سے اللہ نے انہیں شکست دے دی۔ ان مشرکوں کا بیان ہے کہ ہم میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جس کی آنکھوں اور منہ میں یہ مٹی نہ آئی ہو اسی وقت ہمیں ایسا معلوم ہونے لگا کہ گویا زمین و آسمان کے درمیان لوہا کسی لوہے کی کے طشت پر بج رہا ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:276/5:حسن] ‏‏‏‏

ایک روایت میں ہے کہ بھاگے ہوئے مسلمان جب ایک سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس پہنچ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت حملہ کا حکم دے دیا۔ اول تو منادی انصار کی تھی پھر خزرج ہی پر رہ گئی۔ یہ قبیلہ لڑائی کے وقت بڑا ہی صابر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر سے میدان جنگ کا نظارہ دیکھا اور فرمایا اب لڑائی گرما گرمی سے ہو رہی ہے اس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کافر کو چاہا قتل کرا دیا جسے چاہا قید کرا دیا اور ان کے مال اور اولادیں اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فے میں دلا دیں۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا کہ ”اے ابو عمارہ! کیا تم لوگ رسول اللہ علیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے حنین والے دن بھاگ نکلے تھے“؟ آپ نے فرمایا: ”لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم پیچھے نہ ہٹا تھا بات یہ ہے کہ قبیلہ ہوازن کے لوگ تیر اندازی کے فن کے استاد تھے اللہ کے فضل سے ہم نے انہیں پہلے ہی حملے میں شکست دے دی لیکن جب لوگ مال غنیمت پر جھک پڑے تو انہوں نے موقع دیکھ کر پھر جو وقار اندازی کے ساتھ تیروں کی بارش برسائی تو یہاں بھگڈر مچ گئی۔ سبحان اللہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل شجاعت اور پوری بہادری کا یہ موقع تھا، لشکر بھاگ نکلا ہے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی تیز سواری پر نہیں جو بھاگنے دوڑنے میں کام آئے بلکہ خچر پر سوار ہیں اور مشرکوں کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اپنے آپ کو چھپاتے نہیں بلکہ اپنا نام اپنی زبان سے پکار پکار کر بتلا رہے ہیں کہ نہ پہنچاننے والے بھی پہنچا لیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:376/3:حسن] ‏‏‏‏ خیال فرمائیے کہ کس قدر ذات واحد پر توکل ہے اور کتنا کامل یقین ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی مدد پر ہے جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ امر رسالت کو پورا کر کے ہی رہے گا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو دنیا کے اور دینوں پر غالب کر کے ہی رہے گا فصلوات اللہ وسلامہ علیہ ابداً ابدا۔ اب اللہ تعالیٰ اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اور مسلمانوں کے اوپر سکینت نازل فرماتا ہے اور اپنے فرشتوں کا لشکر بھیجتا ہے جنہیں کوئی نہ دیکھتا تھا۔

ایک مشرک کا بیان ہے کہ حنین والے دن جب ہم مسلمانوں سے لڑنے لگے ایک بکری کا دودھ نکالا جائے اتنی دیر میں ہم نے بھی انہیں اپنے سامنے جمنے نہیں دیا فوراً بھاگ کھڑے ہوئے اور ہم نے ان کا تعاقب شروع کیا یہاں تک کہ ہمیں ایک صاحب سفید خچر پر سوار نظر آۓ، ہم نے دیکھا یہ کہ خوبصورت نورانی سفید چہرے والے کچھ لوگ ان کے اردگرد ہیں ان کی زبان سے نکلا کہ تمہارے چہرے بگڑ جائیں واپس لوٹ جاؤ بس یہ کہنا تھا کہ ہمیں شکست ہو گئی یہاں تک کہ مسلمان ہمارے کندھوں پر سوار ہو گئے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:3151] ‏‏‏‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں بھی اس لشکر میں تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف اسیّ [80] ‏‏‏‏ مہاجر و انصار رہ گئے تھے ہم نے پیٹھ نہیں دکھائی تھی ہم پر اللہ تعالیٰ نے اطمینان و سکون نازل فرما دیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار دشمنوں کی طرف بڑھ رہے تھے جانور نے ٹھوکر کھائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم زین پر سے نیچے کی طرف جھک گئے میں نے آواز دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اونچے ہو جائیے اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونچا ہی رکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مٹھی مٹی کی تو بھر دو۔‏‏‏‏“ میں نے بھر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کافروں کی طرف پھینکی جس سے ان کی آنکھیں بھر گئیں پھر فرمایا: ”مہاجر و انصار کہاں ہیں“؟ میں نے کہا: ”یہیں ہیں۔‏‏‏‏“ فرمایا: ”انہیں آواز دو“ میرا آواز دینا تھا کہ وہ تلواریں تولے ہوئے لپک لپک کر آ گئے۔ اب تو مشرکین کی کچھ نہ چلی اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:454/1:حسن] ‏‏‏‏

بیہیقی کی ایک روایت میں ہے شیبہ بن عثمان کہتے ہیں کہ ”حنین کے دن جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں دیکھا کہ لشکر شکست کھا کر بھاگ کھڑا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تنہا رہ گئے ہیں تو مجھے بدر والے دن اپنے باپ اور چچا کا مارنا یاد آگیا کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔ میں نے اپنے جی میں کہا کہ ان کے انتقام لینے کا اس سے اچھا موقعہ اور کون سا ملے گا؟ آؤ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دوں۔ اس ارادے سے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب سے بڑھا لیکن وہاں میں نے سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو پایا۔ سفید چاندی جیسی زرہ پہنے مستعد کھڑے ہیں۔ میں نے سوچا کہ یہ چچا ہیں اپنے بھتیجے کی پوری حمایت کریں گے چلو بائیں جانب سے جا کر اپنا کام کروں، ادھر سے آیا تو دیکھا ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب کھڑے ہیں، میں نے کہا ان کے بھی چچا کے لڑکے بھائی ہیں، اپنے بھائی کی ضرور حمایت کریں گے پھر میں کاوا کاٹ کر پیچھے کی طرف آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گیا اب یہی باقی رہ گیا تھا کہ تلوار سونپ کر وار کر دوں کہ میں نے دیکھا کہ ایک آگ کا کوڑا بجلی کی طرف چمک کر مجھ پر پڑنا چاہتا ہے میں نے آنکھیں بند کر لیں اور پچھلے پاؤں پیچھے کی طرف ہٹا۔ اسی وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری جانب التفات کیا اور فرمایا: ”شیبہ میرے پاس آ۔ اے اللہ اس کا شیطان دور کر دے“، اب میں نے آنکھ کھول کر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو واللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے میرے کانوں اور آنکھوں سے بھی زیادہ محبوب تھے۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیبہ جا کافروں سے لڑ۔‏‏‏‏“ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:145/5:ضعیف] ‏‏‏‏ شیبہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اس جنگ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی تھا لیکن میں اسلام کی وجہ سے یا اسلام کی معرفت کی بناء پر نہیں نکلا تھا بلکہ میں نے کہا واہ! یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہوازن قریش پر غالب آ جائیں؟

میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی کھڑا ہوا تھا جو میں نے ابلق رنگ کے گھوڑے دیکھ کر کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں تو ابلق رنگ کے گھوڑے دیکھ رہا ہوں۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیبہ وہ تو سواۓ کافروں کے کسی کو نظر نہیں آتے۔‏‏‏‏“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مار کر دعا کی یا اللہ! شیبہ کو ہدایت کر، پھر دوبارہ سہ بارہ یہی کیا اور یہی کہا۔ واللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ہٹنے سے پہلے ہی ساری دنیا سے زیادہ محبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی میں اپنے دل میں پانے لگا۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:145/5:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”میں اس غزوے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب تھا میں نے دیکھا کہ کوئی چیز آسمان سے اتر رہی ہے چیونٹیوں کی طرح اس نے میدان کو گھیر لیا اور اسی وقت مشرکوں کے قدم اکھڑ گئے واللہ! ہمیں کوئی شک نہیں کہ وہ آسمانی مدد تھی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:146/5:ضعیف] ‏‏‏‏ یزید بن عامر سوائ اپنے کفر کے زمانے میں جنگ حنین میں کافرں کے ساتھ تھے بعد میں مسلمان ہو گئے تھے۔ ان سے جب دریافت کیا جاتا کہ اس موقعہ پر تمہارے دلوں پر رعب و خوف کا کیا حال تھا؟ تو وہ طشت میں کنکریاں رکھ کر بجا کر کہتے: ”بس یہی آواز ہمیں ہمارے دل سے آ رہی تھی بےطرح کلیجہ اچھل رہا تھا اور دل دہل رہا تھا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [طبرانی کبیر:237،238/22:ضعیف] ‏‏‏‏ صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے رعب کے ساتھ مدد دی گئی ہے۔ مجھے جامع کلمات دیئے گئے ہیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:523] ‏‏‏‏ الغرض کفار کو اللہ تعالیٰ نے یہ سزا دی اور یہ ان کے کفر کا بدلہ تھا۔ باقی ہوازن پر اللہ تعالیٰ نے مہربانی کی انہیں توبہ نصیب ہوئی مسلمان ہو کر خدمت مخدوم میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مندی کے ساتھ لوٹتے ہوئے مکہ مکرمہ کے قریب جعرانہ کے پاس پہنچ چکے تھے۔

جنگ کو بیس دن کے قریب گذر چکے تھے اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اب تم دو چیزوں میں سے ایک پسند کر لو یا تو قیدی یا مال“؟ انہوں نے قیدیوں کا واپس لینا پسند کیا ان قیدیوں کی چھوٹوں بڑوں کی، مرد عورت کی، بالغ نابالغ کی تعداد چھ ہزار تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب انہیں لوٹا دیئے ان کا مال بطور غنیمت کے مسلمانوں میں تقسیم ہوا، اور نو مسلم جو مکہ کے آزاد کردہ تھے انہیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال میں سے دیا کہ ان کے دل اسلام کی طرف پورے مائل ہو جائیں ان میں سے ایک ایک کو سو سو اونٹ عطا فرمائے۔ مالک بن عوف نصری کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سو اونٹ دیئے اور اس کو اس کی قوم کا سردار بنا دیا جیسے کہ وہ تھا۔ اس کی تعریف میں اسی نے اپنے مشہور قصیدے میں کہا ہے کہ ”میں نے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا نہ کسی اور کو دیکھا نہ سنا، دینے میں اور بخشش و عطا کرنے میں اور قصوروں سے درگزر کرنے میں دنیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ثانی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کل قیامت کے دن ہونے والے تمام امور سے مطلع فرماتے رہتے تھے۔ یہی نہیں شجاعت اور بہادری میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بےمثل ہیں میدان جنگ میں گرجتے ہوئے شیر کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم دشمنوں کی طرف بڑھتے ہیں۔‏‏‏‏“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
ثُمَّ یَتُوۡبُ اللّٰہُ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر (تم یہ بھی دیکھ چکے ہو کہ) اس طرح سزا دینے کے بعد اللہ جس کو چاہتا ہے توبہ کی توفیق بھی بخش دیتا ہے، اللہ در گزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر اس کے بعد بھی جس پر چاہے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی توجہ فرمائے گا اللہ ہی بخشش ومہربانی کرنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
پھر اس کے بعد اللہ جسے چاہے گا توبہ دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اس کے بعد اللہ جس کی چاہتا ہے توبہ قبول کرتا ہے (اور اسے توفیقِ توبہ دیتا ہے) اور اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اس کے بعد اللہ توبہ کی توفیق دے گا جسے چاہے گا اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نصرتِ الٰہی کا ذکر ٭٭

مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”برأت کی یہ پہلی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بہت بڑا احسان مومنوں پر ذکر فرما رہا ہے کہ اس نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کی آپ امداد فرمائی انہیں دشمنوں پر غالب کر دیا اور ایک جگہ نہیں ہر جگہ اس کی مدد شامل حال رہی اسی وجہ سے فتح و ظفر نے کبھی ہم رکابی نہ چھوڑی۔‏‏‏‏“ یہ صرف تائید الہٰی تھی نہ کہ مال اسباب اور ہتھیار کی فراوانی اور نہ تعداد کی زیادتی۔ یاد کر لو حنین والے دن ذرا تمہیں اپنی تعداد کی کثرت پر ناز ہو گیا تو کیا حال ہوا؟ پیٹھ دکھا کر بھاگ نکلے تھے۔ معدودے چند ہی پیغمبرِ رب صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ٹھہر گئے اسی وقت اللہ تعالیٰ کی مدد سے چھوٹی چھوٹی جماعتوں نے بڑے بڑے گروہ کے منہ پھیر دیئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی امداد صابروں کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہ واقعہ ہم عنقریب تفصیل وار بیان کریں، ان شاءاللہ تعالیٰ۔ مسند کی حدیث میں ہے بہترین ساتھی چار ہیں اور بہترین چھوٹا لشکر چار سو کا ہے اور بہترین بڑا لشکر چار ہزار کا ہے اور بارہ ہزار کی تعداد تو اپنی کمی کے باعث کبھی مغلوب نہیں ہو سکتی۔ یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2611،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن غریب بتلاتے ہیں۔ یہ روایت سوائے ایک راوی کے باقی سب راویوں نے مرسلاً بیان کی ہے ابن ماجہ اور بہیقی میں بھی یہ روایت اسی طرح مروی ہے، واللہ اعلم۔ ٨ ہجری میں فتح مکہ کے بعد ماہِ شوال میں جنگ حنین ہوئی تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ سے فارغ ہوئے اور ابتدائی امور سب انجام دے چکے اور عموماً مکی حضرات مسلمان ہو چکے اور انہیں آپ آزاد بھی کر چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ قبیلہ ہوازن جمع ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے پر آمادہ ہے۔ ان کا سردار مالک بن عوف نضری ہے۔

ثقیف کا سارا قبیلہ ان کے ساتھ ہے اسی طرح بنو جشم، بنو سعد بن بکر بھی ہیں اور بنو ہلال کے بھی کچھ لوگ ہیں اور کچھ لوگ بنو عمرو بن عامر کے اور عون بن عامر کے بھی ہیں یہ سب لوگ مع اپنی عورتوں اور بچوں اور گھریلو مال کے میدان میں نکل کھڑے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ اپنی بکریوں اور اونٹوں کو بھی انہوں نے ساتھ رکھا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس لشکر کو لے کر جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مہاجرین اور انصار وغیرہ کا تھا ان کے مقابلے کے لیے چلے۔ تقریباً دو ہزار تو مسلم مکی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو لیے۔ مکہ اور طائف کے درمیان کی وادی میں دونوں لشکر مل گئے اس جگہ کا نام حنین تھا۔ صبح سویرے منہ اندھیرے قبیلہ ہوازن جو کمین گاہ میں چپھے ہوئے تھے انہوں نے بےخبری میں مسلمانوں پر اچانک حملہ کر دیا بےپناہ تیر اندازی کرتے ہوئے آگے بڑھے اور تلواریں چلانی شروع کر دیں۔ یہاں تک کہ مسلمانوں میں دفعتاً ابتری پھیل گی اور یہ منہ پھر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف بڑھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سفید خچر پر سوار تھے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانور کی دائیں جانب سے نکیل تھامے ہوئے تھے اور سیدنا ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بائیں طرف سے نکیل پکڑے ہوئے تھے جانور کی تیزی کو یہ لوگ روک رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم با آواز بلند اپنے آپ کو پہنچوا رہے تھے مسلمانوں کو واپسی کا حکم فرما رہے تھے اور ندا کرتے جاتے تھے کہ اللہ کے بندو! کہاں چلے میری طرف آؤ میں اللہ تعالیٰ کا سچا رسول ہوں میں نبی ہوں جھوٹا نہیں ہوں، میں اولادِ عبدالمطلب میں سے ہوں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت صرف اسی یا سو کے قریب صحابہ رضی اللہ عنہم رہ گئے تھے۔ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ، سیدنا ایمن بن ام ایمن رضی اللہ عنہ، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ وغیرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو جو بہت بلند آواز والے تھے حکم دیا کہ درخت کے نیچے بیعت کرنے والے میرے صحابیوں کو آواز دو کہ وہ نہ بھاگیں۔ پس آپ نے یہ کہہ کر اے ببول کے درخت تلے بیعت کرنے والو! اے سورۃ البقرہ کے حاملو! پس یہ آواز ان کے کانوں میں پہنچنی تھی کہ انہوں نے ہر طرف سے «لبیک لبیک» کہنا شروع کیا اور آواز کی جانب لپک پڑے اور اسی وقت لوٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس آ کر کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ اگر کسی کا اونٹ اڑ گیا تو اس نے اپنی زرہ پہن لی اونٹ پر سے کود گیا اور پیدل سرکار نبوت میں حاضر ہو گیا۔ جب کچھ جماعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد جمع ہو گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعا مانگنی شروع کی کہ باری تعالیٰ جو وعدہ تیرا میرے ساتھ ہے اسے پورا فرما۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین سے مٹی کی ایک مٹھی بھرلی اور اسے کافروں کی طرف پھینکا جس سے ان کی آنکھیں اور ان کا منہ بھر گیا وہ لڑائی کے قابل نہ رہے۔ ادھر مسلمانوں نے ان پر دھاوا بول دیا ان کے قدم اکھڑ گئے بھاگ نکلے۔

مسلمانوں نے ان کا پیچھا کیا۔ اور مسلمانوں کی باقی فوج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی اتنی دیر میں تو انہوں نے ان کفار کو قید کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈھیر کر دیا۔ مسند احمد میں ہے سیدنا عبدالرحمٰن فہری رضی اللہ عنہ جن کا نام یزید بن اسید ہے یا یزید بن انیس ہے اور کرز بھی کہا گیا ہے فرماتے ہیں کہ ”میں اس معرکے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا دن سخت گرمی والا تھا دوپہر کو ہم درختوں کے سائے تلے ٹھہر گئے۔ سورج ڈھلنے کے بعد میں نے اپنے ہتھیار لگا لئے اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے میں پہنچا سلام کے بعد میں نے کہا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! ہوائیں ٹھنڈی ہو گئی ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ٹھیک ہے“ [آواز دی] ‏‏‏‏، بلال رضی اللہ عنہ! اس وقت بلال رضی اللہ عنہ ایک درخت کے سائے میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنتے ہی پرندے کی طرح گویا اڑ کر «لبیک و سعدیک و انا فداوک» کہتے ہوئے حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری سواری کسو۔‏‏‏‏“ اسی وقت انہوں نے زین نکالی جس کے دونوں پلے کھجور کی رسی کے تھے جس میں کوئی فخر و غرور کی چیز نہ تھی۔ جب کس چکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے ہم نے صف بندی کر لی شام اور رات اسی طرح گذری پھر دونوں لشکروں کی مڈبھیڑ ہو گئی تو مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے جیسے قرآن نے فرمایا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی کہ اے اللہ کے بندو! میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں اے مہاجرین! میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں، پھر اپنے گھوڑے سے اتر پڑے مٹی کی ایک مٹھی بھرلی اور یہ فرما کر ان کے چہرے بگڑ جائیں کافروں کی طرف پھینک دی۔ اسی سے اللہ نے انہیں شکست دے دی۔ ان مشرکوں کا بیان ہے کہ ہم میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جس کی آنکھوں اور منہ میں یہ مٹی نہ آئی ہو اسی وقت ہمیں ایسا معلوم ہونے لگا کہ گویا زمین و آسمان کے درمیان لوہا کسی لوہے کی کے طشت پر بج رہا ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:276/5:حسن] ‏‏‏‏

ایک روایت میں ہے کہ بھاگے ہوئے مسلمان جب ایک سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس پہنچ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت حملہ کا حکم دے دیا۔ اول تو منادی انصار کی تھی پھر خزرج ہی پر رہ گئی۔ یہ قبیلہ لڑائی کے وقت بڑا ہی صابر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر سے میدان جنگ کا نظارہ دیکھا اور فرمایا اب لڑائی گرما گرمی سے ہو رہی ہے اس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کافر کو چاہا قتل کرا دیا جسے چاہا قید کرا دیا اور ان کے مال اور اولادیں اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فے میں دلا دیں۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا کہ ”اے ابو عمارہ! کیا تم لوگ رسول اللہ علیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے حنین والے دن بھاگ نکلے تھے“؟ آپ نے فرمایا: ”لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم پیچھے نہ ہٹا تھا بات یہ ہے کہ قبیلہ ہوازن کے لوگ تیر اندازی کے فن کے استاد تھے اللہ کے فضل سے ہم نے انہیں پہلے ہی حملے میں شکست دے دی لیکن جب لوگ مال غنیمت پر جھک پڑے تو انہوں نے موقع دیکھ کر پھر جو وقار اندازی کے ساتھ تیروں کی بارش برسائی تو یہاں بھگڈر مچ گئی۔ سبحان اللہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل شجاعت اور پوری بہادری کا یہ موقع تھا، لشکر بھاگ نکلا ہے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی تیز سواری پر نہیں جو بھاگنے دوڑنے میں کام آئے بلکہ خچر پر سوار ہیں اور مشرکوں کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اپنے آپ کو چھپاتے نہیں بلکہ اپنا نام اپنی زبان سے پکار پکار کر بتلا رہے ہیں کہ نہ پہنچاننے والے بھی پہنچا لیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:376/3:حسن] ‏‏‏‏ خیال فرمائیے کہ کس قدر ذات واحد پر توکل ہے اور کتنا کامل یقین ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی مدد پر ہے جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ امر رسالت کو پورا کر کے ہی رہے گا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو دنیا کے اور دینوں پر غالب کر کے ہی رہے گا فصلوات اللہ وسلامہ علیہ ابداً ابدا۔ اب اللہ تعالیٰ اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اور مسلمانوں کے اوپر سکینت نازل فرماتا ہے اور اپنے فرشتوں کا لشکر بھیجتا ہے جنہیں کوئی نہ دیکھتا تھا۔

ایک مشرک کا بیان ہے کہ حنین والے دن جب ہم مسلمانوں سے لڑنے لگے ایک بکری کا دودھ نکالا جائے اتنی دیر میں ہم نے بھی انہیں اپنے سامنے جمنے نہیں دیا فوراً بھاگ کھڑے ہوئے اور ہم نے ان کا تعاقب شروع کیا یہاں تک کہ ہمیں ایک صاحب سفید خچر پر سوار نظر آۓ، ہم نے دیکھا یہ کہ خوبصورت نورانی سفید چہرے والے کچھ لوگ ان کے اردگرد ہیں ان کی زبان سے نکلا کہ تمہارے چہرے بگڑ جائیں واپس لوٹ جاؤ بس یہ کہنا تھا کہ ہمیں شکست ہو گئی یہاں تک کہ مسلمان ہمارے کندھوں پر سوار ہو گئے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:3151] ‏‏‏‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں بھی اس لشکر میں تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف اسیّ [80] ‏‏‏‏ مہاجر و انصار رہ گئے تھے ہم نے پیٹھ نہیں دکھائی تھی ہم پر اللہ تعالیٰ نے اطمینان و سکون نازل فرما دیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار دشمنوں کی طرف بڑھ رہے تھے جانور نے ٹھوکر کھائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم زین پر سے نیچے کی طرف جھک گئے میں نے آواز دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اونچے ہو جائیے اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونچا ہی رکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مٹھی مٹی کی تو بھر دو۔‏‏‏‏“ میں نے بھر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کافروں کی طرف پھینکی جس سے ان کی آنکھیں بھر گئیں پھر فرمایا: ”مہاجر و انصار کہاں ہیں“؟ میں نے کہا: ”یہیں ہیں۔‏‏‏‏“ فرمایا: ”انہیں آواز دو“ میرا آواز دینا تھا کہ وہ تلواریں تولے ہوئے لپک لپک کر آ گئے۔ اب تو مشرکین کی کچھ نہ چلی اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:454/1:حسن] ‏‏‏‏

بیہیقی کی ایک روایت میں ہے شیبہ بن عثمان کہتے ہیں کہ ”حنین کے دن جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں دیکھا کہ لشکر شکست کھا کر بھاگ کھڑا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تنہا رہ گئے ہیں تو مجھے بدر والے دن اپنے باپ اور چچا کا مارنا یاد آگیا کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔ میں نے اپنے جی میں کہا کہ ان کے انتقام لینے کا اس سے اچھا موقعہ اور کون سا ملے گا؟ آؤ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دوں۔ اس ارادے سے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب سے بڑھا لیکن وہاں میں نے سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو پایا۔ سفید چاندی جیسی زرہ پہنے مستعد کھڑے ہیں۔ میں نے سوچا کہ یہ چچا ہیں اپنے بھتیجے کی پوری حمایت کریں گے چلو بائیں جانب سے جا کر اپنا کام کروں، ادھر سے آیا تو دیکھا ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب کھڑے ہیں، میں نے کہا ان کے بھی چچا کے لڑکے بھائی ہیں، اپنے بھائی کی ضرور حمایت کریں گے پھر میں کاوا کاٹ کر پیچھے کی طرف آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گیا اب یہی باقی رہ گیا تھا کہ تلوار سونپ کر وار کر دوں کہ میں نے دیکھا کہ ایک آگ کا کوڑا بجلی کی طرف چمک کر مجھ پر پڑنا چاہتا ہے میں نے آنکھیں بند کر لیں اور پچھلے پاؤں پیچھے کی طرف ہٹا۔ اسی وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری جانب التفات کیا اور فرمایا: ”شیبہ میرے پاس آ۔ اے اللہ اس کا شیطان دور کر دے“، اب میں نے آنکھ کھول کر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو واللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے میرے کانوں اور آنکھوں سے بھی زیادہ محبوب تھے۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیبہ جا کافروں سے لڑ۔‏‏‏‏“ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:145/5:ضعیف] ‏‏‏‏ شیبہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اس جنگ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی تھا لیکن میں اسلام کی وجہ سے یا اسلام کی معرفت کی بناء پر نہیں نکلا تھا بلکہ میں نے کہا واہ! یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہوازن قریش پر غالب آ جائیں؟

میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی کھڑا ہوا تھا جو میں نے ابلق رنگ کے گھوڑے دیکھ کر کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں تو ابلق رنگ کے گھوڑے دیکھ رہا ہوں۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیبہ وہ تو سواۓ کافروں کے کسی کو نظر نہیں آتے۔‏‏‏‏“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مار کر دعا کی یا اللہ! شیبہ کو ہدایت کر، پھر دوبارہ سہ بارہ یہی کیا اور یہی کہا۔ واللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ہٹنے سے پہلے ہی ساری دنیا سے زیادہ محبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی میں اپنے دل میں پانے لگا۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:145/5:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”میں اس غزوے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب تھا میں نے دیکھا کہ کوئی چیز آسمان سے اتر رہی ہے چیونٹیوں کی طرح اس نے میدان کو گھیر لیا اور اسی وقت مشرکوں کے قدم اکھڑ گئے واللہ! ہمیں کوئی شک نہیں کہ وہ آسمانی مدد تھی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:146/5:ضعیف] ‏‏‏‏ یزید بن عامر سوائ اپنے کفر کے زمانے میں جنگ حنین میں کافرں کے ساتھ تھے بعد میں مسلمان ہو گئے تھے۔ ان سے جب دریافت کیا جاتا کہ اس موقعہ پر تمہارے دلوں پر رعب و خوف کا کیا حال تھا؟ تو وہ طشت میں کنکریاں رکھ کر بجا کر کہتے: ”بس یہی آواز ہمیں ہمارے دل سے آ رہی تھی بےطرح کلیجہ اچھل رہا تھا اور دل دہل رہا تھا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [طبرانی کبیر:237،238/22:ضعیف] ‏‏‏‏ صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے رعب کے ساتھ مدد دی گئی ہے۔ مجھے جامع کلمات دیئے گئے ہیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:523] ‏‏‏‏ الغرض کفار کو اللہ تعالیٰ نے یہ سزا دی اور یہ ان کے کفر کا بدلہ تھا۔ باقی ہوازن پر اللہ تعالیٰ نے مہربانی کی انہیں توبہ نصیب ہوئی مسلمان ہو کر خدمت مخدوم میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مندی کے ساتھ لوٹتے ہوئے مکہ مکرمہ کے قریب جعرانہ کے پاس پہنچ چکے تھے۔

جنگ کو بیس دن کے قریب گذر چکے تھے اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اب تم دو چیزوں میں سے ایک پسند کر لو یا تو قیدی یا مال“؟ انہوں نے قیدیوں کا واپس لینا پسند کیا ان قیدیوں کی چھوٹوں بڑوں کی، مرد عورت کی، بالغ نابالغ کی تعداد چھ ہزار تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب انہیں لوٹا دیئے ان کا مال بطور غنیمت کے مسلمانوں میں تقسیم ہوا، اور نو مسلم جو مکہ کے آزاد کردہ تھے انہیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال میں سے دیا کہ ان کے دل اسلام کی طرف پورے مائل ہو جائیں ان میں سے ایک ایک کو سو سو اونٹ عطا فرمائے۔ مالک بن عوف نصری کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سو اونٹ دیئے اور اس کو اس کی قوم کا سردار بنا دیا جیسے کہ وہ تھا۔ اس کی تعریف میں اسی نے اپنے مشہور قصیدے میں کہا ہے کہ ”میں نے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا نہ کسی اور کو دیکھا نہ سنا، دینے میں اور بخشش و عطا کرنے میں اور قصوروں سے درگزر کرنے میں دنیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ثانی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کل قیامت کے دن ہونے والے تمام امور سے مطلع فرماتے رہتے تھے۔ یہی نہیں شجاعت اور بہادری میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بےمثل ہیں میدان جنگ میں گرجتے ہوئے شیر کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم دشمنوں کی طرف بڑھتے ہیں۔‏‏‏‏“
27۔ 1 حُنَیْن مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی ہے۔ یہاں ھَوَاذِن اور ثَقِیْف رہتے تھے، یہ دونوں قبیلے تیر اندازی میں مشہور تھے۔ یہ مسلمانوں کے خلاف لڑنے کی تیاری کر رہے تھے جس کا علم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوا تو آپ 21 ہزار کا لشکر لے کر ان قبیلوں سے جنگ کے لئے حنین تشریف لے گئے، یہ فتح مکہ کے 18، 19 دن بعد، شوال کا واقعہ ہے۔ مذکورہ قبیلوں نے بھرپور تیاری کر رکھی تھی اور مختلف کمین گاہوں میں تیر اندازوں کو مقرر کردیا تھا۔ ادھر مسلمانوں میں یہ عجب پیدا ہوگیا کہ آج کم از کم قلت کی وجہ سے ہم مغلوب نہیں ہونگے۔ یعنی اللہ کی مدد کے بجائے اپنی کثرت تعداد پر اعتماد زیادہ ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کو یہ عجب کا کلمہ پسند نہیں آیا جب ہوازن کے تیر اندازوں نے مختلف کمین گاہوں سے مسلمانوں کے لشکر پر یک بارگی تیر اندازی کی تو اس غیر متوقع اور اچانک تیروں کی بچھاڑ سے مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ میدان میں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سو کے قریب مسلمان رہ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو پکار رہے تھے ' اللہ کے بندو! میرے پاس آؤ میں اللہ کا رسول ہوں ' کبھی یہ رجزیہ کلمہ پڑھتے اَنَا النَّبِیّْ لَا کَذ ِبْ۔ اَنَا ابنُ عَبْدِ الْمُظَّلِبْ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس کو (جو نہایت بلند آواز تھے) حکم دیا کہ مسلمانوں کو جمع کرنے کے لئے آوازیں دیں۔ چناچہ ان کی ندا سن کر مسلمان سخت پشیمان ہوئے اور دوبارہ میدان میں آگئے اور پھر اس طرح جم کر لڑے کہ اللہ نے فتح عطا فرمائی، اللہ تعالیٰ کی مدد بھی حاصل ہوئی، جس سے ان کے دلوں سے دشمن کا خوف دور ہوگیا، دوسرے فرشتوں کا نزول ہوا۔ اس جنگ میں مسلمانوں نے چھ ہزار کافروں کو قیدی بنایا (جنہیں بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی درخواست پر چھوڑ دیا گیا اور بہت سا مال غنیمت حاصل ہوا، جنگ کے بعد ان کے بہت سے سردار بھی مسلمان ہوگئے یہاں 3 آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کا مختصر ذکر فرمایا ہے۔
(آیت27) ➊ {ثُمَّ يَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ:} چنانچہ غزوۂ حنین کے تقریباً بیس روز بعد ہوازن کے بقیہ لوگ مسلمان ہو کر جعرانہ کے مقام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان لوگوں سے رضاعی رشتہ بھی تھا، کیونکہ آپ کی رضاعی ماں حلیمہ رضی اللہ عنہا انھی سے تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو مسلمان ہونے کی توفیق بخشی، یہ اپنے اموال اور قیدی واپس لینے کی درخواست لے کر آئے۔ آپ نے فرمایا: ”تم نے آنے میں دیر کر دی، میں نے غنیمت تقسیم کرنے سے پہلے تمھارا بہت انتظار کیا، اب دیکھ رہے ہو یہ لشکر میرے ساتھ ہے، اب ایک چیز کا انتخاب کر لو، یا اپنے اموال لے لو یا قیدی۔“ انھوں نے کہا، آپ ہمارے قیدی آزاد کر دیں۔ چنانچہ آپ نے ان کے قیدی جو ابن کثیر کے مطابق (عورتیں بچے ملا کر) چھ ہزار تھے، سب مسلمانوں کو ترغیب دلا کر آزاد کر دیے، البتہ مال غنیمت واپس نہیں کیا۔ [ بخاری، المغازی، باب قول اللہ تعالٰی: { ویوم حنین…}: ۴۳۱۸، ۴۳۱۹ ] ➋ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے عرب کے غزوات کاآغاز بدر سے اور خاتمہ حنین سے کیا، اس لیے یہاں دونوں کو یکے بعد دیگرے ملا کر ذکر فرمایا، ان دونوں کے درمیان سات سال کا فاصلہ تھا، اس کے ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے مقابلے میں عرب کی جنگ کا انگارا بجھ گیا۔ پہلی جنگ نے انھیں خوف زدہ کرکے ان کی قوت توڑ دی تھی، آخری جنگ نے ان کی قوت کا خاتمہ کر دیا، ان کا اسلحہ بے اثر کر دیا اور ان کی جماعت کو اس طرح پیسا کہ ان کے لیے اسلام میں داخل ہونے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ ادھر اس آخری جنگ میں مسلمانوں کو یہ سبق بھی خوب یاد کروا دیا کہ جنگ میں فتح تمھاری کثرت یا اسلحہ کی برتری کی وجہ سے نہیں بلکہ دین کی برکت اور اللہ کی مدد سے حاصل ہوتی ہے۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡمُشۡرِکُوۡنَ نَجَسٌ فَلَا یَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِہِمۡ ہٰذَا ۚ وَ اِنۡ خِفۡتُمۡ عَیۡلَۃً فَسَوۡفَ یُغۡنِیۡکُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖۤ اِنۡ شَآءَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے ایمان لانے والو، مشرکین ناپاک ہیں لہٰذا اس سال کے بعد یہ مسجد حرام کے قریب نہ پھٹکنے پائیں اور اگر تمہیں تنگ دستی کا خوف ہے تو بعید نہیں کہ اللہ چاہے تو تمہیں ا پنے فضل سے غنی کر دے، اللہ علیم و حکیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! بے شک مشرک بالکل ہی ناپاک ہیں وه اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس بھی نہ پھٹکنے پائیں اگر تمہیں مفلسی کا خوف ہے تو اللہ تمہیں دولت مند کر دے گا اپنے فضل سے اگر چاہے اللہ علم وحکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! مشرک نرے ناپاک ہیں تو اس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں اور اگر تمہاری محتاجی کا ڈر ہے تو عنقریب اللہ تمہیں دولت مند کردے گا اپنے فضل سے اگر چاہے بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! مشرکین سراسر نجس و ناپاک ہیں سو وہ اس سال (سنہ ۹ ہجری) کے بعد مسجد الحرام کے قریب بھی نہ آنے پائیں۔ اور اگر تمہیں ان کی آمد و رفت کے بند ہونے سے تنگدستی کا اندیشہ ہے تو عنقریب خدا اپنے فضل و کرم سے تمہیں تونگر بنا دے گا۔ بے شک اللہ تعالیٰ بڑا جاننے والا، بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بات یہی ہے کہ مشرک لوگ ناپاک ہیں، پس وہ اپنے اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ آئیں اور اگر تم کسی قسم کے فقر سے ڈرتے ہو تو اللہ جلد ہی تمھیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا، اگر اس نے چاہا۔ بےشک اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کو حدود حرم سے نکال دو ٭٭

اللہ تعالیٰ احکم الحاکمین اپنے پاک دین والے پاکیزہ اور طہارت والے مسلمان بندوں کو حکم فرماتا ہے کہ دین کی رو سے نجس مشرکوں کو بیت اللہ کے پاس نہ آنے دیں۔ یہ آیت سنہ 9ہجری میں نازل ہوئی اسی سال نبی کریم رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیجا اور حکم دیا کہ مجمع حج میں اعلان کر دو کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کو نہ آئے اور کوئی شخص ننگا بیت اللہ کا طواف نہ کرے۔ اس شرعی حکم کو اللہ تعالیٰ قادر و قیوم نے یوں ہی پورا کیا کہ نہ وہاں مشرکوں کو داخلہ نصیب ہوا تو نہ کسی نے اس کے بعد عریانی کی حالت میں اللہ تعالیٰ کے گھر کا طواف کیا۔ ۱؎ [مسند احمد:392/3:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما غلام اور ذمی شخص کو مستثنیٰ بتاتے ہیں۔ مسند کی حدیث میں فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ہماری اس مسجد میں اس سال کے بعد سوائے معاہدہ والے اور تمہارے غلاموں کے اور کوئی کافر نہ آئے۔ ۱؎ [مسند احمد:339/3:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ لیکن اس مرفوع سے زیادہ صحیح سند والی موقوف روایت ہے۔ خلیفتہ المسلمین سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ نے فرمان جاری کر دیا تھا کہ یہود و نصرانی کو مسلمانوں کی مسجدوں میں نہ آنے دو۔ اس منع کرنے میں آپ اس آیت کی ماتحتی میں تھے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”حرم سارا اس حکم میں مثل مسجد الحرام کے ہے۔‏‏‏‏“ یہ آیت مشرکوں کی نجاست پر بھی دلیل ہے۔ صحیح حدیث میں ہے مومن نجس نہیں ہوتا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:283] ‏‏‏‏ باقی رہی یہ بات کہ مشرکوں کا بدن اور ذات بھی نجس ہے یا نہیں، پس جمہور کا قول تو یہ ہے کہ نجس نہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کا ذبیحہ حلال کیا ہے۔

بعض ظاہریہ کہتے ہیں کہ مشرکوں کے بدن بھی ناپاک ہی۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جو ان سے مصافحہ کرے وہ ہاتھ دھو ڈالے۔‏‏‏‏“ اس حکم پر بعض لوگوں نے کہا کہ ”پھر تو ہماری تجارت کا مندا ہو جائے گا ہمارے بازار بےرونق ہو جائیں گے اور بہت سے فائدے جاتے رہیں گے۔‏‏‏‏“ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ غنی و حمید فرماتا ہے کہ ”تم اس بات سے نہ ڈرو اللہ تعالیٰ تمہیں اور بہت سی صورتوں سے دلا دے گا تمہیں اہل کتاب سے جزیہ دلائے گا اور تمہیں غنی کر دے گا۔ تمہاری مصلحتوں کو تم سے زیادہ تمہارا رب جانتا ہے اس کا حکم اس کی ممانعت کسی نہ کسی حکمت سے ہی ہوتی ہے، یہ تجارت اتنے فائدے کی نہیں جتنا فائدہ وہ تمہیں جزیئے سے دے گا“، ان اہل کتاب سے جو اللہ تعالیٰ کے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قیامت کے منکر ہیں جو کسی نبی کے صحیح معنی میں اور پورے متبع نہیں بلکہ اپنی خواہشوں کے اور اپنے بڑوں کی تقلید کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اگر انہیں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی شریعت پر پورا ایمان ہوتا تو وہ ہمارے اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ضرور ایمان لاتے۔ ان کی بشارت تو ہر نبی دیتا رہا ان کی اتباع کا حکم ہر نبی نے دیا لیکن باوجود اس کے وہ اس اشرف الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کے انکاری ہیں پس اگلے نبیوں کے شرع سے بھی دراصل انہیں کوئی سروکار بھی نہیں اسی وجہ سے ان نبیوں کا زبانی اقرار ان کے لیے بےسود ہے کیونکہ یہ سید الانبیاء افضل الرسل خاتم النبین اکمل المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم سے کفر کرتے ہیں اس لیے ان سے بھی جہاد کرو۔

ان سے جہاد کی یہ پہلی آیت ہے اس وقت تک آس پاس کے مشرکین سے جنگ ہو چکی تھی ان میں سے اکثر توحید کے جھنڈے تلے آ چکے تھے جزیرۃ العرب میں اسلام نے جگہ کر لی تھی اب یہود و نصاریٰ کی خبر لینے اور انہیں راہ حق دکھانے کا حکم ہوا، سنہ 9 ہجری میں یہ حکم اترا اور آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم رومیوں سے جہاد کی تیاری کی لوگوں کو اپنے ارادے سے مطلع کیا مدینہ کے اردگرد کے عربوں کو آمادہ کیا اور تقریباً تیس ہزار کا لشکر لے کر روم کا رخ کیا بجز منافقین کے یہاں کوئی نہ رکا سوائے بعض کے۔ موسم سخت گرم تھا پھلوں کا وقت تھا روم سے جہاد کیلئے شام کے ملک کا دور دراز کا کٹھن سفر تھا تبوک تک تشریف لے گئے وہاں تقریباً بیس روز قیام فرمایا۔ پھر اللہ تعالیٰ سے استخارہ کر کے واپس لوٹے حالت کی تنگی اور لوگوں کی ضعیفی کی وجہ سے واپس لوٹے۔ جیسے کہ عنقریب اس کا واقعہ ان شاءاللہ تعالیٰ بیان ہو گا۔ اسی آیت سے استدلال کر کے بعض نے فرمایا ہے کہ جزیہ صرف اہل کتاب سے اور ان جیسوں سے ہی لیا جائے جیسے مجوس ہیں۔ چنانچہ ہجر کے مجسیوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیہ لیا تھا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3156] ‏‏‏‏ امام شافعی رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے اور مشہور مذہب امام احمد کا رحمہ اللہ بھی یہی ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”سب عجمیوں سے لیا جائے خواہ وہ اہل کتاب ہوں خواہ مشرک ہوں۔ ہاں عرب میں سے صرف اہل کتاب سے ہی لیا جائے۔‏‏‏‏“ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جزیئے کا لینا تمام کفار سے جائز ہے خواہ وہ کتابی ہوں یا مجوسی ہوں یا بت پرست وغیرہ ہوں۔ ان مذاہب کے دلائل وغیرہ کے بسط کی یہ جگہ نہیں واللہ اعلم۔ پس فرماتا ہے کہ جب تک وہ ذلت و خواری کے ساتھ اپنے ہاتھوں جزیہ نہ دیں انہیں نہ چھوڑو۔ پس اہل ذمہ کو مسلمانوں پر عزت و توقیر دینی اور انہیں اوج و ترقی دینی جائز نہیں۔ صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہود و نصاریٰ سے سلام کی ابتداء نہ کرو اور جب ان سے کوئی راستے میں مل جائے تو اسے تنگی سے مجبور کرو۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح مسلم:2167] ‏‏‏‏

یہی وجہ تھی جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان سے ایسی ہی شرطیں کی تھیں۔ سیدنا عبدالرحمٰن بن غنم اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنے ہاتھ سے عہد نامہ لکھ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیا تھا کہ اہل شام کے فلاں فلاں شہری لوگوں کی طرف سے یہ معاہدہ ہے امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کہ جب آپ کا لشکر ہم پر آئے ہم نے آپ سے اپنی جان، مال اور اہل و عیال کے لیے امن طلب کی ہم ان شرطوں پر وہ امن حاصل کرتے ہیں کہ ہم اپنے ان شہرں میں اور ان کے آس پاس کوئی گرجا گھر اور خانقاہ نیا نہیں بنائیں گے۔ اور نہ ایسے کسی خرابی والے مکان کی اصلاح کریں گے اور جو مٹ چکے ہیں انہی درست نہیں کریں گے۔ ان میں اگر کوئی مسلمان مسافر اترنا چاہے تو روکیں گے نہیں خواہ دن ہو خواہ رات ہو ہم ان کے دروازے راہ گزر اور مسافروں کے لیے کشادہ رکھیں گے اور جو مسلمان آئے ہم اس کی تین دن تک مہمانداری کریں گے ہم اپنے ان مکانوں یا رہائشی مکانوں وغیرہ میں کہیں کسی جاسوس کو نہ چھپائیں گے مسلمانوں سے کوئی دھوکہ فریب نہیں کریں گے اپنی اولاد کو قرآن نہ سکھائیں گے شرک کا اظہار نہ کریں گے نہ کسی کو شرک کی طرف بلائیں گے۔ ہم میں سے کوئی اگر اسلام قبول کرنا چاہے ہم اسے ہرگز نہ روکیں گے مسلمانوں کی توقیر و عزت کریں گے ہماری جگہ اگر وہ بیٹھنا چاہیں تو ہم اٹھ کر انہیں جگہ دے دیں گے ہم مسلمانوں سے کسی چیز میں برابری نہ کریں گے نہ لباس میں نہ جوتی میں نہ مانگ نکالنے میں، ہم ان کی زبانیں نہیں بولیں گے، ان کی کنیتیں نہیں رکھیں گے، زین والے گھوڑوں پر سواریاں نہ کریں گے نہ تلواریں لٹکائیں گے نہ اپنے ساتھ رکھیں گے۔ انگوٹھیوں پر عربی نقش نہیں کرائیں گے شراب فروشی نہیں کریں گے اپنے سروں کے اگلے بالوں کو تراشوا دیں گے اور جہاں کہیں ہوں گے زنار ضرورتاً ڈالیں رہیں گے صلیب کا نشان اپنے گرجوں پر ظاہر نہیں کریں گے۔

اپنی مذہبی کتابیں مسلمانوں کی گزر گاہوں اور بازاروں میں ظاہر نہیں کریں گے گرجوں میں ناقوس بلند آواز سے نہیں بجائیں گے۔ نہ مسلمانوں کی موجودگی میں با آواز بلند اپنی مذہبی کتابیں پڑھیں گے نہ اپنے مذہبی شعار کو راستوں پر کریں گے نہ اپنے مردوں پر اونچی آواز سے ہائے وائے کریں گے نہ ان کے ساتھ مسلمانوں کے راستوں میں آگ لے کر جائیں گے۔ مسلمانوں کے حصے میں آئے ہوئے غلام ہم نہ لیں گے مسلمانوں کی خیر خواہی ضرور کرتے رہیں گے ان کے گھروں میں جھانکیں گے نہیں۔ جب یہ عہد نامہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شرط اور بھی اس میں بڑھوائی کہ ہم کسی مسلمانوں کو ہرگز ماریں گے نہیں یہ تمام شرطیں ہمیں قبول و منظور ہیں اور ہمارے سب ہم مذہب لوگوں کو بھی۔ انہیں شرائط پر ہمیں امن ملی ہے اگر ان میں سے کسی ایک شرط کی بھی ہم خلاف ورزی کریں تو ہم سے آپ کا ذمہ الگ ہو جائے گا اور جو کچھ آپ اپنے دشمنوں اور مخالفوں سے کرتے ہیں ان تمام کے مستحق ہم بھی ہو جائیں گے۔
28۔ 1 مشرک کے (پلید، ناپاک) ہونے کا مطلب، عقائد و اعمال کے لحاظ سے ناپاک ہونا ہے۔ بعض کے نزدیک مشرک ظاہر و باطن دونوں اعتبار سے ناپاک ہے۔ کیونکہ وہ طہارت (صفائی و پاکیزگی) کا اس طرح اہتمام نہیں کرتا، جس کا حکم شریعت نے دیا ہے۔ 28۔ 2 یہ وہی حکم ہے جو سن 9 ہجری میں اعلان برات کے ساتھ کیا گیا تھا، جس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے ممانعت بعض کے نزدیک صرف مسجد حرام کے لئے ہے۔ ورنہ حسب ضرورت مشرکین دیگر مساجد میں داخل ہوسکتے ہیں جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثمامہ بن اثال کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھے رکھا تھا حتیٰ کہ اللہ نے ان کے دل میں اسلام کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ڈال دی اور وہ مسلمان ہوگئے۔ علاوہ ازیں اکثر علماء کے نزدیک یہاں مسجد حرام سے مراد پورا حرم ہے یعنی حدود حرم کے اندر مشرک کا داخلہ ممنوع ہے بعض آثار کی بنیاد پر اس حکم سے ذمی اور خدام کو مشثنیٰ کیا گیا ہے اسی طرح حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس سے استدلال کرتے ہوئے اپنے دور حکومت میں یہود و نصاریٰ کو بھی مسلمانوں کی مسجدوں میں داخلے سے ممانعت کا حکم جاری فرمایا تھا (ابن کثیر) 28۔ 2 مشرکین کی ممانعت سے بعض مسلمانوں کے دل میں یہ خیال آیا کہ حج کے موسم میں زیادہ اجتماع کی وجہ سے جو تجارت ہوتی ہے، یہ متاثر ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اس مفلسی (یعنی کاروبار کی کمی) سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ عنقریب اپنے فضل سے تمہیں غنی کر دے گا چناچہ فتوحات کی وجہ سے کثرت سے مال غنیمت مسلمانوں کو حاصل ہوا۔ اور پھر بتدریج سارا عرب بھی مسلمان ہوگیا اور حج کے موسم میں حاجیوں کی ریل پیل پھر اسی طرح ہوگئی جس طرح پہلے تھی بلکہ اس سے کہیں زیادہ ہوئی اور جو مسلسل روز افزوں ہی ہے۔
(آیت28) ➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ …:} زمخشری نے فرمایا: {” نَجَسٌ “ } مصدر ہے، کہا جاتا ہے {” نَجَِسَ نَجَسًا وَ قَذَِرَ قَذَرًا} (ع، ن) “ گندا، ناپاک، پلید ہونا۔ گویا تمام مشرک اتنے ناپاک ہیں کہ یوں سمجھو کہ وہ سراسر نجاست ہیں۔ ناپاک ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ عقائد و اعمال اور اخلاق کے لحاظ سے گندے ہیں، ان کی نجاست معنوی نجاست ہے، بدن ناپاک ہونا مراد نہیں کہ اسے ہاتھ لگنے یا اس کے ہاتھ لگانے سے کوئی چیز پلید ہو جاتی ہو، اس لیے اہل کتاب عورتوں سے نکاح کرنا، انھیں لونڈی و غلام بنا کر خدمت لینا جائز ہے اور یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مشرک عورت کے مشکیزوں کا پانی پیا۔ [ بخاری: ۳۵۷۱ ] اور آپ نے خیبر کے یہود کی دعوت قبول فرمائی۔ [ بخاری: ۲۶۱۷ ] اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کا ہاتھ یا جسم لگنے سے کوئی چیز پلید نہیں ہوتی۔ ویسے اگر دیکھا جائے تو مشرک بدنی طور پر بھی طہارت کا اہتمام نہیں کرتے، نہ استنجا، نہ غسل جنابت، نہ زیر ناف کی صفائی، نہ کسی نجاست سے اجتناب، پھر خنزیر کھانا، سگریٹ اور شراب پینا اور زنا کرنا ان کی عام روش ہے۔ الغرض مشرک جتنا بھی صاف ستھرا ہو، فرانس وغیرہ کی بنی ہوئی خوشبو جتنی بھی لگا لے اس کے جسم اور کپڑوں سے بد بو ختم نہیں ہوگی۔ مسلمان جتنا بھی میلا کچیلا ہو اس سے اس قسم کی بد بو کبھی نہیں آئے گی، بشرطیکہ نماز پڑھتا ہو، اگر نماز ہی نہیں پڑھتا تو مشرک کا اور اس کا معاملہ ایک جیسا ہی ہے۔ یہ عام مشاہدے کی بات ہے، اس لیے کفار کو مسلمان ہونے سے پہلے غسل کی تاکید کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو ناپاک قرار دے کر آئندہ کے لیے مسجد حرام کے قریب آنے سے بھی منع فرما دیا، چنانچہ جیسا کہ پہلے گزرا ہے ۹ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کروایا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک ہر گز حج نہیں کرے گا۔ قریب آنے سے ممانعت کا صاف مطلب ہے کہ غیر مسلم کا پورے حرم مکہ میں داخلہ منع ہے۔ مسند احمد کی ایک روایت ابن کثیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے نقل فرمائی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے اس سال کے بعد ہماری اس مسجد میں ذمی اور ان کے خادم کے سوا کوئی نہ آئے۔“ مسند احمد میں ایک اور روایت ہے: ”ہماری اس مسجد میں ہمارے اس سال کے بعد اہل کتاب اور ان کے خادموں کے سوا کوئی داخل نہ ہو۔“ مگر یہ دونوں روایتیں ثابت نہیں۔ شعیب الارنؤوط نے دونوں کی سند کو ضعیف کہا ہے، حسن بصری نے جابر رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا اور دو راوی اشعث بن سوار اور شریک ضعیف ہیں، لہٰذا کسی بھی غیر مسلم کو حرم مکہ میں داخلے کی اجازت نہیں، بلکہ اپنی آخری وصیت میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین اور یہود و نصاریٰ کو جزیرۂ عرب ہی سے نکال دینے کا حکم دیا تھا، چنانچہ اس وصیت کے مطابق امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ نے یہود و نصاریٰ کو بھی جزیرۂ عرب سے نکال دیا۔ ➋ مسجد حرام کے سوا دوسری مساجد میں غیر مسلم داخل ہو سکتا ہے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مشرکوں کو اپنی مسجد میں آنے کی اجازت دی اور ثمامہ کو مسجد کے ستون سے باندھنے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے۔ ➌ { وَ اِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً …: } غیر مسلموں کی سال بھر تجارت اور حج و عمرہ کے لیے آمد و رفت بند ہونے سے وہ سامان تجارت جو وہ لایا کرتے تھے اور دوسرے مالی فوائد جوان کی آمد سے اہل مکہ کو حاصل ہوتے تھے، لازماً ختم ہوتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اس اندیشے کو رفع کرنے اور مسلمانوں کو تسلی دینے کے لیے یہ الفاظ نازل فرمائے کہ تجارت اور کاروبار کی بندش کی فکر مت کرو، اللہ تعالیٰ چاہے گا تو تمھیں ضرور غنی کر دے گا، وہ سب کچھ جانتا ہے، یہ تو اس کے لیے کوئی بات ہی نہیں کہ وہ مسلمانوں کو کیسے غنی کرتا ہے، مگر اس کا ہر کام اور ہر طریقہ حکمت پر مبنی ہے۔ چنانچہ اس کے بعد فتوحات عالم کا وہ سلسلہ شروع ہوا کہ قیصر و کسریٰ کے خزانے مسلمانوں کے ہاتھ آئے اور وہ سب اللہ کے فضل سے غنی ہو گئے، پھر حج و عمرہ کرنے والے مسلمانوں کی اتنی کثرت ہوئی کہ اہل مکہ کے لیے فقر کا مسئلہ ہی نہ رہا۔ اس وقت ۱۴۳۱ھ میں تقریباً ۳۵ یا ۴۰ لاکھ حاجیوں نے حج ادا کیا ہے اور حکومت سعودیہ کا اندازہ ہے کہ چند ہی سال میں یہ تعداد ایک کروڑ تک پہنچ جائے گی اور حکومت اس کے مطابق باقاعدہ حرم کی عمارات اور رہائشی عمارات کی توسیع کے منصوبے پر نہایت تیزی کے ساتھ عمل کر رہی ہے۔ ➍ { اِنْ شَآءَ:} یہ بطور شرط نہیں بلکہ بات کو پختہ کرنے کے لیے ہے، کیونکہ ہر معاملہ اللہ کی مشیت پر موقوف ہے۔تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ فتح (۲۷)۔
قَاتِلُوا الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ لَا بِالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوۡنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ لَا یَدِیۡنُوۡنَ دِیۡنَ الۡحَقِّ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ حَتّٰی یُعۡطُوا الۡجِزۡیَۃَ عَنۡ ‌یَّدٍ وَّ ہُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴿٪۲۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جنگ کرو اہل کتاب میں سے اُن لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روز آخر پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں کرتے اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے (ان سے لڑو) یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ان لوگوں سے لڑو، جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں ﻻتے جو اللہ اور اس کے رسول کی حرام کرده شے کو حرام نہیں جانتے، نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ان لوگوں میں جنہیں کتاب دی گئی ہے، یہاں تک کہ وه ذلیل وخوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں
احمد رضا خان بریلوی
لڑو ان سے جو ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور قیامت پر اور حرام نہیں مانتے اس چیز کو جس کو حرام کیا اللہ اور اس کے رسول نے اور سچے دین کے تابع نہیں ہوتے یعنی وہ جو کتاب دیے گئے جب تک اپنے ہاتھ سے جزیہ نہ دیں ذلیل ہوکر
علامہ محمد حسین نجفی
(اے مسلمانو!) اہلِ کتاب میں سے جو لوگ اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور خدا و رسول کی حرام کردہ چیزوں کو حرام نہیں جانتے اور دینِ حق (اسلام) کو اختیار نہیں کرتے ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ وہ چھوٹے بن کر (ذلیل ہوکر) ہاتھ سے جزیہ دیں۔
عبدالسلام بن محمد
لڑو ان لوگوں سے جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ یوم آخر پر اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو اختیار کرتے ہیں، ان لوگوں میں سے جنھیں کتاب دی گئی ہے، یہاں تک کہ وہ ہاتھ سے جزیہ دیں اور وہ حقیر ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کو حدود حرم سے نکال دو ٭٭

اللہ تعالیٰ احکم الحاکمین اپنے پاک دین والے پاکیزہ اور طہارت والے مسلمان بندوں کو حکم فرماتا ہے کہ دین کی رو سے نجس مشرکوں کو بیت اللہ کے پاس نہ آنے دیں۔ یہ آیت سنہ 9ہجری میں نازل ہوئی اسی سال نبی کریم رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیجا اور حکم دیا کہ مجمع حج میں اعلان کر دو کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کو نہ آئے اور کوئی شخص ننگا بیت اللہ کا طواف نہ کرے۔ اس شرعی حکم کو اللہ تعالیٰ قادر و قیوم نے یوں ہی پورا کیا کہ نہ وہاں مشرکوں کو داخلہ نصیب ہوا تو نہ کسی نے اس کے بعد عریانی کی حالت میں اللہ تعالیٰ کے گھر کا طواف کیا۔ ۱؎ [مسند احمد:392/3:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما غلام اور ذمی شخص کو مستثنیٰ بتاتے ہیں۔ مسند کی حدیث میں فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ہماری اس مسجد میں اس سال کے بعد سوائے معاہدہ والے اور تمہارے غلاموں کے اور کوئی کافر نہ آئے۔ ۱؎ [مسند احمد:339/3:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ لیکن اس مرفوع سے زیادہ صحیح سند والی موقوف روایت ہے۔ خلیفتہ المسلمین سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ نے فرمان جاری کر دیا تھا کہ یہود و نصرانی کو مسلمانوں کی مسجدوں میں نہ آنے دو۔ اس منع کرنے میں آپ اس آیت کی ماتحتی میں تھے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”حرم سارا اس حکم میں مثل مسجد الحرام کے ہے۔‏‏‏‏“ یہ آیت مشرکوں کی نجاست پر بھی دلیل ہے۔ صحیح حدیث میں ہے مومن نجس نہیں ہوتا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:283] ‏‏‏‏ باقی رہی یہ بات کہ مشرکوں کا بدن اور ذات بھی نجس ہے یا نہیں، پس جمہور کا قول تو یہ ہے کہ نجس نہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کا ذبیحہ حلال کیا ہے۔

بعض ظاہریہ کہتے ہیں کہ مشرکوں کے بدن بھی ناپاک ہی۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جو ان سے مصافحہ کرے وہ ہاتھ دھو ڈالے۔‏‏‏‏“ اس حکم پر بعض لوگوں نے کہا کہ ”پھر تو ہماری تجارت کا مندا ہو جائے گا ہمارے بازار بےرونق ہو جائیں گے اور بہت سے فائدے جاتے رہیں گے۔‏‏‏‏“ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ غنی و حمید فرماتا ہے کہ ”تم اس بات سے نہ ڈرو اللہ تعالیٰ تمہیں اور بہت سی صورتوں سے دلا دے گا تمہیں اہل کتاب سے جزیہ دلائے گا اور تمہیں غنی کر دے گا۔ تمہاری مصلحتوں کو تم سے زیادہ تمہارا رب جانتا ہے اس کا حکم اس کی ممانعت کسی نہ کسی حکمت سے ہی ہوتی ہے، یہ تجارت اتنے فائدے کی نہیں جتنا فائدہ وہ تمہیں جزیئے سے دے گا“، ان اہل کتاب سے جو اللہ تعالیٰ کے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قیامت کے منکر ہیں جو کسی نبی کے صحیح معنی میں اور پورے متبع نہیں بلکہ اپنی خواہشوں کے اور اپنے بڑوں کی تقلید کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اگر انہیں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی شریعت پر پورا ایمان ہوتا تو وہ ہمارے اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ضرور ایمان لاتے۔ ان کی بشارت تو ہر نبی دیتا رہا ان کی اتباع کا حکم ہر نبی نے دیا لیکن باوجود اس کے وہ اس اشرف الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کے انکاری ہیں پس اگلے نبیوں کے شرع سے بھی دراصل انہیں کوئی سروکار بھی نہیں اسی وجہ سے ان نبیوں کا زبانی اقرار ان کے لیے بےسود ہے کیونکہ یہ سید الانبیاء افضل الرسل خاتم النبین اکمل المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم سے کفر کرتے ہیں اس لیے ان سے بھی جہاد کرو۔

ان سے جہاد کی یہ پہلی آیت ہے اس وقت تک آس پاس کے مشرکین سے جنگ ہو چکی تھی ان میں سے اکثر توحید کے جھنڈے تلے آ چکے تھے جزیرۃ العرب میں اسلام نے جگہ کر لی تھی اب یہود و نصاریٰ کی خبر لینے اور انہیں راہ حق دکھانے کا حکم ہوا، سنہ 9 ہجری میں یہ حکم اترا اور آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم رومیوں سے جہاد کی تیاری کی لوگوں کو اپنے ارادے سے مطلع کیا مدینہ کے اردگرد کے عربوں کو آمادہ کیا اور تقریباً تیس ہزار کا لشکر لے کر روم کا رخ کیا بجز منافقین کے یہاں کوئی نہ رکا سوائے بعض کے۔ موسم سخت گرم تھا پھلوں کا وقت تھا روم سے جہاد کیلئے شام کے ملک کا دور دراز کا کٹھن سفر تھا تبوک تک تشریف لے گئے وہاں تقریباً بیس روز قیام فرمایا۔ پھر اللہ تعالیٰ سے استخارہ کر کے واپس لوٹے حالت کی تنگی اور لوگوں کی ضعیفی کی وجہ سے واپس لوٹے۔ جیسے کہ عنقریب اس کا واقعہ ان شاءاللہ تعالیٰ بیان ہو گا۔ اسی آیت سے استدلال کر کے بعض نے فرمایا ہے کہ جزیہ صرف اہل کتاب سے اور ان جیسوں سے ہی لیا جائے جیسے مجوس ہیں۔ چنانچہ ہجر کے مجسیوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیہ لیا تھا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3156] ‏‏‏‏ امام شافعی رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے اور مشہور مذہب امام احمد کا رحمہ اللہ بھی یہی ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”سب عجمیوں سے لیا جائے خواہ وہ اہل کتاب ہوں خواہ مشرک ہوں۔ ہاں عرب میں سے صرف اہل کتاب سے ہی لیا جائے۔‏‏‏‏“ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جزیئے کا لینا تمام کفار سے جائز ہے خواہ وہ کتابی ہوں یا مجوسی ہوں یا بت پرست وغیرہ ہوں۔ ان مذاہب کے دلائل وغیرہ کے بسط کی یہ جگہ نہیں واللہ اعلم۔ پس فرماتا ہے کہ جب تک وہ ذلت و خواری کے ساتھ اپنے ہاتھوں جزیہ نہ دیں انہیں نہ چھوڑو۔ پس اہل ذمہ کو مسلمانوں پر عزت و توقیر دینی اور انہیں اوج و ترقی دینی جائز نہیں۔ صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہود و نصاریٰ سے سلام کی ابتداء نہ کرو اور جب ان سے کوئی راستے میں مل جائے تو اسے تنگی سے مجبور کرو۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح مسلم:2167] ‏‏‏‏

یہی وجہ تھی جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان سے ایسی ہی شرطیں کی تھیں۔ سیدنا عبدالرحمٰن بن غنم اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنے ہاتھ سے عہد نامہ لکھ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیا تھا کہ اہل شام کے فلاں فلاں شہری لوگوں کی طرف سے یہ معاہدہ ہے امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کہ جب آپ کا لشکر ہم پر آئے ہم نے آپ سے اپنی جان، مال اور اہل و عیال کے لیے امن طلب کی ہم ان شرطوں پر وہ امن حاصل کرتے ہیں کہ ہم اپنے ان شہرں میں اور ان کے آس پاس کوئی گرجا گھر اور خانقاہ نیا نہیں بنائیں گے۔ اور نہ ایسے کسی خرابی والے مکان کی اصلاح کریں گے اور جو مٹ چکے ہیں انہی درست نہیں کریں گے۔ ان میں اگر کوئی مسلمان مسافر اترنا چاہے تو روکیں گے نہیں خواہ دن ہو خواہ رات ہو ہم ان کے دروازے راہ گزر اور مسافروں کے لیے کشادہ رکھیں گے اور جو مسلمان آئے ہم اس کی تین دن تک مہمانداری کریں گے ہم اپنے ان مکانوں یا رہائشی مکانوں وغیرہ میں کہیں کسی جاسوس کو نہ چھپائیں گے مسلمانوں سے کوئی دھوکہ فریب نہیں کریں گے اپنی اولاد کو قرآن نہ سکھائیں گے شرک کا اظہار نہ کریں گے نہ کسی کو شرک کی طرف بلائیں گے۔ ہم میں سے کوئی اگر اسلام قبول کرنا چاہے ہم اسے ہرگز نہ روکیں گے مسلمانوں کی توقیر و عزت کریں گے ہماری جگہ اگر وہ بیٹھنا چاہیں تو ہم اٹھ کر انہیں جگہ دے دیں گے ہم مسلمانوں سے کسی چیز میں برابری نہ کریں گے نہ لباس میں نہ جوتی میں نہ مانگ نکالنے میں، ہم ان کی زبانیں نہیں بولیں گے، ان کی کنیتیں نہیں رکھیں گے، زین والے گھوڑوں پر سواریاں نہ کریں گے نہ تلواریں لٹکائیں گے نہ اپنے ساتھ رکھیں گے۔ انگوٹھیوں پر عربی نقش نہیں کرائیں گے شراب فروشی نہیں کریں گے اپنے سروں کے اگلے بالوں کو تراشوا دیں گے اور جہاں کہیں ہوں گے زنار ضرورتاً ڈالیں رہیں گے صلیب کا نشان اپنے گرجوں پر ظاہر نہیں کریں گے۔

اپنی مذہبی کتابیں مسلمانوں کی گزر گاہوں اور بازاروں میں ظاہر نہیں کریں گے گرجوں میں ناقوس بلند آواز سے نہیں بجائیں گے۔ نہ مسلمانوں کی موجودگی میں با آواز بلند اپنی مذہبی کتابیں پڑھیں گے نہ اپنے مذہبی شعار کو راستوں پر کریں گے نہ اپنے مردوں پر اونچی آواز سے ہائے وائے کریں گے نہ ان کے ساتھ مسلمانوں کے راستوں میں آگ لے کر جائیں گے۔ مسلمانوں کے حصے میں آئے ہوئے غلام ہم نہ لیں گے مسلمانوں کی خیر خواہی ضرور کرتے رہیں گے ان کے گھروں میں جھانکیں گے نہیں۔ جب یہ عہد نامہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شرط اور بھی اس میں بڑھوائی کہ ہم کسی مسلمانوں کو ہرگز ماریں گے نہیں یہ تمام شرطیں ہمیں قبول و منظور ہیں اور ہمارے سب ہم مذہب لوگوں کو بھی۔ انہیں شرائط پر ہمیں امن ملی ہے اگر ان میں سے کسی ایک شرط کی بھی ہم خلاف ورزی کریں تو ہم سے آپ کا ذمہ الگ ہو جائے گا اور جو کچھ آپ اپنے دشمنوں اور مخالفوں سے کرتے ہیں ان تمام کے مستحق ہم بھی ہو جائیں گے۔
29۔ 1 مشرکین سے قتال عام کے حکم کے بعد اس آیت میں یہود و نصاریٰ سے قتال کا حکم دیا جا رہا ہے (اگر وہ اسلام نہ قبول کریں) یا پھر وہ جزیہ دے کر مسلمانوں کی ماتحتی میں رہنا قبول کرلیں جزیہ ایک متعین رقم ہے جو سالانہ ایسے غیر مسلموں سے لی جاتی ہے جو کسی اسلامی مملکت میں رہائش پذیر ہوں اس کے بدلے میں ان کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمے داری اسلامی مملکت کی ہوتی ہے۔ یہود و نصاریٰ باوجود اس بات کے وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے تھے، ان کی بابت کہا گیا کہ وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تھے، اس سے واضح کردیا گیا کہ انسان جب تک اللہ پر اس طرح ایمان نہ رکھے جس طرح اللہ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے بتلایا ہے، اس وقت تک اس کا ایمان باللہ قابل اعتبار نہیں۔ اور یہ بھی واضح ہے کہ ان کے ایمان باللہ کو غیر معتبر اس لئے قرار دیا گیا کہ یہود و نصاریٰ نے حضرت عزیز و حضرت مسیح (علیہما السلام) کی ابنیت (یعنی بیٹا ہونے کا) اور الوہیت کا عقیدہ گھڑ لیا تھا، جیسا کہ اگلی آیت میں ان کے عقیدے کا اظہار ہے۔
(آیت29) ➊ {قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ …:} مشرکین عرب سے قتال (لڑائی) کا حکم دینے کے بعد اب اہل کتاب سے قتال کا حکم دیا جا رہا ہے اور اس کی چار وجہیں بیان فرمائی ہیں: (1) ان کا اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں ہے۔ رہا ان کا اللہ تعالیٰ پر ایمان کا دعویٰ تو وہ درست نہیں، کیونکہ وہ اس کے مطابق نہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام رسولوں نے بتایا، بلکہ وہ اللہ پر ایمان کے بجائے اللہ تعالیٰ کی توہین والا عقیدہ رکھتے ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں فرمایا: «وَ قَالَتِ الْيَهُوْدُ عُزَيْرُ ا۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِيْحُ ابْنُ اللّٰهِ» ‏‏‏‏ [ التوبۃ: ۳۰ ] ”اور یہودیوں نے کہا عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔“ یعنی یہود و نصاریٰ اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے کر اسے محتاج ثابت کر رہے ہیں اور اس کی وحدانیت کا انکار کر رہے ہیں۔ (2) یوم آخرت پر بھی ان کا ایمان کالعدم ہے، کیونکہ ایک تو وہ خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں رکھتے اور جو آپ کے بتانے کے مطابق نہ ہو وہ نہ ہونے کے برابر ہے اور پھر بھی وہ اپنے تمام اعمال بد کے باوجود جنت کے ٹھیکیدار ہونے کے دعوے دار ہیں، فرمایا: «وَ قَالُوْا لَنْ يَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۱۱۱ ] ”جنت میں ہر گز داخل نہیں ہوں گے مگر جو یہودی یا نصاریٰ بنیں گے۔“ پھر یہودیوں نے زیادہ سے زیادہ چند دن جہنم میں رہنے کی یعنی: «وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَيَّامًا مَّعْدُوْدَةً» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۸۰ ] اور عیسائیوں نے مسیح علیہ السلام کو اپنے گناہوں کا کفارہ قرار دے کر سرے ہی سے جہنم سے محفوظ رہنے کی آرزوئیں دل میں پال رکھی ہیں۔ کیا کوئی بھی سلیم العقل انسان ایسے یوم آخرت کو یوم جزا سمجھ سکتا ہے؟ اگر کوئی کہے کہ یہ بات تو اب بعض مسلمانوں میں بھی آ چکی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے پیشواؤں کے اعتماد پر جہنم سے بے فکر ہو چکے ہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ لوگ بھی انھی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ان کے پیچھے چلنے سے منع فرمایا تھا۔ (3) وہ ان چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے جو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تو ان کا ایمان ہی نہیں، اس لیے ان کی حرام کردہ کو حرام سمجھنا تو دور کی بات ہے، وہ اپنی کتاب تورات میں مذکور حرام چیزوں کو بھی حرام نہیں سمجھتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں انھوں نے سود لینا، رشوت اور حرام کھانا اختیار کر رکھا تھا، فرمایا: «وَ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ» ‏‏‏‏ [ النساء: ۱۶۱ ] یعنی ان پر لعنت کا سبب ان کا سود لینا تھا، حالانکہ انھیں اس سے منع کیا گیا تھا اور لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھانا بھی لعنت کا سبب تھا۔ نصرانیوں نے ایک نیا دین رہبانیت نکال لیا تھا، فرمایا: «وَ رَهْبَانِيَّةَ اِبْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ» ‏‏‏‏ [ الحدید: ۲۷ ] ”اور رہبانیت، اسے انھوں نے خود ہی ایجاد کر لیا، ہم نے اسے ان پر نہیں لکھا تھا۔“ اور اب تو یہود و نصاریٰ نے مروت و انسانیت کی ہر حد پار کر کے زنا، قوم لوط کے عمل اور بے شمار خلاف فطرت کاموں کو جمہوریت کے نام پر حلال قرار دے دیا ہے اور تمام دنیا کو زور و زبردستی سے ان میں مبتلا کرنے کی جد و جہد شروع کر رکھی ہے۔ (4) وہ دین حق قبول نہیں کرتے، حالانکہ اسے قبول کرنے کے لیے ان کے انبیاء کے صریح احکام موجود ہیں اور اسلام کے حق ہونے کے واضح دلائل ان کے سامنے ہیں۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اہل کتاب سے لڑنے کا حکم دیا۔ یہ ۹ ھ کی بات ہے، آپ نے رومیوں سے جہاد کی تیاری کی، لوگوں کو اس کے لیے دعوت دی، مدینہ کے ارد گرد سے بھی لوگوں کو بلایا، تقریباً تیس ہزار مجاہد لے کر آپ روانہ ہوئے، مدینہ اور اس کے ارد گرد کے منافقین ہی پیچھے رہ گئے، یا چند مخلص مسلمان۔ آپ نے شام کا رخ کیا، تبوک تک پہنچے، تقریباً بیس دن وہاں ٹھہرے، مگر رومی سامنے نہ آئے اور آپ اس علاقے کے لوگوں سے معاہدے کر کے واپس آ گئے۔ (ملخصاً) اس کے بعد خلفائے راشدین،بنو امیہ، بنو عباس اور دوسرے خلفاء نے یہ سلسلہ جاری رکھا تو مسلمانوں کی عزت اور غلبہ بھی قائم رہا اور مشرق سے مغرب تک ان کی حکومت بھی رہی، مگر افسوس! جب مسلمانوں نے اس حکم کو بھلا دیا تو اللہ تعالیٰ کے شرعی اور کونی نظام کی مخالفت کے نتیجے میں انھیں خود ذلیل ہو کر زندگی گزارنا قبول کرنا پڑا۔ ہاں ایک گروہ ہے جو اس پر اب بھی قائم ہے اور قائم رہے گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق غالب رہے گا۔ ➋ {حَتّٰى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ:} اس سے معلوم ہوا کہ جہاد کا مقصد ان کو تلوار کے زور سے مسلمان بنانا نہیں، بلکہ اگر وہ اطاعت قبول کر لیں اور جزیہ دیتے رہیں تو وہ اپنے دین پر رہ کر پر امن زندگی گزار سکتے ہیں، اس کے عوض اسلامی حکومت ان کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ دار ہو گی۔ یہاں صرف اہل کتاب سے جزیہ لینے کا ذکر ہے، یعنی اہل کتاب کے سامنے تین راستے ہیں، مسلمان ہو جائیں یا جزیہ دے کر ماتحتی قبول کر لیں یا لڑائی کے لیے تیار ہو جائیں۔ رہے دوسرے کفار تو عرب کے مشرکین کے سامنے دو ہی راستے تھے، اسلام قبول کریں یا قتل ہونے کے لیے تیار ہو جائیں، الا یہ کہ وہ اس سے پہلے ہی جزیرۂ عرب سے نکل جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجوس سے بھی اہل کتاب والا معاملہ کیا۔ [ بخاری، الجزیۃ، باب الجزیۃ والموادعۃ مع أھل الذمۃ والحرب: ۳۱۵۶، عن عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ] باقی دنیا کے مشرکین کے متعلق تاریخ اسلام میں مشرکین عرب والے سلوک کا کہیں ذکر نہیں، مثلاً ہندو، بدھ اور دوسرے بت پرست وغیرہ، بلکہ مسلمانوں نے انھیں بھی اپنی رعایا بنا کر ان سے بہترین سلوک کیا۔ اگر اسلامی لڑائی کا مقصد لوگوں کو زبردستی مسلمان بنانا ہوتا تو جس طرح عیسائیوں نے اندلس میں اسلام اور مسلمانوں کا نام و نشان عیسائی نہ ہونے پر مٹا دیا، اسی طرح مصر، شام، عراق، ایران، ہند، چین، ترکستان وغیرہ ہر جگہ سے بزور شمشیر کفار کو ختم کر دیا جاتا۔ برصغیر میں مسلمان اقلیت میں نہ ہوتے، بلکہ سارا ہند مسلمان ہوتا اور یہاں کفار کا نام و نشان تک نہ ہوتا، مگر اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا، ارشاد ہوتا ہے: «لَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ» [ البقرۃ: ۲۵۶ ] ”دین میں زبردستی نہیں۔“ جو مسلمان ہو سوچ سمجھ کر مسلمان ہو۔ ہاں یہ بات حق ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ کسی طرح قبول نہیں کہ دنیا میں اللہ کے باغی غالب ہوں اور اسلام اور مسلمان مغلوب ہو کر رہیں، کیونکہ اس صورت میں نہ دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے نہ فتنہ و فساد ختم ہو سکتا ہے۔ امن صرف اسلام ہی کے ذریعے سے ممکن ہے، اس لیے تمام دنیا کے کفار سے اسلام قبول کرنے یا جزیہ دینے تک لڑتے رہنے کا حکم دیا گیا اور یہ بھی ضروری قرار دیا گیاکہ کفار میں اتنی قوت کبھی نہ ہونے پائے کہ وہ مسلمانوں کے مقابلے میں آ سکیں، بلکہ لازم ہے کہ وہ اسلام کے مقابلے سے دستبردار ہو کر خود اپنے ہاتھوں سے جزیہ دیں اور حقیر ہو کر رہیں۔ {” صٰغِرُوْنَ“ } کا معنی یہی ہے کہ وہ محکوم بن کر اسلام کے سائے میں زندگی بسر کریں۔ اس جزیے کی رقم کا تعین ہر علاقے کے لوگوں کی مالی حالت کو مد نظر رکھ کر کیا جائے گا، جو ان کے ہر شخص کی طرف سے ہر سال ادا کیا جائے گا۔ معاذ رضی اللہ عنہ یمن گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر وہاں کے بنے ہوئے کپڑے وصول کرنے کا حکم دیا۔ [ أبو داوٗد، الخراج، باب فی أخذ الجزیۃ: ۳۰۳۸ ]
وَ قَالَتِ الۡیَہُوۡدُ عُزَیۡرُۨ ابۡنُ اللّٰہِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَی الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ قَوۡلُہُمۡ بِاَفۡوَاہِہِمۡ ۚ یُضَاہِـُٔوۡنَ قَوۡلَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَبۡلُ ؕ قٰتَلَہُمُ اللّٰہُ ۚ۫ اَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۳۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہودی کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے، اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ بے حقیقت باتیں ہیں جو وہ اپنی زبانوں سے نکالتے ہیں اُن لوگوں کی دیکھا دیکھی جو ان سے پہلے کفر میں مبتلا ہوئے تھے خدا کی مار اِن پر، یہ کہاں سے دھوکہ کھار ہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یہود کہتے ہیں عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصرانی کہتے ہیں مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ قول صرف ان کے منھ کی بات ہے۔ اگلے منکروں کی بات کی یہ بھی نقل کرنے لگے اللہ انہیں غارت کرے وه کیسے پلٹائے جاتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور یہودی بولے عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصرانی بولے مسیح اللہ کا بیٹا ہے، یہ باتیں وہ اپنے منہ سے بکتے ہیں اگلے کافرو ں کی سی بات بناتے ہیں، اللہ انہیں مارے، کہاں اوندھے جاتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
یہودی کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصرانی کہتے ہیں کہ عیسیٰ اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کی باتیں ہیں (بغیر سوچے سمجھے) ان کے منہ سے نکالی ہوئی۔ یہ لوگ بھی ان جیسی باتیں کرنے لگے ہیں جو ان سے پہلے کفر کر چکے ہیں اللہ ان کو ہلاک کرے یہ کدھر بہکے جا رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور یہودیوں نے کہا عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ یہ ان کا اپنے مونہوں کا کہنا ہے، وہ ان لوگوں کی بات کی مشابہت کر رہے ہیں جنھوں نے ان سے پہلے کفر کیا۔ اللہ انھیں مارے، کدھر بہکائے جا رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بزرگ بڑے نہیں اللہ جل شانہ سب سے بڑا ہے ٭٭

ان آیتوں میں بھی جناب باری عزوجل مومنوں کو مشرکوں، کافروں سے یہودیوں، نصرانیوں سے جہاد کرنے کی رغبت دلاتا ہے۔ فرماتا ہے دیکھو وہ اللہ کی شان میں کیسی گستاخیاں کرتے ہیں؟ یہود عزیر کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بتلاتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے پاک اور برتر و بلند ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ ان لوگوں کو سیدنا عزیر علیہ السلام کی نسبت جو یہ وہم ہوا اس کا قصہ یہ ہے کہ جب عمالقہ بنی اسرائیل پر غالب آ گئے ان کے علماء کو قتل کر دیا ان کے رئیسوں کو قید کر لیا۔ عزیر علیہ السلام کا علم اٹھ جانے اور علماء کے قتل ہو جانے سے اور بنی اسرائیل کی تباہی سے سخت رنجیدہ ہوئے اب جو رونا شروع کیا تو آنکھوں سے آنسو ہی نہ تھمتے تھے روتے روتے پلکیں بھی جھڑ گئیں۔ ایک دن اسی طرح روتے ہوئے ایک میدان سے گزر ہوا تو دیکھا کہ ایک عورت ایک قبر کے پاس بیٹھی رو رہی ہے اور کہہ رہی ہے ہائے اب میرے کھانے کا کیا ہو گا؟ میرے کپڑوں کا کیا ہو گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس ٹھہر گئے اور اس سے فرمایا: ”اس شخص سے پہلے تجھے کون کھلاتا تھا اور کون پہناتا تھا“؟ اس نے کہا: ”اللہ تعالیٰ۔‏‏‏‏“ آپ نے فرمایا: ”پھر اللہ تعالیٰ تو اب بھی زندہ، باقی ہے اس پر تو کبھی نہیں موت آئے گی ہی نہیں۔‏‏‏‏“

یہ سن کر اس عورت نے کہا: ”اے عزیر! پھر تم یہ تو بتلاؤ کہ بنی اسرائیل سے پہلے علماء کو کون علم سکھاتا تھا“؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ۔‏‏‏‏“ اس نے کہا: ”آپ علیہ السلام یہ رونا دھونا لے کر کیوں بیٹھے ہیں“؟ آپ علیہ السلام کو سمجھ میں آ گیا کہ یہ جناب باری سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے آپ کو تنبیہہ ہے پھر آپ علیہ السلام سے فرمایا گیا کہ فلاں نہر پر جا کر غسل کرو وہیں دو رکعت نماز ادا کرو وہاں تمہیں ایک شخص ملیں گے وہ جو کچھ کھلائیں گے وہ کھا لو۔ چنانچہ آپ علیہ السلام وہیں تشریف لے گئے نہا کر نماز ادا کی، دیکھا کہ ایک شخص ہیں کہہ رہے ہیں منہ کھولو آپ علیہ السلام نے منہ کھول دیا انہوں نے تین مرتبہ کوئی چیز آپ علیہ السلام کے منہ میں بڑی ساری ڈالی اسی وقت اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کا سینہ کھول دیا، اور آپ علیہ السلام توراۃ کے سب سے بڑے عالم بن گئے بنی اسرائیل میں گئے ان سے فرمایا کہ ”میں تمہارے پاس تورات لایا ہوں۔‏‏‏‏“ انہوں نے کہا: ”آپ علیہ السلام ہم سب کے نزدیک سچے ہیں۔‏‏‏‏“ آپ علیہ السلام نے اپنی انگلی کے ساتھ قلم کو لپیٹ لیا اور اسی انگلی سے بیک وقت پوری تورات لکھ ڈالی۔ ادھر لوگ لڑائی سے لوٹے ان میں ان کے علماء بھی واپس آئے تو انہیں سیدنا عزیر علیہ السلام کی اس بات کا علم ہوا یہ گئے اور پہاڑوں اور غاروں میں تورات شریف کے جو نسخے چھپا آئے تھے وہ نکال لائے اور ان نسخوں سے سیدنا عزیر علیہ السلام کے لکھے ہوئے نسخے کا مقابلہ کیا تو بالکل صحیح پایا۔ اس پر بعض جاہلوں کے دل میں شیطان نے یہ وسوسہ ڈال دیا کہ آپ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کو نصرانی اللہ کا بیٹا کہتے تھے ان کا واقعہ تو ظاہر ہے۔ پس ان دونوں گروہ کی غلط بیانی قرآن بیان فرما رہا ہے اور فرماتا ہے کہ یہ ان کی صرف زبانی باتیں ہیں جو محض بےدلیل ہیں جس طرح ان سے پہلے کے لوگ کفر و ضلالت میں تھے یہ بھی انہی کے مرید و مقلد ہیں اللہ تعالیٰ انہیں لعنت کرے حق سے کیسے بھٹک گئے۔

مسند احمد و ترمذی اور ابن جریر میں ہے کہ جب عدی بن حاتم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین پہنچا تو شام کی طرف بھاگ نکلا۔ جاہلیت میں ہی یہ نصرانی بن گیا تھا یہاں اس کی بہن اور اس کی جماعت قید ہو گئی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور احسان اس کی بہن کو آزاد کر دیا اور رقم بھی دی۔ یہ سیدھی اپنے بھائی کے پاس گئیں اور انہیں اسلام کی رغبت دلائی اور سمجھایا کہ تم رسول اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس چلے جاؤ۔ چنانچہ یہ مدینہ منورہ آ گئے تھے اپنی قوم طے کے سردار تھے ان کے باپ کی سخاوت دنیا بھر میں مشہور تھی۔ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کے پاس آئے۔ اس وقت عدی کی گردن میں چاندی کی صلیب لٹک رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اسی آیت «اتَّخَذُوا» کی تلاوت ہو رہی تھی۔ تو انہوں نے کہا کہ ”یہود و نصاریٰ نے اپنے علماء اور درویشوں کی عبادت نہیں کی۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں سنو ان کے کئے ہوئے حرام کو حرام سمجھنے لگے اور جسے ان کے علماء اور درویش حلال بتا دیں اسے حلال سمجھنے لگے یہی ان کی عبادت تھی۔‏‏‏‏“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عدی کیا تم اس سے منکر ہو کہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، کیا تمہارے خیال میں اللہ تعالیٰ سے بڑا اور کوئی ہے کیا تم اس سے انکار کرتے ہو کہ معبود برحق اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں؟ کیا تمہارے نزدیک اس کے سوا اور کوئی بھی عبادت کے لائق ہے“؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی، انہوں نے مان لی اور اللہ تعالیٰ کی توحید اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی ادا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ خوشی سے چمکنے لگا اور فرمایا: ”یہود پر غضب اللہ اترا ہے اور نصرانی گمراہ ہو گئے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سنن ترمذي:3095،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏

سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے بھی اس آیت کی تفسیر اسی طرح مروی ہے کہ اس سے مراد حلال و حرام کے مسائل میں علماء اور ائمہ کی محض باتوں کی تقلید ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں انہوں نے بزرگوں کی ماننی شروع کر دی اور اللہ تعالیٰ کی کتاب ایک طرف ہٹا دی، اسی لیے اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے کہ انہیں حکم تو صرف یہ تھا کہ اللہ تعاللیٰ کے سوا اور کی عبادت نہ کریں وہی جسے حرام کر دے حرام ہے اور وہ جسے حلال فرما دے حلال ہے اسی کے فرمان شریعت ہیں، اسی کے احکام بجا لانے کے لائق ہیں اسی کی ذات عبادت کی مستحق ہے۔ وہ مشرک سے اور شرک سے پاک ہے اس جیسا، اس کا شریک، اس کا نظیر، اس کا مددگار، اس کی ضد کا کوئی نہیں، وہ اولاد سے پاک ہے نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ پروردگار۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت30) ➊ {وَ قَالَتِ الْيَهُوْدُ عُزَيْرُ اِبْنُ اللّٰهِ …:} پچھلی آیت میں اہل کتاب کے ساتھ قتال کی چار وجوہ بیان فرمائی تھیں، اب ان میں سے بعض کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ فرمایا کہ یہود نے عزیر علیہ السلام کو اور نصاریٰ نے مسیح علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیا، جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ (1) اَللّٰهُ الصَّمَدُ (2) لَمْ يَلِدْ وَ لَمْ يُوْلَدْ (3) وَ لَمْ يَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ» [ الإخلاص ] ”کہہ دے اللہ ایک ہے، اللہ ہی بے نیاز ہے، نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور نہ کبھی کوئی اس کے برابر کا ہے۔“ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کا بیٹا ماننے کی صورت میں اس کی بیوی بھی ماننا پڑے گی اور خاوند، بیوی، باپ، بیٹا ایک ہی جنس سے ہوتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ ان سب چیزوں سے پاک ہے۔ الغرض ان سے قتال کی وجہ یہ ہے کہ وہ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور اس کے متعلق ان کا عقیدہ سراسر اللہ تعالیٰ کی توہین اور متعدد معبودوں کو ماننا ہے، تثلیث (تین خدا ماننا) ہو یا حلول (کسی انسان یا مخلوق میں اللہ کا اتر آنا) یا اتحاد کسی انسان کا خدا بن جانا، ان سب کو قرآن نے کفر قرار دیا۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۷۲، ۷۳) پھر جو شخص ہر چیز ہی کو اللہ تعالیٰ قرار دے، ” ہر میں ہر“ کا نعرہ لگائے، وحدت الوجود کو معرفت قرار دے اس کے کفر میں کیا شک ہے؟ اسی طرح اب اگر کوئی مسلمان بھی یہ عقیدہ رکھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود اللہ تعالیٰ ہی تھے، یا اس کے نور کا ٹکڑا تھے، یا اولیاء میں اللہ تعالیٰ اتر آتا ہے، یا ترقی کر کے ولی بھی اللہ تعالیٰ بن جاتا ہے اور اس کے اختیارات کا مالک بن جاتا ہے، اس لیے وہ {” أَنَا الْحَقُّ “} (میں ہی حق یعنی اللہ ہوں) کا نعرہ لگاتا ہے اور {”سُبْحَانِيْ مَا اَعْظَمَ شَانِيْ“} (میں پاک ہوں، میری شان کتنی بڑی ہے) کہتا ہے، تو بے شک یہ مسلمان کہلاتا رہے حقیقت میں یہود و نصاریٰ میں اور اس میں کوئی فرق نہیں اور ہندوؤں کے کروڑوں خداؤں کے عقیدے اور اس کے عقیدے میں بھی کوئی فرق نہیں۔ اس خبیث عقیدے سے تو تمام دین، تمام انبیاء و رسل اور ان کے احکام ہی بے کار ٹھہرتے ہیں۔ ایسے عقیدے والا شخص اپنے آپ کو تصوف یا معرفت یا طریقت کے پردوں میں لاکھ چھپائے، حقیقت میں وہ اللہ تعالیٰ کی تمام شریعتوں، رسولوں، کتابوں اور ان کے احکام کا منکر ہے، جس نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے تقدس کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ ➋ { ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ:} یعنی نہ عقل سے اس کی کوئی دلیل پیش کی جا سکتی ہے نہ نقل سے، محض منہ کی بے کار بات ہے، جیسے خواہ مخواہ کوئی شخص مہمل اور بے معنی باتیں کرتا رہے۔ ➌ { يُضَاهِـُٔوْنَ قَوْلَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ:} یعنی (یہ لوگ) اہل کتاب ہو کر بھی مشرکوں کی ریس کرنے لگے۔ (موضح) اور پہلی مشرک اور کافر قوموں کی طرح گمراہ ہو گئے۔ صاحب المنار فرماتے ہیں کہ شرق و غرب کے قدیم بت پرستوں کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن اللہ ہونے، حلول اور تثلیث (اور متعدد معبودوں) کا عقیدہ ہند کے برہمنوں میں معروف تھا (اور اب بھی ہے)، اسی طرح چین، جاپان، قدیم مصریوں اور قدیم ایرانیوں میں بھی یہ عقائد مشہور و معروف تھے۔ اہل کتاب بھی ان کفار کی ریس کرنے لگے اور اب بعض مسلمان بھی ان کے نقش قدم پر چل پڑے۔ ➍ { قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ:} یعنی یہ لوگ اس کے حق دار ہیں کہ ان کے حق میں یہ بددعا کی جائے، ورنہ اللہ تعالیٰ کو دعا یا بددعا کی کیا ضرورت ہے؟ وہ تو خود جو چاہے کر سکتا ہے۔
اِتَّخَذُوۡۤا اَحۡبَارَہُمۡ وَ رُہۡبَانَہُمۡ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ الۡمَسِیۡحَ ابۡنَ مَرۡیَمَ ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡۤا اِلٰـہًا وَّاحِدًا ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ سُبۡحٰنَہٗ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۳۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا ہے اور اسی طرح مسیح ابن مریم کو بھی حالانکہ ان کو ایک معبود کے سوا کسی کی بندگی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، وہ جس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، پاک ہے وہ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے اور مریم کے بیٹے مسیح کو حاﻻنکہ انہیں صرف ایک اکیلے اللہ ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جس کے سوا کوئی معبود نہیں وه پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے
احمد رضا خان بریلوی
انہوں نے اپنے پادریوں اور جوگیوں کو اللہ کے سوا خدا بنالیا اور مسیح بن مریم کو اور انہیں حکم نہ تھا مگر یہ کہ ایک اللہ کو پوجیں اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، اسے پاکی ہے ان کے شرک سے،
علامہ محمد حسین نجفی
انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور راہبوں (علماء و مشائخ) کو پروردگار بنا لیا ہے، اور مریم کے فرزند مسیح کو بھی۔ حالانکہ ان کو صرف یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ ایک ہی معبودِ برحق کی عبادت کریں۔ اللہ کے سوا اور کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ پاک ہے ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے اپنے عالموں اور اپنے درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا اور مسیح ابن مریم کو بھی، حالانکہ انھیں اس کے سوا حکم نہیں دیا گیا تھا کہ ایک معبود کی عبادت کریں، کوئی معبود نہیں مگر وہی ، وہ اس سے پاک ہے جو وہ شریک بناتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بزرگ بڑے نہیں اللہ جل شانہ سب سے بڑا ہے ٭٭

ان آیتوں میں بھی جناب باری عزوجل مومنوں کو مشرکوں، کافروں سے یہودیوں، نصرانیوں سے جہاد کرنے کی رغبت دلاتا ہے۔ فرماتا ہے دیکھو وہ اللہ کی شان میں کیسی گستاخیاں کرتے ہیں؟ یہود عزیر کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بتلاتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے پاک اور برتر و بلند ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ ان لوگوں کو سیدنا عزیر علیہ السلام کی نسبت جو یہ وہم ہوا اس کا قصہ یہ ہے کہ جب عمالقہ بنی اسرائیل پر غالب آ گئے ان کے علماء کو قتل کر دیا ان کے رئیسوں کو قید کر لیا۔ عزیر علیہ السلام کا علم اٹھ جانے اور علماء کے قتل ہو جانے سے اور بنی اسرائیل کی تباہی سے سخت رنجیدہ ہوئے اب جو رونا شروع کیا تو آنکھوں سے آنسو ہی نہ تھمتے تھے روتے روتے پلکیں بھی جھڑ گئیں۔ ایک دن اسی طرح روتے ہوئے ایک میدان سے گزر ہوا تو دیکھا کہ ایک عورت ایک قبر کے پاس بیٹھی رو رہی ہے اور کہہ رہی ہے ہائے اب میرے کھانے کا کیا ہو گا؟ میرے کپڑوں کا کیا ہو گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس ٹھہر گئے اور اس سے فرمایا: ”اس شخص سے پہلے تجھے کون کھلاتا تھا اور کون پہناتا تھا“؟ اس نے کہا: ”اللہ تعالیٰ۔‏‏‏‏“ آپ نے فرمایا: ”پھر اللہ تعالیٰ تو اب بھی زندہ، باقی ہے اس پر تو کبھی نہیں موت آئے گی ہی نہیں۔‏‏‏‏“

یہ سن کر اس عورت نے کہا: ”اے عزیر! پھر تم یہ تو بتلاؤ کہ بنی اسرائیل سے پہلے علماء کو کون علم سکھاتا تھا“؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ۔‏‏‏‏“ اس نے کہا: ”آپ علیہ السلام یہ رونا دھونا لے کر کیوں بیٹھے ہیں“؟ آپ علیہ السلام کو سمجھ میں آ گیا کہ یہ جناب باری سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے آپ کو تنبیہہ ہے پھر آپ علیہ السلام سے فرمایا گیا کہ فلاں نہر پر جا کر غسل کرو وہیں دو رکعت نماز ادا کرو وہاں تمہیں ایک شخص ملیں گے وہ جو کچھ کھلائیں گے وہ کھا لو۔ چنانچہ آپ علیہ السلام وہیں تشریف لے گئے نہا کر نماز ادا کی، دیکھا کہ ایک شخص ہیں کہہ رہے ہیں منہ کھولو آپ علیہ السلام نے منہ کھول دیا انہوں نے تین مرتبہ کوئی چیز آپ علیہ السلام کے منہ میں بڑی ساری ڈالی اسی وقت اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کا سینہ کھول دیا، اور آپ علیہ السلام توراۃ کے سب سے بڑے عالم بن گئے بنی اسرائیل میں گئے ان سے فرمایا کہ ”میں تمہارے پاس تورات لایا ہوں۔‏‏‏‏“ انہوں نے کہا: ”آپ علیہ السلام ہم سب کے نزدیک سچے ہیں۔‏‏‏‏“ آپ علیہ السلام نے اپنی انگلی کے ساتھ قلم کو لپیٹ لیا اور اسی انگلی سے بیک وقت پوری تورات لکھ ڈالی۔ ادھر لوگ لڑائی سے لوٹے ان میں ان کے علماء بھی واپس آئے تو انہیں سیدنا عزیر علیہ السلام کی اس بات کا علم ہوا یہ گئے اور پہاڑوں اور غاروں میں تورات شریف کے جو نسخے چھپا آئے تھے وہ نکال لائے اور ان نسخوں سے سیدنا عزیر علیہ السلام کے لکھے ہوئے نسخے کا مقابلہ کیا تو بالکل صحیح پایا۔ اس پر بعض جاہلوں کے دل میں شیطان نے یہ وسوسہ ڈال دیا کہ آپ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کو نصرانی اللہ کا بیٹا کہتے تھے ان کا واقعہ تو ظاہر ہے۔ پس ان دونوں گروہ کی غلط بیانی قرآن بیان فرما رہا ہے اور فرماتا ہے کہ یہ ان کی صرف زبانی باتیں ہیں جو محض بےدلیل ہیں جس طرح ان سے پہلے کے لوگ کفر و ضلالت میں تھے یہ بھی انہی کے مرید و مقلد ہیں اللہ تعالیٰ انہیں لعنت کرے حق سے کیسے بھٹک گئے۔

مسند احمد و ترمذی اور ابن جریر میں ہے کہ جب عدی بن حاتم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین پہنچا تو شام کی طرف بھاگ نکلا۔ جاہلیت میں ہی یہ نصرانی بن گیا تھا یہاں اس کی بہن اور اس کی جماعت قید ہو گئی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور احسان اس کی بہن کو آزاد کر دیا اور رقم بھی دی۔ یہ سیدھی اپنے بھائی کے پاس گئیں اور انہیں اسلام کی رغبت دلائی اور سمجھایا کہ تم رسول اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس چلے جاؤ۔ چنانچہ یہ مدینہ منورہ آ گئے تھے اپنی قوم طے کے سردار تھے ان کے باپ کی سخاوت دنیا بھر میں مشہور تھی۔ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کے پاس آئے۔ اس وقت عدی کی گردن میں چاندی کی صلیب لٹک رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اسی آیت «اتَّخَذُوا» کی تلاوت ہو رہی تھی۔ تو انہوں نے کہا کہ ”یہود و نصاریٰ نے اپنے علماء اور درویشوں کی عبادت نہیں کی۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں سنو ان کے کئے ہوئے حرام کو حرام سمجھنے لگے اور جسے ان کے علماء اور درویش حلال بتا دیں اسے حلال سمجھنے لگے یہی ان کی عبادت تھی۔‏‏‏‏“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عدی کیا تم اس سے منکر ہو کہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، کیا تمہارے خیال میں اللہ تعالیٰ سے بڑا اور کوئی ہے کیا تم اس سے انکار کرتے ہو کہ معبود برحق اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں؟ کیا تمہارے نزدیک اس کے سوا اور کوئی بھی عبادت کے لائق ہے“؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی، انہوں نے مان لی اور اللہ تعالیٰ کی توحید اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی ادا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ خوشی سے چمکنے لگا اور فرمایا: ”یہود پر غضب اللہ اترا ہے اور نصرانی گمراہ ہو گئے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سنن ترمذي:3095،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏

سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے بھی اس آیت کی تفسیر اسی طرح مروی ہے کہ اس سے مراد حلال و حرام کے مسائل میں علماء اور ائمہ کی محض باتوں کی تقلید ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں انہوں نے بزرگوں کی ماننی شروع کر دی اور اللہ تعالیٰ کی کتاب ایک طرف ہٹا دی، اسی لیے اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے کہ انہیں حکم تو صرف یہ تھا کہ اللہ تعاللیٰ کے سوا اور کی عبادت نہ کریں وہی جسے حرام کر دے حرام ہے اور وہ جسے حلال فرما دے حلال ہے اسی کے فرمان شریعت ہیں، اسی کے احکام بجا لانے کے لائق ہیں اسی کی ذات عبادت کی مستحق ہے۔ وہ مشرک سے اور شرک سے پاک ہے اس جیسا، اس کا شریک، اس کا نظیر، اس کا مددگار، اس کی ضد کا کوئی نہیں، وہ اولاد سے پاک ہے نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ پروردگار۔
31۔ 1 اس کی تفسیر حضرت عدی بن حاتم کی بیان کردہ حدیث سے بخوبی ہوجاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ آیت سن کر عرض کیا کہ یہود و نصاریٰ نے تو اپنے علماء کی کبھی عبادت نہیں کی، پھر یہ کیوں کہا گیا کہ انہوں نے ان کو رب بنا لیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' یہ ٹھیک ہے کہ انہوں نے ان کی عبادت نہیں کی لیکن یہ بات تو ہے نا، کہ ان کے علماء نے جس کو حلال قرار دے دیا، اس کو انہوں نے حلال اور جس چیز کو حرام کردیا اس کو حرام ہی سمجھا۔ یہی ان کی عبادت کرنا ہے ' (صحیح ترمذی) کیونکہ حرام وحلال کرنے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے یہی حق اگر کوئی شخص کسی اور کے اندر تسلیم کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اس کو اپنا رب بنا لیا ہے اس آیت میں ان لوگوں کے لیے بڑی تنبیہ ہے جنہوں نے اپنے اپنے پیشواؤں کو تحلیل وتحریم کا منصب دے رکھا ہے اور ان کے اقوال کے مقابلے میں وہ نصوص قرآن و حدیث کو بھی اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
(آیت31) ➊ {اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ …: ”حَِبْرٌ“} حاء کی زبر اور زیر دونوں کے ساتھ آتا ہے اور باء ساکن ہے، وہ عالم جو بہت خوب صورت اور پختہ بات کہے۔ یہ {”تَحْبِيْرٌ“} سے ہے جس کا معنی مزین کرنا ہے۔ رہبان، راہب کی جمع ہے، ڈرنے والا، یعنی جو اللہ کے خوف سے دنیا ترک کر کے لوگوں سے الگ کسی کٹیا میں جا ڈیرہ لگائے۔ ان کے مسیح ابن مریم علیھما السلام کو رب بنانے کا ذکر تو اوپر بھی آ چکا ہے، کیونکہ بیٹا باپ کے اختیارات میں اس کا شریک اور جانشین ہوتا ہے، اس لیے مسیح علیہ السلام کو بیٹا ماننے پر ان کو رب بنانے میں کیا کسر رہ گئی۔ رہے ان کے عالم اور درویش تو انھیں رب بنانے والے کچھ لوگ تو وہ تھے جو واقعی کائنات میں ان کا حکم چلنے کا عقیدہ رکھتے تھے، جس طرح آج کل بعض مسلمان پیروں، فقیروں کو سجدہ کرتے، ان سے اولاد، حاجتیں اور مرادیں مانگتے ہیں اور یہ باطل عقیدہ رکھتے ہیں کہ کائنات کو قطب، ابدال اور اوتاد چلارہے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ان پہلوں ہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں، مگر بعض اہل کتاب نے انھیں ایک اور طریقے سے رب بنا رکھا تھا۔ چنانچہ عدی بن حاتم طائی، جو مسلمان ہو چکے تھے، فرماتے ہیں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میری گردن میں سونے کی صلیب تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بت اپنے آپ سے اتار کر پھینک دو۔“ اور میں نے آپ سے سنا کہ آپ سورۂ براء ت میں یہ آیت پڑھ رہے تھے: «اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ» ‏‏‏‏ میں نے کہا: ”احبار و رہبان کو رب تو کوئی نہیں مانتا۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ ان کی عبادت نہیں کیا کرتے تھے، لیکن وہ جب ان کے لیے کوئی چیز حلال کر دیتے اسے حلال سمجھ لیتے اور جب ان پر کوئی چیز حرام کرتے تو اسے حرام سمجھ لیتے۔“ [ ترمذی، التفسیر، باب و من سورۃ التوبۃ: ۳۰۹۵ و حسنہ الألبانی ] گویا یہ ان کا دوسرا شرک تھا کہ انھوں نے حلال و حرام قرار دینے کا اختیار اپنے مشائخ و علماء کو دے دیا، حالانکہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور ان پر لازم تھا کہ اپنے نبی کے بتائے ہوئے طریقے اور فرامین پر قائم رہتے۔ بالکل یہی طرز عمل ہمارے زمانے کے مقلدین کا ہے کہ ان کے امام کا قول صاف قرآن یا صحیح حدیث کے خلاف آ جائے تب بھی وہ قرآن اور صحیح حدیث ماننے کے بجائے اپنے امام کے حلال کردہ کو حلال اور اس کے حرام کردہ کو حرام کہیں گے، پھر اس پر اصرار کریں گے، مثلاً قرآن مجید کا صاف حکم ہے کہ رضاعت کی مکمل مدت دو سال ہے، مگر کچھ لوگوں نے اسے ماننے کے بجائے اپنے امام کے کہنے پر اسے اڑھائی سال قرار دے لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحیح اور صریح فرمان: ”ہر نشہ آور حرام ہے“ کے باوجود کھجور اور انگور کے سوا کسی بھی چیز سے بنی ہوئی نشہ آور چیز کو حلال قرار دے لیا، زنا کو حلالہ کہہ کر حلال کر لیا، اجرت پر لائی عورت سے زنا پر حد معاف کر دی، تیز دھار آلے اور آگ کے سوا جان بوجھ کر کسی بھی طریقے سے قتل کر دینے پر قصاص ختم کر دیا، بادشاہِ وقت سے اللہ تعالیٰ کی کئی حدود بالکل ہی معاف کر دیں، چور کے چوری کے مال پر ملکیت کے خالی دعوے سے، جس پر وہ کوئی دلیل بھی نہ دے، چوری کی حد ختم کر دی، گانے بجانے اور رقص کو مشائخ کے کہنے پر معرفت اور روح کی غذا قرار دے لیا اور بعض مشائخ و علماء نے عوام سے یہ بیعت لینا شروع کر دی کہ ہمارا ہر حکم، خواہ وہ قرآن و حدیث کے موافق ہو یا مخالف، تم مانو گے۔ بتائیے! ان مسلمانوں کے احبار و رہبان کو رب بنانے میں کیا کسر رہ گئی!؟ خلاصہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان بالکل پورا ہوا کہ تم ہو بہو پہلے لوگوں کے نشان قدم پر چل پڑو گے، پھر ہر گروہ کے اپنے پیشوا کی غلط باتوں پر ڈٹ جانے سے مسلمانوں میں ایسا شگاف پڑا جو قرآن و حدیث کی طرف واپس آنے کے بغیر کبھی پر نہیں ہو سکتا۔ {”اِتَّسَعَ الْخَرْقُ عَلَي الرَّاقِعِ“} کی صورت پیدا ہو گئی ہے کہ شگاف پیوند لگانے والے کی بساط سے بھی زیادہ کھلا ہو گیا۔ پہلے (۷۲) گروہ بنے تھے یہ (۷۳) بن گئے۔ [ فَإِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ] ➋ یہودو نصاریٰ کا اپنے احبار و رہبان کو حلال و حرام کا اختیار دینا انھیں رب بنانا تھا، اب جب یہود و نصاریٰ نے احبار و رہبان کے کرتوتوں کو دیکھ کر ان سے بغاوت کر دی تو عوام کی اکثریت کو حلال و حرام کا اختیار دے کر انھیں رب بنا لیا اور اس نئے دین کا نام جمہوریت رکھا، جس میں حلال و حرام کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بجائے پارلیمنٹ کی اکثریت کرتی ہے، جو صریح شرک ہے۔ افسوس کہ مسلمان اس شرک میں ان کے قدم بہ قدم چل رہے ہیں، بلکہ اسلام سے اس بغاوت پر فخر کرتے اور دن رات اس کی تعریف کرتے ہیں اور یہ کہنے میں کوئی حیا محسوس نہیں کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جمہوریت نافذ کرنے کے لیے آئے تھے۔ ان بے چاروں کو معلوم نہیں کہ جمہوریت صرف ان امور میں مشورے کا نام نہیں جہاں اللہ اور اس کے رسول کا حکم موجود نہ ہو بلکہ یہ ایک الگ دین ہے جس کا رب بھی عوام یا ان کے نمائندے ہیں اور رسول بھی۔ انھی کو حلال و حرام اور جائز و ناجائز قرار دینے کا حق حاصل ہے۔ اس دین میں اللہ تعالیٰ، اس کے رسول یا اس کی کتاب کا کچھ دخل نہیں، ہاں دھوکا دینے کے لیے ان کا نام استعمال ہوتا ہے۔ ➌ { وَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ:} مسیح ابن مریم علیھما السلام کو دوبارہ لا کر ان کا رب بنانا اس لیے ذکر فرمایا کہ یہودیوں نے عزیر علیہ السلام یا علماء و رہبان کی پرستش اس طرح نہیں کی تھی جس طرح نصاریٰ نے مسیح علیہ السلام کی کی اور نہ وہ اس معنی میں عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا ماننے کا اقرار کرتے ہیں جن معنوں میں نصاریٰ مسیح علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا ہونے کی وجہ سے اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔رہے احبار و رہبان تو ان کو یہود ونصاریٰ دونوں نے ایک ہی معنی میں رب بنایا تھا۔ پیچھے اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کا ذکر کرکے ان کی اس دلیل کو بھی بے معنی قرار دیا تھا کہ وہ تو باپ اور ماں دونوں کے بغیر پیدا ہوئے تھے، اگر وہ رب نہیں تو ماں سے پیدا ہونے والا کیسے رب ہو گیا؟ ➍ {وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِيَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا:} یعنی یہ تمام بے ہودگی یہودو نصاریٰ نے تورات میں موجود واضح احکام کے باوجود اختیار کی کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا، جو اب بھی تورات کی تحریف کے باوجود مختلف الفاظ کے ساتھ اس میں جا بجا موجود ہیں۔
یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰہِ بِاَفۡوَاہِہِمۡ وَ یَاۡبَی اللّٰہُ اِلَّاۤ اَنۡ یُّتِمَّ نُوۡرَہٗ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۳۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں مگر اللہ اپنی روشنی کو مکمل کیے بغیر ماننے والا نہیں ہے خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
وه چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منھ سے بجھا دیں اور اللہ تعالیٰ انکاری ہے مگر اسی بات کا کہ اپنا نور پورا کرے گو کافر نا خوش رہیں
احمد رضا خان بریلوی
چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنے منہ سے بُجھا دیں اور اللہ نہ مانے گا مگر اپنے نور کا پورا کرنا پڑے برا مانیں کافر،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں اور اللہ انکاری ہے ہر بات سے سوا اس کے کہ وہ اپنے نور کو کمال تک پہنچائے اگرچہ کافر اس کو ناپسند کریں۔
عبدالسلام بن محمد
وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں سے بجھا دیں اور اللہ نہیں مانتا مگر یہ کہ اپنے نور کو پورا کرے، خواہ کافر لوگ برا جانیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفارہ کی دلی مذموم خواہش ٭٭

فرماتا ہے کہ ہر قسم کے کفار کا ارادہ اور چاہت یہی ہے کہ اللہ کا نور بجھا دیں ہدایتِ ربانی اور دینِ حق کو مٹا دیں تو خیال کر لو کہ اگر کوئی شخص اپنے منہ کی پھونک سے آفتاب یا مہتاب کی روشنی بجھانی چاہے تو کیا یہ ہو سکتا ہے؟ اسی طرح یہ لوگ بھی اللہ کے نور کے بجھانے کی چاہت میں اپنی امکانی کوشش کرلیں آخر عاجز ہو کر رہ جائیں گے۔ ضروری بات ہے اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ دین حق تعلیمِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بول بالا ہو گا۔ تم مٹانا چاہتے ہو اللہ تعالیٰ بلند کرنا چاہتا ہے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی چاہت تمہاری چاہت پر غالب رہے گی تم گو ناخوش رہو لیکن آفتابِ ہدایت بیچ آسمان میں پہنچ کر ہی رہے گا۔ عربی لغت میں کافر کہتے ہیں کسی چیز کے چھپا لینے والے کو اسی اعتبار سے رات کو بھی کافر کہتے ہیں اس لیے کہ وہ بھی تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے، کسان کو کافر کہتے ہیں کیونکہ وہ دانے زمین میں چھپا دیتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ» ۱؎ [57-الحديد:20] ‏‏‏‏ اسی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی خبریں اور صحیح ایمان اور نفع والا علم یہ ہدایت ہے اور عمدہ اعمال جو دنیا آخرت میں نفع دیں یہ دین حق ہے۔ یہ تمام مذاہب عالم پر چھا کر رہے گا۔ نبی کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میرے لیے مشرق و مغرب کی زمین لپیٹ دی گئی میری امت کا ملک ان تمام جگہوں تک پہنچے گا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح مسلم:2889] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں تمہارے ہاتھوں پر مشرق و مغرب فتح ہو گا۔ تمہارے سردار جہنمی ہیں، بجز ان کے جو متقی، پرہیزگار اور امانت دار ہوں۔ ۱؎ [مسند احمد:366،367/5:صحیح] ‏‏‏‏

فرماتے ہیں یہ دین تمام اس جگہ پر پہنچے گا جہاں پر دن رات پہنچیں کوئی کچا پکا گھر ایسا باقی نہ رہے گا جہاں اللہ عزوجل اسلام کو نہ پہنچائے۔ عزیزوں کو عزیز کرے گا اور ذلیلوں کو ذلیل کرے گا۔ اسلام کو عزت دینے والوں کو عزت ملے گی اور کفر کو ذلت نصیب ہو گی۔ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے تو یہ بات خود اپنے گھر میں بھی دیکھ لی جو مسلمان ہوا اسے خیر و برکت، عزت و شرافت ملی اور جو کافر رہا اسے ذلت و نکبت، نفرت و لعنت نصیب ہوئی، پستی اور حقارت دیکھی اور کمینہ پن کے ساتھ جزیہ دینا پڑا۔ ۱؎ [مسند احمد:103/4:صحیح] ‏‏‏‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”روئے زمین پر کوئی کچا پکا گھر ایسا باقی نہ رہے گا جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ کلمہ اسلام کو داخل نہ کر دے وہ عزت والوں کو عزت دے گا اور ذلیلوں کو ذلیل کرے گا جنہیں عزت دینی چاہے گا انہیں اسلام نصیب کرے گا اور جنہیں ذلیل کرنا ہو گا وہ اسے مانیں گے نہیں لیکن اس کی ماتحتی میں انہیں آنا پڑے گا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:4/6:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے مجھ سے فرمایا: ”اسلام قبول کر تاکہ سلامتی ملے۔‏‏‏‏“ میں نے کہا: ”میں تو ایک دین کو مانتا ہوں۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے دین کا تجھ سے زیادہ مجھے علم ہے۔‏‏‏‏“ میں نے کہا: ”سچ۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بالکل سچ۔ کیا تو رکوسیہ میں سے نہیں ہے؟ کیا تو اپنی قوم سے ٹیکس وصول نہیں کرتا“؟ میں نے کہا: ”یہ تو سچ ہے۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے دین میں یہ تیرے لیے حلال نہیں۔‏‏‏‏“ پس یہ سنتے ہی میں تو جھک گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں خوب جانتا ہوں کہ تجھے اسلام سے کون سی چیز روکتی ہے۔ سن! صرف ایک یہی بات تجھے روک رہی ہے کہ مسلمان بالکل ضعیف اور کمزور اور ناتواں ہیں تمام عرب انہیں گھیرے ہوئے ہے یہ ان سے نپٹ نہیں سکتے لیکن سن! حیرہ کا تجھے علم ہے“؟

میں نے کہا: ”دیکھا تو نہیں سنا ضرور ہے۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اللہ تعالیٰ اس امر دین کو پورا فرمائے گا یہاں تک کہ ایک سانڈنی سوار حیرہ سے چل کر بغير كسي كي امان كےُمکہ معظمہ پہنچے گا اور بیت اللہ کا طواف کرے گا۔ واللہ! تم کسریٰ کے خزانے فتح کرو گے۔‏‏‏‏“ میں نے کہا: ”کسریٰ بن ہرمز کے“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں کسریٰ بن ہرمز کے، تم میں مال کی اس قدر کثرت ہو پڑے گی کہ کوئی لینے والا نہ ملے گا۔‏‏‏‏“ اس حدیث کو بیان کرتے وقت عدی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان پورا ہوا یہ دیکھو آج حیرہ سے سواریاں چلتی ہیں بےخوف و خطر بغیر کسی کی پناہ کے بیت اللہ پہنچ کر طواف کرتی ہیں۔ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری پیشن گوئی بھی پوری ہوئی۔ کسریٰ کے خزانے فتح ہوئے میں خود اس فوج میں تھا جس نے ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور کسریٰ کے مخفی خزانے اپنے قبضے میں کئے۔ واللہ! مجھے یقین ہے کہ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری پیشین گوئی بھی قطعاً پوری ہو کر ہی رہے گی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:378/4:حسن] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”دن رات کا دور ختم نہ ہو گا۔ جب تک کہ پھر لات و عزیٰ کی عبادت نہ ہونے لگے۔‏‏‏‏“ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ» کے نازل ہونے کے بعد سے میرا خیال تو آج تک یہی رہا کہ یہ پوری بات ہے۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں پوری ہو گئی اور مکمل ہی رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہو پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین ایک پاک ہوا بھیجیں گے جو ہر اس شخص کو بھی فوت کرلے گی جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو۔ پھر وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جن میں کوئی خیر و خوبی نہ ہو گی۔ پس وہ اپنے باپ دادوں کے دین کی طرف پھر سے لوٹ جائیں گئے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح مسلم:2907] ‏‏‏‏
32۔ 1 یعنی اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے، یہود و نصاریٰ اور مشرکین چاہتے ہیں کہ اپنے جدال و افترا سے اس کو مٹا دیں۔ ان کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص سورج کی شعاعوں کو یا چاند کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھا دے پس! جس طرح یہ ناممکن ہے اسی طرح جو دین حق اللہ نے اپنے رسول کو دے کر بھیجا ہے اس کا مٹانا بھی ناممکن ہے۔ وہ تمام دینوں پر غالب آ کر رہے گا، جیسا کہ اگلے جملے میں اللہ نے فرمایا، کافر کے لغوی معنی ہیں چھپانے والا اسی لئے رات کو بھی ' کافر ' کہا جاتا ہے کہ وہ تمام چیزوں کو اپنے اندھیروں میں چھپا لیتی ہے کاشت کار کو بھی ' کافر ' کہتے ہیں کیونکہ وہ غلے کے دانوں کو زمین میں چھپا دیتا ہے۔ گویا کافر بھی اللہ کے نور کو چھپانا چاہتے ہیں یا اپنے دلوں میں کفر و نفاق اور مسلمانوں اور اسلام کے خلاف بغض وعناد چھپائے ہوئے ہیں۔ اس لئے انہیں کافر کہا جاتا ہے۔
(آیت32){يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّطْفِـُٔوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ …:} اللہ کے نور سے مراد اسلام اور اس کے صدق کے دلائل ہیں جو بے انتہا روشن ہیں۔ اس آیت میں یہودو نصاریٰ کی تیسری قبیح صفت کا بیان ہے کہ وہ اسلام کے پھیلاؤ کو روکنے اور اسے مٹانے کے لیے ہر قسم کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ یہاں ان کی اسلام کو روکنے اور مٹانے کی تمام کوششوں کے بے کار ہونے کو استعارے کے رنگ میں پیش کیا گیا ہے کہ ایک طرف بہت ہی بڑا نور مثلاً سورج یا چاند ہو اور دوسری طرف اسے بجھانے کی سب سے کمزور کوشش منہ سے پھونکیں مارنا ہو تو ان پھونکوں کا انجام ہر ایک پر واضح ہے۔ اسی طرح ایک طرف اللہ کا نور، یعنی اسلام ہے، جسے اللہ تعالیٰ ہر حال میں پورا کرنا طے کر چکا ہے، دوسری طرف ان یہود و نصاریٰ کی اسے روکنے اور مٹانے کی حقیر اور بے کار کوششیں ہیں، جو سورج کو نہیں بلکہ کائنات کے سب سے بڑے نور کو سب سے حقیر چیز منہ کی پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں۔ بھلا اس سے وہ نورِ اسلام کی تکمیل کو روک سکتے ہیں؟
ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ ۙ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُشۡرِکُوۡنَ ﴿۳۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پوری جنس دین پر غالب کر دے خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اسی نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا ہے کہ اسے اور تمام مذہبوں پر غالب کر دے اگر چہ مشرک برا مانیں
احمد رضا خان بریلوی
وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے پڑے برا مانیں مشرک،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ (اللہ) وہی ہے جس نے ہدایت اور دینِ حق دے کر اپنے رسول کو بھیجا تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دے اگرچہ مشرک اسے ناپسند ہی کریں۔
عبدالسلام بن محمد
وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا، تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے، خواہ مشرک لوگ برا جانیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفارہ کی دلی مذموم خواہش ٭٭

فرماتا ہے کہ ہر قسم کے کفار کا ارادہ اور چاہت یہی ہے کہ اللہ کا نور بجھا دیں ہدایتِ ربانی اور دینِ حق کو مٹا دیں تو خیال کر لو کہ اگر کوئی شخص اپنے منہ کی پھونک سے آفتاب یا مہتاب کی روشنی بجھانی چاہے تو کیا یہ ہو سکتا ہے؟ اسی طرح یہ لوگ بھی اللہ کے نور کے بجھانے کی چاہت میں اپنی امکانی کوشش کرلیں آخر عاجز ہو کر رہ جائیں گے۔ ضروری بات ہے اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ دین حق تعلیمِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بول بالا ہو گا۔ تم مٹانا چاہتے ہو اللہ تعالیٰ بلند کرنا چاہتا ہے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی چاہت تمہاری چاہت پر غالب رہے گی تم گو ناخوش رہو لیکن آفتابِ ہدایت بیچ آسمان میں پہنچ کر ہی رہے گا۔ عربی لغت میں کافر کہتے ہیں کسی چیز کے چھپا لینے والے کو اسی اعتبار سے رات کو بھی کافر کہتے ہیں اس لیے کہ وہ بھی تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے، کسان کو کافر کہتے ہیں کیونکہ وہ دانے زمین میں چھپا دیتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ» ۱؎ [57-الحديد:20] ‏‏‏‏ اسی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی خبریں اور صحیح ایمان اور نفع والا علم یہ ہدایت ہے اور عمدہ اعمال جو دنیا آخرت میں نفع دیں یہ دین حق ہے۔ یہ تمام مذاہب عالم پر چھا کر رہے گا۔ نبی کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میرے لیے مشرق و مغرب کی زمین لپیٹ دی گئی میری امت کا ملک ان تمام جگہوں تک پہنچے گا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح مسلم:2889] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں تمہارے ہاتھوں پر مشرق و مغرب فتح ہو گا۔ تمہارے سردار جہنمی ہیں، بجز ان کے جو متقی، پرہیزگار اور امانت دار ہوں۔ ۱؎ [مسند احمد:366،367/5:صحیح] ‏‏‏‏

فرماتے ہیں یہ دین تمام اس جگہ پر پہنچے گا جہاں پر دن رات پہنچیں کوئی کچا پکا گھر ایسا باقی نہ رہے گا جہاں اللہ عزوجل اسلام کو نہ پہنچائے۔ عزیزوں کو عزیز کرے گا اور ذلیلوں کو ذلیل کرے گا۔ اسلام کو عزت دینے والوں کو عزت ملے گی اور کفر کو ذلت نصیب ہو گی۔ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے تو یہ بات خود اپنے گھر میں بھی دیکھ لی جو مسلمان ہوا اسے خیر و برکت، عزت و شرافت ملی اور جو کافر رہا اسے ذلت و نکبت، نفرت و لعنت نصیب ہوئی، پستی اور حقارت دیکھی اور کمینہ پن کے ساتھ جزیہ دینا پڑا۔ ۱؎ [مسند احمد:103/4:صحیح] ‏‏‏‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”روئے زمین پر کوئی کچا پکا گھر ایسا باقی نہ رہے گا جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ کلمہ اسلام کو داخل نہ کر دے وہ عزت والوں کو عزت دے گا اور ذلیلوں کو ذلیل کرے گا جنہیں عزت دینی چاہے گا انہیں اسلام نصیب کرے گا اور جنہیں ذلیل کرنا ہو گا وہ اسے مانیں گے نہیں لیکن اس کی ماتحتی میں انہیں آنا پڑے گا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:4/6:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے مجھ سے فرمایا: ”اسلام قبول کر تاکہ سلامتی ملے۔‏‏‏‏“ میں نے کہا: ”میں تو ایک دین کو مانتا ہوں۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے دین کا تجھ سے زیادہ مجھے علم ہے۔‏‏‏‏“ میں نے کہا: ”سچ۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بالکل سچ۔ کیا تو رکوسیہ میں سے نہیں ہے؟ کیا تو اپنی قوم سے ٹیکس وصول نہیں کرتا“؟ میں نے کہا: ”یہ تو سچ ہے۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے دین میں یہ تیرے لیے حلال نہیں۔‏‏‏‏“ پس یہ سنتے ہی میں تو جھک گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں خوب جانتا ہوں کہ تجھے اسلام سے کون سی چیز روکتی ہے۔ سن! صرف ایک یہی بات تجھے روک رہی ہے کہ مسلمان بالکل ضعیف اور کمزور اور ناتواں ہیں تمام عرب انہیں گھیرے ہوئے ہے یہ ان سے نپٹ نہیں سکتے لیکن سن! حیرہ کا تجھے علم ہے“؟

میں نے کہا: ”دیکھا تو نہیں سنا ضرور ہے۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اللہ تعالیٰ اس امر دین کو پورا فرمائے گا یہاں تک کہ ایک سانڈنی سوار حیرہ سے چل کر بغير كسي كي امان كےُمکہ معظمہ پہنچے گا اور بیت اللہ کا طواف کرے گا۔ واللہ! تم کسریٰ کے خزانے فتح کرو گے۔‏‏‏‏“ میں نے کہا: ”کسریٰ بن ہرمز کے“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں کسریٰ بن ہرمز کے، تم میں مال کی اس قدر کثرت ہو پڑے گی کہ کوئی لینے والا نہ ملے گا۔‏‏‏‏“ اس حدیث کو بیان کرتے وقت عدی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان پورا ہوا یہ دیکھو آج حیرہ سے سواریاں چلتی ہیں بےخوف و خطر بغیر کسی کی پناہ کے بیت اللہ پہنچ کر طواف کرتی ہیں۔ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری پیشن گوئی بھی پوری ہوئی۔ کسریٰ کے خزانے فتح ہوئے میں خود اس فوج میں تھا جس نے ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور کسریٰ کے مخفی خزانے اپنے قبضے میں کئے۔ واللہ! مجھے یقین ہے کہ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری پیشین گوئی بھی قطعاً پوری ہو کر ہی رہے گی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:378/4:حسن] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”دن رات کا دور ختم نہ ہو گا۔ جب تک کہ پھر لات و عزیٰ کی عبادت نہ ہونے لگے۔‏‏‏‏“ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ» کے نازل ہونے کے بعد سے میرا خیال تو آج تک یہی رہا کہ یہ پوری بات ہے۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں پوری ہو گئی اور مکمل ہی رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہو پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین ایک پاک ہوا بھیجیں گے جو ہر اس شخص کو بھی فوت کرلے گی جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو۔ پھر وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جن میں کوئی خیر و خوبی نہ ہو گی۔ پس وہ اپنے باپ دادوں کے دین کی طرف پھر سے لوٹ جائیں گئے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح مسلم:2907] ‏‏‏‏
33۔ 1 دلائل وبراہین کے لحاظ سے تو یہ غلبہ ہر وقت حاصل ہے۔ تاہم مسلمانوں نے دین پر عمل کیا تو انہیں دنیاوی غلبہ بھی حاصل ہوا۔ اور اب بھی مسلمان اگر اپنے دین کے عامل بن جائیں تو ان کا غلبہ یقینی ہے، اس لئے کہ اللہ کا وعدہ ہے کہ حزب اللہ غالب و فاتح ہوگا۔ شرط یہی ہے کہ مسلمان حزب اللہ بن جائیں۔
(آیت33) {هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِيْنِ الْحَقِّ …:} اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کا دین اس لیے نہیں آیا کہ وہ کسی دوسرے دین، بت پرستی، دہریت، یہودیت، عیسائیت، جمہوریت یا سوشلزم سے مغلوب ہو کر اس سے مصالحت کرکے دنیا میں زندہ رہے، بلکہ دین اسلام کا اول و آخر مقصد یہ ہے کہ وہ دوسرے تمام ادیان اور نظام ہائے زندگی کو مغلوب کرکے ساری دنیا پر غالب دین اور نظام زندگی کی حیثیت سے زندہ رہے۔ یہاں {” لِيُظْهِرَهٗ “} میں ظہور (غلبہ) سے مراد دلائل و براہین کے ساتھ غلبہ بھی ہے اور حکمرانی کے لحاظ سے بھی۔ پہلی قسم کا غلبہ تو ہمیشہ اور دائمی ہے اور آج تک کوئی شخص قرآن کے چیلنج تین آیتوں کی سورت کا جواب لانے کی جرأت نہیں کر سکا۔ دوسری قسم کا غلبہ ایک مرتبہ ہم دورِ نبوت و خلافت میں دیکھ چکے ہیں اور دوبارہ مزید غلبے کی بشارتیں ضرور پوری ہو کر رہیں گی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے صحیح مومن ہونے کی شرط لگائی ہے، فرمایا: «وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ» ‏‏‏‏ [ آل عمران: ۱۳۹ ] ”اور تم ہی غالب ہو اگر تم مومن ہو۔“ الحمد للہ مسلمانوں اور کافروں کے درمیان مختلف مقامات پر جہاد کے ساتھ اس کے آثار شروع ہو چکے ہیں۔ ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین لپیٹ دی یہاں تک کہ میں نے اس کے مشرق اور مغرب دیکھے اور میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی جو میرے لیے اس میں سے لپیٹا گیا ہے۔“ [ مسلم، الفتن، باب ھلاک ھٰذہ الأمۃ بعضھم ببعض: ۲۸۸۹] مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمین کی پشت پر نہ کوئی اینٹ کا مکان اور نہ پشم کا (خیمہ) باقی رہے گا، مگر اللہ تعالیٰ اس میں اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا، عزت والے کو عزت بخش کر اور ذلیل کو ذلت دے کر، یا تو انھیں عزت بخشے گا تو وہ اس میں داخل ہو جائیں گے، یا انھیں ذلیل کرے گا تو اس کے تحت ہو جائیں گے۔ [ مستدرک حاکم: 430/4، ح: ۸۳۲۴ و صححہ ھو والذھبی ] یہ پیش گوئی ابھی پوری نہیں ہوئی، پوری ہو کر رہے گی۔ (ان شاء اللہ) جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا، اس پر مسلمانوں کی ایک قوی جماعت لڑتی رہے گی، حتیٰ کہ قیامت قائم ہو۔“ [ مسلم، الإمارۃ، باب قولہ صلی اللہ علیہ وسلم : لا تزال طائفۃ من أمتی…: ۱۹۲۲ ]
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ الۡاَحۡبَارِ وَ الرُّہۡبَانِ لَیَاۡکُلُوۡنَ اَمۡوَالَ النَّاسِ بِالۡبَاطِلِ وَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ یَکۡنِزُوۡنَ الذَّہَبَ وَ الۡفِضَّۃَ وَ لَا یُنۡفِقُوۡنَہَا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۙ فَبَشِّرۡہُمۡ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿ۙ۳۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے ایمان لانے والو، اِن اہل کتاب کے اکثر علماء اور درویشوں کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ سے روکتے ہیں دردناک سزا کی خوش خبری دو ان کو جو سونے اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور انہیں خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! اکثر علما اور عابد، لوگوں کا مال ناحق کھا جاتے ہیں اور اللہ کی راه سے روک دیتے ہیں اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راه میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبر پہنچا دیجئے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! بیشک بہت پادری اور جوگی لوگوں کا مال ناحق کھا جاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں، اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں خوشخبری سناؤ دردناک عذاب کی،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! بہت سے عالم اور راہب لوگوں کا مال ناجائز طریقہ پر کھاتے ہیں اور لوگوں کو خدا کی راہ سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونا چاندی جمع کرکے رکھتے رہتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بے شک بہت سے عالم اور درویش یقینا لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھاتے ہیں اور اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور جو لوگ سونا اور چاندی خزانہ بنا کر رکھتے ہیں اور اسے اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، تو انھیں دردناک عذاب کی خوش خبری دے دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہودیوں کے علماء کو احبار اور نصرانیوں کے عابدوں کو رہبان کہتے ہیں۔ «لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ» ۱؎ [5-المآئدہ:63] ‏‏‏‏ میں یہود کے علماء کو احبار کہا گیا ہے۔ نصرانیوں کے عابدوں کو رہبان اور ان کے علماء کو قسیس اس آیت میں کہا گیا ہے «ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُهْبَانًا» ۱؎ [5-المآئدہ:82] ‏‏‏‏ آیت کا مقصود لوگوں کو برے علماء گمراہ صوفیوں اور عابدوں سے ہوشیار کرانا اور ڈرانا ہے۔ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”ہمارے علماء میں سے وہی بگڑتے ہیں جن میں کچھ نہ کچھ شائبہ یہودیت کا ہوتا ہے اور صوفیوں اور عابدوں میں سے وہی بگڑتے ہیں جن میں نصرانیت کا شائبہ ہوتا ہے۔‏‏‏‏“ صحیح حدیث میں ہے کہ تم یقیناً اپنے سے پہلوں کی روش پر چل پڑو گے ایسی پوری مشابہت سے کہ ذرا بھی فرق نہ رہے۔ لوگوں نے پوچھا کیا یہود و نصاریٰ کی روش پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں انہی کی روش پر۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:7319] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ لوگوں نے پوچھا کیا فارسیوں اور رومیوں کی روش پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور کون لوگ ہیں“؟ ۱؎ [صحیح بخاری:7320] ‏‏‏‏ پس ان کے اقوال افعال کی مشابہت سے بہت ہی بچنا چاہیئے۔ یہ اس لیے کہ یہ منصب و ریاست حاصل کرنا اور اس وجاہت سے لوگوں کے مال مارنا چاہتے ہیں۔ احبار یہود کو زمانہ جاہلیت میں بڑا ہی رسوخ حاصل تھا ان کے تحفے، ہدیے، خراج، چراغی مقرر تھی جو بغیر مانگے انہیں پہنچ جاتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بعد اسی طمع نے انہیں قبول اسلام سے روکا۔ لیکن حق کے مقابلے کی وجہ سے اس طرف سے بھی کورے رہے اور آخرت سے بھی گئے گزرے، ذلت و حقارت ان پر برس پڑی اور غضب الٰہی میں مبتلا ہو کر تباہ و برباد ہو گئے۔ یہ حرام کھانی جماعت خود حق سے رک کر اوروں کے بھی درپے رہتی تھی حق کو باطل میں خلط ملط کر کے لوگوں کو بھی راہ حق سے روک دیتے تھے۔

جاہلوں میں بیٹھ کر گپ ہانکتے کہ ہم لوگوں کو راہ حق کی طرف بلاتے ہیں حالانکہ یہ صریح دھوکہ ہے وہ تو جہنم کی طرف بلانے والے ہیں قیامت کے دن یہ بےیارو مددگار چھوڑ دیئے جائیں گے۔ عالموں کا، اور صوفیوں کا یعنی واعظوں اور عابدوں کا ذکر کر کے اب امیروں دولت مندوں اور رئیسوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جس طرح یہ دونوں طبقے اپنے اندر بدترین لوگوں کو بھی رکھتے ہیں ایسے ہی اس تیسرے طبقے میں بھی شریر النفس لوگ ہوتے ہیں۔ عموماً انہی تین طبقے کے لوگوں کا عوام پر اثر ہوتا ہے عوام کی کثیر تعداد ان کے ساتھ بلکہ ان کے پیچھے ہوتی ہیں پس ان کا بگڑنا گویا مذہبی دنیا کا ستیاناس ہونا ہے جیسے کہ ابن مبارک رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں۔ «وھل افسدالدین الا الملوک واحبار سوء ورھبانھا» یعنی دین واعظوں، عالموں، صوفیوں اور درویشوں کے پلید طبقے سے ہی بگڑتا ہے۔ ”کنز“ اصطلاح شرع میں اس مال کو کہتے ہیں جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی جاتی ہو۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی مروی ہے بلکہ آپ فرماتے ہیں: ”جس مال کی زکوٰۃ دے دی جاتی ہو وہ اگر ساتویں زمین تلے بھی ہو تو وہ کنز نہیں اور جس کی زکوٰۃ نہ دی جاتی ہو وہ گو زمین پر ظاہر پھیلا پڑا ہو کنز ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی موقوفاً اور مرفوعاً یہی مروی ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں: ”بے زکوٰۃ کے مال سے اس مالدار کو داغا جائے گا۔‏‏‏‏“ آپ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ زکوٰۃ کے اترنے سے پہلے تھا زکوٰۃ کا حکم نازل فرما کر اللہ نے اسے مال کی طہارت بنا دیا۔

خلیفہ برحق عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ اور عراک بن مالک رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا ہے کہ اسے قول ربانی «خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ» ۱؎ [التوبہ:103] ‏‏‏‏ الخ نے منسوخ کر دیا ہے۔ ابوامامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”تلواروں کا زیور بھی کنز یعنی خزانہ ہے۔ یاد رکھو میں تمہیں وہی سناتا ہوں جو میں نے جناب پیغمبر حق صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”چار ہزار اور اس سے کم تو نفقہ ہے اور اس سے زیاہ کنز ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [بیهقی فی السنن الکبریٰ:82/2:موقوف] ‏‏‏‏ لیکن یہ قول غریب ہے۔ مال کی کثرت کی مذمت اور کمی کی مدحت میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں بطور نمونے کے ہم بھی یہاں ان میں سے چند نقل کرتے ہیں۔ مسند عبدالرزاق میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سونے چاندی والوں کے لیے ہلاکت ہے“ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی فرمان سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر شاق گزرا اور انہوں نے سوال کیا کہ پھر ہم کس قسم کا مال رکھیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حالت بیان کر کے یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”ذکر کرنے والی زبان شکر کرنے والا دل اور دین کے کاموں میں مدد دینے والی بیوی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16676:مرسل] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ سونے چاندی کی مذمت کی یہ آیت جب اتری اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپس میں چرچا کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”لو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کر آتا ہوں“، اپنی سواری تیز کر کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملے۔ ۱؎ [مسند احمد:372/5:صحیح] ‏‏‏‏ اور روایات میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا پھر ہم اپنی اولادوں کے لیے کیا چھوڑ جائیں؟ اس میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے ہی پیچھے ثوبان رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سوال پر فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ اسی لیے مقرر فرمائی ہے کہ بعد کا مال پاک ہو جائے۔ میراث کا مقرر کرنا بتلا رہا ہے کہ جمع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔‏‏‏‏“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر مارے خوشی کے تکبیریں کہنے لگے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لو اور سنو! میں تمہیں بہترین خزانہ بتلاؤں نیک عورت جب اس کا خاوند اس کی طرف نظر ڈالے تو وہ اسے خوش کر دے اور جب حکم دے فوراً بجا لائے اور جب وہ موجود نہ ہو تو حفاظت کرے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1664،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ حسان بن عطیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ ایک سفر میں تھے ایک منزل میں اترے اور اپنے غلام سے فرمایا کہ ”چھری لاؤ کھیلیں۔‏‏‏‏“ مجھے برا معلوم ہوا آپ نے افسوس ظاہر کیا اور فرمایا: ”میں نے تو اسلام کے بعد سے اب تک ایسی بے احتیاطی کی بات کبھی نہیں کی تھی اب تم اسے بھول جاؤ اور ایک حدیث بیان کرتا ہوں اسے یاد رکھو لو“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جب لوگ سونا چاندی جمع کرنے لگیں تم ان کلمات کو بکثرت کہا کرو۔ «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ، وَالْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ قَلْبَاً سَلِيمَاً، وَلِسَانَاً صَادِقَاً، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ، إِنَّكَ أنْتَ عَلاَّمُ الْغُيُوبِ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے کام کی ثابت قدمی اور بھلائیوں کی پختگی اور تیری نعمتوں کا شکریہ اور تیری عبادتوں کی اچھائی اور سلامتی والا دل اور سچی زبان اور تیرے علم میں جو بھلائی ہے وہ اور تیرے علم میں جو برائی ہے اس سے پناہ اور جن برائیوں کو تو جانتا ہے ان سے استغفار طلب کرتا ہوں میں مانتا ہوں کہ تو تمام غیب کا جاننے والا ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:123/4:حسن بالشواھد] ‏‏‏‏ آیت میں بیان ہے کہ اللہ کی راہ میں اپنے مال کو نہ خرچ کرنے والے اور اسے چھپا چھپا کر رکھنے والے درد ناک عذابوں سے مطلع ہو جائیں۔ قیامت کے دن اسی مال کو خوب تپا کر گرم آگ جیسا کر کے اس سے ان کی پیشانیاں اور پہلو اور کمر داغی جائے گی اور بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ان سے فرمایا جائے گا کہ لو اپنی جمع جتھا کا مزہ چکھو۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ فرشتوں کو حکم ہو گا کہ جہنمی گرم پانی کا تریڑ ان کے سروں پر بہاؤ اور ان سے کہو کہ عذاب کا لطف اٹھاؤ تم بڑے ذی عزت اور بزرگ سمجھے جاتے رہے، ۱؎ [44-الدخان:48،49] ‏‏‏‏ یہ ہے بدلہ اس کا۔

ثابت ہوا کہ جو شخص جس چیز کو محبوب بنا کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے اسے مقدم کرے گا اسی کے ساتھ اسے عذاب ہو گا۔ ان مالداروں نے مال کی محبت میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کو بھلا دیا تھا آج اسی مال سے انہیں سزا دی جا رہی ہے۔ جیسے کہ ابولہب کھلم کھلا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی کرتا تھا اور اس کی بیوی اس کی مدد کرتی تھی قیامت کے دن آگ کے اور بھڑکانے کے لیے وہ اپنے گلے میں رسی ڈال کر لکڑیاں لا لا کر اسے سلگائے گی اور اس میں وہ جلتا رہے گا۔ یہ مال جو یہاں سے سب سے زیادہ پسندیدہ ہیں یہی مال قیامت کے دن سب سے زیادہ مضر ثابت ہوں گے۔ اسی کو گرم کر کے اس سے داغ دیئے جائیں گے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ایسے مالداروں کے جسم اتنے لمبے چوڑے کر دیئے جائیں گے کہ ایک ایک دینار و درہم اس پر آ جائے پھر کل مال آگ جیسا بنا کر علیحدہ علیحدہ کر کے سارے جسم پر پھیلا دیا جائے گا یہ نہیں ایک کے بعد ایک داغ لگے، بلکہ ایک ساتھ سب کے سب۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:233/14] ‏‏‏‏ مرفوعاً بھی یہ روایت آئی تو ہے لیکن اس کی سند صحیح نہیں، واللہ اعلم۔ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس کا مال ایک اژدھا بن کر اس کے پیچھے لگے گا جو عضو سامنے آ جائے گا اسی کو چبا جائے گا۔‏‏‏‏“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو اپنے بعد خزانہ چھوڑ جائے اس کا وہ خزانہ قیامت کے دن زہریلا اژدھا بن کر جس کی آنکھوں پر نقطے ہوں گے اس کے پیچھے لگے گا یہ بھاگتا ہوا پوچھے گا کہ تو کون ہے؟ وہ کہے گا تیرا جمع کردہ اور مرنے کے بعد چھوڑا ہوا خزانہ آخر اسے پکڑ لے گا اور اس کا ہاتھ چبا جائے گا پھر باقی جسم بھی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح ابن خریمہ:2255] ‏‏‏‏

صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ نہ دے اس کا مال قیامت کے دن آگ کی تختیوں جیسا بنا دیا جائے گا اور اس سے اس کی پیشانی پہلو اور کمر داغی جائے گی۔ پچاس ہزار سال تک لوگوں کے فیصلے ہو جانے تک تو اس کا یہی حال رہے گا پھر اسے اس کی منزل کی راہ دکھا دی جائے گی جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔ ۱؎ [صحیح مسلم:978] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسی آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ زید بن وہب رحمہ اللہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے ربذہ میں ملے اور دریافت کیا کہ تم یہاں کیسے آ گئے ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم شام میں تھے وہاں میں نے آیت «وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ» [9-التوبہ:34] ‏‏‏‏ کی تلاوت کی“ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ آیت ہم مسلمانوں کے بارے میں نہیں یہ تو اہل کتاب کے بارے میں ہے۔‏‏‏‏“ میں نے کہا: ”ہمارے اور ان کے سب کے حق میں ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4660] ‏‏‏‏ اس میں میرا ان کا اختلاف ہو گیا انہوں نے میری شکایت کا خط دربار عثمانی میں لکھا، خلافت کا فرمان میرے نام آیا کہ تم یہاں چلے آؤ۔ جب میں مدینہ طیبہ پہنچا تو دیکھا کہ چاروں طرف سے مجھے لوگوں نے گھیر لیا۔ اس طرح بھیڑ لگ گئی کہ گویا انہوں نے اس سے پہلے مجھے دیکھا ہی نہ تھا۔ غرض میں مدینہ منورہ میں ٹھہرا لیکن لوگوں کی آمد و رفت سے تنگ آ گیا۔ آخر میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے شکایت کی تو آپ نے مجھے فرمایا کہ ”تم مدینے کے قریب ہی کسی صحرا میں چلے جاؤ۔‏‏‏‏“ میں نے اس حکم کی بھی تعمیل کی لیکن یہ کہہ دیا کہ واللہ! جو میں کہتا تھا اسے ہرگز نہیں چھوڑ سکتا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1406] ‏‏‏‏ آپ کا خیال یہ تھا کہ بال بچوں کے کھلانے کے بعد جو بچے اسے جمع کر رکھنا مطلقاً حرام ہے۔ اسی کا آپ فتویٰ دیتے تھے اور اسی بات کو لوگوں میں پھیلاتے تھے اور لوگوں کو بھی اس پر آمادہ کرتے تھے اسی کا حکم دیتے تھے اور اس کے مخالف لوگوں پر بڑا ہی تشدد کرتے تھے۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو روکنا چاہا کہ کہیں لوگوں میں عام ضرر نہ پھیل جائے یہ نہ مانے تو آپ نے خلیفہ سے شکایت کی۔ امیر المؤمنین نے انہیں بلا کر ربذہ میں تنہا رہنے کا حکم دیا۔ آپ وہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ہی رحلت فرما گئے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بطور امتحان ایک مرتبہ ان کے پاس ایک ہزار اشرفیاں بھجوائیں آپ نے شام سے پہلے ہی پہلے سب ادھر ادھر اللہ کی راہ میں خرچ کر ڈالیں۔ شام کو وہی صاحب جو انہیں صبح کو ایک ہزار اشرفیاں دے گئے تھے وہ آئے اور کہا مجھ سے غلطی ہو گئی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے وہ اشرفیاں اور صاحب کے لیے بھجوائی تھیں۔ میں نے غلطی سے آپ کو دے دیں۔ وہ واپس کیجئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم پر افسوس ہے میرے پاس تو اب ان میں سے ایک پائی بھی نہیں اچھا جب میرا مال آ جائے گا تو میں آپ کو آپ کی اشرفیاں واپس کر دوں گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی اس آیت کے حکم کو عام بتلاتے ہیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت اہل قبلہ کے بارے میں ہے۔‏‏‏‏“ احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں آیا دیکھا کہ ایک جماعت قریشیوں کی محفل لگائے بیٹھی ہے میں بھی اس مجلس میں بیٹھ گیا کہ ایک صاحب تشریف لائے میلے کچیلے، موٹے، چھوٹے کپڑے پہنے ہوئے بہت خستہ حال میں اور آکر کھڑے ہو کر فرمانے لگے روپیہ پیسہ جمع کرنے والے اس سے خبردار رہیں کہ قیامت کے دن جہنم کے انگارے ان کی چھاتی کی بٹنی پر رکھے جائیں گے جو کھوے کی ہڈی کے پار ہو جائیں گے پھر پیچھے کی طرف سے آگے کو سوراخ کرتے اور جلاتے ہوئے نکل جائیں گے۔ لوگ سب سر نیچا کئے بیٹھے رہے کوئی بھی کچھ نہ بولا وہ بھی مڑ کر چل دیئے۔

اور ایک ستون سے لگ کر بیٹھ گئے میں ان کے پاس پہنچا اور ان سے کہا کہ میرے خیال میں تو ان لوگوں کو آپ کی بات بری لگی آپ نے فرمایا یہ کچھ نہیں جانتے۔ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ”میرے پاس اگر احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو مجھے یہ بات اچھی نہیں معلوم ہوتی کہ تین دن گزرنے کے بعد میرے پاس اس میں سے کچھ بھی بچا ہوا رہے ہاں اگر قرض کی ادائیگی کے لیے میں کچھ رکھ لوں تو اور بات ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2444] ‏‏‏‏ غالباً اسی حدیث نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ مذہب کر دیا تھا۔ جو آپ نے اوپر پڑھا، واللہ اعلم۔ ایک مرتبہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو ان کا حصہ ملا آپ کی لونڈی نے اسی وقت ضروریات کو فراہم کرنا شروع کیا۔ سامان کی خرید کے بعد سات بچ رہے۔ حکم دیا کہ اس کے فلوس لے لو تو سیدنا سیدنا عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسے آپ اپنے پاس رہنے دیجئیے تاکہ بوقت ضرور کام نکل جائے یا کوئی مہمان آ جائے تو کوئ کام نہ اٹکے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں مجھ سے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے عہد لیا ہے کہ جو سونا چاندی سربند کر کے رکھی جائے وہ رکھنے والے کے لیے آگ کا انگارا ہے جب تک کہ اسے راہ اللہ نہ دے دے۔ ۱؎ [مسند احمد:156/5:صحیح] ‏‏‏‏

ابن عساکر میں ہے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے فقیر بن کر مل غنی بن کر نہ مل۔‏‏‏‏“ انہوں نے پوچھا: ”یہ کس طرح“؟ فرمایا: ”سائل کو رد نہ کر جو ملے اسے چھپا نہ رکھ۔‏‏‏‏“ انہوں نے کہا: ”یہ کیسے ہو سکے گا“؟ آپ نے فرمایا: ”یہی ہے ورنہ آگ ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:6742،] ‏‏‏‏ اس کی سند ضعیف ہے۔ اہل صفہ میں ایک صاحب کا انتقال ہو گیا وہ دینار یا دو درہم ان کے بچے ہوئے نکلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آگ کے دو داغ ہیں تم لوگ اپنے ساتھی کے جنازے کی نماز پڑھ لو۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:101/1:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ ایک اہل صفہ کے انتقال کے بعد ان کی تہبند کی آنٹی میں سے ایک دینار نکلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک داغ آگ کا۔‏‏‏‏“ پھر دوسرے کا انتقال ہوا ان کے پاس سے دو دینار برآمد ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دو داغ آگ کے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:253،252/5:صحیح] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں جو لوگ سرخ و سفید یعنی سونا چاندی چھوڑ کر مرے ایک ایک قیراط کے بدلے ایک ایک تختی آگ کی بنادی جائے گی اور اس کے قدم سے لے کے ٹھوڑی تک اس کے جسم میں آگ سے داغ کئے جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس نے دینار سے دینار اور درہم سے درہم ملا کر جمع کر کے رکھ چھوڑا اس کی کھال کشادہ کر کے پیشانی اور کروٹ اور کمر پر اس کے داغ کئے جائیں گے اور کہا جائے گا یہ ہے جسے تم اپنی جانوں کے لیے خزانہ بناتے رہے اب اس کا بدلہ چکھو۔ اس کا راوی سیف کذاب و متروک ہے۔
34۔ 1 احبار حبر کی جمع ہے یہ ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو بات کو خوبصورت طریقہ سے پیش کرنے کا طریقہ رکھتا ہو خوبصورت اور منقش کپڑے کو ثوب مُحَبُّر کہا جاتا ہے مراد علماء یہود ہیں، رہبان راہب کی جمع ہے جو رہبنہ سے مشتق ہے۔ اس سے مراد علماء نصاریٰ ہیں بعض کے نزدیک یہ صوفیائے نصاریٰ ہیں۔ یہ دونوں ایک تو کلام اللہ میں تحریف و تغیر کر کے لوگوں کی خواہشات کے مطابق مسئلے بتاتے اور یوں لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان باب کا عنوان ہے ' تم پچھلی امتوں کے طور طریقوں کی ضرور پیروی کرو گے '۔ 34۔ 2 حضرت عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ یہ زکٰوۃ کے حکم سے پہلے کا حکم ہے۔ زکٰوۃ کا حکم نازل ہونے کے بعد زکٰوۃ کو اللہ تعالیٰ نے مال کی طہارت کا ذریعہ بنادیا ہے اس لئے علماء فرماتے ہیں کہ جس مال سے زکٰوۃ ادا کردی جائے وہ خزانہ نہیں ہے اور جس مال کی زکٰوۃ ادا نہ کی جائے، وہ کنز (خزانہ) ہے، جس پر یہ قرآنی وعید ہے۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ ' جو شخص اپنے مال کی زکٰوۃ ادا نہیں کرتا قیامت والے دن اس کے مال کو آگ کی تختیاں بنادیا جائے گا، جس سے اس کے دونوں پہلوؤں کو، پیشانی کو اور کمر کو داغا جائے گا۔ یہ دن پچاس ہزار سال کا ہوگا اور لوگوں کے فیصلے ہوجانے تک اس کا یہی حال رہے گا اس کے بعد جنت یا جہنم میں اسے لے جایا جائے گا (صحیح مسلم) یہ بگڑے ہوئے علماء اور صوفیا کے بعد بگڑے ہوئے اہل سرمایہ ہیں تینوں طبقے عوام کے بگاڑ میں سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں۔
(آیت35،34) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ …:} سلسلۂ کلام کو دیکھیں تو یہاں احبار و رہبان سے مراد اہل کتاب کے عالم اور درویش ہیں، مگر الفاظ عام ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے علماء اور زہاد و صوفیا بھی اس میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا انصاف ملاحظہ فرمائیں کہ سب احبار و رہبان کو ایک جیسا قرار نہیں دیا بلکہ ان میں سے بہت سے لوگوں کا یہ حال بیان فرمایا کہ وہ لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۶۲، ۵۹) رازی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب یہود و نصاریٰ کے بہت سے احبار و رہبان کے فخر و کبر، اللہ کے محبوب ہونے، عام لوگوں سے اونچی مخلوق ہونے اور خدائی اختیارات کے دعوؤں کا ذکر کیا تو اب بتایا کہ ان تمام چیزوں کے اظہار سے ان کا مقصود لوگوں سے رشوت لے کر، غلط مسئلے بتا کر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بشارتوں کو چھپا کر اور ان کو غلط معنی پہنا کر ان کا مال باطل طریقے سے ہتھیانا اور انھیں اللہ کے راستے، یعنی اسلام سے روکنا ہے۔ اللہ جانتا ہے آپ یہود و نصاریٰ کے بہت سے احبارو رہبان کی جگہ آج کل مسلمانوں کے بہت سے احبار و رہبان کا لفظ لگا دیں تو آپ دونوں میں کوئی فرق نہیں پائیں گے، وہی خدا کے محبوب ہونے اور اس سے ہم کلام ہونے کے دعوے، اسی طرح ترک دنیا کا اظہار جس کے پیچھے بدترین حرص چھپی ہوئی ہے، تقدس کا اظہار جس کے پیچھے کتنی عفیفاؤں کی عزت لوٹنے کی وارداتیں موجود ہیں، دین اسلام کے عالم، ستون اور محقق ہونے کے دعوؤں کے باوجود وہ نہایت ڈھٹائی کے ساتھ اپنے یا اپنے پیشواؤں کے اقوال کو اللہ اور اس کے رسول کا حکم کہہ کر پیش کرتے اور اصل قرآن و سنت سے لوگوں کو روکتے ہیں۔ اگر یقین نہ ہو تو کسی گدی نشین، خانقاہ کے شیخ یا دارالعلوم کے حضرت صاحب (الا ما شاء اللہ) کا تجربہ کر لیں، آپ کو وہی فرشتوں جیسی پاکیزگی اور دنیا سے کامل بے رغبتی کے اظہار کے پیچھے بہت کچھ چھپا ہوا مل جائے گا۔ جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی تصدیق ہو گی، آپ نے فرمایا: ”یقینا تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر (برابر) سوار ہو جاؤ گے، جس طرح ایک بالشت دوسری بالشت کے اور ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کے برابر ہوتا ہے۔“ [ مستدرک حاکم 455/4، ح: ۸۴۰۴ ] ہاں، یہ اللہ کا شکر ہے کہ اس دین کی حفاظت کا ذمہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اٹھایا ہوا ہے، اس لیے آپ ہی کی پیش گوئی کے مطابق مسلمانوں میں اصل دین پر قائم رہنے والے اہل حق ہر طبقہ، مثلاً علماء، زہاد، مجاہدین، تجار وغیرہم میں قیامت تک موجود رہیں گے اور اللہ کی مدد سے غالب و منصور رہیں گے، جیسا کہ چند احادیث پچھلی آیت کی تفسیر میں گزری ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل سے ان لوگوں میں شامل فرمائے۔ ➋ {وَ الَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ …:} اس میں {” الَّذِيْنَ “} (وہ لوگ) سے مراد بعض صحابہ اور مفسرین نے یہود و نصاریٰ کے احبار و رہبان ہی لیے ہیں جن کی پہلی دو کمینگیوں (باطل طریقے سے لوگوں کا مال کھانا اور اللہ کی راہ سے روکنا) کے بعد تیسری کمینگی سونا چاندی جمع کرنا بیان فرمائی ہے، کیونکہ بات انھی کی ہو رہی ہے، لیکن اکثر صحابہ اور مفسرین کے مطابق الفاظ کے عام ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ ہوں یا مسلمان، یہ کمینگی جس میں بھی پائی جائے وہ اس وعید کا مستحق ہے اور حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھی شخص جو سونے یا چاندی کا مالک ہو، اس سے اس کا حق ادا نہ کرے، اس کے لیے قیامت کے دن آگ سے (اس سونے یا چاندی کی) سلاخیں یا تختے بنائے جائیں گے، پھر جہنم کی آگ میں انھیں خوب گرم کرکے اس کے پہلو، پیشانی اور پیٹھ کو داغا جائے گا، جب وہ ٹھنڈے ہو جائیں گے تو انھیں دوبارہ گرم کر لیا جائے گا، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہو گی، یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے، تو وہ جنت یا آگ کی طرف اپنا راستہ دیکھے گا۔“ (لمبی حدیث ہے جس میں اونٹوں، بکریوں اور گھوڑوں وغیرہ کا حق ادا نہ کرنے والوں کی وعید بھی مذکور ہے) [ مسلم، الزکاۃ، باب إثم مانع الزکاۃ: 987/24 ] ➌ { وَ لَا يُنْفِقُوْنَهَا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ:} اللہ کی راہ میں خرچ کرنا یہ ہے کہ زکوٰۃ دیتا رہے، اس کے علاوہ بھی ضرورت مندوں پر خرچ کرتا رہے، حاجت مندوں کو قرض دے، حق داروں کا حق ادا کرے، جیسا کہ {” لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا “} والی آیت میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی مال دینے کا بیان ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۷۷) مثلاً اہل خانہ کے اخراجات، مہمان کی ضیافت، مسجد بنانا، جہاد کی تیاری میں مال خرچ کرنا وغیرہ۔ ➍ { فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ:} ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی رو سے مطلقاً سونا چاندی جمع کرنے کو حرام قرار دیا ہے، مگر جمہور صحابہ جیسے امیر المومنین عمر، ابن عمر، ابن عباس، جابر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم اس طرف گئے ہیں کہ جس مال کی زکوٰۃ دے دی جائے وہ یہ کنز نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس وعید کے تحت آتا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”یہ زکوٰۃ کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے، جب زکوٰۃ کا حکم اترا تو اللہ تعالیٰ نے اسے اموال کے پاک کرنے کا ذریعہ بنا دیا۔“ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ عز و جل: { یوم یحمی علیھا }: ۴۶۶۱ ] اگر ضرورت سے زائد سارا مال خرچ کرنا واجب ہو تو میراث اور وصیت وغیرہ کا کچھ مطلب باقی نہیں رہتا اور ایک صحابی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارکانِ اسلام بتاتے ہوئے جب زکوٰۃ کے فرض ہونے کا ذکر فرمایا تو اس نے پوچھا: [ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ ] ”کیا مجھ پر اس کے علاوہ بھی فرض ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: [ لاَ إِلاَّ اَنْ تَطَوَّعَ ] ”نہیں، مگر یہ کہ تو خوشی سے دے۔“ یعنی اس سے زائد فرض نہیں نفل ہے۔ [ بخاری، الإیمان، باب الزکوٰۃ: ۴۶۔ مسلم: ۱۱ ] زکوٰۃ جس کی ادائیگی سے مال کنز کے حکم میں نہیں رہتا، پاک ہو جاتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مقدار مقرر فرمائی۔ چاندی پانچ اوقیہ (۲۰۰ درہم) سے کم پر زکوٰۃ نہیں۔ جب دو سو درہم ہوں اور ان پر سال گزر جائے تو ان میں پانچ درہم زکوٰۃ ہو گی، یعنی اڑھائی فیصد (چالیس میں سے ایک درہم) اور سونے میں جب تک بیس دینار نہ ہوں زکوٰۃ نہیں، جب بیس دینار ہوں اور ان پر سال گزر جائے تو ان میں نصف دینار زکوٰۃ ہے، جو زیادہ ہو اس کی زکوٰۃ اسی حساب سے ہو گی۔ [ أبوداوٗد، الزکاۃ، باب زکاۃ السائمۃ: ۱۵۷۳، عن علی، عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و صححہ الألبانی ]
یَّوۡمَ یُحۡمٰی عَلَیۡہَا فِیۡ نَارِ جَہَنَّمَ فَتُکۡوٰی بِہَا جِبَاہُہُمۡ وَ جُنُوۡبُہُمۡ وَ ظُہُوۡرُہُمۡ ؕ ہٰذَا مَا کَنَزۡتُمۡ لِاَنۡفُسِکُمۡ فَذُوۡقُوۡا مَا کُنۡتُمۡ تَکۡنِزُوۡنَ ﴿۳۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ایک دن آئے گا کہ اسی سونے چاندی پر جہنم کی آگ دہکائی جائے گی اور پھر اسی سے ان لوگوں کی پیشانیوں اور پہلوؤں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا، لو اب اپنی سمیٹی ہوئی دولت کا مزہ چکھو
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن اس خزانے کو آتش دوزخ میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (ان سے کہا جائے گا) یہ ہے جسے تم نے اپنے لئے خزانہ بنا کر رکھا تھا۔ پس اپنے خزانوں کا مزه چکھو
احمد رضا خان بریلوی
جس دن تپایا جائے گا جہنم کی آ گ میں پھر اس سے داغیں گے ان کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں یہ ہے وہ جو تم نے اپنے لیے جوڑ کر رکھا تھا اب چکھو مزا اس جوڑنے کا،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ (واقعہ) اس دن ہوگا جب کہ اس (سونے چاندی) کو دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا اور پھر اس سے ان کی پیشانیوں، پہلوؤں اور پشتوں کو داغا جائے گا (اور انہیں بتایا جائے گا کہ) یہ ہے وہ جو تم نے اپنے لئے جمع کرکے رکھا تھا تو اب مزا چکھو اس کا جو تم نے جمع کرکے رکھا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن اسے جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس کے ساتھ ان کی پیشانیوں اور ان کے پہلوئوں اور ان کی پشتوں کو داغا جائے گا۔ یہ ہے جو تم نے اپنے لیے خزانہ بنایا تھا، سو چکھو جو تم خزانہ بنایا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہودیوں کے علماء کو احبار اور نصرانیوں کے عابدوں کو رہبان کہتے ہیں۔ «لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ» ۱؎ [5-المآئدہ:63] ‏‏‏‏ میں یہود کے علماء کو احبار کہا گیا ہے۔ نصرانیوں کے عابدوں کو رہبان اور ان کے علماء کو قسیس اس آیت میں کہا گیا ہے «ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُهْبَانًا» ۱؎ [5-المآئدہ:82] ‏‏‏‏ آیت کا مقصود لوگوں کو برے علماء گمراہ صوفیوں اور عابدوں سے ہوشیار کرانا اور ڈرانا ہے۔ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”ہمارے علماء میں سے وہی بگڑتے ہیں جن میں کچھ نہ کچھ شائبہ یہودیت کا ہوتا ہے اور صوفیوں اور عابدوں میں سے وہی بگڑتے ہیں جن میں نصرانیت کا شائبہ ہوتا ہے۔‏‏‏‏“ صحیح حدیث میں ہے کہ تم یقیناً اپنے سے پہلوں کی روش پر چل پڑو گے ایسی پوری مشابہت سے کہ ذرا بھی فرق نہ رہے۔ لوگوں نے پوچھا کیا یہود و نصاریٰ کی روش پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں انہی کی روش پر۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:7319] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ لوگوں نے پوچھا کیا فارسیوں اور رومیوں کی روش پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور کون لوگ ہیں“؟ ۱؎ [صحیح بخاری:7320] ‏‏‏‏ پس ان کے اقوال افعال کی مشابہت سے بہت ہی بچنا چاہیئے۔ یہ اس لیے کہ یہ منصب و ریاست حاصل کرنا اور اس وجاہت سے لوگوں کے مال مارنا چاہتے ہیں۔ احبار یہود کو زمانہ جاہلیت میں بڑا ہی رسوخ حاصل تھا ان کے تحفے، ہدیے، خراج، چراغی مقرر تھی جو بغیر مانگے انہیں پہنچ جاتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بعد اسی طمع نے انہیں قبول اسلام سے روکا۔ لیکن حق کے مقابلے کی وجہ سے اس طرف سے بھی کورے رہے اور آخرت سے بھی گئے گزرے، ذلت و حقارت ان پر برس پڑی اور غضب الٰہی میں مبتلا ہو کر تباہ و برباد ہو گئے۔ یہ حرام کھانی جماعت خود حق سے رک کر اوروں کے بھی درپے رہتی تھی حق کو باطل میں خلط ملط کر کے لوگوں کو بھی راہ حق سے روک دیتے تھے۔

جاہلوں میں بیٹھ کر گپ ہانکتے کہ ہم لوگوں کو راہ حق کی طرف بلاتے ہیں حالانکہ یہ صریح دھوکہ ہے وہ تو جہنم کی طرف بلانے والے ہیں قیامت کے دن یہ بےیارو مددگار چھوڑ دیئے جائیں گے۔ عالموں کا، اور صوفیوں کا یعنی واعظوں اور عابدوں کا ذکر کر کے اب امیروں دولت مندوں اور رئیسوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جس طرح یہ دونوں طبقے اپنے اندر بدترین لوگوں کو بھی رکھتے ہیں ایسے ہی اس تیسرے طبقے میں بھی شریر النفس لوگ ہوتے ہیں۔ عموماً انہی تین طبقے کے لوگوں کا عوام پر اثر ہوتا ہے عوام کی کثیر تعداد ان کے ساتھ بلکہ ان کے پیچھے ہوتی ہیں پس ان کا بگڑنا گویا مذہبی دنیا کا ستیاناس ہونا ہے جیسے کہ ابن مبارک رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں۔ «وھل افسدالدین الا الملوک واحبار سوء ورھبانھا» یعنی دین واعظوں، عالموں، صوفیوں اور درویشوں کے پلید طبقے سے ہی بگڑتا ہے۔ ”کنز“ اصطلاح شرع میں اس مال کو کہتے ہیں جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی جاتی ہو۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی مروی ہے بلکہ آپ فرماتے ہیں: ”جس مال کی زکوٰۃ دے دی جاتی ہو وہ اگر ساتویں زمین تلے بھی ہو تو وہ کنز نہیں اور جس کی زکوٰۃ نہ دی جاتی ہو وہ گو زمین پر ظاہر پھیلا پڑا ہو کنز ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی موقوفاً اور مرفوعاً یہی مروی ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں: ”بے زکوٰۃ کے مال سے اس مالدار کو داغا جائے گا۔‏‏‏‏“ آپ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ زکوٰۃ کے اترنے سے پہلے تھا زکوٰۃ کا حکم نازل فرما کر اللہ نے اسے مال کی طہارت بنا دیا۔

خلیفہ برحق عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ اور عراک بن مالک رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا ہے کہ اسے قول ربانی «خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ» ۱؎ [التوبہ:103] ‏‏‏‏ الخ نے منسوخ کر دیا ہے۔ ابوامامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”تلواروں کا زیور بھی کنز یعنی خزانہ ہے۔ یاد رکھو میں تمہیں وہی سناتا ہوں جو میں نے جناب پیغمبر حق صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”چار ہزار اور اس سے کم تو نفقہ ہے اور اس سے زیاہ کنز ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [بیهقی فی السنن الکبریٰ:82/2:موقوف] ‏‏‏‏ لیکن یہ قول غریب ہے۔ مال کی کثرت کی مذمت اور کمی کی مدحت میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں بطور نمونے کے ہم بھی یہاں ان میں سے چند نقل کرتے ہیں۔ مسند عبدالرزاق میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سونے چاندی والوں کے لیے ہلاکت ہے“ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی فرمان سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر شاق گزرا اور انہوں نے سوال کیا کہ پھر ہم کس قسم کا مال رکھیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حالت بیان کر کے یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”ذکر کرنے والی زبان شکر کرنے والا دل اور دین کے کاموں میں مدد دینے والی بیوی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16676:مرسل] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ سونے چاندی کی مذمت کی یہ آیت جب اتری اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپس میں چرچا کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”لو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کر آتا ہوں“، اپنی سواری تیز کر کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملے۔ ۱؎ [مسند احمد:372/5:صحیح] ‏‏‏‏ اور روایات میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا پھر ہم اپنی اولادوں کے لیے کیا چھوڑ جائیں؟ اس میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے ہی پیچھے ثوبان رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سوال پر فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ اسی لیے مقرر فرمائی ہے کہ بعد کا مال پاک ہو جائے۔ میراث کا مقرر کرنا بتلا رہا ہے کہ جمع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔‏‏‏‏“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر مارے خوشی کے تکبیریں کہنے لگے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لو اور سنو! میں تمہیں بہترین خزانہ بتلاؤں نیک عورت جب اس کا خاوند اس کی طرف نظر ڈالے تو وہ اسے خوش کر دے اور جب حکم دے فوراً بجا لائے اور جب وہ موجود نہ ہو تو حفاظت کرے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1664،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ حسان بن عطیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ ایک سفر میں تھے ایک منزل میں اترے اور اپنے غلام سے فرمایا کہ ”چھری لاؤ کھیلیں۔‏‏‏‏“ مجھے برا معلوم ہوا آپ نے افسوس ظاہر کیا اور فرمایا: ”میں نے تو اسلام کے بعد سے اب تک ایسی بے احتیاطی کی بات کبھی نہیں کی تھی اب تم اسے بھول جاؤ اور ایک حدیث بیان کرتا ہوں اسے یاد رکھو لو“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جب لوگ سونا چاندی جمع کرنے لگیں تم ان کلمات کو بکثرت کہا کرو۔ «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ، وَالْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ قَلْبَاً سَلِيمَاً، وَلِسَانَاً صَادِقَاً، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ، إِنَّكَ أنْتَ عَلاَّمُ الْغُيُوبِ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے کام کی ثابت قدمی اور بھلائیوں کی پختگی اور تیری نعمتوں کا شکریہ اور تیری عبادتوں کی اچھائی اور سلامتی والا دل اور سچی زبان اور تیرے علم میں جو بھلائی ہے وہ اور تیرے علم میں جو برائی ہے اس سے پناہ اور جن برائیوں کو تو جانتا ہے ان سے استغفار طلب کرتا ہوں میں مانتا ہوں کہ تو تمام غیب کا جاننے والا ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:123/4:حسن بالشواھد] ‏‏‏‏ آیت میں بیان ہے کہ اللہ کی راہ میں اپنے مال کو نہ خرچ کرنے والے اور اسے چھپا چھپا کر رکھنے والے درد ناک عذابوں سے مطلع ہو جائیں۔ قیامت کے دن اسی مال کو خوب تپا کر گرم آگ جیسا کر کے اس سے ان کی پیشانیاں اور پہلو اور کمر داغی جائے گی اور بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ان سے فرمایا جائے گا کہ لو اپنی جمع جتھا کا مزہ چکھو۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ فرشتوں کو حکم ہو گا کہ جہنمی گرم پانی کا تریڑ ان کے سروں پر بہاؤ اور ان سے کہو کہ عذاب کا لطف اٹھاؤ تم بڑے ذی عزت اور بزرگ سمجھے جاتے رہے، ۱؎ [44-الدخان:48،49] ‏‏‏‏ یہ ہے بدلہ اس کا۔

ثابت ہوا کہ جو شخص جس چیز کو محبوب بنا کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے اسے مقدم کرے گا اسی کے ساتھ اسے عذاب ہو گا۔ ان مالداروں نے مال کی محبت میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کو بھلا دیا تھا آج اسی مال سے انہیں سزا دی جا رہی ہے۔ جیسے کہ ابولہب کھلم کھلا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی کرتا تھا اور اس کی بیوی اس کی مدد کرتی تھی قیامت کے دن آگ کے اور بھڑکانے کے لیے وہ اپنے گلے میں رسی ڈال کر لکڑیاں لا لا کر اسے سلگائے گی اور اس میں وہ جلتا رہے گا۔ یہ مال جو یہاں سے سب سے زیادہ پسندیدہ ہیں یہی مال قیامت کے دن سب سے زیادہ مضر ثابت ہوں گے۔ اسی کو گرم کر کے اس سے داغ دیئے جائیں گے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ایسے مالداروں کے جسم اتنے لمبے چوڑے کر دیئے جائیں گے کہ ایک ایک دینار و درہم اس پر آ جائے پھر کل مال آگ جیسا بنا کر علیحدہ علیحدہ کر کے سارے جسم پر پھیلا دیا جائے گا یہ نہیں ایک کے بعد ایک داغ لگے، بلکہ ایک ساتھ سب کے سب۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:233/14] ‏‏‏‏ مرفوعاً بھی یہ روایت آئی تو ہے لیکن اس کی سند صحیح نہیں، واللہ اعلم۔ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس کا مال ایک اژدھا بن کر اس کے پیچھے لگے گا جو عضو سامنے آ جائے گا اسی کو چبا جائے گا۔‏‏‏‏“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو اپنے بعد خزانہ چھوڑ جائے اس کا وہ خزانہ قیامت کے دن زہریلا اژدھا بن کر جس کی آنکھوں پر نقطے ہوں گے اس کے پیچھے لگے گا یہ بھاگتا ہوا پوچھے گا کہ تو کون ہے؟ وہ کہے گا تیرا جمع کردہ اور مرنے کے بعد چھوڑا ہوا خزانہ آخر اسے پکڑ لے گا اور اس کا ہاتھ چبا جائے گا پھر باقی جسم بھی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح ابن خریمہ:2255] ‏‏‏‏

صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ نہ دے اس کا مال قیامت کے دن آگ کی تختیوں جیسا بنا دیا جائے گا اور اس سے اس کی پیشانی پہلو اور کمر داغی جائے گی۔ پچاس ہزار سال تک لوگوں کے فیصلے ہو جانے تک تو اس کا یہی حال رہے گا پھر اسے اس کی منزل کی راہ دکھا دی جائے گی جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔ ۱؎ [صحیح مسلم:978] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ اسی آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ زید بن وہب رحمہ اللہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے ربذہ میں ملے اور دریافت کیا کہ تم یہاں کیسے آ گئے ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم شام میں تھے وہاں میں نے آیت «وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ» [9-التوبہ:34] ‏‏‏‏ کی تلاوت کی“ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ آیت ہم مسلمانوں کے بارے میں نہیں یہ تو اہل کتاب کے بارے میں ہے۔‏‏‏‏“ میں نے کہا: ”ہمارے اور ان کے سب کے حق میں ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4660] ‏‏‏‏ اس میں میرا ان کا اختلاف ہو گیا انہوں نے میری شکایت کا خط دربار عثمانی میں لکھا، خلافت کا فرمان میرے نام آیا کہ تم یہاں چلے آؤ۔ جب میں مدینہ طیبہ پہنچا تو دیکھا کہ چاروں طرف سے مجھے لوگوں نے گھیر لیا۔ اس طرح بھیڑ لگ گئی کہ گویا انہوں نے اس سے پہلے مجھے دیکھا ہی نہ تھا۔ غرض میں مدینہ منورہ میں ٹھہرا لیکن لوگوں کی آمد و رفت سے تنگ آ گیا۔ آخر میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے شکایت کی تو آپ نے مجھے فرمایا کہ ”تم مدینے کے قریب ہی کسی صحرا میں چلے جاؤ۔‏‏‏‏“ میں نے اس حکم کی بھی تعمیل کی لیکن یہ کہہ دیا کہ واللہ! جو میں کہتا تھا اسے ہرگز نہیں چھوڑ سکتا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1406] ‏‏‏‏ آپ کا خیال یہ تھا کہ بال بچوں کے کھلانے کے بعد جو بچے اسے جمع کر رکھنا مطلقاً حرام ہے۔ اسی کا آپ فتویٰ دیتے تھے اور اسی بات کو لوگوں میں پھیلاتے تھے اور لوگوں کو بھی اس پر آمادہ کرتے تھے اسی کا حکم دیتے تھے اور اس کے مخالف لوگوں پر بڑا ہی تشدد کرتے تھے۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو روکنا چاہا کہ کہیں لوگوں میں عام ضرر نہ پھیل جائے یہ نہ مانے تو آپ نے خلیفہ سے شکایت کی۔ امیر المؤمنین نے انہیں بلا کر ربذہ میں تنہا رہنے کا حکم دیا۔ آپ وہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ہی رحلت فرما گئے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بطور امتحان ایک مرتبہ ان کے پاس ایک ہزار اشرفیاں بھجوائیں آپ نے شام سے پہلے ہی پہلے سب ادھر ادھر اللہ کی راہ میں خرچ کر ڈالیں۔ شام کو وہی صاحب جو انہیں صبح کو ایک ہزار اشرفیاں دے گئے تھے وہ آئے اور کہا مجھ سے غلطی ہو گئی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے وہ اشرفیاں اور صاحب کے لیے بھجوائی تھیں۔ میں نے غلطی سے آپ کو دے دیں۔ وہ واپس کیجئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم پر افسوس ہے میرے پاس تو اب ان میں سے ایک پائی بھی نہیں اچھا جب میرا مال آ جائے گا تو میں آپ کو آپ کی اشرفیاں واپس کر دوں گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی اس آیت کے حکم کو عام بتلاتے ہیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت اہل قبلہ کے بارے میں ہے۔‏‏‏‏“ احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں آیا دیکھا کہ ایک جماعت قریشیوں کی محفل لگائے بیٹھی ہے میں بھی اس مجلس میں بیٹھ گیا کہ ایک صاحب تشریف لائے میلے کچیلے، موٹے، چھوٹے کپڑے پہنے ہوئے بہت خستہ حال میں اور آکر کھڑے ہو کر فرمانے لگے روپیہ پیسہ جمع کرنے والے اس سے خبردار رہیں کہ قیامت کے دن جہنم کے انگارے ان کی چھاتی کی بٹنی پر رکھے جائیں گے جو کھوے کی ہڈی کے پار ہو جائیں گے پھر پیچھے کی طرف سے آگے کو سوراخ کرتے اور جلاتے ہوئے نکل جائیں گے۔ لوگ سب سر نیچا کئے بیٹھے رہے کوئی بھی کچھ نہ بولا وہ بھی مڑ کر چل دیئے۔

اور ایک ستون سے لگ کر بیٹھ گئے میں ان کے پاس پہنچا اور ان سے کہا کہ میرے خیال میں تو ان لوگوں کو آپ کی بات بری لگی آپ نے فرمایا یہ کچھ نہیں جانتے۔ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ”میرے پاس اگر احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو مجھے یہ بات اچھی نہیں معلوم ہوتی کہ تین دن گزرنے کے بعد میرے پاس اس میں سے کچھ بھی بچا ہوا رہے ہاں اگر قرض کی ادائیگی کے لیے میں کچھ رکھ لوں تو اور بات ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2444] ‏‏‏‏ غالباً اسی حدیث نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ مذہب کر دیا تھا۔ جو آپ نے اوپر پڑھا، واللہ اعلم۔ ایک مرتبہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو ان کا حصہ ملا آپ کی لونڈی نے اسی وقت ضروریات کو فراہم کرنا شروع کیا۔ سامان کی خرید کے بعد سات بچ رہے۔ حکم دیا کہ اس کے فلوس لے لو تو سیدنا سیدنا عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسے آپ اپنے پاس رہنے دیجئیے تاکہ بوقت ضرور کام نکل جائے یا کوئی مہمان آ جائے تو کوئ کام نہ اٹکے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں مجھ سے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے عہد لیا ہے کہ جو سونا چاندی سربند کر کے رکھی جائے وہ رکھنے والے کے لیے آگ کا انگارا ہے جب تک کہ اسے راہ اللہ نہ دے دے۔ ۱؎ [مسند احمد:156/5:صحیح] ‏‏‏‏

ابن عساکر میں ہے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے فقیر بن کر مل غنی بن کر نہ مل۔‏‏‏‏“ انہوں نے پوچھا: ”یہ کس طرح“؟ فرمایا: ”سائل کو رد نہ کر جو ملے اسے چھپا نہ رکھ۔‏‏‏‏“ انہوں نے کہا: ”یہ کیسے ہو سکے گا“؟ آپ نے فرمایا: ”یہی ہے ورنہ آگ ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:6742،] ‏‏‏‏ اس کی سند ضعیف ہے۔ اہل صفہ میں ایک صاحب کا انتقال ہو گیا وہ دینار یا دو درہم ان کے بچے ہوئے نکلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آگ کے دو داغ ہیں تم لوگ اپنے ساتھی کے جنازے کی نماز پڑھ لو۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:101/1:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ ایک اہل صفہ کے انتقال کے بعد ان کی تہبند کی آنٹی میں سے ایک دینار نکلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک داغ آگ کا۔‏‏‏‏“ پھر دوسرے کا انتقال ہوا ان کے پاس سے دو دینار برآمد ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دو داغ آگ کے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:253،252/5:صحیح] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں جو لوگ سرخ و سفید یعنی سونا چاندی چھوڑ کر مرے ایک ایک قیراط کے بدلے ایک ایک تختی آگ کی بنادی جائے گی اور اس کے قدم سے لے کے ٹھوڑی تک اس کے جسم میں آگ سے داغ کئے جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس نے دینار سے دینار اور درہم سے درہم ملا کر جمع کر کے رکھ چھوڑا اس کی کھال کشادہ کر کے پیشانی اور کروٹ اور کمر پر اس کے داغ کئے جائیں گے اور کہا جائے گا یہ ہے جسے تم اپنی جانوں کے لیے خزانہ بناتے رہے اب اس کا بدلہ چکھو۔ اس کا راوی سیف کذاب و متروک ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوۡرِ عِنۡدَ اللّٰہِ اثۡنَا عَشَرَ شَہۡرًا فِیۡ کِتٰبِ اللّٰہِ یَوۡمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ مِنۡہَاۤ اَرۡبَعَۃٌ حُرُمٌ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ ۬ۙ فَلَا تَظۡلِمُوۡا فِیۡہِنَّ اَنۡفُسَکُمۡ وَ قَاتِلُوا الۡمُشۡرِکِیۡنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ کَآفَّۃً ؕ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۳۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اللہ کے نوشتے میں بارہ ہی ہے، اور ان میں سے چار مہینے حرام ہیں یہی ٹھیک ضابطہ ہے لہٰذا ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے سب مل کر لڑو جس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں اور جان رکھو کہ اللہ متقیوں ہی کے ساتھ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں باره کی ہے، اسی دن سے جب سے آسمان وزمین کو اس نے پیدا کیا ہے اس میں سے چار حرمت وادب کے ہیں۔ یہی درست دین ہے، تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ﻇلم نہ کرو اور تم تمام مشرکوں سے جہاد کرو جیسے کہ وه تم سب سے لڑتے ہیں اور جان رکھو کہ اللہ تعالی متقیوں کے ساتھ ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہے اللہ کی کتاب میں جب سے اس نے آسمان اور زمین بنائے ان میں سے چار حرمت والے ہیں یہ سیدھا دین ہے، تو ان مہینوں میں اپنی جان پر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے ہر وقت لڑو جیسا وہ تم سے ہر وقت لڑتے ہیں، اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد نوشتہ خداوندی میں جب سے اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے بارہ ہے، جن میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔ یہی دینِ مستقیم ہے۔ پس ان میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو اور تمام مشرکین سے اسی طرح جنگ کرو جس طرح کہ وہ تم سب سے کرتے ہیں اور جان لو کہ بے شک اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک مہینوں کی گنتی، اللہ کے نزدیک، اللہ کی کتاب میں بارہ مہینے ہے، جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے۔ سو ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے ہر حال میں لڑو، جیسے وہ ہر حال میں تم سے لڑتے ہیں اور جان لو کہ اللہ متقی لوگوں کے ساتھ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احترام آدمیت کا منشور ٭٭

مسند احمد میں ہے کہ رسول مقبول , صادق و مصدوق سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج کے خطبے میں ارشاد فرمایا کہ زمانہ گھوم گھام کر اپنی اصلیت پر آ گیا ہے سال کے بارہ مہینے ہوا کرتے ہیں جن میں سے چار حرمت و ادب والے ہیں۔ تین تو پے در پے ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم اور چوتھا رجب جو مضر کے ہاں ہے جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان میں ہے۔ پھر پوچھا یہ کون سا دن ہے؟ ہم نے کہا: ”اللہ تعالیٰ کو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی پورا علم ہے۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت فرمایا۔ ہم سمجھے کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کا کوئی اور ہی نام رکھیں گے پھر پوچھا ”کیا یہ یوم النحر یعنی قربانی کی عید کا دن نہیں“؟ ہم نے کہا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون سا مہینہ ہے“؟ ہم نے کہا: ”اللہ تعالیٰ جانے اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سکوت فرمایا یہاں تک کہ ہم نے خیال کیا کہ شاید آپ اس مہینے کا نام اور ہی رکھیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے“؟ ہم نے کہا: ”ہاں۔‏‏‏‏“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون سا شہر ہے“؟ ہم نے کہا: ”اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوب جاننے والے ہیں“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خاموش ہو رہے اور ہمیں پھر خیال آنے لگا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور ہی نام رکھیں گے۔ پھر فرمایا: ”کیا یہ بلدہ [ مکہ ] ‏‏‏‏ نہیں ہے“ ہم نے کہا: ”بیشک۔‏‏‏‏“ آپ نے فرمایا: ”یاد رکھو تمہارے خون تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم میں آپس میں ایسی ہی حرمت والی ہیں جیسی حرمت و عزت تمہارے اس دن کی تمہارے اس مہینہ میں تمہارے اس شہر میں، تم ابھی ابھی اپنے رب سے ملاقات کرو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کا حساب لے گا سنو! میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردن زدنی کرنے لگو بتلاؤ کیا میں نے تبلیغ کر دی؟ سنو تم میں سے جو موجود ہیں انہیں چاہیئے کہ جو موجود نہیں ان تک پہنچا دیں۔ بہت ممکن ہے کہ جسے وہ پہنچائے وہ ان بعض سے بھی زیادہ نگہداشت رکھنے والا ہو۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4406] ‏‏‏‏

اور روایت میں ہے کہ وسط ایام تشریق میں، منیٰ میں حجتہ الوداع کے خطبے کے موقعہ کا یہ ذکر ہے، ابوحرہ رقاشی رحمہ اللہ کے چچا جو صحابی ہیں کہتے ہیں کہ اس خطبے کے وقت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناقہ کی نکیل تھامے ہوئے تھا اور لوگوں کی بھیڑ کو روکے ہوئے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے جملے کا یہ مطلب ہے کہ جو کمی بیشی، تقدیم تاخیر مہینوں کی جاہلیت کے زمانے کے مشرک کیا کرتے تھے وہ الٹ پلٹ کر اس وقت ٹھیک ہو گئی ہے جو مہینہ آج ہے وہی درحقیقت بھی ہے۔ جیسے کہ فتح مکہ کے موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”یہ شہر ابتداء مخلوق سے باحرمت و باعزت ہے وہ آج بھی حرمت والا ہے اور قیامت تک حرمت والا ہی رہے گا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:1834] ‏‏‏‏ پس عربوں میں جو یہ رواج پڑ گیا تھا کہ ان کے اکثر حج ذی الحجہ کے مہینے میں نہیں ہوتے تھے اب کی مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے موقعہ پر یہ بات نہ تھی بلکہ حج اپنے ٹھیک مہینے پر تھا۔ بعض لوگ اس کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا حج ذوالقعدہ میں ہوا لیکن یہ غور طلب قول ہے۔ جیسے کہ ہم مع ثبوت بیان کریں گے۔ آیت «اِنَّمَا النَّسِيْ» ۱؎ [9-التوبہ:37] ‏‏‏‏ کی تقسیر میں ہے۔ اس قول سے بھی زیادہ غرابت والا ایک قول بعض سلف کا یہ بھی ہے کہ اس سال یہود و نصاریٰ مسلمان سب کے حج کا دن اتفاق سے ایک ہی تھا یعنی عید الاضحیٰ کا دن۔

فصل ٭٭

”فصل“ شیخ علم الدین سخاوی نے اپنی کتاب ”المشہور فی اسماء الایام و المشہور“ میں لکھا ہے کہ محرم کے مہینے کو محرم اس کی تعظیم کی وجہ سے کہتے ہیں لیکن میرے نزدیک تو اس نام کی وجہ سے اس کی حرمت کی تاکید ہے اس لیے کہ عرب جاہلیت میں اسے بدل ڈالتے تھے کبھی حلال کر ڈالتے کبھی حرام کر ڈالتے، اس کی جمع محرمات، محارم، محاریم ہے، صفر کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس مہینے میں عموماً ان کے گھر خالی رہتے تھے کیونکہ یہ لڑائی بھڑائی اور سفر میں چل دیتے تھے جب مکان خالی ہو جائے تو عرب کہتے ہیں [صفر المکان] ‏‏‏‏ اس کی جمع اصفار ہے جیسے جمل کی جمع اجمال ہے۔ ربیع الاول کے نام کا سبب یہ ہے کہ اس مہینہ میں ان کی اقامت ہو جاتی ہے۔ «ارتباع» کہتے ہیں اقامت کو اس کی جمع «اربعاء» ہے جیسے نصیب کی جمع «انصباء» ۔ اور اس کی جمع «اربعہ» ہے جیسے «رغیف» کی جمع «ارغفہ» ہے۔ ربیع الاخر کے مہینے کا نام رکھنا بھی اسی وجہ سے ہے۔ گویا یہ اقامت کا دوسرا مہینہ ہے۔ جمادی الاولیٰ کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس مہینے میں پانی جمع جاتا تھا ان کے حساب میں مہینے گردش نہیں کرتے تھے۔ یعنی ٹھیک ہر موسم پر ہی ہر مہینہ آتا تھا لیکن یہ بات کچھ حجت نہیں اس لئے کہ جب ان مہینوں کا حساب چاند پر ہے تو ظاہر ہے کہ موسمی حالت ہر ماہ میں ہر سال یکساں نہیں رہے گی ہاں یہ ممکن ہے کہ اس مہینہ کا نام جس سال رکھا گیا ہو اس سال یہ مہینہ کڑکڑاتے ہوئے جاڑے میں آیا ہو اور پانی میں جمود ہو گیا ہو۔ چنانچہ ایک شاعر نے یہی کہا ہے جمادی کی سخت اندھیری راتیں جن میں کتا بھی بمشکل ایک آدھ مرتبہ ہی بھونک لیتا ہے۔ اس کی جمع «جمادیات» جیسے «حباری» اور «حباریات» ۔ یہ مذکر مونث دونوں طرح مستعمل ہے، جمادی الاولیٰ اور جمادی الاخریٰ کہا جاتا ہے۔

جمادی الاخری کی وجہ تسمیہ بھی یہی ہے گویا یہ پانی کے جم جانے کا دوسرا مہینہ ہے۔ رجب یہ ماخوذ ہے ترجیب سے، ترجیب کہتے ہیں تعظیم کو چونکہ یہ مہینہ عظمت و عزت والا ہے اس لیے اسے رجب کہتے ہیں۔ اس کی جمع ارجاب رجاب اور رجبات ہے۔ شعبان کا نام شعبان اس لیے ہے کہ اس میں عرب لوگ لوٹ مار کے لیے ادھر ادھر متفرق ہو جاتے تھے۔ تشعب کے معنی ہیں جدا جدا ہونا پس اس مہینے کا بھی یہی نام رکھ دیا گیا۔ اس کی جمع شعابین، شعبانات آتی ہے۔ رمضان کو رمضان اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں اونٹینوں کے پاؤں بوجہ شدت گرما کے جلنے لگتے ہیں۔ [رمضت الفصال] ‏‏‏‏ اس وقت کہتے ہیں جب اونٹنیوں کے بچے سخت پیاسے ہوں۔ اس کی جمع رمضانات اور رماضین اور ارمضہ آتی ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے یہ محض غلط اور ناقابل التفات قول ہے۔ میں کہتا ہوں اس بارے میں ایک حدیث بھی وارد ہوئی ہے۔ لیکن ہے وہ ضعیف میں نے کتاب الصیام کے شروع میں اس کا بیان کر دیا ہے۔ شوال ماخوذ ہے [شالت الابل] ‏‏‏‏ سے یہ مہینہ اونٹوں کے مستیوں کا مہینہ تھا یہ دمیں اٹھا دیا کرتے تھے اس لیے اس مہینہ کا یہی نام ہو گیا۔ اس کی جمع شواویل، شواول، شوالات آتی ہے۔ ذوالقعدہ یا ذوی القعدہ کا نام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس ماہ میں عرب لوگ بیٹھ جایا کرتے تھے نہ لڑائی کے لیے نکلتے نہ کسی اور سفر کے لیے۔ اس کی جمع ذوات القعدہ ہے۔ ذوالحجہ کو ذوالحجہ بھی کہہ سکتے ہیں چونکہ اسی ماہ میں حج ہوتا تھا اس لیے اس کا یہ نام مقرر ہو گیا، اس کی جمع ذوات الحجہ آتی ہے۔ یہ تو تھی ان مہینوں کے ناموں کی وجہ تسمیہ۔ اب ہفتے کے سات دنوں کے نام اور ان ناموں کی جمع سنئے۔ اتوار کے دن کو یوم الاحد کہتے ہیں اس کی جمع اَحاد اُحاد اور وحود آتی ہے۔ پیر کے دن کو اثنین کہتے ہیں اس کی جمع اثانین آتی ہے۔

منگل کو ثلاثا کہتے ہیں یہ مذکر بھی بولا جاتا ہے اور مونث بھی اس کی جمع ثلاثاوات اور اثالث آتی ہے۔ بدھ کے دن کو اربعاء کہتے ہیں۔ جمع اربعاوات اور ارابیع آتی ہے۔ جمعرات کو خمیس کہتے ہیں جمع اس کی اخمسہ، اخامس آتی ہے۔ جمعہ کو جمعہ اور جمعہ کہتے ہیں اس کی جمع: جُمُعٌ اور جَمَاعَاتٌ آتی ہے۔ سنیچر یعنی ہفتے کے دن کو سبت کہتے ہیں سبت کے معنی ہیں قطع کے چونکہ گنتی ہفتے کی دنوں کی یہیں پر ختم ہو جاتی ہے اس لیے اسے سبت کہتے یں۔ قدیم عربوں میں ہفتے کے دن کے نام یہ تھے اول، اھون، جبار، دبار، مونس، عروبہ، شیار۔ قدیم خالص عربوں کے اشعار میں بھی دنوں کے نام پائے جاتے ہیں۔ قرآن کریم فرماتا ہے کہ ان بارہ ماہ میں چار حرمت والے ہیں۔ جاہلیت کے عرب بھی انہیں حرمت والے مانتے تھے لیکن بسل نامی ایک گروہ اپنے تشدد کی بنا پر آٹھ مہینوں کو حرمت والا خیال کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں رجب کو قبیلہ مضر کی طرف اضافت کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جس مہینے کو وہ رجب مہینہ شمار کرتے تھے۔ دراصل وہی رجب کا مہینہ عند اللہ بھی تھا جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان میں ہے۔ قبیلہ ربیعہ کے نزدیک رجب، شعبان، اور شوال کے درمیان کے مہینے کا یعنی رمضان کا نام تھا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھول دیا کہ حرمت والا رجب مضر کا ہے نہ کہ ربیعہ کا۔

ان چار ذی حرمت مہینوں میں سے تین پے در پے اس مصلحت سے ہیں کہ حاجی ذوالقعدہ کے مہینے میں نکلے تو اس وقت تک لڑائیاں مار پیٹ جنگ و جدال قتل و قتال بند ہو لوگ اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہوں پھر ذی الحجہ میں احکام کی ادائیگی امن و امان عمدگی اور شان سے ہو جائے پھر ماہ محرم کی حرمت میں واپس گھر پہنچ جائے۔ درمیان سال میں رجب کو حرمت والا بنانے کی غرض یہ ہے کہ زائرین اپنے طواف بیت اللہ کے شوق کو عمرے کی صورت میں ادا کر لیں گو دور دراز علاقوں والے ہوں وہ بھی مہینہ بھر میں آمد و رفت کرلیں۔ یہی اللہ کا سیدھا اور سچا دین ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق تم ان پاک مہینوں کی حرمت کرو، ان میں خصوصیت کے ساتھ گناہوں سے بچو اس لیے کہ اس میں گناہوں کی برائی اور بڑھ جاتی ہے، جیسے کہ حرم شریف کا گناہ اور جگہ کے گناہ سے بڑھ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جو حرم میں الحاد کا ارادہ ظلم سے کرے ہم اسے درد ناک عذاب کریں گے۔ ۱؎ [22-الحج:25] ‏‏‏‏ اسی طرح سے ان محترم مہینوں کا گناہ اور دنوں کے گناہوں سے بڑھ جاتا ہے اس لیے امام شافعی رحمہ اللہ اور علماء کی ایک بڑی جماعت کے نزدیک ان مہینوں کے قتل کی دیت بھی سخت ہے۔ اس طرح حرم کے اندر قتل کی اور ذی محرم رشتے دار کے قتل کی بھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں [فیھن] ‏‏‏‏ سے مراد سال بھر کے کل مہینے ہیں۔ پس ان کل مہینوں میں گناہوں سے بچو خصوصاً ان چار مہینوں میں کہ یہ حرمت والے ہیں۔ ان کی بڑی عزت ہے ان میں گناہ سزا کے اعتبار سے اور نیکیاں اجر و ثواب کے اعتبار سے بڑھ جاتی ہیں۔

سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ان حرمت والے مہینوں میں گناہ کی سزا اور بوجھ بڑھ جاتا ہے گو ظلم ہر حال میں بری چیز ہے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے جس امر کو چاہے بڑھا دے۔ دیکھئیے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے بھی پسند فرما لیا فرشتوں میں انسانوں میں اپنے رسول چن لیے اسی طرح کلام میں سے اپنے ذکر کو پسند فرما لیا اور زمین میں سے مسجدوں کو پسند فرما لیا اور مہینوں میں سے رمضان المبارک کو اور ان چاروں مہینوں کو پسند فرما لیا اور دنوں میں سے جمعہ کے دن اور راتوں میں لیلتہ القدر کو پس تمہیں ان چیزوں کی عظمت کا لحاظ رکھنا چاہیئے جنہیں اللہ تعالیٰ نے عظمت دی ہے۔ امور کی تعظیم اتنی کرنی عقلمند اور فہیم لوگوں کے نزدیک اتنی ضروری ہے جتنی تعظیم ان کی اللہ تعالیٰ سبحانہ نے بتلائی ہو۔ ان کی حرمت کا ادب نہ کرنا حرام ہے ان میں جو کام حرام ہیں انہیں حلال نہ کر لو جو حلال ہیں انہیں حرام نہ بنا لو جیسے کہ اہل شرک کرتے تھے یہ ان کے کفر میں زیادتی کی بات تھی۔ پھر فرمایا کہ تم سب کے سب کافروں سے جہاد کرتے رہو جیسے کہ وہ سب کے سب تم میں سے برسر جنگ ہیں، حرمت والے ان چار مہینوں میں جنگ کی ابتداء کرنی منسوخ یا محکم ہونے کے بارے میں علماء کے دو قول ہیں پہلا تو یہ کہ یہ منسوخ ہے یہ قول زیادہ مشہور ہے۔ اس آیت کے الفاظ پر غور کیجئے کہ پہلے تو فرمان ہوا کہ ان مہینوں میں ظلم نہ کرو پھر مشرکوں سے جنگ کرنے کو فرمایا۔

ظاہری الفاظ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم عام ہے حرمت کے مہینے بھی اس میں آ گئے اگر یہ مہینے اس سے الگ ہوتے تو ان کے گزر جانے کی قید ساتھ ہی بیان ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ ماہ ذوالقعدہ میں کیا تھا جو حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے۔ جیسے کہ بخاری و مسلم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوازن قبیلے کی طرف ماہِ شوال میں چلے جب ان کو ہزیمت ہوئی اور ان میں سے بچے ہوئے بھاگ کر طائف میں پناہ گزین ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں گئے اور چالیس دن تک محاصرہ رکھا پھر بغیر فتح کئے ہوئے وہاں سے واپس لوٹ آئے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1059] ‏‏‏‏ پس ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرمت والے مہینے میں محاصرہ کیا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ حرمت والے مہینوں میں جنگ کی ابتداء کرنی حرام ہے اور ان مہینوں کی حرمت کا حکم منسوخ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ شعائر الہی کو اور حرمت والے مہینوں کو حلال نہ کیا کرو اور فرمان ہے حرمت والے مہینے حرمت والے مہینوں کے بدلے ہیں اور حرمتیں قصاص ہیں پس جو تم پر زیادتی کرے تو تم بھی ان سے ویسی ہی زیادتی کا بدلہ لو اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ» ۱؎ [9-التوبہ:5] ‏‏‏‏ حرمت والے مہینوں کے گزر جانے کے بعد مشرکوں سے جہاد کرو۔ یہ پہلے گزر چکا ہے کہ یہ چار مہینے ہیں ہر سال میں۔ نہ کہ تسییر کے مہینے جو کہ دو قولوں میں سے ایک قول ہے۔

پھر فرمایا کہ تم سب مسلمان ان سے اسی طرح لڑو جیسے وہ تم سے سب کے سب لڑتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ اپنے پہلے سے جداگانہ ہوں اور ہو سکتا ہے کہ یہ حکم بالکل نیا اور الگ ہو مسلمانوں کو رغبت دلانے اور انہیں جہاد پر آمادہ کرنے کے لیے۔ تو فرماتا ہے کہ جیسے تم سے جنگ کرنے کے لیے وہ بھڑبھڑا کر جمع ہو کر چاروں طرف سے ابل پڑتے ہیں تم بھی اپنے سب کلمہ گو اشخاص کو لے کر ان سے مقابلہ کرو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس حملے میں مسلمانوں کو حرمت والے مہینوں میں جنگ کرنے کی رخصت دی ہو۔ جبکہ حملہ ان کی طرف سے ہو، جیسے آیت «اَلشَّهْرُ الْحَرَام» ۱؎ [2-البقرة:194] ‏‏‏‏ میں ہے اور جیسے آیت میں ہے «‏‏‏‏وَلَا تُقٰتِلُوْھُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى يُقٰتِلُوْكُمْ فِيْهِ» ۱؎ [2-البقرة:191] ‏‏‏‏ میں بیان ہے کہ ان سے مسجد الحرام کے پاس نہ لڑو جب تک کہ وہ وہاں لڑائی نہ کریں ہاں اگر وہ تم سے لڑیں تو تم بھی ان سے لڑو۔ یہی جواب حرمت والے مہینے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طائف کے محاصرے کا ہے کہ دراصل ہوازن اور ثقیف کے ساتھ جنگ کا یہ لڑائی تتمہ تھی ہوازن کی اور ان کے ثقفی حلیفوں کی لڑائ کا۔ انہوں نے ہی لڑائ کی ابتداء کی تھی۔ ادھر ادھر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین کو جمع کر کے لڑائی کی دعوت دی تھی۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پیش قدمی کی یہ پیش قدمی بھی حرمت والے مہینے میں نہ تھی۔ یہاں شکست کھا کر یہ لوگ طائف میں بھاگے اور وہاں قلعہ بند ہو گئے۔ آپ اس مرکز کو خالی کرانے کے لیے اور آگے بڑھے، انہوں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا مسلمانوں کی ایک جماعت کو قتل کر ڈالا۔ ادھر محاصرہ جاری رہا منجنیق وغیرہ سے چالیس دن تک ان کو گھیرے رہے۔ الغرض اس جنگ کی ابتداء حرمت والے مہینے میں نہیں تھی لیکن جنگ نے طول کھینچا حرمت والا مہینہ بھی آ گیا۔ جب چند دن گزر گئے آپ نے محاصرہ ہٹا لیا۔ پس جنگ کا جاری رکھنا اور چیز ہے اور جنگ کی ابتدء اور چیز ہے اس کی بہت سی نظیریں ہیں، واللہ اعلم۔ اب اس میں جو حدیثیں ہیں ہم انہیں سیرت میں بھی بیان کر چکے ہیں۔ واللہ اعلم۔
36۔ 1 فی کتاب اللہ سے مراد لوح محفوظ یعنی تقدیر الٰہی ہے۔ یعنی ابتداء آفرینش سے ہی اللہ تعالیٰ نے بارہ مہینے مقرر فرمائے ہیں، جن میں چار حرمت والے ہیں جن میں قتال وجدال کی بالخصوص ممانعت ہے۔ اسی بات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے بیان فرمایا ہے کہ ' زمانہ گھوم گھما کر پھر اسی حالت پر آگیا ہے جس حالت پر اس وقت تھا جب اللہ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی۔ سال بارہ مہینوں کا ہے، جن میں چار حرمت والے ہیں، تین پے درپے ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم اور چوتھا رجب جو جمادی الاخری اور شعبان کے درمیان ہے۔ (صحیح بخاری) زمانہ اسی حالت پر آگیا ہے کا مطلب، مشرکین عرب مہینوں میں جو تاخیر و تقدیم کرتے تھے جس کی تفصیل آگے آرہی ہے اس کا خاتمہ ہے۔ 36۔ 2 یعنی ان مہینوں کا اسی ترتیب سے ہونا جو اللہ نے رکھی ہے اور جن میں چار حرمت والے ہیں۔ اور یہی حساب صحیح اور عدد مکمل ہے۔ 36۔ 3 یعنی حرمت والے مہینوں میں قتال کر کے ان کی حرمت پامال کر کے اور اللہ کی نافرمانی کا ارتکاب کر کے۔ 36۔ 4 لیکن حرمت والے مہینے گزرنے کے بعد الا یہ کہ وہ لڑنے پر مجبور کردیں، پھر حرمت والے مہینوں میں بھی تمہارے لئے لڑنا جائز ہوگا۔
(آیت36) ➊ {اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا …:} سورۂ توبہ میں مشرکین سے براء ت اور ان سے جہاد کے درمیان «قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ» ‏‏‏‏ آیت (۲۹) سے لے کر «فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ» آیت (۳۵) تک سات آیات میں اہل کتاب سے قتال اور ان کے تینوں سربرآور دہ طبقات احبار، رہبان اور مال دار لوگوں کے بگاڑ کا ذکر اور مذمت کرنے کے بعد آگے ان دو آیات میں مشرکین کی کچھ مزید خرابیوں کا ذکر فرمایا۔ ➋ یہود و نصاریٰ کی طرح مشرکین عرب بھی اللہ کے احکام بدلنے کے لیے حیلہ سازی سے کام لیتے تھے، مثلاً آسمان و زمین کی پیدائش کے دن سے تمام ادیان میں یہ طریقہ چلا آ رہا تھا کہ مہینے اور سال شمسی حساب یعنی سورج کے بجائے قمری حساب یعنی چاند کے لحاظ سے معتبر سمجھے جاتے تھے اور تمام عبادات میں یہی تاریخیں ملحوظ رکھی جاتی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی طریقہ قائم رکھا، کیونکہ چاند کی حالت کا روزانہ بدلنا تاریخ کے تعین میں اتنا واضح اور آسان ہے کہ آبادیوں کے علاوہ جنگلوں، پہاڑوں، صحراؤں اور سمندروں میں رہنے والے لوگ کسی کیلنڈر کی محتاجی کے بغیر مہینوں اور سالوں کا حساب آسانی سے معلوم کر سکتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا: «هُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِيْنَ وَ الْحِسَابَ» [ یونس: ۵ ] ”وہی ہے جس نے سورج کو تیز روشنی اور چاند کو نور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں، تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب معلوم کرو۔“ اللہ تعالیٰ نے تمام شرعی احکام قمری حساب کے مطابق رکھے، جس میں دوسری بے شمار حکمتوں کے ساتھ یہ حکمت بھی ہے کہ یہ عبادات ہر سال ایک ہی موسم میں نہ آئیں بلکہ بدل بدل کر آتی رہیں، ورنہ کسی علاقے میں روزے ہمیشہ گرمی میں آتے، کہیں ہمیشہ سردی میں۔ قمری حساب کی وجہ سے حج بھی مختلف موسموں میں آتا ہے، تاکہ مسلمان سختی اور نرمی دونوں حالتوں میں روزہ و حج اور اللہ کے دوسرے احکام ادا کرنے کی عادت ڈال سکیں۔ قمری مہینا ۲۹ یا ۳۰ دن کا ہوتا ہے، نہ اس سے ایک دن کم نہ زیادہ اور سال بارہ ماہ میں ۳۵۴یا ۳۵۵ دنوں کا ہوتا ہے، جبکہ شمسی سال ۳۶۵ دن اور ایک دن کے چوتھائی حصے کے برابر ہوتا ہے اور اس کے بارہ ماہ میں سے کوئی تیس، کوئی اکتیس دن کا اور فروری ۲۸ دن کا ہوتا ہے جو چوتھے سال ۲۹ دن کا شمار کیا جاتا ہے، شمسی سال کا ہر ماہ اور دن اپنے مقرر موسم ہی میں آتا ہے۔ ➌ قمری مہینوں میں سے چار ماہ کو دین ابراہیمی میں حرمت والے مہینے قرار دیا گیا تھا، جن میں ہر قسم کی لڑائی حرام تھی، حتیٰ کہ اگر کوئی ان دنوں میں اپنے باپ کے قاتل کو بھی دیکھ لیتا تو قتل نہ کرتا، جن میں سے تین مسلسل تھے ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم، تاکہ حج کے ایام اور ان سے ایک ماہ پہلے اور ایک ماہ بعد پورے عرب میں لوگ حج کے لیے بے خوف اور پرامن ہو کر حج کر سکیں اور رجب کا مہینا الگ رکھا، تاکہ لوگ امن کے ساتھ عمرہ کے لیے آنے جانے کا سفر کر سکیں۔ ➍ اللہ تعالیٰ نے یہاں مہینوں کی گنتی بارہ ماہ ہونے کی صراحت اس لیے فرمائی ہے کہ مشرکین عرب حج کو شمسی سال کی طرح ہر سال ایک ہی دن خوشگوار موسم میں ادا کرنے کے لیے قمری مہینوں کے سال کو شمسی سال کے برابر کرنے کے لیے کبھی قمری سال میں اضافہ کر کے اسے تیرہ یا چودہ ماہ کا کر لیتے تھے اور اسے ”کبیسہ“ کہتے تھے۔ یہ بھی ”نسئی“ کی ایک صورت تھی، یعنی حرمت والے مہینے اپنے اصل مقام سے مؤخر ہو جاتے تھے اور حلال مہینوں کو وہ حرمت والا قرار دے لیتے تھے۔ جس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا اس سال اتفاق سے حج اپنے اصلی دن، یعنی قمری لحاظ سے ۱۰ ذوالحجہ کو ادا ہوا تھا، اس کے بعد سے لے کر اللہ کے حکم کے مطابق حج اور اسلام کی دوسری تمام عبادات قمری تاریخ کے مطابق اصل وقت ہی پر ادا ہو رہی ہیں۔ یہی مطلب ہے اس حدیث کا جو ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے خطبہ میں) فرمایا: ”زمانہ گھوم پھر کر اپنی اس اصل پر آگیا ہے جو اس دن تھی جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا تھا۔ سال بارہ ماہ کا ہے، جن میں سے چار حرمت والے ہیں، تین پے در پے ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم اور مضر قبیلے کا رجب جو جمادی اور شعبان کے درمیان ہے۔“ [ بخاری، المغازی، باب حجۃ الوداع: ۴۴۰۶ ] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مضر کا رجب اس لیے فرمایا کہ بنو ربیعہ رمضان کو حرمت کا مہینا قرار دیتے تھے اور بنو مضر اصل رجب کو، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان ہونے کی تصریح فرمائی۔ ➎ { فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ:} اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوسرے مہینوں میں بے شک اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہو، بلکہ کچھ مقامات اور اوقات جو زیادہ فضیلت رکھتے ہیں، مثلاً مکہ، مدینہ، بیت المقدس، اللہ تعالیٰ کی مساجد، ماہ رمضان، لیلۃ القدر، حرمت والے ماہ وغیرہ، ان میں نیکی کی تاکید زیادہ ہے، جیسا کہ فرمایا: «حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۲۳۸ ] ”سب نمازوں کی حفاظت کرو اور درمیانی نماز کی۔“ اسی طرح ان میں ظلم سے باز رہنے کی تاکید بھی زیادہ ہے، حتیٰ کہ حرم مکہ میں ظلم کے ساتھ الحاد (کج روی) کے ارادے پر بھی عذاب الیم کی وعید ہے۔ دیکھیے سورۂ حج (۲۵) جب کہ دوسری جگہوں میں ارادے پر یہ مؤاخذہ نہیں۔ ایک مطلب یہ بھی ہے کہ مہینوں کو آگے پیچھے کر کے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرکے اپنے آپ پر ظلم مت کرو۔ ➏ {وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَآفَّةً …: ” كَآفَّةً “} مصدر ہے اور فاعل اور مفعول دونوں سے حال بن سکتا ہے۔ یہ لفظ اسی طرح آتا ہے، اس کا تثنیہ یا جمع نہیں آتا، نہ اس پر ”الف لام“ آتا ہے اور یہ لازماً مؤنث ہی آتا ہے، جیسا کہ {” عَامَةٌ “} یا {”خَاصَةٌ “} ہے۔ {” كَآفَّةً “} کا معنی {”جَمِيْعًا “} ہے۔ اس کی دو تفسیریں بیان کی گئی ہیں، ایک تو یہ کہ جس طرح مشرکین تم سے سب کے سب اکٹھے ہو کر لڑتے ہیں تم بھی سب مل کر ان سے اکٹھے ہو کر لڑو۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ بے شک یہ چار مہینے حرمت والے ہیں، مگر مشرکین چونکہ اس کی پروا نہیں کرتے اور عین حرمت والے مہینوں میں بھی وہ تم سے لڑنے سے دریغ نہیں کرتے، جیسا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر ذوالقعدہ میں وہ لڑنے پر تیار ہو گئے تھے، اس سے پہلے انھوں نے حرم کی حرمت کو پامال کرتے ہوئے مسلمانوں کو وہاں سے نکال دیا تھا اور پھر وہاں داخلے سے روک دیا تھا، مسلمانوں پر ظلم کرنے میں نہ حرم کا خیال رکھا نہ حرمت والے مہینوں کا، اس لیے تم بھی ان سے تمام مہینوں میں اور ہر حال میں ہر جگہ لڑو، جس طرح وہ تم سے ہر حال میں ہر جگہ اور تمام مہینوں میں لڑتے ہیں۔ تفصیل ”التحریر والتنویر“ میں دیکھیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے اس کا ترجمہ کیا ہے: ”اور لڑو مشرکوں سے ہر حال، جیسے وہ لڑتے ہیں تم سے ہر حال۔“ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ صراحت فرمائی ہے: «اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۱۹۴ ] ”حرمت والا مہینا حرمت والے مہینے کے بدلے ہے اور سب حرمتیں ایک دوسری کا بدلہ ہیں۔“ اس سے معلوم ہوا کہ اگر مشرکین حرمت والے مہینوں کی حرمت اور حرم مکہ کی حرمت کا پوری طرح پاس کریں اور ان میں کوئی جنگی کارروائی نہ کریں تو مسلمانوں کو بھی اس کا پاس رکھنا چاہیے، ورنہ ہر وقت اور ہر جگہ ان کے خلاف جنگ کی جائے گی، فرمایا: «وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى يُقٰتِلُوْكُمْ فِيْهِ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۱۹۱ ] ”اور مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو، یہاں تک کہ وہ اس میں تم سے لڑیں۔“
اِنَّمَا النَّسِیۡٓءُ زِیَادَۃٌ فِی الۡکُفۡرِ یُضَلُّ بِہِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یُحِلُّوۡنَہٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوۡنَہٗ عَامًا لِّیُوَاطِـُٔوۡا عِدَّۃَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ فَیُحِلُّوۡا مَا حَرَّمَ اللّٰہُ ؕ زُیِّنَ لَہُمۡ سُوۡٓءُ اَعۡمَالِہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿٪۳۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
نسی تو کفر میں ایک مزید کافرانہ حرکت ہے جس سے یہ کافر لوگ گمراہی میں مبتلا کیے جاتے ہیں کسی سال ایک مہینے کو حلال کر لیتے ہیں اور کسی سال اُس کو حرام کر دیتے ہیں، تاکہ اللہ کے حرام کیے ہوئے مہینوں کی تعداد پوری بھی کر دیں اور اللہ کا حرام کیا ہوا حلال بھی کر لیں ان کے برے اعمال ان کے لیے خوشنما بنا دیے گئے ہیں اور اللہ منکرین حق کو ہدایت نہیں دیا کرتا
مولانا محمد جوناگڑھی
مہینوں کا آگے پیچھے کر دینا کفر کی زیادتی ہے اس سے وه لوگ گمراہی میں ڈالے جاتے ہیں جو کافر ہیں۔ ایک سال تو اسے حلال کر لیتے ہیں اور ایک سال اسی کو حرمت واﻻ کر لیتے ہیں، کہ اللہ نے جو حرمت رکھی ہے اس کے شمار میں تو موافقت کر لیں پھر اسے حلال بنا لیں جسے اللہ نے حرام کیا ہے انہیں ان کے برے کام بھلے دکھادیئے گئے ہیں اور قوم کفار کی اللہ رہنمائی نہیں فرماتا
احمد رضا خان بریلوی
ان کا مہینے پیچھے ہٹانا نہیں مگر اور کفر میں بڑھنا اس سے کافر بہکائے جاتے ہیں ایک برس اسے حلال ٹھہراتے ہیں اور دوسرے برس اسے حرام مانتے ہیں کہ اس گنتی کے برابر ہوجائیں جو اللہ نے حرام فرمائی اور اللہ کے حرام کیے ہوئے حلال کرلیں، ان کے برے کا م ان کی آنکھوں میں بھلے لگتے ہیں، اور اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا،
علامہ محمد حسین نجفی
سوا اس کے نہیں ہے کہ نسیئی (حرمت والے مہینوں کو مؤخر کرنا) کفر میں زیادتی کا موجب ہے۔ اس سے وہ لوگ گمراہ کئے جاتے ہیں جو کافر ہیں۔ وہ اسے ایک سال حلال قرار دیتے ہیں اور اسی کو دوسرے سال حرام قرار دیتے ہیں تاکہ ان مہینوں کی گنتی پوری کریں جنہیں اللہ نے حرام کیا ہے تاکہ اس (حیلے) سے اللہ کی حرام کردہ کو اپنے لئے حلال قرار دیں۔ ان کے برے اعمال ان کے لئے آراستہ کر دیے گئے ہیں اور اللہ کافروں کو منزلِ مقصود تک نہیں پہنچاتا۔
عبدالسلام بن محمد
حقیقت یہی ہے کہ مہینوں کو پیچھے کر دینا کفر میں زیادتی ہے، جس کے ساتھ وہ لوگ گمراہ کیے جاتے ہیں جنھوں نے کفر کیا، ایک سال اسے حلال کر لیتے ہیں اور ایک سال اسے حرام کر لیتے ہیں، تاکہ ان کی گنتی پوری کرلیں جو اللہ نے حرام کیے ہیں، پھر جو اللہ نے حرام کیا ہے اسے حلال کر لیں۔ ان کے برے اعمال ان کے لیے خوش نما بنا دیے گئے ہیں اور اللہ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احکامات دین میں رد و بدل انتہائی مذموم سوچ ہے ٭٭

مشرکوں کے کفر کی زیادتی بیان ہو رہی ہے کہ وہ کس طرح اپنی فاسد رائے کو اور اپنی ناپاک خواہش کو شریعت الہٰی میں داخل کر کے اللہ کے دین کے احکام کو الٹ پلٹ کر دیتے تھے۔ حرام کو حلال اور حلال کو حرام بنا لیتے تھے۔ تین مہینے کی حرمت کو تو ٹھیک رکھا پھر چوتھے مہینے محرم کی حرمت کو اس طرح بدل دیا کہ محرم کو صفر کے مہینے میں کر دیا اور محرم کی حرمت نہ کی۔ تاکہ بظاہر سال کے چار مہینے کی حرمت بھی پوری ہو جائے اور اصلی حرمت کے محرم مہینے میں لوٹ مار قتل و غارت بھی ہو جائے اور اس پر اپنے قصیدوں میں مبالغہ کرتے تھے اور فخریہ اپنا یہ فعل اچھالتے تھے۔ ان کا ایک سردار تھا جنادہ بن عمرو بن امیہ کنانی یہ ہر سال حج کو آتا اس کی کنیت ابوثمامہ تھی یہ منادی کر دیتا کہ نہ تو ابو ثمامہ کے مقابلے میں کوئی آواز اٹھا سکتا ہے نہ اس کی بات میں کوئی عیب جوئی کر سکتا ہے۔ سنو پہلے سال صفر کا مہینہ حلال ہے اور دوسرے سال کا حرام۔ پس ایک سال کے محرم کی حرمت نہ رکھتے دوسرے سال کے محرم کی حرمت منا لیتے ان کی اسی زیادتی کفر کا بیان اس آیت میں ہے۔ یہ شخص اپنے گدھے پر سوار آتا اور جس سال یہ محرم کو حرمت والا بنا دیتا لوگ اس کی حرمت کرتے اور جس سال وہ کہ دیتا کہ محرم کو ہم نے ہٹا کر صفر اور صفر کو آگے بڑھا کر محرم میں کر دیا ہے اس سال عرب میں اس ماہ محرم کی حرمت کوئی نہ کرتا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ بنی کنانہ کے اس شخص کو قلمس کہا جاتا تھا یہ منادی کر دیتا کہ اس سال محرم کی حرمت نہ منائی جائے اگلے سال محرم اور صفر دونوں کی حرمت رہے گی، پس اس کے قول پر جاہلیت کے زمانے میں عمل کر لیا جاتا، اور اب حرمت کے اصلی مہینے میں جس میں ایک انسان اپنے باپ کے قاتل کو پا کر بھی اس کی طرف نگاہ بھر کر نہیں دیکھتا تھا اب آزادی سے آپس میں خانہ جنگیاں اور لوٹ مار ہوتی۔

لیکن یہ قول کچھ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا کیونکہ قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ گنتی میں وہ موافقت کرتے تھے اور اس میں گنتی کی موافقت بھی نہیں ہوتی بلکہ ایک سال میں تین مہینے رہ جاتے ہیں اور دوسرے سال میں پانچ ماہ ہو جاتے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو حج فرض تھا ذی الحجہ کے مہینے میں لیکن مشرک ذی الحجہ کا نام محرم رکھ لیتے پھر برابر گنتے جاتے اور اس حساب سے جو ذی الحجہ آتا اس میں حج ادا کرتے پھر محرم سے خاموشی برت لیتے اس کا ذکر ہی نہ کرتے۔ پھر لوٹ کر صفر نام رکھ دیتے پھر رجب کو جمادی الاخریٰ پھر شعبان کو رمضان اور رمضان کو شوال پھر ذوالقعدہ کو شوال ذی الحجہ کو ذی القعدہ اور محرم کو ذی الحجہ کہتے اور اس میں حج کرتے، پھر اس کا اعادہ کرتے اور دو سال تک ہر ایک مہینے میں برابر حج کرتے۔ جس سال سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حج کیا، اس سال مشرکوں کی اس گنتی کے مطابق دوسرے برس کا ذوالقعدہ کا مہینہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے موقعہ پر ٹھیک ذوالحجہ کا مہینہ تھا اور اسی کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں اشارہ فرمایا اور ارشاد ہوا کہ زمانہ الٹ پلٹ کر اسی ہئیت پر آ گیا ہے جس ہئیت پر اس وقت تھا جب زمین و آسمان اللہ تعالیٰ نے رچائے۔ لیکن یہ قول بھی درست نہیں معلوم ہوتا۔ اس وجہ سے کہ اگر ذی القعدہ میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا حج ہوا تو یہ حج کیسے صحیح ہو سکتا ہے؟ ۱؎ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «وَأَذَانٌ مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ» ۱؎ [9-التوبة:3] ‏‏‏‏ یعنی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے آج کے حج اکبر کے دن مشرکوں سے علیحدگی اور بیزاری کا اعلان ہے۔

اس کی منادی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حج میں ہی کی گئی پس اگر یہ حج ذی الحجہ کے مہینے میں نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو حج کا دن نہ فرماتا۔ اور صرف مہینوں کی تقدیم و تاخیر کو جس کا بیان اس آیت میں ہے ثابت کرنے کے لیے اس تکلف کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ وہ تو اس کے بغیر بھی ممکن ہے۔ کیونکہ مشرکین ایک سال تو محرم الحرام کے مہینے کو حلال کر لیتے اور اس کے عوض ماہ صفر کو حرمت والا کر لیتے سال کے باقی مہینے اپنی جگہ رہتے۔ پھر دوسرے سال محرم کو حرام سمجھتے اور اس کی حرمت و عزت باقی رکھتے تاکہ سال کے چار حرمت والے مہینے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر تھے ان کی گنتی میں موافقت کر لیں پس کبھی تو حرمت والے تینوں مہینے جو پے در پے ہیں ان میں سے آخری ماہ محرم کی حرمت رکھتے کبھی اسے صفر کی طرف مؤخر کر دیتے۔ رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ زمانہ گھوم گھام کر اپنی اصلی حالت پر آ گیا ہے یعنی اس وقت جو مہینہ ان کے نزدیک ہے وہی مہینہ صحیح گنتی میں بھی ہے اس کا پورا بیان ہم اس سے پہلے کر چکے ہیں واللہ اعلم۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ عقبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی پوری حمد و ثناء بیان فرما کر فرمایا کہ ”مہینوں کی تاخیر شیطان کی طرف سے کفر کی زیادتی تھی کہ کافر بہکیں، وہ ایک سال محرم کو حرمت والا کرتے اور صفر کو حلت والا پھر محرم کو حلت والا کر لیتے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:10019/6:ضعیف] ‏‏‏‏ یہی ان کی وہ تقدیم تاخیر ہے جو اس آیت میں بیان ہوئی ہے۔

امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب السیرۃ میں اس پر بہت اچھا کلام کیا ہے جو بے حد مفید اور عمدہ ہے۔ آپ تحریر فرماتے ہیں کہ اس کام کو سب سے پہلے کرنے والا قلمس تھا [حذیفہ بن عبد بن فقیم بن عدی بن عامر بن ثعلبہ بن حارث بن مالک بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان] ‏‏‏‏ پھر اس کا بیٹا عباد پھر اس کا لڑکا قلع پھر اس کا لڑکا امیہ پھر اس کا بیٹا عوف پھر اس کا لڑکا ابو ثمامہ جنادہ، اسی کے زمانہ میں اشاعتِ اسلام ہوئی۔ عرب لوگ حج سے فارغ ہو کر اس کے پاس جمع ہوتے یہ کھڑا ہو کر انہیں لیکچر دیتا اور رجب، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کی حرمت بیان کرتا اور ایک سال تو محرم کو حلال کر دیتا اور محرم صفر کو بنا دیتا اور ایک سال محرم کو ہی حرمت والا کہ دیتا کہ اللہ کی حرمت کے مہینوں کی گنتی موافق ہو جائے اور اللہ کا حرام حلال بھی ہو جائے۔
37۔ 1 نسییء کے معنی پیچھے کرنے کے ہیں۔ عربوں میں بھی حرمت والے مہینوں میں قتال وجدال اور لوٹ مار کو سخت ناپسندیدہ سمجھا جاتا تھا۔ لیکن مسلسل تین مہینے، ان کی حرمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے، قتل و غارت سے اجتناب، ان کے لئے بہت مشکل تھا۔ اس لئے اس کا حل انہوں نے یہ نکال رکھا تھا جس حرمت والے مہینے میں قتل و غارت کرنا چاہتے اس میں وہ کرلیتے اور اعلان کردیتے کہ اس کی جگہ فلاں مہینہ حرمت والا ہوگا مثلًا محرم کے مہینے کی حرمت توڑ کر اس کی جگہ صفر کو حرمت والا مہینہ قرار دے دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی بابت فرمایا کہ یہ کفر میں زیادتی ہے کیونکہ اس کا ادل بدل مقصود لڑائی اور دنیاوی مفادات کے حصول کے سوا کچھ نہیں۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے خاتمے کا اعلان یہ کہہ کر فرمادیا کہ زمانہ گھوم گھما کر اپنی اصلی حالت میں آگیا ہے یعنی اب آئندہ مہینوں کی یہ ترتیب اسی طرح رہے گی جس طرح ابتدائے کائنات سے چلی آرہی ہے۔ 37۔ 2 یعنی ایک مہینے کی حرمت توڑ کر اس کی جگہ دوسرے مہینے کو حرمت والا قرار دینے سے ان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے چار مہینے حرمت والے رکھے ہیں، ان کی گنتی پوری رہے۔ یعنی گنتی پوری کرنے میں اللہ کی موافقت کرتے تھے، لیکن اللہ نے قتال وجدال اور غارت گری سے جو منع کیا تھا، اس کی انہیں کوئی پرواہ نہ تھی، بلکہ انہیں ظالمانہ کاروائیوں کے لئے ہی وہ ادل بدل کرتے تھے۔
(آیت37) {اِنَّمَا النَّسِيْٓءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ …: ” النَّسِيْٓءُ “} یہ {” فَعِيْلٌ“ } کے وزن پر مصدر ہے۔ {”نَسَأَ الشَّيْءَ“} کا معنی ہے اس نے فلاں چیز کو مؤخر (پیچھے) کر دیا۔ اونٹوں کو حوض سے ہٹایا جائے تو کہا جاتا ہے:{ ”نَسَأْتُ الْاِبِلَ عَنِ الْحَوْضِ“} ”میں نے اونٹوں کو حوض سے پیچھے ہٹا دیا۔“ مشرکین ”نسیٔ“ دو طرح سے کرتے تھے، ایک تو وہ جو اوپر حاشیہ(۴) میں بیان ہوا ہے، دوسرا یہ کہ وہ لوگ جنگ و جدل اور لوٹ مار کے عادی تھے، مسلسل تین ماہ اس کام سے باز رہنا ان کے لیے مشکل تھا، اس لیے وہ حرمت والے مہینے، مثلاً محرم کو حلال قرار دے کر اس سے اگلے ماہ صفر کو حرمت والا مقرر کر لیتے۔ ان کے ہاں بس چار ماہ حرمت والے پورے کرنے ضروری تھے، رہی ان کی تعیین تو وہ انھوں نے اپنے اختیار میں لے رکھی تھی، اسی کو اللہ تعالیٰ نے کفر میں زیادتی قرار دیا، کیوں کہ حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دینا تو اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے، پھر اللہ تعالیٰ کے ہاں عبادات کے اوقات جو قمری حساب سے بدل بدل کر ہر موسم میں آتے رہتے تھے انھوں نے ان کے اصل اوقات سے ہٹا دیے تھے، یہ بھی کفر پر مزید کفر تھا۔ پھر وہ اپنے اس عمل پر خوش تھے اور شیطان نے ان کے لیے ان کے برے اعمال بھی خوش نما بنا دیے تھے۔ «وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ» ‏‏‏‏ یعنی اب جو حق کو چھپانے اور اس سے انکار پر تل ہی جائے تو اللہ تعالیٰ اسے سیدھے راستے پر کیوں لائے گا؟ کفر کا معنی چھپانا اور انکار دونوں آتے ہیں۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَا لَکُمۡ اِذَا قِیۡلَ لَکُمُ انۡفِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اثَّاقَلۡتُمۡ اِلَی الۡاَرۡضِ ؕ اَرَضِیۡتُمۡ بِالۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا مِنَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ فَمَا مَتَاعُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا فِی الۡاٰخِرَۃِ اِلَّا قَلِیۡلٌ ﴿۳۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہیں کیا ہو گیا کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لیے کہا گیا تو تم زمین سے چمٹ کر رہ گئے؟ کیا تم نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا؟ ایسا ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ دنیوی زندگی کا یہ سب سروسامان آخرت میں بہت تھوڑا نکلے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ چلو اللہ کے راستے میں کوچ کرو تو تم زمین سے لگے جاتے ہو۔ کیا تم آخرت کے عوض دنیا کی زندگانی پر ہی ریجھ گئے ہو۔ سنو! دنیا کی زندگی تو آخرت کے مقابلے میں کچھ یونہی سی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! تمہیں کیا ہوا جب تم سے کہا جائے کہ خدا کی راہ میں کوچ کرو تو بوجھ کے مارے زمین پر بیٹھ جاتے ہو کیا تم نے دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے پسند کرلی اور جیتی دنیا کا اسباب آخرت کے سامنے نہیں مگر تھوڑا
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے کے لیے) نکلو تو تم بوجھل ہوکر زمین گیر ہو جاتے ہو۔ کیا تم نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا ہے؟ (اگر ایسا ہی ہے تو یاد رکھو کہ) دنیا کا ساز و سامان آخرت کے مقابلہ میں بالکل قلیل ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جوایمان لائے ہو! تمھیں کیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے اللہ کے راستے میں نکلو تو تم زمین کی طرف نہایت بوجھل ہوجاتے ہو؟ کیا تم آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے ہو؟ تو دنیا کی زندگی کا سامان آخرت کے مقابلے میں نہیں ہے مگر بہت تھوڑا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
غزوہ تبوک اور جہاد سے گریزاں لوگوں کو انتباہ ٭٭

ایک طرف تو گرمی سخت پڑ رہی تھی دوسری طرف پھل پک گئے تھے اور درختوں کے سائے بڑھ گئے تھے، ایسے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دور دراز کے سفر کے لیے تیار ہو گئے غزوہ تبوک میں اپنے ساتھ چلنے کو سب سے فرما دیا۔ کچھ لوگ جو رہ گئے تھے انہیں تنبیہ کی گئی ان آیتوں کا شروع اس آیت سے ہے کہ جب تمہیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کی طرف بلایا جاتا ہے تو تم کیوں زمین میں دھنسنے لگتے ہو؟ کیا دنیا کی ان فانی چیزوں پر ریجھ کر آخرت کی باقی نعمتوں کو بھلا بیٹھے ہو؟ سنو دنیا کی تو آخرت کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلمے کی انگلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”اس انگلی کو کوئی سمندر میں ڈبو کر نکالے اس پر جتنا پانی سمندر کے مقابلے میں ہے اتنا ہی مقابلہ دنیا کا آخرت میں ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح مسلم:2858] ‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ ”میں نے سنا ہے آپ حدیث بیان فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک نیکی کے بدلے ایک لاکھ کا ثواب دیتا ہے۔‏‏‏‏“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بلکہ میں نے دو لاکھ کا فرمان بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔‏‏‏‏“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کے اسی جملے کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”دنیا جو گزر گئی اور جو باقی ہے وہ سب آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:10030/6:ضعیف] ‏‏‏‏ مروی ہے کہ عبدالعزیز بن مروان رحمہ اللہ نے اپنے انتقال کے وقت اپنا کفن منگوایا اسے دیکھ کر فرمایا: ”بس میرا تو دنیا سے یہی حصہ تھا میں اتنی دنیا لے کر جا رہا ہوں پھر پیٹھ موڑ کر رو کر کہنے لگے ہائے دنیا تیرا بہت بھی کم ہے اور تیرا کم تو بہت ہی چھوٹا ہے افسوس ہم تو دھوکے میں ہی رہے۔‏‏‏‏“

پھر ترک جہاد پر اللہ تعالیٰ ڈانٹتا ہے کہ سخت درد ناک عذاب ہوں گے۔ ایک قبیلے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کے لیے بلوایا وہ نہ اٹھے اللہ تعالیٰ نے ان سے بارش روک لی۔ پھر فرماتا ہے کہ اپنے دل میں پھولنا نہیں کہ ہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مددگار ہیں اگر تم درست نہ رہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں برباد کر کے اپنے رسول صلی اللہ علیہ کے ساتھی اوروں کو کر دے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے۔ تم اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ یہ نہیں کہ تم نہ جاؤ تو مجاہدین جہاد کر ہی نہ سکیں، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ تمہارے بغیر بھی اپنے دشمنوں پر اپنے غلاموں کو غالب کر سکتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ آیت «اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا» ۱؎ [9-التوبہ:41] ‏‏‏‏ اور آیت «مَا كَانَ لِاَھْلِ الْمَدِيْنَةِ وَمَنْ حَوْلَھُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ يَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ» ۱؎ [9-التوبہ:120] ‏‏‏‏ یہ سب آیتیں آیت «وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِيَنْفِرُوْا كَاۗفَّةً» ۱؎ [9-التوبہ:12] ‏‏‏‏ سے منسوخ ہیں۔ لیکن امام ابن جریر رحمہ اللہ علیہ اس کی تردید کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”یہ منسوخ نہیں بلکہ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کے لیے نکلنے کو فرمائیں وہ فرمان سنتے ہی اٹھ کھڑے ہو جائیں۔‏‏‏‏“ فی الواقع یہ توجیہ بہت عمدہ ہے واللہ اعلم۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت38) ➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِيْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا …:} سورت کے شروع سے لے کر ۳۷ آیات تک عرب کے مشرکین سے اعلانِ براء ت اور اہل کتاب سے مسلمانوں کے تعلقات اور جہاد کے بنیادی احکام، بدر اور حنین کے واقعات اور ان میں اللہ تعالیٰ کی نصرت اور غیبی مدد کا تفصیلی ذکر کرنے کے بعد اب جنگ تبوک کا تفصیلی ذکر اور اس میں منافقین کے کردار کو کھول کر بیان کیا گیا ہے اور اس جنگ سے پیچھے رہنے والوں پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے، اس لیے اس سورت کو فاضحہ یعنی منافقین کو رسوا کرنے والی بھی کہتے ہیں۔ علاوہ ازیں جہاد پر ابھارنے کے لیے وعدہ و وعید، انذار و تبشیر اور ثواب و عذاب وغیرہ کے بیان کے کئی طریقے اختیار کیے گئے ہیں، اس لیے اس کا نام بحوث یعنی نہایت ابھارنے والی سورت بھی ہے۔ ➋ علمائے تفسیر متفق ہیں کہ یہاں سے ان لوگوں پر عتاب کا آغاز ہوتا ہے جو غزوۂ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہے تھے، جب پھل تیار تھے، گرمی شدید تھی اور سائے نہایت خوش گوار محسوس ہو رہے تھے، اس لیے بعض نام نہاد مسلمان جہاد پر روانہ ہونے سے جی چرانے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے بات شروع ہی ایمان کو حرکت دینے سے کی ہے کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تمھیں کیا ہو گیا؟ اپنے ایمان کے تقاضے ہی پر غور کرو، کیا اس کا تقاضا یہی ہے جو جہاد کے لیے نکلنے کے حکم پر تم اختیار کر رہے ہو۔ {” اثَّاقَلْتُمْ “} اصل میں {” تَثَاقَلْتُمْ“} تھا جو باب تفاعل سے ہے۔ {” ثَقُلَ“} سے بڑھا کر تفاعل میں لے جا کر بھاری ہونے کے مفہوم کو انتہا تک پہنچانے کے لیے لفظ بھی آخری حد تک بھاری بنا دیا {”اثَّاقَلْتُمْ “} یعنی نہایت بھاری اور بوجھل ہو جاتے ہو کہ اٹھانے سے نہیں اٹھتے، اس کا باعث اس کے سوا کیا ہے کہ تم آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کے معمولی، حقیر اور ناپائدار سازو سامان پر جو کسی وقت بھی چھن جائے گا، اس آخرت کے مقابلے میں راضی ہو گئے ہو جو ہمیشہ رہنے والی ہے اور جس میں وہ نعمتیں ہیں جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنیں اور نہ ان کا خیال ہی کسی انسان کے دل میں آیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو دنیا کی زندگی کا یہ سازو سامان تو آخرت کے مقابلے میں بہت ہی تھوڑا ہے، کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا۔ اس کی مثال تو سمندر کے مقابلے میں انگلی ڈبونے سے اس پر لگنے والے پانی کی سی ہے، جیسا کہ مستورد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرمایا ہے۔ [ مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب فناء الدنیا …: ۲۸۵۸ ] ➌ تبوک ایک مشہور مقام کا نام ہے جو مدینہ سے شمال کی طرف تقریباً چھ سو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ واقعہ فتح مکہ کے بعد ۹ ھ میں پیش آیا۔ اس غزوے کا پس منظر یہ تھا کہ ملک شام پر قبیلہ غسان حکمران تھا، جو شاہِ روم کے تابع تھا، اسے یہ فکر لاحق ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جزیرۂ عرب سے فارغ ہو چکے ہیں، اب ہماری باری ہے توکیوں نہ شاہِ روم کو بلا کر عرب پر پہلے ہی چڑھائی کر دی جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ سرزمین عرب سے نکل کر دشمن کے علاقے، یعنی شام میں جا کر انھیں عرب پر حملے سے روکا جائے، چونکہ سفر بہت مشکل اور لمبا تھا، فصل کی کٹائی کا موسم تھا اور سواریاں اور سامان حرب بھی پوری طرح میسر نہ تھا، اس لیے اسے جیش العسرۃ ”تنگی کے زمانے کا لشکر“ کہا جاتا ہے۔ اس لیے اگرچہ اس سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہی تھا کہ آپ جب کہیں حملہ کرنا چاہتے تو توریہ کرتے، یعنی اصل جگہ کی نشان دہی کے بجائے ادھر ادھر کے متعلق لوگوں سے حالات معلوم کرتے، تاکہ لوگوں کو حملے کے اصل مقام کا پتا نہ چلے، لیکن اب آپ نے لوگوں کو صاف الفاظ میں اپنا ہدف واضح کر دیا اور سب کو نکلنے کا حکم دیا۔ تقریباً تیس ہزار مجاہد تیار ہو گئے۔ آپ نے اس سے پہلے شاہِ روم کو خط بھی لکھا تھا جس میں اسے دین اسلام کی دعوت دی۔ وہ اسلام لانے پر آمادہ بھی ہو گیا، لیکن قوم نے اس کا ساتھ نہ دیا، اس لیے وہ اسلام سے محروم رہا۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو لے کر تبوک پہنچ گئے اور دشمن کا بیس دن تک انتظار کرتے رہے، مگر کسی میں مقابلے پر آنے کی جرأت نہ ہوئی، نہ ہی کوئی جنگ ہوئی، اس علاقے کے اور اردگرد کے لوگوں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اطاعت کا عہد کیا، اگرچہ مسلمان نہیں ہوئے۔ آپ دشمن کو خوف زدہ کرکے اسلام کی دھاک بٹھا کر کامیاب فاتح ہو کر واپس تشریف لائے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں سارا ملک شام فتح ہو گیا اور اسرائیل کے مقبوضہ حصے کے سوا اب تک اسلام کے زیر نگین ہے۔
اِلَّا تَنۡفِرُوۡا یُعَذِّبۡکُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ۬ۙ وَّ یَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَیۡرَکُمۡ وَ لَا تَضُرُّوۡہُ شَیۡئًا ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۳۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم نہ اٹھو گے تو خدا تمہیں دردناک سزا دے گا، اور تمہاری جگہ کسی اور گروہ کو اٹھائے گا، اور تم خدا کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے، وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر تم نے کوچ نہ کیا تو تمہیں اللہ تعالیٰ دردناک سزا دے گا اور تمہارے سوا اور لوگوں کو بدل ﻻئے گا، تم اللہ تعالی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اگر نہ کوچ کرو گے انہیں سخت سزا دے گا اور تمہاری جگہ اور تمہاری جگہ اور لوگ لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگا ڑ سکوگے، اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اگر تم نہیں نکلوگے تو اللہ تمہیں دردناک عذاب کے ساتھ سزا دے گا اور تمہاری جگہ کسی دوسرے گروہ کو لاکھڑا کرے گا۔ اور تم اسے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکوگے۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اگر تم نہ نکلو گے تو وہ تمھیں دردناک عذاب دے گا اور بدل کر تمھارے علاوہ اور لوگ لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نقصان نہ کرو گے اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
غزوہ تبوک اور جہاد سے گریزاں لوگوں کو انتباہ ٭٭

ایک طرف تو گرمی سخت پڑ رہی تھی دوسری طرف پھل پک گئے تھے اور درختوں کے سائے بڑھ گئے تھے، ایسے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دور دراز کے سفر کے لیے تیار ہو گئے غزوہ تبوک میں اپنے ساتھ چلنے کو سب سے فرما دیا۔ کچھ لوگ جو رہ گئے تھے انہیں تنبیہ کی گئی ان آیتوں کا شروع اس آیت سے ہے کہ جب تمہیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کی طرف بلایا جاتا ہے تو تم کیوں زمین میں دھنسنے لگتے ہو؟ کیا دنیا کی ان فانی چیزوں پر ریجھ کر آخرت کی باقی نعمتوں کو بھلا بیٹھے ہو؟ سنو دنیا کی تو آخرت کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلمے کی انگلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”اس انگلی کو کوئی سمندر میں ڈبو کر نکالے اس پر جتنا پانی سمندر کے مقابلے میں ہے اتنا ہی مقابلہ دنیا کا آخرت میں ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح مسلم:2858] ‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ ”میں نے سنا ہے آپ حدیث بیان فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک نیکی کے بدلے ایک لاکھ کا ثواب دیتا ہے۔‏‏‏‏“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بلکہ میں نے دو لاکھ کا فرمان بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔‏‏‏‏“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کے اسی جملے کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”دنیا جو گزر گئی اور جو باقی ہے وہ سب آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:10030/6:ضعیف] ‏‏‏‏ مروی ہے کہ عبدالعزیز بن مروان رحمہ اللہ نے اپنے انتقال کے وقت اپنا کفن منگوایا اسے دیکھ کر فرمایا: ”بس میرا تو دنیا سے یہی حصہ تھا میں اتنی دنیا لے کر جا رہا ہوں پھر پیٹھ موڑ کر رو کر کہنے لگے ہائے دنیا تیرا بہت بھی کم ہے اور تیرا کم تو بہت ہی چھوٹا ہے افسوس ہم تو دھوکے میں ہی رہے۔‏‏‏‏“

پھر ترک جہاد پر اللہ تعالیٰ ڈانٹتا ہے کہ سخت درد ناک عذاب ہوں گے۔ ایک قبیلے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کے لیے بلوایا وہ نہ اٹھے اللہ تعالیٰ نے ان سے بارش روک لی۔ پھر فرماتا ہے کہ اپنے دل میں پھولنا نہیں کہ ہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مددگار ہیں اگر تم درست نہ رہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں برباد کر کے اپنے رسول صلی اللہ علیہ کے ساتھی اوروں کو کر دے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے۔ تم اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ یہ نہیں کہ تم نہ جاؤ تو مجاہدین جہاد کر ہی نہ سکیں، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ تمہارے بغیر بھی اپنے دشمنوں پر اپنے غلاموں کو غالب کر سکتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ آیت «اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا» ۱؎ [9-التوبہ:41] ‏‏‏‏ اور آیت «مَا كَانَ لِاَھْلِ الْمَدِيْنَةِ وَمَنْ حَوْلَھُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ يَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ» ۱؎ [9-التوبہ:120] ‏‏‏‏ یہ سب آیتیں آیت «وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِيَنْفِرُوْا كَاۗفَّةً» ۱؎ [9-التوبہ:12] ‏‏‏‏ سے منسوخ ہیں۔ لیکن امام ابن جریر رحمہ اللہ علیہ اس کی تردید کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”یہ منسوخ نہیں بلکہ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کے لیے نکلنے کو فرمائیں وہ فرمان سنتے ہی اٹھ کھڑے ہو جائیں۔‏‏‏‏“ فی الواقع یہ توجیہ بہت عمدہ ہے واللہ اعلم۔
39۔ 1 شام کے عیسائی بادشاہ ہرقل کے بارے میں اطلاع ملی کہ وہ مسلمانوں کے خلاف لڑائی کی تیاری کر رہا ہے چناچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے لئے تیاری کا حکم دے دیا۔ یہ شوال سن 9 / ہجری کا واقعہ ہے۔ موسم سخت گرمی کا تھا اور سفر بہت لمبا تھا۔ بعض مسلمانوں اور منافقین پر یہ حکم گراں گزرا، جس کا اظہار اس آیت میں کیا گیا ہے اور انہیں لعنت و ملامت کی گئی ہے۔ یہ جنگ تبوک کہلاتی ہے جو حقیقت میں ہوئی نہیں۔ 20 روز مسلمان ملک شام کے قریب تبوک میں رہ کر واپس آگئے۔ اس کو جیش العسرۃ کہا جاتا ہے کیونکہ اس لمبے سفر میں اس لشکر کو کافی دقتوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اثاقلْتُمْ یعنی سستی کرتے اور پیچھے رہنا چاہتے ہو۔ اس کا مظاہرہ بعض لوگوں کی طرف سے ہوا لیکن اس کو منسوب سب کی طرف کردیا گیا (فتح القدیر)
(آیت39) {اِلَّا تَنْفِرُوْا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا …:} عذاب الیم یعنی دنیا میں ذلت و رسوائی، محکومیت اور غلامی اور آخرت میں آگ کا عذاب جس کی کوئی حد ہی نہیں۔ «وَ يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ» یعنی یہ نہ سمجھو کہ اگر ہم جہاد کے لیے نہ نکلیں گے تو اللہ تعالیٰ کا کام پورا ہونے سے رہ جائے گا، ہر گز نہیں، اگر تم نہ نکلو گے تو وہ تمھاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور انھیں اسلام غالب کرنے کے لیے جہاد کی سعادت سے نوازے گا اور تم اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکو گے، کیونکہ وہ تمھاری یا کسی اور کی مدد کے بغیر خود اکیلا ہی ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
اِلَّا تَنۡصُرُوۡہُ فَقَدۡ نَصَرَہُ اللّٰہُ اِذۡ اَخۡرَجَہُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ثَانِیَ اثۡنَیۡنِ اِذۡ ہُمَا فِی الۡغَارِ اِذۡ یَقُوۡلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحۡزَنۡ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا ۚ فَاَنۡزَلَ اللّٰہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلَیۡہِ وَ اَیَّدَہٗ بِجُنُوۡدٍ لَّمۡ تَرَوۡہَا وَ جَعَلَ کَلِمَۃَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا السُّفۡلٰی ؕ وَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ ہِیَ الۡعُلۡیَا ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۴۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم نے اگر نبیؐ کی مدد نہ کی تو کچھ پروا نہیں، اللہ اُس کی مدد اس وقت کر چکا ہے جب کافروں نے اسے نکال دیا تھا، جب وہ صرف دو میں کا دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنی ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ "غم نہ کر، اللہ ہمارے ساتھ ہے" اُس وقت اللہ نے اس پر اپنی طرف سے سکون قلب نازل کیا اور اس کی مدد ایسے لشکروں سے کی جو تم کو نظر نہ آتے تھے اور کافروں کا بول نیچا کر دیا اور اللہ کا بول تو اونچا ہی ہے، اللہ زبردست اور دانا و بینا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر تم ان (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کی مدد نہ کرو تو اللہ ہی نے ان کی مدد کی اس وقت جبکہ انہیں کافروں نے (دیس سے) نکال دیا تھا، دو میں سے دوسرا جبکہ وه دونوں غار میں تھے جب یہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے، پس جناب باری نے اپنی طرف سے تسکین اس پر نازل فرما کر ان لشکروں سے اس کی مدد کی جنہیں تم نے دیکھا ہی نہیں، اس نے کافروں کی بات پست کر دی اور بلند وعزیز تو اللہ کا کلمہ ہی ہے، اللہ غالب ہے حکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اگر تم محبوب کی مدد نہ کرو تو بیشک اللہ نے ان کی مدد فرمائی جب کافروں کی شرارت سے انہیں باہر تشریف لے جانا ہوا صرف دو جان سے جب وہ دونوں غار میں تھے جب اپنے یار سے فرماتے تھے غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے تو اللہ نے اس پر اپنا سکینہ اتارا اور ان فوجوں سے اس کی مدد کی جو تم نے نہ دیکھیں اور کافروں کی بات نیچے ڈالی اللہ ہی کا بول بالا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر تم ان (رسول(ص)) کی نصرت نہیں کروگے (تو نہ کرو) اللہ نے ان کی اس وقت نصرت کی جب کافروں نے ان کو (وطن سے) نکال دیا تھا۔ اور آپ دو میں سے دوسرے تھے۔ جب دونوں غار میں تھے اس وقت وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غمگین نہ ہو یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ سو اللہ نے ان (رسول(ص)) پر اپنی تسکین نازل کی اور ان کی ایسے لشکروں سے مدد کی جن کو تم نے نہیں دیکھا۔ اور اللہ نے کافروں کے بول کو نیچا کر دیا اور اللہ کا بول ہی بالا ہے۔ اور اللہ زبردست ہے بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اگر تم اس کی مدد نہ کرو تو بلاشبہ اللہ نے اس کی مدد کی، جب اسے ان لوگوں نے نکال دیا جنھوں نے کفر کیا، جب کہ وہ دو میں دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا غم نہ کر، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ تو اللہ نے اپنی سکینت اس پر اتار دی اور اسے ان لشکروں کے ساتھ قوت دی جو تم نے نہیں دیکھے اور ان لوگوں کی بات نیچی کر دی جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی بات ہی سب سے اونچی ہے اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آغاز ہجرت ٭٭

تم اگر میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد و تائید چھوڑ دو تو میں کسی کا محتاج نہیں ہوں، میں آپ اس کا ناصر موید کافی اور حافظ ہوں۔ یاد کر لو ہجرت والے سال جبکہ کافروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل یا قید یا دیس سے نکال دینے کی سازش کی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سچے ساتھی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ تن تنہا مکہ مکرمہ سے نکل بھاگے تھے تو کون اس کا مددگار تھا۔ تین دن مارے خوف کے اس ڈر سے غار میں گزارے تاکہ ڈھونڈھنے والے مایوس ہو کر واپس چلے جائیں تو یہاں سے نکل کر مدینہ منورہ کا راستہ لیں۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ لمحہ بہ لمحہ گھبرا رہے تھے کہ کسی کو پتہ نہ چل جائے ایسا نہ ہو کہ وہ رسول اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کو کوئی ایذاء پہنچائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تسکین فرماتے اور ارشاد فرماتے کہ ”ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان دو کی نسبت تیرا کیا خیال ہے جن کا تیسرا خود اللہ تعالیٰ ہے۔‏‏‏‏“ مسند احمد میں ہے کہ سیدنا ابوبکر بن ابوقحافہ رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے غار میں کہا کہ ”اگر ان کافروں میں سے کسی نے اپنے قدموں کو بھی دیکھا تو وہ ہمیں دیکھ لے گا۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دو کو کیا سمجھتا ہے جن کا تیسرا خود اللہ تعالیٰ ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:3922] ‏‏‏‏

الغرض اس موقعہ پر جناب باری سبحانہ و تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد فرمائی۔ بعض بزرگوں نے فرمایا کہ مراد اس سے یہ ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کی تفسیر یہی ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو مطمئن اور سکون و تسکین والے تھے ہی۔ لیکن اس خاص حال میں تسکین کا از سر نو بھیجنا کچھ اس کے خلاف نہیں۔ اسی لئے اسی کے ساتھ فرمایا کہ اپنے غائبانہ لشکر اتار کر اس کی مدد فرمائی یعنی بذریعہ فرشتوں کے۔ اللہ تعالیٰ نے کلمہ کفر دبا دیا اور اپنے کلمے کا بول بالا کیا شرک کو پست کیا اور توحید کو اونچا کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ ایک شخص اپنی بہادری کے لیے، دوسرا حمیت قومی کے لیے، تیسرا لوگوں کو خوش کرنے کیلئے لڑ رہا ہے تو ان میں سے اللہ کی راہ کا مجاہد کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کلمہء اللہ کو بلند و بالا کرنے کی نیت سے لڑے وہ اللہ کی راہ کا مجاہد ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:2810] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ انتقام لینے پر غالب ہے۔ جس کی مدد کرنا چاہے کرتا ہے نہ اس کے سامنے کوئی پڑ سکے نہ اس کے ارادے کو کوئی بدل سکے کون ہے جو اس کے سامنے لب ہلا سکے یا آنکھ ملا سکے؟ اس کے سب اقوال افعال، حکمت و مصلحت بھلائی اور خوبی سے پر ہیں۔ تعالیٰ شانہ وجد مجدہ۔
40۔ 1 جہاد سے پیچھے رہنے یا اس سے جان چھڑانے والوں سے کہا جا رہا ہے کہ اگر تم مدد نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کا محتاج نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کی مدد اس وقت بھی کی جب اس نے غار میں پناہ لی تھی اور اپنے ساتھی (یعنی حضرت ابوبکر صدیق سے کہا تھا ' غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے ' اس کی تفصیل حدیث میں آئی ہے۔ ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ جب ہم غار میں تھے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اگر ان مشرکین نے (جو ہمارے تعاقب میں ہیں) ہمارے قدموں پر نظر ڈالی تو یقینا ہمیں دیکھ لیں گے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یا ابابکر! ما ظنک باثنین اللہ ثالثھما (صحیح بخاری) اے ابوبکر! تمہارا ان دو کے بارے میں کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ کی مدد اور اس کی نصرت جن کو شامل حال ہے۔ 40۔ 2 یہ مدد کی وہ دو صورتیں بیان فرمائی ہیں جن سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد فرمائی گئی۔ ایک سکینت، دوسری فرشتوں کی تائید۔ 40۔ 3 کافروں کے کلمے سے شرک اور کلمۃ اللہ سے توحید مراد ہے۔ جس طرح ایک حدیث میں بیان فرمایا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا۔ ایک شخص بہادری کے جوہر دکھانے کے لئے لڑتا ہے، ایک قبائلی عصبیت و حمیت میں لڑتا ہے، ایک اور ریاکاری کے لئے لڑتا ہے۔ ان میں سے فی سبیل اللہ لڑنے والا کون ہے، آپ نے فرمایا ' جو اس لئے لڑتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہوجائے، وہ فی سبیل اللہ ہے۔
(آیت40) ➊ {اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ …:} یعنی اگر تم تبوک کے لیے نہیں نکلو گے اور اس کی مدد نہیں کرو گے تو وہ خود اکیلا ہی اس کی مدد کے لیے کافی ہے، دیکھ لو جب مکہ کے مشرکوں نے اسے قتل کرنے کا فیصلہ کرکے اسے وطن سے نکلنے پر مجبور کر دیا تھا اور اس کے ساتھ صرف ایک ساتھی تھا، اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے تم میں سے کسی کی مدد کے بغیر خود اس کی مدد کی تھی۔ اب بھی اسے تم میں سے کسی کی ضرورت نہیں، ہاں تمھاری بہتری اسی میں ہے کہ دشمنانِ اسلام کے مقابلے کے لیے نکلو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے۔ ➋ { ثَانِيَ اثْنَيْنِ:} ”دو میں سے دوسرا“ سے مراد پہلا ہے۔ {” ثَانِيَ اثْنَيْنِ “} میں پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔ اسی طرح {” ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ“} یا {”رَابِعُ اَرْبَعَةٍ“} میں ثالث یا رابع وہ ہو گا جو پہلا ہو گا، باقی بعد میں ہوں گے، ہاں {” رَابِعُ ثَلَاثَةٍ“} یا {” خَامِسُ اَرْبَعَةٍ “} میں رابع یا خامس وہ ہو گا جو بعد میں ملے گا اور اس کا نمبر چوتھا یا پانچواں ہو گا۔ [ الوسیط للطنطاوی ] تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دوسرے ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اور اکثر دینی منصبوں اور عہدوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوسرے نمبر پر وہی فائز رہے۔ سب سے پہلے مسلمان ہوئے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دی، جس پر بہت سے جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہم مسلمان ہوئے، جنگوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ نہیں ہوئے۔ مرض الموت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت تاکیدی حکم کے ساتھ اور کسی بھی دوسرے کی امامت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار کے بعد آپ کے قائم مقام کی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مصلے پر کھڑے ہوئے، پھر آپ کے پہلو میں دفن ہوئے، اس طرح اول و آخر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو دوسرا ہونے کا شرف حاصل رہا۔ ➌ { اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ:} یہاں صاحب (ساتھی) ہونے کا شرف بھی ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حاصل ہے۔ صاحب کا لفظ اصل میں اکثر اوقات ساتھ رہنے والے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسی لیے بیوی کو {” صَاحِبَةٌ “} کہتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اَنّٰى يَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ» [ الأنعام: ۱۰۱ ] ”اس کی اولاد کیسے ہو گی جبکہ اس کی کوئی بیوی ہی نہیں۔“ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص ابوبکر رضی اللہ عنہ کے صاحبِ رسول یعنی آپ کے خاص ساتھی اور یار غار ہونے کا منکر ہے وہ درحقیقت قرآن کا منکر ہے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”رفیق غار ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، صرف یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، دوسرے اصحاب بعض پہلے نکل گئے تھے بعض بعد میں آئے۔“ (موضح) ➍ { اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ:} اس غار سے مراد ثور پہاڑ کی چوٹی کے قریب واقع غار ہے، جو مکہ سے جنوب کی طرف تقریباً پانچ میل کے فاصلے پر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین تھا کہ آپ کا تعاقب کیا جائے گا، اس لیے آپ نے مدینے کا راستہ جو شمال کی طرف ہے، چھوڑ کر جنوب کی سمت اختیار کی اور غار ثور میں چھپ گئے، تاکہ تلاش کرنے والے آپ کو آسانی سے پا نہ سکیں۔ تفسیر ماجدی میں ہے: ”اس غار کا دہانہ اب تک اتنا تنگ ہے کہ اندر صرف لیٹ کر ہی جانا ممکن ہے۔“ شیخ رشید رضا مصری نے تفسیر المنار میں ایک مصری امیر الحج ابراہیم رفعت پاشا (سنِ حج 1318ھ) کے حوالے سے غار کی پیمائش وغیرہ دی ہے اور اس کی تنگی کا ذکر صراحت کے ساتھ کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تین دن چھپے رہے، پھر مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے، آپ کی گرفتاری پر انعام مقرر ہو چکا تھا، اس لیے دشمنوں نے آپ کی تلاش کے لیے ہر ممکن کوشش کی، حتیٰ کہ بعض قدموں کے نشان پہچاننے والے غار کے سرے پر پہنچ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے قدم نظر آنے لگے، ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فکر لاحق ہوئی اور وہ سخت غم زدہ ہو گئے۔ ➎ {لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا:} انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، جب کہ میں اس غار میں تھا: ”اگر ان میں سے کوئی شخص اپنے قدموں کے نیچے نظر ڈالے تو ہمیں ضرور دیکھ لے گا۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر! ان دو کے متعلق تمھارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔“ [ بخاری، فضائل أصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، باب مناقب المہاجرین وفضلھم…: ۳۶۵۳ ] {” اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا “} (بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے) اس ”ساتھ“ سے مراد خاص ساتھ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی خاص مدد اور نصرت، ورنہ عام معیت (ساتھ) تو ہر شخص کو حاصل ہے، فرمایا: «وَ هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ» ‏‏‏‏ [ الحدید: ۴ ] ”اور وہ تمھارے ساتھ ہے تم جہاں کہیں بھی ہو۔“ اس میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت ظاہر ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے سمندر کے کنارے پہنچنے پر اور فرعون کی فوج کو دیکھنے پر ان کی قوم نے اپنے پکڑے جانے کا خطرہ پیش کیا تو موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: «‏‏‏‏كَلَّا اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ» [ الشعراء: ۶۲ ] ”ہر گز نہیں، بے شک میرے ساتھ میرا رب ہے۔“ چنانچہ انھوں نے {” مَعِيَ “} یعنی اللہ تعالیٰ کی معیت میں اپنے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا» ”بے شک اللہ ہم دونوں کے ساتھ ہے۔“ ➏ { فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلَيْهِ:} یعنی اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی سکینت نازل فرمائی۔ بعض مفسرین نے مراد ابوبکر رضی اللہ عنہ لیے ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تو اللہ تعالیٰ کی سکینت پہلے ہی نازل تھی، مگر اس سے {”عَلَيْهِ“} کی ضمیر کی بعد میں آنے والی ضمیر {” وَ اَيَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا “} کے ساتھ مطابقت نہیں رہتی اور کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر پہلی سکینت کے علاوہ خاص سکینت نازل فرمائی ہو۔ جس سے آپ کے اطمینان میں مزید اضافہ ہوا ہو، اس لیے یہی راجح معلوم ہوتا ہے کہ {” عَلَيْهِ “} سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ➐ {وَ اَيَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا:} یعنی فرشتوں کے لشکروں کے ساتھ جنھیں تم نے نہیں دیکھا کہ انھوں نے تعاقب کرنے والوں کی نگاہیں آپ پر پڑنے ہی نہیں دیں۔ جیسا کہ حنین میں مدد فرمائی (دیکھیے توبہ: ۲۶) اور بدر میں (دیکھیے انفال: ۹۔ آل عمران: ۱۲۴، ۱۲۵)۔ ➑ بعض لوگ بیان کرتے ہیں کہ عنکبوت (مکڑی) نے جالا بن دیا تھا اور کبوتری نے گھونسلا بنا کر انڈے دے دیے تھے، مگر یہ بات ثابت نہیں، الشیخ علامہ ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ نے سلسلہ ضعیفہ میں عنکبوت کے قصے کو ضعیف قرار دیا ہے۔ ➒ {وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى …:} یعنی ہجرت، بدر، احد، خندق، حدیبیہ، فتح مکہ، حنین، تبوک، ہر جگہ کفر کو نیچا دکھایا۔ {” وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِيَ الْعُلْيَا “} اور اللہ تعالیٰ کا بول ہی سب سے بالا اور اس کی بات ہی سب سے اونچی ہے، اگر کہیں مسلمان نیچے رہے تو اللہ کی بات کے نیچا ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے ایمان و عمل کی کسی کمی کی وجہ سے، فرمایا: «وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ» ‏‏‏‏ [ آل عمران: ۱۳۹ ] ”اور تم ہی غالب ہو، اگر تم مومن ہو۔“ اور دیکھیے سورۂ محمد(۳۵)۔
اِنۡفِرُوۡا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاہِدُوۡا بِاَمۡوَالِکُمۡ وَ اَنۡفُسِکُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
نکلو، خواہ ہلکے ہو یا بوجھل، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو
مولانا محمد جوناگڑھی
نکل کھڑے ہو جاؤ ہلکے پھلکے ہو تو بھی اور بھاری بھر کم ہو تو بھی، اور راه رب میں اپنی مال وجان سے جہاد کرو، یہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم میں علم ہو
احمد رضا خان بریلوی
کوچ کرو ہلکی جان سے چاہے بھاری دل سے اور اللہ کی راہ میں لڑو اپنے مال اور جان سے، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر جانو
علامہ محمد حسین نجفی
(اے مسلمانو!) ہلکے پھلکے اور بھاری بوجھل نکل پڑو۔ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان کے ساتھ جہاد کرو۔ یہ بات تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
نکلو ہلکے اور بوجھل اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کرو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہاد ہر مسلمان پر فرض ہے ٭٭

کہتے ہیں کہ سورۃ براۃ میں یہی آیت پہلے اتری ہے اس میں ہے کہ غزوہ تبوک کے لیے تمام مسلمانوں کو ہمراہ ہادی امم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کھڑے ہونا چاہیئے اہل کتاب رومیوں سے جہاد کے لیے تمام مومنوں کو چلنا چاہیئے خواہ جی مانے یا نہ مانے خواہ آسانی نظر آئے یا بھاری پڑے۔ ذکر ہو رہا تھا کہ کوئی بڑھاپے کا کوئی بیمار کا عذر کر دے گا تو یہ آیت اتری۔ بوڑھے جوان سب کو پیغمبر کا ساتھ دینے کا عام الحکم ہوا کسی کا کوئی عذر نہ چلا۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی یہی تفسیر کی اور اس حکم کی تعمیل میں سر زمین شام میں چلے گئے۔ اور نصرانیوں سے جہاد کرتے ہی رہے یہاں تک کہ جان بخش کو جان سونپی۔ رضی اللہ عنہ وارضاہ۔ اور روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے اس آیت پر آئے تو فرمانے لگے ہمارے رب نے تو میرے خیال سے بوڑھے جوان سب کو جہاد کے لیے چلنے کی دعوت دی ہے میرے پیارے بچو میرا سامان تیار کرو۔ میں ملک شام کے جہاد میں شرکت کے لیے ضرور جاؤں گا۔ بچوں نے کہا: ”ابا جی! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات تک آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ماتحتی میں جہاد کیا۔ خلافت صدیقی میں آپ مجاہدین کے ساتھ رہے، خلافت فاروقی کے آپ مجاہد مشہور ہیں اب آپ کی عمر جہاد کی نہیں رہی آپ گھر پر آرام کیجئے ہم لوگ آپ کی طرف سے میدان جہاد میں نکلتے ہیں اور اپنی تلوار کے جوہر دکھاتے ہیں“ لیکن آپ نہ مانے اور اسی وقت گھر سے روانہ ہو گئے سمندر پار جانے کے لیے کشتی لی اور چلے ہنوز منزل مقصود سے کئی دن کی راہ پر تھے جو بیچ سمندر میں روح پروردگار کو سونپ دی، نو دن تک کشتی چلتی رہی لیکن کوئی جزیرہ یا ٹاپو نظر نہ آیا کہ وہاں آپ کو دفنایا جاتا۔ نو دن کے بعد خشکی پر اترے اور آپ کو سپرد لحد کیا اب تک نعش مبارک جوں کی توں تھی رضی اللہ عنہا وارضاہ اور بھی بہت سے بزرگوں سے خفافاً و ثقالاً کی تفسیر جوان اور بوڑھے مروی ہے۔

الغرض جوان ہوں، بوڑھے ہوں، امیر ہوں، فقیر ہوں، فارغ ہوں، مشغول ہوں، خوش حال ہوں یا تنگ دل ہوں، بھاری ہوں یا ہلکے ہوں، حاجت مند ہوں، کاریگر ہوں، آسانی والے ہوں، سختی والے ہوں، پیشہ ور ہوں یا تجارتی ہوں، قوی ہوں یا کمزور، جس حالت میں بھی ہوں بلاعذر کھڑے ہو جائیں اور راہ الہٰی کے جہاد کے لیے چل پڑیں۔ اس مسئلے کی تفصیل کے طور پر ابوعمرو اوزاعی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ جب اندرون روم پر حملہ ہوا ہو تو مسلمان ہلکے پھلکے اور سوار چلیں۔ اور جب ان بندرگاہوں کے کناروں پر حملہ ہو تو ہلکے، بوجھل، سوار، پیدل ہر طرح نکل کھڑے ہو جائیں۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ آیت «فَلَوْلَا نَفَرَ» ۱؎ [9-التوبہ:122] ‏‏‏‏ سے یہ حکم منسوخ ہے۔ اس پر ہم پوری روشنی ڈالیں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ مروی ہے کہ ایک بھاری بدن کے بڑے شخص نے آپ سے اپنا حال ظاہر کر کے اجازت چاہی لیکن آپ نے انکار کر دیا اور یہ آیت اتری، لیکن یہ حکم صحابہ رضی اللہ عنہم پر سخت گزرا۔ پھر جناب باری تعالیٰ نے اسے آیت «لَيْسَ عَلَي الضُّعَفَاۗءِ» ۱؎ [9-التوبہ:91] ‏‏‏‏ سے منسوخ کر دیا، یعنی ضعیفوں، بیماروں، تنگ دست فقیروں پر جبکہ ان کے پاس خرچ تک نہ ہو اگر وہ دین ربانی اور شرع مصطفیٰ کے حامی اور طرف دار اور خیرخواہ ہوں تو میدان جنگ میں نہ جانے پر کوئی حرج نہیں۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اول غزوے سے لے کر پوری عمر تک سوائے ایک سال کے ہر غزوے میں موجود رہے اور فرماتے رہے کہ ”خفیف وثقیل دونوں کو نکلنے کا حکم ہے اور انسان کی حالت ان دو حالتوں سے سوا نہیں ہوتی۔‏‏‏‏“ ابو راشد حبرانی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں نے سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سوار سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو حمص میں دیکھا کہ ہڈی اتر گئی ہے پھر بھی ہودج میں سوار ہو کر جہاد کو جا رہے ہیں تو میں نے کہا: ”اب تو شریعت آپ کو معذور سمجھتی ہے پھر آپ یہ تکلیف کیوں اٹھا رہے ہیں“؟

آپ نے فرمایا: ”سنو! سورۃ الجوث یعنی سورۃ برات ہمارے سامنے اتری ہے جس میں حکم ہے کہ ہلکے بھاری سب جہاد کو جاؤ۔‏‏‏‏“ حیان بن زید شرعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم صفوان بن عمرو والی حمص کے ساتھ جراجمہ کی جانب جہاد کے لیے چلے میں نے دمشق کے ایک عمر رسیدہ بزرگ کو دیکھا کہ حملہ کرنے والوں کے ساتھ اپنے اونٹ پر سوار وہ بھی آ رہے ہیں ان کی بھوئیں ان کی آنکھوں پر پڑ رہی ہیں شیخ فانی ہو چکے ہیں۔ میں نے پاس جا کر کہا: ”چچا صاحب! آپ تو اب اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی معذور ہیں۔‏‏‏‏“ یہ سن کر آپ نے اپنی آنکھوں پر سے بھوئیں ہٹائیں اور فرمایا: ”بھتیجے سنو! اللہ تعالیٰ نے ہلکے اور بھاری ہونے کی دونوں صورتوں میں ہم سے جہاد میں نکلنے کی طلب کی ہے، سنو جس سے اللہ تعالیٰ کی محبت ہوتی ہے اس کی آزمائش بھی ہوتی ہے پھر اس پر بعد از ثابت قدمی اللہ تعالیٰ کی رحمت برستی ہے، سنو اللہ کی آزمائش شکر و صبر و ذکر اللہ اور توحید خالص سے ہوتی ہے۔ جہاد کے حکم کے بعد مالک زمین و زماں اپنی راہ میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی میں مال و جان کے خرچ کا حکم دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ دنیا آخرت کی بھلائی اسی میں ہے۔ دنیوی نفع تو یہ ہے کہ یونہی سا خرچ ہو گا اور بہت سی غنیمت ملے گی آخرت کے نفع سے بڑھ کر کوئی نیکی نہیں۔‏‏‏‏“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ کے ذمے دو باتوں میں سے ایک ضروری ہے وہ مجاہد کو یا تو شہید کر کے جنت کا مالک بنا دیتا ہے یا اسے سلامتی اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹاتا ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:3123] ‏‏‏‏

خود اللہ تعالیٰ کا فرمان عالی شان ہے کہ تم پر جہاد فرض کر دیا گیا ہے باوجود یہ کہ تم اس سے کنی کھا رہے ہو، لیکن بہت ممکن ہے کہ تمہاری نہ چاہی ہوئی چیز ہی دراصل تمہارے لیے بہتر ہو اور ہو سکتا ہے کہ تمہاری چاہت کی چیز فی الواقع تمہارے حق میں بےحد مضر ہو سنو تم تو بالکل نادان ہو اور اللہ تعالیٰ پورا پورا دانا بینا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”مسلمان ہو جا۔‏‏‏‏“ اس نے کہا: ”جی تو چاہتا نہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گو نہ چاہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:109،181/3:صحیح] ‏‏‏‏
41۔ 1 اس کے مختلف مفہوم بیان کئے گئے ہیں مثلًا انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر خوشی سے یا ناخوشی سے غریب ہو یا امیر جوان ہو یا بوڑھا پیادہ ہو یا سوار عیال دار ہو یا اہل و عیال کے بغیر۔ وہ پیش قدمی کرنے والوں میں سے ہو یا پیچھے لشکر میں شامل۔ امام شوکانی فرماتے ہیں آیت کا حمل تمام معافی پر ہوسکتا ہے، اس لئے کہ آیت کے معنی یہ ہیں کہ ' تم کوچ کرو، چاہے نقل و حرکت تم پر بھاری ہو یا ہلکی '۔ اور اس مفہوم میں مذکورہ تمام مفاہیم آجاتے ہیں۔
(آیت41) ➊ {اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا …:} اللہ تعالیٰ نے تبوک کے لیے نہ نکلنے کی صورت میں دنیا و آخرت میں عذاب الیم کی وعید سنا کر اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے سوا کسی کی مدد کا محتاج نہ ہونے کا ذکر فرما کر اب تاکید کے ساتھ تمام مسلمانوں کو جنگ کے لیے نکلنے کا حکم دیا، اسے ”نفیر عام“ کہا جاتا ہے۔ اس حکم کے بعد ہر مسلمان پر نکلنا فرض ہو جاتا ہے، ماں باپ یا کسی کے اذن (اجازت) کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ ”ہلکے اور بوجھل“ الفاظ عام ہیں، اس لیے اس میں سب شامل ہیں، یعنی طبیعت چاہتی ہے یا نہیں، خوش حال ہو یا تنگ دست، مجرد ہو یا عیال دار، جوان ہو یا بوڑھے، ہتھیار بند ہو یا بے ہتھیار، ہر حال میں جہاد کے لیے نکلو۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے قرآن کی یہ آیت پڑھی: «اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا» ‏‏‏‏ تو کہنے لگے: ”میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم بوڑھوں اور جوانوں سب کو نکلنے کے لیے کہا ہے۔“ ان کی اولاد نے کہا: ”اباجان! آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنگیں لڑیں، حتیٰ کہ وہ فوت ہو گئے اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بھی تو ہم آپ کی جگہ جنگ کریں گے، مگر وہ نہ مانے، چنانچہ انھوں نے سمندر کا سفر اختیار کیا، یہاں تک کہ فوت ہو گئے۔ تو سات دن تک انھیں دفن کرنے کے لیے کوئی جزیرہ نہ ملا اور اس دوران میں ان کے جسم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ [ مستدرک حاکم: 353/3، ح: ۵۵۰۸، صححہ الحاکم و سکت عنہ الذھبی ] اسی طرح مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بڑھاپے اور بھاری جسم کے باوجود نکلے، ایک آدمی نے ان سے کہا، کاش! آپ اس سال جنگ کے لیے نہ جائیں تو انھوں نے کہا: ”سورۂ بحوث (توبہ) ہمیں بیٹھنے کی اجازت نہیں دیتی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «‏‏‏‏اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا» ”نکلو، ہلکے ہو یا بھاری“ اور میں اپنے آپ کو ہلکا ہی پاتا ہوں۔“ [ السنن الکبرٰی للبیہقی: 21/9، ح: ۱۸۲۵۶ ] ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر میں شریک ہوئے، پھر ایک سال کے سوا کبھی مسلمانوں کی کسی جنگ سے پیچھے نہیں رہے۔ تاریخ کی کتابوں کے مطابق نوے سال کی عمر میں قسطنطنیہ جانے والے لشکر میں آپ شریک ہوئے، ان کے امیر یزید بن معاویہ تھے، بیمار ہوئے تو یزید ان کی بیمار پرسی کے لیے آئے۔ پوچھا: ”کوئی خواہش ہو تو بتائیں؟“ فرمایا: ”میری خواہش یہ ہے کہ جب میں فوت ہو جاؤں تو سوار ہو کر دشمن کی سرزمین میں جہاں تک آگے جا سکو جاؤ، جب اس سے آگے بڑھنے کی گنجائش نہ رہے تو مجھے وہاں دفن کر دو، پھر واپس آجاؤ۔“ ابوایوب رضی اللہ عنہ یہ آیت پڑھا کرتے: «‏‏‏‏اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا» ‏‏‏‏ اور فرماتے: ”تو میں یا تو ہلکا ہوں گا یا بوجھل۔“ یعنی ہر حال میں نکلنے کا حکم ہے۔ [مستدرک حاکم: 458/3، ح: ۵۹۳۰، سکت عنہ الذھبی ] ➋ جہاد کے لیے نکلنا کسی شخص پر کب ہر حال میں فرض ہوتا ہے اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۲۱۶) کے حواشی۔
لَوۡ کَانَ عَرَضًا قَرِیۡبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوۡکَ وَ لٰکِنۡۢ بَعُدَتۡ عَلَیۡہِمُ الشُّقَّۃُ ؕ وَ سَیَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰہِ لَوِ اسۡتَطَعۡنَا لَخَرَجۡنَا مَعَکُمۡ ۚ یُہۡلِکُوۡنَ اَنۡفُسَہُمۡ ۚ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ اِنَّہُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿٪۴۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے نبیؐ، اگر فائدہ سہل الحصول ہوتا اور سفر ہلکا ہوتا تو وہ ضرور تمہارے پیچھے چلنے پر آمادہ ہو جاتے، مگر ان پر تو یہ راستہ بہت کٹھن ہو گیا اب وہ خدا کی قسم کھا کھا کر کہیں گے کہ اگر ہم چل سکتے تو یقیناً تمہارے ساتھ چلتے وہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر جلد وصول ہونے واﻻ مال واسباب ہوتا اور ہلکا سفر ہوتا تو یہ ضرور آپ کے پیچھے ہو لیتے لیکن ان پر تو دوری اور دراز کی مشکل پڑ گئی۔ اب تو یہ اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم میں قوت وطاقت ہوتی تو ہم یقیناً آپ کے ساتھ نکلتے، یہ اپنی جانوں کو خود ہی ہلاکت میں ڈال رہے ہیں ان کے جھوٹا ہونے کا سچا علم اللہ کو ہے
احمد رضا خان بریلوی
اگر کوئی قریب مال یا متوسط سفر ہوتا تو ضرور تمہارے ساتھ جاتے مگر ان پر تو مشقت کا راستہ دور پڑ گیا، اور اب اللہ کی قسم کھائیں گے کہ ہم سے بن پڑتا تو ضرور تمہارے ساتھ چلتے اپنی جانو کو ہلاک کرتے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ وہ بیشک ضرور جھوٹے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) اگر فائدہ قریب اور سفر آسان ہوتا تو یہ (منافق) ضرور تمہارے پیچھے چلتے لیکن انہیں راہ دور کی دکھائی دی (اس لئے قطعِ مسافت دشوار ہوگئی) وہ عنقریب اللہ کے نام کی قَسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ اگر ہم مقدور رکھتے تو ضرور آپ کے ساتھ نکلتے۔ یہ لوگ (جھوٹی قَسمیں کھا کر) اپنے کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ وہ قطعاً جھوٹے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اگر کوئی قریب سامان اور درمیانہ سفر ہوتا تو وہ ضرور تیرے ساتھ جاتے، لیکن ان پر فاصلہ دور پڑ گیا اور عنقریب وہ اللہ کی قسم کھائیں گے کہ اگر ہم طاقت رکھتے تو تمھارے ساتھ ضرور نکلتے۔ وہ اپنے آپ کو ہلاک کر رہے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ بے شک وہ ضرور جھوٹے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عیار لوگوں کو بےنقاب کر دو ٭٭

جو لوگ غزوہ تبوک میں جانے سے رہ گئے تھے اور اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنے جھوٹے جھوٹے بناوٹی عذر پیش کرنے لگے تھے، انہیں اس آیت میں ڈانٹا جا رہا ہے کہ دراصل انہیں کوئی معذوری نہ تھی اگر کوئی آسان غنیمت کا اور قریب کا سفر ہوتا تو یہ لالچی ساتھ ہو لیتے۔ لیکن شام تک کے لمبے سفر نے ان کے گھٹنے توڑ دیئے، اس مشقت کے خیال نے ان کے ایمان کمزور کر دیئے، اب یہ آ آ کر جھوٹی قسمیں کھا کھا کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکہ دے رہے ہیں کہ اگر کوئی عذر نہ ہوتا تو بھلا ہم شرف ہم رکابی چھوڑنے والے تھے، ہم تو جان و دل سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں حاضر ہو جاتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے جھوٹ کا مجھے علم ہے انہوں نے تو اپنے آپ کو غارت کر دیا۔
42۔ 1 یہاں سے ان لوگوں کا بیان شروع ہو رہا ہے جنہوں نے عذر اور معذرت کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لی تھی دراں حالانکہ ان کے پاس حقیقت میں کوئی عذر نہیں تھا۔ عرض سے مراد جو دنیاوی منافع سامنے آئیں مطلب ہے مال غنیمت۔ 42۔ 2 یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک جہاد ہوتے۔ لیکن سفر کی دوری نے انہیں حیلے تراشنے پر مجبور کر دیا 42۔ 3 یعنی جھوٹی قسمیں کھا کر۔ کیونکہ جھوٹی قسم کھانا گناہ ہے۔
(آیت42) {لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِيْبًا …:} یہ آیت غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ جانے والوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ {” عَرَضًا “} دنیا کا وہ سازو سامان جو انسان کی خواہشوں کے پیش نظر رہتا ہے۔ {” قَرِيْبًا “} جس کا حصول بالکل آسان ہو۔ {” قَاصِدًا “} درمیانہ، یعنی جس میں شدید مشقت درپیش نہ ہوتی۔ {” الشُّقَّةُ “} وہ فاصلہ جو نہایت مشقت اور تھکن سے طے ہو۔ یہ مشقت سے مشتق ہے۔ ابو عبیدہ نے فرمایا {” الشُّقَّةُ “} کا معنی ارضِ بعید کا سفر ہے، یعنی اگر آسانی سے مالِ غنیمت ملنے کی توقع ہوتی اور سفر بہت لمبا نہ ہوتا، جس کا راستہ بھی نہایت کٹھن تھا تو یہ لوگ ضرور آپ کے ساتھ جاتے۔ مگر خالص فی سبیل اللہ جہاد جس میں آسانی سے حصولِ غنیمت کے بجائے مال و جان کی قربانی، بعید سفر اور شہادت کا واضح امکان سامنے ہو، منافق کے لیے نہایت دشوار ہے۔
عَفَا اللّٰہُ عَنۡکَ ۚ لِمَ اَذِنۡتَ لَہُمۡ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکَ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا وَ تَعۡلَمَ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۴۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے نبیؐ، اللہ تمہیں معاف کرے، تم نے کیوں انہیں رخصت دے دی؟ (تمہیں چاہیے تھا کہ خود رخصت نہ دیتے) تاکہ تم پر کھل جاتا کہ کون لوگ سچے ہیں اور جھوٹوں کو بھی تم جان لیتے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تجھے معاف فرما دے، تو نے انہیں کیوں اجازت دے دی؟ بغیر اس کے کہ تیرے سامنے سچے لوگ کھل جائیں اور تو جھوٹے لوگوں کو بھی جان لے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ تمہیں معاف کرے تم نے انہیں کیوں اِذن دے دیا جب تک نہ کھلے تھے تم پر سچے اور ظاہر نہ ہوئے تھے جھوٹے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) اللہ آپ کو معاف کرے آپ نے انہیں کیوں (پیچھے رہ جانے کی) اجازت دے دی۔ جب تک آپ پر واضح نہ ہو جاتا کہ سچے کون ہیں اور معلوم نہ ہو جاتا کہ جھوٹے کون؟
عبدالسلام بن محمد
اللہ نے تجھے معاف کردیا، تو نے انھیں کیوں اجازت دی، یہاں تک کہ تیرے لیے وہ لوگ صاف ظاہر ہوجاتے جنھوں نے سچ کہا اور تو جھوٹوں کو جان لیتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نہ ادھر کے نہ ادھر کے ٭٭

سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ کی اپنے محبوب سے کیسی پیار بھری باتیں ہو رہی ہیں، سخت بات سنانے سے پہلے ہی معافی کا اعلان سنایا جا رہا ہے کہ اس کے بعد رخصت دینے کا عہد بھی سورۃ النور میں سونپ دیا جاتا ہے۔ اور ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے «فَإِذَا اسْتَأْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَن لِّمَن شِئْتَ مِنْهُمْ» ۱؎ [24-النور:62] ‏‏‏‏ یعنی ان میں سے کوئی اگر آپ سے اپنے کسی کام اور شغل کی وجہ سے اجازت چاہے تو آپ جسے چاہیں اجازت دے سکتے ہیں۔ یہ آیت ان کے بارے میں اتری ہے جن لوگوں نے آپس میں طے کر لیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلبی تو کریں اگر اجازت ہو جائے تو اور اچھا اور اگر اجازت نہ بھی دیں تاہم اس غزوے میں جائیں گے تو نہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر انہیں اجازت نہ ملتی تو اتنا فائدہ ضرور ہوتا کہ سچے عذر والے اور جھوٹے بہانے بنانے والے کھل جاتے، نیک و بد میں ظاہری تمیز ہو جاتی، اطاعت گزار تو حاضر ہو جاتے نافرمان باوجود اجازت نہ ملنے کے بھی نہ نکلتے، کیونکہ انہوں نے تو طے کر لیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہاں کہیں یا نہ کہیں ہم تو جہاد میں جانے کے نہیں۔ اسی لیے جناب باری تعالیٰ نے اس کے بعد کی آیت میں فرمایا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ سچے ایماندار لوگ راہ ربانی کے جہاد سے رکنے کی اجازت تجھ سے طلب کریں، وہ تو جہاد کو موجب قربت الہی مان کر اپنی جان و مال کے فدا کرنے کے آرزو مند رہتے ہیں اللہ تعالیٰ بھی اس متقی جماعت سے بخوبی آگاہ ہے۔ یہ بلا عذر شرعی بہانے بنا کر جہاد سے رک جانے کی اجازت طلب کرنے والے تو بے ایمان لوگ ہیں جنہیں دار آخرت کی جزا کی کوئی امید ہی نہیں ان کے دل آج تک تیری شریعت سے شک شبہ میں ہی ہیں یہ حیران و پریشان ہیں ایک قدم ان کا آگے بڑھتا ہے تو دوسرا پیچھے ہٹتا ہے انہیں ثابت قدمی اور استقلال نہیں یہ ہلاک ہونے والے ہیں یہ نہ ادھر ہیں نہ ادھر یہ اللہ کے گمراہ کئے ہوئے ہیں تو ان کے سنوارنے کا کوئی رستہ نہ پائے گا۔
43۔ 1 یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا جا رہا ہے کہ جہاد میں عدم شرکت کی اجازت مانگنے والوں کو تو نے کیوں بغیر یہ تحقیق کئے کہ اس کے پاس معقول عذر بھی ہے یا نہیں؟ اجازت دے دی۔ اس لئے اس کوتاہی پر معافی کی وضاحت پہلے کردی گئی ہے۔ یاد رہے یہ تنبیہ اس لئے کی گئی ہے کہ اجازت دینے میں عجلت کی گئی اور پورے طور پر تحقیق کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔
(آیت43) {عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ …:} ہوا یہ کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کی طرف روانہ ہونے لگے تو بعض منافقین نے بناوٹی حیلے بہانے پیش کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدینہ ہی میں رہنے کی اجازت چاہی، حالانکہ انھوں نے طے کر رکھا تھا کہ اجازت نہ ملی پھر بھی نہیں جائیں گے۔ اب ان کی آزمائش کے لیے انھیں اجازت دینے سے اس وقت تک گریز کرنا چاہیے تھا جب تک واضح نہ ہو جاتا کہ کس کا عذر حقیقی ہے اور کون بہانے باز ہے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی حقیقت کھلنے سے پہلے ہی انھیں مدینہ میں رہنے کی اجازت دے دی۔ اس اجازت دینے پر اللہ تعالیٰ نے اپنے ناراض ہونے کا اظہار فرمایا، مگر نہایت لطف و کرم اور مہربانی کے ساتھ کہ اس اظہار سے پہلے معاف کر دینے کی اطلاع دی اور پھر فرمایا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ اس میں پیچھے رہنے والوں کی مذمت بھی صاف نمایاں ہے، کیونکہ ان میں کم ہی تھے جن کا عذر صحیح تھا، اکثر جھوٹ ہی بول رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان لوگوں کو اجازت دینے پر ناراضی کا اظہار فرمایا جنھوں نے آپ سے اجازت مانگی اور انھیں اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہ رکھنے والے بتایا جو جہاد میں نکلنا ہی نہیں چاہتے تھے اور سورۂ نور میں فرمایا: «اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ» [ النور: ۶۳ ] ”بے شک جو لوگ تجھ سے اجازت مانگتے ہیں وہی لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔“ وہاں مراد یہ ہے کہ منافقین اجتماعی کام مثلاً جہاد وغیرہ میں آئے ہوئے ہوں تو بغیر پوچھے کھسک جاتے ہیں، اجازت مانگتے ہی نہیں، جب کہ اہل ایمان ضرورت کے وقت بھی آپ سے پوچھے بغیر نہیں جاتے۔
لَا یَسۡتَاۡذِنُکَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ اَنۡ یُّجَاہِدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِالۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۴۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو لوگ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو کبھی تم سے یہ درخواست نہ کریں گے کہ انہیں اپنی جان و مال کے ساتھ جہاد کرنے سے معاف رکھا جائے اللہ متقیوں کو خوب جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ویقین رکھنے والے تو مالی اور جانی جہاد سے رک رہنے کی کبھی بھی تجھ سے اجازت طلب نہیں کریں گے، اور اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم سے چھٹی نہ مانگیں گے اس سے کہ اپنے مال اور جان سے جہاد کریں، اور اللہ خوب جا نتا ہے پرہیزگا روں کو،
علامہ محمد حسین نجفی
جو لوگ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں وہ کبھی آپ سے اجازت طلب نہیں کریں گے کہ وہ اپنے مال و جان سے (اللہ کی راہ میں) جہاد کریں۔ اور اللہ پرہیز گاروں کو خوب جانتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تجھ سے وہ لوگ اجازت نہیں مانگتے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، اس سے کہ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کریں اور اللہ متقی لوگوں کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نہ ادھر کے نہ ادھر کے ٭٭

سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ کی اپنے محبوب سے کیسی پیار بھری باتیں ہو رہی ہیں، سخت بات سنانے سے پہلے ہی معافی کا اعلان سنایا جا رہا ہے کہ اس کے بعد رخصت دینے کا عہد بھی سورۃ النور میں سونپ دیا جاتا ہے۔ اور ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے «فَإِذَا اسْتَأْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَن لِّمَن شِئْتَ مِنْهُمْ» ۱؎ [24-النور:62] ‏‏‏‏ یعنی ان میں سے کوئی اگر آپ سے اپنے کسی کام اور شغل کی وجہ سے اجازت چاہے تو آپ جسے چاہیں اجازت دے سکتے ہیں۔ یہ آیت ان کے بارے میں اتری ہے جن لوگوں نے آپس میں طے کر لیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلبی تو کریں اگر اجازت ہو جائے تو اور اچھا اور اگر اجازت نہ بھی دیں تاہم اس غزوے میں جائیں گے تو نہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر انہیں اجازت نہ ملتی تو اتنا فائدہ ضرور ہوتا کہ سچے عذر والے اور جھوٹے بہانے بنانے والے کھل جاتے، نیک و بد میں ظاہری تمیز ہو جاتی، اطاعت گزار تو حاضر ہو جاتے نافرمان باوجود اجازت نہ ملنے کے بھی نہ نکلتے، کیونکہ انہوں نے تو طے کر لیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہاں کہیں یا نہ کہیں ہم تو جہاد میں جانے کے نہیں۔ اسی لیے جناب باری تعالیٰ نے اس کے بعد کی آیت میں فرمایا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ سچے ایماندار لوگ راہ ربانی کے جہاد سے رکنے کی اجازت تجھ سے طلب کریں، وہ تو جہاد کو موجب قربت الہی مان کر اپنی جان و مال کے فدا کرنے کے آرزو مند رہتے ہیں اللہ تعالیٰ بھی اس متقی جماعت سے بخوبی آگاہ ہے۔ یہ بلا عذر شرعی بہانے بنا کر جہاد سے رک جانے کی اجازت طلب کرنے والے تو بے ایمان لوگ ہیں جنہیں دار آخرت کی جزا کی کوئی امید ہی نہیں ان کے دل آج تک تیری شریعت سے شک شبہ میں ہی ہیں یہ حیران و پریشان ہیں ایک قدم ان کا آگے بڑھتا ہے تو دوسرا پیچھے ہٹتا ہے انہیں ثابت قدمی اور استقلال نہیں یہ ہلاک ہونے والے ہیں یہ نہ ادھر ہیں نہ ادھر یہ اللہ کے گمراہ کئے ہوئے ہیں تو ان کے سنوارنے کا کوئی رستہ نہ پائے گا۔
44۔ 1 یہ مخلص ایمانداروں کا کردار بیان کیا گیا ہے بلکہ ان کی عادت یہ ہے کہ وہ نہایت ذوق شوق کے ساتھ اور بڑھ چڑھ کر جہاد میں حصہ لیتے ہیں۔
(آیت44) {لَا يَسْتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ …:} کیونکہ انھیں تو خود جہاد میں جانے کا شوق ہے اور وہ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کب انھیں اللہ کی راہ میں شہید ہونے کا موقع ملتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کے معاش میں ان کے لیے سب سے بہتر وہ آدمی ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی باگ پکڑے ہوئے ہے، اس کی پشت پر اڑتا پھر رہا ہے، جب کبھی دشمن کی آمد پر کوئی خوف کی آواز یا گھبراہٹ سنتا ہے تو اڑ کر وہاں پہنچ جاتا ہے، وہ قتل اور موت کو ان جگہوں میں تلاش کرتا ہے جہاں وہ مل سکتی ہیں۔“ [مسلم، الإمارۃ، باب فضل الجہاد والرباط،: ۱۸۸۹، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ]
اِنَّمَا یَسۡتَاۡذِنُکَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ ارۡتَابَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ فَہُمۡ فِیۡ رَیۡبِہِمۡ یَتَرَدَّدُوۡنَ ﴿۴۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ایسی درخواستیں تو صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو اللہ اور روز آخر پر ایمان نہیں رکھتے، جن کے دلوں میں شک ہے اور وہ اپنے شک ہی میں متردد ہو رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ اجازت تو تجھ سے وہی طلب کرتے ہیں جنہیں نہ اللہ پر ایمان ہے نہ آخرت کے دن کا یقین ہے جن کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں اور وه اپنے شک میں ہی سرگرداں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تم سے یہ چھٹی وہی مانگتے ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہیں تو وہ اپنے شک میں ڈانواں ڈول ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اس قسم کی اجازت وہی لوگ طلب کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے۔ اور ان کے دل شک میں پڑ گئے ہیں اور وہ اپنے شک میں بھٹک رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
تجھ سے اجازت صرف وہ لوگ مانگتے ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں، سو وہ اپنے شک میں حیران پھرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نہ ادھر کے نہ ادھر کے ٭٭

سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ کی اپنے محبوب سے کیسی پیار بھری باتیں ہو رہی ہیں، سخت بات سنانے سے پہلے ہی معافی کا اعلان سنایا جا رہا ہے کہ اس کے بعد رخصت دینے کا عہد بھی سورۃ النور میں سونپ دیا جاتا ہے۔ اور ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے «فَإِذَا اسْتَأْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَن لِّمَن شِئْتَ مِنْهُمْ» ۱؎ [24-النور:62] ‏‏‏‏ یعنی ان میں سے کوئی اگر آپ سے اپنے کسی کام اور شغل کی وجہ سے اجازت چاہے تو آپ جسے چاہیں اجازت دے سکتے ہیں۔ یہ آیت ان کے بارے میں اتری ہے جن لوگوں نے آپس میں طے کر لیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلبی تو کریں اگر اجازت ہو جائے تو اور اچھا اور اگر اجازت نہ بھی دیں تاہم اس غزوے میں جائیں گے تو نہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر انہیں اجازت نہ ملتی تو اتنا فائدہ ضرور ہوتا کہ سچے عذر والے اور جھوٹے بہانے بنانے والے کھل جاتے، نیک و بد میں ظاہری تمیز ہو جاتی، اطاعت گزار تو حاضر ہو جاتے نافرمان باوجود اجازت نہ ملنے کے بھی نہ نکلتے، کیونکہ انہوں نے تو طے کر لیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہاں کہیں یا نہ کہیں ہم تو جہاد میں جانے کے نہیں۔ اسی لیے جناب باری تعالیٰ نے اس کے بعد کی آیت میں فرمایا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ سچے ایماندار لوگ راہ ربانی کے جہاد سے رکنے کی اجازت تجھ سے طلب کریں، وہ تو جہاد کو موجب قربت الہی مان کر اپنی جان و مال کے فدا کرنے کے آرزو مند رہتے ہیں اللہ تعالیٰ بھی اس متقی جماعت سے بخوبی آگاہ ہے۔ یہ بلا عذر شرعی بہانے بنا کر جہاد سے رک جانے کی اجازت طلب کرنے والے تو بے ایمان لوگ ہیں جنہیں دار آخرت کی جزا کی کوئی امید ہی نہیں ان کے دل آج تک تیری شریعت سے شک شبہ میں ہی ہیں یہ حیران و پریشان ہیں ایک قدم ان کا آگے بڑھتا ہے تو دوسرا پیچھے ہٹتا ہے انہیں ثابت قدمی اور استقلال نہیں یہ ہلاک ہونے والے ہیں یہ نہ ادھر ہیں نہ ادھر یہ اللہ کے گمراہ کئے ہوئے ہیں تو ان کے سنوارنے کا کوئی رستہ نہ پائے گا۔
45۔ 1 یہ ان منافقین کا بیان ہے جنہوں نے جھو ٹے حیلے تراش کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد میں نہ جانے کی اجازت طلب کرلی تھی۔ ان کی بابت کہا گیا ہے کہ یہ اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسی عدم ایمان نے انہیں جہاد سے گریز پر مجبور کیا۔ اگر ایمان ان کے دلوں میں راسخ ہوتا تو نہ جہاد سے یہ بھاگتے نہ شکوک و شبہات ان کے دلوں میں پیدا ہوتے۔
(آیت45) { اِنَّمَا يَسْتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ …:} پس مومنین اور منافقین کے درمیان فرق یہ ہے کہ جہاد کا اعلان ہونے پر مومن تو بلا تامل نکل کھڑے ہوتے ہیں، مگر جو منافق ہیں وہ بہانے تراشتے ہیں اور ہر ایسے موقع پر مذبذب بھی ہو جاتے ہیں، کبھی دل کہتا ہے چلو! شاید پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سچ ہی کہتے ہوں اور کبھی دل میں آتا ہے نہیں، یہ سب ڈھکوسلے اور ڈرانے کی باتیں ہیں، بس دنیا میں چند روز جینا ہے، آرام سے دن کاٹ لیں۔
وَ لَوۡ اَرَادُوا الۡخُرُوۡجَ لَاَعَدُّوۡا لَہٗ عُدَّۃً وَّ لٰکِنۡ کَرِہَ اللّٰہُ انۡۢبِعَاثَہُمۡ فَثَبَّطَہُمۡ وَ قِیۡلَ اقۡعُدُوۡا مَعَ الۡقٰعِدِیۡنَ ﴿۴۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اگر واقعی ان کا ارادہ نکلنے کا ہوتا تو وہ اس کے لیے کچھ تیاری کرتے لیکن اللہ کو ان کا اٹھنا پسندہی نہ تھا، اس لیے اس نے انہیں سست کر دیا اور کہہ دیا کہ بیٹھ رہو بیٹھنے والوں کے ساتھ
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر ان کا اراده جہاد کے لئے نکلنے کا ہوتا تو وه اس سفر کے لئے سامان کی تیاری کر رکھتے لیکن اللہ کو ان کا اٹھنا پسند ہی نہ تھا اس لئے انہیں حرکت سے ہی روک دیا اور کہہ دیا گیا کہ تم بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے ہی رہو
احمد رضا خان بریلوی
انہیں نکلنا منظور ہوتا تو اس کا سامان کرتے مگر خدا ہی کو ان کا اٹھنا پسند ہوا تو ان میں کاہلی بھردی اور فرمایا گیا کہ بیٹھ رہو بیٹھ رہنے والے کے ساتھ
علامہ محمد حسین نجفی
اگر ان لوگوں نے نکلنے کا ارادہ کیا ہوتا تو اس کے لئے کچھ نہ کچھ سروسامان کی تیاری ضرور کرتے لیکن (حقیقت الامر تو یہ ہے کہ) اللہ کو ان کا اٹھنا اور نکالنا ناپسند تھا۔ اس لئے اس نے ان کو کاہل (اور سست) کر دیا۔ اور (گویا ان سے) کہہ دیا گیا کہ بیٹھے رہو بیٹھنے والوں کے ساتھ۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر وہ نکلنے کا ارادہ رکھتے تو اس کے لیے کچھ سامان ضرور تیار کرتے اور لیکن اللہ نے ان کا اٹھنا نا پسند کیا تو انھیں روک دیا اور کہہ دیا گیا کہ بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
غلط گو غلط کار کفار و منافق ٭٭

یہ عذر کرتے ہیں۔ ان کے غلط ہونے کی ایک ظاہری دلیل یہ بھی ہے کہ اگر ان کا ارادہ ہوتا تو کم از کم سامان سفر تو تیار کر لیتے لیکن یہ تو اعلان اور حکم کے بعد بھی کئی دن گزرنے پر بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے ایک تنکا بھی ادھر سے ادھر نہ کیا۔ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کا تمہارے ساتھ نکلنا پسند ہی نہ تھا اس لیے انہیں پیچھے ہٹا دیا، اور قدرتی طور پر ان سے کہ دیا گیا کہ تم تو بیٹھنے والوں کا ہی ساتھ دو۔ سنو ان کے ساتھ کو ناپسند رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ پورے نامراد اعلیٰ درجے کے بزدل بڑے ہی ڈرپوک ہیں۔ اگر یہ تمہارے ساتھ ہوتے تو پتہ کھڑکا اور بندہ سرکا کی مثل کو اصل کر دکھاتے اور ان کے ساتھ ہی تم میں بھی فساد برپا ہو جاتا۔ یہ ادھر کی ادھر، ادھر کی ادھر لگا بجھا کر بات کا بتنگڑ بنا کر آپس میں پھوٹ اور عداوت ڈلوا دیتے اور کوئی نیا فتنہ کھڑا کر کے تمہیں آپس میں ہی الجھا دیتے، ان کے ماننے والے ان کے ہم خیال ان کی پالیسی کو اچھی نظر سے دیکھنے والے خود تم میں بھی موجود ہیں وہ اپنے بھولے پن سے ان کی شر انگیزیوں سے بے خبر رہتے ہیں جس کا نتیجہ مومنوں کے حق میں نہایت برا نکلتا ہے آپس میں شر و فساد پھیل جاتا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ کا مطلب یہ ہے کہ ان کے گویندے ان کی سی آئ ڈی اور جاسوس بھی تم میں لگے ہوئے تھے جو تمہاری رتی رتی کی خبریں انہیں پہنچاتے ہیں۔ لیکن یہ معنی کرنے سے وہ لطافت باقی نہیں رہتی جو شروع آیت سے ہے یعنی ان لوگوں کا تمہارے ساتھ نہ نکلنا اللہ تعالیٰ کو اس لیے بھی ناپسند رہا کہ تم میں بعض وہ بھی ہیں جو ان کی مان لیا کرتے ہیں۔ یہ تو بہت درست ہے لیکن ان کے نہ نکلنے کی وجہ کے لیے جاسوسی کی کوئی خصوصیت ان کی نہ نکلنے کی وجہ کے لئے نہیں ہو سکتی۔

اسی لیے قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ مفسرین کا یہی قول ہے۔ امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اجازت طلب کرنے والوں میں عبداللہ بن ابی بن سلول اور جد بن قیس بھی تھا اور یہی بڑے بڑے رؤسا اور ذی اثر منافق تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں دور ڈال دیا، اگر یہ ساتھ ہوتے تو ان کی منہ دیکھی ماننے والے وقت پر ان کے ساتھ ہو کر مسلمانوں کے نقصان کا باعث بن جاتے محمدی لشکر میں ابتری پھیل جاتی کیونکہ یہ لوگ وجاہت والے تھے اور کچھ مسلمان ان کے حال سے ناواقف ہونے کی وجہ سے ان کے ظاہری اسلام اور چرب کلامی پر مفتون تھے اور اب تک ان کے دلوں میں ان کی محبت تھی، یہ ان کی لاعلمی کی وجہ سے تھی، سچ ہے پورا علم اللہ ہی کو ہے غائب حاضر جو ہو چکا ہو اور ہونے والا ہو سب اس پر روشن ہے اسی اپنے علم غیب کی بنا پر وہ فرماتا ہے کہ تم مسلمانو! ان کا نہ نکلنا غنیمت سمجھو یہ ہوتے تو اور فساد و فتنہ برپا کرتے، نہ کرتے نہ کرنے دیتے، اسی باعث فرمان ہے کہ اگر کفار دوبارہ بھی دنیا میں لوٹائے جائیں تو نئے سرے سے پھر وہی کریں جس سے منع کئے جائیں اور یہ جھوٹے کے جھوٹے ہی رہیں۔ ۱؎ [6-الأنعام:28] ‏‏‏‏ ایک اور آیت میں ہے کہ اگر علم اللہ تعالیٰ میں ان کے دلوں میں کوئی بھی خیر ہوتی تو اللہ تعالیٰ عزوجل انہیں ضرور سنا دیتا لیکن اب تو یہ حال ہے کہ سنیں بھی تو منہ موڑ کر لوٹ جائیں۔ ۱؎ [8-الأنفال:23] ‏‏‏‏ اور جگہ ہے کہ اگر ہم ان پر لکھ دیتے کہ تم آپس میں ہی موت کا کھیل کھیلو یا جلا وطن ہو جاؤ تو بجز بہت کم لوگوں کے یہ ہرگز اسے نہ کرتے، حالانکہ ان کے حق میں بہتر اور اچھا یہی تھا کہ جو نصیحت انہیں کی جائے یہ اسے بجا لائیں تاکہ اس صورت میں ہم انہیں اپنے پاس سے اجر عظیم دیں اور راہ مستقیم دکھائیں۔ ۱؎ [4-النساء:68،66] ‏‏‏‏ اور بھی ایسی آیتیں بہت ساری ہیں۔
46۔ 1 یہ انہیں منافقوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے جنہوں نے جھوٹ بول کر اجازت حاصل کی تھی کہ اگر وہ جہاد میں جانے کا ارادہ رکھتے تو یقینا اس کے لئے تیاری کرتے۔ 46۔ 2 فثبطھم کے معنی ہیں انکو روک دیا، پیچھے رہنا ان کے لئے پسندیدہ بنادیا گیا، پس وہ سست ہوگئے اور مسلمانوں کے ساتھ نہیں نکلے مطلب یہ ہے کہ اللہ کے علم میں ان کی شرارتیں اور سازشیں تھیں، اس لئے اللہ کی تقدیری مشیت یہی تھی کہ وہ نہ جائیں۔ (2) یہ یا تو اسی مشیت الٰہی کی تعبیر ہے جو تقدیرا لکھی ہوئی تھی یا بطور ناراضگی اور غضب کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اچھا ٹھیک ہے تم عورتوں، بچوں، بیماروں اور بوڑھوں کی صف میں شامل ہو کر ان کی طرح گھروں میں بیٹھے رہو۔
(آیت46) ➊ { وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً …:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جنگ تبوک کے موقع پر منافقین اور ان تمام جھوٹے دعوے داروں کی حقیقت کھول دی جو کہتے ہیں کہ ہم بھی مجاہد ہیں اور ہر وقت جہاد کے لیے نکلنے کو تیار ہیں، مگر ساٹھ ستر برس کی عمر تک پہنچ جانے کے باوجود کبھی نہ مجاہدین کے ساتھ نکلے، نہ نشانہ بازی سیکھی، نہ تیراکی، نہ فنون حرب میں سے کوئی فن سیکھا، نہ کسی معرکے میں شریک ہوئے، نہ جہاد کے لیے جسم تیار کیا، نہ جہاد کے لیے درکار سامان جمع کیا۔ بس ڈگریوں کے حصول، ملازمت، کفار کی غلامی، کاروبار اور حلال و حرام ہر طرح دنیا کمانے میں لگے رہے، یا پیری فقیری اور ھُو حق میں لگے رہے۔ اولاد کو بھی اسی پر لگائے رکھا اور جب جہاد کا تذکرہ ہوا تو اللہ کے راستے میں نکلنے والوں پر دو چار طنزیہ فقرے کس کر اپنے آپ کو نفس سے جہاد کرنے والا مجاہد اکبر اور جان قربان کرنے والوں کو جہاد اصغر میں مصروف قرار دے دیا (جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے صاف جھوٹ ہے)۔ ان کے جہاد اکبر اور نفس سے جہاد کی حقیقت ان کی جہاد کی تیاری ہی سے ظاہر ہے، اللہ تعالیٰ کو بھی ان کے نفاق اور بدعملی کی وجہ سے مخلص مجاہدین کے ساتھ ان کا نکلنا پسند نہیں ہے، تبھی اس نے انھیں نکلنے کی توفیق ہی سے محروم کر دیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مر گیا اور اس نے نہ جنگ کی اور نہ اپنے دل کے ساتھ کبھی جنگ کرنے کی بات چیت کی تو وہ نفاق کی ایک شاخ پر مرے گا۔“ [ مسلم، الإمارۃ، باب ذم من مات ولم یغز…: ۱۹۱۰ ] ➋ {فَثَبَّطَهُمْ:ثَبَّطَهُ تَثْبِيْطًا “} کسی آدمی کے کام میں رکاوٹ ڈال دینا، یا کسی طریقے سے اسے اس سے باز رکھنا۔ ➌ { وَ قِيْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِيْنَ:} اس سے ان کی مذمت مقصود ہے کہ انھوں نے اپنے نفاق، بزدلی اور بے ہمتی کی وجہ سے عورتوں، بچوں، بیماروں اور جنگ میں شرکت سے لاچار بوڑھوں کے ساتھ پیچھے بیٹھ رہنا پسند کر لیا۔
لَوۡ خَرَجُوۡا فِیۡکُمۡ مَّا زَادُوۡکُمۡ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَا۠اَوۡضَعُوۡا خِلٰلَکُمۡ یَبۡغُوۡنَکُمُ الۡفِتۡنَۃَ ۚ وَ فِیۡکُمۡ سَمّٰعُوۡنَ لَہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِالظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اگر وہ تمہارے ساتھ نکلتے تو تمہارے اندر خرابی کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے وہ تمہارے درمیان فتنہ پردازی کے لیے دوڑ دھوپ کرتے، اور تمہارے گروہ کا حال یہ ہے کہ ابھی اُس میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو اُن کی باتیں کان لگا کر سنتے ہیں، اللہ اِن ظالموں کو خوب جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر یہ تم میں مل کر نکلتے بھی تو تمہارے لئے سوائے فساد کے اور کوئی چیز نہ بڑھاتے بلکہ تمہارے درمیان خوب گھوڑے دوڑا دیتے اور تم میں فتنے ڈالنے کی تلاش میں رہتے ان کے ماننے والے خود تم میں موجود ہیں، اور اللہ ان ﻇالموں کو خوب جانتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اگر وہ تم میں نکلتے تو ان سے سوا نقصان کے تمہیں کچھ نہ بڑھتنا اور تم میں فتنہ ڈالنے کو تمہارے بیچ یں غرابیں دوڑاتے (فساد ڈالتے) اور تم میں ان کے جاسوس موجود ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو،
علامہ محمد حسین نجفی
اگر وہ تمہارے ساتھ نکلتے تو تمہاری خرابی میں اضافہ ہی کرتے اور فتنہ پردازی کے لئے دوڑ دھوپ کرتے اور تمہارے اندر (ہنوز) ایسے لوگ (جاسوس) موجود ہیں جو ان کی باتوں پر کان دھرنے والے ہیں (جاسوسی کرتے ہیں)۔ اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اگر وہ تم میں نکلتے تو خرابی کے سوا تم میں کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے اور ضرور تمھارے درمیان (گھوڑے) دوڑاتے، اس حال میں کہ تم میں فتنہ تلاش کرتے، اور تم میں کچھ ان کی باتیں کان لگا کر سننے والے ہیں اور اللہ ان ظالموں کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
غلط گو غلط کار کفار و منافق ٭٭

یہ عذر کرتے ہیں۔ ان کے غلط ہونے کی ایک ظاہری دلیل یہ بھی ہے کہ اگر ان کا ارادہ ہوتا تو کم از کم سامان سفر تو تیار کر لیتے لیکن یہ تو اعلان اور حکم کے بعد بھی کئی دن گزرنے پر بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے ایک تنکا بھی ادھر سے ادھر نہ کیا۔ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کا تمہارے ساتھ نکلنا پسند ہی نہ تھا اس لیے انہیں پیچھے ہٹا دیا، اور قدرتی طور پر ان سے کہ دیا گیا کہ تم تو بیٹھنے والوں کا ہی ساتھ دو۔ سنو ان کے ساتھ کو ناپسند رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ پورے نامراد اعلیٰ درجے کے بزدل بڑے ہی ڈرپوک ہیں۔ اگر یہ تمہارے ساتھ ہوتے تو پتہ کھڑکا اور بندہ سرکا کی مثل کو اصل کر دکھاتے اور ان کے ساتھ ہی تم میں بھی فساد برپا ہو جاتا۔ یہ ادھر کی ادھر، ادھر کی ادھر لگا بجھا کر بات کا بتنگڑ بنا کر آپس میں پھوٹ اور عداوت ڈلوا دیتے اور کوئی نیا فتنہ کھڑا کر کے تمہیں آپس میں ہی الجھا دیتے، ان کے ماننے والے ان کے ہم خیال ان کی پالیسی کو اچھی نظر سے دیکھنے والے خود تم میں بھی موجود ہیں وہ اپنے بھولے پن سے ان کی شر انگیزیوں سے بے خبر رہتے ہیں جس کا نتیجہ مومنوں کے حق میں نہایت برا نکلتا ہے آپس میں شر و فساد پھیل جاتا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ کا مطلب یہ ہے کہ ان کے گویندے ان کی سی آئ ڈی اور جاسوس بھی تم میں لگے ہوئے تھے جو تمہاری رتی رتی کی خبریں انہیں پہنچاتے ہیں۔ لیکن یہ معنی کرنے سے وہ لطافت باقی نہیں رہتی جو شروع آیت سے ہے یعنی ان لوگوں کا تمہارے ساتھ نہ نکلنا اللہ تعالیٰ کو اس لیے بھی ناپسند رہا کہ تم میں بعض وہ بھی ہیں جو ان کی مان لیا کرتے ہیں۔ یہ تو بہت درست ہے لیکن ان کے نہ نکلنے کی وجہ کے لیے جاسوسی کی کوئی خصوصیت ان کی نہ نکلنے کی وجہ کے لئے نہیں ہو سکتی۔

اسی لیے قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ مفسرین کا یہی قول ہے۔ امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اجازت طلب کرنے والوں میں عبداللہ بن ابی بن سلول اور جد بن قیس بھی تھا اور یہی بڑے بڑے رؤسا اور ذی اثر منافق تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں دور ڈال دیا، اگر یہ ساتھ ہوتے تو ان کی منہ دیکھی ماننے والے وقت پر ان کے ساتھ ہو کر مسلمانوں کے نقصان کا باعث بن جاتے محمدی لشکر میں ابتری پھیل جاتی کیونکہ یہ لوگ وجاہت والے تھے اور کچھ مسلمان ان کے حال سے ناواقف ہونے کی وجہ سے ان کے ظاہری اسلام اور چرب کلامی پر مفتون تھے اور اب تک ان کے دلوں میں ان کی محبت تھی، یہ ان کی لاعلمی کی وجہ سے تھی، سچ ہے پورا علم اللہ ہی کو ہے غائب حاضر جو ہو چکا ہو اور ہونے والا ہو سب اس پر روشن ہے اسی اپنے علم غیب کی بنا پر وہ فرماتا ہے کہ تم مسلمانو! ان کا نہ نکلنا غنیمت سمجھو یہ ہوتے تو اور فساد و فتنہ برپا کرتے، نہ کرتے نہ کرنے دیتے، اسی باعث فرمان ہے کہ اگر کفار دوبارہ بھی دنیا میں لوٹائے جائیں تو نئے سرے سے پھر وہی کریں جس سے منع کئے جائیں اور یہ جھوٹے کے جھوٹے ہی رہیں۔ ۱؎ [6-الأنعام:28] ‏‏‏‏ ایک اور آیت میں ہے کہ اگر علم اللہ تعالیٰ میں ان کے دلوں میں کوئی بھی خیر ہوتی تو اللہ تعالیٰ عزوجل انہیں ضرور سنا دیتا لیکن اب تو یہ حال ہے کہ سنیں بھی تو منہ موڑ کر لوٹ جائیں۔ ۱؎ [8-الأنفال:23] ‏‏‏‏ اور جگہ ہے کہ اگر ہم ان پر لکھ دیتے کہ تم آپس میں ہی موت کا کھیل کھیلو یا جلا وطن ہو جاؤ تو بجز بہت کم لوگوں کے یہ ہرگز اسے نہ کرتے، حالانکہ ان کے حق میں بہتر اور اچھا یہی تھا کہ جو نصیحت انہیں کی جائے یہ اسے بجا لائیں تاکہ اس صورت میں ہم انہیں اپنے پاس سے اجر عظیم دیں اور راہ مستقیم دکھائیں۔ ۱؎ [4-النساء:68،66] ‏‏‏‏ اور بھی ایسی آیتیں بہت ساری ہیں۔
47۔ 1 یہ منافقین اگر اسلامی لشکر کے ساتھ شریک ہوتے تو غلط رائے اور مشورے دے کر مسلمانوں میں انتشار ہی کا باعث بنتے۔ 47۔ 2 مطلب یہ کہ چغل خوری وغیرہ کے ذریعے سے تمہارے اندر فتنہ برپا کرنے میں وہ کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کرتے اور فتنے سے مطلب اتحاد کو پارہ پارہ کردینا اور ان کے مابین باہمی عداوت و نفرت پیدا کردینا ہے۔ 47۔ 3 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ منافقین کی جاسوسی کرنے والے کچھ لوگ مومنین کے ساتھ بھی لشکر میں موجود تھے جو منافقین کو مسلمانوں کی خبریں پہنچایا کرتے تھے۔
(آیت47) ➊ {لَوْ خَرَجُوْا فِيْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا …:} اس میں مسلمانوں کو تسلی دی ہے کہ ان کا نہ نکلنا ہی تمھارے لیے بہتر تھا، کیونکہ یہ لوگ ساتھ جا کر مزید خرابی ہی پیدا کرتے اور تمھارے درمیان فساد ڈالنے کی نیت سے ہر طرح کی دوڑ دھوپ کرتے، کبھی کسی کی چغلی کھاتے، کبھی ایک مسلمان کو دوسرے سے لڑانے کی کوشش کرتے اور کبھی مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے کی تدبیریں سوچتے، انھی وجوہ کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے انھیں نکلنے کی توفیق نہیں دی۔ ➋ { وَ فِيْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ …:} تبوک کے لیے نکل آنے والوں میں بعض لوگ منافقین کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان سے دوسرے تمام مجاہدوں کو خبردار کیا ہے کہ تم میں سے بعض سادہ دل ان کی باتیں بڑے غور سے سنتے ہیں، حالانکہ ایسے بددلی پھیلانے والوں کی بات بھی نہیں سننی چاہیے۔ ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ان کے لیے جاسوسی کرتے ہیں، یعنی تمھاری کمزوریاں انھیں پہنچاتے ہیں۔ {” بِالظّٰلِمِيْنَ “} کے الف لام برائے عہد کی وجہ سے ”ان ظالموں کو“ ترجمہ کیا گیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ان ظالموں کو خوب جاننے والا ہے جو اس کام کا ارتکاب کرکے اپنے آپ پر بھی ظلم کر رہے ہیں اور دوسروں میں افتراق اور شبہات پیدا کرکے ان پر بھی ظلم کرتے ہیں۔
لَقَدِ ابۡتَغَوُا الۡفِتۡنَۃَ مِنۡ قَبۡلُ وَ قَلَّبُوۡا لَکَ الۡاُمُوۡرَ حَتّٰی جَآءَ الۡحَقُّ وَ ظَہَرَ اَمۡرُ اللّٰہِ وَ ہُمۡ کٰرِہُوۡنَ ﴿۴۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس سے پہلے بھی اِن لوگوں نے فتنہ انگیزی کی کوششیں کی ہیں اور تمہیں ناکام کرنے کے لیے یہ ہر طرح کی تدبیروں کا الٹ پھیر کر چکے ہیں یہاں تک کہ ان کی مرضی کے خلاف حق آ گیا اور اللہ کا کام ہو کر رہا
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ تو اس سے پہلے بھی فتنے کی تلاش کرتے رہے ہیں اور تیرے لئے کاموں کو الٹ پلٹ کرتے رہے ہیں، یہاں تک کہ حق آپہنچا اور اللہ کا حکم غالب آگیا باوجودیکہ وه ناخوشی میں ہی رہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک انہوں نے پہلے ہی فتنہ چا ہا تھا اور اے محبوب! تمہارے لیے تدبیریں الٹی پلٹیں یہاں تک کہ حق آیا اور اللہ کا حکم ظاہر ہوا اور انہیں ناگوار تھا،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ لوگ اس سے پہلے بھی فتنہ پردازی میں کوشاں رہے ہیں اور آپ کے معاملات کو درہم برہم اور الٹ پلٹ کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ حق (سامنے) آگیا (نمایاں ہوگیا) اور اللہ کا حکم غالب ہوا۔ جبکہ وہ ناپسند کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یقینا انھوں نے اس سے پہلے فتنہ ڈالنا چاہا اور تیرے لیے کئی معاملات الٹ پلٹ کیے، یہاں تک کہ حق آگیا اور اللہ کا حکم غالب ہوگیا، حالانکہ وہ ناپسند کرنے والے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فتنہ و فساد کی آگ منافق ٭٭

اللہ تعالیٰ منافقین سے نفرت دلانے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا بھول گئے مدتوں تو یہ فتنہ و فساد کی آگ سلگاتے رہے ہیں اور تیرے کام کے الٹ دینے کی بیسیوں تدبیریں کر چکے ہیں مدینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم آتے ہی تمام عرب نے ایک ہو کرمصیبتوں کی بارش آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر برسا دی۔ باہر سے وہ چڑھ دوڑے اندر سے یہود مدینہ اور منافقین مدینہ نے بغاوت کر دی لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک ہی دن میں سب کی کمانیں اتار دیں ان کے جوڑ ڈھیلے کر دیئے ان کے جوش ٹھنڈے کر دیئے بدر کے معرکے نے ان کے ہوش حواس بھلا دیئے اور ان کے ارمان ذبح کر دیئے۔ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی نے صاف کہ دیا کہ بس اب یہ لوگ ہمارے بس کے نہیں رہے اب تو سوا اس کے کوئی چارہ نہیں کہ ظاہر میں اسلام کی موافقت کی جائے دل میں جو ہے سو ہے وقت آنے دو دیکھی جائے گی اور دکھا دی جائے گی۔ پھر جوں جوں حق کی بلندی اور توحید کی اونچائ ہوتی گئ یہ جلتے جھلستے گئے۔ آخر حق نے قدم جمائے اور کلمہ ربانی غالب آ گیا اور یہ یونہی پیٹ پیٹتے اور ڈنڈے بجاتے رہے۔
48۔ 1 اس لئے اس نے گزشتہ اور آئندہ امور کی تمہیں اطلاع دے دی ہے اور یہ بھی بتلا دیا ہے کہ یہ منافقین جو ساتھ نہیں گئے، تو تمہارے حق میں اچھا ہوا، اگر یہ جاتے تو یہ یہ خرابیاں ان کی وجہ سے پیدا ہوتیں۔ 48۔ 2 یعنی یہ منافقین تو، جب سے آپ مدینہ میں آئے ہیں، آپ کے خلاف فتنے تلاش کرنے اور معاملات کو بگاڑنے میں سرگرم رہے ہیں۔ حتیٰ کے بدر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح و غلبہ عطا فرما دیا، جو ان کے لئے بہت ہی ناگوار تھا، اسی طرح جنگ احد کے موقعے پر بھی ان منافقین نے راستے سے ہی واپس ہو کر مشکلات پیدا کرنے کی اور اس کے بعد بھی ہر موقعے پر بگاڑ کی کوشش کرتے رہے۔ حتیٰ کہ مکہ فتح ہوگیا اور اکثر عرب مسلمان ہوگئے جس پر کف حسرت و افسوس مل رہے ہیں۔
(آیت48) { لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ …:} اس آیت میں ان کے خبث باطن اور مزید مکاریوں کا پردہ چاک کیا گیا ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مکر و فریب کرنا ان کی پرانی عادت ہے۔ پہلے بھی مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی تدبیریں کرتے رہے، مگر جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو ان کے نہ چاہتے ہوئے غلبہ عطا فرمایا تو یہ بظاہر اسلام میں داخل ہوگئے، پھر بھی شرارتوں سے باز نہ آئے، جیسا کہ عبد اللہ بن ابی منافق نے غزوۂ احد کے دن کیا کہ عین میدان جنگ سے اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر لوٹ آیا۔ ہر موقع پر ان کی ہمدردیاں یہودیوں کے ساتھ رہیں، بنو نضیر اور دوسرے کئی یہودیوں کو قتل سے بچایا، بنو قریظہ کو ابھارتے رہے، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگایا، مسجد ضرار بنا کر مسلمانوں کے خلاف مورچہ تعمیر کیا، تبوک میں جانے پر بددلی پھیلاتے رہے۔ واپسی پر جب موقع ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر چھپ کر حملہ آور ہونے سے بھی دریغ نہ کیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی خاص مدد سے مکہ فتح ہونے اور تبوک کی فتح کے بعد سارا عرب اسلام میں داخل ہو گیا اور یہ بے بسی سے ہاتھ ملتے رہ گئے۔
وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّقُوۡلُ ائۡذَنۡ لِّیۡ وَ لَا تَفۡتِنِّیۡ ؕ اَلَا فِی الۡفِتۡنَۃِ سَقَطُوۡا ؕ وَ اِنَّ جَہَنَّمَ لَمُحِیۡطَۃٌۢ بِالۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۴۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ان میں سے کوئی ہے جو کہتا ہے کہ "مجھے رخصت دے دیجیے اور مجھ کو فتنے میں نہ ڈالیے" سن رکھو! فتنے ہی میں تو یہ لوگ پڑے ہوئے ہیں اور جہنم نے ان کافروں کو گھیر رکھا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان میں سے کوئی تو کہتا ہے مجھے اجازت دیجئے مجھے فتنے میں نہ ڈالیئے، آگاه رہو وه تو فتنے میں پڑ چکے ہیں اور یقیناً دوزخ کافروں کو گھیر لینے والی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ان میں کوئی تم سے یوں عرض کرتا ہے کہ مجھے رخصت دیجیے اور فتنہ میں نہ ڈالیے سن لو وہ فتنہ ہی میں پڑے اور بیشک جہنم گھیرے ہوئے ہے کافروں کو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ مجھے (گھر میں بیٹھے رہنے کی) اجازت دے دیں۔ اور مجھے فتنہ میں نہ ڈالیں خبردار! وہ فتنہ میں تو خود پڑ ہی چکے ہیں اور بلاشبہ جہنم کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان میں سے بعض وہ ہے جو کہتا ہے مجھے اجازت دے دے اور مجھے فتنے میں نہ ڈال۔ سن لو! وہ فتنے ہی میں تو پڑے ہوئے ہیں اور بے شک جہنم کافروں کو ضرور گھیرنے والی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جد بن قیس جیسے بدتمیزوں کا حشر ٭٭

جد بن قیس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سال نصرانیوں کے جلا وطن کرنے میں تو ہمارا ساتھ دے گا۔‏‏‏‏“ تو اس نے کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے تو معاف رکھئے میری ساری قوم جانتی ہے کہ میں عورتوں کا بےطرح شیدا ہوں عیسائی عورتوں کو دیکھ کر مجھ سے تو اپنا نفس روکا نہ جائے گا۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے کہ اس منافق نے یہ بہانہ بنایا حالانکہ وہ فتنے میں تو پڑا ہوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑنا جہاد سے منہ موڑنا یہ کیا کم فتنہ ہے؟ یہ منافق بنو سلمہ قبیلے کا رئیس اعظم تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس قبیلے کے لوگوں سے دریافت فرمایا کہ ”تمہارا سردار کون ہے“؟ تو انہوں نے کہا ”جد بن قیس جو بڑا ہی شوم اور بخیل ہے۔‏‏‏‏“ آپ نے فرمایا: ”بخل سے بڑھ کر اور کیا بری بیماری ہے“؟ سنو اب سے تمہارا سردار نوجوان سفید اور خوبصورت بشر بن برابن معرور ہے۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:163،164/19:صحیح] ‏‏‏‏ جہنم کافروں کو گھیر لینے والی ہے نہ اس سے وہ بچ سکیں نہ بھاگ سکیں نہ نجات پا سکیں۔
49۔ 1 ' مجھے فتنے میں نہ ڈالیے ' کا ایک مطلب یہ ہے کہ اگر مجھے اجازت نہیں دیں گے تو مجھے بغیر اجازت رکنے پر سخت گناہ ہوگا، اس اعتبار سے فتنہ، گناہ کے معنی میں ہوگا۔ یعنی مجھے گناہ میں نہ ڈالیے، دوسرا مطلب فتنے کا، ہلاکت ہے یعنی مجھے ساتھ لیجاکر ہلاکت میں نہ ڈالیں کہا جاتا ہے کہ جد ابن قیس نے عرض کیا مجھے ساتھ نہ لے جائیں، روم کی عورتوں کو دیکھ کر میں صبر نہ کرسکوں گا۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رخ پھیرلیا اور اجازت دے دی۔ بعد میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ' فتنے میں جو گزر چکے ہیں ' یعنی جہاد سے پیچھے رہنا اور اس سے گریز کرنا، بجائے خود ایک فتنہ اور سخت گناہ کا کام ہے جس میں یہ ملوث ہی ہیں۔ اور مرنے کے بعد جہنم ان کو گھیر لینے والی ہے، جس سے فرار کا کوئی راستہ ان کے لئے نہیں ہوگا۔
(آیت49) ➊ {وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّيْ وَ لَا تَفْتِنِّيْ:} فتنے کا معنی یہاں گناہ میں مبتلا ہونا کیا گیا ہے اور ہلاکت بھی۔ اس کی دو تفسیریں کی گئی ہیں، ایک تو یہ کہ ان میں سے بعض یہ کہتے ہیں کہ آپ مجھے اتنی شدید گرمی میں اتنے طویل و پر مشقت سفر اور جنگ کا حکم دے کر گناہ میں نہ ڈالیں، کیونکہ اگر میں آپ کے حکم کے بعد نہ گیا تو گناہ گار ہوں گا اور گیا تو ہلاکت کا خطرہ ہے، ادھر گھر اکیلے رہ جائیں گے اور اہل و عیال ہلاک ہو جائیں گے، اس لیے آپ خود ہی مجھے مدینہ میں رہ جانے کی اجازت دے کر اس فتنے سے بچا لیں۔ یہ تفسیر الفاظ کے قریب ہے، جنگ خندق میں بھی منافقین کے بہانوں میں سے ایک بہانہ گھروں کے غیر محفوظ ہونے کا تھا۔ دیکھیے سورۂ احزاب (۱۳) دوسری تفسیر یہ ہے کہ ایک منافق جد بن قیس نے یہ بہانہ بنایا کہ یا رسول اللہ! رومی عورتیں بہت خوبصورت ہیں، اگر میں وہاں چلا گیا تو اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکوں گا، اس لیے آپ مجھے معذور سمجھ کر یہاں رہنے کی اجازت دے دیجیے۔ (ہاں، میں مال خرچ کرکے مدد کروں گا)۔ [ المعجم الکبیر: 275/2، ح: ۲۱۵۴۔ أبونعیم فی المعرفۃ ] اسے {”هداية المستنير“} والے نے ضعیف کہا ہے اور {” الاستيعاب في بيان الأسباب“} والوں نے حسن کہا ہے۔ (واللہ اعلم) ➋ {اَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا:} یعنی بہانے تو یہ کرتے ہیں کہ ہم فتنے میں نہ پڑ جائیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ فتنے ہی میں تو پڑے ہوئے ہیں کہ جہاد پر جانے سے گریز کر رہے ہیں۔ {” فِي الْفِتْنَةِ “} پہلے لانے سے حصر کا معنی حاصل ہوتا ہے۔ آخر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفر سے بڑھ کر بھی دنیا میں کوئی فتنہ ہو گا اور پھر جہاد میں شریک نہ ہونا خود ایک فتنہ ہے، اب تو حیلے بہانے تراش کر یہ نکل جائیں گے، مگر جہنم کے گھیرے سے کیسے نکل پائیں گے؟
اِنۡ تُصِبۡکَ حَسَنَۃٌ تَسُؤۡہُمۡ ۚ وَ اِنۡ تُصِبۡکَ مُصِیۡبَۃٌ یَّقُوۡلُوۡا قَدۡ اَخَذۡنَاۤ اَمۡرَنَا مِنۡ قَبۡلُ وَ یَتَوَلَّوۡا وَّ ہُمۡ فَرِحُوۡنَ ﴿۵۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تمہارا بھلا ہوتا ہے تو انہیں رنج ہوتا ہے اور تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ منہ پھیر کر خوش خوش پلٹتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ اچھا ہوا ہم نے پہلے ہی اپنا معاملہ ٹھیک کر لیا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کو اگر کوئی بھلائی مل جائے تو انہیں برا لگتا ہے اور کوئی برائی پہنچ جائے تو یہ کہتے ہیں ہم نے تو اپنا معاملہ پہلے سے ہی درست کر لیا تھا، پھر تو بڑے ہی اتراتے ہوئے لوٹتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اگر تمہیں بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگے اور اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تو کہیں ہم نے اپنا کام پہلے ہی ٹھیک کرلیا تھا اور خوشیاں مناتے پھر جائیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اگر آپ کو کوئی بھلائی پہنچے تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر آپ پر کوئی مصیبت آجائے تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو پہلے ہی اپنا معاملہ ٹھیک کر لیا تھا۔ اور وہ (یہ کہہ کر) خوش خوش واپس لوٹ جاتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اگر تجھے کوئی بھلائی پہنچے تو انھیں بری لگتی ہے اور اگر تجھے کوئی مصیبت پہنچے تو کہتے ہیں ہم نے تو پہلے ہی اپنا معاملہ سنبھال لیا تھا اور اس حال میں پھرتے ہیں کہ وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بدفطرت لوگوں کا دوغلا پن ٭٭

ان بدظن لوگوں کی اندرونی خباثت کا بیان ہورہا ہے کہ مسلمانوں کی فتح و نصرت سے، ان کی بھلائی اور ترقی سے ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے اور اگر اچانک یہاں اس کے خلاف ہوا تو الاپ الاپ کر اپنی چالاکی کے افسانے گائے جاتے ہیں کہ میاں اسی وجہ سے ہم تو ان سے بچتے رہے مارے خوشی کے بغلیں بجانے لگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو جواب دے کہ رنج و راحت اور ہم خود اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کی منشاء کے ماتحت ہیں وہ ہمارا مولیٰ ہے وہ ہمارا آقا ہے وہ ہماری پناہ ہے ہم مومن ہیں اور مومنوں کا بھروسہ اسی پر ہوتا ہے وہ ہمیں کافی ہے بس ہے وہ ہمارا کار ساز ہے اور بہترین کار ساز ہے۔
50۔ 1 سیاق کلام کے اعتبار سے حسنَۃ، ُ سے یہاں کامیابی اور غنیمت اور سَیَئَۃ سے ناکامی، شکست اور اسی قسم کے نقصانات جو جنگ میں متوقع ہوتے ہیں مراد ہیں۔ اس میں ان کے خبث باطنی کا اظہار ہے جو منافقین کے دلوں میں تھا اس لئے کہ مصیبت پر خوش ہونا اور بھلائی حاصل ہونے پر رنج اور تکلیف محسوس کرنا، غایت عداوت کی دلیل ہے۔
(آیت50){اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ …:} یہاں {” حَسَنَةٌ “} سے مراد کامیابی، فتح، غنیمت اور سلامتی ہے اور {” مُصِيْبَةٌ “} سے مراد فتح حاصل کرنے میں وقتی ناکامی یا مسلمانوں کا زخمی اور شہید ہونا ہے۔ یہ بھی ان کے خبث باطن اور مکر و فریب کی ایک دلیل ہے کہ انھیں مسلمانوں کو کوئی فائدہ حاصل ہونا ناگوار ہوتا ہے اور اگر وہ کسی مصیبت میں مبتلا ہوں تو خوش ہوتے ہیں اور انھیں اپنی ہوش مندی اور سیاست دانی کا پروپیگنڈا کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم نے تو پہلے ہی بچاؤ کر لیا تھا، جیسے جنگ احد کے بعد عبد اللہ بن ابی منافق نے کہا تھا کہ ہم تو اسی وجہ سے پہلے پلٹ آئے تھے کہ ہمیں معلوم تھا کہ مسلمانوں کو شکست ہو گی اور وہ مارے جائیں گے۔ ایسے ہی وہ منافق جو غزوۂ تبوک کے موقع پر مدینہ میں رہ گئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے متعلق مشہور کرتے رہے کہ یہ لوگ رومیوں سے بچ کر نہیں آ سکیں گے، لیکن جب انھیں اطلاع ملی کہ مسلمان صحیح و سالم فتح حاصل کرکے واپس آ رہے ہیں تو انھیں انتہائی غم ہوا۔ (ابن کثیر) ان کی اس بدخصلت کے مزید تذکرے کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۵۶) اور نساء (۷۲)۔