بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ التوبة — Surah Tawbah
آیت نمبر 4
کل آیات: 129
قرآن کریم التوبة آیت 4
آیت نمبر: 4 — سورۃ التوبة islamicurdubooks.com ↗
اِلَّا الَّذِیۡنَ عٰہَدۡتُّمۡ مِّنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ثُمَّ لَمۡ یَنۡقُصُوۡکُمۡ شَیۡئًا وَّ لَمۡ یُظَاہِرُوۡا عَلَیۡکُمۡ اَحَدًا فَاَتِمُّوۡۤا اِلَیۡہِمۡ عَہۡدَہُمۡ اِلٰی مُدَّتِہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۴﴾
بجز اُن مشرکین کے جن سے تم نے معاہد ے کیے پھر انہوں نے اپنے عہد کو پورا کرنے میں تمہارے ساتھ کوئی کمی نہیں کی اور نہ تمہارے خلاف کسی کی مدد کی، تو ایسے لوگوں کے ساتھ تم بھی مدت معاہدہ تک وفا کرو کیونکہ اللہ متقیوں ہی کو پسند کرتا ہے
بجز ان مشرکوں کے جن سے تمہارا معاہده ہو چکا ہے اور انہوں نے تمہیں ذرا سا بھی نقصان نہیں پہنچایا نہ کسی کی تمہارے خلاف مدد کی ہے تو تم بھی ان کے معاہدے کی مدت ان کے ساتھ پوری کرو، اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے
مگر وہ مشرک جن سے تمہارہ معاہدہ تھا پھر انہوں نے تمہارے عہد میں کچھ کمی نہیں کی اور تمہارے مقابل کسی کو مدد نہ دی تو ان کا عہد ٹھہری ہوئی مدت تک پورا کرو، بیشک اللہ پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے،
سوا ان مشرکوں کے کہ جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا اور انہوں نے (اپنا قول و قرار نبھانے میں) کوئی کمی نہیں کی اور نہ تمہارے خلاف کسی کی امداد کی سو تم ان سے کیا ہوا معاہدہ اس کی مقررہ مدت تک پورا کرو۔ بے شک اللہ پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے۔
مگر مشرکوں میں سے وہ لوگ جن سے تم نے عہد کیا، پھر انھوں نے تم سے عہد میں کچھ کمی نہیں کی اور نہ تمھارے خلاف کسی کی مدد کی تو ان کے ساتھ ان کا عہد ان کی مدت تک پورا کرو۔ بے شک اللہ متقی لوگوں سے محبت کرتا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

عہد نامہ کی شرط ٭٭

پہلے جو حدیثیں بیان ہو چکی ہیں ان کا اور اس آیت کا مضمون ایک ہی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہو گیا کہ جن میں مطلقاً عہد و پیمان ہوئے تھے انہیں تو چار ماہ کی مہلت دی گئی کہ اس میں وہ اپنا جو چاہیں کر لیں اور جن سے کسی مدت تک عہد پیمان ہو چکے ہیں وہ سب عہد ثابت ہیں بشرطیکہ وہ لوگ معاہدے کی شرائط پر قائم رہیں نہ مسلمانوں کو خود کوئی ایذاء پہنچائیں نہ ان کے دشمنوں کی کمک اور امداد کریں۔ اللہ تعالیٰ وعدوں کے پورے لوگوں سے محبت رکھتے ہیں۔

📖 احسن البیان

4۔ 1 یہ مشرکین کی چوتھی قسم ہے ان سے جتنی مدت کا معاہدہ تھا، اس مدت تک انہیں رہنے کی اجازت دی گئی، کیونکہ انہوں نے معاہدے کی پاسداری کی اور اس کے خلاف کوئی حرکت نہیں کی، اس لئے مسلمانوں کے لئے بھی اس کی پاسداری کو ضروری قرار دیا گیا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 4){ اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ …:} یعنی معاہدوں کی پاس داری میں کوئی کمی نہ کرنے والے مشرکوں کے لیے چار ماہ کی مہلت نہیں بلکہ ان کے لیے معاہدے کی طے کردہ مدت پوری کرو، کیونکہ تقوے کا تقاضا عہد پورا کرنا ہے اور اللہ متقین سے محبت رکھتا ہے۔
← پچھلی آیت (3) پوری سورۃ اگلی آیت (5) →