بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ التوبة — Surah Tawbah
آیت نمبر 40
کل آیات: 129
قرآن کریم التوبة آیت 40
آیت نمبر: 40 — سورۃ التوبة islamicurdubooks.com ↗
اِلَّا تَنۡصُرُوۡہُ فَقَدۡ نَصَرَہُ اللّٰہُ اِذۡ اَخۡرَجَہُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ثَانِیَ اثۡنَیۡنِ اِذۡ ہُمَا فِی الۡغَارِ اِذۡ یَقُوۡلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحۡزَنۡ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا ۚ فَاَنۡزَلَ اللّٰہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلَیۡہِ وَ اَیَّدَہٗ بِجُنُوۡدٍ لَّمۡ تَرَوۡہَا وَ جَعَلَ کَلِمَۃَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا السُّفۡلٰی ؕ وَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ ہِیَ الۡعُلۡیَا ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۴۰﴾
تم نے اگر نبیؐ کی مدد نہ کی تو کچھ پروا نہیں، اللہ اُس کی مدد اس وقت کر چکا ہے جب کافروں نے اسے نکال دیا تھا، جب وہ صرف دو میں کا دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنی ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ "غم نہ کر، اللہ ہمارے ساتھ ہے" اُس وقت اللہ نے اس پر اپنی طرف سے سکون قلب نازل کیا اور اس کی مدد ایسے لشکروں سے کی جو تم کو نظر نہ آتے تھے اور کافروں کا بول نیچا کر دیا اور اللہ کا بول تو اونچا ہی ہے، اللہ زبردست اور دانا و بینا ہے
اگر تم ان (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کی مدد نہ کرو تو اللہ ہی نے ان کی مدد کی اس وقت جبکہ انہیں کافروں نے (دیس سے) نکال دیا تھا، دو میں سے دوسرا جبکہ وه دونوں غار میں تھے جب یہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے، پس جناب باری نے اپنی طرف سے تسکین اس پر نازل فرما کر ان لشکروں سے اس کی مدد کی جنہیں تم نے دیکھا ہی نہیں، اس نے کافروں کی بات پست کر دی اور بلند وعزیز تو اللہ کا کلمہ ہی ہے، اللہ غالب ہے حکمت واﻻ ہے
اگر تم محبوب کی مدد نہ کرو تو بیشک اللہ نے ان کی مدد فرمائی جب کافروں کی شرارت سے انہیں باہر تشریف لے جانا ہوا صرف دو جان سے جب وہ دونوں غار میں تھے جب اپنے یار سے فرماتے تھے غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے تو اللہ نے اس پر اپنا سکینہ اتارا اور ان فوجوں سے اس کی مدد کی جو تم نے نہ دیکھیں اور کافروں کی بات نیچے ڈالی اللہ ہی کا بول بالا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے،
اور اگر تم ان (رسول(ص)) کی نصرت نہیں کروگے (تو نہ کرو) اللہ نے ان کی اس وقت نصرت کی جب کافروں نے ان کو (وطن سے) نکال دیا تھا۔ اور آپ دو میں سے دوسرے تھے۔ جب دونوں غار میں تھے اس وقت وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غمگین نہ ہو یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ سو اللہ نے ان (رسول(ص)) پر اپنی تسکین نازل کی اور ان کی ایسے لشکروں سے مدد کی جن کو تم نے نہیں دیکھا۔ اور اللہ نے کافروں کے بول کو نیچا کر دیا اور اللہ کا بول ہی بالا ہے۔ اور اللہ زبردست ہے بڑا حکمت والا ہے۔
اگر تم اس کی مدد نہ کرو تو بلاشبہ اللہ نے اس کی مدد کی، جب اسے ان لوگوں نے نکال دیا جنھوں نے کفر کیا، جب کہ وہ دو میں دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا غم نہ کر، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ تو اللہ نے اپنی سکینت اس پر اتار دی اور اسے ان لشکروں کے ساتھ قوت دی جو تم نے نہیں دیکھے اور ان لوگوں کی بات نیچی کر دی جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی بات ہی سب سے اونچی ہے اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

آغاز ہجرت ٭٭

تم اگر میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد و تائید چھوڑ دو تو میں کسی کا محتاج نہیں ہوں، میں آپ اس کا ناصر موید کافی اور حافظ ہوں۔ یاد کر لو ہجرت والے سال جبکہ کافروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل یا قید یا دیس سے نکال دینے کی سازش کی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سچے ساتھی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ تن تنہا مکہ مکرمہ سے نکل بھاگے تھے تو کون اس کا مددگار تھا۔ تین دن مارے خوف کے اس ڈر سے غار میں گزارے تاکہ ڈھونڈھنے والے مایوس ہو کر واپس چلے جائیں تو یہاں سے نکل کر مدینہ منورہ کا راستہ لیں۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ لمحہ بہ لمحہ گھبرا رہے تھے کہ کسی کو پتہ نہ چل جائے ایسا نہ ہو کہ وہ رسول اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کو کوئی ایذاء پہنچائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تسکین فرماتے اور ارشاد فرماتے کہ ”ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان دو کی نسبت تیرا کیا خیال ہے جن کا تیسرا خود اللہ تعالیٰ ہے۔‏‏‏‏“ مسند احمد میں ہے کہ سیدنا ابوبکر بن ابوقحافہ رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے غار میں کہا کہ ”اگر ان کافروں میں سے کسی نے اپنے قدموں کو بھی دیکھا تو وہ ہمیں دیکھ لے گا۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دو کو کیا سمجھتا ہے جن کا تیسرا خود اللہ تعالیٰ ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:3922] ‏‏‏‏

الغرض اس موقعہ پر جناب باری سبحانہ و تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد فرمائی۔ بعض بزرگوں نے فرمایا کہ مراد اس سے یہ ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کی تفسیر یہی ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو مطمئن اور سکون و تسکین والے تھے ہی۔ لیکن اس خاص حال میں تسکین کا از سر نو بھیجنا کچھ اس کے خلاف نہیں۔ اسی لئے اسی کے ساتھ فرمایا کہ اپنے غائبانہ لشکر اتار کر اس کی مدد فرمائی یعنی بذریعہ فرشتوں کے۔ اللہ تعالیٰ نے کلمہ کفر دبا دیا اور اپنے کلمے کا بول بالا کیا شرک کو پست کیا اور توحید کو اونچا کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ ایک شخص اپنی بہادری کے لیے، دوسرا حمیت قومی کے لیے، تیسرا لوگوں کو خوش کرنے کیلئے لڑ رہا ہے تو ان میں سے اللہ کی راہ کا مجاہد کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کلمہء اللہ کو بلند و بالا کرنے کی نیت سے لڑے وہ اللہ کی راہ کا مجاہد ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:2810] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ انتقام لینے پر غالب ہے۔ جس کی مدد کرنا چاہے کرتا ہے نہ اس کے سامنے کوئی پڑ سکے نہ اس کے ارادے کو کوئی بدل سکے کون ہے جو اس کے سامنے لب ہلا سکے یا آنکھ ملا سکے؟ اس کے سب اقوال افعال، حکمت و مصلحت بھلائی اور خوبی سے پر ہیں۔ تعالیٰ شانہ وجد مجدہ۔

📖 احسن البیان

40۔ 1 جہاد سے پیچھے رہنے یا اس سے جان چھڑانے والوں سے کہا جا رہا ہے کہ اگر تم مدد نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کا محتاج نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کی مدد اس وقت بھی کی جب اس نے غار میں پناہ لی تھی اور اپنے ساتھی (یعنی حضرت ابوبکر صدیق سے کہا تھا ' غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے ' اس کی تفصیل حدیث میں آئی ہے۔ ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ جب ہم غار میں تھے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اگر ان مشرکین نے (جو ہمارے تعاقب میں ہیں) ہمارے قدموں پر نظر ڈالی تو یقینا ہمیں دیکھ لیں گے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یا ابابکر! ما ظنک باثنین اللہ ثالثھما (صحیح بخاری) اے ابوبکر! تمہارا ان دو کے بارے میں کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ کی مدد اور اس کی نصرت جن کو شامل حال ہے۔ 40۔ 2 یہ مدد کی وہ دو صورتیں بیان فرمائی ہیں جن سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد فرمائی گئی۔ ایک سکینت، دوسری فرشتوں کی تائید۔ 40۔ 3 کافروں کے کلمے سے شرک اور کلمۃ اللہ سے توحید مراد ہے۔ جس طرح ایک حدیث میں بیان فرمایا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا۔ ایک شخص بہادری کے جوہر دکھانے کے لئے لڑتا ہے، ایک قبائلی عصبیت و حمیت میں لڑتا ہے، ایک اور ریاکاری کے لئے لڑتا ہے۔ ان میں سے فی سبیل اللہ لڑنے والا کون ہے، آپ نے فرمایا ' جو اس لئے لڑتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہوجائے، وہ فی سبیل اللہ ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت40) ➊ {اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ …:} یعنی اگر تم تبوک کے لیے نہیں نکلو گے اور اس کی مدد نہیں کرو گے تو وہ خود اکیلا ہی اس کی مدد کے لیے کافی ہے، دیکھ لو جب مکہ کے مشرکوں نے اسے قتل کرنے کا فیصلہ کرکے اسے وطن سے نکلنے پر مجبور کر دیا تھا اور اس کے ساتھ صرف ایک ساتھی تھا، اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے تم میں سے کسی کی مدد کے بغیر خود اس کی مدد کی تھی۔ اب بھی اسے تم میں سے کسی کی ضرورت نہیں، ہاں تمھاری بہتری اسی میں ہے کہ دشمنانِ اسلام کے مقابلے کے لیے نکلو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے۔ ➋ { ثَانِيَ اثْنَيْنِ:} ”دو میں سے دوسرا“ سے مراد پہلا ہے۔ {” ثَانِيَ اثْنَيْنِ “} میں پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔ اسی طرح {” ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ“} یا {”رَابِعُ اَرْبَعَةٍ“} میں ثالث یا رابع وہ ہو گا جو پہلا ہو گا، باقی بعد میں ہوں گے، ہاں {” رَابِعُ ثَلَاثَةٍ“} یا {” خَامِسُ اَرْبَعَةٍ “} میں رابع یا خامس وہ ہو گا جو بعد میں ملے گا اور اس کا نمبر چوتھا یا پانچواں ہو گا۔ [ الوسیط للطنطاوی ] تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دوسرے ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اور اکثر دینی منصبوں اور عہدوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوسرے نمبر پر وہی فائز رہے۔ سب سے پہلے مسلمان ہوئے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دی، جس پر بہت سے جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہم مسلمان ہوئے، جنگوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ نہیں ہوئے۔ مرض الموت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت تاکیدی حکم کے ساتھ اور کسی بھی دوسرے کی امامت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار کے بعد آپ کے قائم مقام کی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مصلے پر کھڑے ہوئے، پھر آپ کے پہلو میں دفن ہوئے، اس طرح اول و آخر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو دوسرا ہونے کا شرف حاصل رہا۔ ➌ { اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ:} یہاں صاحب (ساتھی) ہونے کا شرف بھی ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حاصل ہے۔ صاحب کا لفظ اصل میں اکثر اوقات ساتھ رہنے والے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسی لیے بیوی کو {” صَاحِبَةٌ “} کہتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اَنّٰى يَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ» [ الأنعام: ۱۰۱ ] ”اس کی اولاد کیسے ہو گی جبکہ اس کی کوئی بیوی ہی نہیں۔“ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص ابوبکر رضی اللہ عنہ کے صاحبِ رسول یعنی آپ کے خاص ساتھی اور یار غار ہونے کا منکر ہے وہ درحقیقت قرآن کا منکر ہے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”رفیق غار ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، صرف یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، دوسرے اصحاب بعض پہلے نکل گئے تھے بعض بعد میں آئے۔“ (موضح) ➍ { اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ:} اس غار سے مراد ثور پہاڑ کی چوٹی کے قریب واقع غار ہے، جو مکہ سے جنوب کی طرف تقریباً پانچ میل کے فاصلے پر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین تھا کہ آپ کا تعاقب کیا جائے گا، اس لیے آپ نے مدینے کا راستہ جو شمال کی طرف ہے، چھوڑ کر جنوب کی سمت اختیار کی اور غار ثور میں چھپ گئے، تاکہ تلاش کرنے والے آپ کو آسانی سے پا نہ سکیں۔ تفسیر ماجدی میں ہے: ”اس غار کا دہانہ اب تک اتنا تنگ ہے کہ اندر صرف لیٹ کر ہی جانا ممکن ہے۔“ شیخ رشید رضا مصری نے تفسیر المنار میں ایک مصری امیر الحج ابراہیم رفعت پاشا (سنِ حج 1318ھ) کے حوالے سے غار کی پیمائش وغیرہ دی ہے اور اس کی تنگی کا ذکر صراحت کے ساتھ کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تین دن چھپے رہے، پھر مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے، آپ کی گرفتاری پر انعام مقرر ہو چکا تھا، اس لیے دشمنوں نے آپ کی تلاش کے لیے ہر ممکن کوشش کی، حتیٰ کہ بعض قدموں کے نشان پہچاننے والے غار کے سرے پر پہنچ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے قدم نظر آنے لگے، ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فکر لاحق ہوئی اور وہ سخت غم زدہ ہو گئے۔ ➎ {لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا:} انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، جب کہ میں اس غار میں تھا: ”اگر ان میں سے کوئی شخص اپنے قدموں کے نیچے نظر ڈالے تو ہمیں ضرور دیکھ لے گا۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر! ان دو کے متعلق تمھارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔“ [ بخاری، فضائل أصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، باب مناقب المہاجرین وفضلھم…: ۳۶۵۳ ] {” اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا “} (بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے) اس ”ساتھ“ سے مراد خاص ساتھ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی خاص مدد اور نصرت، ورنہ عام معیت (ساتھ) تو ہر شخص کو حاصل ہے، فرمایا: «وَ هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ» ‏‏‏‏ [ الحدید: ۴ ] ”اور وہ تمھارے ساتھ ہے تم جہاں کہیں بھی ہو۔“ اس میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت ظاہر ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے سمندر کے کنارے پہنچنے پر اور فرعون کی فوج کو دیکھنے پر ان کی قوم نے اپنے پکڑے جانے کا خطرہ پیش کیا تو موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: «‏‏‏‏كَلَّا اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ» [ الشعراء: ۶۲ ] ”ہر گز نہیں، بے شک میرے ساتھ میرا رب ہے۔“ چنانچہ انھوں نے {” مَعِيَ “} یعنی اللہ تعالیٰ کی معیت میں اپنے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا» ”بے شک اللہ ہم دونوں کے ساتھ ہے۔“ ➏ { فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلَيْهِ:} یعنی اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی سکینت نازل فرمائی۔ بعض مفسرین نے مراد ابوبکر رضی اللہ عنہ لیے ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تو اللہ تعالیٰ کی سکینت پہلے ہی نازل تھی، مگر اس سے {”عَلَيْهِ“} کی ضمیر کی بعد میں آنے والی ضمیر {” وَ اَيَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا “} کے ساتھ مطابقت نہیں رہتی اور کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر پہلی سکینت کے علاوہ خاص سکینت نازل فرمائی ہو۔ جس سے آپ کے اطمینان میں مزید اضافہ ہوا ہو، اس لیے یہی راجح معلوم ہوتا ہے کہ {” عَلَيْهِ “} سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ➐ {وَ اَيَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا:} یعنی فرشتوں کے لشکروں کے ساتھ جنھیں تم نے نہیں دیکھا کہ انھوں نے تعاقب کرنے والوں کی نگاہیں آپ پر پڑنے ہی نہیں دیں۔ جیسا کہ حنین میں مدد فرمائی (دیکھیے توبہ: ۲۶) اور بدر میں (دیکھیے انفال: ۹۔ آل عمران: ۱۲۴، ۱۲۵)۔ ➑ بعض لوگ بیان کرتے ہیں کہ عنکبوت (مکڑی) نے جالا بن دیا تھا اور کبوتری نے گھونسلا بنا کر انڈے دے دیے تھے، مگر یہ بات ثابت نہیں، الشیخ علامہ ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ نے سلسلہ ضعیفہ میں عنکبوت کے قصے کو ضعیف قرار دیا ہے۔ ➒ {وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى …:} یعنی ہجرت، بدر، احد، خندق، حدیبیہ، فتح مکہ، حنین، تبوک، ہر جگہ کفر کو نیچا دکھایا۔ {” وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِيَ الْعُلْيَا “} اور اللہ تعالیٰ کا بول ہی سب سے بالا اور اس کی بات ہی سب سے اونچی ہے، اگر کہیں مسلمان نیچے رہے تو اللہ کی بات کے نیچا ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے ایمان و عمل کی کسی کمی کی وجہ سے، فرمایا: «وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ» ‏‏‏‏ [ آل عمران: ۱۳۹ ] ”اور تم ہی غالب ہو، اگر تم مومن ہو۔“ اور دیکھیے سورۂ محمد(۳۵)۔
← پچھلی آیت (39) پوری سورۃ اگلی آیت (41) →