بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ التوبة — Surah Tawbah
آیت نمبر 39
کل آیات: 129
قرآن کریم التوبة آیت 39
آیت نمبر: 39 — سورۃ التوبة islamicurdubooks.com ↗
اِلَّا تَنۡفِرُوۡا یُعَذِّبۡکُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ۬ۙ وَّ یَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَیۡرَکُمۡ وَ لَا تَضُرُّوۡہُ شَیۡئًا ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۳۹﴾
تم نہ اٹھو گے تو خدا تمہیں دردناک سزا دے گا، اور تمہاری جگہ کسی اور گروہ کو اٹھائے گا، اور تم خدا کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے، وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
اگر تم نے کوچ نہ کیا تو تمہیں اللہ تعالیٰ دردناک سزا دے گا اور تمہارے سوا اور لوگوں کو بدل ﻻئے گا، تم اللہ تعالی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے
اگر نہ کوچ کرو گے انہیں سخت سزا دے گا اور تمہاری جگہ اور تمہاری جگہ اور لوگ لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگا ڑ سکوگے، اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
اگر تم نہیں نکلوگے تو اللہ تمہیں دردناک عذاب کے ساتھ سزا دے گا اور تمہاری جگہ کسی دوسرے گروہ کو لاکھڑا کرے گا۔ اور تم اسے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکوگے۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اگر تم نہ نکلو گے تو وہ تمھیں دردناک عذاب دے گا اور بدل کر تمھارے علاوہ اور لوگ لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نقصان نہ کرو گے اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

غزوہ تبوک اور جہاد سے گریزاں لوگوں کو انتباہ ٭٭

ایک طرف تو گرمی سخت پڑ رہی تھی دوسری طرف پھل پک گئے تھے اور درختوں کے سائے بڑھ گئے تھے، ایسے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دور دراز کے سفر کے لیے تیار ہو گئے غزوہ تبوک میں اپنے ساتھ چلنے کو سب سے فرما دیا۔ کچھ لوگ جو رہ گئے تھے انہیں تنبیہ کی گئی ان آیتوں کا شروع اس آیت سے ہے کہ جب تمہیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کی طرف بلایا جاتا ہے تو تم کیوں زمین میں دھنسنے لگتے ہو؟ کیا دنیا کی ان فانی چیزوں پر ریجھ کر آخرت کی باقی نعمتوں کو بھلا بیٹھے ہو؟ سنو دنیا کی تو آخرت کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلمے کی انگلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”اس انگلی کو کوئی سمندر میں ڈبو کر نکالے اس پر جتنا پانی سمندر کے مقابلے میں ہے اتنا ہی مقابلہ دنیا کا آخرت میں ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح مسلم:2858] ‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ ”میں نے سنا ہے آپ حدیث بیان فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک نیکی کے بدلے ایک لاکھ کا ثواب دیتا ہے۔‏‏‏‏“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بلکہ میں نے دو لاکھ کا فرمان بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔‏‏‏‏“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کے اسی جملے کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”دنیا جو گزر گئی اور جو باقی ہے وہ سب آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:10030/6:ضعیف] ‏‏‏‏ مروی ہے کہ عبدالعزیز بن مروان رحمہ اللہ نے اپنے انتقال کے وقت اپنا کفن منگوایا اسے دیکھ کر فرمایا: ”بس میرا تو دنیا سے یہی حصہ تھا میں اتنی دنیا لے کر جا رہا ہوں پھر پیٹھ موڑ کر رو کر کہنے لگے ہائے دنیا تیرا بہت بھی کم ہے اور تیرا کم تو بہت ہی چھوٹا ہے افسوس ہم تو دھوکے میں ہی رہے۔‏‏‏‏“

پھر ترک جہاد پر اللہ تعالیٰ ڈانٹتا ہے کہ سخت درد ناک عذاب ہوں گے۔ ایک قبیلے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کے لیے بلوایا وہ نہ اٹھے اللہ تعالیٰ نے ان سے بارش روک لی۔ پھر فرماتا ہے کہ اپنے دل میں پھولنا نہیں کہ ہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مددگار ہیں اگر تم درست نہ رہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں برباد کر کے اپنے رسول صلی اللہ علیہ کے ساتھی اوروں کو کر دے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے۔ تم اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ یہ نہیں کہ تم نہ جاؤ تو مجاہدین جہاد کر ہی نہ سکیں، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ تمہارے بغیر بھی اپنے دشمنوں پر اپنے غلاموں کو غالب کر سکتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ آیت «اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا» ۱؎ [9-التوبہ:41] ‏‏‏‏ اور آیت «مَا كَانَ لِاَھْلِ الْمَدِيْنَةِ وَمَنْ حَوْلَھُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ يَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ» ۱؎ [9-التوبہ:120] ‏‏‏‏ یہ سب آیتیں آیت «وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِيَنْفِرُوْا كَاۗفَّةً» ۱؎ [9-التوبہ:12] ‏‏‏‏ سے منسوخ ہیں۔ لیکن امام ابن جریر رحمہ اللہ علیہ اس کی تردید کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”یہ منسوخ نہیں بلکہ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کے لیے نکلنے کو فرمائیں وہ فرمان سنتے ہی اٹھ کھڑے ہو جائیں۔‏‏‏‏“ فی الواقع یہ توجیہ بہت عمدہ ہے واللہ اعلم۔

📖 احسن البیان

39۔ 1 شام کے عیسائی بادشاہ ہرقل کے بارے میں اطلاع ملی کہ وہ مسلمانوں کے خلاف لڑائی کی تیاری کر رہا ہے چناچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے لئے تیاری کا حکم دے دیا۔ یہ شوال سن 9 / ہجری کا واقعہ ہے۔ موسم سخت گرمی کا تھا اور سفر بہت لمبا تھا۔ بعض مسلمانوں اور منافقین پر یہ حکم گراں گزرا، جس کا اظہار اس آیت میں کیا گیا ہے اور انہیں لعنت و ملامت کی گئی ہے۔ یہ جنگ تبوک کہلاتی ہے جو حقیقت میں ہوئی نہیں۔ 20 روز مسلمان ملک شام کے قریب تبوک میں رہ کر واپس آگئے۔ اس کو جیش العسرۃ کہا جاتا ہے کیونکہ اس لمبے سفر میں اس لشکر کو کافی دقتوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اثاقلْتُمْ یعنی سستی کرتے اور پیچھے رہنا چاہتے ہو۔ اس کا مظاہرہ بعض لوگوں کی طرف سے ہوا لیکن اس کو منسوب سب کی طرف کردیا گیا (فتح القدیر)

📖 القرآن الکریم

(آیت39) {اِلَّا تَنْفِرُوْا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا …:} عذاب الیم یعنی دنیا میں ذلت و رسوائی، محکومیت اور غلامی اور آخرت میں آگ کا عذاب جس کی کوئی حد ہی نہیں۔ «وَ يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ» یعنی یہ نہ سمجھو کہ اگر ہم جہاد کے لیے نہ نکلیں گے تو اللہ تعالیٰ کا کام پورا ہونے سے رہ جائے گا، ہر گز نہیں، اگر تم نہ نکلو گے تو وہ تمھاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور انھیں اسلام غالب کرنے کے لیے جہاد کی سعادت سے نوازے گا اور تم اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکو گے، کیونکہ وہ تمھاری یا کسی اور کی مدد کے بغیر خود اکیلا ہی ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
← پچھلی آیت (38) پوری سورۃ اگلی آیت (40) →