بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ التوبة — Surah Tawbah
آیت نمبر 13
کل آیات: 129
قرآن کریم التوبة آیت 13
آیت نمبر: 13 — سورۃ التوبة islamicurdubooks.com ↗
اَلَا تُقَاتِلُوۡنَ قَوۡمًا نَّکَثُوۡۤا اَیۡمَانَہُمۡ وَ ہَمُّوۡا بِاِخۡرَاجِ الرَّسُوۡلِ وَ ہُمۡ بَدَءُوۡکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ؕ اَتَخۡشَوۡنَہُمۡ ۚ فَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنۡ تَخۡشَوۡہُ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳﴾
کیا تم نہ لڑو گے ایسے لوگوں سے جو اپنے عہد توڑتے رہے ہیں اور جنہوں نے رسول کو ملک سے نکال دینے کا قصد کیا تھا اور زیادتی کی ابتدا کرنے والے وہی تھے؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ اگر تم مومن ہو تو اللہ اِس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو
تم ان لوگوں کی سرکوبی کے لئے کیوں تیار نہیں ہوتے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ دیا اور پیغمبر کو جلا وطن کرنے کی فکر میں ہیں اور خود ہی اول بار انہوں نے تم سے چھیڑ کی ہے، کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ اللہ ہی زیاده مستحق ہے کہ تم اس کا ڈر رکھو بشرطیکہ تم ایمان والے ہو
کیا اس قوم سے نہ لڑو گے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑیں اور رسول کے نکالنے کا ارادہ کیا حالانکہ انہیں کی طرف سے پہلی ہوتی ہے، کیا ان سے ڈرتے ہو تو اللہ کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو،
تم ان لوگوں سے کیوں جنگ نہیں کرتے جنہوں نے اپنی قَسموں کو توڑ ڈالا پیغمبر(ص) کو (وطن سے) نکالنے کا ارادہ کیا اور پھر تمہارے برخلاف لڑائی میں پہل بھی کی۔ تم ان سے ڈرتے ہو؟ اللہ زیادہ حقدار ہے اس بات کا کہ اس سے ڈرو اگر تم مؤمن ہو۔
کیا تم ان لوگوں سے نہ لڑو گے جنھوں نے اپنی قسمیں توڑ دیں اور رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا اور انھوں نے ہی پہلی بار تم سے ابتدا کی؟کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ تو اللہ زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ظالموں کو ان کے کیفر کردار کو پہنچاؤ ٭٭

مسلمانوں کو پوری طرح جہاد پر آمادہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ یہ عہد شکن قسمیں توڑنے والے کفار وہی ہیں جنہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جلا وطن کرنے کی پوری ٹھان لی تھی چاہتے تھے کہ قید کر لیں یا قتل کر ڈالیں یا دیس نکالا دے دیں ان کے مکر سے اللہ کا مکر کہیں بہتر تھا۔ ۱؎ [8-الأنفال:30] ‏‏‏‏ صرف ایمان کی بناء پر دشمنی کر کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اور مومنوں کو وطن سے خارج کرتے تھے بھڑ بھڑا کر اُٹھ کھڑے ہو جاتے تھے کہ تجھے مکہ مکرمہ سے نکال دیں۔ برائی کی ابتداء بھی انہیں کی طرف سے ہے۔ بدر کے دن لشکر لے کر نکلے معلوم ہو چکا تھا کہ قافلہ بچ کر چلا گیا ہے۔ لیکن تاہم غرور و فخر سے ربانی لشکر کو شکست دینے کے ارادے سے مسلمانوں سے بھڑ گئے۔ جیسے کہ پورا واقعہ اس سے پہلے بیان ہو چکا ہے۔ انہوں نے عہد شکنی کی اور اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیفوں سے جنگ کی بنو بکر کی خزاعہ کے خلاف مدد کی اس خلاف وعدہ کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر لشکر کشی کی ان کی خوب سرکوبی کی اور مکہ فتح کر لیا۔ فالحمدللہ۔ فرماتا ہے کہ تم ان نجس لوگوں سے خوف کھاتے ہو۔ اگر تم مومن ہو تو تمہارے دل میں بجز اللہ تعالیٰ کے کسی کا خوف نہ ہونا چاہیئے وہی اس کے لائق ہے کہ اس سے ایماندار ڈرتے رہیں۔ اور آیت میں ہے ان سے نہ ڈرو صرف مجھ سے ہی ڈرتے رہو میرا غلبہ، میری سلطنت، میری سزاء، میری قدرت، میری ملکیت بیشک اس قابل ہے کہ ہر وقت ہر دل میری ہیبت سے لزرتا رہے تمام کام میرے ہاتھ میں ہیں جو چاہوں کر سکتا ہوں اور کر گذرتا ہوں۔ میری منشا کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔

مسلمانوں پر جہاد کی فرضیت کا راز بیان ہو رہا ہے کہ اللہ قادر تھا جو عذاب چاہتا ان پر بھیج دیتا لیکن اس کی منشاء یہ ہے کہ تمہارے ہاتھوں انہیں سزا دے ان کی بربادی تم آپ کرو تمہارے دل کی خود بھڑاس نکل جائے اور تمہیں راحت و آرام شادمانی و کامرانی حاصل ہو۔ یہ بات کچھ انہی کے ساتھ مخصوص نہ تھی بلکہ تمام مومنوں کے لیے بھی ہے۔ خصوصاً خزاعہ کا قبیلہ جن پر خلاف عہد قریش اپنے حلیفوں میں مل کر چڑھ دوڑے ان کے دل اسی وقت ٹھنڈے ہوں گے ان کے غبار اسی وقت دھلیں گے جب مسلمانوں کے ہاتھوں کفار نیچے ہوں۔ ابن عساکر میں ہے کہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا غضبناک ہوتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی ناک پکڑ لیتے اور فرماتے عویش! یہ دعا کرو «‏‏‏‏اللَّهُمَّ رَبَّ النَّبِيَّ مُحَمَّدٍ اغْفِرْ ذَنْبِي، وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي وَأَجِرْنِي مِنْ مُضِلاتِ الْفِتَنِ» اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار میرے گناہ بخش اور میرے دل کا غصہ دور کر اور مجھے گمراہ کن فتنوں سے بچالے۔ ۱؎ [الموسوعہ الحدیثیہ للشعیب الأناؤط:26576: ضعیف] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہے توبہ قبول فرما لے۔ وہ اپنے بندوں کی تمام تر مصلحتوں سے خوب آگاہ ہے۔ اپنے تمام کاموں میں اپنے شرعی احکام میں اپنے تمام حکموں میں حکمت والا ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے جو ارادہ کرتا ہے حکم دیتا ہے وہ عادل و حاکم ہے ظلم سے پاک ہے ایک ذرے برابر بھلائی برائی ضائع نہیں کرتا بلکہ اس کا بدلہ دنیا اور آخرت میں دیتا ہے۔

📖 احسن البیان

13۔ 1 اَ لَا حرف تحضیض ہے، جس سے رغبت دلائی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دے رہا ہے۔ 13۔ 2 اس سے مراد دارالندوہ کی مشاورت ہے جس میں رؤسائے مکہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلا وطن کرنے، قید کرنے یا قتل کرنے کی تجویزوں پر غور کیا۔ 13۔ 3 اس سے مراد یا تو بدر کی جنگ میں مشرکین مکہ کا رویہ ہے کہ وہ اپنے تجارتی قافلے کی حفاظت کے لئے گئے، لیکن اس کے باوجود کہ انہوں دیکھ لیا کہ وہ قافلہ بچ کر نکل گیا ہے وہ بدر کے مقام پر مسلمانوں سے لڑنے کی تیاری کرتے اور چھیڑ خانی کرتے رہے، جس کے نتیجے میں بالآخر جنگ ہو کر رہی۔ یا اس سے مراد قبیلہ بنی بکر کی وہ امداد ہے جو قریش نے ان کی کی، جب کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیف قبیلے خزاعہ پر چڑھائی کی تھی دراں حالیکہ قریش کی یہ امداد معاہدے کی خلاف ورزی تھی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت13) ➊ {اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَيْمَانَهُمْ …:} اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نہایت بلیغ طریقے سے کفار کے خلاف جنگ پر ابھارا ہے اور انھیں جوش اور غیرت دلائی ہے کہ جن لوگوں کے یہ جرائم ہیں کیا تم ان کے خلاف بھی نہیں لڑو گے؟ پھر ان کے تین جرم بیان فرمائے، پہلا یہ کہ انھوں نے اپنے عہد توڑ ڈالے اور وہ قسمیں بھی جو عہد پختہ کرنے کے لیے کھائی تھیں، صلح حدیبیہ ہو جانے کے بعد بھی وہ بنو خزاعہ کے خلاف (جو مسلمانوں کے حلیف تھے) بنو بکر کی پیٹھ ٹھونکتے اور اسلحہ وغیرہ سے ان کی مدد کرتے رہے، حالانکہ ان کا ایسا کرنا صلح کے معاہدے کی صریح خلاف ورزی تھی۔ دوسرا یہ کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے تو وہ آپ کے خلاف منصوبے سوچتے رہتے، جیسا کہ سورۂ انفال (۳۰) میں گزر چکا ہے کہ قتل، قید اور کم از کم یہ کہ آپ کو مکہ سے نکال دیں، یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنے کسی ارادے میں کامیاب نہ ہو سکے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اللہ کے حکم سے ہجرت کی اور تیسرا یہ کہ پہلی بار لڑنے کی ابتدا انھوں نے کی کہ بدر کے موقع پر جب ان کا تجارتی قافلہ بچ گیا تھا تو انھوں نے واپس جانے کے بجائے خواہ مخواہ جنگ چھیڑی۔ اس کے بعد احد، خندق اور بنو خزاعہ کے خلاف جنگ کی ابتدا بھی انھوں نے کی۔ ان تینوں میں سے ہر جرم ہی ان سے لڑنے کا کافی سبب ہے، اب یہ تین سبب جمع ہونے پر بھی کیا تم ان سے نہیں لڑو گے؟ ➋ { اَتَخْشَوْنَهُمْ۠ فَاللّٰهُ اَحَقُّ …:} یہ بھی جنگ پر ابھارنے کا ایک زبردست طریقہ ہے کہ کسی کو کہا جائے کہ کیا تم دشمنوں سے ڈرتے ہو؟ غیرت مند یہی کہے گا اور کر کے دکھائے گا کہ نہیں، میں دشمنوں سے نہیں ڈرتا، پھر مسلمانوں کی ہمت بندھائی کہ تم تو اللہ پر ایمان و یقین رکھنے والے ہو کہ فتح و شکست اور نفع و نقصان اسی کے ہاتھ میں ہے، ایسی صورت میں تو لازماً حق بنتا ہے کہ تم کفار کے بجائے اللہ سے ڈرو اور ان سے قتال کرو۔
← پچھلی آیت (12) پوری سورۃ اگلی آیت (14) →