بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ التوبة — Surah Tawbah
آیت نمبر 44
کل آیات: 129
قرآن کریم التوبة آیت 44
آیت نمبر: 44 — سورۃ التوبة islamicurdubooks.com ↗
لَا یَسۡتَاۡذِنُکَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ اَنۡ یُّجَاہِدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِالۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۴۴﴾
جو لوگ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو کبھی تم سے یہ درخواست نہ کریں گے کہ انہیں اپنی جان و مال کے ساتھ جہاد کرنے سے معاف رکھا جائے اللہ متقیوں کو خوب جانتا ہے
اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ویقین رکھنے والے تو مالی اور جانی جہاد سے رک رہنے کی کبھی بھی تجھ سے اجازت طلب نہیں کریں گے، اور اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے
اور وہ جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم سے چھٹی نہ مانگیں گے اس سے کہ اپنے مال اور جان سے جہاد کریں، اور اللہ خوب جا نتا ہے پرہیزگا روں کو،
جو لوگ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں وہ کبھی آپ سے اجازت طلب نہیں کریں گے کہ وہ اپنے مال و جان سے (اللہ کی راہ میں) جہاد کریں۔ اور اللہ پرہیز گاروں کو خوب جانتا ہے۔
تجھ سے وہ لوگ اجازت نہیں مانگتے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، اس سے کہ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کریں اور اللہ متقی لوگوں کو خوب جاننے والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نہ ادھر کے نہ ادھر کے ٭٭

سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ کی اپنے محبوب سے کیسی پیار بھری باتیں ہو رہی ہیں، سخت بات سنانے سے پہلے ہی معافی کا اعلان سنایا جا رہا ہے کہ اس کے بعد رخصت دینے کا عہد بھی سورۃ النور میں سونپ دیا جاتا ہے۔ اور ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے «فَإِذَا اسْتَأْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَن لِّمَن شِئْتَ مِنْهُمْ» ۱؎ [24-النور:62] ‏‏‏‏ یعنی ان میں سے کوئی اگر آپ سے اپنے کسی کام اور شغل کی وجہ سے اجازت چاہے تو آپ جسے چاہیں اجازت دے سکتے ہیں۔ یہ آیت ان کے بارے میں اتری ہے جن لوگوں نے آپس میں طے کر لیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلبی تو کریں اگر اجازت ہو جائے تو اور اچھا اور اگر اجازت نہ بھی دیں تاہم اس غزوے میں جائیں گے تو نہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر انہیں اجازت نہ ملتی تو اتنا فائدہ ضرور ہوتا کہ سچے عذر والے اور جھوٹے بہانے بنانے والے کھل جاتے، نیک و بد میں ظاہری تمیز ہو جاتی، اطاعت گزار تو حاضر ہو جاتے نافرمان باوجود اجازت نہ ملنے کے بھی نہ نکلتے، کیونکہ انہوں نے تو طے کر لیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہاں کہیں یا نہ کہیں ہم تو جہاد میں جانے کے نہیں۔ اسی لیے جناب باری تعالیٰ نے اس کے بعد کی آیت میں فرمایا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ سچے ایماندار لوگ راہ ربانی کے جہاد سے رکنے کی اجازت تجھ سے طلب کریں، وہ تو جہاد کو موجب قربت الہی مان کر اپنی جان و مال کے فدا کرنے کے آرزو مند رہتے ہیں اللہ تعالیٰ بھی اس متقی جماعت سے بخوبی آگاہ ہے۔ یہ بلا عذر شرعی بہانے بنا کر جہاد سے رک جانے کی اجازت طلب کرنے والے تو بے ایمان لوگ ہیں جنہیں دار آخرت کی جزا کی کوئی امید ہی نہیں ان کے دل آج تک تیری شریعت سے شک شبہ میں ہی ہیں یہ حیران و پریشان ہیں ایک قدم ان کا آگے بڑھتا ہے تو دوسرا پیچھے ہٹتا ہے انہیں ثابت قدمی اور استقلال نہیں یہ ہلاک ہونے والے ہیں یہ نہ ادھر ہیں نہ ادھر یہ اللہ کے گمراہ کئے ہوئے ہیں تو ان کے سنوارنے کا کوئی رستہ نہ پائے گا۔

📖 احسن البیان

44۔ 1 یہ مخلص ایمانداروں کا کردار بیان کیا گیا ہے بلکہ ان کی عادت یہ ہے کہ وہ نہایت ذوق شوق کے ساتھ اور بڑھ چڑھ کر جہاد میں حصہ لیتے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت44) {لَا يَسْتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ …:} کیونکہ انھیں تو خود جہاد میں جانے کا شوق ہے اور وہ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کب انھیں اللہ کی راہ میں شہید ہونے کا موقع ملتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کے معاش میں ان کے لیے سب سے بہتر وہ آدمی ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی باگ پکڑے ہوئے ہے، اس کی پشت پر اڑتا پھر رہا ہے، جب کبھی دشمن کی آمد پر کوئی خوف کی آواز یا گھبراہٹ سنتا ہے تو اڑ کر وہاں پہنچ جاتا ہے، وہ قتل اور موت کو ان جگہوں میں تلاش کرتا ہے جہاں وہ مل سکتی ہیں۔“ [مسلم، الإمارۃ، باب فضل الجہاد والرباط،: ۱۸۸۹، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ]
← پچھلی آیت (43) پوری سورۃ اگلی آیت (45) →