بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ التوبة — Surah Tawbah
آیت نمبر 21
کل آیات: 129
قرآن کریم التوبة آیت 21
آیت نمبر: 21 — سورۃ التوبة islamicurdubooks.com ↗
یُبَشِّرُہُمۡ رَبُّہُمۡ بِرَحۡمَۃٍ مِّنۡہُ وَ رِضۡوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّہُمۡ فِیۡہَا نَعِیۡمٌ مُّقِیۡمٌ ﴿ۙ۲۱﴾
ان کا رب انہیں اپنی رحمت اور خوشنودی اور ایسی جنتوں کی بشارت دیتا ہے جہاں ان کے لیے پائیدار عیش کے سامان ہیں
انہیں ان کا رب خوشخبری دیتا ہے اپنی رحمت کی اور رضامندی کی اور جنتوں کی، ان کے لئے وہاں دوامی نعمت ہے
ان کا رب انہیں خوشی سنا تا ہے اپنی رحمت اور اپنی رضا کی اور ان باغوں کی جن میں انہیں دائمی نعمت ہے
ان کا پروردگار انہیں اپنی رحمتِ خاص اور خوشنودی اور ایسے بہشتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں دائمی نعمت ہوگی۔
ان کا رب انھیں اپنی طرف سے بڑی رحمت اور عظیم رضامندی اور ایسے باغوں کی خوش خبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی نعمت ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

سب سے بری عبادت اللہ کی راہ میں جہاد ہے ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”کافروں کا قول تھا کہ بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کے پانی پلانے کی سعادت بہتر ہے ایمان و جہاد سے۔ ہم چونکہ یہ دونوں خدمتیں انجام دے رہے ہیں اس لیے ہم سے بہتر کوئی نہیں۔ اللہ نے ان کا فخر و غرور اور حق سے تکبر اور منہ پھیرنا فرمایا کہ میری آیتوں کی تمہارے سامنے تلاوت ہوتے ہوئے تم اس سے بےپرواہی سے منہ موڑ کر اپنی بات چیت میں مشغول رہتے ہو، پس تمہارا گمان بےجا، تمہارا غرور غلط، تمہارا فخر نا مناسب ہے۔ یوں بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کا ایمان اور اس کی راہ کا جہاد بڑی چیز ہے لیکن تمہارے مقابلے میں تو وہ اور بھی بڑی چیز ہے کیونکہ تمہاری تو کوئی نیکی ہو بھی تو اسے شرک کا گھن کھا جاتا ہے۔ پس فرماتا ہے کہ یہ دونوں گروہ برابر کے بھی نہیں یہ اپنے آپ کو آبادی کرنے والا کہتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کا نام ظالم رکھا اللہ تعالیٰ کے گھر کی خدمت بیکار کر دی۔ کہتے ہیں کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی قید کے زمانے میں کہا تھا کہ ”تم اگر اسلام و جہاد میں تھے تو ہم بھی اللہ تعالیٰ کے گھر کی خدمت اور حاجیوں کو آرام پہنچانے میں تھے۔‏‏‏‏“ اس پر یہ آیت اتری کہ شرک کے وقت کی نیکی بیکار ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان پر جب لے دے شروع کی تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ ”ہم مسجد الحرام کے متولی تھے ہم غلاموں کو آزاد کرتے تھے ہم بیت اللہ کو غلاف چڑھاتے تھے ہم حاجیوں کو پانی پلاتے تھے اس پر یہ آیت اتری۔ مروی ہے کہ یہ گفتگو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ میں ہوئی ہو۔ مروی ہے کہ طلحہ بن شیبہ، عباس بن عبدالمطلب، علی بن ابی طالب بیٹھے بیٹھے اپنی اپنی بزرگیاں بیان کرنے لگے، طلحہ نے کہا میں بیت اللہ کا کنجی بردار ہوں میں اگر چاہوں وہاں رات گزار سکتا ہوں۔

سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں زمزم کا پانی پلانے والا ہوں اور اس کا نگہبان ہوں اگر چاہوں تو مسجد ساری رات رہ سکتا ہوں۔‏‏‏‏“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نہیں جانتا کہ تم دونوں صاحب کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے لوگوں سے چھ ماہ پہلے قبلہ کی طرف نماز پڑھی ہے میں مجاہد ہوں۔‏‏‏‏“ اس پر یہ آیت اتری، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنا ڈر ظاہر کیا کہ کہیں میں چاہ زمزم کے پانی کے عہدے سے نہ ہٹا دیا جاؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں تم اپنے اس منصب پر قائم رہو تمہارے لیے اس میں بھلائی ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16575:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ اس آیت کی تفسیر میں ایک مرفوع حدیث وارد ہوئی ہے جس کا ذکر بھی یہاں ضروری ہے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”ایک شخص نے کہا اسلام کے بعد اگر میں کوئی عمل نہ کروں تو مجھے پرواہ نہیں بجز اس کے کہ میں حاجیوں کو پانی پلاؤں۔ دوسرے نے اسی طرح مسجد الحرام کی آبادی کو کہا۔ تیسرے نے اسی طرح اللہ کی راہ کے جہاد کو کہا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹ دیا اور فرمایا منبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آوازیں بلند نہ کرو۔ یہ واقعہ جمعہ کے دن کا ہے جمعہ کے بعد ہم سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [عبد الرزاق فی تفسیر:1060] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وعدہ کیا تھا کہ نماز جمعہ کے بعد میں خود جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات دریافت کر لوں گا۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1879۔111] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت22،21) {يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ …: ” بِرَحْمَةٍ “} اور {” رِضْوَانٍ “} پر تنوین تعظیم کی ہے۔ اب اس رحمت اور رضا مندی کا کون اندازہ کر سکتا ہے جسے خود اللہ تعالیٰ خاص اپنی طرف سے اور عظیم قرار دے رہا ہے، اگلی آیت میں دوبارہ اسے اجر عظیم قرار دیا ہے۔ جب مالک خود ان لوگوں سے راضی اور انھیں اپنی رحمت اور جنت کی خوش خبری دے رہا ہے، تو ڈوب مرنا چاہیے ان لوگوں کو جو ان کے خلاف اپنی زبانیں کھولتے ہیں، اگر ان میں ذرہ بھر بھی غیرت اور شرم و حیا ہے۔ ورنہ سیدھی طرح اپنی بد تمیزی اور گستاخی سے توبہ کر کے ان کا وہ مقام تسلیم کرنا چاہیے جو اللہ اور اس کے رسول نے انھیں دیا ہے۔ یاد رہے کہ ایمان، جہاد اور ہجرت کا سلسلہ قیامت تک قائم رہے گا اور وہ سب مجاہدین اس فضیلت میں شامل ہیں جو یہ شرف حاصل کریں گے۔ ابو حیان نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے تین وصف ایمان، ہجرت اور مال و جان کے ساتھ جہاد ذکر فرمائے، ان کے مقابلے میں تین ہی انعام ذکر فرمائے، ایمان کے مقابلے میں رحمت، کیونکہ وہ صرف ایمان سے حاصل ہوتی ہے اور سب سے عام ہے۔ جان و مال کے ساتھ جہاد کے مقابلے میں رضوان جو کسی سے حسن سلوک کی انتہا ہے اور ہجرت، یعنی وطن چھوڑنے کے بدلے میں جنت جو دائمی اقامت کا گھر ہے۔
← پچھلی آیت (20) پوری سورۃ اگلی آیت (22) →