بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ التوبة — Surah Tawbah
آیت نمبر 9
کل آیات: 129
قرآن کریم التوبة آیت 9
آیت نمبر: 9 — سورۃ التوبة islamicurdubooks.com ↗
اِشۡتَرَوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیۡلًا فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ؕ اِنَّہُمۡ سَآءَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹﴾
انہوں نے اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی سی قیمت قبول کر لی پھر اللہ کے راستے میں سدراہ بن کر کھڑے ہو گئے بہت برے کرتوت تھے جو یہ کرتے رہے
انہوں نے اللہ کی آیتوں کو بہت کم قیمت پر بیچ دیا اور اس کی راه سے روکا۔ بہت برا ہے جو یہ کر رہے ہیں
اللہ کی آیتوں کے بدلے تھو ڑے دام مول لیے تو اس کی راہ سے روکا بیشک وہ بہت ہی بڑے کام کرتے ہیں،
انہوں نے تھوڑی سی قیمت پر آیاتِ الٰہی فروخت کر دی ہیں اور (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکنے لگے۔ بہت ہی برا ہے وہ کام جو یہ کر رہے ہیں۔
انھوںنے اللہ کی آیات کے بدلے میں تھوڑی سی قیمت لے لی، پھر انھوں نے اس کے راستے سے روکا۔ بے شک یہ لوگ برا ہے جو کچھ کرتے رہے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جہاد ہی راہ اصلاح ہے ٭٭

مشرکوں کی مذمت کے ساتھ ہی مسلمانوں کو ترغیب جہاد دی جا رہی ہے کہ ان کافروں نے دنیائے خسیس کو آخرت نفیس کے بدلے پسند کر لیا ہے خود راہ رب سے ہٹ کر مومنوں کو بھی ایمان سے روک رہے ہیں ان کے اعمال بہت ہی بد ہیں یہ تو مومنوں کو نقصان پہنچانے کے ہی درپے ہیں نہ انہیں رشتے داری کا خیال نہ معاہدے کا پاس۔ یہ تو حد سے تجاوز کر گئے ہیں۔ ہاں اب بھی سچی توبہ اور نماز و زکوٰۃ کی پابندی انہیں تمہارا بنا سکتی ہے۔ چنانچہ بزار کی حديث میں ہے کہ جو دنیا کو اس حال میں چھوڑے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادتیں خلوص کے ساتھ کر رہا ہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا ہو نماز و زکوٰۃ کا پابند ہو تو اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو کر ملے گا۔ یہی اللہ تعالیٰ کا وہ دین ہے جسے انبیاء علیہم السلام لاتے رہے اور اسی کی تبلیغ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ کرتے رہے۔ اس سے پہلے کہ باتیں پھیل جائیں اور خواہشیں بڑھ جائیں اس کی تصدیق کتاب اللہ میں موجود ہے کہ اگر وہ توبہ کر لیں یعنی بتوں کو اور بت پرستی کو چھوڑ دیں اور نمازی اور زکوٰۃ دینے والے بن جائیں تو تم ان کے راستے چھوڑ دو۔ ۱؎ [9-التوبة:5] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے کہ پھر تو یہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ ۱؎ [9-التوبة:11] ‏‏‏‏ امام بزار رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”میرے خیال سے تو مرفوع حدیث وہیں پر ختم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے رضامند ہو کر ملے گا اس کے بعد کا کلام راوی حدیث ربیع بن انس رحمہ اللہ علیہ کا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔‏‏‏‏“

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 9) {اِشْتَرَوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيْلًا …:} یعنی یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے دنیا کی چند روزہ زندگی کے مفاد کی خاطر اللہ تعالیٰ کے احکام کو رد کر دیا، پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا کہ خود اسلام نہیں لائے، بلکہ دوسروں کو بھی اسلام کی راہ اختیار کرنے سے روکتے رہے۔ (شوکانی)
← پچھلی آیت (8) پوری سورۃ اگلی آیت (10) →