بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ التوبة — Surah Tawbah
آیت نمبر 112
کل آیات: 129
قرآن کریم التوبة آیت 112
آیت نمبر: 112 — سورۃ التوبة islamicurdubooks.com ↗
اَلتَّآئِبُوۡنَ الۡعٰبِدُوۡنَ الۡحٰمِدُوۡنَ السَّآئِحُوۡنَ الرّٰکِعُوۡنَ السّٰجِدُوۡنَ الۡاٰمِرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ النَّاہُوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ الۡحٰفِظُوۡنَ لِحُدُوۡدِ اللّٰہِ ؕ وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۱۲﴾
اللہ کی طرف بار بار پلٹنے والے، اُس کے بندگی بجا لانے والے، اُس کی تعریف کے گن گانے والے، اُس کی خاطر زمین میں گردش کرنے والے، اُس کے آگے رکوع اور سجدے کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، بدی سے روکنے والے، اور اللہ کے حدود کی حفاظت کرنے والے، (اس شان کے ہوتے ہیں وہ مومن جو اللہ سے خرید و فروخت کا یہ معاملہ طے کرتے ہیں) اور اے نبیؐ ان مومنوں کو خوش خبری دے دو
وه ایسے ہیں جو توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزه رکھنے والے، (یا راه حق میں سفر کرنے والے) رکوع اور سجده کرنے والے، نیک باتوں کی تعلیم کرنے والے اور بری باتوں سے باز رکھنے والے اور اللہ کی حدوں کا خیال رکھنے والے ہیں اور ایسے مومنین کو آپ خوشخبری سنا دیجئے
توبہ والے عبادت والے سراہنے والے روزے والے رکوع والے سجدہ والے بھلائی کے بتانے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی حدیں نگاہ رکھنے والے اور خوشی سناؤ مسلمانوں
(ان لوگوں کے اوصاف یہ ہیں کہ) یہ توبہ کرنے والے (اللہ کی عبادت کرنے والے (اس کی) حمد و ثنا کرنے والے (اس کی راہ میں) سیر و سیاحت کرنے والے (یا روزہ رکھنے والے) رکوع و سجود کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، برائی سے روکنے والے اور اللہ کی مقررہ حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں اور (اے رسول) مؤمنوں کو خوشخبری دے دو (اور یہی وہ مؤمن ہیں)۔
(وہ مومن) توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، (اللہ کی راہ میں) سفر کرنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے منع کرنے والے اور اللہ کی حدوں کی حفاظت کرنے والے ہیں اور ان مومنوں کو خوش خبری دے دے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مومنین کی صفات ٭٭

جن مومنوں کا اوپر ذکر ہوا ہے ان کی پاک اور بہترین صفتیں بیان ہو رہی ہیں کہ وہ تمام گناہوں سے توبہ کرتے رہتے ہیں، برائیوں کو چھوڑتے جاتے ہیں، اپنے رب کی عبادت پر جمے رہتے ہیں، ہر قسم کی عبادتوں میں خاص طور پر قابل ذکر چیز اللہ کی حمد و ثنا ہے اس لیے وہ اس کی حمد بکثرت ادا کرتے ہیں اور فعلی عبادتوں میں خصوصیت کے ساتھ افضل عبادت روزہ ہے اس لیے وہ اسے بھی اچھائی سے رکھتے ہیں۔ کھانے پینے کو، جماع کو ترک کر دیتے ہیں۔ یہی مراد لفظ «سَّائِحُونَ» سے یہاں ہے۔ یہی وصف نبی کریم [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏‏‏‏ کی بیویوں کا قرآن نے بیان فرمایا ہے «سائحات» ‏‏‏‏ [ التحريم: 5 ] ‏‏‏‏ اور یہی لفظ «سائحات» وہاں بھی ہے۔ رکوع سجود کرتے رہتے ہیں۔ یعنی نماز کے پابند ہیں۔ اللہ کی ان عبادتوں کے ساتھ ہی ساتھ مخلوق کے نفع سے بھی غافل نہیں۔ اللہ کی اطاعت کا ہر ایک کو حکم کرتے ہیں۔ برائیوں سے روکتے رہتے ہیں۔ خود علم حاصل کر کے بھلائی برائی میں تمیز کر کے اللہ کے احکام کے حفاظت کر کے پھر اوروں کو بھی اس کی رغبت دیتے ہیں۔ حق تعالیٰ کی عبادت اور اس کی مخلوق کی حفاظت دونوں زیر نظر رکھتے ہیں۔ یہی باتیں ایمان کی ہیں اور یہی اوصاف مومنوں کے ہیں۔ انہیں خو شخبریاں ہوں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سیاحت سے مراد روزہ لیتے ہیں۔ اسی طرح ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی بلکہ آپ سے مروی ہے کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں یہ لفظ آیا ہے وہاں یہی مطلب ہے۔ ضحاک بھی یہی کہتے ہیں۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ کہ اس امت کی سیاحت روزہ ہے۔ مجاہد، سعید، عطاء، عبدالرحمٰن، ضحاک سفیان وغیرہ کہتے ہیں کہ مراد «سَّائِحُونَ» سے «صائمون» ہے۔ یعنی جو روزے رمضان کے رکھیں۔ ابوعمرو کہتے ہیں روزہ پر دوام کرنے والے۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے کہ مراد «‏‏‏‏سَّائِحُونَ» ‏‏‏‏سے روزے دار ہیں لیکن اس حدیث کا موقف ہونا ہی زیادہ صحیح ہے۔

ایک مرسل حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس لفظ کا مطلب پوچھا گیا تو آپ نے یہ فرمایا۔ تمام اقوال سے زیادہ صحیح اور زیادہ مشہور تو یہی قول ہے۔ اور ایسی دلیلیں بھی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مراد سیاحت سے اللہ کی راہ میں جہاد ہے۔ ابوداؤد میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ مجھے سیاحت کی اجازت دیجئیے۔ آپ نے فرمایا میری امت کی سیاحت اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مجلس میں سیاحت کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کے بدلے اپنی راہ کا جہاد اور ہر اونچائی پر اللہ اکبر کہنا عطا فرمایا ہے۔ عکرمہ فرماتے ہیں اور مراد اس سے علم دین کے طالب علم ہیں۔ عبدالرحمٰن فرماتے ہیں اللہ کی راہ کے مہاجر ہیں۔ بعض لوگ صوفیہ طبقہ کے جو اس سے مراد لیتے ہیں کہ زمین کی سیر کرنا، سفر میں رہنا، ادھر ادھر جانا آنا، پہاڑوں، دوروں، جنگلوں اور بندوں میں پھرنا اس کا نام سیاحت ہے، یہ محض غلط فہمی ہے، یہ سیاحت مشروع نہیں۔ ہاں اللہ نہ کرے اگر بستی میں رہنے سے دین میں کوئی فتنہ پڑنے کا اندیشہ ہو تو اور بات ہے۔ جیسے کہ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں قریب ہے کہ مومن کا سب سے بہتر مال بکریاں بن جائیں جن کے پیچھے وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش برسنے کی جگہوں میں پڑا رہے، اپنے دین کو لے کر فتنوں سے بھاگتا اور بچتا رہے۔ اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے یعنی بقول ابن عباس اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر قائم رہنے والے بقول حسن بصری فرائض کی پابندی کرنے والے، اللہ تعالیٰ کے حکم کے بجا لانے والے۔

📖 احسن البیان

112۔ 1 یہ انہیں مومنین کی مذید صفات بیان کی جا رہی ہیں جن کی جانوں اور مالوں کا سودا اللہ نے کرلیا ہے، وہ توبہ کرنے والے، یعنی گناہوں اور فواحش سے بچتے اور اپنے رب کی عبادت کرنے والے، زبان سے اللہ کی حمد اور ثنا بیان کرنے والے اور دیگر ان صفات کے حامل ہیں جو آیت میں مذکور ہیں۔ سیاحت سے مراد اکثر مفسرین نے روزے لیے ہیں اور اسی کو ابن کثیر نے صحیح ترین اور مشہور ترین قول قرار دیا ہے۔ اور بعض نے اس سے جہاد مراد لیا ہے۔ تاہم سیاحت سے زمین کی سیاحت مراد نہیں ہے جس طرح کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے۔ اسی طرح اللہ کی عبادت کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں غاروں اور سنسان بیابانوں میں جاکر ڈیرے لگا لینا بھی اس سے مراد نہیں ہے۔ کیونکہ یہ رہبانیت اور جوگی پن کا ایک حصہ ہے جو اسلام میں نہیں ہے۔ البتہ فتنوں کے ایام میں اپنے دین کو بچانے کے لیے شہروں اور آبادیوں کو چھوڑ کر جنگلوں اور بیابانوں میں جاکر رہنے کی اجازت حدیث میں دی گئی ہے۔ (صحیح بخاری۔ کتاب الایمان، باب من الدین الفرار من الفتن و کتاب الفتن باب التعرب۔ ای السکنی مع الاعراب۔ فی الفتنہ) 112۔ 2 مطلب یہ ہے کہ مومن کامل وہ ہے جو قول اور عمل اسلام کی تعلیمات کا عمدہ نمونہ ہو اور ان چیزوں سے بچنے والا ہو جن سے اللہ نے اسے روک دیا ہے اور یوں اللہ کی حدوں کو پامال نہیں، بلکہ ان کی حفاظت کرنے والا ہو۔ ایسے ہی کامل مومن خوشخبری کے مستحق ہیں یہ وہ بات ہے جسے قرآن میں (اٰ مَنُوْ ا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ) کے الفاظ میں بار بار بیان کیا گیا ہے۔ یہاں اعمال صالحہ کی قدرے تفصیل بیان کردی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 112) ➊ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سچے مجاہد مومنوں کی نو صفات بیان فرمائی ہیں۔ پہلی چھ صفات میں صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ ہے، ساتویں اور آٹھویں صفت کا تعلق مخلوق سے ہے اور آخری کا تعلق دونوں سے ہے۔ ➋ { اَلتَّآىِٕبُوْنَ:} اپنے گناہوں پر نادم ہو کر ان کو چھوڑنے کا عزم کرکے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے والے، کیونکہ توبہ ان تینوں کے جمع ہونے سے مکمل ہوتی ہے۔ میدان قتال میں توبہ و استغفار سے زیادہ کوئی چیز مفید نہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے نبیوں کے ہمراہ قتال کرنے والوں کی دعا ذکر فرمائی: «{ وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِيْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ }» [ آل عمران: 147 ] ”اور ان کا کہنا اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انھوں نے کہا اے ہمارے رب! ہمارے گناہ بخش دے اور ہمارے کام میں ہماری زیادتی کو بھی اور ہمارے قدم ثابت رکھ اور کافر لوگوں پر ہماری مدد فرما۔“ ➌ { الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ:} مشکل اور آسانی، خوشی اور ناخوشی، آرام اور تکلیف ہر حال میں اللہ کی عبادت کرنے والے اور ہر حال میں اس کی تعریف کرنے والے اور اس پر راضی رہنے والے۔ ➍ { السَّآىِٕحُوْنَ: ”سَاحَ يَسِيْحُ سِيَاحَةً“} کا معنی پانی کا زمین پر چلنا، پھیل جانا۔ {” اَلسِّيَاحَةُ “ } عبادت کے لیے (گھر بار چھوڑ کر) زمین میں نکل جانا۔ (قاموس) چونکہ اس میں آرام و آسائش کا ترک اور دنیا کا ترک پایا جاتا ہے۔ نصرانیت میں اس نے رہبانیت کی صورت اختیار کی جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا، چنانچہ فرمایا: «{ وَ رَهْبَانِيَّةَ اِبْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ }» [ الحدید: ۲۷ ] ”اور رہبانیت (دنیا سے کنارہ کشی) تو انھوں نے خود ایجاد کر لی، ہم نے اسے ان پر نہیں لکھا تھا۔“ اب اس کی صورت اللہ تعالیٰ کی خاطر ہجرت (وطن چھوڑنا) ہے کہ جہاں اللہ کے دین پر عمل نہ کر سکے، نہ اس کی دعوت دے سکے، اسے چھوڑ کر اللہ کی زمین میں کہیں اور نکل جائے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۹۷ تا ۱۰۰)، زمر (۱۰) اور عنکبوت (۵۳) ایک صورت جہاد فی سبیل اللہ ہے جس میں مجاہد گھر سے نکل کر آرام و آسائش ترک کرکے اللہ کا نام بلند کرنے کے لیے اللہ کی زمین کے مشکل سے مشکل اور خوبصورت سے خوبصورت مقامات پر پھرتا ہے اور ہر جگہ اللہ کا بول بالا کرتا ہے۔ ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: ”یا رسول اللہ! مجھے سیاحت کی اجازت دیجیے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اِنَّ سِيَاحَةَ اُمَّتِي الْجِهَادُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ ] [أبوداوٗد، الجھاد، باب فی النھی عن السیاحۃ: ۲۴۸۶، و صححہ الألبانی ] ”میری امت کی سیاحت جہاد فی سبیل اللہ ہے۔“ بعض علماء کے مطابق {” السَّآىِٕحُوْنَ“ } میں وہ طالب علم بھی آ جاتے ہیں جو اللہ کا دین سیکھنے کے لیے شہر بہ شہر سفر کرتے ہیں۔ ایک صورت {” السَّآىِٕحُوْنَ“} کی روزہ کی ہے کہ اس میں انسان تمام گناہ چھوڑنے کے ساتھ اپنی سب سے زیادہ مرغوب تین چیزیں کھانا پینا اور بیوی سے مباشرت ترک کر دیتا ہے۔ {”السَّآىِٕحُوْنَ“} کا معنی ”روزہ رکھنے والے“ ابن عباس، ابن مسعود رضی اللہ عنھم اور کئی تابعین سے آیا ہے۔(ابن کثیر) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلسَّائِحُوْنَ هُمُ الصَّائِمُوْنَ ] ”سائحون روزہ دار ہی ہیں۔“ مستدرک وغیرہ مگر شیخ البانی رحمہ اللہ نے سلسلہ ضعیفہ (۳۷۲۹) میں اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بے تعلق رہنا روزہ ہے یا ہجرت ہے یا دل نہ لگانا دنیا کے مزوں میں۔ (موضح) {” السَّآىِٕحُوْنَ “} کے لغوی معنی اور صحیح حدیث کو مدنظر رکھیں تو ہجرت یا جہاد اور اعلائے دین کے لیے یا دوسرے نیک مقاصد کے لیے زمین میں پھرنے والے ہی اس کا اصل مصداق ٹھہرتے ہیں۔ پاسپورٹ اور ویزا کا نظام کفار نے مسلمانوں کی اس خصوصیت کو ختم کرنے ہی کے لیے اپنے اور مسلمانوں کے ملکوں میں نافذ کروا دیا ہے، کیونکہ سفر کے ذریعے ہی سے ہجرت، جہاد، طلب علم، تبلیغ دین، تجارت اور بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں جو اس وقت تک حاصل رہے جب تک مسلمان ساری زمین پر پھرتے رہے اور اس قوت سے سرفراز رہے۔ جب وہ گھروں میں بیٹھ گئے اور آرام طلبی اختیار کی تو کفار کی مراد بر آئی۔ ➎ {الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ:} اس کے اولین مصداق تو وہ ہیں جو فرض نمازوں کے علاوہ نوافل بھی ادا کرتے ہیں، جن کے متعلق کفار نے بھی شہادت دی: {”هُمْ بِاللَّيْلِ رُهْبَانٌ وَبِالنَّهَارِ فُرْسَانٌ“} کہ وہ رات کو راہب اور دن کو شاہ سوار ہوتے ہیں۔ ورنہ کم از کم فرض نمازوں کے پابند ہونا تو اس کے لیے بنیادی چیز ہے۔ ترک نماز کے ساتھ اپنے آپ کو جنت کے سوداگر سمجھنا اپنی جان کو دھوکا دینے کے سوا کچھ نہیں۔ ➏ {الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ …:} یعنی دوسروں کو نیکی کا حکم دے کر اور برائی سے منع کرکے کفار کو مسلمان بنانے والے اور مسلمانوں کو اسلام پر عمل کی تاکید کرنے والے اور صرف دوسروں ہی کو نہیں خود بھی اللہ کی ہر حد کی پابندی اور ہر حکم کی اطاعت کرنے والے۔ {” الْمُؤْمِنِيْنَ “} میں الف لام کی وجہ سے ”ان مومنوں کو“ ترجمہ کیا ہے کہ خوش خبری کے حق دار ان صفات کے حامل مومن ہیں، فقط دعویٰ رکھنے والے نہیں۔
← پچھلی آیت (111) پوری سورۃ اگلی آیت (113) →