بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ التوبة — Surah Tawbah
آیت نمبر 88
کل آیات: 129
قرآن کریم التوبة آیت 88
آیت نمبر: 88 — سورۃ التوبة islamicurdubooks.com ↗
لٰکِنِ الرَّسُوۡلُ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ جٰہَدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الۡخَیۡرٰتُ ۫ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۸۸﴾
بخلاف اس کے رسولؐ نے اور ان لوگوں نے جو رسولؐ کے ساتھ ایمان لائے تھے ا پنی جان و مال سے جہاد کیا اور اب ساری بھلائیاں انہی کے لیے ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں
لیکن خود رسول اللہ اور اس کے ساتھ کے ایمان والے اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں، یہی لوگ بھلائیوں والے ہیں اور یہی لوگ کامیابی حاصل کرنے والے ہیں
لیکن رسول اور جو ان کے ساتھ ایمان لائے انہوں نے اپنے مالوں جانوں سے جہاد کیا، اور انہیں کے لیے بھلائیاں ہیں اور یہی مراد کو پہنچے،
لیکن اللہ کے رسول اور جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں انہوں نے اپنے مال اور اپنی جان کے ساتھ جہاد کیا اور یہی وہ ہیں جن کے لئے ساری بھلائیاں ہیں۔ اور یہی کامیاب ہونے والے ہیں۔
لیکن رسول نے اور ان لوگوں نے جو اس کے ہمراہ ایمان لائے، اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کیا اور یہی لوگ ہیں جن کے لیے سب بھلائیاں ہیں اور یہی فلاح پانے والے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

منافق کی آخرت خراب ٭٭

منافقوں کی مذمت اور ان کی اخروی درگت بیان فرما کر اب مومنوں کی مدحت اور ان کی اخروی راحت بیان ہو رہی ہے۔ یہ جہاد کے لئے کمر باندھے رہتے ہیں۔ یہ جان و مال اللہ کی راہ میں فدا کرتے رہتے ہیں۔ انہی کے حصے میں بھلائیاں اور خوبیاں ہیں۔ یہی فلاح پانے والے لوگ ہیں۔ انہی کے لیے جنت الفردوس ہے اور انہی کے لیے بلند درجے ہیں۔ یہی مقصد حاصل کرنے والے یہی کامیابی کو پہنچ جانے والے لوگ ہیں۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت88) {لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ …:} لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان کا حال منافقین جیسا نہیں، ان میں نہ ان کی طرح بزدلی ہے، نہ جہاد سے گریز، نہ مال و جان کی قربانی میں بخل، نہ اللہ اور اس کے رسول سے کفر، نہ نافرمانی، بلکہ وہ اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے اپنے اموال اور جانوں کے ساتھ جہاد یعنی اپنی آخری کوشش کرتے ہیں اور ہر حال میں اطاعت کرتے ہیں۔ انھی کے لیے تمام بھلائیاں، یعنی دنیا کی فتوحات و غنائم اور آخرت کے سب سے بلند درجے ہیں۔ دیکھیے سورۂ حجرات (۱۵) اور صف (۱۰ تا ۱۲) انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں پہنچ جانے والا کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ہو گا جو پسند کرے کہ دنیا میں واپس آئے، خواہ دنیا کی ہر چیز اسے دے دی جائے، سوائے شہید کے، وہ تمنا کرے گا کہ دنیا کی طرف واپس جائے، پھر دس مرتبہ قتل کیا جائے، اس عزت و کرامت کی وجہ سے جو وہ دیکھے گا۔“ [ بخاری، الجہاد والسیر، باب تمنی المجاہد أن یرجع إلی الدنیا: ۲۸۱۷ ]
← پچھلی آیت (87) پوری سورۃ اگلی آیت (89) →