بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ التوبة — Surah Tawbah
آیت نمبر 91
کل آیات: 129
قرآن کریم التوبة آیت 91
آیت نمبر: 91 — سورۃ التوبة islamicurdubooks.com ↗
لَیۡسَ عَلَی الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَی الۡمَرۡضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیۡنَ لَا یَجِدُوۡنَ مَا یُنۡفِقُوۡنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوۡا لِلّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ؕ مَا عَلَی الۡمُحۡسِنِیۡنَ مِنۡ سَبِیۡلٍ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿ۙ۹۱﴾
ضعیف اور بیمار لوگ اور وہ لوگ جو شرکت جہاد کے لیے راہ نہیں پاتے، اگر پیچھے رہ جائیں تو کوئی حرج نہیں جبکہ وہ خلوص دل کے ساتھ اللہ اور اس کے رسولؐ کے وفادار ہوں ایسے محسنین پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
ضعیفوں پر اور بیماروں پر اور ان پر جن کے پاس خرچ کرنے کو کچھ بھی نہیں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وه اللہ اور اس کے رسول کی خیر خواہی کرتے رہیں۔ ایسے نیک کاروں پر الزام کی کوئی راه نہیں، اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت ورحمت واﻻ ہے
ضعیفوں پر کچھ حرج نہیں اور نہ بیماروں پر اور نہ ان پر جنہیں خرچ کا مقدور نہ ہو جب کہ اللہ اور رسول کے خیر خواہ رہیں نیکی والوں پر کوئی راہ نہیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
کمزوروں، بیماروں پر اور ان ناداروں پر خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں رکھتے کوئی گناہ نہیں ہے (اگر جہاد میں شریک نہ ہوں) بشرطیکہ وہ خلوصِ دل سے اللہ اور رسول کے وفادار ہوں۔ نیکوکاروں پر کوئی الزام نہیں ہے اور اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
نہ کمزوروں پر کوئی حرج ہے اور نہ بیماروں پر اور نہ ان لوگوں پر جو وہ چیز نہیں پاتے جو خرچ کریں، جب وہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے خلوص رکھیں۔ نیکی کرنے والوں پر (اعتراض کا) کوئی راستہ نہیں اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

عدم جہاد کے شرعی عذر ٭٭

اس آیت میں ان شرعی عذروں کا بیان ہو رہا ہے جن کے ہوتے ہوئے اگر کوئی شخص جہاد میں نہ جائے تو اس پر شرعی حرج نہیں۔ پس ان سببوں میں سے ایک قسم تو وہ ہے جو لازم ہوتی ہے کسی حالت میں انسان سے الگ نہیں ہوتیں جیسے پیدائشی کمزوری یا اندھا پن یا لنگڑا پن، کوئی لولا لنگڑا اپاہج بیمار یا بالکل ہی نا طاقت ہو، دوسری قسم کے وہ عذر ہوتے ہیں جو کبھی ہیں اور کبھی نہیں اتفاقیہ اسباب ہیں مثلاً کوئی بیمار ہو گیا ہے یا بالکل فقیر ہو گیا ہے سامان سفر، سامان جہاد مہیا نہیں کر سکتا وغیرہ پس یہ لوگ شرکت جہاد نہ کر سکیں تو ان پر شرعاً کوئی مواخذہ گناہ یا عار نہیں۔ لیکن انہیں اپنے دل میں صلاحیت اور خلوص رکھنا چاہیئے۔ مسلمانوں کے دین الہٰی کے خیرخواہ بنے رہیں اوروں کو جہاد پر آمادہ کریں بیٹھے بیٹھے جو خدمت مجاہدین کی انجام دے سکتے ہوں دیتے رہیں، ایسے نیک کاروں پر کوئی وجہ الزام نہیں، اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ حواریوں نے عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی سے پوچھا کہ ”ہمیں بتلائیے اللہ کا خیرخواہ کون ہے“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ تعالیٰ کے حق کو لوگوں کے حق پر مقدم کرے اور جب ایک کام دین کا اور ایک دنیا کا آ جائے تو دینی کام کی اہمیت کا پورا لحاظ رکھے پھر فارغ ہو کر دنیوی کام کو انجام دے۔‏‏‏‏“ ایک مرتبہ قحط سالی کے موقعہ پر لوگ نماز استسقاء کیلئے میدان میں نکلے، ان میں سیدنا بلال بن سعد رحمہ اللہ بھی تھے۔ آپ نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا: ”اے حاضرین! کیا تم یہ مانتے ہو کہ تم سب اللہ کے گنہگار بندے ہو“؟ سب نے اقرار کیا۔

اب آپ نے دعا شروع کی کہ پروردگار ہم نے تیرے کلام میں سنا ہے کہ نیک کاروں پر کوئی راہ نہیں۔ ہم اپنی برائیوں کے اقراری ہیں پس تو ہمیں معاف فرما، ہم پر رحم فرما، ہم پر اپنی رحمت سے بارشیں برسا اب آپ رحمہ اللہ نے ہاتھ اٹھائے اور آپ کے ساتھ ہی اور سب نے۔ رحمت ربانی جوش میں آئی اور اسی وقت جھوم جھوم کر رحمت کی بدلیاں برسنے لگیں۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منشی تھا سورۃ برات جب اتر رہی تھی میں اسے بھی لکھ رہا تھا میرے کان میں قلم اڑا ہوا تھا جہاد کی آیتیں اتر رہی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منتظر تھے کہ دیکھیں کہ اب کیا حکم نازل ہوتا ہے؟ جو ایک نابینا صحابی رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جہاد کے احکام اس اندھاپے میں کیسے بجا لا سکتا ہوں“؟ اسی وقت یہ آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:186/6] ‏‏‏‏ پھر ان کا بیان ہوتا ہے جو جہاد کی شرکت کے لیے تڑپتے ہیں مگر قدرتی اسباب سے مجبور ہو کر بادل ناخواستہ رک جاتے ہیں۔ جہاد کا حکم ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلان ہوا مجاہدین کا لشکر جمع ہونا شروع ہوا تو ایک جماعت آئی جن میں عبداللہ بن مغفل بن مقرن مزنی رضی اللہ عنہم وغیرہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس سواریاں نہیں آپ ہماری سواریوں کا انتظام کر دیں تاکہ ہم بھی راہ حق میں جہاد کرنے کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمرکابی کا شرف حاصل کریں۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”واللہ! میرے پاس تو ایک بھی سواری نہیں۔‏‏‏‏“

یہ ناامید ہو کر روتے پیٹتے غم زدہ اور رنجیدہ ہو کر لوٹے ان پر اس سے زیادہ بھاری بوجھ کوئی نہ تھا کہ یہ اس وقت ہم رکابی کی اور جہاد کی سعادت سے محروم رہ گئے اور عورتوں کی طرح انہیں یہ مدت گھروں میں گزارنی پڑے گی نہ ان کے پاس خود ہی کچھ ہے نہ کہیں سے کچھ ملتا ہے۔ پس جناب باری تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ان کی تسکین کر دی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17093:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ آیت قبیلہ مزینہ کی شاخ بنی مقرن کے بارے میں اتری ہے۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ یہ سات آدمی تھے بنی عمرو کے سالم بن عمیر، بنی واقف کے ھرمی بن عمرو، بنی مازن کے عبدالرحمٰن بن کعب، بنو معلیٰ کے سلمان بن صخر، بنی سلمی کے عمرو بن عنمہ، اور عبداللہ بن عمرو مزنی، اور بنو حارثہ کے علیہ بن زید۔ بعض روایتوں میں کچھ ناموں میں ہیر پھیر بھی ہے۔ انہی نیک نیت بزرگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے رسول، رسولوں کے سرتاج «صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و اصحابہ و ازوجہ و اہل بیتہ و سلم» کا فرمان ہے کہ ”اے میرے مجاہد ساتھیو! تم نے مدینے میں جو لوگ اپنے پیچھے چھوڑے ہیں ان میں وہ بھی ہیں کہ تم جو خرچ کرتے ہو جس میدان میں چلتے ہو جو جہاد کرتے ہو سب میں وہ بھی ثواب کے شریک ہیں۔‏‏‏‏“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اور روایت میں ہے کہ یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ”وہ باوجود اپنے گھروں میں رہنے کے ثواب میں ہمارے شریک ہیں۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اس لیے کہ وہ معذور ہیں عذر کے باعث رکے ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2839] ‏‏‏‏

ایک اور آیت میں ہے انہیں بیماریوں نے روک لیا ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1911] ‏‏‏‏

پھر ان لوگوں کا بیان فرمایا جنہیں فی الواقع کوئی عذر نہیں مالدار، ہٹے کٹے ہیں لیکن پھر بھی سرکار نبوت میں آ کر بہانے تراش تراش کر جہاد میں ساتھ نہیں دیتے، عورتوں کی طرح گھر میں بیٹھ جاتے ہیں زمین پکڑ لیتے ہیں۔ فرمایا ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر الہٰی لگ چکی ہے، اب وہ اپنے بھلے برے کے علم سے بھی کورے ہو گئے ہیں۔

📖 احسن البیان

91۔ 1 اس آیت میں ان لوگوں کا تذکرہ ہے جو واقعی معذور تھے اور ان کا عذر بھی واضح تھا مثلاً 1۔ ضعیف و ناتواں یعنی بوڑھے قسم کے لوگ، اور نابینا یا لنگڑے وغیرہ معذورین بھی اسی ذیل میں آجاتے ہیں، بعض نے انہیں بیماروں میں شامل کیا ہے، 2۔ بیمار، 3۔ جن کے پاس جہاد کے اخراجات نہیں تھے اور بیت المال بھی ان کے اخراجات کا متحمل نہیں تھا، اللہ اور رسول کی خیر خواہی سے مراد، جہاد کی ان کے دلوں میں تڑپ، مجاہدین سے محبت رکھتے ہیں اور اللہ اور رسول کے دشمنوں سے عداوت، اور حتی الا مکان اللہ اور رسول کے احکام کی اطاعت کرتے ہیں، اگر جہاد میں شرکت کرنے سے معذور ہوں تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت91) ➊ {لَيْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ …:} اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو واقعی معذور تھے اور ان کا عذر واضح تھا۔ ان میں سب سے پہلے {” الضُّعَفَآءِ “} ہیں، ان سے مراد لنگڑے، لولے، اندھے، بوڑھے، عورتیں اور بچے ہیں۔ دوسرے {”الْمَرْضٰى“} (مریض کی جمع) جو بیماری کی وجہ سے نہیں جا سکتے، دوسری جگہ فرمایا: «لَيْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِيْضِ حَرَجٌ» ‏‏‏‏ [ الفتح: ۱۷ ] ”نہیں ہے اندھے پر کوئی تنگی اور نہ لنگڑے پر کوئی تنگی اور نہ مریض پر کوئی تنگی۔“ اور تیسرے وہ تندرست طاقت رکھنے والے جو مالی استطاعت نہیں رکھتے کہ جہاد کے سفر اور اس کے سازو سامان مثلاً سواری اور ہتھیار وغیرہ کی تیاری کر سکیں۔ چنانچہ فرمایا: «لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا» [ البقرۃ: ۲۸۶ ] ”اللہ کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی گنجائش کے مطابق۔“ ➋ { اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ:} یعنی وہ کام نہ کرتے ہوں جس سے اللہ کے دین، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا مومنوں کو کوئی نقصان اور ان کے دشمنوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلدِّيْنُ النَّصِيْحَةُ] ”دین خیر خواہی (خلوص) ہی کا نام ہے۔“ ہم نے کہا: ”کس کے لیے؟“ فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے حکام کے لیے اور ان کے تمام لوگوں کے لیے۔“ [ مسلم، الإیمان، باب بیان أن الدین النصیحۃ: ۵۵، عن تمیم رضی اللہ عنہ ] عام لوگوں کی خیر خواہی میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ جب مجاہدین جہاد پر گئے ہوئے ہوں تو یہ لوگ شہر میں رہیں، ان کے گھروں کی، کاروبار کی اور بال بچوں کی خبر گیری رکھیں، ان کی عزت و آبرو کی ہر طرح سے حفاظت کریں، مجاہدین کی ضروریات بھیجتے رہیں، جھوٹی خبریں یا افواہیں نہ پھیلائیں، کسی قسم کا فساد برپا نہ کریں اور مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے والوں کا منہ بند کریں۔ ➌ { مَا عَلَى الْمُحْسِنِيْنَ مِنْ سَبِيْلٍ:} یعنی یہ لوگ معذور ہیں، اگر جہاد میں شرکت نہ کریں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک سے واپس آئے، مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا: ”بے شک مدینہ میں کئی لوگ ہیں، تم کسی راستے پر نہیں چلے اور نہ تم نے کوئی وادی طے کی ہے، مگر وہ تمھارے ساتھ رہے ہیں۔“ لوگوں نے پوچھا: ”یارسول اللہ! اور وہ مدینہ ہی میں تھے؟“ فرمایا: ”(ہاں) وہ مدینہ ہی میں تھے، انھیں عذر نے روک رکھا تھا۔“ [ بخاری، المغازی، باب: ۴۴۲۳ ]
← پچھلی آیت (90) پوری سورۃ اگلی آیت (92) →