بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ التوبة — Surah Tawbah
آیت نمبر 94
کل آیات: 129
قرآن کریم التوبة آیت 94
آیت نمبر: 94 — سورۃ التوبة islamicurdubooks.com ↗
یَعۡتَذِرُوۡنَ اِلَیۡکُمۡ اِذَا رَجَعۡتُمۡ اِلَیۡہِمۡ ؕ قُلۡ لَّا تَعۡتَذِرُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَکُمۡ قَدۡ نَبَّاَنَا اللّٰہُ مِنۡ اَخۡبَارِکُمۡ ؕ وَ سَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمۡ وَ رَسُوۡلُہٗ ثُمَّ تُرَدُّوۡنَ اِلٰی عٰلِمِ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۴﴾
تم جب پلٹ کر ان کے پاس پہنچو گے تو یہ طرح طرح کے عذرات پیش کریں گے مگر تم صاف کہہ دینا کہ "بہانے نہ کرو، ہم تہاری کسی بات کا اعتبار نہ کریں گے اللہ نے ہم کو تمہارے حالات بتا دیے ہیں اب اللہ اور اس کا رسول تمہارے طرز عمل کو دیکھے گا پھر تم اس کی طرف پلٹائے جاؤ گے جو کھلے اور چھپے سب کا جاننے والا ہے اور وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو"
یہ لوگ تمہارے سامنے عذر پیش کریں گے جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے۔ آپ کہہ دیجئے کہ یہ عذر پیش مت کرو ہم کبھی تم کو سچا نہ سمجھیں گے، اللہ تعالیٰ ہم کو تمہاری خبر دے چکا ہے اور آئنده بھی اللہ اور اس کا رسول تمہاری کارگزاری دیکھ لیں گے پھر ایسے کے پاس لوٹائے جاؤ گے جو پوشیده اور ﻇاہر سب کا جاننے واﻻ ہے پھر وه تم کو بتادے گا جو کچھ تم کرتے تھے
تم سے بہانے بنائیں گے جب تم ان کی طرف لوٹ کر جاؤ گے تم فرمانا، بہانے نہ بناؤ ہم ہرگز تمہارا یقین نہ کریں گے اللہ نے ہمیں تمہاری خبریں دے دی ہیں، اور اب اللہ و رسول تمہارے کام دیکھیں گے پھر اس کی طرف پلٹ کر جاؤ گے جو چھپے اور ظاہر سب کو جانتا ہے وہ تمہیں جتادے گا جو کچھ تم کرتے تھے،
جب تم لوگ (جہاد سے) لوٹ کر ان کے پاس جاؤگے۔ تو وہ (منافقین) طرح طرح کے عذر پیش کریں گے۔ (اے رسول(ص)) تم کہہ دو بہانے نہ بناؤ۔ ہم ہرگز تمہاری کسی بات پر اعتبار نہیں کریں گے۔ (کیونکہ) اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے حالات بتا دیئے ہیں۔ اب آئندہ اللہ تمہارا طرزِ عمل دیکھے گا اور اس کا رسول بھی پھر تم غائب اور حاضر کے جاننے والے (خدا) کی طرف لوٹائے جاؤگے وہ تمہیں بتلائے گا جو کچھ تم (دنیا میں) کرتے رہے ہو۔
تمھارے سامنے عذر پیش کریں گے، جب تم ان کی طرف واپس آئو گے، کہہ دے عذر مت کرو، ہم ہرگز تمھارا یقین نہ کریں گے، بے شک اللہ ہمیں تمھاری کچھ خبریں بتا چکا ہے، اور عنقریب اللہ تمھارا عمل دیکھے گا اور اس کا رسول بھی، پھر تم ہر پوشیدہ اور ظاہر چیز کو جاننے والے کی طرف لوٹائے جائو گے تو وہ تمھیں بتائے گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

فاسق اور چوہے کی مماثلت ٭٭

اللہ تعالیٰ نے منافقین سے یہ معلوم کرا دیا کہ جب تم مدینہ واپس ہو گے تو تمہارے سامنے اپنے عذرات پیش کریں گے۔ لیکن تم ان سے کہہ دو کہ عذارت باطلہ پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہم تمہاری بات کو کبھی سچ نہ مانیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے احوال معلوم کرا دئیے ہیں۔ عنقریب اللہ پاک تمہارے اعمال دنیا میں لوگوں کے سامنے ظاہر فرما دے گا اور تمہیں تمہارے اچھے برے سارے اعمال کی خبر دے دے گا اور اعمال کا نتیجہ بھی دیکھنا پڑے گا۔ پھر ان سے متعلق مزید خبر دی گئی کہ وہ قسمیں کھا کھا کر بیان کریں گے تاکہ تم ان سے درگزر کر جاؤ اور چشم پوشی کر لو۔ یہ اس وقت ہو گا جب تم مدینہ واپس ہو جاؤ گے۔ لیکن تم ہرگز ان کی تصدیق نہ کرنا اور ان سے اظہار حقارت کے لئے اعراض کر جاؤ۔ ان میں نفس کی گندگی ہے، ان کے باطن اور ان کے اعتقاد نجس ہیں، آخرت میں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے یہ ان کے اعمال یعنی خطاکاریوں کا صحیح بدلہ ہے۔ اور یہ بھی بتلا دیا تم ان سے قسمیں کھانے کے سبب راضی ہو بھی جاؤ تو اللہ تعالیٰ تو ان لوگوں سے راضی نہ ہو گا جو اللہ کی اطاعت اور رسولوں کی فرمابرداری سے باہر ہو گئے ہیں۔ وہ لوگ فاسق ہیں اور فسق کے لغوی معنی باہر نکلنے کے ہیں۔ کہتے ہیں کہ «الفارۃ فویسقۃ» یعنی چوہا خرابیاں اور فساد پیدا کرنے کے لئے ہی اپنے بل سے نکلتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے «فسقت الرطبۃ» یعنی ڈالیوں سے کجھور کے خوشے نکل آۓ۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 94) ➊ {يَعْتَذِرُوْنَ اِلَيْكُمْ …:} جیسا کہ پہلے گزرا کہ یہ سلسلۂ آیات تبوک سے واپسی پر نازل ہوا، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی ان کے جھوٹے بہانوں کی اطلاع دے دی اور ساتھ ہی حکم دیا کہ ان سے کہہ دو کہ بہانے مت تراشو، ہم کسی صورت تمھارا اعتبار نہیں کریں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمھاری کچھ خبریں بتا دی ہیں۔ اب دیکھا جائے گا کہ تمھارا آئندہ رویہ کیا رہتا ہے، آیا تم موجودہ روش سے باز آتے ہو یا اسی پر جمے رہتے ہو۔ ➋ {وَ سَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ:} یہ عبارت یوں بھی ہو سکتی تھی کہ {”وَ سَيَرَي اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهُ عَمَلَكُمْ“} کہ عنقریب اللہ اور اس کا رسول تمھارا عمل دیکھیں گے، مگر مفعول {” عَمَلَكُمْ “} کو {” رَسُوْلُهٗ “} سے پہلے لانے کا صاف مطلب یہ ہے کہ اصل دیکھنے والا اور نگرانی کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، کیونکہ وہ ظاہر و باطن سے واقف ہے۔ اس کے بعد اللہ کے رسول بھی تمھارا عمل جو سامنے ہو گا دیکھیں گے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر ظاہری عمل سے مطمئن کر بھی لو اور تمھاری دلی کیفیت درست نہیں تو پھر تمھیں غائب و حاضر کو جاننے والے کے سامنے بھی حاضر ہونا ہے اور وہ تمھیں تمھاری اصل حقیقت سے آگاہ کرے گا۔ بعض شرک کے بیماروں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے حالات سے واقف ہے اور اس کا رسول بھی، کیونکہ اس آیت کے مطابق وہ دونوں سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ آیت کا مطلب تو اوپر بیان ہو چکا ہے مگر یہ حضرات اسی سورت کی آیت (۱۰۵) کا کیا کریں گے کہ جس میں ہے: ”اور کہہ دے تم عمل کرو پس عنقریب اللہ تمھارا عمل دیکھے گا اور اس کا رسول اور ایمان والے بھی۔“ تو کیا اللہ کے سوا رسول اور مومنین بھی سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور ہر بات سے واقف ہیں؟ مومن ہونے کا خیال تو ان حضرات کا اپنے بارے میں بھی ہو گا، ذرا اپنی حیثیت اور علم کی رسائی پر غور فرما لیں تو بہت جلد بات سمجھ میں آجائے گی۔ سورۂ نمل کی آیت (۶۵) اور اعراف کی آیت (۱۸۸) پر بھی ایک نظر ڈال لیں اور اسی سورۂ توبہ کی آیت (۱۰۱) «{ لَا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ}» پر بھی غور فرما لیں۔ ➌ ان آیات میں منافقین کو اخلاص کی طرف پلٹنے کی دعوت بھی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے کہ منافقین کو بھی اسی طرح بار بار بلاتا ہے کہ ہاں عمل کرو ہم تمھاری نگرانی کر رہے ہیں، اگر پلٹ آؤ گے تو ہم معاف کر دیں گے اور فی الواقع کئی منافقین اخلاص کی دولت سے سرفراز بھی ہوئے۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۶۶) اور نساء (۴۴، ۴۵)۔
← پچھلی آیت (93) پوری سورۃ اگلی آیت (95) →