بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ التوبة — Surah Tawbah
آیت نمبر 97
کل آیات: 129
قرآن کریم التوبة آیت 97
آیت نمبر: 97 — سورۃ التوبة islamicurdubooks.com ↗
اَلۡاَعۡرَابُ اَشَدُّ کُفۡرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجۡدَرُ اَلَّا یَعۡلَمُوۡا حُدُوۡدَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۹۷﴾
یہ بدوی عرب کفر و نفاق میں زیادہ سخت ہیں اور ان کے معاملہ میں اس امر کے امکانات زیادہ ہیں کہ اس دین کے حدود سے نا واقف رہیں جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اللہ سب کچھ جانتا ہے اور حکیم و دانا ہے
دیہاتی لوگ کفر اور نفاق میں بہت ہی سخت ہیں اور ان کو ایسا ہونا ہی چاہئے کہ ان کو ان احکام کا علم نہ ہو جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں اور اللہ بڑا علم واﻻ بڑی حکمت واﻻ ہے
گنوار کفر اور نفاق میں زیادہ سخت ہیں اور اسی قابل ہیں کہ اللہ نے جو حکم اپنے رسول پر اتارے اس سے جاہل رہیں، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
صحرائی عرب کفر و نفاق میں سب سے زیادہ سخت ہیں اور اسی قابل ہیں کہ ان احکام کے حدود و قیود کو نہ سمجھیں جو خدا نے اپنے رسول(ص) پر نازل کئے ہیں اور اللہ بڑا جاننے والا، بڑا حکمت والا ہے۔
بدوی لوگ کفر اور نفاق میں زیادہ سخت ہیں اور زیادہ لائق ہیں کہ وہ حدیں نہ جانیں جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کی ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

دیہات، صحرا اور شہر ہر جگہ انسانی فطرت یکساں ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ نے خبر دیٍ ہے کہ دیہاتیوں اور صحرا نشین بدؤں میں کفار بھی ہیں اور مومنین بھی۔ لیکن ان کا کفر اور ان کا نفاق دوسروں کی بہ نسبت بہت عظیم اور شدید ہوتا ہے اور وہ اسی بات کے سزاوار ہیں کہ اللہ پاک نے اپنے رسول پر جو بھی حدود و احکام نازل فرمائے ہیں ان سے بےخبر ہیں۔ جیسے کہ اعمش نے ابراہیم سے روایت کی ہے کہ ایک اعرابی بدوی زید بن صوحان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور وہ اپنے ساتھیوں سے باتیں کر رہے تھے اور جنگ نہاوند میں ان کا ہاتھ کٹ گیا تھا۔ اعرابی ان سے کہنے لگا کہ ”تمہاری باتیں تو بڑی پیاری ہیں اور تم بڑے اچھے آدمی معلوم ہوتے ہو لیکن یہ تمہارا کٹا ہوا ہاتھ مجھے تمہارے بارے میں شک پیدا کرتا ہے“ تو زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ”میرے کٹے ہوئے ہاتھ سے تمہیں شک کیوں ہوتا ہے یہ تو بایاں ہاتھ ہے۔‏‏‏‏“ تو اعرابی نے کہا: ”واللہ! میں نہیں جانتا کہ چوری میں بایاں ہاتھ کاٹتے ہیں یا دایاں ہاتھ۔ تو زید بن صوحان بول اٹھے کہی اللہ عزوجل نے سچ فرمایا تھا کہ «الأَعرابُ أَشَدُّ كُفرًا وَنِفاقًا وَأَجدَرُ أَلّا يَعلَموا حُدودَ ما أَنزَلَ اللَّهُ عَلىٰ رَسولِهِ» یعنی یہ کفار اعراب اسی کے سزاوار ہیں کہ حدود اللہ سے نا واقف ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ نے بالاسناد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جو صحرا نشین ہو وہ گویا جلا وطن ہے اور جو شکار کے پیچھے دوڑا دوڑا پھرتا ہے بڑا ہی بے سمجھ ہے اور جس نے کسی بادشاہ کی ہمنشینی اختیار کی وہ فتنہ سے دوچار ہو گیا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سنن ابوداود:2859،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابوداؤد اور ترمذی، نسائی میں بھی سفیان ثوری رحمہ اللہ سے یہ حدیث مروی ہے۔ ترمذی رحمہ اللہ نے اسے حسن غریب بتایا ہے۔ ثوری رحمہ اللہ سے روایت کے سوا اور کسی سے روایت کا ہمیں علم نہیں۔ صحرا نشینوں میں چونکہ عموماً بدمزاجی اجڈپن اور بدتمیزی ہوتی ہے اس لئے اللہ عزوجل نے ان میں اپنا رسول نہیں پیدا کیا۔ بعثت نبوت ہمیشہ شہری اور مہذب لوگوں میں ہوا کرتی ہے۔ جیسا کہ اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» ۱؎ [12-يوسف:109] ‏‏‏‏ یعنی ہم نے تم سے پہلے بھی جتنے رسولوں کو انسانوں کی طرف بھیجا وہ سب شہری اور متمدن بستیوں کے لوگ تھے۔ ایک مرتبہ ایک اعرابی نے اپنا ہدیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا تو اس وقت تک اس کا دل خوش نہ ہوا جب تک کہ اس سے کئی گناہ زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پاس نہ بھیج دیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اب سے میں نے تو ارادہ کر لیا ہے کہ قریشی، ثقفی، انصاری اور دوسی کے سوا کسی کا ہدیہ قبول نہ کروں گا۔ ۱؎ [مسند احمد:2687:صحیح] ‏‏‏‏

دعاؤں کے طلبگار متبع ہیں، مبتدع نہیں! ٭٭

کیونکہ یہ لوگ متمدن شہری ہیں مکہ، طائف، مدینہ اور یمن میں رہتے ہیں اخلاق میں یہ بدویوں سے بہت اچھے ہوتے ہیں کیونکہ اعرابی بہت اجڈ ہوتے ہیں۔ حدیث مسلم بالاسناد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ چند بدوی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پاس حاظر ہوئے اور کہنے لگے: ”کیا تم اپنے بچوں کو چومتے ہو؟ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا ہاں۔ تو انہوں نے کہا: ”لیکن اللہ کی قسم ہم نہیں چومتے۔‏‏‏‏“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ نے تمہارے دلوں سے محبت اور رحمت کو نکال دیا ہے تو کیا میں اس کا ذمہ دار ہوں“؟ ۱؎ [صحیح بخاری:5998] ‏‏‏‏ اور اللہ خوب واقف ان لوگوں سے جو اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں علم اور ایمان کی توفیق دی جائے اور اس نے اپنے بندوں میں علم، جہل ایمان، کفر اور نفاق کی تقسیم بڑی دانشوری سے کی ہے۔وہ اپنی حکمت اور علم کی بنا پر جو کچھ کرتا ہے کون اس پر حرف گیری کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان میں ایسے کم حوصلہ بھی ہیں کہ اللہ کی راہ میں اگر وہ کچھ خرچ کرتے ہیں تو اس کو تاوان اور خسارہ سمجھ بیٹھتے ہیں، اور تم پر حوادث و آفات کے منتظر ہیں۔ لیکن یہ حوادث انہیں پر منعکس ہوں گے اور گھوم ہھر کر انہیں پر نازل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پکار کو سننے والا ہے۔ اور اس بات کو جانتا ہے کہ ذلت خذلان و نامرادی کا مستحق کون ہے اور نصرہ و کامیابی کا کون سزاوار ہے؟ اور اعراب کی ایک اور قسم ممدوح ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو اس اللہ کے پاس قربت اور پسندیدگی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے سبب اپنے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائے خیر حاصل ہو۔ ہاں یقیناً یہ انفاق ان کے لئے قربت الہٰی کا سبب ہوگا اور اللہ پاک ان کو اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا۔ اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔

📖 احسن البیان

97۔ 1 مزکورہ آیات میں ان منافقین کا تذکرہ تھا جو مدینہ شہر میں رہائش پذیر تھے۔ اور کچھ منافقین وہ بھی تھے جو بادیہ نشین یعنی مدینہ کے باہر دیہاتوں میں رہتے تھے، دیہات کے ان باشندوں کو اعراب کہا جاتا ہے جو اعرابی کی جمع ہے شہریوں کے اخلاق و کردار میں درشتی اور کھردراپن زیادہ پایا جاتا ہے اس طرح ان میں جو کافر اور منافق تھے وہ کفر و نفاق میں بھی شہریوں سے زیادہ سخت اور احکام شریعت سے زیادہ بیخبر تھے اس آیت میں انہی کا تذکرہ اور انکے اسی کردار کی وضاحت ہے۔ بعض احادیث سے بھی ان کے کردار پر روشنی پڑتی ہے۔ مثلًا ایک موقع پر کچھ اعرابی رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے پوچھا اَتُقَبْلُوْنَ صِبْیَانکُمْ ' کیا تم اپنے بچے کو بوسہ دیتے ہو صحابہ نے عرض کیا ہاں انہوں نے کہا واللہ! ہم تو بوسہ نہیں دیتے ' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا ' اگر اللہ نے تمہارے دلوں میں سے رحم و شفقت کا جذبہ نکال دیا ہے تو میرا اس میں کیا اختیار ہے۔ (صحیح بخاری) 97۔ 2 اس کی وجہ یہ ہے کہ چوں کہ وہ شہر سے دور رہتے ہیں اور اللہ اور رسول کی باتیں سننے کا اتفاق ان کو نہیں ہوتا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 97) ➊ {اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا …: ” اَلْاَعْرَابُ “} عرب کے صحرا اور بادیہ میں رہنے والوں کے لیے اسم جنس ہے، واحد کے لیے {”اَعْرَابِي“} اور مؤنث کے لیے{ ”اَعْرَابِيَّةٌ“} استعمال ہوتا ہے، جمع {”اَعَارِيْبُ“} ہے {” اَلْعَرَبُ “} اس نسل کے لیے اسم جنس ہے جو عربی زبان بولتی ہے، خواہ شہری ہو یا بادیہ نشیں، اس کا واحد {” عَرَبِيٌّ“} آتا ہے۔ یہاں اعراب سے مراد ان کی جنس کے بعض افراد ہیں ہر شخص نہیں، کیونکہ ان میں سے بعض مخلص اہل ایمان کا ذکر آئندہ آیات میں آ رہا ہے۔ ➋ { ” اَلْاَعْرَابُ “} سے مراد وہ لوگ ہیں جو مدینہ منورہ سے دور دیہاتی اور صحرائی علاقوں میں رہتے تھے، ان میں سے اکثر اسلام کی دعوت کو سمجھ کر سچے دل سے مسلمان نہیں ہوئے تھے، بلکہ محض اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت سے مرعوب ہو کر مسلمان ہو گئے تھے۔ انھیں شہر (مدینہ منورہ) میں آنے، مسلمانوں سے میل جول رکھنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہونے کا بہت کم موقع ملا تھا، اس لیے یہ نرے گنوار اور اجڈ قسم کے لوگ تھے، جن کے دلوں میں نہ نرمی پیدا ہوئی تھی اور نہ انھیں علم کی ہوا لگی تھی۔ اس لیے ان میں جو منافق تھے ان کا نفاق بھی اہل مدینہ کے نفاق سے سخت تھا۔ بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ بدوی اور شہری لوگوں کی طبیعتوں میں وہی فرق پایا جاتا ہے جو ایک باغ کے میوے اور پہاڑی درخت کے میوے میں محسوس ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو بستیوں سے مبعوث فرمایا: «{ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْۤ اِلَيْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى }» [ یوسف: ۱۰۹ ] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے نہیں بھیجے مگر کچھ مرد، جن کی طرف ہم ان بستیوں والوں میں سے وحی کیا کرتے تھے۔“ اور آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام بستیوں کی ماں ام القریٰ مکہ میں پیدا فرمایا، تاکہ وہ شہری معاشرے کی شائستگی اور نرم دلی کے حامل ہوں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”بدویوں کی سرشت میں بے حکمی، مفاد پرستی اور جہالت رچی بسی ہوئی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال حکمت سے نہ ان پر زیادہ ذمہ داری ڈالی اور نہ ان کو درجات کی بلندی عطا ہوئی۔“ (موضح) لوگوں کے ساتھ میل جول کی کمی کی وجہ سے طبیعت میں سختی پیدا ہو جانا فطری سی بات ہے۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بادیہ میں سکونت رکھے وہ سخت دل ہو جاتا ہے، جو شکار کے پیچھے ہی لگ جائے وہ غافل ہو جاتا ہے اور جو سلطان کے پاس آئے وہ آزمائش میں ڈال دیا جاتا ہے۔“ [ أحمد: 357/1، ح: ۳۳۶۱۔ أبوداوٗد: ۲۸۵۹۔ ترمذی: ۲۲۵۶۔ نسائی: ۴۳۱۴، وصححہ الألبانی ] بعض اعراب کی سخت دلی پر اس حدیث سے کافی روشنی پڑتی ہے جو ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا نے بیان فرمائی کہ اعراب کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے (انھوں نے آپ کو حسن یا حسین رضی اللہ عنھما کو چومتے دیکھا) تو کہنے لگے: ”کیا تم لوگ اپنے بچوں کو چومتے ہو؟“ لوگوں نے کہا: ”ہاں!“ تو وہ کہنے لگے: ”لیکن اللہ کی قسم! ہم تو نہیں چومتے!“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور کیا میں اختیار رکھتا ہوں، اگر اللہ نے تم سے رحم کرنا نکال لیا ہے۔“ [ مسلم، الفضائل، باب رحمتہ صلی اللہ علیہ وسلم الصبیان …: ۲۳۱۷۔ بخاری: ۵۹۹۸ ] مفسرین نے اس مقام پر اعراب کی سخت دلی کے کئی واقعات لکھے ہیں۔
← پچھلی آیت (96) پوری سورۃ اگلی آیت (98) →