بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ التوبة — Surah Tawbah
آیت نمبر 99
کل آیات: 129
قرآن کریم التوبة آیت 99
آیت نمبر: 99 — سورۃ التوبة islamicurdubooks.com ↗
وَ مِنَ الۡاَعۡرَابِ مَنۡ یُّؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنۡفِقُ قُرُبٰتٍ عِنۡدَ اللّٰہِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوۡلِ ؕ اَلَاۤ اِنَّہَا قُرۡبَۃٌ لَّہُمۡ ؕ سَیُدۡخِلُہُمُ اللّٰہُ فِیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿٪۹۹﴾
اور انہی بدویوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اُسے اللہ کے تقرب کا اور رسولؐ کی طرف سے رحمت کی دعائیں لینے کا ذریعہ بناتے ہیں ہاں! وہ ضرور ان کے لیے تقرب کا ذریعہ ہے اور اللہ ضرور ان کو اپنی رحمت میں داخل کریگا، یقیناً اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
اور بعض اہل دیہات میں ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو عنداللہ قرب حاصل ہونے کا ذریعہ اور رسول کی دعا کا ذریعہ بناتے ہیں، یاد رکھو کہ ان کا یہ خرچ کرنا بیشک ان کے لیے موجب قربت ہے، ان کو اللہ تعالیٰ ضرور اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت واﻻ بڑی رحمت واﻻ ہے
اور کچھ گاؤں والے وہ ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو خرچ کریں اسے اللہ کی نزدیکیوں اور رسول سے دعائیں لینے کا ذریعہ سمجھیں ہاں ہاں وہ ان کے لیے باعث قرب ہے اللہ جلد انہیں اپنی رحمت میں داخل کرے گا، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
اور انہی بدوؤں میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ (راہِ خدا میں) خرچ کرتے ہیں۔ اسے اللہ کے تقرب اور رسول کی دعاؤں کا وسیلہ سمجھتے ہیں۔ بے شک وہ (خرچ کرنا) ان کے لیے تقرب کا ذریعہ ہے۔ اللہ ضرور ان کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بے شک اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
اور بدویوں میں سے کچھ وہ ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے ہاں قربتوں اور رسول کی دعائوں کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ سن لو! بے شک وہ ان کے لیے قرب کا ذریعہ ہے، عنقریب اللہ انھیں اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

دیہات، صحرا اور شہر ہر جگہ انسانی فطرت یکساں ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ نے خبر دیٍ ہے کہ دیہاتیوں اور صحرا نشین بدؤں میں کفار بھی ہیں اور مومنین بھی۔ لیکن ان کا کفر اور ان کا نفاق دوسروں کی بہ نسبت بہت عظیم اور شدید ہوتا ہے اور وہ اسی بات کے سزاوار ہیں کہ اللہ پاک نے اپنے رسول پر جو بھی حدود و احکام نازل فرمائے ہیں ان سے بےخبر ہیں۔ جیسے کہ اعمش نے ابراہیم سے روایت کی ہے کہ ایک اعرابی بدوی زید بن صوحان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور وہ اپنے ساتھیوں سے باتیں کر رہے تھے اور جنگ نہاوند میں ان کا ہاتھ کٹ گیا تھا۔ اعرابی ان سے کہنے لگا کہ ”تمہاری باتیں تو بڑی پیاری ہیں اور تم بڑے اچھے آدمی معلوم ہوتے ہو لیکن یہ تمہارا کٹا ہوا ہاتھ مجھے تمہارے بارے میں شک پیدا کرتا ہے“ تو زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ”میرے کٹے ہوئے ہاتھ سے تمہیں شک کیوں ہوتا ہے یہ تو بایاں ہاتھ ہے۔‏‏‏‏“ تو اعرابی نے کہا: ”واللہ! میں نہیں جانتا کہ چوری میں بایاں ہاتھ کاٹتے ہیں یا دایاں ہاتھ۔ تو زید بن صوحان بول اٹھے کہی اللہ عزوجل نے سچ فرمایا تھا کہ «الأَعرابُ أَشَدُّ كُفرًا وَنِفاقًا وَأَجدَرُ أَلّا يَعلَموا حُدودَ ما أَنزَلَ اللَّهُ عَلىٰ رَسولِهِ» یعنی یہ کفار اعراب اسی کے سزاوار ہیں کہ حدود اللہ سے نا واقف ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ نے بالاسناد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جو صحرا نشین ہو وہ گویا جلا وطن ہے اور جو شکار کے پیچھے دوڑا دوڑا پھرتا ہے بڑا ہی بے سمجھ ہے اور جس نے کسی بادشاہ کی ہمنشینی اختیار کی وہ فتنہ سے دوچار ہو گیا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سنن ابوداود:2859،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابوداؤد اور ترمذی، نسائی میں بھی سفیان ثوری رحمہ اللہ سے یہ حدیث مروی ہے۔ ترمذی رحمہ اللہ نے اسے حسن غریب بتایا ہے۔ ثوری رحمہ اللہ سے روایت کے سوا اور کسی سے روایت کا ہمیں علم نہیں۔ صحرا نشینوں میں چونکہ عموماً بدمزاجی اجڈپن اور بدتمیزی ہوتی ہے اس لئے اللہ عزوجل نے ان میں اپنا رسول نہیں پیدا کیا۔ بعثت نبوت ہمیشہ شہری اور مہذب لوگوں میں ہوا کرتی ہے۔ جیسا کہ اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» ۱؎ [12-يوسف:109] ‏‏‏‏ یعنی ہم نے تم سے پہلے بھی جتنے رسولوں کو انسانوں کی طرف بھیجا وہ سب شہری اور متمدن بستیوں کے لوگ تھے۔ ایک مرتبہ ایک اعرابی نے اپنا ہدیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا تو اس وقت تک اس کا دل خوش نہ ہوا جب تک کہ اس سے کئی گناہ زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پاس نہ بھیج دیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اب سے میں نے تو ارادہ کر لیا ہے کہ قریشی، ثقفی، انصاری اور دوسی کے سوا کسی کا ہدیہ قبول نہ کروں گا۔ ۱؎ [مسند احمد:2687:صحیح] ‏‏‏‏

دعاؤں کے طلبگار متبع ہیں، مبتدع نہیں! ٭٭

کیونکہ یہ لوگ متمدن شہری ہیں مکہ، طائف، مدینہ اور یمن میں رہتے ہیں اخلاق میں یہ بدویوں سے بہت اچھے ہوتے ہیں کیونکہ اعرابی بہت اجڈ ہوتے ہیں۔ حدیث مسلم بالاسناد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ چند بدوی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پاس حاظر ہوئے اور کہنے لگے: ”کیا تم اپنے بچوں کو چومتے ہو؟ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا ہاں۔ تو انہوں نے کہا: ”لیکن اللہ کی قسم ہم نہیں چومتے۔‏‏‏‏“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ نے تمہارے دلوں سے محبت اور رحمت کو نکال دیا ہے تو کیا میں اس کا ذمہ دار ہوں“؟ ۱؎ [صحیح بخاری:5998] ‏‏‏‏ اور اللہ خوب واقف ان لوگوں سے جو اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں علم اور ایمان کی توفیق دی جائے اور اس نے اپنے بندوں میں علم، جہل ایمان، کفر اور نفاق کی تقسیم بڑی دانشوری سے کی ہے۔وہ اپنی حکمت اور علم کی بنا پر جو کچھ کرتا ہے کون اس پر حرف گیری کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان میں ایسے کم حوصلہ بھی ہیں کہ اللہ کی راہ میں اگر وہ کچھ خرچ کرتے ہیں تو اس کو تاوان اور خسارہ سمجھ بیٹھتے ہیں، اور تم پر حوادث و آفات کے منتظر ہیں۔ لیکن یہ حوادث انہیں پر منعکس ہوں گے اور گھوم ہھر کر انہیں پر نازل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پکار کو سننے والا ہے۔ اور اس بات کو جانتا ہے کہ ذلت خذلان و نامرادی کا مستحق کون ہے اور نصرہ و کامیابی کا کون سزاوار ہے؟ اور اعراب کی ایک اور قسم ممدوح ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو اس اللہ کے پاس قربت اور پسندیدگی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے سبب اپنے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائے خیر حاصل ہو۔ ہاں یقیناً یہ انفاق ان کے لئے قربت الہٰی کا سبب ہوگا اور اللہ پاک ان کو اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا۔ اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔

📖 احسن البیان

99۔ 1 یہ اعراب کی دوسری قسم ہے جن کو اللہ نے شہر سے دور رہنے کے باوجود، اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی۔ اور اس ایمان کی بدولت ان سے وہ جہالت بھی دور فرما دی جو بددینیت کی وجہ سے اہل بادیہ میں عام طور پر ہوتی ہے۔ چناچہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کردہ مال کو جرمانہ سمجھنے کی بجائے۔ اللہ کے قرب کا اور رسول کی دعائیں لینے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یہ اشارہ ہے رسول اللہ کے اس طرز عمل کی طرف، جو صدقہ دینے والوں کے بارے میں آپ تا یعنی آپ ان کے حق میں دعائے خیر فرماتے۔ جس طرح حدیث میں آتا ہے کہ ایک صدقہ لانے والے کے لئے آپ نے دعا فرمائی اللَّہُمَّ صَلِّ عَلَی آلِ اَبِیْ اَوْفٰی (صحیح بخاری نمبر 4166 صحیح مسلم نمبر 756) ' اے اللہ! ابو اوفی کی آل پر رحمت نازل فرما ـ' 99۔ 2 یہ خوشخبری ہے کہ اللہ کا قرب انہیں حاصل ہے اور اللہ کی رحمت کے وہ مستحق ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 99) {وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ يُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ …: ” قُرُبٰتٍ “} یہ {”قُرْبَةٌ“} کی جمع ہے، وہ عمل جسے انسان اپنے خالق کے قریب ہونے کا ذریعہ بنائے۔ {” صَلَوٰتِ “} یہ{ ” صَلاَةٌ “} کی جمع ہے جس کا معنی نماز کے علاوہ دعا بھی آتا ہے۔ یعنی سب اعراب ایک جیسے نہیں، ان میں کئی مخلص مسلمان بھی ہیں، جو خوش دلی سے صدقہ کرتے ہیں اور اسے اللہ کے ہاں قربتوں اور رسول کی دعاؤں کو حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں شہادت دی کہ ان کے یہ اعمال یقینا ان کے لیے قرب کا ذریعہ ثابت ہوں گے اور اللہ تعالیٰ انھیں ضرور اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا۔ عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی گروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ لے کر آتا تو آپ اس کے لیے دعا کرتے ہوئے کہتے: [ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی فُلَانٍ ] ”اے اللہ! فلاں پر رحم فرما۔“ عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ جب میرے والد زکوٰۃ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ نے انھیں دعا دیتے ہوئے فرمایا: [ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ آلِ اَبِيْ اَوْفٰی ] ”اے اللہ! ابو اوفی کی آل پر رحم فرما۔“ [ بخاری، الزکاۃ، باب صلاۃ الإمام و دعاء ہ لصاحب الصدقۃ …: ۱۴۹۷ ]
← پچھلی آیت (98) پوری سورۃ اگلی آیت (100) →