بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ التوبة — Surah Tawbah
آیت نمبر 80
کل آیات: 129
قرآن کریم التوبة آیت 80
آیت نمبر: 80 — سورۃ التوبة islamicurdubooks.com ↗
اِسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ ؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ سَبۡعِیۡنَ مَرَّۃً فَلَنۡ یَّغۡفِرَ اللّٰہُ لَہُمۡ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَفَرُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿٪۸۰﴾
اے نبیؐ، تم خواہ ایسے لوگوں کے لیے معافی کی درخواست کرو یا نہ کرو، اگر تم ستر مرتبہ بھی انہیں معاف کردینے کی درخواست کرو گے تو اللہ انہیں ہرگز معاف نہ کرے گا اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے، اور اللہ فاسق لوگوں کو راہ نجات نہیں دکھاتا
ان کے لئے تو استغفار کر یا نہ کر۔ اگر تو ستر مرتبہ بھی ان کے لئے استغفار کرے تو بھی اللہ انہیں ہرگز نہ بخشے گا یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ سے اور اس کے رسول سے کفر کیا ایسے فاسق لوگوں کو رب کریم ہدایت نہیں دیتا
تم ان کی معافی چاہو یا نہ چاہو، اگر تم ستر بار ان کی معافی چاہو گے تو اللہ ہرگز انھیں نہیں بخشے گا یہ اس لیے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے منکر ہوئے، اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا
(اے رسول(ص)) آپ ان کے لئے مغفرت طلب کریں اور خواہ نہ کریں اگر (بالفرض) آپ ان کے لئے ستر بار بھی مغفرت طلب کریں جب بھی اللہ انہیں ہرگز نہیں بخشے گا۔ یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے اللہ اور رسول کے ساتھ کفر کیا۔ اور خدا فاسق (نافرمان) لوگوں کو منزلِ مقصود تک نہیں پہنچاتا۔
ان کے لیے بخشش مانگ، یا ان کے لیے بخشش نہ مانگ، اگر تو ان کے لیے ستر بار بخشش کی دعا کرے گا تو بھی اللہ انھیں ہرگز نہ بخشے گا۔ یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

منافق کے لئے استغفار کرنے کی ممانعت ہے ٭٭

فرماتا ہے کہ یہ منافق اس قابل نہیں کہ تو اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو ان کے لیے اللہ سے بخشش طلب کرے۔ ایک بار نہیں اگر تو ستر مرتبہ بھی بخشش ان کے لیے چاہے تو اللہ تعالیٰ انہیں نہیں بخشے گا۔ یہ جو ستر کا ذکر ہے اس سے مراد صرف زیادتی ہے وہ ستر سے کم ہو یا بہت زیادہ ہو۔ بعض نے کہا ہے کہ مراد اس سے ستر کا ہی عدد ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”میں تو ان کے لیے ستر بار سے بھی زیادہ استغفار کروں گا تاکہ اللہ انہیں بخش دے۔‏‏‏‏“ پس اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں فرما دیا کہ ان کے لیے تیرا استغفار کرنا نہ کرنے کے برابر ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17045:ضعیف] ‏‏‏‏ عبداللہ بن ابی منافق کا بیٹا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتا ہے کہ میرا باپ نزع کی حالت میں ہے میری چاہت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے چلیں اس کے جنازے کی نماز بھی پڑھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ”تیرا نام کیا ہے“؟ اس نے کہا: ”حباب“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا نام عبداللہ ہے حباب تو شیطان کا نام ہے۔‏‏‏‏“ اب آپ ان کے ساتھ ہو لئے ان کے باپ کو اپنا کرتہ اپنے پسینے والا پہنایا اس کی جنازے کی نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا بھی گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جنازے پر نماز پڑھ رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ نے ستر مرتبہ کے استغفار سے ہی نہ بخشنے کو فرمایا ہے میں تو ستر بار پھر ستر بار پھر ستر بار پھر استغفار کروں گا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:17044:ضعیف] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

80۔ 1 ستر کا عدد مبالغے اور تکثیر کے لئے ہے۔ یعنی تو کتنی ہی کثرت سے ان کے لئے استغفار کرلے اللہ تعالیٰ انہیں ہرگز معاف نہیں فرمائے گا۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ ستر مرتبہ سے زائد استغفار کرنے پر ان کو معافی مل جائے گی۔ 80۔ 2 یہ عدم مغفرت کی علت بیان کردی گئی ہے تاکہ لوگ کسی کی سفارش کی امید پر نہ رہیں بلکہ ایمان اور عمل صالح کی پونجی لے کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوں۔ اگر یہ زاد آخرت کسی کے پاس نہیں ہوگا تو ایسے کافروں اور نافرمانوں کی کوئی شفاعت ہی نہیں کرے گا، اس لئے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے لئے شفاعت کی اجازت ہی نہیں دے گا۔ 80۔ 3 اس ہدایت سے مراد وہ ہدایت ہے جو انسان کو مطلوب (ایمان) تک پہنچا دیتی ہے ورنہ ہدایت بمعنی رہنمائی یعنی راستے کی نشان دہی۔ اس کا اہتمام تو دنیا میں ہر مومن و کافر کے لیے کردیا گیا ہے (اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا) 76۔ الدہر:3) (وھدینہ النجدین) (البلد) اور ہم نے اس کو (خیروشر کے) کے دونوں راستے دکھا دیئے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت80) ➊ {اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ …:} یعنی آپ کا ان کے لیے استغفار کرنا یا نہ کرنا برابر ہے، یہاں یہ بات امر کے صیغے کے ساتھ آئی ہے، مگر مراد خبر دینا ہی ہے، جیسا کہ دوسری جگہ صاف خبر کے الفاظ میں فرمایا: «سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ لَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ» ‏‏‏‏ [ المنافقون: ۶ ] ”ان پر برابر ہے کہ تو ان کے لیے بخشش کی دعا کرے یا ان کے لیے بخشش کی دعا نہ کرے، اللہ انھیں ہر گز معاف نہیں کرے گا۔“اس آیت کی تفسیر کا کچھ حصہ آیت (۸۴) کی تفسیر میں آ رہا ہے۔ ➋ { ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ:} یعنی آپ ان کے حق میں کتنا ہی استغفار کریں اللہ تعالیٰ انھیں ہر گز نہیں بخشے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کی وجہ سے وہ بخشے جانے کے لائق ہی نہیں ہیں۔ اس آیت کی تشریح میں شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہاں سے فرق نکلتا ہے بے اعتقاد اور گناہ گار کا۔ گناہ ایسا کون سا ہے جو کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے بخشانے سے نہ بخشا جائے اور بے اعتقاد کو پیغمبر کا ستر دفعہ استغفار فائدہ نہ کرے۔ اب بے اعتقاد لوگ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت پر کس دلیل سے بھروسا کر سکتے ہیں؟ آدمی سے برائی ہو جائے یا عمل میں کوتاہی ہو اور وہ شرمندہ ہے تو وہ گناہ گار ہے اور جو بد کام کو عیب نہ جانے اور اللہ تعالیٰ کے عائد کر دہ فرض کے کرنے اور نہ کرنے کو برابر سمجھے اور کرنے والوں پر طعن کرے، وہ بے اعتقاد ہے۔ ایسے شخص کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ (موضح)
← پچھلی آیت (79) پوری سورۃ اگلی آیت (81) →