بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ التوبة — Surah Tawbah
آیت نمبر 53
کل آیات: 129
قرآن کریم التوبة آیت 53
آیت نمبر: 53 — سورۃ التوبة islamicurdubooks.com ↗
قُلۡ اَنۡفِقُوۡا طَوۡعًا اَوۡ کَرۡہًا لَّنۡ یُّتَقَبَّلَ مِنۡکُمۡ ؕ اِنَّکُمۡ کُنۡتُمۡ قَوۡمًا فٰسِقِیۡنَ ﴿۵۳﴾
ان سے کہو "تم اپنے مال خواہ راضی خوشی خرچ کرو یا بکراہت، بہر حال وہ قبول نہ کیے جائیں گے کیونکہ تم فاسق لوگ ہو"
کہہ دیجئے کہ تم خوشی یاناخوشی کسی طرح بھی خرچ کرو قبول تو ہرگز نہ کیا جائے گا، یقیناً تم فاسق لوگ ہو
تم فرماؤ کہ دل سے خرچ کرو یا ناگواری سے تم سے ہر گز قبول نہ ہوگا بیشک تم بے حکم لوگ ہو،
کہہ دیجیے! کہ تم خوشی سے (اپنا مال) خرچ کرو یا ناخوشی سے۔ بہرحال وہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ تم فاسق (نافرمان) لوگ ہو (انما یتقبل اللّٰہ من المتقین یعنی اللہ تو صرف متقیوں کا عمل قبول کرتا ہے)۔
کہہ دے خوشی سے خرچ کرو، یا نا خوشی سے، تم سے ہر گز قبول نہ کیا جائے گا۔ بے شک تم ہمیشہ سے نافرمان لوگ ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

شہادت ملی تو جنت، بچ گئے تو غازی ٭٭

مسلمانوں کے جہاد میں دو ہی انجام ہوتے ہیں اور دونوں ہر طرح اچھے ہیں۔ اگر شہادت ملی تو جنت اپنی ہے اور اگر فتح ملی تو غنیمت و اجر ہے۔ پس اے منافقو! تم جو ہماری بابت انتظار کر رہے ہو وہ انہی دو اچھائیوں میں سے ایک، ہے اور ہم جس بات کا انتظار تمہارے بارے میں کر رہے ہیں وہ دو برائیوں میں سے ایک کا ہے یعنی یا تو یہ کہ عذابِ رب براہ راست تم پر آ جائے یا ہمارے ہاتھوں سے تم پر رب کی مار پڑے کہ قتل و قید ہو جاؤ۔ اچھا اب تم اپنی جگہ اور ہم اپنی جگہ منتظر رہیں دیکھیں پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ تمہارے خرچ کرنے کا اللہ بھوکا نہیں تم خوشی سے دو تو اور ناراضگی سے دو تو وہ تو قبول فرمانے کا نہیں اس لیے کہ تم فاسق لوگ ہو۔ تمہارے خرچ کی عدم قبولیت کا باعث کفر ہے اور اعمال کی قبولیت کی شرط کفر کا نہ ہونا بلکہ ایمان کا ہونا ہے۔ ساتھ ہی کسی عمل میں تمہارا نیک قصد اور سچی ہمت نہیں نماز کو آتے ہو تو بھی ہارے دل سے گرتے پڑتے، مرتے بچھڑتے، سست اور کاہل ہو کر۔ دیکھا دیکھی مجمع میں دو چار دے بھی دیتے ہو تو مرے جی سے، دل کی تنگی سے۔ صادق و مصدوق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نہیں تھکتا لیکن تم تھک جاتے ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:43] ‏‏‏‏ اللہ پاک ہے وہ پاک چیز ہی قبول فرماتا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1410] ‏‏‏‏ متقیوں کی اعمال قبول ہوتے ہیں تم فاسق ہو تمہارے اعمال قبولیت سے گرے ہوئے ہیں۔

📖 احسن البیان

53۔ 1 انفقوا امر کا صیغہ۔ لیکن یہاں یہ تو شرط اور جزا کے معنی میں ہے۔ یعنی اگر تم خرچ کرو گے تو قبول نہیں کیا جائے گا یا یہ امر بمعنی خبر کے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دونوں باتیں برابر ہیں، خرچ کرو یا نہ کرو۔ اپنی مرضی سے اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے، تب بھی نہ مقبول ہے۔ کیونکہ قبولیت کے لئے ایمان شرط اول ہے اور وہی تمہارے اندر مفقود ہے اور ناخوشی سے خرچ کیا ہوا مال، اللہ کے ہاں ویسے ہی مردود ہے، اس لئے کہ وہاں قصد صحیح موجود نہیں ہے جو قبولیت کے لئے ضروری ہے۔ یہ آیت بھی اسی طرح ہے جس طرح یہ ہے (اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ ۭاِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِيْنَ مَرَّةً فَلَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ) 9۔ التوبہ:80) آپ ان کے لیے بخشش مانگیں یا نہ مانگیں (یعنی دونوں باتیں برابر ہیں)۔

📖 القرآن الکریم

(آیت53) ➊ {قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا …:} اوپر کی آیت میں بتایا کہ منافقین کے لیے بہرحال عذاب ہے، اب اس آیت میں فرمایا کہ اس عذاب سے کسی طور وہ نجات نہیں پا سکتے، کیونکہ آخرت میں ان کی کوئی نیکی قبول نہیں ہے۔ غزوۂ تبوک کے موقع پر بعض منافقین ایسے بھی تھے جو کہتے تھے کہ ہمیں ساتھ جانے سے معافی دی جائے، اس کے عوض ہم مالی اعانت پر تیار ہیں۔ وہ یہ بات اس لیے کہتے تھے کہ کہیں مسلمانوں میں بالکل ہی بدنام ہو کر نہ رہ جائیں، انھی کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دیا کہ جن لوگوں کے دلوں میں نفاق اور اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی بھری ہو ان کی مالی امداد کسی طور قبول نہیں، خواہ خوشی سے دیں یا مجبوراً۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:”جد بن قیس نے مال خرچ کرنے کی بابت جو کہا تھا اس کا جواب یہ ہے کہ بے اعتقاد کا مال قبول نہیں۔“ (موضح) ➋ { اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِيْنَ:} عمل کی قبولیت کے لیے تقویٰ شرط ہے جو تم میں ہے ہی نہیں، فرمایا: «اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ» [ المائدۃ: ۲۷ ] ”بے شک اللہ متقی لوگوں ہی سے قبول کرتا ہے۔“ اور دیکھیے سورۂ حج (۳۷) اور بقرہ (۲۶۵)۔
← پچھلی آیت (52) پوری سورۃ اگلی آیت (54) →