بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ التوبة — Surah Tawbah
آیت نمبر 83
کل آیات: 129
قرآن کریم التوبة آیت 83
آیت نمبر: 83 — سورۃ التوبة islamicurdubooks.com ↗
فَاِنۡ رَّجَعَکَ اللّٰہُ اِلٰی طَآئِفَۃٍ مِّنۡہُمۡ فَاسۡتَاۡذَنُوۡکَ لِلۡخُرُوۡجِ فَقُلۡ لَّنۡ تَخۡرُجُوۡا مَعِیَ اَبَدًا وَّ لَنۡ تُقَاتِلُوۡا مَعِیَ عَدُوًّا ؕ اِنَّکُمۡ رَضِیۡتُمۡ بِالۡقُعُوۡدِ اَوَّلَ مَرَّۃٍ فَاقۡعُدُوۡا مَعَ الۡخٰلِفِیۡنَ ﴿۸۳﴾
اگر اللہ ان کے درمیان تمہیں واپس لے جائے اور آئندہ ان میں سے کوئی گروہ جہاد کے لیے نکلنے کی تم سے اجازت مانگے تو صاف کہہ دینا کہ، "اب تم میرے ساتھ ہرگز نہیں چل سکتے اور نہ میری معیت میں کسی دشمن سے لڑ سکتے ہو، تم نے پہلے بیٹھ ر ہنے کو پسند کیا تھا تو اب گھر بیٹھنے والوں ہی کے ساتھ بیٹھے رہو"
پس اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ان کی کسی جماعت کی طرف لوٹا کر واپس لے آئے پھر یہ آپ سے میدان جنگ میں نکلنے کی اجازت طلب کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ تم میرے ساتھ ہرگز چل نہیں سکتے اور نہ میرے ساتھ تم دشمنوں سے لڑائی کر سکتے ہو۔ تم نے پہلی مرتبہ ہی بیٹھ رہنے کو پسند کیا تھا پس تم پیچھے ره جانے والوں میں ہی بیٹھے رہو
پھر اے محبوب! اگر اللہ تمہیں ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے جائے اور وہ تم سے جہاد کو نکلنے کی اجازت مانگے تو تم فرمانا کہ تم کبھی میرے ساتھ نہ چلو اور ہرگز میرے ساتھ کسی دشمن سے نہ لڑو، تم نے پہلی دفعہ بیٹھ رہنا پسند کیا تو بیٹھ رہو پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ
(اے نبی(ص)) اگر اللہ آپ کو واپس لائے ان کے کسی گروہ کی طرف۔ اور وہ آپ سے جہاد کے لیے نکلنے کی اجازت مانگے تو کہہ دیجیے کہ اب تم میرے ساتھ کبھی نہیں نکل سکتے۔ اور میرے ہمراہ ہو کر کبھی دشمن سے جنگ نہیں کر سکتے تم نے پہلی بار (گھر میں) بیٹھ رہنا پسند کیا۔ تو اب بھی بیٹھے رہو پیچھے رہ جانے والوں (بچوں اور عورتوں) کے ساتھ۔
پس اگر اللہ تجھے ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے آئے، پھر وہ تجھ سے (جنگ کے لیے) نکلنے کی اجازت طلب کریں تو کہہ دے تم میرے ساتھ کبھی نہیں نکلو گے اور میرے ساتھ مل کر کبھی کسی دشمن سے نہیں لڑو گے۔ بے شک تم پہلی مرتبہ بیٹھ رہنے پر خوش ہوئے، سو پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مکاروں کی سزا ٭٭

فرمان ہے کہ جب اللہ تعالیٰ تجھے سلامتی کے ساتھ اس غزوے سے واپس مدینے پہنچا دے اور ان میں سے کوئی جماعت تجھ سے کسی اور غزوے میں تیرے ساتھ چلنے کی درخواست کرے تو بطور ان کو سزا دینے کے تو صاف کہ دینا کہ نہ تو تم میرے ساتھ والوں میں میرے ساتھ چل سکتے ہو نہ تم میری ہمراہی میں دشمنوں سے جنگ کر سکتے ہو، تم جب موقعہ پر دغا دے گئے اور پہلی مرتبہ ہی بیٹھ رہے تو اب تیاری کے کیا معنی؟ پس یہ آیت مثل آیت «وَنُقَلِّبُ اَفْــــِٕدَتَهُمْ وَاَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوْا بِهٖٓ اَوَّلَ مَرَّةٍ» ۱؎ [6-الانعام:110] ‏‏‏‏ الخ کے ہے۔ بدی کا برا بدلہ بدی کے بعد ملتا ہے جیسے کہ نیکی کی جزا بھی نیکی کے بعد ملتی ہے۔ عمرہ حدیبیہ کے وقت قرآن نے فرمایا تھا۔ ۱؎ «سَيَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْــطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ» [48-الفتح:15] ‏‏‏‏ الخ یعنی یہ پیچھے رہ جانے والے لوگ تم سے جب تم غنیمتیں لینے چلو گے کہیں گے کہ ہمیں اجازت دو ہم بھی تمہارے ساتھ ہو لیں، یہاں فرمایا کہ ان سے کہ دینا کہ بیٹھ رہنے والوں میں ہی تم بھی رہو، جو عورتوں کی طرح گھروں میں گھسے رہتے ہیں۔

📖 احسن البیان

83۔ 1 منافقین کی جماعت مراد ہے۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ آپ کو صحیح سلامت تبوک سے مدینہ واپس لے آئے جہاں یہ پیچھے رہ جانے والے منافقین بھی ہیں۔ 83۔ 2 یعنی کسی اور جنگ کے لئے، ساتھ جانے کی خواہش ظاہر کریں۔ 83۔ 3 یہ آئندہ ساتھ نہ لے جانے کی علت ہے کہ تم پہلی مرتبہ ساتھ نہیں گئے۔ لہذا اب تم اس لائق نہیں کہ تمہیں کسی بھی جنگ میں ساتھ لے جایا جائے۔ 83۔ 4 یعنی اب تمہاری اوقات یہی ہے کہ تم عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے ساتھ ہی بیٹھے رہو، جو جنگ میں شرکت کرنے کے بجائے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہدایت اس لئے دی گئی ہے تاکہ ان کے اس ہم و غم اور حسرت میں اور اضافہ ہو جو انہیں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے تھا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت83) ➊ {فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآىِٕفَةٍ مِّنْهُمْ:} ”اگر اللہ تجھے ان کے کسی گروہ کی طرف واپس لے آئے۔“ {”رَجَعَ“} لازم اور متعدی دونوں طرح آتا ہے، یعنی لوٹنا اور لوٹانا، یہاں متعدی کے معنی میں ہے۔ یعنی جو جنگ تبوک کے لیے نہیں نکلے تھے بلکہ گھروں میں بیٹھے رہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو آئندہ انھیں اپنے ساتھ لے جانے اور اپنے ہمراہ لڑانے سے منع فرما دیا، اس لیے کہ ان کا اعتبار اٹھ گیا۔ جب وہ مشکل وقت میں ساتھ نہیں گئے تو آسان وقت میں بھی کیوں جائیں، جیسا کہ سورۂ فتح میں حدیبیہ کے لیے نہ جانے والے اعراب کو خیبر کی فتح میں شرکت سے منع فرما دیا۔ دیکھیے سورۂ فتح (۱۱ تا ۱۵) مگر وہاں ہمیشہ کے لیے منع نہیں فرمایا، جبکہ تبوک سے پیچھے رہنے والے منافقین کو ہمیشہ کے لیے ساتھ لے جانے سے منع فرما دیا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو فرمایا کہ ”اگر پھر لے جائے تجھے اللہ کسی فرقہ کی طرف“ وہ اس واسطے کہ یہ آیت سفر میں نازل ہوئی۔ یہ لوگ مدینہ میں منافق تھے اور فرقے اس واسطے فرمایا کہ بعض منافق پیچھے مر گئے اور سب بیٹھنے والے منافق نہ تھے، بعض مسلمان بھی تھے، ان کی تقصیر معاف ہوئی۔ (موضح) ➋ {فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِيْنَ:} یعنی پہلی مرتبہ کی طرح اب بھی ان لوگوں کے ساتھ ہی بیٹھے رہو جو بے عذر گھروں میں رہ گئے یا معذوروں کے ساتھ بیٹھے رہے، جیسے عورتیں، بچے، بوڑھے، بیمار اور اپاہج وغیرہ۔
← پچھلی آیت (82) پوری سورۃ اگلی آیت (84) →