بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ التوبة — Surah Tawbah
آیت نمبر 71
کل آیات: 129
قرآن کریم التوبة آیت 71
آیت نمبر: 71 — سورۃ التوبة islamicurdubooks.com ↗
وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتُ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ۘ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ یُطِیۡعُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ؕ اُولٰٓئِکَ سَیَرۡحَمُہُمُ اللّٰہُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۷۱﴾
مومن مرد اور مومن عورتیں، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت نازل ہو کر رہے گی، یقیناً اللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے
مومن مرد وعورت آپس میں ایک دوسرے کے (مددگار ومعاون اور) دوست ہیں، وه بھلائیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں، نمازوں کو پابندی سے بجا ﻻتے ہیں زکوٰة ادا کرتے ہیں، اللہ کی اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ بہت جلد رحم فرمائے گا بیشک اللہ غلبے واﻻ حکمت واﻻ ہے
اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰة دیں اور اللہ و رسول کا حکم مانیں، یہ ہیں جن پر عنقریب اللہ رحم کرے گا، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے،
اور مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں یہ سب باہم دگریکرنگ و ہم آہنگ ہیں وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔ اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ ضرور رحم فرمائے گا۔ یقینا اللہ زبردست ہے، بڑا حکمت والا ہے۔
اور مومن مرد اور مومن عورتیں، ان کے بعض بعض کے دوست ہیں، وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ ضرور رحم کرے گا، بے شک اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مسلمان ایک دوسرے کے دست و بازو ہیں ٭٭

منافقوں کی بدخصلتیں بیان فرما کر مسلمانوں کی نیک صفتیں بیان فرما رہا ہے کہ یہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، ایک دوسرے کا دست و بازو بنے رہتے ہیں، صحیح حدیث میں ہے کہ مومن مومن کے لیے مثل دیوار کے ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تقویت پہنچاتا اور مضبوط کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرماتے ہوئے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسری میں ڈال کردکھا بھی دیا، ۱؎ [صحیح بخاری:481] ‏‏‏‏ اور صحیح حدیث میں ہے کہ مومن اپنی دوستیوں اور سلوکوں میں مثل ایک جسم کے ہیں کہ ایک حصے کو بھی اگر تکلیف ہو تو تمام جسم بیماری اور بے داری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6011] ‏‏‏‏ یہ پاک نفس لوگوں اوروں کی تربیت سے بھی غافل نہیں رہتے، سب کو بھلائیاں سکھاتے ہیں اچھی باتیں بتلاتے ہیں برے کاموں سے بری باتوں سے امکان بھر روکتے ہیں۔ حکم الٰہی بھی یہی ہے، فرماتا ہے تم میں ایک جماعت ضرور ایسی ہونی چاہیئے جو بھلائیوں کا حکم کرے برائیوں سے منع کرے، یہ نمازی ہوتے ہیں، ساتھ ہی زکوٰۃ بھی دیتے ہیں تاکہ ایک طرف اللہ کی عبادت ہو دوسری جانب مخلوق کی دلجوئی ہو، اللہ تعالیٰ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہی ان کا دلچسپ مشغلہ ہے جو حکم ملا بجا لائے جس سے روکا رک گئے، یہی لوگ ہیں جو رحم الٰہی کے مستحق ہیں، یہی صفتیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کی طرف لپکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ عزیز ہے وہ اپنے فرماں برداروں کی خود بھی عزت کرتا ہے اور انہیں ذی عزت بنا دیتا ہے۔ دراصل عزت اللہ ہی کے لیے ہے اور اس نے اپنے رسولوں اور اپنے ایمانداروں اور غلاموں کو بھی عزت دے رکھی ہے۔ اس کی حکمت ہے کہ ان میں یہ صفتیں رکھیں اور منافقوں میں وہ خصلتیں رکھیں۔ اس کی حکمت کی تہہ کو کون پہنچ سکتا ہے؟ جو چاہے کرے، وہ برکتوں اور بلندیوں والا ہے۔

📖 احسن البیان

71۔ منافقین کی صفات مذمومہ کے مقابلے مومنین کی صفات محمودہ کا ذکر ہو رہا ہے پہلی صفت وہ ایک دوسرے کے دوست، معاون و غم خوار ہیں جس طرح حدیث میں ہے (المؤمن للمؤمن کالبنیان، یشد بعضہ بعضا) (صحیح بخاری) مومن مومن کے لیے ایک دیوار کی طرح ہے جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کی مضبوطی کا ذریعہ ہے دوسری حدیث میں فرمایا: (مثل المؤمنین فی تو ادھم وتراحمھم کمثل الجسد الواحد اذا اشتکی منہ عضو تداعی لہ سائر الجسد بالحمی والسھر) (صحیح مسلم) مومنوں کی مثال، آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے اور رحم کرنے میں ایک جسم کی طرح ہے جب جسم کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم تپ کا شکار ہوجاتا ہے اور بیدار رہتا ہے۔ 71۔ 2 یہ ایل ایمان کی دوسری خاص صفت ہے معروف وہ ہے جسے شریعت نے معروف (یعنی نیکی اور بھلائی) اور منکر وہ ہے جسے شریعت نے منکر (یعنی برا) قرار دیا ہے۔ نہ کہ وہ جسے لوگ اچھا یا برا کہیں۔ 71۔ 3 نماز، حقوق اللہ میں نمایاں ترین عبادت ہے اور زکٰو ۃ۔ حقوق العباد کے لحاظ سے، امتیازی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لئے ان دونوں کا بطور خاص تذکرہ کر کے فرما دیا گیا کہ وہ ہر معاملے میں اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت71) {وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ …:} منافق مردوں اور منافق عورتوں کی بد عادات ذکر کرنے کے بعد اب اہل ایمان مردوں اور اہل ایمان عورتوں کے خصال حمیدہ کاذکر ہے کہ وہ سب ایک دوسرے کے اولیاء، یعنی دوست، محبت رکھنے والے اور مدد کرنے والے ہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص صاحب ایمان نہیں ہو سکتا، حتیٰ کہ وہ اپنے (مسلم) بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔“ [ بخاری، الإیمان، باب من الإیمان أن یحب لأخیہ: ۱۳، عن أنس رضی اللہ عنہ ] نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومنوں کی مثال آپس کی محبت، ایک دوسرے پر رحم اور شفقت میں ایک جسم کی ہے، جس کے اگر ایک عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو بقیہ سارے اعضا بخار اور بے چینی کی صورت میں اس کا ساتھ دیتے ہیں۔“ [ مسلم، البر والصلۃ، باب تراحم المؤمنین…: ۲۵۸۶ ] اور فرمایا: ”ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے جس کی بعض اینٹیں بعض کو سہارا دیتی ہیں۔“ [ مسلم، البر والصلۃ، باب تراحم المؤمنین…: ۲۵۸۵ ] اس کے بعد مومنوں کی مزید صفات جو منافقوں کے بالکل برعکس ہیں، بیان فرمائیں اور ان پر رحم کا وعدہ فرمایا، ساتھ ہی اپنے ہر چیز پر غلبے اور کمال حکمت کا ذکر فرمایا کہ وہ ہر چیز پر غالب ہے مگر اس کا غلبہ اندھا غلبہ نہیں بلکہ کمال حکمت کے ساتھ ملا ہوا ہے۔
← پچھلی آیت (70) پوری سورۃ اگلی آیت (72) →