بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ التوبة — Surah Tawbah
آیت نمبر 67
کل آیات: 129
قرآن کریم التوبة آیت 67
آیت نمبر: 67 — سورۃ التوبة islamicurdubooks.com ↗
اَلۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الۡمُنٰفِقٰتُ بَعۡضُہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡضٍ ۘ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمُنۡکَرِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَقۡبِضُوۡنَ اَیۡدِیَہُمۡ ؕ نَسُوا اللّٰہَ فَنَسِیَہُمۡ ؕ اِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۶۷﴾
منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک دوسرے کے ہم رنگ ہیں برائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے منع کرتے ہیں اور اپنے ہاتھ خیر سے روکے رکھتے ہیں یہ اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا یقیناً یہ منافق ہی فاسق ہیں
تمام منافق مرد وعورت آپس میں ایک ہی ہیں، یہ بری باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بھلی باتوں سے روکتے ہیں اور اپنی مٹھی بند رکھتے ہیں، یہ اللہ کو بھول گئے اللہ نے انہیں بھلا دیا۔ بیشک منافق ہی فاسق وبدکردار ہیں
منافق مرد اور منافق عورتیں ایک تھیلی کے چٹے بٹے ہیں برائی کا حکم دیں اور بھلائی سے منع کریں اور اپنی مٹھی بند رکھیں وہ اللہ کو چھوڑ بیٹھے تو اللہ نے انہیں چھوڑدیا بیشک منافق وہی پکے بے حکم ہیں،
منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے کے ہم جنس ہیں برائی کا حکم دیتے ہیں اور اچھائی سے روکتے ہیں اور (راہِ حق پر خرچ کرنے سے) اپنے ہاتھ بند رکھتے ہیں (دراصل) انہوں نے خدا کو بھلا دیا ہے اور خدا نے (گویا) ان کو بھلا دیا ہے اور انہیں (نظر انداز کر دیا ہے) بے شک منافق ہی بڑے فاسق (نافرمان) ہیں۔
منافق مرد اور منافق عورتیں، ان کے بعض بعض سے ہیں، وہ برائی کا حکم دیتے ہیں اور نیکی سے منع کرتے ہیں اور اپنے ہاتھ بند رکھتے ہیں۔ وہ اللہ کو بھول گئے تو اس نے انھیں بھلا دیا۔ یقینا منافق لوگ ہی نافرمان ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ایک کے ہاتھ نیکیوں کے کھیت دوسرے کے ہاتھ برائیوں کی وبا ٭٭

منافقوں کی حصلتیں مومنوں کے بالکل برخلاف ہوتی ہیں۔ مومن بھلائیوں کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں منافق برائیوں کا حکم دیتے ہیں اور بھلائیوں سے منع کرتے ہیں، مومن سخی ہوتے ہیں، منافق بخیل ہوتے ہیں، مومن ذکر اللہ میں مشغول رہتے ہیں، منافق یاد الٰہی بھلائے رہتے ہیں۔ اسی کے بدلے اللہ بھی ان کے ساتھ وہ معاملہ کرتا ہے جیسے کسی کو کوئی بھول گیا ہو۔ قیامت کے دن یہی ان سے کہا جائے گا کہ آج ہم تمہیں ٹھیک اسی طرح بھلا دیں گے جیسے تم اس دن کی ملاقات کو بھلائے ہوئے تھے۔ منافق راہ حق سے دور ہو گئے ہیں گمراہی کے چکر دار بھول بھلیوں میں پھنس گئے ہیں، ان منافقوں اور کافروں کی ان بداعمالیوں کی سزا ان کے لیے اللہ تعالیٰ جہنم کو مقرر فرما چکا ہے وہ ابدالآباد تک رہیں گے وہاں کا عذاب انہیں بس ہو گا، انہیں رب رحیم اپنی رحمت سے دور کر چکا ہے اور ان کے لیے اس نے دائمی اور دیرپا عذاب رکھے ہیں۔

📖 احسن البیان

67۔ 1 منافقین، جو حلف اٹھا کر مسلمان باور کراتے تھے کہ ' ہم تم ہی میں سے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی، کہ ایمان والوں سے ان کا کیا تعلق؟ البتہ یہ سب منافق، چاہے مرد ہوں یا عورتیں، ایک ہی ہیں، یعنی کف و نفاق میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں۔ آگے ان کی صفات بیان کی جا رہی ہیں جو مومنین کی صفات کے بالکل الٹ اور برعکس ہیں۔ 67۔ 2 اس سے مراد بخل ہے۔ یعنی مومن کی صفت اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور منافق کی اس کے برعکس بخل، یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے گریز کرنا ہے۔ 67۔ 3 یعنی اللہ تعالیٰ بھی ان سے ایسا معاملہ کرے گا کہ گویا اس نے انہیں بھلا دیا۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا ' آج ہم تمہیں اس طرح بھلا دیں گے جس طرح تم ہماری ملاقات کے اس دن کو بھولے ہوئے تھے ' مطلب یہ کہ جس طرح انہوں نے دنیا میں اللہ کے احکامات کو چھوڑے رکھا۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل و کرم سے محروم رکھے گا گویا نسیان کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف علم بلاغت کے اصول مشاکلت کے اعتبار سے ہے ورنہ اللہ کی ذات نسیان سے پاک ہے (فتح القدیر)

📖 القرآن الکریم

(آیت67) ➊ {اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ …:} یعنی منافق مرد ہوں یا عورتیں سب ایک جیسے ہیں اور سب کی ایک جیسی عادات اور بدخصلتیں ہیں، وہ برے کام کا حکم دیں گے، اچھے کام سے روکیں گے اور بخل کی وجہ سے اپنے ہاتھ بند رکھیں گے، یعنی خرچ نہیں کریں گے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کے انھیں بھلا دینے کا ذکر ان کے اللہ تعالیٰ کو بھول جانے کے مقابلے میں فرمایا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے یہی سلوک کیا کہ ان کی پروا ہی نہیں فرمائی، بلکہ انھیں اپنے فضل و کرم سے محروم کر دیا۔ اس تاویل کی ضرورت اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود موسیٰ علیہ السلام کی زبانی نقل فرمایا: «لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَ لَا يَنْسَى» [ طٰہٰ: ۵۲ ] ”میرا رب بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔“ معلوم ہوا کہ یہاں اللہ تعالیٰ کی بھولنے کی طرف نسبت صرف لفظ کے ہم شکل ہونے تک ہے، ورنہ وہ ذات پاک بھولنے سے ہر طرح پاک ہے۔ ➋ { هُمُ الْفٰسِقُوْنَ:} یعنی فسق (نافرمانی) میں حد کمال تک پہنچ چکے ہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”بے اعتقاد کی صلاحیت کیا معتبر ہے، اسے فاسق ہی کہنا چاہیے۔“ (موضح)
← پچھلی آیت (66) پوری سورۃ اگلی آیت (68) →