بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ التوبة — Surah Tawbah
آیت نمبر 57
کل آیات: 129
قرآن کریم التوبة آیت 57
آیت نمبر: 57 — سورۃ التوبة islamicurdubooks.com ↗
لَوۡ یَجِدُوۡنَ مَلۡجَاً اَوۡ مَغٰرٰتٍ اَوۡ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوۡا اِلَیۡہِ وَ ہُمۡ یَجۡمَحُوۡنَ ﴿۵۷﴾
اگر وہ کوئی جائے پناہ پالیں یا کوئی کھوہ یا گھس بیٹھنے کی جگہ، تو بھاگ کر اُس میں جا چھپیں
اگر یہ کوئی بچاؤ کی جگہ یا کوئی غار یا کوئی بھی سر گھسانے کی جگہ پالیں تو ابھی اس طرح لگام توڑ کر الٹے بھاگ چھوٹیں
اگر پائیں کوئی پناہ یا غار یا سما جانے کی جگہ تو رسیاں تڑاتے ادھر پھر جائیں گے
اگر وہ کوئی جائے پناہ پا لیں یا کوئی غار یا گھس بیٹھنے کی کوئی جگہ تو فوراً ادھر کا رخ کریں منہ زوری کرتے ہوئے (اور رسیاں تڑاتے ہوئے)۔
اگر وہ کوئی پناہ کی جگہ پا لیں، یا کوئی غاریں، یا گھسنے کی کوئی جگہ تو اس کی طرف لوٹ جائیں، اس حال میں کہ وہ رسیاں تڑا رہے ہوں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جھوٹی قسمیں کھانے والوں کی حقیقت ٭٭

ان کی تنگ دلی ان کی غیر مستقل مزاجی , ان کی سراسیمگی اور پریشانی گھبراہٹ اور بے اطمینانی کا یہ حال ہے کہ تمہارے پاس آ کر تمہارے دل میں گھر کرنے کے لیے اور تمہارے ہاتھوں سے بچنے کے لیے بڑی لمبی چوڑی زبردست قسمیں کھاتے ہیں کہ واللہ! ہم تمہارے ہیں ہم مسلمان ہیں حالانکہ حقیقت اس کے برخلاف ہے یہ صرف خوف و ڈر ہے جو ان کے پیٹ میں درد پیدا کر رہا ہے۔ اگر آج انہیں اپنے بچاؤ کے لیے کوئی قلعہ مل جائے اگر آج یہ کوئی محفوظ غار دیکھ لیں یا کسی اچھی سرنگ کا پتہ انہیں چل جائے تو یہ تو سارے کے سارے دم بھر میں اس طرح اڑن چھو ہو جائیں تیرے پاس ان میں سے ایک بھی نظر نہ آئے کیونکہ انہیں تجھ سے کوئی محبت یا انس تو نہیں ہے یہ تو ضرورت مجبوری اور خوف کی بناء پر تمہاری چاپلوسی کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جوں جوں اسلام ترقی کر رہا ہے یہ بجھتے چلے جا رہے ہیں مومنوں کی ہر خوشی سے یہ جلتے تڑپتے ہیں ان کی ترقی انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی، موقعہ مل جائے تو آج بھاگ جائیں۔

📖 احسن البیان

57۔ 1 یعنی نہایت تیزی سے دوڑ کر وہ پناہ گاہوں میں چلے جائیں، اس لئے کہ تم سے ان کا جتنا کچھ بھی تعلق ہے، وہ محبت و خلوص پر نہیں، عناد، نفرت اور کراہت پر ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت57) {لَوْ يَجِدُوْنَ مَلْجَاً …:” مَلْجَاً”لَجَِأَ يَلْجَأُ} (ف، س)“سے اسم ظرف ہے، پناہ لینے کی جگہ۔{” مَغٰرٰتٍ”مَغَارَةٌ“} کی جمع ہے۔ {”غَوْرٌ“} گہری جگہ کو کہتے ہیں، پہاڑ یا زمین میں کوئی غار۔ {” مُدَّخَلًا”دَخَلَ“ } سے باب افتعال میں سے ظرف ہے، حروف بڑھ جانے سے معنی میں اضافہ ہو گیا، یعنی مشکل اور مشقت سے گھس جانے کی کوئی جگہ۔ مطلب یہ ہے کہ انھیں فرار کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا، ورنہ اگر انھیں بری سے بری جگہ بھی جانے کے لیے مل جائے تو رسیاں تڑاتے ہوئے اس کی طرف بھاگ جائیں، کیونکہ بری سے بری جگہیں یہی تین ہو سکتی ہیں، جن کی طرف جایا جا سکتا ہے۔ {” يَجْمَحُوْنَ”جَمَحَ الْفَرَسُ“} اصل میں گھوڑے کے منہ زور ہو کر سوار کے قابو سے نکل کر بھاگ جانے کو کہتے ہیں، یعنی انھیں مسلمانوں سے، ان کی مجالس اور ان کے معاشرے سے بڑا شدید بغض ہے مگر ان کا بس نہیں چلتا، اس لیے مسلم معاشرے میں رہنے اور اس کے فوائد حاصل کرنے کے لیے تمھارے سامنے تمھارا ہونے کی قسمیں کھاتے ہیں۔
← پچھلی آیت (56) پوری سورۃ اگلی آیت (58) →