بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
المؤمنون
سورۃ المؤمنون — 118 آیات — صفحہ 1 از 3
قرآن کریم Surah 23
قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۙ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یقیناً فلاح پائی ہے ایمان والوں نے جو:
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً ایمان والوں نے فلاح حاصل کرلی
احمد رضا خان بریلوی
بیشک مراد کو پہنچے ایمان والے
علامہ محمد حسین نجفی
یقیناً وہ اہلِ ایمان فلاح پاگئے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا کامیاب ہوگئے مومن۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دس آیتیں اور جنت کی ضمانت ٭٭

نسائی، ترمذی اور مسند احمد میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی اترتی تو ایک ایسی میٹھی میٹھی، بھینی بھینی، ہلکی ہلکی سی آواز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سنی جاتی جیسے شہد کی مکھیوں کے اڑنے کی بھنبھناہٹ کی ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ یہی حالت طاری ہوئی۔ تھوڑی دیر کے بعد جب وحی اتر چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھی کہ اے اللہ تو ہمیں زیادہ کر، کم نہ کر، ہمارا اکرام کر، اہانت نہ کر، ہمیں انعام عطا فرما، محروم نہ رکھ، ہمیں دوسروں کے مقابلے میں فضیلت دے، ہم پر دوسروں کو پسند نہ فرما، ہم سے خوش ہو جا اور ہمیں خوش کر دے۔ عربی کے الفاظ یہ ہیں۔ دعا «الہم زدنا ولا تنقصنا واکرمنا ولاتہنا واعطنا ولاتحرمنا واثرنا ولاتوثرعلینا وارض عناوارضنا» پھر فرمایا مجھ پر دس آیتیں اتری ہیں، جو ان پر جم گیا وہ جنتی ہو گیا۔ پھر آپ نے سورۃ المومنوں کی ابتدائی دس آیتیں تلاوت فرمائیں۔ [مسند احمد:34/1:ضعیف] ‏‏‏‏ امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو منکر بتاتے ہیں، کیونکہ اس کا راوی صرف یونس بن سلیم ہے جو محدثین کے نزدیک معروف نہیں۔ نسائی میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عادات واخلاق کی بابت سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا، پھر ان آیتوں کی «وَالَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ» [ 23-المؤمنون: 9 ] ‏‏‏‏۔ تک تلاوت فرمائی۔ اور فرمایا یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق تھے۔

مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے جنت عدن پیدا کی اور اس میں درخت وغیرہ اپنے ہاتھ سے لگائے تو اسے دیکھ کر فرمایا کچھ بول۔ اس نے یہی آیتیں تلاوت کیں جو قرآن میں نازل ہوئیں۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس کی ایک اینٹ سونے کی اور دوسری چاندی کی ہے۔ فرشتے اس میں جب داخل ہوئے، کہنے لگے واہ واہ یہ تو بادشاہوں کی جگہ ہے۔ اور روایت میں ہے اس کا گارہ مشک کا تھا۔ [مسند بزار،3508:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ اس میں وہ وہ چیزیں ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی دل میں سمائیں۔ [طبرانی کبیر:11439:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ جنت نے جب ان آیتوں کی تلاوت کی تو جناب باری نے فرمایا مجھے اپنی بزرگی اور جلال کی قسم تجھ میں بخیل ہرگز داخل نہیں ہوسکتا۔ [طبرانی:12723:ضعیف] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ اس کی ایک اینٹ سفید موتی کی ہے اور دوسری سرخ یاقوت کی اور تیسری سبز ذمرد کی۔ اس کا گارہ مشک کا ہے اس کی گھاس زعفران ہے۔ اس روایت کے آخر میں ہے کہ اس حدیث کو بیان فرما کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت «وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ» [ 59- الحشر: 9 ] ‏‏‏‏ پڑھی۔ [صفۃ الجنۃ لابن ابی الدنیا:20:ضعیف] ‏‏‏‏

الغرض فرمان ہے کہ مومن مراد کو پہنچ گئے، وہ سعادت پا گئے، انہوں نے نجات پالی۔ ان مومنوں کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی نمازوں میں اللہ کا خوف رکھتے ہیں خشوع اور سکون کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں۔ دل حاضر رکھتے ہیں، نگاہیں نیچی ہوتی ہیں، بازو جھکے ہوئے ہوتے ہیں۔ محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے تھے۔ لیکن اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ان کی نگاہیں نیچی ہو گئیں، سجدے کی جگہ سے اپنی نگاہ نہیں ہٹاتے تھے۔ اور یہ بھی مروی ہے کہ جائے نماز سے ادھر ادھر ان کی نظر نہیں جاتی تھی اگر کسی کو اس کے سوا عادت پڑگئی ہو تو اسے چاہے کہ اپنی نگاہیں نیچی کر لے۔ ایک مرسل حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے ایسا کیا کرتے تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:25425:مرسل] ‏‏‏‏ پس یہ خضوع و خشوع اسی شخص کو حاصل ہوسکتا ہے، جس کا دل فارغ ہو، خلوص حاصل ہو اور نماز میں پوری دلچسپی ہو اور تمام کاموں سے زیادہ اسی میں دل لگتا ہو۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے خوشبو اور عورتیں زیادہ پسند ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھ دی گئی ہے [مسند احمد:128/3:حسن] ‏‏‏‏ ایک انصاری صحابی رضی اللہ تعالیٰ نے نماز کے وقت اپنی لونڈی سے کہا کہ پانی لاؤ، نماز پڑھ کر راحت حاصل کروں تو سننے والوں کو ان کی یہ بات گراں گزری۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بلال رضی اللہ عنہا سے فرماتے تھے۔ اے بلال اٹھو اور نماز کے ساتھ ہمیں راحت پہنچاؤ۔

مومنوں کے اوصاف ٭٭

پھر اور وصف بیان ہوا کہ وہ باطل، شرک، گناہ اور ہر ایک بیہودہ اور بے فائدہ قول وعمل سے بچتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَاِذَا مَرُّوْا باللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا» [ 25- الفرقان: 72 ] ‏‏‏‏ وہ لغو بات سے بزرگانہ گزر جاتے ہیں وہ برائی اور بےسود کاموں سے اللہ کی روک کی وجہ سے رک جاتے ہیں۔ اور انکا یہ وصف ہے کہ یہ مال کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اکثر مفسرین یہی فرماتے ہیں لیکن اس میں ایک بات یہ ہے کہ یہ آیت مکی ہے اور زکوٰۃ کی فرضیت ہجرت کے دوسرے سال میں ہوتی ہے پھر مکی آیت میں اس کا بیان کیسے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اصل زکوٰۃ تو مکہ میں واجب ہو چکی تھی ہاں اس کی مقدار، مال کا نصاب وغیرہ یہ سب احکام مدینے میں مقرر ہوئے۔ دیکھئیے سورۃ الانعام بھی مکی ہے اور اس میں یہی زکوٰۃ کا حکم موجود ہے «‏‏‏‏وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ وَلَا تُسْرِفُوا» ‏‏‏‏۔یعنی کھیتی کے کٹنے والے دن اس کی زکوٰۃ ادا کر دیا کرو۔ [6-الأنعام:141] ‏‏‏‏

ہاں یہ بھی معنی ہو سکتے ہیں کہ مراد زکوٰۃ سے یہاں نفس کو شرک و کفر کے میل کچیل سے پاک کرنا ہو۔ جیسے فرمان ہے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا» [91-الشمس:9-10] ‏‏‏‏، جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا اس نے فلاح پالی۔ اور جس نے اسے خراب کر لیا وہ نامراد ہوا۔ یہی ایک قول «و قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ وَوَيْلٌ لِّلْمُشْرِكِينَ الَّذِينَ لَا يُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُم بِالْآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ» [ 41- فصلت: 7-6 ] ‏‏‏‏ میں بھی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت میں دونوں زکاتیں ایک ساتھ مراد لی جائیں۔ یعنی زکوٰۃ نفس بھی اور زکوٰۃ مال بھی۔ فی الواقع مومن کامل وہی ہے جو اپنے نفس کو بھی پاک رکھے اور اپنے مال کی بھی زکوٰۃ دے «واللہ اعلم» ۔
یقیناً ایمان والوں نے فلاح حاصل کرلی 1
یزید بن بابنوس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے عائشہ رضی اللہ عنھا سے پوچھا: [ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِيْنَ! كَيْفَ كَانَ خُلُقُ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ؟ قَالَتْ كَانَ خُلُقُ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ الْقُرْآنَ، ثُمَّ قَالَتْ تَقْرَأُ سُوْرَةَ الْمُؤْمِنِيْنَ؟ اقْرَأْ: «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» حَتّٰی بَلَغَ الْعَشْرَ، فَقَالَتْ هٰكَذَا كَانَ خُلْقُ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ] [مستدرک حاکم: 392/2، ح: ۳۴۸۱، قال الحاکم صحیح الإسناد۔ مسلم، صلاۃ المسافرین، باب جامع صلاۃ اللیل و من نام عنہ أو مرض: ۷۴۶ ] ”اے ام المومنین! ہمیں بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق کیا تھا؟“ انھوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا۔“ پھر انھوں نے فرمایا: ”سورۂ مومنون پڑھتے ہو؟ پڑھو: «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ‏‏‏‏ “ دس آیات تک تلاوت کرنے کے بعد فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق ایسے ہی تھا۔“ ذہبی نے حاکم کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے {”صحيح الأدب المفرد (۲۳۴)“} میں اسے صحیح کہا ہے۔ خلق کا معنی ایسی عادت ہے جو آدمی کی پیدائشی اور طبعی عادت بن جائے اور کسی مشقت کے بغیر خود بخود ادا ہوتی رہے۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا کا مطلب یہ ہے کہ پورا قرآن ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت بن چکا تھا اور سورۂ مومنون کے شروع کی دس آیات میں جو اوصاف بیان ہوئے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے اس طرح آراستہ تھے کہ وہ آپ کی طبیعت بن چکے تھے۔ (آیت 1) ➊ {قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ:قَدْ “} حرف {” لَمَّا “} کی نقیض ہے۔ {” لَمَّا “} کا مفہوم یہ ہے کہ متوقع کام ماضی میں ابھی تک نہیں ہوا، جیسا کہ فرمایا: «{ كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗ}» [ عبس: ۲۳ ] ”ہر گز نہیں، ابھی تک اس (انسان) نے وہ کام پورا نہیں کیا جس کا اس نے اسے حکم دیا تھا۔“ جب کہ {” قَدْ “} ماضی کو حال کے قریب کر دیتا ہے اور جملہ فعلیہ میں تاکید کا وہی فائدہ دیتا ہے جو جملہ اسمیہ میں {”إِنَّ“} اور ”لام تاکید“ دیتے ہیں۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جس کام کی توقع تھی وہ ماضی قریب میں یقینا واقع ہو چکا ہے۔ یعنی آگے ذکر کردہ صفات والے مومن یقینا فلاح پا چکے ہیں۔ مستقبل میں حاصل ہونے والی کامیابی کو یقینی ہونے کی وجہ سے {” قَدْ “} اور ماضی کے صیغہ {” اَفْلَحَ “} کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔ (بقاعی وابن عاشور) {” قَدْ “} کے ساتھ تاکید کی وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلے بہت سی آیات میں ایمان والوں کو فلاح کی امید دلائی گئی تھی، جیسا کہ پچھلی سورت کے آخر میں فرمایا: «{ وَ افْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ }» [ الحج: ۷۷ ] ”اور نیکی کرو، تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔“ تو اس توقع کے پورا کرنے کی خوش خبری {” قَدْ اَفْلَحَ “ } کے ساتھ بیان فرمائی۔ شاید نماز کی اقامت {” قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ “} میں حرف {” قَدْ “} اسی وجہ سے ہے کہ نمازی شوق سے جماعت کے انتظار میں ہوتے ہیں۔ {” قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ“} اسی انتظار کا اثبات میں جواب ہے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَا بِلَالُ! أَقِمِ الصَّلَاةَ أَرِحْنَا بِهَا ] [ أبو داوٗد، الأدب، باب في صلاۃ العتمۃ: ۴۹۸۵ ] ”بلال! نماز کھڑی کرو، ہمیں اس کے ساتھ راحت دلاؤ۔“ (ابن عاشور) ➋ { اَفْلَحَ: ”اَلْفَلَحُ“} لام کے فتحہ کے ساتھ اور {”اَلْفَلَاحُ“} کا معنی بھلائی کے کام میں کامیابی ہے اور {”اَلْفَلْحُ“} لام کے سکون کے ساتھ ”پھاڑنا۔“ دونوں باب {”مَنَعَ“} سے آتے ہیں۔ کہا جاتا ہے: {”اَلْحَدِيْدُ بِالْحَدِيْدِ يُفْلَحُ“} ”لوہا، لوہے کے ساتھ کاٹا جاتا ہے۔“ کسان کو اسی لیے {”اَلْفَلَّاحُ“} کہتے ہیں کہ وہ زمین کو پھاڑتا ہے۔ گویا فلاح وہ کامیابی ہے جو محنت و مشقت کے نتیجے میں حاصل ہو۔ کامیابی دنیا کی بھی ہے اور آخرت کی بھی۔ ➌ {” قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ “} میں یہ بتایا ہے کہ بعد میں ذکر کردہ صفات والے مومن یقینا کامیاب ہو گئے، مگر یہ نہیں بتایا کہ کس چیز میں کامیاب ہو گئے۔ یہ بات ان آیات کے آخر میں بیان فرمائی ہے، فرمایا: «{ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ (10) الَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ }» [ المؤمنون: ۱۰، ۱۱ ] ”یہی لوگ ہیں جو وارث ہیں۔ جو فردوس کے وارث ہوں گے۔“ یعنی کامیابی سے مراد آخرت کی کامیابی ہے، کیونکہ حقیقی زندگی وہی ہے، فرمایا: «{ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ }» [ العنکبوت: ۶۴ ] ”اور بے شک آخری گھر، یقینا وہی اصل زندگی ہے، اگر وہ جانتے ہوتے۔“ دنیا کی زندگی نہ حقیقی زندگی ہے اور نہ اس کی کامیابی حقیقی کامیابی، فرمایا: «{ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَ مَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ }» [ آل عمران: ۱۸۵ ] ”پھر جو شخص آگ سے دور کر دیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو یقینا وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔“ ➍ کامیاب ہونے والوں کے اوصاف میں سب سے پہلے ایمان کا ذکر فرمایا، کیونکہ ایمان ہی کامیابی کا اصل سبب ہے، پھر بعد کی آیات میں اہلِ ایمان کی چند مزید صفات بیان فرمائیں جو ایمان کے درست اور پختہ ہونے کی دلیل ہیں اور جن کے بغیر ایمان بے معنی ہے۔
الَّذِیۡنَ ہُمۡ فِیۡ صَلَاتِہِمۡ خٰشِعُوۡنَ ۙ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
جو اپنی نمازوں میں خشوع و خضوع کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہی جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دس آیتیں اور جنت کی ضمانت ٭٭

نسائی، ترمذی اور مسند احمد میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی اترتی تو ایک ایسی میٹھی میٹھی، بھینی بھینی، ہلکی ہلکی سی آواز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سنی جاتی جیسے شہد کی مکھیوں کے اڑنے کی بھنبھناہٹ کی ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ یہی حالت طاری ہوئی۔ تھوڑی دیر کے بعد جب وحی اتر چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھی کہ اے اللہ تو ہمیں زیادہ کر، کم نہ کر، ہمارا اکرام کر، اہانت نہ کر، ہمیں انعام عطا فرما، محروم نہ رکھ، ہمیں دوسروں کے مقابلے میں فضیلت دے، ہم پر دوسروں کو پسند نہ فرما، ہم سے خوش ہو جا اور ہمیں خوش کر دے۔ عربی کے الفاظ یہ ہیں۔ دعا «الہم زدنا ولا تنقصنا واکرمنا ولاتہنا واعطنا ولاتحرمنا واثرنا ولاتوثرعلینا وارض عناوارضنا» پھر فرمایا مجھ پر دس آیتیں اتری ہیں، جو ان پر جم گیا وہ جنتی ہو گیا۔ پھر آپ نے سورۃ المومنوں کی ابتدائی دس آیتیں تلاوت فرمائیں۔ [مسند احمد:34/1:ضعیف] ‏‏‏‏ امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو منکر بتاتے ہیں، کیونکہ اس کا راوی صرف یونس بن سلیم ہے جو محدثین کے نزدیک معروف نہیں۔ نسائی میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عادات واخلاق کی بابت سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا، پھر ان آیتوں کی «وَالَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ» [ 23-المؤمنون: 9 ] ‏‏‏‏۔ تک تلاوت فرمائی۔ اور فرمایا یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق تھے۔

مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے جنت عدن پیدا کی اور اس میں درخت وغیرہ اپنے ہاتھ سے لگائے تو اسے دیکھ کر فرمایا کچھ بول۔ اس نے یہی آیتیں تلاوت کیں جو قرآن میں نازل ہوئیں۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس کی ایک اینٹ سونے کی اور دوسری چاندی کی ہے۔ فرشتے اس میں جب داخل ہوئے، کہنے لگے واہ واہ یہ تو بادشاہوں کی جگہ ہے۔ اور روایت میں ہے اس کا گارہ مشک کا تھا۔ [مسند بزار،3508:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ اس میں وہ وہ چیزیں ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی دل میں سمائیں۔ [طبرانی کبیر:11439:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ جنت نے جب ان آیتوں کی تلاوت کی تو جناب باری نے فرمایا مجھے اپنی بزرگی اور جلال کی قسم تجھ میں بخیل ہرگز داخل نہیں ہوسکتا۔ [طبرانی:12723:ضعیف] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ اس کی ایک اینٹ سفید موتی کی ہے اور دوسری سرخ یاقوت کی اور تیسری سبز ذمرد کی۔ اس کا گارہ مشک کا ہے اس کی گھاس زعفران ہے۔ اس روایت کے آخر میں ہے کہ اس حدیث کو بیان فرما کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت «وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ» [ 59- الحشر: 9 ] ‏‏‏‏ پڑھی۔ [صفۃ الجنۃ لابن ابی الدنیا:20:ضعیف] ‏‏‏‏

الغرض فرمان ہے کہ مومن مراد کو پہنچ گئے، وہ سعادت پا گئے، انہوں نے نجات پالی۔ ان مومنوں کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی نمازوں میں اللہ کا خوف رکھتے ہیں خشوع اور سکون کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں۔ دل حاضر رکھتے ہیں، نگاہیں نیچی ہوتی ہیں، بازو جھکے ہوئے ہوتے ہیں۔ محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے تھے۔ لیکن اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ان کی نگاہیں نیچی ہو گئیں، سجدے کی جگہ سے اپنی نگاہ نہیں ہٹاتے تھے۔ اور یہ بھی مروی ہے کہ جائے نماز سے ادھر ادھر ان کی نظر نہیں جاتی تھی اگر کسی کو اس کے سوا عادت پڑگئی ہو تو اسے چاہے کہ اپنی نگاہیں نیچی کر لے۔ ایک مرسل حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے ایسا کیا کرتے تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:25425:مرسل] ‏‏‏‏ پس یہ خضوع و خشوع اسی شخص کو حاصل ہوسکتا ہے، جس کا دل فارغ ہو، خلوص حاصل ہو اور نماز میں پوری دلچسپی ہو اور تمام کاموں سے زیادہ اسی میں دل لگتا ہو۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے خوشبو اور عورتیں زیادہ پسند ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھ دی گئی ہے [مسند احمد:128/3:حسن] ‏‏‏‏ ایک انصاری صحابی رضی اللہ تعالیٰ نے نماز کے وقت اپنی لونڈی سے کہا کہ پانی لاؤ، نماز پڑھ کر راحت حاصل کروں تو سننے والوں کو ان کی یہ بات گراں گزری۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بلال رضی اللہ عنہا سے فرماتے تھے۔ اے بلال اٹھو اور نماز کے ساتھ ہمیں راحت پہنچاؤ۔

مومنوں کے اوصاف ٭٭

پھر اور وصف بیان ہوا کہ وہ باطل، شرک، گناہ اور ہر ایک بیہودہ اور بے فائدہ قول وعمل سے بچتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَاِذَا مَرُّوْا باللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا» [ 25- الفرقان: 72 ] ‏‏‏‏ وہ لغو بات سے بزرگانہ گزر جاتے ہیں وہ برائی اور بےسود کاموں سے اللہ کی روک کی وجہ سے رک جاتے ہیں۔ اور انکا یہ وصف ہے کہ یہ مال کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اکثر مفسرین یہی فرماتے ہیں لیکن اس میں ایک بات یہ ہے کہ یہ آیت مکی ہے اور زکوٰۃ کی فرضیت ہجرت کے دوسرے سال میں ہوتی ہے پھر مکی آیت میں اس کا بیان کیسے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اصل زکوٰۃ تو مکہ میں واجب ہو چکی تھی ہاں اس کی مقدار، مال کا نصاب وغیرہ یہ سب احکام مدینے میں مقرر ہوئے۔ دیکھئیے سورۃ الانعام بھی مکی ہے اور اس میں یہی زکوٰۃ کا حکم موجود ہے «‏‏‏‏وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ وَلَا تُسْرِفُوا» ‏‏‏‏۔یعنی کھیتی کے کٹنے والے دن اس کی زکوٰۃ ادا کر دیا کرو۔ [6-الأنعام:141] ‏‏‏‏

ہاں یہ بھی معنی ہو سکتے ہیں کہ مراد زکوٰۃ سے یہاں نفس کو شرک و کفر کے میل کچیل سے پاک کرنا ہو۔ جیسے فرمان ہے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا» [91-الشمس:9-10] ‏‏‏‏، جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا اس نے فلاح پالی۔ اور جس نے اسے خراب کر لیا وہ نامراد ہوا۔ یہی ایک قول «و قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ وَوَيْلٌ لِّلْمُشْرِكِينَ الَّذِينَ لَا يُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُم بِالْآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ» [ 41- فصلت: 7-6 ] ‏‏‏‏ میں بھی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت میں دونوں زکاتیں ایک ساتھ مراد لی جائیں۔ یعنی زکوٰۃ نفس بھی اور زکوٰۃ مال بھی۔ فی الواقع مومن کامل وہی ہے جو اپنے نفس کو بھی پاک رکھے اور اپنے مال کی بھی زکوٰۃ دے «واللہ اعلم» ۔
2-1خُشُوع سے مراد، قلب کی یکسوئی اور مصروفیت ہے۔ قلبی یکسوئی یہ ہے کہ نماز کی حالت میں بہ قصد خیالات اور وسوسوں کے ہجوم سے دل کو محفوظ رکھے اور اللہ کی عظمت و جلالت کا نقش اپنے دل پر بٹھا نے کی سعی کرے۔ اعضا و دل کی یکسوئی یہ ہے کہ ادھر ادھر نہ دیکھے، کھیل کود نہ کرے، بالوں اور کپڑوں کو سنوارنے میں نہ لگا رہے بلکہ خوف و خشیت اور عاجزی کی ایسی کیفیت طاری ہو، جیسے عام طور پر بادشاہ یا کسی بڑے شخص کے سامنے ہوتی ہے۔
(آیت 2) ➊ {الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَ:} طبری نے اپنی حسن سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے {”خٰشِعُوْنَ “} کی تفسیر {”خَائِفُوْنَ سَاكِنُوْنَ“} روایت کی ہے۔ (طبری: ۲۵۶۲۷) یعنی وہ نماز میں دل سے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہوتے ہیں اور اس خوف کا ان کے جسم پر ایسا اثر ہوتا ہے کہ وہ نماز کے منافی کسی بھی حرکت سے اجتناب کرتے ہیں، نہ ادھر ادھر نگاہ پھیرتے ہیں، نہ اپنے کپڑے یا ڈاڑھی سے کھیلتے ہیں اور نہ انگلیاں چٹخاتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں ادھر ادھر جھانکنے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ هُوَ اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ الْعَبْدِ ] [ بخاري، الأذان، باب الالتفات في الصلاۃ: ۷۵۱ ] ”یہ شیطان کا آدمی کی نماز سے اچک کر لے جانا ہے، جو شیطان بندے کی نماز سے اچک کر لے جاتا ہے۔“ ➋ اس آیت کی تفسیر میں بہت سے مفسرین نے ایک روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نمازمیں اپنی ڈاڑھی سے کھیلتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”اگر اس کا دل خشوع کرتا تو اس کے دوسرے اعضا بھی خشوع کرتے۔“ شیخ البانی نے {”سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة(۱۱۰)“} میں اس کا موضوع (خود بنائی ہوئی) ہونا دلائل سے ذکر فرمایا ہے۔ تنبیہ: نماز میں ڈاڑھی، کپڑے یا کسی بھی چیز سے کھیلنے اور بے مقصد حرکت کرنے کا خشوع، یعنی دل کے خوف اور جسم کے سکون کے منافی ہونا واضح بات ہے، مگر یہ ہرگز جائز نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے وہ الفاظ لگائے جائیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ] [ بخاري، العلم، باب إثم من کذب…: ۱۱۰۔ مسلم: ۳ ] ”جس شخص نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانا آگ میں بنا لے۔“ ➌ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ایک باب باندھا ہے: ”نماز میں ہاتھ سے مدد لینے کا باب، جب وہ کام نماز ہی سے متعلق ہو۔“ پھر اس عنوان کے تحت ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: ”آدمی نماز میں اپنے جسم سے جس طرح چاہے مدد حاصل کرے۔“ پھر لکھتے ہیں کہ ابو اسحاق نے نماز میں اپنی ٹوپی نیچے رکھی اور اسے اٹھایا اور علی رضی اللہ عنہ نے اپنی ہتھیلی اپنی بائیں کلائی کے جوڑ پر رکھے رکھی، سوائے اس کے کہ اپنی جلد کو کھجلی کریں یا اپنا کپڑا درست کریں۔“ اس کے بعد امام صاحب نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے وہ حدیث نقل کی ہے جس میں انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو کر رات کی نماز پڑھنے کا ذکر کیا ہے۔ اس میں یہ بھی ہے: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا کان پکڑ کر اسے مروڑنے لگے (یعنی مجھے کان سے پکڑ کر دائیں طرف کیا)۔“ [ بخاري، العمل في الصلاۃ، باب استعانۃ الید في الصلاۃ إذا کان من أمر الصلاۃ: ۱۱۹۸ ]
وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ مُعۡرِضُوۡنَ ﴿ۙ۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
لغویات سے دور رہتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو لغویات سے منھ موڑ لیتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو کسی بیہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو بیہودہ باتوں سے منہ موڑتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہی جو لغو کاموں سے منہ موڑنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دس آیتیں اور جنت کی ضمانت ٭٭

نسائی، ترمذی اور مسند احمد میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی اترتی تو ایک ایسی میٹھی میٹھی، بھینی بھینی، ہلکی ہلکی سی آواز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سنی جاتی جیسے شہد کی مکھیوں کے اڑنے کی بھنبھناہٹ کی ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ یہی حالت طاری ہوئی۔ تھوڑی دیر کے بعد جب وحی اتر چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھی کہ اے اللہ تو ہمیں زیادہ کر، کم نہ کر، ہمارا اکرام کر، اہانت نہ کر، ہمیں انعام عطا فرما، محروم نہ رکھ، ہمیں دوسروں کے مقابلے میں فضیلت دے، ہم پر دوسروں کو پسند نہ فرما، ہم سے خوش ہو جا اور ہمیں خوش کر دے۔ عربی کے الفاظ یہ ہیں۔ دعا «الہم زدنا ولا تنقصنا واکرمنا ولاتہنا واعطنا ولاتحرمنا واثرنا ولاتوثرعلینا وارض عناوارضنا» پھر فرمایا مجھ پر دس آیتیں اتری ہیں، جو ان پر جم گیا وہ جنتی ہو گیا۔ پھر آپ نے سورۃ المومنوں کی ابتدائی دس آیتیں تلاوت فرمائیں۔ [مسند احمد:34/1:ضعیف] ‏‏‏‏ امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو منکر بتاتے ہیں، کیونکہ اس کا راوی صرف یونس بن سلیم ہے جو محدثین کے نزدیک معروف نہیں۔ نسائی میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عادات واخلاق کی بابت سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا، پھر ان آیتوں کی «وَالَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ» [ 23-المؤمنون: 9 ] ‏‏‏‏۔ تک تلاوت فرمائی۔ اور فرمایا یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق تھے۔

مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے جنت عدن پیدا کی اور اس میں درخت وغیرہ اپنے ہاتھ سے لگائے تو اسے دیکھ کر فرمایا کچھ بول۔ اس نے یہی آیتیں تلاوت کیں جو قرآن میں نازل ہوئیں۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس کی ایک اینٹ سونے کی اور دوسری چاندی کی ہے۔ فرشتے اس میں جب داخل ہوئے، کہنے لگے واہ واہ یہ تو بادشاہوں کی جگہ ہے۔ اور روایت میں ہے اس کا گارہ مشک کا تھا۔ [مسند بزار،3508:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ اس میں وہ وہ چیزیں ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی دل میں سمائیں۔ [طبرانی کبیر:11439:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ جنت نے جب ان آیتوں کی تلاوت کی تو جناب باری نے فرمایا مجھے اپنی بزرگی اور جلال کی قسم تجھ میں بخیل ہرگز داخل نہیں ہوسکتا۔ [طبرانی:12723:ضعیف] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ اس کی ایک اینٹ سفید موتی کی ہے اور دوسری سرخ یاقوت کی اور تیسری سبز ذمرد کی۔ اس کا گارہ مشک کا ہے اس کی گھاس زعفران ہے۔ اس روایت کے آخر میں ہے کہ اس حدیث کو بیان فرما کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت «وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ» [ 59- الحشر: 9 ] ‏‏‏‏ پڑھی۔ [صفۃ الجنۃ لابن ابی الدنیا:20:ضعیف] ‏‏‏‏

الغرض فرمان ہے کہ مومن مراد کو پہنچ گئے، وہ سعادت پا گئے، انہوں نے نجات پالی۔ ان مومنوں کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی نمازوں میں اللہ کا خوف رکھتے ہیں خشوع اور سکون کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں۔ دل حاضر رکھتے ہیں، نگاہیں نیچی ہوتی ہیں، بازو جھکے ہوئے ہوتے ہیں۔ محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے تھے۔ لیکن اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ان کی نگاہیں نیچی ہو گئیں، سجدے کی جگہ سے اپنی نگاہ نہیں ہٹاتے تھے۔ اور یہ بھی مروی ہے کہ جائے نماز سے ادھر ادھر ان کی نظر نہیں جاتی تھی اگر کسی کو اس کے سوا عادت پڑگئی ہو تو اسے چاہے کہ اپنی نگاہیں نیچی کر لے۔ ایک مرسل حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے ایسا کیا کرتے تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:25425:مرسل] ‏‏‏‏ پس یہ خضوع و خشوع اسی شخص کو حاصل ہوسکتا ہے، جس کا دل فارغ ہو، خلوص حاصل ہو اور نماز میں پوری دلچسپی ہو اور تمام کاموں سے زیادہ اسی میں دل لگتا ہو۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے خوشبو اور عورتیں زیادہ پسند ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھ دی گئی ہے [مسند احمد:128/3:حسن] ‏‏‏‏ ایک انصاری صحابی رضی اللہ تعالیٰ نے نماز کے وقت اپنی لونڈی سے کہا کہ پانی لاؤ، نماز پڑھ کر راحت حاصل کروں تو سننے والوں کو ان کی یہ بات گراں گزری۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بلال رضی اللہ عنہا سے فرماتے تھے۔ اے بلال اٹھو اور نماز کے ساتھ ہمیں راحت پہنچاؤ۔

مومنوں کے اوصاف ٭٭

پھر اور وصف بیان ہوا کہ وہ باطل، شرک، گناہ اور ہر ایک بیہودہ اور بے فائدہ قول وعمل سے بچتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَاِذَا مَرُّوْا باللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا» [ 25- الفرقان: 72 ] ‏‏‏‏ وہ لغو بات سے بزرگانہ گزر جاتے ہیں وہ برائی اور بےسود کاموں سے اللہ کی روک کی وجہ سے رک جاتے ہیں۔ اور انکا یہ وصف ہے کہ یہ مال کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اکثر مفسرین یہی فرماتے ہیں لیکن اس میں ایک بات یہ ہے کہ یہ آیت مکی ہے اور زکوٰۃ کی فرضیت ہجرت کے دوسرے سال میں ہوتی ہے پھر مکی آیت میں اس کا بیان کیسے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اصل زکوٰۃ تو مکہ میں واجب ہو چکی تھی ہاں اس کی مقدار، مال کا نصاب وغیرہ یہ سب احکام مدینے میں مقرر ہوئے۔ دیکھئیے سورۃ الانعام بھی مکی ہے اور اس میں یہی زکوٰۃ کا حکم موجود ہے «‏‏‏‏وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ وَلَا تُسْرِفُوا» ‏‏‏‏۔یعنی کھیتی کے کٹنے والے دن اس کی زکوٰۃ ادا کر دیا کرو۔ [6-الأنعام:141] ‏‏‏‏

ہاں یہ بھی معنی ہو سکتے ہیں کہ مراد زکوٰۃ سے یہاں نفس کو شرک و کفر کے میل کچیل سے پاک کرنا ہو۔ جیسے فرمان ہے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا» [91-الشمس:9-10] ‏‏‏‏، جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا اس نے فلاح پالی۔ اور جس نے اسے خراب کر لیا وہ نامراد ہوا۔ یہی ایک قول «و قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ وَوَيْلٌ لِّلْمُشْرِكِينَ الَّذِينَ لَا يُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُم بِالْآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ» [ 41- فصلت: 7-6 ] ‏‏‏‏ میں بھی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت میں دونوں زکاتیں ایک ساتھ مراد لی جائیں۔ یعنی زکوٰۃ نفس بھی اور زکوٰۃ مال بھی۔ فی الواقع مومن کامل وہی ہے جو اپنے نفس کو بھی پاک رکھے اور اپنے مال کی بھی زکوٰۃ دے «واللہ اعلم» ۔
3-1لَغْو ہر وہ کام اور ہر وہ بات جس کا کوئی فائدہ نہ ہو یا اس میں دینی یا دنیاوی نقصانات ہوں، ان سے پرہیز مطلب ہے ان کی طرف خیال بھی نہ کیا جائے۔ چہ جائیکہ انھیں اختیار یا ان کا ارتکاب کیا جائے۔
(آیت 3){ وَ الَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ:”لغو“} ہر وہ بات یا کام جس کا کوئی فائدہ نہ ہو۔ اس میں شرک اور ہر گناہ، بلکہ ہر بے فائدہ اور بے مقصد قول و فعل آ جاتا ہے۔ یعنی کوئی لغو بات یا کام خود کرنا تو دور کی بات ہے، وہ کوئی لغو کام ہوتا ہوا دیکھتے یا سنتے بھی نہیں، بلکہ ان کی عادت ہی لغو سے منہ موڑے رکھنا ہے۔ {” يُعْرِضُوْنَ“} کے بجائے {” مُعْرِضُوْنَ “} (اسم فاعل) کا مطلب ہے کہ لغو سے اعراض ان کی عادت ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيْهِ ] [ ترمذي، الزھد، باب حدیث من حسن إسلام المرء …: ۲۳۱۷،عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”آدمی کے اسلام کے حسن میں سے اس کا ان چیزوں کو چھوڑ دینا ہے جو اس کے مقصد کی نہیں ہیں۔“ عباد الرحمان کی صفت بیان فرمائی: «وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا» ‏‏‏‏ [ الفرقان: ۷۲ ] ”اور جب بے ہودہ کام کے پاس سے گزرتے ہیں تو باعزت گزر جاتے ہیں۔“ جنت کی ایک خوبی یہ ہو گی: «‏‏‏‏لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِيْمًا» ‏‏‏‏ [ الواقعۃ: ۲۵ ] ”وہ اس میں نہ بے ہودہ گفتگو سنیں گے اور نہ گناہ میں ڈالنے والی بات۔“
وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوۡنَ ۙ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
زکوٰۃ کے طریقے پر عامل ہوتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو زکوٰة ادا کرنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ کہ زکوٰة دینے کا کام کرتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہی جو زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دس آیتیں اور جنت کی ضمانت ٭٭

نسائی، ترمذی اور مسند احمد میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی اترتی تو ایک ایسی میٹھی میٹھی، بھینی بھینی، ہلکی ہلکی سی آواز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سنی جاتی جیسے شہد کی مکھیوں کے اڑنے کی بھنبھناہٹ کی ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ یہی حالت طاری ہوئی۔ تھوڑی دیر کے بعد جب وحی اتر چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھی کہ اے اللہ تو ہمیں زیادہ کر، کم نہ کر، ہمارا اکرام کر، اہانت نہ کر، ہمیں انعام عطا فرما، محروم نہ رکھ، ہمیں دوسروں کے مقابلے میں فضیلت دے، ہم پر دوسروں کو پسند نہ فرما، ہم سے خوش ہو جا اور ہمیں خوش کر دے۔ عربی کے الفاظ یہ ہیں۔ دعا «الہم زدنا ولا تنقصنا واکرمنا ولاتہنا واعطنا ولاتحرمنا واثرنا ولاتوثرعلینا وارض عناوارضنا» پھر فرمایا مجھ پر دس آیتیں اتری ہیں، جو ان پر جم گیا وہ جنتی ہو گیا۔ پھر آپ نے سورۃ المومنوں کی ابتدائی دس آیتیں تلاوت فرمائیں۔ [مسند احمد:34/1:ضعیف] ‏‏‏‏ امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو منکر بتاتے ہیں، کیونکہ اس کا راوی صرف یونس بن سلیم ہے جو محدثین کے نزدیک معروف نہیں۔ نسائی میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عادات واخلاق کی بابت سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا، پھر ان آیتوں کی «وَالَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ» [ 23-المؤمنون: 9 ] ‏‏‏‏۔ تک تلاوت فرمائی۔ اور فرمایا یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق تھے۔

مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے جنت عدن پیدا کی اور اس میں درخت وغیرہ اپنے ہاتھ سے لگائے تو اسے دیکھ کر فرمایا کچھ بول۔ اس نے یہی آیتیں تلاوت کیں جو قرآن میں نازل ہوئیں۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس کی ایک اینٹ سونے کی اور دوسری چاندی کی ہے۔ فرشتے اس میں جب داخل ہوئے، کہنے لگے واہ واہ یہ تو بادشاہوں کی جگہ ہے۔ اور روایت میں ہے اس کا گارہ مشک کا تھا۔ [مسند بزار،3508:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ اس میں وہ وہ چیزیں ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی دل میں سمائیں۔ [طبرانی کبیر:11439:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ جنت نے جب ان آیتوں کی تلاوت کی تو جناب باری نے فرمایا مجھے اپنی بزرگی اور جلال کی قسم تجھ میں بخیل ہرگز داخل نہیں ہوسکتا۔ [طبرانی:12723:ضعیف] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ اس کی ایک اینٹ سفید موتی کی ہے اور دوسری سرخ یاقوت کی اور تیسری سبز ذمرد کی۔ اس کا گارہ مشک کا ہے اس کی گھاس زعفران ہے۔ اس روایت کے آخر میں ہے کہ اس حدیث کو بیان فرما کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت «وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ» [ 59- الحشر: 9 ] ‏‏‏‏ پڑھی۔ [صفۃ الجنۃ لابن ابی الدنیا:20:ضعیف] ‏‏‏‏

الغرض فرمان ہے کہ مومن مراد کو پہنچ گئے، وہ سعادت پا گئے، انہوں نے نجات پالی۔ ان مومنوں کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی نمازوں میں اللہ کا خوف رکھتے ہیں خشوع اور سکون کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں۔ دل حاضر رکھتے ہیں، نگاہیں نیچی ہوتی ہیں، بازو جھکے ہوئے ہوتے ہیں۔ محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے تھے۔ لیکن اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ان کی نگاہیں نیچی ہو گئیں، سجدے کی جگہ سے اپنی نگاہ نہیں ہٹاتے تھے۔ اور یہ بھی مروی ہے کہ جائے نماز سے ادھر ادھر ان کی نظر نہیں جاتی تھی اگر کسی کو اس کے سوا عادت پڑگئی ہو تو اسے چاہے کہ اپنی نگاہیں نیچی کر لے۔ ایک مرسل حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے ایسا کیا کرتے تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:25425:مرسل] ‏‏‏‏ پس یہ خضوع و خشوع اسی شخص کو حاصل ہوسکتا ہے، جس کا دل فارغ ہو، خلوص حاصل ہو اور نماز میں پوری دلچسپی ہو اور تمام کاموں سے زیادہ اسی میں دل لگتا ہو۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے خوشبو اور عورتیں زیادہ پسند ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھ دی گئی ہے [مسند احمد:128/3:حسن] ‏‏‏‏ ایک انصاری صحابی رضی اللہ تعالیٰ نے نماز کے وقت اپنی لونڈی سے کہا کہ پانی لاؤ، نماز پڑھ کر راحت حاصل کروں تو سننے والوں کو ان کی یہ بات گراں گزری۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بلال رضی اللہ عنہا سے فرماتے تھے۔ اے بلال اٹھو اور نماز کے ساتھ ہمیں راحت پہنچاؤ۔

مومنوں کے اوصاف ٭٭

پھر اور وصف بیان ہوا کہ وہ باطل، شرک، گناہ اور ہر ایک بیہودہ اور بے فائدہ قول وعمل سے بچتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَاِذَا مَرُّوْا باللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا» [ 25- الفرقان: 72 ] ‏‏‏‏ وہ لغو بات سے بزرگانہ گزر جاتے ہیں وہ برائی اور بےسود کاموں سے اللہ کی روک کی وجہ سے رک جاتے ہیں۔ اور انکا یہ وصف ہے کہ یہ مال کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اکثر مفسرین یہی فرماتے ہیں لیکن اس میں ایک بات یہ ہے کہ یہ آیت مکی ہے اور زکوٰۃ کی فرضیت ہجرت کے دوسرے سال میں ہوتی ہے پھر مکی آیت میں اس کا بیان کیسے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اصل زکوٰۃ تو مکہ میں واجب ہو چکی تھی ہاں اس کی مقدار، مال کا نصاب وغیرہ یہ سب احکام مدینے میں مقرر ہوئے۔ دیکھئیے سورۃ الانعام بھی مکی ہے اور اس میں یہی زکوٰۃ کا حکم موجود ہے «‏‏‏‏وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ وَلَا تُسْرِفُوا» ‏‏‏‏۔یعنی کھیتی کے کٹنے والے دن اس کی زکوٰۃ ادا کر دیا کرو۔ [6-الأنعام:141] ‏‏‏‏

ہاں یہ بھی معنی ہو سکتے ہیں کہ مراد زکوٰۃ سے یہاں نفس کو شرک و کفر کے میل کچیل سے پاک کرنا ہو۔ جیسے فرمان ہے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا» [91-الشمس:9-10] ‏‏‏‏، جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا اس نے فلاح پالی۔ اور جس نے اسے خراب کر لیا وہ نامراد ہوا۔ یہی ایک قول «و قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ وَوَيْلٌ لِّلْمُشْرِكِينَ الَّذِينَ لَا يُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُم بِالْآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ» [ 41- فصلت: 7-6 ] ‏‏‏‏ میں بھی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت میں دونوں زکاتیں ایک ساتھ مراد لی جائیں۔ یعنی زکوٰۃ نفس بھی اور زکوٰۃ مال بھی۔ فی الواقع مومن کامل وہی ہے جو اپنے نفس کو بھی پاک رکھے اور اپنے مال کی بھی زکوٰۃ دے «واللہ اعلم» ۔
4-1اس سے مراد بعض کے نزدیک زکوٰۃ مفروضہ ہے، (جس کی تفصیلات یعنی اس کا نصاب اور زکوٰۃ کی شرع مدینہ میں بتلائی گئی تاہم) اس کا حکم مکہ میں ہی دے دیا گیا تھا اور بعض کے نزدیک ایسے افعال کا اختیار کرنا ہے، جس سے نفس اور اخلاق و کردار کی پاکیزگی ہو۔
(آیت 4){ وَ الَّذِيْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَ:} زکوٰۃ کا لفظ طہارت پر بولا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى» [ الأعلٰی: ۱۴ ] ”بے شک وہ کامیاب ہو گیا جو پاک ہو گیا۔“ اور کسی چیز کے بڑھنے پر بھی، جیسا کہ کہا جاتا ہے: {” زَكَا الزَّرْعُ “} ”کھیتی بڑھ گئی۔“ زکوٰۃ ارکانِ اسلام میں سے ایک رکن کا نام بھی ہے، جو مال میں سے ایک مخصوص حصے کی ادائیگی پر بولا جاتا ہے، کیونکہ اس عمل سے نفس کو پاکیزگی حاصل ہوتی ہے اور مال میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔ اس معنی کے مطابق {” لِلزَّكٰوةِ “} کا لام اسم فاعل کی تقویت کے لیے ہو گا۔ مطلب یہ ہے کہ وہ زکوٰۃ کا عمل کرنے والے ہیں۔(بقاعی) قرآن میں عام طور پر نماز اور زکوٰۃ کا ذکر اکٹھا آیا ہے۔
وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ لِفُرُوۡجِہِمۡ حٰفِظُوۡنَ ۙ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو اپنی شرمگاہوں کی حفاﻇت کرنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہی جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دس آیتیں اور جنت کی ضمانت ٭٭

نسائی، ترمذی اور مسند احمد میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی اترتی تو ایک ایسی میٹھی میٹھی، بھینی بھینی، ہلکی ہلکی سی آواز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سنی جاتی جیسے شہد کی مکھیوں کے اڑنے کی بھنبھناہٹ کی ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ یہی حالت طاری ہوئی۔ تھوڑی دیر کے بعد جب وحی اتر چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھی کہ اے اللہ تو ہمیں زیادہ کر، کم نہ کر، ہمارا اکرام کر، اہانت نہ کر، ہمیں انعام عطا فرما، محروم نہ رکھ، ہمیں دوسروں کے مقابلے میں فضیلت دے، ہم پر دوسروں کو پسند نہ فرما، ہم سے خوش ہو جا اور ہمیں خوش کر دے۔ عربی کے الفاظ یہ ہیں۔ دعا «الہم زدنا ولا تنقصنا واکرمنا ولاتہنا واعطنا ولاتحرمنا واثرنا ولاتوثرعلینا وارض عناوارضنا» پھر فرمایا مجھ پر دس آیتیں اتری ہیں، جو ان پر جم گیا وہ جنتی ہو گیا۔ پھر آپ نے سورۃ المومنوں کی ابتدائی دس آیتیں تلاوت فرمائیں۔ [مسند احمد:34/1:ضعیف] ‏‏‏‏ امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو منکر بتاتے ہیں، کیونکہ اس کا راوی صرف یونس بن سلیم ہے جو محدثین کے نزدیک معروف نہیں۔ نسائی میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عادات واخلاق کی بابت سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا، پھر ان آیتوں کی «وَالَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ» [ 23-المؤمنون: 9 ] ‏‏‏‏۔ تک تلاوت فرمائی۔ اور فرمایا یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق تھے۔

مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے جنت عدن پیدا کی اور اس میں درخت وغیرہ اپنے ہاتھ سے لگائے تو اسے دیکھ کر فرمایا کچھ بول۔ اس نے یہی آیتیں تلاوت کیں جو قرآن میں نازل ہوئیں۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس کی ایک اینٹ سونے کی اور دوسری چاندی کی ہے۔ فرشتے اس میں جب داخل ہوئے، کہنے لگے واہ واہ یہ تو بادشاہوں کی جگہ ہے۔ اور روایت میں ہے اس کا گارہ مشک کا تھا۔ [مسند بزار،3508:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ اس میں وہ وہ چیزیں ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی دل میں سمائیں۔ [طبرانی کبیر:11439:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ جنت نے جب ان آیتوں کی تلاوت کی تو جناب باری نے فرمایا مجھے اپنی بزرگی اور جلال کی قسم تجھ میں بخیل ہرگز داخل نہیں ہوسکتا۔ [طبرانی:12723:ضعیف] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ اس کی ایک اینٹ سفید موتی کی ہے اور دوسری سرخ یاقوت کی اور تیسری سبز ذمرد کی۔ اس کا گارہ مشک کا ہے اس کی گھاس زعفران ہے۔ اس روایت کے آخر میں ہے کہ اس حدیث کو بیان فرما کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت «وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ» [ 59- الحشر: 9 ] ‏‏‏‏ پڑھی۔ [صفۃ الجنۃ لابن ابی الدنیا:20:ضعیف] ‏‏‏‏

الغرض فرمان ہے کہ مومن مراد کو پہنچ گئے، وہ سعادت پا گئے، انہوں نے نجات پالی۔ ان مومنوں کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی نمازوں میں اللہ کا خوف رکھتے ہیں خشوع اور سکون کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں۔ دل حاضر رکھتے ہیں، نگاہیں نیچی ہوتی ہیں، بازو جھکے ہوئے ہوتے ہیں۔ محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے تھے۔ لیکن اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ان کی نگاہیں نیچی ہو گئیں، سجدے کی جگہ سے اپنی نگاہ نہیں ہٹاتے تھے۔ اور یہ بھی مروی ہے کہ جائے نماز سے ادھر ادھر ان کی نظر نہیں جاتی تھی اگر کسی کو اس کے سوا عادت پڑگئی ہو تو اسے چاہے کہ اپنی نگاہیں نیچی کر لے۔ ایک مرسل حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے ایسا کیا کرتے تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:25425:مرسل] ‏‏‏‏ پس یہ خضوع و خشوع اسی شخص کو حاصل ہوسکتا ہے، جس کا دل فارغ ہو، خلوص حاصل ہو اور نماز میں پوری دلچسپی ہو اور تمام کاموں سے زیادہ اسی میں دل لگتا ہو۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے خوشبو اور عورتیں زیادہ پسند ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھ دی گئی ہے [مسند احمد:128/3:حسن] ‏‏‏‏ ایک انصاری صحابی رضی اللہ تعالیٰ نے نماز کے وقت اپنی لونڈی سے کہا کہ پانی لاؤ، نماز پڑھ کر راحت حاصل کروں تو سننے والوں کو ان کی یہ بات گراں گزری۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بلال رضی اللہ عنہا سے فرماتے تھے۔ اے بلال اٹھو اور نماز کے ساتھ ہمیں راحت پہنچاؤ۔

مومنوں کے اوصاف ٭٭

پھر اور وصف بیان ہوا کہ وہ باطل، شرک، گناہ اور ہر ایک بیہودہ اور بے فائدہ قول وعمل سے بچتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَاِذَا مَرُّوْا باللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا» [ 25- الفرقان: 72 ] ‏‏‏‏ وہ لغو بات سے بزرگانہ گزر جاتے ہیں وہ برائی اور بےسود کاموں سے اللہ کی روک کی وجہ سے رک جاتے ہیں۔ اور انکا یہ وصف ہے کہ یہ مال کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اکثر مفسرین یہی فرماتے ہیں لیکن اس میں ایک بات یہ ہے کہ یہ آیت مکی ہے اور زکوٰۃ کی فرضیت ہجرت کے دوسرے سال میں ہوتی ہے پھر مکی آیت میں اس کا بیان کیسے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اصل زکوٰۃ تو مکہ میں واجب ہو چکی تھی ہاں اس کی مقدار، مال کا نصاب وغیرہ یہ سب احکام مدینے میں مقرر ہوئے۔ دیکھئیے سورۃ الانعام بھی مکی ہے اور اس میں یہی زکوٰۃ کا حکم موجود ہے «‏‏‏‏وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ وَلَا تُسْرِفُوا» ‏‏‏‏۔یعنی کھیتی کے کٹنے والے دن اس کی زکوٰۃ ادا کر دیا کرو۔ [6-الأنعام:141] ‏‏‏‏

ہاں یہ بھی معنی ہو سکتے ہیں کہ مراد زکوٰۃ سے یہاں نفس کو شرک و کفر کے میل کچیل سے پاک کرنا ہو۔ جیسے فرمان ہے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا» [91-الشمس:9-10] ‏‏‏‏، جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا اس نے فلاح پالی۔ اور جس نے اسے خراب کر لیا وہ نامراد ہوا۔ یہی ایک قول «و قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ وَوَيْلٌ لِّلْمُشْرِكِينَ الَّذِينَ لَا يُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُم بِالْآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ» [ 41- فصلت: 7-6 ] ‏‏‏‏ میں بھی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت میں دونوں زکاتیں ایک ساتھ مراد لی جائیں۔ یعنی زکوٰۃ نفس بھی اور زکوٰۃ مال بھی۔ فی الواقع مومن کامل وہی ہے جو اپنے نفس کو بھی پاک رکھے اور اپنے مال کی بھی زکوٰۃ دے «واللہ اعلم» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 5){ وَ الَّذِيْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَ:} پاکدامنی کی صفت اگرچہ لغو سے اعراض میں شامل ہے، مگر نفس کی سب سے منہ زور قوت پر قابو رکھنے کی اہمیت کی وجہ سے اسے الگ بھی ذکر فرمایا، جیسا کہ {” الْمُؤْمِنُوْنَ “} کے لفظ میں ایمان کے تمام اعمال شامل ہیں، مگر بعد میں سات چیزوں کو ان کی اہمیت کے پیشِ نظر الگ بھی ذکر فرمایا۔
اِلَّا عَلٰۤی اَزۡوَاجِہِمۡ اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُمۡ فَاِنَّہُمۡ غَیۡرُ مَلُوۡمِیۡنَ ۚ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کی ملک یمین میں ہوں کہ ان پر (محفوظ نہ رکھنے میں) وہ قابل ملامت نہیں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بجز اپنی بیویوں اور ملکیت کی لونڈیوں کے یقیناً یہ ملامتیوں میں سے نہیں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
مگر اپنی بیبیوں یا شرعی باندیوں پر جو ان کے ہاتھ کی مِلک ہیں کہ ان پر کوئی ملامت نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
سوائے اپنی بیویوں کے اور ان کنیزوں کے جو ان کی ملکیت ہیں کہ اس صورت میں وہ قابل ملامت نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
مگر اپنی بیویوں، یا ان (عورتوں) پر جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ بنے ہیں تو بلاشبہ وہ ملامت کیے ہوئے نہیں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دس آیتیں اور جنت کی ضمانت ٭٭

نسائی، ترمذی اور مسند احمد میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی اترتی تو ایک ایسی میٹھی میٹھی، بھینی بھینی، ہلکی ہلکی سی آواز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سنی جاتی جیسے شہد کی مکھیوں کے اڑنے کی بھنبھناہٹ کی ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ یہی حالت طاری ہوئی۔ تھوڑی دیر کے بعد جب وحی اتر چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھی کہ اے اللہ تو ہمیں زیادہ کر، کم نہ کر، ہمارا اکرام کر، اہانت نہ کر، ہمیں انعام عطا فرما، محروم نہ رکھ، ہمیں دوسروں کے مقابلے میں فضیلت دے، ہم پر دوسروں کو پسند نہ فرما، ہم سے خوش ہو جا اور ہمیں خوش کر دے۔ عربی کے الفاظ یہ ہیں۔ دعا «الہم زدنا ولا تنقصنا واکرمنا ولاتہنا واعطنا ولاتحرمنا واثرنا ولاتوثرعلینا وارض عناوارضنا» پھر فرمایا مجھ پر دس آیتیں اتری ہیں، جو ان پر جم گیا وہ جنتی ہو گیا۔ پھر آپ نے سورۃ المومنوں کی ابتدائی دس آیتیں تلاوت فرمائیں۔ [مسند احمد:34/1:ضعیف] ‏‏‏‏ امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو منکر بتاتے ہیں، کیونکہ اس کا راوی صرف یونس بن سلیم ہے جو محدثین کے نزدیک معروف نہیں۔ نسائی میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عادات واخلاق کی بابت سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا، پھر ان آیتوں کی «وَالَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ» [ 23-المؤمنون: 9 ] ‏‏‏‏۔ تک تلاوت فرمائی۔ اور فرمایا یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق تھے۔

مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے جنت عدن پیدا کی اور اس میں درخت وغیرہ اپنے ہاتھ سے لگائے تو اسے دیکھ کر فرمایا کچھ بول۔ اس نے یہی آیتیں تلاوت کیں جو قرآن میں نازل ہوئیں۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس کی ایک اینٹ سونے کی اور دوسری چاندی کی ہے۔ فرشتے اس میں جب داخل ہوئے، کہنے لگے واہ واہ یہ تو بادشاہوں کی جگہ ہے۔ اور روایت میں ہے اس کا گارہ مشک کا تھا۔ [مسند بزار،3508:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ اس میں وہ وہ چیزیں ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی دل میں سمائیں۔ [طبرانی کبیر:11439:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ جنت نے جب ان آیتوں کی تلاوت کی تو جناب باری نے فرمایا مجھے اپنی بزرگی اور جلال کی قسم تجھ میں بخیل ہرگز داخل نہیں ہوسکتا۔ [طبرانی:12723:ضعیف] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ اس کی ایک اینٹ سفید موتی کی ہے اور دوسری سرخ یاقوت کی اور تیسری سبز ذمرد کی۔ اس کا گارہ مشک کا ہے اس کی گھاس زعفران ہے۔ اس روایت کے آخر میں ہے کہ اس حدیث کو بیان فرما کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت «وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ» [ 59- الحشر: 9 ] ‏‏‏‏ پڑھی۔ [صفۃ الجنۃ لابن ابی الدنیا:20:ضعیف] ‏‏‏‏

الغرض فرمان ہے کہ مومن مراد کو پہنچ گئے، وہ سعادت پا گئے، انہوں نے نجات پالی۔ ان مومنوں کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی نمازوں میں اللہ کا خوف رکھتے ہیں خشوع اور سکون کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں۔ دل حاضر رکھتے ہیں، نگاہیں نیچی ہوتی ہیں، بازو جھکے ہوئے ہوتے ہیں۔ محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے تھے۔ لیکن اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ان کی نگاہیں نیچی ہو گئیں، سجدے کی جگہ سے اپنی نگاہ نہیں ہٹاتے تھے۔ اور یہ بھی مروی ہے کہ جائے نماز سے ادھر ادھر ان کی نظر نہیں جاتی تھی اگر کسی کو اس کے سوا عادت پڑگئی ہو تو اسے چاہے کہ اپنی نگاہیں نیچی کر لے۔ ایک مرسل حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے ایسا کیا کرتے تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:25425:مرسل] ‏‏‏‏ پس یہ خضوع و خشوع اسی شخص کو حاصل ہوسکتا ہے، جس کا دل فارغ ہو، خلوص حاصل ہو اور نماز میں پوری دلچسپی ہو اور تمام کاموں سے زیادہ اسی میں دل لگتا ہو۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے خوشبو اور عورتیں زیادہ پسند ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھ دی گئی ہے [مسند احمد:128/3:حسن] ‏‏‏‏ ایک انصاری صحابی رضی اللہ تعالیٰ نے نماز کے وقت اپنی لونڈی سے کہا کہ پانی لاؤ، نماز پڑھ کر راحت حاصل کروں تو سننے والوں کو ان کی یہ بات گراں گزری۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بلال رضی اللہ عنہا سے فرماتے تھے۔ اے بلال اٹھو اور نماز کے ساتھ ہمیں راحت پہنچاؤ۔

مومنوں کے اوصاف ٭٭

پھر اور وصف بیان ہوا کہ وہ باطل، شرک، گناہ اور ہر ایک بیہودہ اور بے فائدہ قول وعمل سے بچتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَاِذَا مَرُّوْا باللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا» [ 25- الفرقان: 72 ] ‏‏‏‏ وہ لغو بات سے بزرگانہ گزر جاتے ہیں وہ برائی اور بےسود کاموں سے اللہ کی روک کی وجہ سے رک جاتے ہیں۔ اور انکا یہ وصف ہے کہ یہ مال کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اکثر مفسرین یہی فرماتے ہیں لیکن اس میں ایک بات یہ ہے کہ یہ آیت مکی ہے اور زکوٰۃ کی فرضیت ہجرت کے دوسرے سال میں ہوتی ہے پھر مکی آیت میں اس کا بیان کیسے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اصل زکوٰۃ تو مکہ میں واجب ہو چکی تھی ہاں اس کی مقدار، مال کا نصاب وغیرہ یہ سب احکام مدینے میں مقرر ہوئے۔ دیکھئیے سورۃ الانعام بھی مکی ہے اور اس میں یہی زکوٰۃ کا حکم موجود ہے «‏‏‏‏وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ وَلَا تُسْرِفُوا» ‏‏‏‏۔یعنی کھیتی کے کٹنے والے دن اس کی زکوٰۃ ادا کر دیا کرو۔ [6-الأنعام:141] ‏‏‏‏

ہاں یہ بھی معنی ہو سکتے ہیں کہ مراد زکوٰۃ سے یہاں نفس کو شرک و کفر کے میل کچیل سے پاک کرنا ہو۔ جیسے فرمان ہے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا» [91-الشمس:9-10] ‏‏‏‏، جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا اس نے فلاح پالی۔ اور جس نے اسے خراب کر لیا وہ نامراد ہوا۔ یہی ایک قول «و قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ وَوَيْلٌ لِّلْمُشْرِكِينَ الَّذِينَ لَا يُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُم بِالْآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ» [ 41- فصلت: 7-6 ] ‏‏‏‏ میں بھی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت میں دونوں زکاتیں ایک ساتھ مراد لی جائیں۔ یعنی زکوٰۃ نفس بھی اور زکوٰۃ مال بھی۔ فی الواقع مومن کامل وہی ہے جو اپنے نفس کو بھی پاک رکھے اور اپنے مال کی بھی زکوٰۃ دے «واللہ اعلم» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 6) ➊ { اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ …:} اس سے معلوم ہوا کہ اسلام جوگیوں، راہبوں اور بعض صوفیوں کی طرح جنسی خواہش کو سرے سے روک دینے کا حکم نہیں دیتا، بلکہ بیویوں اور لونڈیوں سے جماع کو جائز قرار دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نکاح کا حکم دیا ہے، فرمایا: «وَ اَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآىِٕكُمْ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ» ‏‏‏‏ [ النور: ۳۲ ] ”اور اپنے میں سے بے نکاح مردوں، عورتوں کا نکاح کر دو اور اپنے غلاموں اور اپنی لونڈیوں سے جو نیک ہیں ان کا بھی، اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ انھیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا اور اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تین صحابہ سے جن میں سے ایک نے نکاح نہ کرنے کا ارادہ کیا تھا، فرمایا: [ أَمَا وَاللّٰهِ! إِنِّيْ لَأَخْشَاكُمْ لِلّٰهِ وَ أَتْقَاكُمْ لَهُ، لٰكِنِّيْ أَصُوْمُ وَ أُفْطِرُ وَ أُصَلِّيْ وَ أَرْقُدُ وَ أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَيْسَ مِنِّيْ ] [ بخاري، النکاح، باب الترغیب في النکاح…: ۵۰۶۳ ] ”اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور تم سب سے زیادہ اس سے بچنے والا ہوں، لیکن (اس کے باوجود) میں روزہ رکھتا بھی ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، میں قیام اللیل بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں، پھر جو میری سنت سے بے رغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں۔“ ➋ {” اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ “} سے معلوم ہوا کہ شہوت پوری کرنے کے لیے مسلمان مرد کے پاس صرف دو راستے ہیں، بیوی اور لونڈی اور عورت کے لیے صرف ایک راستہ ہے اور وہ ہے خاوند یا لونڈی کا مالک۔ کیونکہ جب بیوی خاوند کے لیے حلال ہوئی تو خاوند بیوی کے لیے خود بخود حلال ہو گیا۔ عورت اپنے غلام سے حاجت پوری نہیں کر سکتی، کیونکہ {” عَلٰۤى“} کا لفظ اس سے منع کرتا ہے، جو بلندی اور اوپر ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ ➌ اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ کسی عورت سے جماع کے جواز کے لیے نکاح ضروری ہے، یا اس کا مملوکہ ہونا۔ مالک کو مملوکہ لونڈی کے لیے نکاح کی ضرورت نہیں، اگر مالک کو اس سے جماع کے لیے نکاح ضروری ہوتا تو {” عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ “} ہی کافی تھا، مملوکہ لونڈیوں کا الگ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔
فَمَنِ ابۡتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡعٰدُوۡنَ ۚ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
البتہ جو اُس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو اس کے سوا کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرجانے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو جو ان دو کے سوا کچھ اور چاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو اس (دو طرح) کے علاوہ کوئی خواہش کرے تو ایسے ہی لوگ (حد سے) تجاوز کرنے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جو اس کے سوا تلاش کرے تو وہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر اور وصف بیان فرمایا کہ وہ سوائے اپنی بیویوں اور ملکیت کی لونڈیوں کے دوسری عورتوں سے اپنے نفس کو دور رکھتے ہیں۔ یعنی حرام کاری سے بچتے ہیں۔ زنا لواطت وغیرہ سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں۔ ہاں ان کی بیویاں جو اللہ نے ان پر حلال کی ہیں اور جہاد میں ملی ہوئی لونڈیاں جو ان پر حلال ہیں۔ ان کے ساتھ ملنے میں ان پر کوئی ملامت اور حرج نہیں۔ جو شخص ان کے سوا دوسرے طریقوں سے یا کسی دوسرے سے خواہش پوری کرے وہ حد سے گزر جانے والا ہے۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے غلام کو لے لیا اور اپنی سند میں یہی آیت پیش کی۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہا کو یہ معلوم ہوا تو آپ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے اس معاملے کو پیش کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا اس نے غلط معنی مراد لیے۔ اس پر فاروق اعظم رضی اللہ عنہما نے اس غلام کا سرمنڈوا کر جلا وطن کر دیا اور اس عورت سے فرمایا اس کے بعد تو ہر مسلمان پر حرام ہے، لیکن یہ اثر منقطع ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11277:منقطع] ‏‏‏‏ اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔ امام ابن جریر نے اسے سورۃ المائدہ کی تفسیر کے شروع میں وارد کیا ہے لیکن اس کے وارد کرنے کی موزوں جگہ یہی تھی۔ اسے عام مسلمانوں پر حرام کرنے کی وجہ اس کے ارادے کے خلاف اس کے ساتھ معاملہ کرنا تھا واللہ اعلم۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ اور ان کے موافقین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے اپنے ہاتھ سے اپنا خاص پانی نکال ڈالنا حرام ہے کیونکہ یہ بھی ان دونوں حلال صورتوں کے علاوہ ہے اور مشت زنی کرنے والا شخص بھی حد سے آگے گزرجانے والا ہے۔ امام حسن بن عرفہ نے اپنے مشہور جز میں ایک حدیث وارد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے نہ دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور نہ انہیں عالموں کے ساتھ جمع کرے گا اور انہیں سب سے پہلے جہنم میں جانے والوں کے ساتھ جہنم میں داخل کرے گا یہ اور بات ہے کہ وہ توبہ کر لیں توبہ کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ مہربانی سے رجوع فرماتا ہے ایک تو ہاتھ سے نکاح کرنے والا یعنی مشت زنی کرنے والا اور اغلام بازی کرنے اور کرانے والا۔ اور نشے باز شراب کا عادی اور اپنے ماں باپ کو مارنے پیٹنے والا یہاں تک کہ وہ چیخ پکار کرنے لگیں اور اپنے پڑوسیوں کو ایذاء پہنچانے والا یہاں تک کہ وہ اس پر لعنت بھیجنے لگے اور اپنی پڑوسن سے بدکاری کرنے والا۔ [بیهقی فی شعب الایمان:5470:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن اس میں ایک راوی مجہول ہے۔ واللہ اعلم۔

اور وصف ہے کہ وہ اپنی امانتیں اور اپنے وعدے پورے کرتے ہیں امانت میں خیانت نہیں کرتے بلکہ امانت کی ادائیگی میں سبقت کرتے ہیں وعدے پورے کرتے ہیں اس کے خلاف عادتیں منافقوں کی ہوتی ہیں۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ [ ١ ] ‏‏‏‏ جب بات کرے، جھوٹ بولے [ ٢ ] ‏‏‏‏ جب وعدہ کرے خلاف کرے [ ٣ ] ‏‏‏‏ جب امانت دیا جائے خیانت کرے۔ [صحیح بخاری:7232] ‏‏‏‏ پھر اور وصف بیان فرمایا کہ وہ نمازوں کی ان اوقات پر حفاظت کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ سب سے زیادہ محبوب عمل اللہ کے نزدیک کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کو وقت پر ادا کرنا۔ پوچھا گیا پھر؟ فرمایا ماں باپ سے حسن سلوک کرنا۔ پوچھا گیا پھر؟ فرمایا اللہ کے راہ میں جہاد کرنا [صحیح بخاری:527] ‏‏‏‏ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں وقت، رکوع، سجدہ وغیرہ کی حفاظت مراد ہے۔ ان آیات پر دوبارہ نظر ڈالو۔ شروع میں بھی نماز کا بیان ہوا اور آخر میں بھی نماز کا بیان ہوا۔ جس سے ثابت ہوا کہ نماز سب سے افضل ہے۔

حدیث شریف میں ہے سیدھے سیدھے رہو اور تم ہرگز احاطہٰ نہ کر سکو گے۔ جان لو کہ تمہارے تمام اعمال میں بہترین عمل نماز ہے۔ دیکھو وضو کی حفاظت صرف مومن ہی کر سکتا ہے۔ [سنن ابن ماجہ:277،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ان سب صفات کو بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ یہی لوگ وارث ہیں جو جنت الفردوس کے دائمی وارث ہونگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اللہ سے جب مانگو جنت الفردوس مانگو، وہ سب سے اعلی اور اوسط جنت ہے۔ وہیں سے سب نہریں جاری ہوتی ہیں اسی کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے- [صحیح بخاری:2790] ‏‏‏‏

فرماتے ہیں تم میں ہر ایک کی دو دو جگہیں ہیں۔ ایک منزل جنت میں ایک جہنم میں، جب کوئی دوزخ میں گیا تو اس کی منزل کے وارث جنتی بنتے ہیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ [سنن ابن ماجہ:4341،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنتی تو اپنی جنت کی جگہ سنوار لیتا ہے اور جہنم کی جگہ ڈھا دیتا ہے۔ اور دوزخی اس کے خلاف کرتا ہے، کفار جو عبادت کے لیے پیدا کئے گئے تھے، انہوں نے عبادت ترک کر دی تو ان کے لیے جو انعامات تھے وہ ان سے چھین کر سچے مومنوں کے حوالے کر دئیے گئے۔ اسی لیے انہیں وارث کہا گیا۔

صحیح مسلم میں ہے کچھ مسلمان پہاڑوں کے برابر گناہ لے کر آئیں گے، جنہیں اللہ تعالیٰ یہود ونصاری پر ڈال دے گا اور انہیں بخش دے گا۔ [صحیح مسلم:2767] ‏‏‏‏ اور سند سے مروی ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو ایک ایک یہودی یا نصرانی دے گا کہ یہ تیرا فدیہ ہے، جہنم سے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے جب یہ حدیث سنی تو راوی حدیث ابوبردہ رضی اللہ عنہما کو قسم دی انہوں نے تین مرتبہ قسم کھا کر حدیث کو دوہرا دیا۔ اسی جیسی آیت یہ بھی ہے «تِلْكَ الْجَــــنَّةُ الَّتِيْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِيًّا» [ 19- مريم: 63 ] ‏‏‏‏، اسی جیسی آیت یہ بھی «وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِيْٓ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [ 43- الزخرف: 72 ] ‏‏‏‏، فردوس رومی زبان میں باغ کو کہتے ہیں بعض سلف کہتے کہ اس باغ کو جس میں انگور کی بیلیں ہوں «واللہ اعلم» ۔
7-1اس سے معلوم ہوا کہ متعہ کی اسلام میں قطعًا اجازت نہیں اور جنسی خواہش کی تسکین کے لئے صرف دو ہی جائز طریقے ہیں۔ بیوی سے مباشرت کر کے یا لونڈی سے ہم بستری کر کے۔ بلکہ اب صرف بیوی ہی اس کام کے لئے رہ گئی ہے کیونکہ اصطلاحی لونڈی کا وجود فی الحال ختم ہے جب کبھی حالات نے دوبارہ وجود پذیر کیا تو بیوی ہی کی طرح اس سے مباشرت جائز ہوگی۔
(آیت 7) {فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ …:} یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ کسی بھی طریقے سے شہوت پوری کرنے والے ہی حد سے بڑھنے والے ہیں۔ اس آیت سے اپنی منکوحہ عورتوں اور اپنی لونڈیوں کے سوا کسی بھی عورت سے جماع حد سے بڑھنا ٹھہرا۔ چنانچہ فرمایا: «وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَ سَآءَ سَبِيْلًا» ‏‏‏‏ [ بنی إسرائیل: ۳۲ ] ”اور زنا کے قریب نہ جاؤ، بے شک وہ ہمیشہ سے بڑی بے حیائی ہے اور برا راستہ ہے۔“ اسی طرح قوم لوط کا عمل، کسی جانور سے بدفعلی اور ہاتھ یا کسی اور طریقے سے ایسا فعل بھی حد سے تجاوز ہے۔ اگرچہ تجاوز کے درجوں میں فرق ہے، مگر مومن کو کسی طرح بھی اللہ کی حدود سے تجاوز درست نہیں۔ تنبیہ: ہاتھ سے منی نکالنا اگرچہ ایک قبیح اور مروّت کے خلاف فعل ہے اور حد سے بڑھنا ہے، مگر اس کی وعید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جتنی روایات بیان کی جاتی ہیں ان میں سے کوئی بھی ثابت نہیں، مثلاً روایت: [ نَاكِحُ الْيَدِ مَلْعُوْنٌ ] ”ہاتھ سے نکاح کرنے والا ملعون ہے۔“ اور یہ روایت کہ سات آدمی ہیں جن کی طرف قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نہ دیکھے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا اور انھیں آگ میں سب سے پہلے داخل کرے گا، ان میں سے پہلا {”نَاكِحُ الْيَدِ“} (ہاتھ سے نکاح کرنے والا) ہے اور یہ روایت کہ قیامت کے دن یہ فعل کرنے والوں کے ہاتھ حمل کی حالت میں ہوں گے، وغیرہ۔
وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ لِاَمٰنٰتِہِمۡ وَ عَہۡدِہِمۡ رٰعُوۡنَ ۙ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اپنی امانتوں اور اپنے عہد و پیمان کا پاس رکھتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو اپنی امانتوں اور وعدے کی حفاﻇت کرنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد و پیمان کا لحاظ رکھتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہی جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا لحاظ رکھنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر اور وصف بیان فرمایا کہ وہ سوائے اپنی بیویوں اور ملکیت کی لونڈیوں کے دوسری عورتوں سے اپنے نفس کو دور رکھتے ہیں۔ یعنی حرام کاری سے بچتے ہیں۔ زنا لواطت وغیرہ سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں۔ ہاں ان کی بیویاں جو اللہ نے ان پر حلال کی ہیں اور جہاد میں ملی ہوئی لونڈیاں جو ان پر حلال ہیں۔ ان کے ساتھ ملنے میں ان پر کوئی ملامت اور حرج نہیں۔ جو شخص ان کے سوا دوسرے طریقوں سے یا کسی دوسرے سے خواہش پوری کرے وہ حد سے گزر جانے والا ہے۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے غلام کو لے لیا اور اپنی سند میں یہی آیت پیش کی۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہا کو یہ معلوم ہوا تو آپ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے اس معاملے کو پیش کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا اس نے غلط معنی مراد لیے۔ اس پر فاروق اعظم رضی اللہ عنہما نے اس غلام کا سرمنڈوا کر جلا وطن کر دیا اور اس عورت سے فرمایا اس کے بعد تو ہر مسلمان پر حرام ہے، لیکن یہ اثر منقطع ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11277:منقطع] ‏‏‏‏ اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔ امام ابن جریر نے اسے سورۃ المائدہ کی تفسیر کے شروع میں وارد کیا ہے لیکن اس کے وارد کرنے کی موزوں جگہ یہی تھی۔ اسے عام مسلمانوں پر حرام کرنے کی وجہ اس کے ارادے کے خلاف اس کے ساتھ معاملہ کرنا تھا واللہ اعلم۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ اور ان کے موافقین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے اپنے ہاتھ سے اپنا خاص پانی نکال ڈالنا حرام ہے کیونکہ یہ بھی ان دونوں حلال صورتوں کے علاوہ ہے اور مشت زنی کرنے والا شخص بھی حد سے آگے گزرجانے والا ہے۔ امام حسن بن عرفہ نے اپنے مشہور جز میں ایک حدیث وارد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے نہ دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور نہ انہیں عالموں کے ساتھ جمع کرے گا اور انہیں سب سے پہلے جہنم میں جانے والوں کے ساتھ جہنم میں داخل کرے گا یہ اور بات ہے کہ وہ توبہ کر لیں توبہ کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ مہربانی سے رجوع فرماتا ہے ایک تو ہاتھ سے نکاح کرنے والا یعنی مشت زنی کرنے والا اور اغلام بازی کرنے اور کرانے والا۔ اور نشے باز شراب کا عادی اور اپنے ماں باپ کو مارنے پیٹنے والا یہاں تک کہ وہ چیخ پکار کرنے لگیں اور اپنے پڑوسیوں کو ایذاء پہنچانے والا یہاں تک کہ وہ اس پر لعنت بھیجنے لگے اور اپنی پڑوسن سے بدکاری کرنے والا۔ [بیهقی فی شعب الایمان:5470:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن اس میں ایک راوی مجہول ہے۔ واللہ اعلم۔

اور وصف ہے کہ وہ اپنی امانتیں اور اپنے وعدے پورے کرتے ہیں امانت میں خیانت نہیں کرتے بلکہ امانت کی ادائیگی میں سبقت کرتے ہیں وعدے پورے کرتے ہیں اس کے خلاف عادتیں منافقوں کی ہوتی ہیں۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ [ ١ ] ‏‏‏‏ جب بات کرے، جھوٹ بولے [ ٢ ] ‏‏‏‏ جب وعدہ کرے خلاف کرے [ ٣ ] ‏‏‏‏ جب امانت دیا جائے خیانت کرے۔ [صحیح بخاری:7232] ‏‏‏‏ پھر اور وصف بیان فرمایا کہ وہ نمازوں کی ان اوقات پر حفاظت کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ سب سے زیادہ محبوب عمل اللہ کے نزدیک کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کو وقت پر ادا کرنا۔ پوچھا گیا پھر؟ فرمایا ماں باپ سے حسن سلوک کرنا۔ پوچھا گیا پھر؟ فرمایا اللہ کے راہ میں جہاد کرنا [صحیح بخاری:527] ‏‏‏‏ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں وقت، رکوع، سجدہ وغیرہ کی حفاظت مراد ہے۔ ان آیات پر دوبارہ نظر ڈالو۔ شروع میں بھی نماز کا بیان ہوا اور آخر میں بھی نماز کا بیان ہوا۔ جس سے ثابت ہوا کہ نماز سب سے افضل ہے۔

حدیث شریف میں ہے سیدھے سیدھے رہو اور تم ہرگز احاطہٰ نہ کر سکو گے۔ جان لو کہ تمہارے تمام اعمال میں بہترین عمل نماز ہے۔ دیکھو وضو کی حفاظت صرف مومن ہی کر سکتا ہے۔ [سنن ابن ماجہ:277،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ان سب صفات کو بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ یہی لوگ وارث ہیں جو جنت الفردوس کے دائمی وارث ہونگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اللہ سے جب مانگو جنت الفردوس مانگو، وہ سب سے اعلی اور اوسط جنت ہے۔ وہیں سے سب نہریں جاری ہوتی ہیں اسی کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے- [صحیح بخاری:2790] ‏‏‏‏

فرماتے ہیں تم میں ہر ایک کی دو دو جگہیں ہیں۔ ایک منزل جنت میں ایک جہنم میں، جب کوئی دوزخ میں گیا تو اس کی منزل کے وارث جنتی بنتے ہیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ [سنن ابن ماجہ:4341،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنتی تو اپنی جنت کی جگہ سنوار لیتا ہے اور جہنم کی جگہ ڈھا دیتا ہے۔ اور دوزخی اس کے خلاف کرتا ہے، کفار جو عبادت کے لیے پیدا کئے گئے تھے، انہوں نے عبادت ترک کر دی تو ان کے لیے جو انعامات تھے وہ ان سے چھین کر سچے مومنوں کے حوالے کر دئیے گئے۔ اسی لیے انہیں وارث کہا گیا۔

صحیح مسلم میں ہے کچھ مسلمان پہاڑوں کے برابر گناہ لے کر آئیں گے، جنہیں اللہ تعالیٰ یہود ونصاری پر ڈال دے گا اور انہیں بخش دے گا۔ [صحیح مسلم:2767] ‏‏‏‏ اور سند سے مروی ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو ایک ایک یہودی یا نصرانی دے گا کہ یہ تیرا فدیہ ہے، جہنم سے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے جب یہ حدیث سنی تو راوی حدیث ابوبردہ رضی اللہ عنہما کو قسم دی انہوں نے تین مرتبہ قسم کھا کر حدیث کو دوہرا دیا۔ اسی جیسی آیت یہ بھی ہے «تِلْكَ الْجَــــنَّةُ الَّتِيْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِيًّا» [ 19- مريم: 63 ] ‏‏‏‏، اسی جیسی آیت یہ بھی «وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِيْٓ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [ 43- الزخرف: 72 ] ‏‏‏‏، فردوس رومی زبان میں باغ کو کہتے ہیں بعض سلف کہتے کہ اس باغ کو جس میں انگور کی بیلیں ہوں «واللہ اعلم» ۔
8-1اَ مَانَات سے مراد سونپی ہوئی ڈیوٹی کی ادائیگی، راز دارانہ باتوں اور مالی امانتوں کی حفاظت اور رعایت عہد میں اللہ سے کیے ہوئے میثاق اور بندوں سے کیے عہد و پیماں دونوں شامل ہیں۔
(آیت 8){وَ الَّذِيْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ:} عفت اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی امانت ہے، اس کے ذکر کے بعد عام امانتوں کی حفاظت کا ذکر فرمایا۔ عہد بھی ایک امانت ہے، اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کا الگ ذکر فرمایا۔ {” رٰعُوْنَ”رَعٰي يَرْعٰي“} (ف) سے اسم فاعل ہے۔ فعل مضارع کے بجائے اسم فاعل لانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی امانتوں اور عہدوں کی حفاظت کرتے ہیں، یہ ان کی عادت ہے۔ منافقوں کی طرح نہیں کہ جن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَ إِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَ إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ ] [ بخاري، الإیمان، باب علامات المنافق: ۳۳ ] ”منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔“
وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَلٰی صَلَوٰتِہِمۡ یُحَافِظُوۡنَ ۘ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو اپنی نمازوں کی پوری حفاظت کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہی جو اپنی نمازوں کی خوب حفاظت کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر اور وصف بیان فرمایا کہ وہ سوائے اپنی بیویوں اور ملکیت کی لونڈیوں کے دوسری عورتوں سے اپنے نفس کو دور رکھتے ہیں۔ یعنی حرام کاری سے بچتے ہیں۔ زنا لواطت وغیرہ سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں۔ ہاں ان کی بیویاں جو اللہ نے ان پر حلال کی ہیں اور جہاد میں ملی ہوئی لونڈیاں جو ان پر حلال ہیں۔ ان کے ساتھ ملنے میں ان پر کوئی ملامت اور حرج نہیں۔ جو شخص ان کے سوا دوسرے طریقوں سے یا کسی دوسرے سے خواہش پوری کرے وہ حد سے گزر جانے والا ہے۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے غلام کو لے لیا اور اپنی سند میں یہی آیت پیش کی۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہا کو یہ معلوم ہوا تو آپ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے اس معاملے کو پیش کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا اس نے غلط معنی مراد لیے۔ اس پر فاروق اعظم رضی اللہ عنہما نے اس غلام کا سرمنڈوا کر جلا وطن کر دیا اور اس عورت سے فرمایا اس کے بعد تو ہر مسلمان پر حرام ہے، لیکن یہ اثر منقطع ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11277:منقطع] ‏‏‏‏ اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔ امام ابن جریر نے اسے سورۃ المائدہ کی تفسیر کے شروع میں وارد کیا ہے لیکن اس کے وارد کرنے کی موزوں جگہ یہی تھی۔ اسے عام مسلمانوں پر حرام کرنے کی وجہ اس کے ارادے کے خلاف اس کے ساتھ معاملہ کرنا تھا واللہ اعلم۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ اور ان کے موافقین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے اپنے ہاتھ سے اپنا خاص پانی نکال ڈالنا حرام ہے کیونکہ یہ بھی ان دونوں حلال صورتوں کے علاوہ ہے اور مشت زنی کرنے والا شخص بھی حد سے آگے گزرجانے والا ہے۔ امام حسن بن عرفہ نے اپنے مشہور جز میں ایک حدیث وارد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے نہ دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور نہ انہیں عالموں کے ساتھ جمع کرے گا اور انہیں سب سے پہلے جہنم میں جانے والوں کے ساتھ جہنم میں داخل کرے گا یہ اور بات ہے کہ وہ توبہ کر لیں توبہ کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ مہربانی سے رجوع فرماتا ہے ایک تو ہاتھ سے نکاح کرنے والا یعنی مشت زنی کرنے والا اور اغلام بازی کرنے اور کرانے والا۔ اور نشے باز شراب کا عادی اور اپنے ماں باپ کو مارنے پیٹنے والا یہاں تک کہ وہ چیخ پکار کرنے لگیں اور اپنے پڑوسیوں کو ایذاء پہنچانے والا یہاں تک کہ وہ اس پر لعنت بھیجنے لگے اور اپنی پڑوسن سے بدکاری کرنے والا۔ [بیهقی فی شعب الایمان:5470:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن اس میں ایک راوی مجہول ہے۔ واللہ اعلم۔

اور وصف ہے کہ وہ اپنی امانتیں اور اپنے وعدے پورے کرتے ہیں امانت میں خیانت نہیں کرتے بلکہ امانت کی ادائیگی میں سبقت کرتے ہیں وعدے پورے کرتے ہیں اس کے خلاف عادتیں منافقوں کی ہوتی ہیں۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ [ ١ ] ‏‏‏‏ جب بات کرے، جھوٹ بولے [ ٢ ] ‏‏‏‏ جب وعدہ کرے خلاف کرے [ ٣ ] ‏‏‏‏ جب امانت دیا جائے خیانت کرے۔ [صحیح بخاری:7232] ‏‏‏‏ پھر اور وصف بیان فرمایا کہ وہ نمازوں کی ان اوقات پر حفاظت کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ سب سے زیادہ محبوب عمل اللہ کے نزدیک کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کو وقت پر ادا کرنا۔ پوچھا گیا پھر؟ فرمایا ماں باپ سے حسن سلوک کرنا۔ پوچھا گیا پھر؟ فرمایا اللہ کے راہ میں جہاد کرنا [صحیح بخاری:527] ‏‏‏‏ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں وقت، رکوع، سجدہ وغیرہ کی حفاظت مراد ہے۔ ان آیات پر دوبارہ نظر ڈالو۔ شروع میں بھی نماز کا بیان ہوا اور آخر میں بھی نماز کا بیان ہوا۔ جس سے ثابت ہوا کہ نماز سب سے افضل ہے۔

حدیث شریف میں ہے سیدھے سیدھے رہو اور تم ہرگز احاطہٰ نہ کر سکو گے۔ جان لو کہ تمہارے تمام اعمال میں بہترین عمل نماز ہے۔ دیکھو وضو کی حفاظت صرف مومن ہی کر سکتا ہے۔ [سنن ابن ماجہ:277،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ان سب صفات کو بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ یہی لوگ وارث ہیں جو جنت الفردوس کے دائمی وارث ہونگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اللہ سے جب مانگو جنت الفردوس مانگو، وہ سب سے اعلی اور اوسط جنت ہے۔ وہیں سے سب نہریں جاری ہوتی ہیں اسی کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے- [صحیح بخاری:2790] ‏‏‏‏

فرماتے ہیں تم میں ہر ایک کی دو دو جگہیں ہیں۔ ایک منزل جنت میں ایک جہنم میں، جب کوئی دوزخ میں گیا تو اس کی منزل کے وارث جنتی بنتے ہیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ [سنن ابن ماجہ:4341،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنتی تو اپنی جنت کی جگہ سنوار لیتا ہے اور جہنم کی جگہ ڈھا دیتا ہے۔ اور دوزخی اس کے خلاف کرتا ہے، کفار جو عبادت کے لیے پیدا کئے گئے تھے، انہوں نے عبادت ترک کر دی تو ان کے لیے جو انعامات تھے وہ ان سے چھین کر سچے مومنوں کے حوالے کر دئیے گئے۔ اسی لیے انہیں وارث کہا گیا۔

صحیح مسلم میں ہے کچھ مسلمان پہاڑوں کے برابر گناہ لے کر آئیں گے، جنہیں اللہ تعالیٰ یہود ونصاری پر ڈال دے گا اور انہیں بخش دے گا۔ [صحیح مسلم:2767] ‏‏‏‏ اور سند سے مروی ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو ایک ایک یہودی یا نصرانی دے گا کہ یہ تیرا فدیہ ہے، جہنم سے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے جب یہ حدیث سنی تو راوی حدیث ابوبردہ رضی اللہ عنہما کو قسم دی انہوں نے تین مرتبہ قسم کھا کر حدیث کو دوہرا دیا۔ اسی جیسی آیت یہ بھی ہے «تِلْكَ الْجَــــنَّةُ الَّتِيْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِيًّا» [ 19- مريم: 63 ] ‏‏‏‏، اسی جیسی آیت یہ بھی «وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِيْٓ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [ 43- الزخرف: 72 ] ‏‏‏‏، فردوس رومی زبان میں باغ کو کہتے ہیں بعض سلف کہتے کہ اس باغ کو جس میں انگور کی بیلیں ہوں «واللہ اعلم» ۔
9-1آخر میں پھر نمازوں کی حفاظت کو فلاح کے لئے ضروری قرار دیا، جس سے نماز کی اہمیت و فضیلت واضح ہے۔ لیکن آج مسلمان کے نزدیک دوسرے اعمال صالح کی طرح اس کی بھی کوئی اہمیت سرے سے باقی نہیں رہ گئی ہے۔ فانا للہ وان الیہ راجعون
(آیت 9) ➊ { وَ الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ:} فلاح پانے والے مومنوں کی پہلی صفت نماز میں خشوع بیان فرمائی اور دوسرے اوصاف بیان کرنے کے بعد آخر میں پھر نماز ہی سے تعلق رکھنے والی ایک صفت بیان فرمائی کہ وہ اپنی نمازوں کی خوب حفاظت کیا کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نماز کی کس قدر اہمیت ہے۔ ➋ {” يُحَافِظُوْنَ “} باب مفاعلہ سے مبالغے کے لیے ہے، کیونکہ یہاں مقابلے کا معنی مراد نہیں ہو سکتا۔ {”يَحْفَظُوْنَ“} ”حفاظت کرتے ہیں“ اور {” يُحَافِظُوْنَ “} ”خوب حفاظت کرتے ہیں۔“ محافظت سے مراد نماز ہمیشہ ادا کرنا اور ہر نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا ہے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”یا رسول اللہ! کون سا عمل اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلصَّلَاةُ عَلٰی وَقْتِهَا ] ”نماز اس کے وقت پر ادا کرنا۔“ میں نے کہا: ”پھر کون سا عمل؟“ فرمایا: ”والدین سے حسن سلوک۔“ میں نے کہا: ”پھر کون سا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد فی سبیل اللہ۔“ [ بخاري، مواقیت الصلاۃ، باب فضل الصلاۃ لوقتھا: ۵۲۷۔ مسلم: ۸۵ ] مستدرک حاکم (۱؍۱۸۸، ح: ۶۷۴) میں ہے: [ اَلصَّلَاةُ فِيْ أَوَّلِ وَقْتِهَا ] ”نماز اس کے اول وقت میں ادا کرنا۔“ حاکم نے فرمایا، یہ لفظ دو ثقہ راویوں بندار بن بشار اور حسن بن مکرم کی روایت سے ثابت ہیں، جو ان دونوں نے عثمان بن عمرو سے روایت کی ہے اور یہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے، جب کہ شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہی لوگ وہ وارث ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یہی وارث ہیں
احمد رضا خان بریلوی
یہی لوگ وارث ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
یہی لوگ وارث ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یہی لوگ ہیں جو وارث ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر اور وصف بیان فرمایا کہ وہ سوائے اپنی بیویوں اور ملکیت کی لونڈیوں کے دوسری عورتوں سے اپنے نفس کو دور رکھتے ہیں۔ یعنی حرام کاری سے بچتے ہیں۔ زنا لواطت وغیرہ سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں۔ ہاں ان کی بیویاں جو اللہ نے ان پر حلال کی ہیں اور جہاد میں ملی ہوئی لونڈیاں جو ان پر حلال ہیں۔ ان کے ساتھ ملنے میں ان پر کوئی ملامت اور حرج نہیں۔ جو شخص ان کے سوا دوسرے طریقوں سے یا کسی دوسرے سے خواہش پوری کرے وہ حد سے گزر جانے والا ہے۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے غلام کو لے لیا اور اپنی سند میں یہی آیت پیش کی۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہا کو یہ معلوم ہوا تو آپ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے اس معاملے کو پیش کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا اس نے غلط معنی مراد لیے۔ اس پر فاروق اعظم رضی اللہ عنہما نے اس غلام کا سرمنڈوا کر جلا وطن کر دیا اور اس عورت سے فرمایا اس کے بعد تو ہر مسلمان پر حرام ہے، لیکن یہ اثر منقطع ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11277:منقطع] ‏‏‏‏ اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔ امام ابن جریر نے اسے سورۃ المائدہ کی تفسیر کے شروع میں وارد کیا ہے لیکن اس کے وارد کرنے کی موزوں جگہ یہی تھی۔ اسے عام مسلمانوں پر حرام کرنے کی وجہ اس کے ارادے کے خلاف اس کے ساتھ معاملہ کرنا تھا واللہ اعلم۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ اور ان کے موافقین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے اپنے ہاتھ سے اپنا خاص پانی نکال ڈالنا حرام ہے کیونکہ یہ بھی ان دونوں حلال صورتوں کے علاوہ ہے اور مشت زنی کرنے والا شخص بھی حد سے آگے گزرجانے والا ہے۔ امام حسن بن عرفہ نے اپنے مشہور جز میں ایک حدیث وارد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے نہ دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور نہ انہیں عالموں کے ساتھ جمع کرے گا اور انہیں سب سے پہلے جہنم میں جانے والوں کے ساتھ جہنم میں داخل کرے گا یہ اور بات ہے کہ وہ توبہ کر لیں توبہ کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ مہربانی سے رجوع فرماتا ہے ایک تو ہاتھ سے نکاح کرنے والا یعنی مشت زنی کرنے والا اور اغلام بازی کرنے اور کرانے والا۔ اور نشے باز شراب کا عادی اور اپنے ماں باپ کو مارنے پیٹنے والا یہاں تک کہ وہ چیخ پکار کرنے لگیں اور اپنے پڑوسیوں کو ایذاء پہنچانے والا یہاں تک کہ وہ اس پر لعنت بھیجنے لگے اور اپنی پڑوسن سے بدکاری کرنے والا۔ [بیهقی فی شعب الایمان:5470:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن اس میں ایک راوی مجہول ہے۔ واللہ اعلم۔

اور وصف ہے کہ وہ اپنی امانتیں اور اپنے وعدے پورے کرتے ہیں امانت میں خیانت نہیں کرتے بلکہ امانت کی ادائیگی میں سبقت کرتے ہیں وعدے پورے کرتے ہیں اس کے خلاف عادتیں منافقوں کی ہوتی ہیں۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ [ ١ ] ‏‏‏‏ جب بات کرے، جھوٹ بولے [ ٢ ] ‏‏‏‏ جب وعدہ کرے خلاف کرے [ ٣ ] ‏‏‏‏ جب امانت دیا جائے خیانت کرے۔ [صحیح بخاری:7232] ‏‏‏‏ پھر اور وصف بیان فرمایا کہ وہ نمازوں کی ان اوقات پر حفاظت کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ سب سے زیادہ محبوب عمل اللہ کے نزدیک کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کو وقت پر ادا کرنا۔ پوچھا گیا پھر؟ فرمایا ماں باپ سے حسن سلوک کرنا۔ پوچھا گیا پھر؟ فرمایا اللہ کے راہ میں جہاد کرنا [صحیح بخاری:527] ‏‏‏‏ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں وقت، رکوع، سجدہ وغیرہ کی حفاظت مراد ہے۔ ان آیات پر دوبارہ نظر ڈالو۔ شروع میں بھی نماز کا بیان ہوا اور آخر میں بھی نماز کا بیان ہوا۔ جس سے ثابت ہوا کہ نماز سب سے افضل ہے۔

حدیث شریف میں ہے سیدھے سیدھے رہو اور تم ہرگز احاطہٰ نہ کر سکو گے۔ جان لو کہ تمہارے تمام اعمال میں بہترین عمل نماز ہے۔ دیکھو وضو کی حفاظت صرف مومن ہی کر سکتا ہے۔ [سنن ابن ماجہ:277،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ان سب صفات کو بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ یہی لوگ وارث ہیں جو جنت الفردوس کے دائمی وارث ہونگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اللہ سے جب مانگو جنت الفردوس مانگو، وہ سب سے اعلی اور اوسط جنت ہے۔ وہیں سے سب نہریں جاری ہوتی ہیں اسی کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے- [صحیح بخاری:2790] ‏‏‏‏

فرماتے ہیں تم میں ہر ایک کی دو دو جگہیں ہیں۔ ایک منزل جنت میں ایک جہنم میں، جب کوئی دوزخ میں گیا تو اس کی منزل کے وارث جنتی بنتے ہیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ [سنن ابن ماجہ:4341،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنتی تو اپنی جنت کی جگہ سنوار لیتا ہے اور جہنم کی جگہ ڈھا دیتا ہے۔ اور دوزخی اس کے خلاف کرتا ہے، کفار جو عبادت کے لیے پیدا کئے گئے تھے، انہوں نے عبادت ترک کر دی تو ان کے لیے جو انعامات تھے وہ ان سے چھین کر سچے مومنوں کے حوالے کر دئیے گئے۔ اسی لیے انہیں وارث کہا گیا۔

صحیح مسلم میں ہے کچھ مسلمان پہاڑوں کے برابر گناہ لے کر آئیں گے، جنہیں اللہ تعالیٰ یہود ونصاری پر ڈال دے گا اور انہیں بخش دے گا۔ [صحیح مسلم:2767] ‏‏‏‏ اور سند سے مروی ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو ایک ایک یہودی یا نصرانی دے گا کہ یہ تیرا فدیہ ہے، جہنم سے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے جب یہ حدیث سنی تو راوی حدیث ابوبردہ رضی اللہ عنہما کو قسم دی انہوں نے تین مرتبہ قسم کھا کر حدیث کو دوہرا دیا۔ اسی جیسی آیت یہ بھی ہے «تِلْكَ الْجَــــنَّةُ الَّتِيْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِيًّا» [ 19- مريم: 63 ] ‏‏‏‏، اسی جیسی آیت یہ بھی «وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِيْٓ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [ 43- الزخرف: 72 ] ‏‏‏‏، فردوس رومی زبان میں باغ کو کہتے ہیں بعض سلف کہتے کہ اس باغ کو جس میں انگور کی بیلیں ہوں «واللہ اعلم» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 11،10){ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ …:} ان سات صفات کے مالک فردوس کے وارث ہوں گے۔ انھیں وارث کہنے کی تین وجہیں ہیں، ایک یہ کہ وراثت کسی چیز کے حق دار ہونے کا سب سے مضبوط سبب ہے، یعنی یہ لوگ جنت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ دوسری وجہ یہ کہ جنت ان کے والد مکرم آدم علیہ السلام کی ملکیت تھی، جب وہ وہاں سے نکلے تو ان کی اولاد جو یہ اعمال کرے گی اپنے والد کی جائداد کی وارث ہو گی۔ تیسری وجہ حدیث میں آئی ہے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا لَهُ مَنْزِلَانِ، مَنْزِلٌ فِي الْجَنَّةِ، وَ مَنْزِلٌ فِي النَّارِ، فَإِذَا مَاتَ، فَدَخَلَ النَّارَ، وَرِثَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْزِلَهُ، فَذٰلِكَ قَوْلُهُ تَعَالٰی: «‏‏‏‏اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ» ‏‏‏‏ ] [ ابن ماجہ، الزھد، باب صفۃ الجنۃ: ۴۳۴۱۔ صححہ الألباني في سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۲۲۷۹ ] ”تم میں سے ہر ایک کے لیے دو گھر ہیں، ایک گھر جنت میں اور ایک گھر آگ میں۔ پھر اگر کوئی فوت ہو جائے اور آگ میں چلا جائے تو جنت والے اس کے گھر کے وارث بن جاتے ہیں، سو یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا: «‏‏‏‏اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ» ۔“ {” الْفِرْدَوْسَ “} لغت میں وسیع باغ کو کہتے ہیں، جس میں کئی قسم کے باغات ہوں، جن میں ہر طرح کے پھل دار درخت خصوصاً انگور اور خوشبو دار پھول کثرت سے ہوں۔ قرآن میں مذکور فردوس کی تفسیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰهَ فَاسْأَلُوْهُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّهُ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ وَ أَعْلَی الْجَنَّةِ، أُرَاهُ قَالَ: وَ فَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ وَ مِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ] [بخاري، الجہاد والسیر، باب درجات المجاہدین…: ۲۷۹۰ ] ”جب تم اللہ سے مانگو تو فردوس مانگو، کیونکہ وہ جنت کا اوسط اور جنت کا اعلیٰ (سب سے بلند) حصہ ہے۔“ راوی حدیث کہتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں پھر یوں فرمایا: ”اور اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔“ اوسط کا معنی افضل بھی ہے اور سب سے درمیان بھی۔ شاید درمیان سے مراد یہ ہو کہ وہ طول و عرض کے لحاظ سے جنت کے عین درمیان ہے اور بلندی کے لحاظ سے جنت کی سب سے بلند منزل ہے۔
الَّذِیۡنَ یَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ ؕ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو فردوس کے وارث ہوں گے جہاں وه ہمیشہ رہیں گے
احمد رضا خان بریلوی
کہ فردوس کی میراث پائیں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
جو فردوس (بریں) کے وارث ہوں گے (اور) وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
جو فردوس کے وارث ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر اور وصف بیان فرمایا کہ وہ سوائے اپنی بیویوں اور ملکیت کی لونڈیوں کے دوسری عورتوں سے اپنے نفس کو دور رکھتے ہیں۔ یعنی حرام کاری سے بچتے ہیں۔ زنا لواطت وغیرہ سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں۔ ہاں ان کی بیویاں جو اللہ نے ان پر حلال کی ہیں اور جہاد میں ملی ہوئی لونڈیاں جو ان پر حلال ہیں۔ ان کے ساتھ ملنے میں ان پر کوئی ملامت اور حرج نہیں۔ جو شخص ان کے سوا دوسرے طریقوں سے یا کسی دوسرے سے خواہش پوری کرے وہ حد سے گزر جانے والا ہے۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے غلام کو لے لیا اور اپنی سند میں یہی آیت پیش کی۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہا کو یہ معلوم ہوا تو آپ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے اس معاملے کو پیش کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا اس نے غلط معنی مراد لیے۔ اس پر فاروق اعظم رضی اللہ عنہما نے اس غلام کا سرمنڈوا کر جلا وطن کر دیا اور اس عورت سے فرمایا اس کے بعد تو ہر مسلمان پر حرام ہے، لیکن یہ اثر منقطع ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11277:منقطع] ‏‏‏‏ اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔ امام ابن جریر نے اسے سورۃ المائدہ کی تفسیر کے شروع میں وارد کیا ہے لیکن اس کے وارد کرنے کی موزوں جگہ یہی تھی۔ اسے عام مسلمانوں پر حرام کرنے کی وجہ اس کے ارادے کے خلاف اس کے ساتھ معاملہ کرنا تھا واللہ اعلم۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ اور ان کے موافقین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے اپنے ہاتھ سے اپنا خاص پانی نکال ڈالنا حرام ہے کیونکہ یہ بھی ان دونوں حلال صورتوں کے علاوہ ہے اور مشت زنی کرنے والا شخص بھی حد سے آگے گزرجانے والا ہے۔ امام حسن بن عرفہ نے اپنے مشہور جز میں ایک حدیث وارد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے نہ دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور نہ انہیں عالموں کے ساتھ جمع کرے گا اور انہیں سب سے پہلے جہنم میں جانے والوں کے ساتھ جہنم میں داخل کرے گا یہ اور بات ہے کہ وہ توبہ کر لیں توبہ کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ مہربانی سے رجوع فرماتا ہے ایک تو ہاتھ سے نکاح کرنے والا یعنی مشت زنی کرنے والا اور اغلام بازی کرنے اور کرانے والا۔ اور نشے باز شراب کا عادی اور اپنے ماں باپ کو مارنے پیٹنے والا یہاں تک کہ وہ چیخ پکار کرنے لگیں اور اپنے پڑوسیوں کو ایذاء پہنچانے والا یہاں تک کہ وہ اس پر لعنت بھیجنے لگے اور اپنی پڑوسن سے بدکاری کرنے والا۔ [بیهقی فی شعب الایمان:5470:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن اس میں ایک راوی مجہول ہے۔ واللہ اعلم۔

اور وصف ہے کہ وہ اپنی امانتیں اور اپنے وعدے پورے کرتے ہیں امانت میں خیانت نہیں کرتے بلکہ امانت کی ادائیگی میں سبقت کرتے ہیں وعدے پورے کرتے ہیں اس کے خلاف عادتیں منافقوں کی ہوتی ہیں۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ [ ١ ] ‏‏‏‏ جب بات کرے، جھوٹ بولے [ ٢ ] ‏‏‏‏ جب وعدہ کرے خلاف کرے [ ٣ ] ‏‏‏‏ جب امانت دیا جائے خیانت کرے۔ [صحیح بخاری:7232] ‏‏‏‏ پھر اور وصف بیان فرمایا کہ وہ نمازوں کی ان اوقات پر حفاظت کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ سب سے زیادہ محبوب عمل اللہ کے نزدیک کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کو وقت پر ادا کرنا۔ پوچھا گیا پھر؟ فرمایا ماں باپ سے حسن سلوک کرنا۔ پوچھا گیا پھر؟ فرمایا اللہ کے راہ میں جہاد کرنا [صحیح بخاری:527] ‏‏‏‏ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں وقت، رکوع، سجدہ وغیرہ کی حفاظت مراد ہے۔ ان آیات پر دوبارہ نظر ڈالو۔ شروع میں بھی نماز کا بیان ہوا اور آخر میں بھی نماز کا بیان ہوا۔ جس سے ثابت ہوا کہ نماز سب سے افضل ہے۔

حدیث شریف میں ہے سیدھے سیدھے رہو اور تم ہرگز احاطہٰ نہ کر سکو گے۔ جان لو کہ تمہارے تمام اعمال میں بہترین عمل نماز ہے۔ دیکھو وضو کی حفاظت صرف مومن ہی کر سکتا ہے۔ [سنن ابن ماجہ:277،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ان سب صفات کو بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ یہی لوگ وارث ہیں جو جنت الفردوس کے دائمی وارث ہونگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اللہ سے جب مانگو جنت الفردوس مانگو، وہ سب سے اعلی اور اوسط جنت ہے۔ وہیں سے سب نہریں جاری ہوتی ہیں اسی کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے- [صحیح بخاری:2790] ‏‏‏‏

فرماتے ہیں تم میں ہر ایک کی دو دو جگہیں ہیں۔ ایک منزل جنت میں ایک جہنم میں، جب کوئی دوزخ میں گیا تو اس کی منزل کے وارث جنتی بنتے ہیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ [سنن ابن ماجہ:4341،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنتی تو اپنی جنت کی جگہ سنوار لیتا ہے اور جہنم کی جگہ ڈھا دیتا ہے۔ اور دوزخی اس کے خلاف کرتا ہے، کفار جو عبادت کے لیے پیدا کئے گئے تھے، انہوں نے عبادت ترک کر دی تو ان کے لیے جو انعامات تھے وہ ان سے چھین کر سچے مومنوں کے حوالے کر دئیے گئے۔ اسی لیے انہیں وارث کہا گیا۔

صحیح مسلم میں ہے کچھ مسلمان پہاڑوں کے برابر گناہ لے کر آئیں گے، جنہیں اللہ تعالیٰ یہود ونصاری پر ڈال دے گا اور انہیں بخش دے گا۔ [صحیح مسلم:2767] ‏‏‏‏ اور سند سے مروی ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو ایک ایک یہودی یا نصرانی دے گا کہ یہ تیرا فدیہ ہے، جہنم سے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے جب یہ حدیث سنی تو راوی حدیث ابوبردہ رضی اللہ عنہما کو قسم دی انہوں نے تین مرتبہ قسم کھا کر حدیث کو دوہرا دیا۔ اسی جیسی آیت یہ بھی ہے «تِلْكَ الْجَــــنَّةُ الَّتِيْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِيًّا» [ 19- مريم: 63 ] ‏‏‏‏، اسی جیسی آیت یہ بھی «وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِيْٓ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [ 43- الزخرف: 72 ] ‏‏‏‏، فردوس رومی زبان میں باغ کو کہتے ہیں بعض سلف کہتے کہ اس باغ کو جس میں انگور کی بیلیں ہوں «واللہ اعلم» ۔
11-1ان صفات مذکورہ کے حامل مومن ہی فلاح یاب ہونگے جو جنت کے وارث یعنی حق دار ہوں گے۔ جنت بھی جنت الفردوس، جو جنت کا اعلٰی حصہ ہے۔ جہاں سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں (صحیح بخاری، کتاب الجہاد، باب درجات المجاہدین، فی سبیل اللہ، و کتاب التوحید، باب وکان عرشہ علی ماء)
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ طِیۡنٍ ﴿ۚ۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے بنایا
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے آدمی کو چنی ہوئی (انتخاب کی) مٹی سے بنایا،
علامہ محمد حسین نجفی
یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے انسان کو حقیر مٹی کے ایک خلاصے سے پیدا کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کی پیدائش مرحلہ وار ٭٭

اللہ تعالیٰ انسانی پیدائش کی ابتداء بیان کرتا ہے کہ اصل آدم مٹی سے ہیں، جو کیچڑ کی اور بجنے والی مٹی کی صورت میں تھی پھر آدم علیہ السلام کے پانی سے ان کی اولاد پیدا ہوئی۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنتُم بَشَرٌ تَنتَشِرُونَ» [ 30-الروم: 20 ] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ نے تمہیں مٹی سے پیدا کر کے پھر انسان بنا کر زمین پر پھیلادیا ہے۔ مسند میں اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو خاک کی ایک مٹھی سے پیدا کیا، جسے تمام زمین پر سے لیا تھا۔ پس اسی اعتبار سے اولاد آدم کے رنگ روپ مختلف ہوئے، کوئی سرخ ہے، کوئی سفید ہے، کوئی سیاہ ہے، کوئی اور رنگ کا ہے۔ ان میں نیک ہیں اور بد بھی ہیں۔ [مسند احمد:400/4:صحیح] ‏‏‏‏ «ثم جعلنہ» ۔ میں ضمیر کا مرجع جنس انسان کی طرف ہے جیسے ارشاد ہے «ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِن سُلَالَةٍ مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ» [ 32- السجدة: 8 ] ‏‏‏‏۔ اور آیت میں ہے «أَلَمْ نَخْلُقكُّم مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ فَجَعَلْنَاهُ فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ إِلَىٰ قَدَرٍ مَّعْلُومٍ فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُونَ» [ 77- المرسلات: 22-20 ] ‏‏‏‏۔ پس انسان کے لیے ایک مدت معین تک اس کی ماں کا رحم ہی ٹھکانہ ہوتا ہے جہاں ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف اور ایک صورت سے دوسری صورت کی طرف منتقل ہوتا رہتا ہے۔ پھر نطفے کی جو ایک اچھلنے والا پانی ہے جو مرد کی پیٹ سے عورت کے سینے سے نکلتا ہے شکل بدل کر سرخ رنگ کی بوٹی کی شکل میں بدل جاتا ہے پھر اسے گوشت کے ایک ٹکڑے کی صورت میں بدل دیا جاتا ہے جس میں کوئی شکل اور کوئی خط نہیں ہوتا۔ پھر ان میں ہڈیاں بنادیں سر ہاتھ پاؤں ہڈی رگ پٹھے وغیرہ بنائے اور پیٹھ کی ہڈی بنائی۔

رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں انسان کا تمام جسم سڑ گل جاتا ہے سوائے ریڑھ کی ہڈی کے۔ اسی سے پیدا کیا جاتا ہے اور اسی سے ترکیب دی جاتی ہے۔ [صحیح بخاری:4814] ‏‏‏‏ پھر ان ہڈیوں کو وہ گوشت پہناتا ہے تاکہ وہ پوشیدہ اور قوی رہیں۔ پھر اس میں روح پھونکتا ہے جس سے وہ ہلنے جلنے چلنے پھرنے کے قابل ہو جائے اور ایک جاندار انسان بن جائے۔ دیکھنے کی سننے کی سمجھنے کی اور حرکت وسکون کی قدرت عطا فرماتا ہے۔ وہ بابرکت اللہ سب سے اچھی پیدائش کا پیدا کرنے والا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نطفے پر چار مہنیے گزر جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو بھجتا ہے جو تین تین اندھیریوں میں اس میں روح پھونکتا ہے یہی معنی ہے کہ ہم پھر اسے دوسری ہی پیدائش میں پیدا کرتے ہیں یعنی دوسری قسم کی اس پیدائش سے مراد روح کا پھونکا جانا ہے پس ایک حالت سے دوسری اور دوسری سے تیسری کی طرف ماں کے پیٹ میں ہی ہیر پھیر ہونے کے بعد بالکل ناسمجھ بچہ پیدا ہوتا ہے پھر وہ بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ جوان بن جاتا ہے پھر ادھیڑپن آتا ہے پھر بوڑھا ہو جاتا ہے پھر بالکل ہی بڈھا ہو جاتا ہے الغرض روح کا پھونکا جانا پھر ان کے انقلابات کا آنا شروع ہو جاتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صادق ومصدوق نبی کریم محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں جمع ہوتی ہے پھر چالیس دن تک خون بستہ کی صورت میں رہتا ہے پھر چالیس دن تک وہ گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں رہتا ہے پھر اللہ تعالیٰ فرشتے کو بھیجتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے اور بحکم الٰہی چار باتیں لکھ لی جاتی ہیں روزی، اجل، عمل، اور نیک یا بد، برا یا بھلا ہونا پس قسم ہے اس کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہ ایک شخص جنتی عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جنت سے ایک ہاتھ دور رہ جاتا ہے لیکن تقدیر کا وہ لکھا غالب آ جاتا ہے اور خاتمے کے وقت دوزخی کام کرنے لگتا ہے اور اسی پر مرتا ہے اور جہنم رسید ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک انسان برے کام کرتے کرتے دوزخ سے ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے لیکن پھر تقدیر کا لکھا آگے بڑھ جاتا ہے اور جنت کے اعمال پر خاتمہ ہو کر داخل فردوس بریں ہو جاتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594] ‏‏‏‏

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نطفہ جب رحم میں پڑتا ہے تو وہ ہر ہر بال اور ناخن کی جگہ پہنچ جاتا ہے پھر چالیس دن کے بعد اس کی شکل جمے ہوئے خون جیسی ہو جاتی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے باتیں بیان کر رہے تھے کہ ایک یہودی آ گیا تو کفار قریش نے اس سے کہا یہ نبوت کے دعویدار ہیں اس نے کہا اچھا میں ان سے ایک سوال کرتا ہوں جسے نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آ کر بیٹھ کر پوچھتا ہے کہ بتاؤ انسان کی پیدائش کس چیز سے ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مرد عورت کے نطفے سے۔ مرد کا نطفہ غلیظ اور گاڑھا ہوتا ہے اس سے ہڈیاں اور پٹھے بنتے ہیں اور عورت کا نطفہ رقیق اور پتلا ہوتا ہے اس سے گوشت اور خون بنتا ہے۔ اس نے کہا۔ آپ سچے ہیں اگلے نبیوں کا بھی یہی قول ہے۔ [مسند احمد:465/1:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب نطفے کو رحم میں چالیس دن گزر جاتے ہیں تو ایک فرشتہ آتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے دریافت کرتا ہے کہ اے اللہ یہ نیک ہو گا یا بد؟ مرد ہو گا یا عورت؟ جو جواب ملتا ہے وہ لکھ لیتا ہے اور عمل، عمر، اور نرمی گرمی سب کچھ لکھ لیتا ہے پھر دفتر لپیٹ لیا جاتا ہے اس میں پھر کسی کمی بیشی کی گنجائش نہیں رہتی۔ [صحیح مسلم:2644] ‏‏‏‏ حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کیا ہے جو عرض کرتا ہے اے اللہ اب نطفہ ہے، اے اللہ اب لوتھڑا ہے، اے اللہ اب گوشت کا ٹکڑا ہے۔ جب جناب باری تعالیٰ اسے پیدا کرنا چاہتا ہے وہ پوچھتا ہے اے اللہ مرد ہو یا عورت، شکی ہو یا سعید؟ رزق کیا ہے؟ اجل کیا ہے؟ اس کا جواب دیا جاتا ہے اور یہ سب چیزیں لکھ لی جاتی ہیں۔ [صحیح بخاری:6595] ‏‏‏‏

ان سب باتوں اور اتنی کامل قدرتوں کو بیان فرما کر فرمایا کہ سب سے اچھی پیدائش کرنے والا اللہ برکتوں والا ہے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے اپنے رب کی موافقت چار باتوں میں کی ہے جب یہ آیت اتری کہ ہم نے انسان کو بجتی مٹی سے پیدا کیا ہے تو بےساختہ میری زبان سے فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ نکلا اور وہی پھر اترا۔ [مسند طیالسی،41:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر والی آیتیں لکھوا رہے تھے اور «ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ» تک لکھوا چکے تو معاذ رضی اللہ عنہ نے بے ساختہ کہا «فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ» [ 23- المؤمنون: 14 ] ‏‏‏‏ اسے سن کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئیے تو معاذ رضی اللہ عنہما نے دریافت فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کیسے ہنسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس آیت کے خاتمے پر بھی یہی ہے۔ [طبرانی اوسط:11187:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کی سند کا ایک راوی جابر جعفی ہے جو بہت ہی ضعیف ہے اور یہ روایت بالکل منکر ہے۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما کاتب وحی مدینے میں تھے نہ کہ مکے میں معاذ رضی اللہ عنہما کے اسلام کا واقعہ بھی مدینے کا واقعہ ہے اور یہ آیت مکے میں نازل ہوئی ہے پس مندرجہ بالا روایت بالکل منکر ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس پہلی پیدائش کے بعد تم مرنے والے ہو، پھر قیامت کے دن دوسری دفعہ پیدا کئے جاؤ گے، پھر حساب کتاب ہو گا خیر و شر کا بدلہ ملے گا۔
12-1مٹی سے پیدا کرنے کا مطلب، ابو البشر حضرت آدم ؑ کی مٹی سے پیدائش ہے یا انسان جو خوراک بھی کھاتا ہے وہ سب مٹی سے ہی پیدا ہوتی ہیں، اس اعتبار سے اس نطفے کی اصل، جو خلقت انسانی کا باعث بنتا ہے، مٹی ہی ہے۔
(آیت 12) ➊ {وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِيْنٍ:سُلٰلَةٍ”سَلَّ يَسُلُّ“} کوئی چیز نرمی کے ساتھ کھینچتے ہوئے نکالنا۔ {”سَلَلْتُ السَّيْفَ“} ”میں نے میان سے تلوار نکالی۔“ {”اَلسُّلَالَةُ“} بمعنی {” اَلشَّيْءُ الْمَسْلُوْلُ“} یعنی کسی چیز کا خلاصہ۔ {”فُعَالَةٌ“} کے وزن میں قلت کا مفہوم پایا جاتا ہے، جیسے {”قُلَامَةٌ“} قلم کا تراشہ اور {” صُبَابَةٌ “} تھوڑا سا گرا ہوا پانی۔ ➋ ان آیات کی پچھلی آیات کے ساتھ مناسبت یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فلاح پانے والے مومنوں کے فردوس کے وارث ہونے کا ذکر فرمایا، تو ظاہر ہے کہ یہ قیامت کے دن ہی ہو گا، اس لیے قیامت اور موت کے بعد زندگی کی دلیل کے طور پر انسان کی پہلی دفعہ پیدائش کا ذکر فرمایا، پھر کائنات میں اس سے بھی بڑی مخلوقات آسمان و زمین اور ان میں موجود نعمتوں کا ذکر دلیل کے طور پر فرمایا کہ جس نے یہ سب کچھ پہلی دفعہ پیدا کیا وہ دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ پھر اللہ کی توحید اور دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کے منکروں کے انجام بد سے ڈرایا، چنانچہ سب سے پہلے نوح علیہ السلام کی قوم کے انکار اور ان پر آنے والے عذاب کا ذکر فرمایا۔ واللہ اعلم (نظم الدرر للبقاعی) ➌ {مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِيْنٍ:طِيْنٍ “} کی تنوین تحقیر کے لیے ہے اور {” سُلٰلَةٍ “} میں بھی قلت کا مفہوم موجود ہے، یعنی یہ انسان جسے تم چلتے پھرتے اور ہنستے مسکراتے دیکھتے ہو اس کی ابتدا حقیر مٹی کے تھوڑے سے خلاصے کے ساتھ ہوئی۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيْعِ الْأَرْضِ فَجَاءَ بَنُوْ آدَمَ عَلٰی قَدْرِ الْأَرْضِ جَاءَ مِنْهُمُ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْيَضُ وَالْأَسْوَدُ وَ بَيْنَ ذٰلِكَ وَالسَّهْلُ وَالْحَزْنُ وَالْخَبِيْثُ وَالطَّيِّبُ ] [ أبو داوٗد، السنۃ، باب في القدر: ۴۶۹۳ ] ”اللہ عزو جل نے آدم کو ایک مٹھی مٹی سے پیدا کیا ہے، جسے اس نے تمام روئے زمین سے جمع فرمایا تھا۔ چنانچہ آدم کی اولاد اس مٹی کے لحاظ سے ہوئی ہے، کئی سرخ ہیں اور کئی سفید، کئی سیاہ ہیں اور کئی ان کے بین بین۔ کئی نرم خو ہیں اور کئی سخت طبیعت۔ کئی بری طبیعت کے مالک ہوتے ہیں اور کئی اچھی اور عمدہ طبیعت والے۔“ اس آیت میں آدم علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر ہے۔
ثُمَّ جَعَلۡنٰہُ نُطۡفَۃً فِیۡ قَرَارٍ مَّکِیۡنٍ ﴿۪۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اسے ایک محفوظ جگہ ٹپکی ہوئی بوند میں تبدیل کیا
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر اسے نطفہ بنا کر محفوظ جگہ میں قرار دے دیا
احمد رضا خان بریلوی
پھر اسے پانی کی بوند کیا ایک مضبوط ٹھہراؤ میں
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ہم نے اسے نطفہ کی صورت میں ایک محفوظ مقام (رحم) میں رکھا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ہم نے اسے ایک قطرہ بنا کر ایک محفوظ ٹھکانے میں رکھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کی پیدائش مرحلہ وار ٭٭

اللہ تعالیٰ انسانی پیدائش کی ابتداء بیان کرتا ہے کہ اصل آدم مٹی سے ہیں، جو کیچڑ کی اور بجنے والی مٹی کی صورت میں تھی پھر آدم علیہ السلام کے پانی سے ان کی اولاد پیدا ہوئی۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنتُم بَشَرٌ تَنتَشِرُونَ» [ 30-الروم: 20 ] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ نے تمہیں مٹی سے پیدا کر کے پھر انسان بنا کر زمین پر پھیلادیا ہے۔ مسند میں اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو خاک کی ایک مٹھی سے پیدا کیا، جسے تمام زمین پر سے لیا تھا۔ پس اسی اعتبار سے اولاد آدم کے رنگ روپ مختلف ہوئے، کوئی سرخ ہے، کوئی سفید ہے، کوئی سیاہ ہے، کوئی اور رنگ کا ہے۔ ان میں نیک ہیں اور بد بھی ہیں۔ [مسند احمد:400/4:صحیح] ‏‏‏‏ «ثم جعلنہ» ۔ میں ضمیر کا مرجع جنس انسان کی طرف ہے جیسے ارشاد ہے «ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِن سُلَالَةٍ مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ» [ 32- السجدة: 8 ] ‏‏‏‏۔ اور آیت میں ہے «أَلَمْ نَخْلُقكُّم مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ فَجَعَلْنَاهُ فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ إِلَىٰ قَدَرٍ مَّعْلُومٍ فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُونَ» [ 77- المرسلات: 22-20 ] ‏‏‏‏۔ پس انسان کے لیے ایک مدت معین تک اس کی ماں کا رحم ہی ٹھکانہ ہوتا ہے جہاں ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف اور ایک صورت سے دوسری صورت کی طرف منتقل ہوتا رہتا ہے۔ پھر نطفے کی جو ایک اچھلنے والا پانی ہے جو مرد کی پیٹ سے عورت کے سینے سے نکلتا ہے شکل بدل کر سرخ رنگ کی بوٹی کی شکل میں بدل جاتا ہے پھر اسے گوشت کے ایک ٹکڑے کی صورت میں بدل دیا جاتا ہے جس میں کوئی شکل اور کوئی خط نہیں ہوتا۔ پھر ان میں ہڈیاں بنادیں سر ہاتھ پاؤں ہڈی رگ پٹھے وغیرہ بنائے اور پیٹھ کی ہڈی بنائی۔

رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں انسان کا تمام جسم سڑ گل جاتا ہے سوائے ریڑھ کی ہڈی کے۔ اسی سے پیدا کیا جاتا ہے اور اسی سے ترکیب دی جاتی ہے۔ [صحیح بخاری:4814] ‏‏‏‏ پھر ان ہڈیوں کو وہ گوشت پہناتا ہے تاکہ وہ پوشیدہ اور قوی رہیں۔ پھر اس میں روح پھونکتا ہے جس سے وہ ہلنے جلنے چلنے پھرنے کے قابل ہو جائے اور ایک جاندار انسان بن جائے۔ دیکھنے کی سننے کی سمجھنے کی اور حرکت وسکون کی قدرت عطا فرماتا ہے۔ وہ بابرکت اللہ سب سے اچھی پیدائش کا پیدا کرنے والا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نطفے پر چار مہنیے گزر جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو بھجتا ہے جو تین تین اندھیریوں میں اس میں روح پھونکتا ہے یہی معنی ہے کہ ہم پھر اسے دوسری ہی پیدائش میں پیدا کرتے ہیں یعنی دوسری قسم کی اس پیدائش سے مراد روح کا پھونکا جانا ہے پس ایک حالت سے دوسری اور دوسری سے تیسری کی طرف ماں کے پیٹ میں ہی ہیر پھیر ہونے کے بعد بالکل ناسمجھ بچہ پیدا ہوتا ہے پھر وہ بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ جوان بن جاتا ہے پھر ادھیڑپن آتا ہے پھر بوڑھا ہو جاتا ہے پھر بالکل ہی بڈھا ہو جاتا ہے الغرض روح کا پھونکا جانا پھر ان کے انقلابات کا آنا شروع ہو جاتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صادق ومصدوق نبی کریم محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں جمع ہوتی ہے پھر چالیس دن تک خون بستہ کی صورت میں رہتا ہے پھر چالیس دن تک وہ گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں رہتا ہے پھر اللہ تعالیٰ فرشتے کو بھیجتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے اور بحکم الٰہی چار باتیں لکھ لی جاتی ہیں روزی، اجل، عمل، اور نیک یا بد، برا یا بھلا ہونا پس قسم ہے اس کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہ ایک شخص جنتی عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جنت سے ایک ہاتھ دور رہ جاتا ہے لیکن تقدیر کا وہ لکھا غالب آ جاتا ہے اور خاتمے کے وقت دوزخی کام کرنے لگتا ہے اور اسی پر مرتا ہے اور جہنم رسید ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک انسان برے کام کرتے کرتے دوزخ سے ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے لیکن پھر تقدیر کا لکھا آگے بڑھ جاتا ہے اور جنت کے اعمال پر خاتمہ ہو کر داخل فردوس بریں ہو جاتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594] ‏‏‏‏

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نطفہ جب رحم میں پڑتا ہے تو وہ ہر ہر بال اور ناخن کی جگہ پہنچ جاتا ہے پھر چالیس دن کے بعد اس کی شکل جمے ہوئے خون جیسی ہو جاتی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے باتیں بیان کر رہے تھے کہ ایک یہودی آ گیا تو کفار قریش نے اس سے کہا یہ نبوت کے دعویدار ہیں اس نے کہا اچھا میں ان سے ایک سوال کرتا ہوں جسے نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آ کر بیٹھ کر پوچھتا ہے کہ بتاؤ انسان کی پیدائش کس چیز سے ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مرد عورت کے نطفے سے۔ مرد کا نطفہ غلیظ اور گاڑھا ہوتا ہے اس سے ہڈیاں اور پٹھے بنتے ہیں اور عورت کا نطفہ رقیق اور پتلا ہوتا ہے اس سے گوشت اور خون بنتا ہے۔ اس نے کہا۔ آپ سچے ہیں اگلے نبیوں کا بھی یہی قول ہے۔ [مسند احمد:465/1:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب نطفے کو رحم میں چالیس دن گزر جاتے ہیں تو ایک فرشتہ آتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے دریافت کرتا ہے کہ اے اللہ یہ نیک ہو گا یا بد؟ مرد ہو گا یا عورت؟ جو جواب ملتا ہے وہ لکھ لیتا ہے اور عمل، عمر، اور نرمی گرمی سب کچھ لکھ لیتا ہے پھر دفتر لپیٹ لیا جاتا ہے اس میں پھر کسی کمی بیشی کی گنجائش نہیں رہتی۔ [صحیح مسلم:2644] ‏‏‏‏ حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کیا ہے جو عرض کرتا ہے اے اللہ اب نطفہ ہے، اے اللہ اب لوتھڑا ہے، اے اللہ اب گوشت کا ٹکڑا ہے۔ جب جناب باری تعالیٰ اسے پیدا کرنا چاہتا ہے وہ پوچھتا ہے اے اللہ مرد ہو یا عورت، شکی ہو یا سعید؟ رزق کیا ہے؟ اجل کیا ہے؟ اس کا جواب دیا جاتا ہے اور یہ سب چیزیں لکھ لی جاتی ہیں۔ [صحیح بخاری:6595] ‏‏‏‏

ان سب باتوں اور اتنی کامل قدرتوں کو بیان فرما کر فرمایا کہ سب سے اچھی پیدائش کرنے والا اللہ برکتوں والا ہے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے اپنے رب کی موافقت چار باتوں میں کی ہے جب یہ آیت اتری کہ ہم نے انسان کو بجتی مٹی سے پیدا کیا ہے تو بےساختہ میری زبان سے فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ نکلا اور وہی پھر اترا۔ [مسند طیالسی،41:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر والی آیتیں لکھوا رہے تھے اور «ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ» تک لکھوا چکے تو معاذ رضی اللہ عنہ نے بے ساختہ کہا «فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ» [ 23- المؤمنون: 14 ] ‏‏‏‏ اسے سن کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئیے تو معاذ رضی اللہ عنہما نے دریافت فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کیسے ہنسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس آیت کے خاتمے پر بھی یہی ہے۔ [طبرانی اوسط:11187:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کی سند کا ایک راوی جابر جعفی ہے جو بہت ہی ضعیف ہے اور یہ روایت بالکل منکر ہے۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما کاتب وحی مدینے میں تھے نہ کہ مکے میں معاذ رضی اللہ عنہما کے اسلام کا واقعہ بھی مدینے کا واقعہ ہے اور یہ آیت مکے میں نازل ہوئی ہے پس مندرجہ بالا روایت بالکل منکر ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس پہلی پیدائش کے بعد تم مرنے والے ہو، پھر قیامت کے دن دوسری دفعہ پیدا کئے جاؤ گے، پھر حساب کتاب ہو گا خیر و شر کا بدلہ ملے گا۔
13-1محفوظ جگہ سے مراد رحم مادر ہے، جہاں نو مہینے بچہ بڑی حفاظت سے رہتا اور پرورش پاتا ہے۔
(آیت 13){ ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِيْ قَرَارٍ مَّكِيْنٍ:} اس میں آدم علیہ السلام کے بعد نسلِ انسانی کی پیدائش کا ذکر ہے، یعنی پھر اس مٹی کو یا مٹی سے بنی ہوئی اس مخلوق کو پانی کا ایک قطرہ بنا کر ایک نہایت محفوظ ٹھکانے (رحم مادر) میں رکھا۔ مٹی سے پانی کا قطرہ بنانا، جس میں مٹی کا نام و نشان نہیں اور اسے ماں کے رحم کے نہایت محفوظ ٹھکانے میں رکھ کر پانی کے قطرے کو نو (۹) ماہ میں مکمل انسان بنا دینا سب اس کی قدرت کا کمال ہے۔ {” قَرَارٍ مَّكِيْنٍ “} کی مزید تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ مرسلات (۲۰ تا ۲۲)۔
ثُمَّ خَلَقۡنَا النُّطۡفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقۡنَا الۡعَلَقَۃَ مُضۡغَۃً فَخَلَقۡنَا الۡمُضۡغَۃَ عِظٰمًا فَکَسَوۡنَا الۡعِظٰمَ لَحۡمًا ٭ ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰہُ خَلۡقًا اٰخَرَ ؕ فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحۡسَنُ الۡخٰلِقِیۡنَ ﴿ؕ۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اس بوند کو لوتھڑے کی شکل دی، پھر لوتھڑے کو بوٹی بنا دیا، پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا، پھر اسے ایک دوسری ہی مخلوق بنا کھڑا کیا
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر نطفہ کو ہم نے جما ہوا خون بنا دیا، پھر اس خون کے لوتھڑے کو گوشت کا ٹکڑا کردیا۔ پھر گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیاں بنا دیں، پھر ہڈیوں کو ہم نے گوشت پہنا دیا، پھر دوسری بناوٹ میں اس کو پیدا کردیا۔ برکتوں واﻻ ہے وه اللہ جو سب سے بہترین پیدا کرنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
پھر ہم نے اس پانی کی بوند کو خون کی پھٹک کیا پھر خون کی پھٹک کو گوشت کی بوٹی پھر گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں پھر ان ہڈیوں پر گوشت پہنایا، پھر اسے اور صورت میں اٹھان دی تو بڑی برکت والا ہے اللہ سب سے بہتر بتانے والا،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ہم نے نطفہ کو منجمد خون بنایا اور پھر ہم نے اس منجمد خون کو گوشت کا لوتھڑا بنایا پھر اس لوتھڑے سے ہڈیاں پیدا کیں پھر ان ہڈیوں پر گوشت چڑھایا پھر ہم نے (اس میں روح ڈال کر) ایک دوسری مخلوق بنا دیا۔ پس بڑا بابرکت ہے وہ اللہ جو بہترین خالق ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پھرہم نے اس قطرے کو ایک جماہوا خون بنایا، پھر ہم نے اس جمے ہوئے خون کو ایک بوٹی بنایا، پھر ہم نے اس بوٹی کو ہڈیاں بنایا، پھر ہم نے ان ہڈیوں کو کچھ گوشت پہنایا، پھر ہم نے اسے ایک اور صورت میں پیدا کر دیا، سو بہت برکت والا ہے اللہ جو بنانے والوں میں سب سے اچھا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کی پیدائش مرحلہ وار ٭٭

اللہ تعالیٰ انسانی پیدائش کی ابتداء بیان کرتا ہے کہ اصل آدم مٹی سے ہیں، جو کیچڑ کی اور بجنے والی مٹی کی صورت میں تھی پھر آدم علیہ السلام کے پانی سے ان کی اولاد پیدا ہوئی۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنتُم بَشَرٌ تَنتَشِرُونَ» [ 30-الروم: 20 ] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ نے تمہیں مٹی سے پیدا کر کے پھر انسان بنا کر زمین پر پھیلادیا ہے۔ مسند میں اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو خاک کی ایک مٹھی سے پیدا کیا، جسے تمام زمین پر سے لیا تھا۔ پس اسی اعتبار سے اولاد آدم کے رنگ روپ مختلف ہوئے، کوئی سرخ ہے، کوئی سفید ہے، کوئی سیاہ ہے، کوئی اور رنگ کا ہے۔ ان میں نیک ہیں اور بد بھی ہیں۔ [مسند احمد:400/4:صحیح] ‏‏‏‏ «ثم جعلنہ» ۔ میں ضمیر کا مرجع جنس انسان کی طرف ہے جیسے ارشاد ہے «ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِن سُلَالَةٍ مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ» [ 32- السجدة: 8 ] ‏‏‏‏۔ اور آیت میں ہے «أَلَمْ نَخْلُقكُّم مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ فَجَعَلْنَاهُ فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ إِلَىٰ قَدَرٍ مَّعْلُومٍ فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُونَ» [ 77- المرسلات: 22-20 ] ‏‏‏‏۔ پس انسان کے لیے ایک مدت معین تک اس کی ماں کا رحم ہی ٹھکانہ ہوتا ہے جہاں ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف اور ایک صورت سے دوسری صورت کی طرف منتقل ہوتا رہتا ہے۔ پھر نطفے کی جو ایک اچھلنے والا پانی ہے جو مرد کی پیٹ سے عورت کے سینے سے نکلتا ہے شکل بدل کر سرخ رنگ کی بوٹی کی شکل میں بدل جاتا ہے پھر اسے گوشت کے ایک ٹکڑے کی صورت میں بدل دیا جاتا ہے جس میں کوئی شکل اور کوئی خط نہیں ہوتا۔ پھر ان میں ہڈیاں بنادیں سر ہاتھ پاؤں ہڈی رگ پٹھے وغیرہ بنائے اور پیٹھ کی ہڈی بنائی۔

رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں انسان کا تمام جسم سڑ گل جاتا ہے سوائے ریڑھ کی ہڈی کے۔ اسی سے پیدا کیا جاتا ہے اور اسی سے ترکیب دی جاتی ہے۔ [صحیح بخاری:4814] ‏‏‏‏ پھر ان ہڈیوں کو وہ گوشت پہناتا ہے تاکہ وہ پوشیدہ اور قوی رہیں۔ پھر اس میں روح پھونکتا ہے جس سے وہ ہلنے جلنے چلنے پھرنے کے قابل ہو جائے اور ایک جاندار انسان بن جائے۔ دیکھنے کی سننے کی سمجھنے کی اور حرکت وسکون کی قدرت عطا فرماتا ہے۔ وہ بابرکت اللہ سب سے اچھی پیدائش کا پیدا کرنے والا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نطفے پر چار مہنیے گزر جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو بھجتا ہے جو تین تین اندھیریوں میں اس میں روح پھونکتا ہے یہی معنی ہے کہ ہم پھر اسے دوسری ہی پیدائش میں پیدا کرتے ہیں یعنی دوسری قسم کی اس پیدائش سے مراد روح کا پھونکا جانا ہے پس ایک حالت سے دوسری اور دوسری سے تیسری کی طرف ماں کے پیٹ میں ہی ہیر پھیر ہونے کے بعد بالکل ناسمجھ بچہ پیدا ہوتا ہے پھر وہ بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ جوان بن جاتا ہے پھر ادھیڑپن آتا ہے پھر بوڑھا ہو جاتا ہے پھر بالکل ہی بڈھا ہو جاتا ہے الغرض روح کا پھونکا جانا پھر ان کے انقلابات کا آنا شروع ہو جاتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صادق ومصدوق نبی کریم محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں جمع ہوتی ہے پھر چالیس دن تک خون بستہ کی صورت میں رہتا ہے پھر چالیس دن تک وہ گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں رہتا ہے پھر اللہ تعالیٰ فرشتے کو بھیجتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے اور بحکم الٰہی چار باتیں لکھ لی جاتی ہیں روزی، اجل، عمل، اور نیک یا بد، برا یا بھلا ہونا پس قسم ہے اس کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہ ایک شخص جنتی عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جنت سے ایک ہاتھ دور رہ جاتا ہے لیکن تقدیر کا وہ لکھا غالب آ جاتا ہے اور خاتمے کے وقت دوزخی کام کرنے لگتا ہے اور اسی پر مرتا ہے اور جہنم رسید ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک انسان برے کام کرتے کرتے دوزخ سے ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے لیکن پھر تقدیر کا لکھا آگے بڑھ جاتا ہے اور جنت کے اعمال پر خاتمہ ہو کر داخل فردوس بریں ہو جاتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594] ‏‏‏‏

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نطفہ جب رحم میں پڑتا ہے تو وہ ہر ہر بال اور ناخن کی جگہ پہنچ جاتا ہے پھر چالیس دن کے بعد اس کی شکل جمے ہوئے خون جیسی ہو جاتی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے باتیں بیان کر رہے تھے کہ ایک یہودی آ گیا تو کفار قریش نے اس سے کہا یہ نبوت کے دعویدار ہیں اس نے کہا اچھا میں ان سے ایک سوال کرتا ہوں جسے نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آ کر بیٹھ کر پوچھتا ہے کہ بتاؤ انسان کی پیدائش کس چیز سے ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مرد عورت کے نطفے سے۔ مرد کا نطفہ غلیظ اور گاڑھا ہوتا ہے اس سے ہڈیاں اور پٹھے بنتے ہیں اور عورت کا نطفہ رقیق اور پتلا ہوتا ہے اس سے گوشت اور خون بنتا ہے۔ اس نے کہا۔ آپ سچے ہیں اگلے نبیوں کا بھی یہی قول ہے۔ [مسند احمد:465/1:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب نطفے کو رحم میں چالیس دن گزر جاتے ہیں تو ایک فرشتہ آتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے دریافت کرتا ہے کہ اے اللہ یہ نیک ہو گا یا بد؟ مرد ہو گا یا عورت؟ جو جواب ملتا ہے وہ لکھ لیتا ہے اور عمل، عمر، اور نرمی گرمی سب کچھ لکھ لیتا ہے پھر دفتر لپیٹ لیا جاتا ہے اس میں پھر کسی کمی بیشی کی گنجائش نہیں رہتی۔ [صحیح مسلم:2644] ‏‏‏‏ حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کیا ہے جو عرض کرتا ہے اے اللہ اب نطفہ ہے، اے اللہ اب لوتھڑا ہے، اے اللہ اب گوشت کا ٹکڑا ہے۔ جب جناب باری تعالیٰ اسے پیدا کرنا چاہتا ہے وہ پوچھتا ہے اے اللہ مرد ہو یا عورت، شکی ہو یا سعید؟ رزق کیا ہے؟ اجل کیا ہے؟ اس کا جواب دیا جاتا ہے اور یہ سب چیزیں لکھ لی جاتی ہیں۔ [صحیح بخاری:6595] ‏‏‏‏

ان سب باتوں اور اتنی کامل قدرتوں کو بیان فرما کر فرمایا کہ سب سے اچھی پیدائش کرنے والا اللہ برکتوں والا ہے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے اپنے رب کی موافقت چار باتوں میں کی ہے جب یہ آیت اتری کہ ہم نے انسان کو بجتی مٹی سے پیدا کیا ہے تو بےساختہ میری زبان سے فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ نکلا اور وہی پھر اترا۔ [مسند طیالسی،41:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر والی آیتیں لکھوا رہے تھے اور «ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ» تک لکھوا چکے تو معاذ رضی اللہ عنہ نے بے ساختہ کہا «فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ» [ 23- المؤمنون: 14 ] ‏‏‏‏ اسے سن کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئیے تو معاذ رضی اللہ عنہما نے دریافت فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کیسے ہنسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس آیت کے خاتمے پر بھی یہی ہے۔ [طبرانی اوسط:11187:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کی سند کا ایک راوی جابر جعفی ہے جو بہت ہی ضعیف ہے اور یہ روایت بالکل منکر ہے۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما کاتب وحی مدینے میں تھے نہ کہ مکے میں معاذ رضی اللہ عنہما کے اسلام کا واقعہ بھی مدینے کا واقعہ ہے اور یہ آیت مکے میں نازل ہوئی ہے پس مندرجہ بالا روایت بالکل منکر ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس پہلی پیدائش کے بعد تم مرنے والے ہو، پھر قیامت کے دن دوسری دفعہ پیدا کئے جاؤ گے، پھر حساب کتاب ہو گا خیر و شر کا بدلہ ملے گا۔
14-1اس کی کچھ تفصیل سورة حج میں گزر چکی ہے۔ یہاں پھر اسے بیان کیا گیا ہے۔ تاہم وہاں مخلَّقَۃ کا جو ذکر تھا، یہاں اس کی وضاحت، مُضْغَۃ کو ہڈیوں میں تبدیل کرنے اور ہڈیوں کو گوشت پہنانے، سے کردی ہے۔ مُضْغَۃ گوشت کو ہڈیوں سے تبدیل کرنے کا مقصد، انسانی ڈھانچے کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرنا ہے کیونکہ محض گوشت میں تو کوئی سختی نہیں ہوتی، پھر اگر اسے ہڈیوں کا ڈھانچہ ہی رکھا جاتا، تو انسان میں وہ حس و رعنائی نہ آتی، جو ہر انسان کے اندر موجود ہے۔ اس لئے ہڈیوں پر ایک خاص تناسب اور مقدار سے گوشت چڑھا دیا گیا کہیں کم اور کہیں زیادہ۔ تاکہ قدو قامت میں غیر موزونیت اور بھدا پن پیدا نہ ہو۔ بلکہ حسن و جمال کا ایک پیکر اور قدرت کی تخلیق کا ایک شاہ کار ہو۔ اسی چیز کو قرآن نے ایک دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا (لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ) 95۔ التین:4) ' ہم نے انسان کو احسن تقویم یعنی بہت اچھی ترکیب یا بہت اچھے ڈھانچے میں بنایا ' 14-2اس سے مراد وہ بچہ ہے جو نو مہینے کے بعد ایک خاص شکل و صورت لے کر ماں کے پیٹ سے باہر آتا ہے اور حرکت و اضطراب کے ساتھ دیکھنے اور سننے اور ذہنی قوتیں بھی ساتھ ہوتی ہیں۔ 14-3خَالِقِیْنَ یہاں ان صالحین کے معنی میں ہے۔ جو خاص خاص مقداروں میں اشیا کو جوڑ کر کوئی ایک چیز تیار کرتے ہیں۔ یعنی ان تمام صنعت گروں میں، اللہ جیسا بھی کوئی صنعت گر ہے جو اس طرح کی صنعت کاری کا نمونہ پیش کرسکے جو اللہ تعالیٰ نے انسانی پیکر کی صورت میں پیش کیا ہے۔ پس سب سے زیادہ خیر و برکت والا وہ اللہ ہی ہے، جو تمام صنعت کاروں سے بڑا اور سب سے اچھا صنعت کار ہے۔
(آیت 14) ➊ { ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً …:” عَلَقَةً “} کا معنی جمے ہوئے خون کا ٹکڑا بھی ہے اور جونک بھی۔ پھر اللہ تعالیٰ پانی کے سفید سیال قطرے کو سرخ جمے ہوئے خون کے جامد ٹکڑے کی شکل دے دیتا ہے جو جونک کی شکل کا ہوتا ہے اور جونک ہی کی طرح رحم کی دیوار کے ساتھ چپکا ہوا ہوتاہے۔ مزید دیکھیے سورۂ حج (۵)۔ ➋ { ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ:} یعنی پھر ہم اس میں روح پھونکتے ہیں تو وہ نہایت خوب صورت دیکھنے، سننے، سمجھنے اور حرکت کرنے والا انسان بن جاتا ہے۔ جس کی شکل و صورت ہی اور ہوتی ہے۔ اب پہلی صورت کے ساتھ اس کی کوئی مناسبت نہیں، یعنی مٹی سے اس کا دور کا بھی کوئی تعلق نہیں، پہلے بے جان تھا اب جاندار ہے۔ پہلے اندھا، بہرا اور گونگا تھا اب آنکھ، کان اور زبان والا ہے۔ پہلے گوشت کا بے حس ٹکڑا تھا، اب اس کے ذرّے ذرّے میں اللہ تعالیٰ کی عجیب و غریب باریکیاں اور ہزاروں قسم کے احساسات ہیں۔ اس پر آنے والا ہر لمحہ نئی سے نئی تبدیلی لے کر آ رہا ہے، پہلے جنین پھر دودھ پیتا بچہ، جو پیدا ہوتے ہی اپنا اختیار استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے، پھر لڑکا پھر نوجوان پھر جوان پھر ادھیڑ عمر پھر بوڑھا، پھر ایسا بوڑھا کہ بچپن کی کمزوری کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ انھی منزلوں میں سے کسی منزل میں اسے موت اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ ➌ { فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ:} اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے انسان کی پیدائش کا ذکر ایسے مدلل اور خوب صورت انداز میں فرمایا ہے کہ خود بخود یہ جملہ زبان پر آجاتا ہے: «‏‏‏‏فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ» ”سو بہت برکت والاہے اللہ جو بنانے والوں میں سب سے اچھا ہے۔“ حقیقت یہ ہے کہ یہ کسی کلام کی خوبی کی انتہا ہے۔ چنانچہ ایک شاعر نے چند قصیدوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے: {قَصَائِدٌ إِنْ تَكُنْ تُتْلٰي عَلٰي مَلَإٍ صُدُوْرُهَا عُلِمَتْ مِنْهَا قَوَافِيْهَا} ”وہ ایسے قصیدے ہیں کہ لوگوں کے سامنے ان کے ابتدائی اشعار پڑھے جائیں تو ان کے آخری اشعار خود بخود معلوم ہو جاتے ہیں۔“ غالب نے کیا خوب کہا ہے: دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے ➍ { الْخٰلِقِيْنَ:} یہاں {”خَلْقٌ“} کا لفظ ظاہری شکل و صورت بنانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جیسا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا: { وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّيْنِ كَهَيْـَٔةِ الطَّيْرِ بِاِذْنِيْ } [ المائدۃ: ۱۱۰ ] ”اور جب تو مٹی سے پرندے کی شکل کی مانند میرے حکم سے بناتا تھا۔“ اور جیسا کہ حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تصویر بنانے والوں سے فرمائے گا: [ أَحْيُوْا مَا خَلَقْتُمْ ] [ بخاري، البیوع، باب التجارۃ فیما یکرہ… ۲۱۰۵، عن عائشۃ رضی اللہ عنھا ] ”تم نے جو خلق کیا ہے اسے زندہ کرو۔“ پیدا کرنے اور زندگی بخشنے کے معنی میں خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ ➍ {” اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ “} کے لفظ میں انسان کے حسن و جمال کی طرف بھی واضح اشارہ ہے۔ (بقاعی)
ثُمَّ اِنَّکُمۡ بَعۡدَ ذٰلِکَ لَمَیِّتُوۡنَ ﴿ؕ۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ، سب کاریگروں سے اچھا کاریگر
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کے بعد پھر تم سب یقیناً مر جانے والے ہو
احمد رضا خان بریلوی
پھر اس کے بعد تم ضرور مرنے والے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر تم اس کے بعد ضرور مرنے والے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
پھر بے شک تم اس کے بعد ضرور مرنے والے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کی پیدائش مرحلہ وار ٭٭

اللہ تعالیٰ انسانی پیدائش کی ابتداء بیان کرتا ہے کہ اصل آدم مٹی سے ہیں، جو کیچڑ کی اور بجنے والی مٹی کی صورت میں تھی پھر آدم علیہ السلام کے پانی سے ان کی اولاد پیدا ہوئی۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنتُم بَشَرٌ تَنتَشِرُونَ» [ 30-الروم: 20 ] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ نے تمہیں مٹی سے پیدا کر کے پھر انسان بنا کر زمین پر پھیلادیا ہے۔ مسند میں اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو خاک کی ایک مٹھی سے پیدا کیا، جسے تمام زمین پر سے لیا تھا۔ پس اسی اعتبار سے اولاد آدم کے رنگ روپ مختلف ہوئے، کوئی سرخ ہے، کوئی سفید ہے، کوئی سیاہ ہے، کوئی اور رنگ کا ہے۔ ان میں نیک ہیں اور بد بھی ہیں۔ [مسند احمد:400/4:صحیح] ‏‏‏‏ «ثم جعلنہ» ۔ میں ضمیر کا مرجع جنس انسان کی طرف ہے جیسے ارشاد ہے «ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِن سُلَالَةٍ مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ» [ 32- السجدة: 8 ] ‏‏‏‏۔ اور آیت میں ہے «أَلَمْ نَخْلُقكُّم مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ فَجَعَلْنَاهُ فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ إِلَىٰ قَدَرٍ مَّعْلُومٍ فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُونَ» [ 77- المرسلات: 22-20 ] ‏‏‏‏۔ پس انسان کے لیے ایک مدت معین تک اس کی ماں کا رحم ہی ٹھکانہ ہوتا ہے جہاں ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف اور ایک صورت سے دوسری صورت کی طرف منتقل ہوتا رہتا ہے۔ پھر نطفے کی جو ایک اچھلنے والا پانی ہے جو مرد کی پیٹ سے عورت کے سینے سے نکلتا ہے شکل بدل کر سرخ رنگ کی بوٹی کی شکل میں بدل جاتا ہے پھر اسے گوشت کے ایک ٹکڑے کی صورت میں بدل دیا جاتا ہے جس میں کوئی شکل اور کوئی خط نہیں ہوتا۔ پھر ان میں ہڈیاں بنادیں سر ہاتھ پاؤں ہڈی رگ پٹھے وغیرہ بنائے اور پیٹھ کی ہڈی بنائی۔

رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں انسان کا تمام جسم سڑ گل جاتا ہے سوائے ریڑھ کی ہڈی کے۔ اسی سے پیدا کیا جاتا ہے اور اسی سے ترکیب دی جاتی ہے۔ [صحیح بخاری:4814] ‏‏‏‏ پھر ان ہڈیوں کو وہ گوشت پہناتا ہے تاکہ وہ پوشیدہ اور قوی رہیں۔ پھر اس میں روح پھونکتا ہے جس سے وہ ہلنے جلنے چلنے پھرنے کے قابل ہو جائے اور ایک جاندار انسان بن جائے۔ دیکھنے کی سننے کی سمجھنے کی اور حرکت وسکون کی قدرت عطا فرماتا ہے۔ وہ بابرکت اللہ سب سے اچھی پیدائش کا پیدا کرنے والا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نطفے پر چار مہنیے گزر جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو بھجتا ہے جو تین تین اندھیریوں میں اس میں روح پھونکتا ہے یہی معنی ہے کہ ہم پھر اسے دوسری ہی پیدائش میں پیدا کرتے ہیں یعنی دوسری قسم کی اس پیدائش سے مراد روح کا پھونکا جانا ہے پس ایک حالت سے دوسری اور دوسری سے تیسری کی طرف ماں کے پیٹ میں ہی ہیر پھیر ہونے کے بعد بالکل ناسمجھ بچہ پیدا ہوتا ہے پھر وہ بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ جوان بن جاتا ہے پھر ادھیڑپن آتا ہے پھر بوڑھا ہو جاتا ہے پھر بالکل ہی بڈھا ہو جاتا ہے الغرض روح کا پھونکا جانا پھر ان کے انقلابات کا آنا شروع ہو جاتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صادق ومصدوق نبی کریم محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں جمع ہوتی ہے پھر چالیس دن تک خون بستہ کی صورت میں رہتا ہے پھر چالیس دن تک وہ گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں رہتا ہے پھر اللہ تعالیٰ فرشتے کو بھیجتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے اور بحکم الٰہی چار باتیں لکھ لی جاتی ہیں روزی، اجل، عمل، اور نیک یا بد، برا یا بھلا ہونا پس قسم ہے اس کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہ ایک شخص جنتی عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جنت سے ایک ہاتھ دور رہ جاتا ہے لیکن تقدیر کا وہ لکھا غالب آ جاتا ہے اور خاتمے کے وقت دوزخی کام کرنے لگتا ہے اور اسی پر مرتا ہے اور جہنم رسید ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک انسان برے کام کرتے کرتے دوزخ سے ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے لیکن پھر تقدیر کا لکھا آگے بڑھ جاتا ہے اور جنت کے اعمال پر خاتمہ ہو کر داخل فردوس بریں ہو جاتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594] ‏‏‏‏

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نطفہ جب رحم میں پڑتا ہے تو وہ ہر ہر بال اور ناخن کی جگہ پہنچ جاتا ہے پھر چالیس دن کے بعد اس کی شکل جمے ہوئے خون جیسی ہو جاتی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے باتیں بیان کر رہے تھے کہ ایک یہودی آ گیا تو کفار قریش نے اس سے کہا یہ نبوت کے دعویدار ہیں اس نے کہا اچھا میں ان سے ایک سوال کرتا ہوں جسے نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آ کر بیٹھ کر پوچھتا ہے کہ بتاؤ انسان کی پیدائش کس چیز سے ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مرد عورت کے نطفے سے۔ مرد کا نطفہ غلیظ اور گاڑھا ہوتا ہے اس سے ہڈیاں اور پٹھے بنتے ہیں اور عورت کا نطفہ رقیق اور پتلا ہوتا ہے اس سے گوشت اور خون بنتا ہے۔ اس نے کہا۔ آپ سچے ہیں اگلے نبیوں کا بھی یہی قول ہے۔ [مسند احمد:465/1:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب نطفے کو رحم میں چالیس دن گزر جاتے ہیں تو ایک فرشتہ آتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے دریافت کرتا ہے کہ اے اللہ یہ نیک ہو گا یا بد؟ مرد ہو گا یا عورت؟ جو جواب ملتا ہے وہ لکھ لیتا ہے اور عمل، عمر، اور نرمی گرمی سب کچھ لکھ لیتا ہے پھر دفتر لپیٹ لیا جاتا ہے اس میں پھر کسی کمی بیشی کی گنجائش نہیں رہتی۔ [صحیح مسلم:2644] ‏‏‏‏ حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کیا ہے جو عرض کرتا ہے اے اللہ اب نطفہ ہے، اے اللہ اب لوتھڑا ہے، اے اللہ اب گوشت کا ٹکڑا ہے۔ جب جناب باری تعالیٰ اسے پیدا کرنا چاہتا ہے وہ پوچھتا ہے اے اللہ مرد ہو یا عورت، شکی ہو یا سعید؟ رزق کیا ہے؟ اجل کیا ہے؟ اس کا جواب دیا جاتا ہے اور یہ سب چیزیں لکھ لی جاتی ہیں۔ [صحیح بخاری:6595] ‏‏‏‏

ان سب باتوں اور اتنی کامل قدرتوں کو بیان فرما کر فرمایا کہ سب سے اچھی پیدائش کرنے والا اللہ برکتوں والا ہے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے اپنے رب کی موافقت چار باتوں میں کی ہے جب یہ آیت اتری کہ ہم نے انسان کو بجتی مٹی سے پیدا کیا ہے تو بےساختہ میری زبان سے فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ نکلا اور وہی پھر اترا۔ [مسند طیالسی،41:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر والی آیتیں لکھوا رہے تھے اور «ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ» تک لکھوا چکے تو معاذ رضی اللہ عنہ نے بے ساختہ کہا «فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ» [ 23- المؤمنون: 14 ] ‏‏‏‏ اسے سن کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئیے تو معاذ رضی اللہ عنہما نے دریافت فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کیسے ہنسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس آیت کے خاتمے پر بھی یہی ہے۔ [طبرانی اوسط:11187:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کی سند کا ایک راوی جابر جعفی ہے جو بہت ہی ضعیف ہے اور یہ روایت بالکل منکر ہے۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما کاتب وحی مدینے میں تھے نہ کہ مکے میں معاذ رضی اللہ عنہما کے اسلام کا واقعہ بھی مدینے کا واقعہ ہے اور یہ آیت مکے میں نازل ہوئی ہے پس مندرجہ بالا روایت بالکل منکر ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس پہلی پیدائش کے بعد تم مرنے والے ہو، پھر قیامت کے دن دوسری دفعہ پیدا کئے جاؤ گے، پھر حساب کتاب ہو گا خیر و شر کا بدلہ ملے گا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 15){ ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُوْنَ:} اگرچہ مٹی اور نطفے سے لے کر موت تک کا ہر لمحہ ہی موت کے بعد زندگی کا شاہد ہے، کیونکہ جسم کا ہر خلیہ جو موجود ہوتا ہے فنا ہوتا اور اس کی جگہ نیا خلیہ وجود میں آتا رہتا ہے اور یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے، جس کے دوران انسان بچپن، جوانی اور بڑھاپے کی طرف بھی منتقل ہوتا رہتا ہے، مگر موت و حیات کے اس سلسلے پر غور کرنے والے بہت ہی کم ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے موت کا وہ مرحلہ بیان فرمایا جو ہر شخص اپنے سر کی آنکھوں کے ساتھ دیکھتا ہے۔ چنانچہ {” ثُمَّ “} کے ساتھ اس مہلت کی طرف اشارہ فرمایا جو انسان کو پیدا ہونے کے بعد عمل کے لیے ملتی ہے اور {”إِنَّ“ } اور {”لَام“} کی تاکید کے ساتھ فرمایا کہ پھر زندگی کے سارے یا کچھ ادوار گزار کر آخر تمھیں ہر حال میں مرنا ہے۔
ثُمَّ اِنَّکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ تُبۡعَثُوۡنَ ﴿۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اس کے بعد تم کو ضرور مرنا ہے، پھر قیامت کے روز یقیناً تم اٹھائے جاؤ گے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر قیامت کے دن بلا شبہ تم سب اٹھائے جاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
پھر تم سب قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر اس کے بعد تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤگے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر بے شک تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کی پیدائش مرحلہ وار ٭٭

اللہ تعالیٰ انسانی پیدائش کی ابتداء بیان کرتا ہے کہ اصل آدم مٹی سے ہیں، جو کیچڑ کی اور بجنے والی مٹی کی صورت میں تھی پھر آدم علیہ السلام کے پانی سے ان کی اولاد پیدا ہوئی۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنتُم بَشَرٌ تَنتَشِرُونَ» [ 30-الروم: 20 ] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ نے تمہیں مٹی سے پیدا کر کے پھر انسان بنا کر زمین پر پھیلادیا ہے۔ مسند میں اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو خاک کی ایک مٹھی سے پیدا کیا، جسے تمام زمین پر سے لیا تھا۔ پس اسی اعتبار سے اولاد آدم کے رنگ روپ مختلف ہوئے، کوئی سرخ ہے، کوئی سفید ہے، کوئی سیاہ ہے، کوئی اور رنگ کا ہے۔ ان میں نیک ہیں اور بد بھی ہیں۔ [مسند احمد:400/4:صحیح] ‏‏‏‏ «ثم جعلنہ» ۔ میں ضمیر کا مرجع جنس انسان کی طرف ہے جیسے ارشاد ہے «ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِن سُلَالَةٍ مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ» [ 32- السجدة: 8 ] ‏‏‏‏۔ اور آیت میں ہے «أَلَمْ نَخْلُقكُّم مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ فَجَعَلْنَاهُ فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ إِلَىٰ قَدَرٍ مَّعْلُومٍ فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُونَ» [ 77- المرسلات: 22-20 ] ‏‏‏‏۔ پس انسان کے لیے ایک مدت معین تک اس کی ماں کا رحم ہی ٹھکانہ ہوتا ہے جہاں ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف اور ایک صورت سے دوسری صورت کی طرف منتقل ہوتا رہتا ہے۔ پھر نطفے کی جو ایک اچھلنے والا پانی ہے جو مرد کی پیٹ سے عورت کے سینے سے نکلتا ہے شکل بدل کر سرخ رنگ کی بوٹی کی شکل میں بدل جاتا ہے پھر اسے گوشت کے ایک ٹکڑے کی صورت میں بدل دیا جاتا ہے جس میں کوئی شکل اور کوئی خط نہیں ہوتا۔ پھر ان میں ہڈیاں بنادیں سر ہاتھ پاؤں ہڈی رگ پٹھے وغیرہ بنائے اور پیٹھ کی ہڈی بنائی۔

رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں انسان کا تمام جسم سڑ گل جاتا ہے سوائے ریڑھ کی ہڈی کے۔ اسی سے پیدا کیا جاتا ہے اور اسی سے ترکیب دی جاتی ہے۔ [صحیح بخاری:4814] ‏‏‏‏ پھر ان ہڈیوں کو وہ گوشت پہناتا ہے تاکہ وہ پوشیدہ اور قوی رہیں۔ پھر اس میں روح پھونکتا ہے جس سے وہ ہلنے جلنے چلنے پھرنے کے قابل ہو جائے اور ایک جاندار انسان بن جائے۔ دیکھنے کی سننے کی سمجھنے کی اور حرکت وسکون کی قدرت عطا فرماتا ہے۔ وہ بابرکت اللہ سب سے اچھی پیدائش کا پیدا کرنے والا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نطفے پر چار مہنیے گزر جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو بھجتا ہے جو تین تین اندھیریوں میں اس میں روح پھونکتا ہے یہی معنی ہے کہ ہم پھر اسے دوسری ہی پیدائش میں پیدا کرتے ہیں یعنی دوسری قسم کی اس پیدائش سے مراد روح کا پھونکا جانا ہے پس ایک حالت سے دوسری اور دوسری سے تیسری کی طرف ماں کے پیٹ میں ہی ہیر پھیر ہونے کے بعد بالکل ناسمجھ بچہ پیدا ہوتا ہے پھر وہ بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ جوان بن جاتا ہے پھر ادھیڑپن آتا ہے پھر بوڑھا ہو جاتا ہے پھر بالکل ہی بڈھا ہو جاتا ہے الغرض روح کا پھونکا جانا پھر ان کے انقلابات کا آنا شروع ہو جاتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صادق ومصدوق نبی کریم محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں جمع ہوتی ہے پھر چالیس دن تک خون بستہ کی صورت میں رہتا ہے پھر چالیس دن تک وہ گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں رہتا ہے پھر اللہ تعالیٰ فرشتے کو بھیجتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے اور بحکم الٰہی چار باتیں لکھ لی جاتی ہیں روزی، اجل، عمل، اور نیک یا بد، برا یا بھلا ہونا پس قسم ہے اس کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہ ایک شخص جنتی عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جنت سے ایک ہاتھ دور رہ جاتا ہے لیکن تقدیر کا وہ لکھا غالب آ جاتا ہے اور خاتمے کے وقت دوزخی کام کرنے لگتا ہے اور اسی پر مرتا ہے اور جہنم رسید ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک انسان برے کام کرتے کرتے دوزخ سے ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے لیکن پھر تقدیر کا لکھا آگے بڑھ جاتا ہے اور جنت کے اعمال پر خاتمہ ہو کر داخل فردوس بریں ہو جاتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594] ‏‏‏‏

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نطفہ جب رحم میں پڑتا ہے تو وہ ہر ہر بال اور ناخن کی جگہ پہنچ جاتا ہے پھر چالیس دن کے بعد اس کی شکل جمے ہوئے خون جیسی ہو جاتی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے باتیں بیان کر رہے تھے کہ ایک یہودی آ گیا تو کفار قریش نے اس سے کہا یہ نبوت کے دعویدار ہیں اس نے کہا اچھا میں ان سے ایک سوال کرتا ہوں جسے نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آ کر بیٹھ کر پوچھتا ہے کہ بتاؤ انسان کی پیدائش کس چیز سے ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مرد عورت کے نطفے سے۔ مرد کا نطفہ غلیظ اور گاڑھا ہوتا ہے اس سے ہڈیاں اور پٹھے بنتے ہیں اور عورت کا نطفہ رقیق اور پتلا ہوتا ہے اس سے گوشت اور خون بنتا ہے۔ اس نے کہا۔ آپ سچے ہیں اگلے نبیوں کا بھی یہی قول ہے۔ [مسند احمد:465/1:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب نطفے کو رحم میں چالیس دن گزر جاتے ہیں تو ایک فرشتہ آتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے دریافت کرتا ہے کہ اے اللہ یہ نیک ہو گا یا بد؟ مرد ہو گا یا عورت؟ جو جواب ملتا ہے وہ لکھ لیتا ہے اور عمل، عمر، اور نرمی گرمی سب کچھ لکھ لیتا ہے پھر دفتر لپیٹ لیا جاتا ہے اس میں پھر کسی کمی بیشی کی گنجائش نہیں رہتی۔ [صحیح مسلم:2644] ‏‏‏‏ حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کیا ہے جو عرض کرتا ہے اے اللہ اب نطفہ ہے، اے اللہ اب لوتھڑا ہے، اے اللہ اب گوشت کا ٹکڑا ہے۔ جب جناب باری تعالیٰ اسے پیدا کرنا چاہتا ہے وہ پوچھتا ہے اے اللہ مرد ہو یا عورت، شکی ہو یا سعید؟ رزق کیا ہے؟ اجل کیا ہے؟ اس کا جواب دیا جاتا ہے اور یہ سب چیزیں لکھ لی جاتی ہیں۔ [صحیح بخاری:6595] ‏‏‏‏

ان سب باتوں اور اتنی کامل قدرتوں کو بیان فرما کر فرمایا کہ سب سے اچھی پیدائش کرنے والا اللہ برکتوں والا ہے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے اپنے رب کی موافقت چار باتوں میں کی ہے جب یہ آیت اتری کہ ہم نے انسان کو بجتی مٹی سے پیدا کیا ہے تو بےساختہ میری زبان سے فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ نکلا اور وہی پھر اترا۔ [مسند طیالسی،41:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر والی آیتیں لکھوا رہے تھے اور «ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ» تک لکھوا چکے تو معاذ رضی اللہ عنہ نے بے ساختہ کہا «فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ» [ 23- المؤمنون: 14 ] ‏‏‏‏ اسے سن کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئیے تو معاذ رضی اللہ عنہما نے دریافت فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کیسے ہنسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس آیت کے خاتمے پر بھی یہی ہے۔ [طبرانی اوسط:11187:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کی سند کا ایک راوی جابر جعفی ہے جو بہت ہی ضعیف ہے اور یہ روایت بالکل منکر ہے۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما کاتب وحی مدینے میں تھے نہ کہ مکے میں معاذ رضی اللہ عنہما کے اسلام کا واقعہ بھی مدینے کا واقعہ ہے اور یہ آیت مکے میں نازل ہوئی ہے پس مندرجہ بالا روایت بالکل منکر ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس پہلی پیدائش کے بعد تم مرنے والے ہو، پھر قیامت کے دن دوسری دفعہ پیدا کئے جاؤ گے، پھر حساب کتاب ہو گا خیر و شر کا بدلہ ملے گا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 16){ ثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ:} انسانی زندگی کے مراحل کو بطور دلیل بیان کرکے اصل بات بیان فرمائی، جسے کافر ناممکن خیال کرتے تھے کہ پھر ایک مدت کے بعد یقینا تم دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے۔ سورۂ حج میں واضح طور پر فرمایا: «‏‏‏‏يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ وَ نُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْـًٔا وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِيْجٍ» ‏‏‏‏ [ الحج: ۵ ] ”اے لوگو! اگر تم اٹھائے جانے کے بارے میں کسی شک میں ہو تو بے شک ہم نے تمھیں حقیر مٹی سے پیدا کیا، پھر ایک قطرے سے، پھر کچھ جمے ہوئے خون سے، پھر گوشت کی ایک بوٹی سے، جس کی پوری شکل بنائی ہوئی ہے اور جس کی پوری شکل نہیں بنائی ہوئی، تاکہ ہم تمھارے لیے واضح کریں اور ہم جسے چاہتے ہیں ایک مقررہ مدت تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں، پھر ہم تمھیں ایک بچے کی صورت میں نکالتے ہیں، پھر تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو قبض کر لیا جاتا ہے اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو سب سے نکمی عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے، تاکہ وہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔ اور تو زمین کو مردہ پڑی ہوئی دیکھتا ہے، پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں تو وہ لہلہاتی ہے اور ابھرتی ہے اور ہر خوبصورت قسم میں سے اگاتی ہے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُوْنَ، قَالُوْا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ! أَرْبَعُوْنَ يَوْمًا؟ قَالَ أَبَيْتُ، قَالَ أَرْبَعُوْنَ سَنَةً؟ قَالَ أَبَيْتُ، قَالَ أَرْبَعُوْنَ شَهْرًا؟ قَالَ أَبَيْتُ، وَيَبْلَہ كُلُّ شَيْءٍ مِنَ الْإِنْسَانِ إِلَّا عَجْبَ ذَنَبِهِ، فِيْهِ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ] [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «و نفخ في الصور…» : ۴۸۱۴ ] ”دو نفخوں کے درمیان چالیس کا عرصہ ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”اے ابوہریرہ! چالیس دن کا؟“ کہا: ”میں نہیں مانتا۔“ انھوں نے کہا: ”چالیس سال کا؟“ کہا: ”میں نہیں مانتا۔“ انھوں نے کہا: ”چالیس ماہ کا؟“ کہا: ”میں نہیں مانتا۔“ (کیونکہ دنیا کے ایام اور ماہ و سال کی بساط تو سورج کے ساتھ ہی لپیٹی جا چکی ہو گی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور انسان کی ہر چیز بوسیدہ ہو جائے گی، مگر اس کی دم کی ہڈی، اسی پر اس مخلوق کو جوڑا جائے گا۔“
وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَکُمۡ سَبۡعَ طَرَآئِقَ ٭ۖ وَ مَا کُنَّا عَنِ الۡخَلۡقِ غٰفِلِیۡنَ ﴿۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور تمہارے اوپر ہم نے سات راستے بنائے، تخلیق کے کام سے ہم کچھ نابلد نہ تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے ہیں اور ہم مخلوقات سے غافل نہیں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے تمہارے اوپر سات راہیں بنائیں اور ہم خلق سے بے خبر نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور یقیناً ہم نے تمہارے اوپر سات راستے (آسمان) پیدا کئے ہیں اور ہم (اپنی) مخلوق سے غافل نہیں تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تمھارے اوپر سات راستے بنائے اور ہم کبھی مخلوق سے غافل نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آسمان کی پیدائش مرحلہ وار ٭٭

انسان کی پیدائش کا ذکر کر کے آسمانوں کی پیدائش کا بیان ہو رہا ہے «لَخَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ» [ 40-غافر: 57 ] ‏‏‏‏ جن کی بناوٹ انسانی بناوٹ سے بہت بڑی بہت بھاری اور بہت بڑی صنعت والی ہے۔ سورۃ «الم سجدہ» [ 32-سورة السجدة: 4 ] ‏‏‏‏ میں بھی اسی کا بیان ہے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن صبح کی نماز کی اول رکعت میں پڑھا کرتے تھے وہاں پہلے آسمان و زمین کی پیدائش کا ذکر ہے پھر انسانی پیدائش کا بیان ہے پھر قیامت کا اور سزا و جزا کا ذکر ہے وغیرہ۔ سات آسمانوں کے بنانے کا ذکر کیا ہے جسے فرمان ہے «تتُـسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّـبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ» [ 17- الإسراء: 44 ] ‏‏‏‏، ساتوں آسمان اور سب زمینیں اور ان کی سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہیں «أَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللَّـهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا» [ 71-نوح: 15 ] ‏‏‏‏ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح اوپر تلے ساتوں آسمانوں کو بنایا ہے۔

«اللَّـهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّـهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا» [ 65-الطلاق: 12 ] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے انہی جیسی زمینیں بھی۔ اس کا حکم ان کے درمیان نازل ہوتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ ہرچیز پر قادر ہے۔ اور تمام چیزوں کو اپنے وسیع علم سے گھیرے ہوئے ہے اللہ اپنی مخلوق سے غافل نہیں۔ جو چیز زمین میں جائے جو زمین سے نکلے اللہ کے علم میں ہے آسمان سے جو اترے اور جو آسمان کی طرف چڑھے وہ جانتا ہے جہاں بھی تم ہو وہ تمہارے ساتھ ہے اور تمہارے ایک ایک عمل کو وہ دیکھ رہا ہے۔ «وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» [ 6-الأنعام: 59 ] ‏‏‏‏ آسمان کی بلند و بالا چیزیں اور زمین کی پوشیدہ چیزیں، اور پہاڑوں کی چوٹیاں، سمندروں، میدانوں، درختوں کی اسے خبر ہے۔ درختوں کا کوئی پتہ نہیں گرتا جو اس کے علم میں نہ ہو کوئی دانہ زمین کی اندھیروں میں ایسا نہیں جاتا جسے وہ نہ جانتا ہو کوئی ترخشک چیز ایسی نہیں جو کھلی کتاب میں نہ ہو۔
17-1طرائق، طریقۃ کی جمع ہے مراد آسمان ہیں عرب، اوپر تلے چیز کو بھی کہتے ہیں آسمان بھی اوپر تلے ہیں اس لئے انھیں طرائق کہا۔ یا طریقہ بمعنی راستہ ہے، آسمان ملائکہ کے آنے جانے یا ستاروں کی گزرگاہ ہے، اس لئے انھیں طرائق قرار ریا۔ 17-2خَلَق سے مراد مخلوق ہے۔ یعنی آسمانوں کو پیدا کر کے ہم اپنی زمینی مخلوق سے غافل نہیں ہوگئے بلکہ ہم نے آسمانوں کو زمین پر گرنے سے محفوظ رکھا ہے تاکہ مخلوق ہلاک نہ ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ مخلوق کی مصلحتوں اور ان کی ضروریات زندگی سے غافل نہیں ہوگئے بلکہ ہم اس کے انتظام کرتے ہیں (فتح القدیر) اور بعض نے یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ زمین سے جو کچھ نکلتا یا داخل ہوتا، اسی طرح آسمان سے جو اترتا اور چڑھتا ہے، سب اس کے علم میں ہے اور ہر چیز پر وہ نظر رکھتا ہے اور ہر جگہ وہ اپنے علم کے لحاظ سے تمہارے ساتھ ہوتا ہے (ابن کثیر)
(آیت 17) ➊ { وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآىِٕقَ:} اللہ تعالیٰ نے موت کے بعد زندگی کی دلیل کے طور پر انسان کی اپنی پیدائش کا ذکر فرمایا، جو غور کرنے والے کے لیے کافی تھی، مگر اس کے بعد اس سے بھی کہیں بڑی مخلوق آسمانوں اور زمین کا اور ان میں رکھی ہوئی نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ قیامت کی دلیل کے طور پر اللہ تعالیٰ اکثر انسان کی پیدائش کے ذکر کے بعد آسمانوں اور زمین کی پیدائش کا ذکر فرماتا ہے اور اس سے پہلے یا بعد قیامت کا ذکر فرماتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ بَنٰىهَا (27) رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَا (28) وَ اَغْطَشَ لَيْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا (38) وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا» [ النازعات: ۲۷ تا ۳۰ ] ”کیا پیدا کرنے میں تم زیادہ مشکل ہو یا آسمان؟ اس نے اسے بنایا۔ اس کی چھت کو بلند کیا، پھر اسے برابر کیا۔ اور اس کی رات کو تاریک کر دیا اور اس کے دن کی روشنی کو ظاہر کر دیا اور زمین، اس کے بعد اسے بچھا دیا۔“ اسی طرح دیکھیے سورۂ مومن (۵۷) اور سورۂ سجدہ کی شروع کی آیات۔ ➋ { فَوْقَكُمْ:} زمین کے کسی حصے پر چلے جاؤ آسمان اوپر ہی ہو گا۔ ➌ {سَبْعَ طَرَآىِٕقَ:” طَرَآىِٕقَ”طَرِيْقَةٌ“} کی جمع ہے۔ {”طَارَقَ يُطَارِقُ“} اور {”أَطْرَقَ“} کا معنی ایک دوسرے پر چڑھانا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ترکوں سے لڑو گے۔“ پھر ان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: [ كَأَنَّ وُجُوْهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطَرَّقَةُ ] [ بخاري، الجہاد والسیر، باب قتال الترک: ۲۹۲۸ ] ”ان کے چہرے (ایسے چوڑے ہوں گے) جیسے وہ ایسی ڈھا لیں ہیں جن پر چمڑا چڑھایا ہوا ہے۔“ {”طَارَقْتُ بَيْنَ الثَّوْبَيْنِ“} ”میں نے دو کپڑے اوپر تلے لیے۔“ مطلب یہ ہے کہ یہ ساتوں آسمان ایک دوسرے کے اوپر ہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا» ‏‏‏‏ [ نوح: ۱۵ ] ”کیا تم نے دیکھا نہیں کہ کس طرح اللہ نے سات آسمانوں کو اوپر تلے پیدا فرمایا۔“ {”طَرَقَ يَطْرُقُ “} (ن){ ”ضَرَبَ“} کے معنی میں بھی آتا ہے، ہتھوڑے کو {”اَلْمِطْرَقَةُ“} اسی لیے کہتے ہیں۔ {”طَرِيْقٌ“} کا ایک معنی راستہ بھی ہے، کیونکہ وہ چلنے والوں کی ٹھوکر میں ہوتا ہے۔ آسمانوں کو {”طَرِيْقَةٌ“} اس لیے بھی کہتے ہیں کہ وہ فرشتوں کی آمد و رفت اور احکام الٰہی کے نزول اور اعمال کے اوپر جانے کے راستے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا» ‏‏‏‏ [ الطلاق: ۱۲ ] ”اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمین سے بھی ان کی مانند۔ان کے درمیان حکم نازل ہوتا ہے، تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے اور یہ کہ اللہ نے یقینا ہر چیز کو علم سے گھیر رکھا ہے۔“ ➍ { وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِيْنَ:كُنَّا “} استمرار (ہمیشگی) کے لیے ہے، اسی لیے ترجمہ میں ”کبھی“ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یعنی ایسا نہیں کہ انسانوں اور آسمانوں کو پیدا کرنے کے بعد ہم ان سے بے خبر اور بے تعلق ہو گئے ہوں، یا انھیں کسی داتا، دستگیر یا گنج بخش کے حوالے کر دیا ہو، نہیں، ایسا نہ کبھی تھا نہ ہو گا۔ ان کا وجود تو قائم ہی ہمارے علم اور ہماری قدرت کی بدولت ہے، جیسا کہ فرمایا: «يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْاَرْضِ وَ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا يَعْرُجُ فِيْهَا وَ هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ» ‏‏‏‏ [ الحدید: ۴ ] ” وہ جانتا ہے جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں چڑھتی ہے اور وہ تمھارے ساتھ ہے، جہاں بھی تم ہو اور اللہ اسے جو تم کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے۔“ اور دیکھیے سورۂ انعام (۵۹)۔
وَ اَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسۡکَنّٰہُ فِی الۡاَرۡضِ ٭ۖ وَ اِنَّا عَلٰی ذَہَابٍۭ بِہٖ لَقٰدِرُوۡنَ ﴿ۚ۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور آسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اتارا اور اس کو زمین میں ٹھیرا دیا ہم اُسے جس طرح چاہیں غائب کر سکتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم ایک صحیح انداز سے آسمان سے پانی برساتے ہیں، پھر اسے زمین میں ٹھہرا دیتے ہیں، اور ہم اس کے لے جانے پر یقیناً قادر ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا ایک اندازہ پر پھر اسے زمین میں ٹھہرایا اور بیشک ہم اس کے لے جانے پر قادر ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ایک خاص اندازہ کے ساتھ آسمان سے پانی برسایا اور اسے زمین میں ٹھہرایا اور یقیناً ہم اسے لے جانے پر بھی قادر ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ کچھ پانی اتارا، پھر اسے زمین میں ٹھہرایا اور یقینا ہم اسے کسی بھی طرح لے جانے پر ضرور قادر ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آسمان سے نزول بارش ٭٭

اللہ تعالیٰ کی یوں تو بےشمار اور ان گنت نعمتیں ہیں۔ لیکن چند بڑی بڑی نعمتوں کا یہاں ذکر ہو رہا ہے کہ وہ آسمان سے بقدر حاجت وضرورت بارش برساتا ہے۔ نہ تو بہت زیادہ کہ زمین خراب ہو جائے اور پیداوار گل سڑ جائے۔ نہ بہت کم کہ پھل اناج وغیرہ پیدا ہی نہ ہو۔ بلکہ اس اندازے سے کہ کھیتی سرسبز رہے، باغات ہرے بھرے رہیں۔ حوض، تالاب، نہریں ندیاں، نالے، دریا بہہ نکلیں نہ پینے کی کمی ہو نہ پلانے کی۔ یہاں تک کہ جس جگہ زیادہ بارش کی ضرورت ہوتی ہے زیادہ ہوتی ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہوتی ہے کم ہوتی ہے اور جہاں کی زمین اس قابل ہی نہیں ہوتی وہاں پانی نہیں برستا لیکن ندیوں اور نالوں کے ذریعہ وہاں قدرت برساتی پانی پہنچا کر وہاں کی زمین کو سیراب کر دیتی ہے۔ جیسے کہ مصر کے علاقہ کی زمین جو دریائے نیل کی تری سے سرسبزوشاداب ہو جاتی ہے۔ اسی پانی کے ساتھ سرخ مٹی کھیچ کر جاتی ہے جو حبشہ کے علاقہ میں ہوتی ہے وہاں کی بارش کے ساتھ مٹی بہہ کر پہنچتی ہے جو زمین پر ٹھہرجاتی ہے اور زمین قابل زراعت ہو جاتی ہے ورنہ وہاں کی شور زمین کھیتی باڑی کے قابل نہیں۔ سبحان اللہ اس لطیف خبیر، اس غفور رحیم اللہ کی کیا کیا قدرتیں اور حکمتیں زمین میں اللہ پانی کو ٹھیرا دیتا ہے زمین میں اس کو چوس لینے اور جذب کر لینے کی قابلیت اللہ تعالیٰ پیدا کر دیتا ہے تاکہ دانوں کو اور گٹھلیوں کو اندر ہی اندر وہ پانی پہنچا دے۔ پھر فرماتا ہے ہم اس کے لے جانے اور دور کر دینے پریعنی نہ برسانے پر بھی قادر ہیں اگر چاہیں شور، سنگلاخ زمین، پہاڑوں اور بے کار بنوں میں برسا دیں۔ اگر چاہیں تو پانی کو کڑوا کر دیں نہ پینے کے قابل رہے نہ پلانے کے، نہ کھیت اور باغات کے مطلب کا رہے، نہ نہانے دھونے کے مقصد کا۔ اگرچاہیں زمین میں وہ قوت ہی نہ رکھیں کہ وہ پانی کو جذب کر لے چوس لے بلکہ پانی اوپر ہی اوپر تیرتا پھرے یہ بھی ہمارے اختیار میں ہے کہ ایسی دوردراز جھیلوں میں پانی پہنچا دیں کہ تمہارے لیے بے کار ہو جائے اور تم کوئی فائدہ اس سے نہ اٹھا سکو۔ یہ خاص اللہ کا فضل و کرم اور اس کا لطف ورحم ہے کہ وہ بادلوں سے میٹھا عمدہ ہلکا اور خوش ذائقہ پانی برساتا ہے پھر اسے زمین میں پہنچاتا ہے اور ادھر ادھر ریل پیل کر دیتا ہے کھیتیاں الگ پکتی ہیں باغات الگ تیار ہوتے ہیں، خود پیتے ہو اپنے جانوروں کو پلاتے ہو نہاتے دھوتے ہو پاکیزگی اور ستھرائی حاصل کرتے ہو «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

آسمانی بارش سے رب العالمین تمہارے لیے روزیاں اگاتا ہے، لہلہاتے ہوئے کھیت ہیں، کہیں سرسبز باغ ہیں جو خوش نما اور خوش منظر ہونے کے علاوہ مفید اور فیض والے ہیں۔ کھجور انگور جو اہل عرب کا دل پسند میوہ ہے۔ اور اسی طرح ہر ملک والوں کے لیے الگ الگ طرح طرح کے میوے اس نے پیدا کر دیے ہیں۔ جن کے حصول کے عوض اللہ کے شکر گزاری بھی کسی کے بس کی نہیں۔ بہت میوے تمہیں اس نے دے رکھے ہیں جن کی خوبصورتی بھی تم دیکھتے ہو اور ان کے ذائقے سے بھی کھا کر فائدہ اٹھاتے ہو۔ پھر زیتوں کے درخت کا ذکر فرمایا۔ طورسینا وہ پہاڑ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے بات چیت کی تھی اور اس کے اردگرد کی پہاڑیاں طور اس پہاڑ کو کہتے ہیں جو ہرا اور درختوں والا ہو ورنہ اسے جبل کہیں گے طور نہیں کہیں گے۔ پس طورسینا میں جو درخت زیتوں پیدا ہوتا ہے اس میں سے تیل نکلتا ہے جو کھانے والوں کو سالن کا کام دیتا ہے۔ حدیث میں ہے زیتوں کا تیل کھاؤ اور لگاؤ وہ مبارک درخت میں سے نکلتا ہے [مسند احمد:497/3:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک صاحب عاشورہ کی شب کو مہمان بن کر آئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں اونٹ کی سری اور زیتون کھلایا اور فرمایا یہ اس مبارک درخت کا تیل ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہے۔ [سنن ترمذي:1851،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر چوپایوں کا ذکر ہو رہا ہے اور ان سے جو فوائد انسان اٹھا رہے ہیں، ان پر سوار ہوتے ہیں ان پر اپنا سامان اسباب لادتے ہیں اور دوردراز تک پہنچتے ہیں کہ یہ نہ ہوتے تو وہاں تک پہچنے میں جان آدھی رہ جاتی۔ بیشک اللہ تعالیٰ بندوں پر مہربانی اور رحمت والا ہے جیسے فرمان ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَيْدِيْنَآ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ» [ 36- يس: 71 ] ‏‏‏‏ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ خود ہم نے انہیں چوپایوں کا مالک بنا رکھا ہے کہ یہ ان کے گوشت کھائیں ان پر سواریاں لیں اور طرح طرح کہ نفع حاصل کریں کیا اب بھی ان پر ہماری شکر گزاری واجب نہیں؟ یہ خشکی کی سواریاں ہیں پھر تری کی سواریاں کشتی جہاز وغیرہ الگ ہیں۔
18-1یعنی نہ زیادہ کہ جس سے تباہی پھیل جائے اور نہ اتنا کم کہ پیداوار اور دیگر ضروریات کے لئے کافی نہ ہو۔ 18-2یعنی یہ انتطام بھی کیا کہ سارا پانی برس کر فوراً بہہ نہ جائے اور ختم نہ ہوجائے بلکہ ہم نے چشموں، نہروں، دریاؤں اور تالابوں اور کنوؤں کی شکل میں اسے محفوظ بھی کیا، تاکہ ان ایام میں جب بارشیں نہ ہوں، یا ایسے علاقے میں جہاں بارش کم ہوتی ہے اور پانی کی ضرورت زیادہ ہے، ان سے پانی حاصل کرلیا جائے۔ 18-3یعنی جس طرح ہم اپنے فضل و کرم سے پانی کا ایسا وسیع انتظام کیا ہے، وہیں ہم اس بات پر بھی قادر ہیں کہ پانی کی سطح اتنی نیچی کردیں کہ تمہارے لئے پانی کا حصول ناممکن ہوجائے۔
(آیت 18) ➊ {وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ:} آسمان کی پیدائش کے بعد اپنی مزید نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ پانی بذات خود بہت بڑی نعمت ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ }» [ الأنبیاء: ۳۰ ] ”اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز بنائی۔“ اس آیت میں پانی اتارنے کی عظیم نعمت کے ذکر کے بعد اس کے متعلق تین باتیں فرمائیں، چنانچہ فرمایا کہ ہم نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ کچھ پانی اتارا، جس سے انسان، حیوان، کھیت اور درخت سیراب ہو سکیں۔ میدانوں، صحراؤں اور پہاڑوں میں زندگی باقی رہ سکے اور سمندروں اور ندی نالوں کی ضرورت پوری ہو سکے، کیونکہ اگر اس مخصوص مقدار سے زیادہ بارش برستی تو سمندر خشکی پر چڑھ کر زندگی کا سلسلہ نیست و نابود کر دیتے اور اگر کم برستی تو انسان، حیوان، درخت اور کھیت زندہ نہ رہ سکتے۔ دوسری جگہ فرمایا کہ صرف پانی ہی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز مخصوص مقدار میں اتارتا ہے، نہ ضرورت سے زیادہ نہ کم، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآىِٕنُهٗ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ }» [ الحجر: ۲۱ ] ”اور کوئی بھی چیز نہیں مگر ہمارے پاس اس کے کئی خزانے ہیں اور ہم اسے نہیں اتارتے مگر ایک معلوم اندازے سے۔“ مستدرک حاکم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے: [ مَا مِنْ عَامٍ أَمْطَرَ مِنْ عَامٍ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يُصَرِّفُهُ حَيْثُ يَشَاءُ ثُمَّ قَرَأَ: «{ وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوْا }» الفرقان: ۵۰ ] [ مستدرک حاکم: 403/2، ح: ۳۵۲۰۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: 460/5، ح: ۲۴۶۱ ] ”کوئی سال ایسا نہیں جس میں دوسرے کسی سال کی نسبت بارش زیادہ ہوتی ہو، لیکن اللہ تعالیٰ جہاں چاہتا ہے بارش میں کمی بیشی کرتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ”اور بلاشبہ یقینا ہم نے اسے ان کے درمیان پھیر پھیر کر بھیجا، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔“ ➋ { فَاَسْكَنّٰهُ فِي الْاَرْضِ:} دوسری بات یہ کہ آسمانوں سے برسنے والا پانی اللہ کے حکم سے مختلف صورتوں میں زمین پر ٹھہر جاتا ہے۔ اس میں سے کچھ چشموں کی صورت میں نمودار ہو جاتا ہے، کچھ زیر زمین محفوظ ہو جاتا ہے، جسے لوگ کنووں وغیرہ کی صورت میں نکال کر استعمال کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ يَنَابِيْعَ فِي الْاَرْضِ }» [الزمر: ۲۱ ] ”کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے کچھ پانی اتارا، پھر اسے چشموں کی صورت زمین میں چلایا۔“ اور کچھ پانی ندی نالوں اور دریاؤں کی صورت اختیار کر جاتا ہے جس سے لوگ اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں، خود پیتے ہیں، غسل کرتے ہیں، کپڑے وغیرہ دھوتے ہیں، جانوروں کو پلاتے ہیں، کھیتیاں اور باغات سیراب کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِيَةٌۢ بِقَدَرِهَا }» [ الرعد: ۱۷] ”اس نے آسمان سے کچھ پانی اتارا تو کئی نالے اپنی اپنی وسعت کے مطابق بہ نکلے۔“ اور بارش کا کچھ پانی سمندر کی صورت میں ذخیرہ ہو جاتا ہے، جو دوبارہ بارش کا اور انسان کے بے شمار منافع و فوائد کا ذریعہ بنتا ہے۔ ➌ {وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَ:} تیسری بات یہ کہ جس طرح ہم نے پانی اتارا ہے اسے لے جا بھی سکتے ہیں، پھر کون ہے جو اسے واپس لا سکے؟ {” ذَهَابٍ“} کی تنوین میں نکرہ کے عموم کی وجہ سے ترجمہ کیا ہے کہ ”ہم اسے کسی بھی طرح لے جانے پر قادر ہیں۔“ مثلاً ہم بارش روک دیں، یا برسنے والا پانی گندا کر دیں جو پینے اور استعمال کے قابل ہی نہ رہے، یا جس طرح یہ آکسیجن اور ہائیڈروجن کا مرکب ہے تو {”كُنْ“} کہہ کر اسے پھر گیس میں بدل دیں، یا زمین میں اتنا گہرا لے جائیں کہ تم نکال ہی نہ سکو، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ يَّاْتِيْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِيْنٍ» ‏‏‏‏ [ الملک: ۳۰ ] ”کہہ دے کیا تم نے دیکھا اگر تمھارا پانی گہرا چلا جائے تو کون ہے جو تمھارے پاس بہتا ہوا پانی لائے گا؟“ یا اسے سخت نمکین بنا دیں جو پیا ہی نہ جا سکے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اَفَرَءَيْتُمُ الْمَآءَ الَّذِيْ تَشْرَبُوْنَ (68) ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ (69) لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْ لَا تَشْكُرُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الواقعۃ: ۶۸ تا ۷۰ ] ”پھر کیا تم نے دیکھا وہ پانی جو تم پیتے ہو؟ کیا تم نے اسے بادل سے اتارا ہے، یا ہم ہی اتارنے والے ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے سخت نمکین بنادیں، پھر تم شکر ادا کیوں نہیں کرتے؟“ یا اس میں سے وہ برکت نکال لیں جو ان لوگوں کو عطا ہوتی ہے جنھیں ہم عطا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ آیت سورۂ ملک کی آیت (۳۰): «‏‏‏‏قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا» ‏‏‏‏ سے زیادہ وسعت رکھتی ہے۔ صاحب روح المعانی نے زیر تفسیر آیت کے سورۂ ملک کی آیت سے زیادہ بلیغ ہونے کی اٹھارہ وجہیں ”التقریب لتفسیر التحریر والتنویر للطاہر ابن عاشور“ سے نقل کرنے کے بعد مزید بارہ وجہیں ذکر کرکے انھیں تیس تک پہنچا دیا ہے۔ صاحب ذوق حضرات وہاں ملاحظہ فرمائیں۔
فَاَنۡشَاۡنَا لَکُمۡ بِہٖ جَنّٰتٍ مِّنۡ نَّخِیۡلٍ وَّ اَعۡنَابٍ ۘ لَکُمۡ فِیۡہَا فَوَاکِہُ کَثِیۡرَۃٌ وَّ مِنۡہَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿ۙ۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اس پانی کے ذریعہ سے ہم نے تمہارے لیے کھجور اور انگور کے باغ پیدا کر دیے، تمہارے لیے ان باغوں میں بہت سے لذیذ پھل ہیں اور ان سے تم روزی حاصل کرتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اسی پانی کے ذریعہ سے ہم تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کردیتے ہیں، کہ تمہارے لئے ان میں بہت سے میوے ہوتے ہیں ان ہی میں سے تم کھاتے بھی ہو
احمد رضا خان بریلوی
تو اس سے ہم نے تمہارے باغ پیدا کیے کھجوروں اور انگوروں کے تمہارے لیے ان میں بہت سے میوے ہیں اور ان میں سے کھاتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغات اگائے ان باغوں میں تمہارے لئے بہت سے پھل ہیں اور ان میں سے تم کھاتے بھی ہو۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ہم نے تمھارے لیے اس کے ساتھ کھجوروں اور انگوروں کے کئی باغ پیدا کیے، تمھارے لیے ان میں بہت سے لذیذ پھل ہیں اور انھی سے تم کھاتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آسمان سے نزول بارش ٭٭

اللہ تعالیٰ کی یوں تو بےشمار اور ان گنت نعمتیں ہیں۔ لیکن چند بڑی بڑی نعمتوں کا یہاں ذکر ہو رہا ہے کہ وہ آسمان سے بقدر حاجت وضرورت بارش برساتا ہے۔ نہ تو بہت زیادہ کہ زمین خراب ہو جائے اور پیداوار گل سڑ جائے۔ نہ بہت کم کہ پھل اناج وغیرہ پیدا ہی نہ ہو۔ بلکہ اس اندازے سے کہ کھیتی سرسبز رہے، باغات ہرے بھرے رہیں۔ حوض، تالاب، نہریں ندیاں، نالے، دریا بہہ نکلیں نہ پینے کی کمی ہو نہ پلانے کی۔ یہاں تک کہ جس جگہ زیادہ بارش کی ضرورت ہوتی ہے زیادہ ہوتی ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہوتی ہے کم ہوتی ہے اور جہاں کی زمین اس قابل ہی نہیں ہوتی وہاں پانی نہیں برستا لیکن ندیوں اور نالوں کے ذریعہ وہاں قدرت برساتی پانی پہنچا کر وہاں کی زمین کو سیراب کر دیتی ہے۔ جیسے کہ مصر کے علاقہ کی زمین جو دریائے نیل کی تری سے سرسبزوشاداب ہو جاتی ہے۔ اسی پانی کے ساتھ سرخ مٹی کھیچ کر جاتی ہے جو حبشہ کے علاقہ میں ہوتی ہے وہاں کی بارش کے ساتھ مٹی بہہ کر پہنچتی ہے جو زمین پر ٹھہرجاتی ہے اور زمین قابل زراعت ہو جاتی ہے ورنہ وہاں کی شور زمین کھیتی باڑی کے قابل نہیں۔ سبحان اللہ اس لطیف خبیر، اس غفور رحیم اللہ کی کیا کیا قدرتیں اور حکمتیں زمین میں اللہ پانی کو ٹھیرا دیتا ہے زمین میں اس کو چوس لینے اور جذب کر لینے کی قابلیت اللہ تعالیٰ پیدا کر دیتا ہے تاکہ دانوں کو اور گٹھلیوں کو اندر ہی اندر وہ پانی پہنچا دے۔ پھر فرماتا ہے ہم اس کے لے جانے اور دور کر دینے پریعنی نہ برسانے پر بھی قادر ہیں اگر چاہیں شور، سنگلاخ زمین، پہاڑوں اور بے کار بنوں میں برسا دیں۔ اگر چاہیں تو پانی کو کڑوا کر دیں نہ پینے کے قابل رہے نہ پلانے کے، نہ کھیت اور باغات کے مطلب کا رہے، نہ نہانے دھونے کے مقصد کا۔ اگرچاہیں زمین میں وہ قوت ہی نہ رکھیں کہ وہ پانی کو جذب کر لے چوس لے بلکہ پانی اوپر ہی اوپر تیرتا پھرے یہ بھی ہمارے اختیار میں ہے کہ ایسی دوردراز جھیلوں میں پانی پہنچا دیں کہ تمہارے لیے بے کار ہو جائے اور تم کوئی فائدہ اس سے نہ اٹھا سکو۔ یہ خاص اللہ کا فضل و کرم اور اس کا لطف ورحم ہے کہ وہ بادلوں سے میٹھا عمدہ ہلکا اور خوش ذائقہ پانی برساتا ہے پھر اسے زمین میں پہنچاتا ہے اور ادھر ادھر ریل پیل کر دیتا ہے کھیتیاں الگ پکتی ہیں باغات الگ تیار ہوتے ہیں، خود پیتے ہو اپنے جانوروں کو پلاتے ہو نہاتے دھوتے ہو پاکیزگی اور ستھرائی حاصل کرتے ہو «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

آسمانی بارش سے رب العالمین تمہارے لیے روزیاں اگاتا ہے، لہلہاتے ہوئے کھیت ہیں، کہیں سرسبز باغ ہیں جو خوش نما اور خوش منظر ہونے کے علاوہ مفید اور فیض والے ہیں۔ کھجور انگور جو اہل عرب کا دل پسند میوہ ہے۔ اور اسی طرح ہر ملک والوں کے لیے الگ الگ طرح طرح کے میوے اس نے پیدا کر دیے ہیں۔ جن کے حصول کے عوض اللہ کے شکر گزاری بھی کسی کے بس کی نہیں۔ بہت میوے تمہیں اس نے دے رکھے ہیں جن کی خوبصورتی بھی تم دیکھتے ہو اور ان کے ذائقے سے بھی کھا کر فائدہ اٹھاتے ہو۔ پھر زیتوں کے درخت کا ذکر فرمایا۔ طورسینا وہ پہاڑ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے بات چیت کی تھی اور اس کے اردگرد کی پہاڑیاں طور اس پہاڑ کو کہتے ہیں جو ہرا اور درختوں والا ہو ورنہ اسے جبل کہیں گے طور نہیں کہیں گے۔ پس طورسینا میں جو درخت زیتوں پیدا ہوتا ہے اس میں سے تیل نکلتا ہے جو کھانے والوں کو سالن کا کام دیتا ہے۔ حدیث میں ہے زیتوں کا تیل کھاؤ اور لگاؤ وہ مبارک درخت میں سے نکلتا ہے [مسند احمد:497/3:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک صاحب عاشورہ کی شب کو مہمان بن کر آئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں اونٹ کی سری اور زیتون کھلایا اور فرمایا یہ اس مبارک درخت کا تیل ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہے۔ [سنن ترمذي:1851،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر چوپایوں کا ذکر ہو رہا ہے اور ان سے جو فوائد انسان اٹھا رہے ہیں، ان پر سوار ہوتے ہیں ان پر اپنا سامان اسباب لادتے ہیں اور دوردراز تک پہنچتے ہیں کہ یہ نہ ہوتے تو وہاں تک پہچنے میں جان آدھی رہ جاتی۔ بیشک اللہ تعالیٰ بندوں پر مہربانی اور رحمت والا ہے جیسے فرمان ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَيْدِيْنَآ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ» [ 36- يس: 71 ] ‏‏‏‏ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ خود ہم نے انہیں چوپایوں کا مالک بنا رکھا ہے کہ یہ ان کے گوشت کھائیں ان پر سواریاں لیں اور طرح طرح کہ نفع حاصل کریں کیا اب بھی ان پر ہماری شکر گزاری واجب نہیں؟ یہ خشکی کی سواریاں ہیں پھر تری کی سواریاں کشتی جہاز وغیرہ الگ ہیں۔
19-1یعنی ان باغوں میں انگور اور کھجور کے علاوہ اور بہت سے پھل ہوتے ہیں، جن سے تم لذت اندوز ہوتے ہو اور کچھ کھاتے ہو۔
(آیت 19) ➊ { فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ:} پانی اتارنے کے ذکر کے بعد حیات بعد الموت پر دلالت کرنے والی چند چیزیں ذکر فرمائیں، پہلی یہ کہ ہم نے اس پانی کے ساتھ (اپنے لیے نہیں بلکہ) تمھارے لیے کئی قسم کے باغات پیدا فرمائے۔ ➋ { مِنْ نَّخِيْلٍ وَّ اَعْنَابٍ:نَخِيْلٍ “} کھجور کے درخت، {” اَعْنَابٍ”عِنَبٌ“} کی جمع ہے، انگور کا پھل۔ کھجور اور انگور کا خصوصاً ذکر ان کے بے شمار فوائد کی وجہ سے فرمایا، کیونکہ انھیں دوسرے تمام پھلوں پر برتری حاصل ہے، جیسا کہ فرشتوں میں جبریل اور میکال کا خصوصاً الگ ذکر کیا، فرمایا: «‏‏‏‏مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِيْلَ وَ مِيْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِيْنَ» [ البقرۃ: ۹۸ ] ”جو کوئی اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکال کا دشمن ہو تو بے شک اللہ کافروں کا دشمن ہے۔“ اور اس لیے بھی کہ عرب میں یہ دونوں پھل زیادہ پائے جاتے ہیں۔ انگور کے پھل کے ذکر سے پہلے کھجور کے پھل کے بجائے اس کے درخت کا ذکر فرمایا، کیونکہ کھجور کا درخت پھل کے علاوہ بھی بہت سے فوائد رکھتا ہے۔ اس کا ہر حصہ کارآمد ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے شجرۂ طیبہ قرار دے کر کلمہ طیبہ کی مثال اس کے ساتھ دی ہے، فرمایا: «‏‏‏‏اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ» [ إبراھیم: ۲۴ ] ”کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے ایک پاکیز ہ کلمہ کی مثال کیسے بیان فرمائی (کہ وہ) ایک پاکیزہ درخت کی طرح ہے۔“ کھجور کے درخت کے ضمن میں وہ تمام درخت بھی آ گئے جن کے پھل پھول، پتے، چھال اور لکڑی ہر چیز کارآمد ہے۔ ➌ {لَكُمْ فِيْهَا فَوَاكِهُ كَثِيْرَةٌ …:} اللہ تعالیٰ اپنے احسانات کی طرف توجہ دلانے کے لیے بار بار {” لَكُمْ “} کا لفظ دہرا رہے ہیں کہ یہ سب کچھ تمھارے لیے ہے، ہمارے لیے نہیں، یعنی تمھارے لیے ان باغات میں کھجور کے درختوں اور انگوروں کے علاوہ بہت سے لذیذ پھل ہیں۔ ➍ { وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ:} اس جملے کے جملہ اسمیہ پر عطف سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے ایک جملہ فعلیہ محذوف ہے: {”أَيْ مِنْهَا «وَ هِيَ طَرِيَّةٌ» تَتَفَكَّهُوْنَ وَ مِنْهَا تَأْكُلُوْنَ“} یعنی تم ان کے بعض سے تازہ ہونے کی حالت میں لذت حاصل کرتے ہو اور خشک کرکے یا رس اور روغن نکال کر بعد میں بھی اور یہی تمھاری خوراک کا ایک حصہ بنتے ہیں۔ (بقاعی) {” مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ “} میں یہ بھی شامل ہے کہ انھی کی آمدنی سے سارا سال تمھارے کھانے پینے اور دوسری ضروریات زندگی کا بند و بست ہوتا ہے۔
وَ شَجَرَۃً تَخۡرُجُ مِنۡ طُوۡرِ سَیۡنَآءَ تَنۡۢبُتُ بِالدُّہۡنِ وَ صِبۡغٍ لِّلۡاٰکِلِیۡنَ ﴿۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور وہ درخت بھی ہم نے پیدا کیا جو طور سیناء سے نکلتا ہے، تیل بھی لیے ہوئے اگتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن بھی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وه درخت جو طور سینا پہاڑ سے نکلتا ہے جو تیل نکالتا ہے اور کھانے والے کے لئے سالن ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ پیڑ پیدا کیا کہ طور سینا سے نکلتا ہے لے کر اگتا ہے تیل اور کھانے والوں کے لیے سالن
علامہ محمد حسین نجفی
اور (ہم نے) ایک درخت ایسا بھی (پیدا کیا) جو طور سینا سے نکلتا ہے (زیتون کا درخت) جو کھانے والوں کیلئے تیل اور سالن لے کر اگتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ درخت بھی جو طور سینا سے نکلتا ہے، تیل لے کر اگتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن بھی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آسمان سے نزول بارش ٭٭

اللہ تعالیٰ کی یوں تو بےشمار اور ان گنت نعمتیں ہیں۔ لیکن چند بڑی بڑی نعمتوں کا یہاں ذکر ہو رہا ہے کہ وہ آسمان سے بقدر حاجت وضرورت بارش برساتا ہے۔ نہ تو بہت زیادہ کہ زمین خراب ہو جائے اور پیداوار گل سڑ جائے۔ نہ بہت کم کہ پھل اناج وغیرہ پیدا ہی نہ ہو۔ بلکہ اس اندازے سے کہ کھیتی سرسبز رہے، باغات ہرے بھرے رہیں۔ حوض، تالاب، نہریں ندیاں، نالے، دریا بہہ نکلیں نہ پینے کی کمی ہو نہ پلانے کی۔ یہاں تک کہ جس جگہ زیادہ بارش کی ضرورت ہوتی ہے زیادہ ہوتی ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہوتی ہے کم ہوتی ہے اور جہاں کی زمین اس قابل ہی نہیں ہوتی وہاں پانی نہیں برستا لیکن ندیوں اور نالوں کے ذریعہ وہاں قدرت برساتی پانی پہنچا کر وہاں کی زمین کو سیراب کر دیتی ہے۔ جیسے کہ مصر کے علاقہ کی زمین جو دریائے نیل کی تری سے سرسبزوشاداب ہو جاتی ہے۔ اسی پانی کے ساتھ سرخ مٹی کھیچ کر جاتی ہے جو حبشہ کے علاقہ میں ہوتی ہے وہاں کی بارش کے ساتھ مٹی بہہ کر پہنچتی ہے جو زمین پر ٹھہرجاتی ہے اور زمین قابل زراعت ہو جاتی ہے ورنہ وہاں کی شور زمین کھیتی باڑی کے قابل نہیں۔ سبحان اللہ اس لطیف خبیر، اس غفور رحیم اللہ کی کیا کیا قدرتیں اور حکمتیں زمین میں اللہ پانی کو ٹھیرا دیتا ہے زمین میں اس کو چوس لینے اور جذب کر لینے کی قابلیت اللہ تعالیٰ پیدا کر دیتا ہے تاکہ دانوں کو اور گٹھلیوں کو اندر ہی اندر وہ پانی پہنچا دے۔ پھر فرماتا ہے ہم اس کے لے جانے اور دور کر دینے پریعنی نہ برسانے پر بھی قادر ہیں اگر چاہیں شور، سنگلاخ زمین، پہاڑوں اور بے کار بنوں میں برسا دیں۔ اگر چاہیں تو پانی کو کڑوا کر دیں نہ پینے کے قابل رہے نہ پلانے کے، نہ کھیت اور باغات کے مطلب کا رہے، نہ نہانے دھونے کے مقصد کا۔ اگرچاہیں زمین میں وہ قوت ہی نہ رکھیں کہ وہ پانی کو جذب کر لے چوس لے بلکہ پانی اوپر ہی اوپر تیرتا پھرے یہ بھی ہمارے اختیار میں ہے کہ ایسی دوردراز جھیلوں میں پانی پہنچا دیں کہ تمہارے لیے بے کار ہو جائے اور تم کوئی فائدہ اس سے نہ اٹھا سکو۔ یہ خاص اللہ کا فضل و کرم اور اس کا لطف ورحم ہے کہ وہ بادلوں سے میٹھا عمدہ ہلکا اور خوش ذائقہ پانی برساتا ہے پھر اسے زمین میں پہنچاتا ہے اور ادھر ادھر ریل پیل کر دیتا ہے کھیتیاں الگ پکتی ہیں باغات الگ تیار ہوتے ہیں، خود پیتے ہو اپنے جانوروں کو پلاتے ہو نہاتے دھوتے ہو پاکیزگی اور ستھرائی حاصل کرتے ہو «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

آسمانی بارش سے رب العالمین تمہارے لیے روزیاں اگاتا ہے، لہلہاتے ہوئے کھیت ہیں، کہیں سرسبز باغ ہیں جو خوش نما اور خوش منظر ہونے کے علاوہ مفید اور فیض والے ہیں۔ کھجور انگور جو اہل عرب کا دل پسند میوہ ہے۔ اور اسی طرح ہر ملک والوں کے لیے الگ الگ طرح طرح کے میوے اس نے پیدا کر دیے ہیں۔ جن کے حصول کے عوض اللہ کے شکر گزاری بھی کسی کے بس کی نہیں۔ بہت میوے تمہیں اس نے دے رکھے ہیں جن کی خوبصورتی بھی تم دیکھتے ہو اور ان کے ذائقے سے بھی کھا کر فائدہ اٹھاتے ہو۔ پھر زیتوں کے درخت کا ذکر فرمایا۔ طورسینا وہ پہاڑ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے بات چیت کی تھی اور اس کے اردگرد کی پہاڑیاں طور اس پہاڑ کو کہتے ہیں جو ہرا اور درختوں والا ہو ورنہ اسے جبل کہیں گے طور نہیں کہیں گے۔ پس طورسینا میں جو درخت زیتوں پیدا ہوتا ہے اس میں سے تیل نکلتا ہے جو کھانے والوں کو سالن کا کام دیتا ہے۔ حدیث میں ہے زیتوں کا تیل کھاؤ اور لگاؤ وہ مبارک درخت میں سے نکلتا ہے [مسند احمد:497/3:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک صاحب عاشورہ کی شب کو مہمان بن کر آئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں اونٹ کی سری اور زیتون کھلایا اور فرمایا یہ اس مبارک درخت کا تیل ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہے۔ [سنن ترمذي:1851،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر چوپایوں کا ذکر ہو رہا ہے اور ان سے جو فوائد انسان اٹھا رہے ہیں، ان پر سوار ہوتے ہیں ان پر اپنا سامان اسباب لادتے ہیں اور دوردراز تک پہنچتے ہیں کہ یہ نہ ہوتے تو وہاں تک پہچنے میں جان آدھی رہ جاتی۔ بیشک اللہ تعالیٰ بندوں پر مہربانی اور رحمت والا ہے جیسے فرمان ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَيْدِيْنَآ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ» [ 36- يس: 71 ] ‏‏‏‏ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ خود ہم نے انہیں چوپایوں کا مالک بنا رکھا ہے کہ یہ ان کے گوشت کھائیں ان پر سواریاں لیں اور طرح طرح کہ نفع حاصل کریں کیا اب بھی ان پر ہماری شکر گزاری واجب نہیں؟ یہ خشکی کی سواریاں ہیں پھر تری کی سواریاں کشتی جہاز وغیرہ الگ ہیں۔
20-1اس سے زیتون کا درخت مراد ہے، جس کا روغن تیل کے طور پر اور پھل سالن کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ سالن کو صِبْغٍ، ُ رنگ کہا ہے کیونکہ روٹی، سالن میں ڈبو کر، گویا رنگی جاتی ہے۔ طُوْرِ سَیْنَآءَ (پہاڑ) اور اس کا قرب و جوار خاص طور پر اس کی عمدہ قسم کی پیداوار کا علاقہ ہے۔
(آیت 20) ➊ { وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَيْنَآءَ:} طور ایک مخصوص پہاڑ کا نام ہے۔ طور کا معنی پہاڑ بھی ہے۔ بعض نے کہا کہ طور وہ پہاڑ ہے جس پر درخت اگتے ہوں۔ سیناء اس پہاڑ کا نام ہے، جیسا کہ جبلِ احد کہتے ہیں، یا {”جَبَلَا طَيْءٍ“} (بنو طے کے دو پہاڑ) کہتے ہیں۔ امام طبری نے فرمایا: ”اور ہم نے تمھارے لیے وہ درخت بھی پیدا کیا جو طور سیناء سے نکلتا ہے، یعنی اس پہاڑ سے جس پر درخت اگتے ہیں۔ مراد زیتون کا درخت ہے۔“ اعراب القرآن و بیانہ از درویش میں ہے: ”سیناء ایک شبہ جزیرہ ہے، جس کی حد شمال میں بحر ابیض متوسط ہے اور مغرب میں نہر سویز اور خلیج سویز ہے اور مشرق میں فلسطین اور خلیج عقبہ ہے اور جنوب میں وہ بحر احمر میں ”رأس محمد “ کے پاس ختم ہوتا ہے اور سیناء ایک پہاڑ ہے جو شبہ جزیرہ سیناء میں جنوب کی طرف واقع ہے اور درخت سے مراد زیتون کا درخت ہے اور اسے طور سیناء کے ساتھ اس لیے خاص کیا گیا ہے کہ اس کا اصل وطن وہ ہے جہاں سے وہ دوسرے مقامات پر منتقل ہوا۔“ کھجور اور انگور کے بعد زیتون کا خصوصیت کے ساتھ ذکر اس کے کثیر فوائد کی وجہ سے فرمایا۔ شام اور فلسطین اس کا اصلی وطن ہیں اور وہاں کا زیتون بہت عمدہ ہوتا ہے۔ شام میں زیتون اتنی کثرت سے ہے کہ گھروں، کھیتوں اور سڑکوں کے کناروں وغیرہ پر خود بخود اگا ہوا ملتا ہے۔ اس درخت کی عمر بہت زیادہ ہوتی ہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے: ”یہ ڈیڑھ دو ہزار برس تک چلتا ہے، حتیٰ کہ فلسطین کے بعض درختوں کا قد و قامت اور پھیلاؤ دیکھ کر اندازہ کیا گیا ہے کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے اب تک چلے آ رہے ہیں۔“ (واللہ اعلم) سورۂ نور میں اللہ تعالیٰ نے اسے شجرۂ مبارکہ قرار دیا ہے، اس کے تیل کی تعریف میں فرمایا: «‏‏‏‏يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ» ‏‏‏‏ [ النور: ۳۵ ] ”اس کا تیل قریب ہے کہ روشن ہو جائے، خواہ اسے آگ نے نہ چھوا ہو۔“ اور سورۃ التین میں اس کی قسم کھائی ہے۔ ➋ { تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِيْنَ:} زیتون میں اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کی قدرت کا کمال دیکھیے کہ پانی سے سیراب ہوتا ہے اور اپنے ہمراہ تیل کا خزانہ اور کھانے والوں کے لیے ایک طرح کا سالن لے کر اگتا ہے۔ {” صِبْغٍ “} نکرہ ہے، اس لیے ترجمہ ”ایک طرح کا سالن“ کیا گیا ہے، کیونکہ سالن بے شمار ہیں اور اس سے عمدہ اور لذیذ بھی ہیں۔ (بقاعی) اس کا تیل کھانا پکانے، سالن کے طور پر کھانے، جسم پر لگانے اور دوسری ضروریات میں کام آتا ہے اور اس کا پھل اچار کی صورت میں بھی کھانے کے کام آتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوْا بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ ] [ ترمذي، الأطعمۃ، باب ما جاء في أکل الزیت: ۱۸۵۱۔ صححہ الألباني في الصحیحۃ: ۳۷۹ ] ”زیتون کھاؤ اور اس کا تیل استعمال کرو، کیونکہ یہ ایک مبارک درخت سے ہے۔“ ابن حبان نے فرمایا: ”کھجور، انگور اور زیتون کا خاص طور پر اس لیے ذکر فرمایا: {”لِأَنَّهَا أَكْرَمُ الشَّجَرِ وَ أَجْمَعُهَا لِلْمُنَافِعِ“} ”کیونکہ یہ تمام درختوں سے زیادہ عمدہ ہیں اور سب سے زیادہ فوائد کے جامع ہیں۔“ [ البحر المحیط ] ➌ اگرچہ یہاں صرف زیتون کا ذکر کیا گیا ہے، مگر اس کے ضمن میں وہ تمام درخت اور پودے بھی آ گئے جن سے انسان اپنی روغنیات کی ضرورت حاصل کرتا ہے اور جنھیں کھانے کے لازمہ کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
وَ اِنَّ لَکُمۡ فِی الۡاَنۡعَامِ لَعِبۡرَۃً ؕ نُسۡقِیۡکُمۡ مِّمَّا فِیۡ بُطُوۡنِہَا وَ لَکُمۡ فِیۡہَا مَنَافِعُ کَثِیۡرَۃٌ وَّ مِنۡہَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿ۙ۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے مویشیوں میں بھی ایک سبق ہے ان کے پیٹوں میں جو کچھ ہے اسی میں سے ایک چیز ہم تمہیں پلاتے ہیں، اور تمہارے لیے ان میں بہت سے دوسرے دُوسرے فائدے بھی ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
تمہارے لئے چوپایوں میں بھی بڑی بھاری عبرت ہے۔ ان کے پیٹوں میں سے ہم تمہیں دودھ پلاتے ہیں اور بھی بہت سے نفع تمہارے لئے ان میں ہیں ان میں سے بعض بعض کو تم کھاتے بھی ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک تمہارے لیے چوپایوں میں سمجھنے کا مقام ہے، ہم تمہیں پلاتے ہیں اس میں سے جو ان کے پیٹ میں ہے اور تمہارے لیے ان میں بہت فائدے ہیں اور ان سے تمہاری خوراک ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور تمہارے لئے چوپایوں میں بڑا سامانِ عبرت ہے ہم تمہیں اس سے (دودھ) پلاتے ہیں جو ان کے پیٹوں میں ہے اور تمہارے لئے ان میں اور بہت سے فائدے ہیں اور انہی کے (گوشت) سے تم کھاتے بھی ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ تمھارے لیے چوپاؤں میں یقینا بڑی عبرت ہے، ہم تمھیں اس میں سے جو ان کے پیٹوں میں ہے، پلاتے ہیں اور تمھارے لیے ان میں بہت سے فائدے ہیں اور انھی سے تم کھاتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آسمان سے نزول بارش ٭٭

اللہ تعالیٰ کی یوں تو بےشمار اور ان گنت نعمتیں ہیں۔ لیکن چند بڑی بڑی نعمتوں کا یہاں ذکر ہو رہا ہے کہ وہ آسمان سے بقدر حاجت وضرورت بارش برساتا ہے۔ نہ تو بہت زیادہ کہ زمین خراب ہو جائے اور پیداوار گل سڑ جائے۔ نہ بہت کم کہ پھل اناج وغیرہ پیدا ہی نہ ہو۔ بلکہ اس اندازے سے کہ کھیتی سرسبز رہے، باغات ہرے بھرے رہیں۔ حوض، تالاب، نہریں ندیاں، نالے، دریا بہہ نکلیں نہ پینے کی کمی ہو نہ پلانے کی۔ یہاں تک کہ جس جگہ زیادہ بارش کی ضرورت ہوتی ہے زیادہ ہوتی ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہوتی ہے کم ہوتی ہے اور جہاں کی زمین اس قابل ہی نہیں ہوتی وہاں پانی نہیں برستا لیکن ندیوں اور نالوں کے ذریعہ وہاں قدرت برساتی پانی پہنچا کر وہاں کی زمین کو سیراب کر دیتی ہے۔ جیسے کہ مصر کے علاقہ کی زمین جو دریائے نیل کی تری سے سرسبزوشاداب ہو جاتی ہے۔ اسی پانی کے ساتھ سرخ مٹی کھیچ کر جاتی ہے جو حبشہ کے علاقہ میں ہوتی ہے وہاں کی بارش کے ساتھ مٹی بہہ کر پہنچتی ہے جو زمین پر ٹھہرجاتی ہے اور زمین قابل زراعت ہو جاتی ہے ورنہ وہاں کی شور زمین کھیتی باڑی کے قابل نہیں۔ سبحان اللہ اس لطیف خبیر، اس غفور رحیم اللہ کی کیا کیا قدرتیں اور حکمتیں زمین میں اللہ پانی کو ٹھیرا دیتا ہے زمین میں اس کو چوس لینے اور جذب کر لینے کی قابلیت اللہ تعالیٰ پیدا کر دیتا ہے تاکہ دانوں کو اور گٹھلیوں کو اندر ہی اندر وہ پانی پہنچا دے۔ پھر فرماتا ہے ہم اس کے لے جانے اور دور کر دینے پریعنی نہ برسانے پر بھی قادر ہیں اگر چاہیں شور، سنگلاخ زمین، پہاڑوں اور بے کار بنوں میں برسا دیں۔ اگر چاہیں تو پانی کو کڑوا کر دیں نہ پینے کے قابل رہے نہ پلانے کے، نہ کھیت اور باغات کے مطلب کا رہے، نہ نہانے دھونے کے مقصد کا۔ اگرچاہیں زمین میں وہ قوت ہی نہ رکھیں کہ وہ پانی کو جذب کر لے چوس لے بلکہ پانی اوپر ہی اوپر تیرتا پھرے یہ بھی ہمارے اختیار میں ہے کہ ایسی دوردراز جھیلوں میں پانی پہنچا دیں کہ تمہارے لیے بے کار ہو جائے اور تم کوئی فائدہ اس سے نہ اٹھا سکو۔ یہ خاص اللہ کا فضل و کرم اور اس کا لطف ورحم ہے کہ وہ بادلوں سے میٹھا عمدہ ہلکا اور خوش ذائقہ پانی برساتا ہے پھر اسے زمین میں پہنچاتا ہے اور ادھر ادھر ریل پیل کر دیتا ہے کھیتیاں الگ پکتی ہیں باغات الگ تیار ہوتے ہیں، خود پیتے ہو اپنے جانوروں کو پلاتے ہو نہاتے دھوتے ہو پاکیزگی اور ستھرائی حاصل کرتے ہو «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

آسمانی بارش سے رب العالمین تمہارے لیے روزیاں اگاتا ہے، لہلہاتے ہوئے کھیت ہیں، کہیں سرسبز باغ ہیں جو خوش نما اور خوش منظر ہونے کے علاوہ مفید اور فیض والے ہیں۔ کھجور انگور جو اہل عرب کا دل پسند میوہ ہے۔ اور اسی طرح ہر ملک والوں کے لیے الگ الگ طرح طرح کے میوے اس نے پیدا کر دیے ہیں۔ جن کے حصول کے عوض اللہ کے شکر گزاری بھی کسی کے بس کی نہیں۔ بہت میوے تمہیں اس نے دے رکھے ہیں جن کی خوبصورتی بھی تم دیکھتے ہو اور ان کے ذائقے سے بھی کھا کر فائدہ اٹھاتے ہو۔ پھر زیتوں کے درخت کا ذکر فرمایا۔ طورسینا وہ پہاڑ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے بات چیت کی تھی اور اس کے اردگرد کی پہاڑیاں طور اس پہاڑ کو کہتے ہیں جو ہرا اور درختوں والا ہو ورنہ اسے جبل کہیں گے طور نہیں کہیں گے۔ پس طورسینا میں جو درخت زیتوں پیدا ہوتا ہے اس میں سے تیل نکلتا ہے جو کھانے والوں کو سالن کا کام دیتا ہے۔ حدیث میں ہے زیتوں کا تیل کھاؤ اور لگاؤ وہ مبارک درخت میں سے نکلتا ہے [مسند احمد:497/3:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک صاحب عاشورہ کی شب کو مہمان بن کر آئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں اونٹ کی سری اور زیتون کھلایا اور فرمایا یہ اس مبارک درخت کا تیل ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہے۔ [سنن ترمذي:1851،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر چوپایوں کا ذکر ہو رہا ہے اور ان سے جو فوائد انسان اٹھا رہے ہیں، ان پر سوار ہوتے ہیں ان پر اپنا سامان اسباب لادتے ہیں اور دوردراز تک پہنچتے ہیں کہ یہ نہ ہوتے تو وہاں تک پہچنے میں جان آدھی رہ جاتی۔ بیشک اللہ تعالیٰ بندوں پر مہربانی اور رحمت والا ہے جیسے فرمان ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَيْدِيْنَآ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ» [ 36- يس: 71 ] ‏‏‏‏ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ خود ہم نے انہیں چوپایوں کا مالک بنا رکھا ہے کہ یہ ان کے گوشت کھائیں ان پر سواریاں لیں اور طرح طرح کہ نفع حاصل کریں کیا اب بھی ان پر ہماری شکر گزاری واجب نہیں؟ یہ خشکی کی سواریاں ہیں پھر تری کی سواریاں کشتی جہاز وغیرہ الگ ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 21) ➊ { وَ اِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً:} پچھلی آیات میں پانی کے ساتھ پیدا ہونے والی نباتات کا ذکر فرمایا، جس میں موت کے بعد زندگی کی دلیل اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی یاد دہانی ہے۔ اب موت کے بعد زندگی کا یقین دلانے کے لیے اور اپنی نعمتوں اور قدرتوں کا احساس دلانے کے لیے نباتات سے اعلیٰ درجے کی زندگی والی مخلوق کا ذکر فرمایا، جو روح رکھنے والے چوپائے ہیں۔ {” لَعِبْرَةً “} میں تنوین تعظیم کی ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی عبرت“ کیا ہے۔ ➋ { نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهَا:} اس کی تفصیل سورۂ نحل (۶۶) میں دیکھیے۔ ➌ { وَ لَكُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ كَثِيْرَةٌ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۱۴۲)، سورۂ نحل (۵ تا ۸، ۶۶، ۸۰)، سورۂ حج (۲۷، ۲۸، ۳۲، ۳۳، ۳۶، ۳۷) اور سورۂ مومن (۷۹)۔ ➍ { وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ:} یعنی تم ان کا گوشت کھاتے ہو اور وہ چوپائے خرید و فروخت کے ذریعے سے تمھارے کھانے پینے اور ضروریات زندگی کی اشیاء حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔
وَ عَلَیۡہَا وَ عَلَی الۡفُلۡکِ تُحۡمَلُوۡنَ ﴿٪۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُن کو تم کھاتے ہو اور اُن پر اور کشتیوں پر سوار بھی کیے جاتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کرائے جاتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور ان پر اور کشتی پر سوار کیے جاتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان پر اور کشتیوں پر تمہیں سوار کیا جاتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھی پر اور کشتیوں پر تم سوار کیے جاتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آسمان سے نزول بارش ٭٭

اللہ تعالیٰ کی یوں تو بےشمار اور ان گنت نعمتیں ہیں۔ لیکن چند بڑی بڑی نعمتوں کا یہاں ذکر ہو رہا ہے کہ وہ آسمان سے بقدر حاجت وضرورت بارش برساتا ہے۔ نہ تو بہت زیادہ کہ زمین خراب ہو جائے اور پیداوار گل سڑ جائے۔ نہ بہت کم کہ پھل اناج وغیرہ پیدا ہی نہ ہو۔ بلکہ اس اندازے سے کہ کھیتی سرسبز رہے، باغات ہرے بھرے رہیں۔ حوض، تالاب، نہریں ندیاں، نالے، دریا بہہ نکلیں نہ پینے کی کمی ہو نہ پلانے کی۔ یہاں تک کہ جس جگہ زیادہ بارش کی ضرورت ہوتی ہے زیادہ ہوتی ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہوتی ہے کم ہوتی ہے اور جہاں کی زمین اس قابل ہی نہیں ہوتی وہاں پانی نہیں برستا لیکن ندیوں اور نالوں کے ذریعہ وہاں قدرت برساتی پانی پہنچا کر وہاں کی زمین کو سیراب کر دیتی ہے۔ جیسے کہ مصر کے علاقہ کی زمین جو دریائے نیل کی تری سے سرسبزوشاداب ہو جاتی ہے۔ اسی پانی کے ساتھ سرخ مٹی کھیچ کر جاتی ہے جو حبشہ کے علاقہ میں ہوتی ہے وہاں کی بارش کے ساتھ مٹی بہہ کر پہنچتی ہے جو زمین پر ٹھہرجاتی ہے اور زمین قابل زراعت ہو جاتی ہے ورنہ وہاں کی شور زمین کھیتی باڑی کے قابل نہیں۔ سبحان اللہ اس لطیف خبیر، اس غفور رحیم اللہ کی کیا کیا قدرتیں اور حکمتیں زمین میں اللہ پانی کو ٹھیرا دیتا ہے زمین میں اس کو چوس لینے اور جذب کر لینے کی قابلیت اللہ تعالیٰ پیدا کر دیتا ہے تاکہ دانوں کو اور گٹھلیوں کو اندر ہی اندر وہ پانی پہنچا دے۔ پھر فرماتا ہے ہم اس کے لے جانے اور دور کر دینے پریعنی نہ برسانے پر بھی قادر ہیں اگر چاہیں شور، سنگلاخ زمین، پہاڑوں اور بے کار بنوں میں برسا دیں۔ اگر چاہیں تو پانی کو کڑوا کر دیں نہ پینے کے قابل رہے نہ پلانے کے، نہ کھیت اور باغات کے مطلب کا رہے، نہ نہانے دھونے کے مقصد کا۔ اگرچاہیں زمین میں وہ قوت ہی نہ رکھیں کہ وہ پانی کو جذب کر لے چوس لے بلکہ پانی اوپر ہی اوپر تیرتا پھرے یہ بھی ہمارے اختیار میں ہے کہ ایسی دوردراز جھیلوں میں پانی پہنچا دیں کہ تمہارے لیے بے کار ہو جائے اور تم کوئی فائدہ اس سے نہ اٹھا سکو۔ یہ خاص اللہ کا فضل و کرم اور اس کا لطف ورحم ہے کہ وہ بادلوں سے میٹھا عمدہ ہلکا اور خوش ذائقہ پانی برساتا ہے پھر اسے زمین میں پہنچاتا ہے اور ادھر ادھر ریل پیل کر دیتا ہے کھیتیاں الگ پکتی ہیں باغات الگ تیار ہوتے ہیں، خود پیتے ہو اپنے جانوروں کو پلاتے ہو نہاتے دھوتے ہو پاکیزگی اور ستھرائی حاصل کرتے ہو «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

آسمانی بارش سے رب العالمین تمہارے لیے روزیاں اگاتا ہے، لہلہاتے ہوئے کھیت ہیں، کہیں سرسبز باغ ہیں جو خوش نما اور خوش منظر ہونے کے علاوہ مفید اور فیض والے ہیں۔ کھجور انگور جو اہل عرب کا دل پسند میوہ ہے۔ اور اسی طرح ہر ملک والوں کے لیے الگ الگ طرح طرح کے میوے اس نے پیدا کر دیے ہیں۔ جن کے حصول کے عوض اللہ کے شکر گزاری بھی کسی کے بس کی نہیں۔ بہت میوے تمہیں اس نے دے رکھے ہیں جن کی خوبصورتی بھی تم دیکھتے ہو اور ان کے ذائقے سے بھی کھا کر فائدہ اٹھاتے ہو۔ پھر زیتوں کے درخت کا ذکر فرمایا۔ طورسینا وہ پہاڑ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے بات چیت کی تھی اور اس کے اردگرد کی پہاڑیاں طور اس پہاڑ کو کہتے ہیں جو ہرا اور درختوں والا ہو ورنہ اسے جبل کہیں گے طور نہیں کہیں گے۔ پس طورسینا میں جو درخت زیتوں پیدا ہوتا ہے اس میں سے تیل نکلتا ہے جو کھانے والوں کو سالن کا کام دیتا ہے۔ حدیث میں ہے زیتوں کا تیل کھاؤ اور لگاؤ وہ مبارک درخت میں سے نکلتا ہے [مسند احمد:497/3:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک صاحب عاشورہ کی شب کو مہمان بن کر آئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں اونٹ کی سری اور زیتون کھلایا اور فرمایا یہ اس مبارک درخت کا تیل ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہے۔ [سنن ترمذي:1851،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر چوپایوں کا ذکر ہو رہا ہے اور ان سے جو فوائد انسان اٹھا رہے ہیں، ان پر سوار ہوتے ہیں ان پر اپنا سامان اسباب لادتے ہیں اور دوردراز تک پہنچتے ہیں کہ یہ نہ ہوتے تو وہاں تک پہچنے میں جان آدھی رہ جاتی۔ بیشک اللہ تعالیٰ بندوں پر مہربانی اور رحمت والا ہے جیسے فرمان ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَيْدِيْنَآ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ» [ 36- يس: 71 ] ‏‏‏‏ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ خود ہم نے انہیں چوپایوں کا مالک بنا رکھا ہے کہ یہ ان کے گوشت کھائیں ان پر سواریاں لیں اور طرح طرح کہ نفع حاصل کریں کیا اب بھی ان پر ہماری شکر گزاری واجب نہیں؟ یہ خشکی کی سواریاں ہیں پھر تری کی سواریاں کشتی جہاز وغیرہ الگ ہیں۔
22-1یعنی رب کی ان نعمتوں سے تم فیض یاب ہوتے ہو، کیا وہ اس لائق کہ تم اس کا شکر ادا کرو اور صرف اسی ایک کی عبادت اور اطاعت کرو۔
(آیت 22){وَ عَلَيْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ:عَلَيْهَا “} (ان پر) سے مراد اونٹ ہیں، جو صحرا کے جہاز ہیں۔ عرب میں سواری اور بار برداری کے لیے زیادہ تر اونٹ ہی استعمال ہوتے تھے اور اونٹوں کے لیے ”خشکی کے جہاز“ کا استعارہ قدیم زمانے سے معروف ہے۔ ذو الرُّمّہ شاعر اپنی اونٹنی کے متعلق کہتا ہے: { طُرُوْقًا وَجُلْبُ الرَّحْلِ مَشْدُوْدَةٌ بِهَا سَفِيْنَةُ بَرٍّ تَحْتَ خَدِّيْ زِمَامُهَا} ”رات کا وقت تھا اور {”جُلْبُ الرَّحْلِ“} (پالان کی لکڑیوں) کے ساتھ خشکی کا جہاز بندھا ہوا تھا، جس کی مہار میرے رخسار کے نیچے تھی۔“ (اضواء البیان) خشکی کے جہازوں کی مناسبت سے بحری جہازوں کی نعمت کا ذکر بھی فرما دیا ہے۔ ”سوار ہوتے ہو“ کے بجائے ”سوار کیے جاتے ہو “ کا مطلب یہ ہے کہ اونٹ (اور ہاتھی) جیسے عظیم الجثّہ جانوروں پر سوار ہونا اور انھیں اپنا تابع فرمان بنانا تمھارے بس کی بات نہیں، بلکہ ان پر سوار کرنا اور انھیں تمھارے تابع فرمان بنا دینا ہمارا کام ہے، یقین نہ ہو تو ان سے بدرجہا چھوٹے جانوروں، مثلاً ہرن، بھیڑیے، لومڑی، گیدڑ اور چیتے وغیرہ کو ان کی طرح مانوس کرکے دکھاؤ۔ اسی طرح ہماری عظیم الشان مخلوق سمندر کہ جس کے مقابلے میں تم اتنے بھی نہیں جتنا صحرا کے مقابلے میں ریت کا ذرہ، اس پر سوار ہونا اور اس کا تمھیں اپنے سینے پر اٹھائے رکھنا تمھارے بس کی بات نہیں، یہ تو ہم ہیں جو تمھیں کشتیوں میں سوار کرکے اسے تمھارے تابع کر دیتے ہیں، اگر یقین نہ ہو تو ان طوفانوں کو یاد کرو جن کی بلاخیزی سے پہاڑوں جیسے جہاز آنکھ جھپکنے میں اس کی آغوش میں ڈوب جاتے ہیں۔
وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖ فَقَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے نوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا اس نے کہا "اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارے لیے کوئی اور معبود نہیں ہے، کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا، اس نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، کیا تم (اس سے) نہیں ڈرتے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں، تو کیا تمہیں ڈر نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور بےشک ہم نے نوح(ع) کو ان کی قوم کی طرف ہدایت کیلئے بھیجا۔ تو آپ نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا کوئی اللہ نہیں ہے۔ کیا تم (اس کی حکم عدولی سے) نہیں ڈرتے؟
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی بھی معبود نہیں، تو کیا تم ڈرتے نہیں؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نوح علیہ السلام اور متکبر وڈیرے ٭٭

نوح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بشیرونذیر بنا کر ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ نے ان میں جا کر پیغام الٰہی پہنچایا کہ اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہاری عبادت کا حقدار کوئی نہیں۔ تم اللہ کے سوا اس کے ساتھ دوسروں کو پوجتے ہوئے اللہ سے ڈرتے نہیں ہو؟ قوم کے بڑوں نے اور سرداروں نے کہا یہ تو تم جیسا ہی ایک انسان ہے۔ نبوت کا دعویٰ کر کے تم سے بڑا بننا چاہتا ہے سرداری حاصل کرنے کی فکر میں ہے بھلا انسان کی طرف وحی کیسے آتی؟ اللہ کا ارادہ نبی بھیجنے کا ہوتا تو کسی آسمانی فرشتے کو بھیج دیتا۔ یہ تو ہم نے کیا، ہمارے باپ دادوں نے بھی نہیں سنا کہ انسان اللہ کا رسول بن جائے۔ یہ تو کوئی دیوانہ شخص ہے کہ ایسے دعوے کرتا ہے اور ڈینگیں مارتا ہے۔ اچھا خاموش رہو دیکھ لو ہلاک ہو گا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 23) ➊ { وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ:} توحید و قیامت کے دلائل اور اپنی عظیم الشان نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد ان کا انکار کرنے والی اور رسولوں کو جھٹلانے والی قوموں کے انجام بد کا اور اپنے رسولوں کی نصرت کا ذکر فرمایا۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کا ذکر فرمایا، کیونکہ زمین والوں کی طرف سب سے پہلے رسول وہی تھے اور نعمتوں کے تذکرے سے بات کا رخ نوح علیہ السلام کی طرف نہایت خوب صورت طریقے سے موڑا کہ آخری نعمت جو ذکر فرمائی وہ انسانوں کو کشتیوں پر سوار کرنا تھی اور سب سے پہلے کشتی کے سوار نوح علیہ السلام اور ان کے مومن ساتھی تھے، بعد میں تمام کشتیاں اسی کی طرز پر بنیں۔ (دیکھیے سورۂ یٰس: ۴۱ تا ۴۳) اس لیے کشتیوں کے بعد ان کا ذکر فرمایا۔ ➋ انعامات اور دلائل توحید بیان کرنے کے بعد آگے انبیاء اور ان قوموں کے حالات بیان فرمائے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں میں غور و فکر کے بجائے احسان فراموشی اور تکبر سے کام لیا، تو ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آ گیا۔ اس میں قریش اور دوسرے تمام کفار کو ڈرانا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا مقصود ہے۔ قرآن میں عموماً {” آلَاءُ اللّٰهِ “} (اللہ کی نعمتوں) کے بعد{ ” أَيَّامُ اللّٰهِ “ } کا بیان ہوتا ہے، تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ ➌ { ” اِلٰى قَوْمِهٖ “} سے معلوم ہوا کہ نوح علیہ السلام صرف اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے، یہ الگ بات ہے کہ اس وقت موجود ہی ان کی قوم تھی۔ تمام انسانوں اور جنوں کی طرف مبعوث ہونا صرف ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے۔ ➍ { فَقَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ:يٰقَوْمِ “} اصل میں {”يَا قَوْمِيْ“} ہے ”اے میری قوم!“ کتنی محبت اور نرمی سے خطاب فرمایا ہے، پھر فرمایا: ”اللہ کی عبادت کرو۔“ ہر پیغمبر کی دعوت یہی رہی ہے۔ (دیکھیے سورۂ انبیاء: ۲۵) نوح علیہ السلام کے واقعات کے لیے سورۂ اعراف (۵۹ تا ۶۴)، یونس (۷۱ تا ۷۳)، بنی اسرائیل (۳) اور سورۂ انبیاء (۷۶، ۷۷) بھی ملاحظہ فرمائیں۔ ➎ {مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ:مِنْ “} کے ساتھ معبودوں کے عموم کی تاکید ہے، اس لیے ترجمہ ہو گا ”اس کے سوا تمھارا کوئی بھی معبود نہیں۔“ یہ جملہ {” اعْبُدُوا اللّٰهَ “} کی علت ہے، یعنی اللہ کی عبادت کرو، کیونکہ اس کے سوا تمھارا کوئی بھی معبود نہیں۔ جب اور کوئی بھی معبود نہیں تو عبادت کیسی؟ ➏ { اَفَلَا تَتَّقُوْنَ:} یعنی کیا اللہ کے ساتھ شریک بناتے ہوئے تم اس سے اور اس کے عذاب سے ڈرتے نہیں۔
فَقَالَ الۡمَلَؤُا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِہٖ مَا ہٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ ۙ یُرِیۡدُ اَنۡ یَّتَفَضَّلَ عَلَیۡکُمۡ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَاَنۡزَلَ مَلٰٓئِکَۃً ۚۖ مَّا سَمِعۡنَا بِہٰذَا فِیۡۤ اٰبَآئِنَا الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿ۚ۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا وہ کہنے لگے کہ "یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر ایک بشر تم ہی جیسا اِس کی غرض یہ ہے کہ تم پر برتری حاصل کرے اللہ کو اگر بھیجنا ہوتا تو فرشتے بھیجتا یہ بات تو ہم نے کبھی اپنے باپ دادا کے وقتوں میں سنی ہی نہیں (کہ بشر رسول بن کر آئے)
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کی قوم کے کافر سرداروں نے صاف کہہ دیا کہ یہ تو تم جیسا ہی انسان ہے، یہ تم پر فضیلت اور بڑائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اگر اللہ ہی کو منظور ہوتا تو کسی فرشتے کو اتارتا، ہم نے تو اسے اپنے اگلے باپ دادوں کے زمانے میں سنا ہی نہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو اس کی قوم کے جن سرداروں نے کفر کیا بولے یہ تو نہیں مگر تم جیسا آدمی چاہتا ہے کہ تمہارا بڑا بنے اور اللہ چاہتا تو فرشتے اتارتا ہم نے تو یہ اگلے باپ داداؤں میں نہ سنا
علامہ محمد حسین نجفی
تو ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا کہ یہ (نوح(ع)) نہیں ہے مگر تم ہی جیسا ایک بشر (آدمی) ہے جو تم پر بڑائی حاصل کرنا چاہتا ہے اور اگر خدا (یہی) چاہتا تو وہ فرشتوں کو بھیجتا۔ ہم نے تو یہ بات اپنے پہلے باپ داداؤں سے نہین سنی۔
عبدالسلام بن محمد
تو اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، یہ نہیں ہے مگر تمھارے جیسا ایک بشر، جو چاہتا ہے کہ تم پر برتری حاصل کرلے اور اگر اللہ چاہتا تو ضرور کوئی فرشتے اتار دیتا، ہم نے یہ اپنے پہلے باپ دادا میں نہیں سنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نوح علیہ السلام اور متکبر وڈیرے ٭٭

نوح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بشیرونذیر بنا کر ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ نے ان میں جا کر پیغام الٰہی پہنچایا کہ اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہاری عبادت کا حقدار کوئی نہیں۔ تم اللہ کے سوا اس کے ساتھ دوسروں کو پوجتے ہوئے اللہ سے ڈرتے نہیں ہو؟ قوم کے بڑوں نے اور سرداروں نے کہا یہ تو تم جیسا ہی ایک انسان ہے۔ نبوت کا دعویٰ کر کے تم سے بڑا بننا چاہتا ہے سرداری حاصل کرنے کی فکر میں ہے بھلا انسان کی طرف وحی کیسے آتی؟ اللہ کا ارادہ نبی بھیجنے کا ہوتا تو کسی آسمانی فرشتے کو بھیج دیتا۔ یہ تو ہم نے کیا، ہمارے باپ دادوں نے بھی نہیں سنا کہ انسان اللہ کا رسول بن جائے۔ یہ تو کوئی دیوانہ شخص ہے کہ ایسے دعوے کرتا ہے اور ڈینگیں مارتا ہے۔ اچھا خاموش رہو دیکھ لو ہلاک ہو گا۔
24-1یعنی یہ تو تمہارے جیسا ہی انسان ہے، یہ کس طرح نبی اور رسول ہوسکتا ہے؟ اور اگر یہ نبوت و رسالت کا دعویٰ کر رہا ہے تو اصل مقصد اس سے تم پر فضیلت اور بہتری حاصل کرنا ہے۔ 24-2اور اگر واقع اللہ اپنے رسول کے ذریعہ سے ہمیں یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ عبادت کے لائق صرف وہی ہے، تو وہ کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیجتا نہ کہ کسی انسان کو، وہ ہمیں آ کر توحید کا مسئلہ سمجھاتا۔ 24-3یعنی اس کی دعوت توحید، ایک نرالی دعوت ہے، اس سے پہلے ہم نے اپنے باپ دادوں کے زمانے میں تو یہ سنی ہی نہیں۔
(آیت 24) ➊ { فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ:} معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم کے واضح طور پر الگ الگ قبیلے تھے اور نوح علیہ السلام کا اپنا قبیلہ انکار میں پیش پیش تھا۔ اس لیے انکار اور اعتراض کے اپنوں کی طرف سے ہونے کی شناعت کو واضح کرنے کے لیے {” مِنْ قَوْمِهٖ “} فرمایا۔ (بقاعی) اس میں ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی ہے، کیونکہ آپ کی سخت ترین مخالفت آپ کے قریب ترین رشتہ دار ابولہب نے کی۔ (دیکھیے سورۂ لہب) ایک شاعر نے کہا: {وَ ظُلْمُ ذَوِي الْقُرْبٰي أَشَدُّ مَضَاضَةً عَلَي الْمَرْئِ مِنْ وَقْعِ الْحُسَامِ الْمُهَنَّدِ} ”اور قرابت والوں کا ظلم تکلیف میں آدمی پر ہندی تلوار لگنے سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔“ ➋ {مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ:} مفسر رازی نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے پانچ شبہات ذکر فرمائے، مگر جواب کسی کا نہیں دیا، کیونکہ معمولی سے غور کے ساتھ ان کا بے کار ہونا سمجھ میں آ جاتا ہے۔“ ان کا پہلا شبہ یہ تھا کہ یہ تو تمھارے جیسا بشر ہے۔ بقاعی نے فرمایا: ”انھوں نے کسی انسان کا نبی ہونا نہیں مانا تو لازم تھا کہ کسی مٹی کا انسان ہونا بھی نہ مانتے، پانی کے کسی قطرے کا علقہ ہونا اور خون کی کسی پھٹکی کا مضغہ ہونا بھی نہ مانتے…۔“ ابن جَزیّ نے التسہیل میں فرمایا: ”کس قدر تعجب ہے کہ انھوں نے بشر کے رسول ہونے کو نہیں مانا، مگر پتھر کے رب ہونے کو مان لیا۔“ مشرک کی عقل ایسی ہی ہوتی ہے، ہمارے زمانے کے بعض لوگ جو جدّی پشتی مسلمان ہیں، آبا و اجداد سے سن کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مانتے ہیں مگر بشر نہیں مانتے۔ پہلے لوگوں کا کہنا تھا کہ بشر رسول نہیں ہو سکتا اور ان کا کہنا ہے کہ رسول بشر نہیں ہو سکتا۔ نتیجہ دونوں باتوں کا ایک ہی ہے۔ قرآن نے بشر کے رسول نہ ہونے یا رسول کے بشر نہ ہونے کا بار بار رد فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۶۳ تا ۶۹)، یونس (۲)، ہود (۲۷ تا ۳۱)، یوسف (۱۰۹)، رعد (۳۸)، ابراہیم (۱۰، ۱۱)، نحل (۴۳)، بنی اسرائیل (۹۴، ۹۵)، کہف (۱۱۰)، انبیاء (۳)، مومنون (۳۳، ۳۴، ۴۷)، فرقان (۷ تا ۲۰)، شعراء (۱۵۴، ۱۸۶) اور سورۂ یٰس (۱۵)۔ ➌ { يُرِيْدُ اَنْ يَّتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ:} یہ دوسرا شبہ ہے جو کافر سرداروں نے انبیاء کو عوام میں بے وقعت بنانے کے لیے پیش کیا کہ یہ تم پر برتری حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اکثر کفار نے اپنے اپنے انبیاء کے بارے میں یہی بات کہی کہ یہ اقتدار کے بھوکے ہیں۔ فرعون اور اس کے سرداروں نے موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کو یہ طعنہ دیا تھا: «‏‏‏‏قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِيَآءُ فِي الْاَرْضِ» [ یونس: ۷۸ ] ”انھوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہمیں اس راہ سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور اس سر زمین میں تم دونوں ہی کو بڑائی مل جائے؟“ گویا سرداری اور برتری ان مشرکوں ہی کا مادری و پدری ورثہ ہے، یہ کسی اور کا حق نہیں۔ جواب اس اعتراض کا یہ ہے کہ اگر رسول اپنے منصب کی وجہ سے برتری چاہتے ہیں تو برتری کا حامل ہونا ان کا حق ہے، تاکہ کسی کو ان کے اتباع میں عار نہ ہو اور اگر وہ تکبر اور فخر و غرور کے لیے برتری چاہتے ہیں تو یہ ان پر بہتان ہے، کیونکہ ان سے بڑھ کر کوئی متواضع نہیں ہوتا۔ ➍ { وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓىِٕكَةً:} یہ تیسرا اعتراض ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ اللہ کو مانتے تھے، مگر اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے۔ نوح علیہ السلام کی طرف سے ایک اللہ کی عبادت کا حکم سن کر بہانہ گھڑا کہ اگر اللہ چاہتا کہ کوئی رسول بھیجے تو وہ انسان کے بجائے کوئی فرشتے بھیج دیتا۔ یہ بھی درحقیقت بشر کی نبوت سے انکار ہے۔ انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ مالک مرضی والا ہے، وہ جسے چاہے، جس کام کے لیے چاہے چن لیتا ہے۔ وہ مالک ہی کیا ہوا جو تمھارے چاہنے کا پابند ہو۔ ➎ {مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِيْۤ اٰبَآىِٕنَا الْاَوَّلِيْنَ:} یہ چوتھا اعتراض ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نوح علیہ السلام سے پہلے جاہلیت کا طویل عرصہ گزرا تھا۔ پہلی تینوں باتوں میں نوح علیہ السلام کے رسول ہونے کا انکار تھا اور یہ اس دعوت کا انکار ہے جو نوح علیہ السلام لے کر آئے تھے۔ یعنی اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنے کی بات ہم نے نہیں سنی اور نہ یہ سنا ہے کہ اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے یا سفارشی بنانے کے لیے بھی کسی کی عبادت نہ کی جائے۔ کفار کے سرداروں کی یہ بات بھی اس لیے جواب کے قابل نہیں کہ اس کی بنیاد تقلید ہے، جب کہ تقلید سراسر جہل ہے اور جاہلوں کا جواب خاموشی اور سلام متارکہ ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا» [ الفرقان: ۶۳ ] ”اور جب جاہل لوگ ان سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں سلام ہے۔“ (دیکھیے بقرہ: ۱۷۰) بھلا بتاؤ اس سے بڑی جہالت کیا ہو گی کہ جو چیز ہم نے سنی نہیں وہ ہے ہی نہیں؟
اِنۡ ہُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِہٖ جِنَّۃٌ فَتَرَبَّصُوۡا بِہٖ حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کچھ نہیں، بس اس آدمی کو ذرا جنون لاحق ہو گیا ہے کچھ مدت اور دیکھ لو (شاید افاقہ ہو جائے)"
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً اس شخص کو جنون ہے، پس تم اسے ایک وقت مقرر تک ڈھیل دو
احمد رضا خان بریلوی
وہ تو نہیں مگر ایک دیوانہ مرد تو کچھ زمانہ تک اس کا انتظار کیے رہو
علامہ محمد حسین نجفی
بس یہ ایک آدمی ہے۔ جسے کچھ جنون ہوگیا ہے۔ پس تم اس کے بارے میں کچھ مدت تک انتظار کرو۔
عبدالسلام بن محمد
یہ نہیں ہے مگر ایک آدمی، جسے ایک جنون ہے، سو ایک وقت تک اس کے بارے میں انتظار کرو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نوح علیہ السلام اور متکبر وڈیرے ٭٭

نوح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بشیرونذیر بنا کر ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ نے ان میں جا کر پیغام الٰہی پہنچایا کہ اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہاری عبادت کا حقدار کوئی نہیں۔ تم اللہ کے سوا اس کے ساتھ دوسروں کو پوجتے ہوئے اللہ سے ڈرتے نہیں ہو؟ قوم کے بڑوں نے اور سرداروں نے کہا یہ تو تم جیسا ہی ایک انسان ہے۔ نبوت کا دعویٰ کر کے تم سے بڑا بننا چاہتا ہے سرداری حاصل کرنے کی فکر میں ہے بھلا انسان کی طرف وحی کیسے آتی؟ اللہ کا ارادہ نبی بھیجنے کا ہوتا تو کسی آسمانی فرشتے کو بھیج دیتا۔ یہ تو ہم نے کیا، ہمارے باپ دادوں نے بھی نہیں سنا کہ انسان اللہ کا رسول بن جائے۔ یہ تو کوئی دیوانہ شخص ہے کہ ایسے دعوے کرتا ہے اور ڈینگیں مارتا ہے۔ اچھا خاموش رہو دیکھ لو ہلاک ہو گا۔
25-1یہ ہمیں اور ہمارے باپ دادوں کو بتوں کی عبادت کرنے کی وجہ سے، بیوقوف اور کم عقل سمجھتا اور کہتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ خود ہی دیوانہ ہے اسے ایک وقت تک ڈھیل دو، موت کے ساتھ ہی اس کی دعوت بھی ختم ہوجائے گی یا ممکن ہے اس کی دیوانگی ختم ہوجائے اور اس دعوت کو ترک کر دے۔
(آیت 25) ➊ { اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ:” جِنَّةٌ “} جنون، دیوانگی۔ ان کی پانچویں بات یہ بہتان ہے جو انھوں نے لگایا، یعنی اس کا یہ کہنا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے رسول بنایا ہے، پھر وہ بات کہنا جو ہم نے کبھی سنی ہی نہیں کہ بتوں کی عبادت مت کرو، صرف اللہ کی عبادت کرو اور دن رات اسی کی تبلیغ میں لگے رہنا، نہ کاروبار کا خیال، نہ پوری قوم کی مخالفت کی پروا، درحقیقت اسے ایک جنون لاحق ہے، دیوانگی ہے جو اس سے یہ سب کچھ کرواتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن کی نظر میں کافر جو کچھ کرتا ہے سراسر دیوانگی ہے کہ ساری جد و جہد چند روزہ زندگی کے لیے کرتا ہے، ہمیشہ کی زندگی کی اسے فکر ہی نہیں اور پیدا کرنے والے کے ساتھ ان لوگوں کو پکارتا اور ان کی عبادت کرتا ہے جنھوں نے نہ کچھ پیدا کیا اور نہ وہ کچھ اختیار رکھتے ہیں۔ اسی طرح کافر کی نظر میں مومن کے کام دیوانگی ہیں کہ نقد کو چھوڑ کر ادھار کے پیچھے پڑا ہے، نظر نہ آنے والے رب سے ڈر کر اپنی محبوب خواہشیں ترک کیے ہوئے ہے۔ {” جِنَّةٌ “} میں تنوین تنکیر کی ہے، یعنی اسے ایک قسم کا جنون لاحق ہے۔ مکمل پاگل کہنے کے بجائے کچھ جنون کہا، تاکہ ہر شخص انھیں جھٹلا نہ دے کہ بھلا اتنا کامل عقل والا شخص دیوانہ ہو سکتا ہے؟ ابن جزی فرماتے ہیں: ”ان کی باتوں کا باہمی تضاد دیکھیے، ابھی کہہ رہے تھے کہ یہ شخص (اتنی صلاحیتوں کا مالک ہے کہ) تم پر برتری حاصل کرنا چاہتا ہے اور ابھی کہتے ہیں کچھ دیوانگی میں مبتلا ہے۔“ ➋ { فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِيْنٍ:} یعنی اس کے متعلق کچھ مدت انتظار کرو، حتیٰ کہ یہ زمانے کے کسی چکر کی لپیٹ میں آ جائے، یا فوت ہو جائے اور تمھاری جان چھوٹ جائے۔
قَالَ رَبِّ انۡصُرۡنِیۡ بِمَا کَذَّبُوۡنِ ﴿۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
نوحؑ نے کہا "پروردگار، ان لوگوں نے جو میری تکذیب کی ہے اس پر اب تو ہی میری مدد فرما"
مولانا محمد جوناگڑھی
نوح (علیہ السلام) نے دعا کی اے میرے رب! ان کے جھٹلانے پر تو میری مدد کر
احمد رضا خان بریلوی
نوح نے عرض کی اے میرے رب! میری مدد فرما اس پر کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ نے کہا اے میرے پروردگار! تو میری مدد کر کیونکہ انہوں نے مجھے جھٹلایا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا اے میرے رب! میری مدد کر، اس لیے کہ انھوں نے مجھے جھٹلا دیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا حکم ٭٭

جب نوح علیہ السلام ان سے تنگ آ گئے اور مایوس ہو گئے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ» [ 54-القمر: 10 ] ‏‏‏‏ میرے پروردگار میں لاچار ہو گیا ہوں میری مدد فرما۔ جھٹلانے والوں پر مجھے غالب کر اسی وقت فرمان الٰہی آیا کہ کشتی بناؤ اور خوب مضبوط چوڑی چکلی۔ اس میں ہر قسم کا ایک ایک جوڑا رکھ لو حیوانات نباتات پھل وغیرہ وغیرہ اور اسی میں اپنے والوں کو بھی بٹھالو مگر جس پر اللہ کی طرف سے ہلاکت سبقت کر چکی ہے جو ایمان نہیں لائے۔ جیسے آپ کی قوم کے کافر اور آپ کا لڑکا اور آپ کی بیوی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور جب تم عذاب آسمانی بصورت بارش اور پانی آتا دیکھ لو پھر مجھ سے ان ظالموں کی سفارش نہ کرنا۔ پھر ان پر رحم نہ کرنا نہ ان کے ایمان کی امید رکھنا۔ بس پھر تو یہ سب غرق ہو جائیں گے اور کفر پر ہی ان کا خاتمہ ہو گا۔ اس کا پورا قصہ سورۃ ھود کی تفسیر میں گزر چکا ہے ہے اس لیے ہم نہیں دہراتے۔ جب تو اور تیرے مومن ساتھی کشتی پرسوار ہو جاؤ تو کہنا کہ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی جیسے فرمان ہے کہ «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ» [ 43-الزخرف: 12- 14 ] ‏‏‏‏ اللہ نے تمہاری سواری کے لیے کشتیاں اور چوپائے بنائے ہیں تاکہ تم سواری لے کر اپنے رب کی نعمت کو مانو اور سوار ہو کر کہو کہ وہ اللہ پاک ہے جس نے ان جانوروں کو ہمارے تابع بنا دیا ہے حالانکہ ہم میں خود اتنی طاقت نہ تھی بالیقین ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ نوح علیہ السلام نے یہی کہا اور فرمایا «وَقَالَ ارْكَبُوا فِيهَا بِسْمِ اللَّـهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» [ 11-هود: 41 ] ‏‏‏‏ آؤ اس میں بیٹھ جاؤ اللہ کے نام کے ساتھ اس کا چلنا اور ٹھیرنا ہے پس شروع چلنے کے وقت بھی اللہ کو یاد کیا۔ اور جب وہ ٹھیرنے لگی تب بھی اللہ کو یاد کیا اور دعا کی کہ اے اللہ مجھے مبارک منزل پر اتارنا اور تو ہی سب سے بہتر اتارنے والا ہے اس میں یعنی مومنوں کی نجات اور کافروں کی ہلاکت میں انبیاء کی تصدیق کی نشایاں ہیں اللہ کی الوہیت کی علامتیں ہیں اس کی قدرت اس کا علم اس سے ظاہر ہوتا ہے۔ یقیناً رسولوں کو بھیج کر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش اور ان کا پورا امتحان کر لیتا ہے۔
26-1ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ و دعوت کے بعد، بالآخر رب سے دعا کی، (فدَعارَبَّہ، اَنِّیْ مَغْلُوْب فَانْتَصِرُ) (القمر10 ' نوح ؑ نے رب سے دعا کی، میں مغلوب اور کمزور ہوں میری مدد کر ' اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور حکم دیا کہ میری نگرانی اور ہدایت کے مطابق کشتی تیار کرو۔
(آیت 26){ قَالَ رَبِّ انْصُرْنِيْ بِمَا كَذَّبُوْنِ:} درحقیقت یہ قوم پر عذاب کی دعا ہے۔ نوح علیہ السلام نے یہ بد دعا کب کی اور کن الفاظ میں کی، اس کے لیے دیکھیے سورۂ قمر (۹، ۱۰)، سورۂ شعراء (۱۱۷، ۱۱۸) اور سورۂ نوح (۲۶، ۲۷)۔
فَاَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡہِ اَنِ اصۡنَعِ الۡفُلۡکَ بِاَعۡیُنِنَا وَ وَحۡیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوۡرُ ۙ فَاسۡلُکۡ فِیۡہَا مِنۡ کُلٍّ زَوۡجَیۡنِ اثۡنَیۡنِ وَ اَہۡلَکَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَیۡہِ الۡقَوۡلُ مِنۡہُمۡ ۚ وَ لَا تُخَاطِبۡنِیۡ فِی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ۚ اِنَّہُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴿۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے اس پر وحی کی کہ "ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کے مطابق کشتی تیار کر پھر جب ہمارا حکم آ جائے اور تنور ابل پڑے تو ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک ایک جوڑا لے کر اس میں سوار ہو جا، اور اپنے اہل و عیال کو بھی ساتھ لے سوائے اُن کے جن کے خلاف پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے، اور ظالموں کے معاملہ میں مجھ سے کچھ نہ کہنا، یہ اب غرق ہونے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنا۔ جب ہمارا حکم آجائے اور تنور ابل پڑے تو، تو ہر قسم کا ایک ایک جوڑا اس میں رکھ لے اور اپنے اہل کو بھی، مگر ان میں سے جن کی بابت ہماری بات پہلے گزر چکی ہے۔ خبردار جن لوگوں نے ﻇلم کیا ہے ان کے بارے میں مجھ سے کچھ کلام نہ کرنا وه تو سب ڈبوئے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
تو ہم نے اسے وحی بھیجی کہ ہماری نگاہ کے سامنے اور ہمارے حکم سے کشتی بنا پھر جب ہمارا حکم آئے اور تنور ابلے تو اس میں بٹھالے ہر جوڑے میں سے دو اور اپنے گھر والے مگر ان میں سے وہ جن پر بات پہلے پڑچکی اور ان ظالموں کے معاملہ میں مجھ سے بات نہ کرنا یہ ضرور ڈبوئے جائیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
سو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تم ہماری نگرانی اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بناؤ۔ پس جب ہمارا عذاب آجائے۔ اور تنور سے پانی ابلنے لگے تو ہر قسم کے نر اور مادہ (جانوروں) میں سے جوڑا جوڑا (اس میں) داخل کرلو۔ اور اپنے گھر والوں کو بھی سوا ان کے جن کے خلاف پہلے سے فیصلہ ہو چکا ہے۔ اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کرنا کیونکہ یہ اب یقیناً غرق ہونے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
تو ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بنا، پھر جب ہمارا حکم آجائے اور تنور ابل پڑے تو ہر چیز میں سے دو قسمیں (نرومادہ) دونوں کو اور اپنے گھر والوں کو اس میں داخل کر لے، مگر ان میں سے وہ جس پر پہلے بات طے ہو چکی اور مجھ سے ان کے بارے میں بات نہ کرنا جنھوں نے ظلم کیا ہے، وہ یقینا غرق کیے جانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا حکم ٭٭

جب نوح علیہ السلام ان سے تنگ آ گئے اور مایوس ہو گئے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ» [ 54-القمر: 10 ] ‏‏‏‏ میرے پروردگار میں لاچار ہو گیا ہوں میری مدد فرما۔ جھٹلانے والوں پر مجھے غالب کر اسی وقت فرمان الٰہی آیا کہ کشتی بناؤ اور خوب مضبوط چوڑی چکلی۔ اس میں ہر قسم کا ایک ایک جوڑا رکھ لو حیوانات نباتات پھل وغیرہ وغیرہ اور اسی میں اپنے والوں کو بھی بٹھالو مگر جس پر اللہ کی طرف سے ہلاکت سبقت کر چکی ہے جو ایمان نہیں لائے۔ جیسے آپ کی قوم کے کافر اور آپ کا لڑکا اور آپ کی بیوی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور جب تم عذاب آسمانی بصورت بارش اور پانی آتا دیکھ لو پھر مجھ سے ان ظالموں کی سفارش نہ کرنا۔ پھر ان پر رحم نہ کرنا نہ ان کے ایمان کی امید رکھنا۔ بس پھر تو یہ سب غرق ہو جائیں گے اور کفر پر ہی ان کا خاتمہ ہو گا۔ اس کا پورا قصہ سورۃ ھود کی تفسیر میں گزر چکا ہے ہے اس لیے ہم نہیں دہراتے۔ جب تو اور تیرے مومن ساتھی کشتی پرسوار ہو جاؤ تو کہنا کہ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی جیسے فرمان ہے کہ «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ» [ 43-الزخرف: 12- 14 ] ‏‏‏‏ اللہ نے تمہاری سواری کے لیے کشتیاں اور چوپائے بنائے ہیں تاکہ تم سواری لے کر اپنے رب کی نعمت کو مانو اور سوار ہو کر کہو کہ وہ اللہ پاک ہے جس نے ان جانوروں کو ہمارے تابع بنا دیا ہے حالانکہ ہم میں خود اتنی طاقت نہ تھی بالیقین ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ نوح علیہ السلام نے یہی کہا اور فرمایا «وَقَالَ ارْكَبُوا فِيهَا بِسْمِ اللَّـهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» [ 11-هود: 41 ] ‏‏‏‏ آؤ اس میں بیٹھ جاؤ اللہ کے نام کے ساتھ اس کا چلنا اور ٹھیرنا ہے پس شروع چلنے کے وقت بھی اللہ کو یاد کیا۔ اور جب وہ ٹھیرنے لگی تب بھی اللہ کو یاد کیا اور دعا کی کہ اے اللہ مجھے مبارک منزل پر اتارنا اور تو ہی سب سے بہتر اتارنے والا ہے اس میں یعنی مومنوں کی نجات اور کافروں کی ہلاکت میں انبیاء کی تصدیق کی نشایاں ہیں اللہ کی الوہیت کی علامتیں ہیں اس کی قدرت اس کا علم اس سے ظاہر ہوتا ہے۔ یقیناً رسولوں کو بھیج کر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش اور ان کا پورا امتحان کر لیتا ہے۔
27-1یعنی ان کی ہلاکت کا حکم آجائے۔ 27-2تنور پر حاشیہ سورة ہود میں گزر چکا ہے کہ صحیح بات یہ ہے کہ اس سے مراد ہمارے ہاں کا معروف تنور نہیں، جس میں روٹی پکائی جاتی ہے، بلکہ روئے زمین سے مراد ہے ساری زمین ہی چشمے میں تبدیل ہوگئی۔ نیچے زمین سے پانی چشموں کی طرح ابل پڑا۔ نوح ؑ کو ہدایت جاری ہے کہ جب پانی زمین سے ابل پڑے۔ 27-3یعنی حیوانات، نباتات اور ثمرات ہر ایک میں سے ایک ایک جوڑا (نر مادہ) کشتی میں رکھ لے تاکہ سب کی نسل باقی رہے۔ 27-4یعنی جن کی ہلاکت کا فیصلہ، ان کے کفر و طغیان کی وجہ سے ہوچکا ہے، جیسے زوجہ نوح ؑ اور انکا پسر۔ 27-5یعنی جب عذاب کا آغاز ہوجائے تو ان ظالموں میں سے کسی پر رحم کھانے کی ضرورت نہیں ہے کہ تو کسی کی سفارش کرنی شروع کر دے۔ کیونکہ ان کے غرق کرنے کا قطعی فیصلہ کیا جا چکا ہے۔
(آیت 27){ فَاَوْحَيْنَاۤ اِلَيْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ …:} اس آیت کی تفسیر سورۂ ہود (۳۷) میں دیکھیں۔
فَاِذَا اسۡتَوَیۡتَ اَنۡتَ وَ مَنۡ مَّعَکَ عَلَی الۡفُلۡکِ فَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ نَجّٰنَا مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر جب تو اپنے ساتھیوں سمیت کشتی پر سوار ہو جائے تو کہہ، شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات دی
مولانا محمد جوناگڑھی
جب تو اور تیرے ساتھی کشتی پر باطمینان بیٹھ جاؤ تو کہنا کہ سب تعریف اللہ کے لئے ہی ہے جس نے ہمیں ﻇالم لوگوں سے نجات عطا فرمائی
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب ٹھیک بیٹھ لے کشتی پر تُو اور تیرے ساتھ والے تو کہہ سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمیں ان ظالموں سے نجات دی،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی پر سوار ہو جائیں تو کہنا۔ الحمدﷲ۔ سب تعریف اس اللہ کیلئے ہے۔ جس نے ہمیں ظالم قوم سے نجات دی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جب تو اور جو تیرے ساتھ ہیں، کشتی پر چڑھ جائو تو کہہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات دی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا حکم ٭٭

جب نوح علیہ السلام ان سے تنگ آ گئے اور مایوس ہو گئے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ» [ 54-القمر: 10 ] ‏‏‏‏ میرے پروردگار میں لاچار ہو گیا ہوں میری مدد فرما۔ جھٹلانے والوں پر مجھے غالب کر اسی وقت فرمان الٰہی آیا کہ کشتی بناؤ اور خوب مضبوط چوڑی چکلی۔ اس میں ہر قسم کا ایک ایک جوڑا رکھ لو حیوانات نباتات پھل وغیرہ وغیرہ اور اسی میں اپنے والوں کو بھی بٹھالو مگر جس پر اللہ کی طرف سے ہلاکت سبقت کر چکی ہے جو ایمان نہیں لائے۔ جیسے آپ کی قوم کے کافر اور آپ کا لڑکا اور آپ کی بیوی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور جب تم عذاب آسمانی بصورت بارش اور پانی آتا دیکھ لو پھر مجھ سے ان ظالموں کی سفارش نہ کرنا۔ پھر ان پر رحم نہ کرنا نہ ان کے ایمان کی امید رکھنا۔ بس پھر تو یہ سب غرق ہو جائیں گے اور کفر پر ہی ان کا خاتمہ ہو گا۔ اس کا پورا قصہ سورۃ ھود کی تفسیر میں گزر چکا ہے ہے اس لیے ہم نہیں دہراتے۔ جب تو اور تیرے مومن ساتھی کشتی پرسوار ہو جاؤ تو کہنا کہ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی جیسے فرمان ہے کہ «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ» [ 43-الزخرف: 12- 14 ] ‏‏‏‏ اللہ نے تمہاری سواری کے لیے کشتیاں اور چوپائے بنائے ہیں تاکہ تم سواری لے کر اپنے رب کی نعمت کو مانو اور سوار ہو کر کہو کہ وہ اللہ پاک ہے جس نے ان جانوروں کو ہمارے تابع بنا دیا ہے حالانکہ ہم میں خود اتنی طاقت نہ تھی بالیقین ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ نوح علیہ السلام نے یہی کہا اور فرمایا «وَقَالَ ارْكَبُوا فِيهَا بِسْمِ اللَّـهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» [ 11-هود: 41 ] ‏‏‏‏ آؤ اس میں بیٹھ جاؤ اللہ کے نام کے ساتھ اس کا چلنا اور ٹھیرنا ہے پس شروع چلنے کے وقت بھی اللہ کو یاد کیا۔ اور جب وہ ٹھیرنے لگی تب بھی اللہ کو یاد کیا اور دعا کی کہ اے اللہ مجھے مبارک منزل پر اتارنا اور تو ہی سب سے بہتر اتارنے والا ہے اس میں یعنی مومنوں کی نجات اور کافروں کی ہلاکت میں انبیاء کی تصدیق کی نشایاں ہیں اللہ کی الوہیت کی علامتیں ہیں اس کی قدرت اس کا علم اس سے ظاہر ہوتا ہے۔ یقیناً رسولوں کو بھیج کر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش اور ان کا پورا امتحان کر لیتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 28) ➊ {فَاِذَا اسْتَوَيْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ …:} کشتی پر سوار ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد کا حکم دیا اور اس کے الفاظ خود بتائے، جیسے آدم علیہ السلام کو خود دعا سکھائی اور جیسے قیامت کے دن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حمد سکھائیں گے۔ دوسری جگہ چوپاؤں اور کشتیوں کے متعلق فرمایا: «{ وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَ (12) لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِيْنَۙ (13) وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ۠}» [ الزخرف: ۱۲ تا ۱۴ ] ”اور تمھارے لیے وہ کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔ تاکہ تم ان کی پیٹھوں پر جم کر بیٹھو، پھر اپنے رب کی نعمت یاد کرو، جب ان پر جم کر بیٹھ جاؤ اور کہو پاک ہے وہ جس نے اسے ہمارے لیے تابع کر دیا، حالانکہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہیں تھے۔ اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف ضرور لوٹ کر جانے والے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر سوار ہو کر یہ دعا پڑھتے تھے: [اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ، سُبْحَانَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ وَ إِنَّا إِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ، اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْئَلُكَ فِيْ سَفَرِنَا هٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَ مِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی، اَللّٰهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هٰذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فی السَّفَرِ والْخَلِيْفَةُ فِی الْأَهْلِ، اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ وَعْثَآءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَ سُوْٓءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ ] ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، پاک ہے وہ جس نے اسے ہمارے لیے مسخر کر دیا، حالانکہ ہم اسے ملنے والے نہیں تھے اور یقینا ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں۔ اے اللہ! ہم اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ کا سوال کرتے ہیں اور اس عمل کا جسے تو پسند کرے سوال کرتے ہیں۔ اے اللہ! ہمارا یہ سفر ہم پر آسان فرما دے اور ہم سے اس کی دوری کم کر دے۔ اے اللہ! تو ہی سفر میں ساتھی اور گھر والوں میں نائب ہے۔ اے اللہ! میں تجھ سے سفر کی مشقت سے اور مال اور اہل میں منظر کے غم سے اور ناکام لوٹنے کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس آتے تو یہی دعا پڑھتے، البتہ یہ الفاظ زیادہ کہتے: [ آئِبُوْنَ، تَائِبُوْنَ، عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ ] [ مسلم، الحج، باب استحباب الذکر إذا رکب …: ۱۳۴۲ ] ”ہم واپس لوٹنے والے، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے اور اپنے رب ہی کی حمد کرنے والے ہیں۔“ نوح علیہ السلام کو سوار ہو کر یہ دعا پڑھنے کا حکم ہوا: «{ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ}» [ المؤمنون: ۲۸ ] ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات دی۔ “ اور انھوں نے یہ کہہ کر ساتھیوں کو کشتی میں سوار ہونے کا حکم دیا: «{ بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖىهَا وَ مُرْسٰىهَا اِنَّ رَبِّيْ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ }» [ ھود: ۴۱ ] ”اللہ کے نام کے ساتھ اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا ہے۔ بے شک میرا رب یقینا بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔“ ➋ { فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا …: ” الظّٰلِمِيْنَ “} سے مراد مشرک ہیں، کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے۔ ظلم کا معنی {”وَضْعُ الشَّيْءِ فِيْ غَيْرِ مَحَلِّهِ“} (کسی چیز کو اس کی جگہ کے علاوہ کہیں رکھنا) ہے اور ظلم کا معنی اندھیرا بھی ہے، گویا ظالم اندھیرے میں چیزوں کو ان کے اصل محل کے بجائے ادھر ادھر رکھ دیتا ہے۔ سب سے بڑا حق اللہ کا ہے، وہ غیر کو دیا تو یہ سب سے بڑا ظلم ٹھہرا۔ (ابن عاشور) ➌ ظالم لوگوں سے نجات پر اللہ کی حمد کا حکم اس لیے دیا کہ وہ نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو بے شمار اذیتوں کا نشانہ بناتے تھے، اس کے علاوہ نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کا ان میں رہنا، ان کے کفر و شرک اور گندے اور غلیظ کاموں کو دیکھنا بجائے خود شدید تکلیف دہ تھا۔ اب ان سے نجات ملی، دشمن غرق ہوئے، الگ رہنے کی جگہ ملی، اپنا ماحول اور اپنی مجلس بنی، تو اس پر شکر اد اکرنے کا حکم ہوا۔ ➍ اسی لیے مسلمان کو دعوت یا جہاد کے مقصد کے بغیر کفار میں رہائش رکھنا حرام ہے، کیونکہ مسلسل کفر و شرک اور بدکاری و بے حیائی کا ارتکاب دیکھ دیکھ کر یا تو ہمیشہ شدید تکلیف میں رہے گا، یا اس کی اپنی غیرت و حمیت بھی ختم ہو جائے گی۔ چنانچہ اگر ایسی جگہ رہتا ہے تو وہاں سے ہجرت کا حکم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَنَا بَرِيْئٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ يُقِيْمُ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِيْنَ ] [ أبوداوٗد، الجہاد، باب النھي عن قتل …: ۲۶۴۵ ] ”میں ہر اس مسلم سے بری ہوں جو مشرکوں کے درمیان رہتا ہے۔“
وَ قُلۡ رَّبِّ اَنۡزِلۡنِیۡ مُنۡزَلًا مُّبٰرَکًا وَّ اَنۡتَ خَیۡرُ الۡمُنۡزِلِیۡنَ ﴿۲۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور کہہ، پروردگار، مجھ کو برکت والی جگہ اتار اور تُو بہترین جگہ دینے والا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کہنا کہ اے میرے رب! مجھے بابرکت اتارنا اتار اور تو ہی بہتر ہے اتارنے والوں میں
احمد رضا خان بریلوی
اور عرض کر کہ اے میرے رب مجھے برکت والی جگہ اتار اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور کہنا اے میرے پروردگار! مجھے بابرکت، اتار تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تو کہہ اے میرے رب! مجھے اتار، ایسا اتارنا جو بابرکت ہو اور تو سب اتارنے والوں سے بہتر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا حکم ٭٭

جب نوح علیہ السلام ان سے تنگ آ گئے اور مایوس ہو گئے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ» [ 54-القمر: 10 ] ‏‏‏‏ میرے پروردگار میں لاچار ہو گیا ہوں میری مدد فرما۔ جھٹلانے والوں پر مجھے غالب کر اسی وقت فرمان الٰہی آیا کہ کشتی بناؤ اور خوب مضبوط چوڑی چکلی۔ اس میں ہر قسم کا ایک ایک جوڑا رکھ لو حیوانات نباتات پھل وغیرہ وغیرہ اور اسی میں اپنے والوں کو بھی بٹھالو مگر جس پر اللہ کی طرف سے ہلاکت سبقت کر چکی ہے جو ایمان نہیں لائے۔ جیسے آپ کی قوم کے کافر اور آپ کا لڑکا اور آپ کی بیوی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور جب تم عذاب آسمانی بصورت بارش اور پانی آتا دیکھ لو پھر مجھ سے ان ظالموں کی سفارش نہ کرنا۔ پھر ان پر رحم نہ کرنا نہ ان کے ایمان کی امید رکھنا۔ بس پھر تو یہ سب غرق ہو جائیں گے اور کفر پر ہی ان کا خاتمہ ہو گا۔ اس کا پورا قصہ سورۃ ھود کی تفسیر میں گزر چکا ہے ہے اس لیے ہم نہیں دہراتے۔ جب تو اور تیرے مومن ساتھی کشتی پرسوار ہو جاؤ تو کہنا کہ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی جیسے فرمان ہے کہ «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ» [ 43-الزخرف: 12- 14 ] ‏‏‏‏ اللہ نے تمہاری سواری کے لیے کشتیاں اور چوپائے بنائے ہیں تاکہ تم سواری لے کر اپنے رب کی نعمت کو مانو اور سوار ہو کر کہو کہ وہ اللہ پاک ہے جس نے ان جانوروں کو ہمارے تابع بنا دیا ہے حالانکہ ہم میں خود اتنی طاقت نہ تھی بالیقین ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ نوح علیہ السلام نے یہی کہا اور فرمایا «وَقَالَ ارْكَبُوا فِيهَا بِسْمِ اللَّـهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» [ 11-هود: 41 ] ‏‏‏‏ آؤ اس میں بیٹھ جاؤ اللہ کے نام کے ساتھ اس کا چلنا اور ٹھیرنا ہے پس شروع چلنے کے وقت بھی اللہ کو یاد کیا۔ اور جب وہ ٹھیرنے لگی تب بھی اللہ کو یاد کیا اور دعا کی کہ اے اللہ مجھے مبارک منزل پر اتارنا اور تو ہی سب سے بہتر اتارنے والا ہے اس میں یعنی مومنوں کی نجات اور کافروں کی ہلاکت میں انبیاء کی تصدیق کی نشایاں ہیں اللہ کی الوہیت کی علامتیں ہیں اس کی قدرت اس کا علم اس سے ظاہر ہوتا ہے۔ یقیناً رسولوں کو بھیج کر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش اور ان کا پورا امتحان کر لیتا ہے۔
29-1کشتی میں بیٹھ کر اللہ کا شکر ادا کرنا کہ ان ظالموں کو بالآخر غرق کر کے، ان سے نجات عطا فرمائی اور کشتی کے خیرو عافیت کے ساتھ کنارے پر لگنے کی دعا کرنا (وَقُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ) 23۔ المومنون:29) 29-2نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، سواری پر بیٹھتے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ اللّٰہُ اَکْبَرْ، اللّٰہ اَکْبَرْ، ا للّٰہُ اَکْبَرْ (وَتَـقُوْلُوْاسُبْحٰنَ الَّذِيْ سَخَّــرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِيْنَ) 43۔ الزخرف:13)
(آیت 29) ➊ { وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا:} یہ نوح علیہ السلام کو سکھائی گئی دعا کا دوسرا حصہ ہے۔ {” مُنْزَلًا “} باب افعال میں سے مصدر میمی بھی ہے اور ظرف بھی، اتارنا اور اتارنے کی جگہ، یعنی اے میرے پروردگار! تو مجھے اتار، ایسا اتارنا جو بابرکت ہو اور ایسی جگہ اتار جو بہت برکت والی ہو۔ بابرکت اتارنے سے مراد یہ ہے کہ سوار ہوتے وقت کوئی تکلیف نہ ہو اور جہاں اتریں وہاں کوئی آفت نہ آئے، ہر حال میں اور ہر جگہ بڑی رحمت و برکت شامل رہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی: «{ وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِيْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا }» [ بني إسرائیل: ۸۰ ] ”اور کہہ اے میرے رب! داخل کر مجھے سچا داخل کرنا اور نکال مجھے سچا نکالنا اور میرے لیے اپنی طرف سے ایسا غلبہ بنا جو مددگار ہو۔“ یہ دونوں دعائیں خود اللہ تعالیٰ کی سکھائی ہوئی ہیں جنھیں {” قُلْ “} کہہ کر پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں، ان دونوں دعاؤں کو ورد زبان رکھنا چاہیے، خصوصاً گھر جاتے اور گھر سے نکلتے وقت اور یہ دعائیں کرتے ہوئے دنیا کی باعزت اور بابرکت منزل کے ساتھ ہماری اصل منزل جنت کی نیت بھی رکھنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں وہ باعزت اور بابرکت مقام عطا فرمائے۔ (آمین) ➋ { وَ اَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ:} اس کا ایک مطلب تو وہ ہے جو اوپر ترجمے میں ہے اور ایک وہ ہے جو یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا: «{ وَ اَنَا خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ }» [ یوسف: ۵۹ ] ”اور میں بہترین مہمان ٹھہرانے والا (میزبان) ہوں۔“ یعنی کشتی سے اترنے کے بعد تو ہی ہماری مہمان نوازی اور ہماری ضروریات کا بندوبست کرنے والا ہے اور تجھ سے بہتر مہمان نواز کوئی نہیں۔
اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنۡ کُنَّا لَمُبۡتَلِیۡنَ ﴿۳۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِس قصے میں بڑی نشانیاں ہیں اور آزمائش تو ہم کر کے ہی رہتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً اس میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں اور ہم بےشک آزمائش کرنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اس میں ضرو ر نشانیاں اور بیشک ضرور ہم جانچنے والے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک اس (واقعہ) میں بڑی نشانیاں ہیں اور ہم (لوگوں کی) آزمائش کیا کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ اس میں یقینا بہت سی نشانیاں ہیں اور بلاشبہ یقینا ہم ہمیشہ سے آزمانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا حکم ٭٭

جب نوح علیہ السلام ان سے تنگ آ گئے اور مایوس ہو گئے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ» [ 54-القمر: 10 ] ‏‏‏‏ میرے پروردگار میں لاچار ہو گیا ہوں میری مدد فرما۔ جھٹلانے والوں پر مجھے غالب کر اسی وقت فرمان الٰہی آیا کہ کشتی بناؤ اور خوب مضبوط چوڑی چکلی۔ اس میں ہر قسم کا ایک ایک جوڑا رکھ لو حیوانات نباتات پھل وغیرہ وغیرہ اور اسی میں اپنے والوں کو بھی بٹھالو مگر جس پر اللہ کی طرف سے ہلاکت سبقت کر چکی ہے جو ایمان نہیں لائے۔ جیسے آپ کی قوم کے کافر اور آپ کا لڑکا اور آپ کی بیوی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور جب تم عذاب آسمانی بصورت بارش اور پانی آتا دیکھ لو پھر مجھ سے ان ظالموں کی سفارش نہ کرنا۔ پھر ان پر رحم نہ کرنا نہ ان کے ایمان کی امید رکھنا۔ بس پھر تو یہ سب غرق ہو جائیں گے اور کفر پر ہی ان کا خاتمہ ہو گا۔ اس کا پورا قصہ سورۃ ھود کی تفسیر میں گزر چکا ہے ہے اس لیے ہم نہیں دہراتے۔ جب تو اور تیرے مومن ساتھی کشتی پرسوار ہو جاؤ تو کہنا کہ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی جیسے فرمان ہے کہ «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ» [ 43-الزخرف: 12- 14 ] ‏‏‏‏ اللہ نے تمہاری سواری کے لیے کشتیاں اور چوپائے بنائے ہیں تاکہ تم سواری لے کر اپنے رب کی نعمت کو مانو اور سوار ہو کر کہو کہ وہ اللہ پاک ہے جس نے ان جانوروں کو ہمارے تابع بنا دیا ہے حالانکہ ہم میں خود اتنی طاقت نہ تھی بالیقین ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ نوح علیہ السلام نے یہی کہا اور فرمایا «وَقَالَ ارْكَبُوا فِيهَا بِسْمِ اللَّـهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» [ 11-هود: 41 ] ‏‏‏‏ آؤ اس میں بیٹھ جاؤ اللہ کے نام کے ساتھ اس کا چلنا اور ٹھیرنا ہے پس شروع چلنے کے وقت بھی اللہ کو یاد کیا۔ اور جب وہ ٹھیرنے لگی تب بھی اللہ کو یاد کیا اور دعا کی کہ اے اللہ مجھے مبارک منزل پر اتارنا اور تو ہی سب سے بہتر اتارنے والا ہے اس میں یعنی مومنوں کی نجات اور کافروں کی ہلاکت میں انبیاء کی تصدیق کی نشایاں ہیں اللہ کی الوہیت کی علامتیں ہیں اس کی قدرت اس کا علم اس سے ظاہر ہوتا ہے۔ یقیناً رسولوں کو بھیج کر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش اور ان کا پورا امتحان کر لیتا ہے۔
30-1یعنی اس سرگزشت نوح ؑ میں اہل ایمان کو نجات اور کافروں کو ہلاک کردیا گیا، نشانیاں ہیں اس امر پر کہ انبیاء جو کچھ اللہ کی طرف سے لے کر آتے ہیں، ان میں وہ سچے ہوتے ہیں۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر اور کشمکش حق و باطل میں ہر بات سے آگاہ ہے اور وقت آنے پر اس کا نوٹس لیتا ہے اور اہل باطل کی پھر اس طرح گرفت کرتا ہے کہ اس کے شکنجے سے کوئی نکل نہیں سکتا۔ 30-2اور ہم انبیاء و رسل کے ذریعے سے یہ آزمائش کرتے رہے ہیں۔
(آیت 30) ➊ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ:} نوح علیہ السلام کا قصہ بیان کرنے کے بعد اس سے حاصل ہونے والی عبرتوں کی طرف توجہ دلائی کہ یقینا اس واقعہ میں بہت سی نشانیاں ہیں، مثلاً اس میں نوح علیہ السلام کے اولو العزم پیغمبر ہونے کی کئی نشانیاں ہیں، یعنی مدت دراز تک ان کا بے مثال صبر، قوم کے ایمان نہ لانے کی اطلاع پر ان پر بددعا کا قبول ہونا، ان کے دشمنوں کا غرق ہونا، اللہ تعالیٰ کا ان کی رسالت کی تصدیق کرنا اور ان کی تعریف کرنا وغیرہ۔ نوح علیہ السلام کی قوم جیسی رسولوں کو جھٹلانے والی دیگر قوموں کے لیے بھی کئی نشانیاں ہیں۔ اسی طرح اللہ کی عظیم قدرت کی بھی بہت سی نشانیاں ہیں، مثلاً اتنا عظیم طوفان جس سے پہاڑ بھی نہ بچا سکیں اور اس میں نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو محفوظ رکھ کر بابرکت طریقے سے اتار کر بابرکت جگہ دینا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے کامل علم و حکمت کی بھی بہت سی نشانیاں ہیں کہ اس نے کس طرح زمین کو مکمل طور پر شرک سے پاک کرنا طے کر رکھا تھا اور اتنے تباہ کن طوفان میں بھی اس نے انسانی ضروریات اور جانوروں کی بقا کا انتظام طے کر رکھا تھا اور کیا۔ (ابن عاشور) ➋ { وَ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِيْنَ:وَ “} اصل میں {”إِنَّ“} ہے، جس کا اسم {”نَا“} محذوف ہے۔ دلیل {” لَمُبْتَلِيْنَ “} پر آنے والا لام ہے۔ {”كَانَ“} استمرار کے لیے ہے، یعنی بلاشبہ یقینا ہم ہمیشہ سے آزمانے والے ہیں۔ ہم نے نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کی آزمائش کی، اسی طرح ہم ہر پیغمبر اور اس کی امت کی آزمائش کرتے چلے آئے ہیں اور اب بھی آزمائش کرتے رہتے ہیں۔ اس میں ہماری حکمت کھرے کھوٹے کو ظاہر کرنا، آزمائش میں کامیاب ہونے والوں کو نوازنا اور ناکام رہنے والوں کے ساتھ ان کے حسب حال سلوک کرنا ہے۔
ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِیۡنَ ﴿ۚ۳۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ان کے بعد ہم نے ایک دوسرے دَور کی قوم اٹھائی
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے بعد ہم نے اور بھی امت پیدا کی
احمد رضا خان بریلوی
پھر ان کے بعد ہم نے اور سنگت (قوم) پیدا کی
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ہم نے ان کے بعد ایک اور نسل پیدا کی۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ان کے بعد ہم نے اور زمانے کے لوگ پیدا کیے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عاد و ثمود کا تذکرہ ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرتا ہے کہ نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی امتیں آئیں جیسے عاد جو ان کے بعد آئی یا ثمود قوم جن پر چیخ کا عذاب آیا تھا۔ جیسے کہ اس آیت میں ہے ان میں بھی اللہ کے رسول علیہ السلام آئے اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی تعلیم دی۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا، مخالفت کی، اتباع سے انکار کیا۔ محض اس بنا پر کے یہ انسان ہیں۔ قیامت کو بھی نہ مانا، جسمانی حشرکے منکر بن گئے اور کہنے لگے کہ یہ بالکل دور از قیاس ہے۔ بعثت ونشر، حشروقیامت کوئی چیز نہیں۔ اس شخص نے یہ سب باتیں از خود گھڑلی ہیں ہم ایسی فضول باتوں کے مانے والے نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور ان پر مدد طلب کی۔ اسی وقت جواب ملاکہ تیری ناموافقت ابھی ابھی ان پر عذاب بن کر برسے گی اور یہ آٹھ آٹھ آنسو روئیں گے۔ آخر ایک زبردست چیخ اور بےپناہ چنگھاڑ کے ساتھ سب تلف کر دئیے گئے اور وہ مستحق بھی اسی کے تھے۔ تیزوتند آندھی اور پوری طاقتور ہوا کے ساتھ ہی فرشتے کی دل دہلانے والی خوف ناک آواز نے انہیں پارہ پارہ کر دیا وہ ہلاک اور تباہ ہو گئے۔ بھوسہ بن کر اڑ گئے۔ صرف مکانات کے کھنڈر اِن گئے گزرے ہوئے لوگوں کی نشاندہی کے لیے رہ گئے وہ کوڑے کرکٹ کی طرح ناچیز محض ہو گئے۔ ایسے ظالموں کے لیے دوری ہے۔ ان پر رب نے ظلم نہیں کیا بلکہ انہی کا کیا ہوا تھا جو ان کے سامنے آیا۔ پس اے لوگو! تمہیں بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت سے ڈرنا چاہے۔
31-1اکثر مفسرین کے نزدیک قوم نوح کے بعد، جس قوم کو اللہ نے پیدا فرمایا اور ان میں رسول بھیجا، وہ قوم عاد ہے کیونکہ اکثر مقامات پر قوم نوح کے جانشین کے طور پر عاد ہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ بعض کے نزدیک یہ قوم ثمود ہے کیونکہ آگے چل کر ان کی ہلاکت کے ذکر میں کہا گیا کہ زبردست چیخ نے ان کو پکڑ لیا، اور یہ عذاب قوم ثمود پر آیا تھا۔ بعض کے نزدیک یہ حضرت شعیب ؑ کی قوم اہل میں ہیں کہ ان کی ہلاکت بھی چیخ کے ذریعے سے ہوئی تھی۔
(آیت 31){ ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِيْنَ:} اس سے مراد اکثر مفسرین نے قومِ عاد لی ہے، کیونکہ قومِ نوح کے جانشین یہی لوگ بنے تھے۔ ہود علیہ السلام نے ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: «{ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ }» [ الأعراف: ۶۹ ] ”اور یاد کرو جب اللہ نے تمھیں قومِ نوح کا جانشین بنایا۔“ مگر بہت سے مفسرین نے اس سے مراد صالح علیہ السلام کی قوم ثمود لی ہے، کیونکہ یہاں {” الصَّيْحَةُ “} (چیخ) کا ذکر ہے اور ”صیحہ“ یعنی چیخ سے ہلاک ہونے والے ثمود تھے۔ اس کے علاوہ اہل عرب کی نصیحت کے لیے قوم ثمود کا تذکرہ زیادہ موزوں تھا، کیونکہ پہاڑوں کو تراش کر ان کے بنائے ہوئے مکانات مقام حجر میں ان کے سامنے موجود تھے۔ امام طبری، ابن عاشور اور مفسر سعدی وغیرہم نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں کسی قوم کا نام نہیں لیا، کیونکہ مراد تاریخ کا بیان یا قصہ گوئی نہیں بلکہ عبرت ہے کہ بعد میں آنے والوں نے بھی پہلوں کے انجام سے کوئی سبق حاصل نہ کیا، آخر اللہ کی گرفت کا نشانہ بنے۔
فَاَرۡسَلۡنَا فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿٪۳۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اُن میں خود انہی کی قوم کا ایک رسول بھیجا (جس نے انہیں دعوت دی) کہ اللہ کی بندگی کرو، تمہارے لیے اُس کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے، کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ان میں خود ان میں سے (ہی) رسول بھی بھیجا کہ تم سب اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تم کیوں نہیں ڈرتے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو ان میں ایک رسول انہیں میں سے بھیجا کہ اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں، تو کیا تمہیں ڈر نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ہم نے انہی میں سے ایک پیغمبر بھیجا (جس نے ان سے کہا) اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ کیا تم (اس کی حکم عدولی) سے ڈرتے نہیں ہو؟
عبدالسلام بن محمد
پھر ان میں انھی سے ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم ڈرتے نہیں؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عاد و ثمود کا تذکرہ ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرتا ہے کہ نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی امتیں آئیں جیسے عاد جو ان کے بعد آئی یا ثمود قوم جن پر چیخ کا عذاب آیا تھا۔ جیسے کہ اس آیت میں ہے ان میں بھی اللہ کے رسول علیہ السلام آئے اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی تعلیم دی۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا، مخالفت کی، اتباع سے انکار کیا۔ محض اس بنا پر کے یہ انسان ہیں۔ قیامت کو بھی نہ مانا، جسمانی حشرکے منکر بن گئے اور کہنے لگے کہ یہ بالکل دور از قیاس ہے۔ بعثت ونشر، حشروقیامت کوئی چیز نہیں۔ اس شخص نے یہ سب باتیں از خود گھڑلی ہیں ہم ایسی فضول باتوں کے مانے والے نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور ان پر مدد طلب کی۔ اسی وقت جواب ملاکہ تیری ناموافقت ابھی ابھی ان پر عذاب بن کر برسے گی اور یہ آٹھ آٹھ آنسو روئیں گے۔ آخر ایک زبردست چیخ اور بےپناہ چنگھاڑ کے ساتھ سب تلف کر دئیے گئے اور وہ مستحق بھی اسی کے تھے۔ تیزوتند آندھی اور پوری طاقتور ہوا کے ساتھ ہی فرشتے کی دل دہلانے والی خوف ناک آواز نے انہیں پارہ پارہ کر دیا وہ ہلاک اور تباہ ہو گئے۔ بھوسہ بن کر اڑ گئے۔ صرف مکانات کے کھنڈر اِن گئے گزرے ہوئے لوگوں کی نشاندہی کے لیے رہ گئے وہ کوڑے کرکٹ کی طرح ناچیز محض ہو گئے۔ ایسے ظالموں کے لیے دوری ہے۔ ان پر رب نے ظلم نہیں کیا بلکہ انہی کا کیا ہوا تھا جو ان کے سامنے آیا۔ پس اے لوگو! تمہیں بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت سے ڈرنا چاہے۔
32-1یہ رسول بھی ہم نے انہی میں سے بھیجا، جس کی نشو و نما ان کے درمیان ہی ہوئی تھی، جس کو وہ اچھی طرح پہچانتے تھے، اس کے خاندان، مکان اور جائے پیدائش ہر چیز سے واقف تھے۔ 32-2اس نے آ کر سب سے پہلے وہی توحید کی دعوت دی جو ہر نبی کی دعوت و تبلیغ کا سرنامہ رہی۔
(آیت 32){ فَاَرْسَلْنَا فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ …:} اس آیت کی تفسیر اسی سورت کی آیت (۲۳) میں گزر چکی ہے۔
وَ قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِہِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَۃِ وَ اَتۡرَفۡنٰہُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۙ مَا ہٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ ۙ یَاۡکُلُ مِمَّا تَاۡکُلُوۡنَ مِنۡہُ وَ یَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ ﴿۪ۙ۳۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا، جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں آسودہ کر رکھا تھا، وہ کہنے لگے "یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر ایک بشر تم ہی جیسا جو کچھ تم کھاتے ہو وہی یہ کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہو وہی یہ پیتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور سرداران قوم نے جواب دیا، جو کفر کرتے تھے اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلاتے تھے اور ہم نے انہیں دنیوی زندگی میں خوشحال کر رکھا تھا، کہ یہ تو تم جیسا ہی انسان ہے، تمہاری ہی خوراک یہ بھی کھاتا ہے اور تمہارے پینے کا پانی ہی یہ پیتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بولے اس قوم کے سردار جنہوں نے کفر کیا اور آخرت کی حاضری کو جھٹلایا اور ہم نے انہیں دنیا کی زندگی میں چین دیا کہ یہ تو نہیں مگر جیسا آدمی جو تم کھاتے ہو اسی میں سے کھاتا ہے اور جو تم پیتے ہو اسی میں سے پیتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس کی قوم کے وہ سردار جو کافر تھے اور آخرت کی حاضری کو جھٹلاتے تھے اور جنہیں ہم نے دنیوی زندگی میں آسودگی دے رکھی تھی۔ وہ کہنے لگے کہ یہ نہیں ہے مگر تمہارے ہی جیسا ایک بشر (آدمی) ہے یہ وہی (خوراک) کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی (مشروب) پیتا ہے۔ جو تم پیتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اورآخرت کی ملاقات کو جھٹلایا اور ہم نے انھیں دنیا کی زندگی میں خوش حال رکھا تھا، کہا یہ نہیں ہے مگر تمھارے جیسا ایک بشر، جو اس میں سے کھاتا ہے جس میں سے تم کھاتے ہو اور اس میں سے پیتا ہے جو تم پیتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عاد و ثمود کا تذکرہ ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرتا ہے کہ نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی امتیں آئیں جیسے عاد جو ان کے بعد آئی یا ثمود قوم جن پر چیخ کا عذاب آیا تھا۔ جیسے کہ اس آیت میں ہے ان میں بھی اللہ کے رسول علیہ السلام آئے اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی تعلیم دی۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا، مخالفت کی، اتباع سے انکار کیا۔ محض اس بنا پر کے یہ انسان ہیں۔ قیامت کو بھی نہ مانا، جسمانی حشرکے منکر بن گئے اور کہنے لگے کہ یہ بالکل دور از قیاس ہے۔ بعثت ونشر، حشروقیامت کوئی چیز نہیں۔ اس شخص نے یہ سب باتیں از خود گھڑلی ہیں ہم ایسی فضول باتوں کے مانے والے نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور ان پر مدد طلب کی۔ اسی وقت جواب ملاکہ تیری ناموافقت ابھی ابھی ان پر عذاب بن کر برسے گی اور یہ آٹھ آٹھ آنسو روئیں گے۔ آخر ایک زبردست چیخ اور بےپناہ چنگھاڑ کے ساتھ سب تلف کر دئیے گئے اور وہ مستحق بھی اسی کے تھے۔ تیزوتند آندھی اور پوری طاقتور ہوا کے ساتھ ہی فرشتے کی دل دہلانے والی خوف ناک آواز نے انہیں پارہ پارہ کر دیا وہ ہلاک اور تباہ ہو گئے۔ بھوسہ بن کر اڑ گئے۔ صرف مکانات کے کھنڈر اِن گئے گزرے ہوئے لوگوں کی نشاندہی کے لیے رہ گئے وہ کوڑے کرکٹ کی طرح ناچیز محض ہو گئے۔ ایسے ظالموں کے لیے دوری ہے۔ ان پر رب نے ظلم نہیں کیا بلکہ انہی کا کیا ہوا تھا جو ان کے سامنے آیا۔ پس اے لوگو! تمہیں بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت سے ڈرنا چاہے۔
33-1یہ سردار قوم ہی ہر دور میں انبیاء و رسل اور اہل حق کو جھٹلاتے ہیں، جس کی وجہ سے قوم کی اکثریت ایمان لانے سے محروم رہتی۔ کیونکہ یہ نہایت با اثر لوگ ہوتے تھے، قوم انھیں کے پیچھے چلنے والی ہوتی تھی۔ 33-2یعنی عقیدہ آخرت پر عدم ایمان اور دنیاوی آسائشوں کی فروانی، یہ دو بنیادی سبب تھے، اپنے رسول پر ایمان نہ لانے کے۔ آج بھی باطل انھیں اسباب کی بنا پر اہل حق کی مخالفت اور دعوت حق سے گریز کرتے ہیں۔ 33-3چناچہ انہوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ یہ تو ہماری ہی طرح کھاتا پیتا ہے۔ یہ اللہ کا رسول کس طرح ہوسکتا ہے؟ جیسے آج بھی بہت سے مدعیان اسلام کے لیے رسول کی بشریت کا تسلیم کرنا نہایت گراں ہے۔
(آیت 33) ➊ { وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا …:} اس آیت میں ان کے سرداروں کی اپنے رسول کو بشر کہہ کر جھٹلانے کی دو بڑی وجہیں بیان ہوئی ہیں، ایک یہ کہ وہ آخرت کی ملاقات کو جھٹلاتے تھے اور دوسری یہ کہ انھیں دنیا میں وسیع خوش حالی حاصل تھی۔ {”تَرَفٌ“} کا معنی وسیع خوش حالی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امتِ مسلمہ میں سے حدیث کے منکر کا بھی یہی حال بیان کیا کہ اس کے انکار میں اس کی خوش حالی اور فارغ البالی کا دخل ہو گا۔ مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَلَا إِنِّيْ أُوْتِيْتُ الْكِتَابَ وَ مِثْلَهُ مَعَهُ، أَلَا يُوْشِكُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلٰی أَرِيْكَتِهِ يَقُوْلُ عَلَيْكُمْ بِهٰذَا الْقُرْآنِ فَمَا وَجَدْتُمْ فِيْهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوْهُ وَمَا وَجَدْتُمْ فِيْهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوْهُ، أَلَا، لَا يَحِلُّ لَكُمُ الْحِمَارُ الْأَهْلِيُّ وَلَا كُلُّ ذِيْ نَابٍ مِنَ السَّبُعِ ] [ أَبوداوٗد، السنۃ، باب في لزوم السنۃ…: ۴۶۰۴ ] ”سنو! مجھے کتاب دی گئی ہے اور اس کے ساتھ اس کی مثل (حدیث) دی گئی ہے۔ سنو! قریب ہے کہ ایک بھرے ہوئے پیٹ والا (یعنی خوش حال) آدمی جو اپنے تخت پر تکیہ لگائے ہو گا، یہ کہے گا کہ اس قرآن کو لازم پکڑو، جو اس میں حلال پاؤ اسے حلال سمجھو اور جو اس میں حرام پاؤ اسے حرام سمجھو۔ سنو! تمھارے لیے گھریلو گدھا حلال نہیں اور نہ کچلی والا درندہ حلال ہے (حالانکہ یہ قرآن میں نہیں بلکہ حدیث رسول میں ہے)۔“ ➋ { يَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ …:} ”بشر رسول نہیں ہو سکتا“ پیغمبروں کو جھٹلانے والے سبھی لوگوں نے یہی کہا۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس میں تسلی ہے کہ آپ اس تکذیب میں اکیلے نہیں، کیونکہ آپ کے متعلق بھی کفار نے کہا تھا: «‏‏‏‏مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ يَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ» [ الفرقان: ۷ ] ”اس رسول کو کیا ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔“ ➌ سورۂ اعراف اور سورۂ ہود میں پیغمبروں کی نصیحت کے بعد قوم کے سرداروں کی بات {” قَالَ الْمَلَاُ “} سے شروع ہوتی ہے، جب کہ اس سورت میں نوح علیہ السلام کی نصیحت کے بعد {” فَقَالَ الْمَلَؤُا “} ہے اور زیر تفسیر آیت میں {” وَ قَالَ الْمَلَاُ“} ہے۔ اس فرق کی توجیہ ابن عاشور رحمہ اللہ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ ان دونوں سورتوں یعنی اعراف اور ہود میں پیغمبروں کی نصیحت کے بعد قوم کے سرداروں کا پیغمبروں سے براہ راست خطاب ہے، اس لیے ”فاء“ یا ”واؤ“ کی ضرورت نہیں، جب کہ یہاں پیغمبروں کی نصیحت کے بعد قوم کے سرداروں کا پیغمبروں کو جواب مذکور نہیں، بلکہ اس کے بعد ان کا اپنے لوگوں کے پاس جا کر انھیں بہکانا مذکور ہے، تاکہ وہ پیغمبر کی بات سے متاثر نہ ہو جائیں، اس لیے ”فاء“ اور ”واؤ“ لائی گئی ہیں۔
وَ لَئِنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّثۡلَکُمۡ اِنَّکُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴿ۙ۳۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اب اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت قبول کر لی تو تم گھاٹے ہی میں رہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر تم نے اپنے جیسے ہی انسان کی تابعداری کر لی ہے تو بےشک تم سخت خسارے والے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر تم کسی اپنے جیسے آدمی کی اطاعت کرو جب تو تم ضرور گھاٹے میں ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت کر لی تو تم گھاٹے میں رہوگے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ اگر تم نے اپنے جیسے ایک بشر کا کہنا مان لیا تو یقینا تم اس وقت ضرور خسارہ اٹھانے والے ہو گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عاد و ثمود کا تذکرہ ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرتا ہے کہ نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی امتیں آئیں جیسے عاد جو ان کے بعد آئی یا ثمود قوم جن پر چیخ کا عذاب آیا تھا۔ جیسے کہ اس آیت میں ہے ان میں بھی اللہ کے رسول علیہ السلام آئے اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی تعلیم دی۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا، مخالفت کی، اتباع سے انکار کیا۔ محض اس بنا پر کے یہ انسان ہیں۔ قیامت کو بھی نہ مانا، جسمانی حشرکے منکر بن گئے اور کہنے لگے کہ یہ بالکل دور از قیاس ہے۔ بعثت ونشر، حشروقیامت کوئی چیز نہیں۔ اس شخص نے یہ سب باتیں از خود گھڑلی ہیں ہم ایسی فضول باتوں کے مانے والے نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور ان پر مدد طلب کی۔ اسی وقت جواب ملاکہ تیری ناموافقت ابھی ابھی ان پر عذاب بن کر برسے گی اور یہ آٹھ آٹھ آنسو روئیں گے۔ آخر ایک زبردست چیخ اور بےپناہ چنگھاڑ کے ساتھ سب تلف کر دئیے گئے اور وہ مستحق بھی اسی کے تھے۔ تیزوتند آندھی اور پوری طاقتور ہوا کے ساتھ ہی فرشتے کی دل دہلانے والی خوف ناک آواز نے انہیں پارہ پارہ کر دیا وہ ہلاک اور تباہ ہو گئے۔ بھوسہ بن کر اڑ گئے۔ صرف مکانات کے کھنڈر اِن گئے گزرے ہوئے لوگوں کی نشاندہی کے لیے رہ گئے وہ کوڑے کرکٹ کی طرح ناچیز محض ہو گئے۔ ایسے ظالموں کے لیے دوری ہے۔ ان پر رب نے ظلم نہیں کیا بلکہ انہی کا کیا ہوا تھا جو ان کے سامنے آیا۔ پس اے لوگو! تمہیں بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت سے ڈرنا چاہے۔
34-1وہ خسارہ ہی ہے کہ اپنے ہی جیسے انسان کو رسول مان کر تم اس کی فضیلت و برتری کو تسلیم کرلو گے، جب کہ ایک بشر، دوسرے بشر سے افضل کیوں کر ہوسکتا ہے۔ یہی وہ مغالطہ ہے جو مکرین بشریت رسول کے دماغوں میں رہا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ جس بشر کو رسالت کے لیے چن لیتا ہے تو وہ اس وحی رسالت کی وجہ سے دوسرے تمام غیر نبی انسانوں سے شرف و فضل میں بہت بالا اور نہایت ارفع ہوجاتا ہے۔
(آیت 34){ وَ لَىِٕنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ …:} سورۂ قمر میں اسی قوم کے صالح علیہ السلام کے متعلق تحقیر سے بھرے ہوئے الفاظ ملاحظہ کریں، کہا: «{ فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِيْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ (24) ءَاُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْۢ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ }» [ القمر: ۲۴، ۲۵ ] ”پس انھوں نے کہا کیا ایک آدمی جو ہمیں سے ہے اکیلا، ہم اس کے پیچھے لگ جائیں؟ یقینا ہم تو اس وقت بڑی گمراہی اور دیوانگی میں ہوں گے۔ کیا یہ نصیحت ہمارے درمیان میں سے اسی پر نازل کی گئی ہے؟ بلکہ وہ بہت جھوٹا ہے، متکبر ہے۔“ اپنے مال و جاہ پر مغرور سرداروں نے سرداری خطرے میں دیکھ کر دنیا اور آخرت کی ذلت قبول کر لی، مگر بے شمار نشان دیکھنے کے باوجود رسول پر ایمان لا کر تابع ہونا قبول نہ کیا۔ سرداری کی آفات میں سے یہ سب سے بڑی آفت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے بچائے رکھے۔
اَیَعِدُکُمۡ اَنَّکُمۡ اِذَا مِتُّمۡ وَ کُنۡتُمۡ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّکُمۡ مُّخۡرَجُوۡنَ ﴿۪ۙ۳۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ تمہیں اطلاع دیتا ہے کہ جب تم مر کر مٹی ہو جاؤ گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جاؤ گے اُس وقت تم (قبروں سے) نکالے جاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا یہ تمہیں اس بات کا وعده کرتا ہے کہ جب تم مرکر صرف خاک اور ہڈی ره جاؤ گے تو تم پھر زنده کئے جاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
کیا تمہیں یہ وعدہ دیتا ہے کہ تم جب مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے اس کے بعد پھر نکالے جاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے کہ جب تم مر جاؤگے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جاؤگے تو پھر تم (قبروں سے) نکالے جاؤگے؟
عبدالسلام بن محمد
کیا یہ تمھیں وعدہ دیتا ہے کہ جب تم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں بن گئے تو تم نکالے جانے والے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عاد و ثمود کا تذکرہ ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرتا ہے کہ نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی امتیں آئیں جیسے عاد جو ان کے بعد آئی یا ثمود قوم جن پر چیخ کا عذاب آیا تھا۔ جیسے کہ اس آیت میں ہے ان میں بھی اللہ کے رسول علیہ السلام آئے اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی تعلیم دی۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا، مخالفت کی، اتباع سے انکار کیا۔ محض اس بنا پر کے یہ انسان ہیں۔ قیامت کو بھی نہ مانا، جسمانی حشرکے منکر بن گئے اور کہنے لگے کہ یہ بالکل دور از قیاس ہے۔ بعثت ونشر، حشروقیامت کوئی چیز نہیں۔ اس شخص نے یہ سب باتیں از خود گھڑلی ہیں ہم ایسی فضول باتوں کے مانے والے نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور ان پر مدد طلب کی۔ اسی وقت جواب ملاکہ تیری ناموافقت ابھی ابھی ان پر عذاب بن کر برسے گی اور یہ آٹھ آٹھ آنسو روئیں گے۔ آخر ایک زبردست چیخ اور بےپناہ چنگھاڑ کے ساتھ سب تلف کر دئیے گئے اور وہ مستحق بھی اسی کے تھے۔ تیزوتند آندھی اور پوری طاقتور ہوا کے ساتھ ہی فرشتے کی دل دہلانے والی خوف ناک آواز نے انہیں پارہ پارہ کر دیا وہ ہلاک اور تباہ ہو گئے۔ بھوسہ بن کر اڑ گئے۔ صرف مکانات کے کھنڈر اِن گئے گزرے ہوئے لوگوں کی نشاندہی کے لیے رہ گئے وہ کوڑے کرکٹ کی طرح ناچیز محض ہو گئے۔ ایسے ظالموں کے لیے دوری ہے۔ ان پر رب نے ظلم نہیں کیا بلکہ انہی کا کیا ہوا تھا جو ان کے سامنے آیا۔ پس اے لوگو! تمہیں بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت سے ڈرنا چاہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 35){ اَيَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ …:} پچھلی آیات میں رسول کو جھٹلانے کا ذکر ہے اور اس آیت میں اس کی دعوت، یعنی قیامت کو جھٹلانے کا ذکر ہے۔ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا ان کی نگاہ میں ناممکن تھا، حالانکہ پہلی دفعہ بنانے والے کے لیے دوبارہ بنانا کچھ مشکل نہیں۔ اس سورۂ مبارکہ کے شروع {” وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ “} سے لے کر نوح علیہ السلام کے ذکر تک موت کے بعد زندگی ہی کے دلائل ہیں۔
ہَیۡہَاتَ ہَیۡہَاتَ لِمَا تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۪ۙ۳۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بعید، بالکل بعید ہے یہ وعدہ جو تم سے کیا جا رہا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
نہیں نہیں دور اور بہت دور ہے وه جس کا تم وعده دیئے جاتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
کتنی دور ہے کتنی دور ہے جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
(حاشا و کلا) بہت بعید ہے بہت بعید ہے وہ بات جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
دوری ہے، دوری ہے اس کے لیے جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عاد و ثمود کا تذکرہ ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرتا ہے کہ نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی امتیں آئیں جیسے عاد جو ان کے بعد آئی یا ثمود قوم جن پر چیخ کا عذاب آیا تھا۔ جیسے کہ اس آیت میں ہے ان میں بھی اللہ کے رسول علیہ السلام آئے اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی تعلیم دی۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا، مخالفت کی، اتباع سے انکار کیا۔ محض اس بنا پر کے یہ انسان ہیں۔ قیامت کو بھی نہ مانا، جسمانی حشرکے منکر بن گئے اور کہنے لگے کہ یہ بالکل دور از قیاس ہے۔ بعثت ونشر، حشروقیامت کوئی چیز نہیں۔ اس شخص نے یہ سب باتیں از خود گھڑلی ہیں ہم ایسی فضول باتوں کے مانے والے نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور ان پر مدد طلب کی۔ اسی وقت جواب ملاکہ تیری ناموافقت ابھی ابھی ان پر عذاب بن کر برسے گی اور یہ آٹھ آٹھ آنسو روئیں گے۔ آخر ایک زبردست چیخ اور بےپناہ چنگھاڑ کے ساتھ سب تلف کر دئیے گئے اور وہ مستحق بھی اسی کے تھے۔ تیزوتند آندھی اور پوری طاقتور ہوا کے ساتھ ہی فرشتے کی دل دہلانے والی خوف ناک آواز نے انہیں پارہ پارہ کر دیا وہ ہلاک اور تباہ ہو گئے۔ بھوسہ بن کر اڑ گئے۔ صرف مکانات کے کھنڈر اِن گئے گزرے ہوئے لوگوں کی نشاندہی کے لیے رہ گئے وہ کوڑے کرکٹ کی طرح ناچیز محض ہو گئے۔ ایسے ظالموں کے لیے دوری ہے۔ ان پر رب نے ظلم نہیں کیا بلکہ انہی کا کیا ہوا تھا جو ان کے سامنے آیا۔ پس اے لوگو! تمہیں بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت سے ڈرنا چاہے۔
ھیھات، جس کے معنی دور کے ہیں، دو مرتبہ تاکید کے لیے ہے۔
(آیت 36){ هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ:هَيْهَاتَ “} اسم مبنی جامد غیر مشتق ہے۔ اکثر مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ فعل ماضی {”بَعُدَ“} (دور ہوا) کے معنی میں ہے۔ {”مَا تُوْعَدُوْنَ“} اس کا فاعل ہے اور لام فاعل کے بیان اور وضاحت کے لیے ہے۔ معنی ہو گا: ”دور ہے، دور ہے وہ جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو۔“ زجاج نے اپنی تفسیر میں فرمایا اور زمخشری نے بھی اسی بات کو پسند کرنے کا اشارہ فرمایا ہے کہ یہ مصدر {”بُعْدٌ“} (دوری) کے معنی میں ہے۔ معنی یہ ہو گا کہ ”دوری ہے، دوری ہے اس کے لیے جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو۔“ اس صورت میں لام کا معنی سمجھنے میں مشکل پیش نہیں آتی، میں نے اسی کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔ مطلب یہ کہ مٹی اور ہڈیاں ہونے کے بعد دوبارہ قبروں سے زندہ نکالے جانے کی بات میں بہت بُعد ہے۔
اِنۡ ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنۡیَا نَمُوۡتُ وَ نَحۡیَا وَ مَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِیۡنَ ﴿۪ۙ۳۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
زندگی کچھ نہیں ہے مگر بس یہی دنیا کی زندگی یہیں ہم کو مرنا اور جینا ہے اور ہم ہرگز اٹھائے جانے والے نہیں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
(زندگی) تو صرف دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے جیتے رہتے ہیں اور یہ نہیں کہ ہم پھر اٹھائے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
وہ تو نہیں مگر ہماری دنیا کی زندگی کہ ہم مرتے جیتے ہیں اور ہمیں اٹھنا نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کوئی اور زندگی نہیں سوائے اس دنیوی زندگی کے جس میں ہمیں مرنا بھی ہے اور جینا بھی۔ اور ہمیں (دوبارہ) نہیں اٹھایا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
نہیں ہے یہ (زندگی) مگر ہماری اس دنیا کی زندگی، ہم (یہیں) مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہم ہرگز اٹھائے جانے والے نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عاد و ثمود کا تذکرہ ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرتا ہے کہ نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی امتیں آئیں جیسے عاد جو ان کے بعد آئی یا ثمود قوم جن پر چیخ کا عذاب آیا تھا۔ جیسے کہ اس آیت میں ہے ان میں بھی اللہ کے رسول علیہ السلام آئے اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی تعلیم دی۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا، مخالفت کی، اتباع سے انکار کیا۔ محض اس بنا پر کے یہ انسان ہیں۔ قیامت کو بھی نہ مانا، جسمانی حشرکے منکر بن گئے اور کہنے لگے کہ یہ بالکل دور از قیاس ہے۔ بعثت ونشر، حشروقیامت کوئی چیز نہیں۔ اس شخص نے یہ سب باتیں از خود گھڑلی ہیں ہم ایسی فضول باتوں کے مانے والے نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور ان پر مدد طلب کی۔ اسی وقت جواب ملاکہ تیری ناموافقت ابھی ابھی ان پر عذاب بن کر برسے گی اور یہ آٹھ آٹھ آنسو روئیں گے۔ آخر ایک زبردست چیخ اور بےپناہ چنگھاڑ کے ساتھ سب تلف کر دئیے گئے اور وہ مستحق بھی اسی کے تھے۔ تیزوتند آندھی اور پوری طاقتور ہوا کے ساتھ ہی فرشتے کی دل دہلانے والی خوف ناک آواز نے انہیں پارہ پارہ کر دیا وہ ہلاک اور تباہ ہو گئے۔ بھوسہ بن کر اڑ گئے۔ صرف مکانات کے کھنڈر اِن گئے گزرے ہوئے لوگوں کی نشاندہی کے لیے رہ گئے وہ کوڑے کرکٹ کی طرح ناچیز محض ہو گئے۔ ایسے ظالموں کے لیے دوری ہے۔ ان پر رب نے ظلم نہیں کیا بلکہ انہی کا کیا ہوا تھا جو ان کے سامنے آیا۔ پس اے لوگو! تمہیں بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت سے ڈرنا چاہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 37) ➊ { اِنْ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا:هِيَ “} سے مراد {”حَيَاةٌ“} ہے، جو {” حَيَاتُنَا “} سے واضح ہو رہی ہے، یعنی مرنے کے بعد زندگی کہاں؟ زندگی ہے تو صرف یہ دنیا کی زندگی، باقی سب خیال و محال ہے۔ ➋ { نَمُوْتُ وَ نَحْيَا:} ”ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں“ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مرنے کے بعد جینے کے قائل ہو گئے تھے، کیونکہ وہ اس دنیا کے سوا کسی زندگی کو مانتے ہی نہ تھے۔ اس لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہیں ہم مرتے جاتے ہیں اور پچھلے پیدا ہوتے رہتے ہیں، دنیا کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا ہے اور جاری رہے گا۔ ➌ {وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِيْنَ:} باء کی وجہ سے نفی میں تاکید پیدا ہو گئی، اس لیے ترجمہ ہے ”اور ہم ہر گز اٹھائے جانے والے نہیں۔“ اگرچہ ان سرداروں کی پچھلی تمام باتوں کا مطلب بھی رسول اور قیامت کو جھٹلانا تھا، پھر بھی کوئی کمی باقی تھی تو انھوں نے نہایت تاکید کے ساتھ صاف لفظوں میں قیامت کا انکار کرکے اور رسول کو مفتری کہہ کر پوری کر دی، جیسا کہ اگلی آیت میں ہے۔
اِنۡ ہُوَ اِلَّا رَجُلُۨ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا وَّ مَا نَحۡنُ لَہٗ بِمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۳۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ شخص خدا کے نام پر محض جھوٹ گھڑ رہا ہے اور ہم کبھی اس کی ماننے والے نہیں ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ تو بس ایسا شخص ہے جس نے اللہ پر جھوٹ (بہتان) باندھ لیا ہے، ہم تو اس پر ایمان ﻻنے والے نہیں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
وہ تو نہیں مگر ایک مرد جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور ہم اسے ماننے کے نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
وہ نہیں ہے مگر ایک ایسا شخص جس نے خدا پر جھوٹا بہتان باندھا ہے اور ہم تو (اس کو) ماننے والے نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یہ نہیں ہے مگر ایک آدمی، جس نے اللہ پر ایک جھوٹ گھڑ لیا ہے اور ہم ہرگز اسے ماننے والے نہیں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عاد و ثمود کا تذکرہ ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرتا ہے کہ نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی امتیں آئیں جیسے عاد جو ان کے بعد آئی یا ثمود قوم جن پر چیخ کا عذاب آیا تھا۔ جیسے کہ اس آیت میں ہے ان میں بھی اللہ کے رسول علیہ السلام آئے اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی تعلیم دی۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا، مخالفت کی، اتباع سے انکار کیا۔ محض اس بنا پر کے یہ انسان ہیں۔ قیامت کو بھی نہ مانا، جسمانی حشرکے منکر بن گئے اور کہنے لگے کہ یہ بالکل دور از قیاس ہے۔ بعثت ونشر، حشروقیامت کوئی چیز نہیں۔ اس شخص نے یہ سب باتیں از خود گھڑلی ہیں ہم ایسی فضول باتوں کے مانے والے نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور ان پر مدد طلب کی۔ اسی وقت جواب ملاکہ تیری ناموافقت ابھی ابھی ان پر عذاب بن کر برسے گی اور یہ آٹھ آٹھ آنسو روئیں گے۔ آخر ایک زبردست چیخ اور بےپناہ چنگھاڑ کے ساتھ سب تلف کر دئیے گئے اور وہ مستحق بھی اسی کے تھے۔ تیزوتند آندھی اور پوری طاقتور ہوا کے ساتھ ہی فرشتے کی دل دہلانے والی خوف ناک آواز نے انہیں پارہ پارہ کر دیا وہ ہلاک اور تباہ ہو گئے۔ بھوسہ بن کر اڑ گئے۔ صرف مکانات کے کھنڈر اِن گئے گزرے ہوئے لوگوں کی نشاندہی کے لیے رہ گئے وہ کوڑے کرکٹ کی طرح ناچیز محض ہو گئے۔ ایسے ظالموں کے لیے دوری ہے۔ ان پر رب نے ظلم نہیں کیا بلکہ انہی کا کیا ہوا تھا جو ان کے سامنے آیا۔ پس اے لوگو! تمہیں بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت سے ڈرنا چاہے۔
38-1یعنی دوبارہ زندہ ہونے کا وعدہ، یہ ایک نرا جھوٹ ہے جو یہ شخص اللہ پر باندھ رہا ہے۔
(آیت 38){ اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌ افْتَرٰى …:} یعنی یہ {” رَجُلٌ “} (آدمی) ہو کر جو رسالت کا دعویٰ کرتا ہے اور مرنے کے بعد زندگی سے ڈراتا ہے، تو محض اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے، یا یہ کہ یہ صرف ایک آدمی ہے جو …۔ {” بِمُؤْمِنِيْنَ “} پر باء بھی نفی کی تاکید کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ میں لفظ ”ہر گز“ کا اضافہ کیا ہے۔
قَالَ رَبِّ انۡصُرۡنِیۡ بِمَا کَذَّبُوۡنِ ﴿۳۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
رسول نے کہا "پروردگار، اِن لوگوں نے جو میری تکذیب کی ہے، اس پر اب تو ہی میری نصرت فرما"
مولانا محمد جوناگڑھی
نبی نے دعا کی کہ پروردگار! ان کے جھٹلانے پر تو میری مدد کر
احمد رضا خان بریلوی
عرض کی کہ اے میرے رب میری مدد فرما اس پر کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا،
علامہ محمد حسین نجفی
اس (رسول) نے کہا اے میرے پروردگار! تو میری مدد کر! کیونکہ ان لوگوں نے مجھے جھٹلایا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا اے میرے رب! میری مدد کر، اس کے بدلے کہ انھوں نے مجھے جھٹلا دیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عاد و ثمود کا تذکرہ ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرتا ہے کہ نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی امتیں آئیں جیسے عاد جو ان کے بعد آئی یا ثمود قوم جن پر چیخ کا عذاب آیا تھا۔ جیسے کہ اس آیت میں ہے ان میں بھی اللہ کے رسول علیہ السلام آئے اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی تعلیم دی۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا، مخالفت کی، اتباع سے انکار کیا۔ محض اس بنا پر کے یہ انسان ہیں۔ قیامت کو بھی نہ مانا، جسمانی حشرکے منکر بن گئے اور کہنے لگے کہ یہ بالکل دور از قیاس ہے۔ بعثت ونشر، حشروقیامت کوئی چیز نہیں۔ اس شخص نے یہ سب باتیں از خود گھڑلی ہیں ہم ایسی فضول باتوں کے مانے والے نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور ان پر مدد طلب کی۔ اسی وقت جواب ملاکہ تیری ناموافقت ابھی ابھی ان پر عذاب بن کر برسے گی اور یہ آٹھ آٹھ آنسو روئیں گے۔ آخر ایک زبردست چیخ اور بےپناہ چنگھاڑ کے ساتھ سب تلف کر دئیے گئے اور وہ مستحق بھی اسی کے تھے۔ تیزوتند آندھی اور پوری طاقتور ہوا کے ساتھ ہی فرشتے کی دل دہلانے والی خوف ناک آواز نے انہیں پارہ پارہ کر دیا وہ ہلاک اور تباہ ہو گئے۔ بھوسہ بن کر اڑ گئے۔ صرف مکانات کے کھنڈر اِن گئے گزرے ہوئے لوگوں کی نشاندہی کے لیے رہ گئے وہ کوڑے کرکٹ کی طرح ناچیز محض ہو گئے۔ ایسے ظالموں کے لیے دوری ہے۔ ان پر رب نے ظلم نہیں کیا بلکہ انہی کا کیا ہوا تھا جو ان کے سامنے آیا۔ پس اے لوگو! تمہیں بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت سے ڈرنا چاہے۔
39-1بالآخر، حضرت نوح ؑ کی طرح، اس پیغمبر نے بھی بارگاہ الٰہی میں، مدد کے لئے، دست دعا دراز کردیا۔
(آیت 39){ قَالَ رَبِّ انْصُرْنِيْ بِمَا كَذَّبُوْنِ:كَذَّبُوْنِ “} اصل میں {” كَذَّبُوْنِيْ“} ہے، نون کا کسرہ اس کی دلیل ہے۔
قَالَ عَمَّا قَلِیۡلٍ لَّیُصۡبِحُنَّ نٰدِمِیۡنَ ﴿ۚ۴۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جواب میں ارشاد ہوا "قریب ہے وہ وقت جب یہ اپنے کیے پر پچھتائیں گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
جواب ملا کہ یہ تو بہت ہی جلد اپنے کئے پر پچھتانے لگیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ نے فرمایا کچھ دیر جاتی ہے کہ یہ صبح کریں گے پچھتاتے ہوئے
علامہ محمد حسین نجفی
ارشاد ہوا کہ عنقریب یہ لوگ (اپنے کئے پر) پشیمان ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
فرمایا بہت ہی کم مدت میں یہ ضرور پشیمان ہو جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عاد و ثمود کا تذکرہ ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرتا ہے کہ نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی امتیں آئیں جیسے عاد جو ان کے بعد آئی یا ثمود قوم جن پر چیخ کا عذاب آیا تھا۔ جیسے کہ اس آیت میں ہے ان میں بھی اللہ کے رسول علیہ السلام آئے اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی تعلیم دی۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا، مخالفت کی، اتباع سے انکار کیا۔ محض اس بنا پر کے یہ انسان ہیں۔ قیامت کو بھی نہ مانا، جسمانی حشرکے منکر بن گئے اور کہنے لگے کہ یہ بالکل دور از قیاس ہے۔ بعثت ونشر، حشروقیامت کوئی چیز نہیں۔ اس شخص نے یہ سب باتیں از خود گھڑلی ہیں ہم ایسی فضول باتوں کے مانے والے نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور ان پر مدد طلب کی۔ اسی وقت جواب ملاکہ تیری ناموافقت ابھی ابھی ان پر عذاب بن کر برسے گی اور یہ آٹھ آٹھ آنسو روئیں گے۔ آخر ایک زبردست چیخ اور بےپناہ چنگھاڑ کے ساتھ سب تلف کر دئیے گئے اور وہ مستحق بھی اسی کے تھے۔ تیزوتند آندھی اور پوری طاقتور ہوا کے ساتھ ہی فرشتے کی دل دہلانے والی خوف ناک آواز نے انہیں پارہ پارہ کر دیا وہ ہلاک اور تباہ ہو گئے۔ بھوسہ بن کر اڑ گئے۔ صرف مکانات کے کھنڈر اِن گئے گزرے ہوئے لوگوں کی نشاندہی کے لیے رہ گئے وہ کوڑے کرکٹ کی طرح ناچیز محض ہو گئے۔ ایسے ظالموں کے لیے دوری ہے۔ ان پر رب نے ظلم نہیں کیا بلکہ انہی کا کیا ہوا تھا جو ان کے سامنے آیا۔ پس اے لوگو! تمہیں بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت سے ڈرنا چاہے۔
40-1عما میں ما زائد ہے جو مجرور کے درمیان، قلت زمان کی تاکید کے لیے آیا ہے جیسے (فبما رحمتہ من اللہ) میں ما زائد ہے یعنی بہت جلد عذاب آنا ہے جس پر یہ پچھتائیں گے۔ لیکن اس وقت یہ پچھتاوا ان کے کچھ کام نہ آئے گا۔ یعنی بہت جلد عذاب آنے والا ہے، جس پر یہ پچھتائیں گے۔ لیکن اس وقت یہ پچھتانا ان کے کچھ کام نہ آئے گا۔
(آیت 40){ قَالَ عَمَّا قَلِيْلٍ لَّيُصْبِحُنَّ نٰدِمِيْنَ:قَلِيْلٍ “} کا معنی بہت کم ہے، اس کی قلت کی مزید تاکید کے لیے {”عَنْ“} کے ساتھ {”مَا“ } کا اضافہ فرمایا ہے، یعنی بہت ہی کم مدت میں۔ (بقاعی)
فَاَخَذَتۡہُمُ الصَّیۡحَۃُ بِالۡحَقِّ فَجَعَلۡنٰہُمۡ غُثَآءً ۚ فَبُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آخرکار ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ایک ہنگامہ عظیم نے ان کو آ لیا اور ہم نے ان کو کچرا بنا کر پھینک دیا دُور ہو ظالم قوم!
مولانا محمد جوناگڑھی
بالﺂخر عدل کے تقاضے کے مطابق چیﺦ نے پکڑ لیا اور ہم نے انہیں کوڑا کرکٹ کر ڈاﻻ، پس ﻇالموں کے لئے دوری ہو
احمد رضا خان بریلوی
تو انہیں آلیا سچی چنگھاڑ نے تو ہم نے انہیں گھاس کوڑا کردیا تو دور ہوں ظالم لوگ،
علامہ محمد حسین نجفی
چنانچہ بجاطور پر انہیں ایک سخت آواز نے آپکڑا اور ہم نے انہیں خس و خاشاک بنا دیا سو ہلاکت ہے ظالم قوم کیلئے۔
عبدالسلام بن محمد
تو انھیں چیخ نے حق کے ساتھ آپکڑا۔ پس ہم نے انھیں کوڑا کرکٹ بنا دیا۔ سو ظالم لوگوں کے لیے دوری ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عاد و ثمود کا تذکرہ ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرتا ہے کہ نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی امتیں آئیں جیسے عاد جو ان کے بعد آئی یا ثمود قوم جن پر چیخ کا عذاب آیا تھا۔ جیسے کہ اس آیت میں ہے ان میں بھی اللہ کے رسول علیہ السلام آئے اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی تعلیم دی۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا، مخالفت کی، اتباع سے انکار کیا۔ محض اس بنا پر کے یہ انسان ہیں۔ قیامت کو بھی نہ مانا، جسمانی حشرکے منکر بن گئے اور کہنے لگے کہ یہ بالکل دور از قیاس ہے۔ بعثت ونشر، حشروقیامت کوئی چیز نہیں۔ اس شخص نے یہ سب باتیں از خود گھڑلی ہیں ہم ایسی فضول باتوں کے مانے والے نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور ان پر مدد طلب کی۔ اسی وقت جواب ملاکہ تیری ناموافقت ابھی ابھی ان پر عذاب بن کر برسے گی اور یہ آٹھ آٹھ آنسو روئیں گے۔ آخر ایک زبردست چیخ اور بےپناہ چنگھاڑ کے ساتھ سب تلف کر دئیے گئے اور وہ مستحق بھی اسی کے تھے۔ تیزوتند آندھی اور پوری طاقتور ہوا کے ساتھ ہی فرشتے کی دل دہلانے والی خوف ناک آواز نے انہیں پارہ پارہ کر دیا وہ ہلاک اور تباہ ہو گئے۔ بھوسہ بن کر اڑ گئے۔ صرف مکانات کے کھنڈر اِن گئے گزرے ہوئے لوگوں کی نشاندہی کے لیے رہ گئے وہ کوڑے کرکٹ کی طرح ناچیز محض ہو گئے۔ ایسے ظالموں کے لیے دوری ہے۔ ان پر رب نے ظلم نہیں کیا بلکہ انہی کا کیا ہوا تھا جو ان کے سامنے آیا۔ پس اے لوگو! تمہیں بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت سے ڈرنا چاہے۔
41-1یہ چیخ کہتے ہیں کہ حضرت جبرائیل ؑ کی چیخ تھی، بعض کہتے ہیں کہ ویسے ہی سخت چیخ تھی، جس کے ساتھ باد صر صر بھی تھی۔ دونوں نے مل کر ان کو چشم زدن میں فنا کے گھاٹ اتار دیا۔ 41-2غُثْآءَ اس کوڑے کرکٹ کو کہتے ہیں جو سیلابی پانی کے ساتھ ہوتا ہے، جس میں درختوں کے پتے، خشک تنے، تنکے اور اسی طرح کی چیزیں ہوتی ہیں۔ جب پانی کا زور ختم ہوجاتا ہے، تو خشک ہو کر بیکار پڑے ہوتے ہیں، یہی حال ان منکرین اور متکبرین کا ہوا۔
(آیت 41){ فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ بِالْحَقِّ:} یعنی جو سزا انھیں دی گئی تھی وہ عین عدل و انصاف کے مطابق تھی، ان پر کوئی زیادتی نہیں کی گئی۔ بعض نے {” فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ بِالْحَقِّ “} کا ترجمہ یہ کیا ہے: ”آخر سچے وعدے کے مطابق ایک چیخ نے انھیں آ دبوچا۔“ یعنی وہ وعدہ جو {” عَمَّا قَلِيْلٍ لَّيُصْبِحُنَّ نٰدِمِيْنَ “} کے ضمن میں پایا جاتا ہے۔ {”اَلْحَقُّ“} سے مراد قطعی امر بھی ہو سکتا ہے، جسے کوئی روک نہ سکتا ہو۔ (روح)
ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ قُرُوۡنًا اٰخَرِیۡنَ ﴿ؕ۴۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر ہم نے ان کے بعد دوسری قومیں اٹھائیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے بعد ہم نے اور بھی بہت سی امتیں پیدا کیں
احمد رضا خان بریلوی
پھر ان کے بعد ہم نے اور سنگتیں (قومیں) پیدا کیں
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ہم نے ان کے بعد دوسری قومیں پیدا کیں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ان کے بعد ہم نے کئی اور زمانوں کے لوگ پیدا کیے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اکثریت ہمشہ بدکاروں کی رہی ٭٭

ان کے بعد بھی بہت سی امتیں اور مخلوق آئی جو ہماری پیدا کردہ تھی۔ ان کی پیدائش سے پہلے ان کی اجل جو قدرت نے مقرر کی تھی، اسے اس نے پورا کیا نہ تقدیم ہوئی نہ تاخیر۔ پھر ہم نے پے در پے لگاتار رسول بھیجے۔ ہر امت میں پیغمبر آیا اس نے لوگوں کو پیغام الٰہی پہنچایا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اس کے ماسوا کسی کی پوجا نہ کرو۔ بعض راہ راست پر آ گئے اور بعض پر کلمہ عذاب راست آ گیا۔

تمام امتوں کی اکثریت نبیوں کی منکر رہی جیسے سورۃ یاسین میں فرمایا آیت «يٰحَسْرَةً عَلَي الْعِبَادِ ڱ مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ» [ 36- يس: 30 ] ‏‏‏‏ افسوس ہے بندوں پر۔۔

ان کے پاس جو رسول آیا انہوں نے اسے مذاق میں اڑایا۔ ہم نے یکے بعد دیگرے سب کو غارت اور فناکر دیا «وَكَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ بَعْدِ نُوْحٍ وَكَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِيْرًا بَصِيْرًا» [ 17- الإسراء: 17 ] ‏‏‏‏ نوح علیہ السلام کے بعد بھی ہم نے کئی ایک بستیاں تباہ کر دیں۔ انہیں ہم نے پرانے افسانے بنا دیا وہ نیست و نابود ہو گئے اور قصے ان کے باقی رہ گئے۔ بے ایمانوں کے لیے رحمت سے دوری ہے۔
42-1اس سے مراد حضرت صالح، حضرت لوط اور حضرت شعیب (علیہم السلام) کی قومیں ہیں، کیونکہ سورة اعراف اور سورة ہود میں اسی ترتیب سے ان کے واقعات بیان کئے گئے ہیں۔ بعض کے نزدیک بنو اسرائیل مراد ہیں۔ قرون، قرن کی جمع ہے اور یہاں بمعنی امت استعمال ہوا ہے۔
(آیت 42){ ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِيْنَ:} یعنی قوم ثمود کے بعد ہم نے کئی اور دور پیدا کیے۔ (طبری)
مَا تَسۡبِقُ مِنۡ اُمَّۃٍ اَجَلَہَا وَ مَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ ﴿ؕ۴۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ختم ہوئی اور نہ اس کے بعد ٹھیر سکی
مولانا محمد جوناگڑھی
نہ تو کوئی امت اپنے وقت مقرره سے آگے بڑھی اور نہ پیچھے رہی
احمد رضا خان بریلوی
کوئی امت اپنی میعاد سے نہ پہلے جائے نہ پیچھے رہے
علامہ محمد حسین نجفی
کوئی قوم اپنے مقررہ وقت سے نہ آگے بڑھ سکتی ہے۔ اور نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کوئی امت اپنے وقت سے نہ آگے بڑھتی ہے اور نہ وہ پیچھے رہتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اکثریت ہمشہ بدکاروں کی رہی ٭٭

ان کے بعد بھی بہت سی امتیں اور مخلوق آئی جو ہماری پیدا کردہ تھی۔ ان کی پیدائش سے پہلے ان کی اجل جو قدرت نے مقرر کی تھی، اسے اس نے پورا کیا نہ تقدیم ہوئی نہ تاخیر۔ پھر ہم نے پے در پے لگاتار رسول بھیجے۔ ہر امت میں پیغمبر آیا اس نے لوگوں کو پیغام الٰہی پہنچایا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اس کے ماسوا کسی کی پوجا نہ کرو۔ بعض راہ راست پر آ گئے اور بعض پر کلمہ عذاب راست آ گیا۔

تمام امتوں کی اکثریت نبیوں کی منکر رہی جیسے سورۃ یاسین میں فرمایا آیت «يٰحَسْرَةً عَلَي الْعِبَادِ ڱ مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ» [ 36- يس: 30 ] ‏‏‏‏ افسوس ہے بندوں پر۔۔

ان کے پاس جو رسول آیا انہوں نے اسے مذاق میں اڑایا۔ ہم نے یکے بعد دیگرے سب کو غارت اور فناکر دیا «وَكَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ بَعْدِ نُوْحٍ وَكَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِيْرًا بَصِيْرًا» [ 17- الإسراء: 17 ] ‏‏‏‏ نوح علیہ السلام کے بعد بھی ہم نے کئی ایک بستیاں تباہ کر دیں۔ انہیں ہم نے پرانے افسانے بنا دیا وہ نیست و نابود ہو گئے اور قصے ان کے باقی رہ گئے۔ بے ایمانوں کے لیے رحمت سے دوری ہے۔
43-1یعنی سب امتیں بھی قوم نوح اور عاد کی طرح، جب ان کی ہلاکت کا وقت آیا تو تباہ اور برباد ہوگئیں، ایک لمحہ آگے پیچھے نہ ہوئیں۔ جیسے فرمایا (ۭاِذَا جَاۗءَ اَجَلُھُمْ فَلَا يَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ) 10۔ یونس:49)
(آیت 43){ مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا …:} یعنی کسی امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے زندگی کی جو مدت مقرر کر دی ہے وہ دنیا میں نہ اس سے کم ٹھہرتی ہے نہ زیادہ۔ طبری نے فرمایا: ”یہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے مشرکوں کے لیے وعید ہے اور انھیں آگاہ کرنا ہے کہ ان کے کفر و شرک اور رسول کو جھٹلانے کے باوجود انھیں جو مہلت دی جا رہی ہے وہ اس لیے ہے کہ وہ اپنی مقرر کر دہ مدت کو پہنچ جائیں، پھر ان پر اس کی گرفت آئے گی، جیسا کہ پہلی امتوں کے ساتھ ہوا۔“
ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا تَتۡرَا ؕ کُلَّمَا جَآءَ اُمَّۃً رَّسُوۡلُہَا کَذَّبُوۡہُ فَاَتۡبَعۡنَا بَعۡضَہُمۡ بَعۡضًا وَّ جَعَلۡنٰہُمۡ اَحَادِیۡثَ ۚ فَبُعۡدًا لِّقَوۡمٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۴۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر ہم نے پے در پے اپنے رسول بھیجے جس قوم کے پاس بھی اس کا رسول آیا، اس نے اُسے جھٹلایا، اور ہم ایک کے بعد ایک قوم کو ہلاک کرتے چلے گئے حتیٰ کہ ان کو بس افسانہ ہی بنا کر چھوڑا پھٹکار اُن لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے!
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ہم نے لگاتار رسول بھیجے، جب جب اس امت کے پاس اس کا رسول آیا اس نے جھٹلایا، پس ہم نے ایک دوسرے کے پیچھے لگا دیا اور انہیں افسانہ بنا دیا۔ ان لوگوں کو دوری ہے جو ایمان قبول نہیں کرتے
احمد رضا خان بریلوی
پھر ہم نے اپنے رسول بھیجے ایک پیچے دوسرا جب کسی امت کے پاس اس کا رسول آیا انہوں نے اسے جھٹلایا تو ہم نے اگلوں سے پچھلے ملادیے اور انہیں کہانیاں کر ڈالا تو دور ہوں وہ لوگ کہ ایمان نہیں لاتے،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ہم نے لگاتار اپنے رسول بھیجے جب بھی کسی امت کے پاس اس کا رسول آیا تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو ہم بھی ایک کے بعد دوسرے کو ہلاک کرتے رہے۔ اور ہم نے انہیں قصہ پارینہ (اور افسانہ) بنا دیا۔ پس تباہی ہو اس قوم کیلئے جو ایمان نہیں لاتے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ہم نے اپنے رسول پے درپے بھیجے۔ جب کبھی کسی امت کے پاس اس کا رسول آیا انھوں نے اسے جھٹلا دیا، تو ہم نے ان کے بعض کو بعض کے پیچھے چلتا کیا اور انھیں کہانیاں بنا دیا۔ سو دوری ہو ان لوگوں کے لیے جو ایمان نہیں لاتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اکثریت ہمشہ بدکاروں کی رہی ٭٭

ان کے بعد بھی بہت سی امتیں اور مخلوق آئی جو ہماری پیدا کردہ تھی۔ ان کی پیدائش سے پہلے ان کی اجل جو قدرت نے مقرر کی تھی، اسے اس نے پورا کیا نہ تقدیم ہوئی نہ تاخیر۔ پھر ہم نے پے در پے لگاتار رسول بھیجے۔ ہر امت میں پیغمبر آیا اس نے لوگوں کو پیغام الٰہی پہنچایا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اس کے ماسوا کسی کی پوجا نہ کرو۔ بعض راہ راست پر آ گئے اور بعض پر کلمہ عذاب راست آ گیا۔

تمام امتوں کی اکثریت نبیوں کی منکر رہی جیسے سورۃ یاسین میں فرمایا آیت «يٰحَسْرَةً عَلَي الْعِبَادِ ڱ مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ» [ 36- يس: 30 ] ‏‏‏‏ افسوس ہے بندوں پر۔۔

ان کے پاس جو رسول آیا انہوں نے اسے مذاق میں اڑایا۔ ہم نے یکے بعد دیگرے سب کو غارت اور فناکر دیا «وَكَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ بَعْدِ نُوْحٍ وَكَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِيْرًا بَصِيْرًا» [ 17- الإسراء: 17 ] ‏‏‏‏ نوح علیہ السلام کے بعد بھی ہم نے کئی ایک بستیاں تباہ کر دیں۔ انہیں ہم نے پرانے افسانے بنا دیا وہ نیست و نابود ہو گئے اور قصے ان کے باقی رہ گئے۔ بے ایمانوں کے لیے رحمت سے دوری ہے۔
44-1نَتْرَا کے معنی ہیں۔ یکے بعد دیگرے، متواتر لگا تار۔ 44-2ہلاکت اور بربادی میں۔ یعنی جس طرح یکے بعد دیگرے رسول آئے، اسی طرح رسالت کے جھٹلانے پر یہ قومیں یکے بعد دیگرے، عذاب سے دو چار ہو کر ہست و نیست ہوتی رہیں۔ 44-3جس طرح اَعَاجِیْبُ، اُعْجُوبَۃً کی جمع ہے (تعجب انگیز چیز یا بات) اسی طرح اَحَاحِیْثُ اُحْدُوْثَۃً کی جمع ہے بمعنی مشہور معروف مخلو قات کے واقعات اور قصص۔
(آیت 44){ ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا …:” تَتْرَا”دَعْوٰي“} اور {”سَلْوٰي“} ({فَعْلٰي})کے وزن پر مصدر ہے، جو {” رُسُلَنَا “} سے حال ہے۔ {” تَتْرَا “} اصل میں {” وَتَرٰي“} ہے۔ واؤ کو تاء سے بدل دیا، جس طرح {”تَقْوٰي“} میں تاء واؤ کی جگہ آئی ہے۔ مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، یعنی {”مُتَوَاتِرِيْنَ“} یعنی پھر ہم نے اپنے کئی رسول پے در پے بھیجے، مگر ان کی قوموں نے پہلی امتوں کے انجام سے کوئی عبرت حاصل نہ کی اور ہر امت اپنے رسول کے آنے پر اسے جھٹلاتی رہی، تو ہم نے بھی یکے بعد دیگرے ان کی ہلاکت کا تانتا باندھ دیا اور انھیں ایسا نیست و نابود کیا کہ قصے کہانیوں کے سوا ان کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔
ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰی وَ اَخَاہُ ہٰرُوۡنَ ۬ۙ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۙ۴۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر ہم نے موسیٰؑ اور اس کے بھائی ہارونؑ کو اپنی نشانیوں اور کھلی سند کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیان سلطنت کی طرف بھیجا
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنی آیتوں اور کھلی دلیل کے ساتھ بھیجا
احمد رضا خان بریلوی
پھر ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی آیتوں اور روشن سند کے ساتھ بھیجا،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور کھلی ہوئی دلیل کے ساتھ۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی آیات اور واضح غلبہ دے کر بھیجا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دریا برد فرعون ٭٭

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے بھائی ہارون علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے فرعون اور قوم فرعون کے پاس پوری دلیلوں کے ساتھ اور زبردست معجزوں کے ساتھ بھیجا لیکن انہوں نے بھی سابقہ کافروں کی طرح اپنے نبیوں کی تکذیب ومخالفت کی اور سابقہ کفار کی طرح یہی کہا کہ ہم اپنے جیسے انسانوں کی نبوت کے قائل نہیں ان کے دل بھی بالکل ان جیسے ہی ہو گئے بالآخر ایک ہی دن میں ایک ساتھ سب کو اللہ تعالیٰ نے دریا برد کر دیا۔ اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو لوگوں کی ہدایت کے لیے تورات ملی۔ دوبارہ مومنوں کے ہاتھوں کافر ہلاک کئے گئے جہاد کے احکام اترے اس طرح عام عذاب سے کوئی امت فرعون اور قوم فرعون یعنی قبطیوں کے بعد ہلاک نہیں ہوئی۔ ایک اور آیت میں فرمان ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ مِن بَعْدِ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولَىٰ بَصَائِرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ» [ 28-القص: 43 ] ‏‏‏‏ گزشتہ امتوں کی ہلاکت کے بعد ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب عنائت فرمائی جو لوگوں کے لیے بصیرت ہدایت اور رحمت تھی۔ تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
45-1آیات سے مراد وہ نو آیات ہیں، جن کا ذکر سورة اعراف میں ہے، جن کی وضاحت گزر چکی ہے اور سُلْطَانٍ مُبِیْنٍ سے مراد واضح اور پختہ دلیل ہے، جس کا کوئی جواب فرعون اور اس کے درباریوں سے نہ بن پڑا۔
(آیت 45) ➊ { ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ …: ” ثُمَّ “} کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام پیغمبروں کے لمبے وقفے کے بعد مبعوث ہوئے۔ فرعون اور اس کی قوم اپنے زمانے کے نہایت قوت و شوکت اور مال و دولت والے لوگ تھے، انھوں نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا، چنانچہ ان کی طرف رسول بھی نہایت عظیم الشان بھیجا گیا، جس کے حالات اور معجزات قرآن میں سب سے زیادہ بیان ہوئے ہیں اور اس مقام پر نوح علیہ السلام کے بعد ذکر کردہ پیغمبروں اور امتوں کی طرح مبہم رکھنے کے بجائے موسیٰ و ہارون(علیھما السلام) کا اور فرعون اور اس کے سرداروں کا نام لیا گیا۔ موسیٰ علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل تھی، جب کہ فرعون اور اس کی قوم قبطی تھے۔ اس لیے یہ کہنے کے بجائے کہ ہم نے موسیٰ کو ان کی قوم بنی اسرائیل کی طرف بھیجا، یہ فرمایا کہ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا۔ فرعون کی قوم کا نام نہیں لیا، کیونکہ وہ فرعون اور اس کے سرداروں کے مقابلے میں کچھ حیثیت نہ رکھتے تھے۔ فرعون کی طرف بھیجنے کا مقصد اسے توحید کی دعوت دینا (دیکھیے نازعات: ۱۵ تا ۱۹) اور بنی اسرائیل کو آزادی دلانا تھا۔ (دیکھیے طٰہٰ: ۴۷) ➋ { بِاٰيٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ:} نشانیوں سے مراد وہ معجزات اور نشانیاں ہیں جو فرعون کے غرق ہونے سے پہلے ظاہر ہوئیں، جن کا ذکر سورۂ اعراف اور دوسرے مقامات پر ہے۔ ان میں سمندر کا پھٹنا، من و سلویٰ اترنا، بارہ چشمے جاری ہونا اور بادل کا سایہ وغیرہ شامل نہیں، کیونکہ ان کا فرعون کو دعوت سے کوئی تعلق نہیں۔ {” سُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ “} بھی اگرچہ آیات میں شامل ہے، مگر اس کی عظمت کی وجہ سے اسے الگ ذکر فرمایا۔ اکثر مفسرین نے اگرچہ اس سے عصائے موسیٰ مراد لیا ہے، مگر مجھے ان مفسرین کی بات راجح معلوم ہوتی ہے جنھوں نے فرمایا: ”اس سے مراد وہ غلبہ اور سطوت و ہیبت ہے جو موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کو عطا ہوئی تھی۔“ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انھیں فرعون کی طرف بھیجتے ہوئے فرمایا: «‏‏‏‏وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا يَصِلُوْنَ اِلَيْكُمَا» ‏‏‏‏ [ القصص: ۳۵ ] ”اور ہم تم دونوں کے لیے غلبہ رکھیں گے، سو وہ تم تک نہیں پہنچیں گے۔“ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کے حصول کی دعا سکھائی، فرمایا: «‏‏‏‏وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِيْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا» ‏‏‏‏ [ بني إسرائیل: ۸۰ ] ”اور کہہ اے میرے رب! داخل کر مجھے سچا داخل کرنا اور نکال مجھے سچا نکالنا اور میرے لیے اپنی طرف سے ایسا غلبہ بنا جو مددگار ہو۔“ زیر تفسیر آیت میں بھی {” سُلْطٰنٍ “} سے مراد غلبہ ہے۔ غور کیجیے فرعون کس قدر متکبر اور ظالم تھا، کتنے لوگوں کو اس نے قتل کیا ہو گا۔ اس کے دروازے پر کتنا سخت پہرا ہو گا۔ دو آدمی جو ہاتھ میں صرف عصا لیے ہوئے ہیں، اس کے پاس جاتے ہیں، کسی کو روکنے کی جرأت نہیں ہوتی۔ بات شروع ہوتی ہے تو وہ ہر بات میں لاجواب ہوتا ہے۔ لاجواب ہو کر جیل کی دھمکی دیتا ہے، مگر دھمکی پر عمل کی ہمت نہیں ہوتی، جادوگروں سے مقابلہ کرواتا ہے، ناکام ہوتا ہے۔ (شعراء: ۱۸ تا ۲۸) پھر قتل کرنا چاہتا ہے مگر جرأت نہیں ہوتی۔ (مؤمن: ۲۶) اللہ بہتر جانتا ہے کتنے سال اسی طرح گزرے، مگر وہ موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکا، اسے کہتے ہیں {” سُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ “} یعنی واضح غلبہ۔
اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَا۠ئِہٖ فَاسۡتَکۡبَرُوۡا وَ کَانُوۡا قَوۡمًا عَالِیۡنَ ﴿ۚ۴۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مگر انہوں نے تکبر کیا اور بڑی دوں کی لی
مولانا محمد جوناگڑھی
فرعون اور اس کے لشکروں کی طرف، پس انہوں نے تکبر کیا اور تھے ہی وه سرکش لوگ
احمد رضا خان بریلوی
فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف تو انہوں نے غرور کیا اور وہ لوگ غلبہ پائے ہوئے تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ لوگ بڑے سرکش لوگ تھے۔
عبدالسلام بن محمد
فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف تو انھوں نے تکبر کیا اور وہ سرکش لوگ تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دریا برد فرعون ٭٭

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے بھائی ہارون علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے فرعون اور قوم فرعون کے پاس پوری دلیلوں کے ساتھ اور زبردست معجزوں کے ساتھ بھیجا لیکن انہوں نے بھی سابقہ کافروں کی طرح اپنے نبیوں کی تکذیب ومخالفت کی اور سابقہ کفار کی طرح یہی کہا کہ ہم اپنے جیسے انسانوں کی نبوت کے قائل نہیں ان کے دل بھی بالکل ان جیسے ہی ہو گئے بالآخر ایک ہی دن میں ایک ساتھ سب کو اللہ تعالیٰ نے دریا برد کر دیا۔ اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو لوگوں کی ہدایت کے لیے تورات ملی۔ دوبارہ مومنوں کے ہاتھوں کافر ہلاک کئے گئے جہاد کے احکام اترے اس طرح عام عذاب سے کوئی امت فرعون اور قوم فرعون یعنی قبطیوں کے بعد ہلاک نہیں ہوئی۔ ایک اور آیت میں فرمان ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ مِن بَعْدِ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولَىٰ بَصَائِرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ» [ 28-القص: 43 ] ‏‏‏‏ گزشتہ امتوں کی ہلاکت کے بعد ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب عنائت فرمائی جو لوگوں کے لیے بصیرت ہدایت اور رحمت تھی۔ تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
46-1استکبار اور اپنے کو بڑا سمجھنا، اس کی بنیادی وجہ بھی وہی عقیدہ آخرت سے انکار اور اسباب دنیا کی فروانی ہی تھی، جس کا ذکر پچھلی قوموں کے واقعات میں گزرا۔
(آیت 46) ➊ {اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىِٕهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا:} یہاں وہ بات حذف کر دی ہے جسے فرعون اور اس کے سرداروں نے سخت تکبر سے ٹھکرا دیا، کیونکہ اس سے پہلے تمام انبیاء کے تذکرے میں اس کا بیان کئی بار ہو چکا ہے، یعنی: «‏‏‏‏اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ» [ المؤمنون: ۳۲ ] ”کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم ڈرتے نہیں۔“ اور اللہ تعالیٰ کے بیان کے متعلق ہر رسول کی دعوت یہی تھی۔ (دیکھیے انبیاء: ۲۵) ➋ { فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا عَالِيْنَ:” فَاسْتَكْبَرُوْا “} میں سین اور تاء کا اضافہ تکبر کی شدت پر دلالت کرتا ہے۔ {” قَوْمًا عَالِيْنَ“} کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ قصص (۴)۔
فَقَالُوۡۤا اَنُؤۡمِنُ لِبَشَرَیۡنِ مِثۡلِنَا وَ قَوۡمُہُمَا لَنَا عٰبِدُوۡنَ ﴿ۚ۴۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہنے لگے "کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں؟ اور آدمی بھی وہ جن کی قوم ہماری بندی ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہنے لگے کہ کیا ہم اپنے جیسے دو شخصوں پر ایمان ﻻئیں؟ حاﻻنکہ خود ان کی قوم (بھی) ہمارے ماتحت ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو بولے کیا ہم ایمان لے آئیں اپنے جیسے دو آدمیوں پر اور ان کی قوم ہماری بندگی کررہی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
چنانچہ وہ کہنے لگے کہ ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لائیں حالانکہ ان کی قوم ہماری خدمت گزار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو انھوں نے کہا کیا ہم اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں، حالانکہ ان کے لوگ ہمارے غلام ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دریا برد فرعون ٭٭

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے بھائی ہارون علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے فرعون اور قوم فرعون کے پاس پوری دلیلوں کے ساتھ اور زبردست معجزوں کے ساتھ بھیجا لیکن انہوں نے بھی سابقہ کافروں کی طرح اپنے نبیوں کی تکذیب ومخالفت کی اور سابقہ کفار کی طرح یہی کہا کہ ہم اپنے جیسے انسانوں کی نبوت کے قائل نہیں ان کے دل بھی بالکل ان جیسے ہی ہو گئے بالآخر ایک ہی دن میں ایک ساتھ سب کو اللہ تعالیٰ نے دریا برد کر دیا۔ اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو لوگوں کی ہدایت کے لیے تورات ملی۔ دوبارہ مومنوں کے ہاتھوں کافر ہلاک کئے گئے جہاد کے احکام اترے اس طرح عام عذاب سے کوئی امت فرعون اور قوم فرعون یعنی قبطیوں کے بعد ہلاک نہیں ہوئی۔ ایک اور آیت میں فرمان ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ مِن بَعْدِ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولَىٰ بَصَائِرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ» [ 28-القص: 43 ] ‏‏‏‏ گزشتہ امتوں کی ہلاکت کے بعد ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب عنائت فرمائی جو لوگوں کے لیے بصیرت ہدایت اور رحمت تھی۔ تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
یہاں بھی انکار کے لیے دلیل انہوں نے حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کی بشریت ہی پیش کی اور اسی بشریت کی تاکید کے لیے انہوں نے کہا کہ یہ دونوں اسی قوم کے افراد ہیں جو ہماری غلام ہے۔
(آیت 47){ فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا …:} تکبر اور سرکشی کے نتیجے میں انھوں نے موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کی بات ماننے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ کیا ہم اپنے جیسے دو انسانوں کی بات پر ایمان لے آئیں، جب کہ ان کے لوگ ہمارے غلام ہیں اور ہم ان سے بلند تر ہیں۔ پہلا اعتراض موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کی ذات پر ہے اور دوسرا ان کی قوم پر ہے۔ تعجب ہوتا ہے کہ انھوں نے کھانے پینے اور چلنے پھرنے میں رسولوں کو اپنے جیسا بشر تو دیکھ لیا اور اسے جھٹلانے کا بہانہ بھی بنا لیا، مگر یہ نہ دیکھا کہ وہ ان کے دلائل و معجزات کے سامنے لاجواب ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں ہونے کے باوجود انھیں قتل کرنے سے عاجز ہیں۔ کم از کم وہ یہی سوچ لیتے کہ کوئی بشر وہ ہے جو جاہل اور عقل سے خالی ہے اور کوئی بشر وہ ہے جو اتنا علم اور اتنی عقل رکھتا ہے کہ بیان سے باہر ہے۔ جب علم و عقل میں اتنا تفاوت ہو سکتا ہے تو رسالت کا تفاوت کیوں نہیں ہو سکتا؟ اور اللہ اپنے کسی بندے پر یہ احسان کیوں نہیں کر سکتا۔ دیکھیے سورۂ ابراہیم (۱۰، ۱۱)۔
فَکَذَّبُوۡہُمَا فَکَانُوۡا مِنَ الۡمُہۡلَکِیۡنَ ﴿۴۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس انہوں نے دونوں کو جھٹلا دیا اور ہلاک ہونے والوں میں جا ملے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس انہوں نے ان دونوں کو جھٹلایا آخر وه بھی ہلاک شده لوگوں میں مل گئے
احمد رضا خان بریلوی
تو انہوں نے ان دونوں کو جھٹلایا تو ہلاک کیے ہوؤں میں ہوگئے
علامہ محمد حسین نجفی
پس ان لوگوں نے ان دونوں کو جھٹلایا (نتیجہ یہ نکلا کہ) وہ بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہوگئے۔
عبدالسلام بن محمد
تو انھوں نے دونوں کو جھٹلا دیا تو وہ ہلاک کیے گئے لوگوں میں سے ہوگئے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دریا برد فرعون ٭٭

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے بھائی ہارون علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے فرعون اور قوم فرعون کے پاس پوری دلیلوں کے ساتھ اور زبردست معجزوں کے ساتھ بھیجا لیکن انہوں نے بھی سابقہ کافروں کی طرح اپنے نبیوں کی تکذیب ومخالفت کی اور سابقہ کفار کی طرح یہی کہا کہ ہم اپنے جیسے انسانوں کی نبوت کے قائل نہیں ان کے دل بھی بالکل ان جیسے ہی ہو گئے بالآخر ایک ہی دن میں ایک ساتھ سب کو اللہ تعالیٰ نے دریا برد کر دیا۔ اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو لوگوں کی ہدایت کے لیے تورات ملی۔ دوبارہ مومنوں کے ہاتھوں کافر ہلاک کئے گئے جہاد کے احکام اترے اس طرح عام عذاب سے کوئی امت فرعون اور قوم فرعون یعنی قبطیوں کے بعد ہلاک نہیں ہوئی۔ ایک اور آیت میں فرمان ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ مِن بَعْدِ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولَىٰ بَصَائِرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ» [ 28-القص: 43 ] ‏‏‏‏ گزشتہ امتوں کی ہلاکت کے بعد ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب عنائت فرمائی جو لوگوں کے لیے بصیرت ہدایت اور رحمت تھی۔ تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 48) ➊ {فَكَذَّبُوْهُمَا۠ فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِيْنَ:} فاء سببیہ ہے، یعنی تکبر جھٹلانے کا سبب بنا اور جھٹلانا ہلاک کیے جانے والوں میں شامل ہونے کا باعث بنا۔ ➋ {فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِيْنَ:} یعنی بجائے اس کے کہ وہ عام عادت کے مطابق یکے بعد دیگرے فوت ہوں، جھٹلانے کے باعث سمندر میں ڈبو کر ہلاک کیے جانے والوں میں شامل ہو گئے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۹۰ تا ۹۲) {” مِنَ الْمُهْلَكِيْنَ “} میں قریش کے لیے بھی دھمکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ اپنے رسولوں کو جھٹلانے والوں کو ہلاک کر دیا کرتا ہے۔
وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ لَعَلَّہُمۡ یَہۡتَدُوۡنَ ﴿۴۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور موسٰیؑ کو ہم نے کتاب عطا فرمائی تاکہ لوگ اس سے رہنمائی حاصل کریں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے تو موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب (بھی) دی کہ لوگ راه راست پر آجائیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی کہ ان کو ہدایت ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب (توراۃ) عطا کی تاکہ وہ لوگ ہدایت پائیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، تاکہ وہ (لوگ) ہدایت پائیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دریا برد فرعون ٭٭

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے بھائی ہارون علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے فرعون اور قوم فرعون کے پاس پوری دلیلوں کے ساتھ اور زبردست معجزوں کے ساتھ بھیجا لیکن انہوں نے بھی سابقہ کافروں کی طرح اپنے نبیوں کی تکذیب ومخالفت کی اور سابقہ کفار کی طرح یہی کہا کہ ہم اپنے جیسے انسانوں کی نبوت کے قائل نہیں ان کے دل بھی بالکل ان جیسے ہی ہو گئے بالآخر ایک ہی دن میں ایک ساتھ سب کو اللہ تعالیٰ نے دریا برد کر دیا۔ اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو لوگوں کی ہدایت کے لیے تورات ملی۔ دوبارہ مومنوں کے ہاتھوں کافر ہلاک کئے گئے جہاد کے احکام اترے اس طرح عام عذاب سے کوئی امت فرعون اور قوم فرعون یعنی قبطیوں کے بعد ہلاک نہیں ہوئی۔ ایک اور آیت میں فرمان ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ مِن بَعْدِ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولَىٰ بَصَائِرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ» [ 28-القص: 43 ] ‏‏‏‏ گزشتہ امتوں کی ہلاکت کے بعد ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب عنائت فرمائی جو لوگوں کے لیے بصیرت ہدایت اور رحمت تھی۔ تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
49-1امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ؑ کو تورات، فرعون اور اس کی قوم کو غرق کرنے کے بعد دی گئی۔ اور نزول تورات کے بعد اللہ نے کسی قوم کو عذاب عام سے ہلاک نہیں کیا۔ بلکہ مومنوں کو حکم دیا جاتا رہا کہ وہ کافروں سے جہاد کریں۔
(آیت 49) ➊ { وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُوْنَ:} موسیٰ علیہ السلام کو کتاب تورات فرعونیوں کو غرق کرنے کے بعد ملی، جیسا کہ سورۂ اعراف (۱۳۶ تا ۱۴۵) میں فرعون کے غرق ہونے کے بعد موسیٰ علیہ السلام کے چالیس راتوں کے لیے طور پر اعتکاف اور دیدارِ الٰہی والے معاملے کے بعد الواح کی صورت میں کتاب عطا فرمانے کا ذکر ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات فرعون اور قبطیوں کو غرق کرنے کے بعد نازل فرمائی اور تورات نازل کرنے کے بعد کسی امت کو عام عذاب کے ساتھ ہلاک نہیں فرمایا، بلکہ ایمان والوں کو کفار کے ساتھ لڑنے کا حکم دیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ» ‏‏‏‏ [ القصص: ۴۳ ] ”اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، اس کے بعد کہ ہم نے پہلی نسلوں کو ہلاک کر دیا، جولوگوں کے لیے دلائل اور ہدایت اور رحمت تھی، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔“ اس لیے {” لَعَلَّهُمْ “} (تاکہ وہ) میں ضمیر {”هُمْ“} بنی اسرائیل ہی کے لیے قرار دی جائے گی، فرعونیوں کے لیے نہیں۔ ➋ { لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُوْنَ:} یعنی کتاب تو اس لیے تھی کہ بنی اسرائیل ہدایت حاصل کریں، مگر اپنے آپ میں نبی کو موجود پا کر، اس کے معجزوں کو آنکھوں سے دیکھ کر اور اس پر نازل ہونے والی کتاب کو سن کر بھی ان کے اکثر سیدھی راہ پر نہیں آئے۔ جیسا کہ قرآن میں جا بجا ان کی نافرمانی کے قصے مذکور ہیں۔ امت مسلمہ کو تنبیہ ہے کہ دیکھنا تمھارا حال بھی ان کی طرح نہ ہو جائے۔
وَ جَعَلۡنَا ابۡنَ مَرۡیَمَ وَ اُمَّہٗۤ اٰیَۃً وَّ اٰوَیۡنٰہُمَاۤ اِلٰی رَبۡوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیۡنٍ ﴿٪۵۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ابن مریم اور اس کی ماں کو ہم نے ایک نشان بنایا اور ان کو ایک سطحِ مرتفع پر رکھا جو اطمینان کی جگہ تھی اور چشمے اس میں جاری تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے ابن مریم اور اس کی والده کو ایک نشانی بنایا اور ان دونوں کو بلند صاف قرار والی اور جاری پانی والی جگہ میں پناه دی
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے مریم اور اس کے بیٹے کو نشانی کیا اور انہیں ٹھکانا دیا ایک بلند زمین جہاں بسنے کا مقام اور نگاہ کے سامنے بہتا پانی،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ابن مریم اور اس کی ماں کو (اپنی قدرت کی) نشانی بنایا اور ان دونوں کو ایک بلند مقام پر پناہ دی جو ٹھہرنے کے قابل بھی تھا اور جہاں چشمے جاری تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے ابن مریم اور اس کی ماں کو عظیم نشانی بنایا اور دونوں کو ایک بلند زمین کی طرف جگہ دی، جو رہنے کے لائق اور بہتے پانی والی تھی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ربوہ کے معنی ٭٭

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مریم کو اللہ نے اپنی قدرت کاملہ کے اظہار کی ایک زبردست نشانی بنایا آدم کو مرد و عورت کے بغیر پیدا کیا حواء کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا عیسیٰ علیہ السلام کو صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کیا۔ بقیہ تمام انسانوں کو مرد و عورت سے پیدا کیا۔ ربوہ کہتے ہیں بلند زمین کو جو ہری اور پیداوار کے قابل ہو وہ جگہ گھاس پانی والی تروتازہ اور ہری بھری تھی۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس غلام اور نبی کو اور ان کی صدیقہ والدہ کو جو اللہ کی بندی اور لونڈی تھیں جگہ دی تھی۔ وہ جاری پانی والی صاف ستھری ہموار زمین تھی۔ کہتے ہیں یہ ٹکڑا مصر کا تھا یا دمشق کا یا فلسطین کا۔ ربوۃ ریتلی زمین کو بھی کہتے ہیں۔ چنانچہ ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی صحابی رضی اللہ عنہما سے فرمایا تھا کہ تیرا انتقال ربوہ میں ہو گا۔ وہ ریتلی زمین میں فوت ہوئے۔ [طبرانی اوسط:11188:ضعیف] ‏‏‏‏ ان تمام اقوال میں زیادہ قریب قول وہ ہے کہ مراد اس سے نہر ہے جیسے اور آیت میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے آیت «قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا» [ 19- مريم: 24 ] ‏‏‏‏ تیرے رب نے تیرے قدموں تلے ایک جاری نہر بہا دی ہے۔ پس یہ مقام بیت المقدس کا مقام ہے تو گویا اس آیت کی تفسیر یہ آیت ہے اور قرآن کی تفسیر اولاً قرآن سے پھر حدیث سے پھر آثار سے کرنی چاہے۔
50-1کیونکہ حضرت عیسیٰ ؑ کی ولادت بغیر باپ کے ہوئی، جو رب کی قدرت کی ایک نشانی ہے، جس طرح آدم ؑ کو بغیر ماں باپ کے اور ہوا کو بغیر مادہ کے حضرت آدم ؑ سے اور دیگر تمام انسانوں کو ماں اور باپ سے پیدا کرنا اس کی نشانیوں میں سے ہے۔ 50-2رَبْوَۃٍ (بلند جگہ) سے بیت المقدس اور مَعِیْنٍ (چشمہ جاری) سے وہ چشمہ مراد ہے جو ایک قول کے مطابق ولادت عیسیٰ ؑ کے وقت اللہ نے بطور معجزہ، حضرت مریم کے پیروں کے نیچے سے جاری فرمایا تھا۔ جیسا سورة مریم میں گزرا۔
(آیت 50) ➊ { وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰيَةً:اٰيَةً “} میں تنوین تعظیم کی ہے ”عظیم نشانی۔“ یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے ابن مریم کو نشانی بنایا، نہ یہ فرمایا کہ ہم نے ابن مریم اور اس کی ماں کو دو نشانیاں بنایا، بلکہ دونوں کو ملاکر ایک عظیم نشانی قرار دیا، کیونکہ ان دونوں کا وجود اللہ تعالیٰ کی قدرت کا عظیم نشان تھا کہ اس نے آدم علیہ السلام کو ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا فرمایا، حوا علیھا السلام کو صرف مرد سے پیدا فرمایا اور مریم علیھا السلام کے بطن سے عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا فرمایا۔ جب کہ عام پیدائش ماں باپ دونوں سے ہوتی ہے اور وہ بھی اللہ کی قدرت کا نشان ہے۔ ➋ یہاں اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کا نام لینے کے بجائے ”ابن مریم“ فرمایا کہ انھیں خدا قرار دینے والوں کو توجہ دلائی جائے کہ وہ ایک خاتون کے بطن سے پیدا ہوئے تھے، سو خدا کیسے ہو گئے؟ ➌ {وَ اٰوَيْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِيْنٍ:رَبْوَةٍ “} ٹیلا، اونچی جگہ۔ {” ذَاتِ قَرَارٍ “} ہموار، جہاں رہنا آسان ہو۔ {” مَعِيْنٍ “} جاری پانی، یہ {”عَانَ يَعِيْنُ“} ({بَاعَ يَبِيْعُ}) سے ہو تو {”مَبِيْعٌ“} کے وزن پر اسم مفعول ہے، اصل اس کا {”مَعْيُوْنٌ “} ہے، میم زائد ہے۔ زجاج نے فرمایا: {” مَعِيْنٍ “} چشموں میں جاری پانی، گویا یہ {”عَيْنٌ“} (چشمہ) سے مشتق ہے۔“ ابن الاعرابی نے فرمایا: {” مَعَنَ الْمَاءُ“} ”پانی بہ پڑا۔“ اس صورت میں اس کا وزن {”فَعِيْلٌ“} ہے اور میم اصلی ہے، جاری پانی۔ (قرطبی) ➍ اس ربوہ (ٹیلا) سے کیا مراد ہے۔ بعض مفسرین نے اس سے مراد سرزمین مصر لی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس زمانے میں ملک شام (جہاں عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے) کا حاکم ہیروڈس تھا، وہ نجومیوں سے سن کر کہ عیسیٰ علیہ السلام کو سرداری ملے گی، بچپن ہی سے ان کا دشمن ہو گیا تھا اور ان کے قتل کے در پے تھا۔ مریم علیھا السلام انھیں لے کر مصر چلی گئیں اور جب تک ہیروڈس زندہ رہا واپس نہ آئیں۔ انجیل متیّٰ میں یہ واقعہ اسی طرح مذکور ہے، لیکن حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ اس سے مراد بیت المقدس کے قریب کھجور والی وہ بلند جگہ ہے جہاں عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی اور مریم علیھا السلام کو نیچے سے آواز دی گئی کہ غم نہ کر، تیرے نیچے تیرے رب نے ایک ندی جاری کر دی ہے اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا تو وہ تجھ پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں گرائے گی، پس کھا، پی اور ٹھنڈی آنکھ سے رہ۔ (دیکھیے مریم: ۲۳ تا ۲۶) کیونکہ قرآن کی سب سے صحیح تفسیر وہ ہے جو قرآن کی کسی آیت سے ہو، پھر صحیح احادیث سے اور پھر آثار سے۔“(ابن کثیر) اسرائیلی روایات کو جب ہم نہ سچا کہہ سکتے نہ جھوٹا تو ان سے کوئی بات کیسے ثابت ہو سکتی ہے؟