بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المؤمنون — Surah Muminun
آیت نمبر 14
کل آیات: 118
قرآن کریم المؤمنون آیت 14
آیت نمبر: 14 — سورۃ المؤمنون islamicurdubooks.com ↗
ثُمَّ خَلَقۡنَا النُّطۡفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقۡنَا الۡعَلَقَۃَ مُضۡغَۃً فَخَلَقۡنَا الۡمُضۡغَۃَ عِظٰمًا فَکَسَوۡنَا الۡعِظٰمَ لَحۡمًا ٭ ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰہُ خَلۡقًا اٰخَرَ ؕ فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحۡسَنُ الۡخٰلِقِیۡنَ ﴿ؕ۱۴﴾
پھر اس بوند کو لوتھڑے کی شکل دی، پھر لوتھڑے کو بوٹی بنا دیا، پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا، پھر اسے ایک دوسری ہی مخلوق بنا کھڑا کیا
پھر نطفہ کو ہم نے جما ہوا خون بنا دیا، پھر اس خون کے لوتھڑے کو گوشت کا ٹکڑا کردیا۔ پھر گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیاں بنا دیں، پھر ہڈیوں کو ہم نے گوشت پہنا دیا، پھر دوسری بناوٹ میں اس کو پیدا کردیا۔ برکتوں واﻻ ہے وه اللہ جو سب سے بہترین پیدا کرنے واﻻ ہے
پھر ہم نے اس پانی کی بوند کو خون کی پھٹک کیا پھر خون کی پھٹک کو گوشت کی بوٹی پھر گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں پھر ان ہڈیوں پر گوشت پہنایا، پھر اسے اور صورت میں اٹھان دی تو بڑی برکت والا ہے اللہ سب سے بہتر بتانے والا،
پھر ہم نے نطفہ کو منجمد خون بنایا اور پھر ہم نے اس منجمد خون کو گوشت کا لوتھڑا بنایا پھر اس لوتھڑے سے ہڈیاں پیدا کیں پھر ان ہڈیوں پر گوشت چڑھایا پھر ہم نے (اس میں روح ڈال کر) ایک دوسری مخلوق بنا دیا۔ پس بڑا بابرکت ہے وہ اللہ جو بہترین خالق ہے۔
پھرہم نے اس قطرے کو ایک جماہوا خون بنایا، پھر ہم نے اس جمے ہوئے خون کو ایک بوٹی بنایا، پھر ہم نے اس بوٹی کو ہڈیاں بنایا، پھر ہم نے ان ہڈیوں کو کچھ گوشت پہنایا، پھر ہم نے اسے ایک اور صورت میں پیدا کر دیا، سو بہت برکت والا ہے اللہ جو بنانے والوں میں سب سے اچھا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

انسان کی پیدائش مرحلہ وار ٭٭

اللہ تعالیٰ انسانی پیدائش کی ابتداء بیان کرتا ہے کہ اصل آدم مٹی سے ہیں، جو کیچڑ کی اور بجنے والی مٹی کی صورت میں تھی پھر آدم علیہ السلام کے پانی سے ان کی اولاد پیدا ہوئی۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنتُم بَشَرٌ تَنتَشِرُونَ» [ 30-الروم: 20 ] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ نے تمہیں مٹی سے پیدا کر کے پھر انسان بنا کر زمین پر پھیلادیا ہے۔ مسند میں اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو خاک کی ایک مٹھی سے پیدا کیا، جسے تمام زمین پر سے لیا تھا۔ پس اسی اعتبار سے اولاد آدم کے رنگ روپ مختلف ہوئے، کوئی سرخ ہے، کوئی سفید ہے، کوئی سیاہ ہے، کوئی اور رنگ کا ہے۔ ان میں نیک ہیں اور بد بھی ہیں۔ [مسند احمد:400/4:صحیح] ‏‏‏‏ «ثم جعلنہ» ۔ میں ضمیر کا مرجع جنس انسان کی طرف ہے جیسے ارشاد ہے «ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِن سُلَالَةٍ مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ» [ 32- السجدة: 8 ] ‏‏‏‏۔ اور آیت میں ہے «أَلَمْ نَخْلُقكُّم مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ فَجَعَلْنَاهُ فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ إِلَىٰ قَدَرٍ مَّعْلُومٍ فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُونَ» [ 77- المرسلات: 22-20 ] ‏‏‏‏۔ پس انسان کے لیے ایک مدت معین تک اس کی ماں کا رحم ہی ٹھکانہ ہوتا ہے جہاں ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف اور ایک صورت سے دوسری صورت کی طرف منتقل ہوتا رہتا ہے۔ پھر نطفے کی جو ایک اچھلنے والا پانی ہے جو مرد کی پیٹ سے عورت کے سینے سے نکلتا ہے شکل بدل کر سرخ رنگ کی بوٹی کی شکل میں بدل جاتا ہے پھر اسے گوشت کے ایک ٹکڑے کی صورت میں بدل دیا جاتا ہے جس میں کوئی شکل اور کوئی خط نہیں ہوتا۔ پھر ان میں ہڈیاں بنادیں سر ہاتھ پاؤں ہڈی رگ پٹھے وغیرہ بنائے اور پیٹھ کی ہڈی بنائی۔

رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں انسان کا تمام جسم سڑ گل جاتا ہے سوائے ریڑھ کی ہڈی کے۔ اسی سے پیدا کیا جاتا ہے اور اسی سے ترکیب دی جاتی ہے۔ [صحیح بخاری:4814] ‏‏‏‏ پھر ان ہڈیوں کو وہ گوشت پہناتا ہے تاکہ وہ پوشیدہ اور قوی رہیں۔ پھر اس میں روح پھونکتا ہے جس سے وہ ہلنے جلنے چلنے پھرنے کے قابل ہو جائے اور ایک جاندار انسان بن جائے۔ دیکھنے کی سننے کی سمجھنے کی اور حرکت وسکون کی قدرت عطا فرماتا ہے۔ وہ بابرکت اللہ سب سے اچھی پیدائش کا پیدا کرنے والا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نطفے پر چار مہنیے گزر جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو بھجتا ہے جو تین تین اندھیریوں میں اس میں روح پھونکتا ہے یہی معنی ہے کہ ہم پھر اسے دوسری ہی پیدائش میں پیدا کرتے ہیں یعنی دوسری قسم کی اس پیدائش سے مراد روح کا پھونکا جانا ہے پس ایک حالت سے دوسری اور دوسری سے تیسری کی طرف ماں کے پیٹ میں ہی ہیر پھیر ہونے کے بعد بالکل ناسمجھ بچہ پیدا ہوتا ہے پھر وہ بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ جوان بن جاتا ہے پھر ادھیڑپن آتا ہے پھر بوڑھا ہو جاتا ہے پھر بالکل ہی بڈھا ہو جاتا ہے الغرض روح کا پھونکا جانا پھر ان کے انقلابات کا آنا شروع ہو جاتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صادق ومصدوق نبی کریم محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں جمع ہوتی ہے پھر چالیس دن تک خون بستہ کی صورت میں رہتا ہے پھر چالیس دن تک وہ گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں رہتا ہے پھر اللہ تعالیٰ فرشتے کو بھیجتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے اور بحکم الٰہی چار باتیں لکھ لی جاتی ہیں روزی، اجل، عمل، اور نیک یا بد، برا یا بھلا ہونا پس قسم ہے اس کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہ ایک شخص جنتی عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جنت سے ایک ہاتھ دور رہ جاتا ہے لیکن تقدیر کا وہ لکھا غالب آ جاتا ہے اور خاتمے کے وقت دوزخی کام کرنے لگتا ہے اور اسی پر مرتا ہے اور جہنم رسید ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک انسان برے کام کرتے کرتے دوزخ سے ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے لیکن پھر تقدیر کا لکھا آگے بڑھ جاتا ہے اور جنت کے اعمال پر خاتمہ ہو کر داخل فردوس بریں ہو جاتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594] ‏‏‏‏

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نطفہ جب رحم میں پڑتا ہے تو وہ ہر ہر بال اور ناخن کی جگہ پہنچ جاتا ہے پھر چالیس دن کے بعد اس کی شکل جمے ہوئے خون جیسی ہو جاتی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے باتیں بیان کر رہے تھے کہ ایک یہودی آ گیا تو کفار قریش نے اس سے کہا یہ نبوت کے دعویدار ہیں اس نے کہا اچھا میں ان سے ایک سوال کرتا ہوں جسے نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آ کر بیٹھ کر پوچھتا ہے کہ بتاؤ انسان کی پیدائش کس چیز سے ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مرد عورت کے نطفے سے۔ مرد کا نطفہ غلیظ اور گاڑھا ہوتا ہے اس سے ہڈیاں اور پٹھے بنتے ہیں اور عورت کا نطفہ رقیق اور پتلا ہوتا ہے اس سے گوشت اور خون بنتا ہے۔ اس نے کہا۔ آپ سچے ہیں اگلے نبیوں کا بھی یہی قول ہے۔ [مسند احمد:465/1:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب نطفے کو رحم میں چالیس دن گزر جاتے ہیں تو ایک فرشتہ آتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے دریافت کرتا ہے کہ اے اللہ یہ نیک ہو گا یا بد؟ مرد ہو گا یا عورت؟ جو جواب ملتا ہے وہ لکھ لیتا ہے اور عمل، عمر، اور نرمی گرمی سب کچھ لکھ لیتا ہے پھر دفتر لپیٹ لیا جاتا ہے اس میں پھر کسی کمی بیشی کی گنجائش نہیں رہتی۔ [صحیح مسلم:2644] ‏‏‏‏ حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کیا ہے جو عرض کرتا ہے اے اللہ اب نطفہ ہے، اے اللہ اب لوتھڑا ہے، اے اللہ اب گوشت کا ٹکڑا ہے۔ جب جناب باری تعالیٰ اسے پیدا کرنا چاہتا ہے وہ پوچھتا ہے اے اللہ مرد ہو یا عورت، شکی ہو یا سعید؟ رزق کیا ہے؟ اجل کیا ہے؟ اس کا جواب دیا جاتا ہے اور یہ سب چیزیں لکھ لی جاتی ہیں۔ [صحیح بخاری:6595] ‏‏‏‏

ان سب باتوں اور اتنی کامل قدرتوں کو بیان فرما کر فرمایا کہ سب سے اچھی پیدائش کرنے والا اللہ برکتوں والا ہے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے اپنے رب کی موافقت چار باتوں میں کی ہے جب یہ آیت اتری کہ ہم نے انسان کو بجتی مٹی سے پیدا کیا ہے تو بےساختہ میری زبان سے فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ نکلا اور وہی پھر اترا۔ [مسند طیالسی،41:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر والی آیتیں لکھوا رہے تھے اور «ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ» تک لکھوا چکے تو معاذ رضی اللہ عنہ نے بے ساختہ کہا «فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ» [ 23- المؤمنون: 14 ] ‏‏‏‏ اسے سن کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئیے تو معاذ رضی اللہ عنہما نے دریافت فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کیسے ہنسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس آیت کے خاتمے پر بھی یہی ہے۔ [طبرانی اوسط:11187:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کی سند کا ایک راوی جابر جعفی ہے جو بہت ہی ضعیف ہے اور یہ روایت بالکل منکر ہے۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما کاتب وحی مدینے میں تھے نہ کہ مکے میں معاذ رضی اللہ عنہما کے اسلام کا واقعہ بھی مدینے کا واقعہ ہے اور یہ آیت مکے میں نازل ہوئی ہے پس مندرجہ بالا روایت بالکل منکر ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس پہلی پیدائش کے بعد تم مرنے والے ہو، پھر قیامت کے دن دوسری دفعہ پیدا کئے جاؤ گے، پھر حساب کتاب ہو گا خیر و شر کا بدلہ ملے گا۔

📖 احسن البیان

14-1اس کی کچھ تفصیل سورة حج میں گزر چکی ہے۔ یہاں پھر اسے بیان کیا گیا ہے۔ تاہم وہاں مخلَّقَۃ کا جو ذکر تھا، یہاں اس کی وضاحت، مُضْغَۃ کو ہڈیوں میں تبدیل کرنے اور ہڈیوں کو گوشت پہنانے، سے کردی ہے۔ مُضْغَۃ گوشت کو ہڈیوں سے تبدیل کرنے کا مقصد، انسانی ڈھانچے کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرنا ہے کیونکہ محض گوشت میں تو کوئی سختی نہیں ہوتی، پھر اگر اسے ہڈیوں کا ڈھانچہ ہی رکھا جاتا، تو انسان میں وہ حس و رعنائی نہ آتی، جو ہر انسان کے اندر موجود ہے۔ اس لئے ہڈیوں پر ایک خاص تناسب اور مقدار سے گوشت چڑھا دیا گیا کہیں کم اور کہیں زیادہ۔ تاکہ قدو قامت میں غیر موزونیت اور بھدا پن پیدا نہ ہو۔ بلکہ حسن و جمال کا ایک پیکر اور قدرت کی تخلیق کا ایک شاہ کار ہو۔ اسی چیز کو قرآن نے ایک دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا (لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ) 95۔ التین:4) ' ہم نے انسان کو احسن تقویم یعنی بہت اچھی ترکیب یا بہت اچھے ڈھانچے میں بنایا ' 14-2اس سے مراد وہ بچہ ہے جو نو مہینے کے بعد ایک خاص شکل و صورت لے کر ماں کے پیٹ سے باہر آتا ہے اور حرکت و اضطراب کے ساتھ دیکھنے اور سننے اور ذہنی قوتیں بھی ساتھ ہوتی ہیں۔ 14-3خَالِقِیْنَ یہاں ان صالحین کے معنی میں ہے۔ جو خاص خاص مقداروں میں اشیا کو جوڑ کر کوئی ایک چیز تیار کرتے ہیں۔ یعنی ان تمام صنعت گروں میں، اللہ جیسا بھی کوئی صنعت گر ہے جو اس طرح کی صنعت کاری کا نمونہ پیش کرسکے جو اللہ تعالیٰ نے انسانی پیکر کی صورت میں پیش کیا ہے۔ پس سب سے زیادہ خیر و برکت والا وہ اللہ ہی ہے، جو تمام صنعت کاروں سے بڑا اور سب سے اچھا صنعت کار ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 14) ➊ { ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً …:” عَلَقَةً “} کا معنی جمے ہوئے خون کا ٹکڑا بھی ہے اور جونک بھی۔ پھر اللہ تعالیٰ پانی کے سفید سیال قطرے کو سرخ جمے ہوئے خون کے جامد ٹکڑے کی شکل دے دیتا ہے جو جونک کی شکل کا ہوتا ہے اور جونک ہی کی طرح رحم کی دیوار کے ساتھ چپکا ہوا ہوتاہے۔ مزید دیکھیے سورۂ حج (۵)۔ ➋ { ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ:} یعنی پھر ہم اس میں روح پھونکتے ہیں تو وہ نہایت خوب صورت دیکھنے، سننے، سمجھنے اور حرکت کرنے والا انسان بن جاتا ہے۔ جس کی شکل و صورت ہی اور ہوتی ہے۔ اب پہلی صورت کے ساتھ اس کی کوئی مناسبت نہیں، یعنی مٹی سے اس کا دور کا بھی کوئی تعلق نہیں، پہلے بے جان تھا اب جاندار ہے۔ پہلے اندھا، بہرا اور گونگا تھا اب آنکھ، کان اور زبان والا ہے۔ پہلے گوشت کا بے حس ٹکڑا تھا، اب اس کے ذرّے ذرّے میں اللہ تعالیٰ کی عجیب و غریب باریکیاں اور ہزاروں قسم کے احساسات ہیں۔ اس پر آنے والا ہر لمحہ نئی سے نئی تبدیلی لے کر آ رہا ہے، پہلے جنین پھر دودھ پیتا بچہ، جو پیدا ہوتے ہی اپنا اختیار استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے، پھر لڑکا پھر نوجوان پھر جوان پھر ادھیڑ عمر پھر بوڑھا، پھر ایسا بوڑھا کہ بچپن کی کمزوری کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ انھی منزلوں میں سے کسی منزل میں اسے موت اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ ➌ { فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ:} اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے انسان کی پیدائش کا ذکر ایسے مدلل اور خوب صورت انداز میں فرمایا ہے کہ خود بخود یہ جملہ زبان پر آجاتا ہے: «‏‏‏‏فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ» ”سو بہت برکت والاہے اللہ جو بنانے والوں میں سب سے اچھا ہے۔“ حقیقت یہ ہے کہ یہ کسی کلام کی خوبی کی انتہا ہے۔ چنانچہ ایک شاعر نے چند قصیدوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے: {قَصَائِدٌ إِنْ تَكُنْ تُتْلٰي عَلٰي مَلَإٍ صُدُوْرُهَا عُلِمَتْ مِنْهَا قَوَافِيْهَا} ”وہ ایسے قصیدے ہیں کہ لوگوں کے سامنے ان کے ابتدائی اشعار پڑھے جائیں تو ان کے آخری اشعار خود بخود معلوم ہو جاتے ہیں۔“ غالب نے کیا خوب کہا ہے: دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے ➍ { الْخٰلِقِيْنَ:} یہاں {”خَلْقٌ“} کا لفظ ظاہری شکل و صورت بنانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جیسا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا: { وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّيْنِ كَهَيْـَٔةِ الطَّيْرِ بِاِذْنِيْ } [ المائدۃ: ۱۱۰ ] ”اور جب تو مٹی سے پرندے کی شکل کی مانند میرے حکم سے بناتا تھا۔“ اور جیسا کہ حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تصویر بنانے والوں سے فرمائے گا: [ أَحْيُوْا مَا خَلَقْتُمْ ] [ بخاري، البیوع، باب التجارۃ فیما یکرہ… ۲۱۰۵، عن عائشۃ رضی اللہ عنھا ] ”تم نے جو خلق کیا ہے اسے زندہ کرو۔“ پیدا کرنے اور زندگی بخشنے کے معنی میں خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ ➍ {” اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ “} کے لفظ میں انسان کے حسن و جمال کی طرف بھی واضح اشارہ ہے۔ (بقاعی)
← پچھلی آیت (13) پوری سورۃ اگلی آیت (15) →