بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المؤمنون — Surah Muminun
آیت نمبر 20
کل آیات: 118
قرآن کریم المؤمنون آیت 20
آیت نمبر: 20 — سورۃ المؤمنون islamicurdubooks.com ↗
وَ شَجَرَۃً تَخۡرُجُ مِنۡ طُوۡرِ سَیۡنَآءَ تَنۡۢبُتُ بِالدُّہۡنِ وَ صِبۡغٍ لِّلۡاٰکِلِیۡنَ ﴿۲۰﴾
اور وہ درخت بھی ہم نے پیدا کیا جو طور سیناء سے نکلتا ہے، تیل بھی لیے ہوئے اگتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن بھی
اور وه درخت جو طور سینا پہاڑ سے نکلتا ہے جو تیل نکالتا ہے اور کھانے والے کے لئے سالن ہے
اور وہ پیڑ پیدا کیا کہ طور سینا سے نکلتا ہے لے کر اگتا ہے تیل اور کھانے والوں کے لیے سالن
اور (ہم نے) ایک درخت ایسا بھی (پیدا کیا) جو طور سینا سے نکلتا ہے (زیتون کا درخت) جو کھانے والوں کیلئے تیل اور سالن لے کر اگتا ہے۔
اور وہ درخت بھی جو طور سینا سے نکلتا ہے، تیل لے کر اگتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن بھی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

آسمان سے نزول بارش ٭٭

اللہ تعالیٰ کی یوں تو بےشمار اور ان گنت نعمتیں ہیں۔ لیکن چند بڑی بڑی نعمتوں کا یہاں ذکر ہو رہا ہے کہ وہ آسمان سے بقدر حاجت وضرورت بارش برساتا ہے۔ نہ تو بہت زیادہ کہ زمین خراب ہو جائے اور پیداوار گل سڑ جائے۔ نہ بہت کم کہ پھل اناج وغیرہ پیدا ہی نہ ہو۔ بلکہ اس اندازے سے کہ کھیتی سرسبز رہے، باغات ہرے بھرے رہیں۔ حوض، تالاب، نہریں ندیاں، نالے، دریا بہہ نکلیں نہ پینے کی کمی ہو نہ پلانے کی۔ یہاں تک کہ جس جگہ زیادہ بارش کی ضرورت ہوتی ہے زیادہ ہوتی ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہوتی ہے کم ہوتی ہے اور جہاں کی زمین اس قابل ہی نہیں ہوتی وہاں پانی نہیں برستا لیکن ندیوں اور نالوں کے ذریعہ وہاں قدرت برساتی پانی پہنچا کر وہاں کی زمین کو سیراب کر دیتی ہے۔ جیسے کہ مصر کے علاقہ کی زمین جو دریائے نیل کی تری سے سرسبزوشاداب ہو جاتی ہے۔ اسی پانی کے ساتھ سرخ مٹی کھیچ کر جاتی ہے جو حبشہ کے علاقہ میں ہوتی ہے وہاں کی بارش کے ساتھ مٹی بہہ کر پہنچتی ہے جو زمین پر ٹھہرجاتی ہے اور زمین قابل زراعت ہو جاتی ہے ورنہ وہاں کی شور زمین کھیتی باڑی کے قابل نہیں۔ سبحان اللہ اس لطیف خبیر، اس غفور رحیم اللہ کی کیا کیا قدرتیں اور حکمتیں زمین میں اللہ پانی کو ٹھیرا دیتا ہے زمین میں اس کو چوس لینے اور جذب کر لینے کی قابلیت اللہ تعالیٰ پیدا کر دیتا ہے تاکہ دانوں کو اور گٹھلیوں کو اندر ہی اندر وہ پانی پہنچا دے۔ پھر فرماتا ہے ہم اس کے لے جانے اور دور کر دینے پریعنی نہ برسانے پر بھی قادر ہیں اگر چاہیں شور، سنگلاخ زمین، پہاڑوں اور بے کار بنوں میں برسا دیں۔ اگر چاہیں تو پانی کو کڑوا کر دیں نہ پینے کے قابل رہے نہ پلانے کے، نہ کھیت اور باغات کے مطلب کا رہے، نہ نہانے دھونے کے مقصد کا۔ اگرچاہیں زمین میں وہ قوت ہی نہ رکھیں کہ وہ پانی کو جذب کر لے چوس لے بلکہ پانی اوپر ہی اوپر تیرتا پھرے یہ بھی ہمارے اختیار میں ہے کہ ایسی دوردراز جھیلوں میں پانی پہنچا دیں کہ تمہارے لیے بے کار ہو جائے اور تم کوئی فائدہ اس سے نہ اٹھا سکو۔ یہ خاص اللہ کا فضل و کرم اور اس کا لطف ورحم ہے کہ وہ بادلوں سے میٹھا عمدہ ہلکا اور خوش ذائقہ پانی برساتا ہے پھر اسے زمین میں پہنچاتا ہے اور ادھر ادھر ریل پیل کر دیتا ہے کھیتیاں الگ پکتی ہیں باغات الگ تیار ہوتے ہیں، خود پیتے ہو اپنے جانوروں کو پلاتے ہو نہاتے دھوتے ہو پاکیزگی اور ستھرائی حاصل کرتے ہو «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

آسمانی بارش سے رب العالمین تمہارے لیے روزیاں اگاتا ہے، لہلہاتے ہوئے کھیت ہیں، کہیں سرسبز باغ ہیں جو خوش نما اور خوش منظر ہونے کے علاوہ مفید اور فیض والے ہیں۔ کھجور انگور جو اہل عرب کا دل پسند میوہ ہے۔ اور اسی طرح ہر ملک والوں کے لیے الگ الگ طرح طرح کے میوے اس نے پیدا کر دیے ہیں۔ جن کے حصول کے عوض اللہ کے شکر گزاری بھی کسی کے بس کی نہیں۔ بہت میوے تمہیں اس نے دے رکھے ہیں جن کی خوبصورتی بھی تم دیکھتے ہو اور ان کے ذائقے سے بھی کھا کر فائدہ اٹھاتے ہو۔ پھر زیتوں کے درخت کا ذکر فرمایا۔ طورسینا وہ پہاڑ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے بات چیت کی تھی اور اس کے اردگرد کی پہاڑیاں طور اس پہاڑ کو کہتے ہیں جو ہرا اور درختوں والا ہو ورنہ اسے جبل کہیں گے طور نہیں کہیں گے۔ پس طورسینا میں جو درخت زیتوں پیدا ہوتا ہے اس میں سے تیل نکلتا ہے جو کھانے والوں کو سالن کا کام دیتا ہے۔ حدیث میں ہے زیتوں کا تیل کھاؤ اور لگاؤ وہ مبارک درخت میں سے نکلتا ہے [مسند احمد:497/3:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک صاحب عاشورہ کی شب کو مہمان بن کر آئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں اونٹ کی سری اور زیتون کھلایا اور فرمایا یہ اس مبارک درخت کا تیل ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہے۔ [سنن ترمذي:1851،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر چوپایوں کا ذکر ہو رہا ہے اور ان سے جو فوائد انسان اٹھا رہے ہیں، ان پر سوار ہوتے ہیں ان پر اپنا سامان اسباب لادتے ہیں اور دوردراز تک پہنچتے ہیں کہ یہ نہ ہوتے تو وہاں تک پہچنے میں جان آدھی رہ جاتی۔ بیشک اللہ تعالیٰ بندوں پر مہربانی اور رحمت والا ہے جیسے فرمان ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَيْدِيْنَآ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ» [ 36- يس: 71 ] ‏‏‏‏ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ خود ہم نے انہیں چوپایوں کا مالک بنا رکھا ہے کہ یہ ان کے گوشت کھائیں ان پر سواریاں لیں اور طرح طرح کہ نفع حاصل کریں کیا اب بھی ان پر ہماری شکر گزاری واجب نہیں؟ یہ خشکی کی سواریاں ہیں پھر تری کی سواریاں کشتی جہاز وغیرہ الگ ہیں۔

📖 احسن البیان

20-1اس سے زیتون کا درخت مراد ہے، جس کا روغن تیل کے طور پر اور پھل سالن کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ سالن کو صِبْغٍ، ُ رنگ کہا ہے کیونکہ روٹی، سالن میں ڈبو کر، گویا رنگی جاتی ہے۔ طُوْرِ سَیْنَآءَ (پہاڑ) اور اس کا قرب و جوار خاص طور پر اس کی عمدہ قسم کی پیداوار کا علاقہ ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 20) ➊ { وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَيْنَآءَ:} طور ایک مخصوص پہاڑ کا نام ہے۔ طور کا معنی پہاڑ بھی ہے۔ بعض نے کہا کہ طور وہ پہاڑ ہے جس پر درخت اگتے ہوں۔ سیناء اس پہاڑ کا نام ہے، جیسا کہ جبلِ احد کہتے ہیں، یا {”جَبَلَا طَيْءٍ“} (بنو طے کے دو پہاڑ) کہتے ہیں۔ امام طبری نے فرمایا: ”اور ہم نے تمھارے لیے وہ درخت بھی پیدا کیا جو طور سیناء سے نکلتا ہے، یعنی اس پہاڑ سے جس پر درخت اگتے ہیں۔ مراد زیتون کا درخت ہے۔“ اعراب القرآن و بیانہ از درویش میں ہے: ”سیناء ایک شبہ جزیرہ ہے، جس کی حد شمال میں بحر ابیض متوسط ہے اور مغرب میں نہر سویز اور خلیج سویز ہے اور مشرق میں فلسطین اور خلیج عقبہ ہے اور جنوب میں وہ بحر احمر میں ”رأس محمد “ کے پاس ختم ہوتا ہے اور سیناء ایک پہاڑ ہے جو شبہ جزیرہ سیناء میں جنوب کی طرف واقع ہے اور درخت سے مراد زیتون کا درخت ہے اور اسے طور سیناء کے ساتھ اس لیے خاص کیا گیا ہے کہ اس کا اصل وطن وہ ہے جہاں سے وہ دوسرے مقامات پر منتقل ہوا۔“ کھجور اور انگور کے بعد زیتون کا خصوصیت کے ساتھ ذکر اس کے کثیر فوائد کی وجہ سے فرمایا۔ شام اور فلسطین اس کا اصلی وطن ہیں اور وہاں کا زیتون بہت عمدہ ہوتا ہے۔ شام میں زیتون اتنی کثرت سے ہے کہ گھروں، کھیتوں اور سڑکوں کے کناروں وغیرہ پر خود بخود اگا ہوا ملتا ہے۔ اس درخت کی عمر بہت زیادہ ہوتی ہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے: ”یہ ڈیڑھ دو ہزار برس تک چلتا ہے، حتیٰ کہ فلسطین کے بعض درختوں کا قد و قامت اور پھیلاؤ دیکھ کر اندازہ کیا گیا ہے کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے اب تک چلے آ رہے ہیں۔“ (واللہ اعلم) سورۂ نور میں اللہ تعالیٰ نے اسے شجرۂ مبارکہ قرار دیا ہے، اس کے تیل کی تعریف میں فرمایا: «‏‏‏‏يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ» ‏‏‏‏ [ النور: ۳۵ ] ”اس کا تیل قریب ہے کہ روشن ہو جائے، خواہ اسے آگ نے نہ چھوا ہو۔“ اور سورۃ التین میں اس کی قسم کھائی ہے۔ ➋ { تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِيْنَ:} زیتون میں اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کی قدرت کا کمال دیکھیے کہ پانی سے سیراب ہوتا ہے اور اپنے ہمراہ تیل کا خزانہ اور کھانے والوں کے لیے ایک طرح کا سالن لے کر اگتا ہے۔ {” صِبْغٍ “} نکرہ ہے، اس لیے ترجمہ ”ایک طرح کا سالن“ کیا گیا ہے، کیونکہ سالن بے شمار ہیں اور اس سے عمدہ اور لذیذ بھی ہیں۔ (بقاعی) اس کا تیل کھانا پکانے، سالن کے طور پر کھانے، جسم پر لگانے اور دوسری ضروریات میں کام آتا ہے اور اس کا پھل اچار کی صورت میں بھی کھانے کے کام آتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوْا بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ ] [ ترمذي، الأطعمۃ، باب ما جاء في أکل الزیت: ۱۸۵۱۔ صححہ الألباني في الصحیحۃ: ۳۷۹ ] ”زیتون کھاؤ اور اس کا تیل استعمال کرو، کیونکہ یہ ایک مبارک درخت سے ہے۔“ ابن حبان نے فرمایا: ”کھجور، انگور اور زیتون کا خاص طور پر اس لیے ذکر فرمایا: {”لِأَنَّهَا أَكْرَمُ الشَّجَرِ وَ أَجْمَعُهَا لِلْمُنَافِعِ“} ”کیونکہ یہ تمام درختوں سے زیادہ عمدہ ہیں اور سب سے زیادہ فوائد کے جامع ہیں۔“ [ البحر المحیط ] ➌ اگرچہ یہاں صرف زیتون کا ذکر کیا گیا ہے، مگر اس کے ضمن میں وہ تمام درخت اور پودے بھی آ گئے جن سے انسان اپنی روغنیات کی ضرورت حاصل کرتا ہے اور جنھیں کھانے کے لازمہ کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
← پچھلی آیت (19) پوری سورۃ اگلی آیت (21) →