بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المؤمنون — Surah Muminun
آیت نمبر 21
کل آیات: 118
قرآن کریم المؤمنون آیت 21
آیت نمبر: 21 — سورۃ المؤمنون islamicurdubooks.com ↗
وَ اِنَّ لَکُمۡ فِی الۡاَنۡعَامِ لَعِبۡرَۃً ؕ نُسۡقِیۡکُمۡ مِّمَّا فِیۡ بُطُوۡنِہَا وَ لَکُمۡ فِیۡہَا مَنَافِعُ کَثِیۡرَۃٌ وَّ مِنۡہَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿ۙ۲۱﴾
اور حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے مویشیوں میں بھی ایک سبق ہے ان کے پیٹوں میں جو کچھ ہے اسی میں سے ایک چیز ہم تمہیں پلاتے ہیں، اور تمہارے لیے ان میں بہت سے دوسرے دُوسرے فائدے بھی ہیں
تمہارے لئے چوپایوں میں بھی بڑی بھاری عبرت ہے۔ ان کے پیٹوں میں سے ہم تمہیں دودھ پلاتے ہیں اور بھی بہت سے نفع تمہارے لئے ان میں ہیں ان میں سے بعض بعض کو تم کھاتے بھی ہو
اور بیشک تمہارے لیے چوپایوں میں سمجھنے کا مقام ہے، ہم تمہیں پلاتے ہیں اس میں سے جو ان کے پیٹ میں ہے اور تمہارے لیے ان میں بہت فائدے ہیں اور ان سے تمہاری خوراک ہے
اور تمہارے لئے چوپایوں میں بڑا سامانِ عبرت ہے ہم تمہیں اس سے (دودھ) پلاتے ہیں جو ان کے پیٹوں میں ہے اور تمہارے لئے ان میں اور بہت سے فائدے ہیں اور انہی کے (گوشت) سے تم کھاتے بھی ہو۔
اور بلاشبہ تمھارے لیے چوپاؤں میں یقینا بڑی عبرت ہے، ہم تمھیں اس میں سے جو ان کے پیٹوں میں ہے، پلاتے ہیں اور تمھارے لیے ان میں بہت سے فائدے ہیں اور انھی سے تم کھاتے ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

آسمان سے نزول بارش ٭٭

اللہ تعالیٰ کی یوں تو بےشمار اور ان گنت نعمتیں ہیں۔ لیکن چند بڑی بڑی نعمتوں کا یہاں ذکر ہو رہا ہے کہ وہ آسمان سے بقدر حاجت وضرورت بارش برساتا ہے۔ نہ تو بہت زیادہ کہ زمین خراب ہو جائے اور پیداوار گل سڑ جائے۔ نہ بہت کم کہ پھل اناج وغیرہ پیدا ہی نہ ہو۔ بلکہ اس اندازے سے کہ کھیتی سرسبز رہے، باغات ہرے بھرے رہیں۔ حوض، تالاب، نہریں ندیاں، نالے، دریا بہہ نکلیں نہ پینے کی کمی ہو نہ پلانے کی۔ یہاں تک کہ جس جگہ زیادہ بارش کی ضرورت ہوتی ہے زیادہ ہوتی ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہوتی ہے کم ہوتی ہے اور جہاں کی زمین اس قابل ہی نہیں ہوتی وہاں پانی نہیں برستا لیکن ندیوں اور نالوں کے ذریعہ وہاں قدرت برساتی پانی پہنچا کر وہاں کی زمین کو سیراب کر دیتی ہے۔ جیسے کہ مصر کے علاقہ کی زمین جو دریائے نیل کی تری سے سرسبزوشاداب ہو جاتی ہے۔ اسی پانی کے ساتھ سرخ مٹی کھیچ کر جاتی ہے جو حبشہ کے علاقہ میں ہوتی ہے وہاں کی بارش کے ساتھ مٹی بہہ کر پہنچتی ہے جو زمین پر ٹھہرجاتی ہے اور زمین قابل زراعت ہو جاتی ہے ورنہ وہاں کی شور زمین کھیتی باڑی کے قابل نہیں۔ سبحان اللہ اس لطیف خبیر، اس غفور رحیم اللہ کی کیا کیا قدرتیں اور حکمتیں زمین میں اللہ پانی کو ٹھیرا دیتا ہے زمین میں اس کو چوس لینے اور جذب کر لینے کی قابلیت اللہ تعالیٰ پیدا کر دیتا ہے تاکہ دانوں کو اور گٹھلیوں کو اندر ہی اندر وہ پانی پہنچا دے۔ پھر فرماتا ہے ہم اس کے لے جانے اور دور کر دینے پریعنی نہ برسانے پر بھی قادر ہیں اگر چاہیں شور، سنگلاخ زمین، پہاڑوں اور بے کار بنوں میں برسا دیں۔ اگر چاہیں تو پانی کو کڑوا کر دیں نہ پینے کے قابل رہے نہ پلانے کے، نہ کھیت اور باغات کے مطلب کا رہے، نہ نہانے دھونے کے مقصد کا۔ اگرچاہیں زمین میں وہ قوت ہی نہ رکھیں کہ وہ پانی کو جذب کر لے چوس لے بلکہ پانی اوپر ہی اوپر تیرتا پھرے یہ بھی ہمارے اختیار میں ہے کہ ایسی دوردراز جھیلوں میں پانی پہنچا دیں کہ تمہارے لیے بے کار ہو جائے اور تم کوئی فائدہ اس سے نہ اٹھا سکو۔ یہ خاص اللہ کا فضل و کرم اور اس کا لطف ورحم ہے کہ وہ بادلوں سے میٹھا عمدہ ہلکا اور خوش ذائقہ پانی برساتا ہے پھر اسے زمین میں پہنچاتا ہے اور ادھر ادھر ریل پیل کر دیتا ہے کھیتیاں الگ پکتی ہیں باغات الگ تیار ہوتے ہیں، خود پیتے ہو اپنے جانوروں کو پلاتے ہو نہاتے دھوتے ہو پاکیزگی اور ستھرائی حاصل کرتے ہو «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

آسمانی بارش سے رب العالمین تمہارے لیے روزیاں اگاتا ہے، لہلہاتے ہوئے کھیت ہیں، کہیں سرسبز باغ ہیں جو خوش نما اور خوش منظر ہونے کے علاوہ مفید اور فیض والے ہیں۔ کھجور انگور جو اہل عرب کا دل پسند میوہ ہے۔ اور اسی طرح ہر ملک والوں کے لیے الگ الگ طرح طرح کے میوے اس نے پیدا کر دیے ہیں۔ جن کے حصول کے عوض اللہ کے شکر گزاری بھی کسی کے بس کی نہیں۔ بہت میوے تمہیں اس نے دے رکھے ہیں جن کی خوبصورتی بھی تم دیکھتے ہو اور ان کے ذائقے سے بھی کھا کر فائدہ اٹھاتے ہو۔ پھر زیتوں کے درخت کا ذکر فرمایا۔ طورسینا وہ پہاڑ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے بات چیت کی تھی اور اس کے اردگرد کی پہاڑیاں طور اس پہاڑ کو کہتے ہیں جو ہرا اور درختوں والا ہو ورنہ اسے جبل کہیں گے طور نہیں کہیں گے۔ پس طورسینا میں جو درخت زیتوں پیدا ہوتا ہے اس میں سے تیل نکلتا ہے جو کھانے والوں کو سالن کا کام دیتا ہے۔ حدیث میں ہے زیتوں کا تیل کھاؤ اور لگاؤ وہ مبارک درخت میں سے نکلتا ہے [مسند احمد:497/3:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک صاحب عاشورہ کی شب کو مہمان بن کر آئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں اونٹ کی سری اور زیتون کھلایا اور فرمایا یہ اس مبارک درخت کا تیل ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہے۔ [سنن ترمذي:1851،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر چوپایوں کا ذکر ہو رہا ہے اور ان سے جو فوائد انسان اٹھا رہے ہیں، ان پر سوار ہوتے ہیں ان پر اپنا سامان اسباب لادتے ہیں اور دوردراز تک پہنچتے ہیں کہ یہ نہ ہوتے تو وہاں تک پہچنے میں جان آدھی رہ جاتی۔ بیشک اللہ تعالیٰ بندوں پر مہربانی اور رحمت والا ہے جیسے فرمان ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَيْدِيْنَآ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ» [ 36- يس: 71 ] ‏‏‏‏ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ خود ہم نے انہیں چوپایوں کا مالک بنا رکھا ہے کہ یہ ان کے گوشت کھائیں ان پر سواریاں لیں اور طرح طرح کہ نفع حاصل کریں کیا اب بھی ان پر ہماری شکر گزاری واجب نہیں؟ یہ خشکی کی سواریاں ہیں پھر تری کی سواریاں کشتی جہاز وغیرہ الگ ہیں۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 21) ➊ { وَ اِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً:} پچھلی آیات میں پانی کے ساتھ پیدا ہونے والی نباتات کا ذکر فرمایا، جس میں موت کے بعد زندگی کی دلیل اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی یاد دہانی ہے۔ اب موت کے بعد زندگی کا یقین دلانے کے لیے اور اپنی نعمتوں اور قدرتوں کا احساس دلانے کے لیے نباتات سے اعلیٰ درجے کی زندگی والی مخلوق کا ذکر فرمایا، جو روح رکھنے والے چوپائے ہیں۔ {” لَعِبْرَةً “} میں تنوین تعظیم کی ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی عبرت“ کیا ہے۔ ➋ { نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهَا:} اس کی تفصیل سورۂ نحل (۶۶) میں دیکھیے۔ ➌ { وَ لَكُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ كَثِيْرَةٌ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۱۴۲)، سورۂ نحل (۵ تا ۸، ۶۶، ۸۰)، سورۂ حج (۲۷، ۲۸، ۳۲، ۳۳، ۳۶، ۳۷) اور سورۂ مومن (۷۹)۔ ➍ { وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ:} یعنی تم ان کا گوشت کھاتے ہو اور وہ چوپائے خرید و فروخت کے ذریعے سے تمھارے کھانے پینے اور ضروریات زندگی کی اشیاء حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔
← پچھلی آیت (20) پوری سورۃ اگلی آیت (22) →