بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المؤمنون — Surah Muminun
آیت نمبر 37
کل آیات: 118
قرآن کریم المؤمنون آیت 37
آیت نمبر: 37 — سورۃ المؤمنون islamicurdubooks.com ↗
اِنۡ ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنۡیَا نَمُوۡتُ وَ نَحۡیَا وَ مَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِیۡنَ ﴿۪ۙ۳۷﴾
زندگی کچھ نہیں ہے مگر بس یہی دنیا کی زندگی یہیں ہم کو مرنا اور جینا ہے اور ہم ہرگز اٹھائے جانے والے نہیں ہیں
(زندگی) تو صرف دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے جیتے رہتے ہیں اور یہ نہیں کہ ہم پھر اٹھائے جائیں گے
وہ تو نہیں مگر ہماری دنیا کی زندگی کہ ہم مرتے جیتے ہیں اور ہمیں اٹھنا نہیں
کوئی اور زندگی نہیں سوائے اس دنیوی زندگی کے جس میں ہمیں مرنا بھی ہے اور جینا بھی۔ اور ہمیں (دوبارہ) نہیں اٹھایا جائے گا۔
نہیں ہے یہ (زندگی) مگر ہماری اس دنیا کی زندگی، ہم (یہیں) مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہم ہرگز اٹھائے جانے والے نہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

عاد و ثمود کا تذکرہ ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرتا ہے کہ نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی امتیں آئیں جیسے عاد جو ان کے بعد آئی یا ثمود قوم جن پر چیخ کا عذاب آیا تھا۔ جیسے کہ اس آیت میں ہے ان میں بھی اللہ کے رسول علیہ السلام آئے اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی تعلیم دی۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا، مخالفت کی، اتباع سے انکار کیا۔ محض اس بنا پر کے یہ انسان ہیں۔ قیامت کو بھی نہ مانا، جسمانی حشرکے منکر بن گئے اور کہنے لگے کہ یہ بالکل دور از قیاس ہے۔ بعثت ونشر، حشروقیامت کوئی چیز نہیں۔ اس شخص نے یہ سب باتیں از خود گھڑلی ہیں ہم ایسی فضول باتوں کے مانے والے نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور ان پر مدد طلب کی۔ اسی وقت جواب ملاکہ تیری ناموافقت ابھی ابھی ان پر عذاب بن کر برسے گی اور یہ آٹھ آٹھ آنسو روئیں گے۔ آخر ایک زبردست چیخ اور بےپناہ چنگھاڑ کے ساتھ سب تلف کر دئیے گئے اور وہ مستحق بھی اسی کے تھے۔ تیزوتند آندھی اور پوری طاقتور ہوا کے ساتھ ہی فرشتے کی دل دہلانے والی خوف ناک آواز نے انہیں پارہ پارہ کر دیا وہ ہلاک اور تباہ ہو گئے۔ بھوسہ بن کر اڑ گئے۔ صرف مکانات کے کھنڈر اِن گئے گزرے ہوئے لوگوں کی نشاندہی کے لیے رہ گئے وہ کوڑے کرکٹ کی طرح ناچیز محض ہو گئے۔ ایسے ظالموں کے لیے دوری ہے۔ ان پر رب نے ظلم نہیں کیا بلکہ انہی کا کیا ہوا تھا جو ان کے سامنے آیا۔ پس اے لوگو! تمہیں بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت سے ڈرنا چاہے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 37) ➊ { اِنْ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا:هِيَ “} سے مراد {”حَيَاةٌ“} ہے، جو {” حَيَاتُنَا “} سے واضح ہو رہی ہے، یعنی مرنے کے بعد زندگی کہاں؟ زندگی ہے تو صرف یہ دنیا کی زندگی، باقی سب خیال و محال ہے۔ ➋ { نَمُوْتُ وَ نَحْيَا:} ”ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں“ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مرنے کے بعد جینے کے قائل ہو گئے تھے، کیونکہ وہ اس دنیا کے سوا کسی زندگی کو مانتے ہی نہ تھے۔ اس لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہیں ہم مرتے جاتے ہیں اور پچھلے پیدا ہوتے رہتے ہیں، دنیا کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا ہے اور جاری رہے گا۔ ➌ {وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِيْنَ:} باء کی وجہ سے نفی میں تاکید پیدا ہو گئی، اس لیے ترجمہ ہے ”اور ہم ہر گز اٹھائے جانے والے نہیں۔“ اگرچہ ان سرداروں کی پچھلی تمام باتوں کا مطلب بھی رسول اور قیامت کو جھٹلانا تھا، پھر بھی کوئی کمی باقی تھی تو انھوں نے نہایت تاکید کے ساتھ صاف لفظوں میں قیامت کا انکار کرکے اور رسول کو مفتری کہہ کر پوری کر دی، جیسا کہ اگلی آیت میں ہے۔
← پچھلی آیت (36) پوری سورۃ اگلی آیت (38) →