بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المؤمنون — Surah Muminun
آیت نمبر 30
کل آیات: 118
قرآن کریم المؤمنون آیت 30
آیت نمبر: 30 — سورۃ المؤمنون islamicurdubooks.com ↗
اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنۡ کُنَّا لَمُبۡتَلِیۡنَ ﴿۳۰﴾
اِس قصے میں بڑی نشانیاں ہیں اور آزمائش تو ہم کر کے ہی رہتے ہیں
یقیناً اس میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں اور ہم بےشک آزمائش کرنے والے ہیں
بیشک اس میں ضرو ر نشانیاں اور بیشک ضرور ہم جانچنے والے تھے
بےشک اس (واقعہ) میں بڑی نشانیاں ہیں اور ہم (لوگوں کی) آزمائش کیا کرتے ہیں۔
بلاشبہ اس میں یقینا بہت سی نشانیاں ہیں اور بلاشبہ یقینا ہم ہمیشہ سے آزمانے والے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا حکم ٭٭

جب نوح علیہ السلام ان سے تنگ آ گئے اور مایوس ہو گئے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ» [ 54-القمر: 10 ] ‏‏‏‏ میرے پروردگار میں لاچار ہو گیا ہوں میری مدد فرما۔ جھٹلانے والوں پر مجھے غالب کر اسی وقت فرمان الٰہی آیا کہ کشتی بناؤ اور خوب مضبوط چوڑی چکلی۔ اس میں ہر قسم کا ایک ایک جوڑا رکھ لو حیوانات نباتات پھل وغیرہ وغیرہ اور اسی میں اپنے والوں کو بھی بٹھالو مگر جس پر اللہ کی طرف سے ہلاکت سبقت کر چکی ہے جو ایمان نہیں لائے۔ جیسے آپ کی قوم کے کافر اور آپ کا لڑکا اور آپ کی بیوی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور جب تم عذاب آسمانی بصورت بارش اور پانی آتا دیکھ لو پھر مجھ سے ان ظالموں کی سفارش نہ کرنا۔ پھر ان پر رحم نہ کرنا نہ ان کے ایمان کی امید رکھنا۔ بس پھر تو یہ سب غرق ہو جائیں گے اور کفر پر ہی ان کا خاتمہ ہو گا۔ اس کا پورا قصہ سورۃ ھود کی تفسیر میں گزر چکا ہے ہے اس لیے ہم نہیں دہراتے۔ جب تو اور تیرے مومن ساتھی کشتی پرسوار ہو جاؤ تو کہنا کہ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی جیسے فرمان ہے کہ «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ» [ 43-الزخرف: 12- 14 ] ‏‏‏‏ اللہ نے تمہاری سواری کے لیے کشتیاں اور چوپائے بنائے ہیں تاکہ تم سواری لے کر اپنے رب کی نعمت کو مانو اور سوار ہو کر کہو کہ وہ اللہ پاک ہے جس نے ان جانوروں کو ہمارے تابع بنا دیا ہے حالانکہ ہم میں خود اتنی طاقت نہ تھی بالیقین ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ نوح علیہ السلام نے یہی کہا اور فرمایا «وَقَالَ ارْكَبُوا فِيهَا بِسْمِ اللَّـهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» [ 11-هود: 41 ] ‏‏‏‏ آؤ اس میں بیٹھ جاؤ اللہ کے نام کے ساتھ اس کا چلنا اور ٹھیرنا ہے پس شروع چلنے کے وقت بھی اللہ کو یاد کیا۔ اور جب وہ ٹھیرنے لگی تب بھی اللہ کو یاد کیا اور دعا کی کہ اے اللہ مجھے مبارک منزل پر اتارنا اور تو ہی سب سے بہتر اتارنے والا ہے اس میں یعنی مومنوں کی نجات اور کافروں کی ہلاکت میں انبیاء کی تصدیق کی نشایاں ہیں اللہ کی الوہیت کی علامتیں ہیں اس کی قدرت اس کا علم اس سے ظاہر ہوتا ہے۔ یقیناً رسولوں کو بھیج کر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش اور ان کا پورا امتحان کر لیتا ہے۔

📖 احسن البیان

30-1یعنی اس سرگزشت نوح ؑ میں اہل ایمان کو نجات اور کافروں کو ہلاک کردیا گیا، نشانیاں ہیں اس امر پر کہ انبیاء جو کچھ اللہ کی طرف سے لے کر آتے ہیں، ان میں وہ سچے ہوتے ہیں۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر اور کشمکش حق و باطل میں ہر بات سے آگاہ ہے اور وقت آنے پر اس کا نوٹس لیتا ہے اور اہل باطل کی پھر اس طرح گرفت کرتا ہے کہ اس کے شکنجے سے کوئی نکل نہیں سکتا۔ 30-2اور ہم انبیاء و رسل کے ذریعے سے یہ آزمائش کرتے رہے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 30) ➊ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ:} نوح علیہ السلام کا قصہ بیان کرنے کے بعد اس سے حاصل ہونے والی عبرتوں کی طرف توجہ دلائی کہ یقینا اس واقعہ میں بہت سی نشانیاں ہیں، مثلاً اس میں نوح علیہ السلام کے اولو العزم پیغمبر ہونے کی کئی نشانیاں ہیں، یعنی مدت دراز تک ان کا بے مثال صبر، قوم کے ایمان نہ لانے کی اطلاع پر ان پر بددعا کا قبول ہونا، ان کے دشمنوں کا غرق ہونا، اللہ تعالیٰ کا ان کی رسالت کی تصدیق کرنا اور ان کی تعریف کرنا وغیرہ۔ نوح علیہ السلام کی قوم جیسی رسولوں کو جھٹلانے والی دیگر قوموں کے لیے بھی کئی نشانیاں ہیں۔ اسی طرح اللہ کی عظیم قدرت کی بھی بہت سی نشانیاں ہیں، مثلاً اتنا عظیم طوفان جس سے پہاڑ بھی نہ بچا سکیں اور اس میں نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو محفوظ رکھ کر بابرکت طریقے سے اتار کر بابرکت جگہ دینا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے کامل علم و حکمت کی بھی بہت سی نشانیاں ہیں کہ اس نے کس طرح زمین کو مکمل طور پر شرک سے پاک کرنا طے کر رکھا تھا اور اتنے تباہ کن طوفان میں بھی اس نے انسانی ضروریات اور جانوروں کی بقا کا انتظام طے کر رکھا تھا اور کیا۔ (ابن عاشور) ➋ { وَ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِيْنَ:وَ “} اصل میں {”إِنَّ“} ہے، جس کا اسم {”نَا“} محذوف ہے۔ دلیل {” لَمُبْتَلِيْنَ “} پر آنے والا لام ہے۔ {”كَانَ“} استمرار کے لیے ہے، یعنی بلاشبہ یقینا ہم ہمیشہ سے آزمانے والے ہیں۔ ہم نے نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کی آزمائش کی، اسی طرح ہم ہر پیغمبر اور اس کی امت کی آزمائش کرتے چلے آئے ہیں اور اب بھی آزمائش کرتے رہتے ہیں۔ اس میں ہماری حکمت کھرے کھوٹے کو ظاہر کرنا، آزمائش میں کامیاب ہونے والوں کو نوازنا اور ناکام رہنے والوں کے ساتھ ان کے حسب حال سلوک کرنا ہے۔
← پچھلی آیت (29) پوری سورۃ اگلی آیت (31) →