بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المؤمنون — Surah Muminun
آیت نمبر 28
کل آیات: 118
قرآن کریم المؤمنون آیت 28
آیت نمبر: 28 — سورۃ المؤمنون islamicurdubooks.com ↗
فَاِذَا اسۡتَوَیۡتَ اَنۡتَ وَ مَنۡ مَّعَکَ عَلَی الۡفُلۡکِ فَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ نَجّٰنَا مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۲۸﴾
پھر جب تو اپنے ساتھیوں سمیت کشتی پر سوار ہو جائے تو کہہ، شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات دی
جب تو اور تیرے ساتھی کشتی پر باطمینان بیٹھ جاؤ تو کہنا کہ سب تعریف اللہ کے لئے ہی ہے جس نے ہمیں ﻇالم لوگوں سے نجات عطا فرمائی
پھر جب ٹھیک بیٹھ لے کشتی پر تُو اور تیرے ساتھ والے تو کہہ سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمیں ان ظالموں سے نجات دی،
اور جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی پر سوار ہو جائیں تو کہنا۔ الحمدﷲ۔ سب تعریف اس اللہ کیلئے ہے۔ جس نے ہمیں ظالم قوم سے نجات دی ہے۔
پھر جب تو اور جو تیرے ساتھ ہیں، کشتی پر چڑھ جائو تو کہہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات دی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا حکم ٭٭

جب نوح علیہ السلام ان سے تنگ آ گئے اور مایوس ہو گئے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ» [ 54-القمر: 10 ] ‏‏‏‏ میرے پروردگار میں لاچار ہو گیا ہوں میری مدد فرما۔ جھٹلانے والوں پر مجھے غالب کر اسی وقت فرمان الٰہی آیا کہ کشتی بناؤ اور خوب مضبوط چوڑی چکلی۔ اس میں ہر قسم کا ایک ایک جوڑا رکھ لو حیوانات نباتات پھل وغیرہ وغیرہ اور اسی میں اپنے والوں کو بھی بٹھالو مگر جس پر اللہ کی طرف سے ہلاکت سبقت کر چکی ہے جو ایمان نہیں لائے۔ جیسے آپ کی قوم کے کافر اور آپ کا لڑکا اور آپ کی بیوی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور جب تم عذاب آسمانی بصورت بارش اور پانی آتا دیکھ لو پھر مجھ سے ان ظالموں کی سفارش نہ کرنا۔ پھر ان پر رحم نہ کرنا نہ ان کے ایمان کی امید رکھنا۔ بس پھر تو یہ سب غرق ہو جائیں گے اور کفر پر ہی ان کا خاتمہ ہو گا۔ اس کا پورا قصہ سورۃ ھود کی تفسیر میں گزر چکا ہے ہے اس لیے ہم نہیں دہراتے۔ جب تو اور تیرے مومن ساتھی کشتی پرسوار ہو جاؤ تو کہنا کہ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی جیسے فرمان ہے کہ «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ» [ 43-الزخرف: 12- 14 ] ‏‏‏‏ اللہ نے تمہاری سواری کے لیے کشتیاں اور چوپائے بنائے ہیں تاکہ تم سواری لے کر اپنے رب کی نعمت کو مانو اور سوار ہو کر کہو کہ وہ اللہ پاک ہے جس نے ان جانوروں کو ہمارے تابع بنا دیا ہے حالانکہ ہم میں خود اتنی طاقت نہ تھی بالیقین ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ نوح علیہ السلام نے یہی کہا اور فرمایا «وَقَالَ ارْكَبُوا فِيهَا بِسْمِ اللَّـهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» [ 11-هود: 41 ] ‏‏‏‏ آؤ اس میں بیٹھ جاؤ اللہ کے نام کے ساتھ اس کا چلنا اور ٹھیرنا ہے پس شروع چلنے کے وقت بھی اللہ کو یاد کیا۔ اور جب وہ ٹھیرنے لگی تب بھی اللہ کو یاد کیا اور دعا کی کہ اے اللہ مجھے مبارک منزل پر اتارنا اور تو ہی سب سے بہتر اتارنے والا ہے اس میں یعنی مومنوں کی نجات اور کافروں کی ہلاکت میں انبیاء کی تصدیق کی نشایاں ہیں اللہ کی الوہیت کی علامتیں ہیں اس کی قدرت اس کا علم اس سے ظاہر ہوتا ہے۔ یقیناً رسولوں کو بھیج کر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش اور ان کا پورا امتحان کر لیتا ہے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 28) ➊ {فَاِذَا اسْتَوَيْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ …:} کشتی پر سوار ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد کا حکم دیا اور اس کے الفاظ خود بتائے، جیسے آدم علیہ السلام کو خود دعا سکھائی اور جیسے قیامت کے دن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حمد سکھائیں گے۔ دوسری جگہ چوپاؤں اور کشتیوں کے متعلق فرمایا: «{ وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَ (12) لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِيْنَۙ (13) وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ۠}» [ الزخرف: ۱۲ تا ۱۴ ] ”اور تمھارے لیے وہ کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔ تاکہ تم ان کی پیٹھوں پر جم کر بیٹھو، پھر اپنے رب کی نعمت یاد کرو، جب ان پر جم کر بیٹھ جاؤ اور کہو پاک ہے وہ جس نے اسے ہمارے لیے تابع کر دیا، حالانکہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہیں تھے۔ اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف ضرور لوٹ کر جانے والے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر سوار ہو کر یہ دعا پڑھتے تھے: [اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ، سُبْحَانَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ وَ إِنَّا إِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ، اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْئَلُكَ فِيْ سَفَرِنَا هٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَ مِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی، اَللّٰهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هٰذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فی السَّفَرِ والْخَلِيْفَةُ فِی الْأَهْلِ، اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ وَعْثَآءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَ سُوْٓءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ ] ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، پاک ہے وہ جس نے اسے ہمارے لیے مسخر کر دیا، حالانکہ ہم اسے ملنے والے نہیں تھے اور یقینا ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں۔ اے اللہ! ہم اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ کا سوال کرتے ہیں اور اس عمل کا جسے تو پسند کرے سوال کرتے ہیں۔ اے اللہ! ہمارا یہ سفر ہم پر آسان فرما دے اور ہم سے اس کی دوری کم کر دے۔ اے اللہ! تو ہی سفر میں ساتھی اور گھر والوں میں نائب ہے۔ اے اللہ! میں تجھ سے سفر کی مشقت سے اور مال اور اہل میں منظر کے غم سے اور ناکام لوٹنے کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس آتے تو یہی دعا پڑھتے، البتہ یہ الفاظ زیادہ کہتے: [ آئِبُوْنَ، تَائِبُوْنَ، عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ ] [ مسلم، الحج، باب استحباب الذکر إذا رکب …: ۱۳۴۲ ] ”ہم واپس لوٹنے والے، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے اور اپنے رب ہی کی حمد کرنے والے ہیں۔“ نوح علیہ السلام کو سوار ہو کر یہ دعا پڑھنے کا حکم ہوا: «{ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ}» [ المؤمنون: ۲۸ ] ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات دی۔ “ اور انھوں نے یہ کہہ کر ساتھیوں کو کشتی میں سوار ہونے کا حکم دیا: «{ بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖىهَا وَ مُرْسٰىهَا اِنَّ رَبِّيْ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ }» [ ھود: ۴۱ ] ”اللہ کے نام کے ساتھ اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا ہے۔ بے شک میرا رب یقینا بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔“ ➋ { فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا …: ” الظّٰلِمِيْنَ “} سے مراد مشرک ہیں، کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے۔ ظلم کا معنی {”وَضْعُ الشَّيْءِ فِيْ غَيْرِ مَحَلِّهِ“} (کسی چیز کو اس کی جگہ کے علاوہ کہیں رکھنا) ہے اور ظلم کا معنی اندھیرا بھی ہے، گویا ظالم اندھیرے میں چیزوں کو ان کے اصل محل کے بجائے ادھر ادھر رکھ دیتا ہے۔ سب سے بڑا حق اللہ کا ہے، وہ غیر کو دیا تو یہ سب سے بڑا ظلم ٹھہرا۔ (ابن عاشور) ➌ ظالم لوگوں سے نجات پر اللہ کی حمد کا حکم اس لیے دیا کہ وہ نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو بے شمار اذیتوں کا نشانہ بناتے تھے، اس کے علاوہ نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کا ان میں رہنا، ان کے کفر و شرک اور گندے اور غلیظ کاموں کو دیکھنا بجائے خود شدید تکلیف دہ تھا۔ اب ان سے نجات ملی، دشمن غرق ہوئے، الگ رہنے کی جگہ ملی، اپنا ماحول اور اپنی مجلس بنی، تو اس پر شکر اد اکرنے کا حکم ہوا۔ ➍ اسی لیے مسلمان کو دعوت یا جہاد کے مقصد کے بغیر کفار میں رہائش رکھنا حرام ہے، کیونکہ مسلسل کفر و شرک اور بدکاری و بے حیائی کا ارتکاب دیکھ دیکھ کر یا تو ہمیشہ شدید تکلیف میں رہے گا، یا اس کی اپنی غیرت و حمیت بھی ختم ہو جائے گی۔ چنانچہ اگر ایسی جگہ رہتا ہے تو وہاں سے ہجرت کا حکم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَنَا بَرِيْئٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ يُقِيْمُ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِيْنَ ] [ أبوداوٗد، الجہاد، باب النھي عن قتل …: ۲۶۴۵ ] ”میں ہر اس مسلم سے بری ہوں جو مشرکوں کے درمیان رہتا ہے۔“
← پچھلی آیت (27) پوری سورۃ اگلی آیت (29) →