بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المؤمنون — Surah Muminun
آیت نمبر 27
کل آیات: 118
قرآن کریم المؤمنون آیت 27
آیت نمبر: 27 — سورۃ المؤمنون islamicurdubooks.com ↗
فَاَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡہِ اَنِ اصۡنَعِ الۡفُلۡکَ بِاَعۡیُنِنَا وَ وَحۡیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوۡرُ ۙ فَاسۡلُکۡ فِیۡہَا مِنۡ کُلٍّ زَوۡجَیۡنِ اثۡنَیۡنِ وَ اَہۡلَکَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَیۡہِ الۡقَوۡلُ مِنۡہُمۡ ۚ وَ لَا تُخَاطِبۡنِیۡ فِی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ۚ اِنَّہُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴿۲۷﴾
ہم نے اس پر وحی کی کہ "ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کے مطابق کشتی تیار کر پھر جب ہمارا حکم آ جائے اور تنور ابل پڑے تو ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک ایک جوڑا لے کر اس میں سوار ہو جا، اور اپنے اہل و عیال کو بھی ساتھ لے سوائے اُن کے جن کے خلاف پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے، اور ظالموں کے معاملہ میں مجھ سے کچھ نہ کہنا، یہ اب غرق ہونے والے ہیں
تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنا۔ جب ہمارا حکم آجائے اور تنور ابل پڑے تو، تو ہر قسم کا ایک ایک جوڑا اس میں رکھ لے اور اپنے اہل کو بھی، مگر ان میں سے جن کی بابت ہماری بات پہلے گزر چکی ہے۔ خبردار جن لوگوں نے ﻇلم کیا ہے ان کے بارے میں مجھ سے کچھ کلام نہ کرنا وه تو سب ڈبوئے جائیں گے
تو ہم نے اسے وحی بھیجی کہ ہماری نگاہ کے سامنے اور ہمارے حکم سے کشتی بنا پھر جب ہمارا حکم آئے اور تنور ابلے تو اس میں بٹھالے ہر جوڑے میں سے دو اور اپنے گھر والے مگر ان میں سے وہ جن پر بات پہلے پڑچکی اور ان ظالموں کے معاملہ میں مجھ سے بات نہ کرنا یہ ضرور ڈبوئے جائیں گے،
سو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تم ہماری نگرانی اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بناؤ۔ پس جب ہمارا عذاب آجائے۔ اور تنور سے پانی ابلنے لگے تو ہر قسم کے نر اور مادہ (جانوروں) میں سے جوڑا جوڑا (اس میں) داخل کرلو۔ اور اپنے گھر والوں کو بھی سوا ان کے جن کے خلاف پہلے سے فیصلہ ہو چکا ہے۔ اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کرنا کیونکہ یہ اب یقیناً غرق ہونے والے ہیں۔
تو ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بنا، پھر جب ہمارا حکم آجائے اور تنور ابل پڑے تو ہر چیز میں سے دو قسمیں (نرومادہ) دونوں کو اور اپنے گھر والوں کو اس میں داخل کر لے، مگر ان میں سے وہ جس پر پہلے بات طے ہو چکی اور مجھ سے ان کے بارے میں بات نہ کرنا جنھوں نے ظلم کیا ہے، وہ یقینا غرق کیے جانے والے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا حکم ٭٭

جب نوح علیہ السلام ان سے تنگ آ گئے اور مایوس ہو گئے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ» [ 54-القمر: 10 ] ‏‏‏‏ میرے پروردگار میں لاچار ہو گیا ہوں میری مدد فرما۔ جھٹلانے والوں پر مجھے غالب کر اسی وقت فرمان الٰہی آیا کہ کشتی بناؤ اور خوب مضبوط چوڑی چکلی۔ اس میں ہر قسم کا ایک ایک جوڑا رکھ لو حیوانات نباتات پھل وغیرہ وغیرہ اور اسی میں اپنے والوں کو بھی بٹھالو مگر جس پر اللہ کی طرف سے ہلاکت سبقت کر چکی ہے جو ایمان نہیں لائے۔ جیسے آپ کی قوم کے کافر اور آپ کا لڑکا اور آپ کی بیوی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور جب تم عذاب آسمانی بصورت بارش اور پانی آتا دیکھ لو پھر مجھ سے ان ظالموں کی سفارش نہ کرنا۔ پھر ان پر رحم نہ کرنا نہ ان کے ایمان کی امید رکھنا۔ بس پھر تو یہ سب غرق ہو جائیں گے اور کفر پر ہی ان کا خاتمہ ہو گا۔ اس کا پورا قصہ سورۃ ھود کی تفسیر میں گزر چکا ہے ہے اس لیے ہم نہیں دہراتے۔ جب تو اور تیرے مومن ساتھی کشتی پرسوار ہو جاؤ تو کہنا کہ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی جیسے فرمان ہے کہ «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ» [ 43-الزخرف: 12- 14 ] ‏‏‏‏ اللہ نے تمہاری سواری کے لیے کشتیاں اور چوپائے بنائے ہیں تاکہ تم سواری لے کر اپنے رب کی نعمت کو مانو اور سوار ہو کر کہو کہ وہ اللہ پاک ہے جس نے ان جانوروں کو ہمارے تابع بنا دیا ہے حالانکہ ہم میں خود اتنی طاقت نہ تھی بالیقین ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ نوح علیہ السلام نے یہی کہا اور فرمایا «وَقَالَ ارْكَبُوا فِيهَا بِسْمِ اللَّـهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» [ 11-هود: 41 ] ‏‏‏‏ آؤ اس میں بیٹھ جاؤ اللہ کے نام کے ساتھ اس کا چلنا اور ٹھیرنا ہے پس شروع چلنے کے وقت بھی اللہ کو یاد کیا۔ اور جب وہ ٹھیرنے لگی تب بھی اللہ کو یاد کیا اور دعا کی کہ اے اللہ مجھے مبارک منزل پر اتارنا اور تو ہی سب سے بہتر اتارنے والا ہے اس میں یعنی مومنوں کی نجات اور کافروں کی ہلاکت میں انبیاء کی تصدیق کی نشایاں ہیں اللہ کی الوہیت کی علامتیں ہیں اس کی قدرت اس کا علم اس سے ظاہر ہوتا ہے۔ یقیناً رسولوں کو بھیج کر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش اور ان کا پورا امتحان کر لیتا ہے۔

📖 احسن البیان

27-1یعنی ان کی ہلاکت کا حکم آجائے۔ 27-2تنور پر حاشیہ سورة ہود میں گزر چکا ہے کہ صحیح بات یہ ہے کہ اس سے مراد ہمارے ہاں کا معروف تنور نہیں، جس میں روٹی پکائی جاتی ہے، بلکہ روئے زمین سے مراد ہے ساری زمین ہی چشمے میں تبدیل ہوگئی۔ نیچے زمین سے پانی چشموں کی طرح ابل پڑا۔ نوح ؑ کو ہدایت جاری ہے کہ جب پانی زمین سے ابل پڑے۔ 27-3یعنی حیوانات، نباتات اور ثمرات ہر ایک میں سے ایک ایک جوڑا (نر مادہ) کشتی میں رکھ لے تاکہ سب کی نسل باقی رہے۔ 27-4یعنی جن کی ہلاکت کا فیصلہ، ان کے کفر و طغیان کی وجہ سے ہوچکا ہے، جیسے زوجہ نوح ؑ اور انکا پسر۔ 27-5یعنی جب عذاب کا آغاز ہوجائے تو ان ظالموں میں سے کسی پر رحم کھانے کی ضرورت نہیں ہے کہ تو کسی کی سفارش کرنی شروع کر دے۔ کیونکہ ان کے غرق کرنے کا قطعی فیصلہ کیا جا چکا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 27){ فَاَوْحَيْنَاۤ اِلَيْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ …:} اس آیت کی تفسیر سورۂ ہود (۳۷) میں دیکھیں۔
← پچھلی آیت (26) پوری سورۃ اگلی آیت (28) →