بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المؤمنون — Surah Muminun
آیت نمبر 48
کل آیات: 118
قرآن کریم المؤمنون آیت 48
آیت نمبر: 48 — سورۃ المؤمنون islamicurdubooks.com ↗
فَکَذَّبُوۡہُمَا فَکَانُوۡا مِنَ الۡمُہۡلَکِیۡنَ ﴿۴۸﴾
پس انہوں نے دونوں کو جھٹلا دیا اور ہلاک ہونے والوں میں جا ملے
پس انہوں نے ان دونوں کو جھٹلایا آخر وه بھی ہلاک شده لوگوں میں مل گئے
تو انہوں نے ان دونوں کو جھٹلایا تو ہلاک کیے ہوؤں میں ہوگئے
پس ان لوگوں نے ان دونوں کو جھٹلایا (نتیجہ یہ نکلا کہ) وہ بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہوگئے۔
تو انھوں نے دونوں کو جھٹلا دیا تو وہ ہلاک کیے گئے لوگوں میں سے ہوگئے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

دریا برد فرعون ٭٭

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے بھائی ہارون علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے فرعون اور قوم فرعون کے پاس پوری دلیلوں کے ساتھ اور زبردست معجزوں کے ساتھ بھیجا لیکن انہوں نے بھی سابقہ کافروں کی طرح اپنے نبیوں کی تکذیب ومخالفت کی اور سابقہ کفار کی طرح یہی کہا کہ ہم اپنے جیسے انسانوں کی نبوت کے قائل نہیں ان کے دل بھی بالکل ان جیسے ہی ہو گئے بالآخر ایک ہی دن میں ایک ساتھ سب کو اللہ تعالیٰ نے دریا برد کر دیا۔ اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو لوگوں کی ہدایت کے لیے تورات ملی۔ دوبارہ مومنوں کے ہاتھوں کافر ہلاک کئے گئے جہاد کے احکام اترے اس طرح عام عذاب سے کوئی امت فرعون اور قوم فرعون یعنی قبطیوں کے بعد ہلاک نہیں ہوئی۔ ایک اور آیت میں فرمان ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ مِن بَعْدِ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولَىٰ بَصَائِرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ» [ 28-القص: 43 ] ‏‏‏‏ گزشتہ امتوں کی ہلاکت کے بعد ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب عنائت فرمائی جو لوگوں کے لیے بصیرت ہدایت اور رحمت تھی۔ تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 48) ➊ {فَكَذَّبُوْهُمَا۠ فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِيْنَ:} فاء سببیہ ہے، یعنی تکبر جھٹلانے کا سبب بنا اور جھٹلانا ہلاک کیے جانے والوں میں شامل ہونے کا باعث بنا۔ ➋ {فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِيْنَ:} یعنی بجائے اس کے کہ وہ عام عادت کے مطابق یکے بعد دیگرے فوت ہوں، جھٹلانے کے باعث سمندر میں ڈبو کر ہلاک کیے جانے والوں میں شامل ہو گئے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۹۰ تا ۹۲) {” مِنَ الْمُهْلَكِيْنَ “} میں قریش کے لیے بھی دھمکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ اپنے رسولوں کو جھٹلانے والوں کو ہلاک کر دیا کرتا ہے۔
← پچھلی آیت (47) پوری سورۃ اگلی آیت (49) →