بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المؤمنون — Surah Muminun
آیت نمبر 25
کل آیات: 118
قرآن کریم المؤمنون آیت 25
آیت نمبر: 25 — سورۃ المؤمنون islamicurdubooks.com ↗
اِنۡ ہُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِہٖ جِنَّۃٌ فَتَرَبَّصُوۡا بِہٖ حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿۲۵﴾
کچھ نہیں، بس اس آدمی کو ذرا جنون لاحق ہو گیا ہے کچھ مدت اور دیکھ لو (شاید افاقہ ہو جائے)"
یقیناً اس شخص کو جنون ہے، پس تم اسے ایک وقت مقرر تک ڈھیل دو
وہ تو نہیں مگر ایک دیوانہ مرد تو کچھ زمانہ تک اس کا انتظار کیے رہو
بس یہ ایک آدمی ہے۔ جسے کچھ جنون ہوگیا ہے۔ پس تم اس کے بارے میں کچھ مدت تک انتظار کرو۔
یہ نہیں ہے مگر ایک آدمی، جسے ایک جنون ہے، سو ایک وقت تک اس کے بارے میں انتظار کرو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نوح علیہ السلام اور متکبر وڈیرے ٭٭

نوح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بشیرونذیر بنا کر ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ نے ان میں جا کر پیغام الٰہی پہنچایا کہ اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہاری عبادت کا حقدار کوئی نہیں۔ تم اللہ کے سوا اس کے ساتھ دوسروں کو پوجتے ہوئے اللہ سے ڈرتے نہیں ہو؟ قوم کے بڑوں نے اور سرداروں نے کہا یہ تو تم جیسا ہی ایک انسان ہے۔ نبوت کا دعویٰ کر کے تم سے بڑا بننا چاہتا ہے سرداری حاصل کرنے کی فکر میں ہے بھلا انسان کی طرف وحی کیسے آتی؟ اللہ کا ارادہ نبی بھیجنے کا ہوتا تو کسی آسمانی فرشتے کو بھیج دیتا۔ یہ تو ہم نے کیا، ہمارے باپ دادوں نے بھی نہیں سنا کہ انسان اللہ کا رسول بن جائے۔ یہ تو کوئی دیوانہ شخص ہے کہ ایسے دعوے کرتا ہے اور ڈینگیں مارتا ہے۔ اچھا خاموش رہو دیکھ لو ہلاک ہو گا۔

📖 احسن البیان

25-1یہ ہمیں اور ہمارے باپ دادوں کو بتوں کی عبادت کرنے کی وجہ سے، بیوقوف اور کم عقل سمجھتا اور کہتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ خود ہی دیوانہ ہے اسے ایک وقت تک ڈھیل دو، موت کے ساتھ ہی اس کی دعوت بھی ختم ہوجائے گی یا ممکن ہے اس کی دیوانگی ختم ہوجائے اور اس دعوت کو ترک کر دے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 25) ➊ { اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ:” جِنَّةٌ “} جنون، دیوانگی۔ ان کی پانچویں بات یہ بہتان ہے جو انھوں نے لگایا، یعنی اس کا یہ کہنا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے رسول بنایا ہے، پھر وہ بات کہنا جو ہم نے کبھی سنی ہی نہیں کہ بتوں کی عبادت مت کرو، صرف اللہ کی عبادت کرو اور دن رات اسی کی تبلیغ میں لگے رہنا، نہ کاروبار کا خیال، نہ پوری قوم کی مخالفت کی پروا، درحقیقت اسے ایک جنون لاحق ہے، دیوانگی ہے جو اس سے یہ سب کچھ کرواتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن کی نظر میں کافر جو کچھ کرتا ہے سراسر دیوانگی ہے کہ ساری جد و جہد چند روزہ زندگی کے لیے کرتا ہے، ہمیشہ کی زندگی کی اسے فکر ہی نہیں اور پیدا کرنے والے کے ساتھ ان لوگوں کو پکارتا اور ان کی عبادت کرتا ہے جنھوں نے نہ کچھ پیدا کیا اور نہ وہ کچھ اختیار رکھتے ہیں۔ اسی طرح کافر کی نظر میں مومن کے کام دیوانگی ہیں کہ نقد کو چھوڑ کر ادھار کے پیچھے پڑا ہے، نظر نہ آنے والے رب سے ڈر کر اپنی محبوب خواہشیں ترک کیے ہوئے ہے۔ {” جِنَّةٌ “} میں تنوین تنکیر کی ہے، یعنی اسے ایک قسم کا جنون لاحق ہے۔ مکمل پاگل کہنے کے بجائے کچھ جنون کہا، تاکہ ہر شخص انھیں جھٹلا نہ دے کہ بھلا اتنا کامل عقل والا شخص دیوانہ ہو سکتا ہے؟ ابن جزی فرماتے ہیں: ”ان کی باتوں کا باہمی تضاد دیکھیے، ابھی کہہ رہے تھے کہ یہ شخص (اتنی صلاحیتوں کا مالک ہے کہ) تم پر برتری حاصل کرنا چاہتا ہے اور ابھی کہتے ہیں کچھ دیوانگی میں مبتلا ہے۔“ ➋ { فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِيْنٍ:} یعنی اس کے متعلق کچھ مدت انتظار کرو، حتیٰ کہ یہ زمانے کے کسی چکر کی لپیٹ میں آ جائے، یا فوت ہو جائے اور تمھاری جان چھوٹ جائے۔
← پچھلی آیت (24) پوری سورۃ اگلی آیت (26) →