بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المؤمنون — Surah Muminun
آیت نمبر 44
کل آیات: 118
قرآن کریم المؤمنون آیت 44
آیت نمبر: 44 — سورۃ المؤمنون islamicurdubooks.com ↗
ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا تَتۡرَا ؕ کُلَّمَا جَآءَ اُمَّۃً رَّسُوۡلُہَا کَذَّبُوۡہُ فَاَتۡبَعۡنَا بَعۡضَہُمۡ بَعۡضًا وَّ جَعَلۡنٰہُمۡ اَحَادِیۡثَ ۚ فَبُعۡدًا لِّقَوۡمٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۴۴﴾
پھر ہم نے پے در پے اپنے رسول بھیجے جس قوم کے پاس بھی اس کا رسول آیا، اس نے اُسے جھٹلایا، اور ہم ایک کے بعد ایک قوم کو ہلاک کرتے چلے گئے حتیٰ کہ ان کو بس افسانہ ہی بنا کر چھوڑا پھٹکار اُن لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے!
پھر ہم نے لگاتار رسول بھیجے، جب جب اس امت کے پاس اس کا رسول آیا اس نے جھٹلایا، پس ہم نے ایک دوسرے کے پیچھے لگا دیا اور انہیں افسانہ بنا دیا۔ ان لوگوں کو دوری ہے جو ایمان قبول نہیں کرتے
پھر ہم نے اپنے رسول بھیجے ایک پیچے دوسرا جب کسی امت کے پاس اس کا رسول آیا انہوں نے اسے جھٹلایا تو ہم نے اگلوں سے پچھلے ملادیے اور انہیں کہانیاں کر ڈالا تو دور ہوں وہ لوگ کہ ایمان نہیں لاتے،
پھر ہم نے لگاتار اپنے رسول بھیجے جب بھی کسی امت کے پاس اس کا رسول آیا تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو ہم بھی ایک کے بعد دوسرے کو ہلاک کرتے رہے۔ اور ہم نے انہیں قصہ پارینہ (اور افسانہ) بنا دیا۔ پس تباہی ہو اس قوم کیلئے جو ایمان نہیں لاتے۔
پھر ہم نے اپنے رسول پے درپے بھیجے۔ جب کبھی کسی امت کے پاس اس کا رسول آیا انھوں نے اسے جھٹلا دیا، تو ہم نے ان کے بعض کو بعض کے پیچھے چلتا کیا اور انھیں کہانیاں بنا دیا۔ سو دوری ہو ان لوگوں کے لیے جو ایمان نہیں لاتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اکثریت ہمشہ بدکاروں کی رہی ٭٭

ان کے بعد بھی بہت سی امتیں اور مخلوق آئی جو ہماری پیدا کردہ تھی۔ ان کی پیدائش سے پہلے ان کی اجل جو قدرت نے مقرر کی تھی، اسے اس نے پورا کیا نہ تقدیم ہوئی نہ تاخیر۔ پھر ہم نے پے در پے لگاتار رسول بھیجے۔ ہر امت میں پیغمبر آیا اس نے لوگوں کو پیغام الٰہی پہنچایا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اس کے ماسوا کسی کی پوجا نہ کرو۔ بعض راہ راست پر آ گئے اور بعض پر کلمہ عذاب راست آ گیا۔

تمام امتوں کی اکثریت نبیوں کی منکر رہی جیسے سورۃ یاسین میں فرمایا آیت «يٰحَسْرَةً عَلَي الْعِبَادِ ڱ مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ» [ 36- يس: 30 ] ‏‏‏‏ افسوس ہے بندوں پر۔۔

ان کے پاس جو رسول آیا انہوں نے اسے مذاق میں اڑایا۔ ہم نے یکے بعد دیگرے سب کو غارت اور فناکر دیا «وَكَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ بَعْدِ نُوْحٍ وَكَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِيْرًا بَصِيْرًا» [ 17- الإسراء: 17 ] ‏‏‏‏ نوح علیہ السلام کے بعد بھی ہم نے کئی ایک بستیاں تباہ کر دیں۔ انہیں ہم نے پرانے افسانے بنا دیا وہ نیست و نابود ہو گئے اور قصے ان کے باقی رہ گئے۔ بے ایمانوں کے لیے رحمت سے دوری ہے۔

📖 احسن البیان

44-1نَتْرَا کے معنی ہیں۔ یکے بعد دیگرے، متواتر لگا تار۔ 44-2ہلاکت اور بربادی میں۔ یعنی جس طرح یکے بعد دیگرے رسول آئے، اسی طرح رسالت کے جھٹلانے پر یہ قومیں یکے بعد دیگرے، عذاب سے دو چار ہو کر ہست و نیست ہوتی رہیں۔ 44-3جس طرح اَعَاجِیْبُ، اُعْجُوبَۃً کی جمع ہے (تعجب انگیز چیز یا بات) اسی طرح اَحَاحِیْثُ اُحْدُوْثَۃً کی جمع ہے بمعنی مشہور معروف مخلو قات کے واقعات اور قصص۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 44){ ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا …:” تَتْرَا”دَعْوٰي“} اور {”سَلْوٰي“} ({فَعْلٰي})کے وزن پر مصدر ہے، جو {” رُسُلَنَا “} سے حال ہے۔ {” تَتْرَا “} اصل میں {” وَتَرٰي“} ہے۔ واؤ کو تاء سے بدل دیا، جس طرح {”تَقْوٰي“} میں تاء واؤ کی جگہ آئی ہے۔ مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، یعنی {”مُتَوَاتِرِيْنَ“} یعنی پھر ہم نے اپنے کئی رسول پے در پے بھیجے، مگر ان کی قوموں نے پہلی امتوں کے انجام سے کوئی عبرت حاصل نہ کی اور ہر امت اپنے رسول کے آنے پر اسے جھٹلاتی رہی، تو ہم نے بھی یکے بعد دیگرے ان کی ہلاکت کا تانتا باندھ دیا اور انھیں ایسا نیست و نابود کیا کہ قصے کہانیوں کے سوا ان کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔
← پچھلی آیت (43) پوری سورۃ اگلی آیت (45) →