بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المؤمنون — Surah Muminun
آیت نمبر 23
کل آیات: 118
قرآن کریم المؤمنون آیت 23
آیت نمبر: 23 — سورۃ المؤمنون islamicurdubooks.com ↗
وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖ فَقَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿۲۳﴾
ہم نے نوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا اس نے کہا "اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارے لیے کوئی اور معبود نہیں ہے، کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟"
یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا، اس نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، کیا تم (اس سے) نہیں ڈرتے
اور بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں، تو کیا تمہیں ڈر نہیں
اور بےشک ہم نے نوح(ع) کو ان کی قوم کی طرف ہدایت کیلئے بھیجا۔ تو آپ نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا کوئی اللہ نہیں ہے۔ کیا تم (اس کی حکم عدولی سے) نہیں ڈرتے؟
اور بلاشبہ یقینا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی بھی معبود نہیں، تو کیا تم ڈرتے نہیں؟

📖 تفسیر ابن کثیر

نوح علیہ السلام اور متکبر وڈیرے ٭٭

نوح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بشیرونذیر بنا کر ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ نے ان میں جا کر پیغام الٰہی پہنچایا کہ اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہاری عبادت کا حقدار کوئی نہیں۔ تم اللہ کے سوا اس کے ساتھ دوسروں کو پوجتے ہوئے اللہ سے ڈرتے نہیں ہو؟ قوم کے بڑوں نے اور سرداروں نے کہا یہ تو تم جیسا ہی ایک انسان ہے۔ نبوت کا دعویٰ کر کے تم سے بڑا بننا چاہتا ہے سرداری حاصل کرنے کی فکر میں ہے بھلا انسان کی طرف وحی کیسے آتی؟ اللہ کا ارادہ نبی بھیجنے کا ہوتا تو کسی آسمانی فرشتے کو بھیج دیتا۔ یہ تو ہم نے کیا، ہمارے باپ دادوں نے بھی نہیں سنا کہ انسان اللہ کا رسول بن جائے۔ یہ تو کوئی دیوانہ شخص ہے کہ ایسے دعوے کرتا ہے اور ڈینگیں مارتا ہے۔ اچھا خاموش رہو دیکھ لو ہلاک ہو گا۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 23) ➊ { وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ:} توحید و قیامت کے دلائل اور اپنی عظیم الشان نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد ان کا انکار کرنے والی اور رسولوں کو جھٹلانے والی قوموں کے انجام بد کا اور اپنے رسولوں کی نصرت کا ذکر فرمایا۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کا ذکر فرمایا، کیونکہ زمین والوں کی طرف سب سے پہلے رسول وہی تھے اور نعمتوں کے تذکرے سے بات کا رخ نوح علیہ السلام کی طرف نہایت خوب صورت طریقے سے موڑا کہ آخری نعمت جو ذکر فرمائی وہ انسانوں کو کشتیوں پر سوار کرنا تھی اور سب سے پہلے کشتی کے سوار نوح علیہ السلام اور ان کے مومن ساتھی تھے، بعد میں تمام کشتیاں اسی کی طرز پر بنیں۔ (دیکھیے سورۂ یٰس: ۴۱ تا ۴۳) اس لیے کشتیوں کے بعد ان کا ذکر فرمایا۔ ➋ انعامات اور دلائل توحید بیان کرنے کے بعد آگے انبیاء اور ان قوموں کے حالات بیان فرمائے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں میں غور و فکر کے بجائے احسان فراموشی اور تکبر سے کام لیا، تو ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آ گیا۔ اس میں قریش اور دوسرے تمام کفار کو ڈرانا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا مقصود ہے۔ قرآن میں عموماً {” آلَاءُ اللّٰهِ “} (اللہ کی نعمتوں) کے بعد{ ” أَيَّامُ اللّٰهِ “ } کا بیان ہوتا ہے، تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ ➌ { ” اِلٰى قَوْمِهٖ “} سے معلوم ہوا کہ نوح علیہ السلام صرف اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے، یہ الگ بات ہے کہ اس وقت موجود ہی ان کی قوم تھی۔ تمام انسانوں اور جنوں کی طرف مبعوث ہونا صرف ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے۔ ➍ { فَقَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ:يٰقَوْمِ “} اصل میں {”يَا قَوْمِيْ“} ہے ”اے میری قوم!“ کتنی محبت اور نرمی سے خطاب فرمایا ہے، پھر فرمایا: ”اللہ کی عبادت کرو۔“ ہر پیغمبر کی دعوت یہی رہی ہے۔ (دیکھیے سورۂ انبیاء: ۲۵) نوح علیہ السلام کے واقعات کے لیے سورۂ اعراف (۵۹ تا ۶۴)، یونس (۷۱ تا ۷۳)، بنی اسرائیل (۳) اور سورۂ انبیاء (۷۶، ۷۷) بھی ملاحظہ فرمائیں۔ ➎ {مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ:مِنْ “} کے ساتھ معبودوں کے عموم کی تاکید ہے، اس لیے ترجمہ ہو گا ”اس کے سوا تمھارا کوئی بھی معبود نہیں۔“ یہ جملہ {” اعْبُدُوا اللّٰهَ “} کی علت ہے، یعنی اللہ کی عبادت کرو، کیونکہ اس کے سوا تمھارا کوئی بھی معبود نہیں۔ جب اور کوئی بھی معبود نہیں تو عبادت کیسی؟ ➏ { اَفَلَا تَتَّقُوْنَ:} یعنی کیا اللہ کے ساتھ شریک بناتے ہوئے تم اس سے اور اس کے عذاب سے ڈرتے نہیں۔
← پچھلی آیت (22) پوری سورۃ اگلی آیت (24) →