بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المؤمنون — Surah Muminun
آیت نمبر 9
کل آیات: 118
قرآن کریم المؤمنون آیت 9
آیت نمبر: 9 — سورۃ المؤمنون islamicurdubooks.com ↗
وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَلٰی صَلَوٰتِہِمۡ یُحَافِظُوۡنَ ۘ﴿۹﴾
اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں
جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں
اور وہ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں
اور جو اپنی نمازوں کی پوری حفاظت کرتے ہیں۔
اور وہی جو اپنی نمازوں کی خوب حفاظت کرتے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پھر اور وصف بیان فرمایا کہ وہ سوائے اپنی بیویوں اور ملکیت کی لونڈیوں کے دوسری عورتوں سے اپنے نفس کو دور رکھتے ہیں۔ یعنی حرام کاری سے بچتے ہیں۔ زنا لواطت وغیرہ سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں۔ ہاں ان کی بیویاں جو اللہ نے ان پر حلال کی ہیں اور جہاد میں ملی ہوئی لونڈیاں جو ان پر حلال ہیں۔ ان کے ساتھ ملنے میں ان پر کوئی ملامت اور حرج نہیں۔ جو شخص ان کے سوا دوسرے طریقوں سے یا کسی دوسرے سے خواہش پوری کرے وہ حد سے گزر جانے والا ہے۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے غلام کو لے لیا اور اپنی سند میں یہی آیت پیش کی۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہا کو یہ معلوم ہوا تو آپ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے اس معاملے کو پیش کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا اس نے غلط معنی مراد لیے۔ اس پر فاروق اعظم رضی اللہ عنہما نے اس غلام کا سرمنڈوا کر جلا وطن کر دیا اور اس عورت سے فرمایا اس کے بعد تو ہر مسلمان پر حرام ہے، لیکن یہ اثر منقطع ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11277:منقطع] ‏‏‏‏ اور ساتھ ہی غریب بھی ہے۔ امام ابن جریر نے اسے سورۃ المائدہ کی تفسیر کے شروع میں وارد کیا ہے لیکن اس کے وارد کرنے کی موزوں جگہ یہی تھی۔ اسے عام مسلمانوں پر حرام کرنے کی وجہ اس کے ارادے کے خلاف اس کے ساتھ معاملہ کرنا تھا واللہ اعلم۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ اور ان کے موافقین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے اپنے ہاتھ سے اپنا خاص پانی نکال ڈالنا حرام ہے کیونکہ یہ بھی ان دونوں حلال صورتوں کے علاوہ ہے اور مشت زنی کرنے والا شخص بھی حد سے آگے گزرجانے والا ہے۔ امام حسن بن عرفہ نے اپنے مشہور جز میں ایک حدیث وارد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے نہ دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور نہ انہیں عالموں کے ساتھ جمع کرے گا اور انہیں سب سے پہلے جہنم میں جانے والوں کے ساتھ جہنم میں داخل کرے گا یہ اور بات ہے کہ وہ توبہ کر لیں توبہ کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ مہربانی سے رجوع فرماتا ہے ایک تو ہاتھ سے نکاح کرنے والا یعنی مشت زنی کرنے والا اور اغلام بازی کرنے اور کرانے والا۔ اور نشے باز شراب کا عادی اور اپنے ماں باپ کو مارنے پیٹنے والا یہاں تک کہ وہ چیخ پکار کرنے لگیں اور اپنے پڑوسیوں کو ایذاء پہنچانے والا یہاں تک کہ وہ اس پر لعنت بھیجنے لگے اور اپنی پڑوسن سے بدکاری کرنے والا۔ [بیهقی فی شعب الایمان:5470:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن اس میں ایک راوی مجہول ہے۔ واللہ اعلم۔

اور وصف ہے کہ وہ اپنی امانتیں اور اپنے وعدے پورے کرتے ہیں امانت میں خیانت نہیں کرتے بلکہ امانت کی ادائیگی میں سبقت کرتے ہیں وعدے پورے کرتے ہیں اس کے خلاف عادتیں منافقوں کی ہوتی ہیں۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ [ ١ ] ‏‏‏‏ جب بات کرے، جھوٹ بولے [ ٢ ] ‏‏‏‏ جب وعدہ کرے خلاف کرے [ ٣ ] ‏‏‏‏ جب امانت دیا جائے خیانت کرے۔ [صحیح بخاری:7232] ‏‏‏‏ پھر اور وصف بیان فرمایا کہ وہ نمازوں کی ان اوقات پر حفاظت کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ سب سے زیادہ محبوب عمل اللہ کے نزدیک کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کو وقت پر ادا کرنا۔ پوچھا گیا پھر؟ فرمایا ماں باپ سے حسن سلوک کرنا۔ پوچھا گیا پھر؟ فرمایا اللہ کے راہ میں جہاد کرنا [صحیح بخاری:527] ‏‏‏‏ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں وقت، رکوع، سجدہ وغیرہ کی حفاظت مراد ہے۔ ان آیات پر دوبارہ نظر ڈالو۔ شروع میں بھی نماز کا بیان ہوا اور آخر میں بھی نماز کا بیان ہوا۔ جس سے ثابت ہوا کہ نماز سب سے افضل ہے۔

حدیث شریف میں ہے سیدھے سیدھے رہو اور تم ہرگز احاطہٰ نہ کر سکو گے۔ جان لو کہ تمہارے تمام اعمال میں بہترین عمل نماز ہے۔ دیکھو وضو کی حفاظت صرف مومن ہی کر سکتا ہے۔ [سنن ابن ماجہ:277،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ان سب صفات کو بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ یہی لوگ وارث ہیں جو جنت الفردوس کے دائمی وارث ہونگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اللہ سے جب مانگو جنت الفردوس مانگو، وہ سب سے اعلی اور اوسط جنت ہے۔ وہیں سے سب نہریں جاری ہوتی ہیں اسی کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے- [صحیح بخاری:2790] ‏‏‏‏

فرماتے ہیں تم میں ہر ایک کی دو دو جگہیں ہیں۔ ایک منزل جنت میں ایک جہنم میں، جب کوئی دوزخ میں گیا تو اس کی منزل کے وارث جنتی بنتے ہیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ [سنن ابن ماجہ:4341،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنتی تو اپنی جنت کی جگہ سنوار لیتا ہے اور جہنم کی جگہ ڈھا دیتا ہے۔ اور دوزخی اس کے خلاف کرتا ہے، کفار جو عبادت کے لیے پیدا کئے گئے تھے، انہوں نے عبادت ترک کر دی تو ان کے لیے جو انعامات تھے وہ ان سے چھین کر سچے مومنوں کے حوالے کر دئیے گئے۔ اسی لیے انہیں وارث کہا گیا۔

صحیح مسلم میں ہے کچھ مسلمان پہاڑوں کے برابر گناہ لے کر آئیں گے، جنہیں اللہ تعالیٰ یہود ونصاری پر ڈال دے گا اور انہیں بخش دے گا۔ [صحیح مسلم:2767] ‏‏‏‏ اور سند سے مروی ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو ایک ایک یہودی یا نصرانی دے گا کہ یہ تیرا فدیہ ہے، جہنم سے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے جب یہ حدیث سنی تو راوی حدیث ابوبردہ رضی اللہ عنہما کو قسم دی انہوں نے تین مرتبہ قسم کھا کر حدیث کو دوہرا دیا۔ اسی جیسی آیت یہ بھی ہے «تِلْكَ الْجَــــنَّةُ الَّتِيْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِيًّا» [ 19- مريم: 63 ] ‏‏‏‏، اسی جیسی آیت یہ بھی «وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِيْٓ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [ 43- الزخرف: 72 ] ‏‏‏‏، فردوس رومی زبان میں باغ کو کہتے ہیں بعض سلف کہتے کہ اس باغ کو جس میں انگور کی بیلیں ہوں «واللہ اعلم» ۔

📖 احسن البیان

9-1آخر میں پھر نمازوں کی حفاظت کو فلاح کے لئے ضروری قرار دیا، جس سے نماز کی اہمیت و فضیلت واضح ہے۔ لیکن آج مسلمان کے نزدیک دوسرے اعمال صالح کی طرح اس کی بھی کوئی اہمیت سرے سے باقی نہیں رہ گئی ہے۔ فانا للہ وان الیہ راجعون

📖 القرآن الکریم

(آیت 9) ➊ { وَ الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ:} فلاح پانے والے مومنوں کی پہلی صفت نماز میں خشوع بیان فرمائی اور دوسرے اوصاف بیان کرنے کے بعد آخر میں پھر نماز ہی سے تعلق رکھنے والی ایک صفت بیان فرمائی کہ وہ اپنی نمازوں کی خوب حفاظت کیا کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نماز کی کس قدر اہمیت ہے۔ ➋ {” يُحَافِظُوْنَ “} باب مفاعلہ سے مبالغے کے لیے ہے، کیونکہ یہاں مقابلے کا معنی مراد نہیں ہو سکتا۔ {”يَحْفَظُوْنَ“} ”حفاظت کرتے ہیں“ اور {” يُحَافِظُوْنَ “} ”خوب حفاظت کرتے ہیں۔“ محافظت سے مراد نماز ہمیشہ ادا کرنا اور ہر نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا ہے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”یا رسول اللہ! کون سا عمل اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلصَّلَاةُ عَلٰی وَقْتِهَا ] ”نماز اس کے وقت پر ادا کرنا۔“ میں نے کہا: ”پھر کون سا عمل؟“ فرمایا: ”والدین سے حسن سلوک۔“ میں نے کہا: ”پھر کون سا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد فی سبیل اللہ۔“ [ بخاري، مواقیت الصلاۃ، باب فضل الصلاۃ لوقتھا: ۵۲۷۔ مسلم: ۸۵ ] مستدرک حاکم (۱؍۱۸۸، ح: ۶۷۴) میں ہے: [ اَلصَّلَاةُ فِيْ أَوَّلِ وَقْتِهَا ] ”نماز اس کے اول وقت میں ادا کرنا۔“ حاکم نے فرمایا، یہ لفظ دو ثقہ راویوں بندار بن بشار اور حسن بن مکرم کی روایت سے ثابت ہیں، جو ان دونوں نے عثمان بن عمرو سے روایت کی ہے اور یہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے، جب کہ شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
← پچھلی آیت (8) پوری سورۃ اگلی آیت (10) →