اے پیغمبرو، کھاؤ پاک چیزیں اور عمل کرو صالح، تم جو کچھ بھی کرتے ہو، میں اس کو خوب جانتا ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
اے پیغمبرو! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے میں بخوبی واقف ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو، میں تمہارے کاموں کو جانتا ہوں
علامہ محمد حسین نجفی
اے (میرے) پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔ بیشک تم جو کچھ کرتے ہو میں اسے خوب جانتا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اے رسولو! پاکیزہ چیزوں میں سے کھائو اور نیک عمل کرو، یقینا میں اسے جو تم کرتے ہو، خوب جاننے والا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اکل حلال کی فضیلت ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے تمام انبیاء علیہ السلام کو حکم فرتا ہے کہ وہ حلال لقمہ کھائیں اور نیک اعمال بجالایا کریں پس ثابت ہوا کہ لقمہ حلال عمل صالحہ کا مددگار ہے پس انبیاء نے سب بھلائیاں جمع کر لیں، قول، فعل، دلالت، نصیحت، سب انہوں نے سمیٹ لی۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے سب بندوں کی طرف سے نیک بدلے دے۔ یہاں کوئی رنگت، مزہ بیان نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّـهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ» [ 2-البقرة: 172 ] حلال چیزیں کھاؤ۔ عیسیٰ علیہ السلام اپنی والدہ کے بُنّنے کی اجرت میں سے کھاتے تھے صحیح حدیث میں ہے کوئی نبی ایسا نہیں جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں لوگوں نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میں بھی چند قیراط پر اہل مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا؟ [صحیح بخاری:2262] اور حدیث میں ہے داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی محنت کا کھایا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:2072]
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اللہ کو سب سے زیادہ پسند روزہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے اور سب سے زیادہ پسندیدہ قیام داؤد علیہ السلام کا قیام ہے۔ آدھی رات سوتے تھے اور تہائی رات نماز تہجد پڑھتے تھے اور چھٹا حصے سوجاتے تھے اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہ رکھتے تھے میدان جنگ میں کبھی پیٹھ نہ دکھاتے۔ [صحیح بخاری:1131] ام عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ شام کے وقت بھیجا تاکہ آپ اس سے اپنا روزہ افطار کریں دن کا آخری حصہ تھا اور دھوپ کی تیزی تھی تو آپ نے قاصد کو واپس کر دیا اگر تیری بکری کا ہوتا تو خیر اور بات تھی۔ انہوں نے پیغام بھیجا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے یہ دودھ اپنے مال سے خرید کیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پی لیا دوسرے دن مائی صاحبہ حاضر خدمت ہو کر عرض کرتی ہیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس گرمی میں میں نے دودھ بھیجا، بہت دیر سے بھیجا تھا آپ نے میرے قاصد کو واپس کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں مجھے یہی فرمایا گیا ہے۔“انبیاء صرف حلال کھاتے ہیں اور صرف نیک عمل کرتے ہیں“، [طبرانی کبیر:174/25:ضعیف] اور حدیث میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو اللہ تعالیٰ پاک ہے وہ صرف پاک کو ہی قبول فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی وہی حکم دیا ہے جو رسول کو دیا ہے کہ اے رسولو! پاک چیز کھاؤ اور نیک کام کرو میں تمہارے اعمال کا عالم ہوں یہی حکم ایمان والوں کو دیا کہ اے ایماندارو! جو حلال چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ۔ پھر آپ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے پراگندہ بالوں والا غبار آلود چہرے والا ہوتا ہے لیکن کھانا پہننا حرام کا ہوتا ہے وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلا کر اے رب، اے رب کہتا ہے، لیکن ناممکن ہے کہ اس کی دعا قبول فرمائی جائے۔ [صحیح مسلم:1015] امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو حسن غریب بتلاتے ہیں۔ پھر فرمایا اے پیغمبرو تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے ایک ہی ملت ہے یعنی اللہ واحد لاشریک لہ کی عبادت کی طرف دعوت دینا۔ اسی لیے اسی کے بعد فرمایا کہ میں تمہارا رب ہوں۔ پس مجھ سے ڈرو۔ سورۃ انبیاء میں اس کی تفسیر وتشریح ہو چکی ہے آیت «وَإِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ» [ المومنون آیت 52 ] پر نصب حال ہونے کی وجہ ہے۔
جن امتوں کی طرف انبیاء علیہم السلام بھیجے گئے تھے انہوں نے اللہ کے دین کے ٹکڑے کر دئے اور جس گمراہی پر اڑ گئے اسی پر نازاں وفرحاں ہو گئے اس لیے کہ اپنے نزدیک اسی کو ہدایت سمجھ بیٹھے۔ پس بطور ڈانٹ کے فرمایا «فَمَهِّلِ الْكَافِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا» [ 86-الطارق: 17 ] اور آیت «ذَرْهُمْ يَأْكُلُوا وَيَتَمَتَّعُوا وَيُلْهِهِمُ الْأَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» [ 15-الحجر: 3 ] انہیں ان کے بہکنے بھٹکنے میں ہی چھوڑ دیجئیے یہاں تک کہ ان کی تباہی کا وقت آ جائے۔ کھانے پینے دیجئیے، مست وبے خود ہونے دیجئیے، ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا۔ «وَقَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ» [ 34-سبأ: 35 ] کیا یہ مغرور یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم جو مال و اولاد انہیں دے رہے ہیں وہ ان کی بھلائی اور نیکی کی وجہ سے ان کے ساتھ سلوک کر رہے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ یہ تو انہیں دھوکا لگا ہے یہ اس سے سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم جیسے یہاں خوش حال ہیں وہاں بھی بےسزا رہ جائیں گے یہ محض غلط ہے جو کچھ انہیں دنیا میں ہم دے رہے ہیں وہ تو صرف ذرا سی دیر کی مہلت ہے لیکن یہ بے شعور ہیں۔ یہ لوگ اصل تک پہنچے ہی نہیں۔ جیسے فرمان ہے۔ «فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَلَآ اَوْلَادُهُمْ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ» [ 9- التوبہ: 55 ] ، تجھے ان کے مال و اولاد دھوکے میں نہ ڈالیں اللہ کا ارادہ تو یہ ہے کہ اس سے انہیں دنیا میں عذاب کرے۔ اور آیت میں ہے «وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِّأَنفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ» [ 3-آل عمران: 178 ] یہ ڈھیل صرف اس لیے دی گئی ہے کہ وہ اپنے گناہوں میں اور بڑھ جائیں۔ اور جگہ ہے۔ مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح بتدریج پکڑیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہو۔ اور آیتوں میں فرمایا ہے «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَّمْدُودًا وَبَنِينَ شُهُودًا وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيدًا ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ كَلَّا إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا» [ 74- المدثر: 16-11 ] ، یعنی مجھے اور اسے چھوڑ دے جس کو میں نے تنہا پیدا کیا ہے اور بہ کثرت مال دیا ہے اور ہمہ وقت موجود فرزند دئیے ہیں اور سب طرح کا سامان اس لیے مہیا کر دیا ہے پھر اسے ہوس ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں، ہرگز نہیں وہ ہماری باتوں کا مخالف ہے اور آیت میں ہے۔ «وَمَآ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ بالَّتِيْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰٓي اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ۡ فَاُولٰىِٕكَ لَهُمْ جَزَاءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَهُمْ فِي الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ» [ 34- سبأ: 37 ] ، تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہیں مجھ سے قربت نہیں دے سکتیں مجھ سے قریب تو وہ ہے جو ایماندار اور نیک عمل ہو۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہی اللہ کا شکر ہے پس تم انسانوں کو مال اور اولاد سے نہ پرکھو بلکہ انسان کی کسوٹی ایمان اور نیک عمل ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے اخلاق بھی تم میں اسی طرح تقسیم کئے ہیں جس طرح روزیاں تقسیم فرمائی ہیں اللہ تعالیٰ دنیا تو اسے بھی دیتا ہے جس سے محبت رکھے اور اسے بھی دیتا ہے جس سے محبت نہ رکھے ہاں دین صرف اسی کو دیتا ہے جس سے پوری محبت رکھتا ہو پس جسے اللہ دین دے سمجھو کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھتا ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے بندہ مسلمان نہیں ہوتا جب تک کہ اس کا دل اور زبان مسلمان نہ ہو جائے اور بندہ مومن نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے پڑوسی اس کی ایذاؤں سے بے فکر نہ ہو جائیں۔ لوگوں نے پوچھا کہ ایذاؤں سے کیا مراد ہے؟ فرمایا دھوکے بازی، ظلم وغیرہ۔ سنو جو بندہ حرام مال حاصل کر لے اس کے خرچ میں برکت نہیں ہوتی اس کا صدقہ قبول نہیں ہوتا جو چھوڑ کر جاتا ہے وہ اس کا جہنم کا توشہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا ہاں برائی کو بھلائی سے رفع کرتا ہے۔ خبیث خبیث کو نہیں مٹاتا۔ [مسند احمد:378/1:ضعیف]
51-1طِیِّبٰت سے مراد پاکیزہ اور لذت بخش چیزیں ہیں، بعض نے اس کا ترجمہ حلال چیزیں کیا ہے۔ دونوں ہی اپنی جگہ صحیح ہیں کیونکہ ہر پاکیزہ چیز اللہ نے حلال کردی ہے اور ہر حلال چیز پاکیزہ اور لذت بخش ہے۔ خبائث کو اللہ نے اس لئے حرام کیا ہے کہ وہ اثرات و نتائج کے لحاظ سے پاکیزہ نہیں ہیں۔ حلال روزی کے ساتھ عمل صالح کی تاکید سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور یہ ایک دوسر کے معاون ہیں۔ اسی لئے اللہ نے تمام پیغمبروں کو ان دونوں باتوں کا حکم دیا۔ چناچہ تمام پیغمبر محنت کر کے حلال روزی کمانے اور کھانے کا اہتمام کرتے رہے، جس طرح حضرت داؤد ؑ کے بارے میں آتا ہے ' کہ وہ اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے ' اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں، میں بھی اہل مکہ کی بکریاں چند سکوں کے عوض چراتا رہا (صحیح بخاری)
(آیت 51) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ …:} ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو حکم دے رہے ہیں کہ حلال کھاؤ اور صالح اعمال کرتے رہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ اکلِ حلال عمل صالح کے لیے مددگار ہے۔“ (ابن کثیر) ظاہر ہے حلال حاصل کرنے کے لیے محنت بھی کرنا پڑے گی۔ چنانچہ نبوت سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجرت پر بکریاں چرائی ہیں اور تجارت بھی کی ہے اور آخر میں تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے پاکیزہ ترین رزق مال غنیمت کے ساتھ غنی فرما دیا، چنانچہ فرمایا: «فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَيِّبًا» [ الأنفال: ۶۹ ] ”سو اس میں سے کھاؤ جو تم نے غنیمت حاصل کی، اس حال میں کہ حلال، طیب ہے۔“ مقدام رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا أَكَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ أَنْ يَّأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ وَ إِنَّ نَبِيَّ اللّٰهِ دَاوٗدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَأْكُلُ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ ] [ بخاري، البیوع، باب کسب الرجل و عملہ بیدہ: ۲۰۷۲ ] ”کسی شخص نے کوئی کھانا اس کھانے سے بہتر نہیں کھایا جو وہ اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھائے اور اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كَانَ زَكَرِيَّا نَجَّارًا ] [ ابن ماجہ، التجارات، باب الصناعات: ۲۱۵۰، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ و صححہ الألباني ] ”زکریا علیہ السلام نجار (ترکھان) تھے۔“ اس کی مزید تفصیل اور حرام کھانے والے کی دعا قبول نہ ہونے کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۷۲)۔ اس آیت میں رہبانیت کا بھی رد ہے، جو اللہ کی نعمتیں اپنے آپ پر حرام کر لیتے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کے تذکرے کے بعد شاید اسی لیے اس حکم کا ذکر کیا ہے کہ رہبانیت کا حکم کسی بھی رسول کو نہ تھا۔ ➋ { إِنِّيْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ:} اس میں حلال کھانے اور عمل صالح پر جزا کا وعدہ ہے اور اس کے خلاف پر سزا کی وعید ہے۔
اور یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس مجھی سے تم ڈرو
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے اور میں ہی تم سب کا رب ہوں، پس تم مجھ سے ڈرتے رہو
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک یہ تمہارا دین ایک ہی دین ہے اور میں تمہارا رب ہوں تو مجھ سے ڈرو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور یہ تمہاری امت (جماعت) ایک امت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں سو تم مجھ ہی سے ڈرو۔
عبدالسلام بن محمد
اور بے شک یہ تمھاری امت ہے، جو ایک ہی امت ہے اور میں تمھارا رب ہوں، سو مجھ سے ڈرو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اکل حلال کی فضیلت ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے تمام انبیاء علیہ السلام کو حکم فرتا ہے کہ وہ حلال لقمہ کھائیں اور نیک اعمال بجالایا کریں پس ثابت ہوا کہ لقمہ حلال عمل صالحہ کا مددگار ہے پس انبیاء نے سب بھلائیاں جمع کر لیں، قول، فعل، دلالت، نصیحت، سب انہوں نے سمیٹ لی۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے سب بندوں کی طرف سے نیک بدلے دے۔ یہاں کوئی رنگت، مزہ بیان نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّـهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ» [ 2-البقرة: 172 ] حلال چیزیں کھاؤ۔ عیسیٰ علیہ السلام اپنی والدہ کے بُنّنے کی اجرت میں سے کھاتے تھے صحیح حدیث میں ہے کوئی نبی ایسا نہیں جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں لوگوں نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میں بھی چند قیراط پر اہل مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا؟ [صحیح بخاری:2262] اور حدیث میں ہے داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی محنت کا کھایا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:2072]
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اللہ کو سب سے زیادہ پسند روزہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے اور سب سے زیادہ پسندیدہ قیام داؤد علیہ السلام کا قیام ہے۔ آدھی رات سوتے تھے اور تہائی رات نماز تہجد پڑھتے تھے اور چھٹا حصے سوجاتے تھے اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہ رکھتے تھے میدان جنگ میں کبھی پیٹھ نہ دکھاتے۔ [صحیح بخاری:1131] ام عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ شام کے وقت بھیجا تاکہ آپ اس سے اپنا روزہ افطار کریں دن کا آخری حصہ تھا اور دھوپ کی تیزی تھی تو آپ نے قاصد کو واپس کر دیا اگر تیری بکری کا ہوتا تو خیر اور بات تھی۔ انہوں نے پیغام بھیجا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے یہ دودھ اپنے مال سے خرید کیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پی لیا دوسرے دن مائی صاحبہ حاضر خدمت ہو کر عرض کرتی ہیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس گرمی میں میں نے دودھ بھیجا، بہت دیر سے بھیجا تھا آپ نے میرے قاصد کو واپس کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں مجھے یہی فرمایا گیا ہے۔“انبیاء صرف حلال کھاتے ہیں اور صرف نیک عمل کرتے ہیں“، [طبرانی کبیر:174/25:ضعیف] اور حدیث میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو اللہ تعالیٰ پاک ہے وہ صرف پاک کو ہی قبول فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی وہی حکم دیا ہے جو رسول کو دیا ہے کہ اے رسولو! پاک چیز کھاؤ اور نیک کام کرو میں تمہارے اعمال کا عالم ہوں یہی حکم ایمان والوں کو دیا کہ اے ایماندارو! جو حلال چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ۔ پھر آپ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے پراگندہ بالوں والا غبار آلود چہرے والا ہوتا ہے لیکن کھانا پہننا حرام کا ہوتا ہے وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلا کر اے رب، اے رب کہتا ہے، لیکن ناممکن ہے کہ اس کی دعا قبول فرمائی جائے۔ [صحیح مسلم:1015] امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو حسن غریب بتلاتے ہیں۔ پھر فرمایا اے پیغمبرو تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے ایک ہی ملت ہے یعنی اللہ واحد لاشریک لہ کی عبادت کی طرف دعوت دینا۔ اسی لیے اسی کے بعد فرمایا کہ میں تمہارا رب ہوں۔ پس مجھ سے ڈرو۔ سورۃ انبیاء میں اس کی تفسیر وتشریح ہو چکی ہے آیت «وَإِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ» [ المومنون آیت 52 ] پر نصب حال ہونے کی وجہ ہے۔
جن امتوں کی طرف انبیاء علیہم السلام بھیجے گئے تھے انہوں نے اللہ کے دین کے ٹکڑے کر دئے اور جس گمراہی پر اڑ گئے اسی پر نازاں وفرحاں ہو گئے اس لیے کہ اپنے نزدیک اسی کو ہدایت سمجھ بیٹھے۔ پس بطور ڈانٹ کے فرمایا «فَمَهِّلِ الْكَافِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا» [ 86-الطارق: 17 ] اور آیت «ذَرْهُمْ يَأْكُلُوا وَيَتَمَتَّعُوا وَيُلْهِهِمُ الْأَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» [ 15-الحجر: 3 ] انہیں ان کے بہکنے بھٹکنے میں ہی چھوڑ دیجئیے یہاں تک کہ ان کی تباہی کا وقت آ جائے۔ کھانے پینے دیجئیے، مست وبے خود ہونے دیجئیے، ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا۔ «وَقَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ» [ 34-سبأ: 35 ] کیا یہ مغرور یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم جو مال و اولاد انہیں دے رہے ہیں وہ ان کی بھلائی اور نیکی کی وجہ سے ان کے ساتھ سلوک کر رہے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ یہ تو انہیں دھوکا لگا ہے یہ اس سے سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم جیسے یہاں خوش حال ہیں وہاں بھی بےسزا رہ جائیں گے یہ محض غلط ہے جو کچھ انہیں دنیا میں ہم دے رہے ہیں وہ تو صرف ذرا سی دیر کی مہلت ہے لیکن یہ بے شعور ہیں۔ یہ لوگ اصل تک پہنچے ہی نہیں۔ جیسے فرمان ہے۔ «فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَلَآ اَوْلَادُهُمْ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ» [ 9- التوبہ: 55 ] ، تجھے ان کے مال و اولاد دھوکے میں نہ ڈالیں اللہ کا ارادہ تو یہ ہے کہ اس سے انہیں دنیا میں عذاب کرے۔ اور آیت میں ہے «وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِّأَنفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ» [ 3-آل عمران: 178 ] یہ ڈھیل صرف اس لیے دی گئی ہے کہ وہ اپنے گناہوں میں اور بڑھ جائیں۔ اور جگہ ہے۔ مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح بتدریج پکڑیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہو۔ اور آیتوں میں فرمایا ہے «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَّمْدُودًا وَبَنِينَ شُهُودًا وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيدًا ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ كَلَّا إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا» [ 74- المدثر: 16-11 ] ، یعنی مجھے اور اسے چھوڑ دے جس کو میں نے تنہا پیدا کیا ہے اور بہ کثرت مال دیا ہے اور ہمہ وقت موجود فرزند دئیے ہیں اور سب طرح کا سامان اس لیے مہیا کر دیا ہے پھر اسے ہوس ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں، ہرگز نہیں وہ ہماری باتوں کا مخالف ہے اور آیت میں ہے۔ «وَمَآ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ بالَّتِيْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰٓي اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ۡ فَاُولٰىِٕكَ لَهُمْ جَزَاءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَهُمْ فِي الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ» [ 34- سبأ: 37 ] ، تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہیں مجھ سے قربت نہیں دے سکتیں مجھ سے قریب تو وہ ہے جو ایماندار اور نیک عمل ہو۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہی اللہ کا شکر ہے پس تم انسانوں کو مال اور اولاد سے نہ پرکھو بلکہ انسان کی کسوٹی ایمان اور نیک عمل ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے اخلاق بھی تم میں اسی طرح تقسیم کئے ہیں جس طرح روزیاں تقسیم فرمائی ہیں اللہ تعالیٰ دنیا تو اسے بھی دیتا ہے جس سے محبت رکھے اور اسے بھی دیتا ہے جس سے محبت نہ رکھے ہاں دین صرف اسی کو دیتا ہے جس سے پوری محبت رکھتا ہو پس جسے اللہ دین دے سمجھو کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھتا ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے بندہ مسلمان نہیں ہوتا جب تک کہ اس کا دل اور زبان مسلمان نہ ہو جائے اور بندہ مومن نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے پڑوسی اس کی ایذاؤں سے بے فکر نہ ہو جائیں۔ لوگوں نے پوچھا کہ ایذاؤں سے کیا مراد ہے؟ فرمایا دھوکے بازی، ظلم وغیرہ۔ سنو جو بندہ حرام مال حاصل کر لے اس کے خرچ میں برکت نہیں ہوتی اس کا صدقہ قبول نہیں ہوتا جو چھوڑ کر جاتا ہے وہ اس کا جہنم کا توشہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا ہاں برائی کو بھلائی سے رفع کرتا ہے۔ خبیث خبیث کو نہیں مٹاتا۔ [مسند احمد:378/1:ضعیف]
52-1اُ مَّۃ سے مراد دین ہے، اور ایک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سب انبیاء نے ایک اللہ کی عبادت ہی کی دعوت پیش کی ہے۔ لیکن لوگ دین توحید چھوڑ کر الگ الگ فرقوں میں بٹ گئے اور ہر گروہ اپنے عقیدہ و عمل پر خوش ہے، چاہے وہ حق سے کتنا بھی دور ہو۔
(آیت 52){ وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً …:} اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ انبیاء (۹۲)۔
مگر بعد میں لوگوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیا ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے اُسی میں وہ مگن ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر انہوں نے خود (ہی) اپنے امر (دین) کے آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیئے، ہر گروه جو کچھ اس کے پاس ہے اسی پر اترا رہا ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو ان کی امتوں نے اپنا کام آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیا ہر گروہ جو اس کے پاس ہے اس پر خوش ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
مگر ان لوگوں نے اپنے (دینی) معاملہ کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا پس ہر گروہ کے پاس جو (دین) ہے وہ اس پر خوش ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر وہ اپنے معاملے میں آپس میں کئی گروہ ہو کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ ہر گروہ کے لوگ اسی پربہت خوش ہیں جو ان کے پاس ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اکل حلال کی فضیلت ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے تمام انبیاء علیہ السلام کو حکم فرتا ہے کہ وہ حلال لقمہ کھائیں اور نیک اعمال بجالایا کریں پس ثابت ہوا کہ لقمہ حلال عمل صالحہ کا مددگار ہے پس انبیاء نے سب بھلائیاں جمع کر لیں، قول، فعل، دلالت، نصیحت، سب انہوں نے سمیٹ لی۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے سب بندوں کی طرف سے نیک بدلے دے۔ یہاں کوئی رنگت، مزہ بیان نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّـهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ» [ 2-البقرة: 172 ] حلال چیزیں کھاؤ۔ عیسیٰ علیہ السلام اپنی والدہ کے بُنّنے کی اجرت میں سے کھاتے تھے صحیح حدیث میں ہے کوئی نبی ایسا نہیں جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں لوگوں نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میں بھی چند قیراط پر اہل مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا؟ [صحیح بخاری:2262] اور حدیث میں ہے داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی محنت کا کھایا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:2072]
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اللہ کو سب سے زیادہ پسند روزہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے اور سب سے زیادہ پسندیدہ قیام داؤد علیہ السلام کا قیام ہے۔ آدھی رات سوتے تھے اور تہائی رات نماز تہجد پڑھتے تھے اور چھٹا حصے سوجاتے تھے اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہ رکھتے تھے میدان جنگ میں کبھی پیٹھ نہ دکھاتے۔ [صحیح بخاری:1131] ام عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ شام کے وقت بھیجا تاکہ آپ اس سے اپنا روزہ افطار کریں دن کا آخری حصہ تھا اور دھوپ کی تیزی تھی تو آپ نے قاصد کو واپس کر دیا اگر تیری بکری کا ہوتا تو خیر اور بات تھی۔ انہوں نے پیغام بھیجا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے یہ دودھ اپنے مال سے خرید کیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پی لیا دوسرے دن مائی صاحبہ حاضر خدمت ہو کر عرض کرتی ہیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس گرمی میں میں نے دودھ بھیجا، بہت دیر سے بھیجا تھا آپ نے میرے قاصد کو واپس کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں مجھے یہی فرمایا گیا ہے۔“انبیاء صرف حلال کھاتے ہیں اور صرف نیک عمل کرتے ہیں“، [طبرانی کبیر:174/25:ضعیف] اور حدیث میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو اللہ تعالیٰ پاک ہے وہ صرف پاک کو ہی قبول فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی وہی حکم دیا ہے جو رسول کو دیا ہے کہ اے رسولو! پاک چیز کھاؤ اور نیک کام کرو میں تمہارے اعمال کا عالم ہوں یہی حکم ایمان والوں کو دیا کہ اے ایماندارو! جو حلال چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ۔ پھر آپ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے پراگندہ بالوں والا غبار آلود چہرے والا ہوتا ہے لیکن کھانا پہننا حرام کا ہوتا ہے وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلا کر اے رب، اے رب کہتا ہے، لیکن ناممکن ہے کہ اس کی دعا قبول فرمائی جائے۔ [صحیح مسلم:1015] امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو حسن غریب بتلاتے ہیں۔ پھر فرمایا اے پیغمبرو تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے ایک ہی ملت ہے یعنی اللہ واحد لاشریک لہ کی عبادت کی طرف دعوت دینا۔ اسی لیے اسی کے بعد فرمایا کہ میں تمہارا رب ہوں۔ پس مجھ سے ڈرو۔ سورۃ انبیاء میں اس کی تفسیر وتشریح ہو چکی ہے آیت «وَإِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ» [ المومنون آیت 52 ] پر نصب حال ہونے کی وجہ ہے۔
جن امتوں کی طرف انبیاء علیہم السلام بھیجے گئے تھے انہوں نے اللہ کے دین کے ٹکڑے کر دئے اور جس گمراہی پر اڑ گئے اسی پر نازاں وفرحاں ہو گئے اس لیے کہ اپنے نزدیک اسی کو ہدایت سمجھ بیٹھے۔ پس بطور ڈانٹ کے فرمایا «فَمَهِّلِ الْكَافِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا» [ 86-الطارق: 17 ] اور آیت «ذَرْهُمْ يَأْكُلُوا وَيَتَمَتَّعُوا وَيُلْهِهِمُ الْأَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» [ 15-الحجر: 3 ] انہیں ان کے بہکنے بھٹکنے میں ہی چھوڑ دیجئیے یہاں تک کہ ان کی تباہی کا وقت آ جائے۔ کھانے پینے دیجئیے، مست وبے خود ہونے دیجئیے، ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا۔ «وَقَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ» [ 34-سبأ: 35 ] کیا یہ مغرور یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم جو مال و اولاد انہیں دے رہے ہیں وہ ان کی بھلائی اور نیکی کی وجہ سے ان کے ساتھ سلوک کر رہے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ یہ تو انہیں دھوکا لگا ہے یہ اس سے سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم جیسے یہاں خوش حال ہیں وہاں بھی بےسزا رہ جائیں گے یہ محض غلط ہے جو کچھ انہیں دنیا میں ہم دے رہے ہیں وہ تو صرف ذرا سی دیر کی مہلت ہے لیکن یہ بے شعور ہیں۔ یہ لوگ اصل تک پہنچے ہی نہیں۔ جیسے فرمان ہے۔ «فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَلَآ اَوْلَادُهُمْ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ» [ 9- التوبہ: 55 ] ، تجھے ان کے مال و اولاد دھوکے میں نہ ڈالیں اللہ کا ارادہ تو یہ ہے کہ اس سے انہیں دنیا میں عذاب کرے۔ اور آیت میں ہے «وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِّأَنفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ» [ 3-آل عمران: 178 ] یہ ڈھیل صرف اس لیے دی گئی ہے کہ وہ اپنے گناہوں میں اور بڑھ جائیں۔ اور جگہ ہے۔ مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح بتدریج پکڑیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہو۔ اور آیتوں میں فرمایا ہے «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَّمْدُودًا وَبَنِينَ شُهُودًا وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيدًا ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ كَلَّا إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا» [ 74- المدثر: 16-11 ] ، یعنی مجھے اور اسے چھوڑ دے جس کو میں نے تنہا پیدا کیا ہے اور بہ کثرت مال دیا ہے اور ہمہ وقت موجود فرزند دئیے ہیں اور سب طرح کا سامان اس لیے مہیا کر دیا ہے پھر اسے ہوس ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں، ہرگز نہیں وہ ہماری باتوں کا مخالف ہے اور آیت میں ہے۔ «وَمَآ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ بالَّتِيْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰٓي اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ۡ فَاُولٰىِٕكَ لَهُمْ جَزَاءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَهُمْ فِي الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ» [ 34- سبأ: 37 ] ، تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہیں مجھ سے قربت نہیں دے سکتیں مجھ سے قریب تو وہ ہے جو ایماندار اور نیک عمل ہو۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہی اللہ کا شکر ہے پس تم انسانوں کو مال اور اولاد سے نہ پرکھو بلکہ انسان کی کسوٹی ایمان اور نیک عمل ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے اخلاق بھی تم میں اسی طرح تقسیم کئے ہیں جس طرح روزیاں تقسیم فرمائی ہیں اللہ تعالیٰ دنیا تو اسے بھی دیتا ہے جس سے محبت رکھے اور اسے بھی دیتا ہے جس سے محبت نہ رکھے ہاں دین صرف اسی کو دیتا ہے جس سے پوری محبت رکھتا ہو پس جسے اللہ دین دے سمجھو کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھتا ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے بندہ مسلمان نہیں ہوتا جب تک کہ اس کا دل اور زبان مسلمان نہ ہو جائے اور بندہ مومن نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے پڑوسی اس کی ایذاؤں سے بے فکر نہ ہو جائیں۔ لوگوں نے پوچھا کہ ایذاؤں سے کیا مراد ہے؟ فرمایا دھوکے بازی، ظلم وغیرہ۔ سنو جو بندہ حرام مال حاصل کر لے اس کے خرچ میں برکت نہیں ہوتی اس کا صدقہ قبول نہیں ہوتا جو چھوڑ کر جاتا ہے وہ اس کا جہنم کا توشہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا ہاں برائی کو بھلائی سے رفع کرتا ہے۔ خبیث خبیث کو نہیں مٹاتا۔ [مسند احمد:378/1:ضعیف]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 53) ➊ { فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ زُبُرًا:} اصل دین تمام پیغمبروں کا ایک ہے، البتہ بعض وقتی احکام میں فرق ہو سکتا ہے۔ آدم علیہ السلام سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک سب کا دین اسلام ہے اور ان کے پیروکار سب امتِ مسلمہ ہیں۔ جس کے چند بنیادی اصول یہ ہیں: (1) توحید، یعنی عبادت صرف اللہ کی ہے، اس کے سوا کسی کی عبادت جائز نہیں۔ (2) قیامت، یعنی مرنے کے بعد سب کو اللہ کے حضور پیش ہونا ہے اور اپنے عمل کا بدلا پانا ہے۔ (3) اکل حلال، یعنی صرف حلال اور طیب کھانا کھانا ہے، حرام سے پوری طرح اجتناب کرنا ہے۔ (4) عمل صالح، یعنی ریا سے بچ کر خالص اللہ کے لیے رسول کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عمل کرنا ہے۔ ہر پیغمبر یہی اصول دین لے کر آیا، مگر لوگوں نے اصول دین ہی میں اختلاف کرکے سیکڑوں فرقے بنا لیے، مثلاً پہلے اصل توحید کو لے لیجیے، صرف ایک اللہ کی عبادت اور اسی سے استعانت کی جگہ کسی نے پیغمبر کو رب بنا لیا، کسی نے احبار و رہبان کو، کسی نے تین رب بنا لیے، کسی نے وحدت الوجود کا عقیدہ نکال لیا کہ ہر چیز میں رب ہے۔ کسی نے کہا، فلاں اللہ کا بیٹا ہے، کسی نے کہا، فلاں اللہ کے نور میں سے جدا شدہ نور ہے۔ کسی نے کہا، اللہ تعالیٰ بزرگوں اور ولیوں میں اتر آتا ہے۔ کسی نے کہا، بزرگ ترقی کرکے رب بن جاتے ہیں۔ اللہ کے سوا کئی ہستیوں کو عالم الغیب اور مختار کل تسلیم کیا گیا۔ حتیٰ کہ انسان نے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا، اپنے نفع و نقصان کو پتھروں، درختوں، مویشیوں، جن بھوتوں، قبروں اور آستانوں سے وابستہ کر دیا اور ان کے آگے سر جھکانے اور انھی سے مرادیں مانگنے لگا۔ پیغمبروں کی لائی ہوئی توحید پر بہت کم لوگ قائم رہے۔ دوسرا اصل قیامت پر ایمان ہے۔ بعض لوگوں نے دوبارہ جی اٹھنے ہی کا انکار کر دیا اور جنھوں نے اسے تسلیم کیا انھوں نے بھی اس کے تقاضوں کو نہ سمجھا۔ کسی نے کہا، ہم چونکہ انبیاء کی اولاد یا سادات ہیں، لہٰذا ہمیں عذاب کیسے ہو سکتا ہے؟ بعض لوگوں نے جبری سفارش کا عقیدہ وضع کر لیا کہ اگر فلاں مرشد کی بیعت کر لی جائے تو وہ شفاعت کرکے ہمیں چھڑا لیں گے۔ بعض نے یہی عقیدہ اپنے بتوں یا دیوتاؤں سے وابستہ کر لیا۔ نصاریٰ نے کفارے کا عقیدہ گھڑ لیا کہ مسیح علیہ السلام ہم گناہ گاروں کے کفارے کے طور پر سولی چڑھ گئے، اب ان کے نام لیواؤں کے سب گناہ معاف ہیں۔ بعض پادری حضرات اس دنیا ہی میں لوگوں سے رقمیں بٹور کر انھیں معافی نامے جاری کرنے لگے اور بعض لوگوں نے عقیدہ گھڑا کہ اگر فلاں قبر کے بہشتی دروازے کے نیچے سے عرس کے دن گزرا جائے تو یقینا نجات ہو جائے گی۔ سستی نجات کے ایسے سب عقیدے لغو اور باطل ہیں اور قرآن نے ایسے عقائد رکھنے والوں کو آخرت کے منکر یعنی کافر قرار دیا ہے۔ تیسرا اصل حلال و طیب کھانا تھا، اس میں بھی لوگوں نے افراط و تفریط کی راہ پیدا کر لی۔ راہبوں، جوگیوں اور بعض صوفیوں نے اپنے اوپر حلال اشیاء کو حرام قرار دے لیا اور بعض دوسروں نے حلال و حرام کی تمیز ہی ختم کر دی اور سود اور قوم لوط کے عمل جیسی حرام اشیاء کو، جنھیں ساری شریعتوں میں حرام قرار دیا جاتا رہا، حلال ثابت کرنے کی کوشش کی۔ بہت سے علماء و مشائخ، بتوں کے مہنتوں اور مقبروں اور مزاروں کے مجاوروں نے حلت و حرمت کے اختیارات خود سنبھال لیے۔ ایسے لوگوں کا تذکرہ قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔ چوتھا اصل عمل صالح ہے، غالباً اس اصل میں شرک سے بھی زیادہ فرقہ بازی ہوئی، دین کے بعض اصولی احکام کو مسخ کرکے بدعی عقائد و اعمال شامل کر دیے گئے اور ان باتوں کی اصل بنیاد حب جاہ و مال تھی۔ چنانچہ بے شمار سیاسی اور بدعی قسم کے فرقے وجود میں آ گئے، ہر فرقے نے اپنے پیشوا کی بات انبیاء کی بات کی طرح حرف آخر قرار دے دی۔ گویا اس سادہ اور مختصر سی اصولی تعلیم سے اختلاف کر کے لوگ جو فی الحقیقت ایک ہی امت تھے، سیکڑوں ہزاروں فرقوں میں بٹتے چلے گئے اور لطف کی بات یہ ہے کہ ان میں سے ہر فرقہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے اور اپنے علاوہ دوسرے فرقوں کو دوزخ کا ایندھن سمجھتا ہے، حالانکہ یہ اصولی تعلیم آج بھی موجود ہے اور اگر کوئی شخص یا کوئی فرقہ تعصب سے بالاتر ہو کر راہِ حق کو تلاش کرنا چاہے تو راہِ حق آج بھی ایسی چھپی ہوئی چیز نہیں جس کا سراغ نہ لگایا جا سکتا ہو۔ (تیسیرالقرآن از کیلانی رحمہ اللہ بتصرف) ➋ { كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ: ” فَرِحُوْنَ “} بہت خوش۔ یہ ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا لازمی نتیجہ ہے کہ جب کوئی شخص ہر حال میں اپنے گروہ کو قائم رکھنے پر اڑ جاتا ہے تو اس کے دل میں حقیقت کی تلاش کا جذبہ بھی ختم ہو جاتا ہے اور اسے اپنے دھڑے ہی کی ہر بات درست معلوم ہوتی ہے اور وہ اسی پر خوش رہتا ہے، خواہ کتنی غلط ہو اور دوسرے کی بات خواہ کتنی صحیح ہو اسے غلط معلوم ہوتی ہے۔ افسوس! مسلمان بھی خیر القرون کے بعد کتاب وسنت پر ایک جماعت رہنے کے بجائے فرقوں میں بٹ گئے۔ کچھ عقائدی فرقے، کچھ فقہی فرقے اور کچھ صوفی فرقے اور ہر ایک اپنے دھڑے پر اتنی سختی سے قائم ہے کہ اس کے مسلک کے خلاف قرآن مجید کی صریح آیت، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث بھی پیش کی جائے تو وہ یہ کہہ کر اسے ماننے سے انکار کر دے گا کہ کیا ہمارے بڑوں کو اس کا علم نہ تھا؟ اور اب یہ حال ہو گیا ہے کہ شاید مسیح علیہ السلام ہی اس امت کو کتاب و سنت پر جمع فرما سکیں گے۔
اچھا، تو چھوڑو انہیں، ڈوبے رہیں اپنی غفلت میں ایک وقت خاص تک
مولانا محمد جوناگڑھی
پس آپ (بھی) انہیں ان کی غفلت میں ہی کچھ مدت پڑا رہنے دیں
احمد رضا خان بریلوی
تو تم ان کو چھوڑ دو ان کے نشہ میں ایک وقت تک
علامہ محمد حسین نجفی
پس (اے رسول(ص)) آپ ان کو ایک خاص وقت تک اپنی غفلت و مدہوشی میں پڑا رہنے دیجئے۔
عبدالسلام بن محمد
سو تو انھیں ایک وقت تک ان کی غفلت میں رہنے دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اکل حلال کی فضیلت ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے تمام انبیاء علیہ السلام کو حکم فرتا ہے کہ وہ حلال لقمہ کھائیں اور نیک اعمال بجالایا کریں پس ثابت ہوا کہ لقمہ حلال عمل صالحہ کا مددگار ہے پس انبیاء نے سب بھلائیاں جمع کر لیں، قول، فعل، دلالت، نصیحت، سب انہوں نے سمیٹ لی۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے سب بندوں کی طرف سے نیک بدلے دے۔ یہاں کوئی رنگت، مزہ بیان نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّـهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ» [ 2-البقرة: 172 ] حلال چیزیں کھاؤ۔ عیسیٰ علیہ السلام اپنی والدہ کے بُنّنے کی اجرت میں سے کھاتے تھے صحیح حدیث میں ہے کوئی نبی ایسا نہیں جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں لوگوں نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میں بھی چند قیراط پر اہل مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا؟ [صحیح بخاری:2262] اور حدیث میں ہے داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی محنت کا کھایا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:2072]
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اللہ کو سب سے زیادہ پسند روزہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے اور سب سے زیادہ پسندیدہ قیام داؤد علیہ السلام کا قیام ہے۔ آدھی رات سوتے تھے اور تہائی رات نماز تہجد پڑھتے تھے اور چھٹا حصے سوجاتے تھے اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہ رکھتے تھے میدان جنگ میں کبھی پیٹھ نہ دکھاتے۔ [صحیح بخاری:1131] ام عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ شام کے وقت بھیجا تاکہ آپ اس سے اپنا روزہ افطار کریں دن کا آخری حصہ تھا اور دھوپ کی تیزی تھی تو آپ نے قاصد کو واپس کر دیا اگر تیری بکری کا ہوتا تو خیر اور بات تھی۔ انہوں نے پیغام بھیجا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے یہ دودھ اپنے مال سے خرید کیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پی لیا دوسرے دن مائی صاحبہ حاضر خدمت ہو کر عرض کرتی ہیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس گرمی میں میں نے دودھ بھیجا، بہت دیر سے بھیجا تھا آپ نے میرے قاصد کو واپس کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں مجھے یہی فرمایا گیا ہے۔“انبیاء صرف حلال کھاتے ہیں اور صرف نیک عمل کرتے ہیں“، [طبرانی کبیر:174/25:ضعیف] اور حدیث میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو اللہ تعالیٰ پاک ہے وہ صرف پاک کو ہی قبول فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی وہی حکم دیا ہے جو رسول کو دیا ہے کہ اے رسولو! پاک چیز کھاؤ اور نیک کام کرو میں تمہارے اعمال کا عالم ہوں یہی حکم ایمان والوں کو دیا کہ اے ایماندارو! جو حلال چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ۔ پھر آپ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے پراگندہ بالوں والا غبار آلود چہرے والا ہوتا ہے لیکن کھانا پہننا حرام کا ہوتا ہے وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلا کر اے رب، اے رب کہتا ہے، لیکن ناممکن ہے کہ اس کی دعا قبول فرمائی جائے۔ [صحیح مسلم:1015] امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو حسن غریب بتلاتے ہیں۔ پھر فرمایا اے پیغمبرو تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے ایک ہی ملت ہے یعنی اللہ واحد لاشریک لہ کی عبادت کی طرف دعوت دینا۔ اسی لیے اسی کے بعد فرمایا کہ میں تمہارا رب ہوں۔ پس مجھ سے ڈرو۔ سورۃ انبیاء میں اس کی تفسیر وتشریح ہو چکی ہے آیت «وَإِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ» [ المومنون آیت 52 ] پر نصب حال ہونے کی وجہ ہے۔
جن امتوں کی طرف انبیاء علیہم السلام بھیجے گئے تھے انہوں نے اللہ کے دین کے ٹکڑے کر دئے اور جس گمراہی پر اڑ گئے اسی پر نازاں وفرحاں ہو گئے اس لیے کہ اپنے نزدیک اسی کو ہدایت سمجھ بیٹھے۔ پس بطور ڈانٹ کے فرمایا «فَمَهِّلِ الْكَافِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا» [ 86-الطارق: 17 ] اور آیت «ذَرْهُمْ يَأْكُلُوا وَيَتَمَتَّعُوا وَيُلْهِهِمُ الْأَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» [ 15-الحجر: 3 ] انہیں ان کے بہکنے بھٹکنے میں ہی چھوڑ دیجئیے یہاں تک کہ ان کی تباہی کا وقت آ جائے۔ کھانے پینے دیجئیے، مست وبے خود ہونے دیجئیے، ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا۔ «وَقَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ» [ 34-سبأ: 35 ] کیا یہ مغرور یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم جو مال و اولاد انہیں دے رہے ہیں وہ ان کی بھلائی اور نیکی کی وجہ سے ان کے ساتھ سلوک کر رہے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ یہ تو انہیں دھوکا لگا ہے یہ اس سے سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم جیسے یہاں خوش حال ہیں وہاں بھی بےسزا رہ جائیں گے یہ محض غلط ہے جو کچھ انہیں دنیا میں ہم دے رہے ہیں وہ تو صرف ذرا سی دیر کی مہلت ہے لیکن یہ بے شعور ہیں۔ یہ لوگ اصل تک پہنچے ہی نہیں۔ جیسے فرمان ہے۔ «فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَلَآ اَوْلَادُهُمْ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ» [ 9- التوبہ: 55 ] ، تجھے ان کے مال و اولاد دھوکے میں نہ ڈالیں اللہ کا ارادہ تو یہ ہے کہ اس سے انہیں دنیا میں عذاب کرے۔ اور آیت میں ہے «وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِّأَنفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ» [ 3-آل عمران: 178 ] یہ ڈھیل صرف اس لیے دی گئی ہے کہ وہ اپنے گناہوں میں اور بڑھ جائیں۔ اور جگہ ہے۔ مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح بتدریج پکڑیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہو۔ اور آیتوں میں فرمایا ہے «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَّمْدُودًا وَبَنِينَ شُهُودًا وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيدًا ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ كَلَّا إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا» [ 74- المدثر: 16-11 ] ، یعنی مجھے اور اسے چھوڑ دے جس کو میں نے تنہا پیدا کیا ہے اور بہ کثرت مال دیا ہے اور ہمہ وقت موجود فرزند دئیے ہیں اور سب طرح کا سامان اس لیے مہیا کر دیا ہے پھر اسے ہوس ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں، ہرگز نہیں وہ ہماری باتوں کا مخالف ہے اور آیت میں ہے۔ «وَمَآ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ بالَّتِيْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰٓي اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ۡ فَاُولٰىِٕكَ لَهُمْ جَزَاءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَهُمْ فِي الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ» [ 34- سبأ: 37 ] ، تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہیں مجھ سے قربت نہیں دے سکتیں مجھ سے قریب تو وہ ہے جو ایماندار اور نیک عمل ہو۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہی اللہ کا شکر ہے پس تم انسانوں کو مال اور اولاد سے نہ پرکھو بلکہ انسان کی کسوٹی ایمان اور نیک عمل ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے اخلاق بھی تم میں اسی طرح تقسیم کئے ہیں جس طرح روزیاں تقسیم فرمائی ہیں اللہ تعالیٰ دنیا تو اسے بھی دیتا ہے جس سے محبت رکھے اور اسے بھی دیتا ہے جس سے محبت نہ رکھے ہاں دین صرف اسی کو دیتا ہے جس سے پوری محبت رکھتا ہو پس جسے اللہ دین دے سمجھو کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھتا ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے بندہ مسلمان نہیں ہوتا جب تک کہ اس کا دل اور زبان مسلمان نہ ہو جائے اور بندہ مومن نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے پڑوسی اس کی ایذاؤں سے بے فکر نہ ہو جائیں۔ لوگوں نے پوچھا کہ ایذاؤں سے کیا مراد ہے؟ فرمایا دھوکے بازی، ظلم وغیرہ۔ سنو جو بندہ حرام مال حاصل کر لے اس کے خرچ میں برکت نہیں ہوتی اس کا صدقہ قبول نہیں ہوتا جو چھوڑ کر جاتا ہے وہ اس کا جہنم کا توشہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا ہاں برائی کو بھلائی سے رفع کرتا ہے۔ خبیث خبیث کو نہیں مٹاتا۔ [مسند احمد:378/1:ضعیف]
54-1گمراہی کی تاریکیاں بھی اتنی گمبھیر ہوتی ہیں کہ اس میں گھرے ہوئے انسان کی نظروں سے حق اوجھل ہی رہتا ہے عمرۃ، حیرت، غفلت اور ضلالت ہے۔ آیت میں بطور دھمکی ان کو چھوڑنے کا حکم ہے، مقصود وعظ و نصیحت سے روکنا نہیں ہے۔
(آیت 54){ فَذَرْهُمْ فِيْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِيْنٍ:} یعنی ایسے متعصب اور ہٹ دھرم لوگ جو راہِ راست کی طرف آنا پسند ہی نہیں کرتے اور اپنے حال ہی پر خوش ہیں، انھیں ان کے حال ہی پر رہنے دیجیے، ایک وقت آنے والا ہے جب انھیں سب حقیقت پوری طرح معلوم ہو جائے گی۔
کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو انہیں مال و اولاد سے مدد دیے جا رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا یہ (یوں) سمجھ بیٹھے ہیں؟ کہ ہم جو بھی ان کے مال و اوﻻد بڑھا رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا یہ خیال کررہے ہیں کہ وہ جو ہم ان کی مدد کررہے ہیں مال اور بیٹوں سے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم جو مال و اولاد (کی فراوانی) سے ان کی امداد کر رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم مال اور بیٹوں میں سے جن چیزوں کے ساتھ ان کی مدد کر رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اکل حلال کی فضیلت ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے تمام انبیاء علیہ السلام کو حکم فرتا ہے کہ وہ حلال لقمہ کھائیں اور نیک اعمال بجالایا کریں پس ثابت ہوا کہ لقمہ حلال عمل صالحہ کا مددگار ہے پس انبیاء نے سب بھلائیاں جمع کر لیں، قول، فعل، دلالت، نصیحت، سب انہوں نے سمیٹ لی۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے سب بندوں کی طرف سے نیک بدلے دے۔ یہاں کوئی رنگت، مزہ بیان نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّـهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ» [ 2-البقرة: 172 ] حلال چیزیں کھاؤ۔ عیسیٰ علیہ السلام اپنی والدہ کے بُنّنے کی اجرت میں سے کھاتے تھے صحیح حدیث میں ہے کوئی نبی ایسا نہیں جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں لوگوں نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میں بھی چند قیراط پر اہل مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا؟ [صحیح بخاری:2262] اور حدیث میں ہے داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی محنت کا کھایا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:2072]
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اللہ کو سب سے زیادہ پسند روزہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے اور سب سے زیادہ پسندیدہ قیام داؤد علیہ السلام کا قیام ہے۔ آدھی رات سوتے تھے اور تہائی رات نماز تہجد پڑھتے تھے اور چھٹا حصے سوجاتے تھے اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہ رکھتے تھے میدان جنگ میں کبھی پیٹھ نہ دکھاتے۔ [صحیح بخاری:1131] ام عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ شام کے وقت بھیجا تاکہ آپ اس سے اپنا روزہ افطار کریں دن کا آخری حصہ تھا اور دھوپ کی تیزی تھی تو آپ نے قاصد کو واپس کر دیا اگر تیری بکری کا ہوتا تو خیر اور بات تھی۔ انہوں نے پیغام بھیجا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے یہ دودھ اپنے مال سے خرید کیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پی لیا دوسرے دن مائی صاحبہ حاضر خدمت ہو کر عرض کرتی ہیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس گرمی میں میں نے دودھ بھیجا، بہت دیر سے بھیجا تھا آپ نے میرے قاصد کو واپس کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں مجھے یہی فرمایا گیا ہے۔“انبیاء صرف حلال کھاتے ہیں اور صرف نیک عمل کرتے ہیں“، [طبرانی کبیر:174/25:ضعیف] اور حدیث میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو اللہ تعالیٰ پاک ہے وہ صرف پاک کو ہی قبول فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی وہی حکم دیا ہے جو رسول کو دیا ہے کہ اے رسولو! پاک چیز کھاؤ اور نیک کام کرو میں تمہارے اعمال کا عالم ہوں یہی حکم ایمان والوں کو دیا کہ اے ایماندارو! جو حلال چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ۔ پھر آپ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے پراگندہ بالوں والا غبار آلود چہرے والا ہوتا ہے لیکن کھانا پہننا حرام کا ہوتا ہے وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلا کر اے رب، اے رب کہتا ہے، لیکن ناممکن ہے کہ اس کی دعا قبول فرمائی جائے۔ [صحیح مسلم:1015] امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو حسن غریب بتلاتے ہیں۔ پھر فرمایا اے پیغمبرو تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے ایک ہی ملت ہے یعنی اللہ واحد لاشریک لہ کی عبادت کی طرف دعوت دینا۔ اسی لیے اسی کے بعد فرمایا کہ میں تمہارا رب ہوں۔ پس مجھ سے ڈرو۔ سورۃ انبیاء میں اس کی تفسیر وتشریح ہو چکی ہے آیت «وَإِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ» [ المومنون آیت 52 ] پر نصب حال ہونے کی وجہ ہے۔
جن امتوں کی طرف انبیاء علیہم السلام بھیجے گئے تھے انہوں نے اللہ کے دین کے ٹکڑے کر دئے اور جس گمراہی پر اڑ گئے اسی پر نازاں وفرحاں ہو گئے اس لیے کہ اپنے نزدیک اسی کو ہدایت سمجھ بیٹھے۔ پس بطور ڈانٹ کے فرمایا «فَمَهِّلِ الْكَافِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا» [ 86-الطارق: 17 ] اور آیت «ذَرْهُمْ يَأْكُلُوا وَيَتَمَتَّعُوا وَيُلْهِهِمُ الْأَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» [ 15-الحجر: 3 ] انہیں ان کے بہکنے بھٹکنے میں ہی چھوڑ دیجئیے یہاں تک کہ ان کی تباہی کا وقت آ جائے۔ کھانے پینے دیجئیے، مست وبے خود ہونے دیجئیے، ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا۔ «وَقَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ» [ 34-سبأ: 35 ] کیا یہ مغرور یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم جو مال و اولاد انہیں دے رہے ہیں وہ ان کی بھلائی اور نیکی کی وجہ سے ان کے ساتھ سلوک کر رہے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ یہ تو انہیں دھوکا لگا ہے یہ اس سے سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم جیسے یہاں خوش حال ہیں وہاں بھی بےسزا رہ جائیں گے یہ محض غلط ہے جو کچھ انہیں دنیا میں ہم دے رہے ہیں وہ تو صرف ذرا سی دیر کی مہلت ہے لیکن یہ بے شعور ہیں۔ یہ لوگ اصل تک پہنچے ہی نہیں۔ جیسے فرمان ہے۔ «فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَلَآ اَوْلَادُهُمْ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ» [ 9- التوبہ: 55 ] ، تجھے ان کے مال و اولاد دھوکے میں نہ ڈالیں اللہ کا ارادہ تو یہ ہے کہ اس سے انہیں دنیا میں عذاب کرے۔ اور آیت میں ہے «وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِّأَنفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ» [ 3-آل عمران: 178 ] یہ ڈھیل صرف اس لیے دی گئی ہے کہ وہ اپنے گناہوں میں اور بڑھ جائیں۔ اور جگہ ہے۔ مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح بتدریج پکڑیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہو۔ اور آیتوں میں فرمایا ہے «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَّمْدُودًا وَبَنِينَ شُهُودًا وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيدًا ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ كَلَّا إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا» [ 74- المدثر: 16-11 ] ، یعنی مجھے اور اسے چھوڑ دے جس کو میں نے تنہا پیدا کیا ہے اور بہ کثرت مال دیا ہے اور ہمہ وقت موجود فرزند دئیے ہیں اور سب طرح کا سامان اس لیے مہیا کر دیا ہے پھر اسے ہوس ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں، ہرگز نہیں وہ ہماری باتوں کا مخالف ہے اور آیت میں ہے۔ «وَمَآ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ بالَّتِيْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰٓي اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ۡ فَاُولٰىِٕكَ لَهُمْ جَزَاءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَهُمْ فِي الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ» [ 34- سبأ: 37 ] ، تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہیں مجھ سے قربت نہیں دے سکتیں مجھ سے قریب تو وہ ہے جو ایماندار اور نیک عمل ہو۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہی اللہ کا شکر ہے پس تم انسانوں کو مال اور اولاد سے نہ پرکھو بلکہ انسان کی کسوٹی ایمان اور نیک عمل ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے اخلاق بھی تم میں اسی طرح تقسیم کئے ہیں جس طرح روزیاں تقسیم فرمائی ہیں اللہ تعالیٰ دنیا تو اسے بھی دیتا ہے جس سے محبت رکھے اور اسے بھی دیتا ہے جس سے محبت نہ رکھے ہاں دین صرف اسی کو دیتا ہے جس سے پوری محبت رکھتا ہو پس جسے اللہ دین دے سمجھو کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھتا ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے بندہ مسلمان نہیں ہوتا جب تک کہ اس کا دل اور زبان مسلمان نہ ہو جائے اور بندہ مومن نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے پڑوسی اس کی ایذاؤں سے بے فکر نہ ہو جائیں۔ لوگوں نے پوچھا کہ ایذاؤں سے کیا مراد ہے؟ فرمایا دھوکے بازی، ظلم وغیرہ۔ سنو جو بندہ حرام مال حاصل کر لے اس کے خرچ میں برکت نہیں ہوتی اس کا صدقہ قبول نہیں ہوتا جو چھوڑ کر جاتا ہے وہ اس کا جہنم کا توشہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا ہاں برائی کو بھلائی سے رفع کرتا ہے۔ خبیث خبیث کو نہیں مٹاتا۔ [مسند احمد:378/1:ضعیف]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 56،55) ➊ {اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ …: ” اَنَّمَا “} یہاں اکٹھا لفظ نہیں بلکہ {”أَنَّ“} اور {”مَا“} (بمعنی {اَلَّذِيْ}) الگ الگ لفظ ہیں، قرآن کے رسم الخط میں انھیں اکٹھا لکھ دیا گیا ہے، معنی ہے ”کہ وہ چیزیں جو۔“ ➋ ہر گروہ کے اپنے حال پر بہت خوش رہنے کا سبب چونکہ انھیں لگنے والا دھوکا تھا کہ خوش حالی اور مال و اولاد کی کثرت اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی دلیل ہے، چنانچہ کفار کہا کرتے تھے کہ ہم اموال و اولاد میں زیادہ ہیں اور ہمیں کسی صورت عذاب نہیں ہو گا۔ دیکھیے سورۂ سبا (۳۵) اور کہف (۳۴ تا ۳۶) اس لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تنبیہ کے لیے اس کا رد فرمایا۔ ➌ { بَلْ لَّا يَشْعُرُوْنَ:} یعنی ان کا یہ گمان درست نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انھیں شعور ہی نہیں کہ مال و اولاد کی یہ فراوانی انھیں مہلت دینے کے لیے اور ان پر حجت تمام کرنے کے لیے ہے کہ جس قدر انھیں ڈھیل ملے اسی قدر ان کے گناہوں کا پیمانہ اور لبریز ہو اور پھر بھرپور طریقے سے ان پر گرفت کی جائے۔ اہل علم فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں میں کمی محسوس نہ کرے وہ فکر کر لے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسی دراز کی جا رہی ہے۔
تو گویا انہیں بھلائیاں دینے میں سرگرم ہیں؟ نہیں، اصل معاملے کا انہیں شعور نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه ان کے لئے بھلائیوں میں جلدی کر رہے ہیں (نہیں نہیں) بلکہ یہ سمجھتے ہی نہیں
احمد رضا خان بریلوی
یہ جلد جلد ان کو بھلائیاں دیتے ہیں بلکہ انہیں خبر نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
تو ہم ان کے ساتھ بھلائیاں کرنے میں جلدی کر رہے ہیں؟ (ایسا نہیں) بلکہ انہیں (اصل حقیقت کا) شعور نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
(ان کے ذریعے)ہم انھیں بھلائیاں دینے میں جلدی کر رہے ہیں، بلکہ وہ نہیں سمجھتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اکل حلال کی فضیلت ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے تمام انبیاء علیہ السلام کو حکم فرتا ہے کہ وہ حلال لقمہ کھائیں اور نیک اعمال بجالایا کریں پس ثابت ہوا کہ لقمہ حلال عمل صالحہ کا مددگار ہے پس انبیاء نے سب بھلائیاں جمع کر لیں، قول، فعل، دلالت، نصیحت، سب انہوں نے سمیٹ لی۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے سب بندوں کی طرف سے نیک بدلے دے۔ یہاں کوئی رنگت، مزہ بیان نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّـهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ» [ 2-البقرة: 172 ] حلال چیزیں کھاؤ۔ عیسیٰ علیہ السلام اپنی والدہ کے بُنّنے کی اجرت میں سے کھاتے تھے صحیح حدیث میں ہے کوئی نبی ایسا نہیں جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں لوگوں نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میں بھی چند قیراط پر اہل مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا؟ [صحیح بخاری:2262] اور حدیث میں ہے داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی محنت کا کھایا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:2072]
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اللہ کو سب سے زیادہ پسند روزہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے اور سب سے زیادہ پسندیدہ قیام داؤد علیہ السلام کا قیام ہے۔ آدھی رات سوتے تھے اور تہائی رات نماز تہجد پڑھتے تھے اور چھٹا حصے سوجاتے تھے اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہ رکھتے تھے میدان جنگ میں کبھی پیٹھ نہ دکھاتے۔ [صحیح بخاری:1131] ام عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ شام کے وقت بھیجا تاکہ آپ اس سے اپنا روزہ افطار کریں دن کا آخری حصہ تھا اور دھوپ کی تیزی تھی تو آپ نے قاصد کو واپس کر دیا اگر تیری بکری کا ہوتا تو خیر اور بات تھی۔ انہوں نے پیغام بھیجا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے یہ دودھ اپنے مال سے خرید کیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پی لیا دوسرے دن مائی صاحبہ حاضر خدمت ہو کر عرض کرتی ہیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس گرمی میں میں نے دودھ بھیجا، بہت دیر سے بھیجا تھا آپ نے میرے قاصد کو واپس کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں مجھے یہی فرمایا گیا ہے۔“انبیاء صرف حلال کھاتے ہیں اور صرف نیک عمل کرتے ہیں“، [طبرانی کبیر:174/25:ضعیف] اور حدیث میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو اللہ تعالیٰ پاک ہے وہ صرف پاک کو ہی قبول فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی وہی حکم دیا ہے جو رسول کو دیا ہے کہ اے رسولو! پاک چیز کھاؤ اور نیک کام کرو میں تمہارے اعمال کا عالم ہوں یہی حکم ایمان والوں کو دیا کہ اے ایماندارو! جو حلال چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ۔ پھر آپ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے پراگندہ بالوں والا غبار آلود چہرے والا ہوتا ہے لیکن کھانا پہننا حرام کا ہوتا ہے وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلا کر اے رب، اے رب کہتا ہے، لیکن ناممکن ہے کہ اس کی دعا قبول فرمائی جائے۔ [صحیح مسلم:1015] امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو حسن غریب بتلاتے ہیں۔ پھر فرمایا اے پیغمبرو تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے ایک ہی ملت ہے یعنی اللہ واحد لاشریک لہ کی عبادت کی طرف دعوت دینا۔ اسی لیے اسی کے بعد فرمایا کہ میں تمہارا رب ہوں۔ پس مجھ سے ڈرو۔ سورۃ انبیاء میں اس کی تفسیر وتشریح ہو چکی ہے آیت «وَإِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ» [ المومنون آیت 52 ] پر نصب حال ہونے کی وجہ ہے۔
جن امتوں کی طرف انبیاء علیہم السلام بھیجے گئے تھے انہوں نے اللہ کے دین کے ٹکڑے کر دئے اور جس گمراہی پر اڑ گئے اسی پر نازاں وفرحاں ہو گئے اس لیے کہ اپنے نزدیک اسی کو ہدایت سمجھ بیٹھے۔ پس بطور ڈانٹ کے فرمایا «فَمَهِّلِ الْكَافِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا» [ 86-الطارق: 17 ] اور آیت «ذَرْهُمْ يَأْكُلُوا وَيَتَمَتَّعُوا وَيُلْهِهِمُ الْأَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» [ 15-الحجر: 3 ] انہیں ان کے بہکنے بھٹکنے میں ہی چھوڑ دیجئیے یہاں تک کہ ان کی تباہی کا وقت آ جائے۔ کھانے پینے دیجئیے، مست وبے خود ہونے دیجئیے، ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا۔ «وَقَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ» [ 34-سبأ: 35 ] کیا یہ مغرور یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم جو مال و اولاد انہیں دے رہے ہیں وہ ان کی بھلائی اور نیکی کی وجہ سے ان کے ساتھ سلوک کر رہے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ یہ تو انہیں دھوکا لگا ہے یہ اس سے سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم جیسے یہاں خوش حال ہیں وہاں بھی بےسزا رہ جائیں گے یہ محض غلط ہے جو کچھ انہیں دنیا میں ہم دے رہے ہیں وہ تو صرف ذرا سی دیر کی مہلت ہے لیکن یہ بے شعور ہیں۔ یہ لوگ اصل تک پہنچے ہی نہیں۔ جیسے فرمان ہے۔ «فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَلَآ اَوْلَادُهُمْ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ» [ 9- التوبہ: 55 ] ، تجھے ان کے مال و اولاد دھوکے میں نہ ڈالیں اللہ کا ارادہ تو یہ ہے کہ اس سے انہیں دنیا میں عذاب کرے۔ اور آیت میں ہے «وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِّأَنفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ» [ 3-آل عمران: 178 ] یہ ڈھیل صرف اس لیے دی گئی ہے کہ وہ اپنے گناہوں میں اور بڑھ جائیں۔ اور جگہ ہے۔ مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح بتدریج پکڑیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہو۔ اور آیتوں میں فرمایا ہے «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَّمْدُودًا وَبَنِينَ شُهُودًا وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيدًا ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ كَلَّا إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا» [ 74- المدثر: 16-11 ] ، یعنی مجھے اور اسے چھوڑ دے جس کو میں نے تنہا پیدا کیا ہے اور بہ کثرت مال دیا ہے اور ہمہ وقت موجود فرزند دئیے ہیں اور سب طرح کا سامان اس لیے مہیا کر دیا ہے پھر اسے ہوس ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں، ہرگز نہیں وہ ہماری باتوں کا مخالف ہے اور آیت میں ہے۔ «وَمَآ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ بالَّتِيْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰٓي اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ۡ فَاُولٰىِٕكَ لَهُمْ جَزَاءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَهُمْ فِي الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ» [ 34- سبأ: 37 ] ، تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہیں مجھ سے قربت نہیں دے سکتیں مجھ سے قریب تو وہ ہے جو ایماندار اور نیک عمل ہو۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہی اللہ کا شکر ہے پس تم انسانوں کو مال اور اولاد سے نہ پرکھو بلکہ انسان کی کسوٹی ایمان اور نیک عمل ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے اخلاق بھی تم میں اسی طرح تقسیم کئے ہیں جس طرح روزیاں تقسیم فرمائی ہیں اللہ تعالیٰ دنیا تو اسے بھی دیتا ہے جس سے محبت رکھے اور اسے بھی دیتا ہے جس سے محبت نہ رکھے ہاں دین صرف اسی کو دیتا ہے جس سے پوری محبت رکھتا ہو پس جسے اللہ دین دے سمجھو کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھتا ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے بندہ مسلمان نہیں ہوتا جب تک کہ اس کا دل اور زبان مسلمان نہ ہو جائے اور بندہ مومن نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے پڑوسی اس کی ایذاؤں سے بے فکر نہ ہو جائیں۔ لوگوں نے پوچھا کہ ایذاؤں سے کیا مراد ہے؟ فرمایا دھوکے بازی، ظلم وغیرہ۔ سنو جو بندہ حرام مال حاصل کر لے اس کے خرچ میں برکت نہیں ہوتی اس کا صدقہ قبول نہیں ہوتا جو چھوڑ کر جاتا ہے وہ اس کا جہنم کا توشہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا ہاں برائی کو بھلائی سے رفع کرتا ہے۔ خبیث خبیث کو نہیں مٹاتا۔ [مسند احمد:378/1:ضعیف]
فرمان ہے کہ احسان اور ایمان کے ساتھ ہی ساتھ نیک اعمال اور پھر اللہ کی ہیبت سے تھرتھرانا اور کانپتے رہنا یہ ان کی صفت ہے۔ یہ ان کی صفت ہے حضرت حسن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مومن نیکی اور خوف الٰہی کا مجموعہ ہوتا ہے۔ منافق برائی کے ساتھ نڈر اور بے خوف ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی شرعی اور فطری آیات اور نشانیوں پر یقین رکھتے ہیں جیسے مریم علیہا السلام کا وصف بیان ہوا ہے کہ «وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ» [ 66-التحريم: 12 ] وہ اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کا یقین رکھتی تھیں اللہ کی قدرت قضاء اور شرع کا انہیں کامل یقین تھا۔ اللہ کے ہر امر کو وہ محبوب رکھتے ہیں اللہ کے منع کردہ ہرکام کو وہ ناپسند رکھتے ہیں، ہرخبر کو وہ سچ مانتے ہیں وہ موحد ہوتے ہیں شرک سے بیزار رہتے ہیں، اللہ کو واحد اور بے نیاز جانتے ہیں اسے بے اولاد اور بیوی کے بغیر مانتے ہیں، بے نظیر اور بے کفو سمجھتے ہیں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اللہ کے نام پر خیراتیں کرتے ہیں لیکن خوف زدہ رہتے ہیں کہ ایسا نہ ہو قبول نہ ہوئی ہو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضور اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا یہ وہ لوگ ہیں جن سے زنا، چوری، اور شراب خواری ہو جاتی ہے؟ لیکن ان کے دل میں خوف الٰہی ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے صدیق کی لڑکی یہ نہیں بلکہ یہ وہ ہیں جو نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، صدقے کرتے ہیں، لیکن قبول نہ ہونے سے ڈرتے ہیں، یہی ہیں جو نیکیوں میں سبقت کرتے ہیں۔ [سنن ترمذي:3175،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس آیت کی دوسری قرأت «یاتون ما اتوا» بھی ہے یعنی کرتے ہیں جو کرتے ہیں لیکن دل ان کے ڈرتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ابو عاصم گئے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے مرحبا کہا اور کہا برابر آتے کیوں نہیں ہو؟ جواب دیا اس لیے کہ کہیں آپ کو تکلیف نہ ہو لیکن آج میں ایک آیت «وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 60 ] کے الفاظ کی تحقیق کے لیے حاضر ہوا ہوں آیت «یوتون ما اتوا» ہیں یا «یاتون مااتوا» ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا ہونا تمہارے لیے مناسب ہے میں نے کہا آخر کے الفاظ اگر ہوں تو گویا میں نے ساری دنیا پالی۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ خوشی مجھے ہو گی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم خوش ہو جاؤ۔ واللہ میں نے اسی طرح انہی الفاظ کو پڑھتے ہوئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے۔ [مسند احمد:95/6:ضعیف] اس کا ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ضعیف ہے۔ ساتوں مشہور قرأتوں اور جمہور کی قرأت میں وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے اور معنی کی رو سے بھی زیادہ ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ انہیں سابق قرار دیا ہے اور اگر دوسری قرأت کو لیں تو یہ سابق نہیں بلکہ ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 57) ➊ {اِنَّ الَّذِيْنَ هُمْ مِّنْ خَشْيَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَ:”إِشْفَاقٌ “} کا معنی ہے متوقع چیز کا شدید خوف اور {”وَجِلٌ“} بروزن {”فَزِعٌ“} کا معنی ہے، سخت ڈرنے والا۔ اس سے پہلے غفلت میں مبتلا ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کے ہاں کفر و فسق کے باوجود مال اور بیٹوں کی فراوانی ہوتی جاتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم پر خوش ہے، تبھی یہ سب کچھ ہمیں دے رہا ہے۔ اب ان کے مقابلے میں مخلص و مومن بندوں کا ذکر ہے، جو کمال ایمان و عمل کے باوجود عجب اور خود پسندی سے محفوظ ہیں اور ہر وقت اس بات سے خوف زدہ رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ کیا خبر اس کی جناب میں ہمارے عمل قبول ہوتے ہیں یا نہیں۔ ➋ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلص مومن بندوں کی چار صفات بیان فرمائی ہیں، پہلی یہ کہ وہ اپنے رب سے بہت ڈرنے والے ہیں کہ وہ ناراض نہ ہو جائے۔ واضح رہے کہ اہل ایمان کا اپنے رب سے یہ خوف اس قسم کا نہیں ہوتا جیسے کسی جابر و ظالم بے رحم سے ہوتا ہے، بلکہ وہ اسے اپنا رب یعنی ہر نعمت عطا کرنے والا سمجھ کر اس کے ساتھ انتہائی محبت کے ساتھ ساتھ اس کی ناراضی کے خطرے سے انتہائی خوف بھی رکھتے ہیں۔
فرمان ہے کہ احسان اور ایمان کے ساتھ ہی ساتھ نیک اعمال اور پھر اللہ کی ہیبت سے تھرتھرانا اور کانپتے رہنا یہ ان کی صفت ہے۔ یہ ان کی صفت ہے حضرت حسن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مومن نیکی اور خوف الٰہی کا مجموعہ ہوتا ہے۔ منافق برائی کے ساتھ نڈر اور بے خوف ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی شرعی اور فطری آیات اور نشانیوں پر یقین رکھتے ہیں جیسے مریم علیہا السلام کا وصف بیان ہوا ہے کہ «وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ» [ 66-التحريم: 12 ] وہ اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کا یقین رکھتی تھیں اللہ کی قدرت قضاء اور شرع کا انہیں کامل یقین تھا۔ اللہ کے ہر امر کو وہ محبوب رکھتے ہیں اللہ کے منع کردہ ہرکام کو وہ ناپسند رکھتے ہیں، ہرخبر کو وہ سچ مانتے ہیں وہ موحد ہوتے ہیں شرک سے بیزار رہتے ہیں، اللہ کو واحد اور بے نیاز جانتے ہیں اسے بے اولاد اور بیوی کے بغیر مانتے ہیں، بے نظیر اور بے کفو سمجھتے ہیں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اللہ کے نام پر خیراتیں کرتے ہیں لیکن خوف زدہ رہتے ہیں کہ ایسا نہ ہو قبول نہ ہوئی ہو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضور اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا یہ وہ لوگ ہیں جن سے زنا، چوری، اور شراب خواری ہو جاتی ہے؟ لیکن ان کے دل میں خوف الٰہی ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے صدیق کی لڑکی یہ نہیں بلکہ یہ وہ ہیں جو نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، صدقے کرتے ہیں، لیکن قبول نہ ہونے سے ڈرتے ہیں، یہی ہیں جو نیکیوں میں سبقت کرتے ہیں۔ [سنن ترمذي:3175،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس آیت کی دوسری قرأت «یاتون ما اتوا» بھی ہے یعنی کرتے ہیں جو کرتے ہیں لیکن دل ان کے ڈرتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ابو عاصم گئے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے مرحبا کہا اور کہا برابر آتے کیوں نہیں ہو؟ جواب دیا اس لیے کہ کہیں آپ کو تکلیف نہ ہو لیکن آج میں ایک آیت «وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 60 ] کے الفاظ کی تحقیق کے لیے حاضر ہوا ہوں آیت «یوتون ما اتوا» ہیں یا «یاتون مااتوا» ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا ہونا تمہارے لیے مناسب ہے میں نے کہا آخر کے الفاظ اگر ہوں تو گویا میں نے ساری دنیا پالی۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ خوشی مجھے ہو گی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم خوش ہو جاؤ۔ واللہ میں نے اسی طرح انہی الفاظ کو پڑھتے ہوئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے۔ [مسند احمد:95/6:ضعیف] اس کا ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ضعیف ہے۔ ساتوں مشہور قرأتوں اور جمہور کی قرأت میں وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے اور معنی کی رو سے بھی زیادہ ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ انہیں سابق قرار دیا ہے اور اگر دوسری قرأت کو لیں تو یہ سابق نہیں بلکہ ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 58){ وَ الَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُوْنَ:} دوسری صفت یہ کہ وہ اپنے رب کی آیات پر ایسا یقین رکھتے ہیں جو شک سے پاک ہے۔ چنانچہ وہ یقین انھیں اس کی اطاعت کا پابند کرتا ہے اور اس کی نافرمانی سے باز رکھتا ہے۔
اور جو اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ جو اپنے رب کے ساتھ شریک نہیں کرتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مؤمن کی تعریف ٭٭
فرمان ہے کہ احسان اور ایمان کے ساتھ ہی ساتھ نیک اعمال اور پھر اللہ کی ہیبت سے تھرتھرانا اور کانپتے رہنا یہ ان کی صفت ہے۔ یہ ان کی صفت ہے حضرت حسن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مومن نیکی اور خوف الٰہی کا مجموعہ ہوتا ہے۔ منافق برائی کے ساتھ نڈر اور بے خوف ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی شرعی اور فطری آیات اور نشانیوں پر یقین رکھتے ہیں جیسے مریم علیہا السلام کا وصف بیان ہوا ہے کہ «وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ» [ 66-التحريم: 12 ] وہ اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کا یقین رکھتی تھیں اللہ کی قدرت قضاء اور شرع کا انہیں کامل یقین تھا۔ اللہ کے ہر امر کو وہ محبوب رکھتے ہیں اللہ کے منع کردہ ہرکام کو وہ ناپسند رکھتے ہیں، ہرخبر کو وہ سچ مانتے ہیں وہ موحد ہوتے ہیں شرک سے بیزار رہتے ہیں، اللہ کو واحد اور بے نیاز جانتے ہیں اسے بے اولاد اور بیوی کے بغیر مانتے ہیں، بے نظیر اور بے کفو سمجھتے ہیں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اللہ کے نام پر خیراتیں کرتے ہیں لیکن خوف زدہ رہتے ہیں کہ ایسا نہ ہو قبول نہ ہوئی ہو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضور اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا یہ وہ لوگ ہیں جن سے زنا، چوری، اور شراب خواری ہو جاتی ہے؟ لیکن ان کے دل میں خوف الٰہی ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے صدیق کی لڑکی یہ نہیں بلکہ یہ وہ ہیں جو نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، صدقے کرتے ہیں، لیکن قبول نہ ہونے سے ڈرتے ہیں، یہی ہیں جو نیکیوں میں سبقت کرتے ہیں۔ [سنن ترمذي:3175،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس آیت کی دوسری قرأت «یاتون ما اتوا» بھی ہے یعنی کرتے ہیں جو کرتے ہیں لیکن دل ان کے ڈرتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ابو عاصم گئے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے مرحبا کہا اور کہا برابر آتے کیوں نہیں ہو؟ جواب دیا اس لیے کہ کہیں آپ کو تکلیف نہ ہو لیکن آج میں ایک آیت «وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 60 ] کے الفاظ کی تحقیق کے لیے حاضر ہوا ہوں آیت «یوتون ما اتوا» ہیں یا «یاتون مااتوا» ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا ہونا تمہارے لیے مناسب ہے میں نے کہا آخر کے الفاظ اگر ہوں تو گویا میں نے ساری دنیا پالی۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ خوشی مجھے ہو گی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم خوش ہو جاؤ۔ واللہ میں نے اسی طرح انہی الفاظ کو پڑھتے ہوئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے۔ [مسند احمد:95/6:ضعیف] اس کا ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ضعیف ہے۔ ساتوں مشہور قرأتوں اور جمہور کی قرأت میں وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے اور معنی کی رو سے بھی زیادہ ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ انہیں سابق قرار دیا ہے اور اگر دوسری قرأت کو لیں تو یہ سابق نہیں بلکہ ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 59){ وَ الَّذِيْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا يُشْرِكُوْنَ:} تیسری صفت یہ کہ وہ اپنے رب کے ساتھ نہ بڑا شرک کرتے ہیں، نہ چھوٹا، نہ جلی، نہ خفی، نہ کسی غیر کی پرستش کرتے ہیں اور نہ کوئی عمل ریا (دکھلاوے) کے لیے کرتے ہیں اور نہ سمعہ (شہرت) کے لیے، بلکہ ان کا ہر عمل اپنے رب کے لیے خالص ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ صفت ایمان میں شامل تھی مگر اس کی اہمیت کے پیش نظر اسے الگ بھی ذکر فرمایا۔
اور جن کا حال یہ ہے کہ دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل اُن کے اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو لوگ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل کپکپاتے ہیں کہ وه اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو دیتے ہیں جو کچھ دیں اور ان کے دل ڈر رہے ہیں یوں کہ ان کو اپنے رب کی طرف پھرنا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں (پھر بھی) ان کے دل اس خیال سے ترساں رہتے یں کہ انہوں نے اپنے پروردگار کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ کہ انھوں نے جو کچھ دیا اس حال میں دیتے ہیں کہ ان کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں کہ یقینا وہ اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مؤمن کی تعریف ٭٭
فرمان ہے کہ احسان اور ایمان کے ساتھ ہی ساتھ نیک اعمال اور پھر اللہ کی ہیبت سے تھرتھرانا اور کانپتے رہنا یہ ان کی صفت ہے۔ یہ ان کی صفت ہے حضرت حسن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مومن نیکی اور خوف الٰہی کا مجموعہ ہوتا ہے۔ منافق برائی کے ساتھ نڈر اور بے خوف ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی شرعی اور فطری آیات اور نشانیوں پر یقین رکھتے ہیں جیسے مریم علیہا السلام کا وصف بیان ہوا ہے کہ «وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ» [ 66-التحريم: 12 ] وہ اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کا یقین رکھتی تھیں اللہ کی قدرت قضاء اور شرع کا انہیں کامل یقین تھا۔ اللہ کے ہر امر کو وہ محبوب رکھتے ہیں اللہ کے منع کردہ ہرکام کو وہ ناپسند رکھتے ہیں، ہرخبر کو وہ سچ مانتے ہیں وہ موحد ہوتے ہیں شرک سے بیزار رہتے ہیں، اللہ کو واحد اور بے نیاز جانتے ہیں اسے بے اولاد اور بیوی کے بغیر مانتے ہیں، بے نظیر اور بے کفو سمجھتے ہیں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اللہ کے نام پر خیراتیں کرتے ہیں لیکن خوف زدہ رہتے ہیں کہ ایسا نہ ہو قبول نہ ہوئی ہو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضور اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا یہ وہ لوگ ہیں جن سے زنا، چوری، اور شراب خواری ہو جاتی ہے؟ لیکن ان کے دل میں خوف الٰہی ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے صدیق کی لڑکی یہ نہیں بلکہ یہ وہ ہیں جو نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، صدقے کرتے ہیں، لیکن قبول نہ ہونے سے ڈرتے ہیں، یہی ہیں جو نیکیوں میں سبقت کرتے ہیں۔ [سنن ترمذي:3175،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس آیت کی دوسری قرأت «یاتون ما اتوا» بھی ہے یعنی کرتے ہیں جو کرتے ہیں لیکن دل ان کے ڈرتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ابو عاصم گئے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے مرحبا کہا اور کہا برابر آتے کیوں نہیں ہو؟ جواب دیا اس لیے کہ کہیں آپ کو تکلیف نہ ہو لیکن آج میں ایک آیت «وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 60 ] کے الفاظ کی تحقیق کے لیے حاضر ہوا ہوں آیت «یوتون ما اتوا» ہیں یا «یاتون مااتوا» ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا ہونا تمہارے لیے مناسب ہے میں نے کہا آخر کے الفاظ اگر ہوں تو گویا میں نے ساری دنیا پالی۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ خوشی مجھے ہو گی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم خوش ہو جاؤ۔ واللہ میں نے اسی طرح انہی الفاظ کو پڑھتے ہوئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے۔ [مسند احمد:95/6:ضعیف] اس کا ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ضعیف ہے۔ ساتوں مشہور قرأتوں اور جمہور کی قرأت میں وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے اور معنی کی رو سے بھی زیادہ ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ انہیں سابق قرار دیا ہے اور اگر دوسری قرأت کو لیں تو یہ سابق نہیں بلکہ ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
60-1یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں لیکن اللہ سے ڈرتے ہیں کہ کسی کوتاہی کی وجہ سے ہمارا عمل یا صدقہ نامقبول قرار نہ پائے۔ حدیث میں آتا ہے۔ حضرت عائشہ نے پوچھا ' ڈرنے والے کون ہیں؟ وہ جو شراب پیتے، بدکاری کرتے اور چوریاں کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، نہیں، بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز پڑھتے، روزہ رکھتے اور صدقہ و خیرات کرتے ہیں لیکن ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں یہ نامقبول نہ ٹھہریں ' (ترمذی تفسیر سورة المومنون۔ مسند احمد-6195160۔
(آیت 60){وَ الَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا …: ” آتٰي يُؤْتِيْ إِيْتَاءً“} کا معنی ہے، دینا۔ عام طور پر اس سے مراد صدقہ و زکوٰۃ لیا جاتا ہے، مگر ابن عباس رضی اللہ عنھما اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس سے نیکی کے تمام اعمال مراد ہیں۔“ (طبری) عربی میں {”إِيْتَاءٌ“} (دینا) کا لفظ صرف مال یا کوئی مادی چیز دینے ہی کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا، بلکہ معنوی چیزیں دینے کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے، مثلاً کسی شخص کی اطاعت قبول کر لینے کے لیے کہتے ہیں: {”آتَيْتُهُ مِنْ نَفْسِي الْقَبُوْلَ“} اور اطاعت قبول نہ کرنے کے لیے کہتے ہیں: {”آتَيْتُهُ مِنْ نَفْسِي الْإِبَاءَ۔“} ابن عطیہ فرماتے ہیں: ”یہ معنی زیادہ خوب صورت ہے، گویا فرمایا: {”وَالَّذِيْنَ يُعْطُوْنَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فِيْ طَاعَةِ اللّٰهِ مَا بَلَغَهُ جُهْدُهُمْ“} ”یعنی وہ اپنی جانوں کی طرف سے اللہ کی اطاعت میں وہ سب کچھ پیش کر دیتے ہیں جو ان کے آخری بس میں ہوتا ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ وہ ہر نیک عمل کرتے ہوئے خود پسندی کا شکار ہونے کے بجائے سخت ڈر رہے ہوتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کے پاس جانا ہے، کیا خبر اس کی جناب میں ہمارا عمل قبول ہوتا ہے یا نہیں اور کیا خبر کہ رب تعالیٰ کے حضور جانے کے وقت ہمارے ایمان و عمل کا کیا حال ہوتا ہے، کیونکہ دار و مدار تو خاتمے پر ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ میں نے پوچھا: [ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! «{ وَ الَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ }» المؤمنون: ۶۰ أَ هُوَ الَّذِيْ يَزْنِيْ وَ يَسْرِقُ وَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ؟ قَالَ لَا، يَا بِنْتَ أَبِيْ بَكْرٍ! أَوْ يَا بِنْتَ الصِّدِّيْقِ! وَلٰكِنَّهُ الرَّجُلُ يَصُوْمُ وَ يَتَصَدَّقُ وَ يُصَلِّيْ، وَ هُوَ يَخَافُ أَنْ لَا يُتَقَبَّلَ مِنْهُ ] [ ابن ماجہ، الزھد، باب التوقي علی العمل: ۴۱۹۸۔ ترمذي:۳۱۷۵۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ:۱۶۲] ”یا رسول اللہ! (اللہ کا فرمان ہے): «{ وَ الَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ }» کیا اس سے مراد وہ شخص ہے جو چوری کرتا ہے، زنا کرتا ہے اور شراب پیتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں! اے ابوبکر کی بیٹی! بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں اور صدقہ کرتے ہیں اور وہ ڈر رہے ہوتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان سے قبول نہ کیا جائے۔“ ترمذی کی حدیث کے آخر میں ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «{ اُولٰٓىِٕكَ يُسٰرِعُوْنَ فِي الْخَيْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ }» [ المؤمنون: ۶۱ ] ”یہی (مذکورہ بالا صفات والے) وہ لوگ ہیں جو بھلائیاں حاصل کرنے میں جلدی کرتے ہیں اور یہی لوگ ان کی طرف آگے نکلنے والے ہیں۔“ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ {” يُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا “} سے مراد صرف صدقہ و زکوٰۃ ہی نہیں، بلکہ تمام اعمال ہیں۔
بھلائیوں کی طرف دَوڑنے والے اور سبقت کر کے انہیں پا لینے والے تو درحقیقت یہ لوگ ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یہی ہیں جو جلدی جلدی بھلائیاں حاصل کر رہے ہیں اور یہی ہیں جو ان کی طرف دوڑ جانے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
یہ لوگ بھلائیوں میں جلدی کرتے ہیں اور یہی سب سے پہلے انہیں پہنچے
علامہ محمد حسین نجفی
یہی لوگ بھلائیاں کرنے میں جلدی کیا کرتے ہیں اور بھلائیوں میں سبقت لے جانے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یہ لوگ ہیں جو بھلائیاں حاصل کرنے میں جلدی کرتے ہیں اور یہی ان کی طرف آگے نکلنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مؤمن کی تعریف ٭٭
فرمان ہے کہ احسان اور ایمان کے ساتھ ہی ساتھ نیک اعمال اور پھر اللہ کی ہیبت سے تھرتھرانا اور کانپتے رہنا یہ ان کی صفت ہے۔ یہ ان کی صفت ہے حضرت حسن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مومن نیکی اور خوف الٰہی کا مجموعہ ہوتا ہے۔ منافق برائی کے ساتھ نڈر اور بے خوف ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی شرعی اور فطری آیات اور نشانیوں پر یقین رکھتے ہیں جیسے مریم علیہا السلام کا وصف بیان ہوا ہے کہ «وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ» [ 66-التحريم: 12 ] وہ اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کا یقین رکھتی تھیں اللہ کی قدرت قضاء اور شرع کا انہیں کامل یقین تھا۔ اللہ کے ہر امر کو وہ محبوب رکھتے ہیں اللہ کے منع کردہ ہرکام کو وہ ناپسند رکھتے ہیں، ہرخبر کو وہ سچ مانتے ہیں وہ موحد ہوتے ہیں شرک سے بیزار رہتے ہیں، اللہ کو واحد اور بے نیاز جانتے ہیں اسے بے اولاد اور بیوی کے بغیر مانتے ہیں، بے نظیر اور بے کفو سمجھتے ہیں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اللہ کے نام پر خیراتیں کرتے ہیں لیکن خوف زدہ رہتے ہیں کہ ایسا نہ ہو قبول نہ ہوئی ہو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضور اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا یہ وہ لوگ ہیں جن سے زنا، چوری، اور شراب خواری ہو جاتی ہے؟ لیکن ان کے دل میں خوف الٰہی ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے صدیق کی لڑکی یہ نہیں بلکہ یہ وہ ہیں جو نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، صدقے کرتے ہیں، لیکن قبول نہ ہونے سے ڈرتے ہیں، یہی ہیں جو نیکیوں میں سبقت کرتے ہیں۔ [سنن ترمذي:3175،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس آیت کی دوسری قرأت «یاتون ما اتوا» بھی ہے یعنی کرتے ہیں جو کرتے ہیں لیکن دل ان کے ڈرتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ابو عاصم گئے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے مرحبا کہا اور کہا برابر آتے کیوں نہیں ہو؟ جواب دیا اس لیے کہ کہیں آپ کو تکلیف نہ ہو لیکن آج میں ایک آیت «وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 60 ] کے الفاظ کی تحقیق کے لیے حاضر ہوا ہوں آیت «یوتون ما اتوا» ہیں یا «یاتون مااتوا» ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا ہونا تمہارے لیے مناسب ہے میں نے کہا آخر کے الفاظ اگر ہوں تو گویا میں نے ساری دنیا پالی۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ خوشی مجھے ہو گی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم خوش ہو جاؤ۔ واللہ میں نے اسی طرح انہی الفاظ کو پڑھتے ہوئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے۔ [مسند احمد:95/6:ضعیف] اس کا ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ضعیف ہے۔ ساتوں مشہور قرأتوں اور جمہور کی قرأت میں وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے اور معنی کی رو سے بھی زیادہ ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ انہیں سابق قرار دیا ہے اور اگر دوسری قرأت کو لیں تو یہ سابق نہیں بلکہ ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 61) {اُولٰٓىِٕكَ يُسٰرِعُوْنَ فِي الْخَيْرٰتِ …:} یعنی یہ لوگ جن میں یہ چاروں خوبیاں ہیں یہی نیک کاموں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر جلدی کرتے ہیں اور یہی لوگ انھیں حاصل کرنے میں سبقت لے جانے والے ہیں۔ (دیکھیے سورۂ واقعہ: ۱۰ تا ۲۶) طبری نے {” وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ “} کے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول حسن سند کے ساتھ نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: {”سَبَقَتْ لَهُمُ السَّعَادَةُ“} ”یعنی ان کی ان چاروں صفات کی وجہ سے (جو پہلے ہی اللہ کے علم میں ہیں) ان کے لیے پہلے ہی (جلدی بھلائیاں حاصل ہونے کی) سعادت طے ہو چکی ہے۔“ گویا یہ اس آیت کے ہم معنی ہے: «اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى اُولٰٓىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ» [ الأنبیاء: ۱۰۱ ] ”بے شک وہ لوگ جن کے لیے ہماری طرف سے پہلے بھلائی طے ہوچکی، وہ اس سے دور رکھے گئے ہوں گے۔“
ہم کسی شخص کو اس کی مقدرت سے زیادہ کی تکلیف نہیں دیتے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو (ہر ایک کا حال) ٹھیک ٹھیک بتا دینے والی ہے، اور لوگوں پر ظلم بہرحال نہیں کیا جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتے، اور ہمارے پاس ایسی کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے، ان کے اوپر کچھ ﻇلم نہ کیا جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم کسی جان پر بوجھ نہیں رکھتے مگر اس کی طاقت بھر اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے کہ حق بولتی ہے اور ان پر ظلم نہ ہوگا، ف۹۸)
علامہ محمد حسین نجفی
ہم کسی شخص کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور ہمارے پاس وہ کتاب (نامۂ اعمال) ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم کسی شخص کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی وسعت کے مطابق اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آسان شریعت ٭٭
اللہ تعالیٰ نے شریعت آسان رکھی ہے۔ ایسے احکام نہیں دئیے جو انسانی طاقت سے خارج ہوں۔ پھر قیامت کے دن وہ اعمال کا حساب لے گا جو سب کے سب کتابی صورت میں لکھے ہوئے موجود ہوں گے۔ یہ نامہ اعمال صحیح صحیح طور پر ان کا ایک ایک عمل بتادے گا۔ کسی طرح کا ظلم کسی پر نہ کیا جائے گا کوئی نیکی کم نہ ہو گی ہاں اکثر مومنوں کی برائیاں معاف کر دی جائیں گی۔ لیکن مشرکوں کے دل قرآن سے بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا بھی ان کی اور بد اعمالیاں بھی ہیں جیسے شرک وغیرہ جسے یہ دھڑلے سے کر رہے ہیں۔ تاکہ ان کی برائیاں انہیں جہنم سے دور نہ رہنے دیں۔ چنانچہ وہ حدیث گزر چکی جس میں فرمان ہے کہ انسان نیکی کے کام کرتے کرتے جنت سے صرف ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے جو اس پر تقدیر کا لکھا غالب آ جاتا اور بداعمالیاں شروع کر دیتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جہنم واصل ہو جاتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594] یہاں تک کہ جب ان میں سے آسودہ حال دولت مند لوگوں پر عذاب الٰہی آپڑتا ہے تو اب وہ فریاد کرنے لگتے ہیں۔ سورۃ مزمل میں فرمان ہے کہ «وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا إِنَّ لَدَيْنَا أَنكَالًا وَجَحِيمًا وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَعَذَابًا أَلِيمًا» [ 73-المزمل: 11- 13 ] مجھے ان مالدار جھٹلانے والوں پر چھوڑ دیجئیے انہیں کچھ مہلت اور دیجئیے ہمارے پاس بیڑیاں بھی ہیں اور جہنم بھی ہے اور گلے میں اٹکنے والا کھانا ہے اور درد ناک سزا ہے۔ اور آیت میں ہے «كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ فَنَادَوا وَّلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ» [ 38- ص: 3 ] ۔ یعنی ہم نے ان سے پہلے اور بھی بہت سی بستیوں کو تباہ کر دیا اس وقت انہوں نے واویلا شروع کی جب کہ وہ محض بےسود تھی۔ یہاں فرماتا ہے آج تم کیوں شور مچا رہے ہو؟ کیوں فریاد کر رہے ہو؟ کوئی بھی تمہیں آج کام نہیں آسکتا تم پر عذاب الٰہی آ پڑے اب چیخنا چلانا سب بےسود ہے۔ کون ہے؟ جو میرے عذابوں کے مقابلے میں تمہاری مدد کر سکے؟
پھر ان کا ایک بڑا گناہ بیان ہو رہا ہے کہ «ذَٰلِكُم بِأَنَّهُ إِذَا دُعِيَ اللَّـهُ وَحْدَهُ كَفَرْتُمْ وَإِن يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُوا فَالْحُكْمُ لِلَّـهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ» [ 40-غافر: 12 ] یہ میری آیتوں کے منکر تھے انہیں سنتے تھے اور ٹال جاتے تھے، بلائے جاتے تھے لیکن انکار کر دیتے تھے توحید کا انکار کرتے تھے شرک پر عقیدہ رکھتے تھے حکم تو بلندوبرتر اللہ ہی کا چلتا ہے «مُسْتَكْبِرِينَ» دال ہے ان کے حق سے ہٹنے اور حق کا انکار کرنے سے آیت ہے کہ «مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَامِرًا تَهْجُرُونَ» [ 23-سورة المؤمنون: 67 ] یہ اس وقت تکبر کرتے تھے اور حق اور اہل حق کو حقیر سمجھتے تھے۔ اس معنی کی رو سے بہ کے ضمیر کا مرجع یا تو حرم ہے یعنی مکہ کہ یہ اس میں بیہودہ بکواس بکتے تھے۔ یا قرآن ہے جسے یہ مذاق میں اڑاتے تھے کبھی شاعری کہتے تھے کبھی کہانت وغیرہ۔ یا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ راتوں کو بے کار بیٹھے ہوئے اپنی گپ شب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی شاعر کہتے، کبھی کاہن کہتے، کبھی جادوگر کہتے، کبھی جھوٹا کہتے، کبھی مجنون بتلاتے۔ حالانکہ حرم اللہ کا گھر ہے قرآن اللہ کا کلام ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں جہنیں اللہ نے اپنی مدد پہنچائی اور مکے پر قابض کیا۔ ان مشرکین کو وہاں سے ذلیل وپست کر کے نکالا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ یہ لوگ بیت اللہ کی وجہ سے فخر کرتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ وہ اولیاء اللہ ہیں حالانکہ یہ خیال محض وہم تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین قریش بیت اللہ پر فخر کرتے تھے اپنے آپ کو اس کا مہتمم اور متولی بتلاتے تھے حالانکہ نہ اسے آباد کرتے تھے نہ اس کا صحیح ادب کرتے تھے امام ابن ابی حاتم رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں پر بہت کچھ لکھا ہے حاصل سب کا یہی ہے۔
62-1ایسی ہی آیت سورة بقرہ کے آخر میں گزر چکی ہے۔
(آیت 62) ➊ { وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا …:} یعنی ہم نے اپنے مومن بندوں کی جو صفات بیان کی ہیں یہ ایسی نہیں ہیں کہ انسان کی وسعت اور گنجائش سے باہر ہوں اور وہ ان پر عمل نہ کر سکتا ہو۔ کیونکہ یہ ہمارا دستور ہی نہیں کہ کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف دیں۔ اسی لیے جہاں عذر آتا ہے رخصت دے دی جاتی ہے۔ پانی نہیں تو تیمم کر لو، سفر ہے تو نماز قصر کر لو اور روزہ افطار کر لو، بیمار ہو تو بیٹھ کر یا لیٹ کر نماز پڑھ لو، خوف ہے تو پیدل یا سوار ہی پڑھ لو، بھوک سے بے بس ہو تو بقدر ضرورت حرام کھا لو، اگر نفس کی سرکشی سے نافرمانی ہو جائے تو توبہ کرکے پلٹ آؤ۔ پھر اتنی آسانیوں کے بعد بھی بے رخی اور سرکشی کی روش اپناؤ، تو یاد رکھو کہ ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے، جس میں تمھارا چھوٹا، بڑا، ظاہر اور مخفی ہر عمل محفوظ ہے۔ دیکھیے سورۂ کہف (۴۹) اور جاثیہ (۲۹) رازی نے فرمایا: ”کتاب کو انسان کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو بولتا ہے، کیونکہ کتاب تو بولتی نہیں، بلکہ جو اس میں لکھا ہوتا ہے اس کا اظہار کرتی ہے۔“ مگر اب وڈیو کیمرے کے ذریعے سے کسی بھی شخص کے عمل کی تصویر بھی محفوظ ہوتی ہے اور آواز بھی۔ اس لیے اس تاویل کی ضرورت نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت تو ہمارے خیال سے بھی کہیں بلند ہے، جس کے حکم سے چمڑے اور ہاتھ پاؤں بول کر سب کچھ بتائیں گے، اس کے حکم سے کتاب کا بولنا کون سا بعید ہے۔ ➋ { وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ:} یعنی نہ کسی کو قصور کے بغیر سزا ملے گی، نہ کسی کا قصور دوسرے کے نامۂ اعمال میں درج ہو گا، نہ کسی عمل کی جزا میں کمی ہو گی اور نہ سزا میں زیادتی۔
مگر یہ لوگ اس معاملے سے بے خبر ہیں اور ان کے اعمال بھی اس طریقے سے (جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے) مختلف ہیں وہ اپنے یہ کرتوت کیے چلے جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
بلکہ ان کے دل اس طرف سے غفلت میں ہیں اور ان کے لئے اس کے سوا بھی بہت سے اعمال ہیں جنہیں وه کرنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ ان کے دل اس سے غفلت میں ہیں اور ان کے کام ان کاموں سے جدا ہیں جنہیں وہ کررہے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
بلکہ ان کے دل اس (دینی) معاملہ میں غفلت و سرشاری میںپڑے ہیں اور اس کے علاوہ بھی ان کے کچھ (برے) عمل ہیں جو یہ کرتے رہتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بلکہ ان کے دل اس سے سخت غفلت میں ہیں اور ان کے لیے اس کے سوا کئی کام ہیں، وہ انھی کو کرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آسان شریعت ٭٭
اللہ تعالیٰ نے شریعت آسان رکھی ہے۔ ایسے احکام نہیں دئیے جو انسانی طاقت سے خارج ہوں۔ پھر قیامت کے دن وہ اعمال کا حساب لے گا جو سب کے سب کتابی صورت میں لکھے ہوئے موجود ہوں گے۔ یہ نامہ اعمال صحیح صحیح طور پر ان کا ایک ایک عمل بتادے گا۔ کسی طرح کا ظلم کسی پر نہ کیا جائے گا کوئی نیکی کم نہ ہو گی ہاں اکثر مومنوں کی برائیاں معاف کر دی جائیں گی۔ لیکن مشرکوں کے دل قرآن سے بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا بھی ان کی اور بد اعمالیاں بھی ہیں جیسے شرک وغیرہ جسے یہ دھڑلے سے کر رہے ہیں۔ تاکہ ان کی برائیاں انہیں جہنم سے دور نہ رہنے دیں۔ چنانچہ وہ حدیث گزر چکی جس میں فرمان ہے کہ انسان نیکی کے کام کرتے کرتے جنت سے صرف ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے جو اس پر تقدیر کا لکھا غالب آ جاتا اور بداعمالیاں شروع کر دیتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جہنم واصل ہو جاتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594] یہاں تک کہ جب ان میں سے آسودہ حال دولت مند لوگوں پر عذاب الٰہی آپڑتا ہے تو اب وہ فریاد کرنے لگتے ہیں۔ سورۃ مزمل میں فرمان ہے کہ «وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا إِنَّ لَدَيْنَا أَنكَالًا وَجَحِيمًا وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَعَذَابًا أَلِيمًا» [ 73-المزمل: 11- 13 ] مجھے ان مالدار جھٹلانے والوں پر چھوڑ دیجئیے انہیں کچھ مہلت اور دیجئیے ہمارے پاس بیڑیاں بھی ہیں اور جہنم بھی ہے اور گلے میں اٹکنے والا کھانا ہے اور درد ناک سزا ہے۔ اور آیت میں ہے «كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ فَنَادَوا وَّلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ» [ 38- ص: 3 ] ۔ یعنی ہم نے ان سے پہلے اور بھی بہت سی بستیوں کو تباہ کر دیا اس وقت انہوں نے واویلا شروع کی جب کہ وہ محض بےسود تھی۔ یہاں فرماتا ہے آج تم کیوں شور مچا رہے ہو؟ کیوں فریاد کر رہے ہو؟ کوئی بھی تمہیں آج کام نہیں آسکتا تم پر عذاب الٰہی آ پڑے اب چیخنا چلانا سب بےسود ہے۔ کون ہے؟ جو میرے عذابوں کے مقابلے میں تمہاری مدد کر سکے؟
پھر ان کا ایک بڑا گناہ بیان ہو رہا ہے کہ «ذَٰلِكُم بِأَنَّهُ إِذَا دُعِيَ اللَّـهُ وَحْدَهُ كَفَرْتُمْ وَإِن يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُوا فَالْحُكْمُ لِلَّـهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ» [ 40-غافر: 12 ] یہ میری آیتوں کے منکر تھے انہیں سنتے تھے اور ٹال جاتے تھے، بلائے جاتے تھے لیکن انکار کر دیتے تھے توحید کا انکار کرتے تھے شرک پر عقیدہ رکھتے تھے حکم تو بلندوبرتر اللہ ہی کا چلتا ہے «مُسْتَكْبِرِينَ» دال ہے ان کے حق سے ہٹنے اور حق کا انکار کرنے سے آیت ہے کہ «مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَامِرًا تَهْجُرُونَ» [ 23-سورة المؤمنون: 67 ] یہ اس وقت تکبر کرتے تھے اور حق اور اہل حق کو حقیر سمجھتے تھے۔ اس معنی کی رو سے بہ کے ضمیر کا مرجع یا تو حرم ہے یعنی مکہ کہ یہ اس میں بیہودہ بکواس بکتے تھے۔ یا قرآن ہے جسے یہ مذاق میں اڑاتے تھے کبھی شاعری کہتے تھے کبھی کہانت وغیرہ۔ یا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ راتوں کو بے کار بیٹھے ہوئے اپنی گپ شب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی شاعر کہتے، کبھی کاہن کہتے، کبھی جادوگر کہتے، کبھی جھوٹا کہتے، کبھی مجنون بتلاتے۔ حالانکہ حرم اللہ کا گھر ہے قرآن اللہ کا کلام ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں جہنیں اللہ نے اپنی مدد پہنچائی اور مکے پر قابض کیا۔ ان مشرکین کو وہاں سے ذلیل وپست کر کے نکالا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ یہ لوگ بیت اللہ کی وجہ سے فخر کرتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ وہ اولیاء اللہ ہیں حالانکہ یہ خیال محض وہم تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین قریش بیت اللہ پر فخر کرتے تھے اپنے آپ کو اس کا مہتمم اور متولی بتلاتے تھے حالانکہ نہ اسے آباد کرتے تھے نہ اس کا صحیح ادب کرتے تھے امام ابن ابی حاتم رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں پر بہت کچھ لکھا ہے حاصل سب کا یہی ہے۔
63-1یعنی شرک کے علاوہ دیگر برائیاں یا اعمال مراد ہیں، جو مومنوں کے اعمال (خشیت الٰہی، ایمان با توحید وغیرہ) کے برعکس ہیں۔ تاہم مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے۔
(آیت 63){ بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِيْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا …: ” غَمْرَةٍ “} میں تنوین تہویل کی ہے، اس لیے ترجمہ ”سخت غفلت“ کیا ہے۔ {”هٰذَا “} کا اشارہ ان چیزوں کی طرف ہے جو اس سے پہلے مذکور ہیں، یعنی بات وہ نہیں جو کفار نے سمجھ رکھی ہے کہ اموال و اولاد کی صورت میں انھیں اللہ کی طرف سے بھلائیاں مل رہی ہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کے دل بھلائیوں کے حصول کا سبب بننے والی صفات (یعنی خشیت الٰہی، آیات پر ایمان، شرک سے اجتناب اور کوئی بھی عمل کرتے ہوئے اس کے قبول نہ ہونے کا خوف رہنا) اور قیامت کے دن کتاب اعمال کے پیش ہونے سے سخت غفلت میں ہیں۔ پھر ان کا جرم یہی نہیں بلکہ ان کے علاوہ اور بھی کئی اعمال ہیں جنھیں وہ ہر حال میں کرنے والے ہیں، تاکہ ان پر حجت تمام ہو اور وہ اپنے کیے کا خمیازہ بھگتیں۔
یہاں تک کہ جب ہم ان کے عیاشوں کو عذاب میں پکڑ لیں گے تو پھر وہ ڈکرانا شروع کر دیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہاں تک کہ جب ہم نے ان کے آسوده حال لوگوں کو عذاب میں پکڑ لیا تو وه بلبلانے لگے
احمد رضا خان بریلوی
یہاں تک کہ جب ہم نے ان کے امیروں کو عذاب میں پکڑا تو جبھی وہ فریاد کرنے لگے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوشحال لوگوں کو عذاب کی گرفت میں لیتے ہیں تو وہ چیخنے چلانے لگتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوش حال لوگوں کو عذاب میں پکڑیں گے اچانک وہ بلبلا رہے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آسان شریعت ٭٭
اللہ تعالیٰ نے شریعت آسان رکھی ہے۔ ایسے احکام نہیں دئیے جو انسانی طاقت سے خارج ہوں۔ پھر قیامت کے دن وہ اعمال کا حساب لے گا جو سب کے سب کتابی صورت میں لکھے ہوئے موجود ہوں گے۔ یہ نامہ اعمال صحیح صحیح طور پر ان کا ایک ایک عمل بتادے گا۔ کسی طرح کا ظلم کسی پر نہ کیا جائے گا کوئی نیکی کم نہ ہو گی ہاں اکثر مومنوں کی برائیاں معاف کر دی جائیں گی۔ لیکن مشرکوں کے دل قرآن سے بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا بھی ان کی اور بد اعمالیاں بھی ہیں جیسے شرک وغیرہ جسے یہ دھڑلے سے کر رہے ہیں۔ تاکہ ان کی برائیاں انہیں جہنم سے دور نہ رہنے دیں۔ چنانچہ وہ حدیث گزر چکی جس میں فرمان ہے کہ انسان نیکی کے کام کرتے کرتے جنت سے صرف ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے جو اس پر تقدیر کا لکھا غالب آ جاتا اور بداعمالیاں شروع کر دیتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جہنم واصل ہو جاتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594] یہاں تک کہ جب ان میں سے آسودہ حال دولت مند لوگوں پر عذاب الٰہی آپڑتا ہے تو اب وہ فریاد کرنے لگتے ہیں۔ سورۃ مزمل میں فرمان ہے کہ «وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا إِنَّ لَدَيْنَا أَنكَالًا وَجَحِيمًا وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَعَذَابًا أَلِيمًا» [ 73-المزمل: 11- 13 ] مجھے ان مالدار جھٹلانے والوں پر چھوڑ دیجئیے انہیں کچھ مہلت اور دیجئیے ہمارے پاس بیڑیاں بھی ہیں اور جہنم بھی ہے اور گلے میں اٹکنے والا کھانا ہے اور درد ناک سزا ہے۔ اور آیت میں ہے «كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ فَنَادَوا وَّلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ» [ 38- ص: 3 ] ۔ یعنی ہم نے ان سے پہلے اور بھی بہت سی بستیوں کو تباہ کر دیا اس وقت انہوں نے واویلا شروع کی جب کہ وہ محض بےسود تھی۔ یہاں فرماتا ہے آج تم کیوں شور مچا رہے ہو؟ کیوں فریاد کر رہے ہو؟ کوئی بھی تمہیں آج کام نہیں آسکتا تم پر عذاب الٰہی آ پڑے اب چیخنا چلانا سب بےسود ہے۔ کون ہے؟ جو میرے عذابوں کے مقابلے میں تمہاری مدد کر سکے؟
پھر ان کا ایک بڑا گناہ بیان ہو رہا ہے کہ «ذَٰلِكُم بِأَنَّهُ إِذَا دُعِيَ اللَّـهُ وَحْدَهُ كَفَرْتُمْ وَإِن يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُوا فَالْحُكْمُ لِلَّـهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ» [ 40-غافر: 12 ] یہ میری آیتوں کے منکر تھے انہیں سنتے تھے اور ٹال جاتے تھے، بلائے جاتے تھے لیکن انکار کر دیتے تھے توحید کا انکار کرتے تھے شرک پر عقیدہ رکھتے تھے حکم تو بلندوبرتر اللہ ہی کا چلتا ہے «مُسْتَكْبِرِينَ» دال ہے ان کے حق سے ہٹنے اور حق کا انکار کرنے سے آیت ہے کہ «مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَامِرًا تَهْجُرُونَ» [ 23-سورة المؤمنون: 67 ] یہ اس وقت تکبر کرتے تھے اور حق اور اہل حق کو حقیر سمجھتے تھے۔ اس معنی کی رو سے بہ کے ضمیر کا مرجع یا تو حرم ہے یعنی مکہ کہ یہ اس میں بیہودہ بکواس بکتے تھے۔ یا قرآن ہے جسے یہ مذاق میں اڑاتے تھے کبھی شاعری کہتے تھے کبھی کہانت وغیرہ۔ یا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ راتوں کو بے کار بیٹھے ہوئے اپنی گپ شب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی شاعر کہتے، کبھی کاہن کہتے، کبھی جادوگر کہتے، کبھی جھوٹا کہتے، کبھی مجنون بتلاتے۔ حالانکہ حرم اللہ کا گھر ہے قرآن اللہ کا کلام ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں جہنیں اللہ نے اپنی مدد پہنچائی اور مکے پر قابض کیا۔ ان مشرکین کو وہاں سے ذلیل وپست کر کے نکالا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ یہ لوگ بیت اللہ کی وجہ سے فخر کرتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ وہ اولیاء اللہ ہیں حالانکہ یہ خیال محض وہم تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین قریش بیت اللہ پر فخر کرتے تھے اپنے آپ کو اس کا مہتمم اور متولی بتلاتے تھے حالانکہ نہ اسے آباد کرتے تھے نہ اس کا صحیح ادب کرتے تھے امام ابن ابی حاتم رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں پر بہت کچھ لکھا ہے حاصل سب کا یہی ہے۔
64-1عذاب تو آسودہ اور غیر آسودہ حال دونوں کو ہی ہوتا ہے۔ لیکن آسودہ حال لوگوں کا نام خصوصی طور پر شاید اس لئے لیا گیا کہ قوم کی قیادت بالعموم انہی کے ہاتھوں میں ہوتی ہے، وہ جس طرف چاہیں قوم کا رخ پھیر سکتے ہیں۔ اگر وہ اللہ کی نافرمانی کا راستۃ اختیار کریں اور اس پر ڈٹے رہیں تو انہی کی دیکھا دیکھی قوم بھی ٹس سے مس نہیں ہوتی۔ یا مراد چوہدری اور سردار قسم کے لوگ ہیں۔ اور عذاب سے مراد اگر دنیاوی ہے، تو جنگ بدر میں کفار مکہ مارے گئے بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بد دعا کے نتیجے میں بھوک اور قحط سالی کا عذاب مسلط ہوا، وہ مراد ہے یا پھر مراد آخرت کا عذاب ہے۔ مگر یہ سیاق سے بعید ہے۔
(آیت 64){ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِيْهِمْ بِالْعَذَابِ …: ” يَجْـَٔرُوْنَ “ ”جُؤَارٌ“} درحقیقت گائے یا بیل کے سخت تکلیف میں بلبلانے کو کہتے ہیں۔ عذاب سے مراد بظاہر دنیا میں آنے والا عذاب ہے، خواہ کسی آفت کی صورت میں ہو یا موت کی صورت میں، کیونکہ آسودگی اور خوش حالی کی موجودگی میں وہی آتا ہے۔ عذاب خواہ خوش حال کفار پر آئے یا بدحال کفار پر، چیخنے چلانے اور بلبلانے میں دونوں یکساں ہوتے ہیں، مگر {”مُتْرَفِيْنَ“} (خوش حال) کا ذکر خاص طور پر اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ یہی لوگ حق کی مخالفت میں پیش پیش ہوتے ہیں اور اپنی سرداری کی وجہ سے بدحال لوگوں کے کفر پر قائم رہنے کا باعث بنتے ہیں۔ (دیکھیے سورۂ سبا: ۳۱ تا ۳۳) اس لیے عذاب نازل ہونے کے وقت ان کی حالت بیان فرمائی کہ ان کی ساری شیخی اور اکڑفوں ختم ہو جائے گی اور وہ سخت تکلیف میں مبتلا بیل کی طرح بلبلائیں گے۔
اب بند کرو اپنی فریاد و فغاں، ہماری طرف سے اب کوئی مدد تمہیں نہیں ملنی
مولانا محمد جوناگڑھی
آج مت بلبلاؤ یقیناً تم ہمارے مقابلہ پر مدد نہ کئے جاؤ گے۔
احمد رضا خان بریلوی
آج فریاد نہ کرو، ہماری طرف سے تمہاری مدد نہ ہوگی،
علامہ محمد حسین نجفی
آج کے دن چیخو چلاؤ نہیں (آج) ہماری طرف سے تمہاری کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
آج مت بلبلاؤ، بے شک تم کو ہماری طرف سے مدد نہ دی جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آسان شریعت ٭٭
اللہ تعالیٰ نے شریعت آسان رکھی ہے۔ ایسے احکام نہیں دئیے جو انسانی طاقت سے خارج ہوں۔ پھر قیامت کے دن وہ اعمال کا حساب لے گا جو سب کے سب کتابی صورت میں لکھے ہوئے موجود ہوں گے۔ یہ نامہ اعمال صحیح صحیح طور پر ان کا ایک ایک عمل بتادے گا۔ کسی طرح کا ظلم کسی پر نہ کیا جائے گا کوئی نیکی کم نہ ہو گی ہاں اکثر مومنوں کی برائیاں معاف کر دی جائیں گی۔ لیکن مشرکوں کے دل قرآن سے بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا بھی ان کی اور بد اعمالیاں بھی ہیں جیسے شرک وغیرہ جسے یہ دھڑلے سے کر رہے ہیں۔ تاکہ ان کی برائیاں انہیں جہنم سے دور نہ رہنے دیں۔ چنانچہ وہ حدیث گزر چکی جس میں فرمان ہے کہ انسان نیکی کے کام کرتے کرتے جنت سے صرف ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے جو اس پر تقدیر کا لکھا غالب آ جاتا اور بداعمالیاں شروع کر دیتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جہنم واصل ہو جاتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594] یہاں تک کہ جب ان میں سے آسودہ حال دولت مند لوگوں پر عذاب الٰہی آپڑتا ہے تو اب وہ فریاد کرنے لگتے ہیں۔ سورۃ مزمل میں فرمان ہے کہ «وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا إِنَّ لَدَيْنَا أَنكَالًا وَجَحِيمًا وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَعَذَابًا أَلِيمًا» [ 73-المزمل: 11- 13 ] مجھے ان مالدار جھٹلانے والوں پر چھوڑ دیجئیے انہیں کچھ مہلت اور دیجئیے ہمارے پاس بیڑیاں بھی ہیں اور جہنم بھی ہے اور گلے میں اٹکنے والا کھانا ہے اور درد ناک سزا ہے۔ اور آیت میں ہے «كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ فَنَادَوا وَّلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ» [ 38- ص: 3 ] ۔ یعنی ہم نے ان سے پہلے اور بھی بہت سی بستیوں کو تباہ کر دیا اس وقت انہوں نے واویلا شروع کی جب کہ وہ محض بےسود تھی۔ یہاں فرماتا ہے آج تم کیوں شور مچا رہے ہو؟ کیوں فریاد کر رہے ہو؟ کوئی بھی تمہیں آج کام نہیں آسکتا تم پر عذاب الٰہی آ پڑے اب چیخنا چلانا سب بےسود ہے۔ کون ہے؟ جو میرے عذابوں کے مقابلے میں تمہاری مدد کر سکے؟
پھر ان کا ایک بڑا گناہ بیان ہو رہا ہے کہ «ذَٰلِكُم بِأَنَّهُ إِذَا دُعِيَ اللَّـهُ وَحْدَهُ كَفَرْتُمْ وَإِن يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُوا فَالْحُكْمُ لِلَّـهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ» [ 40-غافر: 12 ] یہ میری آیتوں کے منکر تھے انہیں سنتے تھے اور ٹال جاتے تھے، بلائے جاتے تھے لیکن انکار کر دیتے تھے توحید کا انکار کرتے تھے شرک پر عقیدہ رکھتے تھے حکم تو بلندوبرتر اللہ ہی کا چلتا ہے «مُسْتَكْبِرِينَ» دال ہے ان کے حق سے ہٹنے اور حق کا انکار کرنے سے آیت ہے کہ «مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَامِرًا تَهْجُرُونَ» [ 23-سورة المؤمنون: 67 ] یہ اس وقت تکبر کرتے تھے اور حق اور اہل حق کو حقیر سمجھتے تھے۔ اس معنی کی رو سے بہ کے ضمیر کا مرجع یا تو حرم ہے یعنی مکہ کہ یہ اس میں بیہودہ بکواس بکتے تھے۔ یا قرآن ہے جسے یہ مذاق میں اڑاتے تھے کبھی شاعری کہتے تھے کبھی کہانت وغیرہ۔ یا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ راتوں کو بے کار بیٹھے ہوئے اپنی گپ شب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی شاعر کہتے، کبھی کاہن کہتے، کبھی جادوگر کہتے، کبھی جھوٹا کہتے، کبھی مجنون بتلاتے۔ حالانکہ حرم اللہ کا گھر ہے قرآن اللہ کا کلام ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں جہنیں اللہ نے اپنی مدد پہنچائی اور مکے پر قابض کیا۔ ان مشرکین کو وہاں سے ذلیل وپست کر کے نکالا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ یہ لوگ بیت اللہ کی وجہ سے فخر کرتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ وہ اولیاء اللہ ہیں حالانکہ یہ خیال محض وہم تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین قریش بیت اللہ پر فخر کرتے تھے اپنے آپ کو اس کا مہتمم اور متولی بتلاتے تھے حالانکہ نہ اسے آباد کرتے تھے نہ اس کا صحیح ادب کرتے تھے امام ابن ابی حاتم رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں پر بہت کچھ لکھا ہے حاصل سب کا یہی ہے۔
۔-1یعنی دنیا میں عذاب الٰہی سے دوچار ہوجانے کے بعد کوئی چیخ پکار انھیں اللہ کی گرفت سے چھڑا نہیں سکتی۔ اسی طرح عذاب آخرت سے بھی انھیں چھڑانے والا یا مدد کرنے والا، کوئی نہیں ہوگا۔
(آیت 65){ لَا تَجْـَٔرُوا الْيَوْمَ …:} یعنی اب بلبلانے اور چیخنے چلانے سے کچھ حاصل نہیں، کیونکہ یہ جزا کا وقت ہے، توبہ اور عمل کا وقت ختم ہو گیا۔ اب ہماری طرف سے کسی مدد کی امید مت رکھو۔ دیکھیے سورۂ مومن (۸۲ تا ۸۵)۔
میری آیات سنائی جاتی تھیں تو تم (رسول کی آواز سُنتے ہی) الٹے پاؤں بھاگ نکلتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
میری آیتیں تو تمہارے سامنے پڑھی جاتی تھیں پھر بھی تم اپنی ایڑیوں کے بل الٹے بھاگتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک میری آیتیں تم پر پڑھی جاتی تھیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل الٹے پلٹتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
(وہ وقت یاد کرو جب) میری آیتیں تمہارے سامنے پڑھی جاتی تھیں تو تم (سنتے ہی) الٹے پاؤں پلٹ جایا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک میری آیات تم پر پڑھی جاتی تھیں تو تم اپنی ایڑیوں پر پھر جایا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آسان شریعت ٭٭
اللہ تعالیٰ نے شریعت آسان رکھی ہے۔ ایسے احکام نہیں دئیے جو انسانی طاقت سے خارج ہوں۔ پھر قیامت کے دن وہ اعمال کا حساب لے گا جو سب کے سب کتابی صورت میں لکھے ہوئے موجود ہوں گے۔ یہ نامہ اعمال صحیح صحیح طور پر ان کا ایک ایک عمل بتادے گا۔ کسی طرح کا ظلم کسی پر نہ کیا جائے گا کوئی نیکی کم نہ ہو گی ہاں اکثر مومنوں کی برائیاں معاف کر دی جائیں گی۔ لیکن مشرکوں کے دل قرآن سے بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا بھی ان کی اور بد اعمالیاں بھی ہیں جیسے شرک وغیرہ جسے یہ دھڑلے سے کر رہے ہیں۔ تاکہ ان کی برائیاں انہیں جہنم سے دور نہ رہنے دیں۔ چنانچہ وہ حدیث گزر چکی جس میں فرمان ہے کہ انسان نیکی کے کام کرتے کرتے جنت سے صرف ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے جو اس پر تقدیر کا لکھا غالب آ جاتا اور بداعمالیاں شروع کر دیتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جہنم واصل ہو جاتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594] یہاں تک کہ جب ان میں سے آسودہ حال دولت مند لوگوں پر عذاب الٰہی آپڑتا ہے تو اب وہ فریاد کرنے لگتے ہیں۔ سورۃ مزمل میں فرمان ہے کہ «وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا إِنَّ لَدَيْنَا أَنكَالًا وَجَحِيمًا وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَعَذَابًا أَلِيمًا» [ 73-المزمل: 11- 13 ] مجھے ان مالدار جھٹلانے والوں پر چھوڑ دیجئیے انہیں کچھ مہلت اور دیجئیے ہمارے پاس بیڑیاں بھی ہیں اور جہنم بھی ہے اور گلے میں اٹکنے والا کھانا ہے اور درد ناک سزا ہے۔ اور آیت میں ہے «كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ فَنَادَوا وَّلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ» [ 38- ص: 3 ] ۔ یعنی ہم نے ان سے پہلے اور بھی بہت سی بستیوں کو تباہ کر دیا اس وقت انہوں نے واویلا شروع کی جب کہ وہ محض بےسود تھی۔ یہاں فرماتا ہے آج تم کیوں شور مچا رہے ہو؟ کیوں فریاد کر رہے ہو؟ کوئی بھی تمہیں آج کام نہیں آسکتا تم پر عذاب الٰہی آ پڑے اب چیخنا چلانا سب بےسود ہے۔ کون ہے؟ جو میرے عذابوں کے مقابلے میں تمہاری مدد کر سکے؟
پھر ان کا ایک بڑا گناہ بیان ہو رہا ہے کہ «ذَٰلِكُم بِأَنَّهُ إِذَا دُعِيَ اللَّـهُ وَحْدَهُ كَفَرْتُمْ وَإِن يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُوا فَالْحُكْمُ لِلَّـهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ» [ 40-غافر: 12 ] یہ میری آیتوں کے منکر تھے انہیں سنتے تھے اور ٹال جاتے تھے، بلائے جاتے تھے لیکن انکار کر دیتے تھے توحید کا انکار کرتے تھے شرک پر عقیدہ رکھتے تھے حکم تو بلندوبرتر اللہ ہی کا چلتا ہے «مُسْتَكْبِرِينَ» دال ہے ان کے حق سے ہٹنے اور حق کا انکار کرنے سے آیت ہے کہ «مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَامِرًا تَهْجُرُونَ» [ 23-سورة المؤمنون: 67 ] یہ اس وقت تکبر کرتے تھے اور حق اور اہل حق کو حقیر سمجھتے تھے۔ اس معنی کی رو سے بہ کے ضمیر کا مرجع یا تو حرم ہے یعنی مکہ کہ یہ اس میں بیہودہ بکواس بکتے تھے۔ یا قرآن ہے جسے یہ مذاق میں اڑاتے تھے کبھی شاعری کہتے تھے کبھی کہانت وغیرہ۔ یا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ راتوں کو بے کار بیٹھے ہوئے اپنی گپ شب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی شاعر کہتے، کبھی کاہن کہتے، کبھی جادوگر کہتے، کبھی جھوٹا کہتے، کبھی مجنون بتلاتے۔ حالانکہ حرم اللہ کا گھر ہے قرآن اللہ کا کلام ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں جہنیں اللہ نے اپنی مدد پہنچائی اور مکے پر قابض کیا۔ ان مشرکین کو وہاں سے ذلیل وپست کر کے نکالا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ یہ لوگ بیت اللہ کی وجہ سے فخر کرتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ وہ اولیاء اللہ ہیں حالانکہ یہ خیال محض وہم تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین قریش بیت اللہ پر فخر کرتے تھے اپنے آپ کو اس کا مہتمم اور متولی بتلاتے تھے حالانکہ نہ اسے آباد کرتے تھے نہ اس کا صحیح ادب کرتے تھے امام ابن ابی حاتم رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں پر بہت کچھ لکھا ہے حاصل سب کا یہی ہے۔
66-1یعنی قرآن مجید یا کلام الٰہی، جن میں پیغمبر کے فرمودات بھی شامل ہیں۔ 66-2یعنی آیا احکام الٰہی سن کر تم منہ پھیر لیتے تھے اور ان سے بھا گتے تھے۔
(آیت 66) {قَدْ كَانَتْ اٰيٰتِيْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ …: ”نَكَصَ“} (ض، ن) عموماً کسی خیر کے کام سے پیچھے ہٹنے کو کہتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے {” تَنْكِصُوْنَ “} کا معنی {”تُدْبِرُوْنَ“} (پلٹتے تھے) بیان فرمایا ہے۔ (طبری) یعنی یہ عذاب تمھارے اپنے اعمالِ بد ہی کا نتیجہ ہے کہ میری آیات جب تمھارے سامنے پڑھی جاتی تھیں تو تم ایڑیوں کے بل پھر جاتے تھے، تمھیں سننا تک گوارا نہ تھا۔
اپنے گھمنڈ میں اُس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے اپنی چوپالوں میں اُس پر باتیں چھانٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اکڑتے اینٹھتے افسانہ گوئی کرتے اسے چھوڑ دیتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
خدمت حرم پر بڑائی مارتے ہو رات کو وہاں بیہودہ کہانیاں بکتے
علامہ محمد حسین نجفی
تکبر کرتے ہوئے داستان سرائی کرتے ہوئے (اور) بے ہودہ بکتے ہوئے۔
عبدالسلام بن محمد
تکبر کرتے ہوئے، رات کو باتیں کرتے ہوئے اسی کے بارے میں بے ہودہ گوئی کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آسان شریعت ٭٭
اللہ تعالیٰ نے شریعت آسان رکھی ہے۔ ایسے احکام نہیں دئیے جو انسانی طاقت سے خارج ہوں۔ پھر قیامت کے دن وہ اعمال کا حساب لے گا جو سب کے سب کتابی صورت میں لکھے ہوئے موجود ہوں گے۔ یہ نامہ اعمال صحیح صحیح طور پر ان کا ایک ایک عمل بتادے گا۔ کسی طرح کا ظلم کسی پر نہ کیا جائے گا کوئی نیکی کم نہ ہو گی ہاں اکثر مومنوں کی برائیاں معاف کر دی جائیں گی۔ لیکن مشرکوں کے دل قرآن سے بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا بھی ان کی اور بد اعمالیاں بھی ہیں جیسے شرک وغیرہ جسے یہ دھڑلے سے کر رہے ہیں۔ تاکہ ان کی برائیاں انہیں جہنم سے دور نہ رہنے دیں۔ چنانچہ وہ حدیث گزر چکی جس میں فرمان ہے کہ انسان نیکی کے کام کرتے کرتے جنت سے صرف ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے جو اس پر تقدیر کا لکھا غالب آ جاتا اور بداعمالیاں شروع کر دیتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جہنم واصل ہو جاتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594] یہاں تک کہ جب ان میں سے آسودہ حال دولت مند لوگوں پر عذاب الٰہی آپڑتا ہے تو اب وہ فریاد کرنے لگتے ہیں۔ سورۃ مزمل میں فرمان ہے کہ «وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا إِنَّ لَدَيْنَا أَنكَالًا وَجَحِيمًا وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَعَذَابًا أَلِيمًا» [ 73-المزمل: 11- 13 ] مجھے ان مالدار جھٹلانے والوں پر چھوڑ دیجئیے انہیں کچھ مہلت اور دیجئیے ہمارے پاس بیڑیاں بھی ہیں اور جہنم بھی ہے اور گلے میں اٹکنے والا کھانا ہے اور درد ناک سزا ہے۔ اور آیت میں ہے «كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ فَنَادَوا وَّلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ» [ 38- ص: 3 ] ۔ یعنی ہم نے ان سے پہلے اور بھی بہت سی بستیوں کو تباہ کر دیا اس وقت انہوں نے واویلا شروع کی جب کہ وہ محض بےسود تھی۔ یہاں فرماتا ہے آج تم کیوں شور مچا رہے ہو؟ کیوں فریاد کر رہے ہو؟ کوئی بھی تمہیں آج کام نہیں آسکتا تم پر عذاب الٰہی آ پڑے اب چیخنا چلانا سب بےسود ہے۔ کون ہے؟ جو میرے عذابوں کے مقابلے میں تمہاری مدد کر سکے؟
پھر ان کا ایک بڑا گناہ بیان ہو رہا ہے کہ «ذَٰلِكُم بِأَنَّهُ إِذَا دُعِيَ اللَّـهُ وَحْدَهُ كَفَرْتُمْ وَإِن يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُوا فَالْحُكْمُ لِلَّـهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ» [ 40-غافر: 12 ] یہ میری آیتوں کے منکر تھے انہیں سنتے تھے اور ٹال جاتے تھے، بلائے جاتے تھے لیکن انکار کر دیتے تھے توحید کا انکار کرتے تھے شرک پر عقیدہ رکھتے تھے حکم تو بلندوبرتر اللہ ہی کا چلتا ہے «مُسْتَكْبِرِينَ» دال ہے ان کے حق سے ہٹنے اور حق کا انکار کرنے سے آیت ہے کہ «مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَامِرًا تَهْجُرُونَ» [ 23-سورة المؤمنون: 67 ] یہ اس وقت تکبر کرتے تھے اور حق اور اہل حق کو حقیر سمجھتے تھے۔ اس معنی کی رو سے بہ کے ضمیر کا مرجع یا تو حرم ہے یعنی مکہ کہ یہ اس میں بیہودہ بکواس بکتے تھے۔ یا قرآن ہے جسے یہ مذاق میں اڑاتے تھے کبھی شاعری کہتے تھے کبھی کہانت وغیرہ۔ یا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ راتوں کو بے کار بیٹھے ہوئے اپنی گپ شب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی شاعر کہتے، کبھی کاہن کہتے، کبھی جادوگر کہتے، کبھی جھوٹا کہتے، کبھی مجنون بتلاتے۔ حالانکہ حرم اللہ کا گھر ہے قرآن اللہ کا کلام ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں جہنیں اللہ نے اپنی مدد پہنچائی اور مکے پر قابض کیا۔ ان مشرکین کو وہاں سے ذلیل وپست کر کے نکالا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ یہ لوگ بیت اللہ کی وجہ سے فخر کرتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ وہ اولیاء اللہ ہیں حالانکہ یہ خیال محض وہم تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین قریش بیت اللہ پر فخر کرتے تھے اپنے آپ کو اس کا مہتمم اور متولی بتلاتے تھے حالانکہ نہ اسے آباد کرتے تھے نہ اس کا صحیح ادب کرتے تھے امام ابن ابی حاتم رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں پر بہت کچھ لکھا ہے حاصل سب کا یہی ہے۔
67-1یعنی انھیں اپنی تولیت خانہ کعبہ اور اس کا خادم و نگران ہونے کا جو غرور تھا، اس کی بنا پر آیات الٰہی کا انکار کیا اور بعض نے اس کا مرجع قرآن کو بنایا ہے اور مطلب یہ ہے کہ قرآن سن کر ان کے دل میں کھلبلی پیدا ہوجاتی جو انھیں قرآن پر ایمان لانے سے روک دیتی۔ 67-2سَمَر کے معنی ہیں رات کی گفتگو یہاں اس کے معنی خاص طور پر ان باتوں کے ہیں جو قرآن کریم اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں وہ کرتے تھے اور اس کی بنا پر وہ حق کی بات سننے اور قبول کرنے سے انکار کردیتے۔ یعنی چھوڑ دیتے۔ اور بعض نے ہجر کے معنی فحش گوئی کے کئے ہیں۔ یعنی راتوں کی گفتگو میں تم قرآن کی شان میں بےہودہ اور فحش باتیں کرتے ہو، جن میں کوئی بھلائی نہیں (فتح القدیر)
(آیت 67) ➊ {” مُسْتَكْبِرِيْنَ“} یہ {” تَنْكِصُوْنَ “} کی ضمیر سے حال ہے، یعنی ہماری آیات کی تلاوت کے وقت تمھارا الٹے پاؤں پھر جانا کسی خوف یا مصروفیت یا کسی اور وجہ سے نہیں تھا، بلکہ تم محض تکبر کرتے ہوئے سننے سے اجتناب کے لیے ایڑیوں پر پھر جاتے تھے۔ ➋ { بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ: ”سَمَرَ يَسْمُرُ سَمْرًا وَ سُمُوْرًا فَهُوَ سَامِرٌ“} (ن) رات کو دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنا اور قصے کہانیاں سنانا۔ {”هَجَرَ يَهْجُرُ هَجْرًا وَ هِجْرَةً“} چھوڑنا اور {”هُجْرًا“} بے ہودہ، لغو اور فضول باتیں کرنا، بکواس کرنا۔ {” بِهٖ “} کی ضمیر قرآن کی طرف جاتی ہے، جو آیات کے ضمن میں مذکور ہے، یعنی رات کو باتیں کرتے ہوئے تم اس قرآن کے متعلق بے ہودہ گوئی اور بکواس کیا کرتے تھے۔
تو کیا اِن لوگوں نے کبھی اِس کلام پر غور نہیں کیا؟ یا وہ کوئی ایسی بات لایا ہے جو کبھی ان کے اسلاف کے پاس نہ آئی تھی؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا انہوں نے اس بات میں غور وفکر ہی نہیں کیا؟ بلکہ ان کے پاس وه آیا جو ان کے اگلے باپ دادوں کے پاس نہیں آیا تھا؟
احمد رضا خان بریلوی
حق کو چھوڑے ہوئے کیا انہوں نے بات کو سوچا نہیں یا ان کے پاس وہ آیا جو ان کے باپ دادا کے پاس نہ آیا تھا
علامہ محمد حسین نجفی
کیا ان لوگوں نے اس کلام میں کبھی غور نہیں کیا یا ان کے پاس ایسی چیز آئی ہے جو ان کے پہلے والے باپ داداؤں کے پاس نہیں آئی تھی؟
عبدالسلام بن محمد
تو کیا انھوں نے اس بات میں خوب غور نہیں کیا، یا ان کے پاس وہ چیز آئی ہے جو ان کے پہلے باپ دادا کے پاس نہیں آئی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن کریم سے فرار ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کر رہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہیے تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہو گئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو راضی رضامند کر دیا۔ افسوس کفار نے عقلمندی سے کام نہ لیا۔ قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ کر ہلاک ہو گئے۔ کیا یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتے نہیں؟ کیا آپ کی صداقت امانت دیانت انہیں معلوم نہیں؟ آپ تو انہی میں پیدا ہوئے انہی میں پلے انہی میں بڑے ہوئے پھر کیا وجہ ہے کہ آج اسے جھوٹا کہنے لگے جسے اس سے پہلے سچا کہتے تھے؟ دوغلے ہو رہے تھے۔ سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما نے شاہ حبش نجاشی رحمتہ اللہ علیہ سے سر دربار یہی فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین وحدہ لاشریک نے ہم میں ایک رسول بھیجا ہے جس کا نسب جس کی صداقت جس کی امانت ہمیں خوب معلوم تھی۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہا نے کسریٰ سے بوقت جنگ میدان میں یہی فرمایا تھا ابوسفیان صخر بن حرب نے شاہ روم سے یہی فرمایا تھا جب کہ سردربار اس نے ان سے اور ان کے ساتھیوں سے پوچھا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک وہ مسلمان بھی نہیں تھے لیکن انہیں آپ کی صداقت امانت دیانت سچائی اور نسب کی عمدگی کا اقرار کرنا پڑا۔ [صحیح بخاری:7] کہتے تھے اسے جنون ہے یا اس نے قرآن اپنی طرف سے گھڑلیا ہے حالانکہ بات اس طرح سے نہیں۔ حقیت صرف یہ ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں یہ قرآن پر نظریں نہیں ڈالتے اور جو زبان پر آتا ہے بک دیتے ہیں قرآن تو وہ کلام ہے جس کی مثل اور نظیر سے ساری دنیا عاجز آ گئی باوجود سخت مخالفت کے اور باجود پوری کوشش اور انتہائی مقابلے کے کسی سے نہ بن پڑا کہ اس جیسا قرآن خود بنا لیتا یا سب کی مدد لے کر اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاتا۔ یہ تو سراسر حق ہے اور انہیں حق سے چڑ ہے پچھلا جملہ حال ہے اور ہوسکتا ہے کہ خبر یہ «مستانفعہ» ، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص سے فرمایا مسلمان ہو جا اس نے کہا اگرچہ مجھے یہ ناگوار ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اگرچہ ناگوار ہو ایک روایت میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں ملا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اسلام قبول کر اسے یہ بُرا محسوس ہوا اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو اگر تم کسی غیر آباد خطرناک غلط راستے پر چلے جا رہے ہو اور تمہیں ایک شخص ملے جس کے نام نسب سے جس کی سچائی اور امانت داری سے تم بخوبی واقف ہو وہ تم سے کہے کہ اس راستے پر چلو جو وسیع آسان سیدھا اور صاف ہے بتاؤ تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلو گے یا نہیں؟ اس نے کہا ہاں ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریاما بس تو یقین مانو قسم اللہ کی تم اس دن بھی سخت دشوار اور خطرناک راہ سے بھی زیادہ بری راہ پر ہو اور میں تمہیں آسان راہ کی دعوت دیتا ہوں میری مان لو۔ مذکور ہے کہ ایک اور ایسے ہی شخص سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جب کہ اس نے دعوت اسلام کا برا منایا بتا تو؟ اگر تیرے دوساتھی ہوں ایک تو سچا امانت دار دوسرا جھوٹا خیانت پیشہ بتاؤ تم کس سے محبت کرو گے اس نے کہا سچے امین سے۔ فرمایا اسی طرح تم لوگ اپنے رب کے نزدیک ہو حق سے مراد بقول سدی رحمتہ اللہ علیہ خود اللہ تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اگر انہی کی مرضی کے مطابق شریعت مقرر کرتا تو زمینوں آسمان بگڑ جاتے جیسے اور آیت میں کہ کافروں نے کہا ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے شخص کے اوپر یہ قرآن کیوں نہ اترا اس کے جواب میں فرمان ہے کہ کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے اور آیت میں ہے کہ اور اگر انہیں ملک کے کسی حصے کا مالک بنا دیا ہوتا تو کسی کو ایک کوڑی بھی نہ پرکھاتے۔ پس ان آیتوں میں جناب باری تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ انسانی دماغ مخلوق کے انتظام کی قابلیت میں نااہل ہے یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ اس کی صفتیں اس کے فرمان اس کے افعال اس کی شریعت اس کی تقدیر اس کی تدبیر تمام مخلوق کو حاوی ہے اور تمام مخلوق کی حاجت بر آوری اور ان کی مصلحت کے مطابق ہے اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے نہ پالنہار ہے پھر فرمایا اس قرآن کو ان کی نصیحت کے لیے ہم لائے اور یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں۔
پھر ارشاد ہے کہ تو تبلیغ قرآن پر ان سے کوئی اجرت نہیں مانگتا تیری نظریں اللہ پر ہیں وہی تجھے اس کا اجر دے گا جیسے فرمایا جو بدلہ میں تم سے مانگو وہ بھی تمہیں ہی دیا میں تو اجر کا طالب صرف اللہ ہی سے ہوں۔ ایک آیت میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ اعلان کر دو کہ نہ میں کوئی بدلہ چاہتا ہوں نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں اور جگہ ہے کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا۔ صرف قرابت داری کی محبت کا خواہاں ہوں۔ سورۃ یاسین میں ہے کہ شہر کے دور کے کنارے سے جو شخص دوڑا ہوا آیا اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں نبیوں کی اطاعت کرو جو تم سے کسی اجر کے خواہاں نہیں یہاں فرمایا وہی بہترین رازق ہے۔ تو لوگوں کو صحیح راہ کی طرف بلارہا ہے۔
مسند امام احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے جو دو فرشتے آئے ایک آپ کے پاؤں میں بیٹھا دوسرا سر کی طرف پہلے نے دوسرے سے کہا ان کی اور دوسروں کی امت کی مثالیں بیان کرو اس نے کہا ان کی مثال ان مسافروں کے قافلے کی مثل ہے جو ایک بیابان چٹیل میدان میں تھے ان کے پاس نہ توشہ تھا نہ دانہ پانی نہ آگے بڑھنے کی قوت نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت حیران تھے کہ کیا ہو گا اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک بھلا آدمی ایک شریف انسان عمدہ لباس پہنے ہوئے آ رہا ہے اس نے آتے ہی ان کی گھبراہٹ اور پریشانی دیکھ کر ان سے کہا کہ اگر تم میرا کہا مانو اور میرے پیچھے چلو تو میں تمہیں پھلوں سے لدے ہوئے باغوں اور پانی سے بھرے حوضوں پر پہنچا دوں۔ سب نے اس کی بات مان لی اور اس نے انہیں فی الواقع ہرے بھرے تروتازہ باغوں اور جاری چشموں میں پہنچا دیا یہاں ان لوگوں نے بیروک ٹوک کھایا پیا اور آسودہ حالی کی وجہ سے موٹے تازہ ہو گئے ایک دن اس نے کہا دیکھو میں تمہیں اس ہلاکت وافلاس سے بچا کریہاں لایا اور اس فارغ البالی میں پہنچایا۔ اب اگر تم میری مانو تو میں تمہیں اس سے بھی اعلیٰ باغات اور اس سے طیب جگہ اور اس سے بھی زیادہ جگہ لہردار نہروں کی طرف لے چلوں اس پر ایک جماعت تو تیار ہو گئی اور انہوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن دوسری جماعت نے کہاہمیں اور زیادہ کی ضرورت نہیں بس یہیں رہ پڑے۔ [مسند احمد:267/1:ضعیف]
ابویعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تمہیں اپنی باہوں میں سمیٹ کرتمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر جہنم سے روک رہا ہوں۔ لیکن تم پرنالوں اور برساتی کیڑوں کی طرح میرے ہاتھوں سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گر رہے ہو کیا تم یہ چاہتے ہو؟ کہ میں تمہیں چھوڑ دوں؟ سنو میں تو حوض کوثر پر بھی تمہارا پیشوا اور میرِ سامان ہوں۔ وہاں تم ِاکا دُکا اور گروہ گروہ بن کر میرے پاس آؤ گے۔ میں تمہیں تمہاری نشانیوں علامتوں اور ناموں سے پہچان لونگا۔ جیسے کہ ایک نو وارد انجان آدمی اپنے اونٹوں کو دوسروں کے اونٹوں سے تمیز کر لیتا ہے۔ میرے دیکھتے ہوئے تم میں سے بعض کو بائیں طرف والے عذاب کے فرشتے پکڑ کر لے جانا چاہیں گے تو میں جناب باری تعالیٰ میں عرض کروں گا۔ کہ اے اللہ یہ میری قوم کے میری امت کے لوگ ہیں۔ پس جواب دیا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ انہیں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالیں تھیں؟ یہ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹتے ہی رہتے۔ میں انہیں بھی پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اپنی گردن پر بکری لیے ہوئے آئے گا جو بکری چیخ رہی ہو گی وہ میرا نام لے کر آوازیں دے رہا ہو گا۔ لیکن میں اس سے صاف کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے سامنے تجھے کچھ کام نہیں آسکتا میں نے تو اللہ کی باتیں پہنچا دی تھیں۔ اسی طرح کوئی ہو گا جو اونٹ کو لیے ہوئے آئے گا جو بِلبلا رہا ہو گا۔ ندا کرے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے ہاں تیرے لیے کچھ اختیار نہیں رکھتا میں نے تو حق بات تمہیں پہنچا دی تھی۔ بعض آئیں گے جن کی گردن پر گھوڑا سوار ہو گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے آواز دے گا اور میں یہی جواب دوں گا بعض آئیں گے اور مشکیں لادے ہوئے پکاریں گے یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا تمہارے کسی معاملہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں تو تم تک حق بات پہنچا چکا تھا۔ [مجمع الزوائد،85/3] امام علی بن مدینی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسی حدیث کی سند ہے تو حسن لیکن اس کا ایک راوی حفص بن حمید مجہول ہے لیکن امام یحییٰ بن ابی معین نے اسے صالح کہا ہے اور نسائی اور ابن حبان نے بھی اسے ثقہ کہا ہے۔ آخرت کا یقین نہ رکھنے والے راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص سیدھی راہ سے ہٹ گیا تو عرب کہتے ہیں «نکب فلان عن الطریق» ۔ ان کے کفر کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے سختی کو ہٹادے انہیں قرآن سنا اور سمجھا بھی دے تو بھی یہ اپنے کفروعناد سے، سرکشی اور تکبر سے باز نہ آئیں گے۔ جو کچھ نہیں ہوا وہ جب ہو گا تو کس طرح ہو گا اس کا علم اللہ کو ہے۔ اس لیے اور جگہ ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں اپنے احکام سناتا اگر انہیں سناتا بھی تو وہ منہ پھیرے ہوئے اس سے گھوم جاتے یہ توجہنم کے سامنے کھڑے ہو کر ہی یقین کریں گے اور اس وقت کہیں گے کاش کہ ہم لوٹا دئیے جاتے اور رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور یقین مند ہو جاتے۔ اس سے پہلے جو چھپا تھا وہ اب کھل گیا۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ لوٹابھی دئیے جائیں تو پھر سے منع کردہ کاموں کی طرف لوٹ آئیں گے۔ پس یہ وہ بات ہے جو ہو گی نہیں لیکن اگر ہو تو کیا ہو؟ اسے اللہ جانتا ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لو سے جو جملہ قرآن کریم میں ہے وہ کبھی واقع ہونے والا نہیں۔
68-1بات سے مراد قرآن مجید ہے۔ یعنی اس میں غور کرلیتے تو انھیں اس پر ایمان لانے کی توفیق نصیب ہوجاتی۔ 68-2یعنی ان کے پاس وہ دین اور شریعت آئی ہے جس سے ان کے آباؤ اجداد زمانہ جاہلیت میں محروم رہے۔ جس پر انھیں اللہ کا شکر ادا کرنا اور دین اسلام کو قبول کرلینا چاہیے تھا۔
(آیت 68) ➊ { اَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ …:} ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے پانچ چیزیں بیان فرمائی ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی بھی سبب ہوتا تو کفار کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پر ایمان نہ لانا معقول تھا، مگر جب ان میں سے کوئی بات بھی نہیں تو ان کے پاس انکار، تکبر اور مذاق اڑانے کا کوئی عذر نہیں۔ ➋ { اَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ:} یعنی کیا ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ ہے کہ اس کلام کو انھوں نے سمجھا نہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ وجہ نہیں، قرآن کوئی پہیلی نہیں، کسی ایسی زبان میں نہیں جو ان کی سمجھ سے باہر ہو۔ اس میں کوئی ایسی بات نہیں جو آدمی کی سمجھ سے بالا ہو، وہ اس کی ایک ایک بات کو سمجھتے ہیں۔ مخالفت اس لیے نہیں کر رہے کہ انھوں نے سمجھنے کی کوشش کی اور انھیں سمجھ نہیں آیا، بلکہ اس لیے مخالفت کر رہے ہیں کہ وہ ماننا نہیں چاہتے۔ ➌ {اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ يَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِيْنَ:} یعنی یا ان کے انکار کی یہ وجہ ہے کہ اس نے کوئی نرالی بات پیش کی ہے جو کبھی کسی کے سننے ہی میں نہیں آئی؟ ظاہر ہے یہ بات بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء ہمیشہ آتے رہے ہیں، یہ کوئی پہلا رسول نہیں۔ فرمایا: «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ» [ الأحقاف: ۹ ] ”کہہ دیجیے میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا نہیں ہوں۔“ ان کے گرد و پیش عراق، شام اور مصر میں کئی انبیاء آئے ہیں، ان کی اپنی سرزمین میں ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام آئے، ہود، صالح اور شعیب علیھم السلام آئے۔ یہ خود ان کو سچے رسول مانتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ مشرک نہ تھے، بلکہ توحید کی دعوت لے کر آئے تھے۔ غرض ان کے انکار کی وجہ یہ بھی نہیں کہ ان کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کوئی انوکھی بات ہے۔ تنبیہ: قرآن میں جہاں یہ ذکر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان لوگوں کی طرف بھیجا گیا جن کے آباء کی طرف کوئی رسول نہیں آیا، وہاں مراد قریب زمانے میں رسول کا نہ آنا ہے اور یہاں مراد بعید زمانے میں رسول کا آنا ہے، جو ان کے بھی علم میں ہے، کیونکہ ابراہیم، اسماعیل، ہود، صالح اور شعیب علیھم السلام کو وہ لوگ بھی رسول مانتے تھے۔
یا یہ اپنے رسول سے کبھی کے واقف نہ تھے کہ (اَن جانا آدمی ہونے کے باعث) اُس سے بدکتے ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
یا انہوں نے اپنے پیغمبر کو پہچانا نہیں کہ اس کے منکر ہو رہے ہیں؟
احمد رضا خان بریلوی
یا انہوں نے اپنے رسول کو نہ پہچانا تو وہ اسے بیگانہ سمجھ رہے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
یا کیا انہوں نے اپنے رسول کو پہچانا نہیں ہے؟ اس لئے منکر ہوگئے۔
عبدالسلام بن محمد
یا انھوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا تو وہ اسے اوپرا سمجھنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن کریم سے فرار ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کر رہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہیے تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہو گئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو راضی رضامند کر دیا۔ افسوس کفار نے عقلمندی سے کام نہ لیا۔ قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ کر ہلاک ہو گئے۔ کیا یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتے نہیں؟ کیا آپ کی صداقت امانت دیانت انہیں معلوم نہیں؟ آپ تو انہی میں پیدا ہوئے انہی میں پلے انہی میں بڑے ہوئے پھر کیا وجہ ہے کہ آج اسے جھوٹا کہنے لگے جسے اس سے پہلے سچا کہتے تھے؟ دوغلے ہو رہے تھے۔ سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما نے شاہ حبش نجاشی رحمتہ اللہ علیہ سے سر دربار یہی فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین وحدہ لاشریک نے ہم میں ایک رسول بھیجا ہے جس کا نسب جس کی صداقت جس کی امانت ہمیں خوب معلوم تھی۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہا نے کسریٰ سے بوقت جنگ میدان میں یہی فرمایا تھا ابوسفیان صخر بن حرب نے شاہ روم سے یہی فرمایا تھا جب کہ سردربار اس نے ان سے اور ان کے ساتھیوں سے پوچھا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک وہ مسلمان بھی نہیں تھے لیکن انہیں آپ کی صداقت امانت دیانت سچائی اور نسب کی عمدگی کا اقرار کرنا پڑا۔ [صحیح بخاری:7] کہتے تھے اسے جنون ہے یا اس نے قرآن اپنی طرف سے گھڑلیا ہے حالانکہ بات اس طرح سے نہیں۔ حقیت صرف یہ ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں یہ قرآن پر نظریں نہیں ڈالتے اور جو زبان پر آتا ہے بک دیتے ہیں قرآن تو وہ کلام ہے جس کی مثل اور نظیر سے ساری دنیا عاجز آ گئی باوجود سخت مخالفت کے اور باجود پوری کوشش اور انتہائی مقابلے کے کسی سے نہ بن پڑا کہ اس جیسا قرآن خود بنا لیتا یا سب کی مدد لے کر اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاتا۔ یہ تو سراسر حق ہے اور انہیں حق سے چڑ ہے پچھلا جملہ حال ہے اور ہوسکتا ہے کہ خبر یہ «مستانفعہ» ، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص سے فرمایا مسلمان ہو جا اس نے کہا اگرچہ مجھے یہ ناگوار ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اگرچہ ناگوار ہو ایک روایت میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں ملا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اسلام قبول کر اسے یہ بُرا محسوس ہوا اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو اگر تم کسی غیر آباد خطرناک غلط راستے پر چلے جا رہے ہو اور تمہیں ایک شخص ملے جس کے نام نسب سے جس کی سچائی اور امانت داری سے تم بخوبی واقف ہو وہ تم سے کہے کہ اس راستے پر چلو جو وسیع آسان سیدھا اور صاف ہے بتاؤ تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلو گے یا نہیں؟ اس نے کہا ہاں ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریاما بس تو یقین مانو قسم اللہ کی تم اس دن بھی سخت دشوار اور خطرناک راہ سے بھی زیادہ بری راہ پر ہو اور میں تمہیں آسان راہ کی دعوت دیتا ہوں میری مان لو۔ مذکور ہے کہ ایک اور ایسے ہی شخص سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جب کہ اس نے دعوت اسلام کا برا منایا بتا تو؟ اگر تیرے دوساتھی ہوں ایک تو سچا امانت دار دوسرا جھوٹا خیانت پیشہ بتاؤ تم کس سے محبت کرو گے اس نے کہا سچے امین سے۔ فرمایا اسی طرح تم لوگ اپنے رب کے نزدیک ہو حق سے مراد بقول سدی رحمتہ اللہ علیہ خود اللہ تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اگر انہی کی مرضی کے مطابق شریعت مقرر کرتا تو زمینوں آسمان بگڑ جاتے جیسے اور آیت میں کہ کافروں نے کہا ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے شخص کے اوپر یہ قرآن کیوں نہ اترا اس کے جواب میں فرمان ہے کہ کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے اور آیت میں ہے کہ اور اگر انہیں ملک کے کسی حصے کا مالک بنا دیا ہوتا تو کسی کو ایک کوڑی بھی نہ پرکھاتے۔ پس ان آیتوں میں جناب باری تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ انسانی دماغ مخلوق کے انتظام کی قابلیت میں نااہل ہے یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ اس کی صفتیں اس کے فرمان اس کے افعال اس کی شریعت اس کی تقدیر اس کی تدبیر تمام مخلوق کو حاوی ہے اور تمام مخلوق کی حاجت بر آوری اور ان کی مصلحت کے مطابق ہے اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے نہ پالنہار ہے پھر فرمایا اس قرآن کو ان کی نصیحت کے لیے ہم لائے اور یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں۔
پھر ارشاد ہے کہ تو تبلیغ قرآن پر ان سے کوئی اجرت نہیں مانگتا تیری نظریں اللہ پر ہیں وہی تجھے اس کا اجر دے گا جیسے فرمایا جو بدلہ میں تم سے مانگو وہ بھی تمہیں ہی دیا میں تو اجر کا طالب صرف اللہ ہی سے ہوں۔ ایک آیت میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ اعلان کر دو کہ نہ میں کوئی بدلہ چاہتا ہوں نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں اور جگہ ہے کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا۔ صرف قرابت داری کی محبت کا خواہاں ہوں۔ سورۃ یاسین میں ہے کہ شہر کے دور کے کنارے سے جو شخص دوڑا ہوا آیا اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں نبیوں کی اطاعت کرو جو تم سے کسی اجر کے خواہاں نہیں یہاں فرمایا وہی بہترین رازق ہے۔ تو لوگوں کو صحیح راہ کی طرف بلارہا ہے۔
مسند امام احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے جو دو فرشتے آئے ایک آپ کے پاؤں میں بیٹھا دوسرا سر کی طرف پہلے نے دوسرے سے کہا ان کی اور دوسروں کی امت کی مثالیں بیان کرو اس نے کہا ان کی مثال ان مسافروں کے قافلے کی مثل ہے جو ایک بیابان چٹیل میدان میں تھے ان کے پاس نہ توشہ تھا نہ دانہ پانی نہ آگے بڑھنے کی قوت نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت حیران تھے کہ کیا ہو گا اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک بھلا آدمی ایک شریف انسان عمدہ لباس پہنے ہوئے آ رہا ہے اس نے آتے ہی ان کی گھبراہٹ اور پریشانی دیکھ کر ان سے کہا کہ اگر تم میرا کہا مانو اور میرے پیچھے چلو تو میں تمہیں پھلوں سے لدے ہوئے باغوں اور پانی سے بھرے حوضوں پر پہنچا دوں۔ سب نے اس کی بات مان لی اور اس نے انہیں فی الواقع ہرے بھرے تروتازہ باغوں اور جاری چشموں میں پہنچا دیا یہاں ان لوگوں نے بیروک ٹوک کھایا پیا اور آسودہ حالی کی وجہ سے موٹے تازہ ہو گئے ایک دن اس نے کہا دیکھو میں تمہیں اس ہلاکت وافلاس سے بچا کریہاں لایا اور اس فارغ البالی میں پہنچایا۔ اب اگر تم میری مانو تو میں تمہیں اس سے بھی اعلیٰ باغات اور اس سے طیب جگہ اور اس سے بھی زیادہ جگہ لہردار نہروں کی طرف لے چلوں اس پر ایک جماعت تو تیار ہو گئی اور انہوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن دوسری جماعت نے کہاہمیں اور زیادہ کی ضرورت نہیں بس یہیں رہ پڑے۔ [مسند احمد:267/1:ضعیف]
ابویعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تمہیں اپنی باہوں میں سمیٹ کرتمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر جہنم سے روک رہا ہوں۔ لیکن تم پرنالوں اور برساتی کیڑوں کی طرح میرے ہاتھوں سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گر رہے ہو کیا تم یہ چاہتے ہو؟ کہ میں تمہیں چھوڑ دوں؟ سنو میں تو حوض کوثر پر بھی تمہارا پیشوا اور میرِ سامان ہوں۔ وہاں تم ِاکا دُکا اور گروہ گروہ بن کر میرے پاس آؤ گے۔ میں تمہیں تمہاری نشانیوں علامتوں اور ناموں سے پہچان لونگا۔ جیسے کہ ایک نو وارد انجان آدمی اپنے اونٹوں کو دوسروں کے اونٹوں سے تمیز کر لیتا ہے۔ میرے دیکھتے ہوئے تم میں سے بعض کو بائیں طرف والے عذاب کے فرشتے پکڑ کر لے جانا چاہیں گے تو میں جناب باری تعالیٰ میں عرض کروں گا۔ کہ اے اللہ یہ میری قوم کے میری امت کے لوگ ہیں۔ پس جواب دیا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ انہیں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالیں تھیں؟ یہ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹتے ہی رہتے۔ میں انہیں بھی پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اپنی گردن پر بکری لیے ہوئے آئے گا جو بکری چیخ رہی ہو گی وہ میرا نام لے کر آوازیں دے رہا ہو گا۔ لیکن میں اس سے صاف کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے سامنے تجھے کچھ کام نہیں آسکتا میں نے تو اللہ کی باتیں پہنچا دی تھیں۔ اسی طرح کوئی ہو گا جو اونٹ کو لیے ہوئے آئے گا جو بِلبلا رہا ہو گا۔ ندا کرے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے ہاں تیرے لیے کچھ اختیار نہیں رکھتا میں نے تو حق بات تمہیں پہنچا دی تھی۔ بعض آئیں گے جن کی گردن پر گھوڑا سوار ہو گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے آواز دے گا اور میں یہی جواب دوں گا بعض آئیں گے اور مشکیں لادے ہوئے پکاریں گے یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا تمہارے کسی معاملہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں تو تم تک حق بات پہنچا چکا تھا۔ [مجمع الزوائد،85/3] امام علی بن مدینی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسی حدیث کی سند ہے تو حسن لیکن اس کا ایک راوی حفص بن حمید مجہول ہے لیکن امام یحییٰ بن ابی معین نے اسے صالح کہا ہے اور نسائی اور ابن حبان نے بھی اسے ثقہ کہا ہے۔ آخرت کا یقین نہ رکھنے والے راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص سیدھی راہ سے ہٹ گیا تو عرب کہتے ہیں «نکب فلان عن الطریق» ۔ ان کے کفر کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے سختی کو ہٹادے انہیں قرآن سنا اور سمجھا بھی دے تو بھی یہ اپنے کفروعناد سے، سرکشی اور تکبر سے باز نہ آئیں گے۔ جو کچھ نہیں ہوا وہ جب ہو گا تو کس طرح ہو گا اس کا علم اللہ کو ہے۔ اس لیے اور جگہ ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں اپنے احکام سناتا اگر انہیں سناتا بھی تو وہ منہ پھیرے ہوئے اس سے گھوم جاتے یہ توجہنم کے سامنے کھڑے ہو کر ہی یقین کریں گے اور اس وقت کہیں گے کاش کہ ہم لوٹا دئیے جاتے اور رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور یقین مند ہو جاتے۔ اس سے پہلے جو چھپا تھا وہ اب کھل گیا۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ لوٹابھی دئیے جائیں تو پھر سے منع کردہ کاموں کی طرف لوٹ آئیں گے۔ پس یہ وہ بات ہے جو ہو گی نہیں لیکن اگر ہو تو کیا ہو؟ اسے اللہ جانتا ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لو سے جو جملہ قرآن کریم میں ہے وہ کبھی واقع ہونے والا نہیں۔
69-1یہ بطور توبیخ کے ہے، کیونکہ وہ پیغمبر کے نسب، خاندان اور اسی طرح اس کی صداقت و امانت، راست بازی اور اخلاق و کردار کی بلندی کو جانتے تھے اور اس کا اعتراف کرتے تھے۔
(آیت 69){ اَمْ لَمْ يَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ:} تیسری وجہ ان کے ایمان نہ لانے کی یہ ہو سکتی ہے کہ ایک بالکل اجنبی آدمی ان میں اٹھ کر کھڑا ہو گیا ہو کہ مجھے رسول مانو، جس کے حسب نسب، صدق و امانت اور حسن اخلاق کو وہ نہ جانتے ہوں، سو یہ وجہ بھی نہیں، کیونکہ وہ ان میں سے سب سے عالی خاندان کا فرد اور عالی اخلاق کا مالک ہے۔ اس دعویٰ سے پہلے چالیس سال تک وہ ان میں رہا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۱۶)۔
یا یہ اس بات کے قائل ہیں کہ وہ مجنون ہے؟ نہیں، بلکہ وہ حق لایا ہے اور حق ہی ان کی اکثریت کو ناگوار ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یا یہ کہتے ہیں کہ اسے جنون ہے؟ بلکہ وه تو ان کے پاس حق ﻻیا ہے۔ ہاں ان میں اکثر حق سے چڑنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
یا کہتے ہیں اسے سودا ہے بلکہ وہ تو ان کے پاس حق لائے اور ان میں اکثر حق برا لگتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
یا وہ کہتے ہیں کہ یہ مجنون ہے؟ بلکہ وہ تو ان کے پاس حق لے کر آیا ہے اور اکثر لوگ حق کو ناپسند کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یا کہتے ہیں کہ اسے کوئی جنون ہے، بلکہ وہ ان کے پاس حق لے کر آیا ہے اور ان میں سے اکثر حق کو برا جاننے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن کریم سے فرار ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کر رہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہیے تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہو گئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو راضی رضامند کر دیا۔ افسوس کفار نے عقلمندی سے کام نہ لیا۔ قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ کر ہلاک ہو گئے۔ کیا یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتے نہیں؟ کیا آپ کی صداقت امانت دیانت انہیں معلوم نہیں؟ آپ تو انہی میں پیدا ہوئے انہی میں پلے انہی میں بڑے ہوئے پھر کیا وجہ ہے کہ آج اسے جھوٹا کہنے لگے جسے اس سے پہلے سچا کہتے تھے؟ دوغلے ہو رہے تھے۔ سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما نے شاہ حبش نجاشی رحمتہ اللہ علیہ سے سر دربار یہی فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین وحدہ لاشریک نے ہم میں ایک رسول بھیجا ہے جس کا نسب جس کی صداقت جس کی امانت ہمیں خوب معلوم تھی۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہا نے کسریٰ سے بوقت جنگ میدان میں یہی فرمایا تھا ابوسفیان صخر بن حرب نے شاہ روم سے یہی فرمایا تھا جب کہ سردربار اس نے ان سے اور ان کے ساتھیوں سے پوچھا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک وہ مسلمان بھی نہیں تھے لیکن انہیں آپ کی صداقت امانت دیانت سچائی اور نسب کی عمدگی کا اقرار کرنا پڑا۔ [صحیح بخاری:7] کہتے تھے اسے جنون ہے یا اس نے قرآن اپنی طرف سے گھڑلیا ہے حالانکہ بات اس طرح سے نہیں۔ حقیت صرف یہ ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں یہ قرآن پر نظریں نہیں ڈالتے اور جو زبان پر آتا ہے بک دیتے ہیں قرآن تو وہ کلام ہے جس کی مثل اور نظیر سے ساری دنیا عاجز آ گئی باوجود سخت مخالفت کے اور باجود پوری کوشش اور انتہائی مقابلے کے کسی سے نہ بن پڑا کہ اس جیسا قرآن خود بنا لیتا یا سب کی مدد لے کر اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاتا۔ یہ تو سراسر حق ہے اور انہیں حق سے چڑ ہے پچھلا جملہ حال ہے اور ہوسکتا ہے کہ خبر یہ «مستانفعہ» ، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص سے فرمایا مسلمان ہو جا اس نے کہا اگرچہ مجھے یہ ناگوار ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اگرچہ ناگوار ہو ایک روایت میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں ملا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اسلام قبول کر اسے یہ بُرا محسوس ہوا اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو اگر تم کسی غیر آباد خطرناک غلط راستے پر چلے جا رہے ہو اور تمہیں ایک شخص ملے جس کے نام نسب سے جس کی سچائی اور امانت داری سے تم بخوبی واقف ہو وہ تم سے کہے کہ اس راستے پر چلو جو وسیع آسان سیدھا اور صاف ہے بتاؤ تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلو گے یا نہیں؟ اس نے کہا ہاں ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریاما بس تو یقین مانو قسم اللہ کی تم اس دن بھی سخت دشوار اور خطرناک راہ سے بھی زیادہ بری راہ پر ہو اور میں تمہیں آسان راہ کی دعوت دیتا ہوں میری مان لو۔ مذکور ہے کہ ایک اور ایسے ہی شخص سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جب کہ اس نے دعوت اسلام کا برا منایا بتا تو؟ اگر تیرے دوساتھی ہوں ایک تو سچا امانت دار دوسرا جھوٹا خیانت پیشہ بتاؤ تم کس سے محبت کرو گے اس نے کہا سچے امین سے۔ فرمایا اسی طرح تم لوگ اپنے رب کے نزدیک ہو حق سے مراد بقول سدی رحمتہ اللہ علیہ خود اللہ تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اگر انہی کی مرضی کے مطابق شریعت مقرر کرتا تو زمینوں آسمان بگڑ جاتے جیسے اور آیت میں کہ کافروں نے کہا ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے شخص کے اوپر یہ قرآن کیوں نہ اترا اس کے جواب میں فرمان ہے کہ کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے اور آیت میں ہے کہ اور اگر انہیں ملک کے کسی حصے کا مالک بنا دیا ہوتا تو کسی کو ایک کوڑی بھی نہ پرکھاتے۔ پس ان آیتوں میں جناب باری تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ انسانی دماغ مخلوق کے انتظام کی قابلیت میں نااہل ہے یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ اس کی صفتیں اس کے فرمان اس کے افعال اس کی شریعت اس کی تقدیر اس کی تدبیر تمام مخلوق کو حاوی ہے اور تمام مخلوق کی حاجت بر آوری اور ان کی مصلحت کے مطابق ہے اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے نہ پالنہار ہے پھر فرمایا اس قرآن کو ان کی نصیحت کے لیے ہم لائے اور یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں۔
پھر ارشاد ہے کہ تو تبلیغ قرآن پر ان سے کوئی اجرت نہیں مانگتا تیری نظریں اللہ پر ہیں وہی تجھے اس کا اجر دے گا جیسے فرمایا جو بدلہ میں تم سے مانگو وہ بھی تمہیں ہی دیا میں تو اجر کا طالب صرف اللہ ہی سے ہوں۔ ایک آیت میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ اعلان کر دو کہ نہ میں کوئی بدلہ چاہتا ہوں نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں اور جگہ ہے کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا۔ صرف قرابت داری کی محبت کا خواہاں ہوں۔ سورۃ یاسین میں ہے کہ شہر کے دور کے کنارے سے جو شخص دوڑا ہوا آیا اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں نبیوں کی اطاعت کرو جو تم سے کسی اجر کے خواہاں نہیں یہاں فرمایا وہی بہترین رازق ہے۔ تو لوگوں کو صحیح راہ کی طرف بلارہا ہے۔
مسند امام احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے جو دو فرشتے آئے ایک آپ کے پاؤں میں بیٹھا دوسرا سر کی طرف پہلے نے دوسرے سے کہا ان کی اور دوسروں کی امت کی مثالیں بیان کرو اس نے کہا ان کی مثال ان مسافروں کے قافلے کی مثل ہے جو ایک بیابان چٹیل میدان میں تھے ان کے پاس نہ توشہ تھا نہ دانہ پانی نہ آگے بڑھنے کی قوت نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت حیران تھے کہ کیا ہو گا اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک بھلا آدمی ایک شریف انسان عمدہ لباس پہنے ہوئے آ رہا ہے اس نے آتے ہی ان کی گھبراہٹ اور پریشانی دیکھ کر ان سے کہا کہ اگر تم میرا کہا مانو اور میرے پیچھے چلو تو میں تمہیں پھلوں سے لدے ہوئے باغوں اور پانی سے بھرے حوضوں پر پہنچا دوں۔ سب نے اس کی بات مان لی اور اس نے انہیں فی الواقع ہرے بھرے تروتازہ باغوں اور جاری چشموں میں پہنچا دیا یہاں ان لوگوں نے بیروک ٹوک کھایا پیا اور آسودہ حالی کی وجہ سے موٹے تازہ ہو گئے ایک دن اس نے کہا دیکھو میں تمہیں اس ہلاکت وافلاس سے بچا کریہاں لایا اور اس فارغ البالی میں پہنچایا۔ اب اگر تم میری مانو تو میں تمہیں اس سے بھی اعلیٰ باغات اور اس سے طیب جگہ اور اس سے بھی زیادہ جگہ لہردار نہروں کی طرف لے چلوں اس پر ایک جماعت تو تیار ہو گئی اور انہوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن دوسری جماعت نے کہاہمیں اور زیادہ کی ضرورت نہیں بس یہیں رہ پڑے۔ [مسند احمد:267/1:ضعیف]
ابویعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تمہیں اپنی باہوں میں سمیٹ کرتمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر جہنم سے روک رہا ہوں۔ لیکن تم پرنالوں اور برساتی کیڑوں کی طرح میرے ہاتھوں سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گر رہے ہو کیا تم یہ چاہتے ہو؟ کہ میں تمہیں چھوڑ دوں؟ سنو میں تو حوض کوثر پر بھی تمہارا پیشوا اور میرِ سامان ہوں۔ وہاں تم ِاکا دُکا اور گروہ گروہ بن کر میرے پاس آؤ گے۔ میں تمہیں تمہاری نشانیوں علامتوں اور ناموں سے پہچان لونگا۔ جیسے کہ ایک نو وارد انجان آدمی اپنے اونٹوں کو دوسروں کے اونٹوں سے تمیز کر لیتا ہے۔ میرے دیکھتے ہوئے تم میں سے بعض کو بائیں طرف والے عذاب کے فرشتے پکڑ کر لے جانا چاہیں گے تو میں جناب باری تعالیٰ میں عرض کروں گا۔ کہ اے اللہ یہ میری قوم کے میری امت کے لوگ ہیں۔ پس جواب دیا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ انہیں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالیں تھیں؟ یہ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹتے ہی رہتے۔ میں انہیں بھی پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اپنی گردن پر بکری لیے ہوئے آئے گا جو بکری چیخ رہی ہو گی وہ میرا نام لے کر آوازیں دے رہا ہو گا۔ لیکن میں اس سے صاف کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے سامنے تجھے کچھ کام نہیں آسکتا میں نے تو اللہ کی باتیں پہنچا دی تھیں۔ اسی طرح کوئی ہو گا جو اونٹ کو لیے ہوئے آئے گا جو بِلبلا رہا ہو گا۔ ندا کرے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے ہاں تیرے لیے کچھ اختیار نہیں رکھتا میں نے تو حق بات تمہیں پہنچا دی تھی۔ بعض آئیں گے جن کی گردن پر گھوڑا سوار ہو گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے آواز دے گا اور میں یہی جواب دوں گا بعض آئیں گے اور مشکیں لادے ہوئے پکاریں گے یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا تمہارے کسی معاملہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں تو تم تک حق بات پہنچا چکا تھا۔ [مجمع الزوائد،85/3] امام علی بن مدینی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسی حدیث کی سند ہے تو حسن لیکن اس کا ایک راوی حفص بن حمید مجہول ہے لیکن امام یحییٰ بن ابی معین نے اسے صالح کہا ہے اور نسائی اور ابن حبان نے بھی اسے ثقہ کہا ہے۔ آخرت کا یقین نہ رکھنے والے راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص سیدھی راہ سے ہٹ گیا تو عرب کہتے ہیں «نکب فلان عن الطریق» ۔ ان کے کفر کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے سختی کو ہٹادے انہیں قرآن سنا اور سمجھا بھی دے تو بھی یہ اپنے کفروعناد سے، سرکشی اور تکبر سے باز نہ آئیں گے۔ جو کچھ نہیں ہوا وہ جب ہو گا تو کس طرح ہو گا اس کا علم اللہ کو ہے۔ اس لیے اور جگہ ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں اپنے احکام سناتا اگر انہیں سناتا بھی تو وہ منہ پھیرے ہوئے اس سے گھوم جاتے یہ توجہنم کے سامنے کھڑے ہو کر ہی یقین کریں گے اور اس وقت کہیں گے کاش کہ ہم لوٹا دئیے جاتے اور رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور یقین مند ہو جاتے۔ اس سے پہلے جو چھپا تھا وہ اب کھل گیا۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ لوٹابھی دئیے جائیں تو پھر سے منع کردہ کاموں کی طرف لوٹ آئیں گے۔ پس یہ وہ بات ہے جو ہو گی نہیں لیکن اگر ہو تو کیا ہو؟ اسے اللہ جانتا ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لو سے جو جملہ قرآن کریم میں ہے وہ کبھی واقع ہونے والا نہیں۔
70-1یہ بھی زجر و توبیخ کے طور پر ہی ہے یعنی اس پیغمبر نے ایسا قرآن پیش کیا جس کی نظیر پیش کرنے سے دنیا قاصر ہے۔ اسی طرح اس کی تعلیمات نوع انسانی کے لئے رحمت اور امن و سکون کا باعث ہیں۔ کیا ایسا قرآن اور ایسی تعلیمات ایسا شخص بھی پیش کرسکتا ہے جو دیوانہ اور مجنون ہو۔ 70-2یعنی ان کے اعراض اور استکبار کی اصل وجہ حق سے ان کی کراہت (ناپسدیدگی) ہے جو عرصہ دراز سے باطل کو اختیار کئے رکھنے کی وجہ سے ان کے اندر پیدا ہوگئی ہے۔
(آیت 70) ➊ {اَمْ يَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ …:” جِنَّةٌ “} پر تنوین تنکیر کی ہے، یعنی یہ کہتے ہیں کہ اس کو کسی قسم کا جنون ہے۔ چوتھی وجہ ان کے انکار کی یہ ہو سکتی ہے کہ وہ کہتے ہوں کہ اسے کسی قسم کا جنون ہے اور واقعی وہ آپ کو کسی قسم کا دیوانہ یا پاگل سمجھتے ہوں۔ ظاہر ہے کہ یہ بھی اصل وجہ نہیں ہے، کیونکہ وہ ہٹ دھرمی سے اپنی زبان سے جو چاہیں کہتے رہیں، مگر دل سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمال دانائی کے قائل ہیں، کیونکہ خود انھوں نے صادق اور امین کا لقب دیا ہے۔ بھلا پاگلوں کو یہ لقب دیا جاتا ہے، پھر وہ کیسا دیوانہ ہے (یا مستشرقین کی ہرزہ سرائی کے مطابق مرگی کے دورے کا مریض ہے) کہ دیوانگی یا مرگی کے دورے کے وقت اس کی زبان سے قرآن جیسا کلام نکلتا ہے، جس کی سب سے چھوٹی سورت کا جواب پیش کرنے سے پوری کائنات قاصر ہے اور جس نے تیئیس (۲۳) برس کے مختصر عرصے میں ساری دنیا کی کایا پلٹ کر رکھ دی۔ ➋ { بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ:} جب یہ بات بھی نہیں تو نتیجہ یہی ہے کہ جو دعوت اس رسول نے پیش کی ہے وہ حق ہے، جب کہ ان کے اکثر حق بات کو ناپسند کرتے ہیں، کیونکہ وہ ان کی شتر بے مہار خواہشات اور حیوانی خصلتوں کے خلاف ہے۔ چنانچہ وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ سچی بات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ فرمایا: ”ان میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے ہیں۔“ کیونکہ جو حق پسند تھے وہ ایمان لے آئے۔
اور حق اگر کہیں اِن کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین اور آسمان اور ان کی ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہو جاتا نہیں، بلکہ ہم ان کا اپنا ہی ذکر اُن کے پاس لائے ہیں اور وہ اپنے ذکر سے منہ موڑ رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر حق ہی ان کی خواہشوں کا پیرو ہوجائے تو زمین وآسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز درہم برہم ہو جائے۔ حق تو یہ ہے کہ ہم نے انہیں ان کی نصیحت پہنچا دی ہے لیکن وه اپنی نصیحت سے منھ موڑنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر حق ان کی خواہشوں کی پیروی کرتا تو ضرور آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں سب تباہ ہوجاتے بلکہ ہم تو ان کے پاس وہ چیز لائے جس میں ان کی ناموری تھی تو وہ اپنی عزت سے ہی منہ پھیرے ہوئے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر حق لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرتا تو آسمان و زمین اور جو ان کے اندر ہے سب درہم برہم ہو جاتے۔ بلکہ ہم تو ان کے پاس نصیحت لے کر آئے مگر وہ اپنی نصیحت سے ہی روگردانی کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر حق ان کی خواہشوں کے پیچھے چلے تو یقینا سب آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہے، بگڑ جائیں، بلکہ ہم ان کے پاس ان کی نصیحت لے کر آئے ہیں تو وہ اپنی نصیحت سے منہ موڑنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن کریم سے فرار ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کر رہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہیے تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہو گئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو راضی رضامند کر دیا۔ افسوس کفار نے عقلمندی سے کام نہ لیا۔ قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ کر ہلاک ہو گئے۔ کیا یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتے نہیں؟ کیا آپ کی صداقت امانت دیانت انہیں معلوم نہیں؟ آپ تو انہی میں پیدا ہوئے انہی میں پلے انہی میں بڑے ہوئے پھر کیا وجہ ہے کہ آج اسے جھوٹا کہنے لگے جسے اس سے پہلے سچا کہتے تھے؟ دوغلے ہو رہے تھے۔ سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما نے شاہ حبش نجاشی رحمتہ اللہ علیہ سے سر دربار یہی فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین وحدہ لاشریک نے ہم میں ایک رسول بھیجا ہے جس کا نسب جس کی صداقت جس کی امانت ہمیں خوب معلوم تھی۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہا نے کسریٰ سے بوقت جنگ میدان میں یہی فرمایا تھا ابوسفیان صخر بن حرب نے شاہ روم سے یہی فرمایا تھا جب کہ سردربار اس نے ان سے اور ان کے ساتھیوں سے پوچھا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک وہ مسلمان بھی نہیں تھے لیکن انہیں آپ کی صداقت امانت دیانت سچائی اور نسب کی عمدگی کا اقرار کرنا پڑا۔ [صحیح بخاری:7] کہتے تھے اسے جنون ہے یا اس نے قرآن اپنی طرف سے گھڑلیا ہے حالانکہ بات اس طرح سے نہیں۔ حقیت صرف یہ ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں یہ قرآن پر نظریں نہیں ڈالتے اور جو زبان پر آتا ہے بک دیتے ہیں قرآن تو وہ کلام ہے جس کی مثل اور نظیر سے ساری دنیا عاجز آ گئی باوجود سخت مخالفت کے اور باجود پوری کوشش اور انتہائی مقابلے کے کسی سے نہ بن پڑا کہ اس جیسا قرآن خود بنا لیتا یا سب کی مدد لے کر اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاتا۔ یہ تو سراسر حق ہے اور انہیں حق سے چڑ ہے پچھلا جملہ حال ہے اور ہوسکتا ہے کہ خبر یہ «مستانفعہ» ، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص سے فرمایا مسلمان ہو جا اس نے کہا اگرچہ مجھے یہ ناگوار ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اگرچہ ناگوار ہو ایک روایت میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں ملا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اسلام قبول کر اسے یہ بُرا محسوس ہوا اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو اگر تم کسی غیر آباد خطرناک غلط راستے پر چلے جا رہے ہو اور تمہیں ایک شخص ملے جس کے نام نسب سے جس کی سچائی اور امانت داری سے تم بخوبی واقف ہو وہ تم سے کہے کہ اس راستے پر چلو جو وسیع آسان سیدھا اور صاف ہے بتاؤ تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلو گے یا نہیں؟ اس نے کہا ہاں ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریاما بس تو یقین مانو قسم اللہ کی تم اس دن بھی سخت دشوار اور خطرناک راہ سے بھی زیادہ بری راہ پر ہو اور میں تمہیں آسان راہ کی دعوت دیتا ہوں میری مان لو۔ مذکور ہے کہ ایک اور ایسے ہی شخص سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جب کہ اس نے دعوت اسلام کا برا منایا بتا تو؟ اگر تیرے دوساتھی ہوں ایک تو سچا امانت دار دوسرا جھوٹا خیانت پیشہ بتاؤ تم کس سے محبت کرو گے اس نے کہا سچے امین سے۔ فرمایا اسی طرح تم لوگ اپنے رب کے نزدیک ہو حق سے مراد بقول سدی رحمتہ اللہ علیہ خود اللہ تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اگر انہی کی مرضی کے مطابق شریعت مقرر کرتا تو زمینوں آسمان بگڑ جاتے جیسے اور آیت میں کہ کافروں نے کہا ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے شخص کے اوپر یہ قرآن کیوں نہ اترا اس کے جواب میں فرمان ہے کہ کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے اور آیت میں ہے کہ اور اگر انہیں ملک کے کسی حصے کا مالک بنا دیا ہوتا تو کسی کو ایک کوڑی بھی نہ پرکھاتے۔ پس ان آیتوں میں جناب باری تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ انسانی دماغ مخلوق کے انتظام کی قابلیت میں نااہل ہے یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ اس کی صفتیں اس کے فرمان اس کے افعال اس کی شریعت اس کی تقدیر اس کی تدبیر تمام مخلوق کو حاوی ہے اور تمام مخلوق کی حاجت بر آوری اور ان کی مصلحت کے مطابق ہے اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے نہ پالنہار ہے پھر فرمایا اس قرآن کو ان کی نصیحت کے لیے ہم لائے اور یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں۔
پھر ارشاد ہے کہ تو تبلیغ قرآن پر ان سے کوئی اجرت نہیں مانگتا تیری نظریں اللہ پر ہیں وہی تجھے اس کا اجر دے گا جیسے فرمایا جو بدلہ میں تم سے مانگو وہ بھی تمہیں ہی دیا میں تو اجر کا طالب صرف اللہ ہی سے ہوں۔ ایک آیت میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ اعلان کر دو کہ نہ میں کوئی بدلہ چاہتا ہوں نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں اور جگہ ہے کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا۔ صرف قرابت داری کی محبت کا خواہاں ہوں۔ سورۃ یاسین میں ہے کہ شہر کے دور کے کنارے سے جو شخص دوڑا ہوا آیا اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں نبیوں کی اطاعت کرو جو تم سے کسی اجر کے خواہاں نہیں یہاں فرمایا وہی بہترین رازق ہے۔ تو لوگوں کو صحیح راہ کی طرف بلارہا ہے۔
مسند امام احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے جو دو فرشتے آئے ایک آپ کے پاؤں میں بیٹھا دوسرا سر کی طرف پہلے نے دوسرے سے کہا ان کی اور دوسروں کی امت کی مثالیں بیان کرو اس نے کہا ان کی مثال ان مسافروں کے قافلے کی مثل ہے جو ایک بیابان چٹیل میدان میں تھے ان کے پاس نہ توشہ تھا نہ دانہ پانی نہ آگے بڑھنے کی قوت نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت حیران تھے کہ کیا ہو گا اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک بھلا آدمی ایک شریف انسان عمدہ لباس پہنے ہوئے آ رہا ہے اس نے آتے ہی ان کی گھبراہٹ اور پریشانی دیکھ کر ان سے کہا کہ اگر تم میرا کہا مانو اور میرے پیچھے چلو تو میں تمہیں پھلوں سے لدے ہوئے باغوں اور پانی سے بھرے حوضوں پر پہنچا دوں۔ سب نے اس کی بات مان لی اور اس نے انہیں فی الواقع ہرے بھرے تروتازہ باغوں اور جاری چشموں میں پہنچا دیا یہاں ان لوگوں نے بیروک ٹوک کھایا پیا اور آسودہ حالی کی وجہ سے موٹے تازہ ہو گئے ایک دن اس نے کہا دیکھو میں تمہیں اس ہلاکت وافلاس سے بچا کریہاں لایا اور اس فارغ البالی میں پہنچایا۔ اب اگر تم میری مانو تو میں تمہیں اس سے بھی اعلیٰ باغات اور اس سے طیب جگہ اور اس سے بھی زیادہ جگہ لہردار نہروں کی طرف لے چلوں اس پر ایک جماعت تو تیار ہو گئی اور انہوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن دوسری جماعت نے کہاہمیں اور زیادہ کی ضرورت نہیں بس یہیں رہ پڑے۔ [مسند احمد:267/1:ضعیف]
ابویعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تمہیں اپنی باہوں میں سمیٹ کرتمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر جہنم سے روک رہا ہوں۔ لیکن تم پرنالوں اور برساتی کیڑوں کی طرح میرے ہاتھوں سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گر رہے ہو کیا تم یہ چاہتے ہو؟ کہ میں تمہیں چھوڑ دوں؟ سنو میں تو حوض کوثر پر بھی تمہارا پیشوا اور میرِ سامان ہوں۔ وہاں تم ِاکا دُکا اور گروہ گروہ بن کر میرے پاس آؤ گے۔ میں تمہیں تمہاری نشانیوں علامتوں اور ناموں سے پہچان لونگا۔ جیسے کہ ایک نو وارد انجان آدمی اپنے اونٹوں کو دوسروں کے اونٹوں سے تمیز کر لیتا ہے۔ میرے دیکھتے ہوئے تم میں سے بعض کو بائیں طرف والے عذاب کے فرشتے پکڑ کر لے جانا چاہیں گے تو میں جناب باری تعالیٰ میں عرض کروں گا۔ کہ اے اللہ یہ میری قوم کے میری امت کے لوگ ہیں۔ پس جواب دیا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ انہیں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالیں تھیں؟ یہ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹتے ہی رہتے۔ میں انہیں بھی پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اپنی گردن پر بکری لیے ہوئے آئے گا جو بکری چیخ رہی ہو گی وہ میرا نام لے کر آوازیں دے رہا ہو گا۔ لیکن میں اس سے صاف کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے سامنے تجھے کچھ کام نہیں آسکتا میں نے تو اللہ کی باتیں پہنچا دی تھیں۔ اسی طرح کوئی ہو گا جو اونٹ کو لیے ہوئے آئے گا جو بِلبلا رہا ہو گا۔ ندا کرے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے ہاں تیرے لیے کچھ اختیار نہیں رکھتا میں نے تو حق بات تمہیں پہنچا دی تھی۔ بعض آئیں گے جن کی گردن پر گھوڑا سوار ہو گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے آواز دے گا اور میں یہی جواب دوں گا بعض آئیں گے اور مشکیں لادے ہوئے پکاریں گے یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا تمہارے کسی معاملہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں تو تم تک حق بات پہنچا چکا تھا۔ [مجمع الزوائد،85/3] امام علی بن مدینی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسی حدیث کی سند ہے تو حسن لیکن اس کا ایک راوی حفص بن حمید مجہول ہے لیکن امام یحییٰ بن ابی معین نے اسے صالح کہا ہے اور نسائی اور ابن حبان نے بھی اسے ثقہ کہا ہے۔ آخرت کا یقین نہ رکھنے والے راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص سیدھی راہ سے ہٹ گیا تو عرب کہتے ہیں «نکب فلان عن الطریق» ۔ ان کے کفر کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے سختی کو ہٹادے انہیں قرآن سنا اور سمجھا بھی دے تو بھی یہ اپنے کفروعناد سے، سرکشی اور تکبر سے باز نہ آئیں گے۔ جو کچھ نہیں ہوا وہ جب ہو گا تو کس طرح ہو گا اس کا علم اللہ کو ہے۔ اس لیے اور جگہ ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں اپنے احکام سناتا اگر انہیں سناتا بھی تو وہ منہ پھیرے ہوئے اس سے گھوم جاتے یہ توجہنم کے سامنے کھڑے ہو کر ہی یقین کریں گے اور اس وقت کہیں گے کاش کہ ہم لوٹا دئیے جاتے اور رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور یقین مند ہو جاتے۔ اس سے پہلے جو چھپا تھا وہ اب کھل گیا۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ لوٹابھی دئیے جائیں تو پھر سے منع کردہ کاموں کی طرف لوٹ آئیں گے۔ پس یہ وہ بات ہے جو ہو گی نہیں لیکن اگر ہو تو کیا ہو؟ اسے اللہ جانتا ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لو سے جو جملہ قرآن کریم میں ہے وہ کبھی واقع ہونے والا نہیں۔
71-1حق سے مراد دین اور شریعت ہے۔ یعنی اگر دین ان کی خواہشات کے مطابق اترے تو ظاہر بات ہے کہ زمین و آسمان کا سارا نظام ہی درہم برہم ہوجائے۔ مثلاً وہ چاہتے ہیں کہ ایک معبود کے بجائے متعدد معبود ہوں، اگر فی الواقع ایسا ہو، تو کیا نظام کائنات ٹھیک رہ سکتے ہیں۔
(آیت 71) ➊ { وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ …:} یعنی اگر حق ان کی خواہشات کے پیچھے چلے تو زمین و آسمان کا یہ سلسلہ تباہ ہو جائے، کیونکہ ان میں سے ہر ایک کی خواہش دوسرے کی خواہش سے ٹکراتی ہے اور ان کا علم محدود ہے، نہ پوری موجود کائنات کا علم رکھتے ہیں، نہ آئندہ کی کچھ خبر رکھتے ہیں۔ ان کی خواہشات پر عمل کا نتیجہ بربادی کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔ دور کیوں جائیے، ملکوں کے منتخب نمائندے ایک قانون بناتے ہیں، جب اس کی خرابیاں سامنے آتی ہیں تو اسے ختم کر کے اور بنا دیتے ہیں، کچھ دیر کے بعد اسے بھی بدلنا پڑتا ہے۔ کتنے قانون انھوں نے خود بنائے، جن کے نتیجے میں وہ خود پھانسی کے پھندے میں جھول گئے۔ پھر یہ لوگ تو اللہ کے سوا کئی معبودوں کی پرستش کرتے ہیں، اگر ان کی خواہش کے مطابق ایک سے زیادہ معبودوں کے ہاتھ میں کائنات کا نظام دے دیا جائے تو سوچ لو کہ ایک لمحے کے لیے بھی یہ سلسلہ چل سکتا ہے؟ یہ کائنات تو صرف ایک مالک کے حکم پر چل رہی ہے، جو خود حق ہے، اس کا کلام حق ہے اور اس کا سب کچھ برحق ہے۔ دیکھیے سورۂ انبیاء کی آیت (۲۲): «لَوْ كَانَ فِيْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا» کی تفسیر۔ ➋ { بَلْ اَتَيْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ …:} ذکر کے دو معنی ہیں، ایک نصیحت اور ایک عز و شرف اور ناموری، یہاں دونوں درست ہیں۔ نصیحت اس لیے کہ کفار مکہ کہہ سکتے تھے: «لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ» [ الأنعام: ۱۵۷ ] ”اگر ہم پر کتاب نازل کی جاتی تو ہم پہلی امتوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے۔“ اللہ تعالیٰ نے ان کو شکوے کا موقع ہی نہیں دیا اور خود ہی وہ کتاب نازل فرما دی جو ان کے لیے نصیحت ہے، مگر چونکہ اس میں ان کے عیوب اور خامیوں کی اصلاح کی بات تھی، اس لیے تکبر اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے وہ اسے تسلیم کرنے کے بجائے اپنی ہی نصیحت اور خیر خواہی کی بات سے منہ موڑنے والے بن گئے۔ فعل ماضی {”أَعْرَضُوْا“} کے بجائے اسم فاعل {” مُعْرِضُوْنَ “} کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے صرف ایک دو بار ہی منہ نہیں موڑا، بلکہ پکے منہ موڑنے والے بن گئے۔ ذکر کا دوسرا معنی عز و شرف اور شہرت و ناموری ہے، یعنی یہ قرآن ایمان لانے والوں، خصوصاً عرب کے لیے تمام دنیا میں قیامت تک کے لیے عز و شرف اور ناموری کا باعث ہے، مگر یہ ایسے بدنصیب ہیں کہ انھیں اپنی ناموری اور اپنا عز و شرف بھی راس نہیں آتا۔ یہ دوسرا مطلب یہاں زیادہ موزوں معلوم ہوتا ہے۔ (واللہ اعلم)
کیا تُو ان سے کچھ مانگ رہا ہے؟ تیرے لیے تیرے رب کا دیا ہی بہتر ہے اور وہ بہترین رازق ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا آپ ان سے کوئی اجرت چاہتے ہیں؟ یاد رکھیئے کہ آپ کے رب کی اجرت بہت ہی بہتر ہے اور وه سب سے بہتر روزی رساں ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیا تم ان سے کچھ اجرت مانگتے ہو تو تمہارے رب کا اجر سب سے بھلا اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا
علامہ محمد حسین نجفی
کیا آپ ان سے کوئی معاوضہ طلب کرتے ہیں؟ تمہارے لئے تو تمہارے پروردگار کا معاوضہ بہت بہتر ہے اور وہ بہترین رازق ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یاتو ان سے کسی آمدنی کا مطالبہ کرتا ہے تو تیرے رب کی آمدنی بہتر ہے اور وہ سب رزق دینے والوں سے بہتر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن کریم سے فرار ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کر رہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہیے تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہو گئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو راضی رضامند کر دیا۔ افسوس کفار نے عقلمندی سے کام نہ لیا۔ قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ کر ہلاک ہو گئے۔ کیا یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتے نہیں؟ کیا آپ کی صداقت امانت دیانت انہیں معلوم نہیں؟ آپ تو انہی میں پیدا ہوئے انہی میں پلے انہی میں بڑے ہوئے پھر کیا وجہ ہے کہ آج اسے جھوٹا کہنے لگے جسے اس سے پہلے سچا کہتے تھے؟ دوغلے ہو رہے تھے۔ سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما نے شاہ حبش نجاشی رحمتہ اللہ علیہ سے سر دربار یہی فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین وحدہ لاشریک نے ہم میں ایک رسول بھیجا ہے جس کا نسب جس کی صداقت جس کی امانت ہمیں خوب معلوم تھی۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہا نے کسریٰ سے بوقت جنگ میدان میں یہی فرمایا تھا ابوسفیان صخر بن حرب نے شاہ روم سے یہی فرمایا تھا جب کہ سردربار اس نے ان سے اور ان کے ساتھیوں سے پوچھا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک وہ مسلمان بھی نہیں تھے لیکن انہیں آپ کی صداقت امانت دیانت سچائی اور نسب کی عمدگی کا اقرار کرنا پڑا۔ [صحیح بخاری:7] کہتے تھے اسے جنون ہے یا اس نے قرآن اپنی طرف سے گھڑلیا ہے حالانکہ بات اس طرح سے نہیں۔ حقیت صرف یہ ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں یہ قرآن پر نظریں نہیں ڈالتے اور جو زبان پر آتا ہے بک دیتے ہیں قرآن تو وہ کلام ہے جس کی مثل اور نظیر سے ساری دنیا عاجز آ گئی باوجود سخت مخالفت کے اور باجود پوری کوشش اور انتہائی مقابلے کے کسی سے نہ بن پڑا کہ اس جیسا قرآن خود بنا لیتا یا سب کی مدد لے کر اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاتا۔ یہ تو سراسر حق ہے اور انہیں حق سے چڑ ہے پچھلا جملہ حال ہے اور ہوسکتا ہے کہ خبر یہ «مستانفعہ» ، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص سے فرمایا مسلمان ہو جا اس نے کہا اگرچہ مجھے یہ ناگوار ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اگرچہ ناگوار ہو ایک روایت میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں ملا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اسلام قبول کر اسے یہ بُرا محسوس ہوا اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو اگر تم کسی غیر آباد خطرناک غلط راستے پر چلے جا رہے ہو اور تمہیں ایک شخص ملے جس کے نام نسب سے جس کی سچائی اور امانت داری سے تم بخوبی واقف ہو وہ تم سے کہے کہ اس راستے پر چلو جو وسیع آسان سیدھا اور صاف ہے بتاؤ تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلو گے یا نہیں؟ اس نے کہا ہاں ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریاما بس تو یقین مانو قسم اللہ کی تم اس دن بھی سخت دشوار اور خطرناک راہ سے بھی زیادہ بری راہ پر ہو اور میں تمہیں آسان راہ کی دعوت دیتا ہوں میری مان لو۔ مذکور ہے کہ ایک اور ایسے ہی شخص سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جب کہ اس نے دعوت اسلام کا برا منایا بتا تو؟ اگر تیرے دوساتھی ہوں ایک تو سچا امانت دار دوسرا جھوٹا خیانت پیشہ بتاؤ تم کس سے محبت کرو گے اس نے کہا سچے امین سے۔ فرمایا اسی طرح تم لوگ اپنے رب کے نزدیک ہو حق سے مراد بقول سدی رحمتہ اللہ علیہ خود اللہ تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اگر انہی کی مرضی کے مطابق شریعت مقرر کرتا تو زمینوں آسمان بگڑ جاتے جیسے اور آیت میں کہ کافروں نے کہا ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے شخص کے اوپر یہ قرآن کیوں نہ اترا اس کے جواب میں فرمان ہے کہ کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے اور آیت میں ہے کہ اور اگر انہیں ملک کے کسی حصے کا مالک بنا دیا ہوتا تو کسی کو ایک کوڑی بھی نہ پرکھاتے۔ پس ان آیتوں میں جناب باری تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ انسانی دماغ مخلوق کے انتظام کی قابلیت میں نااہل ہے یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ اس کی صفتیں اس کے فرمان اس کے افعال اس کی شریعت اس کی تقدیر اس کی تدبیر تمام مخلوق کو حاوی ہے اور تمام مخلوق کی حاجت بر آوری اور ان کی مصلحت کے مطابق ہے اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے نہ پالنہار ہے پھر فرمایا اس قرآن کو ان کی نصیحت کے لیے ہم لائے اور یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں۔
پھر ارشاد ہے کہ تو تبلیغ قرآن پر ان سے کوئی اجرت نہیں مانگتا تیری نظریں اللہ پر ہیں وہی تجھے اس کا اجر دے گا جیسے فرمایا جو بدلہ میں تم سے مانگو وہ بھی تمہیں ہی دیا میں تو اجر کا طالب صرف اللہ ہی سے ہوں۔ ایک آیت میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ اعلان کر دو کہ نہ میں کوئی بدلہ چاہتا ہوں نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں اور جگہ ہے کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا۔ صرف قرابت داری کی محبت کا خواہاں ہوں۔ سورۃ یاسین میں ہے کہ شہر کے دور کے کنارے سے جو شخص دوڑا ہوا آیا اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں نبیوں کی اطاعت کرو جو تم سے کسی اجر کے خواہاں نہیں یہاں فرمایا وہی بہترین رازق ہے۔ تو لوگوں کو صحیح راہ کی طرف بلارہا ہے۔
مسند امام احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے جو دو فرشتے آئے ایک آپ کے پاؤں میں بیٹھا دوسرا سر کی طرف پہلے نے دوسرے سے کہا ان کی اور دوسروں کی امت کی مثالیں بیان کرو اس نے کہا ان کی مثال ان مسافروں کے قافلے کی مثل ہے جو ایک بیابان چٹیل میدان میں تھے ان کے پاس نہ توشہ تھا نہ دانہ پانی نہ آگے بڑھنے کی قوت نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت حیران تھے کہ کیا ہو گا اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک بھلا آدمی ایک شریف انسان عمدہ لباس پہنے ہوئے آ رہا ہے اس نے آتے ہی ان کی گھبراہٹ اور پریشانی دیکھ کر ان سے کہا کہ اگر تم میرا کہا مانو اور میرے پیچھے چلو تو میں تمہیں پھلوں سے لدے ہوئے باغوں اور پانی سے بھرے حوضوں پر پہنچا دوں۔ سب نے اس کی بات مان لی اور اس نے انہیں فی الواقع ہرے بھرے تروتازہ باغوں اور جاری چشموں میں پہنچا دیا یہاں ان لوگوں نے بیروک ٹوک کھایا پیا اور آسودہ حالی کی وجہ سے موٹے تازہ ہو گئے ایک دن اس نے کہا دیکھو میں تمہیں اس ہلاکت وافلاس سے بچا کریہاں لایا اور اس فارغ البالی میں پہنچایا۔ اب اگر تم میری مانو تو میں تمہیں اس سے بھی اعلیٰ باغات اور اس سے طیب جگہ اور اس سے بھی زیادہ جگہ لہردار نہروں کی طرف لے چلوں اس پر ایک جماعت تو تیار ہو گئی اور انہوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن دوسری جماعت نے کہاہمیں اور زیادہ کی ضرورت نہیں بس یہیں رہ پڑے۔ [مسند احمد:267/1:ضعیف]
ابویعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تمہیں اپنی باہوں میں سمیٹ کرتمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر جہنم سے روک رہا ہوں۔ لیکن تم پرنالوں اور برساتی کیڑوں کی طرح میرے ہاتھوں سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گر رہے ہو کیا تم یہ چاہتے ہو؟ کہ میں تمہیں چھوڑ دوں؟ سنو میں تو حوض کوثر پر بھی تمہارا پیشوا اور میرِ سامان ہوں۔ وہاں تم ِاکا دُکا اور گروہ گروہ بن کر میرے پاس آؤ گے۔ میں تمہیں تمہاری نشانیوں علامتوں اور ناموں سے پہچان لونگا۔ جیسے کہ ایک نو وارد انجان آدمی اپنے اونٹوں کو دوسروں کے اونٹوں سے تمیز کر لیتا ہے۔ میرے دیکھتے ہوئے تم میں سے بعض کو بائیں طرف والے عذاب کے فرشتے پکڑ کر لے جانا چاہیں گے تو میں جناب باری تعالیٰ میں عرض کروں گا۔ کہ اے اللہ یہ میری قوم کے میری امت کے لوگ ہیں۔ پس جواب دیا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ انہیں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالیں تھیں؟ یہ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹتے ہی رہتے۔ میں انہیں بھی پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اپنی گردن پر بکری لیے ہوئے آئے گا جو بکری چیخ رہی ہو گی وہ میرا نام لے کر آوازیں دے رہا ہو گا۔ لیکن میں اس سے صاف کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے سامنے تجھے کچھ کام نہیں آسکتا میں نے تو اللہ کی باتیں پہنچا دی تھیں۔ اسی طرح کوئی ہو گا جو اونٹ کو لیے ہوئے آئے گا جو بِلبلا رہا ہو گا۔ ندا کرے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے ہاں تیرے لیے کچھ اختیار نہیں رکھتا میں نے تو حق بات تمہیں پہنچا دی تھی۔ بعض آئیں گے جن کی گردن پر گھوڑا سوار ہو گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے آواز دے گا اور میں یہی جواب دوں گا بعض آئیں گے اور مشکیں لادے ہوئے پکاریں گے یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا تمہارے کسی معاملہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں تو تم تک حق بات پہنچا چکا تھا۔ [مجمع الزوائد،85/3] امام علی بن مدینی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسی حدیث کی سند ہے تو حسن لیکن اس کا ایک راوی حفص بن حمید مجہول ہے لیکن امام یحییٰ بن ابی معین نے اسے صالح کہا ہے اور نسائی اور ابن حبان نے بھی اسے ثقہ کہا ہے۔ آخرت کا یقین نہ رکھنے والے راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص سیدھی راہ سے ہٹ گیا تو عرب کہتے ہیں «نکب فلان عن الطریق» ۔ ان کے کفر کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے سختی کو ہٹادے انہیں قرآن سنا اور سمجھا بھی دے تو بھی یہ اپنے کفروعناد سے، سرکشی اور تکبر سے باز نہ آئیں گے۔ جو کچھ نہیں ہوا وہ جب ہو گا تو کس طرح ہو گا اس کا علم اللہ کو ہے۔ اس لیے اور جگہ ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں اپنے احکام سناتا اگر انہیں سناتا بھی تو وہ منہ پھیرے ہوئے اس سے گھوم جاتے یہ توجہنم کے سامنے کھڑے ہو کر ہی یقین کریں گے اور اس وقت کہیں گے کاش کہ ہم لوٹا دئیے جاتے اور رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور یقین مند ہو جاتے۔ اس سے پہلے جو چھپا تھا وہ اب کھل گیا۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ لوٹابھی دئیے جائیں تو پھر سے منع کردہ کاموں کی طرف لوٹ آئیں گے۔ پس یہ وہ بات ہے جو ہو گی نہیں لیکن اگر ہو تو کیا ہو؟ اسے اللہ جانتا ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لو سے جو جملہ قرآن کریم میں ہے وہ کبھی واقع ہونے والا نہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 72){ اَمْ تَسْـَٔلُهُمْ خَرْجًا …: ”خَرْجٌ“} اور {”خَرَاجٌ“} کسی شخص کو ادا کیا جانے والا روزانہ، ماہانہ یا سالانہ عطیہ۔ یہ ان کے انکار کی پانچویں وجہ ہے، جو ممکن ہو سکتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، یا پھر یہ وجہ ہو سکتی ہے کہ آپ ان سے روزانہ، ماہانہ یا سالانہ کسی تنخواہ کا سوال کرتے ہوں، جسے وہ بوجھ محسوس کرتے ہوں، تو ان سے کہہ دیجیے کہ مجھے تم سے کسی اجرت کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ ان کا دیا ہوا تو ختم ہو جائے گا مگر دنیا اور آخرت میں آپ کے رب کی طرف سے عطا کیا جانے والا رزق کبھی ختم ہونے والا نہیں اور اس سے بہتر روزی دینے والا کوئی نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب آپ دعوت حق کا یہ کام بالکل بے لوث ہو کر کر رہے ہیں اور ان سے کوئی حق الخدمت طلب نہیں کرتے تو ان کا آپ کی دعوت کو ٹھکرانا سراسر حماقت اور عاقبت نااندیشی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی جگہ صاف اعلان کرنے کا حکم دیا ہے کہ میں تم سے کسی اجرت یا بدلے کا مطالبہ نہیں کرتا۔ مثلاً سورۂ ص (۸۶) وغیرہ۔
اور بےشک آپ ان لوگوں کو سیدھے راستے کی طرف بلاتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بے شک تو یقینا انھیں سیدھے راستے کی طرف بلاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن کریم سے فرار ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کر رہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہیے تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہو گئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو راضی رضامند کر دیا۔ افسوس کفار نے عقلمندی سے کام نہ لیا۔ قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ کر ہلاک ہو گئے۔ کیا یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتے نہیں؟ کیا آپ کی صداقت امانت دیانت انہیں معلوم نہیں؟ آپ تو انہی میں پیدا ہوئے انہی میں پلے انہی میں بڑے ہوئے پھر کیا وجہ ہے کہ آج اسے جھوٹا کہنے لگے جسے اس سے پہلے سچا کہتے تھے؟ دوغلے ہو رہے تھے۔ سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما نے شاہ حبش نجاشی رحمتہ اللہ علیہ سے سر دربار یہی فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین وحدہ لاشریک نے ہم میں ایک رسول بھیجا ہے جس کا نسب جس کی صداقت جس کی امانت ہمیں خوب معلوم تھی۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہا نے کسریٰ سے بوقت جنگ میدان میں یہی فرمایا تھا ابوسفیان صخر بن حرب نے شاہ روم سے یہی فرمایا تھا جب کہ سردربار اس نے ان سے اور ان کے ساتھیوں سے پوچھا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک وہ مسلمان بھی نہیں تھے لیکن انہیں آپ کی صداقت امانت دیانت سچائی اور نسب کی عمدگی کا اقرار کرنا پڑا۔ [صحیح بخاری:7] کہتے تھے اسے جنون ہے یا اس نے قرآن اپنی طرف سے گھڑلیا ہے حالانکہ بات اس طرح سے نہیں۔ حقیت صرف یہ ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں یہ قرآن پر نظریں نہیں ڈالتے اور جو زبان پر آتا ہے بک دیتے ہیں قرآن تو وہ کلام ہے جس کی مثل اور نظیر سے ساری دنیا عاجز آ گئی باوجود سخت مخالفت کے اور باجود پوری کوشش اور انتہائی مقابلے کے کسی سے نہ بن پڑا کہ اس جیسا قرآن خود بنا لیتا یا سب کی مدد لے کر اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاتا۔ یہ تو سراسر حق ہے اور انہیں حق سے چڑ ہے پچھلا جملہ حال ہے اور ہوسکتا ہے کہ خبر یہ «مستانفعہ» ، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص سے فرمایا مسلمان ہو جا اس نے کہا اگرچہ مجھے یہ ناگوار ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اگرچہ ناگوار ہو ایک روایت میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں ملا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اسلام قبول کر اسے یہ بُرا محسوس ہوا اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو اگر تم کسی غیر آباد خطرناک غلط راستے پر چلے جا رہے ہو اور تمہیں ایک شخص ملے جس کے نام نسب سے جس کی سچائی اور امانت داری سے تم بخوبی واقف ہو وہ تم سے کہے کہ اس راستے پر چلو جو وسیع آسان سیدھا اور صاف ہے بتاؤ تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلو گے یا نہیں؟ اس نے کہا ہاں ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریاما بس تو یقین مانو قسم اللہ کی تم اس دن بھی سخت دشوار اور خطرناک راہ سے بھی زیادہ بری راہ پر ہو اور میں تمہیں آسان راہ کی دعوت دیتا ہوں میری مان لو۔ مذکور ہے کہ ایک اور ایسے ہی شخص سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جب کہ اس نے دعوت اسلام کا برا منایا بتا تو؟ اگر تیرے دوساتھی ہوں ایک تو سچا امانت دار دوسرا جھوٹا خیانت پیشہ بتاؤ تم کس سے محبت کرو گے اس نے کہا سچے امین سے۔ فرمایا اسی طرح تم لوگ اپنے رب کے نزدیک ہو حق سے مراد بقول سدی رحمتہ اللہ علیہ خود اللہ تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اگر انہی کی مرضی کے مطابق شریعت مقرر کرتا تو زمینوں آسمان بگڑ جاتے جیسے اور آیت میں کہ کافروں نے کہا ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے شخص کے اوپر یہ قرآن کیوں نہ اترا اس کے جواب میں فرمان ہے کہ کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے اور آیت میں ہے کہ اور اگر انہیں ملک کے کسی حصے کا مالک بنا دیا ہوتا تو کسی کو ایک کوڑی بھی نہ پرکھاتے۔ پس ان آیتوں میں جناب باری تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ انسانی دماغ مخلوق کے انتظام کی قابلیت میں نااہل ہے یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ اس کی صفتیں اس کے فرمان اس کے افعال اس کی شریعت اس کی تقدیر اس کی تدبیر تمام مخلوق کو حاوی ہے اور تمام مخلوق کی حاجت بر آوری اور ان کی مصلحت کے مطابق ہے اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے نہ پالنہار ہے پھر فرمایا اس قرآن کو ان کی نصیحت کے لیے ہم لائے اور یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں۔
پھر ارشاد ہے کہ تو تبلیغ قرآن پر ان سے کوئی اجرت نہیں مانگتا تیری نظریں اللہ پر ہیں وہی تجھے اس کا اجر دے گا جیسے فرمایا جو بدلہ میں تم سے مانگو وہ بھی تمہیں ہی دیا میں تو اجر کا طالب صرف اللہ ہی سے ہوں۔ ایک آیت میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ اعلان کر دو کہ نہ میں کوئی بدلہ چاہتا ہوں نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں اور جگہ ہے کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا۔ صرف قرابت داری کی محبت کا خواہاں ہوں۔ سورۃ یاسین میں ہے کہ شہر کے دور کے کنارے سے جو شخص دوڑا ہوا آیا اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں نبیوں کی اطاعت کرو جو تم سے کسی اجر کے خواہاں نہیں یہاں فرمایا وہی بہترین رازق ہے۔ تو لوگوں کو صحیح راہ کی طرف بلارہا ہے۔
مسند امام احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے جو دو فرشتے آئے ایک آپ کے پاؤں میں بیٹھا دوسرا سر کی طرف پہلے نے دوسرے سے کہا ان کی اور دوسروں کی امت کی مثالیں بیان کرو اس نے کہا ان کی مثال ان مسافروں کے قافلے کی مثل ہے جو ایک بیابان چٹیل میدان میں تھے ان کے پاس نہ توشہ تھا نہ دانہ پانی نہ آگے بڑھنے کی قوت نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت حیران تھے کہ کیا ہو گا اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک بھلا آدمی ایک شریف انسان عمدہ لباس پہنے ہوئے آ رہا ہے اس نے آتے ہی ان کی گھبراہٹ اور پریشانی دیکھ کر ان سے کہا کہ اگر تم میرا کہا مانو اور میرے پیچھے چلو تو میں تمہیں پھلوں سے لدے ہوئے باغوں اور پانی سے بھرے حوضوں پر پہنچا دوں۔ سب نے اس کی بات مان لی اور اس نے انہیں فی الواقع ہرے بھرے تروتازہ باغوں اور جاری چشموں میں پہنچا دیا یہاں ان لوگوں نے بیروک ٹوک کھایا پیا اور آسودہ حالی کی وجہ سے موٹے تازہ ہو گئے ایک دن اس نے کہا دیکھو میں تمہیں اس ہلاکت وافلاس سے بچا کریہاں لایا اور اس فارغ البالی میں پہنچایا۔ اب اگر تم میری مانو تو میں تمہیں اس سے بھی اعلیٰ باغات اور اس سے طیب جگہ اور اس سے بھی زیادہ جگہ لہردار نہروں کی طرف لے چلوں اس پر ایک جماعت تو تیار ہو گئی اور انہوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن دوسری جماعت نے کہاہمیں اور زیادہ کی ضرورت نہیں بس یہیں رہ پڑے۔ [مسند احمد:267/1:ضعیف]
ابویعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تمہیں اپنی باہوں میں سمیٹ کرتمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر جہنم سے روک رہا ہوں۔ لیکن تم پرنالوں اور برساتی کیڑوں کی طرح میرے ہاتھوں سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گر رہے ہو کیا تم یہ چاہتے ہو؟ کہ میں تمہیں چھوڑ دوں؟ سنو میں تو حوض کوثر پر بھی تمہارا پیشوا اور میرِ سامان ہوں۔ وہاں تم ِاکا دُکا اور گروہ گروہ بن کر میرے پاس آؤ گے۔ میں تمہیں تمہاری نشانیوں علامتوں اور ناموں سے پہچان لونگا۔ جیسے کہ ایک نو وارد انجان آدمی اپنے اونٹوں کو دوسروں کے اونٹوں سے تمیز کر لیتا ہے۔ میرے دیکھتے ہوئے تم میں سے بعض کو بائیں طرف والے عذاب کے فرشتے پکڑ کر لے جانا چاہیں گے تو میں جناب باری تعالیٰ میں عرض کروں گا۔ کہ اے اللہ یہ میری قوم کے میری امت کے لوگ ہیں۔ پس جواب دیا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ انہیں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالیں تھیں؟ یہ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹتے ہی رہتے۔ میں انہیں بھی پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اپنی گردن پر بکری لیے ہوئے آئے گا جو بکری چیخ رہی ہو گی وہ میرا نام لے کر آوازیں دے رہا ہو گا۔ لیکن میں اس سے صاف کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے سامنے تجھے کچھ کام نہیں آسکتا میں نے تو اللہ کی باتیں پہنچا دی تھیں۔ اسی طرح کوئی ہو گا جو اونٹ کو لیے ہوئے آئے گا جو بِلبلا رہا ہو گا۔ ندا کرے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے ہاں تیرے لیے کچھ اختیار نہیں رکھتا میں نے تو حق بات تمہیں پہنچا دی تھی۔ بعض آئیں گے جن کی گردن پر گھوڑا سوار ہو گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے آواز دے گا اور میں یہی جواب دوں گا بعض آئیں گے اور مشکیں لادے ہوئے پکاریں گے یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا تمہارے کسی معاملہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں تو تم تک حق بات پہنچا چکا تھا۔ [مجمع الزوائد،85/3] امام علی بن مدینی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسی حدیث کی سند ہے تو حسن لیکن اس کا ایک راوی حفص بن حمید مجہول ہے لیکن امام یحییٰ بن ابی معین نے اسے صالح کہا ہے اور نسائی اور ابن حبان نے بھی اسے ثقہ کہا ہے۔ آخرت کا یقین نہ رکھنے والے راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص سیدھی راہ سے ہٹ گیا تو عرب کہتے ہیں «نکب فلان عن الطریق» ۔ ان کے کفر کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے سختی کو ہٹادے انہیں قرآن سنا اور سمجھا بھی دے تو بھی یہ اپنے کفروعناد سے، سرکشی اور تکبر سے باز نہ آئیں گے۔ جو کچھ نہیں ہوا وہ جب ہو گا تو کس طرح ہو گا اس کا علم اللہ کو ہے۔ اس لیے اور جگہ ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں اپنے احکام سناتا اگر انہیں سناتا بھی تو وہ منہ پھیرے ہوئے اس سے گھوم جاتے یہ توجہنم کے سامنے کھڑے ہو کر ہی یقین کریں گے اور اس وقت کہیں گے کاش کہ ہم لوٹا دئیے جاتے اور رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور یقین مند ہو جاتے۔ اس سے پہلے جو چھپا تھا وہ اب کھل گیا۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ لوٹابھی دئیے جائیں تو پھر سے منع کردہ کاموں کی طرف لوٹ آئیں گے۔ پس یہ وہ بات ہے جو ہو گی نہیں لیکن اگر ہو تو کیا ہو؟ اسے اللہ جانتا ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لو سے جو جملہ قرآن کریم میں ہے وہ کبھی واقع ہونے والا نہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 73){ وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ:} یعنی ان پانچوں باتوں میں سے ایک کا وجود بھی نہیں، جس کی وجہ سے یہ آپ کو جھٹلا سکیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ انھیں بالکل سیدھے راستے کی طرف دعوت دیتے ہیں، جسے کوئی الٹی سمجھ والا ہی ٹھکرا سکتا ہے۔ صراط مستقیم سے مراد اسلام ہے۔
مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ راہِ راست سے ہٹ کر چلنا چاہتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بےشک جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے وه سیدھے راستے سے مڑ جانے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک جو آخرت پر ایما ن نہیں لاتے ضرور سیدھی راہ سے کترائے ہوئے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ راہ سے ہٹے ہوئے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بے شک وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، یقینا اصل راستے سے ہٹے ہوئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن کریم سے فرار ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کر رہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہیے تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہو گئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو راضی رضامند کر دیا۔ افسوس کفار نے عقلمندی سے کام نہ لیا۔ قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ کر ہلاک ہو گئے۔ کیا یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتے نہیں؟ کیا آپ کی صداقت امانت دیانت انہیں معلوم نہیں؟ آپ تو انہی میں پیدا ہوئے انہی میں پلے انہی میں بڑے ہوئے پھر کیا وجہ ہے کہ آج اسے جھوٹا کہنے لگے جسے اس سے پہلے سچا کہتے تھے؟ دوغلے ہو رہے تھے۔ سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما نے شاہ حبش نجاشی رحمتہ اللہ علیہ سے سر دربار یہی فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین وحدہ لاشریک نے ہم میں ایک رسول بھیجا ہے جس کا نسب جس کی صداقت جس کی امانت ہمیں خوب معلوم تھی۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہا نے کسریٰ سے بوقت جنگ میدان میں یہی فرمایا تھا ابوسفیان صخر بن حرب نے شاہ روم سے یہی فرمایا تھا جب کہ سردربار اس نے ان سے اور ان کے ساتھیوں سے پوچھا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک وہ مسلمان بھی نہیں تھے لیکن انہیں آپ کی صداقت امانت دیانت سچائی اور نسب کی عمدگی کا اقرار کرنا پڑا۔ [صحیح بخاری:7] کہتے تھے اسے جنون ہے یا اس نے قرآن اپنی طرف سے گھڑلیا ہے حالانکہ بات اس طرح سے نہیں۔ حقیت صرف یہ ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں یہ قرآن پر نظریں نہیں ڈالتے اور جو زبان پر آتا ہے بک دیتے ہیں قرآن تو وہ کلام ہے جس کی مثل اور نظیر سے ساری دنیا عاجز آ گئی باوجود سخت مخالفت کے اور باجود پوری کوشش اور انتہائی مقابلے کے کسی سے نہ بن پڑا کہ اس جیسا قرآن خود بنا لیتا یا سب کی مدد لے کر اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاتا۔ یہ تو سراسر حق ہے اور انہیں حق سے چڑ ہے پچھلا جملہ حال ہے اور ہوسکتا ہے کہ خبر یہ «مستانفعہ» ، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص سے فرمایا مسلمان ہو جا اس نے کہا اگرچہ مجھے یہ ناگوار ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اگرچہ ناگوار ہو ایک روایت میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں ملا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اسلام قبول کر اسے یہ بُرا محسوس ہوا اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو اگر تم کسی غیر آباد خطرناک غلط راستے پر چلے جا رہے ہو اور تمہیں ایک شخص ملے جس کے نام نسب سے جس کی سچائی اور امانت داری سے تم بخوبی واقف ہو وہ تم سے کہے کہ اس راستے پر چلو جو وسیع آسان سیدھا اور صاف ہے بتاؤ تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلو گے یا نہیں؟ اس نے کہا ہاں ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریاما بس تو یقین مانو قسم اللہ کی تم اس دن بھی سخت دشوار اور خطرناک راہ سے بھی زیادہ بری راہ پر ہو اور میں تمہیں آسان راہ کی دعوت دیتا ہوں میری مان لو۔ مذکور ہے کہ ایک اور ایسے ہی شخص سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جب کہ اس نے دعوت اسلام کا برا منایا بتا تو؟ اگر تیرے دوساتھی ہوں ایک تو سچا امانت دار دوسرا جھوٹا خیانت پیشہ بتاؤ تم کس سے محبت کرو گے اس نے کہا سچے امین سے۔ فرمایا اسی طرح تم لوگ اپنے رب کے نزدیک ہو حق سے مراد بقول سدی رحمتہ اللہ علیہ خود اللہ تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اگر انہی کی مرضی کے مطابق شریعت مقرر کرتا تو زمینوں آسمان بگڑ جاتے جیسے اور آیت میں کہ کافروں نے کہا ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے شخص کے اوپر یہ قرآن کیوں نہ اترا اس کے جواب میں فرمان ہے کہ کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے اور آیت میں ہے کہ اور اگر انہیں ملک کے کسی حصے کا مالک بنا دیا ہوتا تو کسی کو ایک کوڑی بھی نہ پرکھاتے۔ پس ان آیتوں میں جناب باری تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ انسانی دماغ مخلوق کے انتظام کی قابلیت میں نااہل ہے یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ اس کی صفتیں اس کے فرمان اس کے افعال اس کی شریعت اس کی تقدیر اس کی تدبیر تمام مخلوق کو حاوی ہے اور تمام مخلوق کی حاجت بر آوری اور ان کی مصلحت کے مطابق ہے اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے نہ پالنہار ہے پھر فرمایا اس قرآن کو ان کی نصیحت کے لیے ہم لائے اور یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں۔
پھر ارشاد ہے کہ تو تبلیغ قرآن پر ان سے کوئی اجرت نہیں مانگتا تیری نظریں اللہ پر ہیں وہی تجھے اس کا اجر دے گا جیسے فرمایا جو بدلہ میں تم سے مانگو وہ بھی تمہیں ہی دیا میں تو اجر کا طالب صرف اللہ ہی سے ہوں۔ ایک آیت میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ اعلان کر دو کہ نہ میں کوئی بدلہ چاہتا ہوں نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں اور جگہ ہے کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا۔ صرف قرابت داری کی محبت کا خواہاں ہوں۔ سورۃ یاسین میں ہے کہ شہر کے دور کے کنارے سے جو شخص دوڑا ہوا آیا اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں نبیوں کی اطاعت کرو جو تم سے کسی اجر کے خواہاں نہیں یہاں فرمایا وہی بہترین رازق ہے۔ تو لوگوں کو صحیح راہ کی طرف بلارہا ہے۔
مسند امام احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے جو دو فرشتے آئے ایک آپ کے پاؤں میں بیٹھا دوسرا سر کی طرف پہلے نے دوسرے سے کہا ان کی اور دوسروں کی امت کی مثالیں بیان کرو اس نے کہا ان کی مثال ان مسافروں کے قافلے کی مثل ہے جو ایک بیابان چٹیل میدان میں تھے ان کے پاس نہ توشہ تھا نہ دانہ پانی نہ آگے بڑھنے کی قوت نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت حیران تھے کہ کیا ہو گا اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک بھلا آدمی ایک شریف انسان عمدہ لباس پہنے ہوئے آ رہا ہے اس نے آتے ہی ان کی گھبراہٹ اور پریشانی دیکھ کر ان سے کہا کہ اگر تم میرا کہا مانو اور میرے پیچھے چلو تو میں تمہیں پھلوں سے لدے ہوئے باغوں اور پانی سے بھرے حوضوں پر پہنچا دوں۔ سب نے اس کی بات مان لی اور اس نے انہیں فی الواقع ہرے بھرے تروتازہ باغوں اور جاری چشموں میں پہنچا دیا یہاں ان لوگوں نے بیروک ٹوک کھایا پیا اور آسودہ حالی کی وجہ سے موٹے تازہ ہو گئے ایک دن اس نے کہا دیکھو میں تمہیں اس ہلاکت وافلاس سے بچا کریہاں لایا اور اس فارغ البالی میں پہنچایا۔ اب اگر تم میری مانو تو میں تمہیں اس سے بھی اعلیٰ باغات اور اس سے طیب جگہ اور اس سے بھی زیادہ جگہ لہردار نہروں کی طرف لے چلوں اس پر ایک جماعت تو تیار ہو گئی اور انہوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن دوسری جماعت نے کہاہمیں اور زیادہ کی ضرورت نہیں بس یہیں رہ پڑے۔ [مسند احمد:267/1:ضعیف]
ابویعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تمہیں اپنی باہوں میں سمیٹ کرتمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر جہنم سے روک رہا ہوں۔ لیکن تم پرنالوں اور برساتی کیڑوں کی طرح میرے ہاتھوں سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گر رہے ہو کیا تم یہ چاہتے ہو؟ کہ میں تمہیں چھوڑ دوں؟ سنو میں تو حوض کوثر پر بھی تمہارا پیشوا اور میرِ سامان ہوں۔ وہاں تم ِاکا دُکا اور گروہ گروہ بن کر میرے پاس آؤ گے۔ میں تمہیں تمہاری نشانیوں علامتوں اور ناموں سے پہچان لونگا۔ جیسے کہ ایک نو وارد انجان آدمی اپنے اونٹوں کو دوسروں کے اونٹوں سے تمیز کر لیتا ہے۔ میرے دیکھتے ہوئے تم میں سے بعض کو بائیں طرف والے عذاب کے فرشتے پکڑ کر لے جانا چاہیں گے تو میں جناب باری تعالیٰ میں عرض کروں گا۔ کہ اے اللہ یہ میری قوم کے میری امت کے لوگ ہیں۔ پس جواب دیا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ انہیں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالیں تھیں؟ یہ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹتے ہی رہتے۔ میں انہیں بھی پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اپنی گردن پر بکری لیے ہوئے آئے گا جو بکری چیخ رہی ہو گی وہ میرا نام لے کر آوازیں دے رہا ہو گا۔ لیکن میں اس سے صاف کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے سامنے تجھے کچھ کام نہیں آسکتا میں نے تو اللہ کی باتیں پہنچا دی تھیں۔ اسی طرح کوئی ہو گا جو اونٹ کو لیے ہوئے آئے گا جو بِلبلا رہا ہو گا۔ ندا کرے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے ہاں تیرے لیے کچھ اختیار نہیں رکھتا میں نے تو حق بات تمہیں پہنچا دی تھی۔ بعض آئیں گے جن کی گردن پر گھوڑا سوار ہو گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے آواز دے گا اور میں یہی جواب دوں گا بعض آئیں گے اور مشکیں لادے ہوئے پکاریں گے یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا تمہارے کسی معاملہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں تو تم تک حق بات پہنچا چکا تھا۔ [مجمع الزوائد،85/3] امام علی بن مدینی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسی حدیث کی سند ہے تو حسن لیکن اس کا ایک راوی حفص بن حمید مجہول ہے لیکن امام یحییٰ بن ابی معین نے اسے صالح کہا ہے اور نسائی اور ابن حبان نے بھی اسے ثقہ کہا ہے۔ آخرت کا یقین نہ رکھنے والے راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص سیدھی راہ سے ہٹ گیا تو عرب کہتے ہیں «نکب فلان عن الطریق» ۔ ان کے کفر کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے سختی کو ہٹادے انہیں قرآن سنا اور سمجھا بھی دے تو بھی یہ اپنے کفروعناد سے، سرکشی اور تکبر سے باز نہ آئیں گے۔ جو کچھ نہیں ہوا وہ جب ہو گا تو کس طرح ہو گا اس کا علم اللہ کو ہے۔ اس لیے اور جگہ ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں اپنے احکام سناتا اگر انہیں سناتا بھی تو وہ منہ پھیرے ہوئے اس سے گھوم جاتے یہ توجہنم کے سامنے کھڑے ہو کر ہی یقین کریں گے اور اس وقت کہیں گے کاش کہ ہم لوٹا دئیے جاتے اور رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور یقین مند ہو جاتے۔ اس سے پہلے جو چھپا تھا وہ اب کھل گیا۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ لوٹابھی دئیے جائیں تو پھر سے منع کردہ کاموں کی طرف لوٹ آئیں گے۔ پس یہ وہ بات ہے جو ہو گی نہیں لیکن اگر ہو تو کیا ہو؟ اسے اللہ جانتا ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لو سے جو جملہ قرآن کریم میں ہے وہ کبھی واقع ہونے والا نہیں۔
74-1یعنی صراط مستقیم سے انحراف کی وجہ آخرت پر عدم ایمان ہے۔
(آیت 74){ وَ اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ:} یعنی سیدھے راستے سے ہٹنے کا اصل باعث آخرت پر ایمان کا نہ ہونا ہے۔ اگر پختہ یقین ہو کہ آخرت کو اللہ کے حضور پیش ہونا ہے تو ممکن نہیں کہ آدمی صحیح راستہ جاننے کے بعد غلط راستوں پر چلتا رہے۔
اگر ہم اِن پر رحم کریں اور وہ تکلیف جس میں آج کل یہ مبتلا ہیں دُور کر دیں تو یہ اپنی سرکشی میں بالکل ہی بہک جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر ہم ان پر رحم فرمائیں اور ان کی تکلیفیں دور کردیں تو یہ تو اپنی اپنی سرکشی میں جم کر اور بہکنے لگیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور جو مصیبت ان پر پڑی ہے ٹال دیں تو ضرور بھٹ پنا (احسان فراموشی) کریں گے اپنی سرکشی میں بہکتے ہوئے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور جس تکلیف میں مبتلا ہیں وہ بھی دور کر دیں تو بھی یہ لوگ اپنی سرکشی میں اندھا دھند بڑھتے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور انھیں جو بھی تکلیف لاحق ہے دور کر دیں تو بھی وہ یقینا اپنی سر کشی میں اصرار کریں گے، اس حال میں کہ بھٹک رہے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن کریم سے فرار ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کر رہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہیے تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہو گئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو راضی رضامند کر دیا۔ افسوس کفار نے عقلمندی سے کام نہ لیا۔ قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ کر ہلاک ہو گئے۔ کیا یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتے نہیں؟ کیا آپ کی صداقت امانت دیانت انہیں معلوم نہیں؟ آپ تو انہی میں پیدا ہوئے انہی میں پلے انہی میں بڑے ہوئے پھر کیا وجہ ہے کہ آج اسے جھوٹا کہنے لگے جسے اس سے پہلے سچا کہتے تھے؟ دوغلے ہو رہے تھے۔ سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما نے شاہ حبش نجاشی رحمتہ اللہ علیہ سے سر دربار یہی فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین وحدہ لاشریک نے ہم میں ایک رسول بھیجا ہے جس کا نسب جس کی صداقت جس کی امانت ہمیں خوب معلوم تھی۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہا نے کسریٰ سے بوقت جنگ میدان میں یہی فرمایا تھا ابوسفیان صخر بن حرب نے شاہ روم سے یہی فرمایا تھا جب کہ سردربار اس نے ان سے اور ان کے ساتھیوں سے پوچھا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک وہ مسلمان بھی نہیں تھے لیکن انہیں آپ کی صداقت امانت دیانت سچائی اور نسب کی عمدگی کا اقرار کرنا پڑا۔ [صحیح بخاری:7] کہتے تھے اسے جنون ہے یا اس نے قرآن اپنی طرف سے گھڑلیا ہے حالانکہ بات اس طرح سے نہیں۔ حقیت صرف یہ ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں یہ قرآن پر نظریں نہیں ڈالتے اور جو زبان پر آتا ہے بک دیتے ہیں قرآن تو وہ کلام ہے جس کی مثل اور نظیر سے ساری دنیا عاجز آ گئی باوجود سخت مخالفت کے اور باجود پوری کوشش اور انتہائی مقابلے کے کسی سے نہ بن پڑا کہ اس جیسا قرآن خود بنا لیتا یا سب کی مدد لے کر اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاتا۔ یہ تو سراسر حق ہے اور انہیں حق سے چڑ ہے پچھلا جملہ حال ہے اور ہوسکتا ہے کہ خبر یہ «مستانفعہ» ، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص سے فرمایا مسلمان ہو جا اس نے کہا اگرچہ مجھے یہ ناگوار ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اگرچہ ناگوار ہو ایک روایت میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں ملا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اسلام قبول کر اسے یہ بُرا محسوس ہوا اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو اگر تم کسی غیر آباد خطرناک غلط راستے پر چلے جا رہے ہو اور تمہیں ایک شخص ملے جس کے نام نسب سے جس کی سچائی اور امانت داری سے تم بخوبی واقف ہو وہ تم سے کہے کہ اس راستے پر چلو جو وسیع آسان سیدھا اور صاف ہے بتاؤ تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلو گے یا نہیں؟ اس نے کہا ہاں ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریاما بس تو یقین مانو قسم اللہ کی تم اس دن بھی سخت دشوار اور خطرناک راہ سے بھی زیادہ بری راہ پر ہو اور میں تمہیں آسان راہ کی دعوت دیتا ہوں میری مان لو۔ مذکور ہے کہ ایک اور ایسے ہی شخص سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جب کہ اس نے دعوت اسلام کا برا منایا بتا تو؟ اگر تیرے دوساتھی ہوں ایک تو سچا امانت دار دوسرا جھوٹا خیانت پیشہ بتاؤ تم کس سے محبت کرو گے اس نے کہا سچے امین سے۔ فرمایا اسی طرح تم لوگ اپنے رب کے نزدیک ہو حق سے مراد بقول سدی رحمتہ اللہ علیہ خود اللہ تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اگر انہی کی مرضی کے مطابق شریعت مقرر کرتا تو زمینوں آسمان بگڑ جاتے جیسے اور آیت میں کہ کافروں نے کہا ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے شخص کے اوپر یہ قرآن کیوں نہ اترا اس کے جواب میں فرمان ہے کہ کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے اور آیت میں ہے کہ اور اگر انہیں ملک کے کسی حصے کا مالک بنا دیا ہوتا تو کسی کو ایک کوڑی بھی نہ پرکھاتے۔ پس ان آیتوں میں جناب باری تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ انسانی دماغ مخلوق کے انتظام کی قابلیت میں نااہل ہے یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ اس کی صفتیں اس کے فرمان اس کے افعال اس کی شریعت اس کی تقدیر اس کی تدبیر تمام مخلوق کو حاوی ہے اور تمام مخلوق کی حاجت بر آوری اور ان کی مصلحت کے مطابق ہے اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے نہ پالنہار ہے پھر فرمایا اس قرآن کو ان کی نصیحت کے لیے ہم لائے اور یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں۔
پھر ارشاد ہے کہ تو تبلیغ قرآن پر ان سے کوئی اجرت نہیں مانگتا تیری نظریں اللہ پر ہیں وہی تجھے اس کا اجر دے گا جیسے فرمایا جو بدلہ میں تم سے مانگو وہ بھی تمہیں ہی دیا میں تو اجر کا طالب صرف اللہ ہی سے ہوں۔ ایک آیت میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ اعلان کر دو کہ نہ میں کوئی بدلہ چاہتا ہوں نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں اور جگہ ہے کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا۔ صرف قرابت داری کی محبت کا خواہاں ہوں۔ سورۃ یاسین میں ہے کہ شہر کے دور کے کنارے سے جو شخص دوڑا ہوا آیا اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں نبیوں کی اطاعت کرو جو تم سے کسی اجر کے خواہاں نہیں یہاں فرمایا وہی بہترین رازق ہے۔ تو لوگوں کو صحیح راہ کی طرف بلارہا ہے۔
مسند امام احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے جو دو فرشتے آئے ایک آپ کے پاؤں میں بیٹھا دوسرا سر کی طرف پہلے نے دوسرے سے کہا ان کی اور دوسروں کی امت کی مثالیں بیان کرو اس نے کہا ان کی مثال ان مسافروں کے قافلے کی مثل ہے جو ایک بیابان چٹیل میدان میں تھے ان کے پاس نہ توشہ تھا نہ دانہ پانی نہ آگے بڑھنے کی قوت نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت حیران تھے کہ کیا ہو گا اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک بھلا آدمی ایک شریف انسان عمدہ لباس پہنے ہوئے آ رہا ہے اس نے آتے ہی ان کی گھبراہٹ اور پریشانی دیکھ کر ان سے کہا کہ اگر تم میرا کہا مانو اور میرے پیچھے چلو تو میں تمہیں پھلوں سے لدے ہوئے باغوں اور پانی سے بھرے حوضوں پر پہنچا دوں۔ سب نے اس کی بات مان لی اور اس نے انہیں فی الواقع ہرے بھرے تروتازہ باغوں اور جاری چشموں میں پہنچا دیا یہاں ان لوگوں نے بیروک ٹوک کھایا پیا اور آسودہ حالی کی وجہ سے موٹے تازہ ہو گئے ایک دن اس نے کہا دیکھو میں تمہیں اس ہلاکت وافلاس سے بچا کریہاں لایا اور اس فارغ البالی میں پہنچایا۔ اب اگر تم میری مانو تو میں تمہیں اس سے بھی اعلیٰ باغات اور اس سے طیب جگہ اور اس سے بھی زیادہ جگہ لہردار نہروں کی طرف لے چلوں اس پر ایک جماعت تو تیار ہو گئی اور انہوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن دوسری جماعت نے کہاہمیں اور زیادہ کی ضرورت نہیں بس یہیں رہ پڑے۔ [مسند احمد:267/1:ضعیف]
ابویعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تمہیں اپنی باہوں میں سمیٹ کرتمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر جہنم سے روک رہا ہوں۔ لیکن تم پرنالوں اور برساتی کیڑوں کی طرح میرے ہاتھوں سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گر رہے ہو کیا تم یہ چاہتے ہو؟ کہ میں تمہیں چھوڑ دوں؟ سنو میں تو حوض کوثر پر بھی تمہارا پیشوا اور میرِ سامان ہوں۔ وہاں تم ِاکا دُکا اور گروہ گروہ بن کر میرے پاس آؤ گے۔ میں تمہیں تمہاری نشانیوں علامتوں اور ناموں سے پہچان لونگا۔ جیسے کہ ایک نو وارد انجان آدمی اپنے اونٹوں کو دوسروں کے اونٹوں سے تمیز کر لیتا ہے۔ میرے دیکھتے ہوئے تم میں سے بعض کو بائیں طرف والے عذاب کے فرشتے پکڑ کر لے جانا چاہیں گے تو میں جناب باری تعالیٰ میں عرض کروں گا۔ کہ اے اللہ یہ میری قوم کے میری امت کے لوگ ہیں۔ پس جواب دیا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ انہیں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالیں تھیں؟ یہ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹتے ہی رہتے۔ میں انہیں بھی پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اپنی گردن پر بکری لیے ہوئے آئے گا جو بکری چیخ رہی ہو گی وہ میرا نام لے کر آوازیں دے رہا ہو گا۔ لیکن میں اس سے صاف کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے سامنے تجھے کچھ کام نہیں آسکتا میں نے تو اللہ کی باتیں پہنچا دی تھیں۔ اسی طرح کوئی ہو گا جو اونٹ کو لیے ہوئے آئے گا جو بِلبلا رہا ہو گا۔ ندا کرے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ کے ہاں تیرے لیے کچھ اختیار نہیں رکھتا میں نے تو حق بات تمہیں پہنچا دی تھی۔ بعض آئیں گے جن کی گردن پر گھوڑا سوار ہو گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے آواز دے گا اور میں یہی جواب دوں گا بعض آئیں گے اور مشکیں لادے ہوئے پکاریں گے یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا تمہارے کسی معاملہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں تو تم تک حق بات پہنچا چکا تھا۔ [مجمع الزوائد،85/3] امام علی بن مدینی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسی حدیث کی سند ہے تو حسن لیکن اس کا ایک راوی حفص بن حمید مجہول ہے لیکن امام یحییٰ بن ابی معین نے اسے صالح کہا ہے اور نسائی اور ابن حبان نے بھی اسے ثقہ کہا ہے۔ آخرت کا یقین نہ رکھنے والے راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص سیدھی راہ سے ہٹ گیا تو عرب کہتے ہیں «نکب فلان عن الطریق» ۔ ان کے کفر کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے سختی کو ہٹادے انہیں قرآن سنا اور سمجھا بھی دے تو بھی یہ اپنے کفروعناد سے، سرکشی اور تکبر سے باز نہ آئیں گے۔ جو کچھ نہیں ہوا وہ جب ہو گا تو کس طرح ہو گا اس کا علم اللہ کو ہے۔ اس لیے اور جگہ ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں اپنے احکام سناتا اگر انہیں سناتا بھی تو وہ منہ پھیرے ہوئے اس سے گھوم جاتے یہ توجہنم کے سامنے کھڑے ہو کر ہی یقین کریں گے اور اس وقت کہیں گے کاش کہ ہم لوٹا دئیے جاتے اور رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور یقین مند ہو جاتے۔ اس سے پہلے جو چھپا تھا وہ اب کھل گیا۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ لوٹابھی دئیے جائیں تو پھر سے منع کردہ کاموں کی طرف لوٹ آئیں گے۔ پس یہ وہ بات ہے جو ہو گی نہیں لیکن اگر ہو تو کیا ہو؟ اسے اللہ جانتا ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لو سے جو جملہ قرآن کریم میں ہے وہ کبھی واقع ہونے والا نہیں۔
75-1اسلام کے خلاف ان کے دلوں میں جو بغض وعناد تھا اور کفر و شرک کی دلدل میں جس طرح وہ پھنسے ہوئے تھے، اس میں ان کا بیان ہے۔
(آیت 75) {وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ …:} اس آیت کی ایک تفسیر وہ ہے جو ابن عاشور نے ”التحریر والتنویر“ میں اور بقاعی نے ”نظم الدرر“ میں فرمائی ہے۔ روح المعانی میں بھی اسے ایک امکان کے طو ر پر بیان کیا گیا ہے۔ وہ تفسیر یہ ہے کہ اس آیت کا عطف آیت (۶۴): «{ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِيْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ يَجْـَٔرُوْنَ }» (یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوش حال لوگوں کو عذاب میں پکڑیں گے، اچانک وہ بلبلا رہے ہوں گے) پر ہے اور اس آیت اور اُس آیت کے درمیان کی آیات جملہ ہائے معترضہ ہیں، جن سے مقصود ان کے خلاف دلائل کا ذکر اور ان کے عذر بہانے ختم کرنا ہے۔ یعنی اگر ہم ان کے چیخنے، پکارنے اور بلبلانے پر رحم کرکے ان پر آنے والا عذاب دور کر دیں، تب بھی وہ اپنی سرکشی سے باز نہیں آئیں گے، بلکہ اسی پر اڑے رہیں گے اور اسی میں سر مارتے پھریں گے، کیونکہ کفر اور سرکشی ان کی طبعی خصلت بن چکی ہے، جو کسی طرح ان سے جدا نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح فرمایا: «{ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ }» [ الأنعام: ۲۸ ] ”اور اگر انھیں واپس بھیج دیا جائے تو ضرور پھر وہی کریں گے جس سے انھیں منع کیا گیا تھا اور بلاشبہ وہ یقینا جھوٹے ہیں۔“ آیات کے سیاق سے یہ تفسیر نہایت مناسب ہے۔ دوسری تفسیر شیخ عبد الرحمان سعدی نے کی ہے کہ اس میں کفار کی شدید سرکشی اور ہٹ دھرمی کا بیان ہے کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں، مثلاً قحط پڑ جاتا ہے، بھوک سے لاچار ہو جاتے ہیں، سمندری طوفان میں گھر جاتے ہیں، یا کوئی وبا آ گھیرتی ہے تو خلوصِ دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے اسے دور کرنے کی دعا کرتے ہیں، پھر اگر اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرما کر وہ مصیبت دور کر دے تو بھی وہ اپنے کفر اور سرکشی پر اڑے رہتے ہیں اور اسی میں سر مارتے پھرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِيْۤ اٰيَاتِنَا قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا اِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ (21) هُوَ الَّذِيْ يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ وَ جَرَيْنَ بِهِمْ بِرِيْحٍ طَيِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِيْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِيْطَ بِهِمْ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ لَىِٕنْ اَنْجَيْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ (22) فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ يَبْغُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ» [ یونس: ۲۱ تا ۲۳ ] ”اور جب ہم لوگوں کو کوئی رحمت چکھاتے ہیں، کسی تکلیف کے بعد، جو انھیں پہنچی ہو، تو اچانک ان کے لیے ہماری آیات کے بارے میں کوئی نہ کوئی چال ہوتی ہے۔ کہہ دے اللہ چال میں زیادہ تیز ہے۔ بے شک ہمارے بھیجے ہوئے لکھ رہے ہیں جو تم چال چلتے ہو۔ وہی ہے جو تمھیں خشکی اور سمندر میں چلاتا ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ انھیں لے کر عمدہ ہوا کے ساتھ چل پڑتی ہیں اور وہ اس پر خوش ہوتے ہیں تو ان (کشتیوں) پر سخت تیز ہوا آجاتی ہے اور ان پر ہرجگہ سے موج آجاتی ہے اور وہ یقین کر لیتے ہیں کہ ان کو گھیر لیا گیا ہے، تو اللہ کو اس طرح پکارتے ہیں کہ ہر عبادت کو اس کے لیے خالص کرنے والے ہوتے ہیں، یقینا اگر تو نے ہمیں اس سے نجات دے دی تو ہم ضرور ہی شکر کرنے والوں سے ہوں گے۔ پھر جب اس نے انھیں نجات دے دی اچانک وہ زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں۔“
اِن کا حال تو یہ ہے کہ ہم نے انہیں تکلیف میں مبتلا کیا، پھر بھی یہ اپنے رب کے آگے نہ جھکے اور نہ عاجزی اختیار کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے انہیں عذاب میں بھی پکڑا تاہم یہ لوگ نہ تو اپنے پروردگار کے سامنے جھکے اور نہ ہی عاجزی اختیار کی
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تو نہ وہ اپنے رب کے حضور میں جھکے اور نہ گڑگڑاتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے انہیں سزا میں گرفتار بھی کیا مگر وہ پھر بھی اپنے پروردگار کے سامنے نہ جھکے اور نہ تضرع و زاری کی۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا، پھر بھی وہ نہ اپنے رب کے آگے جھکے اور نہ عاجزی اختیار کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے ٭٭
فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے «فَلَوْلَآ اِذْ جَاءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [ 6- الانعام: 43 ] ، ہمارا عذاب دیکھ کریہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہو گئے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں اس قحط سالی کا ذکر ہے جو قریشیوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ماننے کے صلے میں آئی تھی، جس کی شکایت لے کر ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی قسمیں دے کر، رشتے داریوں کے واسطے دے کر کہا تھا کہ ہم تو اب لید اور خون کھانے لگے ہیں۔ [سنن نسائی فی التفسیر،372:حسن] بخاری و مسلم میں ہے کہ قریش کی شرراتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدعا کی تھی کہ جیسے یوسف علیہ السلام کے زمانے میں سات سال کی قحط سالی آئی تھی، ایسے ہی قحط سے اے اللہ تو ان پر میری مدد فرما۔ [صحیح بخاری:1007]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ کو قید کر دیا گیا۔ وہاں ایک نوعمر شخص نے کہا میں آپ رحمہ اللہ کو جی بہلانے کے لیے اشعار سناؤں؟ تو آپ نے فرمایا ”اس وقت ہم عذاب اللہ میں ہیں اور قرآن نے ان کی شکایت کی ہے جو ایسے وقت بھی اللہ کی طرف نہ جھکیں“ پھر آپ رحمہ اللہ نے تین روزے برابر رکھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ بیچ میں افطار کئے بغیر روزے کیسے؟ تو جواب دیا کہ ایک نئی چیز ادھر سے ہوئی یعنی قید، تو ایک نئی چیز ہم نے کی یعنی زیادتی عبادت۔ یہاں تک کہ حکم الٰہی آ پہنچا اچانک وقت آ گیا اور جس عذاب کا وہم و گمان بھی نہ تھا وہ آپڑا تو تمام خیر سے مایوس ہو گئے آس ٹوٹ گئی اور حیرت زدہ رہ گئے اللہ کی نعمتوں کو دیکھو، اس نے کان دئیے، آنکھیں دیں، دل دیا، عقل فہم عطا فرمائی کہ غور و فکر کر سکو، اللہ کی وحدانیت کو اس کے اختیار کو سمجھ سکو۔ لیکن جیسے جیسے نعمتیں بڑھیں شکر کم ہوئے جیسے فرمان ہے تو گو حرص کر لیکن ان میں سے اکثر بے ایمان ہیں۔
پھر اپنی عظیم الشان سلطنت اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے مخلوق کو پیدا کر کے وسیع زمین پر پھیلا دیا ہے پھر قیامت کے دن بکھرے ہوؤں کو سمیٹ کر اپنے پاس جمع کرے گا اب بھی اسی نے پیدا کیا ہے پھر بھی وہی جلائے گا کوئی چھوٹا بڑا آگے پیچھے کا باقی نہ بچے گا۔ «أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [ 79-النازعات: 11- 14 ] وہی بوسیدہ اور کھوکھلی ہڈیوں کا زندہ کرنے والا اور لوگوں کو مار ڈالنے والا ہے «لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [ 36-يس: 40 ] اسی کے حکم سے دن چڑھتا ہے رات آتی ہے ایک ہی نظام کے مطابق ایک کے بعد ایک آتا جاتا ہے نہ سورج چاند سے آگے نکلے نہ رات دن پر سبقت کرے کیا تم میں اتنی بھی عقل نہیں؟ کہ اتنے بڑے نشانات دیکھ کر اپنے اللہ کو پہچان لو؟ اور اس کے غلبے اور اس کے علم کے قائل بن جاؤ بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے کافر ہوں یا گزشتہ زمانوں کے ان سب کے دل یکساں ہیں زبانیں بھی ایک ہی ہیں وہی بکواس جو گزشتہ لوگوں کی تھی وہی ان کی ہے کہ مر کر مٹی ہو جانے اور صرف بوسیدہ ہڈیوں کی صورت میں باقی رہ جانے کے بعد بھی دوبارہ پیدا کئے جائیں یہ سمجھ سے باہر ہے ہم سے بھی یہی کہا گیا ہمارے باپ دادوں کو بھی اس سے دھمکایا گیا لیکن ہم نے تو کسی کو مر کر زندہ ہوتے نہیں دیکھا ہمارے خیال میں تو یہ صرف بکواس ہے۔ دوسری آیت «وَقَالُوا إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ» [ 6-الأنعام: 29 ] میں ہے کہ انہوں نے کہا کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے اس وقت بھی پھر زندہ کئے جائیں گے؟ جناب باری نے فرمایا جسے تم انہونی بات سمجھ رہے ہو وہ تو ایک آواز کے ساتھ ہو جائے گی اور ساری دنیا اپنی قبروں سے نکل کرایک میدان میں ہمارے سامنے آ جائے گی۔ سورۃ یاسین میں بھی یہ اعتراض اور جواب ہے «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [ 36- يس: 77- 79 ] کہ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ ضدی جھگڑالو بن بیٹھا اور اپنی پیدائش کو بھول بسرگیا اور ہم پر اعتراض کرتے ہوئے مثالیں دینے لگا کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون جلائے گا؟ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم انہیں جواب دو کہ انہیں نئے سرے سے وہ اللہ پیدا کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا ہے اور جو ہرچیز کی پیدائش کا عالم ہے۔
76-1عذاب سے مراد یہاں وہ شکست ہے جو جنگ بدر میں کفار مکہ کو ہوئی، جس میں ان کے ستر آدمی مارے گئے تھے یا وہ قحط سالی کا عذاب ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بد دعا کے نتیجے میں ان پر آیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تھی ' اے اللہ، جس طرح حضرت یوسف کے زمانے میں سات سال قحط رہا، اسی طرح قحط سالی میں انھیں مبتلا کر کے ان کے مقابلے میں میری مدد فرما ' چناچہ کفار مکہ اس قحط سالی میں مبتلا ہوگئے جس پر حضرت سفیان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انھیں اللہ کا اور رشتہ داری کا واسطہ دے کر کہا کہ اب تو ہم جانوروں کی کھالیں اور خون تک کھانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ جس پر آیت نازل ہوئی (ابن کثیر)
(آیت 77،76){ وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ …: ” اَخَذْنٰهُمْ “} (ہم نے انھیں پکڑا) میں {”هُمْ“} ({اُن}) سے مراد موجودہ کفار و منکرین نہیں بلکہ اس سے مراد ان جیسے وہ منکرین ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں اور جو اپنے اپنے دور میں اسی طرح کے کفر و انکار پر اڑے ہوئے تھے۔ موجودہ دور کے منکرین کو تاریخ کے اس سبق کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ کے لیے آنے والے عذابوں سے سبق نہیں لیتے، یہاں تک کہ وہ اپنے آخری ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ وہ پہلے کمتر درجے کا عذاب بھیجتا ہے، تاکہ لوگ سنبھل جائیں، فرمایا: «{ وَ لَنُذِيْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ }» [ السجدۃ: ۲۱ ] ”اور یقینا ہم انھیں قریب ترین عذاب کا کچھ حصہ سب سے بڑے عذاب سے پہلے ضرور چکھائیں گے۔ “ پھر جب لوگ اس عذاب سے عبرت نہیں پکڑتے تو ان کی رسی دراز کر دی جاتی ہے اور انھیں نافرمانی کے باوجود خوش حالی عطا کر دی جاتی ہے، تاکہ ان پر حجت تمام ہو جائے۔ قرآن مجید میں یہ مضمون کثرت سے بیان ہوا ہے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۴۲ تا ۴۴)، اعراف (۹۴ تا ۹۸)، یونس (۱۲ تا ۲۱) اور دخان (۱۰ تا ۱۶)۔ بعض مفسرین نے اس عذاب سے مراد وہ قحط لیا ہے جو ہجرت سے پہلے مکہ والوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بد دعا سے مسلط ہوا اور سخت عذاب والے دروازے سے مراد یوم بدر لیا ہے، جبکہ بعض نے اس عذاب سے مراد بدر اور سخت عذاب والے دروازے سے مراد ہجرت کے بعد ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کے گندم روک لینے سے واقع ہونے والا قحط لیا ہے۔ ابن جزی ”التسہیل“ میں فرماتے ہیں: ”زیادہ راجح یہ ہے کہ پہلے عذاب سے مراد دنیا کا عذاب ہے اور شدید عذاب سے مراد موت اور آخرت کا عذاب ہے۔ کیونکہ شدید عذاب وہی ہے، دنیا کا عذاب اس کے مقابلے میں ادنیٰ ہے۔“ اور فرمایا: «{ اِذَا هُمْ فِيْهِ مُبْلِسُوْنَ }» یعنی ہر خیر سے ناامید ہوں گے۔ کفار کو یہ ناامیدی آخرت کے دن ہو گی، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ يَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ }» [ الروم: ۱۲ ] ”اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم نا امید ہو جائیں گے۔“ بدر اور قحط کے بعد تو وہ بار بار حملہ آور ہوتے رہے تھے۔
البتہ جب نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ ہم اِن پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں گے تو یکایک تم دیکھو گے کہ اس حالت میں یہ ہر خیر سے مایوس ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر سخت عذاب کا دروازه کھول دیا تو اسی وقت فوراً مایوس ہوگئے
احمد رضا خان بریلوی
یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر کھولا کسی سخت عذاب کا دروازہ تو وہ اب اس میں ناامید پڑے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
یہاں تک کہ جب ہم ان پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں گے تو وہ ایک دم ناامید ہو جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر کسی سخت عذاب والا کوئی دروازہ کھولا، اچانک وہ اس میں نا امید تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے ٭٭
فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے «فَلَوْلَآ اِذْ جَاءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [ 6- الانعام: 43 ] ، ہمارا عذاب دیکھ کریہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہو گئے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں اس قحط سالی کا ذکر ہے جو قریشیوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ماننے کے صلے میں آئی تھی، جس کی شکایت لے کر ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی قسمیں دے کر، رشتے داریوں کے واسطے دے کر کہا تھا کہ ہم تو اب لید اور خون کھانے لگے ہیں۔ [سنن نسائی فی التفسیر،372:حسن] بخاری و مسلم میں ہے کہ قریش کی شرراتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدعا کی تھی کہ جیسے یوسف علیہ السلام کے زمانے میں سات سال کی قحط سالی آئی تھی، ایسے ہی قحط سے اے اللہ تو ان پر میری مدد فرما۔ [صحیح بخاری:1007]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ کو قید کر دیا گیا۔ وہاں ایک نوعمر شخص نے کہا میں آپ رحمہ اللہ کو جی بہلانے کے لیے اشعار سناؤں؟ تو آپ نے فرمایا ”اس وقت ہم عذاب اللہ میں ہیں اور قرآن نے ان کی شکایت کی ہے جو ایسے وقت بھی اللہ کی طرف نہ جھکیں“ پھر آپ رحمہ اللہ نے تین روزے برابر رکھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ بیچ میں افطار کئے بغیر روزے کیسے؟ تو جواب دیا کہ ایک نئی چیز ادھر سے ہوئی یعنی قید، تو ایک نئی چیز ہم نے کی یعنی زیادتی عبادت۔ یہاں تک کہ حکم الٰہی آ پہنچا اچانک وقت آ گیا اور جس عذاب کا وہم و گمان بھی نہ تھا وہ آپڑا تو تمام خیر سے مایوس ہو گئے آس ٹوٹ گئی اور حیرت زدہ رہ گئے اللہ کی نعمتوں کو دیکھو، اس نے کان دئیے، آنکھیں دیں، دل دیا، عقل فہم عطا فرمائی کہ غور و فکر کر سکو، اللہ کی وحدانیت کو اس کے اختیار کو سمجھ سکو۔ لیکن جیسے جیسے نعمتیں بڑھیں شکر کم ہوئے جیسے فرمان ہے تو گو حرص کر لیکن ان میں سے اکثر بے ایمان ہیں۔
پھر اپنی عظیم الشان سلطنت اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے مخلوق کو پیدا کر کے وسیع زمین پر پھیلا دیا ہے پھر قیامت کے دن بکھرے ہوؤں کو سمیٹ کر اپنے پاس جمع کرے گا اب بھی اسی نے پیدا کیا ہے پھر بھی وہی جلائے گا کوئی چھوٹا بڑا آگے پیچھے کا باقی نہ بچے گا۔ «أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [ 79-النازعات: 11- 14 ] وہی بوسیدہ اور کھوکھلی ہڈیوں کا زندہ کرنے والا اور لوگوں کو مار ڈالنے والا ہے «لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [ 36-يس: 40 ] اسی کے حکم سے دن چڑھتا ہے رات آتی ہے ایک ہی نظام کے مطابق ایک کے بعد ایک آتا جاتا ہے نہ سورج چاند سے آگے نکلے نہ رات دن پر سبقت کرے کیا تم میں اتنی بھی عقل نہیں؟ کہ اتنے بڑے نشانات دیکھ کر اپنے اللہ کو پہچان لو؟ اور اس کے غلبے اور اس کے علم کے قائل بن جاؤ بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے کافر ہوں یا گزشتہ زمانوں کے ان سب کے دل یکساں ہیں زبانیں بھی ایک ہی ہیں وہی بکواس جو گزشتہ لوگوں کی تھی وہی ان کی ہے کہ مر کر مٹی ہو جانے اور صرف بوسیدہ ہڈیوں کی صورت میں باقی رہ جانے کے بعد بھی دوبارہ پیدا کئے جائیں یہ سمجھ سے باہر ہے ہم سے بھی یہی کہا گیا ہمارے باپ دادوں کو بھی اس سے دھمکایا گیا لیکن ہم نے تو کسی کو مر کر زندہ ہوتے نہیں دیکھا ہمارے خیال میں تو یہ صرف بکواس ہے۔ دوسری آیت «وَقَالُوا إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ» [ 6-الأنعام: 29 ] میں ہے کہ انہوں نے کہا کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے اس وقت بھی پھر زندہ کئے جائیں گے؟ جناب باری نے فرمایا جسے تم انہونی بات سمجھ رہے ہو وہ تو ایک آواز کے ساتھ ہو جائے گی اور ساری دنیا اپنی قبروں سے نکل کرایک میدان میں ہمارے سامنے آ جائے گی۔ سورۃ یاسین میں بھی یہ اعتراض اور جواب ہے «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [ 36- يس: 77- 79 ] کہ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ ضدی جھگڑالو بن بیٹھا اور اپنی پیدائش کو بھول بسرگیا اور ہم پر اعتراض کرتے ہوئے مثالیں دینے لگا کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون جلائے گا؟ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم انہیں جواب دو کہ انہیں نئے سرے سے وہ اللہ پیدا کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا ہے اور جو ہرچیز کی پیدائش کا عالم ہے۔
۔-1اس سے دنیا کا عذاب بھی مراد ہوسکتا ہے اور آخرت کا بھی، جہاں وہ تمام راحت اور خیر سے مایوس اور محروم ہوں گے اور تمام امیدیں منقطع ہوجائیں گی۔
وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہیں سُننے اور دیکھنے کی قوتیں دیں اور سوچنے کو دل دیے مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
وه اللہ ہے جس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل پیدا کئے، مگر تم بہت (ہی) کم شکر کرتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور وہی ہے جس نے بنائے تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل تم بہت ہی کم حق مانتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لئے جان، آنکھیں اور دل بنائے (لیکن) تم لوگ بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہی ہے جس نے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے، بہت کم تم شکر کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے ٭٭
فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے «فَلَوْلَآ اِذْ جَاءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [ 6- الانعام: 43 ] ، ہمارا عذاب دیکھ کریہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہو گئے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں اس قحط سالی کا ذکر ہے جو قریشیوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ماننے کے صلے میں آئی تھی، جس کی شکایت لے کر ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی قسمیں دے کر، رشتے داریوں کے واسطے دے کر کہا تھا کہ ہم تو اب لید اور خون کھانے لگے ہیں۔ [سنن نسائی فی التفسیر،372:حسن] بخاری و مسلم میں ہے کہ قریش کی شرراتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدعا کی تھی کہ جیسے یوسف علیہ السلام کے زمانے میں سات سال کی قحط سالی آئی تھی، ایسے ہی قحط سے اے اللہ تو ان پر میری مدد فرما۔ [صحیح بخاری:1007]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ کو قید کر دیا گیا۔ وہاں ایک نوعمر شخص نے کہا میں آپ رحمہ اللہ کو جی بہلانے کے لیے اشعار سناؤں؟ تو آپ نے فرمایا ”اس وقت ہم عذاب اللہ میں ہیں اور قرآن نے ان کی شکایت کی ہے جو ایسے وقت بھی اللہ کی طرف نہ جھکیں“ پھر آپ رحمہ اللہ نے تین روزے برابر رکھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ بیچ میں افطار کئے بغیر روزے کیسے؟ تو جواب دیا کہ ایک نئی چیز ادھر سے ہوئی یعنی قید، تو ایک نئی چیز ہم نے کی یعنی زیادتی عبادت۔ یہاں تک کہ حکم الٰہی آ پہنچا اچانک وقت آ گیا اور جس عذاب کا وہم و گمان بھی نہ تھا وہ آپڑا تو تمام خیر سے مایوس ہو گئے آس ٹوٹ گئی اور حیرت زدہ رہ گئے اللہ کی نعمتوں کو دیکھو، اس نے کان دئیے، آنکھیں دیں، دل دیا، عقل فہم عطا فرمائی کہ غور و فکر کر سکو، اللہ کی وحدانیت کو اس کے اختیار کو سمجھ سکو۔ لیکن جیسے جیسے نعمتیں بڑھیں شکر کم ہوئے جیسے فرمان ہے تو گو حرص کر لیکن ان میں سے اکثر بے ایمان ہیں۔
پھر اپنی عظیم الشان سلطنت اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے مخلوق کو پیدا کر کے وسیع زمین پر پھیلا دیا ہے پھر قیامت کے دن بکھرے ہوؤں کو سمیٹ کر اپنے پاس جمع کرے گا اب بھی اسی نے پیدا کیا ہے پھر بھی وہی جلائے گا کوئی چھوٹا بڑا آگے پیچھے کا باقی نہ بچے گا۔ «أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [ 79-النازعات: 11- 14 ] وہی بوسیدہ اور کھوکھلی ہڈیوں کا زندہ کرنے والا اور لوگوں کو مار ڈالنے والا ہے «لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [ 36-يس: 40 ] اسی کے حکم سے دن چڑھتا ہے رات آتی ہے ایک ہی نظام کے مطابق ایک کے بعد ایک آتا جاتا ہے نہ سورج چاند سے آگے نکلے نہ رات دن پر سبقت کرے کیا تم میں اتنی بھی عقل نہیں؟ کہ اتنے بڑے نشانات دیکھ کر اپنے اللہ کو پہچان لو؟ اور اس کے غلبے اور اس کے علم کے قائل بن جاؤ بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے کافر ہوں یا گزشتہ زمانوں کے ان سب کے دل یکساں ہیں زبانیں بھی ایک ہی ہیں وہی بکواس جو گزشتہ لوگوں کی تھی وہی ان کی ہے کہ مر کر مٹی ہو جانے اور صرف بوسیدہ ہڈیوں کی صورت میں باقی رہ جانے کے بعد بھی دوبارہ پیدا کئے جائیں یہ سمجھ سے باہر ہے ہم سے بھی یہی کہا گیا ہمارے باپ دادوں کو بھی اس سے دھمکایا گیا لیکن ہم نے تو کسی کو مر کر زندہ ہوتے نہیں دیکھا ہمارے خیال میں تو یہ صرف بکواس ہے۔ دوسری آیت «وَقَالُوا إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ» [ 6-الأنعام: 29 ] میں ہے کہ انہوں نے کہا کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے اس وقت بھی پھر زندہ کئے جائیں گے؟ جناب باری نے فرمایا جسے تم انہونی بات سمجھ رہے ہو وہ تو ایک آواز کے ساتھ ہو جائے گی اور ساری دنیا اپنی قبروں سے نکل کرایک میدان میں ہمارے سامنے آ جائے گی۔ سورۃ یاسین میں بھی یہ اعتراض اور جواب ہے «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [ 36- يس: 77- 79 ] کہ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ ضدی جھگڑالو بن بیٹھا اور اپنی پیدائش کو بھول بسرگیا اور ہم پر اعتراض کرتے ہوئے مثالیں دینے لگا کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون جلائے گا؟ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم انہیں جواب دو کہ انہیں نئے سرے سے وہ اللہ پیدا کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا ہے اور جو ہرچیز کی پیدائش کا عالم ہے۔
78-1یعنی عقل و فہم اور سننے کی صلاحتیں عطا کیں تاکہ ان کے ذریعے سے وہ حق کو پہچانیں، سنیں اور اسے قبول کریں۔ یہی ان نعمتوں کا شکر ہے۔ مگر یہ شکر کرنے والے یعنی حق کو اپنانے والے کم ہی ہیں۔
(آیت 78) ➊ { وَ هُوَ الَّذِيْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ …:} اس سے پہلے کفار کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ تھا، اب انھیں مخاطب کرکے احسانات یاد دلائے۔ یہ غائب سے مخاطب کی طرف التفات ہے، کیونکہ بعض اوقات وعید کا اثر نہیں ہوتا، ہاں! کسی احسان کی خوشگوار یاد دل کو مائل کر دیتی ہے۔ ➋ { وَ هُوَ الَّذِيْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ …:} یعنی وہ لوگ نہ اپنے رب کے لیے جھکے اور نہ عاجزی اختیار کی، حالانکہ رب صرف وہ ہے، کوئی اور نہیں۔ جس نے کسی پہلے نمونے کے بغیر تمھارے لیے کان، آنکھیں اور دل پیدا فرمائے، جو سننے، دیکھنے اور سمجھنے کے مرکز ہیں۔ ان تینوں چیزوں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ جسم کی تمام نعمتیں ان کے تابع ہیں، یہ نہ ہوں تو کچھ بھی نہیں۔ ➌ { قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ:} یہ بات کہ تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو، کئی طرح سمجھی جا سکتی ہے۔ مثلاً سوچو، کوئی آدمی اگر تمھیں یہ تینوں نعمتیں دے اور تم اس کا بدلا دینا چاہو تو کیا دے سکتے ہو؟ یا اس طرح سوچو کہ اگر اللہ تعالیٰ یہ تینوں نعمتیں تم سے چھین لے تو تمھارا کیا حال ہو گا؟ اب جو اس نے یہ سب کچھ تمھیں دے رکھا ہے تو ان نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے تم اس کی کس قدر فرماں برداری کر رہے ہو؟ اس سے بڑی ناشکری کیا ہو ـگی کہ اپنا خالق و مالک مانتے ہوئے اس اکیلے کی عبادت کے بجائے تم نے اس کے شریک بنا رکھے ہیں، جنھوں نے کچھ پیدا ہی نہیں کیا اور اس کے رسول پر ایمان لانے کے بجائے تم اسے جھٹلا رہے ہو؟ ان حواس کی شکر گزاری تو یہ ہے کہ ان کے ذریعے سے صحیح راستے کی طرف رہنمائی حاصل کرو، ورنہ ان کے ذریعے سے جسمانی اور مادی خواہش تو دوسرے حیوانات بھی پوری کر رہے ہیں۔ تمھارا حق یہ ہے کہ کائنات میں توحید کے جو دلائل پائے جاتے ہیں ان حواس کے ذریعے سے ان دلائل کو آنکھوں سے دیکھو، کانوں سے سنو اور دل سے سمجھو اور توحیدِ الٰہی پر دل و جان سے ایمان رکھو۔ ➍ {” قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ “} کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم شکر کرتے ہی نہیں، کیونکہ عرب {”قَلِيْلٌ“} کو نہ ہونے کے معنی میں بھی استعمال کرتے ہیں، جیسا کہ ابوکبیر ہذلی نے {”تَأَبَّطَ شَرًّا“} کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے: {قَلِيْلُ التَّشَكِّيْ لِلْمُهِمِّ يُصِيْبُهُ كَثِيْرُ الْهَوٰي شَتَّي النَّوٰي وَ الْمَسَالِكِ} ”وہ پیش آنے والی مہمات کی شکایت بہت کم کرنے والا ہے، بہت سے مقاصد والا، مختلف نیتوں اور راستوں والا ہے۔“ ”شکایت بہت کم کرنے والا“ سے مراد یہ ہے کہ وہ شکایت کرتا ہی نہیں۔
وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا، اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کرکے زمین میں پھیلا دیا اور اسی کی طرف تم جمع کئے جاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور اسی کی طرف اٹھنا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ وہی ہے جس نے تمہیں روئے زمین پر (پیدا کرکے) پھیلا دیا ہے اور اسی کی طرف تم اکٹھے کئے جاؤگے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہی ہے جس نے تمھیں زمین میں پھیلایا اور اسی کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے ٭٭
فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے «فَلَوْلَآ اِذْ جَاءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [ 6- الانعام: 43 ] ، ہمارا عذاب دیکھ کریہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہو گئے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں اس قحط سالی کا ذکر ہے جو قریشیوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ماننے کے صلے میں آئی تھی، جس کی شکایت لے کر ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی قسمیں دے کر، رشتے داریوں کے واسطے دے کر کہا تھا کہ ہم تو اب لید اور خون کھانے لگے ہیں۔ [سنن نسائی فی التفسیر،372:حسن] بخاری و مسلم میں ہے کہ قریش کی شرراتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدعا کی تھی کہ جیسے یوسف علیہ السلام کے زمانے میں سات سال کی قحط سالی آئی تھی، ایسے ہی قحط سے اے اللہ تو ان پر میری مدد فرما۔ [صحیح بخاری:1007]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ کو قید کر دیا گیا۔ وہاں ایک نوعمر شخص نے کہا میں آپ رحمہ اللہ کو جی بہلانے کے لیے اشعار سناؤں؟ تو آپ نے فرمایا ”اس وقت ہم عذاب اللہ میں ہیں اور قرآن نے ان کی شکایت کی ہے جو ایسے وقت بھی اللہ کی طرف نہ جھکیں“ پھر آپ رحمہ اللہ نے تین روزے برابر رکھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ بیچ میں افطار کئے بغیر روزے کیسے؟ تو جواب دیا کہ ایک نئی چیز ادھر سے ہوئی یعنی قید، تو ایک نئی چیز ہم نے کی یعنی زیادتی عبادت۔ یہاں تک کہ حکم الٰہی آ پہنچا اچانک وقت آ گیا اور جس عذاب کا وہم و گمان بھی نہ تھا وہ آپڑا تو تمام خیر سے مایوس ہو گئے آس ٹوٹ گئی اور حیرت زدہ رہ گئے اللہ کی نعمتوں کو دیکھو، اس نے کان دئیے، آنکھیں دیں، دل دیا، عقل فہم عطا فرمائی کہ غور و فکر کر سکو، اللہ کی وحدانیت کو اس کے اختیار کو سمجھ سکو۔ لیکن جیسے جیسے نعمتیں بڑھیں شکر کم ہوئے جیسے فرمان ہے تو گو حرص کر لیکن ان میں سے اکثر بے ایمان ہیں۔
پھر اپنی عظیم الشان سلطنت اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے مخلوق کو پیدا کر کے وسیع زمین پر پھیلا دیا ہے پھر قیامت کے دن بکھرے ہوؤں کو سمیٹ کر اپنے پاس جمع کرے گا اب بھی اسی نے پیدا کیا ہے پھر بھی وہی جلائے گا کوئی چھوٹا بڑا آگے پیچھے کا باقی نہ بچے گا۔ «أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [ 79-النازعات: 11- 14 ] وہی بوسیدہ اور کھوکھلی ہڈیوں کا زندہ کرنے والا اور لوگوں کو مار ڈالنے والا ہے «لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [ 36-يس: 40 ] اسی کے حکم سے دن چڑھتا ہے رات آتی ہے ایک ہی نظام کے مطابق ایک کے بعد ایک آتا جاتا ہے نہ سورج چاند سے آگے نکلے نہ رات دن پر سبقت کرے کیا تم میں اتنی بھی عقل نہیں؟ کہ اتنے بڑے نشانات دیکھ کر اپنے اللہ کو پہچان لو؟ اور اس کے غلبے اور اس کے علم کے قائل بن جاؤ بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے کافر ہوں یا گزشتہ زمانوں کے ان سب کے دل یکساں ہیں زبانیں بھی ایک ہی ہیں وہی بکواس جو گزشتہ لوگوں کی تھی وہی ان کی ہے کہ مر کر مٹی ہو جانے اور صرف بوسیدہ ہڈیوں کی صورت میں باقی رہ جانے کے بعد بھی دوبارہ پیدا کئے جائیں یہ سمجھ سے باہر ہے ہم سے بھی یہی کہا گیا ہمارے باپ دادوں کو بھی اس سے دھمکایا گیا لیکن ہم نے تو کسی کو مر کر زندہ ہوتے نہیں دیکھا ہمارے خیال میں تو یہ صرف بکواس ہے۔ دوسری آیت «وَقَالُوا إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ» [ 6-الأنعام: 29 ] میں ہے کہ انہوں نے کہا کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے اس وقت بھی پھر زندہ کئے جائیں گے؟ جناب باری نے فرمایا جسے تم انہونی بات سمجھ رہے ہو وہ تو ایک آواز کے ساتھ ہو جائے گی اور ساری دنیا اپنی قبروں سے نکل کرایک میدان میں ہمارے سامنے آ جائے گی۔ سورۃ یاسین میں بھی یہ اعتراض اور جواب ہے «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [ 36- يس: 77- 79 ] کہ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ ضدی جھگڑالو بن بیٹھا اور اپنی پیدائش کو بھول بسرگیا اور ہم پر اعتراض کرتے ہوئے مثالیں دینے لگا کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون جلائے گا؟ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم انہیں جواب دو کہ انہیں نئے سرے سے وہ اللہ پیدا کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا ہے اور جو ہرچیز کی پیدائش کا عالم ہے۔
۔-1اس میں اللہ کی قدرت عظیمہ کا بیان ہے کہ جس طرح اس نے تمہیں پیدا کر کے مختلف اطراف میں پھیلا دیا ہے۔ تمہارے رنگ بھی ایک دوسرے سے مختلف، زبانیں بھی مختلف اور عادات و رسومات بھی مختلف۔ پھر ایک وقت آئے گا کہ تم سب کو زندہ کر کے وہ اپنی بارگاہ میں جمع فرمائے گا۔
(آیت 79){ وَ هُوَ الَّذِيْ ذَرَاَكُمْ …:} یہ اللہ تعالیٰ کے ”وحدہ لا شریک لہ“ ہونے کی دوسری دلیل ہے اور قیامت کی بھی کہ جس اکیلے نے تمھیں وجود کی نعمت عطا کرکے ساری دنیا میں پھیلا دیا، وہ تمھیں سمیٹنے پر بھی قادر ہے اور یاد رکھو کہ اس اکیلے ہی کی طرف تمھیں دوبارہ اکٹھا کیا جائے گا۔
وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے گردش لیل و نہار اسی کے قبضہ قدرت میں ہے کیا تمہاری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یہ وہی ہے جو جلاتا اور مارتا ہے اور رات دن کے ردوبدل کا مختار بھی وہی ہے۔ کیا تم کو سمجھ بوجھ نہیں؟
احمد رضا خان بریلوی
اور وہی جٕلائے اور مارے اور اسی کے لیے ہیں رات اور دن کی تبدیلیاں تو کیا تمہیں سمجھ نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
وہ وہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور رات اور دن کی آمد و رفت اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟
عبدالسلام بن محمد
اور وہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کے قبضہ میں رات اور دن کا بدلنا ہے، تو کیا تم نہیں سمجھتے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے ٭٭
فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے «فَلَوْلَآ اِذْ جَاءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [ 6- الانعام: 43 ] ، ہمارا عذاب دیکھ کریہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہو گئے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں اس قحط سالی کا ذکر ہے جو قریشیوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ماننے کے صلے میں آئی تھی، جس کی شکایت لے کر ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی قسمیں دے کر، رشتے داریوں کے واسطے دے کر کہا تھا کہ ہم تو اب لید اور خون کھانے لگے ہیں۔ [سنن نسائی فی التفسیر،372:حسن] بخاری و مسلم میں ہے کہ قریش کی شرراتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدعا کی تھی کہ جیسے یوسف علیہ السلام کے زمانے میں سات سال کی قحط سالی آئی تھی، ایسے ہی قحط سے اے اللہ تو ان پر میری مدد فرما۔ [صحیح بخاری:1007]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ کو قید کر دیا گیا۔ وہاں ایک نوعمر شخص نے کہا میں آپ رحمہ اللہ کو جی بہلانے کے لیے اشعار سناؤں؟ تو آپ نے فرمایا ”اس وقت ہم عذاب اللہ میں ہیں اور قرآن نے ان کی شکایت کی ہے جو ایسے وقت بھی اللہ کی طرف نہ جھکیں“ پھر آپ رحمہ اللہ نے تین روزے برابر رکھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ بیچ میں افطار کئے بغیر روزے کیسے؟ تو جواب دیا کہ ایک نئی چیز ادھر سے ہوئی یعنی قید، تو ایک نئی چیز ہم نے کی یعنی زیادتی عبادت۔ یہاں تک کہ حکم الٰہی آ پہنچا اچانک وقت آ گیا اور جس عذاب کا وہم و گمان بھی نہ تھا وہ آپڑا تو تمام خیر سے مایوس ہو گئے آس ٹوٹ گئی اور حیرت زدہ رہ گئے اللہ کی نعمتوں کو دیکھو، اس نے کان دئیے، آنکھیں دیں، دل دیا، عقل فہم عطا فرمائی کہ غور و فکر کر سکو، اللہ کی وحدانیت کو اس کے اختیار کو سمجھ سکو۔ لیکن جیسے جیسے نعمتیں بڑھیں شکر کم ہوئے جیسے فرمان ہے تو گو حرص کر لیکن ان میں سے اکثر بے ایمان ہیں۔
پھر اپنی عظیم الشان سلطنت اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے مخلوق کو پیدا کر کے وسیع زمین پر پھیلا دیا ہے پھر قیامت کے دن بکھرے ہوؤں کو سمیٹ کر اپنے پاس جمع کرے گا اب بھی اسی نے پیدا کیا ہے پھر بھی وہی جلائے گا کوئی چھوٹا بڑا آگے پیچھے کا باقی نہ بچے گا۔ «أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [ 79-النازعات: 11- 14 ] وہی بوسیدہ اور کھوکھلی ہڈیوں کا زندہ کرنے والا اور لوگوں کو مار ڈالنے والا ہے «لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [ 36-يس: 40 ] اسی کے حکم سے دن چڑھتا ہے رات آتی ہے ایک ہی نظام کے مطابق ایک کے بعد ایک آتا جاتا ہے نہ سورج چاند سے آگے نکلے نہ رات دن پر سبقت کرے کیا تم میں اتنی بھی عقل نہیں؟ کہ اتنے بڑے نشانات دیکھ کر اپنے اللہ کو پہچان لو؟ اور اس کے غلبے اور اس کے علم کے قائل بن جاؤ بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے کافر ہوں یا گزشتہ زمانوں کے ان سب کے دل یکساں ہیں زبانیں بھی ایک ہی ہیں وہی بکواس جو گزشتہ لوگوں کی تھی وہی ان کی ہے کہ مر کر مٹی ہو جانے اور صرف بوسیدہ ہڈیوں کی صورت میں باقی رہ جانے کے بعد بھی دوبارہ پیدا کئے جائیں یہ سمجھ سے باہر ہے ہم سے بھی یہی کہا گیا ہمارے باپ دادوں کو بھی اس سے دھمکایا گیا لیکن ہم نے تو کسی کو مر کر زندہ ہوتے نہیں دیکھا ہمارے خیال میں تو یہ صرف بکواس ہے۔ دوسری آیت «وَقَالُوا إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ» [ 6-الأنعام: 29 ] میں ہے کہ انہوں نے کہا کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے اس وقت بھی پھر زندہ کئے جائیں گے؟ جناب باری نے فرمایا جسے تم انہونی بات سمجھ رہے ہو وہ تو ایک آواز کے ساتھ ہو جائے گی اور ساری دنیا اپنی قبروں سے نکل کرایک میدان میں ہمارے سامنے آ جائے گی۔ سورۃ یاسین میں بھی یہ اعتراض اور جواب ہے «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [ 36- يس: 77- 79 ] کہ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ ضدی جھگڑالو بن بیٹھا اور اپنی پیدائش کو بھول بسرگیا اور ہم پر اعتراض کرتے ہوئے مثالیں دینے لگا کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون جلائے گا؟ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم انہیں جواب دو کہ انہیں نئے سرے سے وہ اللہ پیدا کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا ہے اور جو ہرچیز کی پیدائش کا عالم ہے۔
80-1یعنی رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات کا آنا، پھر رات اور دن کا چھوٹا بڑا ہونا۔ 80-2جس سے تم یہ سمجھ سکو کہ یہ سب کچھ اس ایک اللہ کی طرف سے ہے جو ہر چیز پر غالب ہے اور اس کے سامنے ہر چیز جھکی ہے۔
(آیت 80) ➊ { وَ هُوَ الَّذِيْ يُحْيٖ وَ يُمِيْتُ …:} اکٹھا کرنے کے ذکر کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کے ساری کائنات کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کا ذکر فرمایا۔ خصوصاً ان کاموں کا ذکر فرمایا جو ایک دوسرے کی ضد ہیں، تاکہ مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کی دلیل بن سکیں۔ چنانچہ فرمایا، اور وہی زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور رات اور دن کا بدلنا بھی اسی کے قبضے میں ہے۔ یہ توحید کی بھی دلیل ہے اور قیامت کی بھی کہ موت و حیات اور اندھیرے و اجالے کو یکے بعد دیگرے لانے والے کے لیے تمھیں موت کے بعد زندگی عطا کرنا اور تمھیں قیامت کو زندہ کرکے حساب کے لیے سامنے لا کھڑا کرنا کیا مشکل ہے؟ فرمایا: «كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَ» [ الأعراف: ۲۹ ] ”جس طرح اس نے تمھاری ابتدا کی، اسی طرح تم دوبارہ پیدا ہو گے۔“ ➋ { اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ:} ہمزہ استفہام اصل میں فاء کے بعد ہے، مگر چونکہ اس کا مقام کلام کی ابتدا ہے، اس لیے اسے فاء سے پہلے لایا گیا ہے، یعنی تو کیا تم اتنی واضح بات بھی نہیں سمجھتے؟ یا یوں کہہ لیجیے، تو کیا تم کوئی بات بھی نہیں سمجھتے؟
مگر یہ لوگ وہی کچھ کہتے ہیں جو ان کے پیش رَو کہہ چکے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بلکہ ان لوگوں نے بھی ویسی ہی بات کہی جو اگلے کہتے چلے آئے
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ انہوں نے وہی کہی جو اگلے کہتے تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
ان لوگوں نے وہی بات کہی ہے جو ان کے پہلے (کافر) کہتے رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بلکہ انھوں نے کہا جیسے پہلوں نے کہا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے ٭٭
فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے «فَلَوْلَآ اِذْ جَاءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [ 6- الانعام: 43 ] ، ہمارا عذاب دیکھ کریہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہو گئے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں اس قحط سالی کا ذکر ہے جو قریشیوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ماننے کے صلے میں آئی تھی، جس کی شکایت لے کر ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی قسمیں دے کر، رشتے داریوں کے واسطے دے کر کہا تھا کہ ہم تو اب لید اور خون کھانے لگے ہیں۔ [سنن نسائی فی التفسیر،372:حسن] بخاری و مسلم میں ہے کہ قریش کی شرراتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدعا کی تھی کہ جیسے یوسف علیہ السلام کے زمانے میں سات سال کی قحط سالی آئی تھی، ایسے ہی قحط سے اے اللہ تو ان پر میری مدد فرما۔ [صحیح بخاری:1007]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ کو قید کر دیا گیا۔ وہاں ایک نوعمر شخص نے کہا میں آپ رحمہ اللہ کو جی بہلانے کے لیے اشعار سناؤں؟ تو آپ نے فرمایا ”اس وقت ہم عذاب اللہ میں ہیں اور قرآن نے ان کی شکایت کی ہے جو ایسے وقت بھی اللہ کی طرف نہ جھکیں“ پھر آپ رحمہ اللہ نے تین روزے برابر رکھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ بیچ میں افطار کئے بغیر روزے کیسے؟ تو جواب دیا کہ ایک نئی چیز ادھر سے ہوئی یعنی قید، تو ایک نئی چیز ہم نے کی یعنی زیادتی عبادت۔ یہاں تک کہ حکم الٰہی آ پہنچا اچانک وقت آ گیا اور جس عذاب کا وہم و گمان بھی نہ تھا وہ آپڑا تو تمام خیر سے مایوس ہو گئے آس ٹوٹ گئی اور حیرت زدہ رہ گئے اللہ کی نعمتوں کو دیکھو، اس نے کان دئیے، آنکھیں دیں، دل دیا، عقل فہم عطا فرمائی کہ غور و فکر کر سکو، اللہ کی وحدانیت کو اس کے اختیار کو سمجھ سکو۔ لیکن جیسے جیسے نعمتیں بڑھیں شکر کم ہوئے جیسے فرمان ہے تو گو حرص کر لیکن ان میں سے اکثر بے ایمان ہیں۔
پھر اپنی عظیم الشان سلطنت اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے مخلوق کو پیدا کر کے وسیع زمین پر پھیلا دیا ہے پھر قیامت کے دن بکھرے ہوؤں کو سمیٹ کر اپنے پاس جمع کرے گا اب بھی اسی نے پیدا کیا ہے پھر بھی وہی جلائے گا کوئی چھوٹا بڑا آگے پیچھے کا باقی نہ بچے گا۔ «أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [ 79-النازعات: 11- 14 ] وہی بوسیدہ اور کھوکھلی ہڈیوں کا زندہ کرنے والا اور لوگوں کو مار ڈالنے والا ہے «لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [ 36-يس: 40 ] اسی کے حکم سے دن چڑھتا ہے رات آتی ہے ایک ہی نظام کے مطابق ایک کے بعد ایک آتا جاتا ہے نہ سورج چاند سے آگے نکلے نہ رات دن پر سبقت کرے کیا تم میں اتنی بھی عقل نہیں؟ کہ اتنے بڑے نشانات دیکھ کر اپنے اللہ کو پہچان لو؟ اور اس کے غلبے اور اس کے علم کے قائل بن جاؤ بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے کافر ہوں یا گزشتہ زمانوں کے ان سب کے دل یکساں ہیں زبانیں بھی ایک ہی ہیں وہی بکواس جو گزشتہ لوگوں کی تھی وہی ان کی ہے کہ مر کر مٹی ہو جانے اور صرف بوسیدہ ہڈیوں کی صورت میں باقی رہ جانے کے بعد بھی دوبارہ پیدا کئے جائیں یہ سمجھ سے باہر ہے ہم سے بھی یہی کہا گیا ہمارے باپ دادوں کو بھی اس سے دھمکایا گیا لیکن ہم نے تو کسی کو مر کر زندہ ہوتے نہیں دیکھا ہمارے خیال میں تو یہ صرف بکواس ہے۔ دوسری آیت «وَقَالُوا إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ» [ 6-الأنعام: 29 ] میں ہے کہ انہوں نے کہا کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے اس وقت بھی پھر زندہ کئے جائیں گے؟ جناب باری نے فرمایا جسے تم انہونی بات سمجھ رہے ہو وہ تو ایک آواز کے ساتھ ہو جائے گی اور ساری دنیا اپنی قبروں سے نکل کرایک میدان میں ہمارے سامنے آ جائے گی۔ سورۃ یاسین میں بھی یہ اعتراض اور جواب ہے «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [ 36- يس: 77- 79 ] کہ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ ضدی جھگڑالو بن بیٹھا اور اپنی پیدائش کو بھول بسرگیا اور ہم پر اعتراض کرتے ہوئے مثالیں دینے لگا کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون جلائے گا؟ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم انہیں جواب دو کہ انہیں نئے سرے سے وہ اللہ پیدا کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا ہے اور جو ہرچیز کی پیدائش کا عالم ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 82،81) ➊ { بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ:} یہاں پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی ناراضی کے اظہار کے لیے انھیں مخاطب کرنا چھوڑ کر ان کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ کرنا شروع کر دیا، گویا اتنی واضح دلیلوں کے بعد بھی انکار پر اڑے رہنے کی وجہ سے وہ اس قابل نہیں کہ انھیں مخاطب کیا جائے۔ ➋ مرنے کے بعد زندگی کا انکار صرف قیامت کا انکار نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا بھی انکار ہے اور شرک ہی کا شاخسانہ ہے۔ جو شخص رب تعالیٰ کو ایک مانتا ہو اور اس کی قدرت و حکمت پر ایمان رکھتا ہو وہ کبھی قیامت کا انکار نہیں کر سکتا۔ ➌ یعنی ان لوگوں کے پاس اپنے آباء کی تقلید کے سوا قیامت کے انکار اور دوسرے غلط عقائد و اعمال کے لیے کوئی عقلی یا نقلی دلیل نہیں ہے۔ ➍ {قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا …:} ”جب ہم مر جائیں گے“ ہی کافی تھا، مگر اس کے بعد ”اور ہم مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے “ کے الفاظ کے ساتھ وہ اپنے خیال میں مرنے کے بعد زندگی کے عقل سے بعید ہونے کی بات بہت مدلل کر رہے ہیں اور {” ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ“} میں {”إِنَّ“} اور ”لام“ کے ساتھ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیامت کے عقیدے کو نہایت تاکید سے بیان کرنے کا ذکر کرتے ہوئے ہمزہ استفہام کے ساتھ اس کا شدت سے انکار کر رہے ہیں کہ بھلا ایسا بھی کبھی ہو سکتا ہے؟
یہ کہتے ہیں "کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائیں گے تو ہم کو پھر زندہ کر کے اٹھایا جائے گا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے کیا پھر بھی ہم ضرور اٹھائے جائیں گے؟
احمد رضا خان بریلوی
بولے کیا جب ہم مرجائیں اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں کیا پھر نکالے جائیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
کہتے ہیں کہ جب ہم مر جائیں گے اور خاک اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے، کیا واقعی ہم ضرور اٹھائے جانے والے ہیں؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے ٭٭
فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے «فَلَوْلَآ اِذْ جَاءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [ 6- الانعام: 43 ] ، ہمارا عذاب دیکھ کریہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہو گئے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں اس قحط سالی کا ذکر ہے جو قریشیوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ماننے کے صلے میں آئی تھی، جس کی شکایت لے کر ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی قسمیں دے کر، رشتے داریوں کے واسطے دے کر کہا تھا کہ ہم تو اب لید اور خون کھانے لگے ہیں۔ [سنن نسائی فی التفسیر،372:حسن] بخاری و مسلم میں ہے کہ قریش کی شرراتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدعا کی تھی کہ جیسے یوسف علیہ السلام کے زمانے میں سات سال کی قحط سالی آئی تھی، ایسے ہی قحط سے اے اللہ تو ان پر میری مدد فرما۔ [صحیح بخاری:1007]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ کو قید کر دیا گیا۔ وہاں ایک نوعمر شخص نے کہا میں آپ رحمہ اللہ کو جی بہلانے کے لیے اشعار سناؤں؟ تو آپ نے فرمایا ”اس وقت ہم عذاب اللہ میں ہیں اور قرآن نے ان کی شکایت کی ہے جو ایسے وقت بھی اللہ کی طرف نہ جھکیں“ پھر آپ رحمہ اللہ نے تین روزے برابر رکھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ بیچ میں افطار کئے بغیر روزے کیسے؟ تو جواب دیا کہ ایک نئی چیز ادھر سے ہوئی یعنی قید، تو ایک نئی چیز ہم نے کی یعنی زیادتی عبادت۔ یہاں تک کہ حکم الٰہی آ پہنچا اچانک وقت آ گیا اور جس عذاب کا وہم و گمان بھی نہ تھا وہ آپڑا تو تمام خیر سے مایوس ہو گئے آس ٹوٹ گئی اور حیرت زدہ رہ گئے اللہ کی نعمتوں کو دیکھو، اس نے کان دئیے، آنکھیں دیں، دل دیا، عقل فہم عطا فرمائی کہ غور و فکر کر سکو، اللہ کی وحدانیت کو اس کے اختیار کو سمجھ سکو۔ لیکن جیسے جیسے نعمتیں بڑھیں شکر کم ہوئے جیسے فرمان ہے تو گو حرص کر لیکن ان میں سے اکثر بے ایمان ہیں۔
پھر اپنی عظیم الشان سلطنت اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے مخلوق کو پیدا کر کے وسیع زمین پر پھیلا دیا ہے پھر قیامت کے دن بکھرے ہوؤں کو سمیٹ کر اپنے پاس جمع کرے گا اب بھی اسی نے پیدا کیا ہے پھر بھی وہی جلائے گا کوئی چھوٹا بڑا آگے پیچھے کا باقی نہ بچے گا۔ «أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [ 79-النازعات: 11- 14 ] وہی بوسیدہ اور کھوکھلی ہڈیوں کا زندہ کرنے والا اور لوگوں کو مار ڈالنے والا ہے «لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [ 36-يس: 40 ] اسی کے حکم سے دن چڑھتا ہے رات آتی ہے ایک ہی نظام کے مطابق ایک کے بعد ایک آتا جاتا ہے نہ سورج چاند سے آگے نکلے نہ رات دن پر سبقت کرے کیا تم میں اتنی بھی عقل نہیں؟ کہ اتنے بڑے نشانات دیکھ کر اپنے اللہ کو پہچان لو؟ اور اس کے غلبے اور اس کے علم کے قائل بن جاؤ بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے کافر ہوں یا گزشتہ زمانوں کے ان سب کے دل یکساں ہیں زبانیں بھی ایک ہی ہیں وہی بکواس جو گزشتہ لوگوں کی تھی وہی ان کی ہے کہ مر کر مٹی ہو جانے اور صرف بوسیدہ ہڈیوں کی صورت میں باقی رہ جانے کے بعد بھی دوبارہ پیدا کئے جائیں یہ سمجھ سے باہر ہے ہم سے بھی یہی کہا گیا ہمارے باپ دادوں کو بھی اس سے دھمکایا گیا لیکن ہم نے تو کسی کو مر کر زندہ ہوتے نہیں دیکھا ہمارے خیال میں تو یہ صرف بکواس ہے۔ دوسری آیت «وَقَالُوا إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ» [ 6-الأنعام: 29 ] میں ہے کہ انہوں نے کہا کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے اس وقت بھی پھر زندہ کئے جائیں گے؟ جناب باری نے فرمایا جسے تم انہونی بات سمجھ رہے ہو وہ تو ایک آواز کے ساتھ ہو جائے گی اور ساری دنیا اپنی قبروں سے نکل کرایک میدان میں ہمارے سامنے آ جائے گی۔ سورۃ یاسین میں بھی یہ اعتراض اور جواب ہے «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [ 36- يس: 77- 79 ] کہ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ ضدی جھگڑالو بن بیٹھا اور اپنی پیدائش کو بھول بسرگیا اور ہم پر اعتراض کرتے ہوئے مثالیں دینے لگا کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون جلائے گا؟ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم انہیں جواب دو کہ انہیں نئے سرے سے وہ اللہ پیدا کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا ہے اور جو ہرچیز کی پیدائش کا عالم ہے۔
ہم نے بھی یہ وعدے بہت سنے ہیں اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا بھی سنتے رہے ہیں یہ محض افسانہائے پارینہ ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے پہلے ہی یہ وعده ہوتا چلا آیا ہے کچھ نہیں یہ تو صرف اگلے لوگوں کے افسانے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک یہ وعدہ ہم کو اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا کو دیا گیا یہ تو نہیں مگر وہی اگلی داستانیں
علامہ محمد حسین نجفی
ہم سے بھی اور اس سے پہلے ہمارے باپ داداؤں سے بھی یہ وعدہ ہوتا آیا ہے۔ یہ کچھ بھی نہیں صرف پہلے عہدوں کے افسانے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یقینا اس سے پہلے ہمیں اور ہمارے باپ دادا کو یہی وعدہ دیا گیا۔ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیوں کے سوا کچھ نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے ٭٭
فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے «فَلَوْلَآ اِذْ جَاءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [ 6- الانعام: 43 ] ، ہمارا عذاب دیکھ کریہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہو گئے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں اس قحط سالی کا ذکر ہے جو قریشیوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ماننے کے صلے میں آئی تھی، جس کی شکایت لے کر ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی قسمیں دے کر، رشتے داریوں کے واسطے دے کر کہا تھا کہ ہم تو اب لید اور خون کھانے لگے ہیں۔ [سنن نسائی فی التفسیر،372:حسن] بخاری و مسلم میں ہے کہ قریش کی شرراتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدعا کی تھی کہ جیسے یوسف علیہ السلام کے زمانے میں سات سال کی قحط سالی آئی تھی، ایسے ہی قحط سے اے اللہ تو ان پر میری مدد فرما۔ [صحیح بخاری:1007]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ کو قید کر دیا گیا۔ وہاں ایک نوعمر شخص نے کہا میں آپ رحمہ اللہ کو جی بہلانے کے لیے اشعار سناؤں؟ تو آپ نے فرمایا ”اس وقت ہم عذاب اللہ میں ہیں اور قرآن نے ان کی شکایت کی ہے جو ایسے وقت بھی اللہ کی طرف نہ جھکیں“ پھر آپ رحمہ اللہ نے تین روزے برابر رکھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ بیچ میں افطار کئے بغیر روزے کیسے؟ تو جواب دیا کہ ایک نئی چیز ادھر سے ہوئی یعنی قید، تو ایک نئی چیز ہم نے کی یعنی زیادتی عبادت۔ یہاں تک کہ حکم الٰہی آ پہنچا اچانک وقت آ گیا اور جس عذاب کا وہم و گمان بھی نہ تھا وہ آپڑا تو تمام خیر سے مایوس ہو گئے آس ٹوٹ گئی اور حیرت زدہ رہ گئے اللہ کی نعمتوں کو دیکھو، اس نے کان دئیے، آنکھیں دیں، دل دیا، عقل فہم عطا فرمائی کہ غور و فکر کر سکو، اللہ کی وحدانیت کو اس کے اختیار کو سمجھ سکو۔ لیکن جیسے جیسے نعمتیں بڑھیں شکر کم ہوئے جیسے فرمان ہے تو گو حرص کر لیکن ان میں سے اکثر بے ایمان ہیں۔
پھر اپنی عظیم الشان سلطنت اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے مخلوق کو پیدا کر کے وسیع زمین پر پھیلا دیا ہے پھر قیامت کے دن بکھرے ہوؤں کو سمیٹ کر اپنے پاس جمع کرے گا اب بھی اسی نے پیدا کیا ہے پھر بھی وہی جلائے گا کوئی چھوٹا بڑا آگے پیچھے کا باقی نہ بچے گا۔ «أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [ 79-النازعات: 11- 14 ] وہی بوسیدہ اور کھوکھلی ہڈیوں کا زندہ کرنے والا اور لوگوں کو مار ڈالنے والا ہے «لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [ 36-يس: 40 ] اسی کے حکم سے دن چڑھتا ہے رات آتی ہے ایک ہی نظام کے مطابق ایک کے بعد ایک آتا جاتا ہے نہ سورج چاند سے آگے نکلے نہ رات دن پر سبقت کرے کیا تم میں اتنی بھی عقل نہیں؟ کہ اتنے بڑے نشانات دیکھ کر اپنے اللہ کو پہچان لو؟ اور اس کے غلبے اور اس کے علم کے قائل بن جاؤ بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے کافر ہوں یا گزشتہ زمانوں کے ان سب کے دل یکساں ہیں زبانیں بھی ایک ہی ہیں وہی بکواس جو گزشتہ لوگوں کی تھی وہی ان کی ہے کہ مر کر مٹی ہو جانے اور صرف بوسیدہ ہڈیوں کی صورت میں باقی رہ جانے کے بعد بھی دوبارہ پیدا کئے جائیں یہ سمجھ سے باہر ہے ہم سے بھی یہی کہا گیا ہمارے باپ دادوں کو بھی اس سے دھمکایا گیا لیکن ہم نے تو کسی کو مر کر زندہ ہوتے نہیں دیکھا ہمارے خیال میں تو یہ صرف بکواس ہے۔ دوسری آیت «وَقَالُوا إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ» [ 6-الأنعام: 29 ] میں ہے کہ انہوں نے کہا کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے اس وقت بھی پھر زندہ کئے جائیں گے؟ جناب باری نے فرمایا جسے تم انہونی بات سمجھ رہے ہو وہ تو ایک آواز کے ساتھ ہو جائے گی اور ساری دنیا اپنی قبروں سے نکل کرایک میدان میں ہمارے سامنے آ جائے گی۔ سورۃ یاسین میں بھی یہ اعتراض اور جواب ہے «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [ 36- يس: 77- 79 ] کہ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ ضدی جھگڑالو بن بیٹھا اور اپنی پیدائش کو بھول بسرگیا اور ہم پر اعتراض کرتے ہوئے مثالیں دینے لگا کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون جلائے گا؟ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم انہیں جواب دو کہ انہیں نئے سرے سے وہ اللہ پیدا کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا ہے اور جو ہرچیز کی پیدائش کا عالم ہے۔
83-1یہ سب لکھی ہوئی حکایتیں، کہانیاں۔ یعنی دوبارہ جی اٹھنے کا وعدہ کب سے ہوتا چلا آ رہا ہے، ہمارے آباؤ اجداد سے، لیکن ابھی تک روبہ عمل نہیں ہوا، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ کہانیاں ہیں جو پہلے لوگوں نے اپنی کتابوں میں لکھ دی ہیں جو نقل در نقل ہوتی چلی آرہی ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔
(آیت 83) ➊ { لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا …:” اَسَاطِيْرُ “ ”أُسْطُوْرَةٌ“} کی جمع ہے، دل لگی کے لیے لکھے جانے والے قصے کہانیاں اور افسانے۔ {” أُفْعُوْلَةٌ “} کا وزن عموماً دل لگی کا مفہوم ادا کرنے والے الفاظ کے لیے آتا ہے، جیسے: {”أُضْحُوْكَةٌ، أُرْجُوْحَةٌ، أُعْجُوْبَةٌ، أُحْدُوْثَةٌ، أُغْلُوْطَةٌ“} وغیرہ۔ ➋ پچھلی آیت میں ان کے قیامت کے انکار کی ایک وجہ بیان ہوئی ہے، یہ دوسری وجہ ہے کہ دوبارہ زندہ ہو کر پیش ہونے کا دعویٰ اس پیغمبر کی طرح پہلے انبیاء کی طرف سے بھی ہوتا چلا آ رہا ہے، مگر سیکڑوں ہزاروں برس گزرنے کے باوجود پورا نہیں ہوا، کوئی مرنے کے بعد واپس نہیں آیا، معلوم ہوا یہ سب قصے کہانیاں ہیں۔ گویا ان کے خیال میں دوبارہ زندہ ہونے کا وعدہ اسی دنیا کے اندر پورا ہونا ہے۔ انتہائی ذہانت اور عقل کے دعوے داروں کی سمجھ دیکھیے کہ رسول کیا فرما رہے ہیں اور وہ اس کا مطلب کیا سمجھ رہے ہیں؟
ان سے کہو، بتاؤ اگر تم جانتے ہو، کہ یہ زمین اور اس کی ساری آبادی کس کی ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پوچھیئے تو سہی کہ زمین اور اس کی کل چیزیں کس کی ہیں؟ بتلاؤ اگر جانتے ہو؟
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ کس کا مال ہے زمین اور جو کچھ اس میں ہے اگر تم جانتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
آپ کہہ دیجیے اگر تم جانتے ہو تو (بتاؤ) کہ زمین اور جو اس میں رہتے ہیں کس کیلئے ہیں؟
عبدالسلام بن محمد
کہہ یہ زمین اور اس میں جو کوئی بھی ہے کس کا ہے، اگر تم جانتے ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی ہی معبود واحد ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ جل وعلا اپنے وحدانیت، خالقیت، تصرف اور ملکیت کا ثبوت دیتا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ معبود برحق صرف وہی ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے پس اپنے محترم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیں تو وہ سات لفظوں میں اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرے گے اور اس میں کسی کو شریک نہیں بتائیں گے۔ آپ انہی کے جواب کو لے کر انہیں قائل کریں کہ جب خالق، مالک، صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں پھر معبود بھی تنہا وہی کیوں نہ ہو؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کی جائے؟ واقعہ یہی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو بھی مخلوق الٰہی اور مملوک رب جانتے تھے لیکن انہیں مقربان رب سمجھ کر اس نیت سے ان کی عبادت کرتے تھے کہ وہ ہمیں بھی مقرب بارگاہ اللہ بنا دیں گے۔ پس حکم ہوتا ہے کہ زمین اور زمین کی تمام چیزوں کا خالق کون ہے؟ اس کی بابت ان مشرکوں سے سوال کرو۔ ان کا جواب یہی ہو گا کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ اب تم پھر ان سے کہو کہ کیا اب بھی اس اقرار کے بعد بھی تم اتنا نہیں سمجھتے کہ عبادت کے لائق بھی وہی ہے کیونکہ خالق و رازق وہی ہے۔ پھر پوچھو کہ اس بلند و بالا آسمان کا اس کی مخلوق کا خالق کون ہے؟ جو عرش جیسی زبردست چیز کا رب ہے؟ جو مخلوق کی چھت جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”اللہ کی شان بہت بڑی ہے اس کا عرش آسمانوں پر اس طرح ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے قبہ کی طرح بنا کر بتایا“ [سنن ابوداود:4726،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور ان کی کل مخلوق کرسی کے مقابلے پر ایسی ہے جیسے کسی چٹیل میدان میں کوئی حلقہ پڑا ہو اور کرسی اپنی تمام چیزوں سمیت عرش کے مقابلے میں بھی ایسی ہی ہے۔ بعض سلف سے منقول ہے عرش کی ایک جانب سے دوسری جانب کی دوری پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ اور ساتویں زمین سے اس کی بلندی پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ عرش کا نام عرش اس کی بلندی کی وجہ سے ہی ہے۔ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آسمان عرش کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے کوئی قندیل آسمان و زمین کے درمیان ہو۔حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ آسمان و زمین بمقابلہ عرش الٰہی ایسے ہیں جیسے کوئی چھلا کسی چٹیل وسیع میدان میں پڑا ہو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں عرش کی قدرت و عظمت کا کوئی بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے اندازہ نہیں کر سکتا بعض سلف کا قول ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے اس آیت میں عرش عظیم کہا گیا ہے اور اس سورت کے آخر میں عرش کریم کہا گیا ہے یعنی بہت بڑا اور بہت حسن وخوبی والا۔ پس لمبائی، چوڑائی، وسعت و عظمت، حسن وخوبی میں وہ بہت ہی اعلیٰ و بالا ہے اسی لیے لوگوں نے اسے یاقوت سرخ کہا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ تمہارے رب کے پاس رات دن کچھ نہیں اس کے عرش کا نور اس کے چہرے کے نور سے ہے۔ الغرض اس سوال کا جواب بھی وہ یہی دیں گے کہ آسمان اور عرش کا رب اللہ ہے تو تم کہو کہ پھر تم اس کے عذاب سے کیوں نہیں ڈرتے۔ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کر رہے ہو؟
کتاب التفکر والاعتبار میں امام ابوبکر ابن ابی الدنیا ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً اس حدیث کو بیان فرمایا کرتے تھے کہ“جاہلیت کے زمانے میں ایک عورت پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا ایک مرتبہ اس نے اپنی ماں سے دریافت کیا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ اس نے کہا اللہ نے کہا میرے والد کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے جواب دیا اللہ نے پوچھا اور ان پہاڑوں کو اماں کس نے بنایا ہے ماں نے جواب دیا ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پوچھا اور ان ہماری بکریوں کا خالق کون ہے ماں نے کہا اللہ ہی ہے اس نے کہا سبحان اللہ۔ اللہ کی اتنی بڑی شان ہے بس اس قدر عظمت اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی سما گئی کہ وہ تھر تھر کانپنے لگا اور پہاڑ سے گرپڑا اور جان اللہ کے سپرد کر دی اس کا ایک راوی ذرا ٹھیک نہیں، [ابن عدی فی الکامل،178/4:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
دریافت کرو کہ تمام ملک کا مالک ہرچیز کا مختار کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم عموماً ان لفظوں میں ہوتی تھی کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جب کوئی تاکیدی قسم کھاتے تو فرماتے اس کی قسم جو دلوں کا مالک اور ان کے پھیرنے والا ہے۔ [صحیح بخاری:6617] پھر یہ بھی پوچھ کہ وہ کون ہے؟ جو سب کو پناہ دے اور اس کی دی ہوئی پناہ کو کوئی توڑ نہ سکے اور اس کے مقابلے پر کوئی پناہ دے نہ سکے کسی کی پناہ کا وہ پابند نہیں یعنی اتنا بڑا سید و مالک کہ تمام خلق، ملک، حکومت، اسی کے ہاتھ میں ہے بتاؤ وہ کون ہے؟ عرب میں دستور تھا کہ سردار قبیلہ اگر کسی کو پناہ دیدے تو سارا قبیلہ اس کا پابند تھا لیکن قبیلے میں سے کوئی کسی کو پناہ میں لے لے تو سردار پر اس کی پابندی نہیں۔ پس یہاں اللہ تعالیٰ کی سلطنت و عظمت بیان ہو رہی ہے کہ وہ قادر مطلق حاکم کل ہے اس کا ارادہ کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ سب سے باز پرس کر لے لیکن کسی کی مجال نہیں کہ اس سے کوئی سوال کر سکے۔ اس کی عظمت، اس کی کبریائی، اس کا غلبہ، اس کا دباؤ، اس کی قدرت، اس کی عزت، اس کی حکمت، اس کا عدل بےپایاں اور بے مثل ہے۔ سب مخلوق اس کے سامنے عاجز پست اور لاچار ہے۔ اب ساری مخلوق کی بعض پرس کرنے والا ہے اس سوال کا جواب بھی ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور نہیں کہ وہ اقرار کریں کہ اتنا بڑا بادشاہ ایسا خود مختار اللہ واحد ہی ہے کہہ دے کہ پھر تم پر کیا ٹپکی پڑی ہے؟ ایسا کون سا جادو تم پر ہو گیا ہے؟ باوجود اس اقرار کے پھر بھی دوسروں کی پرستش کرتے ہو؟ ہم تو ان کے سامنے حق واضع کر چکے توحید ربوبیت کے ساتھ ساتھ توحید الوہیت بیان کر دی صحیح دلیلیں اور صاف باتیں پہنچا دیں اور ان کا غلط گو ہونا ظاہر کر دیا کہ یہ شریک بنانے میں جھوٹے ہیں اور ان کا جھوٹ خود ان کے اقرار سے ظاہر و باہر ہے جیسے کہ سورت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے سوا دوسروں کے پکارنے کی کوئی سند نہیں۔ صرف باپ دادا کی تقلید پر ضد ہے اور وہ یہی کہتے بھی تھے کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی پر پایا اور ہم ان کی تقلید نہیں چھوڑیں گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 85،84) ➊ { قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِيْهَاۤ …:} جب کفار نے اتنی شدت کے ساتھ قیامت کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ان سے ان باتوں کا اقرار کروائیں اور ان کی زبان سے کہلوائیں جنھیں وہ جانتے پہچانتے اور مانتے ہیں، جنھیں تسلیم کرنے کی صورت میں انھیں لازماً قیامت کے دن زندہ ہونے کا اقرار کرنا پڑے گا۔ چنانچہ فرمایا، ان سے کہہ اگر واقعی تم کچھ جانتے ہو تو بتاؤ یہ زمین اوراس میں جو کچھ ہے، اس کا مالک کون ہے؟ ➋ { قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ: ”تَذَكُّرٌ“} (تفعّل) کا اصل معنی یاد کرنا ہے۔{” تَذَكَّرُوْنَ “} اصل میں {” تَتَذَكَّرُوْنَ “} ہے، یعنی تو پھر تم اپنی فطرت میں رکھی ہوئی اس بات کو یاد کیوں نہیں کرتے جو غفلت میں پڑ کر بھلا چکے ہو اور اس سے نصیحت حاصل کیوں نہیں کرتے کہ جب زمین کا اور اس میں موجود ہر چیز کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے تو پھر مالک کو چھوڑ کر مملوک کی پوجا کیوں؟ اور جب تم میں سے معمولی شخص بھی اس بات پر تیار نہیں کہ وہ اپنے غلاموں سے پوچھ گچھ نہ کرے، یا انھیں ان کی کارکردگی کا صلہ نہ دے، یا ان کے درمیان عدل نہ کرے، تو تم نے اس قادرِ مطلق اور حکیمِ کامل کے متعلق کیسے سوچ لیا کہ وہ تمھیں دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا، یا نہیں کرے گا اور اس کے بندے جو بھی کرتے رہیں نہ ان سے باز پرس کرے گا، نہ انھیں ان کے کیے کی جزا سزا دے گا اور نہ ان کے درمیان عدل فرمائے گا۔
یہ ضرور کہیں گے اللہ کی کہو، پھر تم ہوش میں کیوں نہیں آتے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
فوراً جواب دیں گے کہ اللہ کی، کہہ دیجیئے کہ پھر تم نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے
احمد رضا خان بریلوی
اب کہیں گے کہ اللہ کا تم فرماؤ پھر کیوں نہیں سوچتے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ کیلئے ہیں۔ تو کہئے کہ تم غور کیوں نہیں کرتے؟
عبدالسلام بن محمد
ضرور کہیں گے اللہ کا ہے۔ کہہ دے پھر کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی ہی معبود واحد ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ جل وعلا اپنے وحدانیت، خالقیت، تصرف اور ملکیت کا ثبوت دیتا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ معبود برحق صرف وہی ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے پس اپنے محترم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیں تو وہ سات لفظوں میں اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرے گے اور اس میں کسی کو شریک نہیں بتائیں گے۔ آپ انہی کے جواب کو لے کر انہیں قائل کریں کہ جب خالق، مالک، صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں پھر معبود بھی تنہا وہی کیوں نہ ہو؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کی جائے؟ واقعہ یہی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو بھی مخلوق الٰہی اور مملوک رب جانتے تھے لیکن انہیں مقربان رب سمجھ کر اس نیت سے ان کی عبادت کرتے تھے کہ وہ ہمیں بھی مقرب بارگاہ اللہ بنا دیں گے۔ پس حکم ہوتا ہے کہ زمین اور زمین کی تمام چیزوں کا خالق کون ہے؟ اس کی بابت ان مشرکوں سے سوال کرو۔ ان کا جواب یہی ہو گا کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ اب تم پھر ان سے کہو کہ کیا اب بھی اس اقرار کے بعد بھی تم اتنا نہیں سمجھتے کہ عبادت کے لائق بھی وہی ہے کیونکہ خالق و رازق وہی ہے۔ پھر پوچھو کہ اس بلند و بالا آسمان کا اس کی مخلوق کا خالق کون ہے؟ جو عرش جیسی زبردست چیز کا رب ہے؟ جو مخلوق کی چھت جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”اللہ کی شان بہت بڑی ہے اس کا عرش آسمانوں پر اس طرح ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے قبہ کی طرح بنا کر بتایا“ [سنن ابوداود:4726،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور ان کی کل مخلوق کرسی کے مقابلے پر ایسی ہے جیسے کسی چٹیل میدان میں کوئی حلقہ پڑا ہو اور کرسی اپنی تمام چیزوں سمیت عرش کے مقابلے میں بھی ایسی ہی ہے۔ بعض سلف سے منقول ہے عرش کی ایک جانب سے دوسری جانب کی دوری پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ اور ساتویں زمین سے اس کی بلندی پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ عرش کا نام عرش اس کی بلندی کی وجہ سے ہی ہے۔ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آسمان عرش کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے کوئی قندیل آسمان و زمین کے درمیان ہو۔حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ آسمان و زمین بمقابلہ عرش الٰہی ایسے ہیں جیسے کوئی چھلا کسی چٹیل وسیع میدان میں پڑا ہو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں عرش کی قدرت و عظمت کا کوئی بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے اندازہ نہیں کر سکتا بعض سلف کا قول ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے اس آیت میں عرش عظیم کہا گیا ہے اور اس سورت کے آخر میں عرش کریم کہا گیا ہے یعنی بہت بڑا اور بہت حسن وخوبی والا۔ پس لمبائی، چوڑائی، وسعت و عظمت، حسن وخوبی میں وہ بہت ہی اعلیٰ و بالا ہے اسی لیے لوگوں نے اسے یاقوت سرخ کہا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ تمہارے رب کے پاس رات دن کچھ نہیں اس کے عرش کا نور اس کے چہرے کے نور سے ہے۔ الغرض اس سوال کا جواب بھی وہ یہی دیں گے کہ آسمان اور عرش کا رب اللہ ہے تو تم کہو کہ پھر تم اس کے عذاب سے کیوں نہیں ڈرتے۔ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کر رہے ہو؟
کتاب التفکر والاعتبار میں امام ابوبکر ابن ابی الدنیا ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً اس حدیث کو بیان فرمایا کرتے تھے کہ“جاہلیت کے زمانے میں ایک عورت پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا ایک مرتبہ اس نے اپنی ماں سے دریافت کیا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ اس نے کہا اللہ نے کہا میرے والد کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے جواب دیا اللہ نے پوچھا اور ان پہاڑوں کو اماں کس نے بنایا ہے ماں نے جواب دیا ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پوچھا اور ان ہماری بکریوں کا خالق کون ہے ماں نے کہا اللہ ہی ہے اس نے کہا سبحان اللہ۔ اللہ کی اتنی بڑی شان ہے بس اس قدر عظمت اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی سما گئی کہ وہ تھر تھر کانپنے لگا اور پہاڑ سے گرپڑا اور جان اللہ کے سپرد کر دی اس کا ایک راوی ذرا ٹھیک نہیں، [ابن عدی فی الکامل،178/4:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
دریافت کرو کہ تمام ملک کا مالک ہرچیز کا مختار کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم عموماً ان لفظوں میں ہوتی تھی کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جب کوئی تاکیدی قسم کھاتے تو فرماتے اس کی قسم جو دلوں کا مالک اور ان کے پھیرنے والا ہے۔ [صحیح بخاری:6617] پھر یہ بھی پوچھ کہ وہ کون ہے؟ جو سب کو پناہ دے اور اس کی دی ہوئی پناہ کو کوئی توڑ نہ سکے اور اس کے مقابلے پر کوئی پناہ دے نہ سکے کسی کی پناہ کا وہ پابند نہیں یعنی اتنا بڑا سید و مالک کہ تمام خلق، ملک، حکومت، اسی کے ہاتھ میں ہے بتاؤ وہ کون ہے؟ عرب میں دستور تھا کہ سردار قبیلہ اگر کسی کو پناہ دیدے تو سارا قبیلہ اس کا پابند تھا لیکن قبیلے میں سے کوئی کسی کو پناہ میں لے لے تو سردار پر اس کی پابندی نہیں۔ پس یہاں اللہ تعالیٰ کی سلطنت و عظمت بیان ہو رہی ہے کہ وہ قادر مطلق حاکم کل ہے اس کا ارادہ کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ سب سے باز پرس کر لے لیکن کسی کی مجال نہیں کہ اس سے کوئی سوال کر سکے۔ اس کی عظمت، اس کی کبریائی، اس کا غلبہ، اس کا دباؤ، اس کی قدرت، اس کی عزت، اس کی حکمت، اس کا عدل بےپایاں اور بے مثل ہے۔ سب مخلوق اس کے سامنے عاجز پست اور لاچار ہے۔ اب ساری مخلوق کی بعض پرس کرنے والا ہے اس سوال کا جواب بھی ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور نہیں کہ وہ اقرار کریں کہ اتنا بڑا بادشاہ ایسا خود مختار اللہ واحد ہی ہے کہہ دے کہ پھر تم پر کیا ٹپکی پڑی ہے؟ ایسا کون سا جادو تم پر ہو گیا ہے؟ باوجود اس اقرار کے پھر بھی دوسروں کی پرستش کرتے ہو؟ ہم تو ان کے سامنے حق واضع کر چکے توحید ربوبیت کے ساتھ ساتھ توحید الوہیت بیان کر دی صحیح دلیلیں اور صاف باتیں پہنچا دیں اور ان کا غلط گو ہونا ظاہر کر دیا کہ یہ شریک بنانے میں جھوٹے ہیں اور ان کا جھوٹ خود ان کے اقرار سے ظاہر و باہر ہے جیسے کہ سورت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے سوا دوسروں کے پکارنے کی کوئی سند نہیں۔ صرف باپ دادا کی تقلید پر ضد ہے اور وہ یہی کہتے بھی تھے کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی پر پایا اور ہم ان کی تقلید نہیں چھوڑیں گے۔
ان سے پوچھو، ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
دریافت کیجیئے کہ ساتوں آسمان کا اور بہت باعظمت عرش کا رب کون ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ کون ہے مالک سوتوں آسمانوں کا اور مالک بڑے عرش کا،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ کہئے کہ سات آسمانوں اور اس بڑے تخت سلطنت کا پروردگار کون ہے؟
عبدالسلام بن محمد
کہہ ساتوں آسمانوں کا رب اور عرش عظیم کا رب کون ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی ہی معبود واحد ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ جل وعلا اپنے وحدانیت، خالقیت، تصرف اور ملکیت کا ثبوت دیتا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ معبود برحق صرف وہی ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے پس اپنے محترم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیں تو وہ سات لفظوں میں اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرے گے اور اس میں کسی کو شریک نہیں بتائیں گے۔ آپ انہی کے جواب کو لے کر انہیں قائل کریں کہ جب خالق، مالک، صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں پھر معبود بھی تنہا وہی کیوں نہ ہو؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کی جائے؟ واقعہ یہی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو بھی مخلوق الٰہی اور مملوک رب جانتے تھے لیکن انہیں مقربان رب سمجھ کر اس نیت سے ان کی عبادت کرتے تھے کہ وہ ہمیں بھی مقرب بارگاہ اللہ بنا دیں گے۔ پس حکم ہوتا ہے کہ زمین اور زمین کی تمام چیزوں کا خالق کون ہے؟ اس کی بابت ان مشرکوں سے سوال کرو۔ ان کا جواب یہی ہو گا کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ اب تم پھر ان سے کہو کہ کیا اب بھی اس اقرار کے بعد بھی تم اتنا نہیں سمجھتے کہ عبادت کے لائق بھی وہی ہے کیونکہ خالق و رازق وہی ہے۔ پھر پوچھو کہ اس بلند و بالا آسمان کا اس کی مخلوق کا خالق کون ہے؟ جو عرش جیسی زبردست چیز کا رب ہے؟ جو مخلوق کی چھت جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”اللہ کی شان بہت بڑی ہے اس کا عرش آسمانوں پر اس طرح ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے قبہ کی طرح بنا کر بتایا“ [سنن ابوداود:4726،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور ان کی کل مخلوق کرسی کے مقابلے پر ایسی ہے جیسے کسی چٹیل میدان میں کوئی حلقہ پڑا ہو اور کرسی اپنی تمام چیزوں سمیت عرش کے مقابلے میں بھی ایسی ہی ہے۔ بعض سلف سے منقول ہے عرش کی ایک جانب سے دوسری جانب کی دوری پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ اور ساتویں زمین سے اس کی بلندی پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ عرش کا نام عرش اس کی بلندی کی وجہ سے ہی ہے۔ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آسمان عرش کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے کوئی قندیل آسمان و زمین کے درمیان ہو۔حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ آسمان و زمین بمقابلہ عرش الٰہی ایسے ہیں جیسے کوئی چھلا کسی چٹیل وسیع میدان میں پڑا ہو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں عرش کی قدرت و عظمت کا کوئی بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے اندازہ نہیں کر سکتا بعض سلف کا قول ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے اس آیت میں عرش عظیم کہا گیا ہے اور اس سورت کے آخر میں عرش کریم کہا گیا ہے یعنی بہت بڑا اور بہت حسن وخوبی والا۔ پس لمبائی، چوڑائی، وسعت و عظمت، حسن وخوبی میں وہ بہت ہی اعلیٰ و بالا ہے اسی لیے لوگوں نے اسے یاقوت سرخ کہا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ تمہارے رب کے پاس رات دن کچھ نہیں اس کے عرش کا نور اس کے چہرے کے نور سے ہے۔ الغرض اس سوال کا جواب بھی وہ یہی دیں گے کہ آسمان اور عرش کا رب اللہ ہے تو تم کہو کہ پھر تم اس کے عذاب سے کیوں نہیں ڈرتے۔ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کر رہے ہو؟
کتاب التفکر والاعتبار میں امام ابوبکر ابن ابی الدنیا ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً اس حدیث کو بیان فرمایا کرتے تھے کہ“جاہلیت کے زمانے میں ایک عورت پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا ایک مرتبہ اس نے اپنی ماں سے دریافت کیا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ اس نے کہا اللہ نے کہا میرے والد کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے جواب دیا اللہ نے پوچھا اور ان پہاڑوں کو اماں کس نے بنایا ہے ماں نے جواب دیا ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پوچھا اور ان ہماری بکریوں کا خالق کون ہے ماں نے کہا اللہ ہی ہے اس نے کہا سبحان اللہ۔ اللہ کی اتنی بڑی شان ہے بس اس قدر عظمت اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی سما گئی کہ وہ تھر تھر کانپنے لگا اور پہاڑ سے گرپڑا اور جان اللہ کے سپرد کر دی اس کا ایک راوی ذرا ٹھیک نہیں، [ابن عدی فی الکامل،178/4:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
دریافت کرو کہ تمام ملک کا مالک ہرچیز کا مختار کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم عموماً ان لفظوں میں ہوتی تھی کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جب کوئی تاکیدی قسم کھاتے تو فرماتے اس کی قسم جو دلوں کا مالک اور ان کے پھیرنے والا ہے۔ [صحیح بخاری:6617] پھر یہ بھی پوچھ کہ وہ کون ہے؟ جو سب کو پناہ دے اور اس کی دی ہوئی پناہ کو کوئی توڑ نہ سکے اور اس کے مقابلے پر کوئی پناہ دے نہ سکے کسی کی پناہ کا وہ پابند نہیں یعنی اتنا بڑا سید و مالک کہ تمام خلق، ملک، حکومت، اسی کے ہاتھ میں ہے بتاؤ وہ کون ہے؟ عرب میں دستور تھا کہ سردار قبیلہ اگر کسی کو پناہ دیدے تو سارا قبیلہ اس کا پابند تھا لیکن قبیلے میں سے کوئی کسی کو پناہ میں لے لے تو سردار پر اس کی پابندی نہیں۔ پس یہاں اللہ تعالیٰ کی سلطنت و عظمت بیان ہو رہی ہے کہ وہ قادر مطلق حاکم کل ہے اس کا ارادہ کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ سب سے باز پرس کر لے لیکن کسی کی مجال نہیں کہ اس سے کوئی سوال کر سکے۔ اس کی عظمت، اس کی کبریائی، اس کا غلبہ، اس کا دباؤ، اس کی قدرت، اس کی عزت، اس کی حکمت، اس کا عدل بےپایاں اور بے مثل ہے۔ سب مخلوق اس کے سامنے عاجز پست اور لاچار ہے۔ اب ساری مخلوق کی بعض پرس کرنے والا ہے اس سوال کا جواب بھی ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور نہیں کہ وہ اقرار کریں کہ اتنا بڑا بادشاہ ایسا خود مختار اللہ واحد ہی ہے کہہ دے کہ پھر تم پر کیا ٹپکی پڑی ہے؟ ایسا کون سا جادو تم پر ہو گیا ہے؟ باوجود اس اقرار کے پھر بھی دوسروں کی پرستش کرتے ہو؟ ہم تو ان کے سامنے حق واضع کر چکے توحید ربوبیت کے ساتھ ساتھ توحید الوہیت بیان کر دی صحیح دلیلیں اور صاف باتیں پہنچا دیں اور ان کا غلط گو ہونا ظاہر کر دیا کہ یہ شریک بنانے میں جھوٹے ہیں اور ان کا جھوٹ خود ان کے اقرار سے ظاہر و باہر ہے جیسے کہ سورت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے سوا دوسروں کے پکارنے کی کوئی سند نہیں۔ صرف باپ دادا کی تقلید پر ضد ہے اور وہ یہی کہتے بھی تھے کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی پر پایا اور ہم ان کی تقلید نہیں چھوڑیں گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 87،86) ➊ { قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ …:} زمین کے بعد ان سے عالم بالا کے متعلق سوال کرنے کا حکم دیا، کیونکہ آسمان زمین سے کہیں بڑا ہے، پھر ہر آسمان نیچے والے سے بڑا ہے اور ان سے اوپر عرش ان سب کو محیط ہے، جسے رب تعالیٰ نے عظیم (بہت بڑی عظمت والا) فرمایا ہے اور جو زمین و آسمان اور ان میں موجود ہر چیز سے پہلے موجود تھا۔ فرمایا: ”پوچھو، ان کا رب کون ہے؟“ فرمایا: ”وہ جواب میں کہیں گے، یہ سب کچھ اللہ کی ملکیت ہے۔“ فرمایا: ”تو پھر تم ڈرتے نہیں؟“ پہلے فرمایا تھا: «اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ» (پھر کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟) اب اس سے سخت الفاظ میں فرمایا: «اَفَلَا تَتَّقُوْنَ» (تو پھر کیا تم ڈرتے نہیں؟) کیونکہ کوئی شخص جس قدر اللہ تعالیٰ کی عظمت و قدرت کا علم رکھے گا اتنا ہی زیادہ وہ اس سے ڈرے گا۔ مثلاً ایک بچے کو کچھ علم نہیں کہ بادشاہ کتنی قوت کا مالک ہے، وہ اس سے نہیں ڈرے گا۔ ہاں، جسے جس قدر معلوم ہو گا کہ بادشاہ کتنی قوت رکھتا ہے، وہ اس سے اتنا ہی ڈرے گا۔ اس لیے فرمایا: «اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا» [ فاطر: ۲۸ ] ”اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف جاننے والے ہی ڈرتے ہیں۔“ یہاں فرمایا کہ یہ جان کر بھی کہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا رب اللہ ہے، تم اس کے ساتھ شریک بناتے ہو اور اس کی دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کا انکار کرتے ہو، تو کیا تم ڈرتے نہیں؟ ➋ { سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ:} یہاں ایک سوال ہے کہ یہ کہنے کے بعد کہ ساتوں آسمانوں کا رب اور عرش عظیم کا رب کون ہے؟ جو اب بظاہر یہ ہے: {”اَللّٰهُ“} کہ وہ اللہ ہے، اس کے بجائے فرمایا: {” لِلّٰهِ “} کہ یہ سب کچھ اللہ کے لیے ہے۔ اس میں کیا حکمت ہے؟ اس کا جواب طبری اور دوسرے مفسرین نے یہ دیا ہے کہ {” مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ “} (ساتوں آسمانوں کا رب کون ہے؟) کا معنی یہی ہے کہ {”لِمَنِ السَّمٰوَاتُ السَّبْعُ“} یعنی ساتوں آسمان اور عرش عظیم کس کی ملکیت ہیں؟ اس لیے جواب آیا: {” لِلّٰهِ “} کہ یہ سب اللہ کی ملکیت ہیں۔ ➌ حجاز، عراق اور شام کے تمام قراء اس لفظ کو {” لِلّٰهِ “} پڑھنے پر متفق ہیں، کیونکہ ان کی طرف امیر المومنین عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے جو مصحف بھیجے گئے، ان میں یہ لفظ اسی طرح ہے۔ البتہ بصرہ کے قاری ابو عمرو رحمہ اللہ اسے {”اَللّٰهُ“} پڑھتے ہیں، کیونکہ ان کے مصحف میں اسی طرح لکھا ہے۔ اس صورت میں معنی واضح ہے کہ ”وہ اللہ ہے۔“ طبری نے {” لِلّٰهِ “} کی قراء ت کو راجح قرار دیا ہے، کیونکہ بصرہ کے سوا تمام بلادِ اسلام کے مصاحف میں یہ لفظ اسی طرح لکھا ہے۔ ➍ ابن عاشور رحمہ اللہ نے {” لِلّٰهِ “} میں ایک نکتہ بیان فرمایا ہے کہ سوال تو یہ تھا کہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا رب کون ہے؟ ان کی طرف سے اس کا جواب یہ ذکر فرمایا کہ وہ (یہ کہنے کے بجائے کہ ان کا رب اللہ ہے) یہ کہیں گے کہ یہ سب کچھ اللہ کی ملکیت ہے، کیونکہ وہ زمین و آسمان اور عرش عظیم غرض ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہی کو سمجھتے تھے، مگر انھوں نے شریک اور رب کئی بنا رکھے تھے۔ چنانچہ وہ حج و عمرہ کے لیے لبیک کہتے ہوئے کہتے تھے: [ لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ … إِلَّا شَرِيْكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ ] [ مسلم، الحج، باب التلبیۃ وصفتھا و وقتھا: ۱۱۸۵ ] ”(اے اللہ!) میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں …مگر تیرا ایک شریک ہے، اس کا مالک بھی تو ہے، وہ کسی شے کا مالک نہیں۔“ مشرکین عرب فرشتوں کو اور مشرکین یہود و نصاریٰ عزیر اور عیسیٰ علیھما السلام کو رب سمجھتے تھے۔ یوسف علیہ السلام نے قید خانے کے ساتھیوں کو فرمایا: «ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ» [ یوسف: ۳۹ ] ”کیا الگ الگ رب بہتر ہیں یا اللہ، جو اکیلا ہے، نہایت زبردست ہے۔“ غرض مشرکین مالک صرف اللہ کو سمجھتے، مگر رب دوسروں کو بھی مانتے تھے، اس لیے فرمایا: «اَفَلَا تَتَّقُوْنَ» کہ پھر کہہ دے کہ ہر چیز کا مالک اللہ کو مان کر پھر دوسرے ارباب کی پرستش کرتے ہو، تو تم اس کے غصے سے ڈرتے نہیں کہ وہ ساری کائنات کا مالک تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟
وه لوگ جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے۔ کہہ دیجیئے کہ پھر تم کیوں نہیں ڈرتے؟
احمد رضا خان بریلوی
اب کہیں گے یہ اللہ ہی کی شان ہے، تم فرماؤ پھر کیوں نہیں ڈرتے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ ہے! کہئے کیا تم پھر بھی پرہیزگار نہیں بنتے (اس سے نہیں ڈرتے؟)۔
عبدالسلام بن محمد
ضرور کہیں گے اللہ ہی کے لیے ہے۔ کہہ دے پھر کیا تم ڈرتے نہیں؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی ہی معبود واحد ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ جل وعلا اپنے وحدانیت، خالقیت، تصرف اور ملکیت کا ثبوت دیتا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ معبود برحق صرف وہی ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے پس اپنے محترم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیں تو وہ سات لفظوں میں اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرے گے اور اس میں کسی کو شریک نہیں بتائیں گے۔ آپ انہی کے جواب کو لے کر انہیں قائل کریں کہ جب خالق، مالک، صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں پھر معبود بھی تنہا وہی کیوں نہ ہو؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کی جائے؟ واقعہ یہی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو بھی مخلوق الٰہی اور مملوک رب جانتے تھے لیکن انہیں مقربان رب سمجھ کر اس نیت سے ان کی عبادت کرتے تھے کہ وہ ہمیں بھی مقرب بارگاہ اللہ بنا دیں گے۔ پس حکم ہوتا ہے کہ زمین اور زمین کی تمام چیزوں کا خالق کون ہے؟ اس کی بابت ان مشرکوں سے سوال کرو۔ ان کا جواب یہی ہو گا کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ اب تم پھر ان سے کہو کہ کیا اب بھی اس اقرار کے بعد بھی تم اتنا نہیں سمجھتے کہ عبادت کے لائق بھی وہی ہے کیونکہ خالق و رازق وہی ہے۔ پھر پوچھو کہ اس بلند و بالا آسمان کا اس کی مخلوق کا خالق کون ہے؟ جو عرش جیسی زبردست چیز کا رب ہے؟ جو مخلوق کی چھت جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”اللہ کی شان بہت بڑی ہے اس کا عرش آسمانوں پر اس طرح ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے قبہ کی طرح بنا کر بتایا“ [سنن ابوداود:4726،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور ان کی کل مخلوق کرسی کے مقابلے پر ایسی ہے جیسے کسی چٹیل میدان میں کوئی حلقہ پڑا ہو اور کرسی اپنی تمام چیزوں سمیت عرش کے مقابلے میں بھی ایسی ہی ہے۔ بعض سلف سے منقول ہے عرش کی ایک جانب سے دوسری جانب کی دوری پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ اور ساتویں زمین سے اس کی بلندی پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ عرش کا نام عرش اس کی بلندی کی وجہ سے ہی ہے۔ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آسمان عرش کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے کوئی قندیل آسمان و زمین کے درمیان ہو۔حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ آسمان و زمین بمقابلہ عرش الٰہی ایسے ہیں جیسے کوئی چھلا کسی چٹیل وسیع میدان میں پڑا ہو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں عرش کی قدرت و عظمت کا کوئی بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے اندازہ نہیں کر سکتا بعض سلف کا قول ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے اس آیت میں عرش عظیم کہا گیا ہے اور اس سورت کے آخر میں عرش کریم کہا گیا ہے یعنی بہت بڑا اور بہت حسن وخوبی والا۔ پس لمبائی، چوڑائی، وسعت و عظمت، حسن وخوبی میں وہ بہت ہی اعلیٰ و بالا ہے اسی لیے لوگوں نے اسے یاقوت سرخ کہا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ تمہارے رب کے پاس رات دن کچھ نہیں اس کے عرش کا نور اس کے چہرے کے نور سے ہے۔ الغرض اس سوال کا جواب بھی وہ یہی دیں گے کہ آسمان اور عرش کا رب اللہ ہے تو تم کہو کہ پھر تم اس کے عذاب سے کیوں نہیں ڈرتے۔ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کر رہے ہو؟
کتاب التفکر والاعتبار میں امام ابوبکر ابن ابی الدنیا ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً اس حدیث کو بیان فرمایا کرتے تھے کہ“جاہلیت کے زمانے میں ایک عورت پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا ایک مرتبہ اس نے اپنی ماں سے دریافت کیا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ اس نے کہا اللہ نے کہا میرے والد کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے جواب دیا اللہ نے پوچھا اور ان پہاڑوں کو اماں کس نے بنایا ہے ماں نے جواب دیا ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پوچھا اور ان ہماری بکریوں کا خالق کون ہے ماں نے کہا اللہ ہی ہے اس نے کہا سبحان اللہ۔ اللہ کی اتنی بڑی شان ہے بس اس قدر عظمت اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی سما گئی کہ وہ تھر تھر کانپنے لگا اور پہاڑ سے گرپڑا اور جان اللہ کے سپرد کر دی اس کا ایک راوی ذرا ٹھیک نہیں، [ابن عدی فی الکامل،178/4:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
دریافت کرو کہ تمام ملک کا مالک ہرچیز کا مختار کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم عموماً ان لفظوں میں ہوتی تھی کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جب کوئی تاکیدی قسم کھاتے تو فرماتے اس کی قسم جو دلوں کا مالک اور ان کے پھیرنے والا ہے۔ [صحیح بخاری:6617] پھر یہ بھی پوچھ کہ وہ کون ہے؟ جو سب کو پناہ دے اور اس کی دی ہوئی پناہ کو کوئی توڑ نہ سکے اور اس کے مقابلے پر کوئی پناہ دے نہ سکے کسی کی پناہ کا وہ پابند نہیں یعنی اتنا بڑا سید و مالک کہ تمام خلق، ملک، حکومت، اسی کے ہاتھ میں ہے بتاؤ وہ کون ہے؟ عرب میں دستور تھا کہ سردار قبیلہ اگر کسی کو پناہ دیدے تو سارا قبیلہ اس کا پابند تھا لیکن قبیلے میں سے کوئی کسی کو پناہ میں لے لے تو سردار پر اس کی پابندی نہیں۔ پس یہاں اللہ تعالیٰ کی سلطنت و عظمت بیان ہو رہی ہے کہ وہ قادر مطلق حاکم کل ہے اس کا ارادہ کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ سب سے باز پرس کر لے لیکن کسی کی مجال نہیں کہ اس سے کوئی سوال کر سکے۔ اس کی عظمت، اس کی کبریائی، اس کا غلبہ، اس کا دباؤ، اس کی قدرت، اس کی عزت، اس کی حکمت، اس کا عدل بےپایاں اور بے مثل ہے۔ سب مخلوق اس کے سامنے عاجز پست اور لاچار ہے۔ اب ساری مخلوق کی بعض پرس کرنے والا ہے اس سوال کا جواب بھی ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور نہیں کہ وہ اقرار کریں کہ اتنا بڑا بادشاہ ایسا خود مختار اللہ واحد ہی ہے کہہ دے کہ پھر تم پر کیا ٹپکی پڑی ہے؟ ایسا کون سا جادو تم پر ہو گیا ہے؟ باوجود اس اقرار کے پھر بھی دوسروں کی پرستش کرتے ہو؟ ہم تو ان کے سامنے حق واضع کر چکے توحید ربوبیت کے ساتھ ساتھ توحید الوہیت بیان کر دی صحیح دلیلیں اور صاف باتیں پہنچا دیں اور ان کا غلط گو ہونا ظاہر کر دیا کہ یہ شریک بنانے میں جھوٹے ہیں اور ان کا جھوٹ خود ان کے اقرار سے ظاہر و باہر ہے جیسے کہ سورت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے سوا دوسروں کے پکارنے کی کوئی سند نہیں۔ صرف باپ دادا کی تقلید پر ضد ہے اور وہ یہی کہتے بھی تھے کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی پر پایا اور ہم ان کی تقلید نہیں چھوڑیں گے۔
87-1یعنی جب تمہیں تسلیم ہے کہ زمین کا اور اس میں موجود تمام اشیا کا خالق بھی ایک اللہ ہے آسمان اور عرش عظیم کا مالک بھی وہی ہے، تو پھر تمہیں یہ تسلیم کرنے میں تامل کیوں ہے کہ عبادت کے لائق بھی صرف وہی ایک اللہ ہے، پھر تم اس کی واحدانیت کو تسلیم کر کے اس کے عذاب سے بچنے کا اہتمام کیوں نہیں کرتے۔
اِن سے کہو، بتاؤ اگر تم جانتے ہو کہ ہر چیز پر اقتدار کس کا ہے؟ اور کون ہے وہ جو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پوچھیئے کہ تمام چیزوں کا اختیار کس کے ہاتھ میں ہے؟ جو پناه دیتا ہے اور جس کے مقابلے میں کوئی پناه نہیں دیا جاتا، اگر تم جانتے ہو تو بتلا دو؟
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ کس کے ہاتھ ہے ہر چیز کا قابو اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے خلاف کوئی پناہ نہیں دے سکتا اگر تمہیں علم ہو
علامہ محمد حسین نجفی
آپ کہئے کہ اگر جانتے ہو تو بتاؤ کہ ہر چیز کی بادشاہی کس کے قبضہ میں ہے۔ جو سب کو پناہ دیتا ہے۔ مگر اس کے مقابلہ میں پناہ نہیں دی جا سکتی۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ کون ہے وہ کہ صرف اس کے ہاتھ میں ہر چیز کی مکمل بادشاہی ہے اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں پناہ نہیں دی جاتی، اگر تم جانتے ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی ہی معبود واحد ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ جل وعلا اپنے وحدانیت، خالقیت، تصرف اور ملکیت کا ثبوت دیتا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ معبود برحق صرف وہی ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے پس اپنے محترم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیں تو وہ سات لفظوں میں اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرے گے اور اس میں کسی کو شریک نہیں بتائیں گے۔ آپ انہی کے جواب کو لے کر انہیں قائل کریں کہ جب خالق، مالک، صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں پھر معبود بھی تنہا وہی کیوں نہ ہو؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کی جائے؟ واقعہ یہی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو بھی مخلوق الٰہی اور مملوک رب جانتے تھے لیکن انہیں مقربان رب سمجھ کر اس نیت سے ان کی عبادت کرتے تھے کہ وہ ہمیں بھی مقرب بارگاہ اللہ بنا دیں گے۔ پس حکم ہوتا ہے کہ زمین اور زمین کی تمام چیزوں کا خالق کون ہے؟ اس کی بابت ان مشرکوں سے سوال کرو۔ ان کا جواب یہی ہو گا کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ اب تم پھر ان سے کہو کہ کیا اب بھی اس اقرار کے بعد بھی تم اتنا نہیں سمجھتے کہ عبادت کے لائق بھی وہی ہے کیونکہ خالق و رازق وہی ہے۔ پھر پوچھو کہ اس بلند و بالا آسمان کا اس کی مخلوق کا خالق کون ہے؟ جو عرش جیسی زبردست چیز کا رب ہے؟ جو مخلوق کی چھت جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”اللہ کی شان بہت بڑی ہے اس کا عرش آسمانوں پر اس طرح ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے قبہ کی طرح بنا کر بتایا“ [سنن ابوداود:4726،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور ان کی کل مخلوق کرسی کے مقابلے پر ایسی ہے جیسے کسی چٹیل میدان میں کوئی حلقہ پڑا ہو اور کرسی اپنی تمام چیزوں سمیت عرش کے مقابلے میں بھی ایسی ہی ہے۔ بعض سلف سے منقول ہے عرش کی ایک جانب سے دوسری جانب کی دوری پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ اور ساتویں زمین سے اس کی بلندی پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ عرش کا نام عرش اس کی بلندی کی وجہ سے ہی ہے۔ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آسمان عرش کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے کوئی قندیل آسمان و زمین کے درمیان ہو۔حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ آسمان و زمین بمقابلہ عرش الٰہی ایسے ہیں جیسے کوئی چھلا کسی چٹیل وسیع میدان میں پڑا ہو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں عرش کی قدرت و عظمت کا کوئی بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے اندازہ نہیں کر سکتا بعض سلف کا قول ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے اس آیت میں عرش عظیم کہا گیا ہے اور اس سورت کے آخر میں عرش کریم کہا گیا ہے یعنی بہت بڑا اور بہت حسن وخوبی والا۔ پس لمبائی، چوڑائی، وسعت و عظمت، حسن وخوبی میں وہ بہت ہی اعلیٰ و بالا ہے اسی لیے لوگوں نے اسے یاقوت سرخ کہا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ تمہارے رب کے پاس رات دن کچھ نہیں اس کے عرش کا نور اس کے چہرے کے نور سے ہے۔ الغرض اس سوال کا جواب بھی وہ یہی دیں گے کہ آسمان اور عرش کا رب اللہ ہے تو تم کہو کہ پھر تم اس کے عذاب سے کیوں نہیں ڈرتے۔ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کر رہے ہو؟
کتاب التفکر والاعتبار میں امام ابوبکر ابن ابی الدنیا ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً اس حدیث کو بیان فرمایا کرتے تھے کہ“جاہلیت کے زمانے میں ایک عورت پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا ایک مرتبہ اس نے اپنی ماں سے دریافت کیا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ اس نے کہا اللہ نے کہا میرے والد کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے جواب دیا اللہ نے پوچھا اور ان پہاڑوں کو اماں کس نے بنایا ہے ماں نے جواب دیا ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پوچھا اور ان ہماری بکریوں کا خالق کون ہے ماں نے کہا اللہ ہی ہے اس نے کہا سبحان اللہ۔ اللہ کی اتنی بڑی شان ہے بس اس قدر عظمت اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی سما گئی کہ وہ تھر تھر کانپنے لگا اور پہاڑ سے گرپڑا اور جان اللہ کے سپرد کر دی اس کا ایک راوی ذرا ٹھیک نہیں، [ابن عدی فی الکامل،178/4:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
دریافت کرو کہ تمام ملک کا مالک ہرچیز کا مختار کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم عموماً ان لفظوں میں ہوتی تھی کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جب کوئی تاکیدی قسم کھاتے تو فرماتے اس کی قسم جو دلوں کا مالک اور ان کے پھیرنے والا ہے۔ [صحیح بخاری:6617] پھر یہ بھی پوچھ کہ وہ کون ہے؟ جو سب کو پناہ دے اور اس کی دی ہوئی پناہ کو کوئی توڑ نہ سکے اور اس کے مقابلے پر کوئی پناہ دے نہ سکے کسی کی پناہ کا وہ پابند نہیں یعنی اتنا بڑا سید و مالک کہ تمام خلق، ملک، حکومت، اسی کے ہاتھ میں ہے بتاؤ وہ کون ہے؟ عرب میں دستور تھا کہ سردار قبیلہ اگر کسی کو پناہ دیدے تو سارا قبیلہ اس کا پابند تھا لیکن قبیلے میں سے کوئی کسی کو پناہ میں لے لے تو سردار پر اس کی پابندی نہیں۔ پس یہاں اللہ تعالیٰ کی سلطنت و عظمت بیان ہو رہی ہے کہ وہ قادر مطلق حاکم کل ہے اس کا ارادہ کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ سب سے باز پرس کر لے لیکن کسی کی مجال نہیں کہ اس سے کوئی سوال کر سکے۔ اس کی عظمت، اس کی کبریائی، اس کا غلبہ، اس کا دباؤ، اس کی قدرت، اس کی عزت، اس کی حکمت، اس کا عدل بےپایاں اور بے مثل ہے۔ سب مخلوق اس کے سامنے عاجز پست اور لاچار ہے۔ اب ساری مخلوق کی بعض پرس کرنے والا ہے اس سوال کا جواب بھی ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور نہیں کہ وہ اقرار کریں کہ اتنا بڑا بادشاہ ایسا خود مختار اللہ واحد ہی ہے کہہ دے کہ پھر تم پر کیا ٹپکی پڑی ہے؟ ایسا کون سا جادو تم پر ہو گیا ہے؟ باوجود اس اقرار کے پھر بھی دوسروں کی پرستش کرتے ہو؟ ہم تو ان کے سامنے حق واضع کر چکے توحید ربوبیت کے ساتھ ساتھ توحید الوہیت بیان کر دی صحیح دلیلیں اور صاف باتیں پہنچا دیں اور ان کا غلط گو ہونا ظاہر کر دیا کہ یہ شریک بنانے میں جھوٹے ہیں اور ان کا جھوٹ خود ان کے اقرار سے ظاہر و باہر ہے جیسے کہ سورت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے سوا دوسروں کے پکارنے کی کوئی سند نہیں۔ صرف باپ دادا کی تقلید پر ضد ہے اور وہ یہی کہتے بھی تھے کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی پر پایا اور ہم ان کی تقلید نہیں چھوڑیں گے۔
88-1یعنی جس کی حفاظت کرنا چاہے اسے اپنی پناہ میں لے لے، کیا اسے کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ 88-2یعنی جس کو وہ نقصان پہنچانا چاہے، کیا کائنات میں اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی ہے کہ وہ اسے نقصان سے بچا لے اور اللہ کے مقابلے میں اپنی پناہ میں لے لے؟
(آیت 88) ➊ {قُلْ مَنْۢ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ: ”مُلْكٌ“} اور {”مِلْكٌ“} دونوں کے مفہوم میں مبالغہ پیدا کرنے کے لیے لفظ {” مَلَكُوْتُ “} استعمال کیا گیا ہے، یعنی ایسی کامل ملکیت اور کامل بادشاہی جس میں کوئی نقص نہ ہو۔ {” بِيَدِهٖ “} کو پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”کہہ کون ہے وہ کہ صرف اس کے ہاتھ میں ہر چیز کی مکمل بادشاہی ہے۔“ ➋ { وَ هُوَ يُجِيْرُ وَ لَا يُجَارُ عَلَيْهِ: ” أَجَارَ يُجِيْرُ “} (افعال) پناہ دینا، کسی کو ہر ایک سے بچا کر اپنی حفاظت میں لے لینا۔ ابن کثیر فرماتے ہیں: ”عرب کا دستور تھا کہ ان کا سردار کسی کو پناہ دے دیتا تو اس کی پناہ کی خلاف ورزی نہیں کی جاتی تھی اور کسی کو اس کے مقابلے میں پناہ دینے کا اختیار نہیں ہوتا تھا۔“ ➌ جب ان سے نیچے اور اوپر کے دونوں جہانوں کے مالک ہونے کا اقرار کروا لیا تو حکم دیا گیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے ہر چیز کے رب ہونے کا اعتراف کر واؤ، تاکہ اس میں وہ چیزیں آ جائیں جن کا ذکر ہوا ہے اور وہ بھی جن کا ذکر نہیں ہوا۔ چنانچہ فرمایا، کہہ دے وہ کون ہے کہ صرف اس کے ہاتھ میں ہر چیز کی مکمل ملکیت اور کامل بادشاہی ہے اور وہ پناہ دیتا ہے (یعنی جسے وہ پناہ دے دے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا) اور اس کے مقابلے میں پناہ نہیں دی جاتی (یعنی جسے وہ پکڑ لے اسے کوئی اپنی پناہ میں نہیں لے سکتا، نہ اس سے چھڑا سکتا ہے)۔
یہ ضرور کہیں گے کہ یہ بات تو اللہ ہی کے لیے ہے کہو، پھر کہاں سے تم کو دھوکا لگتا ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
یہی جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے، کہہ دیجیئے پھر تم کدھر سے جادو کر دیئے جاتے ہو؟
احمد رضا خان بریلوی
اب کہیں گے یہ اللہ ہی کی شان ہے، تم فرماؤ پھر کس جادو کے فریب میں پڑے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ کے! تو کہئے! کہ پھر تم پر کہاں سے جادو کیا جا رہا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
ضرور کہیں گے اللہ کے لیے ہے۔ کہہ پھر تم کہاں سے جادو کیے جاتے ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی ہی معبود واحد ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ جل وعلا اپنے وحدانیت، خالقیت، تصرف اور ملکیت کا ثبوت دیتا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ معبود برحق صرف وہی ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے پس اپنے محترم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیں تو وہ سات لفظوں میں اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرے گے اور اس میں کسی کو شریک نہیں بتائیں گے۔ آپ انہی کے جواب کو لے کر انہیں قائل کریں کہ جب خالق، مالک، صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں پھر معبود بھی تنہا وہی کیوں نہ ہو؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کی جائے؟ واقعہ یہی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو بھی مخلوق الٰہی اور مملوک رب جانتے تھے لیکن انہیں مقربان رب سمجھ کر اس نیت سے ان کی عبادت کرتے تھے کہ وہ ہمیں بھی مقرب بارگاہ اللہ بنا دیں گے۔ پس حکم ہوتا ہے کہ زمین اور زمین کی تمام چیزوں کا خالق کون ہے؟ اس کی بابت ان مشرکوں سے سوال کرو۔ ان کا جواب یہی ہو گا کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ اب تم پھر ان سے کہو کہ کیا اب بھی اس اقرار کے بعد بھی تم اتنا نہیں سمجھتے کہ عبادت کے لائق بھی وہی ہے کیونکہ خالق و رازق وہی ہے۔ پھر پوچھو کہ اس بلند و بالا آسمان کا اس کی مخلوق کا خالق کون ہے؟ جو عرش جیسی زبردست چیز کا رب ہے؟ جو مخلوق کی چھت جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”اللہ کی شان بہت بڑی ہے اس کا عرش آسمانوں پر اس طرح ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے قبہ کی طرح بنا کر بتایا“ [سنن ابوداود:4726،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور ان کی کل مخلوق کرسی کے مقابلے پر ایسی ہے جیسے کسی چٹیل میدان میں کوئی حلقہ پڑا ہو اور کرسی اپنی تمام چیزوں سمیت عرش کے مقابلے میں بھی ایسی ہی ہے۔ بعض سلف سے منقول ہے عرش کی ایک جانب سے دوسری جانب کی دوری پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ اور ساتویں زمین سے اس کی بلندی پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ عرش کا نام عرش اس کی بلندی کی وجہ سے ہی ہے۔ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آسمان عرش کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے کوئی قندیل آسمان و زمین کے درمیان ہو۔حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ آسمان و زمین بمقابلہ عرش الٰہی ایسے ہیں جیسے کوئی چھلا کسی چٹیل وسیع میدان میں پڑا ہو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں عرش کی قدرت و عظمت کا کوئی بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے اندازہ نہیں کر سکتا بعض سلف کا قول ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے اس آیت میں عرش عظیم کہا گیا ہے اور اس سورت کے آخر میں عرش کریم کہا گیا ہے یعنی بہت بڑا اور بہت حسن وخوبی والا۔ پس لمبائی، چوڑائی، وسعت و عظمت، حسن وخوبی میں وہ بہت ہی اعلیٰ و بالا ہے اسی لیے لوگوں نے اسے یاقوت سرخ کہا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ تمہارے رب کے پاس رات دن کچھ نہیں اس کے عرش کا نور اس کے چہرے کے نور سے ہے۔ الغرض اس سوال کا جواب بھی وہ یہی دیں گے کہ آسمان اور عرش کا رب اللہ ہے تو تم کہو کہ پھر تم اس کے عذاب سے کیوں نہیں ڈرتے۔ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کر رہے ہو؟
کتاب التفکر والاعتبار میں امام ابوبکر ابن ابی الدنیا ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً اس حدیث کو بیان فرمایا کرتے تھے کہ“جاہلیت کے زمانے میں ایک عورت پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا ایک مرتبہ اس نے اپنی ماں سے دریافت کیا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ اس نے کہا اللہ نے کہا میرے والد کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے جواب دیا اللہ نے پوچھا اور ان پہاڑوں کو اماں کس نے بنایا ہے ماں نے جواب دیا ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پوچھا اور ان ہماری بکریوں کا خالق کون ہے ماں نے کہا اللہ ہی ہے اس نے کہا سبحان اللہ۔ اللہ کی اتنی بڑی شان ہے بس اس قدر عظمت اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی سما گئی کہ وہ تھر تھر کانپنے لگا اور پہاڑ سے گرپڑا اور جان اللہ کے سپرد کر دی اس کا ایک راوی ذرا ٹھیک نہیں، [ابن عدی فی الکامل،178/4:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
دریافت کرو کہ تمام ملک کا مالک ہرچیز کا مختار کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم عموماً ان لفظوں میں ہوتی تھی کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جب کوئی تاکیدی قسم کھاتے تو فرماتے اس کی قسم جو دلوں کا مالک اور ان کے پھیرنے والا ہے۔ [صحیح بخاری:6617] پھر یہ بھی پوچھ کہ وہ کون ہے؟ جو سب کو پناہ دے اور اس کی دی ہوئی پناہ کو کوئی توڑ نہ سکے اور اس کے مقابلے پر کوئی پناہ دے نہ سکے کسی کی پناہ کا وہ پابند نہیں یعنی اتنا بڑا سید و مالک کہ تمام خلق، ملک، حکومت، اسی کے ہاتھ میں ہے بتاؤ وہ کون ہے؟ عرب میں دستور تھا کہ سردار قبیلہ اگر کسی کو پناہ دیدے تو سارا قبیلہ اس کا پابند تھا لیکن قبیلے میں سے کوئی کسی کو پناہ میں لے لے تو سردار پر اس کی پابندی نہیں۔ پس یہاں اللہ تعالیٰ کی سلطنت و عظمت بیان ہو رہی ہے کہ وہ قادر مطلق حاکم کل ہے اس کا ارادہ کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ سب سے باز پرس کر لے لیکن کسی کی مجال نہیں کہ اس سے کوئی سوال کر سکے۔ اس کی عظمت، اس کی کبریائی، اس کا غلبہ، اس کا دباؤ، اس کی قدرت، اس کی عزت، اس کی حکمت، اس کا عدل بےپایاں اور بے مثل ہے۔ سب مخلوق اس کے سامنے عاجز پست اور لاچار ہے۔ اب ساری مخلوق کی بعض پرس کرنے والا ہے اس سوال کا جواب بھی ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور نہیں کہ وہ اقرار کریں کہ اتنا بڑا بادشاہ ایسا خود مختار اللہ واحد ہی ہے کہہ دے کہ پھر تم پر کیا ٹپکی پڑی ہے؟ ایسا کون سا جادو تم پر ہو گیا ہے؟ باوجود اس اقرار کے پھر بھی دوسروں کی پرستش کرتے ہو؟ ہم تو ان کے سامنے حق واضع کر چکے توحید ربوبیت کے ساتھ ساتھ توحید الوہیت بیان کر دی صحیح دلیلیں اور صاف باتیں پہنچا دیں اور ان کا غلط گو ہونا ظاہر کر دیا کہ یہ شریک بنانے میں جھوٹے ہیں اور ان کا جھوٹ خود ان کے اقرار سے ظاہر و باہر ہے جیسے کہ سورت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے سوا دوسروں کے پکارنے کی کوئی سند نہیں۔ صرف باپ دادا کی تقلید پر ضد ہے اور وہ یہی کہتے بھی تھے کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی پر پایا اور ہم ان کی تقلید نہیں چھوڑیں گے۔
98-1یعنی پھر تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ہے کہ اس اعتراف اور علم کے باوجود تم دوسروں کو اس کی عبادت میں شریک کرتے ہو؟ قرآن کریم کی اس صراحت سے واضح ہے کہ مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت، اسکی خالقیت و مالکیت اور رزاقیت کے منکر نہیں تھے بلکہ وہ سب باتیں تسلیم کرتے تھے۔ انھیں صرف توحید الوہیت سے انکار تھا۔ یعنی عبادت صرف ایک اللہ کی نہیں کرتے تھے بلکہ اس میں دوسروں کو بھی شریک کرتے تھے اس لئے نہیں کہ آسمان و زمین کی تخلیق یا تدبیر میں کوئی اور بھی شریک ہے بلکہ صرف اس مغالطے کی بنا پر کہ یہ اللہ کے نیک بندے تھے ان کو اللہ نے اختیار دے رکھے ہیں اور ہم ان کے ذریعے سے اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں۔
(آیت 89) ➊ {سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ:} یعنی وہ کہیں گے اس کا مالک بھی اللہ ہی ہے۔ ➋ { قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ: ” تُسْحَرُوْنَ “} کا لفظی معنی ہے ”جادو کیے جاتے ہو۔“ جادو کا اثر دماغ پر ہوتا ہے، آدمی دھوکا کھا جاتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ پھر تمھاری مت کہاں سے ماری جا رہی ہے اور تمھارے ہوش و حواس کیسے گم ہو گئے کہ ایسی موٹی بات نہیں سمجھ سکتے۔ جب زمین و آسمان اور عرش عظیم کا مالک وہی ہوا اور ہر چیز اسی کے قبضہ و اختیار میں ہوئی تو عبادت میں اس کا شریک کہاں سے نکل آیا اور تمھارے بدن کی ہڈیاں اور ریزے اس کی قدرت و اختیار سے نکل کر کہاں چلے جائیں گے کہ وہ انھیں زندہ نہیں کر سکے گا۔ ➌ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مشرکین عرب کا عقیدہ یہی تھا کہ اللہ تعالیٰ جسے پکڑ لے اسے کوئی پناہ دے کر چھڑا نہیں سکتا اور جسے اپنی پناہ میں لے لے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ مگر افسوس کہ بعض مسلمان کہلانے والے شرک میں اس حد تک بڑھ گئے کہ مخلوق کو خالق سے بھی زیادہ اختیار رکھنے والا بنا دیا، چنانچہ ایسے ہی ایک تُک باندھنے والے نے کہا ہے: خدا جس کو پکڑے چھڑا لے محمد محمد کا پکڑا چھڑا کوئی نہیں سکتا عجیب بات یہ ہے کہ اس صریح شرک اور اللہ تعالیٰ کی شدید گستاخی کے باوجود انھیں اصرار ہے کہ وہ اعلیٰ درجے کے مسلمان ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا تُطْرُوْنِيْ كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَی ابْنَ مَرْيَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ فَقُوْلُوْا عَبْدُ اللّٰهِ وَ رَسُوْلُهُ ] [بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی: «واذکر في الکتاب مریم…» : ۳۴۴۵ ] ”مجھے حد سے مت بڑھاؤ، جیسے نصاریٰ نے مسیح ابن مریم کو حد سے بڑھا دیا، میں تو صرف اس کا بندہ ہوں، چنانچہ یہی کہو کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“
جو امر حق ہے وہ ہم اِن کے سامنے لے آئے ہیں، اور کوئی شک نہیں کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
حق یہ ہے کہ ہم نے انہیں حق پہنچا دیا ہے اور یہ بےشک جھوٹے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ ہم ان کے پاس حق لائے اور وہ بیشک جھوٹے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
بلکہ ہم ان کے سامنے حق لے آئے ہیں۔ اور یقیناً وہ جھوٹے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بلکہ ہم ان کے پاس کامل سچ لائے ہیں اور بے شک وہ یقینا جھوٹے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی ہی معبود واحد ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ جل وعلا اپنے وحدانیت، خالقیت، تصرف اور ملکیت کا ثبوت دیتا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ معبود برحق صرف وہی ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے پس اپنے محترم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیں تو وہ سات لفظوں میں اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرے گے اور اس میں کسی کو شریک نہیں بتائیں گے۔ آپ انہی کے جواب کو لے کر انہیں قائل کریں کہ جب خالق، مالک، صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں پھر معبود بھی تنہا وہی کیوں نہ ہو؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کی جائے؟ واقعہ یہی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو بھی مخلوق الٰہی اور مملوک رب جانتے تھے لیکن انہیں مقربان رب سمجھ کر اس نیت سے ان کی عبادت کرتے تھے کہ وہ ہمیں بھی مقرب بارگاہ اللہ بنا دیں گے۔ پس حکم ہوتا ہے کہ زمین اور زمین کی تمام چیزوں کا خالق کون ہے؟ اس کی بابت ان مشرکوں سے سوال کرو۔ ان کا جواب یہی ہو گا کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ اب تم پھر ان سے کہو کہ کیا اب بھی اس اقرار کے بعد بھی تم اتنا نہیں سمجھتے کہ عبادت کے لائق بھی وہی ہے کیونکہ خالق و رازق وہی ہے۔ پھر پوچھو کہ اس بلند و بالا آسمان کا اس کی مخلوق کا خالق کون ہے؟ جو عرش جیسی زبردست چیز کا رب ہے؟ جو مخلوق کی چھت جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”اللہ کی شان بہت بڑی ہے اس کا عرش آسمانوں پر اس طرح ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے قبہ کی طرح بنا کر بتایا“ [سنن ابوداود:4726،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور ان کی کل مخلوق کرسی کے مقابلے پر ایسی ہے جیسے کسی چٹیل میدان میں کوئی حلقہ پڑا ہو اور کرسی اپنی تمام چیزوں سمیت عرش کے مقابلے میں بھی ایسی ہی ہے۔ بعض سلف سے منقول ہے عرش کی ایک جانب سے دوسری جانب کی دوری پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ اور ساتویں زمین سے اس کی بلندی پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ عرش کا نام عرش اس کی بلندی کی وجہ سے ہی ہے۔ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آسمان عرش کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے کوئی قندیل آسمان و زمین کے درمیان ہو۔حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ آسمان و زمین بمقابلہ عرش الٰہی ایسے ہیں جیسے کوئی چھلا کسی چٹیل وسیع میدان میں پڑا ہو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں عرش کی قدرت و عظمت کا کوئی بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے اندازہ نہیں کر سکتا بعض سلف کا قول ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے اس آیت میں عرش عظیم کہا گیا ہے اور اس سورت کے آخر میں عرش کریم کہا گیا ہے یعنی بہت بڑا اور بہت حسن وخوبی والا۔ پس لمبائی، چوڑائی، وسعت و عظمت، حسن وخوبی میں وہ بہت ہی اعلیٰ و بالا ہے اسی لیے لوگوں نے اسے یاقوت سرخ کہا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ تمہارے رب کے پاس رات دن کچھ نہیں اس کے عرش کا نور اس کے چہرے کے نور سے ہے۔ الغرض اس سوال کا جواب بھی وہ یہی دیں گے کہ آسمان اور عرش کا رب اللہ ہے تو تم کہو کہ پھر تم اس کے عذاب سے کیوں نہیں ڈرتے۔ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کر رہے ہو؟
کتاب التفکر والاعتبار میں امام ابوبکر ابن ابی الدنیا ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً اس حدیث کو بیان فرمایا کرتے تھے کہ“جاہلیت کے زمانے میں ایک عورت پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا ایک مرتبہ اس نے اپنی ماں سے دریافت کیا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ اس نے کہا اللہ نے کہا میرے والد کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے جواب دیا اللہ نے پوچھا اور ان پہاڑوں کو اماں کس نے بنایا ہے ماں نے جواب دیا ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پوچھا اور ان ہماری بکریوں کا خالق کون ہے ماں نے کہا اللہ ہی ہے اس نے کہا سبحان اللہ۔ اللہ کی اتنی بڑی شان ہے بس اس قدر عظمت اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی سما گئی کہ وہ تھر تھر کانپنے لگا اور پہاڑ سے گرپڑا اور جان اللہ کے سپرد کر دی اس کا ایک راوی ذرا ٹھیک نہیں، [ابن عدی فی الکامل،178/4:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
دریافت کرو کہ تمام ملک کا مالک ہرچیز کا مختار کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم عموماً ان لفظوں میں ہوتی تھی کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جب کوئی تاکیدی قسم کھاتے تو فرماتے اس کی قسم جو دلوں کا مالک اور ان کے پھیرنے والا ہے۔ [صحیح بخاری:6617] پھر یہ بھی پوچھ کہ وہ کون ہے؟ جو سب کو پناہ دے اور اس کی دی ہوئی پناہ کو کوئی توڑ نہ سکے اور اس کے مقابلے پر کوئی پناہ دے نہ سکے کسی کی پناہ کا وہ پابند نہیں یعنی اتنا بڑا سید و مالک کہ تمام خلق، ملک، حکومت، اسی کے ہاتھ میں ہے بتاؤ وہ کون ہے؟ عرب میں دستور تھا کہ سردار قبیلہ اگر کسی کو پناہ دیدے تو سارا قبیلہ اس کا پابند تھا لیکن قبیلے میں سے کوئی کسی کو پناہ میں لے لے تو سردار پر اس کی پابندی نہیں۔ پس یہاں اللہ تعالیٰ کی سلطنت و عظمت بیان ہو رہی ہے کہ وہ قادر مطلق حاکم کل ہے اس کا ارادہ کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ سب سے باز پرس کر لے لیکن کسی کی مجال نہیں کہ اس سے کوئی سوال کر سکے۔ اس کی عظمت، اس کی کبریائی، اس کا غلبہ، اس کا دباؤ، اس کی قدرت، اس کی عزت، اس کی حکمت، اس کا عدل بےپایاں اور بے مثل ہے۔ سب مخلوق اس کے سامنے عاجز پست اور لاچار ہے۔ اب ساری مخلوق کی بعض پرس کرنے والا ہے اس سوال کا جواب بھی ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور نہیں کہ وہ اقرار کریں کہ اتنا بڑا بادشاہ ایسا خود مختار اللہ واحد ہی ہے کہہ دے کہ پھر تم پر کیا ٹپکی پڑی ہے؟ ایسا کون سا جادو تم پر ہو گیا ہے؟ باوجود اس اقرار کے پھر بھی دوسروں کی پرستش کرتے ہو؟ ہم تو ان کے سامنے حق واضع کر چکے توحید ربوبیت کے ساتھ ساتھ توحید الوہیت بیان کر دی صحیح دلیلیں اور صاف باتیں پہنچا دیں اور ان کا غلط گو ہونا ظاہر کر دیا کہ یہ شریک بنانے میں جھوٹے ہیں اور ان کا جھوٹ خود ان کے اقرار سے ظاہر و باہر ہے جیسے کہ سورت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے سوا دوسروں کے پکارنے کی کوئی سند نہیں۔ صرف باپ دادا کی تقلید پر ضد ہے اور وہ یہی کہتے بھی تھے کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی پر پایا اور ہم ان کی تقلید نہیں چھوڑیں گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 90) ➊ { بَلْ اَتَيْنٰهُمْ بِالْحَقِّ: ”اَلْحَقُّ“} سے مراد یہاں ”سچ“ ہے، کیونکہ مقابلے میں {” لَكٰذِبُوْنَ “} آ رہا ہے۔ ”کامل“ کا مفہوم الف لام سے حاصل ہو رہا ہے، یعنی ہم ان کے پاس جھوٹے قصے کہانیاں ({اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ})نہیں لائے، بلکہ ایسا سچ لائے ہیں جس میں کوئی نقص نہیں۔ ➋ { وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ:} یعنی یہ لوگ یقینا جھوٹے ہیں، اس بات میں کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک ہے، یا کوئی اس کا بیٹا ہے جسے خدائی اختیارات حاصل ہیں، یا وہ جو چاہے اللہ تعالیٰ سے منوا سکتا ہے اور اس بات میں جھوٹے ہیں کہ موت کے بعد زندگی ممکن نہیں ہے اور ان کا جھوٹ ان کے اعترافات سے ثابت ہے جو اوپر گزرے۔
اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے اور کوئی دوسرا خدا اُس کے ساتھ نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی خلق کو لے کر الگ ہو جاتا، اور پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے پاک ہے اللہ ان باتوں سے جو یہ لوگ بناتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
نہ تو اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا اور نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے، ورنہ ہر معبود اپنی مخلوق کو لئے لئے پھرتا اور ہر ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتا۔ جو اوصاف یہ بتلاتے ہیں ان سے اللہ پاک (اور بےنیاز) ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ نے کوئی بچہ اختیار نہ کیا اور نہ اس کے ساتھ کوئی دوسرا خدا یوں ہوتا تو ہر خدا اپنی مخلوق لے جاتا اور ضرور ایک دوسرے پر اپنی تعلی چاہتا پاکی ہے اللہ کو ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی الہ ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہو جاتا اور پھر ایک خدا دوسرے خدا پر چڑھ دوڑتا۔ پاک ہے خدا اس سے جو لوگ بیان کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ نے نہ کوئی اولاد بنائی اور نہ کبھی اس کے ساتھ کوئی معبود تھا، اس وقت ضرور ہر معبود، جو کچھ اس نے پیدا کیا تھا، اسے لے کر چل دیتا اور یقینا ان میں سے بعض بعض پر چڑھائی کر دیتا۔ پاک ہے اللہ اس سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وہ ہر شان میں بےمثال ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اس سے اپنی برتری بیان فرما رہا ہے کہ اس کی اولاد ہو یا اس کا شریک ہو۔ ملک میں، تصرف میں، عبادت کا مستحق ہونے میں، وہ یکتا ہے، نہ اس کی اولاد ہے، نہ اس کا شریک ہے۔ اگر مان لیا جائے کہ کئی ایک اللہ ہیں تو ہر ایک اپنی مخلوق کامستقل مالک ہونا چاہے تو موجودات میں نظام قائم نہیں رہ سکتا۔ حالانکہ کائنات کا انتظام مکمل ہے، عالم علوی اور عالم سفلی، آسمان و زمین وغیرہ کمال ربط کے ساتھ اپنے اپنے مقررہ کام میں مشغول ہیں۔ دستور سے ایک انچ ادھر ادھر نہیں ہوتے۔ پس معلوم ہوا کہ ان سب کا خالق مالک اللہ ایک ہی ہے نہ کہ متفرق کئی ایک اور بہت سے اللہ مان لینے کی صورت میں یہ بھی ظاہر ہے کہ ہر ایک دوسرے کو پست ومغلوب کرنا اور خود غالب اور طاقتور ہونا چاہے گا۔ اگر غالب آ گیا تو مغلوب اللہ نہ رہا اگر غالب نہ آیا تو وہ خود اللہ نہیں۔ پس یہ دونوں دلیلیں بتا رہی ہیں کہ اللہ ایک ہی ہے۔
متکلمین کے طور پر اس دلیل کو دلیل تمانع کہتے ہیں۔ ان کی تقریر یہ ہے کہ اگر دو اللہ مانے جائیں یا اس سے زیادہ پھر ایک تو ایک جسم کی حرکت کا ارادہ کر لے اور دوسرا اس کے سکون کا ارادہ کرے اب اگر دونوں کی مراد حاصل نہ ہو تو دونوں ہی عاجز ٹھہرے اور جب عاجز ٹھہرے تو اللہ نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ واجب عاجز نہیں ہوتا۔ اور یہ بھی ناممکن ہے کہ دونوں کی مراد پوری ہو کیونکہ ایک کے خلاف دوسرے کی چاہت ہے۔ تو دونوں کی مراد کا حاصل ہونا محال ہے۔ اور یہ محال لازم ہوا ہے اس وجہ سے کہ دو یا دو سے زیادہ اللہ فرض کئے گئے تھے پس یہ تعدد میں باطل ہو گیا۔ اب رہی تیسری صورت یعنی یہ کہ ایک کی چاہت پوری ہو اور ایک کی نہ ہو تو جس کی پوری ہوئی وہ تو غالب اور واجب رہا اور جس کی پوری نہ ہوئی اور مغلوب اور ممکن ہوا۔ کیونکہ واجب کی صفت یہ نہیں کہ وہ مغلوب ہو تو اس صورت میں بھی معبودوں کی کثرت تعداد باطل ہوتی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ اللہ ایک ہے وہ ظالم سرکش، حد سے گزر جانے والے، مشرک جو اللہ کی اولاد ٹھہراتے ہیں اور اس کے شریک بتاتے ہیں، ان کے ان بیان کردہ اوصاف سے ذات الٰہی بلند و بالا اور برتر و منزہ ہے۔ وہ ہرچیز کو جانتا ہے جو مخلوق سے پوشیدہ ہے۔ اور اسے بھی جو مخلوق پر عیاں ہے۔ پس وہ ان تمام شرکا سے پاک ہے، جسے منکر اور مشرک شریک الٰہ بتاتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 92،91) ➊ { مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ …: ” وَلَدٍ “} نکرہ پر{ ” مَا “ } کے ساتھ نفی آئی تو عموم پیدا ہو گیا کہ ”اللہ نے کوئی اولاد نہیں بنائی۔“ {” مِنْ “} کے ساتھ اس عموم کی تاکید ہو گئی، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی اولاد نہیں بنائی۔“ یعنی نہ کوئی فرشتہ، نہ نبی، نہ ولی، نہ کوئی اور۔ ➋ تفسیر ابن کثیر میں ہے: ”اللہ تعالیٰ اس سے اپنی برتری بیان فرما رہا ہے کہ اس کی اولاد ہو یا اس کا کوئی شریک ہو، ملک میں، تصرف میں، عبادت کا مستحق ہونے میں۔ وہ یکتا ہے، نہ اس کی اولاد ہے، نہ اس کا کوئی شریک ہے۔ اگر مان لیا جائے کہ کئی ایک الٰہ (معبود) ہیں تو ہر ایک اپنی مخلوق کا مستقل مالک ہونا چاہیے۔ ایسی صورت میں موجودات میں نظام قائم نہیں رہ سکتا، حالانکہ کائنات کا انتظام مکمل ہے۔ عالم علوی، عالم سفلی اور آسمان و زمین وغیرہ کمال ربط کے ساتھ اپنے اپنے کام میں مشغول ہیں۔ دستور سے ایک انچ اِدھر اُدھر نہیں ہوتے۔ پس معلوم ہوا کہ ان سب کا خالق و مالک ایک ہی ہے، نہ کہ متفرق کئی ایک۔ پھر بہت سے الٰہ (معبود) مان لینے کی صورت میں یہ بھی ظاہر ہے کہ ہر ایک دوسرے کو پست و مغلوب کرنا اور خود غالب اور طاقت ور ہونا چاہے گا، اگر غالب آ گیا تو مغلوب الٰہ (معبود) نہ رہا، اگر غالب نہ آیا تو وہ خود الٰہ (معبود) نہیں۔“ (ابن کثیر) پس ثابت ہوا کہ معبود ایک اللہ ہے۔ وہ ظالم، سرکش، حد سے گزر جانے والے مشرک جو اللہ کی اولاد ٹھہراتے ہیں اور اس کے شریک بتاتے ہیں، ان کے بیان کردہ اوصاف سے ذات الٰہی بہت بلند و بالا اور برتر و منزہ ہے، وہ ہر چیز کو جانتا ہے جو مخلوق سے پوشیدہ ہے اور اسے بھی جو مخلوق پر عیاں ہے، پس وہ ان تمام شرکاء سے پاک ہے جو مشرک اور منکر اللہ کا شریک بتاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اولاد یا شریک کے رد کے لیے دیکھیے سورۂ انبیاء (۲۲)، بنی اسرائیل (۴۲، ۱۱۱)، نحل (۵۷، ۵۸)، اور کہف (۴) کی تفسیر۔
کھلے اور چھپے کا جاننے والا، وہ بالاتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ تجویز کر رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
وه غائب حاضر کا جاننے واﻻ ہے اور جو شرک یہ کرتے ہیں اس سے باﻻتر ہے
احمد رضا خان بریلوی
جاننے والا ہر نہاں و عیاں کا تو اسے بلندی ہے ان کے شرک سے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ غیب و شہادت یعنی پوشیدہ اور ظاہر سب کا جاننے والا ہے۔ اور وہ اس شرک سے بلند و بالا ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
غائب اور حاضر کو جاننے والا ہے، پس وہ بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک بناتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وہ ہر شان میں بےمثال ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اس سے اپنی برتری بیان فرما رہا ہے کہ اس کی اولاد ہو یا اس کا شریک ہو۔ ملک میں، تصرف میں، عبادت کا مستحق ہونے میں، وہ یکتا ہے، نہ اس کی اولاد ہے، نہ اس کا شریک ہے۔ اگر مان لیا جائے کہ کئی ایک اللہ ہیں تو ہر ایک اپنی مخلوق کامستقل مالک ہونا چاہے تو موجودات میں نظام قائم نہیں رہ سکتا۔ حالانکہ کائنات کا انتظام مکمل ہے، عالم علوی اور عالم سفلی، آسمان و زمین وغیرہ کمال ربط کے ساتھ اپنے اپنے مقررہ کام میں مشغول ہیں۔ دستور سے ایک انچ ادھر ادھر نہیں ہوتے۔ پس معلوم ہوا کہ ان سب کا خالق مالک اللہ ایک ہی ہے نہ کہ متفرق کئی ایک اور بہت سے اللہ مان لینے کی صورت میں یہ بھی ظاہر ہے کہ ہر ایک دوسرے کو پست ومغلوب کرنا اور خود غالب اور طاقتور ہونا چاہے گا۔ اگر غالب آ گیا تو مغلوب اللہ نہ رہا اگر غالب نہ آیا تو وہ خود اللہ نہیں۔ پس یہ دونوں دلیلیں بتا رہی ہیں کہ اللہ ایک ہی ہے۔
متکلمین کے طور پر اس دلیل کو دلیل تمانع کہتے ہیں۔ ان کی تقریر یہ ہے کہ اگر دو اللہ مانے جائیں یا اس سے زیادہ پھر ایک تو ایک جسم کی حرکت کا ارادہ کر لے اور دوسرا اس کے سکون کا ارادہ کرے اب اگر دونوں کی مراد حاصل نہ ہو تو دونوں ہی عاجز ٹھہرے اور جب عاجز ٹھہرے تو اللہ نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ واجب عاجز نہیں ہوتا۔ اور یہ بھی ناممکن ہے کہ دونوں کی مراد پوری ہو کیونکہ ایک کے خلاف دوسرے کی چاہت ہے۔ تو دونوں کی مراد کا حاصل ہونا محال ہے۔ اور یہ محال لازم ہوا ہے اس وجہ سے کہ دو یا دو سے زیادہ اللہ فرض کئے گئے تھے پس یہ تعدد میں باطل ہو گیا۔ اب رہی تیسری صورت یعنی یہ کہ ایک کی چاہت پوری ہو اور ایک کی نہ ہو تو جس کی پوری ہوئی وہ تو غالب اور واجب رہا اور جس کی پوری نہ ہوئی اور مغلوب اور ممکن ہوا۔ کیونکہ واجب کی صفت یہ نہیں کہ وہ مغلوب ہو تو اس صورت میں بھی معبودوں کی کثرت تعداد باطل ہوتی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ اللہ ایک ہے وہ ظالم سرکش، حد سے گزر جانے والے، مشرک جو اللہ کی اولاد ٹھہراتے ہیں اور اس کے شریک بتاتے ہیں، ان کے ان بیان کردہ اوصاف سے ذات الٰہی بلند و بالا اور برتر و منزہ ہے۔ وہ ہرچیز کو جانتا ہے جو مخلوق سے پوشیدہ ہے۔ اور اسے بھی جو مخلوق پر عیاں ہے۔ پس وہ ان تمام شرکا سے پاک ہے، جسے منکر اور مشرک شریک الٰہ بتاتے ہیں۔
اے محمدؐ، دعا کرو کہ "پروردگار، جس عذاب کی اِن کو دھمکی دی جا رہی ہے وہ اگر میری موجودگی میں تو لائے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ دعا کریں کہ اے میرے پروردگار! اگر تو مجھے وه دکھائے جس کا وعده انہیں دیا جا رہا ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم عرض کرو کہ اے میرے رب! اگر تو مجھے دکھائے جو انہیں وعدہ دیا جاتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) آپ کہئے کہ اے میرے پروردگار اگر تو مجھے وہ عذاب دکھا دے جس کی ان لوگوں کو دھمکی دی جا رہی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو کہہ اے میرے رب! اگر تو کبھی مجھے ضرور ہی وہ (عذاب) دکھائے جس کا وہ وعدہ دیے جاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
برائی کے بدلے اچھائی ٭٭
سختیوں کے اترنے کے وقت کی دعا تعلیم ہو رہی ہے کہ اگر تو ان بدکاروں پر عذاب لائے اور میں ان میں موجود ہوں۔ تو مجھے ان عذابوں سے بچا لینا۔ مسند احمد اور ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ جملہ بھی ہوتا تھا کہ اے اللہ جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے، تو مجھے فتنہ میں ڈالنے سے پہلے اٹھالے۔ [مسند احمد:243/5:صحیح] اللہ تعالیٰ اس کی تعلیم دینے کے بعد فرماتا ہے کہ ہم ان عذابوں کو تجھے دکھا دینے پر قادر ہیں۔ جو ان کفار پر ہماری جانب سے اترنے والے ہیں۔ پھر وہ بات سکھائی جاتی ہے جو تمام مشکلوں کی دوا، اور رفع کرنے والی ہے اور وہ یہ کہ برائی کرنے والے سے بھلائی کی جائے۔ تاکہ اس کی عداوت محبت سے اور نفرت الفت سے بدل جائے۔ جیسے ایک اور آیت میں بھی ہے کہ بھلائی سے دفع کر تو جانی دشمن، دلی دوست بن جائے گا۔ لیکن یہ کام انہیں سے ہوسکتا ہے جو صبر کرنے والے ہوں۔ یعنی اس کے حکم کی تعمیل اور اس کی صفت کی تحصیل صرف ان لوگوں سے ہو سکتی ہے جو لوگوں کی تکلیف کو برداشت کر لینے کے عادی ہو جائیں۔ اور گو وہ برائی کریں لیکن یہ بھلائی کرتے جائیں۔ یہ وصف انہی لوگوں کا ہے جو بڑے نصیب دار ہوں۔ دنیا اور آخرت کی بھلائی جن کی قسمت میں ہو۔
شیطان سے بچنے کی دعائیں ٭٭
انسان کی برائی سے بچنے کی بہترین ترکیب بتا کر پھر شیطان کی برائی سے بچنے کی ترکیب بتائی جاتی ہے کہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تمہیں شیطان سے بچا لے۔ اس لیے کہ اس کے فن فریب سے بچنے کا ہتھیار تمہارے پاس سوائے اس کے اور نہیں۔ وہ سلوک و احسان سے بس میں نہیں آنے کا۔ استعاذہ کے بیان میں ہم لکھ آئے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم» من ہمزہ ونفخہ ونفثہ پڑھا کرتے تھے۔ اور ذکر شیطان کی شمولیت کو روک دیتا ہے۔ کھانا پینا جماع ذبح وغیرہ کل کاموں کے شروع کرنے سے پہلے اللہ کا ذکر کرنا چاہے۔ ابوداؤد میں ہے کہ حضور علیہ السلام کی ایک دعا یہ بھی تھی۔ «اللہم انی اعوذبک من الھرم و اعوذ من الھدم ومن الغرق واعوذبک ان یتخبطنی الشیطان عندالموت» ۔ اے اللہ میں تجھ سے بڑے بڑھاپے سے اور دب کر مرجانے سے اور ڈوب کر مرجانے سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی کہ موت کے وقت شیطان مجھ کو بہکاوے۔ [سنن ابوداود:1552،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دعا سکھاتے تھے کہ نیند اچاٹ ہو جانے کے مرض کو دور کرنے کے لیے ہم سوتے وقت پڑھا کریں۔ «بِسمِ اللّٰہِ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِن غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَمِن شَرِّ عِبَادِہِ وَمِن ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَاَئن یَحضُرُونَ» ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا دستور تھا کہ اپنی اولاد میں سے جو ہوشیار ہوتے انہیں یہ دعا سکھا دیا کرتے اور جو چھوٹے ناسمجھ ہوتے یاد نہ کر سکتے ان کے گلے میں اس دعا کو لکھ کر لٹکا دیتے۔ [سنن ابوداود:3893،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة] ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب بتاتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 94،93) ➊ { قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِيَنِّيْ مَا يُوْعَدُوْنَ: ” اِمَّا “ ”إِنْ“} کی تاکید {”مَا“} کے ساتھ کی گئی ہے، اس لیے ترجمہ ”اگر کبھی“ کیا گیا ہے اور {”تُرِيَنَّ“} میں نون ثقیلہ تاکید کے لیے ہے۔ مفسر بقاعی نے لکھا ہے: {”أَيْ إِنْ كَانَ وَلَا بُدَّ مِنْ أَنْ تُرِيَنِّيْ قَبْلَ مَوْتِيْ “} اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے: ”اگر تو کبھی مجھے ضرور ہی وہ (عذاب) دکھائے۔“ ➋ یعنی جب اللہ تعالیٰ کی جناب میں اولاد یا شریک بنانے کی سخت گستاخی کی جاتی ہے تو یقینا کوئی سخت آفت آ کر رہے گی، اس لیے ہر مومن کو حکم دیا گیا کہ وہ اللہ کے عذاب سے ڈر کر یہ دعا مانگے۔ ➌ آیت کے اولین مخاطب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، ان کے ساتھ امت کا ہر فرد بھی مخاطب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں عذاب نہ لانے کا وعدہ فرمایا ہے، فرمایا: «وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِيْهِمْ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ» [ الأنفال: ۳۳ ] ”اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ انھیں عذاب دے، جب کہ تو ان میں ہو اور اللہ انھیں کبھی عذاب دینے والا نہیں جب کہ وہ بخشش مانگتے ہوں۔“ اس کے باوجود اس آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب سے بچنے کی دعا کا حکم دیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے عذاب سے سخت خوف زدہ رہتے تھے اور اس سے بچنے کی دعا کرتے رہتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پہلے اور پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیے، اس کے باوجود آپ کو استغفار کا حکم دیا، فرمایا: «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ» [ النصر: ۳ ] ”تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور اس سے بخشش مانگ۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے استغفار کیا کرتے تھے۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اللہ تعالیٰ سے خشیت کا اندازہ ہوتا ہے اور اس میں امت کے لیے تعلیم بھی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھما فرماتی ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بادل یا آندھی دیکھتے تو آپ کے چہرے پر اس کے اثرات پہچانے جاتے۔“ عائشہ رضی اللہ عنھا نے کہا: ”یا رسول اللہ! لوگ جب بادل دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں، اس امید پر کہ اس میں بارش ہو گی اور میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ جب آپ اسے دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار نظر آتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَا عَائِشَةُ! مَا يُؤْمِنِّيْ أَنْ يَّكُوْنَ فِيْهِ عَذَابٌ؟ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيْحِ وَقَدْ رَأَی قَوْمٌ الْعَذَابَ فَقَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «فلما رأوہ عارضا…» : ۴۸۲۹ ] ”اے عائشہ! کیا ضمانت ہے کہ اس میں کوئی عذاب نہ ہو؟ ایک قوم (عاد) پر آندھی کا عذاب آیا اور ایک قوم نے عذاب دیکھا تو کہنے لگے، یہ بادل ہم پر بارش برسانے والا ہے۔“ ➍ اس آیت سے معلوم ہوا کہ آدمی کو ہمیشہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ پروردگارا! تو مجھے عفو اور عافیت عطا فرما اور اگر تو نے کچھ لوگوں کو عذاب دینے کا ارادہ کر ہی لیا ہو تو مجھے ان ظالموں میں شامل نہ کرنا۔ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دعا نقل فرمائی ہے: [ اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَ تَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَ حُبَّ الْمَسَاكِيْنِ وَ أَنْ تَغْفِرَ لِيْ وَ تَرْحَمَنِيْ وَ إِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً فِيْ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِيْ غَيْرَ مَفْتُوْنٍ، وَ أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَ حُبَّ مَنْ يُّحِبُّكَ وَ حُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُ إِلٰی حُبِّكَ ] ”اے اللہ! میں تجھ سے نیکیاں کرنے، برائیاں چھوڑنے اور مساکین کی محبت کا سوال کرتا ہوں اور اس بات کا بھی کہ تو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کرے اور جب تو کسی قوم کے فتنے کا ارادہ کرے تو مجھے فتنے میں ڈالے بغیر قبض کر لے۔ میں تجھ سے تیری محبت کا سوال کرتا ہوں اور ان لوگوں کی محبت کا جو تجھ سے محبت رکھتے ہیں اور ایسے عمل کی محبت کا جو تیری محبت کے قریب کر دے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّهَا حَقٌّ فَادْرُسُوْهَا ثُمَّ تَعَلَّمُوْهَا ] [ ترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ صٓ: ۳۲۳۵، قال الترمذي حسن صحیح و قال الألباني صحیح ] ”یہ کلمات حق ہیں انھیں پڑھو، پھر انھیں اچھی طرح سیکھ لو۔“ ➎ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا سکھائی تاکہ مشرکین پر عذاب آئے تو آپ اس وقت ان کے ساتھ نہ ہوں، بلکہ ان سے الگ ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کی توفیق عطا فرما کر آپ کو کافروں سے الگ کر دیا اور قحط اور جنگوں کی صورت میں ان پر جو عذاب آئے آپ کو ان سے محفوظ رکھا۔
تو اے میرے رب، مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیو"
مولانا محمد جوناگڑھی
تو اے رب! تو مجھے ان ﻇالموں کے گروه میں نہ کرنا
احمد رضا خان بریلوی
تو اے میرے رب! مجھے ان ظالموں کے ساتھ نہ کرنا
علامہ محمد حسین نجفی
تو اے میرے پروردگار! مجھے ظالم لوگوں میں شامل نہ کرنا۔
عبدالسلام بن محمد
تو اے میرے رب! مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کرنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
برائی کے بدلے اچھائی ٭٭
سختیوں کے اترنے کے وقت کی دعا تعلیم ہو رہی ہے کہ اگر تو ان بدکاروں پر عذاب لائے اور میں ان میں موجود ہوں۔ تو مجھے ان عذابوں سے بچا لینا۔ مسند احمد اور ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ جملہ بھی ہوتا تھا کہ اے اللہ جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے، تو مجھے فتنہ میں ڈالنے سے پہلے اٹھالے۔ [مسند احمد:243/5:صحیح] اللہ تعالیٰ اس کی تعلیم دینے کے بعد فرماتا ہے کہ ہم ان عذابوں کو تجھے دکھا دینے پر قادر ہیں۔ جو ان کفار پر ہماری جانب سے اترنے والے ہیں۔ پھر وہ بات سکھائی جاتی ہے جو تمام مشکلوں کی دوا، اور رفع کرنے والی ہے اور وہ یہ کہ برائی کرنے والے سے بھلائی کی جائے۔ تاکہ اس کی عداوت محبت سے اور نفرت الفت سے بدل جائے۔ جیسے ایک اور آیت میں بھی ہے کہ بھلائی سے دفع کر تو جانی دشمن، دلی دوست بن جائے گا۔ لیکن یہ کام انہیں سے ہوسکتا ہے جو صبر کرنے والے ہوں۔ یعنی اس کے حکم کی تعمیل اور اس کی صفت کی تحصیل صرف ان لوگوں سے ہو سکتی ہے جو لوگوں کی تکلیف کو برداشت کر لینے کے عادی ہو جائیں۔ اور گو وہ برائی کریں لیکن یہ بھلائی کرتے جائیں۔ یہ وصف انہی لوگوں کا ہے جو بڑے نصیب دار ہوں۔ دنیا اور آخرت کی بھلائی جن کی قسمت میں ہو۔
شیطان سے بچنے کی دعائیں ٭٭
انسان کی برائی سے بچنے کی بہترین ترکیب بتا کر پھر شیطان کی برائی سے بچنے کی ترکیب بتائی جاتی ہے کہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تمہیں شیطان سے بچا لے۔ اس لیے کہ اس کے فن فریب سے بچنے کا ہتھیار تمہارے پاس سوائے اس کے اور نہیں۔ وہ سلوک و احسان سے بس میں نہیں آنے کا۔ استعاذہ کے بیان میں ہم لکھ آئے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم» من ہمزہ ونفخہ ونفثہ پڑھا کرتے تھے۔ اور ذکر شیطان کی شمولیت کو روک دیتا ہے۔ کھانا پینا جماع ذبح وغیرہ کل کاموں کے شروع کرنے سے پہلے اللہ کا ذکر کرنا چاہے۔ ابوداؤد میں ہے کہ حضور علیہ السلام کی ایک دعا یہ بھی تھی۔ «اللہم انی اعوذبک من الھرم و اعوذ من الھدم ومن الغرق واعوذبک ان یتخبطنی الشیطان عندالموت» ۔ اے اللہ میں تجھ سے بڑے بڑھاپے سے اور دب کر مرجانے سے اور ڈوب کر مرجانے سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی کہ موت کے وقت شیطان مجھ کو بہکاوے۔ [سنن ابوداود:1552،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دعا سکھاتے تھے کہ نیند اچاٹ ہو جانے کے مرض کو دور کرنے کے لیے ہم سوتے وقت پڑھا کریں۔ «بِسمِ اللّٰہِ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِن غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَمِن شَرِّ عِبَادِہِ وَمِن ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَاَئن یَحضُرُونَ» ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا دستور تھا کہ اپنی اولاد میں سے جو ہوشیار ہوتے انہیں یہ دعا سکھا دیا کرتے اور جو چھوٹے ناسمجھ ہوتے یاد نہ کر سکتے ان کے گلے میں اس دعا کو لکھ کر لٹکا دیتے۔ [سنن ابوداود:3893،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة] ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب بتاتے ہیں۔
94-1چناچہ حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرماتے تھے (وَ اِذَا اَرَدَتَ بِقَوْمِ فِتْنَۃ، ُ َوَفَّنِیْ اِلَیْکَ غَیْرَ مَفْتُوْنِ) (ترندی تفسیر سورة ص و مسند احمد، جلد-5 ص243۔ ' اے اللہ جب تو کسی قوم پر آزمائش یا عذاب بھیجنے کا فیصلہ کرے تو اس سے پہلے پہلے مجھے دنیا سے اٹھا لے۔
اور حقیقت یہ ہے کہ ہم تمہاری آنکھوں کے سامنے ہی وہ چیز لے آنے کی پوری قدرت رکھتے ہیں جس کی دھمکی ہم انہیں دے رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم جو کچھ وعدے انہیں دے رہے ہیں سب آپ کو دکھا دینے پر یقیناً قادر ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم قادر ہیں کہ تمہیں دکھادیں جو انہیں وعدہ دے رہے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم اس عذاب کے آپ کو دکھانے پر قادر ہیں جس کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بے شک ہم اس بات پر کہ تجھے وہ (عذاب) دکھائیں جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں، ضرور قادر ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
برائی کے بدلے اچھائی ٭٭
سختیوں کے اترنے کے وقت کی دعا تعلیم ہو رہی ہے کہ اگر تو ان بدکاروں پر عذاب لائے اور میں ان میں موجود ہوں۔ تو مجھے ان عذابوں سے بچا لینا۔ مسند احمد اور ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ جملہ بھی ہوتا تھا کہ اے اللہ جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے، تو مجھے فتنہ میں ڈالنے سے پہلے اٹھالے۔ [مسند احمد:243/5:صحیح] اللہ تعالیٰ اس کی تعلیم دینے کے بعد فرماتا ہے کہ ہم ان عذابوں کو تجھے دکھا دینے پر قادر ہیں۔ جو ان کفار پر ہماری جانب سے اترنے والے ہیں۔ پھر وہ بات سکھائی جاتی ہے جو تمام مشکلوں کی دوا، اور رفع کرنے والی ہے اور وہ یہ کہ برائی کرنے والے سے بھلائی کی جائے۔ تاکہ اس کی عداوت محبت سے اور نفرت الفت سے بدل جائے۔ جیسے ایک اور آیت میں بھی ہے کہ بھلائی سے دفع کر تو جانی دشمن، دلی دوست بن جائے گا۔ لیکن یہ کام انہیں سے ہوسکتا ہے جو صبر کرنے والے ہوں۔ یعنی اس کے حکم کی تعمیل اور اس کی صفت کی تحصیل صرف ان لوگوں سے ہو سکتی ہے جو لوگوں کی تکلیف کو برداشت کر لینے کے عادی ہو جائیں۔ اور گو وہ برائی کریں لیکن یہ بھلائی کرتے جائیں۔ یہ وصف انہی لوگوں کا ہے جو بڑے نصیب دار ہوں۔ دنیا اور آخرت کی بھلائی جن کی قسمت میں ہو۔
شیطان سے بچنے کی دعائیں ٭٭
انسان کی برائی سے بچنے کی بہترین ترکیب بتا کر پھر شیطان کی برائی سے بچنے کی ترکیب بتائی جاتی ہے کہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تمہیں شیطان سے بچا لے۔ اس لیے کہ اس کے فن فریب سے بچنے کا ہتھیار تمہارے پاس سوائے اس کے اور نہیں۔ وہ سلوک و احسان سے بس میں نہیں آنے کا۔ استعاذہ کے بیان میں ہم لکھ آئے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم» من ہمزہ ونفخہ ونفثہ پڑھا کرتے تھے۔ اور ذکر شیطان کی شمولیت کو روک دیتا ہے۔ کھانا پینا جماع ذبح وغیرہ کل کاموں کے شروع کرنے سے پہلے اللہ کا ذکر کرنا چاہے۔ ابوداؤد میں ہے کہ حضور علیہ السلام کی ایک دعا یہ بھی تھی۔ «اللہم انی اعوذبک من الھرم و اعوذ من الھدم ومن الغرق واعوذبک ان یتخبطنی الشیطان عندالموت» ۔ اے اللہ میں تجھ سے بڑے بڑھاپے سے اور دب کر مرجانے سے اور ڈوب کر مرجانے سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی کہ موت کے وقت شیطان مجھ کو بہکاوے۔ [سنن ابوداود:1552،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دعا سکھاتے تھے کہ نیند اچاٹ ہو جانے کے مرض کو دور کرنے کے لیے ہم سوتے وقت پڑھا کریں۔ «بِسمِ اللّٰہِ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِن غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَمِن شَرِّ عِبَادِہِ وَمِن ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَاَئن یَحضُرُونَ» ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا دستور تھا کہ اپنی اولاد میں سے جو ہوشیار ہوتے انہیں یہ دعا سکھا دیا کرتے اور جو چھوٹے ناسمجھ ہوتے یاد نہ کر سکتے ان کے گلے میں اس دعا کو لکھ کر لٹکا دیتے۔ [سنن ابوداود:3893،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة] ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب بتاتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 95) ➊ {وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِيَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ:”إِنَّ“} اور ”لام“ کے ساتھ تاکید سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین مکہ پر عذاب کا وہ وعدہ پورا ہوتا ہوا آنکھوں سے دکھا دیا، جب کہ آپ اس وقت ان سے الگ ہو چکے تھے اور مدینہ کی طرف ہجرت کر چکے تھے۔ چنانچہ اس عذاب کی ابتدا بدر سے ہوئی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار قریش کے سرداروں کی لاشیں کنویں میں پھینکنے کا حکم دیا اور پھر اس کنویں کے کنارے پر کھڑے ہو کر ایک ایک کا نام لے کر فرمایا: [ فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ ] [ بخاري، المغازي، باب قتل أبي جھل: ۳۹۷۶ ] ”یقینا ہم نے تو وہ وعدہ سچا پا لیا جو ہمارے رب نے ہم سے کیا تھا، تو کیا تم نے بھی وہ وعدہ سچا پایا جو تمھارے رب نے تم سے کیا تھا؟“ پھر ہجرت کے آٹھویں سال مکہ فتح ہو گیا اور دسویں سال حُجۃ الوداع کے موقع پر مشرکین کو چار ماہ کی مہلت دی گئی کہ اسلام قبول کر لیں یا جزیرۃ العرب خالی کر دیں اور یہاں سے نکل جائیں، ورنہ جہاد کے ذریعے سے ان کا کلی خاتمہ کر دیا جائے گا۔ یہ عذاب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں ان پر نازل ہوا، پھر خلفائے راشدین کے زمانے میں آس پاس کے ممالک سے شرک اور مشرکین کا خاتمہ ہوا اور اسلام کا بول بالا ہوا۔ (والحمد للہ) ➋ اگر عذاب سے مراد آسمان سے نازل ہونے والا عذاب ہو، جیسا کہ عاد و ثمود پر نازل ہوا، تو مطلب یہ ہو گا کہ ہم ان سے عذاب کا جو وعدہ کر رہے ہیں یقینا آپ کو دکھانے پر قادر ہیں، مگر ایک تو موسیٰ علیہ السلام کے بعد ہم نے طے کیا ہے کہ جہاد کے ذریعے سے مسلمانوں کے ہاتھوں کفار کو عذاب ہو، جیسا کہ فرمایا: «قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ» [ التوبۃ: ۱۴ ] ”ان سے لڑو، اللہ انھیں تمھارے ہاتھوں سے عذاب دے گا۔“ اور بے شک ہم آسمان سے ایسا عذاب بھیجنے پر قادر ہیں جو ان کا صفایا کر دے، مگر ہماری حکمت کا تقاضا انھیں مہلت دینے کا ہے، تاکہ ان میں سے جنھوں نے اسلام قبول کرنا ہے کر لیں اور جن کی آئندہ نسل نے اسلام قبول کرنا ہے وہ نسل وجود میں آ جائے۔
اے نبیؐ، برائی کو اس طریقہ سے دفع کرو جو بہترین ہو جو کچھ باتیں وہ تم پر بناتے ہیں وہ ہمیں خوب معلوم ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
برائی کو اس طریقے سے دور کریں جو سراسر بھلائی واﻻ ہو، جو کچھ یہ بیان کرتے ہیں ہم بخوبی واقف ہیں
احمد رضا خان بریلوی
سب سے اچھی بھلائی سے برائی کو دفع کرو ہم خوب جانتے ہیں جو باتیں یہ بناتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) آپ برائی کو احسن طریقہ سے دفع کریں۔ ہم خوب جانتے ہیں جو وہ (آپ کی نسبت) بیان کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اس طریقے سے برائی کو ہٹا جو سب سے اچھا ہو، ہم زیادہ جاننے والے ہیں جو کچھ وہ بیان کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
برائی کے بدلے اچھائی ٭٭
سختیوں کے اترنے کے وقت کی دعا تعلیم ہو رہی ہے کہ اگر تو ان بدکاروں پر عذاب لائے اور میں ان میں موجود ہوں۔ تو مجھے ان عذابوں سے بچا لینا۔ مسند احمد اور ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ جملہ بھی ہوتا تھا کہ اے اللہ جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے، تو مجھے فتنہ میں ڈالنے سے پہلے اٹھالے۔ [مسند احمد:243/5:صحیح] اللہ تعالیٰ اس کی تعلیم دینے کے بعد فرماتا ہے کہ ہم ان عذابوں کو تجھے دکھا دینے پر قادر ہیں۔ جو ان کفار پر ہماری جانب سے اترنے والے ہیں۔ پھر وہ بات سکھائی جاتی ہے جو تمام مشکلوں کی دوا، اور رفع کرنے والی ہے اور وہ یہ کہ برائی کرنے والے سے بھلائی کی جائے۔ تاکہ اس کی عداوت محبت سے اور نفرت الفت سے بدل جائے۔ جیسے ایک اور آیت میں بھی ہے کہ بھلائی سے دفع کر تو جانی دشمن، دلی دوست بن جائے گا۔ لیکن یہ کام انہیں سے ہوسکتا ہے جو صبر کرنے والے ہوں۔ یعنی اس کے حکم کی تعمیل اور اس کی صفت کی تحصیل صرف ان لوگوں سے ہو سکتی ہے جو لوگوں کی تکلیف کو برداشت کر لینے کے عادی ہو جائیں۔ اور گو وہ برائی کریں لیکن یہ بھلائی کرتے جائیں۔ یہ وصف انہی لوگوں کا ہے جو بڑے نصیب دار ہوں۔ دنیا اور آخرت کی بھلائی جن کی قسمت میں ہو۔
شیطان سے بچنے کی دعائیں ٭٭
انسان کی برائی سے بچنے کی بہترین ترکیب بتا کر پھر شیطان کی برائی سے بچنے کی ترکیب بتائی جاتی ہے کہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تمہیں شیطان سے بچا لے۔ اس لیے کہ اس کے فن فریب سے بچنے کا ہتھیار تمہارے پاس سوائے اس کے اور نہیں۔ وہ سلوک و احسان سے بس میں نہیں آنے کا۔ استعاذہ کے بیان میں ہم لکھ آئے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم» من ہمزہ ونفخہ ونفثہ پڑھا کرتے تھے۔ اور ذکر شیطان کی شمولیت کو روک دیتا ہے۔ کھانا پینا جماع ذبح وغیرہ کل کاموں کے شروع کرنے سے پہلے اللہ کا ذکر کرنا چاہے۔ ابوداؤد میں ہے کہ حضور علیہ السلام کی ایک دعا یہ بھی تھی۔ «اللہم انی اعوذبک من الھرم و اعوذ من الھدم ومن الغرق واعوذبک ان یتخبطنی الشیطان عندالموت» ۔ اے اللہ میں تجھ سے بڑے بڑھاپے سے اور دب کر مرجانے سے اور ڈوب کر مرجانے سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی کہ موت کے وقت شیطان مجھ کو بہکاوے۔ [سنن ابوداود:1552،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دعا سکھاتے تھے کہ نیند اچاٹ ہو جانے کے مرض کو دور کرنے کے لیے ہم سوتے وقت پڑھا کریں۔ «بِسمِ اللّٰہِ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِن غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَمِن شَرِّ عِبَادِہِ وَمِن ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَاَئن یَحضُرُونَ» ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا دستور تھا کہ اپنی اولاد میں سے جو ہوشیار ہوتے انہیں یہ دعا سکھا دیا کرتے اور جو چھوٹے ناسمجھ ہوتے یاد نہ کر سکتے ان کے گلے میں اس دعا کو لکھ کر لٹکا دیتے۔ [سنن ابوداود:3893،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة] ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب بتاتے ہیں۔
96-1جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا ' برائی ایسے طریقے سے دور کرو جو اچھا ہو، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارا دشمن بھی، تمہارا گہرا دوست بن جائے گا۔ حٰم السجدہ 2435
(آیت 96) ➊ { اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ …:} یعنی ہم عذاب میں جو تاخیر کر رہے ہیں اس میں ہماری حکمت ہے، آپ اس دوران ان کی ہر برائی اور زیادتی کا جواب ایسے طریقے سے دیں جو اچھا ہی نہیں، سب سے اچھا ہو۔ ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ کیا کچھ کہتے ہیں، کس طرح اللہ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں اور کس طرح آپ کو کاہن، شاعر، جادوگر اور دیوانہ وغیرہ کہتے ہیں۔ ➋ برائی کا جواب بہترین طریقے سے یہ ہے کہ بدی کا جواب نیکی سے، ظلم کا جواب انصاف سے، خیانت کا جواب دیانت داری سے، جھوٹ کا جواب سچ سے، قطع رحمی کا جواب صلہ رحمی سے اور گالی گلوچ کا جواب دعا و سلام سے دیا جائے۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے کا نتیجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: «اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَ بَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ» [ حٰمٓ السجدۃ: ۳۴ ] ”(برائی کو) اس (طریقے) کے ساتھ ہٹا جو سب سے اچھا ہے، تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہو گا جیسے وہ دلی دوست ہو۔“ اس میں عفو و درگزر کی تعلیم دی گئی ہے، کیونکہ لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے کے لیے یہ سب سے اچھا طریقہ ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں: [ وَاللّٰهِ! مَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ فِيْ شَيْءٍ يُؤْتَی إِلَيْهِ قَطُّ حَتّٰی تُنْتَهَكَ حُرُمَاتُ اللّٰهِ فَيَنْتَقِمُ لِلّٰهِ ] [ بخاري، الحدود، باب إقامۃ الحدود والانتقام لحرمات اللہ: ۶۷۸۶ ] ”اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ کی گئی کسی زیادتی میں اپنی ذات کا انتقام کبھی نہیں لیا، مگر اس صورت میں کہ اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کو پامال کیا جائے تو اللہ کی خاطر انتقام لیتے تھے۔“
اور دعا کرو کہ "پروردگار، میں شیاطین کی اکساہٹوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور دعا کریں کہ اے میرے پروردگار! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناه چاہتا ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور تم عرض کرو کہ اے میرے رب تیری پناہ شیاطین کے وسوسو ں سے
علامہ محمد حسین نجفی
اور آپ کہئے! اے میرے پروردگار! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تجھ سے پناہ مانگتا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور تو کہہ اے میرے رب! میں شیطانوں کی اکساہٹوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
برائی کے بدلے اچھائی ٭٭
سختیوں کے اترنے کے وقت کی دعا تعلیم ہو رہی ہے کہ اگر تو ان بدکاروں پر عذاب لائے اور میں ان میں موجود ہوں۔ تو مجھے ان عذابوں سے بچا لینا۔ مسند احمد اور ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ جملہ بھی ہوتا تھا کہ اے اللہ جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے، تو مجھے فتنہ میں ڈالنے سے پہلے اٹھالے۔ [مسند احمد:243/5:صحیح] اللہ تعالیٰ اس کی تعلیم دینے کے بعد فرماتا ہے کہ ہم ان عذابوں کو تجھے دکھا دینے پر قادر ہیں۔ جو ان کفار پر ہماری جانب سے اترنے والے ہیں۔ پھر وہ بات سکھائی جاتی ہے جو تمام مشکلوں کی دوا، اور رفع کرنے والی ہے اور وہ یہ کہ برائی کرنے والے سے بھلائی کی جائے۔ تاکہ اس کی عداوت محبت سے اور نفرت الفت سے بدل جائے۔ جیسے ایک اور آیت میں بھی ہے کہ بھلائی سے دفع کر تو جانی دشمن، دلی دوست بن جائے گا۔ لیکن یہ کام انہیں سے ہوسکتا ہے جو صبر کرنے والے ہوں۔ یعنی اس کے حکم کی تعمیل اور اس کی صفت کی تحصیل صرف ان لوگوں سے ہو سکتی ہے جو لوگوں کی تکلیف کو برداشت کر لینے کے عادی ہو جائیں۔ اور گو وہ برائی کریں لیکن یہ بھلائی کرتے جائیں۔ یہ وصف انہی لوگوں کا ہے جو بڑے نصیب دار ہوں۔ دنیا اور آخرت کی بھلائی جن کی قسمت میں ہو۔
شیطان سے بچنے کی دعائیں ٭٭
انسان کی برائی سے بچنے کی بہترین ترکیب بتا کر پھر شیطان کی برائی سے بچنے کی ترکیب بتائی جاتی ہے کہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تمہیں شیطان سے بچا لے۔ اس لیے کہ اس کے فن فریب سے بچنے کا ہتھیار تمہارے پاس سوائے اس کے اور نہیں۔ وہ سلوک و احسان سے بس میں نہیں آنے کا۔ استعاذہ کے بیان میں ہم لکھ آئے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم» من ہمزہ ونفخہ ونفثہ پڑھا کرتے تھے۔ اور ذکر شیطان کی شمولیت کو روک دیتا ہے۔ کھانا پینا جماع ذبح وغیرہ کل کاموں کے شروع کرنے سے پہلے اللہ کا ذکر کرنا چاہے۔ ابوداؤد میں ہے کہ حضور علیہ السلام کی ایک دعا یہ بھی تھی۔ «اللہم انی اعوذبک من الھرم و اعوذ من الھدم ومن الغرق واعوذبک ان یتخبطنی الشیطان عندالموت» ۔ اے اللہ میں تجھ سے بڑے بڑھاپے سے اور دب کر مرجانے سے اور ڈوب کر مرجانے سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی کہ موت کے وقت شیطان مجھ کو بہکاوے۔ [سنن ابوداود:1552،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دعا سکھاتے تھے کہ نیند اچاٹ ہو جانے کے مرض کو دور کرنے کے لیے ہم سوتے وقت پڑھا کریں۔ «بِسمِ اللّٰہِ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِن غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَمِن شَرِّ عِبَادِہِ وَمِن ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَاَئن یَحضُرُونَ» ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا دستور تھا کہ اپنی اولاد میں سے جو ہوشیار ہوتے انہیں یہ دعا سکھا دیا کرتے اور جو چھوٹے ناسمجھ ہوتے یاد نہ کر سکتے ان کے گلے میں اس دعا کو لکھ کر لٹکا دیتے۔ [سنن ابوداود:3893،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة] ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب بتاتے ہیں۔
97-1چناچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شیطان سے اس طرح پناہ مانگتے (وَ اَعُوذ باللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیمِ مِنَ الشَیْطٰنِ الرَّجِیْمِ مِنْ حَمْزِہِ وَ نَفُخِہِ وَنَفْثِہِ) (ابو داؤد)
(آیت 98،97) ➊ { وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِ …: ”اَلْهَمْزُ“} کا معنی ہاتھ یا کسی بھی چیز کے ساتھ چونکا مارنا ہے۔ گلا گھونٹنے، طعنہ دینے اور غیبت کے معنی میں بھی آتا ہے۔ مراد شیطان کے چونکے، وسوسے اور اکساہٹیں ہیں، جن کے ساتھ وہ غصے پر ابھارتا ہے، حتیٰ کہ جنون تک پہنچا دیتا ہے۔ شیاطین انس و جن کے وساوس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ ناس کی تفسیر۔ {” اَنْ يَّحْضُرُوْنِ “} اصل میں {”أَنْ يَّحْضُرُوْنِيْ“} ہے، کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو {” اَنْ “} کے ساتھ {” يَحْضُرُوْنِ “} کا نون گر جاتا، یاء کو حذف کرکے نون کا کسرہ باقی رکھا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے میرے رب! میں صرف شیاطین کے چونکوں ہی سے تیری پناہ نہیں مانگتا، اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں، کیونکہ انھوں نے خیر کے ساتھ تو آنا ہی نہیں۔ برے لوگوں کی صحبت سے بھی بچنے کی دعا سکھائی۔ ➋ برائی کا جواب نیکی سے دینا اگرچہ دشمنوں کو دوست بنانے کے لیے اکسیر ہے، مگر اس کے لیے بہت بڑے حوصلے کی ضرورت ہے، ہر شخص میں یہ برداشت نہیں پائی جاتی، آدمی کا نفس اسے انتقام پر ابھارتا ہے، پھر انسانوں اور جنوں میں سے شیطان اسے اکسا کر غصہ دلاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے برائی کا جواب بہترین طریقے کے ساتھ دینے کی تلقین کے بعد ایسے شیطان انسانوں اور جنوں کی اکساہٹوں سے اپنی پناہ مانگنے کی تاکید فرمائی، کیونکہ ان ظالموں کا مقابلہ کرنے میں انسان بے بس ہے۔ یہاں اس کی کوئی تدبیر کام نہیں آتی، نہ ہی وہ شیطان کسی نیکی یا احسان سے دوست بنتے یا نرم ہوتے ہیں، کیونکہ انھوں نے دشمنی کی قسم کھا رکھی ہے۔ اس لیے اسے اس ذات گرامی کی پناہ میں آ جانا چاہیے جس کے قبضے میں کائنات کی ہر چیز ہے، نیک ہو یا بد ہر ایک کی پیشانی اس کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری جگہ یہی بات تفصیل سے بیان فرمائی: «وَ لَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّيِّئَةُ اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَ بَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ (34) وَ مَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَ مَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِيْمٍ (35) وَ اِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» [ حٰمٓ السجدۃ: ۳۴ تا ۳۶ ] ”اور نہ نیکی برابر ہوتی ہے اور نہ برائی۔ (برائی کو) اس (طریقے) کے ساتھ ہٹا جو سب سے اچھا ہے، تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہوگا جیسے وہ دلی دوست ہے۔ اور یہ چیز نہیں دی جاتی مگر انھی کو جو صبر کریں اور یہ نہیں دی جاتی مگر اسی کو جو بہت بڑے نصیب والا ہے۔ اور اگر کبھی شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ تجھے ابھار ہی دے تو اللہ کی پناہ طلب کر، بلاشبہ وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید پڑھتے وقت شیطان سے پناہ مانگنے کا حکم دیا۔ (النحل: ۹۸) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کے وقت شیطان کے گمراہ کرنے سے دعا کی تعلیم دی، ابو الیسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: [ أَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْهَدْمِ وَ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّيْ، وَ أَعُوْذُ بِكَ منَ الْغَرَقِ وَالْحَرَقِ وَالْهَرَمِ وَ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ أَنْ يَتَخَبَّطَنِيَ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ وَ أَعُوْذُ بِكَ أَنْ أَمُوْتَ فِيْ سَبِيْلِكَ مُدْبِرًا وَ أَعُوْذُ بِكَ أَنْ أَمُوْتَ لَدِيْغًا ] [ أبوداوٗد، الوتر، باب في الإستعاذۃ: ۱۵۵۲، و صححہ الألباني ] ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں (اپنے اوپر) دیوار وغیرہ گرنے سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں نیچے گر جانے سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں غرق ہونے سے، جلنے سے اور شدید بڑھاپے سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں کہ شیطان مجھے موت کے وقت خبطی بنا دے اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ تیرے راستے میں پیٹھ دیتا ہوا مروں اور تیری پناہ مانگتا ہوں کہ زہریلے ڈنک سے مروں۔“ کسی خاص وقت ہی میں نہیں، بلکہ {” وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ يَّحْضُرُوْنِ “} کا مطلب یہ ہے کہ ”اے میرے رب! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ شیاطین میرے پاس کسی بھی وقت آئیں یا موجود ہوں۔“ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام کاموں کے شروع میں اللہ کا نام لینے کا حکم دیا، کیونکہ اللہ کا نام لینے سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے پینے، جماع اور ذبح وغیرہ کے شروع میں اللہ کا نام لینے کا حکم دیا، رات کو اللہ کا نام لے کر سونے کا حکم دیا اور فرمایا: [ وَ أَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا، وَ أَوْكُوْا قِرَبَكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ، وَ خَمِّرُوْا آنِيَتَكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ، وَلَوْ أَنْ تَعْرُضُوْا عَلَيْهَا شَيْئًا وَ أَطْفِؤا مَصَابِيْحَكُمْ ] [ بخاري، الأشربۃ، باب تغطیۃ الإناء: ۵۶۲۳۔ مسلم: ۹۷؍۲۰۱۲ ] ” (جب رات کی ایک گھڑی گزر جائے تو) دروازے بند کر لو اور اس وقت اللہ کا نام لو، کیونکہ شیطان بند دروازے کو نہیں کھولتا اور اللہ کا نام لے کر اپنے مشکیزوں کا منہ باندھ دو۔ اللہ کا نام لے کر اپنے برتنوں کو ڈھانپ دو، خواہ کسی چیز کو چوڑائی میں رکھ کر ہی ڈھانپ سکو اور اپنے چراغ (سونے سے پہلے) بجھا دیا کرو۔“ ہمارے استاذ حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ان کے پاس ایک شخص نے شکایت کی کہ رات کو اچانک گھر کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں، تو انھوں نے رات بسم اللہ پڑھ کر دروازے بند کرنے کی نصیحت کی تو دروازوں کا کھلنا ختم ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غصے کے وقت بھی شیطان سے پناہ مانگنے کی تلقین فرمائی۔ سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دوسرے کو گالی دینے لگے، ہم آپ کے پاس بیٹھے تھے۔ ان میں سے ایک دوسرے کو سخت غصے میں گالی دے رہا تھا، اس کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنِّيْ لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ، لَوْ قَالَ أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، فَقَالُوْا لِلرَّجُلِ أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُوْلُ النَّبِيُّ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ؟ قَالَ إِنِّيْ لَسْتُ بِمَجْنُوْنٍ ] [ بخاري، الأدب، باب الحذر من الغضب: ۶۱۱۵ ] ”میں ایک کلمہ جانتا ہوں، اگر یہ شخص وہ کلمہ کہہ دے تو جو غصہ اسے آیا ہوا ہے چلا جائے۔ وہ کلمہ {”أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ“} ہے۔“ لوگوں نے اسے کہا: ”سنتے نہیں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں؟“ وہ کہنے لگا: ”میں کوئی پاگل نہیں ہوں۔“
بلکہ اے میرے رب، میں تو اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اے رب! میں تیری پناه چاہتا ہوں کہ وه میرے پاس آجائیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اے میرے پروردگار! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ وہ (شیطان) میرے پاس آئیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اے میرے رب! میں اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آموجود ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
برائی کے بدلے اچھائی ٭٭
سختیوں کے اترنے کے وقت کی دعا تعلیم ہو رہی ہے کہ اگر تو ان بدکاروں پر عذاب لائے اور میں ان میں موجود ہوں۔ تو مجھے ان عذابوں سے بچا لینا۔ مسند احمد اور ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ جملہ بھی ہوتا تھا کہ اے اللہ جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے، تو مجھے فتنہ میں ڈالنے سے پہلے اٹھالے۔ [مسند احمد:243/5:صحیح] اللہ تعالیٰ اس کی تعلیم دینے کے بعد فرماتا ہے کہ ہم ان عذابوں کو تجھے دکھا دینے پر قادر ہیں۔ جو ان کفار پر ہماری جانب سے اترنے والے ہیں۔ پھر وہ بات سکھائی جاتی ہے جو تمام مشکلوں کی دوا، اور رفع کرنے والی ہے اور وہ یہ کہ برائی کرنے والے سے بھلائی کی جائے۔ تاکہ اس کی عداوت محبت سے اور نفرت الفت سے بدل جائے۔ جیسے ایک اور آیت میں بھی ہے کہ بھلائی سے دفع کر تو جانی دشمن، دلی دوست بن جائے گا۔ لیکن یہ کام انہیں سے ہوسکتا ہے جو صبر کرنے والے ہوں۔ یعنی اس کے حکم کی تعمیل اور اس کی صفت کی تحصیل صرف ان لوگوں سے ہو سکتی ہے جو لوگوں کی تکلیف کو برداشت کر لینے کے عادی ہو جائیں۔ اور گو وہ برائی کریں لیکن یہ بھلائی کرتے جائیں۔ یہ وصف انہی لوگوں کا ہے جو بڑے نصیب دار ہوں۔ دنیا اور آخرت کی بھلائی جن کی قسمت میں ہو۔
شیطان سے بچنے کی دعائیں ٭٭
انسان کی برائی سے بچنے کی بہترین ترکیب بتا کر پھر شیطان کی برائی سے بچنے کی ترکیب بتائی جاتی ہے کہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تمہیں شیطان سے بچا لے۔ اس لیے کہ اس کے فن فریب سے بچنے کا ہتھیار تمہارے پاس سوائے اس کے اور نہیں۔ وہ سلوک و احسان سے بس میں نہیں آنے کا۔ استعاذہ کے بیان میں ہم لکھ آئے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم» من ہمزہ ونفخہ ونفثہ پڑھا کرتے تھے۔ اور ذکر شیطان کی شمولیت کو روک دیتا ہے۔ کھانا پینا جماع ذبح وغیرہ کل کاموں کے شروع کرنے سے پہلے اللہ کا ذکر کرنا چاہے۔ ابوداؤد میں ہے کہ حضور علیہ السلام کی ایک دعا یہ بھی تھی۔ «اللہم انی اعوذبک من الھرم و اعوذ من الھدم ومن الغرق واعوذبک ان یتخبطنی الشیطان عندالموت» ۔ اے اللہ میں تجھ سے بڑے بڑھاپے سے اور دب کر مرجانے سے اور ڈوب کر مرجانے سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی کہ موت کے وقت شیطان مجھ کو بہکاوے۔ [سنن ابوداود:1552،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دعا سکھاتے تھے کہ نیند اچاٹ ہو جانے کے مرض کو دور کرنے کے لیے ہم سوتے وقت پڑھا کریں۔ «بِسمِ اللّٰہِ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِن غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَمِن شَرِّ عِبَادِہِ وَمِن ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَاَئن یَحضُرُونَ» ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا دستور تھا کہ اپنی اولاد میں سے جو ہوشیار ہوتے انہیں یہ دعا سکھا دیا کرتے اور جو چھوٹے ناسمجھ ہوتے یاد نہ کر سکتے ان کے گلے میں اس دعا کو لکھ کر لٹکا دیتے۔ [سنن ابوداود:3893،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة] ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب بتاتے ہیں۔
98-1اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی کہ ہر اہم کام کی ابتدا اللہ کے نام سے کرو یعنی بسم اللہ پڑھ کر، کیونکہ اللہ کی یاد، شیطان کو دور کرنے والی چیز ہے۔ اسی لئے آپ یہ دعا بھی مانگتے تھے۔ (اللَّھُمَّ اِنِّیْ اَعُوذُبِکَ مِنَ الْحَرَمِ وَ اَعُوذُبِکَ مِنَ الْغَرَقِ، و اَعُوذُبِکَ اَنْ یَّتَخَبَّطَنِیْ الشَّیْطَانُ عِنْدَالمُوْتِ) (ابو داؤد)
(یہ لوگ اپنی کرنی سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آ جائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ "اے میرے رب، مجھے اُسی دنیا میں واپس بھیج دیجیے جسے میں چھوڑ آیا ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آنے لگتی ہے تو کہتا ہے اے میرے پروردگار! مجھے واپس لوٹا دے
احمد رضا خان بریلوی
یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہتا ہے کہ اے میرے رب مجھے واپس پھر دیجئے،
علامہ محمد حسین نجفی
(کافروں کی یہی حالت رہتی ہے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آکھڑی ہوتی ہے تو (تب) کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار! مجھے (ایک بار) اسی دنیا میں واپس بھیج دے جسے میں چھوڑ آیا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آتی ہے تو کہتا ہے اے میرے رب! مجھے واپس بھیجو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بعد از مرگ ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ موت کے وقت کفار اور بدترین گناہگار سخت نادم ہوتے ہیں اور حسرت و افسوس کے ساتھ آرزو کرتے ہیں کہ کاش کہ ہم دنیا کی طرف لوٹائے جائیں۔ تاکہ ہم نیک اعمال کر لیں۔ لیکن اس وقت وہ امید فضول، یہ آرزو لا حاصل ہے چنانچہ سورۃ المنافقون میں فرمایا جو ہم نے دیا ہے ہماری راہ میں دیتے رہو، اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کی موت آ جائے اس وقت وہ کہے کہ اے اللہ ذرا سی مہلت دیدے تو میں صدقہ خیرات کر لوں اور نیک بندہ بن جاؤں لیکن اجل آ جانے کے بعد کسی کو مہلت نہیں ملتی تمہارے تمام اعمال سے اللہ تعالیٰ خبردار ہے اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔ مثلا «وَاَنْذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَاْتِيْهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَآ اَخِّرْنَآ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ» [ 14- ابراهيم: 44 ] اور آیت «يَوْمَ يَاْتِيْ تَاْوِيْلُهٗ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بالْحَقِّ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَاءَ فَيَشْفَعُوْا لَنَآ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ قَدْ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ» [ 7- الاعراف: 53 ] اور آیت «وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» [ 32- السجدة: 12 ] تک اور آیت «وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» [ 6-الأنعام: 27، 28 ] تک اور آیت «وَتَرَى الظّٰلِمِيْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ يَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِيْلٍ» [ 42- الشورى: 44 ] تک اور آیت «قَالُوْا رَبَّنَآ اَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَاَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِيْلٍ» [ 40- غافر: 11 ] اور اس کے بعد کی آیت «وَهُمْ يَصْطَرِخُوْنَ فِيْهَا رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ اَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيْرُ فَذُوْقُوْا فَمَا للظّٰلِمِيْنَ مِنْ نَّصِيْرٍ» [ 35- فاطر: 37 ] ، وغیرہ۔
ان آیتوں میں بیان ہوا ہے کہ ایسے بدکار لوگ موت کو دیکھ کر قیامت کے دن اللہ کے سامنے کی پیشی کے وقت جہنم کے سامنے کھڑے ہو کر دنیا میں واپس آنے کی تمنا کریں گے اور نیک اعمال کرنے کا وعدہ کریں گے۔ لیکن ان وقتوں میں ان کی طلب پوری نہ ہو گی۔ یہ تو وہ کلمہ ہے جو بہ مجبوری ایسے آڑے وقتوں میں ان کی زبان سے نکل ہی جاتا ہے اور یہ بھی کہ یہ کہتے ہیں مگر کرنے کے نہیں۔ اگر دنیا میں واپس لوٹائے بھی جائیں تو عمل صالح کر کے نہیں دینے کے بلکہ ویسے ہی رہیں گے جسے پہلے رہے تھے یہ تو جھوٹے اور لپاڑئیے ہیں کتنا مبارک وہ شخص ہے جو اس زندگی میں نیک عمل کر لے اور کیسے بدنصیب یہ لوگ ہیں کہ آج نہ انہیں مال و اولاد کی تمنا ہے۔ نہ دنیا اور زینت دنیا کی خواہش ہے صرف یہ چاہتے ہیں کہ دو روز کی زندگی اور ہو جائے تو کچھ نیک اعمال کر لیں لیکن تمنا بے کار، آرزو بےسود، خواہش بے جا۔ یہ بھی مروی ہے کہ ان کی تمنا پر انہیں اللہ ڈانٹ دے گا اور فرمائے گا کہ یہ بھی تمہاری بات ہے عمل اب بھی نہیں کرو گے۔ حضرت علاء بن زیاد رحمتہ اللہ علیہ کیا ہی عمدہ بات فرماتے ہیں۔ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، تم یوں سمجھ لو کہ میری موت آ چکی تھی، لیکن میں نے اللہ سے دعا کی کہ مجھے چند روز کی مہلت دے دی جائے تاکہ میں نیکیاں کر لوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کافر کی اس امید کو یاد رکھو اور خود زندگی کی گھڑیاں اطاعت اللہ میں بسر کرو۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب کافر اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اپنا جہنم کا ٹھکانا دیکھ لیتا ہے تو کہتا ہے میرے رب مجھے لوٹا دے میں توبہ کر لوں گا اور نیک اعمال کرتا رہوں گا جواب ملتا ہے کہ جتنی عمر تجھے دی گئی تھی تو ختم کر چکا پھر اس کی قبر اس پر سمٹ جاتی ہے اور تنگ ہو جاتی ہے اور سانپ بچھو چمٹ جاتے ہیں۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں گناہگاروں پر ان کی قبریں بڑی مصیبت کی جگہیں ہوتی ہیں ان کی قبروں میں انہیں کالے ناگ ڈستے رہتے ہیں جن میں سے ایک بہت بڑا اس کے سرہانے ہوتا ہے ایک اتنا ہی بڑا پاؤں کی طرف ہوتا ہے وہ سر کی طرف سے ڈسنا اور اوپر چڑھنا شروع کرتا ہے اور یہ پیروں کی طرف سے کاٹنا اور اوپر چڑھنا شروع کرتا ہے یہاں تک کہ بیچ کی جگہ آ کر دونوں اکٹھے ہو جاتے ہیں پس یہ ہے وہ برزخ جہاں یہ قیامت تک رہیں گے۔ من ورائہم کہ معنی کئے گے ہیں کہ ان کے آگے برزخ ایک حجاب اور آڑ ہے دنیا اور آخرت کے درمیان وہ نہ تو صحیح طور دنیا میں ہیں کہ کھائیں پیئں نہ آخرت میں ہیں کہ اعمال کے بدلے میں آ جائیں بلکہ بیچ ہی بیچ میں ہیں پس اس آیت میں ظالموں کو ڈرایا جا رہا ہے کہ انہیں عالم برزخ میں بھی بڑے بھاری عذاب ہوں گے جیسے فرمان ہے «مِنْ وَّرَاىِٕهِمْ جَهَنَّمُ وَلَا يُغْنِيْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَيْـــــًٔا وَّلَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِيَاءَ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ» [ 45- الجاثية: 10 ] ان کے آگے جہنم ہے اور آیت میں ہے «وَمِنْ وَّرَاىِٕهٖ عَذَابٌ غَلِيْظٌ» [ 14- ابراھیم: 17 ] ان کے آگے سخت عذاب ہے برزخ کا۔ قبر کا یہ عذاب ان پر قیامت کے قائم ہونے تک برابر جاری رہے گا۔ جیسے حدیث میں ہے کہ وہ اس میں برابر عذاب میں رہے گا یعنی زمین میں۔ [سنن ترمذي:1071،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 99) ➊ { حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ:} یہاں ایک سوال ہے کہ لفظ {” حَتّٰۤى “} (یہاں تک) کا تعلق کس سے ہے؟ مفسرین نے اس کی کئی توجیہیں فرمائی ہیں۔ ایک یہ کہ آپ کفار کی برائیوں کا جواب بہترین طریقے سے دیتے رہیں اور جو باتیں یہ بناتے ہیں انھیں ہمارے حوالے کرتے رہیں، یہاں تک کہ…الخ۔ دوسری توجیہ اس سے زیادہ واضح ہے کہ اس کا تعلق محذوف جملے سے ہے جو {” حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ “} سے خود بخود معلوم ہو رہا ہے۔ {”أَيْ لَا يَزَالُوْنَ كَذٰلِكَ حَتّٰي إِذَا جَاءَ …“} یعنی وہ اسی طرح اپنے کفر و شرک پر قائم رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آتی ہے…۔ اس طرح جملے کے حذف کی مثال فرزدق کا شعر ہے: {فَيَا عَجَبَا حَتّٰي كُلَيْبٌ تَسُبُّنِيْ كَأَنَّ أَبَاهَا نَهْشَلٌ أَوْ مُجَاشِعُ } ({أَيْ يَسُبُّنِيَ النَّاسُ حَتّٰي كُلَيْبٌ}) ”یعنی تعجب ہے کہ مجھے سبھی لوگ گالی دیتے ہیں، حتیٰ کہ بنو کلیب بھی گالی دیتے ہیں، جیسے ان کا باپ نہشل یا مجاشع ہے، یعنی کسی نامور باپ کی اولاد نہ ہونے کے باوجود کلیب جیسے قبیلے کے بے وقعت لوگ بھی میرے جیسے اونچے نسب والے شخص کو گالی دیتے ہیں۔“ ➋ { قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ: ”رَجَعَ يَرْجِعُ“} لازم بھی آتا ہے اور متعدی بھی، اس کا معنی لوٹنا بھی ہے اور لوٹانا بھی، یہاں مراد لوٹانا ہے۔ یعنی کافر و مشرک اپنے کفر و شرک پر اڑے رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آتی ہے اور رسولوں کی بتائی ہوئی وہ تمام حقیقتیں آنکھوں کے سامنے آتی ہیں، جنھیں وہ اب تک جھٹلاتے رہے تھے، تو وہ مہلت دینے اور دنیا کی طرف واپس لوٹانے کی درخواست کرتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ منافقون (۱۰، ۱۱) اور ابراہیم (۴۴) یہ درخواست وہ موت کے وقت بھی کریں گے، قیامت کے دن بھی اور آگ کو دیکھ کر بھی، جیسا کہ دوسری آیات میں آیا ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۵۳)، سجدہ (۱۲)، انعام (۲۷)، شوریٰ (۴۴)، مؤمن (۱۱)، فاطر (۳۷) اور سبا (۵۱ تا ۵۳)۔ ➌ { ” رَبِّ “} (اے میرے رب!) میں مخاطب واحد ہے، جبکہ {” ارْجِعُوْنِ “} (مجھے واپس بھیجو) میں مخاطب جمع ہے۔ مفسرین نے اس کی تین توجیہیں کی ہیں، ایک یہ کہ کافر نہایت عجز کے ساتھ درخواست کرتے ہوئے تعظیم کے لیے اللہ تعالیٰ کو جمع کے صیغے سے مخاطب کرے گا، جیسا کہ تمام زبانوں میں یہ انداز معروف ہے، عربی میں بھی ایسے ہی ہے۔ جیسا کہ فرشتوں نے سارہ علیھا السلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا: «اَتَعْجَبِيْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الْبَيْتِ» [ ھود: ۷۳ ] ”کیا تو اللہ کے حکم سے تعجب کرتی ہے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے گھر والو!“ ابن عاشور لکھتے ہیں کہ مخاطب مذکر ہو یا مؤنث، تعظیم کے وقت اس کے لیے جمع مذکر کی ضمیر {”كُمْ“} ہی استعمال ہوتی ہے۔ کلام عرب میں واحد مخاطب کے لیے جمع کی ضمیر کی مثال حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا قول ہے: {أَلَا فَارْحَمُوْنِيْ يَا إِلٰهَ مُحَمَّدٍ فَإِنْ لَمْ أَكُنْ أَهْلًا فَأَنْتَ لَهُ أَهْلٌ} اس شعر میں شاعر نے {”فَارْحَمْنِيْ“} کے بجائے {”فَارْحَمُوْنِيْ“} کہا ہے اور حماسہ کے شاعر جعفر بن عُلبہ حارثی کا شعر ہے، جس میں وہ اپنی محبوبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے: {فَلاَ تَحْسَبِيْ أَنِّيْ تَخَشَّعْتُ بَعْدَكُمْ لِشَيْءٍ وَ لَا أَنِّيْ مِنَ الْمَوْتِ أَفْرَقُ} ”پس تو یہ گمان نہ کر کہ میں تمھارے بعد کسی چیز کی وجہ سے عاجز ہو گیا ہوں اور نہ یہ کہ میں موت سے ڈرتا ہوں۔“ اس شعر میں شاعر نے {”بَعْدَكِ“} کے بجائے {”بَعْدَكُمْ“} کہا ہے۔ یہ توجیہ سب سے اچھی ہے۔ دوسری توجیہ طبری رحمہ اللہ نے فرمائی ہے کہ کافر کلام کی ابتدا {” رَبِّ “} سے کرے گا، جو استغاثہ کے لیے ہے، مگر وہ واپس بھیجنے کی درخواست ان فرشتوں سے کرے گا جو اس کی روح نکالنے کے لیے آئے ہوں گے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کچھ لوگ کسی کو پکڑ لیں اور وہ کہے ”ہائے اللہ! مجھے چھوڑ دو۔“ یہ توجیہ بھی بہت اچھی ہے۔ تیسری توجیہ یہ ہے کہ کافر اللہ تعالیٰ سے بار بار درخواست کرے گا: {”ارْجِعْنِيْ، ارْجِعْنِيْ، ارْجِعْنِيْ“} تو اس تکرار کے بیان کے لیے جمع کا صیغہ {” ارْجِعُوْنِ “} استعمال کیا گیا ہے۔ اس توجیہ کی معتبر نظیر مجھے نہیں ملی۔
امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا" ہرگز نہیں، یہ بس ایک بات ہے جو وہ بک رہا ہے اب اِن سب (مرنے والوں) کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ اپنی چھوڑی ہوئی دنیا میں جا کر نیک اعمال کر لوں، ہرگز ایسا نہیں ہوگا، یہ تو صرف ایک قول ہے جس کا یہ قائل ہے، ان کے پس پشت تو ایک حجاب ہے، ان کے دوباره جی اٹھنے کے دن تک
احمد رضا خان بریلوی
شاید اب میں کچھ بھلائی کماؤں اس میں جو چھوڑ آیا ہوں ہشت یہ تو ایک بات ہے جو وہ اپنے منہ سے کہتا ہے اور ان کے آگے ایک آڑ ہے اس دن تک جس دن اٹھائے جائیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
تاکہ میں نیک عمل کر سکوں (ارشاد ہوگا) ہرگز نہیں! یہ محض ایک (فضول) بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے اور ان کے (مرنے کے) بعد برزخ کا زمانہ ہے ان کے (دوبارہ) اٹھائے جانے تک۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ میں جو کچھ چھوڑ آیا ہوں اس میں کوئی نیک عمل کرلوں۔ ہرگز نہیں، یہ تو ایک بات ہے جسے وہ کہنے والا ہے اور ان کے پیچھے اس دن تک جب وہ اٹھائے جائیں گے، ایک پردہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بعد از مرگ ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ موت کے وقت کفار اور بدترین گناہگار سخت نادم ہوتے ہیں اور حسرت و افسوس کے ساتھ آرزو کرتے ہیں کہ کاش کہ ہم دنیا کی طرف لوٹائے جائیں۔ تاکہ ہم نیک اعمال کر لیں۔ لیکن اس وقت وہ امید فضول، یہ آرزو لا حاصل ہے چنانچہ سورۃ المنافقون میں فرمایا جو ہم نے دیا ہے ہماری راہ میں دیتے رہو، اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کی موت آ جائے اس وقت وہ کہے کہ اے اللہ ذرا سی مہلت دیدے تو میں صدقہ خیرات کر لوں اور نیک بندہ بن جاؤں لیکن اجل آ جانے کے بعد کسی کو مہلت نہیں ملتی تمہارے تمام اعمال سے اللہ تعالیٰ خبردار ہے اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔ مثلا «وَاَنْذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَاْتِيْهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَآ اَخِّرْنَآ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ» [ 14- ابراهيم: 44 ] اور آیت «يَوْمَ يَاْتِيْ تَاْوِيْلُهٗ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بالْحَقِّ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَاءَ فَيَشْفَعُوْا لَنَآ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ قَدْ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ» [ 7- الاعراف: 53 ] اور آیت «وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» [ 32- السجدة: 12 ] تک اور آیت «وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» [ 6-الأنعام: 27، 28 ] تک اور آیت «وَتَرَى الظّٰلِمِيْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ يَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِيْلٍ» [ 42- الشورى: 44 ] تک اور آیت «قَالُوْا رَبَّنَآ اَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَاَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِيْلٍ» [ 40- غافر: 11 ] اور اس کے بعد کی آیت «وَهُمْ يَصْطَرِخُوْنَ فِيْهَا رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ اَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيْرُ فَذُوْقُوْا فَمَا للظّٰلِمِيْنَ مِنْ نَّصِيْرٍ» [ 35- فاطر: 37 ] ، وغیرہ۔
ان آیتوں میں بیان ہوا ہے کہ ایسے بدکار لوگ موت کو دیکھ کر قیامت کے دن اللہ کے سامنے کی پیشی کے وقت جہنم کے سامنے کھڑے ہو کر دنیا میں واپس آنے کی تمنا کریں گے اور نیک اعمال کرنے کا وعدہ کریں گے۔ لیکن ان وقتوں میں ان کی طلب پوری نہ ہو گی۔ یہ تو وہ کلمہ ہے جو بہ مجبوری ایسے آڑے وقتوں میں ان کی زبان سے نکل ہی جاتا ہے اور یہ بھی کہ یہ کہتے ہیں مگر کرنے کے نہیں۔ اگر دنیا میں واپس لوٹائے بھی جائیں تو عمل صالح کر کے نہیں دینے کے بلکہ ویسے ہی رہیں گے جسے پہلے رہے تھے یہ تو جھوٹے اور لپاڑئیے ہیں کتنا مبارک وہ شخص ہے جو اس زندگی میں نیک عمل کر لے اور کیسے بدنصیب یہ لوگ ہیں کہ آج نہ انہیں مال و اولاد کی تمنا ہے۔ نہ دنیا اور زینت دنیا کی خواہش ہے صرف یہ چاہتے ہیں کہ دو روز کی زندگی اور ہو جائے تو کچھ نیک اعمال کر لیں لیکن تمنا بے کار، آرزو بےسود، خواہش بے جا۔ یہ بھی مروی ہے کہ ان کی تمنا پر انہیں اللہ ڈانٹ دے گا اور فرمائے گا کہ یہ بھی تمہاری بات ہے عمل اب بھی نہیں کرو گے۔ حضرت علاء بن زیاد رحمتہ اللہ علیہ کیا ہی عمدہ بات فرماتے ہیں۔ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، تم یوں سمجھ لو کہ میری موت آ چکی تھی، لیکن میں نے اللہ سے دعا کی کہ مجھے چند روز کی مہلت دے دی جائے تاکہ میں نیکیاں کر لوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کافر کی اس امید کو یاد رکھو اور خود زندگی کی گھڑیاں اطاعت اللہ میں بسر کرو۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب کافر اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اپنا جہنم کا ٹھکانا دیکھ لیتا ہے تو کہتا ہے میرے رب مجھے لوٹا دے میں توبہ کر لوں گا اور نیک اعمال کرتا رہوں گا جواب ملتا ہے کہ جتنی عمر تجھے دی گئی تھی تو ختم کر چکا پھر اس کی قبر اس پر سمٹ جاتی ہے اور تنگ ہو جاتی ہے اور سانپ بچھو چمٹ جاتے ہیں۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں گناہگاروں پر ان کی قبریں بڑی مصیبت کی جگہیں ہوتی ہیں ان کی قبروں میں انہیں کالے ناگ ڈستے رہتے ہیں جن میں سے ایک بہت بڑا اس کے سرہانے ہوتا ہے ایک اتنا ہی بڑا پاؤں کی طرف ہوتا ہے وہ سر کی طرف سے ڈسنا اور اوپر چڑھنا شروع کرتا ہے اور یہ پیروں کی طرف سے کاٹنا اور اوپر چڑھنا شروع کرتا ہے یہاں تک کہ بیچ کی جگہ آ کر دونوں اکٹھے ہو جاتے ہیں پس یہ ہے وہ برزخ جہاں یہ قیامت تک رہیں گے۔ من ورائہم کہ معنی کئے گے ہیں کہ ان کے آگے برزخ ایک حجاب اور آڑ ہے دنیا اور آخرت کے درمیان وہ نہ تو صحیح طور دنیا میں ہیں کہ کھائیں پیئں نہ آخرت میں ہیں کہ اعمال کے بدلے میں آ جائیں بلکہ بیچ ہی بیچ میں ہیں پس اس آیت میں ظالموں کو ڈرایا جا رہا ہے کہ انہیں عالم برزخ میں بھی بڑے بھاری عذاب ہوں گے جیسے فرمان ہے «مِنْ وَّرَاىِٕهِمْ جَهَنَّمُ وَلَا يُغْنِيْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَيْـــــًٔا وَّلَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِيَاءَ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ» [ 45- الجاثية: 10 ] ان کے آگے جہنم ہے اور آیت میں ہے «وَمِنْ وَّرَاىِٕهٖ عَذَابٌ غَلِيْظٌ» [ 14- ابراھیم: 17 ] ان کے آگے سخت عذاب ہے برزخ کا۔ قبر کا یہ عذاب ان پر قیامت کے قائم ہونے تک برابر جاری رہے گا۔ جیسے حدیث میں ہے کہ وہ اس میں برابر عذاب میں رہے گا یعنی زمین میں۔ [سنن ترمذي:1071،قال الشيخ الألباني:صحیح]
10-1یہ آرزو، ہر کافر موت کے وقت، دوبارہ اٹھائے جانے کے وقت، بارگاہ الٰہی میں قیامت کے وقت اور جہنم میں دھکیل دیئے جانے کے وقت کرتا ہے اور کرے گا، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ قرآن کریم میں اس مضمون کو متعدد، جگہ بیان کیا گیا ہے۔ 10-2کَلَّا، ڈانٹ ڈپٹ کے لئے ہے یعنی ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کہ انھیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے۔ 10-3اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ایسی بات ہے کہ جو ہر کافر نزع (جان کنی) کے وقت کہتا ہے۔ دوسرے معنی ہیں کہ یہ صرف بات ہی بات ہے عمل نہیں، اگر انھیں دوبارہ بھی دنیا میں بھیج دیا جائے تو ان کا یہ قول، قول ہی رہے گا عمل اصلاح کی توفیق انھیں پھر نصیب نہیں ہوگی، کافر دنیا میں اپنے خاندان اور قبیلے کے پاس جانے کی آرزو نہیں کرے گا، بلکہ عمل صالح کے لئے دنیا میں آنے کی آرزو کرے گا۔ اس لئے زندگی کے لمحات کو غنیمت جانتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عمل صلاح کر لئے جائیں تاکہ کل قیامت کو یہ آرزو کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے (ابن کثیر) 10-4دو چیزوں کے درمیان حجاب اور آڑ کو برزخ کہا جاتا ہے۔ دنیا کی زندگی اور آخرت کی زندگی کے درمیان جو وقفہ ہے، اسے یہاں برزخ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیونکہ مرنے کے بعد انسان کا تعلق دنیا کی زندگی سے ختم ہوجاتا ہے اور آخرت کی زندگی کا آغاز اس وقت ہوگا جب تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ یہ درمیان کی زندگی ہے۔ انسان کا وجود جہاں بھی اور جس شکل میں بھی ہوگا، بظاہر وہ مٹی میں مل کر مٹی بن چکا ہوگا، یا راکھ بنا کر ہواؤں میں اڑا دیا یا دریاؤں میں بہا دیا ہوگا یا کسی جانور کی خوراک بن گیا ہوگا، مگر اللہ تعالیٰ سب کو ایک نیا وجود عطا فرما کر میدان محشر میں جمع فرمائے گا۔
(آیت 100) ➊ {لَعَلِّيْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ:} تاکہ میں جو کچھ مال و متاع چھوڑ آیا ہوں اس میں کوئی نیک عمل کر لوں، یا اس دنیا میں جا کر کوئی نیک عمل کر لوں جسے میں چھوڑ آیا ہوں۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے: ”قتادہ نے آیت: «حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ» کے متعلق کہا کہ علاء بن زیاد فرمایا کرتے تھے کہ آدمی کو چاہیے کہ اپنے آپ کو اس مرنے والے کی جگہ رکھ کر سوچے کہ گویا اس کی موت آ پہنچی تھی اور اس نے رب تعالیٰ سے مہلت مانگی تو اسے مل گئی، سو وہ اس مہلت میں جس قدر ہو سکے اللہ تعالیٰ کی بندگی کر لے۔ اور قتادہ نے فرمایا، اللہ کی قسم! نہ وہ گھر والوں کی طرف جانے کی تمنا کرے گا، نہ اولاد کی طرف، بلکہ یہی تمنا کرے گا کہ واپس جا کر اللہ کی اطاعت کر لے۔ سو کوتاہی کرنے والے کافر کی آرزو دیکھو اور ملی ہوئی مہلت سے فائدہ اٹھا کر اس پر عمل کر لو۔ “ ➋ { كَلَّا:} اس کے دو معنی ہیں اور دونوں مراد ہیں، ایک یہ کہ ہر گز ایسا نہ ہو گا کہ تم دنیا میں واپس جاؤ اور دوسرا یہ کہ تمھارا کہنا کہ میں واپس جا کر نیک عمل کروں گا، ہر گز درست نہیں۔ ➌ { اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآىِٕلُهَا:} یعنی یہ صرف ایک بات ہو گی جو وہ کہے گا، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہو گا، بلکہ وہ صاف جھوٹ کہہ رہا ہو گا، جیسا کہ فرمایا: «وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ» [ الأنعام: ۲۸ ] ”اور اگر انھیں واپس بھیج دیا جائے تو ضرور پھر وہی کریں گے جس سے انھیں منع کیا گیا اور بلاشبہ وہ یقینا جھوٹے ہیں۔“ دوسرا مطلب یہ کہ یہ صرف اس کے منہ کی بات ہو گی جو وہ بار بار کہے گا، مگر اسے اس کا کچھ فائدہ نہیں ہو گا اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ یہ ایسی بات ہے جو ہر کافر مرتے وقت ضرور ہی کہنے والا ہے۔ ➍ { وَ مِنْ وَّرَآىِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ: ”وَرَاءٌ“} کا معنی آگے بھی ہے اور پیچھے بھی، یہاں دونوں معنی مراد ہیں کہ آگے ایک اور عالم برزخ آ رہا ہے، جسے قبر کی زندگی بھی کہا جاتا ہے، جہاں پہنچ کر دنیا والوں سے پردہ ہو جاتا ہے اور آخرت بھی سامنے نہیں آتی۔ ہاں کافر کے لیے آخرت کے عذاب کا تھوڑا سا نمونہ سامنے آتا ہے، جس کا مزہ قیامت تک چکھتا رہے گا۔ اسی طرح اہل ایمان کے لیے راحت و نعمت میسر ہوتی ہے۔ دونوں کا احادیث میں ذکر ہے اور آیات میں بھی۔ دیکھیے سورۂ مؤمن (۴۵، ۴۶)۔