بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المؤمنون — Surah Muminun
آیت نمبر 76
کل آیات: 118
قرآن کریم المؤمنون آیت 76
آیت نمبر: 76 — سورۃ المؤمنون islamicurdubooks.com ↗
وَ لَقَدۡ اَخَذۡنٰہُمۡ بِالۡعَذَابِ فَمَا اسۡتَکَانُوۡا لِرَبِّہِمۡ وَ مَا یَتَضَرَّعُوۡنَ ﴿۷۶﴾
اِن کا حال تو یہ ہے کہ ہم نے انہیں تکلیف میں مبتلا کیا، پھر بھی یہ اپنے رب کے آگے نہ جھکے اور نہ عاجزی اختیار کرتے ہیں
اور ہم نے انہیں عذاب میں بھی پکڑا تاہم یہ لوگ نہ تو اپنے پروردگار کے سامنے جھکے اور نہ ہی عاجزی اختیار کی
اور بیشک ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تو نہ وہ اپنے رب کے حضور میں جھکے اور نہ گڑگڑاتے ہیں
اور ہم نے انہیں سزا میں گرفتار بھی کیا مگر وہ پھر بھی اپنے پروردگار کے سامنے نہ جھکے اور نہ تضرع و زاری کی۔
اور بلاشبہ یقینا ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا، پھر بھی وہ نہ اپنے رب کے آگے جھکے اور نہ عاجزی اختیار کرتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے ٭٭

فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ جیسے فرمان ہے «فَلَوْلَآ اِذْ جَاءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [ 6- الانعام: 43 ] ‏‏‏‏، ہمارا عذاب دیکھ کریہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہو گئے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں اس قحط سالی کا ذکر ہے جو قریشیوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ماننے کے صلے میں آئی تھی، جس کی شکایت لے کر ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی قسمیں دے کر، رشتے داریوں کے واسطے دے کر کہا تھا کہ ہم تو اب لید اور خون کھانے لگے ہیں۔ [سنن نسائی فی التفسیر،372:حسن] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں ہے کہ قریش کی شرراتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدعا کی تھی کہ جیسے یوسف علیہ السلام کے زمانے میں سات سال کی قحط سالی آئی تھی، ایسے ہی قحط سے اے اللہ تو ان پر میری مدد فرما۔ [صحیح بخاری:1007] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ کو قید کر دیا گیا۔ وہاں ایک نوعمر شخص نے کہا میں آپ رحمہ اللہ کو جی بہلانے کے لیے اشعار سناؤں؟ تو آپ نے فرمایا ”اس وقت ہم عذاب اللہ میں ہیں اور قرآن نے ان کی شکایت کی ہے جو ایسے وقت بھی اللہ کی طرف نہ جھکیں“ پھر آپ رحمہ اللہ نے تین روزے برابر رکھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ بیچ میں افطار کئے بغیر روزے کیسے؟ تو جواب دیا کہ ایک نئی چیز ادھر سے ہوئی یعنی قید، تو ایک نئی چیز ہم نے کی یعنی زیادتی عبادت۔ یہاں تک کہ حکم الٰہی آ پہنچا اچانک وقت آ گیا اور جس عذاب کا وہم و گمان بھی نہ تھا وہ آپڑا تو تمام خیر سے مایوس ہو گئے آس ٹوٹ گئی اور حیرت زدہ رہ گئے اللہ کی نعمتوں کو دیکھو، اس نے کان دئیے، آنکھیں دیں، دل دیا، عقل فہم عطا فرمائی کہ غور و فکر کر سکو، اللہ کی وحدانیت کو اس کے اختیار کو سمجھ سکو۔ لیکن جیسے جیسے نعمتیں بڑھیں شکر کم ہوئے جیسے فرمان ہے تو گو حرص کر لیکن ان میں سے اکثر بے ایمان ہیں۔

پھر اپنی عظیم الشان سلطنت اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے مخلوق کو پیدا کر کے وسیع زمین پر پھیلا دیا ہے پھر قیامت کے دن بکھرے ہوؤں کو سمیٹ کر اپنے پاس جمع کرے گا اب بھی اسی نے پیدا کیا ہے پھر بھی وہی جلائے گا کوئی چھوٹا بڑا آگے پیچھے کا باقی نہ بچے گا۔ «أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [ 79-النازعات: 11- 14 ] ‏‏‏‏ وہی بوسیدہ اور کھوکھلی ہڈیوں کا زندہ کرنے والا اور لوگوں کو مار ڈالنے والا ہے «لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [ 36-يس: 40 ] ‏‏‏‏ اسی کے حکم سے دن چڑھتا ہے رات آتی ہے ایک ہی نظام کے مطابق ایک کے بعد ایک آتا جاتا ہے نہ سورج چاند سے آگے نکلے نہ رات دن پر سبقت کرے کیا تم میں اتنی بھی عقل نہیں؟ کہ اتنے بڑے نشانات دیکھ کر اپنے اللہ کو پہچان لو؟ اور اس کے غلبے اور اس کے علم کے قائل بن جاؤ بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے کافر ہوں یا گزشتہ زمانوں کے ان سب کے دل یکساں ہیں زبانیں بھی ایک ہی ہیں وہی بکواس جو گزشتہ لوگوں کی تھی وہی ان کی ہے کہ مر کر مٹی ہو جانے اور صرف بوسیدہ ہڈیوں کی صورت میں باقی رہ جانے کے بعد بھی دوبارہ پیدا کئے جائیں یہ سمجھ سے باہر ہے ہم سے بھی یہی کہا گیا ہمارے باپ دادوں کو بھی اس سے دھمکایا گیا لیکن ہم نے تو کسی کو مر کر زندہ ہوتے نہیں دیکھا ہمارے خیال میں تو یہ صرف بکواس ہے۔ دوسری آیت «وَقَالُوا إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ» [ 6-الأنعام: 29 ] ‏‏‏‏ میں ہے کہ انہوں نے کہا کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے اس وقت بھی پھر زندہ کئے جائیں گے؟ جناب باری نے فرمایا جسے تم انہونی بات سمجھ رہے ہو وہ تو ایک آواز کے ساتھ ہو جائے گی اور ساری دنیا اپنی قبروں سے نکل کرایک میدان میں ہمارے سامنے آ جائے گی۔ سورۃ یاسین میں بھی یہ اعتراض اور جواب ہے «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [ 36- يس: 77- 79 ] ‏‏‏‏ کہ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ ضدی جھگڑالو بن بیٹھا اور اپنی پیدائش کو بھول بسرگیا اور ہم پر اعتراض کرتے ہوئے مثالیں دینے لگا کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون جلائے گا؟ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم انہیں جواب دو کہ انہیں نئے سرے سے وہ اللہ پیدا کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا ہے اور جو ہرچیز کی پیدائش کا عالم ہے۔

📖 احسن البیان

76-1عذاب سے مراد یہاں وہ شکست ہے جو جنگ بدر میں کفار مکہ کو ہوئی، جس میں ان کے ستر آدمی مارے گئے تھے یا وہ قحط سالی کا عذاب ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بد دعا کے نتیجے میں ان پر آیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تھی ' اے اللہ، جس طرح حضرت یوسف کے زمانے میں سات سال قحط رہا، اسی طرح قحط سالی میں انھیں مبتلا کر کے ان کے مقابلے میں میری مدد فرما ' چناچہ کفار مکہ اس قحط سالی میں مبتلا ہوگئے جس پر حضرت سفیان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انھیں اللہ کا اور رشتہ داری کا واسطہ دے کر کہا کہ اب تو ہم جانوروں کی کھالیں اور خون تک کھانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ جس پر آیت نازل ہوئی (ابن کثیر)

📖 القرآن الکریم

(آیت 77،76){ وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ …: ” اَخَذْنٰهُمْ “} (ہم نے انھیں پکڑا) میں {”هُمْ“} ({اُن}) سے مراد موجودہ کفار و منکرین نہیں بلکہ اس سے مراد ان جیسے وہ منکرین ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں اور جو اپنے اپنے دور میں اسی طرح کے کفر و انکار پر اڑے ہوئے تھے۔ موجودہ دور کے منکرین کو تاریخ کے اس سبق کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ کے لیے آنے والے عذابوں سے سبق نہیں لیتے، یہاں تک کہ وہ اپنے آخری ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ وہ پہلے کمتر درجے کا عذاب بھیجتا ہے، تاکہ لوگ سنبھل جائیں، فرمایا: «{ وَ لَنُذِيْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ }» [ السجدۃ: ۲۱ ] ”اور یقینا ہم انھیں قریب ترین عذاب کا کچھ حصہ سب سے بڑے عذاب سے پہلے ضرور چکھائیں گے۔ “ پھر جب لوگ اس عذاب سے عبرت نہیں پکڑتے تو ان کی رسی دراز کر دی جاتی ہے اور انھیں نافرمانی کے باوجود خوش حالی عطا کر دی جاتی ہے، تاکہ ان پر حجت تمام ہو جائے۔ قرآن مجید میں یہ مضمون کثرت سے بیان ہوا ہے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۴۲ تا ۴۴)، اعراف (۹۴ تا ۹۸)، یونس (۱۲ تا ۲۱) اور دخان (۱۰ تا ۱۶)۔ بعض مفسرین نے اس عذاب سے مراد وہ قحط لیا ہے جو ہجرت سے پہلے مکہ والوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بد دعا سے مسلط ہوا اور سخت عذاب والے دروازے سے مراد یوم بدر لیا ہے، جبکہ بعض نے اس عذاب سے مراد بدر اور سخت عذاب والے دروازے سے مراد ہجرت کے بعد ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کے گندم روک لینے سے واقع ہونے والا قحط لیا ہے۔ ابن جزی ”التسہیل“ میں فرماتے ہیں: ”زیادہ راجح یہ ہے کہ پہلے عذاب سے مراد دنیا کا عذاب ہے اور شدید عذاب سے مراد موت اور آخرت کا عذاب ہے۔ کیونکہ شدید عذاب وہی ہے، دنیا کا عذاب اس کے مقابلے میں ادنیٰ ہے۔“ اور فرمایا: «{ اِذَا هُمْ فِيْهِ مُبْلِسُوْنَ }» یعنی ہر خیر سے ناامید ہوں گے۔ کفار کو یہ ناامیدی آخرت کے دن ہو گی، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ يَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ }» [ الروم: ۱۲ ] ”اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم نا امید ہو جائیں گے۔“ بدر اور قحط کے بعد تو وہ بار بار حملہ آور ہوتے رہے تھے۔
← پچھلی آیت (75) پوری سورۃ اگلی آیت (77) →