بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المؤمنون — Surah Muminun
آیت نمبر 86
کل آیات: 118
قرآن کریم المؤمنون آیت 86
آیت نمبر: 86 — سورۃ المؤمنون islamicurdubooks.com ↗
قُلۡ مَنۡ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبۡعِ وَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۸۶﴾
ان سے پوچھو، ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے؟
دریافت کیجیئے کہ ساتوں آسمان کا اور بہت باعظمت عرش کا رب کون ہے؟
تم فرماؤ کون ہے مالک سوتوں آسمانوں کا اور مالک بڑے عرش کا،
آپ کہئے کہ سات آسمانوں اور اس بڑے تخت سلطنت کا پروردگار کون ہے؟
کہہ ساتوں آسمانوں کا رب اور عرش عظیم کا رب کون ہے؟

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ تعالٰی ہی معبود واحد ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ جل وعلا اپنے وحدانیت، خالقیت، تصرف اور ملکیت کا ثبوت دیتا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ معبود برحق صرف وہی ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے پس اپنے محترم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیں تو وہ سات لفظوں میں اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرے گے اور اس میں کسی کو شریک نہیں بتائیں گے۔ آپ انہی کے جواب کو لے کر انہیں قائل کریں کہ جب خالق، مالک، صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں پھر معبود بھی تنہا وہی کیوں نہ ہو؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کی جائے؟ واقعہ یہی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو بھی مخلوق الٰہی اور مملوک رب جانتے تھے لیکن انہیں مقربان رب سمجھ کر اس نیت سے ان کی عبادت کرتے تھے کہ وہ ہمیں بھی مقرب بارگاہ اللہ بنا دیں گے۔ پس حکم ہوتا ہے کہ زمین اور زمین کی تمام چیزوں کا خالق کون ہے؟ اس کی بابت ان مشرکوں سے سوال کرو۔ ان کا جواب یہی ہو گا کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ اب تم پھر ان سے کہو کہ کیا اب بھی اس اقرار کے بعد بھی تم اتنا نہیں سمجھتے کہ عبادت کے لائق بھی وہی ہے کیونکہ خالق و رازق وہی ہے۔ پھر پوچھو کہ اس بلند و بالا آسمان کا اس کی مخلوق کا خالق کون ہے؟ جو عرش جیسی زبردست چیز کا رب ہے؟ جو مخلوق کی چھت جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”اللہ کی شان بہت بڑی ہے اس کا عرش آسمانوں پر اس طرح ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے قبہ کی طرح بنا کر بتایا“ [سنن ابوداود:4726،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور ان کی کل مخلوق کرسی کے مقابلے پر ایسی ہے جیسے کسی چٹیل میدان میں کوئی حلقہ پڑا ہو اور کرسی اپنی تمام چیزوں سمیت عرش کے مقابلے میں بھی ایسی ہی ہے۔ بعض سلف سے منقول ہے عرش کی ایک جانب سے دوسری جانب کی دوری پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ اور ساتویں زمین سے اس کی بلندی پچاس ہزار سال کی مسافت کی ہے۔ عرش کا نام عرش اس کی بلندی کی وجہ سے ہی ہے۔ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آسمان عرش کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے کوئی قندیل آسمان و زمین کے درمیان ہو۔حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ آسمان و زمین بمقابلہ عرش الٰہی ایسے ہیں جیسے کوئی چھلا کسی چٹیل وسیع میدان میں پڑا ہو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں عرش کی قدرت و عظمت کا کوئی بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے اندازہ نہیں کر سکتا بعض سلف کا قول ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے اس آیت میں عرش عظیم کہا گیا ہے اور اس سورت کے آخر میں عرش کریم کہا گیا ہے یعنی بہت بڑا اور بہت حسن وخوبی والا۔ پس لمبائی، چوڑائی، وسعت و عظمت، حسن وخوبی میں وہ بہت ہی اعلیٰ و بالا ہے اسی لیے لوگوں نے اسے یاقوت سرخ کہا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ تمہارے رب کے پاس رات دن کچھ نہیں اس کے عرش کا نور اس کے چہرے کے نور سے ہے۔ الغرض اس سوال کا جواب بھی وہ یہی دیں گے کہ آسمان اور عرش کا رب اللہ ہے تو تم کہو کہ پھر تم اس کے عذاب سے کیوں نہیں ڈرتے۔ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کر رہے ہو؟

کتاب التفکر والاعتبار میں امام ابوبکر ابن ابی الدنیا ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً اس حدیث کو بیان فرمایا کرتے تھے کہ“جاہلیت کے زمانے میں ایک عورت پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں چرایا کرتی تھی اس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا ایک مرتبہ اس نے اپنی ماں سے دریافت کیا کہ اماں جان تمہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ اس نے کہا اللہ نے کہا میرے والد کو کس نے پیدا کیا؟ اس نے جواب دیا اللہ نے پوچھا اور ان پہاڑوں کو اماں کس نے بنایا ہے ماں نے جواب دیا ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پوچھا اور ان ہماری بکریوں کا خالق کون ہے ماں نے کہا اللہ ہی ہے اس نے کہا سبحان اللہ۔ اللہ کی اتنی بڑی شان ہے بس اس قدر عظمت اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی سما گئی کہ وہ تھر تھر کانپنے لگا اور پہاڑ سے گرپڑا اور جان اللہ کے سپرد کر دی اس کا ایک راوی ذرا ٹھیک نہیں، [ابن عدی فی الکامل،178/4:ضعیف] ‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

دریافت کرو کہ تمام ملک کا مالک ہرچیز کا مختار کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم عموماً ان لفظوں میں ہوتی تھی کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جب کوئی تاکیدی قسم کھاتے تو فرماتے اس کی قسم جو دلوں کا مالک اور ان کے پھیرنے والا ہے۔ [صحیح بخاری:6617] ‏‏‏‏ پھر یہ بھی پوچھ کہ وہ کون ہے؟ جو سب کو پناہ دے اور اس کی دی ہوئی پناہ کو کوئی توڑ نہ سکے اور اس کے مقابلے پر کوئی پناہ دے نہ سکے کسی کی پناہ کا وہ پابند نہیں یعنی اتنا بڑا سید و مالک کہ تمام خلق، ملک، حکومت، اسی کے ہاتھ میں ہے بتاؤ وہ کون ہے؟ عرب میں دستور تھا کہ سردار قبیلہ اگر کسی کو پناہ دیدے تو سارا قبیلہ اس کا پابند تھا لیکن قبیلے میں سے کوئی کسی کو پناہ میں لے لے تو سردار پر اس کی پابندی نہیں۔ پس یہاں اللہ تعالیٰ کی سلطنت و عظمت بیان ہو رہی ہے کہ وہ قادر مطلق حاکم کل ہے اس کا ارادہ کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ سب سے باز پرس کر لے لیکن کسی کی مجال نہیں کہ اس سے کوئی سوال کر سکے۔ اس کی عظمت، اس کی کبریائی، اس کا غلبہ، اس کا دباؤ، اس کی قدرت، اس کی عزت، اس کی حکمت، اس کا عدل بےپایاں اور بے مثل ہے۔ سب مخلوق اس کے سامنے عاجز پست اور لاچار ہے۔ اب ساری مخلوق کی بعض پرس کرنے والا ہے اس سوال کا جواب بھی ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور نہیں کہ وہ اقرار کریں کہ اتنا بڑا بادشاہ ایسا خود مختار اللہ واحد ہی ہے کہہ دے کہ پھر تم پر کیا ٹپکی پڑی ہے؟ ایسا کون سا جادو تم پر ہو گیا ہے؟ باوجود اس اقرار کے پھر بھی دوسروں کی پرستش کرتے ہو؟ ہم تو ان کے سامنے حق واضع کر چکے توحید ربوبیت کے ساتھ ساتھ توحید الوہیت بیان کر دی صحیح دلیلیں اور صاف باتیں پہنچا دیں اور ان کا غلط گو ہونا ظاہر کر دیا کہ یہ شریک بنانے میں جھوٹے ہیں اور ان کا جھوٹ خود ان کے اقرار سے ظاہر و باہر ہے جیسے کہ سورت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے سوا دوسروں کے پکارنے کی کوئی سند نہیں۔ صرف باپ دادا کی تقلید پر ضد ہے اور وہ یہی کہتے بھی تھے کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی پر پایا اور ہم ان کی تقلید نہیں چھوڑیں گے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 87،86) ➊ { قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ …:} زمین کے بعد ان سے عالم بالا کے متعلق سوال کرنے کا حکم دیا، کیونکہ آسمان زمین سے کہیں بڑا ہے، پھر ہر آسمان نیچے والے سے بڑا ہے اور ان سے اوپر عرش ان سب کو محیط ہے، جسے رب تعالیٰ نے عظیم (بہت بڑی عظمت والا) فرمایا ہے اور جو زمین و آسمان اور ان میں موجود ہر چیز سے پہلے موجود تھا۔ فرمایا: ”پوچھو، ان کا رب کون ہے؟“ فرمایا: ”وہ جواب میں کہیں گے، یہ سب کچھ اللہ کی ملکیت ہے۔“ فرمایا: ”تو پھر تم ڈرتے نہیں؟“ پہلے فرمایا تھا: «‏‏‏‏اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ» (پھر کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟) اب اس سے سخت الفاظ میں فرمایا: «‏‏‏‏اَفَلَا تَتَّقُوْنَ» ‏‏‏‏ (تو پھر کیا تم ڈرتے نہیں؟) کیونکہ کوئی شخص جس قدر اللہ تعالیٰ کی عظمت و قدرت کا علم رکھے گا اتنا ہی زیادہ وہ اس سے ڈرے گا۔ مثلاً ایک بچے کو کچھ علم نہیں کہ بادشاہ کتنی قوت کا مالک ہے، وہ اس سے نہیں ڈرے گا۔ ہاں، جسے جس قدر معلوم ہو گا کہ بادشاہ کتنی قوت رکھتا ہے، وہ اس سے اتنا ہی ڈرے گا۔ اس لیے فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا» ‏‏‏‏ [ فاطر: ۲۸ ] ”اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف جاننے والے ہی ڈرتے ہیں۔“ یہاں فرمایا کہ یہ جان کر بھی کہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا رب اللہ ہے، تم اس کے ساتھ شریک بناتے ہو اور اس کی دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کا انکار کرتے ہو، تو کیا تم ڈرتے نہیں؟ ➋ { سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ:} یہاں ایک سوال ہے کہ یہ کہنے کے بعد کہ ساتوں آسمانوں کا رب اور عرش عظیم کا رب کون ہے؟ جو اب بظاہر یہ ہے: {”اَللّٰهُ“} کہ وہ اللہ ہے، اس کے بجائے فرمایا: {” لِلّٰهِ “} کہ یہ سب کچھ اللہ کے لیے ہے۔ اس میں کیا حکمت ہے؟ اس کا جواب طبری اور دوسرے مفسرین نے یہ دیا ہے کہ {” مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ “} (ساتوں آسمانوں کا رب کون ہے؟) کا معنی یہی ہے کہ {”لِمَنِ السَّمٰوَاتُ السَّبْعُ“} یعنی ساتوں آسمان اور عرش عظیم کس کی ملکیت ہیں؟ اس لیے جواب آیا: {” لِلّٰهِ “} کہ یہ سب اللہ کی ملکیت ہیں۔ ➌ حجاز، عراق اور شام کے تمام قراء اس لفظ کو {” لِلّٰهِ “} پڑھنے پر متفق ہیں، کیونکہ ان کی طرف امیر المومنین عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے جو مصحف بھیجے گئے، ان میں یہ لفظ اسی طرح ہے۔ البتہ بصرہ کے قاری ابو عمرو رحمہ اللہ اسے {”اَللّٰهُ“} پڑھتے ہیں، کیونکہ ان کے مصحف میں اسی طرح لکھا ہے۔ اس صورت میں معنی واضح ہے کہ ”وہ اللہ ہے۔“ طبری نے {” لِلّٰهِ “} کی قراء ت کو راجح قرار دیا ہے، کیونکہ بصرہ کے سوا تمام بلادِ اسلام کے مصاحف میں یہ لفظ اسی طرح لکھا ہے۔ ➍ ابن عاشور رحمہ اللہ نے {” لِلّٰهِ “} میں ایک نکتہ بیان فرمایا ہے کہ سوال تو یہ تھا کہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا رب کون ہے؟ ان کی طرف سے اس کا جواب یہ ذکر فرمایا کہ وہ (یہ کہنے کے بجائے کہ ان کا رب اللہ ہے) یہ کہیں گے کہ یہ سب کچھ اللہ کی ملکیت ہے، کیونکہ وہ زمین و آسمان اور عرش عظیم غرض ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہی کو سمجھتے تھے، مگر انھوں نے شریک اور رب کئی بنا رکھے تھے۔ چنانچہ وہ حج و عمرہ کے لیے لبیک کہتے ہوئے کہتے تھے: [ لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَإِلَّا شَرِيْكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ ] [ مسلم، الحج، باب التلبیۃ وصفتھا و وقتھا: ۱۱۸۵ ] ”(اے اللہ!) میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں …مگر تیرا ایک شریک ہے، اس کا مالک بھی تو ہے، وہ کسی شے کا مالک نہیں۔“ مشرکین عرب فرشتوں کو اور مشرکین یہود و نصاریٰ عزیر اور عیسیٰ علیھما السلام کو رب سمجھتے تھے۔ یوسف علیہ السلام نے قید خانے کے ساتھیوں کو فرمایا: «‏‏‏‏ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ» ‏‏‏‏ [ یوسف: ۳۹ ] ”کیا الگ الگ رب بہتر ہیں یا اللہ، جو اکیلا ہے، نہایت زبردست ہے۔“ غرض مشرکین مالک صرف اللہ کو سمجھتے، مگر رب دوسروں کو بھی مانتے تھے، اس لیے فرمایا: «اَفَلَا تَتَّقُوْنَ» ‏‏‏‏ کہ پھر کہہ دے کہ ہر چیز کا مالک اللہ کو مان کر پھر دوسرے ارباب کی پرستش کرتے ہو، تو تم اس کے غصے سے ڈرتے نہیں کہ وہ ساری کائنات کا مالک تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟
← پچھلی آیت (85) پوری سورۃ اگلی آیت (87) →