بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المؤمنون — Surah Muminun
آیت نمبر 95
کل آیات: 118
قرآن کریم المؤمنون آیت 95
آیت نمبر: 95 — سورۃ المؤمنون islamicurdubooks.com ↗
وَ اِنَّا عَلٰۤی اَنۡ نُّرِیَکَ مَا نَعِدُہُمۡ لَقٰدِرُوۡنَ ﴿۹۵﴾
اور حقیقت یہ ہے کہ ہم تمہاری آنکھوں کے سامنے ہی وہ چیز لے آنے کی پوری قدرت رکھتے ہیں جس کی دھمکی ہم انہیں دے رہے ہیں
ہم جو کچھ وعدے انہیں دے رہے ہیں سب آپ کو دکھا دینے پر یقیناً قادر ہیں
اور بیشک ہم قادر ہیں کہ تمہیں دکھادیں جو انہیں وعدہ دے رہے ہیں
اور ہم اس عذاب کے آپ کو دکھانے پر قادر ہیں جس کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے۔
اور بے شک ہم اس بات پر کہ تجھے وہ (عذاب) دکھائیں جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں، ضرور قادر ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

برائی کے بدلے اچھائی ٭٭

سختیوں کے اترنے کے وقت کی دعا تعلیم ہو رہی ہے کہ اگر تو ان بدکاروں پر عذاب لائے اور میں ان میں موجود ہوں۔ تو مجھے ان عذابوں سے بچا لینا۔ مسند احمد اور ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ جملہ بھی ہوتا تھا کہ اے اللہ جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے، تو مجھے فتنہ میں ڈالنے سے پہلے اٹھالے۔ [مسند احمد:243/5:صحیح] ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ اس کی تعلیم دینے کے بعد فرماتا ہے کہ ہم ان عذابوں کو تجھے دکھا دینے پر قادر ہیں۔ جو ان کفار پر ہماری جانب سے اترنے والے ہیں۔ پھر وہ بات سکھائی جاتی ہے جو تمام مشکلوں کی دوا، اور رفع کرنے والی ہے اور وہ یہ کہ برائی کرنے والے سے بھلائی کی جائے۔ تاکہ اس کی عداوت محبت سے اور نفرت الفت سے بدل جائے۔ جیسے ایک اور آیت میں بھی ہے کہ بھلائی سے دفع کر تو جانی دشمن، دلی دوست بن جائے گا۔ لیکن یہ کام انہیں سے ہوسکتا ہے جو صبر کرنے والے ہوں۔ یعنی اس کے حکم کی تعمیل اور اس کی صفت کی تحصیل صرف ان لوگوں سے ہو سکتی ہے جو لوگوں کی تکلیف کو برداشت کر لینے کے عادی ہو جائیں۔ اور گو وہ برائی کریں لیکن یہ بھلائی کرتے جائیں۔ یہ وصف انہی لوگوں کا ہے جو بڑے نصیب دار ہوں۔ دنیا اور آخرت کی بھلائی جن کی قسمت میں ہو۔

شیطان سے بچنے کی دعائیں ٭٭

انسان کی برائی سے بچنے کی بہترین ترکیب بتا کر پھر شیطان کی برائی سے بچنے کی ترکیب بتائی جاتی ہے کہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تمہیں شیطان سے بچا لے۔ اس لیے کہ اس کے فن فریب سے بچنے کا ہتھیار تمہارے پاس سوائے اس کے اور نہیں۔ وہ سلوک و احسان سے بس میں نہیں آنے کا۔ استعاذہ کے بیان میں ہم لکھ آئے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم» من ہمزہ ونفخہ ونفثہ پڑھا کرتے تھے۔ اور ذکر شیطان کی شمولیت کو روک دیتا ہے۔ کھانا پینا جماع ذبح وغیرہ کل کاموں کے شروع کرنے سے پہلے اللہ کا ذکر کرنا چاہے۔ ابوداؤد میں ہے کہ حضور علیہ السلام کی ایک دعا یہ بھی تھی۔ «اللہم انی اعوذبک من الھرم و اعوذ من الھدم ومن الغرق واعوذبک ان یتخبطنی الشیطان عندالموت» ۔ اے اللہ میں تجھ سے بڑے بڑھاپے سے اور دب کر مرجانے سے اور ڈوب کر مرجانے سے پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی کہ موت کے وقت شیطان مجھ کو بہکاوے۔ [سنن ابوداود:1552،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دعا سکھاتے تھے کہ نیند اچاٹ ہو جانے کے مرض کو دور کرنے کے لیے ہم سوتے وقت پڑھا کریں۔ «بِسمِ اللّٰہِ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِن غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَمِن شَرِّ عِبَادِہِ وَمِن ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَاَئن یَحضُرُونَ» ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا دستور تھا کہ اپنی اولاد میں سے جو ہوشیار ہوتے انہیں یہ دعا سکھا دیا کرتے اور جو چھوٹے ناسمجھ ہوتے یاد نہ کر سکتے ان کے گلے میں اس دعا کو لکھ کر لٹکا دیتے۔ [سنن ابوداود:3893،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة] ‏‏‏‏ ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب بتاتے ہیں۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 95) ➊ {وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِيَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ:”إِنَّ“} اور ”لام“ کے ساتھ تاکید سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین مکہ پر عذاب کا وہ وعدہ پورا ہوتا ہوا آنکھوں سے دکھا دیا، جب کہ آپ اس وقت ان سے الگ ہو چکے تھے اور مدینہ کی طرف ہجرت کر چکے تھے۔ چنانچہ اس عذاب کی ابتدا بدر سے ہوئی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار قریش کے سرداروں کی لاشیں کنویں میں پھینکنے کا حکم دیا اور پھر اس کنویں کے کنارے پر کھڑے ہو کر ایک ایک کا نام لے کر فرمایا: [ فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ ] [ بخاري، المغازي، باب قتل أبي جھل: ۳۹۷۶ ] ”یقینا ہم نے تو وہ وعدہ سچا پا لیا جو ہمارے رب نے ہم سے کیا تھا، تو کیا تم نے بھی وہ وعدہ سچا پایا جو تمھارے رب نے تم سے کیا تھا؟“ پھر ہجرت کے آٹھویں سال مکہ فتح ہو گیا اور دسویں سال حُجۃ الوداع کے موقع پر مشرکین کو چار ماہ کی مہلت دی گئی کہ اسلام قبول کر لیں یا جزیرۃ العرب خالی کر دیں اور یہاں سے نکل جائیں، ورنہ جہاد کے ذریعے سے ان کا کلی خاتمہ کر دیا جائے گا۔ یہ عذاب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں ان پر نازل ہوا، پھر خلفائے راشدین کے زمانے میں آس پاس کے ممالک سے شرک اور مشرکین کا خاتمہ ہوا اور اسلام کا بول بالا ہوا۔ (والحمد للہ) ➋ اگر عذاب سے مراد آسمان سے نازل ہونے والا عذاب ہو، جیسا کہ عاد و ثمود پر نازل ہوا، تو مطلب یہ ہو گا کہ ہم ان سے عذاب کا جو وعدہ کر رہے ہیں یقینا آپ کو دکھانے پر قادر ہیں، مگر ایک تو موسیٰ علیہ السلام کے بعد ہم نے طے کیا ہے کہ جہاد کے ذریعے سے مسلمانوں کے ہاتھوں کفار کو عذاب ہو، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ» ‏‏‏‏ [ التوبۃ: ۱۴ ] ”ان سے لڑو، اللہ انھیں تمھارے ہاتھوں سے عذاب دے گا۔“ اور بے شک ہم آسمان سے ایسا عذاب بھیجنے پر قادر ہیں جو ان کا صفایا کر دے، مگر ہماری حکمت کا تقاضا انھیں مہلت دینے کا ہے، تاکہ ان میں سے جنھوں نے اسلام قبول کرنا ہے کر لیں اور جن کی آئندہ نسل نے اسلام قبول کرنا ہے وہ نسل وجود میں آ جائے۔
← پچھلی آیت (94) پوری سورۃ اگلی آیت (96) →